ہندوستان: 'آئی ایس آئی' کا مبینہ جاسوس گرفتار

اپ ڈیٹ 24 جنوری 2015
فائل فوٹو/ رائٹرز—۔
فائل فوٹو/ رائٹرز—۔

بھوبینشور: ہندوستانی پولیس نے پاکستان کے حساس ادارے انٹر سروسز انٹیلی جنس ایجنسی (آئی ایس آئی) کو اہم عسکری راز فراہم کرنے کے جرم میں ایک 35 سالہ شخص کو مشرقی ریاست اڑیسہ سے گرفتار کرلیا۔

خبر رسا ں ادارے رائٹرز نے پولیس ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایشور چندرا بہیرا، جسے جمعے کو گرفتار کیا گیا، ہندوستان کی ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کی ایک یونٹ میں بطور کیمرا مین کام کرتا تھا اور وہاں سے میزائل سرگرمیوں کے بارے میں معلومات پاکستان کو فراہم کرتا تھا۔

اڑیسہ کے انسپکٹر جنرل آف پولیس اے کے پانی گڑھی نے رائٹرز کو بتایا کہ ایشور گزشتہ 8 سے 10 ماہ سے میزائل تجربوں اور دیگر فوجی سرگرمیوں کے بارے میں اہم معلومات آئی ایس آئی ایجنٹ کو فراہم کر رہا تھا اور اس نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ وہ کلکتہ میں اس ایجنٹ سے متعدد بار ملاقات کر چکا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ایشور کے بینک اکاؤنٹ میں ابو ظہبی اور ممبئی سمیت متعدد مقامات سے بڑی رقوم منتقل کی جا چکی ہیں، جبکہ اس بارے میں بھی تفتیش کی جارہی ہے کہ اسے کہیں اور سے تو مدد فراہم نہیں کی جارہی تھی۔

پانی گڑھی نے بتایا کہ ہمیں ایشور کی مشکوک سرگرمیوں کے حوالے سے اطلاعات موصول ہوئی تھیں، جس کے بعد اس کی نگرانی کی گئی اور اس نے اعتراف کیا ہے کہ وہ آئی ایس آئی ایجنٹ سے رابطے میں تھا اور اس نے اہم معلومات فراہم کی ہیں۔

رائٹرز کے مطابق ایشور سے رابطہ نہیں کیا جا سکا، جو اس وقت پولیس کی تحویل میں ہے۔

واضح رہے کہ ہندوستان کی جانب سے پاکستان کے حساس اداروں پر دہشت گرد گروپوں کے ساتھ کام کرنے یا انھیں تحفظ فراہم کرنے کا الزام لگا یا جاتا ہے جسے پاکستان نے سختی سے مسترد کردیا ہے۔

پاکستان اور ہندوستان کے مابین کشیدگی کا ایک سبب مسئلہ کشمیر کا حل نہ ہونا تو ہے ہی ، لیکن اس کشیدگی میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب ہندوستان میں پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط نے کشمیری حریت رہنما شبیر شاہ سے ملاقات کی تھی، جس کے بعد ہندوستان نے پاکستان کے ساتھ خارجہ سیکریٹری سطح کے مذاکرات منسوخ کر دیئے تھے۔

مذاکرات کی منسوخی کے حوالے سے ہندوستان کا موقف تھا کہ ان کے خارجہ سیکریٹری پاکستان کا دورہ کرنے ہی والے تھے، لیکن محض چند گھنٹوں قبل ہی ہندوستان میں موجود پاکستانی ہائی کمیشن میں حریت رہنما کو ملاقات کے لیے مدعو کر لیا گیا۔

جبکہ لائن آف کنٹرول پر بھی حالیہ چند ماہ کے دوران دونوں ممالک کی افواج کے مابین فائرنگ اور گولہ باری کا تبادلہ ہوتا رہتا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر باراک اوباما بھی اتوار سے ہندوستان کے تین روزہ دورے پر پہنچنے والے ہیں اور اس سلسلے میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (1) بند ہیں

Sana Jan 27, 2015 03:23am
اب امریکا کا صدر بھارت میں ہو تو ہندو بنیے کو کچھ تو نمبر بنانے کو اور رونے کو چاہیے-