کم عمری میں سزائے موت پانے والا قیدی 21 سال بعد رہا

اپ ڈیٹ 01 جولائ 2020

ای میل

محمد اقبال قانونی طور پر نابالغ ثابت ہوجانے کے باوجود سزائے موت کا منتظر رہا—تصویر: بشکریہ جسٹس پروجیکٹ پاکستان
محمد اقبال قانونی طور پر نابالغ ثابت ہوجانے کے باوجود سزائے موت کا منتظر رہا—تصویر: بشکریہ جسٹس پروجیکٹ پاکستان

کراچی: کم عمری میں سزائے موت پانے کے بعد زندگی کے 21 سال جیل میں گزارنے والے محمد اقبال بالآخر رہا کردیے گئے۔

جسٹس پروجیکٹ پاکستان (جے پی پی) کے مطابق محمد اقبال نے جرم کا ارتکاب اس وقت کیا تھا جب وہ قانونی لحاظ سے نابالغ یعنی 18 سال سے کم عمر تھے۔

واضح رہے کہ جسٹس پروجیکٹ پاکستان ایک غیر منافع بخش، انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی لا فرم ہے جو مفت قانونی مشورے، سخت سزاؤں کا سامنا کرنے والے غریب و کمزور قیدیوں کو نمائندگی اور تحقیقاتی خدمات فراہم کرتی ہے۔

وکالت کرنے والے گروپ سے جاری بیان کے مطابق 1998 میں محمد اقبال صرف 17 برس عمر کے تھے جب انہیں گرفتار کیا گیا اور ایک برس بعد موت کی سزا سنا دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:’15 سال‘ کی عمر میں قتل، مجرم کو پھانسی

جسٹس پروجیکٹ کے مطابق سال 2000 میں پاکستان نے جوینائل جسٹس سسٹم آرڈیننس (جے ایس ایس او) منظور کیا جس کے بعد نابالغوں کو موت کی سزا دینا غیر قانونی ٹھہرا۔

بعدازاں 2001 میں ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے آرڈیننس سے قبل سزائے موت پانے والے قانونی نابالغوں کو معافی دے دی گئی۔

تاہم محمد اقبال قانونی طور پر نابالغ ثابت ہوجانے کے باوجود سزائے موت پانے والوں کی قطار میں موجود رہے۔

بیان میں کہا گیا کہ حکومت پنجاب نے 2003 میں لاہور ہائی کورٹ کو ایک خط لکھا اور محمد اقبال کو ان قیدیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا جو رہائی کے حقدار تھے۔

مزید برآں انسانی حقوق کی متعدد تنظیموں، اقوامِ متحدہ کے نمائندگان خصوصی نے مارچ میں حکومت پاکستان کو خط لکھ کر رحم کا مطالبہ کیا اور اقبال کی سزائے موت تبدیل کرنے کی درخواست کی۔

مزید پڑھیں: 'ذہنی بیمار' شخص کی سزائے موت پر عمل روکنے کا حکم

خط میں کہا گیا کہ اقبال کو جب چوری اور قتل کی سزا سنائی گئی اس وقت ان کی عمر صرف 17 برس تھی۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’2 دہائی بعد بالآخر لاہور ہائی کورٹ نے اس بات کو تسلیم کیا کہ اقبال پر ظلم کیا گیا اور وہ سزائے موت کے انتظار کرنے کے مستحق نہیں تھے‘۔

چنانچہ رواں برس فروری میں ان کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کردی گئی تھی اور جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ وہ قید میں عمر قید کی سزا کا عرصہ کاٹ چکے ہیں تو 30 جون 2020 کو انہیں رہا کردیا گیا۔


یہ خبر یکم جولائی 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔