کابل کے گرین زون کی مسجد میں دھماکا، امام سمیت 2 افراد جاں بحق

اپ ڈیٹ 03 جون 2020
مسجد وزیر اکبر خان میں دھماکے کے بعد پولیس اہلکار مسجد کے باہر چوکس کھڑے ہیں— فوٹو: اے پی
مسجد وزیر اکبر خان میں دھماکے کے بعد پولیس اہلکار مسجد کے باہر چوکس کھڑے ہیں— فوٹو: اے پی

کابل: افغانستان کے دارالحکومت کابل کے گرین زون کی مشہور مسجد میں دھماکے کے نتیجے میں امام اور نمازی جاں بحق ہو گئے۔

یہ دھماکا ایک ایسے وقت ہوا ہے جب افغان دارالحکومت ملک کے شمالی علاقے میں حملے میں 7 شہری ہلاک ہو گئے اور افغان حکام نے حملے کی ذمے داری طالبان پر عائد کی ہے۔

ابھی تک مسجد میں ہونے والے دھماکے کی ذمے داری کسی نے قبول نہیں کی۔

مزید پڑھیں: افغانستان: میٹرنٹی ہوم اور جنازے میں حملوں سے 37 افراد ہلاک

شہر کے محفوظ ترین علاقے میں ہونے والے اس دھماکے کی آواز دور دور تک سنئی گئی اور قریب ہی واقع سفارتخانوں اور بین الاقوامی دفاتر میں دھماکے بعد سائرن بجنے لگے اور عملہ محفوظ کمروں کی جانب روانہ ہو گیا۔

ملک کی وزارت داخلہ کے ترجمان طارق آریان نے خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے اس شام دہشت گردوں نے وزیر اکبر خان مسجد میں دھماکا خیز مواد کے ذریعے حملہ کیا۔

یہ مسجد گرین زون کے داخلی دروازے پر واقع ہے اور اس انتہائی سیکیورٹی کے حامل علاقے میں واقع مسجد میں لوگ دونوں اطراف سے داخل ہو سکتے ہیں اور اہم رہنما اکثر عید کی نماز یہاں ادا کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان میں داعش جنوبی ایشیا کے سربراہ سمیت 3 خطرناک دہشت گرد گرفتار

طارق آریاں نے بتایا کہ دھماکے میں مسجد کے امام ایاز نیازی جاں بحق ہو گئے، وہ کابل میں مشہور تھے اور ان کے خطبات میں لوگ دور دراز کے علاقوں سے شرکت کے لیے آتے تھے۔

آریان نے ابتدائی بیان میں کہا تھا کہ یہ خودکش حملہ تھا لیکن تحقیقات کے بعد انہوں نے کہا کہ ابھی دھماکے کی نوعیت کے بارے میں کچھ واضح نہیں ہے۔

افغانستان کے صدر اشرف غنی کے ترجمان نے اسے ایک گھناؤنا حملہ قرار دیا۔

مزید پڑھیں: افغانستان میں کشیدگی میں اضافہ، امن عمل خطرات سے دوچار

واضح رہے کہ ہفتے کو ایک دھماکے میں صحافی اور ڈرائیور ہلاک ہو گئے تھے اور اس حملے کی ذمے داری داعش نے قبول کی تھی۔

پیر کو صوبہ قندوز میں سڑک کنارے نصب بم پھٹنے کے نتیجے میں 7 شہری ہلاک ہوگئے تھے، اس حملے کی ذمے داری کسی نے قبول نہیں کی تھی لیکن صوبائی ترجمان عصمت اللہ مرادی نے اس حملے کی ذمے داری طالبان پر عائد کی ہے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں