اسلام آباد ہائیکورٹ کی اسسٹنٹ رجسٹرار جعلی ڈگری پر 10 سال بعد برطرف

اپ ڈیٹ 01 دسمبر 2020
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے احکامات دیے— فائل/فوٹو: ڈان
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے احکامات دیے— فائل/فوٹو: ڈان

اسلام آباد ہائی کورٹ نے 10 سال سے برسر روزگار رہنے والی اسسٹنٹ رجسٹرار صائمہ خان کو جعلی ڈگری رکھنے کے معاملے پر نوکری سے برطرف کردیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے مقدمے کا فیصلہ سنایا اور 18 گریڈ کی افسر صائمہ خان کو نوکری سے برطرف کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔

فیصلے کی روشنی میں ایڈیشنل رجسٹرار اسلام آباد ہائی کورٹ امتیاز احمد نے اسسٹنٹ رجسٹرار کی برطرفی کا نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائی کورٹ نے صحافی کے خلاف توہین عدالت کی درخواست خارج کردی

نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس نے صائمہ خان پر جعلی ڈگری کے لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کے لیے محکمہ جاتی کارروائی کی جازت دی اور انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں صائمہ خان کی ڈگری جعلی قرار دے دی تھی۔

کمیٹی نے انکوائری رپورٹ میں جعلی ڈگری رکھنے پر اسسٹنٹ رجسٹرار کو نوکری سے برطرف کرنے کی سفارش کی اور انہیں باقاعد طور پر برطرف کردیا گیا جس کا اطلاق 28 نومبر 2020 سے ہوگا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کی برطرف اسسٹنٹ رجسٹرار صائمہ خان 10 سال تک جعلی ڈگری پر نوکری کرتی رہیں۔

مزید پڑھیں: مسلم لیگ (ن) کے رکن پنجاب اسمبلی جعلی ڈگری پر نااہل

یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے رواں برس جنوری میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن پنجاب اسمبلی کاشف محمود کو جعلی ڈگری پر نااہل قرار دیا تھا۔

جسٹس عامر فاروق نے ایک شہری عبدالغفار کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر کاشف محمود کو نااہل قرار دیا تھا۔

تبصرے (0) بند ہیں