انتظار حسین کی نثر، حرفِ دل کی وہ تختی تھی، جس پر کنندہ حروف بچھڑ جانے والوں کی یاد سے شرابور ہوتے ہیں۔ - فوٹو بشکریہ حمزہ چیمہ
انتظار حسین کی نثر، حرفِ دل کی وہ تختی تھی، جس پر کنندہ حروف بچھڑ جانے والوں کی یاد سے شرابور ہوتے ہیں۔ - فوٹو بشکریہ حمزہ چیمہ

’’شام ڈھل رہی ہو، تو ماحول میں سوز اور اداسی پیدا ہوجاتی ہے اور اگر اس منظرنامے میں کوئی پرانی ، شکستہ اور تاریخی عمارت بھی موجود ہو، تو پھر یہ اداسی کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ میں جب لال قلعے کو دیکھتا ہوں، تو مجھ پر وہی سوز وارد ہوتا ہے، جیسے چاند کو گہن لگ جائے۔ یہ کیفیت بے آواز مگر بے قرار کر دینے والی ہوتی ہے۔‘‘

یہ افسانوی گفتگو انتظار حسین کی ہے، جو انہوں نے مجھ سے ایک مکالمے میں کی تھی۔ اب یہ طرزِ گفتگو اور اس احساس زیاں کو محسوس کرنے والے تقریباً ناپید ہیں، کیونکہ اب تو ادبی منڈی ہے اور ماہر دوکاندار، ایسے ماحول میں انتظارحسین ادب کے سچے قارئین کا اثاثہ تھے۔

انتظار حسین کی نثر، حرفِ دل کی وہ تختی تھی، جس پر کنندہ حروف بچھڑ جانے والوں کی یاد سے شرابور ہوتے ہیں۔ ان کی تخلیقی تحریریں ہوں یا گفتگو کا لہجہ، ایسا لگتا تھا کہ ہم روایت اور تہذیب کے نمائندے سے بات کر رہے ہیں۔ ہم سے جو مخاطب ہے، وہ ایک ایسی تہذیب کا باسی ہے، جس کا تذکرہ صرف اب کتابوں میں ملتا ہے، مگر انتظار حسین کو سماعت کرتے ہوئے اکثر محسوس ہوتا کہ اگر داستان کوئی ’شخص‘ ہوتا، تو اس کا لہجہ ایسا ہی ہوتا۔

اس روایت کو انہوں نے سینے سے لگا کر رکھا، مشرقی علوم سے دلی لگاؤ، شخصیات سے عقیدت، زمانوں اور تہذیبوں کی سرشاری لیے وہ شخص ہم سے آج بچھڑ گیا ہے، جو تہذیبِ گم گشتہ کا ’آخری داستان گو‘ تھا۔

پڑھیے: انتظار حسین بین الاقوامی ادبی انعام کے لیے نامزد

انہوں نے ہندوستان کی کلاسیکی فضا میں ہوش سنبھالا۔ تقسیم ہند کے موقع پر ہجرت کے تجربے سے گزرے۔ لاہور میں عارضی قیام کی خواہش ہی مستقل سکونت میں تبدیل ہوئی۔ افسانہ نگاری میں ’کرشن چندر‘ سے ابتدائی اثرات قبول کیے، تدریس میں اپنے استاد پروفیسر کرار حسین کا اثر لیا۔

زندگی کو تخلیق کی طرح بسر کرنے والے نے دوست ان کو بنایا جن کی صحبت بھی اپنی تاثیر رکھتی تھی۔ ناصر کاظمی، حنیف رامے، نیاز احمد جیسے ہنرمندوں سے گہرے مراسم ہوئے۔ کہانی کہنے کے فن پر انتظارحسین نے ملکہ حاصل کیا اور ان کے ان سب دوستوں نے بھی اپنی جداگانہ تخلیقی جہتوں میں فتح کے جھنڈے گاڑے۔

مگر بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی۔ انہوں نے اپنے پرکھوں کی داستان گوئی کو بازیافت کیا اور اس کے رنگوں کو پھر سے جاوداں کرنے کو سرگرم ہوئے۔ یہ جنوں ایسا متحرک ہوا کہ اپنے قلم سے کاغذ پر کہانیوں کے ذریعے منظرنامے انڈیلنے لگے۔ کہانیاں قصوں میں تبدیل ہوئیں اور ان سے نئے قصے جنم لینے لگے۔

شاید اسی لیے ان کی افسانوی کلیات کے عنوانات ’جنم کہانیاں‘ اور ’قصہ کہانیاں‘ تھے۔ فکشن لکھنے والے قلم کار کے ہاں تکنیک، حروف کا شعوری برتاؤ، کرداروں کی بنت اور پیش کاری تو ہوتی ہی ہے، مگر انتظار حسین کے ہاں معاملہ مختلف تھا۔ وہ کہانی 'سناتے' تھے۔ ان کی لکھی ہوئی کہانیاں پڑھنے کا تو قاری کو دھوکہ ہوتا ہے، دراصل وہ کہانی پڑھنے کے بجائے اس کہانی کے لہجے کو سن رہا ہوتا ہے اور اس کے ساتھ محوِ سفر ہوتا ہے۔

انتظار حسین کی آخری کتاب کا سرورق.
انتظار حسین کی آخری کتاب کا سرورق.

اسی لیے انتظار حسین نے ناول لکھے یا افسانے، ایک کے بعد ایک کہانی اس تخلیق کار کو قارئین سے قریب کرتی چلی گئی۔ یہ قربت اتنی بڑھ گئی کہ اب ان کی جدائی کا یقین نہیں ہو رہا۔ ایسا لگتا ہے کہ ہم ان کرداروں میں تبدیل ہوگئے ہیں جن کو وہ لکھتے تھے اور ہم پڑھ کر اداس ہو جایا کرتے تھے۔

آج ہم اداس نہیں ساکت ہیں، مگر شاید اب کوئی نہیں جو ہمیں ویسا لکھ پائے گا جس طرح وہ بیان کرتے تھے؛ اردو ادب میں یہ تشنگی اب بہت دیر تک برقرار رہے گی۔

انتظار حسین کے افسانوں کی کئی کلیات شائع ہوچکی ہیں جبکہ ’مجموعہ انتظار حسین‘ کے ذریعے بھی ان کے تحریروں کو یکجا کیا گیا۔ ان کی کتابوں کو سنگ میل پبلی کیشنز لاہور اور آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کراچی سمیت متعدد ناشرین نے شائع کیا۔ ان کے افسانوی مجموعے جو مختلف عنوانات کے ساتھ شائع ہوئے، ان میں گلی کوچے، کنکری، آخری آدمی، شہرِ افسوس، کچھوے، خیمے سے دور، خالی پنجرہ، شہرزاد کے نام، نئی پرانی کہانیاں، سمندر اجنبی ہے، ہندوستان سے آخری خط اور جاتکا کہانیاں شامل ہیں۔

پڑھیے: معروف ادیب و افسانہ نگار انتظار حسین انتقال کرگئے

انہوں نے بچوں کے لیے بھی کہانیاں لکھیں جن کا مجموعہ ’کلیلہ دمنہ‘ کے نام سے شائع ہوا۔ انتظار حسین کا آخری ناول ’سنگھاسن بتیسی‘تھا، جو 2014 میں شائع ہوا، جبکہ دیگر ناولوں میں چاند گہن، دن اور داستان، بستی، تذکرہ اور ’آگے سمندر ہے‘ شامل ہیں، جبکہ افسانوی ادب کے تراجم میں نئی پود، ناؤ، سرخ تمغہ، ہماری بستی، گھاس کے میدانوں میں، سعید کی پراسرار زندگی، شکستہ ستون پر دھوپ شامل ہیں۔

ان کے دیگر تراجم میں فلسفے کی تشکیل، ماؤزے تنگ، اسلامی ثقافت شامل ہیں۔ انہوں نے جو کتابیں مرتب کیں ان میں رتن ناتھ سرشار کی الف لیلیٰ، انشااللہ خان کی 'دو کہانیاں'، سن ستاون میری نظر میں، پاکستانی کہانیاں، عظمت گہوارے میں، کچھ تو کہیے، سوالات و خیالات از کرار حسین شامل ہیں۔

ان کے تنقیدی مضامین کے مجموعوں میں ’علامتوں کا زوال‘ اور ’نظریے سے آگے‘ اشاعت پذیر ہوئے، جبکہ انہوں نے مختلف اردو اخبارات کے لیے مستقل لکھا۔ ان صحافتی تحریروں کے جو مجموعے شائع ہوئے، ان میں ذرے، ملاقاتیں، بوند بوند شامل ہیں۔

’نئے شہر پرانی بستیاں‘ اور ’زمین اور فلک اور‘ کے نام سے سفرنامے بھی قلم بند کیے۔ بچوں کے لیے ترجمہ شدہ ناول ’سارہ کی بہادری‘ تھا، جبکہ دیگر دو کہانیوں کے مجموعے ’الو اور کوا‘ اور ’کلیلہ دمنہ‘ اشاعت پذیر ہوئے۔ تذکروں اور آپ بیتی میں بھی انہوں نے اپنے قلمی فن کا بھرپور ہنر دکھایا۔ اس صنف میں دلی جو ایک شہر تھا، اجمل اعظم کے علاوہ، اپنی سوانح عمری ’چراغوں کا دھواں‘ اور ’جستجو کیا ہے؟‘ تحریر کیں، جبکہ قائد اعظم محمد علی جناح جیسی عظیم ہستی کی سوانح حیات بھی لکھی۔

راقم کو یہ شرف حاصل ہے کہ جب اس نے رضا علی عابدی کی سوانح حیات ’قلم سے آواز تک‘ لکھی تو اس کا دیباچہ انتظار حسین نے لکھا، جو میرے لیے علمی و ادبی سند کی اہمیت رکھتا ہے۔ انتظار حسین کی تخلیقات کو نہ صرف برصغیر پاک وہند میں سراہا گیا، بلکہ مغربی دنیا میں بھی ان کی ستائش کی گئی۔

ان کی کئی تخلیقات کے انگریزی تراجم ہوئے جبکہ انہوں نے خود بھی انگریزی زبان میں تصنیف و تالیف کا کام کیا۔ انگریزی زبان کے مختلف اخبارات کے لیے کالم لکھے جن میں ’ڈان‘ سرفہرست ہے، جس کے لیے ایک طویل عرصے تک مستقل لکھا۔

پڑھیے: میری کہانی کون خریدے گا

ان کی انگریزی تحریروں کے دیگر مجموعوں میں ’سرکل اینڈ ادر اسٹوریز، اور 'این انریٹن ایپک' شامل ہیں۔ برطانیہ کے ایک معروف ادبی اعزاز ’بکر پرائز‘ کے لیے انتظار حسین کو 2013 میں نامزد کیا گیا جو بذات خود ایک اعزاز ہے۔

انتظار حسین مختلف النوع تہذیبوں کے لیے متجسس تھے، لہٰذا مطالعے کی پگڈنڈی کے کنارے وہ بہت دور تک گئے۔ انہوں نے کئی نسلوں کے زیرِ سایہ علمی تربیت حاصل کی اور پھر کئی نسلوں تک اس علم کو اپنی گفتگو اور کتابوں کے ذریعے منتقل کیا۔

پاکستان اور ہندوستان کی جامعات میں ان پر تحقیقی مقالے لکھے گئے۔ وہ ان چند خوش نصیب ادیبوں میں شمار ہوتے ہیں جن کو ان کی زندگی میں ہی سراہا گیا۔ انتظار حسین داد و تحسین کے شور میں رخصت ہوئے۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ جس ادب کے خالق تھے، اس کے لیے اداسی کو ذات سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔

تاریخ کے نقوش، دیومالائی داستانوں کے کردار، ہجرت کے زخم، ماضی کی یادیں اور بے ہنگم عہد جدید میں روشن دنوں کے خواب دیکھنے والی آنکھیں اب جامد ہوگئیں، مگر ان کی تحریروں سے وہ سفر طے ضرور ہوگا جس کی منزل امن و آتشی اور حسن و فطرت پر منتج ہے۔ ہم بھی اگلی نسلوں کو کہہ سکیں گے کہ ہم نے وہ آنکھیں دیکھی ہیں جو عہد جدید کے آخری داستان گو کی تھیں۔


بلاگر فری لانس کالم نگار اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔

ان سے ان کے ای میل ایڈریس [email protected] پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جاٰنے والی خبریں

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران

LARGE_RECTANGLE_BOTTOM - /1029551/Dawn_ASA_Unit_670x280


اپنی رائے دیجئے

5
تبصرے
1000 حروف
نجیب احمد سنگھیڑہ Feb 02, 2016 09:15pm

انتظار حسین کے تمام تر ادبی کام کی بڑی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے اپنی تحریروں پر لسانی، سیاسی اور ثقافتی چھاپ نہیں ڈالی اور جو کچھ بھی لکھا وہ بغیر کسی رنگ، نسل، مذہب، زبان، فرقہ کے لکھا اور یہ خصوصیت سوائے انتظار حسین اور عبداللہ حسین کے مجھے کسی بھی دوسرے رائٹر میں ںظر نہیں آئی۔ انتظار حسین کی وفات سے ادبی دنیا گہنا گئی ہے، عبداللہ حسین کے بعد انتظار حسین کا بھی دار فانی سے کوچ کر جانا ادبی دنیا کے لیے سانحہ ہے خاص کر ان قاریوں کے لیے جو ادب کو سیاست سے پاک دیکھنا اور پڑھنا چاہتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند کرے۔ آمین !

راشداحمد Feb 02, 2016 10:34pm

اردو ادب کے اس عبقری سے سال گزشتہ انہی دنوں میں لاہور لٹریری فیسٹیول میں ملاقات ہوئی۔ایک پورے سیشن میں بڑی دانش مندی سے بولتے رہے اور مجھ جیسوں کے سوالات کے جوابات بھی دیئے۔بعد ازاں کافی دیر تک سامعین کے ساتھ کھڑے تصویریں بھی بنواتے رہے۔ اب کے لاہورلٹریری فیسٹیول میں پھر ان سے ملاقات کا ارادہ تھا،لیکن حیف کہ آج لقمئہ اجل بن گئے۔بانوے سال تک بھرپور زندگی جینے کے بعد ایک عہد رقم کر گئے۔تاریخ ساز شخصیت ایسی ہی ہستیوں کو کہتے ہیں۔ آسماں تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے

Munir Ahmad (Munir Bin Bashir) Feb 03, 2016 07:45am

1974 --لاہور - ١نجینئرنگ کا آخری پیپر دے دیا --پریکٹیکل بھی سارے ہوگئے - پراجیکٹ کا دلدر بھی ختم ہو چکا تھا - سو ساری موٹی موٹی کتابیں -- مختلف مضامیں کے نوٹس -- پراجیکٹ یعنی تھیسس جو آگے شروع کے ایام میں انٹرویو میں کام آنا تھا اور دیگر سامان سب ایک بکسے میں بند کیا- ہوسٹل سے کوئٹہ کے لئے روانگی کا وقت ہے - صندوق کو تالا لگانے سے قبل دوبارہ سامان کا جائزہ لیا - یہ جائزہ انتظار حسین کے مشرق میں چھپے ہوئے کالموں کے تراشے تھے جو میں انجینئرنگ کی تعلیم کے دوران جمع کرتا رہا تھا - انجینئرنگ کی کتب نے مستقبل کے کیریئر اور نوکری میں میری مدد کر نی تھی اور ان کالموں کے تراشوں سے اپنے لکھنے لکھانے کے شوق کی تکمیل کر نی تھی - یہ تھا میرا اثاثہ - ان دونوں قسم کے اثاثون نے میرا خوب ساتھ دیا -

2010 - نوکری سے ریٹئر منٹ - پروفیشن کی کتابیں جن میں تین گنا اضافہ ہو چکا تھا سے الوداعی ملاقات کی اور بذریعہ فیس بک مختلف لائبریریوں ‘ کارخانوں میں کام کر نے والے انجینئرز کے حوالے کیں لیکن انتظار حسین کے کالم اب بھی نوٹس کی صورت میں محفوظ ہیں

2016 - ان کالموں کے خالق اللہ تعالیٰ کے پاس چلے گئے

Munir Ahmad (Munir Bin Bashir) Feb 03, 2016 07:50am

محترم انتظار حسین آپ سب کے لئے کیا تھے --- مجھے علم نہیں - لیکن میرے تو وہ غائبانہ محترم استاد تھے اور رہیں گے - ان کے کالم “لاہور نامہ “ کی چھتری تلے جا کر میں اپنی اردو صحیح کرتا تھا -ان کا انداز سیکھتا تھا - اردو کے کلاسیکل انداز سے کیسے مزاح کا اسلوب تشکیل دیا جائے سے آگاہی حاصل کرتا تھا - میرے پاس ان کے دو سو تین سو کالم تراشوں کی صورت میں تھے - بیس تیس صفحات جو میں نے اپنے ہاتھ سے لکھے ہوئے ہیں ایسے ہیں جن میں انکے کالم کے فقرے نوٹ کئے ہوئے ہیں - انتظار حسین کے یہ فقرے جو میں نے نوٹ کئے ہیں پاکستان کی ایک تاریخ بھی ایک شگفتہ انداز میں سناتے ہیں -

ان کے کئی انٹرویو جو انہوں نے ٹی وی پر دئے تھے میں نے نوٹ کر لیتا تھا کہ اس میں وہ پاکستان ہندوستان کے اقدار کے اندر جو بدلاؤ آرہے ہیں ان پر روشنی ڈالتے اور نئی نسل کو اس کی روشنی میں زندگی گذارنے کے اصولوں پر چلنے کے لئے رہنمائی کی

samina Feb 03, 2016 04:50pm

کراچی لٹریچر فیسٹیول میں ہم ان کے پیچھے پیچھے رہتے تھے ..افسوس کہ اس بار وہ نہ ہوں گے ....افسوس کہ اب ان جیسا کوئی نہ ہوگا ...