مراکش نے 'سیکیورٹی وجوہات' کی بناء پر چہرے کے نقاب والے برقعوں کی تیاری اور فروخت پر پابندی عائد کردی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اگرچہ اس حوالے سے کوئی باقاعدہ سرکاری اعلان نہیں کیا گیا تاہم رپورٹس کے مطابق وزارت داخلہ کے اس حکم نامے پر رواں ہفتے عمل درآمد کرلیا جائے گا۔

ایل ای 360 نامی نیوز ویب سائٹ نے مراکش کی وزارت داخلہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے حوالے سے بتایا، 'ہم نے ریاست کے تمام شہروں اور قصبوں میں برقعے کی درآمد، تیاری اور مارکیٹنگ پر مکمل پابندی کا قدم اٹھالیا ہے'۔

مزید کہا گیا کہ اس اقدام کا مقصد بظاہر سیکیورٹی خدشات ہیں، کیونکہ 'ڈاکوؤں نے متعدد بار جرائم کے لیے اس لباس کو استعمال کیا ہے'۔

واضح رہے کہ مراکش میں زیادہ تر خواتین سر کے اسکارف کو ترجیح دیتی ہیں، جس میں چہرے کا نقاب شامل نہیں ہوتا۔

میڈیا 24 نامی ویب سائٹ کے مطابق اسی حوالے سے ملک کے معاشی دارالحکومت کاسا بلانکا میں وزارت داخلہ کے عہدیداران کی جانب سے تاجروں کے لیے ایک آگاہی مہم کا آغاز کیا گیا تاکہ انھیں اس فیصلے سے آگاہ کیا جاسکے'۔

جنوبی مراکش میں حکام نے تاجروں سے کہا کہ برقعوں کی تیاری اور فروخت بند کردیں اور اپنا اسٹاک 48 گھنٹوں کے اندر ختم کردیں۔

دوسری جانب دیگر قصبوں کے ریٹیلرزکو بھی اسی قسم کی ہدایات دی گئیں۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ کیا مراکش، فرانس اور بیلجیئم جیسے یورپی ممالک کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کر رہا ہے، جہاں چہرے کے نقاب کے ساتھ عوامی مقامات پر جانا غیر قانونی ہے۔

اگرچہ اس اقدام کی سرکاری تصدیق نہیں ہوسکی تاہم کچھ لوگوں نے سیکیورٹی میں اضافے کی غرض سے برقعے پر پابندی کے خیال کو فضول قرار دیا۔

ایک سابق مراکشی وزیر نے اس پابندی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے مذہبی شدت پسندی کے خاتمے میں مدد ملے گی۔

دوسری جانب مراکز کی ہائی کونسل آف علماء سے اس حوالے سے رابطہ نہ ہوسکا۔

زیادہ پڑھی جاٰنے والی خبریں

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران

LARGE_RECTANGLE_BOTTOM - /1029551/Dawn_ASA_Unit_670x280


تبصرے (0) بند ہیں