نئی دہلی: بھارت اور چین کے درمیان پہلے اسٹریٹجک مذاکرات کا آغاز 22 فروری سے ہوگا، جس میں دونوں ممالک مشترکہ مفاد کے معاملات سمیت کشیدہ نوعیت کے امور پر بات چیت کریں گے۔

پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق بھارتی سیکریٹری خارجہ ایس جے شنکر اور چین کے نائب چیئرمین ژینگ یسوئی علاقائی اور بین الاقوامی نوعیت کے معاملات پر ہونے والے مذاکرات کی مشترکہ صدارت کریں گے۔

بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان وکاس سوراپ نے اس بات کا اعتراف کیا کہ چین سے بھارت کے تعلقات میں چند 'فرکشن پوائنٹس' موجود ہیں۔

وکاس سواروپ کے مطابق مذاکرات دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی مجموعی بہتری میں مدد فراہم کرے گا اور اس سے یہ دیکھنے میں بھی مدد ملے گی کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے مفاد کو کس حد تک برداشت کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مسعود اظہر پر پابندی کا معاملہ: بھارت کا چین سے احتجاج

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہندوستان اور چین قریبی ترقیاتی شراکت دار ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان بے شمار مسائل بھی موجود ہیں، جہاں کئی باہمی تعاون کی سرگرمیاں ہیں وہیں چند تصفیہ طلب امور بھی پائے جاتے ہیں۔

ترجمان کے مطابق ان مذاکرات کے ذریعے ہماری جانب سے سیکریٹری خارجہ اور چین کی جانب سے ان کے نمائندہ بھارت اور چین کے تعلقات پر اجتماعی نظر ڈالیں اور دیکھیں کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے مفاد اور تشویش کے ساتھ کس حد تک سمجھوتہ کرسکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: این ایس جی میں شمولیت: ہندوستان کا سب سے بڑا مخالف چین

مذکورہ فورم کو ایک جامع فورم قرار دیتے ہوئے وکاس سواروپ کا بتانا تھا کہ اس کا تعین گذشتہ سال اگست میں چینی وزیر خارجہ کی آمد کے موقع پر کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں بھارت کی شمولیت، پٹھان کوٹ حملے کے مبینہ ماسٹر مائنڈ جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو اقوام متحدہ کی جانب سے عالمی دہشت گرد قرار دینے کو کوشش پر بیجنگ کے اعتراض کے بعد بھارت اور چین کے تعلقات میں کشیدگی دیکھنے میں آئی تھی۔


یہ خبر 17 فروری 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔

زیادہ پڑھی جاٰنے والی خبریں

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران

LARGE_RECTANGLE_BOTTOM - /1029551/Dawn_ASA_Unit_670x280


تبصرے (0) بند ہیں