لگ بھگ ہر ایک ہی گائے کا دودھ پیتا ہے مگر کیا آپ کو یہ معلوم ہے کہ اونٹنی کا دودھ کتنا فائدہ مند ہے؟

کیا آپ جانتے ہیں کہ اونٹنی کا دودھ ایسے متعدد امراض کا علاج ثابت ہوتا ہے جو کہ گائے کے دودھ سے دور نہیں ہوتے؟

گائے کا دودھ بمقابلہ اونٹنی کا دودھ

اونٹنی کے دودھ کے متعدد فوائد دیگر اقسام کے دودھ سے زیادہ ہوتے ہیں، مختلف طبی تحقیقی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اونٹنی کا دودھ گائے کے دودھ سے زیادہ صحت بخش ہے، یہ ماں کے دودھ کے قریب ہوتا ہے جسے ہضم کرنا آسان ہوتا ہے جبکہ اس کے ساتھ یہ غذائیت سے بھرپور بھی ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں : روزانہ دودھ پینا موٹاپے سے بچانے میں مددگار

دونوں میں فرق کیا ہے؟

اونٹنی کے دودھ میں منرلز جیسے آئرن، زنک، پوٹاشیم، کاپر، سوڈیم اور میگنیشم کا اجتماع گائے کے دودھ کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔

اسی طرح اس دودھ میں وٹامن اے اور بی ٹو کی سطھ بھی زیادہ ہوتی ہے اور ہاں پروٹین کی مقدار بھی گائے کے دودھ سے زیادہ ہوتی ہے۔

اونٹنی کے دودھ میں وٹامن سی کی مقدار گائے کے دودھ کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہوتی ہے۔

یہ دودھ جراثیم کش ہوتا ہے جبکہ اس میں کولیسٹرول کی مقدار بھی گائے کے دودھ کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔

اس دودھ کے فوائد

بچوں کی الرجی کے لیے فائدہ مند

یہ دودھ ان بچوں کے لیے مثالی گھریلو ٹوٹکا ہے جو متعدد اقسام کی غذاﺅں سے لارجی کا شکار ہوجاتے ہیں، ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اونٹنی کے دودھ کا استعمال بچوں میں گائے کے دودھ یا دیگر غذاﺅں سے ہونے والی الرجی پر قابو پانے میں مدد دیتا ہے۔

آٹو امیون امراض کے خلاف مزاحمت

آٹو امیون (ایسے امراض جن میں ہمارا مدافعتی جسم ہی صحت مند خلیات پر حملہ آور ہوجاتا ہے) امراض پر قابو پانے کے لیے بھی اونٹنی کا دودھ فائدہ مند ہے، یہ اینٹ باڈیز سے بھرپور ہوتا ہے جو کہ خارجی باڈیز کو ہدف بناکر امراض کا باعث بننے والے مواد کا خاتمہ کرتے ہیں۔

قوت مدافعت میں اضافہ

اونٹنی کا دودھ اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہوتا ہے جو کہ جسم میں گردش کرنے والے فری ریڈیکلز کے اخراج میں مدد دیتے ہیں، جس سے مختلف امراض سے تحفظ بھی ملتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : دودھ خالص ہے یا ملاوٹ شدہ جاننا بہت آسان

عمر کے اثرات کو کنٹرول کرے

اس دودھ میں ایک جز الفا ہائیڈروژل ایسڈ ہوتا ہے جو کہ فائن لائن کو ہموار کرکے جھریوں کی روک تھام کرتا ہے، جس سے عمر بڑھنے سے جسم پر مرتب ہونے والے اثرات سست روی کا شکار ہوجاتے ہیں۔

ورم کش

اس دودھ میں ورم کش خصوصیات بھی ہیں جو کہ کھانسی، جڑوں کے امراض اور دیگر کے علاج میں موثر ثابت ہوتی ہیں۔

ذیابیطس کی روک تھام

اس دودھ میں موجود اجزا ذیابیطس سے تحفظ دینے یا اس سے کنٹرول کرنے میں موثر ثابت ہوتے ہیں، اس مٰں ایک انسولین جیسا پروٹین موجود ہے جو کہ ذیابیطس کے اثرات کو کم کرتا ہے،خون کے لیے اس دودھ میں موجود انسولین کو جذب کرنا آسان ہوتا ہے۔

جسمانی وزن میں کمی کے لیے بھی موثر

اس دودھ میں چکنائی بہت کم ہوتی ہے جو کہ جسمانی وزن میں اضافے کا خطرہ کم کرتی ہے، اس مٰں موجود اجزا بلڈ شوگر لیول کو ریگولیٹ کرتے ہیں جس سے بھی جسمانی وزن میں کمی لانے میں مدد ملتی ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

تبصرے (0) بند ہیں