سندھ کے صوفی بزرگ درگاہ لعل شہباز قلندر کے سیہون میں موجود مزار پر جمعرات کے روز عقیدت مند اور زائرین کی بڑی تعداد موجود تھی، ایسے میں دہشت گردی نے ان میں سے کئی افراد کے گھر اُجاڑ دیئے۔

سیہون میں لعل شہباز قلندر کی درگاہ پر خودکش دھماکا ہوا، جس میں 80 افراد ہلاک جبکہ 200 سے زائد زخمی ہوئے۔

مزید پڑھیں: سیہون دھماکا: ہلاکتیں 80 ہوگئیں، سوگ کا سماں

یہ دھماکا اس وقت ہوا جب مزار میں دھمال جاری تھا، اس کے موقع پر لوگوں کی کثیر تعداد وہاں موجود ہوتی ہے، دھماکے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم داعش نے قبول کی۔

ہلاک ہونے والوں میں مردوں اور خواتین کے ساتھ 7 بچے بھی شامل تھے۔

مزار پر ہونے والے دھماکے میں ہلاک ہونے والے 13 سالہ ذیشان کی ماں کو دیگر افراد دلاسا دیتے رہے — فوٹو/ اے ایف پی
مزار پر ہونے والے دھماکے میں ہلاک ہونے والے 13 سالہ ذیشان کی ماں کو دیگر افراد دلاسا دیتے رہے — فوٹو/ اے ایف پی
دھماکا ہونے کے بعد پولیس کی بھاری نفری نے درگاہ کو گھیرے میں لے لیا — فوٹو/ اے ایف پی
دھماکا ہونے کے بعد پولیس کی بھاری نفری نے درگاہ کو گھیرے میں لے لیا — فوٹو/ اے ایف پی
لال شہباز قلندر کے مزار میں دھماکے اور ہلاکتوں کی خبر اخبارات کی سب سے بڑی خبر بنی — فوٹو/ اے پی
لال شہباز قلندر کے مزار میں دھماکے اور ہلاکتوں کی خبر اخبارات کی سب سے بڑی خبر بنی — فوٹو/ اے پی
عقیدت مندوں اور زائرین نے اس سانحہ پر شدید دکھ اور غصے کا اظہار کیا — فوٹو/ رائٹرز
عقیدت مندوں اور زائرین نے اس سانحہ پر شدید دکھ اور غصے کا اظہار کیا — فوٹو/ رائٹرز
ہلاک ہونے والوں کی لاشیں فلاحی  اداروں کی گاڑیوں کی مدد سے منتقل کی گئیں — فوٹو/اے ایف پی
ہلاک ہونے والوں کی لاشیں فلاحی اداروں کی گاڑیوں کی مدد سے منتقل کی گئیں — فوٹو/اے ایف پی
دھماکے کے بعد زائرین کی بڑی تعداد درگاہ کے سیل دروازوں اور رکاوٹوں کو توڑ کر اندر داخل ہوئی — فوٹو/ اے ایف پی
دھماکے کے بعد زائرین کی بڑی تعداد درگاہ کے سیل دروازوں اور رکاوٹوں کو توڑ کر اندر داخل ہوئی — فوٹو/ اے ایف پی
سیہون میں خودکش دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کے لیے اسکولوں کے طلبہ نے دعائیں کیں — فوٹو/ اے پی
سیہون میں خودکش دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کے لیے اسکولوں کے طلبہ نے دعائیں کیں — فوٹو/ اے پی
لعل شہباز قلندر کی درگاہ پر دھماکا دھمال کے وقت ہوا — فوٹو/ اے ایف پی
لعل شہباز قلندر کی درگاہ پر دھماکا دھمال کے وقت ہوا — فوٹو/ اے ایف پی
لوگوں نے دہشت گردوں کے خلاف نعرے بازی کا سلسلہ بھی جاری رکھا — فوٹو/ اے ایف پی
لوگوں نے دہشت گردوں کے خلاف نعرے بازی کا سلسلہ بھی جاری رکھا — فوٹو/ اے ایف پی
13 سالہ ذیشان کی میت پر اہل خانہ نے شدید دکھ کا اظہار کیا — فوٹو/ اے ایف پی
13 سالہ ذیشان کی میت پر اہل خانہ نے شدید دکھ کا اظہار کیا — فوٹو/ اے ایف پی

ویڈیوز

پی ایس ایل 3 کے میچز مختلف شہروں میں کرانے کا اعلان
'سال کے آخر تک بجلی بھارت کو ایکسپورٹ کرنے کے قابل ہونگے'
نوجوان ادیب نے اسلحے کی فروخت  ختم کرکے دکان میں کتابیں سجا لیں
گجرانوالہ میں اجتماعی شادی کی تقریب

تصاویر

چینی وزیراعظم کی آسٹریلین فٹ بال پریکٹس
ایوارڈ کی تقریب، بولی وڈ ستاروں کی چمک
خوابوں کی چادر اوڑھے حقیقت
’یوم پاکستان‘ کی شاندار پریڈ

تبصرے (1) بند ہیں

MaLIK USA Feb 17, 2017 10:22pm

Nothing is going to change in Pakistan. Because the ruler class don't face these type problem. They can not understand what could be the hardship after the death of a only earning hand inn the family. The change will come when the ruler class will loose their love- one then they will feel pain and action will be started.