<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Amazing</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 02 May 2026 03:08:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 02 May 2026 03:08:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فرانس نے منگولیا کو 7 کروڑ سال پرانا ڈائناسور کا ڈھانچہ واپس کر دیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274753/</link>
      <description>&lt;p&gt;فرانس نے منگولیا کو 7 کروڑ سال پرانا ڈائناسور کا ڈھانچہ واپس کر دیا، جو گو بی صحرا سے لوٹ کر اسمگل کیا گیا تھا، اور بعد میں فرانسیسی کسٹمز کے قبضے میں آ گیا تھا، اور ایشیائی ملک اپنی کھوئی ہوئی قدیم اشیا کی بازیابی کے لیے کوشاں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1960076/france-returns-smuggled-dinosaur-skeleton-to-mongolia"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق یہ انتہائی نایاب فوسل ایک ڈائنا سور کا ہے، جسے خوفناک ٹائیرانو سورس &lt;strong&gt;ریکس&lt;/strong&gt; کا ایشیائی رشتہ دار سمجھا جاتا ہے، اور اسے 2015 میں فرانسیسی حکام نے ضبط کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پبلک اکاؤنٹس کی وزیر امیلی ڈی مونچالن نے پیرس میں ایک تقریب کے دوران ڈائناسور کے انڈے اور دیگر اشیا سمیت یہ اسکلیٹن منگولیا کی وزیر ثقافت و کھیل انڈرام چین بات کے حوالے کیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1268325'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1268325"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ڈی مونچالن نے کہا کہ آج گو بی صحرا کا ایک حصہ واپس اپنے وطن لوٹ رہا ہے، یہ ایک طویل اور محتاط تحقیقات کا نتیجہ ہے، یہ ایک سائنسی اور ثقافتی خزانے کی واپسی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈائناسور کا اسکلیٹن گو بی صحرا سے لوٹا گیا تھا، اس کے بعد یہ جنوبی کوریا سے گزرا اور فروری 2015 میں فرانس کے وسطی کسٹمز کے ذریعے ضبط کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین بات نے کہا کہ میرے اور تمام منگول عوام کے لیے یہ انتہائی اہم ہے کہ ہمارے ڈائناسور کے فوسلز واپس آئیں، انہوں نے فرانس کا شکریہ ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ یہ فوسلز اس میوزیم میں نمائش کے لیے رکھے جائیں گے، جسے منگولیا مستقبل قریب میں قائم کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین بات نے مزید کہا کہ تب تک یہ فوسلز واپس بھیجے جائیں گے، ان کا مطالعہ کیا جائے گا اور انہیں بحال کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>فرانس نے منگولیا کو 7 کروڑ سال پرانا ڈائناسور کا ڈھانچہ واپس کر دیا، جو گو بی صحرا سے لوٹ کر اسمگل کیا گیا تھا، اور بعد میں فرانسیسی کسٹمز کے قبضے میں آ گیا تھا، اور ایشیائی ملک اپنی کھوئی ہوئی قدیم اشیا کی بازیابی کے لیے کوشاں تھا۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی <a href="https://www.dawn.com/news/1960076/france-returns-smuggled-dinosaur-skeleton-to-mongolia"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق یہ انتہائی نایاب فوسل ایک ڈائنا سور کا ہے، جسے خوفناک ٹائیرانو سورس <strong>ریکس</strong> کا ایشیائی رشتہ دار سمجھا جاتا ہے، اور اسے 2015 میں فرانسیسی حکام نے ضبط کیا تھا۔</p>
<p>پبلک اکاؤنٹس کی وزیر امیلی ڈی مونچالن نے پیرس میں ایک تقریب کے دوران ڈائناسور کے انڈے اور دیگر اشیا سمیت یہ اسکلیٹن منگولیا کی وزیر ثقافت و کھیل انڈرام چین بات کے حوالے کیا۔</p>
    <figure class='media  w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1268325'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1268325"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ڈی مونچالن نے کہا کہ آج گو بی صحرا کا ایک حصہ واپس اپنے وطن لوٹ رہا ہے، یہ ایک طویل اور محتاط تحقیقات کا نتیجہ ہے، یہ ایک سائنسی اور ثقافتی خزانے کی واپسی ہے۔</p>
<p>ڈائناسور کا اسکلیٹن گو بی صحرا سے لوٹا گیا تھا، اس کے بعد یہ جنوبی کوریا سے گزرا اور فروری 2015 میں فرانس کے وسطی کسٹمز کے ذریعے ضبط کیا گیا۔</p>
<p>چین بات نے کہا کہ میرے اور تمام منگول عوام کے لیے یہ انتہائی اہم ہے کہ ہمارے ڈائناسور کے فوسلز واپس آئیں، انہوں نے فرانس کا شکریہ ادا کیا۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ یہ فوسلز اس میوزیم میں نمائش کے لیے رکھے جائیں گے، جسے منگولیا مستقبل قریب میں قائم کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔</p>
<p>چین بات نے مزید کہا کہ تب تک یہ فوسلز واپس بھیجے جائیں گے، ان کا مطالعہ کیا جائے گا اور انہیں بحال کیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274753</guid>
      <pubDate>Tue, 09 Dec 2025 13:15:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/09123735f040645.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/09123735f040645.gif"/>
        <media:title>فرانسیسی وزیر نے کہا کہ آج گو بی صحرا کا ایک حصہ واپس اپنے وطن لوٹ رہا ہے، یہ سائنسی اور ثقافتی خزانے کی واپسی ہے۔ —فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شہرت سے انسان کی زندگی ساڑھے چار سال تک کم ہوسکتی ہے، تحقیق</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274321/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایک منفرد اور تازہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ شہرت انسان کی زندگی کو مختصر کرسکتی ہے اور خصوصی طور پر شہرت یافتہ گلوکار ان فنکاروں کے مقابلے کم زندگی پاتے ہیں جو زیادہ مقبول نہیں ہوتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/news/articles/cde6702n4geo"&gt;&lt;strong&gt;مطابق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; جرمنی میں کی جانے والی منفرد تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مشہور موسیقاروں کی زندگی کی اوسط عمر عام گلوکاروں کے مقابلے میں 4.6 سال کم ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جرمن کی یونیورسٹی وٹن/ہیرڈیکے کے ماہرین کی تحقیق جو جرنل آف ایپیڈیمولوجی اینڈ کمیونٹی ہیلتھ میں شائع ہوئی، میں 648 گلوکاروں کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان میں سے نصف مشہور فنکار تھے، جو ایکلیمڈ میوزک کی ’ٹاپ 2,000 آرٹسٹ آف آل ٹائم‘ فہرست سے منتخب کیے گئے تھے جبکہ باقی نصف کم مشہور تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1056027'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1056027"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشہور گلوکاروں میں دی بیٹلز، باب ڈائلن، دی رولنگ اسٹونز، ڈیوڈ باؤئی اور بروس اسپرنگسٹین جیسے نام بھی شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محققین نے ہر مشہور گلوکار کو جنس، قومیت اور موسیقی کی صنف کی بنیاد پر ایک کم مشہور گلوکار سے ملایا اور پھر دونوں کی اوسط عمر کا موازنہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتائج سے پتہ چلا کہ مشہور گلوکاروں کی اوسط عمر 75 سال رہی جبکہ کم مشہور گلوکار 79 سال تک زندہ رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق کے مطابق شہرت موت کے بڑھتے ہوئے خطرات میں سے ایک عمل ہے جو صحت کے مسائل کا سبب بنتی ہے جب کہ شہرت سے سولو آرٹسٹوں کو بینڈ ممبران کے مقابلے میں زیادہ خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ انہیں جذباتی اور عملی مدد کم ملتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ شہرت سے متعلق خطرات میں رازداری کا خاتمہ، عوامی تنقید اور پرفارمنس کا دباؤ شامل ہو سکتے ہیں، جس وجہ سے ان میں صحت کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل 2007 کی امریکی تحقیق کے مطابق 2 سے 25 سال کی عمر میں شہرت پانے والے پاپ اسٹارز کی موت کا خطرہ عام آبادی کے مقابلے میں دو سے تین گنا زیادہ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق میں حال ہی میں انتقال کرنے والے فنکاروں میں ریپر میک ملر (26 سال)، ڈی جے ایویچی (28 سال) اور لائم پین (31 سال) کو تازہ مثالوں کی طور پر پیش کیا گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایک منفرد اور تازہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ شہرت انسان کی زندگی کو مختصر کرسکتی ہے اور خصوصی طور پر شہرت یافتہ گلوکار ان فنکاروں کے مقابلے کم زندگی پاتے ہیں جو زیادہ مقبول نہیں ہوتے۔</p>
<p>برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/news/articles/cde6702n4geo"><strong>مطابق</strong></a> جرمنی میں کی جانے والی منفرد تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مشہور موسیقاروں کی زندگی کی اوسط عمر عام گلوکاروں کے مقابلے میں 4.6 سال کم ہو سکتی ہے۔</p>
<p>جرمن کی یونیورسٹی وٹن/ہیرڈیکے کے ماہرین کی تحقیق جو جرنل آف ایپیڈیمولوجی اینڈ کمیونٹی ہیلتھ میں شائع ہوئی، میں 648 گلوکاروں کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا۔</p>
<p>ان میں سے نصف مشہور فنکار تھے، جو ایکلیمڈ میوزک کی ’ٹاپ 2,000 آرٹسٹ آف آل ٹائم‘ فہرست سے منتخب کیے گئے تھے جبکہ باقی نصف کم مشہور تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1056027'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1056027"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مشہور گلوکاروں میں دی بیٹلز، باب ڈائلن، دی رولنگ اسٹونز، ڈیوڈ باؤئی اور بروس اسپرنگسٹین جیسے نام بھی شامل تھے۔</p>
<p>محققین نے ہر مشہور گلوکار کو جنس، قومیت اور موسیقی کی صنف کی بنیاد پر ایک کم مشہور گلوکار سے ملایا اور پھر دونوں کی اوسط عمر کا موازنہ کیا۔</p>
<p>نتائج سے پتہ چلا کہ مشہور گلوکاروں کی اوسط عمر 75 سال رہی جبکہ کم مشہور گلوکار 79 سال تک زندہ رہے۔</p>
<p>تحقیق کے مطابق شہرت موت کے بڑھتے ہوئے خطرات میں سے ایک عمل ہے جو صحت کے مسائل کا سبب بنتی ہے جب کہ شہرت سے سولو آرٹسٹوں کو بینڈ ممبران کے مقابلے میں زیادہ خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ انہیں جذباتی اور عملی مدد کم ملتی ہے۔</p>
<p>تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ شہرت سے متعلق خطرات میں رازداری کا خاتمہ، عوامی تنقید اور پرفارمنس کا دباؤ شامل ہو سکتے ہیں، جس وجہ سے ان میں صحت کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔</p>
<p>اس سے قبل 2007 کی امریکی تحقیق کے مطابق 2 سے 25 سال کی عمر میں شہرت پانے والے پاپ اسٹارز کی موت کا خطرہ عام آبادی کے مقابلے میں دو سے تین گنا زیادہ ہوتا ہے۔</p>
<p>تحقیق میں حال ہی میں انتقال کرنے والے فنکاروں میں ریپر میک ملر (26 سال)، ڈی جے ایویچی (28 سال) اور لائم پین (31 سال) کو تازہ مثالوں کی طور پر پیش کیا گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Amazing</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274321</guid>
      <pubDate>Wed, 26 Nov 2025 23:55:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ہیلتھ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/26201042293f8be.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/26201042293f8be.webp"/>
        <media:title>—فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حادثے کی شکار دلہن کی ہسپتال میں شادی کی تقریب، ویڈیو وائرل</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274191/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارتی ریاست کیرالا میں ایک دل دہلا دینے والے حادثے کے بعد شدید زخمی ہونے والی دلہن کے ساتھ دلہے نے ہسپتال میں شادی کی، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.hindustantimes.com/india-news/kerala-hospital-turns-wedding-venue-as-kochi-man-marries-bride-suffering-spinal-injury-in-emergency-room-101763801783240.html"&gt;ہندوستان ٹائمز&lt;/a&gt; کے مطابق کیرالا میں اسکول ٹیچر آوانی شادی کی تقریب کے لیے 21 نومبر کو بیوٹی پارلر جا رہی تھیں کہ راستے میں ٹریفک حادثے کا شکار ہو کر شدید زخمی ہو گئیں، موقع پر موجود افراد نے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا، دلہن کو ریڑھ کی ہڈی اور کولہے میں شدید چوٹیں آئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حادثہ کوٹایم ضلع کے سیاحتی مقام کماراکم میں پیش آیا، جس کے بعد آوانی کو ابتدائی طور پر کوٹایم میڈیکل کالج منتقل کیا گیا، بعد ازاں خصوصی علاج کے لیے انہیں وی پی ایس لیکشور ہسپتال بھیجا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیکل ٹیم نے تفصیلی معائنے کے بعد صبح سرجری کا آغاز کیا اور دوپہر تک یہ مکمل کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آوانی کی ریڑھ کی ہڈی کے L4 حصے کو شدید چوٹ پہنچی تھی، جو حرکت اور استحکام کے لیے اہم نقطہ ہے، جب کہ کولہے کو بھی زخم پہنچا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹروں نے تصدیق کی کہ اعصابی چوٹ کامیابی سے ٹھیک کر دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹروں نے بتایا کہ یہ ایک پیچیدہ کیس تھا، لیکن سرجری منصوبے کے مطابق ہوئی، آوانی کی ریڑھ کی ہڈی مستحکم کر دی گئی ہے، اعصاب پر دباؤ کم کر دیا گیا ہے اور وہ اب نیوروسائنسز آئی سی یو میں نگرانی میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271515/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271515"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حادثے کے باوجود دلہا اور دلہن کے اہل خانہ نے شادی کی تقریب منسوخ کرنے کے بجائے ہسپتال میں انعقاد کرنے کا فیصلہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹروں، نرسوں اور قریبی رشتہ داروں کی موجودگی میں آوانی اور ان کے منگیتر شیرو نے بغیر موسیقی، سجاوٹ یا روایتی تقاریب کے سادگی سے شادی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہسپتال انتظامیہ نے صورتحال کو سمجھتے ہوئے شادی کی اجازت دی کیونکہ دلہا دلہن کے لیے یہ دن خاص تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں ہونے والی شادی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس نے صارفین کو 2006 میں ریلیز ہونے والی بولی وڈ فلم ویواہ کی یاد دلا دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلہا شیرو نے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://gulfnews.com/uae/video-uae-entrepreneur-steps-in-for-kerala-bride-who-married-in-an-emergency-ward-1.500356370"&gt;گلف نیوز&lt;/a&gt; سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آج جو حمایت ملی، اس کی ہمیں توقع نہیں تھی، یہ جان کر کہ آوانی کی سرجری کامیاب رہی، ہمیں وہ امید ملی جس کے لیے ہم دعا کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شیرو نے مزید بتایا کہ وہ اور آوانی کئی برسوں سے ایک ساتھ ہیں اور اہل خانہ پہلے ہی ہمارے رشتے کو قبول کر چکے تھے، شادی اسی دن طے تھی اور سب خوشی سے تیاریوں میں مصروف تھے کہ حادثے نے حالات بدل دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ آوانی کو اب مکمل دیکھ بھال اور سہارا درکار ہے اور انہیں یقین ہے کہ وہ جلد صحت یاب ہو جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;raw-html&gt;
&lt;blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/reel/DRVClH0EwY9/?utm_source=ig_embed&amp;amp;utm_campaign=loading" data-instgrm-version="14" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"&gt;&lt;div style="padding:16px;"&gt; &lt;a href="https://www.instagram.com/reel/DRVClH0EwY9/?utm_source=ig_embed&amp;amp;utm_campaign=loading" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"&gt; &lt;div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 19% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"&gt;&lt;svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"&gt;&lt;g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"&gt;&lt;g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"&gt;&lt;g&gt;&lt;path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"&gt;&lt;/path&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding-top: 8px;"&gt; &lt;div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"&gt;View this post on Instagram&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 12.5% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"&gt;&lt;div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: 8px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: auto;"&gt; &lt;div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/a&gt;&lt;p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"&gt;&lt;a href="https://www.instagram.com/reel/DRVClH0EwY9/?utm_source=ig_embed&amp;amp;utm_campaign=loading" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"&gt;A post shared by NEWS9 (@news9live)&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;&lt;/blockquote&gt;
&lt;script async src="//www.instagram.com/embed.js"&gt;&lt;/script&gt;
&lt;/raw-html&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارتی ریاست کیرالا میں ایک دل دہلا دینے والے حادثے کے بعد شدید زخمی ہونے والی دلہن کے ساتھ دلہے نے ہسپتال میں شادی کی، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی۔</p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.hindustantimes.com/india-news/kerala-hospital-turns-wedding-venue-as-kochi-man-marries-bride-suffering-spinal-injury-in-emergency-room-101763801783240.html">ہندوستان ٹائمز</a> کے مطابق کیرالا میں اسکول ٹیچر آوانی شادی کی تقریب کے لیے 21 نومبر کو بیوٹی پارلر جا رہی تھیں کہ راستے میں ٹریفک حادثے کا شکار ہو کر شدید زخمی ہو گئیں، موقع پر موجود افراد نے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا، دلہن کو ریڑھ کی ہڈی اور کولہے میں شدید چوٹیں آئیں۔</p>
<p>حادثہ کوٹایم ضلع کے سیاحتی مقام کماراکم میں پیش آیا، جس کے بعد آوانی کو ابتدائی طور پر کوٹایم میڈیکل کالج منتقل کیا گیا، بعد ازاں خصوصی علاج کے لیے انہیں وی پی ایس لیکشور ہسپتال بھیجا گیا۔</p>
<p>میڈیکل ٹیم نے تفصیلی معائنے کے بعد صبح سرجری کا آغاز کیا اور دوپہر تک یہ مکمل کر دی۔</p>
<p>آوانی کی ریڑھ کی ہڈی کے L4 حصے کو شدید چوٹ پہنچی تھی، جو حرکت اور استحکام کے لیے اہم نقطہ ہے، جب کہ کولہے کو بھی زخم پہنچا تھا۔</p>
<p>ڈاکٹروں نے تصدیق کی کہ اعصابی چوٹ کامیابی سے ٹھیک کر دی گئی ہے۔</p>
<p>ڈاکٹروں نے بتایا کہ یہ ایک پیچیدہ کیس تھا، لیکن سرجری منصوبے کے مطابق ہوئی، آوانی کی ریڑھ کی ہڈی مستحکم کر دی گئی ہے، اعصاب پر دباؤ کم کر دیا گیا ہے اور وہ اب نیوروسائنسز آئی سی یو میں نگرانی میں ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271515/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271515"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>حادثے کے باوجود دلہا اور دلہن کے اہل خانہ نے شادی کی تقریب منسوخ کرنے کے بجائے ہسپتال میں انعقاد کرنے کا فیصلہ کیا۔</p>
<p>ڈاکٹروں، نرسوں اور قریبی رشتہ داروں کی موجودگی میں آوانی اور ان کے منگیتر شیرو نے بغیر موسیقی، سجاوٹ یا روایتی تقاریب کے سادگی سے شادی کی۔</p>
<p>ہسپتال انتظامیہ نے صورتحال کو سمجھتے ہوئے شادی کی اجازت دی کیونکہ دلہا دلہن کے لیے یہ دن خاص تھا۔</p>
<p>بعد ازاں ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں ہونے والی شادی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس نے صارفین کو 2006 میں ریلیز ہونے والی بولی وڈ فلم ویواہ کی یاد دلا دی۔</p>
<p>دلہا شیرو نے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://gulfnews.com/uae/video-uae-entrepreneur-steps-in-for-kerala-bride-who-married-in-an-emergency-ward-1.500356370">گلف نیوز</a> سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آج جو حمایت ملی، اس کی ہمیں توقع نہیں تھی، یہ جان کر کہ آوانی کی سرجری کامیاب رہی، ہمیں وہ امید ملی جس کے لیے ہم دعا کر رہے تھے۔</p>
<p>شیرو نے مزید بتایا کہ وہ اور آوانی کئی برسوں سے ایک ساتھ ہیں اور اہل خانہ پہلے ہی ہمارے رشتے کو قبول کر چکے تھے، شادی اسی دن طے تھی اور سب خوشی سے تیاریوں میں مصروف تھے کہ حادثے نے حالات بدل دیے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ آوانی کو اب مکمل دیکھ بھال اور سہارا درکار ہے اور انہیں یقین ہے کہ وہ جلد صحت یاب ہو جائیں گی۔</p>
<raw-html>
<blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/reel/DRVClH0EwY9/?utm_source=ig_embed&amp;utm_campaign=loading" data-instgrm-version="14" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"><div style="padding:16px;"> <a href="https://www.instagram.com/reel/DRVClH0EwY9/?utm_source=ig_embed&amp;utm_campaign=loading" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"> <div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"></div></div></div><div style="padding: 19% 0;"></div> <div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"><svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"><g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"><g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"><g><path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"></path></g></g></g></svg></div><div style="padding-top: 8px;"> <div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;">View this post on Instagram</div></div><div style="padding: 12.5% 0;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"><div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"></div></div><div style="margin-left: 8px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"></div></div><div style="margin-left: auto;"> <div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"></div></div></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"></div></div></a><p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"><a href="https://www.instagram.com/reel/DRVClH0EwY9/?utm_source=ig_embed&amp;utm_campaign=loading" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank">A post shared by NEWS9 (@news9live)</a></p></div></blockquote>
<script async src="//www.instagram.com/embed.js"></script>
</raw-html>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274191</guid>
      <pubDate>Mon, 24 Nov 2025 13:43:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/241256054242896.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/241256054242896.webp"/>
        <media:title>— شٹر اسٹاک فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نایاب رولیکس گھڑی ایک ارب 34 کروڑ روپے میں فروخت</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273887/</link>
      <description>&lt;p&gt;گھڑی ساز سوئس کمپنی ’رولیکس‘ کی جانب سے 85 سال قبل 1940 میں بنائی گئی نایاب گھڑی ریکارڈ قیمت 47 لاکھ 17 ہزار امریکی ڈالر میں فروخت ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلیجی اخبار ’گلف نیوز‘ کے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://gulfnews.com/business/markets/ultra-rare-rolex-sells-for-47-million-in-record-breaking-dubai-auction-1.500349100"&gt;&lt;strong&gt;مطابق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; دبئی میں سنگاپور کی کمپنی فیوچر گرائل نے نایاب گھڑی کی نیلامی کا میلہ منعقد کیا، جس میں گھڑی کو ریکارڈ قیمت پر خرید لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رولیکس نے 1940 کی دہائی میں ’رولکس 4113‘ ماڈل کی صرف 12 گھڑیاں ہی بنائی تھیں جن میں سے اب صرف 9 گھڑیاں ہی دنیا میں موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا میں رہ جانے والی 9 میں سے ایک گھڑی دبئی کی نیلامی میں 47 لاکھ 17 ہزار امریکی ڈالر میں فروخت ہوئی، جس کی پاکستانی قیمت تقریبا ایک ارب 34 کروڑ روپے بنتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ گھڑی رولیکس کی واحد اسپیلیٹ سیکنڈز کرونوگراف گھڑی ہے، اسی طرح کی ایک گھڑی پہلے 12 لاکھ امریکی ڈالر میں فروخت ہوئی تھی لیکن اس بار اسی ماڈل کی گھڑی دگنی سے زائد قیمت پر فروخت ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گھڑی کی فروخت کا انتظام کرنے والی کمپنی نے خریدار سے متعلق کوئی معلومات فراہم  نہیں کی، مذکورہ کمپنی خریدار و بیچنے والوں سے 6 فیصد کمیشن لیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ کمپنی 2026 میں متحدہ عرب امارات میں اپنے نیلامی کے آپریشنز بڑھانے کا منصوبہ رکھتی ہے، کیوں کہ امارات میں نایاب چیزیں اچھی قیمت پر فروخت کو ہونے لگی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>گھڑی ساز سوئس کمپنی ’رولیکس‘ کی جانب سے 85 سال قبل 1940 میں بنائی گئی نایاب گھڑی ریکارڈ قیمت 47 لاکھ 17 ہزار امریکی ڈالر میں فروخت ہوگئی۔</p>
<p>خلیجی اخبار ’گلف نیوز‘ کے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://gulfnews.com/business/markets/ultra-rare-rolex-sells-for-47-million-in-record-breaking-dubai-auction-1.500349100"><strong>مطابق</strong></a> دبئی میں سنگاپور کی کمپنی فیوچر گرائل نے نایاب گھڑی کی نیلامی کا میلہ منعقد کیا، جس میں گھڑی کو ریکارڈ قیمت پر خرید لیا گیا۔</p>
<p>رولیکس نے 1940 کی دہائی میں ’رولکس 4113‘ ماڈل کی صرف 12 گھڑیاں ہی بنائی تھیں جن میں سے اب صرف 9 گھڑیاں ہی دنیا میں موجود ہیں۔</p>
<p>دنیا میں رہ جانے والی 9 میں سے ایک گھڑی دبئی کی نیلامی میں 47 لاکھ 17 ہزار امریکی ڈالر میں فروخت ہوئی، جس کی پاکستانی قیمت تقریبا ایک ارب 34 کروڑ روپے بنتی ہے۔</p>
<p>مذکورہ گھڑی رولیکس کی واحد اسپیلیٹ سیکنڈز کرونوگراف گھڑی ہے، اسی طرح کی ایک گھڑی پہلے 12 لاکھ امریکی ڈالر میں فروخت ہوئی تھی لیکن اس بار اسی ماڈل کی گھڑی دگنی سے زائد قیمت پر فروخت ہوئی۔</p>
<p>گھڑی کی فروخت کا انتظام کرنے والی کمپنی نے خریدار سے متعلق کوئی معلومات فراہم  نہیں کی، مذکورہ کمپنی خریدار و بیچنے والوں سے 6 فیصد کمیشن لیتی ہے۔</p>
<p>مذکورہ کمپنی 2026 میں متحدہ عرب امارات میں اپنے نیلامی کے آپریشنز بڑھانے کا منصوبہ رکھتی ہے، کیوں کہ امارات میں نایاب چیزیں اچھی قیمت پر فروخت کو ہونے لگی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Amazing</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273887</guid>
      <pubDate>Mon, 17 Nov 2025 23:52:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (لائف اینڈ اسٹائل ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/172039295ef8560.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/172039295ef8560.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایپل نے آئی فون رکھنے کے لیے 42 ہزار روپے کی قیمت کی جرابیں متعارف کروادیں</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273593/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسمارٹ فونز اور کمپیوٹر متعارف کرانے والی امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے آئی فون رکھنے کے لیے دیدہ زیب جرابیں متعارف کرادیں، جن کی پاکستانی قیمت محض 42 ہزار روپے رکھی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایپل کی آفیشل &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.apple.com/shop/product/hs8p2zm/a/iphone-pocket-by-issey-miyake-long-sapphire"&gt;&lt;strong&gt;ویب سائٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; پر متعارف کرائی گئی جرابوں کے ڈیزائن اور قیمت کا اعلان کیا گیا، تاہم متعدد ممالک میں ان کی ڈیلیوری متعارف نہیں کرائی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایپل نے جاپانی ڈیزائنر برانڈ آئسے میاکیا (ISSEY MIYAKE) کے ساتھ مل کر ایک نئی ’پوکنگ‘ متعارف کرائی ہے جو اصل میں ایک چھوٹی سی بیگ جیسی چیز ہے جو دکھنے میں جرابوں جیسی لگتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ’آئی فون پوکنگ‘ (iPhone Pocket) دراصل ایک لچکدار تھری ڈی ٹیکنالوجی پر کپڑے کی ساخت سے بنائی گئی ہے، جس میں آئی فون، ایئر پوڈز اور دیگر چھوٹی چیزیں آسانی سے رکھی جا سکتی ہیں&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2025/11/112018329250fe3.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2025/11/112018329250fe3.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر کوئی اسے کلائی پر لٹکانا نہ چاہے تو مذکورہ جرابوں نما بیگ کا بڑا سائز بھی دستیاب ہے جسے جسم پر لٹکایا جا سکتا ہے اور بڑے سائز کے جرابے کی قیمت محض 230 ڈالر (تقریباً 65 ہزار روپے) ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایپل کی پریس ریلیز کے مطابق مذکورہ ڈیزائن ’ایک ٹکڑے کپڑے‘ (a piece of cloth) کے تصور سے متاثر ہے جو آئسے میاکیہ کی مشہور پلیٹڈ کپڑوں کی طرز پر بنایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ مذکورہ پروڈکٹ جاپان میں تیار کی گئی اور ایپل کے ڈیزائن اسٹوڈیو اور میاکیہ کی ٹیم کے قریبی تعاون کا نتیجہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حیران کن بات یہ ہے کہ مذکورہ جرابیں محدود تعداد میں بنائی گئی ہیں اور انہیں صرف امریکا، برطانیہ، فرانس، اٹلی، جاپان، سنگاپور، جنوبی کوریا، چین اور کچھ منتخب ایپل اسٹورز پر پیش کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ جراب جیسا ایک چھوٹا بیگ پاکستانی 42 ہزار جب کہ بڑا بیگ پاکستانی 65 ہزار روپے میں فروخت کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسمارٹ فونز اور کمپیوٹر متعارف کرانے والی امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے آئی فون رکھنے کے لیے دیدہ زیب جرابیں متعارف کرادیں، جن کی پاکستانی قیمت محض 42 ہزار روپے رکھی گئی ہے۔</p>
<p>ایپل کی آفیشل <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.apple.com/shop/product/hs8p2zm/a/iphone-pocket-by-issey-miyake-long-sapphire"><strong>ویب سائٹ</strong></a> پر متعارف کرائی گئی جرابوں کے ڈیزائن اور قیمت کا اعلان کیا گیا، تاہم متعدد ممالک میں ان کی ڈیلیوری متعارف نہیں کرائی گئی۔</p>
<p>ایپل نے جاپانی ڈیزائنر برانڈ آئسے میاکیا (ISSEY MIYAKE) کے ساتھ مل کر ایک نئی ’پوکنگ‘ متعارف کرائی ہے جو اصل میں ایک چھوٹی سی بیگ جیسی چیز ہے جو دکھنے میں جرابوں جیسی لگتی ہے۔</p>
<p>یہ ’آئی فون پوکنگ‘ (iPhone Pocket) دراصل ایک لچکدار تھری ڈی ٹیکنالوجی پر کپڑے کی ساخت سے بنائی گئی ہے، جس میں آئی فون، ایئر پوڈز اور دیگر چھوٹی چیزیں آسانی سے رکھی جا سکتی ہیں</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2025/11/112018329250fe3.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2025/11/112018329250fe3.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر کوئی اسے کلائی پر لٹکانا نہ چاہے تو مذکورہ جرابوں نما بیگ کا بڑا سائز بھی دستیاب ہے جسے جسم پر لٹکایا جا سکتا ہے اور بڑے سائز کے جرابے کی قیمت محض 230 ڈالر (تقریباً 65 ہزار روپے) ہے۔</p>
<p>ایپل کی پریس ریلیز کے مطابق مذکورہ ڈیزائن ’ایک ٹکڑے کپڑے‘ (a piece of cloth) کے تصور سے متاثر ہے جو آئسے میاکیہ کی مشہور پلیٹڈ کپڑوں کی طرز پر بنایا گیا ہے۔</p>
<p>پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ مذکورہ پروڈکٹ جاپان میں تیار کی گئی اور ایپل کے ڈیزائن اسٹوڈیو اور میاکیہ کی ٹیم کے قریبی تعاون کا نتیجہ ہے۔</p>
<p>حیران کن بات یہ ہے کہ مذکورہ جرابیں محدود تعداد میں بنائی گئی ہیں اور انہیں صرف امریکا، برطانیہ، فرانس، اٹلی، جاپان، سنگاپور، جنوبی کوریا، چین اور کچھ منتخب ایپل اسٹورز پر پیش کیا جائے گا۔</p>
<p>مذکورہ جراب جیسا ایک چھوٹا بیگ پاکستانی 42 ہزار جب کہ بڑا بیگ پاکستانی 65 ہزار روپے میں فروخت کیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Amazing</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273593</guid>
      <pubDate>Sun, 16 Nov 2025 11:50:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/112018103096f13.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/112018103096f13.webp"/>
        <media:title>—فوٹو: کمپنی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>البانیا کی پہلی اے آئی وزیر حاملہ ہوگئیں، 83 بچوں کو جنم دیں گی، وزیر اعظم</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1272852/</link>
      <description>&lt;p&gt;یورپی ملک البانیا کے وزیر اعظم ایڈی راما نے دنیا کو بتایا ہے کہ ان کے ملک کی پہلی آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) خاتون وزیر حاملہ ہوچکی ہیں اور وہ جلد ہی 83 بچوں کو جنم دیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نشریاتی ادارے ’یورو وژن‘ کے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.euronews.com/next/2025/10/30/albanias-ai-minister-is-pregnant-with-83-digital-assistants-prime-minister-says"&gt;&lt;strong&gt;مطابق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; البانیا کے وزیر اعظم ایڈی راما نے جرمنی کے شہر برلن میں منعقدہ گلوبل ڈائیلاگ فورم میں بتایا کہ یہ ان کی اے آئی وزیر ڈیلا حاملہ ہیں اور وہ جلد 83 اے آئی اسسٹنٹس کو جنم دیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ اے آئی وزیر کے پیدا ہونے والے پارلیمانی اسسٹنٹس پارلیمنٹ کے سیشنز میں حصہ لیں گے، وہ ہر چیز کا نوٹس رکھیں گے اور اراکین کو بتائیں گے کہ مخصوص قوانین پر کیسے ردعمل دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق اے آئی وزیر کے بچوں کو البانیا سمیت یورپین یونین قوانین کی مکمل معلومات حاصل ہوگی، وہ اراکین پارلیمنٹ کو معاونت فراہم کریں گے، انہیں بتائیں گے کہ کس مسئلے پر انہیں کیا بات کرنی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272577/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272577"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم نے بتایا کہ اے آئی بچے اپنی ماں کی طرح یورپی یونین کے قوانین اور ہر چیز کی معلومات رکھیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;البانیا نے جنوری 2025 میں ایک ڈیجیٹل اے آئی اسسٹنٹ سسٹم ’ڈیلا‘ کا استعمال شروع کیا تھا، مذکورہ سسٹم ڈیجیٹل ہے جو آن لائن کسی خاتون کی تصویر یا ویڈیو کی طرح ہی ہے اور وہ عوام کو معاونت فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کئی ماہ تک ڈیلا لوگوں کو آن لائن سرکاری خدمات استعمال کرنے میں مدد دیتی رہیں، جس کے بعد ستمبر 2025 میں وزیر اعظم نے انہیں کابینہ کی پہلی ڈیجیٹل وزیر بنایا اور انہیں آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور اسی طرح کے دیگر کاموں کی وزیر کا عہدہ دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم ایڈی راما نے ستمبر میں ڈیلا وزیر کا رتبہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ اس کی اہم ذمہ داریوں میں عوامی ٹینڈرز پر فیصلے کرنا شامل ہیں، جو انہیں ملک کو 100 فیصد کرپشن فری بنائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیلا نے بھی برلن کی تقریب سے خطاب کیا اور کہا کہ وہ امید کرتی ہیں کہ دنیا سیکھ لے گی کہ ’مصنوعی ذہانت، جب جمہوری اقدار اور ثقافتی شناخت پر مبنی ہو تو انسانی قیادت کو کمزور نہیں بلکہ مضبوط کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ وہ اور ان کے بچے سول سرونٹس کی جگہ نہیں لیں گے بلکہ ان کی صلاحیت بڑھائیں گے، ڈیٹا کی بنیاد پر فیصلے کرنے میں انہیں مدد دیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>یورپی ملک البانیا کے وزیر اعظم ایڈی راما نے دنیا کو بتایا ہے کہ ان کے ملک کی پہلی آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) خاتون وزیر حاملہ ہوچکی ہیں اور وہ جلد ہی 83 بچوں کو جنم دیں گی۔</p>
<p>نشریاتی ادارے ’یورو وژن‘ کے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.euronews.com/next/2025/10/30/albanias-ai-minister-is-pregnant-with-83-digital-assistants-prime-minister-says"><strong>مطابق</strong></a> البانیا کے وزیر اعظم ایڈی راما نے جرمنی کے شہر برلن میں منعقدہ گلوبل ڈائیلاگ فورم میں بتایا کہ یہ ان کی اے آئی وزیر ڈیلا حاملہ ہیں اور وہ جلد 83 اے آئی اسسٹنٹس کو جنم دیں گی۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ اے آئی وزیر کے پیدا ہونے والے پارلیمانی اسسٹنٹس پارلیمنٹ کے سیشنز میں حصہ لیں گے، وہ ہر چیز کا نوٹس رکھیں گے اور اراکین کو بتائیں گے کہ مخصوص قوانین پر کیسے ردعمل دیا جائے۔</p>
<p>ان کے مطابق اے آئی وزیر کے بچوں کو البانیا سمیت یورپین یونین قوانین کی مکمل معلومات حاصل ہوگی، وہ اراکین پارلیمنٹ کو معاونت فراہم کریں گے، انہیں بتائیں گے کہ کس مسئلے پر انہیں کیا بات کرنی چاہیے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272577/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272577"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>وزیر اعظم نے بتایا کہ اے آئی بچے اپنی ماں کی طرح یورپی یونین کے قوانین اور ہر چیز کی معلومات رکھیں گے۔</p>
<p>البانیا نے جنوری 2025 میں ایک ڈیجیٹل اے آئی اسسٹنٹ سسٹم ’ڈیلا‘ کا استعمال شروع کیا تھا، مذکورہ سسٹم ڈیجیٹل ہے جو آن لائن کسی خاتون کی تصویر یا ویڈیو کی طرح ہی ہے اور وہ عوام کو معاونت فراہم کرتی ہے۔</p>
<p>کئی ماہ تک ڈیلا لوگوں کو آن لائن سرکاری خدمات استعمال کرنے میں مدد دیتی رہیں، جس کے بعد ستمبر 2025 میں وزیر اعظم نے انہیں کابینہ کی پہلی ڈیجیٹل وزیر بنایا اور انہیں آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور اسی طرح کے دیگر کاموں کی وزیر کا عہدہ دیا گیا۔</p>
<p>وزیر اعظم ایڈی راما نے ستمبر میں ڈیلا وزیر کا رتبہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ اس کی اہم ذمہ داریوں میں عوامی ٹینڈرز پر فیصلے کرنا شامل ہیں، جو انہیں ملک کو 100 فیصد کرپشن فری بنائیں گے۔</p>
<p>ڈیلا نے بھی برلن کی تقریب سے خطاب کیا اور کہا کہ وہ امید کرتی ہیں کہ دنیا سیکھ لے گی کہ ’مصنوعی ذہانت، جب جمہوری اقدار اور ثقافتی شناخت پر مبنی ہو تو انسانی قیادت کو کمزور نہیں بلکہ مضبوط کر سکتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ وہ اور ان کے بچے سول سرونٹس کی جگہ نہیں لیں گے بلکہ ان کی صلاحیت بڑھائیں گے، ڈیٹا کی بنیاد پر فیصلے کرنے میں انہیں مدد دیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Amazing</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1272852</guid>
      <pubDate>Thu, 30 Oct 2025 22:40:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیک ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/3022253187da37f.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/3022253187da37f.webp"/>
        <media:title>—فوٹو: فیس بک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>محض 10 خواتین ملازمین سے چلنے والی خالص پنیر بنانے کی فیکٹری</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1272577/</link>
      <description>&lt;p&gt;متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی ریاست ابوظبی کے مضافات میں خالص دودھ سے بہترین پنیر تیار کرنے والی فیکٹری میں صرف 10 اماراتی خواتین کام کرتی ہیں جو دودھ کو گرم کرنے، ٹھنڈا کرنے سمیت اس سے پنیر بنانے کا کام کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ بات یہ ہے کہ مذکورہ فیکٹری ابوظبی کی بڑی پنیر فیکٹری ہے جو کہ بڑے ہوٹلوں کو پنیر سمیت دوسری روایتی اماراتی غذائیں تیار کرکے دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’خلیج ٹائمز‘ کے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.khaleejtimes.com/uae/abu-dhabi-emirati-people-of-determination-craft-goat-cheese-for-hotels?_refresh=true"&gt;&lt;strong&gt;مطابق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; فیکٹری میں تمام کام سنبھالنے والی خواتین خصوصی صلاحیتوں کی حامل ہیں، جو بکری کے خالص دودھ سے لذیذ لبنہ اور پنیر بناتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواتین کی جانب سے تیا رکیا جانے والا پنیر متحدہ عرب امارات کے بڑے ہوٹلوں میں پیش کیا جاتا ہے، مذکورہ فیکٹری جولائی 2023 میں الفلاح علاقے میں کھولی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیکٹری میں دس خواتین ہر کام خود سنبھالتی ہیں، جیسا کہ دودھ صاف کرنا، گرم کرنا، ٹھنڈا کرنا اور پیک کرنا، پھر اس سے پنیر اور لبنہ تیار کرنا بھی ان کی ذمہ داری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیکٹری کی ٹرینر علا مصطحٰی کے مطابق کمپنی کے اپنے فارم سے ملنے والے تازہ بکری کے دودھ سے چیزیں تیار کی جاتی ہیں، کبھی کبھار قریبی فارموں سے بھی دودھ لیا جاتا ہے، دودھ کو 70 ڈگری تک گرم کیا جاتا ہے پھر 40 ڈگری پر ٹھنڈا کرنے کے بعد اسے صاف کرکے لبنہ اور پنیر بنایا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیکٹری ہفتے میں پانچ دن کام کرتی ہے اور ایک بار یا ایک ہی دن میں 20 کلو سے زیادہ پنیر اور لبنہ تیار کرتی ہے جو زیادہ تر ہوٹلوں کے بڑے آرڈرز کے لیے ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیکٹری میں کام کرنے والی خواتین مشینوں اور ٹیکنالوجی کی مدد سمیت اپنے ہاتھ اور مہارت کا استعمال کرتے ہوئے خالص دودھ سے بہترین پنیر تیار کرتی ہیں جب کہ پنیر کے علاوہ کریم اور لبنہ بھی تیار کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیکٹری میں ملازمت کرنے والی تمام خواتین کی عمریں 23 سے 40 سال کے درمیان ہیں اور انہیں کھانے، روایتی اماراتی اور عرب غذائیں تیار کرنے کا وسیع تجربہ ہے جب کہ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی ریاست ابوظبی کے مضافات میں خالص دودھ سے بہترین پنیر تیار کرنے والی فیکٹری میں صرف 10 اماراتی خواتین کام کرتی ہیں جو دودھ کو گرم کرنے، ٹھنڈا کرنے سمیت اس سے پنیر بنانے کا کام کرتی ہیں۔</p>
<p>دلچسپ بات یہ ہے کہ مذکورہ فیکٹری ابوظبی کی بڑی پنیر فیکٹری ہے جو کہ بڑے ہوٹلوں کو پنیر سمیت دوسری روایتی اماراتی غذائیں تیار کرکے دیتی ہے۔</p>
<p>’خلیج ٹائمز‘ کے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.khaleejtimes.com/uae/abu-dhabi-emirati-people-of-determination-craft-goat-cheese-for-hotels?_refresh=true"><strong>مطابق</strong></a> فیکٹری میں تمام کام سنبھالنے والی خواتین خصوصی صلاحیتوں کی حامل ہیں، جو بکری کے خالص دودھ سے لذیذ لبنہ اور پنیر بناتی ہیں۔</p>
<p>خواتین کی جانب سے تیا رکیا جانے والا پنیر متحدہ عرب امارات کے بڑے ہوٹلوں میں پیش کیا جاتا ہے، مذکورہ فیکٹری جولائی 2023 میں الفلاح علاقے میں کھولی گئی تھی۔</p>
<p>فیکٹری میں دس خواتین ہر کام خود سنبھالتی ہیں، جیسا کہ دودھ صاف کرنا، گرم کرنا، ٹھنڈا کرنا اور پیک کرنا، پھر اس سے پنیر اور لبنہ تیار کرنا بھی ان کی ذمہ داری ہے۔</p>
<p>فیکٹری کی ٹرینر علا مصطحٰی کے مطابق کمپنی کے اپنے فارم سے ملنے والے تازہ بکری کے دودھ سے چیزیں تیار کی جاتی ہیں، کبھی کبھار قریبی فارموں سے بھی دودھ لیا جاتا ہے، دودھ کو 70 ڈگری تک گرم کیا جاتا ہے پھر 40 ڈگری پر ٹھنڈا کرنے کے بعد اسے صاف کرکے لبنہ اور پنیر بنایا جاتا ہے۔</p>
<p>یہ فیکٹری ہفتے میں پانچ دن کام کرتی ہے اور ایک بار یا ایک ہی دن میں 20 کلو سے زیادہ پنیر اور لبنہ تیار کرتی ہے جو زیادہ تر ہوٹلوں کے بڑے آرڈرز کے لیے ہوتا ہے۔</p>
<p>فیکٹری میں کام کرنے والی خواتین مشینوں اور ٹیکنالوجی کی مدد سمیت اپنے ہاتھ اور مہارت کا استعمال کرتے ہوئے خالص دودھ سے بہترین پنیر تیار کرتی ہیں جب کہ پنیر کے علاوہ کریم اور لبنہ بھی تیار کیا جاتا ہے۔</p>
<p>فیکٹری میں ملازمت کرنے والی تمام خواتین کی عمریں 23 سے 40 سال کے درمیان ہیں اور انہیں کھانے، روایتی اماراتی اور عرب غذائیں تیار کرنے کا وسیع تجربہ ہے جب کہ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Amazing</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1272577</guid>
      <pubDate>Tue, 28 Oct 2025 11:52:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/27230033fb4433b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/27230033fb4433b.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: خلیج ٹائمز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دبئی پولیس نے 3 سالہ بچی کا افسر بننے کا خواب پورا کردیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1272503/</link>
      <description>&lt;p&gt;دبئی پولیس نے 3 سالہ سارہ نبیل کی افسر بننے کا خواب پورا کردیا ، کمسن بچی نے پولیس کی وردی پہننے اور لگژری پٹرولنگ گاڑی میں سیر کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://gulfnews.com/uae/dubai-police-make-3-year-olds-dream-come-true-with-uniform-and-luxury-patrol-ride-1.500320772"&gt;گلف نیوز&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق دبئی پولیس نے حال ہی میں ایک کمسن بچی کا سب سے بڑا خواب حقیقت میں بدل دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سارہ نبیل نامی 3 سالہ بچی نے پولیس کی وردی پہننے کی خواہش ظاہر کی تھی جس پر دبئی پولیس نہ صرف کمسن بچی کو ’ننھی پولیس آفیسر‘ کا اعزاز دیا  بلکہ اسے پولیس کی مشہور لگژری پیٹرول کار میں سیر کا موقع بھی فراہم کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق سارہ نبیل نے اپنی سادہ سی خواہش اسکول سیکیورٹی انیشی ایٹو ٹیم کے ارکان سے شیئر کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1269052'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269052"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جس پر بچوں میں خوشی اور اعتماد پیدا کرنے کے جذبے کے تحت سیکیورٹی ٹیم نے فوراً اس خواہش کو حقیقت میں بدلنے کے لیے اقدامات کیے، جس سے دبئی پولیس کی کمیونٹی سے مضبوط تعلق قائم رکھنے کی وابستگی ظاہر ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سارہ اور اس کے اہل خانہ کا استقبال دبئی پولیس ہیڈکوارٹرز میں کیا گیا، جہاں کپتان ماجد بن سعد الکعبی (ہیڈ آف اسکول سیکیورٹی انیشی ایٹو ٹیم) اور لیفٹیننٹ مریم عیسیٰ سنقور (ڈپٹی ہیڈ) سمیت پولیس افسران نے ان کا خیرمقدم کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سارہ کے لیے اس خاص دن کا آغاز پولیس کی جانب سے تیار  کی گئی خصوصی پولیس وردی اور تحائف کے ساتھ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ننھی افسر کو وردی پہنا کر شہر کی خصوصی سیر کرائی گئی، جس کا سب سے یادگار لمحہ پولیس کی عمدہ لگژری پیٹرول گاڑی میں سفر تھا، پولیس ٹیم نے اس موقع کو یادگار بنانے کے لیے کئی تصویریں اور ویڈیوز بھی بنائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کپتان الکعبی نے اس اقدام کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ انیشی ایٹو دبئی پولیس کی مثبت کمیونٹی انگیجمنٹ پالیسی کا حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد بچوں میں قومی وابستگی، خوشی اور فخر کا جذبہ پیدا کرنا ہے جب کہ ایسے اقدامات سے پولیس کے جدید اور انسان دوست چہرے کو نہ صرف دبئی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اجاگر کرنے میں مدد ملتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>دبئی پولیس نے 3 سالہ سارہ نبیل کی افسر بننے کا خواب پورا کردیا ، کمسن بچی نے پولیس کی وردی پہننے اور لگژری پٹرولنگ گاڑی میں سیر کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔</p>
<p><strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://gulfnews.com/uae/dubai-police-make-3-year-olds-dream-come-true-with-uniform-and-luxury-patrol-ride-1.500320772">گلف نیوز</a></strong> کے مطابق دبئی پولیس نے حال ہی میں ایک کمسن بچی کا سب سے بڑا خواب حقیقت میں بدل دیا۔</p>
<p>سارہ نبیل نامی 3 سالہ بچی نے پولیس کی وردی پہننے کی خواہش ظاہر کی تھی جس پر دبئی پولیس نہ صرف کمسن بچی کو ’ننھی پولیس آفیسر‘ کا اعزاز دیا  بلکہ اسے پولیس کی مشہور لگژری پیٹرول کار میں سیر کا موقع بھی فراہم کیا گیا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق سارہ نبیل نے اپنی سادہ سی خواہش اسکول سیکیورٹی انیشی ایٹو ٹیم کے ارکان سے شیئر کی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1269052'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269052"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>جس پر بچوں میں خوشی اور اعتماد پیدا کرنے کے جذبے کے تحت سیکیورٹی ٹیم نے فوراً اس خواہش کو حقیقت میں بدلنے کے لیے اقدامات کیے، جس سے دبئی پولیس کی کمیونٹی سے مضبوط تعلق قائم رکھنے کی وابستگی ظاہر ہوتی ہے۔</p>
<p>سارہ اور اس کے اہل خانہ کا استقبال دبئی پولیس ہیڈکوارٹرز میں کیا گیا، جہاں کپتان ماجد بن سعد الکعبی (ہیڈ آف اسکول سیکیورٹی انیشی ایٹو ٹیم) اور لیفٹیننٹ مریم عیسیٰ سنقور (ڈپٹی ہیڈ) سمیت پولیس افسران نے ان کا خیرمقدم کیا۔</p>
<p>سارہ کے لیے اس خاص دن کا آغاز پولیس کی جانب سے تیار  کی گئی خصوصی پولیس وردی اور تحائف کے ساتھ ہوا۔</p>
<p>ننھی افسر کو وردی پہنا کر شہر کی خصوصی سیر کرائی گئی، جس کا سب سے یادگار لمحہ پولیس کی عمدہ لگژری پیٹرول گاڑی میں سفر تھا، پولیس ٹیم نے اس موقع کو یادگار بنانے کے لیے کئی تصویریں اور ویڈیوز بھی بنائیں۔</p>
<p>کپتان الکعبی نے اس اقدام کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ انیشی ایٹو دبئی پولیس کی مثبت کمیونٹی انگیجمنٹ پالیسی کا حصہ ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد بچوں میں قومی وابستگی، خوشی اور فخر کا جذبہ پیدا کرنا ہے جب کہ ایسے اقدامات سے پولیس کے جدید اور انسان دوست چہرے کو نہ صرف دبئی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اجاگر کرنے میں مدد ملتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1272503</guid>
      <pubDate>Sun, 26 Oct 2025 19:59:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/2618124001c135b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/2618124001c135b.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: گلف نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چیٹ جی پی ٹی کے مشورے پر خاتون شہر چھوڑ کر قصبے منتقل ہوگئیں</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1272417/</link>
      <description>&lt;p&gt;ذہنی سکون کی متلاشی لاکھوں روپے ماہانہ کمانے والی خاتون پہلے امریکا کو خیرباد کہ کر فرانس منتقل ہوئیں لیکن پیرس جیسے شہر میں بھی سکون نہ ملنے پر وہ چیٹ جی پی ٹی کے مشورے پر چھوٹے قصبے منتقل ہوگئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://edition.cnn.com/2025/10/24/travel/american-woman-moved-to-france-using-chatgpt"&gt;&lt;strong&gt;مطابق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; جولی نائس اصل میں امریکی ریاست مشی گن کی رہنے والی ہیں لیکن ٹیکساس میں پلی بڑھیں، تاہم ان کا بچپن فرانس میں گزارا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بچپن فرانس میں گزارنے کے بعد وہ واپس امریکا آئی تھیں اور ٹیک انڈسٹری میں اچھی تنخواہ پر کام کرتی تھیں لیکن شدید دباؤ، اضطراب اور دائمی تھکاوٹ نے ان کی صحت خراب کر دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272340/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272340"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خاتون کے مطابق وہ کام کرتے کرتے ’انسانی وجود کا خول‘ بن گئی تھیں، انہیں تبدیلی کی ضرورت تھی، اس لیے وہ ذہنی سکون کی خاطر امریکا چھوڑ کر فرانس منتقل ہوئیں، کیوں کہ وہ بچپن میں بھی فرانس رہ چکی تھیں اور انہیں فرانسیسی زبان آتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن امریکا چھوڑ کر پیرس منتقل ہونے کے بعد بھی انہیں ذہنی سکون نہ ملا اور پیرس کی مصروف زندگی نے انہیں بے چین کر دیا، جس کے بعد انہیں یہ فیصلہ کرنے میں مشکل پیش آئی کہ وہ پیرس چھوڑ کر کہاں جائیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلہ نہ کرپانے کی الجھن کو حل کرنے کے لیے انہوں نے چیٹ جی پی ٹی سے مدد لی اور اسے اپنی پوری کہانی اور خواہشات بتائیں، جس کے بعد چیٹ جی پی ٹی نے انہیں رہائش کے لیے فرانس کے دو قصبوں کی تجاویز دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیٹ جی پی ٹی نے انہیں ایک سرلا-لا- کانیڈا اور دوسرا اوزیس قصبے میں رہنے کا مشورہ دیا لیکن ایک بار پھر وہ دونوں قصبوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے میں ناکام رہیں تو انہوں نے چیٹ جی پی ٹی سے ہی پوچھا کہ وہ کس قصبے کو منتخب کریں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیٹ جی پی ٹی کے مشورے پر خاتون نے اوزیس قصبے کو منتقل کیا اور وہاں منتقل ہوگئیں، انہوں نے پیرس میں اپنی ملازمت کو چھوڑا، کار فروخت کی اور کچھ کپڑے لے کر قصبے کی طرف نکل پڑیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولی نائس چیٹ جی پی ٹی کے کہنے پر چھوٹے قصبے منتقل ہوگئیں اور انہوں نے ایک بیڈ روم کا اپارٹمنٹ کرائے پر لیا، جہاں وہ اب سکون سے پرانے قصبے میں آزاد گھومتی اور ڈپریشن سے محفوظ زندگی گزارتی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ذہنی سکون کی متلاشی لاکھوں روپے ماہانہ کمانے والی خاتون پہلے امریکا کو خیرباد کہ کر فرانس منتقل ہوئیں لیکن پیرس جیسے شہر میں بھی سکون نہ ملنے پر وہ چیٹ جی پی ٹی کے مشورے پر چھوٹے قصبے منتقل ہوگئیں۔</p>
<p>امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://edition.cnn.com/2025/10/24/travel/american-woman-moved-to-france-using-chatgpt"><strong>مطابق</strong></a> جولی نائس اصل میں امریکی ریاست مشی گن کی رہنے والی ہیں لیکن ٹیکساس میں پلی بڑھیں، تاہم ان کا بچپن فرانس میں گزارا۔</p>
<p>بچپن فرانس میں گزارنے کے بعد وہ واپس امریکا آئی تھیں اور ٹیک انڈسٹری میں اچھی تنخواہ پر کام کرتی تھیں لیکن شدید دباؤ، اضطراب اور دائمی تھکاوٹ نے ان کی صحت خراب کر دی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272340/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272340"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>خاتون کے مطابق وہ کام کرتے کرتے ’انسانی وجود کا خول‘ بن گئی تھیں، انہیں تبدیلی کی ضرورت تھی، اس لیے وہ ذہنی سکون کی خاطر امریکا چھوڑ کر فرانس منتقل ہوئیں، کیوں کہ وہ بچپن میں بھی فرانس رہ چکی تھیں اور انہیں فرانسیسی زبان آتی تھی۔</p>
<p>لیکن امریکا چھوڑ کر پیرس منتقل ہونے کے بعد بھی انہیں ذہنی سکون نہ ملا اور پیرس کی مصروف زندگی نے انہیں بے چین کر دیا، جس کے بعد انہیں یہ فیصلہ کرنے میں مشکل پیش آئی کہ وہ پیرس چھوڑ کر کہاں جائیں؟</p>
<p>فیصلہ نہ کرپانے کی الجھن کو حل کرنے کے لیے انہوں نے چیٹ جی پی ٹی سے مدد لی اور اسے اپنی پوری کہانی اور خواہشات بتائیں، جس کے بعد چیٹ جی پی ٹی نے انہیں رہائش کے لیے فرانس کے دو قصبوں کی تجاویز دیں۔</p>
<p>چیٹ جی پی ٹی نے انہیں ایک سرلا-لا- کانیڈا اور دوسرا اوزیس قصبے میں رہنے کا مشورہ دیا لیکن ایک بار پھر وہ دونوں قصبوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے میں ناکام رہیں تو انہوں نے چیٹ جی پی ٹی سے ہی پوچھا کہ وہ کس قصبے کو منتخب کریں؟</p>
<p>چیٹ جی پی ٹی کے مشورے پر خاتون نے اوزیس قصبے کو منتقل کیا اور وہاں منتقل ہوگئیں، انہوں نے پیرس میں اپنی ملازمت کو چھوڑا، کار فروخت کی اور کچھ کپڑے لے کر قصبے کی طرف نکل پڑیں۔</p>
<p>جولی نائس چیٹ جی پی ٹی کے کہنے پر چھوٹے قصبے منتقل ہوگئیں اور انہوں نے ایک بیڈ روم کا اپارٹمنٹ کرائے پر لیا، جہاں وہ اب سکون سے پرانے قصبے میں آزاد گھومتی اور ڈپریشن سے محفوظ زندگی گزارتی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Amazing</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1272417</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Oct 2025 23:07:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/24230542f46f805.webp" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/24230542f46f805.webp"/>
        <media:title>—فوٹو: سی این این
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دبئی کے ہوٹل میں 2 لاکھ 75 ہزار روپے کا ایک کپ کافی متعارف</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1272340/</link>
      <description>&lt;p&gt;متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی ریاست دبئی کے مقامی کیفے ’جولیتھ‘ نے دنیا کی سب سے قیمتی کافی ’نیڈو 7 گییشا‘ یکم نومبر سے فروخت کے لیے پیش کرنے کا اعلان کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلیجی اخبار ’گلف نیوز‘ کے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://gulfnews.com/food/dubai-cafe-offers-worlds-most-expensive-coffee-at-dhs3600-a-cup-1.500318683"&gt;&lt;strong&gt;مطابق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; ’نیڈو 7 گییشا‘ کافی کے ایک کپ کی قیمت 3 ہزار 600درہم (تقریباً 2 لاکھ 75 ہزار پاکستانی روپے) مقرر رکھی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیفے انتطامیہ کے مطابق ’نیڈو 7 گییشا‘ محض ایک مشروب نہیں بلکہ فطرت اور فن کا شاہکار ہے جو زندگی بھر کی یادگار بن جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیفے انتظامیہ نے کافی کے حوالے سے بتایا کہ وہ کوئی مارکیٹنگ ٹرک یا شو آف نہیں کر رہے بلکہ ’نیڈو 7 گییشا‘ کافی کو دبئی میں فروخت کرنا فطرت کا معجزہ اور انسانی محنت کا نتیجہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1015655'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1015655"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منتظمین کے مطابق دنیا میں صرف چند خوش نصیب لوگ ہی اسے چکھ سکیں گے، مذکورہ کافی دبئی میں پہلی بار دستیاب ہو رہی ہے، کافی کا ہر کپ تاریخ کا ایک قیمتی ٹکڑا بن جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ دنیا کی نایاب اور قیمتی کافی کے چند دانے انتظامیہ نے دبئی کے شاہی خاندان کے لیے الگ محفوظ کر لیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دبئی کے کیفے میں جلد فروخت کے لیے پیش کی جانے والی مذکورہ کافی کی مجموعی عالمی مقدار صرف 20 کلو  گرام ہے اور کیفے نے ’نیڈو 7 گییشا‘ نامی کافی کو عالمی آکشن کے بعد حاصل کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ کافی کو حاصل کرنے کے لیے دنیا بھر کے 549 کیفیز اور شائقین نے بولیاں لگائیں تھی، دبئی کے جولیتھ کیفے نے پورا لاٹ 22 لاکھ 18 ہزار درہم ( تقریبا 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر) کی بولی لگا کر حاصل کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دبئی کے کیفے پر مذکورہ کافی یکم  نومبر 2025 سے دستیاب ہوگی اور اس کی دستیابی چند دنوں تک ہی رہے گی، کیوں کہ کافی کی مقدار محض 20 کلو ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیفے انتظامیہ کے مطابق کافی کا سنگل سادہ کپ 3,600 درہم یعنی پاکستانی 2 لاکھ 75 ہزار روپے تک فراہم کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انتظامیہ کے مطابق مہمانوں کے خصوصی سیشن میں صرف ایک سے چار مہمانوں کے لیے اسی کافی کی انتہائی نایاب پاناما کی بلند پہاڑیوں کی خاص آب و ہوا سے احتیاط سے لاکر بھونی گئی گلابی خوشبو و تیز ذائقہ کافی کا کپ بھی دستیاب ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی ریاست دبئی کے مقامی کیفے ’جولیتھ‘ نے دنیا کی سب سے قیمتی کافی ’نیڈو 7 گییشا‘ یکم نومبر سے فروخت کے لیے پیش کرنے کا اعلان کر دیا۔</p>
<p>خلیجی اخبار ’گلف نیوز‘ کے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://gulfnews.com/food/dubai-cafe-offers-worlds-most-expensive-coffee-at-dhs3600-a-cup-1.500318683"><strong>مطابق</strong></a> ’نیڈو 7 گییشا‘ کافی کے ایک کپ کی قیمت 3 ہزار 600درہم (تقریباً 2 لاکھ 75 ہزار پاکستانی روپے) مقرر رکھی گئی ہے۔</p>
<p>کیفے انتطامیہ کے مطابق ’نیڈو 7 گییشا‘ محض ایک مشروب نہیں بلکہ فطرت اور فن کا شاہکار ہے جو زندگی بھر کی یادگار بن جائے گا۔</p>
<p>کیفے انتظامیہ نے کافی کے حوالے سے بتایا کہ وہ کوئی مارکیٹنگ ٹرک یا شو آف نہیں کر رہے بلکہ ’نیڈو 7 گییشا‘ کافی کو دبئی میں فروخت کرنا فطرت کا معجزہ اور انسانی محنت کا نتیجہ ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1015655'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1015655"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>منتظمین کے مطابق دنیا میں صرف چند خوش نصیب لوگ ہی اسے چکھ سکیں گے، مذکورہ کافی دبئی میں پہلی بار دستیاب ہو رہی ہے، کافی کا ہر کپ تاریخ کا ایک قیمتی ٹکڑا بن جائے گا۔</p>
<p>مذکورہ دنیا کی نایاب اور قیمتی کافی کے چند دانے انتظامیہ نے دبئی کے شاہی خاندان کے لیے الگ محفوظ کر لیے ہیں۔</p>
<p>دبئی کے کیفے میں جلد فروخت کے لیے پیش کی جانے والی مذکورہ کافی کی مجموعی عالمی مقدار صرف 20 کلو  گرام ہے اور کیفے نے ’نیڈو 7 گییشا‘ نامی کافی کو عالمی آکشن کے بعد حاصل کیا۔</p>
<p>مذکورہ کافی کو حاصل کرنے کے لیے دنیا بھر کے 549 کیفیز اور شائقین نے بولیاں لگائیں تھی، دبئی کے جولیتھ کیفے نے پورا لاٹ 22 لاکھ 18 ہزار درہم ( تقریبا 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر) کی بولی لگا کر حاصل کیا۔</p>
<p>دبئی کے کیفے پر مذکورہ کافی یکم  نومبر 2025 سے دستیاب ہوگی اور اس کی دستیابی چند دنوں تک ہی رہے گی، کیوں کہ کافی کی مقدار محض 20 کلو ہے۔</p>
<p>کیفے انتظامیہ کے مطابق کافی کا سنگل سادہ کپ 3,600 درہم یعنی پاکستانی 2 لاکھ 75 ہزار روپے تک فراہم کیا جائے گا۔</p>
<p>انتظامیہ کے مطابق مہمانوں کے خصوصی سیشن میں صرف ایک سے چار مہمانوں کے لیے اسی کافی کی انتہائی نایاب پاناما کی بلند پہاڑیوں کی خاص آب و ہوا سے احتیاط سے لاکر بھونی گئی گلابی خوشبو و تیز ذائقہ کافی کا کپ بھی دستیاب ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Amazing</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1272340</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Oct 2025 23:21:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انٹرٹینمنٹ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/23224417aca3d49.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/23224417aca3d49.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئس لینڈ میں پہلی مرتبہ مچھر دریافت</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1272206/</link>
      <description>&lt;p&gt;آئس لینڈ میں پہلی مرتبہ مچھر دریافت کیے گئے ہیں، جو اس جزیرہ نما ملک کے لیے ایک غیر معمولی واقعہ ہے کیونکہ یہ دنیا کے ان چند خطوں میں شمار ہوتا ہے جہاں اب تک مچھر موجود نہیں تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1950496/mosquitoes-seen-in-iceland-for-first-time"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق یہ انکشاف پیر کے روز ایک محقق نے کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیچرل سائنس انسٹی ٹیوٹ آف آئس لینڈ کے ماہرِ حشرات (انٹومولوجسٹ) میتھیاس الفریڈسن کے مطابق دارالحکومت ریکیاوک سے تقریباً 30 کلومیٹر شمال میں ’کولیسٹا انولاتا‘ نسل کے 3 مچھر (2 مادہ اور ایک نر) دیکھے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میتھیاس الفریڈسن نے بتایا کہ ’یہ تمام مچھر وائن رَپس سے اکٹھے کیے گئے جو عام طور پر پروانوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1263366'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1263366"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ طریقہ اس طرح کام کرتا ہے کہ گرم شراب میں چینی ملا کر رسّیاں یا کپڑے کے ٹکڑے بھگوئے جاتے ہیں اور پھر انہیں باہر لٹکایا جاتا ہے تاکہ میٹھا پسند کرنے والے کیڑے ان کی طرف راغب ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹارکٹیکا کے ساتھ ساتھ آئس لینڈ بھی اب تک زمین کے ان چند مقامات میں شامل تھا جہاں مچھر نہیں پائے جاتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میتھیاس الفریڈسن نے مزید کہا کہ ’یہ آئس لینڈ کے قدرتی ماحول میں مچھروں کی موجودگی کا پہلا باقاعدہ ریکارڈ ہے، کئی سال پہلے ایڈیس نگریپیس (قطبی مچھر کی ایک قسم) کا ایک نمونہ کیفلاوِک ایئرپورٹ پر ایک طیارے سے ملا تھا، لیکن افسوس کہ وہ نمونہ اب ضائع ہو چکا ہے‘۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>آئس لینڈ میں پہلی مرتبہ مچھر دریافت کیے گئے ہیں، جو اس جزیرہ نما ملک کے لیے ایک غیر معمولی واقعہ ہے کیونکہ یہ دنیا کے ان چند خطوں میں شمار ہوتا ہے جہاں اب تک مچھر موجود نہیں تھے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی <a href="https://www.dawn.com/news/1950496/mosquitoes-seen-in-iceland-for-first-time"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق یہ انکشاف پیر کے روز ایک محقق نے کیا۔</p>
<p>نیچرل سائنس انسٹی ٹیوٹ آف آئس لینڈ کے ماہرِ حشرات (انٹومولوجسٹ) میتھیاس الفریڈسن کے مطابق دارالحکومت ریکیاوک سے تقریباً 30 کلومیٹر شمال میں ’کولیسٹا انولاتا‘ نسل کے 3 مچھر (2 مادہ اور ایک نر) دیکھے گئے۔</p>
<p>میتھیاس الفریڈسن نے بتایا کہ ’یہ تمام مچھر وائن رَپس سے اکٹھے کیے گئے جو عام طور پر پروانوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1263366'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1263366"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یہ طریقہ اس طرح کام کرتا ہے کہ گرم شراب میں چینی ملا کر رسّیاں یا کپڑے کے ٹکڑے بھگوئے جاتے ہیں اور پھر انہیں باہر لٹکایا جاتا ہے تاکہ میٹھا پسند کرنے والے کیڑے ان کی طرف راغب ہوں۔</p>
<p>انٹارکٹیکا کے ساتھ ساتھ آئس لینڈ بھی اب تک زمین کے ان چند مقامات میں شامل تھا جہاں مچھر نہیں پائے جاتے تھے۔</p>
<p>میتھیاس الفریڈسن نے مزید کہا کہ ’یہ آئس لینڈ کے قدرتی ماحول میں مچھروں کی موجودگی کا پہلا باقاعدہ ریکارڈ ہے، کئی سال پہلے ایڈیس نگریپیس (قطبی مچھر کی ایک قسم) کا ایک نمونہ کیفلاوِک ایئرپورٹ پر ایک طیارے سے ملا تھا، لیکن افسوس کہ وہ نمونہ اب ضائع ہو چکا ہے‘۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1272206</guid>
      <pubDate>Wed, 22 Oct 2025 14:18:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/221144244779012.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/221144244779012.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’بھگوان‘ سے بات چیت کے لیے اے آئی کا استعمال</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1272165/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارت میں ایک طالب علم کی جانب سے ’گیتا جی پی ٹی‘ (GitaGPT) کے نام سے بنایا گیا آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کا چیٹ بوٹ تیزی سے مقبولیت حاصل کر رہا ہے، جہاں ہندو مذہب کے پیروکار افراد چیٹ بوٹ سے مذہبی رہنمائی لیتے دکھائی دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نہ صرف ’گیتا جی پی ٹی‘ (GitaGPT) چیٹ بوٹ بلکہ ہندوؤں کے مقدس کتاب بھگوت گیتا پر مبنی ایک اور چیٹ بوٹ براہ راست بھگوان کرشن سے رابطہ کروانے کا دعویٰ بھی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح دیگر ہندو مذہبی کتابوں پر بھی چیٹ بوٹس وہاں تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں اور خصوصی طور پر نوجوان افراد ایسے بوٹس کے ذریعے تسکین کے لیے بھگوان سے رابطہ یا بات چیت کے لیے استعمال کرتے دکھائی دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی نشریاتی ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/future/article/20251016-people-are-using-ai-to-talk-to-god"&gt;&lt;strong&gt;’بی بی سی‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق گیتا جی پی ٹی کے نام سے بنایا گیا چیٹ بوٹ بھگود گیتا پر تیار کیا گیا ہے، بھگود گیتا میں بھگوان کرشن اور ارجن کے درمیان 700 آیات کا مکالمہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270826"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ چیٹ بوٹ صارفین کو ایسا محسوس کراتا ہے جیسے وہ بھگوان کرشن سے براہ راست ٹیکسٹ میسج پر بات کر رہے ہوں اور وہ روحانی رہنمائی فراہم کرنے سمیت زندگی کے مسائل پر گیتا کی تعلیمات کی بنیاد پر مشورے بھی فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ چیٹ بوٹ وکاس ساہو نامی راجستھان سے تعلق رکھنے والے ایم بی اے کے طالب علم نے بنایا، جنہوں نے بتایا کہ چند ہی دنوں میں مذکورہ بوٹ کو استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد ایک لاکھ تک جا پہنچی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ چیٹ بوٹ کی کامیابی کے بعد وکاس ساہو نے اپنی تعلیم درمیان میں ہی چھوڑ دی اور اسی طرح کے دوسرے چیٹ بوٹ بنانے کےلیے فنڈنگ حاصل کرنا شروع کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں اے آئی کے ذریعے بھگوان سے بات چیت کرنے کے بڑھتے رجحان کے علاوہ دنیا کے مختلف ممالک میں مذہبی اور روحانی چیٹ بوٹس میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2023 میں پہلی بار ’ٹیکسٹ ود جیسس‘ نامی ایپ سامنے آئی تھی، جہاں پر مقدس کتاب بائبل کے کرداروں کی اے آئی تصاویر بھی تھیں اور مذکورہ ایپ پر توہین مذہب کا الزام بھی لگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح ’قرآن جی پی ٹی‘ کے نام سے بھی ایک ایپ متعارف کرائی گئی، جہاں مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن پاک کی بنیاد پر سوالات کے جوابات اور رہنمائی فراہم کی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کنفیوشس اور مارٹن لوتھر کی اے آئی چیٹ بوٹس بھی مشرقی اور عیسائی فلسفے پر مبنی ہیں جب کہ ہندو سگری رامانہ مہارشی کی تعلیمات پر بھی چیٹ بوٹ متعارف کرایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارت میں ایک طالب علم کی جانب سے ’گیتا جی پی ٹی‘ (GitaGPT) کے نام سے بنایا گیا آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کا چیٹ بوٹ تیزی سے مقبولیت حاصل کر رہا ہے، جہاں ہندو مذہب کے پیروکار افراد چیٹ بوٹ سے مذہبی رہنمائی لیتے دکھائی دیتے ہیں۔</p>
<p>نہ صرف ’گیتا جی پی ٹی‘ (GitaGPT) چیٹ بوٹ بلکہ ہندوؤں کے مقدس کتاب بھگوت گیتا پر مبنی ایک اور چیٹ بوٹ براہ راست بھگوان کرشن سے رابطہ کروانے کا دعویٰ بھی کرتا ہے۔</p>
<p>اسی طرح دیگر ہندو مذہبی کتابوں پر بھی چیٹ بوٹس وہاں تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں اور خصوصی طور پر نوجوان افراد ایسے بوٹس کے ذریعے تسکین کے لیے بھگوان سے رابطہ یا بات چیت کے لیے استعمال کرتے دکھائی دیتے ہیں۔</p>
<p>برطانوی نشریاتی ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/future/article/20251016-people-are-using-ai-to-talk-to-god"><strong>’بی بی سی‘</strong></a> کے مطابق گیتا جی پی ٹی کے نام سے بنایا گیا چیٹ بوٹ بھگود گیتا پر تیار کیا گیا ہے، بھگود گیتا میں بھگوان کرشن اور ارجن کے درمیان 700 آیات کا مکالمہ ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270826"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مذکورہ چیٹ بوٹ صارفین کو ایسا محسوس کراتا ہے جیسے وہ بھگوان کرشن سے براہ راست ٹیکسٹ میسج پر بات کر رہے ہوں اور وہ روحانی رہنمائی فراہم کرنے سمیت زندگی کے مسائل پر گیتا کی تعلیمات کی بنیاد پر مشورے بھی فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>مذکورہ چیٹ بوٹ وکاس ساہو نامی راجستھان سے تعلق رکھنے والے ایم بی اے کے طالب علم نے بنایا، جنہوں نے بتایا کہ چند ہی دنوں میں مذکورہ بوٹ کو استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد ایک لاکھ تک جا پہنچی۔</p>
<p>مذکورہ چیٹ بوٹ کی کامیابی کے بعد وکاس ساہو نے اپنی تعلیم درمیان میں ہی چھوڑ دی اور اسی طرح کے دوسرے چیٹ بوٹ بنانے کےلیے فنڈنگ حاصل کرنا شروع کر دی۔</p>
<p>بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں اے آئی کے ذریعے بھگوان سے بات چیت کرنے کے بڑھتے رجحان کے علاوہ دنیا کے مختلف ممالک میں مذہبی اور روحانی چیٹ بوٹس میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2023 میں پہلی بار ’ٹیکسٹ ود جیسس‘ نامی ایپ سامنے آئی تھی، جہاں پر مقدس کتاب بائبل کے کرداروں کی اے آئی تصاویر بھی تھیں اور مذکورہ ایپ پر توہین مذہب کا الزام بھی لگا۔</p>
<p>اسی طرح ’قرآن جی پی ٹی‘ کے نام سے بھی ایک ایپ متعارف کرائی گئی، جہاں مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن پاک کی بنیاد پر سوالات کے جوابات اور رہنمائی فراہم کی جاتی ہے۔</p>
<p>کنفیوشس اور مارٹن لوتھر کی اے آئی چیٹ بوٹس بھی مشرقی اور عیسائی فلسفے پر مبنی ہیں جب کہ ہندو سگری رامانہ مہارشی کی تعلیمات پر بھی چیٹ بوٹ متعارف کرایا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1272165</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Oct 2025 21:23:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیک ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/212120516115cd9.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/212120516115cd9.webp"/>
        <media:title>—فوٹو: پرشانت اسون
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قیدیوں نے جیل کے بینک اکاؤنٹ سے 52 لاکھ روپے نکال لیے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1271836/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارت کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں جیل کے قیدی نے رہا ہونے سے قبل ایک سنگین جرم کرتے ہوئے جیل کے بینک اکاؤنٹ سے ہی 52 لاکھ روپے کی خطیر رقم نکال لی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیوی کے قتل کے الزام میں قید کاٹنے والے قیدی نے جیل حکام اور سابق قیدیوں کے ساتھ مل کر فلمی انداز کا منصوبہ بنایا اور 17 ماہ کے دوران جیل کے بینک اکاؤنٹ سے 52 لاکھ 85 ہزار روپے نکالے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی اخبار ’ٹائمز آف انڈیا‘ کے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://timesofindia.indiatimes.com/city/varanasi/shawshank-style-prison-heist-wife-killer-steals-azamgarh-jail-chequebook-rs-30l-with-help-of-staff/articleshow/124493786.cms"&gt;&lt;strong&gt;مطابق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; اتر پردیش کے ضلع اعظم گڑھ میں بیوی قتل کے قیدی نے جیل کے چیک بک کو ضمانت پر رہا ہونے سے قبل چوری کرکے جیل کے بینک اکاؤنٹ سے  پیسے نکالے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270175"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب تک کا جیل کا سب سے بڑا مذکورہ فراڈ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کے جعلی دستخطوں اور جعلی مہر کے ذریعے 17 ماہ تک چلتا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ واقعہ سامنے آنے کے بعد حکومت نے ایکشن لیتے ہوئے جیل حکام کو معطل کرکے مزید تحقیق بھی شروع کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی حوالے سے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اعظم گڑھ نے میڈیا کو بتایا کہ ملزم رام جیت یادیو بیوی قتل کے الزام میں 24 فروری 2023 سے جیل میں تھا، اس نے جیل کے اکاؤنٹس آفس میں معاون (رائٹر) کی حیثیت سے کام کرتے ہوئے دستاویزات اور چیک بک تک رسائی حاصل کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ برس 20 مئی 2024 کو ضمانت پر رہا ہونے سے پہلے اس نے چیک بک چوری کیا اور جعلی دستخطوں کے ساتھ کئی چیکس جاری کرکے رقم اپنے اکاؤنٹ میں منتقل کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق رام جیت نے دوسرے قیدی شیو شنکر یادیو، سینئر اسسٹنٹ مشیر احمد اور جیل واچ مین اودھیش کمار پانڈے کی مدد سے یہ فراڈ کیا، شیو شنکر بھی اب جیل سے رہا ہو چکا ہے، تاہم فراڈ کیس سامنے آنے کے بعد چاروں ملزمان کو گرفتار کر لیا گیاَ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ واقعہ سامنے آنے پر جیل سپرنٹنڈنٹ ادیتیا کمار سنگھ کو بھی مالی بے ضابطگیوں اور ڈیوٹی میں غفلت کی وجہ سے معطل کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارت کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں جیل کے قیدی نے رہا ہونے سے قبل ایک سنگین جرم کرتے ہوئے جیل کے بینک اکاؤنٹ سے ہی 52 لاکھ روپے کی خطیر رقم نکال لی۔</p>
<p>بیوی کے قتل کے الزام میں قید کاٹنے والے قیدی نے جیل حکام اور سابق قیدیوں کے ساتھ مل کر فلمی انداز کا منصوبہ بنایا اور 17 ماہ کے دوران جیل کے بینک اکاؤنٹ سے 52 لاکھ 85 ہزار روپے نکالے۔</p>
<p>بھارتی اخبار ’ٹائمز آف انڈیا‘ کے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://timesofindia.indiatimes.com/city/varanasi/shawshank-style-prison-heist-wife-killer-steals-azamgarh-jail-chequebook-rs-30l-with-help-of-staff/articleshow/124493786.cms"><strong>مطابق</strong></a> اتر پردیش کے ضلع اعظم گڑھ میں بیوی قتل کے قیدی نے جیل کے چیک بک کو ضمانت پر رہا ہونے سے قبل چوری کرکے جیل کے بینک اکاؤنٹ سے  پیسے نکالے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270175"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اب تک کا جیل کا سب سے بڑا مذکورہ فراڈ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کے جعلی دستخطوں اور جعلی مہر کے ذریعے 17 ماہ تک چلتا رہا۔</p>
<p>مذکورہ واقعہ سامنے آنے کے بعد حکومت نے ایکشن لیتے ہوئے جیل حکام کو معطل کرکے مزید تحقیق بھی شروع کردی۔</p>
<p>اسی حوالے سے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اعظم گڑھ نے میڈیا کو بتایا کہ ملزم رام جیت یادیو بیوی قتل کے الزام میں 24 فروری 2023 سے جیل میں تھا، اس نے جیل کے اکاؤنٹس آفس میں معاون (رائٹر) کی حیثیت سے کام کرتے ہوئے دستاویزات اور چیک بک تک رسائی حاصل کی تھی۔</p>
<p>گزشتہ برس 20 مئی 2024 کو ضمانت پر رہا ہونے سے پہلے اس نے چیک بک چوری کیا اور جعلی دستخطوں کے ساتھ کئی چیکس جاری کرکے رقم اپنے اکاؤنٹ میں منتقل کی۔</p>
<p>پولیس کے مطابق رام جیت نے دوسرے قیدی شیو شنکر یادیو، سینئر اسسٹنٹ مشیر احمد اور جیل واچ مین اودھیش کمار پانڈے کی مدد سے یہ فراڈ کیا، شیو شنکر بھی اب جیل سے رہا ہو چکا ہے، تاہم فراڈ کیس سامنے آنے کے بعد چاروں ملزمان کو گرفتار کر لیا گیاَ۔</p>
<p>مذکورہ واقعہ سامنے آنے پر جیل سپرنٹنڈنٹ ادیتیا کمار سنگھ کو بھی مالی بے ضابطگیوں اور ڈیوٹی میں غفلت کی وجہ سے معطل کر دیا گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1271836</guid>
      <pubDate>Fri, 17 Oct 2025 23:48:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/172112036693408.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/172112036693408.webp"/>
        <media:title>—فوٹو: فیس بک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’رات کے وقت بیوی سانپ بن جاتی ہے، کئی بار ڈسنے کی کوشش کرچکی‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1271515/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارت میں ایک شخص نے بیوی پر انوکھا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی بیوی رات کے وقت سانپ بن جاتی ہے اور کئی مرتبہ اسے ڈسنے کی کوشش کرچکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.hindustantimes.com/india-news/wife-turns-into-nagin-hisses-up-man-goes-to-dm-with-bizarre-complaint-she-alleges-dowry-abuse-101759876453349.html"&gt;ہندوستان ٹائمز&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کی رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع سیتاپور میں ایک شخص نے ضلعی مجسٹریٹ کے دفتر جا کر ایک ایسی حیران کن شکایت درج کروائی جس نے سب کو حیران کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شوہر نے الزام عائد کیا کہ اس کی بیوی رات کے وقت ناگن میں تبدیل ہوجاتی ہے اور اسے ڈسنے کی کوشش کرتی ہے، اس دوران وہ سانپ جیسی آوازیں نکالتی ہے، جس سے وہ سخت خوفزدہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ واقعہ ضلع سیتاپور کے گاؤں لوڈھاسا کا ہے، شکایت کنندہ شخص کا نام معراج بتایا گیا ہے، جس نے ضلعی مجسٹریٹ کو درخواست دیتے ہوئے کہا کہ اس کی بیوی نسیمن رات کے وقت عجیب رویہ اختیار کر لیتی ہے، وہ سانپوں کی طرح ’سسس‘ جیسی آوازیں نکالتی ہے، اسے دھمکیاں دیتی ہے اور کہتی ہے کہ وہ ناگن ہے جو اس سے پچھلے جنم کا بدلہ لینے آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معراج کا کہنا ہے کہ اُس کی بیوی نسیمن ذہنی طور پر ٹھیک نہیں ہے اور رات کے وقت سانپ کی مانند حرکتیں کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اُس نے مزید دعویٰ کیا کہ بیوی کئی بار اسے مارنے کی کوشش بھی کر چکی ہے اور ایک موقع پر اُسے کاٹ بھی چکی ہے، بیوی کی حرکات سے وہ شدید ذہنی اذیت میں مبتلا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1268525"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معراج کے مطابق اس نے کئی بار پولیس کو اطلاع دی لیکن کسی نے اس کی بات پر یقین نہیں کیا، آخر کار اس نے اپنی شکایت ضلعی انتظامیہ کے سامنے پیش کی تاکہ کوئی اس معاملے کی حقیقت جانچ سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ضلعی مجسٹریٹ نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے پولیس کو تحقیقات کا حکم دے دیا ہے تاکہ پتا لگایا جا سکے کہ اصل میں معراج کی شکایت درست ہے یا نہیں اور اگر بیوی واقعی کسی ذہنی یا نفسیاتی مسئلے کا شکار ہے تو اس کا علاج کرایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب معراج کی بیوی نسیمن نے ایک ویڈیو بیان میں اپنے شوہر کے تمام الزامات کو جھوٹا قرار دیا ہے، اس کا کہنا ہے کہ اس کا شوہر جہیز کے معاملے پر اسے مسلسل تنگ کرتا ہے اور دوسری شادی کرنا چاہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاری کردہ ویڈیو بیان میں نسیمن نے کہا کہ اس کے شوہر نے اس کی کبھی دیکھ بھال نہیں کی، وہ چار ماہ کی حاملہ ہے، لیکن شوہر اس کی طبی ضروریات یا کھانے پینے کا کبھی خیال نہیں رکھتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نسیمن کا کہنا ہے کہ وہ اسے جہیز کے لیے ہراساں کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ کسی طرح وہ خود ہی اسے چھوڑ دے، شادی کے بعد سے ہی اُس پر ظلم کیا جا رہا ہے اور اب شوہر نے کہانی گھڑ کر اُسے ذہنی اور سماجی دباؤ میں لانے کی کوشش کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعدازاں گاؤں کے کچھ افراد کے مطابق معراج اور نسیمن کے درمیان کافی عرصے سے جھگڑے چل رہے تھے، معراج اکثر کہتا تھا کہ اس کی بیوی کا رویہ غیر معمولی ہے، جب کہ نسیمن اپنے شوہر پر تشدد اور بدسلوکی کے الزامات لگاتی رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الحال پولیس نے دونوں فریقین کے بیانات ریکارڈ کر لیے ہیں اور معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اگر شوہر کی شکایت غلط ثابت ہوئی تو اس کے خلاف کارروائی ہوگی اور اگر بیوی کسی نفسیاتی بیماری میں مبتلا پائی گئی تو اسے طبی امداد فراہم کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارت میں ایک شخص نے بیوی پر انوکھا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی بیوی رات کے وقت سانپ بن جاتی ہے اور کئی مرتبہ اسے ڈسنے کی کوشش کرچکی ہے۔</p>
<p><strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.hindustantimes.com/india-news/wife-turns-into-nagin-hisses-up-man-goes-to-dm-with-bizarre-complaint-she-alleges-dowry-abuse-101759876453349.html">ہندوستان ٹائمز</a></strong> کی رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع سیتاپور میں ایک شخص نے ضلعی مجسٹریٹ کے دفتر جا کر ایک ایسی حیران کن شکایت درج کروائی جس نے سب کو حیران کر دیا۔</p>
<p>شوہر نے الزام عائد کیا کہ اس کی بیوی رات کے وقت ناگن میں تبدیل ہوجاتی ہے اور اسے ڈسنے کی کوشش کرتی ہے، اس دوران وہ سانپ جیسی آوازیں نکالتی ہے، جس سے وہ سخت خوفزدہ ہے۔</p>
<p>یہ واقعہ ضلع سیتاپور کے گاؤں لوڈھاسا کا ہے، شکایت کنندہ شخص کا نام معراج بتایا گیا ہے، جس نے ضلعی مجسٹریٹ کو درخواست دیتے ہوئے کہا کہ اس کی بیوی نسیمن رات کے وقت عجیب رویہ اختیار کر لیتی ہے، وہ سانپوں کی طرح ’سسس‘ جیسی آوازیں نکالتی ہے، اسے دھمکیاں دیتی ہے اور کہتی ہے کہ وہ ناگن ہے جو اس سے پچھلے جنم کا بدلہ لینے آئی ہے۔</p>
<p>معراج کا کہنا ہے کہ اُس کی بیوی نسیمن ذہنی طور پر ٹھیک نہیں ہے اور رات کے وقت سانپ کی مانند حرکتیں کرتی ہے۔</p>
<p>اُس نے مزید دعویٰ کیا کہ بیوی کئی بار اسے مارنے کی کوشش بھی کر چکی ہے اور ایک موقع پر اُسے کاٹ بھی چکی ہے، بیوی کی حرکات سے وہ شدید ذہنی اذیت میں مبتلا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1268525"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>معراج کے مطابق اس نے کئی بار پولیس کو اطلاع دی لیکن کسی نے اس کی بات پر یقین نہیں کیا، آخر کار اس نے اپنی شکایت ضلعی انتظامیہ کے سامنے پیش کی تاکہ کوئی اس معاملے کی حقیقت جانچ سکے۔</p>
<p>ضلعی مجسٹریٹ نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے پولیس کو تحقیقات کا حکم دے دیا ہے تاکہ پتا لگایا جا سکے کہ اصل میں معراج کی شکایت درست ہے یا نہیں اور اگر بیوی واقعی کسی ذہنی یا نفسیاتی مسئلے کا شکار ہے تو اس کا علاج کرایا جائے۔</p>
<p>دوسری جانب معراج کی بیوی نسیمن نے ایک ویڈیو بیان میں اپنے شوہر کے تمام الزامات کو جھوٹا قرار دیا ہے، اس کا کہنا ہے کہ اس کا شوہر جہیز کے معاملے پر اسے مسلسل تنگ کرتا ہے اور دوسری شادی کرنا چاہتا ہے۔</p>
<p>جاری کردہ ویڈیو بیان میں نسیمن نے کہا کہ اس کے شوہر نے اس کی کبھی دیکھ بھال نہیں کی، وہ چار ماہ کی حاملہ ہے، لیکن شوہر اس کی طبی ضروریات یا کھانے پینے کا کبھی خیال نہیں رکھتا۔</p>
<p>نسیمن کا کہنا ہے کہ وہ اسے جہیز کے لیے ہراساں کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ کسی طرح وہ خود ہی اسے چھوڑ دے، شادی کے بعد سے ہی اُس پر ظلم کیا جا رہا ہے اور اب شوہر نے کہانی گھڑ کر اُسے ذہنی اور سماجی دباؤ میں لانے کی کوشش کی ہے۔</p>
<p>بعدازاں گاؤں کے کچھ افراد کے مطابق معراج اور نسیمن کے درمیان کافی عرصے سے جھگڑے چل رہے تھے، معراج اکثر کہتا تھا کہ اس کی بیوی کا رویہ غیر معمولی ہے، جب کہ نسیمن اپنے شوہر پر تشدد اور بدسلوکی کے الزامات لگاتی رہی ہے۔</p>
<p>فی الحال پولیس نے دونوں فریقین کے بیانات ریکارڈ کر لیے ہیں اور معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔</p>
<p>ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اگر شوہر کی شکایت غلط ثابت ہوئی تو اس کے خلاف کارروائی ہوگی اور اگر بیوی کسی نفسیاتی بیماری میں مبتلا پائی گئی تو اسے طبی امداد فراہم کی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1271515</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Oct 2025 14:39:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/14112128cef6dd7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/14112128cef6dd7.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: این دی ٹی وی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایلون مسک، نیتن یاہو اور ڈونلڈ ٹرمپ کو خلا میں بھیجنا چاہتی ہوں، جین گوڈال کا آخری انٹرویو وائرل</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1271160/</link>
      <description>&lt;p&gt;عالمی شہرت یافتہ ماہرِ حیوانات اور ماحول دوست رہنما جین گوڈال کا آخری انٹرویو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ ایلون مسک، نیتن یاہو اور ڈونلڈ ٹرمپ کو خلا میں بھیجنا چاہتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جین گوڈال گزشتہ کئی دہائیوں سے جنگل میں چمپینزیوں کے ساتھ تحقیق میں مصروف رہیں اور حیوانی بقا، ماحولیات اور انسانی عادات پر ان کی تحقیق نے دنیا بھر میں شہرت حاصل کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ تنزانیہ کے جنگلات میں چمپینزیوں کے درمیان گزارا، جہاں انہوں نے قدیم انسان کی ممکنہ عادات و خصائل پر تحقیق کی، ان کی تحقیق پر متعدد کتابیں بھی لکھی گئیں، جنہیں عالمی سطح پر پذیرائی ملی، جب کہ ان کے فیلڈ ورک پر کئی ڈاکیومینٹریز بھی بنائی گئیں جنہوں نے انہیں بین الاقوامی شہرت دلائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1 اکتوبر کو 91 برس کی عمر میں وفات پانے والی جین گوڈال کا ایک پرانا نیٹ فلکس انٹرویو ان دنوں وائرل ہورہا ہے، جو ان کی وفات کے بعد نشر کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پروگرام ’فیمس لاسٹ ورڈز‘ کے اس انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ، ایلون مسک، ولادیمیر پیوٹن، شی جن پنگ اور بنیامین نیتن یاہو کو خوشی سے اسپیس ایکس کے راکٹ میں بٹھا کر زمین سے باہر بھیجنا چاہیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/netflix/status/1975289959914610976"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرویو کے کلپس تیزی سے سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئے، جنہیں لاکھوں افراد نے دیکھا، کچھ لوگوں نے ان کی بات کو سراہا، جب کہ کچھ نے تنقید بھی کی، ساتھ ہی یہ بحث بھی شروع ہوگئی کہ آیا یہ فوٹیج اصلی ہے یا مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیٹ فلکس کے مطابق جین گوڈال نے یہ انٹرویو مارچ میں ریکارڈ کروایا تھا، اس شرط پر کہ اسے ان کی وفات کے بعد ہی نشر کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرویو کے دوران میزبان بریڈ فالچک نے ان سے پوچھا کہ کیا کوئی ایسے لوگ ہیں جو انہیں پسند نہیں؟ اس پر انہوں نے ہنستے ہوئے جواب دیا کہ وہ چند مخصوص افراد کو ایلون مسک کے راکٹ میں بٹھا کر اُس نئے سیارے پر بھیجنا چاہتی ہیں، جسے ایلون مسک دریافت کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ایلون مسک خود اس راکٹ کے میزبان ہوں گے اور ان کے ساتھ ٹرمپ، ان کے حامی، ولادیمیر پیوٹن، شی جن پنگ، نیتن یاہو اور ان کی حکومت کو بھی بھیج دینا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گفتگو کے دوران موضوع جارح مزاجی پر آگیا، جہاں جین گوڈال نے بتایا کہ چمپینزیوں میں دو طرح کے لیڈر ہوتے ہیں، ایک وہ جو صرف طاقت کے زور پر حکومت کرتے ہیں اور جلد ختم ہوجاتے ہیں اور دوسرے وہ جو تعاون اور دوستی سے مضبوط بنتے ہیں اور طویل عرصے تک اثر رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ ان کی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جارحیت چمپینزیوں اور انسانوں دونوں میں فطری طور پر پائی جاتی ہے، کیونکہ دونوں کے ڈی این اے میں تقریباً 99 فیصد مماثلت ہے، تاہم ان کا ماننا تھا کہ زیادہ تر انسان نیک اور شریف ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرویو کے اختتام پر جین گوڈال نے امید اور قدرت کے احترام کا بھی پیغام دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ دنیا خوبصورت رہے اور آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ بنے، تو اپنے روزمرہ کے اعمال پر غور کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ مرنے کے بعد کی زندگی پر یقین رکھتی ہیں اور یہ کہ شعور باقی رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>عالمی شہرت یافتہ ماہرِ حیوانات اور ماحول دوست رہنما جین گوڈال کا آخری انٹرویو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ ایلون مسک، نیتن یاہو اور ڈونلڈ ٹرمپ کو خلا میں بھیجنا چاہتی ہیں۔</p>
<p>جین گوڈال گزشتہ کئی دہائیوں سے جنگل میں چمپینزیوں کے ساتھ تحقیق میں مصروف رہیں اور حیوانی بقا، ماحولیات اور انسانی عادات پر ان کی تحقیق نے دنیا بھر میں شہرت حاصل کی۔</p>
<p>انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ تنزانیہ کے جنگلات میں چمپینزیوں کے درمیان گزارا، جہاں انہوں نے قدیم انسان کی ممکنہ عادات و خصائل پر تحقیق کی، ان کی تحقیق پر متعدد کتابیں بھی لکھی گئیں، جنہیں عالمی سطح پر پذیرائی ملی، جب کہ ان کے فیلڈ ورک پر کئی ڈاکیومینٹریز بھی بنائی گئیں جنہوں نے انہیں بین الاقوامی شہرت دلائی۔</p>
<p>1 اکتوبر کو 91 برس کی عمر میں وفات پانے والی جین گوڈال کا ایک پرانا نیٹ فلکس انٹرویو ان دنوں وائرل ہورہا ہے، جو ان کی وفات کے بعد نشر کیا گیا۔</p>
<p>پروگرام ’فیمس لاسٹ ورڈز‘ کے اس انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ، ایلون مسک، ولادیمیر پیوٹن، شی جن پنگ اور بنیامین نیتن یاہو کو خوشی سے اسپیس ایکس کے راکٹ میں بٹھا کر زمین سے باہر بھیجنا چاہیں گی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/netflix/status/1975289959914610976"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>انٹرویو کے کلپس تیزی سے سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئے، جنہیں لاکھوں افراد نے دیکھا، کچھ لوگوں نے ان کی بات کو سراہا، جب کہ کچھ نے تنقید بھی کی، ساتھ ہی یہ بحث بھی شروع ہوگئی کہ آیا یہ فوٹیج اصلی ہے یا مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کی گئی ہے۔</p>
<p>نیٹ فلکس کے مطابق جین گوڈال نے یہ انٹرویو مارچ میں ریکارڈ کروایا تھا، اس شرط پر کہ اسے ان کی وفات کے بعد ہی نشر کیا جائے گا۔</p>
<p>انٹرویو کے دوران میزبان بریڈ فالچک نے ان سے پوچھا کہ کیا کوئی ایسے لوگ ہیں جو انہیں پسند نہیں؟ اس پر انہوں نے ہنستے ہوئے جواب دیا کہ وہ چند مخصوص افراد کو ایلون مسک کے راکٹ میں بٹھا کر اُس نئے سیارے پر بھیجنا چاہتی ہیں، جسے ایلون مسک دریافت کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ایلون مسک خود اس راکٹ کے میزبان ہوں گے اور ان کے ساتھ ٹرمپ، ان کے حامی، ولادیمیر پیوٹن، شی جن پنگ، نیتن یاہو اور ان کی حکومت کو بھی بھیج دینا چاہیے۔</p>
<p>گفتگو کے دوران موضوع جارح مزاجی پر آگیا، جہاں جین گوڈال نے بتایا کہ چمپینزیوں میں دو طرح کے لیڈر ہوتے ہیں، ایک وہ جو صرف طاقت کے زور پر حکومت کرتے ہیں اور جلد ختم ہوجاتے ہیں اور دوسرے وہ جو تعاون اور دوستی سے مضبوط بنتے ہیں اور طویل عرصے تک اثر رکھتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ ان کی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جارحیت چمپینزیوں اور انسانوں دونوں میں فطری طور پر پائی جاتی ہے، کیونکہ دونوں کے ڈی این اے میں تقریباً 99 فیصد مماثلت ہے، تاہم ان کا ماننا تھا کہ زیادہ تر انسان نیک اور شریف ہوتے ہیں۔</p>
<p>انٹرویو کے اختتام پر جین گوڈال نے امید اور قدرت کے احترام کا بھی پیغام دیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ دنیا خوبصورت رہے اور آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ بنے، تو اپنے روزمرہ کے اعمال پر غور کریں۔</p>
<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ مرنے کے بعد کی زندگی پر یقین رکھتی ہیں اور یہ کہ شعور باقی رہتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1271160</guid>
      <pubDate>Thu, 09 Oct 2025 14:07:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/09131953ef34970.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/09131953ef34970.webp"/>
        <media:title>—فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>معذور سوشل میڈیا اسٹار روبوٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے چلنے لگ گئیں</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1271119/</link>
      <description>&lt;p&gt;خطرناک روڈ حادثے کے بعد معذور بن جانے والی لبنانی نژاد امریکی سوشل میڈیا انفلوئنسر جسیکا طویل تقریبا ایک دہائی بعد روبوٹ ٹیکنالوجی کی مدد سے چلنے لگ گئیں اور 10 سال بعد پہلی بار چل پانے پر وہ خوشی سے جھوم اٹھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسیکا طویل نیو جرسی کی رہائشی ہیں، وہ مشہور انفلوئنسر ہیں، گزشتہ 10 سال سے وہ معذوری کی حالت میں زندگی بسر کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسیکا طویل اب پہلی بار روبوٹک ٹیکنالوجی کی مدد سے نہ صرف کھڑی ہوئیں بلکہ چلنے بھی لگ لگیں اور انہوں نے روبوٹ ٹیکنالوجی کی مدد سے چلنے کی ویڈیوز اپنے انسٹاگرام پر بھی شیئر کیں، جہاں سے ان کی ویڈیوز وائرل ہوگئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'&gt;&lt;blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/p/DPgaoAhDkmq/?hl=en" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"&gt;&lt;div style="padding:16px;"&gt; &lt;a href="https://www.instagram.com/p/DPgaoAhDkmq/?hl=en" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"&gt; &lt;div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 19% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"&gt;&lt;svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"&gt;&lt;g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"&gt;&lt;g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"&gt;&lt;g&gt;&lt;path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"&gt;&lt;/path&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding-top: 8px;"&gt; &lt;div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"&gt; View this post on Instagram&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 12.5% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"&gt;&lt;div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: 8px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: auto;"&gt; &lt;div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/a&gt;&lt;p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"&gt;&lt;a href="https://www.instagram.com/p/DPgaoAhDkmq/?hl=en" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;script async src="https://www.instagram.com/embed.js"&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسیکا طویل کی ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد دنیا بھر کے صارفین نے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا جب کہ اس بات پر شکرانے بھی ادا کیے کہ وہ خود اٹھنے، چلنے، پھرنے اور دوڑنے کے قابل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسیکا طویل 16 سال کی عمر 2015 میں ایک کار حادثے کے بعد معذوری کا شکار ہوگئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'&gt;&lt;blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/p/DPjZsfmkWww/?hl=en" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"&gt;&lt;div style="padding:16px;"&gt; &lt;a href="https://www.instagram.com/p/DPjZsfmkWww/?hl=en" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"&gt; &lt;div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 19% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"&gt;&lt;svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"&gt;&lt;g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"&gt;&lt;g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"&gt;&lt;g&gt;&lt;path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"&gt;&lt;/path&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding-top: 8px;"&gt; &lt;div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"&gt; View this post on Instagram&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 12.5% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"&gt;&lt;div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: 8px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: auto;"&gt; &lt;div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/a&gt;&lt;p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"&gt;&lt;a href="https://www.instagram.com/p/DPjZsfmkWww/?hl=en" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;script async src="https://www.instagram.com/embed.js"&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دس سال قبل وہ دوستوں کے ساتھ پارٹی منانے کے لیے گئی تھیں کہ اس دوران ان کے اور دوستوں کے درمیان کچھ تنازع ہوا، جس پر ان کی کار خطرناک حادثے کا شکار ہوئیں اور ان کی ریڑھ کی ہڈی شدید متاثر ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کار حادثے میں ریڑھ کی ہڈی کے متاثر ہونے کی وجہ سے وہ اٹھ کھڑے ہونے اور چلنے کے قابل نہ رہیں، وہ ایک دہائی سے معذوری کی زندگی گزار رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'&gt;&lt;blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/p/DKU37gmJFD-/?hl=en" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"&gt;&lt;div style="padding:16px;"&gt; &lt;a href="https://www.instagram.com/p/DKU37gmJFD-/?hl=en" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"&gt; &lt;div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 19% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"&gt;&lt;svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"&gt;&lt;g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"&gt;&lt;g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"&gt;&lt;g&gt;&lt;path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"&gt;&lt;/path&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding-top: 8px;"&gt; &lt;div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"&gt; View this post on Instagram&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 12.5% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"&gt;&lt;div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: 8px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: auto;"&gt; &lt;div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/a&gt;&lt;p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"&gt;&lt;a href="https://www.instagram.com/p/DKU37gmJFD-/?hl=en" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;script async src="https://www.instagram.com/embed.js"&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حادثے کے  بعد ان کی کمر سے نیچے کی حرکت بند ہو گئی،  وہ 7 ماہ تک ہسپتال میں زیر علاج رہیں اور پھر وہیل چیئر پر زندگی گزارنے کے لیے ایڈجسٹ ہونے لگیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ سوشل میڈیا پراپنی زندگی کے چیلنجز، جیسے کہ نہانا، خودمختاری اور جسمانی تکالیف کے بارے میں کھل کر بات کرتی دکھائی دیتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'&gt;&lt;blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/p/DIy2tPJJOHL/?hl=en" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"&gt;&lt;div style="padding:16px;"&gt; &lt;a href="https://www.instagram.com/p/DIy2tPJJOHL/?hl=en" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"&gt; &lt;div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 19% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"&gt;&lt;svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"&gt;&lt;g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"&gt;&lt;g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"&gt;&lt;g&gt;&lt;path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"&gt;&lt;/path&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding-top: 8px;"&gt; &lt;div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"&gt; View this post on Instagram&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 12.5% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"&gt;&lt;div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: 8px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: auto;"&gt; &lt;div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/a&gt;&lt;p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"&gt;&lt;a href="https://www.instagram.com/p/DIy2tPJJOHL/?hl=en" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;script async src="https://www.instagram.com/embed.js"&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹک ٹاک پر ان کے 13 لاکھ سے زائد جب کہ انسٹاگرام پر 9 لاکھ سے زائد فالوورز ہیں۔
اب حادثے کے تقریبا 10 سال بعد وہ روبوٹک ڈیوائس کی مدد سے کھڑے ہوئیں اور چند قدم چلیں، جس کی ویڈیو انہوں نے سوشل میڈیا پر شیئر کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویڈیو میں روبوٹک کی جانب سے اٹھنے اور چہل قدمی میں مدد فراہم کرنے پر ابتدائی طور پر خوف زدہ دکھائی دیتی ہیں اور چلاتی بھی دکھائی دتی ہیں لیکن بعد ازاں وہ خوشی سے چمک اٹھتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے فیرلی ڈکسن یونیورسٹی سے بائیولاجی میں ڈگری حاصل کر رکھی ہے جب کہ کیمسٹری اور عربی میں انہوں نے ڈگریاں حاصل کر رکھی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'&gt;&lt;blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/p/DCZbJmTpngE/?hl=en" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"&gt;&lt;div style="padding:16px;"&gt; &lt;a href="https://www.instagram.com/p/DCZbJmTpngE/?hl=en" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"&gt; &lt;div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 19% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"&gt;&lt;svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"&gt;&lt;g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"&gt;&lt;g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"&gt;&lt;g&gt;&lt;path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"&gt;&lt;/path&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding-top: 8px;"&gt; &lt;div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"&gt; View this post on Instagram&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 12.5% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"&gt;&lt;div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: 8px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: auto;"&gt; &lt;div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/a&gt;&lt;p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"&gt;&lt;a href="https://www.instagram.com/p/DCZbJmTpngE/?hl=en" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;script async src="https://www.instagram.com/embed.js"&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>خطرناک روڈ حادثے کے بعد معذور بن جانے والی لبنانی نژاد امریکی سوشل میڈیا انفلوئنسر جسیکا طویل تقریبا ایک دہائی بعد روبوٹ ٹیکنالوجی کی مدد سے چلنے لگ گئیں اور 10 سال بعد پہلی بار چل پانے پر وہ خوشی سے جھوم اٹھیں۔</p>
<p>جیسیکا طویل نیو جرسی کی رہائشی ہیں، وہ مشہور انفلوئنسر ہیں، گزشتہ 10 سال سے وہ معذوری کی حالت میں زندگی بسر کر رہی ہیں۔</p>
<p>جیسیکا طویل اب پہلی بار روبوٹک ٹیکنالوجی کی مدد سے نہ صرف کھڑی ہوئیں بلکہ چلنے بھی لگ لگیں اور انہوں نے روبوٹ ٹیکنالوجی کی مدد سے چلنے کی ویڈیوز اپنے انسٹاگرام پر بھی شیئر کیں، جہاں سے ان کی ویڈیوز وائرل ہوگئیں۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'><blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/p/DPgaoAhDkmq/?hl=en" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"><div style="padding:16px;"> <a href="https://www.instagram.com/p/DPgaoAhDkmq/?hl=en" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"> <div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"></div></div></div><div style="padding: 19% 0;"></div> <div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"><svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"><g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"><g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"><g><path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"></path></g></g></g></svg></div><div style="padding-top: 8px;"> <div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"> View this post on Instagram</div></div><div style="padding: 12.5% 0;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"><div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"></div></div><div style="margin-left: 8px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"></div></div><div style="margin-left: auto;"> <div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"></div></div></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"></div></div></a><p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"><a href="https://www.instagram.com/p/DPgaoAhDkmq/?hl=en" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"></a></p></div></blockquote><script async src="https://www.instagram.com/embed.js"></script></div>
        
    </figure></p>
<p>جیسیکا طویل کی ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد دنیا بھر کے صارفین نے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا جب کہ اس بات پر شکرانے بھی ادا کیے کہ وہ خود اٹھنے، چلنے، پھرنے اور دوڑنے کے قابل ہیں۔</p>
<p>جسیکا طویل 16 سال کی عمر 2015 میں ایک کار حادثے کے بعد معذوری کا شکار ہوگئی تھیں۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'><blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/p/DPjZsfmkWww/?hl=en" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"><div style="padding:16px;"> <a href="https://www.instagram.com/p/DPjZsfmkWww/?hl=en" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"> <div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"></div></div></div><div style="padding: 19% 0;"></div> <div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"><svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"><g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"><g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"><g><path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"></path></g></g></g></svg></div><div style="padding-top: 8px;"> <div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"> View this post on Instagram</div></div><div style="padding: 12.5% 0;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"><div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"></div></div><div style="margin-left: 8px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"></div></div><div style="margin-left: auto;"> <div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"></div></div></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"></div></div></a><p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"><a href="https://www.instagram.com/p/DPjZsfmkWww/?hl=en" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"></a></p></div></blockquote><script async src="https://www.instagram.com/embed.js"></script></div>
        
    </figure></p>
<p>دس سال قبل وہ دوستوں کے ساتھ پارٹی منانے کے لیے گئی تھیں کہ اس دوران ان کے اور دوستوں کے درمیان کچھ تنازع ہوا، جس پر ان کی کار خطرناک حادثے کا شکار ہوئیں اور ان کی ریڑھ کی ہڈی شدید متاثر ہوئی۔</p>
<p>کار حادثے میں ریڑھ کی ہڈی کے متاثر ہونے کی وجہ سے وہ اٹھ کھڑے ہونے اور چلنے کے قابل نہ رہیں، وہ ایک دہائی سے معذوری کی زندگی گزار رہی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'><blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/p/DKU37gmJFD-/?hl=en" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"><div style="padding:16px;"> <a href="https://www.instagram.com/p/DKU37gmJFD-/?hl=en" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"> <div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"></div></div></div><div style="padding: 19% 0;"></div> <div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"><svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"><g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"><g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"><g><path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"></path></g></g></g></svg></div><div style="padding-top: 8px;"> <div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"> View this post on Instagram</div></div><div style="padding: 12.5% 0;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"><div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"></div></div><div style="margin-left: 8px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"></div></div><div style="margin-left: auto;"> <div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"></div></div></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"></div></div></a><p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"><a href="https://www.instagram.com/p/DKU37gmJFD-/?hl=en" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"></a></p></div></blockquote><script async src="https://www.instagram.com/embed.js"></script></div>
        
    </figure></p>
<p>حادثے کے  بعد ان کی کمر سے نیچے کی حرکت بند ہو گئی،  وہ 7 ماہ تک ہسپتال میں زیر علاج رہیں اور پھر وہیل چیئر پر زندگی گزارنے کے لیے ایڈجسٹ ہونے لگیں۔</p>
<p>وہ سوشل میڈیا پراپنی زندگی کے چیلنجز، جیسے کہ نہانا، خودمختاری اور جسمانی تکالیف کے بارے میں کھل کر بات کرتی دکھائی دیتی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'><blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/p/DIy2tPJJOHL/?hl=en" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"><div style="padding:16px;"> <a href="https://www.instagram.com/p/DIy2tPJJOHL/?hl=en" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"> <div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"></div></div></div><div style="padding: 19% 0;"></div> <div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"><svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"><g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"><g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"><g><path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"></path></g></g></g></svg></div><div style="padding-top: 8px;"> <div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"> View this post on Instagram</div></div><div style="padding: 12.5% 0;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"><div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"></div></div><div style="margin-left: 8px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"></div></div><div style="margin-left: auto;"> <div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"></div></div></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"></div></div></a><p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"><a href="https://www.instagram.com/p/DIy2tPJJOHL/?hl=en" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"></a></p></div></blockquote><script async src="https://www.instagram.com/embed.js"></script></div>
        
    </figure></p>
<p>ٹک ٹاک پر ان کے 13 لاکھ سے زائد جب کہ انسٹاگرام پر 9 لاکھ سے زائد فالوورز ہیں۔
اب حادثے کے تقریبا 10 سال بعد وہ روبوٹک ڈیوائس کی مدد سے کھڑے ہوئیں اور چند قدم چلیں، جس کی ویڈیو انہوں نے سوشل میڈیا پر شیئر کی۔</p>
<p>ویڈیو میں روبوٹک کی جانب سے اٹھنے اور چہل قدمی میں مدد فراہم کرنے پر ابتدائی طور پر خوف زدہ دکھائی دیتی ہیں اور چلاتی بھی دکھائی دتی ہیں لیکن بعد ازاں وہ خوشی سے چمک اٹھتی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے فیرلی ڈکسن یونیورسٹی سے بائیولاجی میں ڈگری حاصل کر رکھی ہے جب کہ کیمسٹری اور عربی میں انہوں نے ڈگریاں حاصل کر رکھی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'><blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/p/DCZbJmTpngE/?hl=en" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"><div style="padding:16px;"> <a href="https://www.instagram.com/p/DCZbJmTpngE/?hl=en" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"> <div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"></div></div></div><div style="padding: 19% 0;"></div> <div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"><svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"><g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"><g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"><g><path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"></path></g></g></g></svg></div><div style="padding-top: 8px;"> <div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"> View this post on Instagram</div></div><div style="padding: 12.5% 0;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"><div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"></div></div><div style="margin-left: 8px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"></div></div><div style="margin-left: auto;"> <div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"></div></div></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"></div></div></a><p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"><a href="https://www.instagram.com/p/DCZbJmTpngE/?hl=en" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"></a></p></div></blockquote><script async src="https://www.instagram.com/embed.js"></script></div>
        
    </figure></p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1271119</guid>
      <pubDate>Wed, 08 Oct 2025 22:57:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انٹرٹینمنٹ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/0821565365e8898.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/0821565365e8898.webp"/>
        <media:title>—فوٹو: انسٹاگرام
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایسا خوبصورت اور پرتعیش جزیرہ جہاں انسانوں سے زیادہ بلیاں آباد ہیں</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1271023/</link>
      <description>&lt;p&gt;سیاحت کے لیے مشہور اور منفرد حیثیت رکھنے والے یورپی ملک اسپین میں ایک ایسا خوبصورت اور پرتعیش جزیرہ بھی موجود ہے، جہاں انسانوں سے زیادہ بلیاں آباد ہیں اور خشکی سے زیادہ پانی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://edition.cnn.com/2025/10/07/travel/tabarca-spain-smallest-inhabited-island"&gt;&lt;strong&gt;مطابق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; ایلیکانتے کے قریب واقع نیوا تبارکا اسپین کا سب سے چھوٹا آباد جزیرہ ہے، جہاں صرف 50 لوگ رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ جزیرہ 1800 میٹر لمبا اور 400 میٹر چوڑا ہے، اس کی قدرتی خوبصورتی اور تاریخی ورثہ اسے خاص بناتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کہا جاتا ہے کہ 18ویں صدی میں تیونس کے تبارکا سے آئے جنووا کے لوگوں کو یہاں بسایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریبا نصف صدی قبل  1986 میں اسے اسپین کا پہلا سمندری تحفظ والا علاقہ بنایا گیا، یہاں گرمیوں میں ہزاروں سیاح آتے ہیں لیکن سردیوں میں یہ سنسان ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تبارکا کی گلیاں صاف اور پرسکون ہیں اور یہاں بلیوں کی تعداد انسانوں سے زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جزیرے پر ایک تاریخی لائٹ ہاؤس، قبرستان اور ایک قلعہ نما ٹاور بھی ہے،ایلیکانتے کی بلند عمارتیں افق پر نظر آتی ہیں لیکن تبارکا اپنی سادگی اور انسانی پیمانے کی وجہ سے منفرد اہمیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سیاحت کے لیے مشہور اور منفرد حیثیت رکھنے والے یورپی ملک اسپین میں ایک ایسا خوبصورت اور پرتعیش جزیرہ بھی موجود ہے، جہاں انسانوں سے زیادہ بلیاں آباد ہیں اور خشکی سے زیادہ پانی ہے۔</p>
<p>امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://edition.cnn.com/2025/10/07/travel/tabarca-spain-smallest-inhabited-island"><strong>مطابق</strong></a> ایلیکانتے کے قریب واقع نیوا تبارکا اسپین کا سب سے چھوٹا آباد جزیرہ ہے، جہاں صرف 50 لوگ رہتے ہیں۔</p>
<p>مذکورہ جزیرہ 1800 میٹر لمبا اور 400 میٹر چوڑا ہے، اس کی قدرتی خوبصورتی اور تاریخی ورثہ اسے خاص بناتا ہے۔</p>
<p>کہا جاتا ہے کہ 18ویں صدی میں تیونس کے تبارکا سے آئے جنووا کے لوگوں کو یہاں بسایا گیا تھا۔</p>
<p>تقریبا نصف صدی قبل  1986 میں اسے اسپین کا پہلا سمندری تحفظ والا علاقہ بنایا گیا، یہاں گرمیوں میں ہزاروں سیاح آتے ہیں لیکن سردیوں میں یہ سنسان ہوتا ہے۔</p>
<p>تبارکا کی گلیاں صاف اور پرسکون ہیں اور یہاں بلیوں کی تعداد انسانوں سے زیادہ ہے۔</p>
<p>جزیرے پر ایک تاریخی لائٹ ہاؤس، قبرستان اور ایک قلعہ نما ٹاور بھی ہے،ایلیکانتے کی بلند عمارتیں افق پر نظر آتی ہیں لیکن تبارکا اپنی سادگی اور انسانی پیمانے کی وجہ سے منفرد اہمیت رکھتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Amazing</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1271023</guid>
      <pubDate>Tue, 07 Oct 2025 23:40:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/07213933aa2da5f.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/07213933aa2da5f.webp"/>
        <media:title>—فوٹو: سی این این
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مریض کے پیٹ سے 29 چمچ، 19 ٹوتھ برش اور 2 پین نکال لیے گئے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1270175/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارت کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں ڈاکٹرز نے طویل جدوجہد کے بعد کامیابی سے ایک مریض کے پیٹ سے 29 اسٹیل کے چمچ، 19 ٹوتھ برش اور دو پین کامیابی سے نکال لیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی اخبار ’ہندوستان ٹائمز‘ کے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.hindustantimes.com/india-news/up-man-eats-spoons-toothbrushes-angered-by-small-portion-of-foods-at-rehab-ghaziabad-hapur-101758804804039.html"&gt;&lt;strong&gt;مطابق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; اتر پردیش کے ضلع غازی آباد میں ڈاکٹروں نے مریض کا آپریشن کرکے ان کے پیٹ سے بھاری مقدار کی بڑی نوکدار چیزیں نکالیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مریض کی شناخت 35 سالہ سچن کے نام سے ہوئی جو اسی ریاست کے شہر ہاپوڑ کا رہائشی تھا، جسے اس کے خاندان نے نشے کے علاج کے لیے بحالی مرکز بھیجا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1266621"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متاثرہ شخص نے ڈاکٹرز کو بتایا کہ انہوں نے غصے میں آکر چمچ، ٹوتھ برش اور پین کھا لیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متاثرہ شخص سچن نے بتایا کہ بحالی مرکز میں انہیں انتہائی کم کھانا دیا جاتا تھا، جس سے وہ ناراض تھے، انہیں بہت کم سبزیاں اور چند روٹیاں دی جاتی تھیں جب کہ گھر سے آنے والا کھانا بھی انہیں اکثر نہیں ملتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق کم کھانا ملنے اور بھوک ختم نہ ہونے پر وہ غصے میں آکر چمچ چوری کرکے باتھ روم میں جا کر انہیں توڑتے اور پھر پانی کے ساتھ انہیں نگل لیتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹروں نے بتایا کہ سچن کو شدید پیٹ درد کے ساتھ ہسپتال لایا گیا تھا، الٹراساؤنڈ سے پیٹ میں غیر معمولی اشیا نظر آئیں، ایکس رے اور سی ٹی اسکین سے پتہ چلا کہ اس کے پیٹ میں چمچ، ٹوتھ برش اور قلم موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹرز کے مطابق پہلے اینڈو اسکوپی سے اشیا نکالنے کی کوشش کی گئی لیکن زیادہ مقدار کی وجہ سے یہ ناکام رہی، جس کے بعد سرجری کے ذریعے یہ اشیا نکالی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹرز کے مطابق ایسی بھاری اور نوکدار چیزوں کو کھانے کی عادت اکثر دماغی مسائل والے لوگوں میں دیکھی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، 2022 میں اترپردیش کے ہی شہر مظفرنگر میں ایک شخص کے پیٹ سے 63 چمچ نکالے گئے تھے اور وہ بھی نشے کا عادی تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح سال 2019 میں ہماچل پردیش کے شہر مندی میں ایک شخص کے پیٹ سے چمچ، اسکرو، ٹوتھ برش، چاقو اور دروازے کی چٹخنی نکالی گئی تھی اور وہ شیزوفرینیا کا مریض تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'&gt;&lt;blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/reel/DPDFS1Cj14o/" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"&gt;&lt;div style="padding:16px;"&gt; &lt;a href="https://www.instagram.com/reel/DPDFS1Cj14o/" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"&gt; &lt;div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 19% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"&gt;&lt;svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"&gt;&lt;g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"&gt;&lt;g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"&gt;&lt;g&gt;&lt;path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"&gt;&lt;/path&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding-top: 8px;"&gt; &lt;div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"&gt; View this post on Instagram&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 12.5% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"&gt;&lt;div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: 8px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: auto;"&gt; &lt;div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/a&gt;&lt;p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"&gt;&lt;a href="https://www.instagram.com/reel/DPDFS1Cj14o/" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;script async src="https://www.instagram.com/embed.js"&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارت کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں ڈاکٹرز نے طویل جدوجہد کے بعد کامیابی سے ایک مریض کے پیٹ سے 29 اسٹیل کے چمچ، 19 ٹوتھ برش اور دو پین کامیابی سے نکال لیے۔</p>
<p>بھارتی اخبار ’ہندوستان ٹائمز‘ کے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.hindustantimes.com/india-news/up-man-eats-spoons-toothbrushes-angered-by-small-portion-of-foods-at-rehab-ghaziabad-hapur-101758804804039.html"><strong>مطابق</strong></a> اتر پردیش کے ضلع غازی آباد میں ڈاکٹروں نے مریض کا آپریشن کرکے ان کے پیٹ سے بھاری مقدار کی بڑی نوکدار چیزیں نکالیں۔</p>
<p>مریض کی شناخت 35 سالہ سچن کے نام سے ہوئی جو اسی ریاست کے شہر ہاپوڑ کا رہائشی تھا، جسے اس کے خاندان نے نشے کے علاج کے لیے بحالی مرکز بھیجا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1266621"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>متاثرہ شخص نے ڈاکٹرز کو بتایا کہ انہوں نے غصے میں آکر چمچ، ٹوتھ برش اور پین کھا لیے تھے۔</p>
<p>متاثرہ شخص سچن نے بتایا کہ بحالی مرکز میں انہیں انتہائی کم کھانا دیا جاتا تھا، جس سے وہ ناراض تھے، انہیں بہت کم سبزیاں اور چند روٹیاں دی جاتی تھیں جب کہ گھر سے آنے والا کھانا بھی انہیں اکثر نہیں ملتا تھا۔</p>
<p>ان کے مطابق کم کھانا ملنے اور بھوک ختم نہ ہونے پر وہ غصے میں آکر چمچ چوری کرکے باتھ روم میں جا کر انہیں توڑتے اور پھر پانی کے ساتھ انہیں نگل لیتے تھے۔</p>
<p>ڈاکٹروں نے بتایا کہ سچن کو شدید پیٹ درد کے ساتھ ہسپتال لایا گیا تھا، الٹراساؤنڈ سے پیٹ میں غیر معمولی اشیا نظر آئیں، ایکس رے اور سی ٹی اسکین سے پتہ چلا کہ اس کے پیٹ میں چمچ، ٹوتھ برش اور قلم موجود ہیں۔</p>
<p>ڈاکٹرز کے مطابق پہلے اینڈو اسکوپی سے اشیا نکالنے کی کوشش کی گئی لیکن زیادہ مقدار کی وجہ سے یہ ناکام رہی، جس کے بعد سرجری کے ذریعے یہ اشیا نکالی گئیں۔</p>
<p>ڈاکٹرز کے مطابق ایسی بھاری اور نوکدار چیزوں کو کھانے کی عادت اکثر دماغی مسائل والے لوگوں میں دیکھی جاتی ہیں۔</p>
<p>بھارت میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، 2022 میں اترپردیش کے ہی شہر مظفرنگر میں ایک شخص کے پیٹ سے 63 چمچ نکالے گئے تھے اور وہ بھی نشے کا عادی تھا۔</p>
<p>اسی طرح سال 2019 میں ہماچل پردیش کے شہر مندی میں ایک شخص کے پیٹ سے چمچ، اسکرو، ٹوتھ برش، چاقو اور دروازے کی چٹخنی نکالی گئی تھی اور وہ شیزوفرینیا کا مریض تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'><blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/reel/DPDFS1Cj14o/" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"><div style="padding:16px;"> <a href="https://www.instagram.com/reel/DPDFS1Cj14o/" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"> <div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"></div></div></div><div style="padding: 19% 0;"></div> <div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"><svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"><g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"><g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"><g><path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"></path></g></g></g></svg></div><div style="padding-top: 8px;"> <div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"> View this post on Instagram</div></div><div style="padding: 12.5% 0;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"><div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"></div></div><div style="margin-left: 8px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"></div></div><div style="margin-left: auto;"> <div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"></div></div></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"></div></div></a><p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"><a href="https://www.instagram.com/reel/DPDFS1Cj14o/" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"></a></p></div></blockquote><script async src="https://www.instagram.com/embed.js"></script></div>
        
    </figure></p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1270175</guid>
      <pubDate>Sat, 27 Sep 2025 18:59:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ہیلتھ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/09/2718045471d106e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/09/2718045471d106e.webp"/>
        <media:title>—اسکرین شاٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دلہن دولہے کی ماں سے بھی بڑی، جاپان میں 63 سالہ خاتون اور 31 سالہ نوجوان کی انوکھی شادی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1269929/</link>
      <description>&lt;p&gt;جاپان میں ایک حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں 63 سالہ خاتون نے 31 سالہ نوجوان سے شادی کرلی، دلہن عمر میں دولہے کی ماں سے بھی بڑی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.scmp.com/news/people-culture/article/3325149/japan-princess-63-marries-lover-prince-31-despite-being-older-mother-law"&gt;ہانگ کانگ ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق جاپان میں ایک غیر معمولی محبت کی کہانی سامنے آئی ہے جہاں 63 سالہ خاتون نے 31 سالہ نوجوان سے باضابطہ شادی کرلی، دلچسپ بات یہ ہے کہ دلہن اپنے شوہر کی والدہ سے بھی چھ سال بڑی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ جوڑا اب مل کر ایک میرج ایجنسی چلا رہا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ان کا رشتہ ایک انوکھے اتفاق سے شروع ہوا جو آگے چل کر غیر متوقع رومانوی تعلق میں بدل گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپانی خاتون نے 48 سال کی عمر میں دو دہائیوں پر محیط ازدواجی زندگی ختم کی، اپنے بیٹے کی پرورش اکیلے کی اور پالتو جانوروں کے کپڑوں کے کاروبار کے ساتھ ساتھ کتوں کے ساتھ زندگی بسر کرتی رہیں، وہ کبھی کبھار ڈیٹنگ ایپس بھی استعمال کرتی تھیں لیکن کوئی رشتہ زیادہ عرصے نہ چل سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269852"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگست 2020 میں ٹوکیو کے ایک کیفے میں خاتون کو ایک کھویا ہوا موبائل فون ملا جس کا مالک وہی نوجوان نکلا، فون واپس لوٹانے پر دونوں کی ملاقات ہوئی اور بات چیت کا سلسلہ شروع ہوگیا جو جلد ہی گہری دوستی میں بدل گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صرف ایک ہفتے بعد دونوں کی دوبارہ ٹرام میں ملاقات ہوئی، جہاں انہوں نے نمبرز کا تبادلہ کیا اور روز رات کو دیر تک گفتگو کرنے لگے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوجوان نے پہلی ملاقات میں ہی ایک پرچی خاتون کو دی، جس پر لکھا تھا کہ ’براہ کرم میری پرنسس بن جاؤ‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریباً ایک ماہ بعد دونوں نے اپنی اصل عمریں ایک دوسرے کو بتائیں، مگر اس وقت تک وہ اتنے قریب آچکے تھے کہ عمر کی حقیقت ان کے درمیان رکاوٹ نہ بن سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خاتون کا بیٹا، جو نوجوان سے چھ سال بڑا ہے، اس رشتے سے پہلے دن سے واقف تھا اور اس نے اپنی والدہ کو مکمل تعاون فراہم کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، نوجوان کی والدہ نے ابتدا میں مخالفت کی کیونکہ دلہن ان سے بڑی تھی، لیکن بیٹے کے جذبات کو دیکھ کر وہ بھی راضی ہوگئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں نے دسمبر 2022 میں اپنی شادی رجسٹرڈ کرائی اور تین سال گزرنے کے باوجود آج بھی ایک دوسرے کو محبت سے پرنس اور پرنسس کہہ کر پکارتے ہیں، گھریلو ذمہ داریاں بانٹتے ہیں اور ایک دوسرے کو اپنی زندگی کی سب سے بڑی خوشی قرار دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جاپان میں ایک حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں 63 سالہ خاتون نے 31 سالہ نوجوان سے شادی کرلی، دلہن عمر میں دولہے کی ماں سے بھی بڑی ہیں۔</p>
<p><strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.scmp.com/news/people-culture/article/3325149/japan-princess-63-marries-lover-prince-31-despite-being-older-mother-law">ہانگ کانگ ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ</a></strong> کے مطابق جاپان میں ایک غیر معمولی محبت کی کہانی سامنے آئی ہے جہاں 63 سالہ خاتون نے 31 سالہ نوجوان سے باضابطہ شادی کرلی، دلچسپ بات یہ ہے کہ دلہن اپنے شوہر کی والدہ سے بھی چھ سال بڑی ہیں۔</p>
<p>یہ جوڑا اب مل کر ایک میرج ایجنسی چلا رہا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ان کا رشتہ ایک انوکھے اتفاق سے شروع ہوا جو آگے چل کر غیر متوقع رومانوی تعلق میں بدل گیا۔</p>
<p>جاپانی خاتون نے 48 سال کی عمر میں دو دہائیوں پر محیط ازدواجی زندگی ختم کی، اپنے بیٹے کی پرورش اکیلے کی اور پالتو جانوروں کے کپڑوں کے کاروبار کے ساتھ ساتھ کتوں کے ساتھ زندگی بسر کرتی رہیں، وہ کبھی کبھار ڈیٹنگ ایپس بھی استعمال کرتی تھیں لیکن کوئی رشتہ زیادہ عرصے نہ چل سکا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269852"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اگست 2020 میں ٹوکیو کے ایک کیفے میں خاتون کو ایک کھویا ہوا موبائل فون ملا جس کا مالک وہی نوجوان نکلا، فون واپس لوٹانے پر دونوں کی ملاقات ہوئی اور بات چیت کا سلسلہ شروع ہوگیا جو جلد ہی گہری دوستی میں بدل گیا۔</p>
<p>صرف ایک ہفتے بعد دونوں کی دوبارہ ٹرام میں ملاقات ہوئی، جہاں انہوں نے نمبرز کا تبادلہ کیا اور روز رات کو دیر تک گفتگو کرنے لگے۔</p>
<p>نوجوان نے پہلی ملاقات میں ہی ایک پرچی خاتون کو دی، جس پر لکھا تھا کہ ’براہ کرم میری پرنسس بن جاؤ‘۔</p>
<p>تقریباً ایک ماہ بعد دونوں نے اپنی اصل عمریں ایک دوسرے کو بتائیں، مگر اس وقت تک وہ اتنے قریب آچکے تھے کہ عمر کی حقیقت ان کے درمیان رکاوٹ نہ بن سکی۔</p>
<p>خاتون کا بیٹا، جو نوجوان سے چھ سال بڑا ہے، اس رشتے سے پہلے دن سے واقف تھا اور اس نے اپنی والدہ کو مکمل تعاون فراہم کیا۔</p>
<p>تاہم، نوجوان کی والدہ نے ابتدا میں مخالفت کی کیونکہ دلہن ان سے بڑی تھی، لیکن بیٹے کے جذبات کو دیکھ کر وہ بھی راضی ہوگئیں۔</p>
<p>دونوں نے دسمبر 2022 میں اپنی شادی رجسٹرڈ کرائی اور تین سال گزرنے کے باوجود آج بھی ایک دوسرے کو محبت سے پرنس اور پرنسس کہہ کر پکارتے ہیں، گھریلو ذمہ داریاں بانٹتے ہیں اور ایک دوسرے کو اپنی زندگی کی سب سے بڑی خوشی قرار دیتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1269929</guid>
      <pubDate>Wed, 24 Sep 2025 11:17:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/09/241019292971fb1.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/09/241019292971fb1.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: ہانگ کانگ ساؤتھ چائنہ مارننگ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیویارک میں فرانسیسی صدر کو ٹریفک پولیس نے روک دیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1269909/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکی شہر نیویارک میں اقوام متحدہ (یو این) کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے جانے والے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کو ٹریفک پولیس نے ڈونلڈ ٹرمپ کے قافلے کی وجہ سے روک دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/us/guess-what-macron-calls-trump-after-being-blocked-by-us-leaders-motorcade-2025-09-23/"&gt;&lt;strong&gt;’رائٹرز‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون 22 ستمبر کی شب نیویارک میں اپنی ٹیم کے ساتھ سڑک پار کرنے کی کوشش کر رہے تھے، اس دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا قافلہ مذکورہ سڑک سے گزر رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر کے قافلے کے گزرنے کی وجہ سے سیکیورٹی پر مامور ٹریفک پولیس افسر نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کو روک دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269845"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر کے قافلے کی وجہ سے فرانسیسی صدر کو روکنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوگئی، جس میں ایمانوئل میکرون کو ڈونلڈ ٹرمپ کو فون کال پر بات کرتے بھی دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائرل ویڈیو میں پولیس افسر نے شرمندگی اور اظہار افسوس کرتے ہوئے فرانسیسی صدر سے روکے جانے پر معذرت بھی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس افسر نے فرانسیسی صدر کو کہا کہ جناب صدر آپ سمیت ہر کسی کو کچھ دیر کے لیے روک دیا گیا ہے کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ کا قافلہ آرہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس افسر کی بات پر ایمانوئل میکرون مسکرائے اور پھر انہوں نے اپنے موبائل فون سے امریکی صدر کو کال کی اور ان سے دلچسپ انداز میں بات بھی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمانوئل میکرون نے سڑک پر کچھ لمحے انتظار کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کو فون کیا اور انہیں ہسنتے ہوئے کہا کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی وجہ سے ہی سڑک پر کھڑے ہیں کیونکہ سڑک سے ان کا قافلہ گزر رہا ہے، جس وجہ سے سب کو روک دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کے مطابق فرانسیسی صدر نے امریکی صدر کو فون پر یہ بھی کہا کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ اور قطر کے ساتھ غزہ کے حالات پر بھی بات کرنا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانسیسی صدر کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ مذکورہ بات چیت بہت دوستانہ اور گرمجوش سے ہوئی اور دونوں رہنماؤں نے کئی عالمی مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/5hnLoJFQBqs?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکی شہر نیویارک میں اقوام متحدہ (یو این) کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے جانے والے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کو ٹریفک پولیس نے ڈونلڈ ٹرمپ کے قافلے کی وجہ سے روک دیا۔</p>
<p>خبر رساں ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/world/us/guess-what-macron-calls-trump-after-being-blocked-by-us-leaders-motorcade-2025-09-23/"><strong>’رائٹرز‘</strong></a> کے مطابق فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون 22 ستمبر کی شب نیویارک میں اپنی ٹیم کے ساتھ سڑک پار کرنے کی کوشش کر رہے تھے، اس دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا قافلہ مذکورہ سڑک سے گزر رہا تھا۔</p>
<p>امریکی صدر کے قافلے کے گزرنے کی وجہ سے سیکیورٹی پر مامور ٹریفک پولیس افسر نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کو روک دیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269845"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>امریکی صدر کے قافلے کی وجہ سے فرانسیسی صدر کو روکنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوگئی، جس میں ایمانوئل میکرون کو ڈونلڈ ٹرمپ کو فون کال پر بات کرتے بھی دیکھا گیا۔</p>
<p>وائرل ویڈیو میں پولیس افسر نے شرمندگی اور اظہار افسوس کرتے ہوئے فرانسیسی صدر سے روکے جانے پر معذرت بھی کی۔</p>
<p>پولیس افسر نے فرانسیسی صدر کو کہا کہ جناب صدر آپ سمیت ہر کسی کو کچھ دیر کے لیے روک دیا گیا ہے کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ کا قافلہ آرہا ہے۔</p>
<p>پولیس افسر کی بات پر ایمانوئل میکرون مسکرائے اور پھر انہوں نے اپنے موبائل فون سے امریکی صدر کو کال کی اور ان سے دلچسپ انداز میں بات بھی کی۔</p>
<p>ایمانوئل میکرون نے سڑک پر کچھ لمحے انتظار کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کو فون کیا اور انہیں ہسنتے ہوئے کہا کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی وجہ سے ہی سڑک پر کھڑے ہیں کیونکہ سڑک سے ان کا قافلہ گزر رہا ہے، جس وجہ سے سب کو روک دیا گیا ہے۔</p>
<p>رائٹرز کے مطابق فرانسیسی صدر نے امریکی صدر کو فون پر یہ بھی کہا کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ اور قطر کے ساتھ غزہ کے حالات پر بھی بات کرنا چاہتے ہیں۔</p>
<p>فرانسیسی صدر کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ مذکورہ بات چیت بہت دوستانہ اور گرمجوش سے ہوئی اور دونوں رہنماؤں نے کئی عالمی مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/5hnLoJFQBqs?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1269909</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Sep 2025 21:56:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/09/23212938ee6c2ad.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/09/23212938ee6c2ad.webp"/>
        <media:title>—اسکرین شاٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت میں ڈاکٹرز کا کامیاب آپریشن، 7 سالہ بچے کے معدے سے بال اور جوتے کا تسمہ برآمد</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1269856/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارتی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد میں ایک غیر معمولی طبی واقعہ پیش آیا، جہاں ڈاکٹرز نے کامیاب آپریشن کے ذریعے سات سالہ بچے کے معدے سے بال اور جوتے کے تسمے کا گچھا برآمد کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://timesofindia.indiatimes.com/life-style/health-fitness/health-news/doctors-perform-rare-surgery-to-remove-hair-grass-shoelace-from-a-childs-stomach-this-is-what-happened/articleshow/124049868.cms"&gt;ٹائمز آف انڈیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق بھارتی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد میں ایک حیران کن واقعہ سامنے آیا، جہاں ڈاکٹروں نے سات سالہ بچے کے معدے اور آنتوں سے بالوں کا گچھا، گھاس اور جوتے کا فیتہ کامیابی کے ساتھ نکال لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مدھیہ پردیش کے ضلع رتلام سے تعلق رکھنے والے شبھم کو دو ماہ سے پیٹ میں درد، قے اور وزن میں کمی کی شکایت تھی، مدھیہ پردیش کے ایک نجی ہسپتال میں علاج کے باوجود افاقہ نہ ہونے پر اسے سول ہسپتال احمد آباد منتقل کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سول ہسپتال میں شبھم کا سی ٹی اسکین اور اینڈوسکوپی کی گئی، جس میں معدے اور آنتوں میں غیر معمولی گچھے کی موجودگی کا انکشاف ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1260615"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعدازاں اتوار کو ہونے والے آپریشن کے دوران ڈاکٹروں کی ٹیم نے ایک پیچیدہ لیپروٹومی کے ذریعے بالوں کا گچھا اور جوتے کا فیتہ کامیابی سے نکال دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سول ہسپتال احمد آباد کے ڈاکٹر کے مطابق سرجری کے ساتویں دن کیے گئے ڈائی ٹیسٹ سے یہ تصدیق ہوئی کہ بچے کے معدے میں کوئی مواد باقی نہیں رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ بچے کو ماہرِ نفسیات کی جانب سے مشاورت بھی دی گئی تاکہ وہ آئندہ ایسی چیزیں نگلنے سے باز رہے، شبھم کی طبیعت اب بہتر ہے اور اسے گھر بھیج دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر نے مزید کہا کہ بچے کو ٹریچوبیزوآر نامی ایک نایاب بیماری تھی، جس میں نگلے گئے بال معدے میں اکٹھے ہو کر سخت گولا بنا دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بیماری کی علامات میں پیٹ کا درد یا پھولنا، متلی یا قے، بھوک میں کمی، وزن میں کمی اور قبض شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق اس بیماری کی شرح صرف 0.3 سے 0.5 فیصد تک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے والدین کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے بچوں کی غیر معمولی عادات پر نظر رکھیں تاکہ زندگی کے لیے خطرناک ثابت ہونے والی ایسی کیفیت سے بچا جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارتی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد میں ایک غیر معمولی طبی واقعہ پیش آیا، جہاں ڈاکٹرز نے کامیاب آپریشن کے ذریعے سات سالہ بچے کے معدے سے بال اور جوتے کے تسمے کا گچھا برآمد کیا۔</p>
<p><strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://timesofindia.indiatimes.com/life-style/health-fitness/health-news/doctors-perform-rare-surgery-to-remove-hair-grass-shoelace-from-a-childs-stomach-this-is-what-happened/articleshow/124049868.cms">ٹائمز آف انڈیا</a></strong> کے مطابق بھارتی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد میں ایک حیران کن واقعہ سامنے آیا، جہاں ڈاکٹروں نے سات سالہ بچے کے معدے اور آنتوں سے بالوں کا گچھا، گھاس اور جوتے کا فیتہ کامیابی کے ساتھ نکال لیا۔</p>
<p>مدھیہ پردیش کے ضلع رتلام سے تعلق رکھنے والے شبھم کو دو ماہ سے پیٹ میں درد، قے اور وزن میں کمی کی شکایت تھی، مدھیہ پردیش کے ایک نجی ہسپتال میں علاج کے باوجود افاقہ نہ ہونے پر اسے سول ہسپتال احمد آباد منتقل کیا گیا۔</p>
<p>سول ہسپتال میں شبھم کا سی ٹی اسکین اور اینڈوسکوپی کی گئی، جس میں معدے اور آنتوں میں غیر معمولی گچھے کی موجودگی کا انکشاف ہوا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1260615"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بعدازاں اتوار کو ہونے والے آپریشن کے دوران ڈاکٹروں کی ٹیم نے ایک پیچیدہ لیپروٹومی کے ذریعے بالوں کا گچھا اور جوتے کا فیتہ کامیابی سے نکال دیا۔</p>
<p>سول ہسپتال احمد آباد کے ڈاکٹر کے مطابق سرجری کے ساتویں دن کیے گئے ڈائی ٹیسٹ سے یہ تصدیق ہوئی کہ بچے کے معدے میں کوئی مواد باقی نہیں رہا۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ بچے کو ماہرِ نفسیات کی جانب سے مشاورت بھی دی گئی تاکہ وہ آئندہ ایسی چیزیں نگلنے سے باز رہے، شبھم کی طبیعت اب بہتر ہے اور اسے گھر بھیج دیا گیا ہے۔</p>
<p>ڈاکٹر نے مزید کہا کہ بچے کو ٹریچوبیزوآر نامی ایک نایاب بیماری تھی، جس میں نگلے گئے بال معدے میں اکٹھے ہو کر سخت گولا بنا دیتے ہیں۔</p>
<p>اس بیماری کی علامات میں پیٹ کا درد یا پھولنا، متلی یا قے، بھوک میں کمی، وزن میں کمی اور قبض شامل ہیں۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق اس بیماری کی شرح صرف 0.3 سے 0.5 فیصد تک ہے۔</p>
<p>انہوں نے والدین کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے بچوں کی غیر معمولی عادات پر نظر رکھیں تاکہ زندگی کے لیے خطرناک ثابت ہونے والی ایسی کیفیت سے بچا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1269856</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Sep 2025 12:40:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/09/23115929031359f.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/09/23115929031359f.webp"/>
        <media:title>—فوٹو: انڈین ایکسرپیس
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اماراتی محقق کے چار بیویوں اور 100 بچوں کے انکشاف سے سب حیران</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1269839/</link>
      <description>&lt;p&gt;متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے ایک ثقافتی محقق نے ادبی فیسٹیول میں خطاب کے دوران اپنی چار بیویوں اور 100 بچوں کا انکشاف کرکے سب کو حیران کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلیجی اخبار ’گلف نیوز‘ کے مطابق امارات کی ریاست شارجہ میں ہونے والے سالانہ فیسٹیول میں محقق سعید مصباح الکتبی نے اپنی شادیوں اور بچوں کی تعداد بتا کر سب کو حیران کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعید مصباح الکتبی کی جانب سے فیسٹیول میں خطاب کرنے کی مختصر ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، جسے لاکھوں بار دیکھا جا چکا ہے جب کہ اسے سوشل میڈیا پر خوب شیئر بھی کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کی ویڈیو پر خصوصی طور پر اماراتی سوشل میڈیا صارفین نے ان کی صحت، طاقت اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے عزم کی تعریفیں کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہت سے صارفین نے ان کی خاندانی زندگی اور روایات کے لیے لگن کو سراہا اور چار بیویاں رکھنے کی ان کی بات پر ہر کوئی ماشاء اللہ لکھتا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شارجہ انسٹی ٹیوٹ فار ہیریٹیج میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کا بنیادی مقصد اپنے بچوں میں ’السنع‘ یعنی اماراتی اقدار اور آداب سکھانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب انہوں نے بتایا کہ ان کی چار بیویاں اور 100 سے زیادہ بچے ہیں تو ان کی بات سن کر حاضرین حیران رہ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعید مصباح الکتبی نے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ان کے بچے احترام، خاندانی ذمہ داریاں نبھانا اور آباؤ اجداد کی روایات سیکھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اپنی چاروں بیویوں یا 100 سے زائد بچوں کی عمر اور کام کے حوالے سے مزید کوئی تفصیلات نہیں بتائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اماراتی محقق نے بتایا کہ وہ اپنی اولاد کو اماراتی ثقافت اور ورثے کے تسلسل کے اقدار ’السنع‘ کی ترویج پر زور دیتے ہیں جو کہ امارات میں نسلوں سے منتقل ہونے والے اقدار کا نام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’النسع‘ میں خود سے بڑی عمر کے افراد اور خواتین کا احترام، مہمان نوازی، عاجزی، ایمانداری، رواداری، اور خاندان، برادری اور قوم سے وفاداری شامل ہے۔ اس کے علاوہ، روایتی سلام، اماراتی لباس اور عربی زبان کے تحفظ پر بھی زور دیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Sharjahnews/status/1970041588844761114"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے ایک ثقافتی محقق نے ادبی فیسٹیول میں خطاب کے دوران اپنی چار بیویوں اور 100 بچوں کا انکشاف کرکے سب کو حیران کردیا۔</p>
<p>خلیجی اخبار ’گلف نیوز‘ کے مطابق امارات کی ریاست شارجہ میں ہونے والے سالانہ فیسٹیول میں محقق سعید مصباح الکتبی نے اپنی شادیوں اور بچوں کی تعداد بتا کر سب کو حیران کردیا۔</p>
<p>سعید مصباح الکتبی کی جانب سے فیسٹیول میں خطاب کرنے کی مختصر ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، جسے لاکھوں بار دیکھا جا چکا ہے جب کہ اسے سوشل میڈیا پر خوب شیئر بھی کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>ان کی ویڈیو پر خصوصی طور پر اماراتی سوشل میڈیا صارفین نے ان کی صحت، طاقت اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے عزم کی تعریفیں کیں۔</p>
<p>بہت سے صارفین نے ان کی خاندانی زندگی اور روایات کے لیے لگن کو سراہا اور چار بیویاں رکھنے کی ان کی بات پر ہر کوئی ماشاء اللہ لکھتا رہا۔</p>
<p>شارجہ انسٹی ٹیوٹ فار ہیریٹیج میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کا بنیادی مقصد اپنے بچوں میں ’السنع‘ یعنی اماراتی اقدار اور آداب سکھانا ہے۔</p>
<p>جب انہوں نے بتایا کہ ان کی چار بیویاں اور 100 سے زیادہ بچے ہیں تو ان کی بات سن کر حاضرین حیران رہ گئے۔</p>
<p>سعید مصباح الکتبی نے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ان کے بچے احترام، خاندانی ذمہ داریاں نبھانا اور آباؤ اجداد کی روایات سیکھیں۔</p>
<p>انہوں نے اپنی چاروں بیویوں یا 100 سے زائد بچوں کی عمر اور کام کے حوالے سے مزید کوئی تفصیلات نہیں بتائی۔</p>
<p>اماراتی محقق نے بتایا کہ وہ اپنی اولاد کو اماراتی ثقافت اور ورثے کے تسلسل کے اقدار ’السنع‘ کی ترویج پر زور دیتے ہیں جو کہ امارات میں نسلوں سے منتقل ہونے والے اقدار کا نام ہے۔</p>
<p>’النسع‘ میں خود سے بڑی عمر کے افراد اور خواتین کا احترام، مہمان نوازی، عاجزی، ایمانداری، رواداری، اور خاندان، برادری اور قوم سے وفاداری شامل ہے۔ اس کے علاوہ، روایتی سلام، اماراتی لباس اور عربی زبان کے تحفظ پر بھی زور دیا جاتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Sharjahnews/status/1970041588844761114"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1269839</guid>
      <pubDate>Mon, 22 Sep 2025 22:59:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/09/222222593fb234b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/09/222222593fb234b.webp"/>
        <media:title>—اسکرین شاٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اڑنے والی کاریں آزمائشی پرواز کے دوران ایک دوسرے سے ٹکرا گئیں</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1269508/</link>
      <description>&lt;p&gt;چینی کمپنی کی جانب سے جلد ہی فروخت کے لیے پیش کی جانے والی ہیلی کاپٹر کی طرح اڑنے والی کاریں آزمائشی پروازوں کے دوران ایک دوسرے سے ٹکرا گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق چینی کمپنی کی جانب سے جلد ہی فروخت کے لیے پیش کی جانے والی اڑنے والی کاروں کے آپس میں ٹکرانے سے کمپنی کے معیار پر بھی لوگ سوال اٹھانے لگے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق اڑنے والی کاروں کی آزمائشی پروازوں کا فیسٹیول جاری تھا، جہاں دو کاریں نچلی اونچائی پر دوران پرواز آپس میں ٹکرا گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروں کے ایک دوسرے سے ٹکرانے کے بعد دونوں کاروں کے ڈرائیورز نے انہیں ہنگامی بنیادوں پر اتارا لیکن کاروں کے زمین کے اترنے تک ایک کار میں آگ لگ گئی اور ایک ڈرائیور زخمی ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کی جس کمپنی کی فضائی کاریں آپس میں ٹکرائیں، ان کی قیمت 3 لاکھ امریکی ڈالر تک ہے، یعنی ان کی قیمت پاکستانی ساڑھے 8 کروڑ روپے تک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آڑان بھرنے والی کاریں نچلی سطح پر پرواز کرتی ہیں، ایسی کاریں زیادہ سے زیادہ 3 ہزار میٹر کی بلندی پر پرواز کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین پرواز کرنے والی کاریں بنانے والا سب سے بڑا ملک ہے جب کہ چین بھر میں متعدد کاموں اور سفری سہولیات کے لیے نچلی سطح پر پرواز کرنے والی ہزاروں ڈرونز بھی اُپریشنل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کی درجنوں کمپنیاں نہ صرف الیکٹرک گاڑیاں بلکہ پرواز کرنے والی کاریں اور ٹیکسیاں بنانے میں بھی مصروف ہیں اور ان کے کاروبار میں آئے دن اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/lRYRL5kC1sM?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>چینی کمپنی کی جانب سے جلد ہی فروخت کے لیے پیش کی جانے والی ہیلی کاپٹر کی طرح اڑنے والی کاریں آزمائشی پروازوں کے دوران ایک دوسرے سے ٹکرا گئیں۔</p>
<p>امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق چینی کمپنی کی جانب سے جلد ہی فروخت کے لیے پیش کی جانے والی اڑنے والی کاروں کے آپس میں ٹکرانے سے کمپنی کے معیار پر بھی لوگ سوال اٹھانے لگے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق اڑنے والی کاروں کی آزمائشی پروازوں کا فیسٹیول جاری تھا، جہاں دو کاریں نچلی اونچائی پر دوران پرواز آپس میں ٹکرا گئیں۔</p>
<p>کاروں کے ایک دوسرے سے ٹکرانے کے بعد دونوں کاروں کے ڈرائیورز نے انہیں ہنگامی بنیادوں پر اتارا لیکن کاروں کے زمین کے اترنے تک ایک کار میں آگ لگ گئی اور ایک ڈرائیور زخمی ہوگیا۔</p>
<p>چین کی جس کمپنی کی فضائی کاریں آپس میں ٹکرائیں، ان کی قیمت 3 لاکھ امریکی ڈالر تک ہے، یعنی ان کی قیمت پاکستانی ساڑھے 8 کروڑ روپے تک ہے۔</p>
<p>آڑان بھرنے والی کاریں نچلی سطح پر پرواز کرتی ہیں، ایسی کاریں زیادہ سے زیادہ 3 ہزار میٹر کی بلندی پر پرواز کرتی ہیں۔</p>
<p>چین پرواز کرنے والی کاریں بنانے والا سب سے بڑا ملک ہے جب کہ چین بھر میں متعدد کاموں اور سفری سہولیات کے لیے نچلی سطح پر پرواز کرنے والی ہزاروں ڈرونز بھی اُپریشنل ہیں۔</p>
<p>چین کی درجنوں کمپنیاں نہ صرف الیکٹرک گاڑیاں بلکہ پرواز کرنے والی کاریں اور ٹیکسیاں بنانے میں بھی مصروف ہیں اور ان کے کاروبار میں آئے دن اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/lRYRL5kC1sM?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
]]></content:encoded>
      <category>Amazing</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1269508</guid>
      <pubDate>Wed, 17 Sep 2025 23:47:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/09/17224221e26ddbc.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/09/17224221e26ddbc.webp"/>
        <media:title>—اسکرین شاٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وکیل نے اپنے ہی موکل کے خلاف مقدمہ دائر کردیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1269323/</link>
      <description>&lt;p&gt;متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی ریاست ابوظہبی میں ایک وکیل نے اپنے ہی موکل کے خلاف عدالت میں کیس دائر کردیا لیکن ان کی درخواست مسترد کردی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابوظبی کی عدالت نے اپنے موکل سے 6 لاکھ 50 ہزار درہم کی بقایا فیس دلوانے کا مقدمہ دائر کرنے والے وکیل کا مقدمہ خارج کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ وکیل نے موکل کا مقدمہ لڑا تھا اور ان کے درمیان فیس کے معاملات طے تھے لیکن کلائنٹ نے انہیں پیسے دینے سے انکار کردیا تھا، جس پر وکیل نے اپنے ہی موکل کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عرب اخبار ’گلف نیوز‘ کے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://gulfnews.com/uae/crime/uae-abu-dhabi-lawyer-denied-dh650000-in-fees-over-filing-mistake-1.500270293"&gt;&lt;strong&gt;مطابق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; عدالت نے اپنے موکل کے خلاف مقدمہ کرنے والے وکیل کا مقدمہ خارج کرتے ہوئے کہا کہ وکیل نے مقدمہ دائر کرنے کا غلط طریقہ استعمال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وکیل نے عدالت میں درکواست دی کہ انہیں اپنے موکل سے 6 لاکھ 50 ہزار درہم، 5 فیصد سود اور عدالتی اخراجات دلوائے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وکیل کے مطابق انہوں نے اپنے موکل کا کیس لڑا، انہوں نے کلائنٹ کے ساتھ ایک کمرشل نمائندگی کا معاہدہ کیا تھا لیکن کلائنٹ نے انہیں پیسے ادا نہیں کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے قانون کے آرٹیکل 52 کی طرف اشارہ کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ وکیل کی فیس اس معاہدے کے مطابق ہوتی ہے جو کلائنٹ کے ساتھ کیا گیا ہو لیکن اگر فیس پر جھگڑا ہو تو اسے وہی عدالت حل کرے گی جس نے اصل مقدمہ سنا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اصل مقدمہ سننے والی عدالت وکیل کی کوشش اور کلائنٹ کے فائدے کو دیکھ کر فیس کم یا زیادہ کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے بتایا کہ وکیل کو فیس کا تنازع حل کرنے کے لیے اسی عدالت میں پٹیشن دائر کرنی چاہیے تھی جس میں انہوں نے اپنے ہی موکل کا مقدمہ لڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے وکیل کو درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وکیل نے کی جانب سے مقدمہ دائر کرنے کا طریقہ غلط تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی ریاست ابوظہبی میں ایک وکیل نے اپنے ہی موکل کے خلاف عدالت میں کیس دائر کردیا لیکن ان کی درخواست مسترد کردی گئی۔</p>
<p>ابوظبی کی عدالت نے اپنے موکل سے 6 لاکھ 50 ہزار درہم کی بقایا فیس دلوانے کا مقدمہ دائر کرنے والے وکیل کا مقدمہ خارج کردیا۔</p>
<p>مذکورہ وکیل نے موکل کا مقدمہ لڑا تھا اور ان کے درمیان فیس کے معاملات طے تھے لیکن کلائنٹ نے انہیں پیسے دینے سے انکار کردیا تھا، جس پر وکیل نے اپنے ہی موکل کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔</p>
<p>عرب اخبار ’گلف نیوز‘ کے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://gulfnews.com/uae/crime/uae-abu-dhabi-lawyer-denied-dh650000-in-fees-over-filing-mistake-1.500270293"><strong>مطابق</strong></a> عدالت نے اپنے موکل کے خلاف مقدمہ کرنے والے وکیل کا مقدمہ خارج کرتے ہوئے کہا کہ وکیل نے مقدمہ دائر کرنے کا غلط طریقہ استعمال کیا۔</p>
<p>وکیل نے عدالت میں درکواست دی کہ انہیں اپنے موکل سے 6 لاکھ 50 ہزار درہم، 5 فیصد سود اور عدالتی اخراجات دلوائے جائیں۔</p>
<p>وکیل کے مطابق انہوں نے اپنے موکل کا کیس لڑا، انہوں نے کلائنٹ کے ساتھ ایک کمرشل نمائندگی کا معاہدہ کیا تھا لیکن کلائنٹ نے انہیں پیسے ادا نہیں کیے۔</p>
<p>عدالت نے قانون کے آرٹیکل 52 کی طرف اشارہ کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ وکیل کی فیس اس معاہدے کے مطابق ہوتی ہے جو کلائنٹ کے ساتھ کیا گیا ہو لیکن اگر فیس پر جھگڑا ہو تو اسے وہی عدالت حل کرے گی جس نے اصل مقدمہ سنا۔</p>
<p>عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اصل مقدمہ سننے والی عدالت وکیل کی کوشش اور کلائنٹ کے فائدے کو دیکھ کر فیس کم یا زیادہ کر سکتی ہے۔</p>
<p>عدالت نے بتایا کہ وکیل کو فیس کا تنازع حل کرنے کے لیے اسی عدالت میں پٹیشن دائر کرنی چاہیے تھی جس میں انہوں نے اپنے ہی موکل کا مقدمہ لڑا۔</p>
<p>عدالت نے وکیل کو درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وکیل نے کی جانب سے مقدمہ دائر کرنے کا طریقہ غلط تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Amazing</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1269323</guid>
      <pubDate>Mon, 15 Sep 2025 23:38:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/09/152131134820032.webp" type="image/webp" medium="image" height="490" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/09/152131134820032.webp"/>
        <media:title>—فوٹو: پکسابے
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دبئی کا شاندار دنیا کا بلند ترین ہوٹل کھلنے کے لیے تیار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1269052/</link>
      <description>&lt;p&gt;متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی ریاست دبئی میں دنیا کا &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.cieldubai.com/"&gt;&lt;strong&gt;بلند ترین ہوٹل&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; ’سیئل دبئی مرینا‘ تیار ہوگیا، اس کا افتتاح رواں سال نومبر میں کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عرب اخبار ’گلف نیوز‘ کے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://gulfnews.com/business/tourism/worlds-tallest-hotel-ciel-dubai-marina-gets-an-opening-date-1.500265509"&gt;&lt;strong&gt;مطابق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; دنیا کا بلند ترین ہوٹل 82 منزلہ عمارت ہے جو کہ 377 میٹر بلند ہے، اس میں دنیا کا سب سے بلند انفینٹی پول بھی بنایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایوارڈ یافتہ فرم نورر نے اس ٹاور کا ڈیزائن تیار کیا ہے، جس میں 1004 کمرے اور سوئٹس شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا کے پرتعیش ہوٹلوں میں سے ایک ہوٹل کے ہر کمرے میں فلور ٹو سیلنگ کھڑکیاں نصب ہوں گی جن سے پام جمیرا اور عرب خلیج کے دلکش نظارے دیکھے جا سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہوٹل میں آٹھ منفرد ڈائننگ وینیوز ہیں، جن میں سب سے نمایاں تاتو دبئی ہے، جو تین منزلوں پر مشتمل ایک جدید ایشیائی ریستوران اور بار ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ساتھ تاتو اسکائی پول 76 ویں منزل پر اور تاتو اسکائی لاؤنج 81 ویں منزل پر واقع ہے، جہاں سے 360 ڈگری مناظر بھی دیکھے جا سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر ریستورانوں میں بحیرہ روم کے کھانوں پر مشتمل ویسٹ 13، مشرقی کھانوں پر مشتمل ایسٹ 14 اور مقامی برانڈ رائزن کیفے اینڈ آرٹیزنل بیکری شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مہمانوں کے لیے 61 ویں فلور پر لگژری اسپا، 24/7 جدید جم اور پام جمیرا پر واقع سولونا بیچ کلب کی خصوصی سہولت بھی دستیاب ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہوٹل براہِ راست دبئی مرینا بورڈ واک سے منسلک ہوگا، جس سے پانی کی ٹیکسی، مرینا مال، ٹرام اور میٹرو تک آسان رسائی حاصل ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پراجیکٹ کے منتظمین کے مطابق یہ شاندار ہوٹل دبئی کی سیاحت اور کاروباری سفر میں عالمی مرکز کے طور پر حیثیت مزید مضبوط کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہوٹل کے ایک رات کے کمرے کا کرایہ فی فرد پاکستانی ایک لاکھ 75 ہزار روپے سے شروع ہوگا جب کہ اس کے مختلف کمروں کے کرائے مختلف ہوں گے اور فی فرد کرایہ تین لاکھ روپے تک بھی ہوگا۔۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہوٹل میں رہائش کے دوران کھانے، پینے اور دیگر سہولیات حاصل کرنے کے لیے الگ سے پیسے رکھے جانے کی توقع ہے جب کہ سہولیات اور کھانے، پینے کے بغیر بھی کمرے دستیاب ہوں گے، تاہم اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی ریاست دبئی میں دنیا کا <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.cieldubai.com/"><strong>بلند ترین ہوٹل</strong></a> ’سیئل دبئی مرینا‘ تیار ہوگیا، اس کا افتتاح رواں سال نومبر میں کیا جائے گا۔</p>
<p>عرب اخبار ’گلف نیوز‘ کے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://gulfnews.com/business/tourism/worlds-tallest-hotel-ciel-dubai-marina-gets-an-opening-date-1.500265509"><strong>مطابق</strong></a> دنیا کا بلند ترین ہوٹل 82 منزلہ عمارت ہے جو کہ 377 میٹر بلند ہے، اس میں دنیا کا سب سے بلند انفینٹی پول بھی بنایا گیا ہے۔</p>
<p>ایوارڈ یافتہ فرم نورر نے اس ٹاور کا ڈیزائن تیار کیا ہے، جس میں 1004 کمرے اور سوئٹس شامل ہیں۔</p>
<p>دنیا کے پرتعیش ہوٹلوں میں سے ایک ہوٹل کے ہر کمرے میں فلور ٹو سیلنگ کھڑکیاں نصب ہوں گی جن سے پام جمیرا اور عرب خلیج کے دلکش نظارے دیکھے جا سکیں گے۔</p>
<p>ہوٹل میں آٹھ منفرد ڈائننگ وینیوز ہیں، جن میں سب سے نمایاں تاتو دبئی ہے، جو تین منزلوں پر مشتمل ایک جدید ایشیائی ریستوران اور بار ہوگا۔</p>
<p>اس کے ساتھ تاتو اسکائی پول 76 ویں منزل پر اور تاتو اسکائی لاؤنج 81 ویں منزل پر واقع ہے، جہاں سے 360 ڈگری مناظر بھی دیکھے جا سکیں گے۔</p>
<p>دیگر ریستورانوں میں بحیرہ روم کے کھانوں پر مشتمل ویسٹ 13، مشرقی کھانوں پر مشتمل ایسٹ 14 اور مقامی برانڈ رائزن کیفے اینڈ آرٹیزنل بیکری شامل ہیں۔</p>
<p>مہمانوں کے لیے 61 ویں فلور پر لگژری اسپا، 24/7 جدید جم اور پام جمیرا پر واقع سولونا بیچ کلب کی خصوصی سہولت بھی دستیاب ہوگی۔</p>
<p>ہوٹل براہِ راست دبئی مرینا بورڈ واک سے منسلک ہوگا، جس سے پانی کی ٹیکسی، مرینا مال، ٹرام اور میٹرو تک آسان رسائی حاصل ہوگی۔</p>
<p>پراجیکٹ کے منتظمین کے مطابق یہ شاندار ہوٹل دبئی کی سیاحت اور کاروباری سفر میں عالمی مرکز کے طور پر حیثیت مزید مضبوط کرے گا۔</p>
<p>ہوٹل کے ایک رات کے کمرے کا کرایہ فی فرد پاکستانی ایک لاکھ 75 ہزار روپے سے شروع ہوگا جب کہ اس کے مختلف کمروں کے کرائے مختلف ہوں گے اور فی فرد کرایہ تین لاکھ روپے تک بھی ہوگا۔۔</p>
<p>ہوٹل میں رہائش کے دوران کھانے، پینے اور دیگر سہولیات حاصل کرنے کے لیے الگ سے پیسے رکھے جانے کی توقع ہے جب کہ سہولیات اور کھانے، پینے کے بغیر بھی کمرے دستیاب ہوں گے، تاہم اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1269052</guid>
      <pubDate>Thu, 11 Sep 2025 23:51:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/09/11231008271fa42.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/09/11231008271fa42.webp"/>
        <media:title>—فوٹو: کمپنی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چاہت فتح علی خان پر انڈوں سے حملہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1269026/</link>
      <description>&lt;p&gt;معروف کامیڈین گلوکار چاہت فتح علی خان پر برطانیہ میں انڈوں سے حملہ کرنے کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی مختصر ویڈیو میں چاہت فتح علی خان کو ایک مقام پر مداحوں کے ساتھ سیلفی اور ویڈیوز بناتے دیکھا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویڈیو میں چاہت فتح علی خان کو خوشگوار موڈ میں دیکھا جا سکتا ہے، تاہم اسی دوران اچانک ان پر دو افراد انڈوں سے حملہ کر دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1268520"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دو افراد تیزی سے بھاگتے ہوئے چاہت فتح علی خان کے سر پر دو انڈے پھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویڈیو میں چاہت فتح علی خان کے سر پر انڈے پھوڑنے والے افراد کے چہرے دکھائی نہیں دیتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چاہت فتح علی خان پر انڈوں سے حملے کے وقت ان کے ساتھ ویڈیوز اور تصاویر بنوانے والے افراد بھی حیران رہ جاتے ہیں جب کہ کامیڈین بھی پریشان دکھائی دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویڈیو میں گلوکار پر انڈوں سے حملہ کرکے فرار ہونے والے افراد کو چاہت فتح علی خان کا گانا ’بدو بدی‘ بھی گنگناتے دیکھا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چاہت فتح علی خان پر انڈوں سے حملے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد صارفین نے رد عمل دیتے ہوئے ان پر حملے کی مذمت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا صارفین نے لکھا کہ اگرچہ انہیں چاہت فتح علی خان کی گلوکاری پسند نہیں، تاہم ان پر انڈوں سے حملہ کرنے نامناسب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا صارفین نے چاہت فتح علی خان پر حملہ کرنے والے ملزمان کو گرفتار کرکے سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'&gt;&lt;blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/reel/DOdTm81iJDZ/?utm_source=ig_embed&amp;amp;ig_rid=508494ff-becb-49fa-bf48-7a0397c434ca" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"&gt;&lt;div style="padding:16px;"&gt; &lt;a href="https://www.instagram.com/reel/DOdTm81iJDZ/?utm_source=ig_embed&amp;amp;ig_rid=508494ff-becb-49fa-bf48-7a0397c434ca" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"&gt; &lt;div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 19% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"&gt;&lt;svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"&gt;&lt;g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"&gt;&lt;g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"&gt;&lt;g&gt;&lt;path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"&gt;&lt;/path&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding-top: 8px;"&gt; &lt;div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"&gt; View this post on Instagram&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 12.5% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"&gt;&lt;div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: 8px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: auto;"&gt; &lt;div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/a&gt;&lt;p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"&gt;&lt;a href="https://www.instagram.com/reel/DOdTm81iJDZ/?utm_source=ig_embed&amp;amp;ig_rid=508494ff-becb-49fa-bf48-7a0397c434ca" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;script async src="https://www.instagram.com/embed.js"&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>معروف کامیڈین گلوکار چاہت فتح علی خان پر برطانیہ میں انڈوں سے حملہ کرنے کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔</p>
<p>سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی مختصر ویڈیو میں چاہت فتح علی خان کو ایک مقام پر مداحوں کے ساتھ سیلفی اور ویڈیوز بناتے دیکھا جا سکتا ہے۔</p>
<p>ویڈیو میں چاہت فتح علی خان کو خوشگوار موڈ میں دیکھا جا سکتا ہے، تاہم اسی دوران اچانک ان پر دو افراد انڈوں سے حملہ کر دیتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1268520"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دو افراد تیزی سے بھاگتے ہوئے چاہت فتح علی خان کے سر پر دو انڈے پھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں۔</p>
<p>ویڈیو میں چاہت فتح علی خان کے سر پر انڈے پھوڑنے والے افراد کے چہرے دکھائی نہیں دیتے۔</p>
<p>چاہت فتح علی خان پر انڈوں سے حملے کے وقت ان کے ساتھ ویڈیوز اور تصاویر بنوانے والے افراد بھی حیران رہ جاتے ہیں جب کہ کامیڈین بھی پریشان دکھائی دیتے ہیں۔</p>
<p>ویڈیو میں گلوکار پر انڈوں سے حملہ کرکے فرار ہونے والے افراد کو چاہت فتح علی خان کا گانا ’بدو بدی‘ بھی گنگناتے دیکھا جا سکتا ہے۔</p>
<p>چاہت فتح علی خان پر انڈوں سے حملے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد صارفین نے رد عمل دیتے ہوئے ان پر حملے کی مذمت کی۔</p>
<p>سوشل میڈیا صارفین نے لکھا کہ اگرچہ انہیں چاہت فتح علی خان کی گلوکاری پسند نہیں، تاہم ان پر انڈوں سے حملہ کرنے نامناسب ہے۔</p>
<p>سوشل میڈیا صارفین نے چاہت فتح علی خان پر حملہ کرنے والے ملزمان کو گرفتار کرکے سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'><blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/reel/DOdTm81iJDZ/?utm_source=ig_embed&amp;ig_rid=508494ff-becb-49fa-bf48-7a0397c434ca" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"><div style="padding:16px;"> <a href="https://www.instagram.com/reel/DOdTm81iJDZ/?utm_source=ig_embed&amp;ig_rid=508494ff-becb-49fa-bf48-7a0397c434ca" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"> <div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"></div></div></div><div style="padding: 19% 0;"></div> <div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"><svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"><g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"><g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"><g><path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"></path></g></g></g></svg></div><div style="padding-top: 8px;"> <div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"> View this post on Instagram</div></div><div style="padding: 12.5% 0;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"><div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"></div></div><div style="margin-left: 8px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"></div></div><div style="margin-left: auto;"> <div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"></div></div></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"></div></div></a><p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"><a href="https://www.instagram.com/reel/DOdTm81iJDZ/?utm_source=ig_embed&amp;ig_rid=508494ff-becb-49fa-bf48-7a0397c434ca" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"></a></p></div></blockquote><script async src="https://www.instagram.com/embed.js"></script></div>
        
    </figure></p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1269026</guid>
      <pubDate>Thu, 11 Sep 2025 19:39:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انٹرٹینمنٹ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/09/1119381627a32b1.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/09/1119381627a32b1.webp"/>
        <media:title>—اسکرین شاٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پہلی بار ویٹی کن سٹی میں ایل جی بی ٹی کیو افراد کی سرکاری سطح پر عبادت</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1268760/</link>
      <description>&lt;p&gt;پہلی بار آفیشل سطح پر تقریبا 1400 ایل جی بی ٹی کیو افراد اور ان کے خاندانوں نے کیتھولک مسیحیوں کے مقدس مقام ویٹیکن  میں سرکاری طور پر تسلیم شدہ زیارت میں حصہ لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ (&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://apnews.com/article/vatican-pope-lgbtq-197507e47890e2e5115a7f784d0bef04"&gt;&lt;strong&gt;اے پی&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;) کے مطابق ایل جی بی ٹی کیو  زائرین 20 ممالک سے آئے تھے اور انہوں نے رینبو لباس پہن کر اور صلیبیں اٹھا کر دعائیہ اجتماعات، ماس اور دیگر سرگرمیوں میں شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیارت ویٹیکن کے سرکاری کیلنڈر میں شامل تھی لیکن ویٹیکن نے واضح کیا کہ اس کا مطلب ایل جی بی ٹی کیو کی حمایت یا اسپانسرشپ نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایل جی بی ٹی کیو زائرین سینٹ پیٹرز باسیلیکا کے ہولی ڈور سے داخل ہوئے جو ہر 25 سال بعد کھلتا ہے اور مفاہمت کی علامت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ زیارت کا انتظام اطالوی ایل جی بی ٹی کیو ایڈووکیسی تنظیم ’جوناتھن ٹینٹ‘ نے کیا جبکہ دیگر گروپس نے اس میں معاونت فراہم کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پوپ فرانسس جو اپریل 2025 میں انتقال کر گئے تھے، انہوں نے اپنے 12 سالہ دور میں ایل جی بی ٹی کیو افراد کے لیے خیرمقدم کا پیغام دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے 2013 میں کہا تھا کہ وہ کون ہیں فیصلہ کرنے والے؟ اور 2023 میں انہوں نے ہم جنس جوڑوں کو شادی کی اجازت دی، جس پر متعدد مسیحی مذہبی رہنما ان سے ناراض بھی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ پوپ لیو جو مئی 2025 میں منتخب ہوئے، انہوں نے تاحال ایل جی بی ٹی کیو کمیونٹی کے بارے میں عوامی طور پر کوئی بیان نہیں دیا اور نہ ہی 2023 کے فرمان پر تبصرہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پہلی بار آفیشل سطح پر تقریبا 1400 ایل جی بی ٹی کیو افراد اور ان کے خاندانوں نے کیتھولک مسیحیوں کے مقدس مقام ویٹیکن  میں سرکاری طور پر تسلیم شدہ زیارت میں حصہ لیا۔</p>
<p>خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ (<a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://apnews.com/article/vatican-pope-lgbtq-197507e47890e2e5115a7f784d0bef04"><strong>اے پی</strong></a>) کے مطابق ایل جی بی ٹی کیو  زائرین 20 ممالک سے آئے تھے اور انہوں نے رینبو لباس پہن کر اور صلیبیں اٹھا کر دعائیہ اجتماعات، ماس اور دیگر سرگرمیوں میں شرکت کی۔</p>
<p>زیارت ویٹیکن کے سرکاری کیلنڈر میں شامل تھی لیکن ویٹیکن نے واضح کیا کہ اس کا مطلب ایل جی بی ٹی کیو کی حمایت یا اسپانسرشپ نہیں۔</p>
<p>ایل جی بی ٹی کیو زائرین سینٹ پیٹرز باسیلیکا کے ہولی ڈور سے داخل ہوئے جو ہر 25 سال بعد کھلتا ہے اور مفاہمت کی علامت ہے۔</p>
<p>مذکورہ زیارت کا انتظام اطالوی ایل جی بی ٹی کیو ایڈووکیسی تنظیم ’جوناتھن ٹینٹ‘ نے کیا جبکہ دیگر گروپس نے اس میں معاونت فراہم کی۔</p>
<p>پوپ فرانسس جو اپریل 2025 میں انتقال کر گئے تھے، انہوں نے اپنے 12 سالہ دور میں ایل جی بی ٹی کیو افراد کے لیے خیرمقدم کا پیغام دیا۔</p>
<p>انہوں نے 2013 میں کہا تھا کہ وہ کون ہیں فیصلہ کرنے والے؟ اور 2023 میں انہوں نے ہم جنس جوڑوں کو شادی کی اجازت دی، جس پر متعدد مسیحی مذہبی رہنما ان سے ناراض بھی ہوئے۔</p>
<p>موجودہ پوپ لیو جو مئی 2025 میں منتخب ہوئے، انہوں نے تاحال ایل جی بی ٹی کیو کمیونٹی کے بارے میں عوامی طور پر کوئی بیان نہیں دیا اور نہ ہی 2023 کے فرمان پر تبصرہ کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1268760</guid>
      <pubDate>Mon, 08 Sep 2025 22:52:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/09/082123156ce0f41.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/09/082123156ce0f41.webp"/>
        <media:title>—فوٹو: اے پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سابق بیوی پر لگژری گاڑی کا ہرجانہ دائر کرنے والے شخص کو جرمانہ ہوگیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1268564/</link>
      <description>&lt;p&gt;متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں طلاق کے بعد لگژری گاڑی چلاتے رہنے پر ہرجانے کا دعویٰ کرنے والے شوہر پر عدالت نے جرمانہ عائد کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شوہر نے اپنی سابق بیوی پر 2 لاکھ 74 ہزار درہم ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا تھا اور کہا تھا کہ طلاق کے بعد بھی ان کی سابق بیوی ان کی گاڑی چلاتی رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’گلف نیوز‘ نے دوسرے نشریاتی ادارے کی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://gulfnews.com/uae/government/dubai-court-rejects-mans-dh274000-claim-against-ex-wife-over-luxury-car-1.500258041"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اماراتی شہری نے دبئی سول کورٹ کو بتایا کہ گاڑی ان کے نام پر رجسٹرڈ ہے اور ان پر بینک کا قرض ہے، جس کی ماہانہ قسط 9,000 درہم سے زائد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی سابقہ بیوی نے طلاق کے بعد 27 ماہ تک گاڑی استعمال کی اور اسے واپس نہیں کیا، جس کی وجہ سے اسے قسطیں ادا کرنی پڑیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1267704"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے عدالت میں گاڑی کی رجسٹریشن کے کاغذات، طلاق کے کاغذات اور شریعت عدالت کی جانب سے گاڑی واپس کرنے کے حکم نامے کے دستاویزات بھی پیش کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابقہ بیوی نے عدالت میں خود پیش ہوکر دعوے کو مسترد کیا اور کہا کہ انہوں نے گاڑی اپنے بچے کی نقل و حرکت کے لیے استعمال کی کیونکہ بچہ ان کی تحویل میں تھا اور عدالت کے حکم پر گاڑی واپس کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خاتون نے شادی اور طلاق کے ثبوت، عدالت کی جانب سے گاڑی واپسی کے حکم کے دستاویزات اور گاڑی کے ٹریفک جرمانوں کی ادائیگی کی رسیدیں بھی پیش کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے قانون کے تحت نقصان کے دعوے کے لیے غلطی، نقصان اور اس کی وجہ کا ثبوت ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ججز نے نوٹ کیا کہ مرد نے یہ ثابت نہیں کیا کہ اس کی سابقہ بیوی کو گاڑی پہلے واپس کرنی تھی یا نہیں جب کہ واٹس ایپ پیغامات سے پتا چلا کہ انہوں نے گاڑی تحفے کے طور پر بیوی کو دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے کہا کہ مرد کی جانب سے کیے جانے والے دعوے ثابت نہیں ہوئے اور خاتون کی جانب سے کسی غلط عمل کیے جانے کا معاملہ بھی سامنے نہیں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے مرد کا ہرجانے کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے انہیں عدالتی اخراجات بھی ادا کرنے کا حکم دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں طلاق کے بعد لگژری گاڑی چلاتے رہنے پر ہرجانے کا دعویٰ کرنے والے شوہر پر عدالت نے جرمانہ عائد کردیا۔</p>
<p>شوہر نے اپنی سابق بیوی پر 2 لاکھ 74 ہزار درہم ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا تھا اور کہا تھا کہ طلاق کے بعد بھی ان کی سابق بیوی ان کی گاڑی چلاتی رہیں۔</p>
<p>’گلف نیوز‘ نے دوسرے نشریاتی ادارے کی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://gulfnews.com/uae/government/dubai-court-rejects-mans-dh274000-claim-against-ex-wife-over-luxury-car-1.500258041"><strong>رپورٹ</strong></a> کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اماراتی شہری نے دبئی سول کورٹ کو بتایا کہ گاڑی ان کے نام پر رجسٹرڈ ہے اور ان پر بینک کا قرض ہے، جس کی ماہانہ قسط 9,000 درہم سے زائد ہے۔</p>
<p>انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی سابقہ بیوی نے طلاق کے بعد 27 ماہ تک گاڑی استعمال کی اور اسے واپس نہیں کیا، جس کی وجہ سے اسے قسطیں ادا کرنی پڑیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1267704"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے عدالت میں گاڑی کی رجسٹریشن کے کاغذات، طلاق کے کاغذات اور شریعت عدالت کی جانب سے گاڑی واپس کرنے کے حکم نامے کے دستاویزات بھی پیش کیے۔</p>
<p>سابقہ بیوی نے عدالت میں خود پیش ہوکر دعوے کو مسترد کیا اور کہا کہ انہوں نے گاڑی اپنے بچے کی نقل و حرکت کے لیے استعمال کی کیونکہ بچہ ان کی تحویل میں تھا اور عدالت کے حکم پر گاڑی واپس کردی۔</p>
<p>خاتون نے شادی اور طلاق کے ثبوت، عدالت کی جانب سے گاڑی واپسی کے حکم کے دستاویزات اور گاڑی کے ٹریفک جرمانوں کی ادائیگی کی رسیدیں بھی پیش کیں۔</p>
<p>عدالت نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے قانون کے تحت نقصان کے دعوے کے لیے غلطی، نقصان اور اس کی وجہ کا ثبوت ضروری ہے۔</p>
<p>ججز نے نوٹ کیا کہ مرد نے یہ ثابت نہیں کیا کہ اس کی سابقہ بیوی کو گاڑی پہلے واپس کرنی تھی یا نہیں جب کہ واٹس ایپ پیغامات سے پتا چلا کہ انہوں نے گاڑی تحفے کے طور پر بیوی کو دی تھی۔</p>
<p>عدالت نے کہا کہ مرد کی جانب سے کیے جانے والے دعوے ثابت نہیں ہوئے اور خاتون کی جانب سے کسی غلط عمل کیے جانے کا معاملہ بھی سامنے نہیں آیا۔</p>
<p>عدالت نے مرد کا ہرجانے کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے انہیں عدالتی اخراجات بھی ادا کرنے کا حکم دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Amazing</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1268564</guid>
      <pubDate>Fri, 05 Sep 2025 23:43:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/09/052210476baa6dd.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/09/052210476baa6dd.webp"/>
        <media:title>—اسکرین شاٹ/ یوٹیوب
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سموسے نہ لانے پر شوہر پر بیوی اور سسرالیوں کا تشدد، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1268525/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع پیلی بھیت میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں بیوی نے شوہر کو صرف اس لیے سسرالی رشتہ داروں کے ساتھ مل کر تشدد کا نشانہ بنایا کیونکہ وہ سموسے نہیں لایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://timesofindia.indiatimes.com/city/bareilly/clash-over-samosas-up-man-thrashed-with-kicks-and-punches-by-wife-in-laws-fir-registered/articleshow/123714398.cms"&gt;ٹائمز آف انڈیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کی رپورٹ کے مطابق بیوی سنگیتا نے شوہر شیوم سے سموسے لانے کی فرمائش کی، لیکن جب وہ نہ لا سکا تو ناراض ہو کر اس نے اگلے روز اپنے والدین اور ماموں کو بلا لیا اور گاؤں کی پنچایت میں شوہر کو زبردستی لے جا کر سب نے مل کر اسے بری طرح پیٹا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی، جس کے بعد پولیس نے کارروائی شروع کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'&gt;&lt;blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/reel/DONw7JZAKDC/" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"&gt;&lt;div style="padding:16px;"&gt; &lt;a href="https://www.instagram.com/reel/DONw7JZAKDC/" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"&gt; &lt;div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 19% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"&gt;&lt;svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"&gt;&lt;g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"&gt;&lt;g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"&gt;&lt;g&gt;&lt;path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"&gt;&lt;/path&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding-top: 8px;"&gt; &lt;div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"&gt; View this post on Instagram&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 12.5% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"&gt;&lt;div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: 8px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: auto;"&gt; &lt;div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/a&gt;&lt;p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"&gt;&lt;a href="https://www.instagram.com/reel/DONw7JZAKDC/" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;script async src="https://www.instagram.com/embed.js"&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تشدد کا نشانہ بننے والے شیوم کی والدہ وجے کماری نے پولیس کو تحریری شکایت درج کروائی جس پر سنگیتا، اس کے والدین اور ماموں سمیت 4 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق ملزمان پر بھارتیہ نیايا سنہ (بی این ایس) کے تحت اقدامِ قتل کی دفعات لگائی گئی ہیں اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کا کہنا ہے کہ شیوم کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے، جب کہ مقدمے کی روشنی میں ملزمان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع پیلی بھیت میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں بیوی نے شوہر کو صرف اس لیے سسرالی رشتہ داروں کے ساتھ مل کر تشدد کا نشانہ بنایا کیونکہ وہ سموسے نہیں لایا تھا۔</p>
<p><strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://timesofindia.indiatimes.com/city/bareilly/clash-over-samosas-up-man-thrashed-with-kicks-and-punches-by-wife-in-laws-fir-registered/articleshow/123714398.cms">ٹائمز آف انڈیا</a></strong> کی رپورٹ کے مطابق بیوی سنگیتا نے شوہر شیوم سے سموسے لانے کی فرمائش کی، لیکن جب وہ نہ لا سکا تو ناراض ہو کر اس نے اگلے روز اپنے والدین اور ماموں کو بلا لیا اور گاؤں کی پنچایت میں شوہر کو زبردستی لے جا کر سب نے مل کر اسے بری طرح پیٹا۔</p>
<p>مذکورہ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی، جس کے بعد پولیس نے کارروائی شروع کر دی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'><blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/reel/DONw7JZAKDC/" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"><div style="padding:16px;"> <a href="https://www.instagram.com/reel/DONw7JZAKDC/" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"> <div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"></div></div></div><div style="padding: 19% 0;"></div> <div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"><svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"><g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"><g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"><g><path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"></path></g></g></g></svg></div><div style="padding-top: 8px;"> <div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"> View this post on Instagram</div></div><div style="padding: 12.5% 0;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"><div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"></div></div><div style="margin-left: 8px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"></div></div><div style="margin-left: auto;"> <div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"></div></div></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"></div></div></a><p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"><a href="https://www.instagram.com/reel/DONw7JZAKDC/" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"></a></p></div></blockquote><script async src="https://www.instagram.com/embed.js"></script></div>
        
    </figure></p>
<p>تشدد کا نشانہ بننے والے شیوم کی والدہ وجے کماری نے پولیس کو تحریری شکایت درج کروائی جس پر سنگیتا، اس کے والدین اور ماموں سمیت 4 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔</p>
<p>پولیس کے مطابق ملزمان پر بھارتیہ نیايا سنہ (بی این ایس) کے تحت اقدامِ قتل کی دفعات لگائی گئی ہیں اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔</p>
<p>پولیس کا کہنا ہے کہ شیوم کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے، جب کہ مقدمے کی روشنی میں ملزمان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1268525</guid>
      <pubDate>Fri, 05 Sep 2025 16:36:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (لائف اینڈ اسٹائل ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/09/0515174850e50fd.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/09/0515174850e50fd.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: اسکرین گریب
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عمان میں لوبان کے درختوں کو بچانے کا حکومتی منصوبہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1268496/</link>
      <description>&lt;p&gt;خلیجی ملک عمان میں حکام لوبان کے قیمتی درختوں کو بچانے کے لیے انہیں ایک سے دوسرے جگہ منتقل کرنے میں مصروف ہیں اور اب تک درجنوں درختوں کو منتقل کیا جا چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لوبان کو عمان کے مقامی لوگ ’سفید سونا‘ بھی کہتے ہیں، وہاں وادی داوکہ میں دنیا کے سب سے بڑے اور زیادہ لوبان کے درخت موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ وادی میں تقریباً 5 ہزار لوبان کے درخت موجود ہیں، ان درختوں سے نکلنے والا رس خوشبوؤں، جلد کی دیکھ بھال اور روایتی علاج کے لیے استعمال ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لوبان کے درختوں سے نکلنے والا رس خشک ہونے کے بعد گوندھ کی شکل اختیار کرلیتا ہے، جسے دنیا بھر میں بھیجا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لوہبان نہ صرف خوشبو کے لیے بلکہ روایتی علاج اور مذہبی رسومات کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس کی سب سے اعلیٰ قسم ہلکے سبز رنگ کی ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمان کے مقامی لوگ لوبان کو سونے سے بھی زیادہ قیمتی سمجھتے ہیں جب کہ عمان کی مشہور پرفیوم کمپنی ایمواج اس رس سے مہنگی خوشبوئیں بناتی ہے، جن کی ایک بوتل کی قیمت ہزاروں ڈالر تک ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کہا جاتا ہے کہ لوبان کا کاروبار ہزاروں سال پہلے شروع ہوا تھا اور یہ مصر، یونان، روم اور چین تک پھیلا ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمان کی وادی داوکہ سال 2000 سے یونیسکو کے عالمی ورثے کی فہرست میں شامل ہے اور مقامی ماہرین کے مطابق کسی زمانے میں لوبان کے ذخائر کی قیمت آج کے تیل جتنی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لوبان کا رس ہاتھ سے جمع کیا جاتا ہے، درخت کی چھال کو کاٹ کر رس نکالا جاتا ہے، جو چند دنوں میں سخت ہوکر گوندھ کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس عمل میں بہت احتیاط کرنی پڑتی ہے کیونکہ درخت کو نقصان پہنچانا خطرناک ہو سکتا ہے، اگر درخت کو نقصان ہوا تو اس سے دوبارہ لوبان حاصل کرنا مشکل بن جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب عمانی حکام مقامی کمپنی ایمواج کے ساتھ مل کر وادی داوکہ کے لوبان کے درختوں کو محفوظ بنانے پر کام کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://gulfnews.com/world/gulf/oman/in-oil-rich-oman-efforts-to-preserve-frankincense-white-gold-2-1.500252645"&gt;&lt;strong&gt;مطابق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کمپنی اور حکام مشترکہ طور پر اب صرف درخت کے پانچویں حصے سے رس جمع کرتے ہیں تاکہ درخت محفوظ رہیں، علاوہ ازیں درختوں کو دوسری محفوظ جگہ پر بھی منتقل کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وادی داوکہ میں درختوں کی نگرانی پر مامور عہدیدار محمد فرج استنبولی کے مطابق سڑکیں تعمیر کرنے سمیت دیگر تعمیراتی منصوبوں سے لوبان کے درختوں کو خطرہ ہے، اس لیے ان درختوں کو وادی سے منتقل کیا جا رہا ہے اور اب تک 600 درخت منتقل کیے جا چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>خلیجی ملک عمان میں حکام لوبان کے قیمتی درختوں کو بچانے کے لیے انہیں ایک سے دوسرے جگہ منتقل کرنے میں مصروف ہیں اور اب تک درجنوں درختوں کو منتقل کیا جا چکا ہے۔</p>
<p>لوبان کو عمان کے مقامی لوگ ’سفید سونا‘ بھی کہتے ہیں، وہاں وادی داوکہ میں دنیا کے سب سے بڑے اور زیادہ لوبان کے درخت موجود ہیں۔</p>
<p>مذکورہ وادی میں تقریباً 5 ہزار لوبان کے درخت موجود ہیں، ان درختوں سے نکلنے والا رس خوشبوؤں، جلد کی دیکھ بھال اور روایتی علاج کے لیے استعمال ہوتا ہے۔</p>
<p>لوبان کے درختوں سے نکلنے والا رس خشک ہونے کے بعد گوندھ کی شکل اختیار کرلیتا ہے، جسے دنیا بھر میں بھیجا جاتا ہے۔</p>
<p>لوہبان نہ صرف خوشبو کے لیے بلکہ روایتی علاج اور مذہبی رسومات کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس کی سب سے اعلیٰ قسم ہلکے سبز رنگ کی ہوتی ہے۔</p>
<p>عمان کے مقامی لوگ لوبان کو سونے سے بھی زیادہ قیمتی سمجھتے ہیں جب کہ عمان کی مشہور پرفیوم کمپنی ایمواج اس رس سے مہنگی خوشبوئیں بناتی ہے، جن کی ایک بوتل کی قیمت ہزاروں ڈالر تک ہو سکتی ہے۔</p>
<p>کہا جاتا ہے کہ لوبان کا کاروبار ہزاروں سال پہلے شروع ہوا تھا اور یہ مصر، یونان، روم اور چین تک پھیلا ہوا تھا۔</p>
<p>عمان کی وادی داوکہ سال 2000 سے یونیسکو کے عالمی ورثے کی فہرست میں شامل ہے اور مقامی ماہرین کے مطابق کسی زمانے میں لوبان کے ذخائر کی قیمت آج کے تیل جتنی تھی۔</p>
<p>لوبان کا رس ہاتھ سے جمع کیا جاتا ہے، درخت کی چھال کو کاٹ کر رس نکالا جاتا ہے، جو چند دنوں میں سخت ہوکر گوندھ کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔</p>
<p>اس عمل میں بہت احتیاط کرنی پڑتی ہے کیونکہ درخت کو نقصان پہنچانا خطرناک ہو سکتا ہے، اگر درخت کو نقصان ہوا تو اس سے دوبارہ لوبان حاصل کرنا مشکل بن جاتا ہے۔</p>
<p>اب عمانی حکام مقامی کمپنی ایمواج کے ساتھ مل کر وادی داوکہ کے لوبان کے درختوں کو محفوظ بنانے پر کام کر رہی ہے۔</p>
<p>خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://gulfnews.com/world/gulf/oman/in-oil-rich-oman-efforts-to-preserve-frankincense-white-gold-2-1.500252645"><strong>مطابق</strong></a> کمپنی اور حکام مشترکہ طور پر اب صرف درخت کے پانچویں حصے سے رس جمع کرتے ہیں تاکہ درخت محفوظ رہیں، علاوہ ازیں درختوں کو دوسری محفوظ جگہ پر بھی منتقل کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>وادی داوکہ میں درختوں کی نگرانی پر مامور عہدیدار محمد فرج استنبولی کے مطابق سڑکیں تعمیر کرنے سمیت دیگر تعمیراتی منصوبوں سے لوبان کے درختوں کو خطرہ ہے، اس لیے ان درختوں کو وادی سے منتقل کیا جا رہا ہے اور اب تک 600 درخت منتقل کیے جا چکے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1268496</guid>
      <pubDate>Fri, 05 Sep 2025 13:09:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/09/04231406ee1acb3.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/09/04231406ee1acb3.webp"/>
        <media:title>لوبان کا رس ہاتھ سے جمع کیا جاتا ہے — فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
