تبلیسی: یورپ اور ایشیا کے سنگم پر واقع خوبصورت شہر
اولڈ تبلیسی میں ہم جس چھوٹے ہوٹل میں ٹھہرے تھے، وہاں کے مالک اراکلی نے ہمارے اس شہر میں پہلے دن ہمارے ہاتھوں میں شہر کا نقشہ تھماتے ہوئے اور پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال کو مکمل طور پر ترک کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’تبلیسی دیکھنے کا بہترین طریقہ پیدل چل کر اس شہر کو دیکھنا ہے۔‘‘
جارجیا کا دارالحکومت تبلیسی، پہاڑی شہر ہے جو کہ مٹکواری دریا کی وجہ سے دو حصوں میں تقسیم ہے۔ جارجیا مشرقی یورپ اور مغربی ایشیا کے سنگم پر واقع ہے۔ مجھے عرب امارات میں رہائشی ویزا پر مقیم پاکستانی کے طور پر جارجیا پہنچنے پر ویزا دیا گیا۔
تبلیسی میں تین دنوں پر مشتمل ہمارے قیام کے دوران ہم (میں اور میری دوست) دریا کے بائیں کنارے اولاباری میں ٹھہرے ہوئے تھے، جو کہ اولڈ ٹاؤن میں وسیع و عریض سیمیبا کیتھڈرل کے قریب واقع ایک علاقہ ہے۔





اولڈ تبلیسی دائیں کنارے تک پھیلا ہوا ہے، جہاں اماں جورجیا کا ایک دھاتی مجسمہ نصب ہے جن کے ایک ہاتھ میں جام اور دوسرے ہاتھ میں تلوار تھمی ہوئی ہے۔ ان کی نظریں اس پورے بارونق شہر کو دیکھتی رہتی ہیں۔
شہر کے دونوں حصوں کو کئی پل آپس میں جوڑتے ہیں، ان میں سے ایک پُل براتشویلی برج بھی ہے۔ وہاں سے ہمیں ایسی جگہوں کے راستوں کے سائن بورڈ نظر آئے جن کے نام ہمیں نقشے میں مل نہیں پائے تھے۔
مقامی زبان میں 'تھیٹر' لفظ بمشکل سمجھ پانے کے بعد ہم نے تیر کے نشان کی پیروی کرتے ہوئے ایک شاندار ہوٹل امباسڈوری کے برابر میں موجود ایک گلی کا رخ کیا۔ وہاں تنگ گلیوں کے درمیان مقبول جارجین پتلی باز ریواز ’’ریزو‘‘ لیوانووچ گیبریاڈزے کا ڈیزائن کردہ ایک کلاک ٹاور کھڑا نظر آتا ہے۔
ایلس ان ونڈرلینڈ سے تھوڑی بہت مشابہت رکھنے والا یہ ٹاور پیچیدہ اندازمیں سینکڑوں رنگین ٹائلز سے ڈھانپا ہوا ہے، ان ٹائلز کا ڈیزائن بھی خود ریزو نے ہی ترتیب دیا تھا جو ایک معروف لکھاری، ہدایت کار اور فنکار بھی ہیں۔



ٹاور کے پیچھے ہی گیبریاڈزے پپٹ تھیٹر ہے جو 1981 میں قائم ہوا تھا اور اس کے دائیں جانب تھیٹر کا ہم نام کیفے ہے، اسے بھی ریزو نے ہی سجایا تھا۔ اس کیفے میں روایتی جارجین کھانے پیش کیے جاتے ہیں۔
ہم کیفے میں بنے ایک ٹیرس پر بیٹھ کر جارجیا کی مشہور روٹی، کھچاپوری ہڑپ کرنے لگے جس میں پنیر بھرا ہوتا ہے۔ اس دوران ہمیں اس ٹاور کے فرشتے کا انتظار تھا جو اپنی چھوٹی سی ہتھوڑی سے ٹاور کی گھنٹی بجاتا ہے۔


تھیٹر سے چند قدم آگے ہم 'انچسکھتی بسیلیکا' نامی چرچ کے سامنے سے گزرے جو کہ اس شہر کا قدیم ترین چرچ ہے، جسے چھٹی صدی عیسوی میں قائم کیا گیا تھا۔
تبلیسی میں آپ کو دو چیزیں کثیر تعداد میں مل جائیں گی: قدیم گرجا گھر اور گھر میں تیار کی گئی وائن۔ وائن یہاں مہمان نوازی کی علامت کے طور پر فراخدلی سے پیش کی جاتی ہے۔
یہ شہر مذہب (مشرقی قدامت پرست عیسائیت) سے گہرائی سے جڑا ہے اور صدیوں پرانے گرجا گھر اب بھی محض سیاحتی مقام سے زیادہ فعال عبادت گاہیں ہیں۔
ہمارے دورے کے دوسرے دن اولڈ تبلیسی میں چلتے ہوئے ہمیں یقین تھا کہ ہم نے غلط موڑ لیا — درحقیقت کئی موڑ غلط لیے تھے۔
دوپہر ہوتے ہوتے ہم قدیم ناریکالا قلعے کا نظارہ کر چکے تھے (رائک پارک سے کیبل کار ہمیں پہاڑی تک لے گئی) اور اب ہم ٹیڑھی میڑھی پیچیدہ گلیوں میں بھٹک رہے تھے. جی ہاں اس شہر کی سیر کرنے کا یہی سب سے آسان اور بہترین طریقہ ہے۔


بیرونی حملوں اور برسوں سے جاری خانہ جنگی سے تبلیسی کے کچھ حصے بربادی اور بے ترتیبی کا شکار ہو گئے ہیں مگر اولڈ ٹاؤن میں گھومتے ہوئے میں نے وہاں کے رنگین گھروں، خالص لوہے کے دروازوں اور بالکونیوں میں ایک بے ترتیب حسن محسوس کیا.

راستے میں ہمارا گزر گندھک کے حماموں اور برج آف پیس سے ہوا اور پھر بالآخر سایونی کیتھیڈرل پہنچنے پر ہم نے نقشوں کو کھولا اور تبلیسی کے کیفییز ڈھونڈنے شروع کیے.
تبلیسی میں دنیا کا کچھ انتہائی عمدہ آرٹ اور پرانے کیفیز موجود ہیں، لہٰذا ہم نے اپنا مشن بنا لیا کہ ہم زیادہ سے زیادہ کیفیز کا دورہ کریں گے۔ ان میں سے زیادہ تر کیفیز گمنامی کا شکار ہیں، مگر اتنے بہترین ہیں کہ انہیں ضرور تلاش کرنا چاہیے.

فریڈم اسکوائر پر پہنچنا تو خیر آسان رہا. وہاں موجود یادگار پر اب ولادیمیر لینن کے مجسمے کی جگہ سینٹ جارج کا مجسمہ کھڑا ہے جو ایک ڈریگن کا خاتمہ کر رہے ہیں۔
البتہ آرٹ سے بھرپور عالی شان کیفے لِن وِل تک پہنچنا واقعی ایک چیلنج رہا۔ کیفے کے اندر موجود ملائم و نفیس میز پوش، پرانے دور کے لیمپ، مخمل کے صوفے، پرانی تصاویر، ایک قدیم پیانو اور گل کاری سے مزین دیوار، یہ سب چیزیں آپ کو ماضی میں لے جاتی ہیں.
وہاں سے ہم گوگل میپس اور وائی فائی کے سہارے ظہرانے کی غرض سے الگ تھلگ مگر نہایت ہی عمدہ ایمو رامے آرٹ کیفے پہنچ گئے. آپ کو وہاں کا کواترو فارمیگی پیزا ضرور کھانا چاہیے. جارجین لوگ واقعی پنیر کے استعمال کے ماہر ہیں.


میٹھے کے لیے ہم پور پور کیفے کی بالکونی پر موجود راکنگ چیئرز پر بیٹھ گئے اور گھر میں بنی خشک میوہ جات سے بھری آئس کریم کا مزہ لینے لگے.
اب تھی باری جورجیا کے دی رائٹرز ہاؤس کی. یہ آرٹ نوویو طرزِ تعمیر کا ایک خوبصورت نمونہ ہے جس کی تعمیر 1900 کی دہائی کے اوائل میں ہوئی تھی۔

جارجین آرٹ اور ادب کے تحفظ اور فروغ کی خاطر بنائے گئے اس ہاؤس کے صحن میں موجود سبزہ زار کو ایک کیفے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
یہ ایسی جگہ ہے جہاں دوست وقت سے بے خبر ہو کر گھنٹوں صنوبر کے ایک بڑے درخت کے تلے نہ جانے کتنے کافی کے کپس کی چسکیاں لیتے رہتے ہیں۔ ہم بھی وہاں کافی وقت تک یوں ہی بیٹھے رہے اور اس مقام پر وہاں حقیقی فرحت کا احساس پایا۔
تبلیسی میں واقع رستاویلی ایونیو کو دیکھ کر شاید آپ کو پیرس کا چمچماتا علاقہ چیمپس ایلیسیز یاد آ جائے. ایک اعشاریہ 5 کلومیٹر طویل یہ کشادہ شارع بلاشبہ اس شہر کا سب سے زیادہ جدید اور کمرشل حصہ ہے۔
فریڈم اسکوائر سے شروع ہونے والی اس شارع پر کئی مشہور عمارتیں ہیں، جن میں رستاویلی سینما، سابقہ پارلیمنٹ بلڈنگ آف جورجیا، آرٹ ہاؤس آف تبلیسی، آرٹ میوزیم، تبلیسی اوپیرا ہاؤس اور رستاویلی تھیٹر شامل ہیں۔
نزدیک ہی دی تبلیسی لٹریچر میوزیم ہے اور اس کے صحن میں مقامی لوگوں کا پسندیدہ صوفیا میلنیکوواز فنٹاسٹک دوقان نامی ایک پوشیدہ سا ریسٹورنٹ ہے (اس کے ساتھ ایک چھوٹا بوتیک بھی ہے). وہاں ہم نے اپنے اس تیسرے اور آخری دن پر رسیلی جورجین ڈمپلنگز 'کھنکالی' کھائیں۔

شہر میں بے تحاشہ دکانیں موجود ہیں مگر مختلف اقسام کی سب سے عمدہ چیزوں کی خریداری کے لیے دریا کنارے جانا پڑتا ہے جہاں ڈرائی برج فلی مارکیٹ واقع ہے۔ زیورات سے لے کر میڈلز اور پرانے ٹوتھ برشز تک ہم نے وہاں مختلف اقسام کی ہر چیز بکتی ہوئی دیکھیں۔
اس بات کو سمجھ لیں کہ جب آپ لوگوں سے ’ڈرائی برج‘ کے بارے میں پوچھیں گے تو وہ آپ کو حیرانی سے دیکھیں گے اور نقشے میں بھی اس بازار کا نام درج نہیں مگر یہ بازار اسی شہر میں موجود ہے.
گو کہ جارجیا کے لوگ مہمان نوازی اور دوستانہ طبیعت میں اپنی مثال آپ ہیں، ہاں البتہ زبان ایک رکاوٹ ہے اور ہاتھوں کے اشارے آخر آپ کی کتنی مدد کریں گے؟
تبلیسی کی پہیلی نما پتھریلی گلیوں سے ایک وقفہ لیتے ہوئے ہم نے شام کو کیبل کار کے ذریعے متاتسمندا پہاڑ پر جانے کا فیصلہ کیا، وہاں پہنچ کر جب آپ اس شہر پر طائرانہ نظر ڈالیں تو شہر کا نقشہ آپ کے ذہن میں واضح ہونے لگتا ہے.

زہرہ مظہر متحدہ عرب امارات میں مقیم فری لانس لکھاری ہیں۔
انہیں انسٹا گرام پر فالو کریں: zeeinstamazhar@
ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔

تبصرے (3) بند ہیں