Email


Your Name:


Recipient Email:


نوکری کو لات مار کر خوبصورتی کی تلاش

فیصل ظفر اور عاطف راجہ

رومانیہ سے تعلق رکھنے والی فوٹوگرافر ماہیلا نوروک نے اپنی ملازمت کو لات ماری اور دنیا گھومنے نکل پڑیں۔

اس وقت سے اب تک وہ انٹارکٹیکا کے سوا دنیا کے تمام براعظموں کے 50 ممالک میں سینکڑوں خواتین کی تصاویر لے چکی ہیں اور اپنے اس پراجیکٹ کو انہوں نے اٹلس آف بیوٹی کا نام دیا ہے۔

ان کے بقول " میرے خیال میں ہماری دنیا کو خوبصورتی کے نقشے کی ضرورت ہے تاکہ جان سکیں کہ دنیا کتنی پرتنوع ہے، مجھے توقع ہے کہ اس پراجیکٹ میں شامل تصاویر دنیا بھر میں موجود متعدد غلط تصورات کو چیلنج کرسکیں گی"۔

یہ فوٹوگرافر پانچ زبانوں میں مہارت رکھتی ہیں جو انہوں نے تصاویر لینے میں مدد دیتا ہے، ابھی بھی ان کا سفر جاری ہے اور 2017 تک وہ اتنی تصاویر اکھٹی کرنے کے لیے پرامید ہیں جو ایک کتاب کی اشاعت کے لیے کافی ہوں۔

یہاں ان کے کام کے دوران جمع کی جانے والی تصاویر کو دیا جارہا ہے۔

رومانیہ

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک

ماہیلا نوروک تین برسوں سے دنیا بھر میں گھوم رہی ہیں اور یہ تصویر رومانیہ کے دارالحکومت بخارسٹ سے تعلق رکھنے والی خاتون لیولیا کی ہے، جو کہ ماہیلا کا بھی آبائی شہر ہے۔

یونان

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک

یہ یونان کے علاقے ڈیلفی سے تعلق رکھنے والی خاتون ہیں جو ایک ریسٹورنٹ میں کام کرتی ہیں، ویسے تو یہ جدید دور کے ملبوسات کا استعمال کرتی ہیں مگر سال میں ایک بار ایسٹر کے موقع پر مقامی روایتی لباس کو پہننا نہیں بھولتیں۔

چیچنیا

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک

یہ تصویر چیچنیا کے صدر مقام گرونزی میں لی گئی اور اس میں نظر آنے والی خاتون کا نام لنڈا ہے، چیچنیا میں خواتین جدت اور قدامت کے امتزاج پر مبنی ملبوسات کا استعمال کرتی ہیں اور رنگارنگ اسکارف ان کے سروں پر ہوتے ہیں۔

روس

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک

روس کے علاقے Korolyov سے تعلق رکھنے والی ناشتیہ اس چھوٹی سی دکان کے سامنے کھڑی ہیں جہاں وہ پاسپورٹ فوٹوز لینے کا کام کرتی ہیں مگر ان کی خواہش ہے کہ وہ دنیا بھر گھوم کر قدرتی مناظر کی تصاویر لے سکیں۔

سوئیڈن

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک

بارش ہی کیوں نہ برس رہی ہو، اسٹاک ہوم کے بیشتر رہائشی سفر کے لیے گاڑی کی بجائے پیدل چلنے یا سائیکل کے استعمال کو ترجیح دیتے ہیں، ان میں سے ایک ایمیلیا بھی ہیں جن کا یہ انداز ماہیلا نوروک کو پسند آگیا اور انہوں نے اسے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرلیا۔

یونان

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک

یہ یونان کے سرحدی قصبے آئیڈومینی میں واقع مہاجر کیمپ کی تصویر ہے جس میں ایک تارک وطن اور ایک رضاکار کے درمیان بڑھتی دوستی کے خوبصورت رشتے کو پیش کیا گیا ہے، اس تصویر میں چھوٹی بچی کا تعلق شام سے ہے جبکہ دائیں جانب موجود لڑکی برطانیہ سے یہاں تارکین وطن کی مدد کے لیے آئی ہے۔

سینٹ پیٹرز برگ

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک

روس کے علاقے سینٹ پیٹرزبرگ کی ایناستاسیا بیلے ڈانسر ہیں، اپنے بچپن سے ہی وہ بیلے ڈانسر بننے کا خواب دیکھتی تھیں اور دس سال کی عمر میں حیرت انگیز طور پر آڈیشن میں کاماب ہوکر اس شعبے کا حصہ بن گئیں۔

ترکی

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک

ماہیلا نوروک کی ملاقات آسیہ سے ترک شہر ازمیر میں ہوئی جہاں وہ اپنے رشتے داروں سے ملنے آئی ہوئی تھی، بنیادی طور پر آسیہ جرمنی سے تعلق رکھتی ہیں، تاہم ان کے آباﺅ اجداد کا تعلق ترکی سے تھا جو جرمنی منتقل ہوگئے تھے۔

یونان

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک

یونان سے ایک اور خاتون کاللیوپی کی یہ تصویر ماہیلا نوروک کو ان کے مخصوص روایتی لبادے نے لینے پر مجبور کیا، کاللیوپی کو اس طرح کے ملبوسات کے استعمال کا شوق اپنی دادی سے منتقل ہوا۔

ایتھنز

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک

یونانی دارالحکومت ایتھنز سے تعلق رکھنے والی کرسٹینا، جو مشرق و مغرب کے حسن کا امتزاج ہیں۔

شام

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک

شام سے تعلق رکھنے والی ماں اور بیٹیاں جو یونان کے قصبے آئیڈومینی میں واقع مہاجر کیمپ میں ہفتوں سے مقیم ہیں۔

کورفو

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک

یونانی جزیرے کورفو سے تعلق رکھنے والے راسخ العقیدہ عیسائیوں میں ایسٹر کے موقع پر مقامی رہائشی روایتی ملبوسات میں نظر آتے ہیں، جن میں یہ خاتون بھی شامل ہیں۔

شام

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک

شام سے تعلق رکھنے والی کردش خاتون، جو حلب میں اپنا گھر خانہ جنگی کے باعث چھوڑنے پر مجبور ہوئیں اور کافی عرصے تک یونانی قصبے آئیڈومنی میں واقع مہاجر کیمپ میں مقیم رہیں۔

تاجکستان

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک

تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے کی ایک مارکیٹ میں سبزی فروخت کرنے والی خاتون، یہ خاتون ازبک ہیں اور ان کا خاندان طویل عرصے سے تاجکستان میں مقیم ہے۔

ایتھوپیا

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک

ایتھوپیا سے تعلق رکھنے والی یہ خاتون مسلمان ہیں جبکہ ان کی بہترین دوست عیسائی ہیں، فوٹوگرافر کے مطابق اس افریقی ملک میں جس چیز نے انہیں متاثر کیا وہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان دوستی کا خوبصورت تعلق تھا۔

امرتسر

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک

انڈہن شہر امرتسر گولڈن ٹمپل میں ہر سال لاکھوں افراد آتے ہیں جہاں اکثر سکھ خواتین ایک مخصوص انداز کے ملبوسات، پگڑی، کرپان وغیرہ کے ساتھ آتی ہیں۔

آئس لینڈ

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک

یہ تصویر آئس لینڈ کے شہر Thorunn کی ہے، جہاں فوٹوگرافر کو جانے کا موقع فیس بک کی جانب سے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر 6 خواتین کی تصاویر لینے کے حوالے سے ملا ہے، وہاں انہوں نے اس خاتون کو منتخب کیا۔

شمالی کوریا

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک

شمالی کوریا ایسا ملک ہے جہاں بہت کم سیاحوں کو جانے کا موقع ملتا ہے، تاہم ماہیلا نوروک اپنے سفر کے دروان وہاں بھی گئیں اور وہاں خواتین کی زندگی کی ایک جھلک اس تصویر میں پیش کی۔

دوشنبے

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک

تاجکستان کے دارالحکومت دوشبنے میں لی جانے والی ایک اور تصویر، جس کے بارے میں فوٹوگرافر کا کہنا ہے کہ مسلم خواتین کی تصاویر کے حوالے سے میڈیا میں پیش کیا جانے والا تعصب بالکل غلط ہے۔

ممبئی

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک

انڈین شہر ممبئی کے ایک ریلوے اسٹیشن پر لی جانے والی اس تصویر میں یہ لڑکی عام طور پر ایسی نظر نہیں آتی، درحقیقت اپنے کالج میں منائے جانے والے دن کے حوالے سے اس طالبہ نے یہ روایتی لباس پہنا ہوا ہے۔

منگولیا

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک

چین کے علاقے منگولیا سے تعلق رکھنے والے مورون۔

ایتھوپیا

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک

ایتھوپین علاقے Awash سے تعلق رکھنے والی ایک مسلم لڑکی جو ایک مخصوص برادری افار سے تعلق رکھتی ہے، اس برادری کے بیشتر افراد خانہ بدوش ہوتے ہیں جو چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم ہوتے ہیں اور ہر ایک کا اپنا بادشاہ ہوتا ہے۔

نیپال

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک

نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں ماں اور بیٹے کا خوبصورت انداز۔

ممبئی

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک

ممبئی میں لی جانے والی اس تصویر میں جو لڑکی ہے یہ پارسی برادری سے تعلق رکھتی ہے، یہ برادری اب بھی اپنی قدیم روایات پر عمل کرتی ہے اور تعداد کم ہونے کے باوجود انڈیا کی ترقی کے لیے سرگرم ہے۔

مصر

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک

مصر سب سے زیادہ آبادی رکھنے والا عرب ملک ہے جہاں کے مرد و خواتین کے حسن و جمال کی مثال دی جاتی ہے، یہ تصویر قاہرہ سے تعلق رکھنے والی ایک کمپیوٹر انجنیئر کی ہے اور فوٹوگرافر کا کہنا ہے کہ مصری خواتین گرمجوش ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی ثقافت کو سمجھانے میں مہارت رکھتی ہیں۔

وارنسی

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک

انڈیا کے علاقے وارنسی کو ہندوﺅں میں بہت مقدس سمجھا جاتا ہے جہاں وہ دریائے گنگا میں اپنی رسومات ادا کرنے آتے ہیں، یہ تصویر بھی ایسی ہی ایک ہندو یاتری لڑکی کی ہے۔

قاہرہ

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک

مصر کے دارالحکومت قاہرہ کی ایک اور تصویر، جو فوٹوگرافر کے پراجیکٹ اٹلس آف بیوٹی سے پہلے سے واقف تھیں اور اس کا حصہ بننا چاہتی تھیں۔

کوریا

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک

شمالی کوریا میں داخل ہونے سے پہلے فوٹوگرافر کا خیال تھا کہ وہاں تصویر لینے کا موقع انہیں خوش قسمتی سے ہی ملے گا، تاہم وہ یہ جان کر حیران رہ گئیں کہ خواتین اس بات پر برا نہیں مناتیں اور یہ تصویر پیانگ یانگ میں لی گئی۔

چین

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک

چین کے صوبے سیچوان میں لی گئی یہ تصویر ایک تبت سے تعلق رکھنے والی خاتون کی ہے، تبتی خواتین اپنے منفرد ملبوسات کی وجہ سے جانی جاتی ہیں۔

کرغزستان

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک

کرغزستان ک علاقے اوش میں لی جانے والی تصویر۔

راجھستان

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک

راجھستان انڈیا کا وہ حصہ ہے جہاں خواتین رنگارنگ ملبوسات اور مختلف النوع زیورات کے استعمال کے حوالے سے جانی جاتی ہیں جس کی مثال راجھستان کے علاقے پشکر میں لی جانے والی یہ تصویر ہے۔

ممبئی

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک

یہ خاتون آئندہ سال سو برس کی ہونے والی ہیں اور حیران کن طور پر لگتا نہیں کہ یہ اتنی معمر ہیں۔ یہ تصویر ممبئی میں لی گئی تھی۔

دوشنبے

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک

فوٹوگرافر کو تاجکستان کی خواتین بہت زیادہ پسند آئیں اور یہ تصویر بھی دوشنبے میں لی گئی۔

استنبول

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک

ترکی کے شہر استنبول میں لی جانے والی تصویر۔

امرتسر

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک

سکھ مذہب میں لنگر تقسیم کرنا ایک روایت ہے، یہ گولڈن ٹمپل کے لنگرخانے کی تصویر ہے جہاں فوٹوگرافر کی ملاقات اس سکھ لڑکی سے ہوئی۔

افغانستان

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک

فوٹوگرافر نے افغانستان کا دورہ بھی کیا اور وہاں انہوں نے کئی تصاویر لیں جن میں سے ایک یہ ہے۔

بخارسٹ

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک

یہ فوٹوگرافر نے اپنے آبائی شہر میں تصویر لی، بلکہ اپنے پراجیکٹ کا آغاز ہی انہوں نے اس شہر سے کیا۔

کولمبیا

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک

اپنے سفر کے دوران وہ لاطینی امریکی ممالک میں بھی گئیں اور یہ تصویر کولمبیا کے علاقے میڈیللین میں لی گئی۔

ترکی

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک

ترکی کے سفر کے دوران استنبول کی ایک اور تصویر، مگر اس میں انفرادیت یہ ہے کہ یہ ایک شامی خاتون ہیں۔

آمیزون کے جنگلات

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک

اپنے سفر کے پہلے مرحلے میں وہ سب سے پہلے آمیزون کے جنگلات گئی تھیں اور وہاں انہیں مقامی خوبصورتی کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرنے کا موقع ملا جو اب تک جدید دنیا سے دور ہے۔

استنبول

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک

استنبول کی ایک اور تصویر مگر اس میں خاص بات یہ ہے کہ فوٹوگرافر کو بھی اس میں دیکھا جاسکتا ہے۔

آسٹریلیا

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک

یہ تصویر آسٹریلیا میں لی گئی اور فوٹوگرافر کے مطابق یہ ایک خوبصورت آرٹسٹ اور خوبصورت ماں بھی ہیں، جن کی تصویر خواتین کے عالمی دن پر لی گئی۔

لٹویا

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک

یورپی ملک لٹویا میں لی گئی ایک تصویر۔

فن لینڈ

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک

فن لینڈ کے کھلے سمندر میں ایک بحری جہاز کے دوران فوٹوگرافر کو یہ خاتون پسند آئی اور درخواست کرکے اس تصویر کو لیا۔

برطانیہ

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک

برطانیہ کی مشہور و معروف آکسفورڈ یونیورسٹی میں زیرتعلیم ایک طالبہ۔

ایران

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک

ماہیلا نوروک نے ایران میں بھی سفر کیا اور تمام تر پابندیوں کے باوجود وہاں بھی تصاویر لینے میں کامیاب رہیں۔

انڈونیشیاء

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک

انڈونیشیاءکے جزیرے جاوا کے سمندری سفر کے دوران لی گئی تصویر۔

کیوبا

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک

کیوبا اکثر سیاحوں کی ترجیح نہیں ہوتا مگر ماہیلا نوروک نے اپنے پراجیکٹ کے لیے وہاں جانا بھی پسند کیا اور اس کا ثبوت ہوانا میں لی گئی یہ تصویر ہے۔

ایران

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک

ایران کی ایک اور خوبصورت تصویر۔