سجادہ نشینوں کا ووٹر پر اثر
آئندہ انتخابات میں ووٹ کس بنیاد پر ڈالے جائیں گے؟ یہ بہت غور طلب سوال ہے، کیونکہ عوام اور سنجیدہ حلقے ان انتخابات سے بہت اُمیدیں وابستہ کیے ہوئے ہیں۔
کیا ووٹ سیاسی بنیادوں پر ڈالے جائیں گے؟
یا اجتماعی فلاح کی کارکردگی کی بنیاد پر یا ذاتی طور پر ڈالے جائیں گے ؟
یعنی پیپلزپارٹی یا نواز لیگ میں سے کون سی جماعت ایسی ہے جس سے کسی فرد یا گروہ کو فائدہ پہنچا ہے؟
یا ان ووٹوں کی بنیاد اثر رسوخ، مقامی بااثر لوگوں کے کہنے پر دیے جائیں گے؟
ایک عنصر جو سندھ ہی کیا جنوبی پنجاب میں بھی ستر کے عشرے سے پہلے حاوی تھا مگر بعد میں سیاسی شعور اور بھٹو کی عوامی رنگ کی سیاست نے اس فیکٹر کو کم کردیا۔ اس کے بعد پیروں کے علاقوں میں یہ نعرے گونجے :
“ووٹ پیر کا نہ میر کا فیصلہ ضمیر کا”
“سر مرشد کا ووٹ بھٹو کا”
لیکن بھٹو کے بعد صورتحال تبدیل ہوئی ہے۔ بعض محققین کا کہنا ہے کہ بھٹو کے دنوں میں ہی یہ صورتحال تبدیل ہونا شروع ہوگئی تھی۔ عوامی سیاست کے مروّج ہونے سے حاکم طبقوں کو ڈر تھا کہ عوام ان کے ہاتھوں سے نکل رہے ہیں، لہٰذا سیاست کو واپس پُرانی ڈگر پے لے آئے۔
پاکستان کے سیاسی افق پر چار بڑے پیر خاصے چھائے ہوئے ہیں۔ پیر پاگارا مسلم لیگ فنکشنل کے سربراہ ہیں اور سندھ میں قوم پرستوں کے ساتھ اور وفاق میں نواز شریف کے ساتھ اتحاد بناکر اہم کردار ادا کرنا چاہ رہے ہیں۔
ملتان کی غوثیہ گدّی کے سجادہ نشین تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں اور ملتان کے علاوہ سندھ سے انتخاب لڑنا چاہ رہے ہیں۔
پیپلزپارٹی کے حصے میں بھی دو پیر ہیں۔ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی ملتان کے پیر ہیں اور پیپلز پارٹی ان کی قیادت میں انتخابی لڑنے کی بات کرتی رہی ہے۔ دوسرے پیر مخدوم امین فہیم ہیں۔ وہ پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کے سربراہ ہیں۔ کئی مواقعوں پر ان کا نام بطور وزیراعظم لیا جاتا رہا ہے۔ ان کے علاوہ ایک درجن سے زائد پیر انتخابات اور اقتدار کی دوڑ میں شریک ہیں تاکہ مزید اختیارات اور وسائل حاصل کیے جا سکیں۔
آج پاکستان میں پیری مریدی کی شکل مختلف ہے۔ پہلے پیر دین دار اور اللہ کے نیک بندے ہوتے تھے جو انصاف پر مبنی نظریات کا پرچار کرتے تھے۔ ان کی تعلیمات، سوچ، عمل اور زندگی سچائی اور اللہ کے بندوں کی بھلائی کے لیے ہوتی تھی، ان کی تعلیم روحانیت پسندی اورصوفی ازم تھی، جس میں رواداری بھی تھی۔ جبکہ مادیت پرستی ذرا بھی نہیں ہوتی تھی۔ ان صوفیوں اوردرگاہوں کا مذہبی بیداری میں اہم کردار تھا۔
یہ المیہ ہے کہ بعد میں مرشدی اور گدی نشینی بادشاہت کی طرح موروثی اور خاندانی بن گئی۔ حالانکہ روحانیت تک کوئی شخص ذاتی کردار کی وجہ سے پہنچتا تھا۔ موروثی بننے کے بعد اکثر گدی نشین دنیاوی لالچ میں اُلجھ گئے۔ روحانیت کو بھول کر مادیت پرستی میں چلے گئے۔
ممتا زمحقق عائشہ صدیقہ نے خوب کہا ہے کہ برصغیر میں صوفی ازم اس وقت تبدیل ہو گیا جب اس نے ایک ادارے کی شکل اختیار کی اور ریاست کا حصے دار بننے لگا۔
صوفی ازم کا بنیادی اصول اللہ کی نظر میں مقام حاصل کرنا تھا، اس کا انحصار مرید کے طور پر سخت محنت کرنا تھا۔ جو اُنیسویں اور بیسویں صدی میں تھا۔ وہ بعد میں بدل کر خاندانی ہوگیا۔
اب باپ کے بعد بیٹا پیر اور سجادہ نشین ہوتا ہے۔ چاہے وہ کیسا بھی ہو۔ یوں اس مذہبی ادارے کو ذاتی ملکیت بنا دیا گیا۔ اب مرشد ہونے کے لیے خاندان بنیادی شرط بن گئی۔ اور اچھا کردار، ایمانداری، انسانیت سے پیار، علم کی پیاس جیسی چیزیں غائب ہوگئیں۔ یہ پیر صرف روحانی پیشوا ہی نہیں بلکہ جاگیردار اور علاقے کی بااثر شخصیت بھی ہیں۔
برصغیر میں مختلف ریاستوں کے نوابوں خواہ برطانوی راج نے بھی موروثی پیروں کی سرپرستی کی۔ اور پیر جاگیرداروں کا ایک نیا طبقہ پیدا ہو گیا۔ جاگیرداروں کی طرح یہ پیر بھی دنیاوی چیزوں اور اقتدار میں دلچسپی لینے لگے۔ 1946ء کے انتخابات میں پیروں کو پہلی مرتبہ احساس ہوا کہ اُن کی حمایت سے جاگیردار انتخاب جیتنے کے بعد اقتدار میں آتے ہیں۔ اب انہوں نے کسی امیدوار کی حمایت کرنے کے بجائے خود انتخابات میں حصہ لینا شروع کیا۔
قیام پاکستان کے بعد پیر حکمران اور مراعات یافتہ طبقے کا حصہ بن گئے۔ پیر اور فیوڈل ہم معنی اور ہم منصب ہو گئے۔ انہوں نے محترمہ فاطمہ جناح کے مقابلے میں ایوب خان کی حمایت کرنے میں کوئی عار نہیں سمجھا۔ بعد میں ذوالفقار علی بھٹو کی اور ضیاء الحق کی بھی حمایت کی۔ سید یوسف رضا گیلانی، شاہ محمود قریشی، ان کے والد سجاد حسین قریشی، سیدہ عابدہ حسین، اور سید فیصل صالح حیات، پیر پگارا نے بھی ایسا ہی کیا۔ ان تمام پیروں نے ضیا کی خدمت کی۔ اور اس کے بعد پیپلز پارٹی یانواز شریف کے ساتھ رہے۔
پیر پگارا کی اپنی مسلم لیگ فنکشنل ہے۔ خیرپور، سانگھڑ، عمرکوٹ اور تھرپارکر پیر پگارا کا قلعہ سمجھے جاتے ہیں، جہاں اُن کی حر جماعت کے ووٹ ہیں۔ ان کے تین بیٹے پیر صبغت اللہ شاہ راشدی (موجودہ پیر پگارا) پیر صدرالدین شاہ، اور یونس سائیں رکن اسمبلی رہے ہیں۔ اب اس خاندان سے تین افراد پیر صدرالدین شاہ، پیر عمر مصطفیٰ، اور پیر راشد شاہ انتخابات لڑ رہے ہیں۔
بڑے پیر پگارا مرحوم تو برملا کہتے تھے کہ وہ جی ایچ کیو کے آدمی ہیں۔ موجودہ پیر پگارا نے بھی عسکری اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات کو کبھی چھپایا نہیں۔
پیر آف رانی پور خاندان سے پیر فضل حسین شاہ پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر امیدوار ہیں۔ ان کے والد پیر عبدالقادر شاہ جیلانی اور ان کے دوسرے بیٹے اور بھائی بھی مختلف وقتوں میں حکومت میں رہے ہیں۔ دادو اور خیرپور میں ان کے مرید ہیں۔
مٹیاری ضلع مخدوم خاندان کے حوالے ہے۔ پیپلز پارٹی نے تینوں نشستیں مخدوم خاندان کو دی ہیں۔ جبکہ تھرپارکر کی ایک صوبائی کی نشست مخدوم امین فہیم کے بیٹے نعمت اللہ کو دی گئی ہے۔ یہاں ایک مرتبہ مخدوم سعیدالزمان منتخب ہوئے تھے۔ نولکھی گودڑی کے پیر کہلانے والے مخدوم کی پیری مریدی سانگھڑ، بدین اورتھرپارکر تک پھیلی ہوئی ہے۔
ملتان کے پیر شاہ محمود قریشی تحریک انصاف کے رہنما ہیں۔ وہ عمرکوٹ سے انتخاب لڑرہے ہیں۔ ان دو اضلاع میں ان کے مرید ہیں۔ یہ پہلا موقعہ ہے کہ ملتان کے پیر سندھ میں انتخاب لڑ رہے ہیں اور مریدوں سے اپنے لیے ووٹ مانگ رہے ہیں۔
پیر نورمحمد شاہ پیر آف کامارو شریف ہیں، لیکن مریدوں کے علاقے عمرکوٹ یا تھرپارکر سے انتخاب لڑتے رہے ہیں۔ اس مرتبہ وہ تھرپارکر سے اُمیداور ہیں۔
پیر غلام رسول جیلانی کا خاندان نصف صدی سے سیاست میں ہے۔ وہ خود ایوب اور بعد میں بھٹو دور میں رکن اسمبلی رہے۔ ان کے تین بیٹے پیر آفتاب شاہ ایم این اے، پیر شفقت شاہ ضلع ناظم اور، پیر امجدشاہ صوبائی وزیر رہے ہیں۔ اب پیر شفقت حسین شاہ پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر میرپورخاص سے اُمیدوار ہیں۔
سندھ میں بعض پیر وں کا حسب نسب نہ پیغمبر سے ملتا ہے اور نہ وہ عرب نسل کے ہیں۔ لیکن ان کے آباؤ اجداد میں سے کوئی بزرگ صوفی ہوا تھا۔ جس کے بعد وہ مرشد بن گئے اور درگاہ نے گدّی کی شکل اختیار کرلی۔ پیر آف بھرچونڈی شریف انہی میں سے ہیں۔ جن کا تعلق دراصل سمیجو قبیلے سے ہے۔ میاں عبدالحق عرف میاں مٹھو مختلف جماعتوں کے ٹکٹ پر انتخابات لڑتے رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ایک ہندو لڑکی رینکل کماری کے اغوا اور اس کے بعد مذہب تبدیل کرنے کے حوالے سے ان کا نام سامنے آیا۔
پیر آف نیئنگ شریف غلام جیلانی دادو کے پہاڑی علاقے جوہی سے انتخاب جیتتے رہے ہیں۔
بدین سے پیر علی بہادر شاہ کا خاندان پچاس کی دہائی سے سیاست میں ہیں۔ ان کے والد بھی سیاست میں تھے۔ اب ان کے بیٹے اور پیر امجد شاہ ایم پی اے تھے۔
بڑی درگاہوں کے علاوہ چھوٹی موٹی درگاہیں ہیں جو ووٹ پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ جب پیر صاحبان خود امیدوار ہوں توپیری مریدی کا عنصر اور بڑھ جائے گا۔
اس پس منظر میں اگر دیکھا جائے تو سندھ کے خیرپور، سانگھڑ، دادو، عمرکوٹ، تھرپارکر، بدین اور مٹیاری چھ اضلاع ایسے ہیں جہاں پیر صاحبان براہ راست امیدوار ہیں جبکہ پانچ ایسے اضلاع ہیں جہاں مریدوں کے ووٹ کسی کی ہار یا جیت کا سبب بن سکتے ہیں۔
ملک بھر میں سیاسی ووٹ میں کمی آئی ہے۔ اور برادری، ذاتی تعلق یا مفاد اور باثر لوگوں کے کہنے پر ووٹ میں اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح سے پیری مریدی کے ووٹ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ کئی مقامات پر اور بھی پیچیدہ صورتحال ہے کہ وہاں جاگیردار بھی پیر ہی ہے اور علاقے کی بااثر شخصیت بھی وہی ہے۔
منتخب ایوانوں میں دیہی علاقوں کی نمائندگی یہی لوگ کرتے ہیں، جس وجہ سے علاقے میں کوئی تبدیلی نہیں آتی اور ا س مرتبہ بھی لگتا ہے کہ یہ اسٹیٹس کو برقرار رہے گا۔













لائیو ٹی وی
تبصرے (8) بند ہیں