شائع August 9, 2015 اپ ڈیٹ August 9, 2015 06:28pm

روشنیوں کے شہر میں فلائی اوورز اور پیڈسٹرین پلوں کے نیچے زندگی ان کے اوپر سے گزرنے والی ٹریفک کی رفتار سے بالکل ہٹ کر اور مختلف ہے۔

منظم بدنظمی

کراچی کے فلائی اوورز کے نیچے کنکریٹ اور لوہے کے مضبوط اسٹرکچر کے درمیان بھی زندگی پائی جاتی ہے جو استحصال زدہ، غریب اور کچھ بالکل بھی نہیں غریب افراد پر مشتمل ہے۔ وہاں جگہ کو ضائع نہیں کیا گیا اور ان پر عام شہریوں کی جانب سے دعویٰ کیا جاتا ہے۔ ایسی ہی چند آوازوں کو سنے جنھوں نے ان مردہ مقامات کو بھرپور زندگی میں تبدیل کردیا۔

شہر کے متعدد افراد کے لیے ایک پل کے نیچے کا حصہ واحد دستیاب یا کم لاگت رہنے کی جگہ ہے۔ ان میں سے کچھ مقامات پر مقابلہ بھی ہوتا ہے اور تاخیر پر پہنچنے پر ہوسکتا ہے کہ آپ کو سونے کی جگہ نہ مل سکے — وائٹ اسٹار فائل فوٹو
شہر کے متعدد افراد کے لیے ایک پل کے نیچے کا حصہ واحد دستیاب یا کم لاگت رہنے کی جگہ ہے۔ ان میں سے کچھ مقامات پر مقابلہ بھی ہوتا ہے اور تاخیر پر پہنچنے پر ہوسکتا ہے کہ آپ کو سونے کی جگہ نہ مل سکے — وائٹ اسٹار فائل فوٹو

حال ہی میں تعمیر ہونے والے عائشہ منزل فلائی اوور پر سے گزرتے ٹرکوں کی گرج دار آوازیں فاطمہ بی بی کے لیے توجہ ہٹانے کا باعث ہی نہیں بلکہ اسے اس کی بدقسمتی کی بھی یاد دلاتی ہیں۔

فاطمہ بی بی کے مطابق " ڈرائیورز شاذ و نادر ہی اپنی گاڑیاں روک کر اب ہمیں خیرات دیتے ہیں۔ مجھے جوڑوں کا درد ہے اور نو بچوں کا پیٹ بھرنا ہے۔ اس فلائی اوور کی جگہ سے غریبوں کو بہت بڑا دھچکا لگا ہے"۔

یہ کوئی زیادہ پرانی بات نہیں جب فاطمہ بی بی عائشہ منزل کے ٹریفک سگنل پر بھیک مانگتی تھی مگر 2013 کا آخری حصہ اس کے لیے تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوا جب فلائی اوور کے ٹریک کا آخرکار افتتاح ہوا اور ٹریفک سگنل کنکریٹ کی دیواروں میں گم ہوکر رہ گیا۔

فاطمہ بتاتی ہے " ٹریفک سگنل کے دنوں میں میں روزانہ چار سے پانچ سو روپے گھر لے آتی تھی مگر اب آمدنی صرف ڈیڑھ سے دو سو روپے رہ گئی ہے"۔

فلائی اوورز کے بارے میں کبھی سوچا جاتا تھا کہ یہ کسی شہر کی ترقی کا اظہار کرتے ہیں۔ اگر کسی شہر میں ایک فلائی اوور ہے تو یہ جدید ہونے کی راہ پر آگے بڑھنے کا اہل سمجھا جاتا تھا۔ یہ پل تمام بدصورت اور ناپسندیدہ چیزوں کو اپنے اندر چھپالیتے اور گاڑیوں کے مالکان کو اپنی منزل پر ہر ممکن حد تک صاف راستہ فراہم کرتے۔ فلائی اوورز گاڑیوں والوں کی حوصلہ افزائی کرتا کہ وہ ان کے نیچے زندگی گزارنے والوں سے لاتعلق ہوکر اپنے حال میں مست رہیں۔

ایف ٹی سی فلائی اوور کے نیچے پانی کھڑا ہونے کے باوجود یہ جگہ دو افراد کے لیے آرام گاہ بنا ہوا ہے — آن لائن فائل فوٹو
ایف ٹی سی فلائی اوور کے نیچے پانی کھڑا ہونے کے باوجود یہ جگہ دو افراد کے لیے آرام گاہ بنا ہوا ہے — آن لائن فائل فوٹو

مگر عائشہ منزل فلائی اوور کی ڈیڑھ دو سالہ تاریخ اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ جیسے ہی ایک نیا پل تعمیر ہوتا ہے، نئے چیلنجز ابھر کر سامنے آجاتے ہیں۔ حکومتوں کی جانب سے اکثر ان مقامات کو " مردہ مقامات" تحریر کیا جاتا ہے، مگر وہاں خودکار طور پر ایک زندگی دوڑنے لگتی ہے کیونکہ عام لوگ اس خلاءکو بھرنے لگتے ہیں۔ کھانوں کی فروخت، رات کی آوارہ گردی، بھیک مانگنا، گاڑیوں کی پارکنگ، کچرے کو ٹھکانے لگانا اور آرائش وغیرہ ان پلوں کے نیچے موجود جگہوں کے استعمال کے لیے عام فیچر بن جاتے ہیں۔

فاطمہ بی بی نئی کراچی سے آتی ہے، وہ سفر پر دو گھنٹے اور کرائے پر پچاس روپے خرچ کرتی ہے۔ اس کے دن کا آغاز صبح دس بجے ہوتا ہے اور اس کا اختتام شام سات بجے ہوتا ہے۔

ہم نے جب پوچھا کہ مسئلہ کیا ہے تو اس کا جواب تھا " میں نے بھیک مانگنا اس وقت شروع کیا جب میرے شوہر بنیائی سے محروم ہوگئے، وہ تعمیراتی کام کرتے تھے مگر مٹی ہر وقت ان کی آنکھوں میں چبھتی رہتی تھی اور وہ اپنی بنیائی سے محروم ہوگئے"۔

عائشہ منزل فلائی اوور کے نیچے موجود خالی جگہ صرف فاطمہ بی بی کے زیراستعمال نہیں بلکہ گلی کے دیگر کردار بھی وہاں موجود ہیں۔

کراچی یونیورسٹی کے باہر یا ایمپریس مارکیٹ کے قریب، شہر کے راہ گیروں میں اوور ہیڈ برجز کے استعمال سے گریز اور مین روڈ عبور کرنے کا خطرہ مول لینا عام ہوچکا ہے
کراچی یونیورسٹی کے باہر یا ایمپریس مارکیٹ کے قریب، شہر کے راہ گیروں میں اوور ہیڈ برجز کے استعمال سے گریز اور مین روڈ عبور کرنے کا خطرہ مول لینا عام ہوچکا ہے

ایک کونے پر ایک پھلوں کی ریڑھی کھڑی ہے جس کے مالک کا کہنا تھا " میں روزانہ اسی روپے کا بھتہ اپنی ریڑھی یہاں کھڑی کرنے کے لیے دیتا ہوں"، جب اس سے پوچھا گیا کہ وہ بھتے کی رقم کس کو ادا کرتا ہے تو وہ مسکرایا اور کہا " آپ بخوبی جانتے ہیں"۔

دوسرے کونے پر ایک ایمبولینس ڈرائیور کھڑا تھا جو بارہ گھنٹے کی شفٹ میں کام کرنے کے عوض پندرہ ہزار روپے ماہانہ تنخواہ لے رہا ہے۔ وہ ایک سیاسی جماعت کے فلاحی شعبے کے لیے کام کرتا ہے اور اس کا دعویٰ تھا کہ بطور ایمبولینس ڈرائیور اس کا انتخاب صحیح اور قواعد کے مطابق ہے۔

یونیورسٹی روڈ پر تعمیر ہونے والے دو پیڈسٹرین برجز میں سے ایک جو 400 ملین روپے کی لاگت سے تعمیر ہوا— وائٹ اسٹار فائل فوٹو
یونیورسٹی روڈ پر تعمیر ہونے والے دو پیڈسٹرین برجز میں سے ایک جو 400 ملین روپے کی لاگت سے تعمیر ہوا— وائٹ اسٹار فائل فوٹو

اس کا کہنا تھا " ہم ٹریفک حادثات کے کیسز پر کوئی فیس نہیں لیتے مگر ہم مریضوں کو ہسپتال منتقل کرنے اور گھر واپس لانے پر ضرور پیسے لیتے ہیں۔ فی مریض فیس دو سو روپے اور انتہائی شدید مریضوں کے ایک ہزار روپے لیتے ہیں (جنھیں آکسیجن سپورٹ کی ضرورت ہوتی ہے)"۔

ڈرائیور کے مطابق ایمبولینس سروس دس سے پندرہ کلومیٹر کے دائرے کے اندر کام کام کرتی ہے۔ ڈرائیورز کو ہدایات مرکزی وائرلیس روم سے ملتی ہیں جو کہ عائشہ منزل فلائی اوور سے کچھ زیادہ دور نہیں۔

ٹوائلٹ پر ٹیکس

نوجوان شاکر عیسائی ہے اور وہ لیاقت آباد فلائی اوور کے نیچے موجود ٹوائلٹس کی صفائی ستھرائی اور انہیں استعمال کرنے والوں سے پیسے لینے کے فرائض سرانجام دیتا ہے۔

یہاں پانچ ٹوائلٹس ہیں، تین مردوں جبکہ دو خواتین کے لیے۔ یہ سب حکومت نے تعمیر کرائے اور نجی کنٹریکٹرز کو لیز پر دے دیئے۔

فاطمہ جناح فلائی اوور کے نیچے نماز اور پانی پینے کے لیے قائم مستقل مقام — ڈان فائل فوٹو
فاطمہ جناح فلائی اوور کے نیچے نماز اور پانی پینے کے لیے قائم مستقل مقام — ڈان فائل فوٹو

یہاں لوگوں سے ان کی ضرورت کے مطابق پانچ سے دس روپے لیے جاتے ہیں۔ لوگوں کی ضرورت کو گیٹ کیپر شروع میں ہی واضح کرتا ہے جیسا شاکر خود بتاتا ہے " میں ہر آنے والے سے پوچھتا ہوں : چھوٹا کرو گے یا بڑا کرو گے؟"

شاکر کے دن کا آغاز صبح آٹھ بجے اور اختتام رات آٹھ بجے ہوتا ہے، بارہ گھنٹے کی ڈیوٹی پر روزانہ اسے تین سو روپے ملتے ہیں جبکہ کنٹریکٹر ایک ہزار سے پندرہ سو روپے کمالیتا ہے۔ عید کے دنوں میں کاروبار چمکتا ہے مگر ہڑتال کے موقع پر مندا ہوتا ہے۔ بجلی کا ٹیرف بھی ماہانہ 800 روپے پر فکس ہے۔

پولیس کے لیے ایندھن

کریم آباد فلائی اوور کے نیچے تعینات پولیس موبائل میں اکثر ایندھن نہیں ہوتا ہے یا کم از کم یہ وہ تاثر ہے جو موبائل کے ساتھ موجود ایک پولیس کانسٹیبل نے قائم کیا ہے۔

یہ معمول کافی معروف اور اکثر کام کرتا ہے، سب سے پہلے تو کانسٹیبل جارحانہ انداز میں کسی گاڑی کو روک کر ڈرائیور سے متعلقہ دستاویزات طلب کرتا ہے۔ اگر تمام دستاویزات مکمل اور اپ ٹو ڈیٹ ہو (ڈرائیونگ لائسنس، قومی شناختی وغیرہ) تو کانسٹیبل ٹیکس دستاویزات طلب کرتا ہے۔ اگر وہ بھی ٹھیک ہو تو کانسٹیبل سادہ انداز میں سرگوشی کرتا ہے " سر کچھ تو خیال کریں، گاڑی (ہماری) میں ڈیزل بھی نہیں"۔

فلائی اوور ایک نعمت غیر مترقبہ

ڈاکخانہ فلائی اوور کے نیچے تین بھائی ایک ٹائر مرمت کرنے والی دکان چلارہے ہیں جو روزانہ اٹھارہ گھنٹے تک یعنی صبح آٹھ بجے سے رات دو بجے تک کھلی رہتی ہے۔ موٹرسائیکل پنکچر ٹھیک کرنے کے پچاس روپے، گاڑی کے اسی روپے اور ٹیوب لیس ٹائر کی خرابی دور کرنے کے فی پنکچر سو روپے لیے جاتے ہیں۔ بڑی تعداد میں بولٹ ہونے کے باعث کے رکشے کے ایک پہیے کا پنکچر ٹھیک کرانے کا معاوضہ ساٹھ روپے ہے۔ اس دکان کی ملکیت پچاس ہزار روپے میں حاصل کی گئی جس میں سرکاری چارجز کے ساتھ ساتھ نادیدہ رقم بھی شامل ہے۔

پیڈسٹرین برج چھوڑ کر زیادہ ٹریفک میں سڑک پار کرنے بہت عام ہے
پیڈسٹرین برج چھوڑ کر زیادہ ٹریفک میں سڑک پار کرنے بہت عام ہے

بجلی ' کنڈہ' کنکشن کے ذریعے فراہم کی جاتی ہے اور اس سروس کے لیے 500 روپے مہینا فکس کردیا گیا ہے۔ قابضین کو زیادہ پانی کی ضرورت نہیں پڑتی تو واٹر پمپ کی ضرورت نہیں۔

سدا بہار دیہاڑی دار

پراگندہ حال بلال ناظم آباد فلائی اوور کے نیچے مقیم ہے مگر اس کا کہنا ہے کہ تباہ حال حلیہ بدلنا اس کے بس سے باہر ہے " میں نہاتا نہیں اور نہ شیو کرتا ہوں، میں اسی حالت کو برقرار رکھنے کو ترجیح دیتا ہوں وگرنہ میں پل کے نیچے رہنے کے قابل نہیں رہوں گا اور نہ ہی چھیپا سے کھانا حاصل کرسکوں گا"۔

بلال کامونکی سے تعلق رکھتا ہے اور بارہ سال قبل گوجرانوالہ میں واقع اپنے گھر سے بھاگ کھڑا ہوا تھا۔ جب وہ پہلی بار کراچی پہنچا تو اس نے ملیر میں رہائش اختیار کی اور پھر صدر چلا گیا مگر اب وہ فلائی اوور کے نیچے رہتا ہے۔ اس کی نظر میں چوری اور غلاظت ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔

یہ نوجوان نشے کا عادی ہے اور منشیات پر اس کے روزانہ 400 روپے خرچ ہوتے ہیں جسے وہ " لازمی" قرار دیتا ہے۔ اس نے حشیش سے شروع کیا اور پھر بعد میں " پاﺅڈر" پر منتقل ہوگیا ہے جسے عرف عام " ٹوکن" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ معیار کے مطابق ٹوکن کے ایک ڈوز کی قیمت پچاس سے سو روپے ہوسکتی ہے۔

بلال کے مطابق " میں قریب سے ٹوکن لیتا ہوں مگر کبھی کبھار کٹی پہاڑی بھی جانا پڑتا ہے"۔

اس کا دعویٰ ہے کہ وہ روزانہ پچاس روپے کوالٹی والے چھ ٹوکن استعمال کرتا ہے " میں یہاں سوتا ہوں اور کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ پولیس والے جانتے ہیں کہ اگر وہ مجھے اٹھا کر لے گئے تو پھر انہیں خود ہی مجھے یہاں واپس چھوڑنا پڑے گا تو وہ میری موجودگی کی کوئی پروا نہیں، مگر میرے پاس ہفتے کے ساتوں دن کام ہوتا ہے"۔

ناظم آباد فلائی اوور کے نیچے ٹنڈو جام سے تعلق رکھنے والے ایک غبارے فروخت کرنے والے شخص اور اس کے پورے خاندان کا بھی مستقل بسیرا ہے۔ خاندان کے مرد اراکین دن بھر سوتے ہیں اور شام کے وقت ایک قریبی پارک میں اپنا کام شروع کرتے ہیں۔ خاندان کا ہر فرد کام کرتا ہے، خواتین اور بچے گلیوں میں بھیک مانگ کر اوسطاً روزانہ تین سو روپے کمالیتے ہیں۔

غبارے فروخت کرنے والے کے مطابق اس علاقے میں کوئی بھی اسے کرائے پر گھر دینے کے لیے تیار نہیں تھا اور اسی لیے اس نے پل کے نیچے رہنا شروع کردیا۔ وہ چھیپا سے کھانا حاصل کرتا ہے اور بچوں کی تعلیم پر بالکل بھی یقین نہیں رکھتا " یہ وقت کا ضیاع ہے"۔

تبصرے (3) بند ہیں

Fahim Ahmed Aug 09, 2015 10:03pm
excellent research and describing style....also nice
Muhammad Ayub Khan Aug 10, 2015 02:56am
Who is responsible for this mess?
Ahmed Zarar Aug 10, 2015 03:48am
watch indian movie Traffic Signal (2007) to have similar characters and their stories.