— فوٹو کاپی رائٹ Atif Gulzar
— فوٹو کاپی رائٹ Atif Gulzar

آج سے پندرہ بیس سال پہلے اگر کوئی غلط اردو بولتا تھا تو کہا جاتا تھا کہ وہ ’گلابی اردو‘ بولتا ہے۔ گلابی اردو بولنے والے عموماً اردو میں انگریزی کی آمیزش زیادہ کرتے تھے، یعنی ان کا ہر جملہ مکمل اردو یا انگریزی میں ہونے کے بجائے مکس شدہ ہوتا تھا جس کا واحد مقصد دوسرے پر اپنی انگریزی دانی کا رعب ڈالنا ہوتا تھا۔

وہ زمانہ گزر گیا۔ اب جبکہ سوشل میڈیا کا دور ہے اور ہر شخص اپنی پسند کے موضوعات پر اپنی رائے کا اظہار زیادہ آسانی سے کر رہا ہے تو یہاں ہمیں گلابی اردو کی جگہ ’رومن اردو‘ نے آگھیرا ہے۔

گذشتہ بارہ پندرہ سالوں میں انٹرنیٹ اور موبائل کے سستے اور عام آدمی کی قوت خرید تک ہونے کی وجہ سے یہ اب عام ہوتی جا رہی ہے، جبکہ پاکستان کے خواص میں یہ بہت پہلے سے مقبول تھی۔ کہا جاتا ہے کہ رومن اردو کی ابتداء فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور میں شروع ہوئی۔ چونکہ جنرل ایوب اردو رسم الخط پڑھ نہیں سکتے تھے، اس لیے ان کی تقریر رومن اردو میں ٹائپ کی جاتی تھی۔ اسی طرح کی بات سابق وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو صاحب کے لیے بھی مشہور ہے۔ اس کے علاوہ حال ہی میں پی پی کے چیئرمین جناب بلاول بھٹو زرداری کے کراچی کے جلسے کی تقریر کے بارے میں بھی میڈیا میں یہ اطلاعات نشر ہوئیں کہ ان کو بھی تمام تقریر ’رومن اردو‘ میں پیش کی گئی۔

پاکستان میں جب انٹرنیٹ سستا ہوا اور عوام الناس نے اس کا عام استعمال شروع کیا تو چونکہ اس وقت محدود ٹیکنالوجی کی وجہ سے کمپیوٹر میں اردو سپورٹ موجود نہیں تھی، اس لیے رومن اردو استعمال کی جانے لگی۔ پہلے پہلے تو چیٹ روم میں چیٹنگ کے لیے رومن اردو کا استعمال شروع ہوا، اور بعد میں مختلف ویب فورمز میں رومن اردو میں پوسٹ عام ہونے لگی۔ لیکن جب فیس بک، اسکائپ، سنیپ چیٹ، ٹوئٹر، واٹس ایپ یا دیگر سوشل میڈیا سائٹس پر پاکستانیوں کا رش ہونا شروع ہوا تو اس وقت رومن اردو کا استعمال بہت تیزی سے بڑھنے لگا۔

شروع شروع میں مختلف آپریٹنگ سسٹم اردو کو سپورٹ نہیں کرتے تھے جس کی وجہ سے کمپیوٹر میں اردو زبان انسٹال کرنا کافی مشکل عمل تھا۔ اس کے علاوہ ہمارے ہاں عام تعلیمی اداروں میں اردو ٹائپنگ (اردو کمپیوزنگ) سکھائی نہیں جاتی جبکہ انگریزی ٹائپنگ نوکری کے لیے لازمی تصور کی جاتی ہے۔ اس لیے طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد باقاعدہ طور پر انگریزی ٹائپنگ سیکھتی ہے۔

ایک اور وجہ یہ ہے کہ یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے بھی انگریزی زبان میں اپنے خیالات لکھنے کی صلاحیت پر عبور نہیں رکھتے، جس کی وجہ سے وہ اپنے اردو خیالات کا انگریزی میں ترجمہ کرنے کے بجائے اس کو رومن اردو میں تحریرکرنے پر ترجیح دینے لگے۔

بعض ماہرین کے مطابق ہم لوگ بطورِ قوم انگریزی زبان سے مرعوب ہیں اور ہمیں شدید احساس کمتری ہے کہ ہمیں انگریزی زبان نہیں آتی، حالانکہ ہمیں چینی زبان نہیں آتی، جرمن نہیں آتی، فرانسیسی نہیں آتی، ہمیں کبھی اس پر شرمندگی نہیں ہوئی، لیکن انگریزی نہ آنے پر ہم خود کو کمتر سمجھتے ہیں۔

رومن اردو ٹائپ کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد اپنی سستی کی وجہ سے نہ تو انگریزی زبان میں مہارت حاصل کرتی ہے، اور نہ ہی اردو ٹائپنگ سیکھنے کی کوشش کرتی ہے کیونکہ وہ خیال کرتے ہیں کہ اردو ٹائپ کرنے سے ان کا علمی رعب باقی نہیں رہے گا۔ رومن اردو میں لکھنے سے ہمارا کچھ نہ کچھ بھرم تو قائم رہے۔

رومن اردو کے اصول

جس طرح ایک ہندوستانی فلم میں سلمان خان کا ڈائیلاگ ”مجھ پر ایک احسان کرنا کہ مجھ پر کوئی احسان نہ کرنا“ مشہور ہے، اسی طرح رومن اردو لکھنے کا اصول یہ ہے کہ اس کا کوئی اصول نہیں ہے۔

کیونکہ رومن اردو کوئی باقاعدہ تسلیم شدہ رسم الخط نہیں ہے، اس لیے نہ ہی اس کے کوئی قواعد و ضوابط ہیں، اور نہ ہی اس کی تعلیم کے لیے کوئی ادارہ موجود ہے۔ جس شخص کی جو مرضی ہو۔ اس کے دل کو جو ہجے بہتر لگیں، وہ وہی تحریر کرتا ہے (چاہے وہ سامنے والے شخص کی سمجھ سے باہر ہی کیوں نہ ہو)۔ انگریزی یا دیگر زبانوں کا کوئی لفظ آپ کو سمجھ نہ آئے تو آپ گوگل سے مدد لے سکتے ہیں لیکن رومن اردو کے مواد میں مدد کا صرف ایک ہی حل ہے، اور وہ یہ کہ جس نے تحریر کیا اس کو فون کر کے پوچھا جائے "بھائی جی یہ کیا لکھا ہے؟"

میرے خیال میں جس شخص کو سزا دینی ہو اس کو سوال یا جواب رومن اردو میں کر دیا جائے تو اس کے لیے کافی ہے، خاص کر اگر وہ چالیس سال سے زائد عمر کا ہے۔ میں نے کئی دفعہ ٹی وی شو کے میزبانوں کو "ناظرین کے کمنٹس" پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس وقت ان کو خاصی پریشانی ہوتی ہے۔ رومن اردو سے کچھ گزارہ تو ہو جاتا ہے مگر وہ طمانیت نہیں حاصل ہوتی جو اردو رسم الخط میں پڑھنے سے ہوتی ہے۔ اگر رومن اردو میں تحریر لمبی ہو جائے تو یہ ایک تھکا دینے والا اور کافی بیزار کن کام محسوس ہوتا ہے۔

بد قسمتی سے رومن اردو کا استعمال دن بدن بڑھ رہا ہے۔ پہلے صرف عوام آپس میں اس کو ایس ایم ایس اور سوشل میڈیا پر استعمال کرتے تھے۔ لیکن اب تو موبائل فون اور ملٹی نیشنل کمپنیاں اپنی معلومات اور اشتہارات بھی رومن اردو میں بھیجتی ہیں۔ پریشان کن بات یہ ہے کہ نہ صرف پاکستان کی بڑی بڑی سیاسی جماعتوں کی جانب سے الیکشن مہم میں ایس ایم ایس، بلکہ صوبائی حکومت کی طرف سے سرکاری پیغامات بھی موبائل فون پر اردو یا انگریزی کے بجائے رومن اردو میں موصول ہو رہے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ اردو کے فروغ، ترقی، تحفظ اور بقا کے لیے حکومت کیا کررہی ہے؟ اس وقت پاکستان میں وفاقی اور صوبائی سطح پر نجانے کتنے ہی ادارے ایسے ہیں جو اردو کے فروغ اور بقا کے لیے "دن رات کام" کررہے ہیں جن میں ’’ادارہ فروغ قومی زبان‘‘ (مقتدرہ قومی زبان)، مجلس ترقی ادب، اردو سائنس بورڈ، قومی لغت بورڈ، اکادمی ادبیات، نظریہ پاکستان فاؤئڈیشن، اردو لغت پاکستان، اقبال اکادمی، قائد اعظم اکادمی، مرکز تحقیقات اردو پروسیسنگ، وغیرہ وغیرہ ہیں جن کو حکومت کی جانب سے لاکھوں کروڑوں روپے کے ماہانہ فنڈز بھی مل رہے ہیں، لیکن ان حکومتی اداروں کی کارکردگی کیا ہے؟

خود مقتدرہ قومی زبان نے اپنی ویب سائٹ پر درج کیا ہوا کہ ادارۂ فروغِ قومی زبان (مقتدرہ قومی زبان) کا قیام 4 اکتوبر 1979ء کو آئین پاکستان 1973ء کے آرٹیکل 251 کے تحت عمل میں آیا تاکہ قومی زبان 'اردو' کے بحیثیت سرکاری زبان نفاذ کے سلسلے میں مشکلات کو دور کرے اور اس کے استعمال کو عمل میں لانے کے لیے حکومت کو سفارشات پیش کرے، نیز مختلف علمی، تحقیقی اور تعلیمی اداروں کے مابین اشتراک و تعاون کو فروغ دے کر اردو کے نفاذ کو ممکن بنائے۔

یہ ادارہ اپنے اہداف کے ساتھ کس قدر انصاف کر سکا اور کتنی کامیابی ملی، اس کا فیصلہ قارئین خود کریں۔

سوشل میڈیا اور کمپیوٹر میں اردو استعمال کیسے کریں؟

اردو زبان کا سوشل میڈیا پر استعمال بہت آسان ہے۔ آپ کو صرف اور صرف یہ کرنا ہے کہ آپ جو بھی آپریٹنگ سسٹم استعمال کر رہے ہیں۔ اس میں صرف اردو کی بورڈ انسٹال کرنا ہے۔

کمپیوٹر میں ’یونی کوڈ‘ کے آنے سے پہلے اردو انسٹال کرنا کافی مشکل کام تھا۔ لیکن اب نہیں۔ یونی کوڈ کی ایجاد سے اب کمپیوٹر میں ہر اہم زبان میں تحریر ممکن ہے۔ تقریباً تمام ہی بڑے سوفٹ ویئر یونی کوڈ کو سپورٹ کرتے ہیں، اس لیے کمپیوٹر میں اردو کا استعمال بہت آسان ہوگیا ہے۔ آپ کو اپنے کمپیوٹر سسٹم میں صرف اردو کی بورڈ ڈاؤن لوڈ کر کے انسٹال کرنے کی ضرورت ہوگی۔ اردو کی بورڈ بڑے اردو اخبارات کے علاوہ بے شمار ویب سائٹس پر مفت میں دستیاب ہے جس سے آپ اپنے کمپیوٹر میں اردو تحریر با آسانی شروع کر سکتے ہیں۔


حسن اکبر لاہور کی آئی ٹی فرم ہائی راک سم میں مینیجنگ ڈائریکٹر ہیں۔ شخصیت میں بہتری کا جذبہ پیدا کرنے والی کتب کا مطالعہ شوق سے کرتے ہیں۔ ان کے مزید مضامین ان کی ویب سائٹ حسن اکبر ڈاٹ کام پر پڑھے جا سکتے ہیں۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جاٰنے والی خبریں
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران

LARGE_RECTANGLE_BOTTOM - /1029551/Dawn_ASA_Unit_670x280


تبصرے (6) بند ہیں

نجیب احمد سنگھیڑہ Sep 29, 2015 08:09pm

رومن اردو لکھنا آسان ہے اس لیے یہ بطور ایس ایم ایس اور تبصرہ کے زیادہ چلتی ہے۔ ہر کسی کو اردو کیوبورڈ نہیں آتا اس لیے رومن اردو سے کام چلایا جاتا ہے۔ کئی موبائل اردو میں لکھے ایس ایم ایس ریڈ کرنے کے قابل نہیں ہیں، رومن اردو میں لکھ کر تیتی دس موبائل میں بھی ایس ایم ایس پہنچ جاتا ہے۔ اردو میں موبائل میں لکھنا انتہائی مشکل کام ہے اور وقت طلب بھی اس لیے بھی اسے کم استعمال کیا جاتا ہے۔ نیٹ پر اردو کی حوصلہ افزائی نہ کرنے میں ڈان بلاگ ڈیسک بھی تھوڑا بہت ذمہ دار ہے جو یہ تبصروں میں رومن اردو میں لکھے تبصرے بھی شائع کر دیتا ہے۔

ع۔ر۔ آصف Sep 29, 2015 10:42pm

رسم الخط کسی بھی زبان کی پہلی پہچان ہے۔ رسم الخط بدل دینے سے اس زبان سے وابستہ ادب ، فن اور ثقافت بھی تبدیل ہو جاتے ہیں۔ اس کی بہ ترین مثال ترکی زبان ہے جس کو عربی رسم الخط کی بجائے رومن میں لکھا جانے لگا تو ترکی کا ادب ، فن و ثقافت اور اقدار سب کچھ تبدیل ہو گیا۔ یہ کہنا کہ "اردو لکھنا بہت مشکل ہے" صرف اور صرف لاعلمی کی وجہ سے ہے، ورنہ آپ ہر جگہ اردو نہایت آسانی سے لکھ سکتے ہیں خواہ موبائل ہو یا ٹیبلٹ ہو یا کمپیوٹر۔ صرف ذرا شوق کی بات ہے۔ اور احساسِ کم تری سے پیچھا چھُڑانے کی دیر ہے۔ موبائل اور ٹیبلٹ پر آپ کو انتہائی آسانی سے اردو کی بورڈ مل جاتے ہیں جن کا استعمال بہت ہی آسان ہے۔ اسی طرح کمپیوٹر کے لیے بھی آسان ترین کی بورڈ دست یاب ہیں۔ آپ ایک مرتبہ اس طرف آکر تو دیکھیں آپ کی جان انگریزی سے چھوٹ جائے گی۔ جب کبھی میرا طویل رومن اردو تحریر سے واسطہ پڑتا ہے تو میری کوشش ہوتی ہے کہ اس کو نظر انداز کر دوں ۔ سچ پوچھیں تو میں رومن اردو کو قطعی اردو نہیں سمجھتا۔

Hussain Nisar poet Sep 29, 2015 11:53pm

راقم الحروف نے نہایت عمدگی سے اپنے فرضِ منصبی کو نبھایا ھے پر کیا ہی اچھا ھو کہ ہر سطح پر نئے لکھنے والوں کو بھی موقع فراہم کیا جائے جس سے قوم میں موجود احساسِ کمتری کا خاتمہ ممکن ھو سکے۔جس طرح ہر شعبہ ھائے ملک میں صرف من پسند افراد کو اہمیت دی جاتی ھے جس میں میرٹ کا تصور صرف کاغذی سطح تک رہ گیا ھے اگر ہر شعبہ بلا تفریق قابلیت کو ترجیح دے تو معاشرے کی ترقی کو کوئی نہیں روک سکتا اسی طرح اردو کے نفاذ کے لئے بھی نئے شعراء اور ادیبوں کو بھی کوئی پلیٹ فارم مہیا کرنا چاہئے تاکہ وہ اپنی فنی صلاحیت سے لوگوں میں اردو زبان سے انسیت کا شعور اجاگر کر سکیں۔ اردو ھے جس کانام سبھی جانتے ہیں داغ سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ھے

usman Sep 30, 2015 02:58am

رومن اردو پڑھتے میرے سر میں درد شروع ہو جاتا ہے

عائشہ بخش Sep 30, 2015 12:46pm

@نجیب احمد سنگھیڑہ : کے تمام تبصرے سے سو فیصد متفق ہوں

اکبر Sep 30, 2015 01:47pm

موبائل فون پر اردو لکھنا پہلے مسئلہ تھا ۔ لیکن اب نہیں کیونکہ اب تو تین چار ہزار روپے کے موبائل فون میں بھی اینڈرائیڈ دستیاب ہے ۔ اب تو سوائے سستی کے اور کوئی وجہ نہیں ۔ خیر میں نے تو اس مضمون سے پہلے ہی اپنی مشکل آسان کرلی ہے ۔ مجھے جو بھی دوست فیس بک یا فون پر ایس ایم ایس رومن اردو میں کرتا ہے ۔ میں اس کو کافی شرمندہ کرتا ہوں اب مجھے کوئی پریشانی نہیں