کورونا وائرس: روس، بھارت میں ریکارڈ اموات اور کیسز

اپ ڈیٹ مئ 25 2020

ای میل

ہانک کانگ میں معمولات زندگی کی بحالی کے بعد مرکزی شاہراہوں  پر رش دیکھا جا سکتا ہے— فوٹو: اے ایف پی
ہانک کانگ میں معمولات زندگی کی بحالی کے بعد مرکزی شاہراہوں پر رش دیکھا جا سکتا ہے— فوٹو: اے ایف پی

دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد اور ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ روس اور بھارت میں وائرس سے ریکارڈ اموات اور متاثرہ مریض رپورٹ ہوئے ہیں۔

کورونا وائرس سے اب تک دنیا بھر میں کم از کم 3 لاکھ 43 ہزار 617 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ وائرس سے مجموعی طور پر 53 لاکھ 70 ہزار 893 افراد متاثر ہو چکے ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 55 ہزار 768، اموات 1156 ہوگئیں

سب سے زیادہ ہلاکتیں امریکا میں ہوئی ہیں اور وہاں 97 ہزار 495 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 16 لاکھ 35 ہزار افراد میں وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔

دنیا بھر میں وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ خطے یورپ میں دو ماہ سے زائد عرصے تک لاک ڈاؤن کے بعد اب مثبت خبریں سامنے آ رہی ہیں۔

فرانس میں 17 مارچ کے بعد سب سے کم کیسز

فرانس میں 24 گھنٹے کے دوران صرف 115 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جو لاک ڈاؤن کے بعد اب تک کسی بھی دن رپورٹ ہونے والے کیسز کی سب سے کم تعداد ہے اور یہ شرح مجموعی کیسز کی 0.1 فیصد بنتی ہے۔

فرانس میں اب تک وائرس سے ایک لاکھ 82 ہزار 102 افراد وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما امیر مقام بھی کورونا وائرس کا شکار ہوگئے

وزارت صحت کے مطابق 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں صرف 115 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جو 17مارچ کو لاک ڈاؤن کے بعد سے ایک دن میں رپورٹ ہونے والے کیسز کی سب سے کم تعداد ہے۔

حالات مین بہتری کے بعد لاک ڈاؤن میں کی گئی نرمی کو دیکھتے ہوئے ملک میں ایک عرصے بعد اتوار کو گرجا گھر کھول دیے گئے جس میں نسبتاً کم افراد نے عبادت کی۔

چلی کا نظام صحت شدید دباؤ کا شکار

یورپ کے برعکس اب امریکا کا خطہ بری طرح متاثر ہو رہا ہے جہاں برازیل اور امریکا کے بعد اب چلی میں بھی وائرس قابو سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔

چلی میں وائرس کے تقریباً 70ہزار کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں جس کے بعد ملک کے ہسپتال ان دنوں شدید دباؤ کا شکار ہیں۔

مزید پڑھیں: ملک میں کورونا کے باعث سادگی سے عیدالفطر منائی گئی

گزشتہ 24 گھنٹوں میں 3 ہزار 709 افراد میں وائرس کی تصدیق کے بعد ملک میں مجموعی طور پر 69 ہزار 102 افراد وائرس کا شکار ہو چکے ہیں جبکہ مجموعی طور پر 718 افراد ہلاک بھی ہوچکے ہیں۔

چلی کے صدر سباستین پنیرا نے کہا کہ ملک کا نظام صحت مکمل طور پر بے بس ہو چکا ہے اور وہ اس سے زیادہ بوجھ اٹھانے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنی حد تک پہنچ چکے ہیں لیکن ہماری ضروریات اور طبی مانگ میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور ہمیں بستروں اور وینٹی لیٹرز کی شدید ضرورت ہے۔

برازیل کے سیکریٹری صحت مستعفی

ادھر وائرس سے متاثرہ ایک اور ملک برازیل میں بڑھتے ہوئے کیسز اور ہلاکتوں کے باعث سیکریٹری صحت نے استعفی دے دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: افغان صدر کا مزید 2 ہزار طالبان قیدیوں کو رہا کرنے کا اعلان

سیکریٹری صحت وینڈرسن ڈی اولیویئرا نے وائرس کے خلاف برازیل میں دفاعی اور مزاحمتی نظام کی تیاری میں مرکزی کردار ادا کیا تھا لیکن ان کی رخصت سے ملک میں نظام صحت کے بڑے بحران کے جنم لینے کا اندیشہ ہے۔

انہوں نے گزشتہ ماہ بھی استعفیٰ دیا تھا لیکن وزیر اعظم نے ان کے استعفے کو مسترد کرتے ہوئے کام جاری رکھنے کی ہدایت کی تھی۔

برازیل میں اب تک وائرس سے 3 لاکھ 47 ہزار افراد متاثر ہو چکے ہیں جو امریکا کے بعد کسی بھی ملک میں وائرس سے متاثرہ افراد کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

ملک میں مرنے والوں کی تعداد بھی بڑھتی جا رہی ہے اور اب تک 22ہزار سے افراد کی موت ہو چکی ہے۔

روس میں ایک دن میں سب سے زیادہ اموات

دوسری جانب روس میں 24گھنٹے کے دوران 153 افراد کی موت ہوئی جو ایک دن میں ملک میں مرنے والوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا تعلقات کو سرد جنگ کی جانب دھکیل رہا ہے، چین

روس میں مزید 8 ہزار 599 نئے کیسز بھی رپورٹ ہوئے جس کے بعد کیسز کی تعداد 3 لاکھ 44 ہزار 481 ہو گئی ہے۔

بھارت میں ریکارڈ کیسز رپورٹ

روس کی طرح بھارت میں بھی ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑی تعداد میں کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں اور بھارت میں مزید 6ہزار 767 کیس رپورٹ ہوئے جو ایک دن میں رپورٹ ہونے والے کیسز کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

بھارت میں اب تک ایک لاکھ 31 ہزار 868 افراد میں وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ مزید 147 اموات کے بعد مرنے والوں کی تعداد 3ہزار 867 تک پہنچ گئی ہے۔

جنوبی افریقہ کے صدر نے ملک میں صورتحال میں بہتری کے بعد یکم جون سے لاک ڈاؤن میں مزید نرمی کا اعلان کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: تابوت میں چھپ کر لاش بننے والا پیرو کا ایک میئر پکڑا گیا

صدر سرل رمفوسا نے ٹیی ویژن پر صدارتی خطاب میں کہا کہ کابینہ سمجھتی ہے کہ خطرے کو چوتھے درجے سے کم کر کے تیسرے درجے کا قرار دیا جائے اور یہ وائرس کے خلاف ہماری کامیابی کا ثبوت ہے۔

ترکی میں ہلاکتوں کی تعداد میں نسبتاً کمی واقع ہوئی ہے لیکن اس کے باوجود یہ دنیا میں وائرس سے بری طرح متاثر ہونے والے ممالک کی فہرست میں نویں نمبر پر موجود ہے۔

اٹلی میں عوام نے سینٹ پیٹرز اسکوائر کا دورہ کیا

اٹلی میں گزشتہ 24 گھنٹے میں 32 افراد ہلاک ہوئے جس کے بعد مرنے والوں کی مجموعی تعداد 4 ہزار 340 ہو گئی ہے۔

ترکی میں مزید ایک ہزار 141 افراد میں وائرس کی تصدیق کے بعد متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 56ہزار 827 ہو گئی جبکہ وزارت صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں ایک لاکھ 18ہزار سے زائد افراد صحتیاب ہوچکے ہیں۔

مزید پڑھیں: ’جب عید کی نماز پر پابندی لگی تو خود گھر پر نماز پڑھا لی

اٹلی میں بھی وائرس سے ہونے والی اموات میں کمی واقع ہوئی ہے اور مزید 50اموات کے بعد مرنے والوں کی تعداد 32ہزار 785 ہو گئی ہے۔

البتہ اس میں ملک کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقے لمبارڈی کے اعدادوشمار شامل نہیں جس کے سبب اموات میں کمی کے حوالے سے کوئی بھی دعویٰ کرنا ممکن نہیں۔

دوسری جانب حالات میں بہتری کے بعد تقریبا تین ماہ بعد عوام نے سینٹ پیٹرز اسکوائر کا رخ کیا جہاں عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ فرانسس نے انہیں دعا دی۔

اسرائیل میں کورونا کے مریضوں کی موبائل سے نگرانی کا فیصلہ

ادھر اسرائیل نے وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے کورونا کا شکار افراد کی موبائل فون سے نگرانی کا فیصلہ کیا ہے اور اسے آخری حربے کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔

اس ٹیکنالوجی کا دہشت گردی کے انسداد کے لیے استعمال کیا جاتا تھا لیکن اب اسے وائرس کی روک تھام یقینی بنانے کیلئے زیر استعال لایا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: عید پر گھر میں رہتے ہوئے یہ بہترین پاکستانی فلمیں دیکھیں

اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا گیا جس کے بعد چند مخصوص کیسز میں ہی سیل فون کے ذریعے متاثرہ مریض کی نگرانی کی جا سکے گی۔

اسرائیل میں اب تک 16ہزار 717 افراد وائرس کا شکار ہوئے ہیں اور 279 ہلاک ہو چکے ہیں۔

ادھر اسپین میں ہلاکتوں کی شرح میں پھر معمولی اضافہ ہوا ہے اور مزید 70 افراد وائرس کا شکار ہو کر لقمہ اجل بن گئے جس سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد 28 ہزار 752 ہو چکی ہے جبکہ دو لاکھ 35 ہزار 772 متاثر ہو چکے ہیں۔