<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Business</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 02:00:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 02:00:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وفاقی کابینہ نے پیٹرول ڈیلرز اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے منافع میں اضافے کی منظوری روک دی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275047/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد:&lt;/strong&gt; وفاقی کابینہ نے ڈیلرز کمیشن اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کے منافع کے مارجن میں اس اضافے کو روک دیا ہے جس کی منظوری گزشتہ ماہ کے اوائل میں اس کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1965752"&gt;&lt;strong&gt;خبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق باخبر ذرائع نے ’ڈان‘ کو بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں وفاقی کابینہ نے ای سی سی کی جانب سے منظور شدہ 2.56 روپے فی لیٹر اضافی مراعات کو پیٹرولیم انڈسٹری کے ریٹیل بزنس کے لیے سپلائی چین کی مکمل ڈیجیٹائزیشن سے مشروط کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;9 دسمبر کو وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی صدارت میں ہونے والے ای سی سی کے اجلاس میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ان کے ڈیلرز کے منافع کو بہتر بنانے کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں دو مراحل میں 2.56 روپے فی لیٹر کے اضافی اضافے کی منظوری دی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای سی سی نے اعلان کیا تھا کہ اس نے او ایم سیز اور پیٹرولیم ڈیلرز کے مارجن پر نظرثانی کی تجویز منظور کر لی ہے، جس میں پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزیل پر 24-2023 اور 25-2024 کے قومی کنزیومر پرائس انڈیکس (مہنگائی کے اشاریہ) کے مطابق 5 سے 10 فیصد کے درمیان اضافے کی حد مقرر کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلان میں کہا گیا تھا کہ ’یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ مارجن میں آدھا اضافہ فوری طور پر ادا کیا جائے گا جبکہ بقیہ نصف ڈیجیٹائزیشن کی پیشرفت سے مشروط ہوگا، جس پر پیٹرولیم ڈویژن یکم جون 2026 تک رپورٹ پیش کرے گا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فیصلے کے تحت ای سی سی نے دو برابر اقساط میں او ایم سیز کے لیے 1.22 روپے فی لیٹر اور پٹرولیم ڈیلرز کے لیے 1.34 روپے فی لیٹر اضافے کی اجازت دی تھی۔ او ایم سیز کے لیے 61 پیسے فی لیٹر اور ڈیلرز کے لیے 67 پیسے فی لیٹر کا پہلا اضافہ 15 یا 31 دسمبر کو قیمتوں پر نظرثانی کے ساتھ نافذ ہونا تھا۔ اس سے فوری طور پر او ایم سیز کا مارجن 8.48 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیلرز کا مارجن بڑھ کر 9.31 روپے فی لیٹر ہو جانا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا مساوی اضافہ یکم جون 2026 کو نافذ ہونا تھا، جو ان کے سیلز اور اسٹاک نیٹ ورک کی ڈیجیٹائزیشن اور سرکاری اداروں جیسے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا)، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور یپٹرولیم ڈویژن کے ساتھ لائیو رابطے سے مشروط تھا۔ اس اضافے کے ساتھ او ایم سیز 9.10 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیلرز ہر لیٹر کی فروخت پر تقریباً 9.98 روپے وصول کرتے۔ اس وقت او ایم سیز کو 7.87 روپے اور ڈیلرز کو 8.64 روپے فی لیٹر ادا کیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم حکومت نے 15 اور 31 دسمبر کو قیمتوں میں ہونے والی دو سہ ماہی نظرثانی کے دوران ڈیلرز اور او ایم سیز کے لیے شرح میں کوئی تبدیلی نہیں کی حالانکہ مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رابطہ کرنے پر ایک اہلکار نے بتایا کہ وزیر اعظم جو پیداوار سے کھپت تک پورے پٹرولیم سیکٹر کی ڈیجیٹائزیشن اور ’ڈیجیٹل پاکستان انیشیٹو‘ کو ذاتی طور پر آگے بڑھا رہے ہیں، انہوں نے ریٹیل مارجن میں دو مرحلہ وار اضافے کی مخالفت کی اور ای سی سی کے فیصلے کے نفاذ کو 100 فیصد ڈیجیٹائزیشن سے جوڑ دیا جو ممکنہ طور پر یکم جون 2026 سے نافذ العمل ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اقدام گزشتہ سال اگست میں پارلیمنٹ سے منظور شدہ ایک قانون کے بعد سامنے آیا ہے جس کا مقصد درآمد اور پیداوار کے مرحلے سے لے کر اسٹوریج، نقل و حمل اور ریٹیل آؤٹ لیٹس پر فروخت تک تمام پٹرولیم مصنوعات کی ڈیجیٹل ٹریکنگ اور نگرانی کرنا ہے تاکہ اسمگلنگ اور ملاوٹ کو کم کیا جا سکے، جس سے ماحول اور انجن کی خرابی کے علاوہ سالانہ 300 سے 500 ارب روپے کے ریونیو نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیٹرولیم (ترمیمی) ایکٹ 2025 میں پیٹرولیم مصنوعات کی آئی ٹی پر مبنی ٹریکنگ کے لیے نئی دفعات شامل کی گئی ہیں تاکہ اسمگلنگ کو روکا جا سکے اور غیر قانونی نقل و حمل اور پٹرولیم مصنوعات کی غیر قانونی منتقلی کے خلاف سخت کارروائی کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تمام مقامی ریفائنریز اور بڑی آئل مارکیٹنگ کمپنیاں انفرادی طور پر اور اپنے مشترکہ فورمز سے حکومت سے مطالبہ کرتی رہی ہیں کہ سرحدوں اور پیداوار و فروخت کے مقامی مقامات پر پیٹرولیم مصنوعات بشمول ایل پی جی کی اسمگلنگ کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں کیونکہ اس سے ان کے کاروبار پر منفی اثر پڑتا ہے اور حکومت کو ریونیو کا نقصان ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسلام آباد:</strong> وفاقی کابینہ نے ڈیلرز کمیشن اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کے منافع کے مارجن میں اس اضافے کو روک دیا ہے جس کی منظوری گزشتہ ماہ کے اوائل میں اس کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے دی تھی۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1965752"><strong>خبر</strong></a> کے مطابق باخبر ذرائع نے ’ڈان‘ کو بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں وفاقی کابینہ نے ای سی سی کی جانب سے منظور شدہ 2.56 روپے فی لیٹر اضافی مراعات کو پیٹرولیم انڈسٹری کے ریٹیل بزنس کے لیے سپلائی چین کی مکمل ڈیجیٹائزیشن سے مشروط کر دیا ہے۔</p>
<p>9 دسمبر کو وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی صدارت میں ہونے والے ای سی سی کے اجلاس میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ان کے ڈیلرز کے منافع کو بہتر بنانے کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں دو مراحل میں 2.56 روپے فی لیٹر کے اضافی اضافے کی منظوری دی گئی تھی۔</p>
<p>ای سی سی نے اعلان کیا تھا کہ اس نے او ایم سیز اور پیٹرولیم ڈیلرز کے مارجن پر نظرثانی کی تجویز منظور کر لی ہے، جس میں پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزیل پر 24-2023 اور 25-2024 کے قومی کنزیومر پرائس انڈیکس (مہنگائی کے اشاریہ) کے مطابق 5 سے 10 فیصد کے درمیان اضافے کی حد مقرر کی گئی ہے۔</p>
<p>اعلان میں کہا گیا تھا کہ ’یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ مارجن میں آدھا اضافہ فوری طور پر ادا کیا جائے گا جبکہ بقیہ نصف ڈیجیٹائزیشن کی پیشرفت سے مشروط ہوگا، جس پر پیٹرولیم ڈویژن یکم جون 2026 تک رپورٹ پیش کرے گا‘۔</p>
<p>اس فیصلے کے تحت ای سی سی نے دو برابر اقساط میں او ایم سیز کے لیے 1.22 روپے فی لیٹر اور پٹرولیم ڈیلرز کے لیے 1.34 روپے فی لیٹر اضافے کی اجازت دی تھی۔ او ایم سیز کے لیے 61 پیسے فی لیٹر اور ڈیلرز کے لیے 67 پیسے فی لیٹر کا پہلا اضافہ 15 یا 31 دسمبر کو قیمتوں پر نظرثانی کے ساتھ نافذ ہونا تھا۔ اس سے فوری طور پر او ایم سیز کا مارجن 8.48 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیلرز کا مارجن بڑھ کر 9.31 روپے فی لیٹر ہو جانا تھا۔</p>
<p>دوسرا مساوی اضافہ یکم جون 2026 کو نافذ ہونا تھا، جو ان کے سیلز اور اسٹاک نیٹ ورک کی ڈیجیٹائزیشن اور سرکاری اداروں جیسے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا)، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور یپٹرولیم ڈویژن کے ساتھ لائیو رابطے سے مشروط تھا۔ اس اضافے کے ساتھ او ایم سیز 9.10 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیلرز ہر لیٹر کی فروخت پر تقریباً 9.98 روپے وصول کرتے۔ اس وقت او ایم سیز کو 7.87 روپے اور ڈیلرز کو 8.64 روپے فی لیٹر ادا کیے جاتے ہیں۔</p>
<p>تاہم حکومت نے 15 اور 31 دسمبر کو قیمتوں میں ہونے والی دو سہ ماہی نظرثانی کے دوران ڈیلرز اور او ایم سیز کے لیے شرح میں کوئی تبدیلی نہیں کی حالانکہ مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی گئی تھی۔</p>
<p>رابطہ کرنے پر ایک اہلکار نے بتایا کہ وزیر اعظم جو پیداوار سے کھپت تک پورے پٹرولیم سیکٹر کی ڈیجیٹائزیشن اور ’ڈیجیٹل پاکستان انیشیٹو‘ کو ذاتی طور پر آگے بڑھا رہے ہیں، انہوں نے ریٹیل مارجن میں دو مرحلہ وار اضافے کی مخالفت کی اور ای سی سی کے فیصلے کے نفاذ کو 100 فیصد ڈیجیٹائزیشن سے جوڑ دیا جو ممکنہ طور پر یکم جون 2026 سے نافذ العمل ہوگا۔</p>
<p>یہ اقدام گزشتہ سال اگست میں پارلیمنٹ سے منظور شدہ ایک قانون کے بعد سامنے آیا ہے جس کا مقصد درآمد اور پیداوار کے مرحلے سے لے کر اسٹوریج، نقل و حمل اور ریٹیل آؤٹ لیٹس پر فروخت تک تمام پٹرولیم مصنوعات کی ڈیجیٹل ٹریکنگ اور نگرانی کرنا ہے تاکہ اسمگلنگ اور ملاوٹ کو کم کیا جا سکے، جس سے ماحول اور انجن کی خرابی کے علاوہ سالانہ 300 سے 500 ارب روپے کے ریونیو نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔</p>
<p>پیٹرولیم (ترمیمی) ایکٹ 2025 میں پیٹرولیم مصنوعات کی آئی ٹی پر مبنی ٹریکنگ کے لیے نئی دفعات شامل کی گئی ہیں تاکہ اسمگلنگ کو روکا جا سکے اور غیر قانونی نقل و حمل اور پٹرولیم مصنوعات کی غیر قانونی منتقلی کے خلاف سخت کارروائی کی جا سکے۔</p>
<p>تمام مقامی ریفائنریز اور بڑی آئل مارکیٹنگ کمپنیاں انفرادی طور پر اور اپنے مشترکہ فورمز سے حکومت سے مطالبہ کرتی رہی ہیں کہ سرحدوں اور پیداوار و فروخت کے مقامی مقامات پر پیٹرولیم مصنوعات بشمول ایل پی جی کی اسمگلنگ کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں کیونکہ اس سے ان کے کاروبار پر منفی اثر پڑتا ہے اور حکومت کو ریونیو کا نقصان ہوتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275047</guid>
      <pubDate>Thu, 08 Jan 2026 12:37:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خلیق کیانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/0813121365c5fce.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/0813121365c5fce.webp"/>
        <media:title>وزیر اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں وفاقی کابینہ نے ای سی سی کی جانب سے منظور شدہ 2.56 روپے فی لیٹر اضافی مراعات کو پیٹرولیم انڈسٹری کے ریٹیل بزنس کے لیے سپلائی چین کی مکمل ڈیجیٹائزیشن سے مشروط کر دیا ہے۔فوٹو: پی آئی ڈی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت کا گیس مہنگی کرنے کے بجائے پیٹرولیم لیوی مزید بڑھانے کا منصوبہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275034/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: حکومت نے گیس سیکٹر میں تین ہزار ارب روپے سے زائد کے گردشی قرضے پر قابو پانے کے لیے اوگرا کی جانب سے طے کردہ گیس نرخوں میں اضافے کے بجائے پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس کی شرح بڑھانے کا منصوبہ بنایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1965589/goverment-mulls-fuel-levy-hike-to-aid-gas-sector"&gt;&lt;strong&gt;خبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق منگل کو رکن قومی اسمبلی سید محمد مصطفیٰ کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کا اجلاس ہوا، جس  میں بیان دیتے ہوئے وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف کی ہدایات پر یکم جنوری سے گیس کے نرخ نہیں بڑھائے جا رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر نے تصدیق کی کہ گیس کا گردشی قرضہ لیٹ پیمنٹ سرچارج سمیت تین ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔ تاہم پیٹرول اور ڈیزل پر پانچ روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی بڑھانے کی تجویز سے متعلق اراکین کے سوالات پر انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے علیحدہ بریفنگ دی جا سکتی ہے، البتہ انہوں نے تجویز کی تردید نہیں کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ امر یہ ہے کہ ملک میں گیس صارفین کی تعداد تقریباً ایک کروڑ ہے، جبکہ پیٹرول اور ڈیزل تقریباً پوری آبادی استعمال کرتی ہے۔ حالیہ عرصے میں حکومت پیٹرولیم لیوی کو بڑھا کر اس وقت 82 روپے فی لیٹر تک لے جا چکی ہے، جس کا جواز بجلی صارفین کو سبسڈی، بلوچستان میں سڑکوں کی تعمیر اور مرکز کے لیے آمدن کے بڑے ذریعے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نومبر 2025 کے آخری ہفتے میں اوگرا نے مالی سال 2025-26 کے دوران دونوں گیس کمپنیوں کی تقریباً 886 ارب روپے کی آمدنی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے قدرتی گیس کی قیمت میں سات فیصد تک (118 روپے فی یونٹ) اضافے کا تعین کیا تھا۔ قانون کے تحت حکومت کو 40 دن کے اندر صارفین کے لیے گیس قیمتوں پر فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ آئندہ چھ ماہ تک قیمتیں نہیں بڑھیں گی اور گیس چوری و نقصانات کم کرنے کی اصلاحات کے ساتھ ساتھ زائد ایل این جی کارگو عالمی منڈی میں منتقل کرنے کی طرف اشارہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ قطر کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد اضافی ایل این جی کی عالمی منڈی میں فروخت کے لیے باہمی طور پر قابلِ قبول انتظام طے پا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رکنِ قومی اسمبلی اسد عالم نیازی نے کہا کہ گیس سیکٹر کا گردشی قرضہ بجلی کے شعبے کے مقابلے میں بھی بڑا ہو چکا ہے اور پوچھا کہ کیا پیٹرول اور ڈیزل پر پانچ روپے فی لیٹر لیوی کی تجویز اسی مقصد کے لیے ہے۔ جس کا وزیر پیٹرولیم نے جواب دیا کہ کمیٹی کو باضابطہ بریفنگ دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علی پرویز ملک نے بتایا کہ آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت تیار کردہ گیس گردشی قرضے پر تفصیلی رپورٹ کابینہ کمیٹی برائے توانائی کو پیش کی جا چکی ہے اور نئے گردشی قرضے کے بہاؤ کو روک دیا گیا ہے، جو ایک اہم اصلاحی اقدام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوئی گیس کمپنیوں کے سربراہان نے آپریشنل بہتری سے متعلق اعداد و شمار پیش کیے۔ ایس این جی پی ایل کے منیجنگ ڈائریکٹر عامر طفیل نے بتایا کہ ان کی کمپنی غیر حساب شدہ گیس نقصانات کو نو فیصد سے کم کر کے پانچ فیصد تک لانے میں کامیاب رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ایس جی سی کے مطابق اس کے نقصانات 17 فیصد سے کم ہو کر 10 فیصد رہ گئے ہیں، تاہم بلوچستان میں سالانہ تقریباً 12 ارب روپے کے گیس نقصانات کی نشاندہی کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی رکن سید نوید قمر نے کہا کہ گیس چوری اور نقصانات اکثر ملی بھگت سے ہوتے ہیں، جس پر وزیر نے بتایا کہ نگرانی سخت کرنے کے لیے ملک بھر میں فیڈر ٹو فیڈر مانیٹرنگ نافذ کر دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق اس موسمِ سرما میں گھریلو صارفین کو بہتر گیس فراہمی دی جا رہی ہے۔ ایس این جی پی ایل نے بتایا کہ نومبر میں گزشتہ سال کے مقابلے میں یومیہ 61 ملین مکعب فٹ اضافی گیس فراہم کی گئی، جو دسمبر میں بڑھ کر یومیہ 95 ملین مکعب فٹ ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر کے مطابق اس وقت کسی بھی گھریلو گیس فیلڈ کی فراہمی محدود نہیں، جبکہ بجلی کے شعبے کو اس کی اشاریاتی طلب سے زیادہ گیس دی جا رہی ہے تاکہ لوڈشیڈنگ سے بچا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی کو بتایا گیا کہ ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی کے نظام، جن میں نیٹ ورک کے آخری سروں پر ٹاؤن بارڈر اسٹیشنز شامل ہیں، دباؤ میں کمی کی صورت میں خودکار الرٹس جاری کر رہے ہیں، جس سے حقیقی وقت میں کنٹرول اور سروس ڈیلیوری بہتر ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر نے کہا کہ حکومت ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پیٹرولیم کنسیشنز کی استعداد بڑھانے کے لیے عالمی بینک کے ساتھ بھی کام کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: حکومت نے گیس سیکٹر میں تین ہزار ارب روپے سے زائد کے گردشی قرضے پر قابو پانے کے لیے اوگرا کی جانب سے طے کردہ گیس نرخوں میں اضافے کے بجائے پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس کی شرح بڑھانے کا منصوبہ بنایا ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1965589/goverment-mulls-fuel-levy-hike-to-aid-gas-sector"><strong>خبر</strong></a> کے مطابق منگل کو رکن قومی اسمبلی سید محمد مصطفیٰ کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کا اجلاس ہوا، جس  میں بیان دیتے ہوئے وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف کی ہدایات پر یکم جنوری سے گیس کے نرخ نہیں بڑھائے جا رہے۔</p>
<p>وزیر نے تصدیق کی کہ گیس کا گردشی قرضہ لیٹ پیمنٹ سرچارج سمیت تین ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔ تاہم پیٹرول اور ڈیزل پر پانچ روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی بڑھانے کی تجویز سے متعلق اراکین کے سوالات پر انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے علیحدہ بریفنگ دی جا سکتی ہے، البتہ انہوں نے تجویز کی تردید نہیں کی۔</p>
<p>دلچسپ امر یہ ہے کہ ملک میں گیس صارفین کی تعداد تقریباً ایک کروڑ ہے، جبکہ پیٹرول اور ڈیزل تقریباً پوری آبادی استعمال کرتی ہے۔ حالیہ عرصے میں حکومت پیٹرولیم لیوی کو بڑھا کر اس وقت 82 روپے فی لیٹر تک لے جا چکی ہے، جس کا جواز بجلی صارفین کو سبسڈی، بلوچستان میں سڑکوں کی تعمیر اور مرکز کے لیے آمدن کے بڑے ذریعے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔</p>
<p>نومبر 2025 کے آخری ہفتے میں اوگرا نے مالی سال 2025-26 کے دوران دونوں گیس کمپنیوں کی تقریباً 886 ارب روپے کی آمدنی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے قدرتی گیس کی قیمت میں سات فیصد تک (118 روپے فی یونٹ) اضافے کا تعین کیا تھا۔ قانون کے تحت حکومت کو 40 دن کے اندر صارفین کے لیے گیس قیمتوں پر فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔</p>
<p>تاہم وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ آئندہ چھ ماہ تک قیمتیں نہیں بڑھیں گی اور گیس چوری و نقصانات کم کرنے کی اصلاحات کے ساتھ ساتھ زائد ایل این جی کارگو عالمی منڈی میں منتقل کرنے کی طرف اشارہ کیا۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ قطر کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد اضافی ایل این جی کی عالمی منڈی میں فروخت کے لیے باہمی طور پر قابلِ قبول انتظام طے پا گیا ہے۔</p>
<p>رکنِ قومی اسمبلی اسد عالم نیازی نے کہا کہ گیس سیکٹر کا گردشی قرضہ بجلی کے شعبے کے مقابلے میں بھی بڑا ہو چکا ہے اور پوچھا کہ کیا پیٹرول اور ڈیزل پر پانچ روپے فی لیٹر لیوی کی تجویز اسی مقصد کے لیے ہے۔ جس کا وزیر پیٹرولیم نے جواب دیا کہ کمیٹی کو باضابطہ بریفنگ دی جائے گی۔</p>
<p>علی پرویز ملک نے بتایا کہ آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت تیار کردہ گیس گردشی قرضے پر تفصیلی رپورٹ کابینہ کمیٹی برائے توانائی کو پیش کی جا چکی ہے اور نئے گردشی قرضے کے بہاؤ کو روک دیا گیا ہے، جو ایک اہم اصلاحی اقدام ہے۔</p>
<p>سوئی گیس کمپنیوں کے سربراہان نے آپریشنل بہتری سے متعلق اعداد و شمار پیش کیے۔ ایس این جی پی ایل کے منیجنگ ڈائریکٹر عامر طفیل نے بتایا کہ ان کی کمپنی غیر حساب شدہ گیس نقصانات کو نو فیصد سے کم کر کے پانچ فیصد تک لانے میں کامیاب رہی۔</p>
<p>ایس ایس جی سی کے مطابق اس کے نقصانات 17 فیصد سے کم ہو کر 10 فیصد رہ گئے ہیں، تاہم بلوچستان میں سالانہ تقریباً 12 ارب روپے کے گیس نقصانات کی نشاندہی کی گئی۔</p>
<p>کمیٹی رکن سید نوید قمر نے کہا کہ گیس چوری اور نقصانات اکثر ملی بھگت سے ہوتے ہیں، جس پر وزیر نے بتایا کہ نگرانی سخت کرنے کے لیے ملک بھر میں فیڈر ٹو فیڈر مانیٹرنگ نافذ کر دی گئی ہے۔</p>
<p>حکام کے مطابق اس موسمِ سرما میں گھریلو صارفین کو بہتر گیس فراہمی دی جا رہی ہے۔ ایس این جی پی ایل نے بتایا کہ نومبر میں گزشتہ سال کے مقابلے میں یومیہ 61 ملین مکعب فٹ اضافی گیس فراہم کی گئی، جو دسمبر میں بڑھ کر یومیہ 95 ملین مکعب فٹ ہو گئی۔</p>
<p>وزیر کے مطابق اس وقت کسی بھی گھریلو گیس فیلڈ کی فراہمی محدود نہیں، جبکہ بجلی کے شعبے کو اس کی اشاریاتی طلب سے زیادہ گیس دی جا رہی ہے تاکہ لوڈشیڈنگ سے بچا جا سکے۔</p>
<p>کمیٹی کو بتایا گیا کہ ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی کے نظام، جن میں نیٹ ورک کے آخری سروں پر ٹاؤن بارڈر اسٹیشنز شامل ہیں، دباؤ میں کمی کی صورت میں خودکار الرٹس جاری کر رہے ہیں، جس سے حقیقی وقت میں کنٹرول اور سروس ڈیلیوری بہتر ہوئی ہے۔</p>
<p>وزیر نے کہا کہ حکومت ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پیٹرولیم کنسیشنز کی استعداد بڑھانے کے لیے عالمی بینک کے ساتھ بھی کام کر رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275034</guid>
      <pubDate>Wed, 07 Jan 2026 11:58:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خلیق کیانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/071149392accd9d.webp" type="image/webp" medium="image" height="840" width="1400">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/071149392accd9d.webp"/>
        <media:title>پیٹرول اور ڈیزل پر پانچ روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی بڑھانے کی تجویز سے متعلق اراکین کے سوالات پر انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے علیحدہ بریفنگ دی جا سکتی ہے۔ فوٹو:پی آئی ڈی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک ایکسچینج میں نئی تاریخ رقم، ایک لاکھ 79 ہزار کی بلند سطح بھی عبور</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274981/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سال 2026 کے دوسرے روز بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس نے نئی تاریخ رقم کردی، جمعہ کو کاروبار کے پہلے سیشن میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس ملکی تاریخ میں پہلی بار ایک لاکھ 79 ہزار کی بلند سطح عبور کرگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز سے ہی تیزی کا رجحان غالب رہا ، ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس دن کی بلند ترین سطح ایک لاکھ 79 ہزار 16 پوائنٹس کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلے سیشن کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس2 ہزار 148 پوائنٹس یا 1.22 فیصد اضافےسے ایک لاکھ 78 450 پوائنٹس پر جاپہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکس، فرٹیلائزر، تیل و گیس تلاش کرنے والی کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، بجلی پیدا کرنے والے اداروں اور ریفائنری سیکٹر میں نمایاں خریداری دیکھی گئی۔ حبکو، اے آر ایل، ماری، او جی ڈی سی، پی پی ایل، پی او ایل، پی ایس او، ایچ بی ایل، این بی پی اور یو بی ایل بھی مثبت زون میں دکھائی دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارہ شماریات کے مطابق پاکستان میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح دسمبر 2025 میں 5.6 فیصد ریکارڈ کی گئی جو وزارتِ خزانہ کے اندازے 5.5 سے 6.5 فیصد کے دائرے میں رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا اسٹیٹ بینک کے مطابق ملکی زرِ مبادلہ ذخائر 26 دسمبر 2025 تک 21.012 ارب ڈالرتک جاپہنچے جو ایک ہفتہ قبل 19 دسمبر کو ریکارڈ شدہ 21.023 ارب ڈالر کے مقابلے میں معمولی کمی ظاہر کرتے ہیں ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ جمعرات کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے سال 2026 کا آغاز زبردست تیزی کے ساتھ کیا جہاں وسیع پیمانے پر خریداری دیکھی گئی۔ بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس ایک لاکھ 76 ہزار 355 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر بند ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;br&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سال 2026 کے دوسرے روز بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس نے نئی تاریخ رقم کردی، جمعہ کو کاروبار کے پہلے سیشن میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس ملکی تاریخ میں پہلی بار ایک لاکھ 79 ہزار کی بلند سطح عبور کرگیا۔</p>
<p>مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز سے ہی تیزی کا رجحان غالب رہا ، ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس دن کی بلند ترین سطح ایک لاکھ 79 ہزار 16 پوائنٹس کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا۔</p>
<p>پہلے سیشن کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس2 ہزار 148 پوائنٹس یا 1.22 فیصد اضافےسے ایک لاکھ 78 450 پوائنٹس پر جاپہنچا۔</p>
<p>آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکس، فرٹیلائزر، تیل و گیس تلاش کرنے والی کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، بجلی پیدا کرنے والے اداروں اور ریفائنری سیکٹر میں نمایاں خریداری دیکھی گئی۔ حبکو، اے آر ایل، ماری، او جی ڈی سی، پی پی ایل، پی او ایل، پی ایس او، ایچ بی ایل، این بی پی اور یو بی ایل بھی مثبت زون میں دکھائی دیے۔</p>
<p>ادارہ شماریات کے مطابق پاکستان میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح دسمبر 2025 میں 5.6 فیصد ریکارڈ کی گئی جو وزارتِ خزانہ کے اندازے 5.5 سے 6.5 فیصد کے دائرے میں رہی۔</p>
<p>دریں اثنا اسٹیٹ بینک کے مطابق ملکی زرِ مبادلہ ذخائر 26 دسمبر 2025 تک 21.012 ارب ڈالرتک جاپہنچے جو ایک ہفتہ قبل 19 دسمبر کو ریکارڈ شدہ 21.023 ارب ڈالر کے مقابلے میں معمولی کمی ظاہر کرتے ہیں ۔</p>
<p>یاد رہے کہ جمعرات کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے سال 2026 کا آغاز زبردست تیزی کے ساتھ کیا جہاں وسیع پیمانے پر خریداری دیکھی گئی۔ بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس ایک لاکھ 76 ہزار 355 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر بند ہوا تھا۔</p>
<br>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274981</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Jan 2026 14:18:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/021418020eb924f.webp" type="image/webp" medium="image" height="174" width="290">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/021418020eb924f.webp"/>
        <media:title>پہلے سیشن کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس2 ہزار 148 پوائنٹس یا 1.22 فیصد اضافےسے ایک لاکھ 78 450 پوائنٹس پر جاپہنچا۔ فوٹو: کینوا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان میں تیز انٹرنیٹ اور 5جی کیلئے 600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم کی نیلامی اگلے ماہ ہوگی، شزا فاطمہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274985/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان میں انٹرنیٹ کی رفتار بہتر بنانے اور ملک میں 5جی سروس متعارف کرانے کے لیے اگلے ماہ 600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم کی نیلامی کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے اکنامک کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس میں 600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم کی نیلامی کے عمل کی دو ماہ کے اندر منظوری دی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ہماری ٹیلی کام انڈسٹری کے لیے دستیاب اسپیکٹرم انتہائی محدود ہے اور ٹیلی کام کمپنیاں ملک میں صرف 274 میگا ہرٹز کے ذریعے خدمات فراہم کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اسپیکٹرم کی شدید قلت کا شکار ملک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ 24 کروڑ آبادی والے پاکستان کے پاس صرف 274 میگا ہرٹز اسپیکٹرم ہے، جبکہ بنگلہ دیش، جس کی آبادی پاکستان سے تقریباً دو تہائی ہے، 600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  ' data-original-src='https://www.instagram.com/reels/DTApOvpiAci/'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://www.instagram.com/reels/DTApOvpiAci/'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسپیکٹرم دراصل ریڈیو فریکوئنسیز کی وہ حد ہوتی ہے جس کے ذریعے موبائل فون، انٹرنیٹ، ٹی وی اور ریڈیو کے وائرلیس سگنلز منتقل ہوتے ہیں۔ 3جی، 4جی اور 5جی جیسے موبائل نیٹ ورکس مخصوص فریکوئنسی بینڈز پر ڈیٹا منتقل کرتے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں بنگلہ دیش، بھارت، بھوٹان، مالدیپ اور سری لنکا میں 5جی سروس شروع ہو چکی ہے، جبکہ پاکستان، نیپال اور افغانستان میں ابھی یہ سروس متعارف نہیں کرائی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے کہا کہ کئی برسوں سے بڑی اسپیکٹرم نیلامی نہ ہونے کے باعث پاکستان میں اسپیکٹرم کی دستیابی خطے میں سب سے کم ہے۔ ان کے مطابق یہ نیلامی نہ صرف 3جی اور 4جی سروسز کو بہتر بنائے گی بلکہ پاکستان میں پہلی بار 5جی متعارف کرانے میں بھی مدد دے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شزا فاطمہ نے زور دیا کہ انٹرنیٹ ماضی میں سڑکوں کی طرح اب ایک اہم بنیادی ڈھانچہ بن چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ سماجی شعبے کی ترقی، بڑے پیمانے کی معاشی پالیسیوں اور قومی و ذاتی سلامتی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے اور 600 میگا ہرٹز کی اس سطح کی کنیکٹیوٹی کے بغیر آگے بڑھنا ممکن نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ اور کنیکٹیوٹی کو ایک مؤثر ذریعہ سمجھنا ضروری ہے جو ملک کی معاشی صلاحیت کو اجاگر کرے گا اور روزگار کے مواقع پیدا کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ 2025 کے تحت حکومتی ڈیجیٹائزیشن کی کوششوں میں انٹرنیٹ کا کردار نہایت اہم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ نومبر میں 5جی اسپیکٹرم نیلامی کے کنسلٹنٹ نے حکومت کو اپنی رپورٹ پیش کی تھی، جو پی ٹی سی ایل اور ٹیلی نار کے انضمام اور 2600 میگا ہرٹز بینڈ سے متعلق قانونی کارروائی کے باعث تعطل کا شکار رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی کنسلٹنسی فرم نیشنل اکنامک ریسرچ ایسوسی ایٹس کی تیار کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان چھ بڑے بینڈز 700، 1800، 2100، 2300، 2600 اور 3500 میگا ہرٹز میں مجموعی طور پر 606 میگا ہرٹز نیا اسپیکٹرم پیش کر رہا ہے، جس میں 2600 میگا ہرٹز بینڈ کو 5جی کے لیے سب سے موزوں قرار دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان میں انٹرنیٹ کی رفتار بہتر بنانے اور ملک میں 5جی سروس متعارف کرانے کے لیے اگلے ماہ 600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم کی نیلامی کی جائے گی۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے اکنامک کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس میں 600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم کی نیلامی کے عمل کی دو ماہ کے اندر منظوری دی گئی تھی۔</p>
<p>اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ہماری ٹیلی کام انڈسٹری کے لیے دستیاب اسپیکٹرم انتہائی محدود ہے اور ٹیلی کام کمپنیاں ملک میں صرف 274 میگا ہرٹز کے ذریعے خدمات فراہم کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اسپیکٹرم کی شدید قلت کا شکار ملک ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ 24 کروڑ آبادی والے پاکستان کے پاس صرف 274 میگا ہرٹز اسپیکٹرم ہے، جبکہ بنگلہ دیش، جس کی آبادی پاکستان سے تقریباً دو تہائی ہے، 600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم فراہم کرتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  ' data-original-src='https://www.instagram.com/reels/DTApOvpiAci/'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://www.instagram.com/reels/DTApOvpiAci/'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اسپیکٹرم دراصل ریڈیو فریکوئنسیز کی وہ حد ہوتی ہے جس کے ذریعے موبائل فون، انٹرنیٹ، ٹی وی اور ریڈیو کے وائرلیس سگنلز منتقل ہوتے ہیں۔ 3جی، 4جی اور 5جی جیسے موبائل نیٹ ورکس مخصوص فریکوئنسی بینڈز پر ڈیٹا منتقل کرتے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں بنگلہ دیش، بھارت، بھوٹان، مالدیپ اور سری لنکا میں 5جی سروس شروع ہو چکی ہے، جبکہ پاکستان، نیپال اور افغانستان میں ابھی یہ سروس متعارف نہیں کرائی گئی۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے کہا کہ کئی برسوں سے بڑی اسپیکٹرم نیلامی نہ ہونے کے باعث پاکستان میں اسپیکٹرم کی دستیابی خطے میں سب سے کم ہے۔ ان کے مطابق یہ نیلامی نہ صرف 3جی اور 4جی سروسز کو بہتر بنائے گی بلکہ پاکستان میں پہلی بار 5جی متعارف کرانے میں بھی مدد دے گی۔</p>
<p>شزا فاطمہ نے زور دیا کہ انٹرنیٹ ماضی میں سڑکوں کی طرح اب ایک اہم بنیادی ڈھانچہ بن چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ سماجی شعبے کی ترقی، بڑے پیمانے کی معاشی پالیسیوں اور قومی و ذاتی سلامتی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے اور 600 میگا ہرٹز کی اس سطح کی کنیکٹیوٹی کے بغیر آگے بڑھنا ممکن نہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ اور کنیکٹیوٹی کو ایک مؤثر ذریعہ سمجھنا ضروری ہے جو ملک کی معاشی صلاحیت کو اجاگر کرے گا اور روزگار کے مواقع پیدا کرے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ 2025 کے تحت حکومتی ڈیجیٹائزیشن کی کوششوں میں انٹرنیٹ کا کردار نہایت اہم ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ نومبر میں 5جی اسپیکٹرم نیلامی کے کنسلٹنٹ نے حکومت کو اپنی رپورٹ پیش کی تھی، جو پی ٹی سی ایل اور ٹیلی نار کے انضمام اور 2600 میگا ہرٹز بینڈ سے متعلق قانونی کارروائی کے باعث تعطل کا شکار رہی تھی۔</p>
<p>امریکی کنسلٹنسی فرم نیشنل اکنامک ریسرچ ایسوسی ایٹس کی تیار کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان چھ بڑے بینڈز 700، 1800، 2100، 2300، 2600 اور 3500 میگا ہرٹز میں مجموعی طور پر 606 میگا ہرٹز نیا اسپیکٹرم پیش کر رہا ہے، جس میں 2600 میگا ہرٹز بینڈ کو 5جی کے لیے سب سے موزوں قرار دیا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274985</guid>
      <pubDate>Fri, 02 Jan 2026 19:12:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/0218553905dbcc4.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/0218553905dbcc4.webp"/>
        <media:title>انہوں نے کہا کہ 24 کروڑ آبادی والے پاکستان کے پاس صرف 274 میگا ہرٹز اسپیکٹرم ہے، جبکہ بنگلہ دیش، جس کی آبادی پاکستان سے تقریباً دو تہائی ہے، 600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم فراہم کرتا ہے۔ فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پیٹرول کی قیمت میں 10 روپے سے زائد کی کمی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274969/</link>
      <description>&lt;p&gt;حکومت نے آئندہ پندرہ روز کے لیے پیٹرول کی قیمت میں 10.28 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 8.57 روپے فی لیٹر کمی کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رات گئے اعلان میں پیٹرولیم ڈویژن نے بتایا کہ قیمتوں میں یہ رد و بدل عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ ور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی اوگرا کی سفارشات کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلان کے مطابق ایکس ڈپو پیٹرول کی قیمت 263.45 روپے فی لیٹر سے کم کرکے 253.17 روپے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔ پیٹرول زیادہ تر نجی ٹرانسپورٹ، چھوٹی گاڑیوں، رکشوں اور موٹر سائیکلوں میں استعمال ہوتا ہے اور اس کا براہِ راست اثر متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے بجٹ پر پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ایکس ڈپو قیمت 265.65 روپے فی لیٹر سے کم کرکے موجودہ پندرہ روز کے لیے 257.08 روپے فی لیٹر کردی گئی ہے۔ ٹرانسپورٹ کے زیادہ تر شعبے میں ہائی اسپیڈ ڈیزل استعمال ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت کو مہنگائی بڑھانے والا عنصر سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ بھاری ٹرانسپورٹ گاڑیوں، ٹرینوں اور زرعی مشینری جیسے ٹرکوں، بسوں، ٹریکٹروں، ٹیوب ویلوں اور تھریشرز میں استعمال ہوتا ہے اور بالخصوص سبزیوں اور دیگر خوراکی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ تمام پیٹرولیم مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس صفر ہے، تاہم حکومت ڈیزل پر 78 روپے فی لیٹر اور پیٹرول اور ہائی آکٹین مصنوعات پر 82 روپے فی لیٹر پٹرولیم لیوی وصول کر رہی ہے، جبکہ 2.50 روپے فی لیٹر ماحولیاتی معاونت لیوی بھی عائد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ حکومت پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر تقریباً 16 سے 17 روپے فی لیٹر کسٹم ڈیوٹی بھی وصول کر رہی ہے، چاہے یہ مقامی پیداوار ہوں یا درآمدی۔ مزید یہ کہ تیل کمپنیوں اور ان کے ڈیلرز کو تقسیم اور فروخت کی مد میں تقریباً 17 روپے فی لیٹر مارجن دیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل حکومتی آمدن کے بڑے ذرائع ہیں، جن کی ماہانہ اوسط فروخت 7 سے 8 لاکھ ٹن کے لگ بھگ ہے، جبکہ مٹی کے تیل کی ماہانہ طلب صرف 10 ہزار ٹن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے مالی سال 2025 میں صرف پیٹرولیم لیوی کی مد میں تقریباً 1.161 کھرب روپے وصول کیے اور موجودہ مالی سال میں اس آمدن کے تقریباً 27 فیصد اضافے کے ساتھ 1.470 کھرب روپے تک پہنچنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>حکومت نے آئندہ پندرہ روز کے لیے پیٹرول کی قیمت میں 10.28 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 8.57 روپے فی لیٹر کمی کردی۔</p>
<p>رات گئے اعلان میں پیٹرولیم ڈویژن نے بتایا کہ قیمتوں میں یہ رد و بدل عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ ور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی اوگرا کی سفارشات کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔</p>
<p>اعلان کے مطابق ایکس ڈپو پیٹرول کی قیمت 263.45 روپے فی لیٹر سے کم کرکے 253.17 روپے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔ پیٹرول زیادہ تر نجی ٹرانسپورٹ، چھوٹی گاڑیوں، رکشوں اور موٹر سائیکلوں میں استعمال ہوتا ہے اور اس کا براہِ راست اثر متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے بجٹ پر پڑتا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ایکس ڈپو قیمت 265.65 روپے فی لیٹر سے کم کرکے موجودہ پندرہ روز کے لیے 257.08 روپے فی لیٹر کردی گئی ہے۔ ٹرانسپورٹ کے زیادہ تر شعبے میں ہائی اسپیڈ ڈیزل استعمال ہوتا ہے۔</p>
<p>ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت کو مہنگائی بڑھانے والا عنصر سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ بھاری ٹرانسپورٹ گاڑیوں، ٹرینوں اور زرعی مشینری جیسے ٹرکوں، بسوں، ٹریکٹروں، ٹیوب ویلوں اور تھریشرز میں استعمال ہوتا ہے اور بالخصوص سبزیوں اور دیگر خوراکی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔</p>
<p>اگرچہ تمام پیٹرولیم مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس صفر ہے، تاہم حکومت ڈیزل پر 78 روپے فی لیٹر اور پیٹرول اور ہائی آکٹین مصنوعات پر 82 روپے فی لیٹر پٹرولیم لیوی وصول کر رہی ہے، جبکہ 2.50 روپے فی لیٹر ماحولیاتی معاونت لیوی بھی عائد ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ حکومت پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر تقریباً 16 سے 17 روپے فی لیٹر کسٹم ڈیوٹی بھی وصول کر رہی ہے، چاہے یہ مقامی پیداوار ہوں یا درآمدی۔ مزید یہ کہ تیل کمپنیوں اور ان کے ڈیلرز کو تقسیم اور فروخت کی مد میں تقریباً 17 روپے فی لیٹر مارجن دیا جاتا ہے۔</p>
<p>پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل حکومتی آمدن کے بڑے ذرائع ہیں، جن کی ماہانہ اوسط فروخت 7 سے 8 لاکھ ٹن کے لگ بھگ ہے، جبکہ مٹی کے تیل کی ماہانہ طلب صرف 10 ہزار ٹن ہے۔</p>
<p>حکومت نے مالی سال 2025 میں صرف پیٹرولیم لیوی کی مد میں تقریباً 1.161 کھرب روپے وصول کیے اور موجودہ مالی سال میں اس آمدن کے تقریباً 27 فیصد اضافے کے ساتھ 1.470 کھرب روپے تک پہنچنے کی توقع ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274969</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Jan 2026 01:55:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/0101534228050fc.webp" type="image/webp" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/0101534228050fc.webp"/>
        <media:title>فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک ایکسچینج میں 1500 پوائنٹس کا ریکارڈ اضافہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274940/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی: پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں سال کے آخری ہفتے کے آغاز پر زبردست تیزی دیکھی گئی جس کے نتیجے میں کاروبار کے ابتدائی سیشن میں کے ایس ای 100 انڈیکس ملکی تاریخ میں پہلی بار ایک لاکھ 74 ہزار کی تاریخی سطح عبور کرگیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹریڈنگ کے دوران سرمایہ کاروں کی جانب سے بھرپور خریداری کا سلسلہ جاری رہا جس کے نتیجے میں ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس ایک لاکھ 74 ہزار کی بلند سطح عبور کرتے ہوئے ایک لاکھ 74 ہزار 411 پوائنٹس پر جاپہنچا تھا، بعدازاں تیزی میں معمولی کمی دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہم شعبوں میں بھرپور خریداری کا رجحان دیکھا جارہا ہے، جن میں آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینک، کھاد، تیل و گیس کی تلاش و پیداوار کرنے والی کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں (او ایم سیز)، بجلی کی پیداوار اور ریفائنریز شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے آر ایل، حبکو، ماری، او جی ڈی سی، پی پی ایل، پول، ایچ بی ایل، میزان بینک، اور ایم سی بی بھی مثبت زون میں دکھائی دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعدازاں منافع کا رجحان غالب آگیا جس سے انڈیکس دن کی کم ترین سطح 173,200 پوائنٹس تک گرگیا، تاہم یہ کمی زیادہ دیر برقرار نہ رہی کیونکہ دوبارہ خریداری کے رجحان نے مارکیٹ کو نقصان سے نکالا اور سیشن کے باقی حصے میں محدود حد کے اندر ٹریڈنگ جاری رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,495.61 پوائنٹس یا 0.87 فیصد اضافے سے ایک لاکھ 73 ہزار 8 سو 96 پوائنٹس پربند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے پاکستان کی ایکویٹی مارکیٹ تاریخی سطح پر بند ہوئی جہاں بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس اپنی ریکارڈ ساز تیزی کو جاری رکھتے ہوئے 172,400 پوائنٹس پر بند ہوا، جو ہفتہ وار بنیاد پر 0.6 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ عالمی سطح پر پیر کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹس چھ ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں جبکہ آئندہ سال فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرحِ سود میں کمی کی توقعات کے باعث ڈالر تقریباً تین ماہ کی کم ترین سطح کے قریب منڈلاتا رہا جس کے نتیجے میں قیمتی دھاتوں میں بھی زبردست تیزی دیکھنے میں آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;raw-html&gt;
&lt;br&gt;
&lt;/raw-html&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی: پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں سال کے آخری ہفتے کے آغاز پر زبردست تیزی دیکھی گئی جس کے نتیجے میں کاروبار کے ابتدائی سیشن میں کے ایس ای 100 انڈیکس ملکی تاریخ میں پہلی بار ایک لاکھ 74 ہزار کی تاریخی سطح عبور کرگیا۔</strong></p>
<p>ٹریڈنگ کے دوران سرمایہ کاروں کی جانب سے بھرپور خریداری کا سلسلہ جاری رہا جس کے نتیجے میں ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس ایک لاکھ 74 ہزار کی بلند سطح عبور کرتے ہوئے ایک لاکھ 74 ہزار 411 پوائنٹس پر جاپہنچا تھا، بعدازاں تیزی میں معمولی کمی دیکھی گئی۔</p>
<p>اہم شعبوں میں بھرپور خریداری کا رجحان دیکھا جارہا ہے، جن میں آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینک، کھاد، تیل و گیس کی تلاش و پیداوار کرنے والی کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں (او ایم سیز)، بجلی کی پیداوار اور ریفائنریز شامل ہیں۔</p>
<p>اے آر ایل، حبکو، ماری، او جی ڈی سی، پی پی ایل، پول، ایچ بی ایل، میزان بینک، اور ایم سی بی بھی مثبت زون میں دکھائی دیے۔</p>
<p>بعدازاں منافع کا رجحان غالب آگیا جس سے انڈیکس دن کی کم ترین سطح 173,200 پوائنٹس تک گرگیا، تاہم یہ کمی زیادہ دیر برقرار نہ رہی کیونکہ دوبارہ خریداری کے رجحان نے مارکیٹ کو نقصان سے نکالا اور سیشن کے باقی حصے میں محدود حد کے اندر ٹریڈنگ جاری رہی۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,495.61 پوائنٹس یا 0.87 فیصد اضافے سے ایک لاکھ 73 ہزار 8 سو 96 پوائنٹس پربند ہوا۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے پاکستان کی ایکویٹی مارکیٹ تاریخی سطح پر بند ہوئی جہاں بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس اپنی ریکارڈ ساز تیزی کو جاری رکھتے ہوئے 172,400 پوائنٹس پر بند ہوا، جو ہفتہ وار بنیاد پر 0.6 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ عالمی سطح پر پیر کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹس چھ ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں جبکہ آئندہ سال فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرحِ سود میں کمی کی توقعات کے باعث ڈالر تقریباً تین ماہ کی کم ترین سطح کے قریب منڈلاتا رہا جس کے نتیجے میں قیمتی دھاتوں میں بھی زبردست تیزی دیکھنے میں آئی۔</p>
<raw-html>
<br>
</raw-html>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274940</guid>
      <pubDate>Mon, 29 Dec 2025 18:37:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/29130916c443400.webp" type="image/webp" medium="image" height="174" width="290">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/29130916c443400.webp"/>
        <media:title>عالمی سطح پر پیر کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹس چھ ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ فوٹو کینوا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اچانک بڑی کمی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274947/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی و مقامی مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتیں تاریخی سطح پر پہنچنے کے بعد پیر کو اچانک بڑی کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آل پاکستان جیمز اینڈ جیولر ایسوسی ایشن کے مطابق ملک بھر میں فی تولہ سونے کی قیمت 5500 روپے کم ہوکر 4 لاکھ 70 ہزار 162 روپے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسوسی ایشن کے مطابق 10 دس گرام سونے کا بھاؤ  بھی 4715 روپے کم ہوکر 4 لاکھ 3 ہزار 88 روپے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ عالمی بازار میں سونے کا بھاؤ 55 ڈالر کم ہوکر 4478 ڈالر فی اونس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ ہفتہ کو فی تولہ سونا 2300 روپے کے اضافے سے ملکی تاریخ میں پہلی بار 4 لاکھ 75 ہزار 662 روپے کا ہوگیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا چاندی کی فی تولہ قیمت 332 روپے کی کمی سے 8075 روپے ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;br&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی و مقامی مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتیں تاریخی سطح پر پہنچنے کے بعد پیر کو اچانک بڑی کمی ریکارڈ کی گئی۔</strong></p>
<p>آل پاکستان جیمز اینڈ جیولر ایسوسی ایشن کے مطابق ملک بھر میں فی تولہ سونے کی قیمت 5500 روپے کم ہوکر 4 لاکھ 70 ہزار 162 روپے ہے۔</p>
<p>ایسوسی ایشن کے مطابق 10 دس گرام سونے کا بھاؤ  بھی 4715 روپے کم ہوکر 4 لاکھ 3 ہزار 88 روپے ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ عالمی بازار میں سونے کا بھاؤ 55 ڈالر کم ہوکر 4478 ڈالر فی اونس ہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ ہفتہ کو فی تولہ سونا 2300 روپے کے اضافے سے ملکی تاریخ میں پہلی بار 4 لاکھ 75 ہزار 662 روپے کا ہوگیا تھا۔</p>
<p>دریں اثنا چاندی کی فی تولہ قیمت 332 روپے کی کمی سے 8075 روپے ہوگئی۔</p>
<br>
]]></content:encoded>
      <category>Business</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274947</guid>
      <pubDate>Mon, 29 Dec 2025 17:07:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/291705295e3b99a.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/291705295e3b99a.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستانی معیشت پائیدار و طویل مدتی ترقی کی پوزیشن پر آرہی ہے، وزیر خزانہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274910/</link>
      <description>&lt;p&gt;وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان ایک اہم موڑ پر پہنچ چکا ہے، جہاں معاشی استحکام، مسلسل اصلاحات اور پالیسیوں میں تسلسل نے اعتماد بحال کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی اخبار یو ایس اے ٹوڈے کو انٹرویو میں وزیر خزانہ نے کہا کہ اس پیش رفت سے ملکی اور عالمی سرمایہ کاروں کے لیے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں اور پاکستان پائیدار، طویل مدتی معاشی ترقی کی پوزیشن میں آ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ منتقلی میکرو اکنامک استحکام، مہنگائی میں کمی اور بیرونی کھاتوں میں بہتری کے باعث ممکن ہوئی ہے۔ حکومت زرعی شعبے، معدنیات، ٹیکنالوجی اور موسمیاتی استحکام جیسے شعبوں میں ابھرتے مواقع کے ذریعے برآمدات اور پیداواری صلاحیت پر مبنی ترقی کو فروغ دے رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے کہا کہ کئی برسوں بعد پہلی مرتبہ پاکستان نے پرائمری مالیاتی سرپلس اور کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس دونوں حاصل کیے ہیں، جو مسلسل خساروں کے چکر سے نکلنے کی واضح علامت ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274903/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274903"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق مضبوط ترسیلاتِ زر نے اس بہتری میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ مہنگائی 38 فیصد کی بلند ترین سطح سے کم ہو کر ایک عددی سطح پر آ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ زرمبادلہ کے ذخائر 14.5 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں، جو تقریباً اڑھائی ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں، جبکہ شرح تبادلہ میں استحکام نے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے میں مدد دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے زور دیا کہ اگرچہ میکرو اکنامک استحکام ایک مضبوط بنیاد ہے، تاہم پائیدار ترقی اب بھی سب سے بڑا چیلنج ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ مالی سال میں 2.7 فیصد معاشی ترقی مثبت ضرور تھی، لیکن تیزی سے بڑھتی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان دانستہ طور پر کھپت اور قرض پر مبنی ماڈل سے ہٹ کر برآمدات پر مبنی حکمتِ عملی اختیار کر رہا ہے۔ موجودہ بجٹ میں ٹیکس، توانائی کی قیمتوں اور سرکاری اداروں میں ساختی اصلاحات شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب کے مطابق پاکستان اپنی معاشی حکمتِ عملی کو عالمی طلب میں تبدیلیوں سے ہم آہنگ کر رہا ہے اور آئی ٹی سروسز، ٹیکسٹائل اور زرعی برآمدات کو نمایاں امکانات والے شعبوں کے طور پر شناخت کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ برآمد کنندگان کے لیے ٹیکس نظام کو سادہ بنانے اور بیوروکریٹک رکاوٹیں کم کرنے کے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں تاکہ طویل مدتی پیداواری صلاحیت اور مسابقت میں اضافہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وسیع تر اصلاحاتی ایجنڈے پر بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ سرکاری اداروں کی نجکاری، محصولات میں نرمی اور توانائی کے شعبے کی تنظیمِ نو کا مقصد وہ گہری خامیاں دور کرنا ہے جو طویل عرصے سے عوامی مالیات پر بوجھ بنی رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274899/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274899"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ اصلاحات ایک طویل المدتی وژن کا حصہ ہیں، جو عالمی بینک کی جانب سے پاکستان کے ممکنہ ایسٹ ایشیا موومنٹ کے جائزے سے ہم آہنگ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے عالمی بینک کے ساتھ دس سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کا بھی حوالہ دیا، جو اپنی نوعیت کا پہلا معاہدہ ہے اور جس میں معاشی اصلاحات کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلی اور آبادی کے نظم پر توجہ دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کا مستقبل صرف مالیاتی اشاریوں سے جڑے مسائل پر نہیں بلکہ آبادی میں اضافہ، موسمیاتی تبدیلی، بچوں میں غذائی کمی، تعلیمی پسماندگی اور بچیوں کی تعلیم سے محرومی جیسے وجودی چیلنجز سے نمٹنے پر منحصر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے کہا کہ خواتین کی تعلیم اور افرادی قوت میں شمولیت نہ صرف سماجی ضرورت بلکہ معاشی مجبوری بھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ کے مطابق ریگولیٹری فریم ورک کو جدید بنایا جا رہا ہے تاکہ جدت کی حوصلہ افزائی اور بالخصوص امریکا سے غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے جبکہ ٹیکنالوجی کو پاکستان کے لیے ایک بڑا گیم چینجر قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرویو کے اختتام پر محمد اورنگزیب نے عالمی سرمایہ کاروں اور شراکت داروں کو تجارت، سرمایہ کاری اور تعاون کے ذریعے پاکستان سے جڑنے کی دعوت دی اور کہا کہ ملک بحران کے بیانیے سے نکل کر مواقع اور تبدیلی کی طرف بڑھ رہا ہے، جو پائیدار ترقی کے دہانے پر کھڑی ایک ابھرتی ہوئی منڈی کے طور پر نمایاں امکانات رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان ایک اہم موڑ پر پہنچ چکا ہے، جہاں معاشی استحکام، مسلسل اصلاحات اور پالیسیوں میں تسلسل نے اعتماد بحال کیا ہے۔</p>
<p>امریکی اخبار یو ایس اے ٹوڈے کو انٹرویو میں وزیر خزانہ نے کہا کہ اس پیش رفت سے ملکی اور عالمی سرمایہ کاروں کے لیے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں اور پاکستان پائیدار، طویل مدتی معاشی ترقی کی پوزیشن میں آ رہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ منتقلی میکرو اکنامک استحکام، مہنگائی میں کمی اور بیرونی کھاتوں میں بہتری کے باعث ممکن ہوئی ہے۔ حکومت زرعی شعبے، معدنیات، ٹیکنالوجی اور موسمیاتی استحکام جیسے شعبوں میں ابھرتے مواقع کے ذریعے برآمدات اور پیداواری صلاحیت پر مبنی ترقی کو فروغ دے رہی ہے۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے کہا کہ کئی برسوں بعد پہلی مرتبہ پاکستان نے پرائمری مالیاتی سرپلس اور کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس دونوں حاصل کیے ہیں، جو مسلسل خساروں کے چکر سے نکلنے کی واضح علامت ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274903/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274903"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ان کے مطابق مضبوط ترسیلاتِ زر نے اس بہتری میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ مہنگائی 38 فیصد کی بلند ترین سطح سے کم ہو کر ایک عددی سطح پر آ گئی ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ زرمبادلہ کے ذخائر 14.5 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں، جو تقریباً اڑھائی ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں، جبکہ شرح تبادلہ میں استحکام نے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے میں مدد دی ہے۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے زور دیا کہ اگرچہ میکرو اکنامک استحکام ایک مضبوط بنیاد ہے، تاہم پائیدار ترقی اب بھی سب سے بڑا چیلنج ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ مالی سال میں 2.7 فیصد معاشی ترقی مثبت ضرور تھی، لیکن تیزی سے بڑھتی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان دانستہ طور پر کھپت اور قرض پر مبنی ماڈل سے ہٹ کر برآمدات پر مبنی حکمتِ عملی اختیار کر رہا ہے۔ موجودہ بجٹ میں ٹیکس، توانائی کی قیمتوں اور سرکاری اداروں میں ساختی اصلاحات شامل ہیں۔</p>
<p>محمد اورنگزیب کے مطابق پاکستان اپنی معاشی حکمتِ عملی کو عالمی طلب میں تبدیلیوں سے ہم آہنگ کر رہا ہے اور آئی ٹی سروسز، ٹیکسٹائل اور زرعی برآمدات کو نمایاں امکانات والے شعبوں کے طور پر شناخت کیا گیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ برآمد کنندگان کے لیے ٹیکس نظام کو سادہ بنانے اور بیوروکریٹک رکاوٹیں کم کرنے کے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں تاکہ طویل مدتی پیداواری صلاحیت اور مسابقت میں اضافہ ہو۔</p>
<p>وسیع تر اصلاحاتی ایجنڈے پر بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ سرکاری اداروں کی نجکاری، محصولات میں نرمی اور توانائی کے شعبے کی تنظیمِ نو کا مقصد وہ گہری خامیاں دور کرنا ہے جو طویل عرصے سے عوامی مالیات پر بوجھ بنی رہی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274899/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274899"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ اصلاحات ایک طویل المدتی وژن کا حصہ ہیں، جو عالمی بینک کی جانب سے پاکستان کے ممکنہ ایسٹ ایشیا موومنٹ کے جائزے سے ہم آہنگ ہیں۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے عالمی بینک کے ساتھ دس سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کا بھی حوالہ دیا، جو اپنی نوعیت کا پہلا معاہدہ ہے اور جس میں معاشی اصلاحات کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلی اور آبادی کے نظم پر توجہ دی گئی ہے۔</p>
<p>انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کا مستقبل صرف مالیاتی اشاریوں سے جڑے مسائل پر نہیں بلکہ آبادی میں اضافہ، موسمیاتی تبدیلی، بچوں میں غذائی کمی، تعلیمی پسماندگی اور بچیوں کی تعلیم سے محرومی جیسے وجودی چیلنجز سے نمٹنے پر منحصر ہے۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے کہا کہ خواتین کی تعلیم اور افرادی قوت میں شمولیت نہ صرف سماجی ضرورت بلکہ معاشی مجبوری بھی ہے۔</p>
<p>وزیر خزانہ کے مطابق ریگولیٹری فریم ورک کو جدید بنایا جا رہا ہے تاکہ جدت کی حوصلہ افزائی اور بالخصوص امریکا سے غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے جبکہ ٹیکنالوجی کو پاکستان کے لیے ایک بڑا گیم چینجر قرار دیا۔</p>
<p>انٹرویو کے اختتام پر محمد اورنگزیب نے عالمی سرمایہ کاروں اور شراکت داروں کو تجارت، سرمایہ کاری اور تعاون کے ذریعے پاکستان سے جڑنے کی دعوت دی اور کہا کہ ملک بحران کے بیانیے سے نکل کر مواقع اور تبدیلی کی طرف بڑھ رہا ہے، جو پائیدار ترقی کے دہانے پر کھڑی ایک ابھرتی ہوئی منڈی کے طور پر نمایاں امکانات رکھتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274910</guid>
      <pubDate>Wed, 24 Dec 2025 13:09:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/2413095575ff7c9.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/2413095575ff7c9.webp"/>
        <media:title>محمد اورنگزیب نے کہا کہ کئی برسوں بعد پہلی مرتبہ پاکستان نے پرائمری مالیاتی سرپلس اور کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس دونوں حاصل کیے ہیں، جو مسلسل خساروں کے چکر سے نکلنے کی واضح علامت ہے — فوٹو: ایکس
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انٹرنیشنل فنانس کاپوریشن کا پاکستان میں پہلی مقامی کرنسی سرمایہ کاری کا اعلان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274903/</link>
      <description>&lt;p&gt;انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن جو ورلڈ بینک گروپ کا پرائیویٹ سیکٹر سے متعلق ادارہ ہے، نے پاکستان میں اپنی پہلی مقامی کرنسی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد زرعی شعبے کو مضبوط بنانا بتایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو جاری کی گئی آئی ایف سی کی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.ifc.org/en/pressroom/2025/ifc-standard-chartered-pakistan-and-engro-fertilizers-announce-pkr-33-6-billion-fi0#:~:text=Karachi%2C%20Pakistan%2C%20December%2023%2C,Pakistan%20Limited%20to%20Engro%20Fertilizers"&gt;&lt;strong&gt;پریس ریلیز&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق پاکستانی روپے میں اس کی پہلی سرمایہ کاری 33 ارب 60 کروڑ روپے تک کی غیر فنڈڈ جزوی کریڈٹ گارنٹی کے ذریعے کی گئی ہے، جس کے تحت اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک پاکستان لمیٹڈ کی جانب سے اینگرو فرٹیلائزرز لمیٹڈ کو طویل المدتی فنانسنگ فراہم کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پریس ریلیز میں کہا گیا کہ یہ شراکت پاکستان میں آئی ایف سی کی پہلی مقامی کرنسی سرمایہ کاری ہے، جس کے ذریعے مقامی اور غیر ملکی دونوں کرنسیوں میں طویل المدتی فنانسنگ تک رسائی میں توسیع ہوگی، جو بالخصوص زراعت اور مائیکرو، اسمال اور میڈیم انٹرپرائزز جیسے اہم شعبوں میں معاشی ترقی کے لیے نہایت اہم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ یہ فنانسنگ مقامی سرمائے کو متحرک کر کے اینگرو فرٹیلائزرز کو پاکستان میں زرعی ویلیو چین مضبوط بنانے میں مدد دے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایف سی کے مطابق یہ سرمایہ کاری جس کا مقصد پاکستان کے زرعی شعبے کو مستحکم کرنا اور غذائی تحفظ کو تقویت دینا ہے، آئی ایف سی کینیڈا کے فیسلٹی فار ریزیلینٹ فوڈ سسٹمز کی جانب سے فراہم کردہ فرسٹ لاس کاؤنٹر گارنٹی سے بھی مستفید ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پریس ریلیز میں مزید کہا گیا کہ پاکستانی روپے میں فنانسنگ کے استعمال کے ذریعے اینگرو فرٹیلائزرز مقامی سرمائے کے استعمال کو فروغ دے رہی ہے تاکہ آپریشنل استحکام میں اضافہ کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فنانسنگ اینگرو فرٹیلائزرز کو اپنی تنصیبات کی دیکھ بھال اور دیگر سرگرمیوں میں سرمایہ کاری کے قابل بنائے گی، جس سے یوریا اور دیگر کھادوں کی بلا تعطل فراہمی ممکن ہو سکے گی تاکہ قومی ضروریات پوری کی جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پریس ریلیز کے مطابق اس فنانسنگ کا مقصد کسانوں کے لیے جاری پروگراموں کی معاونت بھی ہے تاکہ اینگرو کے بنیادی مشن، یعنی قابلِ اعتماد پیداوار سے ہم آہنگ اقدامات کا تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ پاکستان میں زرعی شعبہ ملکی مجموعی قومی پیداوار کا 24 فیصد، برآمدات کا 70 فیصد اور روزگار کا 40 فیصد فراہم کرتا ہے، جو اسے طویل المدتی ترقی کے لیے انتہائی اہم بناتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پریس ریلیز میں اینگرو فرٹیلائزرز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر علی کے حوالے سے کہا گیا کہ اینگرو ہمیشہ پاکستان کے اہم ترین مسائل کو بامعنی انداز میں حل کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ مقامی سرمائے کے ذریعے مقامی ویلیو چینز کو مضبوط بنانا ملک اور کسانوں سے ہماری وابستگی کا عکاس ہے، کیونکہ کسان پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ انہوں نے آئی ایف سی اور اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس مشن کو آگے بڑھانے میں مدد دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پریس ریلیز میں آئی ایف سی کے مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے لیے مینوفیکچرنگ، ایگری بزنس اور سروسز کے ریجنل انڈسٹری ہیڈ اشرف مجاہد کے بیان کا بھی حوالہ دیا گیا، جنہوں نے کہا کہ یہ سرمایہ کاری اینگرو فرٹیلائزرز اور اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کے ساتھ شراکت داری کی مضبوطی اور پائیدار انداز میں مسائل کے حل کے لیے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے مقامی کرنسی میں طویل المدتی فنانسنگ کے نئے راستے کھل رہے ہیں، جو ایک ایسے شعبے میں ترقی اور مالی استحکام کو سہارا دیں گے جو ملکی معیشت کے لیے نہایت اہم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح اسٹینڈرڈ چارٹرڈ پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور ہیڈ آف کوریج ریحان شیخ کے حوالے سے کہا گیا کہ اسٹینڈرڈ چارٹرڈ پاکستان کی معیشت میں پائیدار ترقی اور طویل المدتی استحکام کے لیے فنانسنگ حل فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایف سی کا یہ اعلان اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور آئی ایف سی کے درمیان مقامی کرنسی میں نجی شعبے کی فنانسنگ بڑھانے کے معاہدے کے تقریباً دو ماہ بعد سامنے آیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک نے 21 اکتوبر کو اعلان کیا تھا کہ آئی ایف سی کے ساتھ انٹرنیشنل سویپس اینڈ ڈیریویٹوز ایسوسی ایشن کے فریم ورک کے تحت ایک معاہدہ طے پایا ہے، جس کے تحت آئی ایف سی کو پاکستانی روپے میں سرمایہ کاری اور زر مبادلہ کے خطرات بہتر طور پر سنبھالنے کی سہولت حاصل ہوگی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن جو ورلڈ بینک گروپ کا پرائیویٹ سیکٹر سے متعلق ادارہ ہے، نے پاکستان میں اپنی پہلی مقامی کرنسی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد زرعی شعبے کو مضبوط بنانا بتایا گیا ہے۔</p>
<p>منگل کو جاری کی گئی آئی ایف سی کی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.ifc.org/en/pressroom/2025/ifc-standard-chartered-pakistan-and-engro-fertilizers-announce-pkr-33-6-billion-fi0#:~:text=Karachi%2C%20Pakistan%2C%20December%2023%2C,Pakistan%20Limited%20to%20Engro%20Fertilizers"><strong>پریس ریلیز</strong></a> کے مطابق پاکستانی روپے میں اس کی پہلی سرمایہ کاری 33 ارب 60 کروڑ روپے تک کی غیر فنڈڈ جزوی کریڈٹ گارنٹی کے ذریعے کی گئی ہے، جس کے تحت اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک پاکستان لمیٹڈ کی جانب سے اینگرو فرٹیلائزرز لمیٹڈ کو طویل المدتی فنانسنگ فراہم کی جائے گی۔</p>
<p>پریس ریلیز میں کہا گیا کہ یہ شراکت پاکستان میں آئی ایف سی کی پہلی مقامی کرنسی سرمایہ کاری ہے، جس کے ذریعے مقامی اور غیر ملکی دونوں کرنسیوں میں طویل المدتی فنانسنگ تک رسائی میں توسیع ہوگی، جو بالخصوص زراعت اور مائیکرو، اسمال اور میڈیم انٹرپرائزز جیسے اہم شعبوں میں معاشی ترقی کے لیے نہایت اہم ہے۔</p>
<p>پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ یہ فنانسنگ مقامی سرمائے کو متحرک کر کے اینگرو فرٹیلائزرز کو پاکستان میں زرعی ویلیو چین مضبوط بنانے میں مدد دے گی۔</p>
<p>آئی ایف سی کے مطابق یہ سرمایہ کاری جس کا مقصد پاکستان کے زرعی شعبے کو مستحکم کرنا اور غذائی تحفظ کو تقویت دینا ہے، آئی ایف سی کینیڈا کے فیسلٹی فار ریزیلینٹ فوڈ سسٹمز کی جانب سے فراہم کردہ فرسٹ لاس کاؤنٹر گارنٹی سے بھی مستفید ہوگی۔</p>
<p>پریس ریلیز میں مزید کہا گیا کہ پاکستانی روپے میں فنانسنگ کے استعمال کے ذریعے اینگرو فرٹیلائزرز مقامی سرمائے کے استعمال کو فروغ دے رہی ہے تاکہ آپریشنل استحکام میں اضافہ کیا جا سکے۔</p>
<p>یہ فنانسنگ اینگرو فرٹیلائزرز کو اپنی تنصیبات کی دیکھ بھال اور دیگر سرگرمیوں میں سرمایہ کاری کے قابل بنائے گی، جس سے یوریا اور دیگر کھادوں کی بلا تعطل فراہمی ممکن ہو سکے گی تاکہ قومی ضروریات پوری کی جا سکیں۔</p>
<p>پریس ریلیز کے مطابق اس فنانسنگ کا مقصد کسانوں کے لیے جاری پروگراموں کی معاونت بھی ہے تاکہ اینگرو کے بنیادی مشن، یعنی قابلِ اعتماد پیداوار سے ہم آہنگ اقدامات کا تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔</p>
<p>پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ پاکستان میں زرعی شعبہ ملکی مجموعی قومی پیداوار کا 24 فیصد، برآمدات کا 70 فیصد اور روزگار کا 40 فیصد فراہم کرتا ہے، جو اسے طویل المدتی ترقی کے لیے انتہائی اہم بناتا ہے۔</p>
<p>پریس ریلیز میں اینگرو فرٹیلائزرز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر علی کے حوالے سے کہا گیا کہ اینگرو ہمیشہ پاکستان کے اہم ترین مسائل کو بامعنی انداز میں حل کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ مقامی سرمائے کے ذریعے مقامی ویلیو چینز کو مضبوط بنانا ملک اور کسانوں سے ہماری وابستگی کا عکاس ہے، کیونکہ کسان پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ انہوں نے آئی ایف سی اور اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس مشن کو آگے بڑھانے میں مدد دی۔</p>
<p>پریس ریلیز میں آئی ایف سی کے مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے لیے مینوفیکچرنگ، ایگری بزنس اور سروسز کے ریجنل انڈسٹری ہیڈ اشرف مجاہد کے بیان کا بھی حوالہ دیا گیا، جنہوں نے کہا کہ یہ سرمایہ کاری اینگرو فرٹیلائزرز اور اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کے ساتھ شراکت داری کی مضبوطی اور پائیدار انداز میں مسائل کے حل کے لیے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے مقامی کرنسی میں طویل المدتی فنانسنگ کے نئے راستے کھل رہے ہیں، جو ایک ایسے شعبے میں ترقی اور مالی استحکام کو سہارا دیں گے جو ملکی معیشت کے لیے نہایت اہم ہے۔</p>
<p>اسی طرح اسٹینڈرڈ چارٹرڈ پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور ہیڈ آف کوریج ریحان شیخ کے حوالے سے کہا گیا کہ اسٹینڈرڈ چارٹرڈ پاکستان کی معیشت میں پائیدار ترقی اور طویل المدتی استحکام کے لیے فنانسنگ حل فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔</p>
<p>آئی ایف سی کا یہ اعلان اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور آئی ایف سی کے درمیان مقامی کرنسی میں نجی شعبے کی فنانسنگ بڑھانے کے معاہدے کے تقریباً دو ماہ بعد سامنے آیا ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک نے 21 اکتوبر کو اعلان کیا تھا کہ آئی ایف سی کے ساتھ انٹرنیشنل سویپس اینڈ ڈیریویٹوز ایسوسی ایشن کے فریم ورک کے تحت ایک معاہدہ طے پایا ہے، جس کے تحت آئی ایف سی کو پاکستانی روپے میں سرمایہ کاری اور زر مبادلہ کے خطرات بہتر طور پر سنبھالنے کی سہولت حاصل ہوگی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274903</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Dec 2025 14:57:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/23142723cbb1360.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/23142723cbb1360.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عارف حبیب گروپ نے پی آئی اے کو 135 ارب روپے میں خرید لیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274899/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی نجکاری ہوگئی، عارف حبیب گروپ نے خسارے میں چلنے والے قومی ادارے کو 135 ارب روپے میں خرید لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل نیلامی کے پہلے مرحلے کے اختتام پر دو ممکنہ خریداروں عارف حبیب اور لکی سیمنٹ  نے &lt;strong&gt;100&lt;/strong&gt; ارب روپے کی مقررہ بنیادی قیمت (reference price) سے زائد کی بولیاں دی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیلامی کے دوسرے مرحلے کا آغاز &lt;strong&gt;115&lt;/strong&gt; ارب روپے کی بنیادی قیمت سے ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرے مرحلے کے وقفے سے قبل لکی سیمنٹ نے اپنی بولی پر نظرثانی کرتے ہوئے اسے &lt;strong&gt;120.25&lt;/strong&gt; ارب روپے کر دیا جبکہ اس کے جواب میں عارف حبیب گروپ نے اپنی بولی بڑھا کر &lt;strong&gt;121&lt;/strong&gt; ارب روپے کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان بولیوں کے بعد، دونوں کنسورشیمز نے &lt;strong&gt;30&lt;/strong&gt; منٹ کے وقفے کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=miyxibyfT9M'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/miyxibyfT9M?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;وقفے کے بعد  لکی کنسورشیم نے 134 ارب روپے جبکہ اس کے جواب میں عارف حبیب کنسورشیم نے 135 ارب روپے کی بولی لگادی اور اس طرح وہ پی آئی اے کا مالک بن گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کی نیلامی ہوئی ہے، 75 فیصد حصص کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کا 92.5 فیصد پی آئی اے کو ملے گا جبکہ صرف 7.5 فیصد قومی خزانے میں جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی آئی اے کے 25 فیصد حصص حکومت کے پاس رہیں گے، تاہم کامیاب بولی دہندہ کو اختیار ہوگا کہ وہ ادائیگی کے بعد باقی 25 فیصد حصص خرید لے یا انہیں حکومت کے پاس ہی رہنے دے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاہدے کے تحت ایک سال تک کسی ملازم کو فارغ نہیں کیا جا سکے گا۔ ملازمین کی پنشن اور مراعات مکمل طور پر محفوظ رہیں گی جبکہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن، طبی سہولتیں اور رعایتی ٹکٹوں کی ذمہ داری ہولڈنگ کمپنی اٹھائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں آج منگل کی صبح جمع کرائی گئی سربمہر بولیاں پہلے سے اہل قرار دیے گئے بولی دہندگان لکی سیمنٹ، نجی ایئر لائن ایئر بلیو اور سرمایہ کاری کمپنی عارف حبیب کی جانب سے موصول ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بولی دینے والے گروپس کے نمائندے ایک ایک کر کے اسلام آباد میں ہونے والی عوامی تقریب میں آئے اور شفاف باکس میں اپنی سربمہر پیشکشیں جمع کرائیں، اس دوران لفافے ڈالنے میں مختصر سی الجھن بھی دیکھنے میں آئی۔ اس تقریب کو سرکاری ٹی وی پر براہِ راست نشر کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بولیاں موصول ہونے کے بعد اب پی آئی اے سی ایل کی بولی کے لیے ریفرنس پرائس کی منظوری نجکاری کمیشن بورڈ اور کابینہ کمیٹی برائے نجکاری دے گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=dNGPOatNyj8'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/dNGPOatNyj8?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پورا عمل براہِ راست نشر اور تمام نجی ٹی وی چینلز کے ساتھ ساتھ حکومت کے متعلقہ سوشل میڈیا ہینڈلز پر اسٹریم کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو نیلامی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمد علی نے کہا کہ اللہ کے فضل سے ہمیں اچھی بولی ملے گی، اچھی سرمایہ کاری آئے گی اور ہم کامیاب ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نیلامی  دوسری کوشش ہے جس میں ایک وقت کی معروف قومی ایئر لائن فروخت کی جا رہی ہے، کیونکہ گزشتہ ہونے والی نیلامی ناکام ہو گئی تھی جب واحد پیشکش حکومتی ریفرنس پرائس سے بہت کم رہی تھی، جس کے نتیجے میں تقریباً دو دہائیوں میں ہونے والی پہلی بڑی نجکاری رک گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قومی ایئر لائن کی نجکاری میں کردار ادا کرنے پر سرکاری حکام اور نجکاری کمیشن کا شکریہ ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زور دیا کہ اس عمل کو شفاف بنایا گیا ہے اور کہا کہ یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا لین دین ہو گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ آج جب نیلامی کا آغاز ہو رہا ہے تو پیش کشیں سربمہر لفافوں میں آئیں گی، شفاف باکس ہوں گے اور براہِ راست نشریات ہوں گی۔ جب قیمت طے ہو جائے گی تو لفافے کھولے جائیں گے، مقابلہ ہو گا اور جس کی بولی سب سے زیادہ ہو گی وہ کامیاب ہو گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1209297'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1209297"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ صرف اللہ جانتا ہے بولی کہاں تک جائے گی لیکن اس عمل کو واپس کابینہ کے پاس آنا ہو گا۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="ناکام-بولی-دہندگان-پی-آئی-اے-کے-انتظام-سے-باہر-ہوں-گے" href="#ناکام-بولی-دہندگان-پی-آئی-اے-کے-انتظام-سے-باہر-ہوں-گے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;ناکام بولی دہندگان پی آئی اے کے انتظام سے باہر ہوں گے&lt;/strong&gt;&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل محمد علی نے کہا تھا کہ ایک منفرد شرط کے تحت دو ناکام بولی دہندگان کو مستقبل میں ایئر لائن کے انتظام میں کسی بھی کردار سے باہر رکھا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ بیانات میں انہوں نے وضاحت کی کہ ہارنے والے بولی دہندگان کو کامیاب بولی دہندہ کے ساتھ شامل ہونے کا کوئی حق نہیں ہو گا، اور صرف وہ گروپس جو نیلامی کا حصہ نہیں تھے نئی انتظامیہ میں شامل ہو سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت دوڑ میں شامل تین کنسورشیمز میں سے صرف ایک اکثریتی حصص حاصل کرنے کے بعد قومی ایئر لائن کے انتظام کا حصہ بنے گا جبکہ فوجی فرٹیلائزر کمپنی کے پاس بعد میں ان کے ساتھ شامل ہونے کا اختیار برقرار رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کی بولی سے قبل ایسی اطلاعات سامنے آئیں کہ پس پردہ کم از کم دو فریقین یعنی عارف حبیب اور لکی سیمنٹ گروپس کے درمیان ایک معاہدہ زیر غور آیا تھا جو بعد میں ناکام ہو گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/AajKamranKhan/status/2003002414220341506?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2003002414220341506%7Ctwgr%5E615d0de332a73ac5637719e17ad38c7b33fbba70%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1962791'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/AajKamranKhan/status/2003002414220341506?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2003002414220341506%7Ctwgr%5E615d0de332a73ac5637719e17ad38c7b33fbba70%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1962791"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایک ٹوئٹ میں سینئر صحافی کامران خان نے ایک ایسے اجلاس کی طرف اشارہ کیا جس میں چار میں سے تین دلچسپی رکھنے والے فریقین کے درمیان کنٹرولنگ شیئر تقسیم کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ تاہم ان کے مطابق یہ انتظام اس وقت ختم ہو گیا جب ایک فریق یعنی محمد علی ٹبہ کی قیادت میں لکی سیمنٹ گروپ نے اس پر رضامندی ظاہر نہیں کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹبہ گروپ اور حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے جو پیش رفت سے آگاہ تھے، اس کی تصدیق کی لیکن وضاحت کی کہ یہ حکومت کی جانب سے کرایا گیا اجلاس نہیں تھا بلکہ ایک غیر رسمی ملاقات تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے محمد علی ٹبہ نے نجکاری کے عمل پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ تجویز اسلام آباد میں ایک ملاقات کے بعد ان کے سامنے رکھی گئی تھی جسے انہوں نے آگے نہیں بڑھایا۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;اس خبر میں اضافی معلومات رائٹرز سے شامل کی گئیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی نجکاری ہوگئی، عارف حبیب گروپ نے خسارے میں چلنے والے قومی ادارے کو 135 ارب روپے میں خرید لیا۔</p>
<p>اس سے قبل نیلامی کے پہلے مرحلے کے اختتام پر دو ممکنہ خریداروں عارف حبیب اور لکی سیمنٹ  نے <strong>100</strong> ارب روپے کی مقررہ بنیادی قیمت (reference price) سے زائد کی بولیاں دی تھیں۔</p>
<p>نیلامی کے دوسرے مرحلے کا آغاز <strong>115</strong> ارب روپے کی بنیادی قیمت سے ہوا تھا۔</p>
<p>دوسرے مرحلے کے وقفے سے قبل لکی سیمنٹ نے اپنی بولی پر نظرثانی کرتے ہوئے اسے <strong>120.25</strong> ارب روپے کر دیا جبکہ اس کے جواب میں عارف حبیب گروپ نے اپنی بولی بڑھا کر <strong>121</strong> ارب روپے کر دی۔</p>
<p>ان بولیوں کے بعد، دونوں کنسورشیمز نے <strong>30</strong> منٹ کے وقفے کا فیصلہ کیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=miyxibyfT9M'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/miyxibyfT9M?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>وقفے کے بعد  لکی کنسورشیم نے 134 ارب روپے جبکہ اس کے جواب میں عارف حبیب کنسورشیم نے 135 ارب روپے کی بولی لگادی اور اس طرح وہ پی آئی اے کا مالک بن گیا۔</p>
<p>واضح رہے کہ پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کی نیلامی ہوئی ہے، 75 فیصد حصص کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کا 92.5 فیصد پی آئی اے کو ملے گا جبکہ صرف 7.5 فیصد قومی خزانے میں جائے گا۔</p>
<p>پی آئی اے کے 25 فیصد حصص حکومت کے پاس رہیں گے، تاہم کامیاب بولی دہندہ کو اختیار ہوگا کہ وہ ادائیگی کے بعد باقی 25 فیصد حصص خرید لے یا انہیں حکومت کے پاس ہی رہنے دے۔</p>
<p>معاہدے کے تحت ایک سال تک کسی ملازم کو فارغ نہیں کیا جا سکے گا۔ ملازمین کی پنشن اور مراعات مکمل طور پر محفوظ رہیں گی جبکہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن، طبی سہولتیں اور رعایتی ٹکٹوں کی ذمہ داری ہولڈنگ کمپنی اٹھائے گی۔</p>
<p>قبل ازیں آج منگل کی صبح جمع کرائی گئی سربمہر بولیاں پہلے سے اہل قرار دیے گئے بولی دہندگان لکی سیمنٹ، نجی ایئر لائن ایئر بلیو اور سرمایہ کاری کمپنی عارف حبیب کی جانب سے موصول ہوئیں۔</p>
<p>بولی دینے والے گروپس کے نمائندے ایک ایک کر کے اسلام آباد میں ہونے والی عوامی تقریب میں آئے اور شفاف باکس میں اپنی سربمہر پیشکشیں جمع کرائیں، اس دوران لفافے ڈالنے میں مختصر سی الجھن بھی دیکھنے میں آئی۔ اس تقریب کو سرکاری ٹی وی پر براہِ راست نشر کیا گیا۔</p>
<p>بولیاں موصول ہونے کے بعد اب پی آئی اے سی ایل کی بولی کے لیے ریفرنس پرائس کی منظوری نجکاری کمیشن بورڈ اور کابینہ کمیٹی برائے نجکاری دے گی۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://www.youtube.com/watch?v=dNGPOatNyj8'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/dNGPOatNyj8?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پورا عمل براہِ راست نشر اور تمام نجی ٹی وی چینلز کے ساتھ ساتھ حکومت کے متعلقہ سوشل میڈیا ہینڈلز پر اسٹریم کیا گیا۔</p>
<p>منگل کو نیلامی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمد علی نے کہا کہ اللہ کے فضل سے ہمیں اچھی بولی ملے گی، اچھی سرمایہ کاری آئے گی اور ہم کامیاب ہوں گے۔</p>
<p>یہ نیلامی  دوسری کوشش ہے جس میں ایک وقت کی معروف قومی ایئر لائن فروخت کی جا رہی ہے، کیونکہ گزشتہ ہونے والی نیلامی ناکام ہو گئی تھی جب واحد پیشکش حکومتی ریفرنس پرائس سے بہت کم رہی تھی، جس کے نتیجے میں تقریباً دو دہائیوں میں ہونے والی پہلی بڑی نجکاری رک گئی تھی۔</p>
<p>ادھر وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قومی ایئر لائن کی نجکاری میں کردار ادا کرنے پر سرکاری حکام اور نجکاری کمیشن کا شکریہ ادا کیا۔</p>
<p>انہوں نے زور دیا کہ اس عمل کو شفاف بنایا گیا ہے اور کہا کہ یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا لین دین ہو گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ آج جب نیلامی کا آغاز ہو رہا ہے تو پیش کشیں سربمہر لفافوں میں آئیں گی، شفاف باکس ہوں گے اور براہِ راست نشریات ہوں گی۔ جب قیمت طے ہو جائے گی تو لفافے کھولے جائیں گے، مقابلہ ہو گا اور جس کی بولی سب سے زیادہ ہو گی وہ کامیاب ہو گا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1209297'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1209297"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ صرف اللہ جانتا ہے بولی کہاں تک جائے گی لیکن اس عمل کو واپس کابینہ کے پاس آنا ہو گا۔</p>
<h2><a id="ناکام-بولی-دہندگان-پی-آئی-اے-کے-انتظام-سے-باہر-ہوں-گے" href="#ناکام-بولی-دہندگان-پی-آئی-اے-کے-انتظام-سے-باہر-ہوں-گے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>ناکام بولی دہندگان پی آئی اے کے انتظام سے باہر ہوں گے</strong></h2>
<p>اس سے قبل محمد علی نے کہا تھا کہ ایک منفرد شرط کے تحت دو ناکام بولی دہندگان کو مستقبل میں ایئر لائن کے انتظام میں کسی بھی کردار سے باہر رکھا جائے گا۔</p>
<p>حالیہ بیانات میں انہوں نے وضاحت کی کہ ہارنے والے بولی دہندگان کو کامیاب بولی دہندہ کے ساتھ شامل ہونے کا کوئی حق نہیں ہو گا، اور صرف وہ گروپس جو نیلامی کا حصہ نہیں تھے نئی انتظامیہ میں شامل ہو سکیں گے۔</p>
<p>اس کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت دوڑ میں شامل تین کنسورشیمز میں سے صرف ایک اکثریتی حصص حاصل کرنے کے بعد قومی ایئر لائن کے انتظام کا حصہ بنے گا جبکہ فوجی فرٹیلائزر کمپنی کے پاس بعد میں ان کے ساتھ شامل ہونے کا اختیار برقرار رہے گا۔</p>
<p>منگل کی بولی سے قبل ایسی اطلاعات سامنے آئیں کہ پس پردہ کم از کم دو فریقین یعنی عارف حبیب اور لکی سیمنٹ گروپس کے درمیان ایک معاہدہ زیر غور آیا تھا جو بعد میں ناکام ہو گیا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/AajKamranKhan/status/2003002414220341506?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2003002414220341506%7Ctwgr%5E615d0de332a73ac5637719e17ad38c7b33fbba70%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1962791'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/AajKamranKhan/status/2003002414220341506?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2003002414220341506%7Ctwgr%5E615d0de332a73ac5637719e17ad38c7b33fbba70%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1962791"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ایک ٹوئٹ میں سینئر صحافی کامران خان نے ایک ایسے اجلاس کی طرف اشارہ کیا جس میں چار میں سے تین دلچسپی رکھنے والے فریقین کے درمیان کنٹرولنگ شیئر تقسیم کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ تاہم ان کے مطابق یہ انتظام اس وقت ختم ہو گیا جب ایک فریق یعنی محمد علی ٹبہ کی قیادت میں لکی سیمنٹ گروپ نے اس پر رضامندی ظاہر نہیں کی۔</p>
<p>ٹبہ گروپ اور حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے جو پیش رفت سے آگاہ تھے، اس کی تصدیق کی لیکن وضاحت کی کہ یہ حکومت کی جانب سے کرایا گیا اجلاس نہیں تھا بلکہ ایک غیر رسمی ملاقات تھی۔</p>
<p>ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے محمد علی ٹبہ نے نجکاری کے عمل پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ تجویز اسلام آباد میں ایک ملاقات کے بعد ان کے سامنے رکھی گئی تھی جسے انہوں نے آگے نہیں بڑھایا۔</p>
<hr />
<p>اس خبر میں اضافی معلومات رائٹرز سے شامل کی گئیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274899</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Dec 2025 19:16:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امین احمدویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/23184718ee6d1e2.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/23184718ee6d1e2.webp"/>
        <media:title>یہ نیلامی دوسری کوشش ہے جس میں ایک وقت کی معروف قومی ایئر لائن فروخت کی جا رہی ہے، کیونکہ گزشتہ سال ہونے والی نیلامی ناکام ہو گئی تھی جب واحد پیشکش حکومتی ریفرنس پرائس سے بہت کم رہی تھی، جس کے نتیجے میں تقریباً دو دہائیوں میں ہونے والی پہلی بڑی نجکاری رک گئی تھی۔ فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/231852014cf1937.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/231852014cf1937.webp"/>
        <media:title>یہ نیلامی دوسری کوشش ہے جس میں ایک وقت کی معروف قومی ایئر لائن فروخت کی جا رہی ہے، کیونکہ گزشتہ سال ہونے والی نیلامی ناکام ہو گئی تھی جب واحد پیشکش حکومتی ریفرنس پرائس سے بہت کم رہی تھی، جس کے نتیجے میں تقریباً دو دہائیوں میں ہونے والی پہلی بڑی نجکاری رک گئی تھی۔ فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی آئی اے کی نیلامی کل ہوگی، فوجی فرٹیلائزر دستبردار، تین بولی دہندگان میدان میں باقی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274889/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: نجکاری کمیشن کل (23 دسمبر بروز منگل کو) پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ (پی آئی اے سی) کی نجکاری کا عمل شروع کردے گی،  فوجی فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ کے نیلامی کے عمل سے نکلنے کے بعد اب صرف تین بولی دہندگان مقابلے میں رہ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتوار کو نجکاری کمیشن کی جانب سے جاری کردہ پروگرام کے مطابق نیلامی کی بولیاں صبح 10 بج کر 45 منٹ سے 11 بج کر 15 منٹ تک لگائی جائیں گی، جبکہ سہ پہر 3 بج کر 30 منٹ پر بولیاں کھولی جائیں گی۔ حکومت کے فیصلے کے مطابق اس عمل کو ٹی وی نیٹ ورکس پر براہِ راست دکھایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;باقی رہ جانے والے تین بولی دہندگان میں ایک کنسورشیم جس میں لکی سیمنٹ لمیٹڈ، حب پاور ہولڈنگز لمیٹڈ، کوہاٹ سیمنٹ کمپنی لمیٹڈ اور میٹرو وینچرز پرائیویٹ لمیٹڈ شامل ہیں۔&lt;br&gt;ایک کنسورشیم جس میں عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ، فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ، سٹی اسکولز پرائیویٹ لمیٹڈ اور لیک سٹی ہولڈنگز پرائیویٹ لمیٹڈ شامل ہیں؛&lt;br&gt;اور تیسرا کنسورشیم ایئر بلیو پرائیویٹ لمیٹڈ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجکاری کمیشن کے چیئرمین اور وزیرِ اعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے ایک یوٹیوب انٹرویو میں بتایا کہ فوجی فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ نے پی آئی اے کی بولی کے عمل سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے وضاحت کی کہ منگل کو بولیاں جمع ہونے کے بعد انہیں ایک شفاف باکس میں رکھا جائے گا، جس کے بعد نجکاری کمیشن کا بورڈ اجلاس کر کے ریفرنس قیمت مقرر کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد کابینہ کمیٹی برائے نجکاری ریفرنس قیمت کی منظوری دے گی، جو بولیاں کھولنے کے وقت اعلان کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ اگر بولیاں ریفرنس قیمت سے زیادہ ہوئیں تو کھلی نیلامی ہوگی، جبکہ اگر بولیاں ریفرنس قیمت سے کم ہوئیں تو سب سے زیادہ بولی لگانے والے کو ترجیح دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگلے مرحلے کے بارے میں مشیر نے کہا کہ وفاقی کابینہ چند دنوں میں اس لین دین کی منظوری دے گی، جس کے بعد بولی دہندگان سے موصول ہونے والی دستاویزات پر دستخط کیے جائیں گے۔ دستخط کے بعد نجکاری کمیشن کے پاس 90 دن ہوں گے جن میں جائیدادوں، واجبات اور لیز پر لیے گئے طیاروں کی منتقلی سمیت دیگر امور مکمل کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="لین-دین-کا-طریقہ-کار" href="#لین-دین-کا-طریقہ-کار" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;لین دین کا طریقہ کار&lt;/strong&gt;&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;لین دین کے طریقہ کار کے مطابق بولی پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کی بنیاد پر ہوگی۔ 75 فیصد حصص کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کا 92.5 فیصد پی آئی اے کو ملے گا، جبکہ صرف 7.5 فیصد قومی خزانے میں جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ پی آئی اے کے 25 فیصد حصص حکومت کے پاس رہیں گے، جو ایک قیمتی اثاثہ ہوں گے۔ تاہم کامیاب بولی دہندہ کو اختیار ہوگا کہ وہ ادائیگی کے بعد باقی 25 فیصد حصص خرید لے یا انہیں حکومت کے پاس ہی رہنے دے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد علی کے مطابق باقی 25 فیصد حصص کی قدر کا تعین 75 فیصد حصص کے فیصلے کے بعد کیا جائے گا۔ حکومت نے بولی دہندگان کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ 12 ماہ کے اندر 12 فیصد پریمیم کے ساتھ باقی حصص خریدنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بولی دہندگان کو 75 فیصد حصص کے حوالے سے فیصلہ منگل کو کرنا ہوگا، جبکہ باقی 25 فیصد حصص کی خریداری کے لیے 90 دن کے اندر فیصلہ کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بولی دہندگان نے 75 فیصد حصص کی ادائیگی ایک سال میں کرنے کی درخواست کی تھی، تاہم حکومت نے یہ تجویز قبول نہیں کی۔ ان کے مطابق اگر ایک سال کے دوران پی آئی اے کی کارکردگی خراب ہوتی تو خریدار خریداری سے پیچھے ہٹ سکتا تھا، اور اگر کارکردگی بہتر ہوتی تو خریداری کے حق میں فیصلہ کرتا، جو حکومت کے ساتھ ناانصافی ہوتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ کامیاب بولی دہندہ 90 دن کے اندر بولی کی رقم کا دو تہائی جمع کرائے گا، جبکہ باقی ایک تہائی ایک سال کے اندر ادا کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد علی نے کہا کہ پی آئی اے کی بحالی سے مجموعی قومی پیداوار اور مجموعی معیشت پر مثبت اثر پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں ہوا بازی کے شعبے کا جی ڈی پی میں حصہ سب سے کم ہے۔ متحدہ عرب امارات میں یہ حصہ 18 فیصد اور سعودی عرب میں 8.5 فیصد ہے، جبکہ پاکستان میں یہ صرف 1.3 فیصد ہے۔ تاہم پی آئی اے کی صلاحیت کے باعث یہ شرح نمایاں طور پر بڑھ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی آئی اے کے 34 طیاروں کے بیڑے میں سے اس وقت صرف 18 طیارے فعال ہیں۔ تاہم پی آئی اے کے 97 ممالک کے ساتھ فضائی سروس معاہدے موجود ہیں اور 170 سے زائد ممالک میں لینڈنگ رائٹس حاصل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ پی آئی اے اس وقت 11 ارب روپے کا خالص منافع اور 30 ارب روپے کی ایکویٹی رکھتی ہے، جبکہ 26 ارب روپے کی واجبات پی آئی اے کے پاس ہی رہیں گی، جن کی ادائیگی بولی دہندگان پانچ سال میں کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="ملازمین-کا-کیا-ہوگا" href="#ملازمین-کا-کیا-ہوگا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ملازمین کا کیا ہوگا؟&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;ملازمین کے بارے میں انہوں نے کہا کہ مجوزہ معاہدے کے تحت ایک سال تک کسی ملازم کو فارغ نہیں کیا جا سکے گا۔ ملازمین کی پنشن اور مراعات مکمل طور پر محفوظ رہیں گی، جبکہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن، طبی سہولتیں اور رعایتی ٹکٹوں کی ذمہ داری ہولڈنگ کمپنی اٹھائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ 2011 میں پی آئی اے کے ملازمین کی تعداد 11 ہزار 500 تھی، جو اب کم ہو کر 6 ہزار 500 رہ گئی ہے، یعنی پانچ سال میں 5 ہزار ملازمین کی کمی آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد علی نے کہا کہ پی آئی اے ایک ایسا اثاثہ ہے جسے اگر درست انداز میں نہ چلایا گیا تو بھاری نقصان ہو سکتا ہے، لیکن بہتر انتظام کے ساتھ یہ غیر معمولی آمدن پیدا کر سکتی ہے۔ 25 کروڑ آبادی والے ملک میں پی آئی اے کے پاس مسافر، منزلیں، روٹس اور لینڈنگ سلاٹس موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق پی آئی اے کو سرمایہ کاری، نئے طیاروں کے اضافے اور مؤثر انتظام کی ضرورت ہے، جو حکومت فراہم نہیں کر سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پی آئی اے میں جس نوعیت کے فیصلوں کی ضرورت ہے وہ صرف نجی شعبہ ہی کر سکتا ہے، اور اگر ایئرلائن کو درست طور پر چلایا جائے تو پی آئی اے دوبارہ اپنے سنہری دور میں واپس آ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: نجکاری کمیشن کل (23 دسمبر بروز منگل کو) پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ (پی آئی اے سی) کی نجکاری کا عمل شروع کردے گی،  فوجی فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ کے نیلامی کے عمل سے نکلنے کے بعد اب صرف تین بولی دہندگان مقابلے میں رہ گئے ہیں۔</p>
<p>اتوار کو نجکاری کمیشن کی جانب سے جاری کردہ پروگرام کے مطابق نیلامی کی بولیاں صبح 10 بج کر 45 منٹ سے 11 بج کر 15 منٹ تک لگائی جائیں گی، جبکہ سہ پہر 3 بج کر 30 منٹ پر بولیاں کھولی جائیں گی۔ حکومت کے فیصلے کے مطابق اس عمل کو ٹی وی نیٹ ورکس پر براہِ راست دکھایا جائے گا۔</p>
<p>باقی رہ جانے والے تین بولی دہندگان میں ایک کنسورشیم جس میں لکی سیمنٹ لمیٹڈ، حب پاور ہولڈنگز لمیٹڈ، کوہاٹ سیمنٹ کمپنی لمیٹڈ اور میٹرو وینچرز پرائیویٹ لمیٹڈ شامل ہیں۔<br>ایک کنسورشیم جس میں عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ، فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ، سٹی اسکولز پرائیویٹ لمیٹڈ اور لیک سٹی ہولڈنگز پرائیویٹ لمیٹڈ شامل ہیں؛<br>اور تیسرا کنسورشیم ایئر بلیو پرائیویٹ لمیٹڈ ہے۔</p>
<p>نجکاری کمیشن کے چیئرمین اور وزیرِ اعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے ایک یوٹیوب انٹرویو میں بتایا کہ فوجی فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ نے پی آئی اے کی بولی کے عمل سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے وضاحت کی کہ منگل کو بولیاں جمع ہونے کے بعد انہیں ایک شفاف باکس میں رکھا جائے گا، جس کے بعد نجکاری کمیشن کا بورڈ اجلاس کر کے ریفرنس قیمت مقرر کرے گا۔</p>
<p>اس کے بعد کابینہ کمیٹی برائے نجکاری ریفرنس قیمت کی منظوری دے گی، جو بولیاں کھولنے کے وقت اعلان کی جائے گی۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ اگر بولیاں ریفرنس قیمت سے زیادہ ہوئیں تو کھلی نیلامی ہوگی، جبکہ اگر بولیاں ریفرنس قیمت سے کم ہوئیں تو سب سے زیادہ بولی لگانے والے کو ترجیح دی جائے گی۔</p>
<p>اگلے مرحلے کے بارے میں مشیر نے کہا کہ وفاقی کابینہ چند دنوں میں اس لین دین کی منظوری دے گی، جس کے بعد بولی دہندگان سے موصول ہونے والی دستاویزات پر دستخط کیے جائیں گے۔ دستخط کے بعد نجکاری کمیشن کے پاس 90 دن ہوں گے جن میں جائیدادوں، واجبات اور لیز پر لیے گئے طیاروں کی منتقلی سمیت دیگر امور مکمل کیے جائیں گے۔</p>
<h2><a id="لین-دین-کا-طریقہ-کار" href="#لین-دین-کا-طریقہ-کار" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>لین دین کا طریقہ کار</strong></h2>
<p>لین دین کے طریقہ کار کے مطابق بولی پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کی بنیاد پر ہوگی۔ 75 فیصد حصص کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کا 92.5 فیصد پی آئی اے کو ملے گا، جبکہ صرف 7.5 فیصد قومی خزانے میں جائے گا۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ پی آئی اے کے 25 فیصد حصص حکومت کے پاس رہیں گے، جو ایک قیمتی اثاثہ ہوں گے۔ تاہم کامیاب بولی دہندہ کو اختیار ہوگا کہ وہ ادائیگی کے بعد باقی 25 فیصد حصص خرید لے یا انہیں حکومت کے پاس ہی رہنے دے۔</p>
<p>محمد علی کے مطابق باقی 25 فیصد حصص کی قدر کا تعین 75 فیصد حصص کے فیصلے کے بعد کیا جائے گا۔ حکومت نے بولی دہندگان کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ 12 ماہ کے اندر 12 فیصد پریمیم کے ساتھ باقی حصص خریدنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔</p>
<p>بولی دہندگان کو 75 فیصد حصص کے حوالے سے فیصلہ منگل کو کرنا ہوگا، جبکہ باقی 25 فیصد حصص کی خریداری کے لیے 90 دن کے اندر فیصلہ کرنا ہوگا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ بولی دہندگان نے 75 فیصد حصص کی ادائیگی ایک سال میں کرنے کی درخواست کی تھی، تاہم حکومت نے یہ تجویز قبول نہیں کی۔ ان کے مطابق اگر ایک سال کے دوران پی آئی اے کی کارکردگی خراب ہوتی تو خریدار خریداری سے پیچھے ہٹ سکتا تھا، اور اگر کارکردگی بہتر ہوتی تو خریداری کے حق میں فیصلہ کرتا، جو حکومت کے ساتھ ناانصافی ہوتی۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ کامیاب بولی دہندہ 90 دن کے اندر بولی کی رقم کا دو تہائی جمع کرائے گا، جبکہ باقی ایک تہائی ایک سال کے اندر ادا کی جائے گی۔</p>
<p>محمد علی نے کہا کہ پی آئی اے کی بحالی سے مجموعی قومی پیداوار اور مجموعی معیشت پر مثبت اثر پڑے گا۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں ہوا بازی کے شعبے کا جی ڈی پی میں حصہ سب سے کم ہے۔ متحدہ عرب امارات میں یہ حصہ 18 فیصد اور سعودی عرب میں 8.5 فیصد ہے، جبکہ پاکستان میں یہ صرف 1.3 فیصد ہے۔ تاہم پی آئی اے کی صلاحیت کے باعث یہ شرح نمایاں طور پر بڑھ سکتی ہے۔</p>
<p>پی آئی اے کے 34 طیاروں کے بیڑے میں سے اس وقت صرف 18 طیارے فعال ہیں۔ تاہم پی آئی اے کے 97 ممالک کے ساتھ فضائی سروس معاہدے موجود ہیں اور 170 سے زائد ممالک میں لینڈنگ رائٹس حاصل ہیں۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ پی آئی اے اس وقت 11 ارب روپے کا خالص منافع اور 30 ارب روپے کی ایکویٹی رکھتی ہے، جبکہ 26 ارب روپے کی واجبات پی آئی اے کے پاس ہی رہیں گی، جن کی ادائیگی بولی دہندگان پانچ سال میں کریں گے۔</p>
<h2><a id="ملازمین-کا-کیا-ہوگا" href="#ملازمین-کا-کیا-ہوگا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ملازمین کا کیا ہوگا؟</h2>
<p>ملازمین کے بارے میں انہوں نے کہا کہ مجوزہ معاہدے کے تحت ایک سال تک کسی ملازم کو فارغ نہیں کیا جا سکے گا۔ ملازمین کی پنشن اور مراعات مکمل طور پر محفوظ رہیں گی، جبکہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن، طبی سہولتیں اور رعایتی ٹکٹوں کی ذمہ داری ہولڈنگ کمپنی اٹھائے گی۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ 2011 میں پی آئی اے کے ملازمین کی تعداد 11 ہزار 500 تھی، جو اب کم ہو کر 6 ہزار 500 رہ گئی ہے، یعنی پانچ سال میں 5 ہزار ملازمین کی کمی آئی ہے۔</p>
<p>محمد علی نے کہا کہ پی آئی اے ایک ایسا اثاثہ ہے جسے اگر درست انداز میں نہ چلایا گیا تو بھاری نقصان ہو سکتا ہے، لیکن بہتر انتظام کے ساتھ یہ غیر معمولی آمدن پیدا کر سکتی ہے۔ 25 کروڑ آبادی والے ملک میں پی آئی اے کے پاس مسافر، منزلیں، روٹس اور لینڈنگ سلاٹس موجود ہیں۔</p>
<p>ان کے مطابق پی آئی اے کو سرمایہ کاری، نئے طیاروں کے اضافے اور مؤثر انتظام کی ضرورت ہے، جو حکومت فراہم نہیں کر سکتی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پی آئی اے میں جس نوعیت کے فیصلوں کی ضرورت ہے وہ صرف نجی شعبہ ہی کر سکتا ہے، اور اگر ایئرلائن کو درست طور پر چلایا جائے تو پی آئی اے دوبارہ اپنے سنہری دور میں واپس آ سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274889</guid>
      <pubDate>Mon, 22 Dec 2025 12:04:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امین احمد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/22100915ce8de98.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/22100915ce8de98.webp"/>
        <media:title>منگل کو بولیاں جمع ہونے کے بعد انہیں ایک شفاف باکس میں رکھا جائے گا، جس کے بعد نجکاری کمیشن کا بورڈ اجلاس کر کے ریفرنس قیمت مقرر کرے گا۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا 2026 میں پاکستانی معیشت بہتر ہوگی؟ ہمارے سروے میں حصہ لیں</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274905/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://docs.google.com/forms/d/e/1FAIpQLSed6l20_mXc-RF7aH3AbQduT7uSGRAunVxHw8MA3zaaWBfj_g/viewform"&gt;https://docs.google.com/forms/d/e/1FAIpQLSed6l20_mXc-RF7aH3AbQduT7uSGRAunVxHw8MA3zaaWBfj_g/viewform&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://docs.google.com/forms/d/e/1FAIpQLSed6l20_mXc-RF7aH3AbQduT7uSGRAunVxHw8MA3zaaWBfj_g/viewform">https://docs.google.com/forms/d/e/1FAIpQLSed6l20_mXc-RF7aH3AbQduT7uSGRAunVxHw8MA3zaaWBfj_g/viewform</a></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274905</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Dec 2025 15:27:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/2315271343870b7.webp" type="image/webp" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/2315271343870b7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کسانوں کو 10 لاکھ روپے تک قرض کی سہولت کیلئے ڈیجیٹل ایپ ’ذرخیزی‘ متعارف</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274896/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: حکومت پاکستان کے فنانس ڈویژن نے اسٹیٹ بینک اور پاکستان بینکس ایسوسی ایشن (پی بی اے) کے اشتراک سے زرعی فنانسنگ میں انقلاب لانے کے لیے تیار کردہ ایک جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارم ’ذرخیزی‘  کا آغاز کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اقدام کا مقصد زرعی فنانس کو ڈیجیٹل بنانا ہے تاکہ کسان ذرخیزی ایپ کے ذریعے ڈیجیٹل طور پر درخواست دے سکیں اور دس لاکھ روپے تک کا قرضہ حاصل کر سکیں، ضروری تصدیق کے بعد یہ درخواست کسان کی پسند کے بینک کو پراسیسنگ کے لیے بھیج دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانسنگ کا 75 فیصد حصہ زرعی سامان کی خریداری کے لیے بینکوں کے منظور شدہ زرعی وینڈرز کے ذریعے اشیا کی صورت میں فراہم کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانسنگ کے علاوہ، کسان کو لینڈ انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم (LIMS) کے ذریعے زرعی مشاورت کی سروسز بھی دی جائیں گی۔ ذرخیزی پلیٹ فارم فنانسنگ کے ساتھ معیاری زرعی اشیاء اورکسانوں کی مشاورت کے ذریعے پیداوار میں بہتری لائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چھوٹے کسانوں کو فنانسنگ کی فراہمی کے لیے بینکوں کی حوصلہ افزائی کے طور پر حکومت نے 10 فیصد فرسٹ لاس کوریج اور بینکوں کے واجب الادا قرض داروں میں خالص اضافہ پرفی کس دس ہزار روپے کی آپریشنل لاگت سبسڈی بھی فراہم کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ یہ اقدام چھوٹے کسانوں کے لیے قرضہ جات تک رسائی کو آسان بنا کردیہی ترقی اور قومی غذائی تحفظ کے لیے حکومت کے وسیع تر مقاصد کی حمایت کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہاکہ ذرخیزی ایپ چھوٹے کسانوں کی فنانس تک رسائی بہتر بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ قرضہ حاصل کرنے کا عمل ڈیجیٹل بنا کر ہم چھوٹے کسانوں کے لیے رکاوٹیں ختم کر رہے ہیں اور اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ رسمی قرضہ جات بروقت، قابل رسائی اور فصلوں کی پیداوارمیں کسانوں کو مدد دیں۔ ذرخیزی دیہی معیشت میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کا ہدف حاصل کرنے میں بھی معاون ثابت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے چیئرمین ظفر مسعود نے اس سلسلے میں بینکاری شعبہ کے اجتماعی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہاکہ بینکنگ انڈسٹری ذرخیزی ایپ کے کامیاب نفاذ کے لیے پرعزم ہے۔ ہم وزارتِ خزانہ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھیں گے تاکہ ملک بھر کے کسانوں تک رسائی کو بڑھایا جا سکے اور طریقہ کار کوآسان بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اور اختراعی کریڈٹ اسیسمنٹ طریقوں سے استفادہ کرتے ہوئے، ہمارا مقصد چھوٹے کسانوں، خصوصاً ان بے زمین کسانوں کے لیے فنانس تک رسائی بہتر بنانا ہے جو بڑی حد تک غیر دستاویزی شعبے میں کام کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زرخیزی ایپ اب گوگل پلے اسٹور پر ڈاؤن لوڈ کے لیے دستیاب ہے جبکہ کسان ڈیجیٹل آن بورڈنگ میں مدد کے لیے اپنے قریبی بینک کی کسی بھی برانچ سے رجوع کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: حکومت پاکستان کے فنانس ڈویژن نے اسٹیٹ بینک اور پاکستان بینکس ایسوسی ایشن (پی بی اے) کے اشتراک سے زرعی فنانسنگ میں انقلاب لانے کے لیے تیار کردہ ایک جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارم ’ذرخیزی‘  کا آغاز کردیا ہے۔</p>
<p>اس اقدام کا مقصد زرعی فنانس کو ڈیجیٹل بنانا ہے تاکہ کسان ذرخیزی ایپ کے ذریعے ڈیجیٹل طور پر درخواست دے سکیں اور دس لاکھ روپے تک کا قرضہ حاصل کر سکیں، ضروری تصدیق کے بعد یہ درخواست کسان کی پسند کے بینک کو پراسیسنگ کے لیے بھیج دی جائے گی۔</p>
<p>فنانسنگ کا 75 فیصد حصہ زرعی سامان کی خریداری کے لیے بینکوں کے منظور شدہ زرعی وینڈرز کے ذریعے اشیا کی صورت میں فراہم کیا جائے گا۔</p>
<p>فنانسنگ کے علاوہ، کسان کو لینڈ انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم (LIMS) کے ذریعے زرعی مشاورت کی سروسز بھی دی جائیں گی۔ ذرخیزی پلیٹ فارم فنانسنگ کے ساتھ معیاری زرعی اشیاء اورکسانوں کی مشاورت کے ذریعے پیداوار میں بہتری لائے گی۔</p>
<p>چھوٹے کسانوں کو فنانسنگ کی فراہمی کے لیے بینکوں کی حوصلہ افزائی کے طور پر حکومت نے 10 فیصد فرسٹ لاس کوریج اور بینکوں کے واجب الادا قرض داروں میں خالص اضافہ پرفی کس دس ہزار روپے کی آپریشنل لاگت سبسڈی بھی فراہم کی ہے۔</p>
<p>وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ یہ اقدام چھوٹے کسانوں کے لیے قرضہ جات تک رسائی کو آسان بنا کردیہی ترقی اور قومی غذائی تحفظ کے لیے حکومت کے وسیع تر مقاصد کی حمایت کرتا ہے۔</p>
<p>گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہاکہ ذرخیزی ایپ چھوٹے کسانوں کی فنانس تک رسائی بہتر بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ قرضہ حاصل کرنے کا عمل ڈیجیٹل بنا کر ہم چھوٹے کسانوں کے لیے رکاوٹیں ختم کر رہے ہیں اور اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ رسمی قرضہ جات بروقت، قابل رسائی اور فصلوں کی پیداوارمیں کسانوں کو مدد دیں۔ ذرخیزی دیہی معیشت میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کا ہدف حاصل کرنے میں بھی معاون ثابت ہوگی۔</p>
<p>پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے چیئرمین ظفر مسعود نے اس سلسلے میں بینکاری شعبہ کے اجتماعی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہاکہ بینکنگ انڈسٹری ذرخیزی ایپ کے کامیاب نفاذ کے لیے پرعزم ہے۔ ہم وزارتِ خزانہ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھیں گے تاکہ ملک بھر کے کسانوں تک رسائی کو بڑھایا جا سکے اور طریقہ کار کوآسان بنایا جا سکے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اور اختراعی کریڈٹ اسیسمنٹ طریقوں سے استفادہ کرتے ہوئے، ہمارا مقصد چھوٹے کسانوں، خصوصاً ان بے زمین کسانوں کے لیے فنانس تک رسائی بہتر بنانا ہے جو بڑی حد تک غیر دستاویزی شعبے میں کام کر رہے ہیں۔</p>
<p>زرخیزی ایپ اب گوگل پلے اسٹور پر ڈاؤن لوڈ کے لیے دستیاب ہے جبکہ کسان ڈیجیٹل آن بورڈنگ میں مدد کے لیے اپنے قریبی بینک کی کسی بھی برانچ سے رجوع کر سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274896</guid>
      <pubDate>Mon, 22 Dec 2025 16:57:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/221657083922211.webp" type="image/webp" medium="image" height="434" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/221657083922211.webp"/>
        <media:title>فنانسنگ کا 75 فیصد حصہ زرعی سامان کی خریداری کے لیے بینکوں کے منظور شدہ زرعی وینڈرز کے ذریعے اشیا کی صورت میں فراہم کیا جائے گا۔ فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عالمی بینک نے پاکستان کیلئے 70 کروڑ ڈالر کی مالی معاونت کی منظوری دے دی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274880/</link>
      <description>&lt;p&gt;عالمی بینک نے پاکستان کے لیے 70 کروڑ ڈالر کی مالی معاونت کی منظوری دے دی ، یہ فنڈنگ پاکستان پبلک ریسورسز فار اِنکلوژِو ڈیولپمنٹ ملٹی فیز پروگراممیٹک اپروچ (پی آر آئی ڈی۔ ایم پی اے)کے تحت فراہم کی جائے گی جس کا مقصد معاشی استحکام اور عوامی خدمات کی فراہمی بہتر بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینک کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ورلڈ بینک کے بورڈ آف ایگزیکٹو ڈائریکٹر کا یہ پروگرام وفاقی اور صوبائی سطح پر اصلاحات کی معاونت کرے گا تاکہ داخلی محصولات میں اضافہ، اخراجات کے معیار میں بہتری اور ڈیٹا و ڈیجیٹل ٹولز کے ذریعے خدمات کی مؤثر ترسیل ممکن بنائی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پروگرام جاری مالی اصلاحات کی تکمیل کے لیے ترتیب دیا گیا ہے اور آئی ایم ایف کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف ) پروگرام اور نیشنل فزکل پیکٹ سے ہم آہنگ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر اس ایم پی اے کے تحت 1.35 ارب ڈالر تک کی مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔اس میں سے 600 ملین ڈالر وفاقی پروگراموں جبکہ 100 ملین ڈالر خصوصی طور پر سندھ کے صوبائی پروگرام کے لیے منظور کیے گئے ہیں۔ پروگرام کا نتائج پر مبنی ڈیزائن اس امر کو یقینی بناتا ہے کہ رقوم صرف اسی وقت جاری ہوں گی جب مقررہ اہداف حاصل ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ورلڈ بینک کی پاکستان کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما آمگابازر نے کہا کہ پاکستان کا جامع اور پائیدار ترقی کا راستہ زیادہ ملکی وسائل کو متحرک کرنے اور یہ یقینی بنانے سے گزرتا ہے کہ یہ وسائل مؤثر، شفاف طریقے سے استعمال ہوں تاکہ عوام کے لیے نتائج فراہم کیے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جامع اور پائیدار ترقی کے لیے داخلی وسائل میں اضافہ اور ان کے شفاف و مؤثر استعمال کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کے ذریعے وفاقی اور سندھ حکومتوں کے ساتھ مل کر اسکولوں اور صحت مراکز کے لیے قابلِ پیش گوئی فنڈنگ، منصفانہ ٹیکس نظام اور فیصلہ سازی کے لیے مضبوط ڈیٹا کی فراہمی کو ممکن بنانے کے ساتھ ساتھ سماجی اور موسمیاتی ترجیحات کا تحفظ بھی کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>عالمی بینک نے پاکستان کے لیے 70 کروڑ ڈالر کی مالی معاونت کی منظوری دے دی ، یہ فنڈنگ پاکستان پبلک ریسورسز فار اِنکلوژِو ڈیولپمنٹ ملٹی فیز پروگراممیٹک اپروچ (پی آر آئی ڈی۔ ایم پی اے)کے تحت فراہم کی جائے گی جس کا مقصد معاشی استحکام اور عوامی خدمات کی فراہمی بہتر بنانا ہے۔</p>
<p>بینک کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ورلڈ بینک کے بورڈ آف ایگزیکٹو ڈائریکٹر کا یہ پروگرام وفاقی اور صوبائی سطح پر اصلاحات کی معاونت کرے گا تاکہ داخلی محصولات میں اضافہ، اخراجات کے معیار میں بہتری اور ڈیٹا و ڈیجیٹل ٹولز کے ذریعے خدمات کی مؤثر ترسیل ممکن بنائی جا سکے۔</p>
<p>یہ پروگرام جاری مالی اصلاحات کی تکمیل کے لیے ترتیب دیا گیا ہے اور آئی ایم ایف کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف ) پروگرام اور نیشنل فزکل پیکٹ سے ہم آہنگ ہے۔</p>
<p>مجموعی طور پر اس ایم پی اے کے تحت 1.35 ارب ڈالر تک کی مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔اس میں سے 600 ملین ڈالر وفاقی پروگراموں جبکہ 100 ملین ڈالر خصوصی طور پر سندھ کے صوبائی پروگرام کے لیے منظور کیے گئے ہیں۔ پروگرام کا نتائج پر مبنی ڈیزائن اس امر کو یقینی بناتا ہے کہ رقوم صرف اسی وقت جاری ہوں گی جب مقررہ اہداف حاصل ہوں۔</p>
<p>ورلڈ بینک کی پاکستان کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما آمگابازر نے کہا کہ پاکستان کا جامع اور پائیدار ترقی کا راستہ زیادہ ملکی وسائل کو متحرک کرنے اور یہ یقینی بنانے سے گزرتا ہے کہ یہ وسائل مؤثر، شفاف طریقے سے استعمال ہوں تاکہ عوام کے لیے نتائج فراہم کیے جا سکیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جامع اور پائیدار ترقی کے لیے داخلی وسائل میں اضافہ اور ان کے شفاف و مؤثر استعمال کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کے ذریعے وفاقی اور سندھ حکومتوں کے ساتھ مل کر اسکولوں اور صحت مراکز کے لیے قابلِ پیش گوئی فنڈنگ، منصفانہ ٹیکس نظام اور فیصلہ سازی کے لیے مضبوط ڈیٹا کی فراہمی کو ممکن بنانے کے ساتھ ساتھ سماجی اور موسمیاتی ترجیحات کا تحفظ بھی کیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274880</guid>
      <pubDate>Sat, 20 Dec 2025 15:31:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/201528091b9a30d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/201528091b9a30d.webp"/>
        <media:title>یہ پروگرام جاری مالی اصلاحات کی تکمیل کے لیے ترتیب دیا گیا ہے اور آئی ایم ایف کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف ) پروگرام اور نیشنل فسکل پیکٹ سے ہم آہنگ ہے۔ فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شوگر انڈسٹری کو ڈی ریگولیٹ کرنے کے لیے پالیسی ڈرافٹ تیار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274862/</link>
      <description>&lt;p&gt;وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) کی ایک اور شرط پر عمل درآمدکے لیے اقدامات تیز کردیے، شوگر سیکٹرکو ڈی ریگولیٹ کرنے کے لیے پالیسی کا مسودہ تیار کرلیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق حکام وزارت نیشنل فوڈسیکیورٹی نے بتایا کہ شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے کے لیے پالیسی کا مسودہ تیار کیا گیا ہے، جس کی منظوری وفاقی کابینہ سے لی جائے گی-&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق پالیسی کے تحت نئی شوگر ملوں پر عائد پابندی اور شوگرملز لگانے کے لیےصوبائی حکومت کی اجازت کی شرط ختم کرنے کی تجاویز ہیں-&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کا کہنا ہے کہ شوگر ملز کو خام چینی کی درآمد کی اجازت دینےکی تجویز دی گئی ہے تاہم شوگر ملز کو کرشنگ سیزن میں خام چینی کی درآمد کی اجازت نہیں ہوگی-&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1264288'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1264288"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی کے حکام کے مطابق شوگر ایڈوائزری بورڈ کو ختم اور شوگرسیکٹر کی ڈی ریگولیشن کے لیےقوانین میں ترامیم کی تجاویز دی گئی ہیں-&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کو شوگر سیکٹر ڈی ریگولیٹ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ رواں سال 17 جولائی کو وزیراعظم شہباز شریف نے چینی کے شعبے کو ڈی ریگولیٹ کرنے کے لیے وزیر توانائی کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکریٹری صنعت و پیداوار کمیٹی کے کنوینر جبکہ وزیر خزانہ، وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق اور وزیر اقتصادی امور سمیت دیگر وزرا کمیٹی کے ارکان تھے۔&lt;br&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) کی ایک اور شرط پر عمل درآمدکے لیے اقدامات تیز کردیے، شوگر سیکٹرکو ڈی ریگولیٹ کرنے کے لیے پالیسی کا مسودہ تیار کرلیا گیا ہے۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق حکام وزارت نیشنل فوڈسیکیورٹی نے بتایا کہ شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے کے لیے پالیسی کا مسودہ تیار کیا گیا ہے، جس کی منظوری وفاقی کابینہ سے لی جائے گی-</p>
<p>حکام کے مطابق پالیسی کے تحت نئی شوگر ملوں پر عائد پابندی اور شوگرملز لگانے کے لیےصوبائی حکومت کی اجازت کی شرط ختم کرنے کی تجاویز ہیں-</p>
<p>حکام کا کہنا ہے کہ شوگر ملز کو خام چینی کی درآمد کی اجازت دینےکی تجویز دی گئی ہے تاہم شوگر ملز کو کرشنگ سیزن میں خام چینی کی درآمد کی اجازت نہیں ہوگی-</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1264288'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1264288"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی کے حکام کے مطابق شوگر ایڈوائزری بورڈ کو ختم اور شوگرسیکٹر کی ڈی ریگولیشن کے لیےقوانین میں ترامیم کی تجاویز دی گئی ہیں-</p>
<p>حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کو شوگر سیکٹر ڈی ریگولیٹ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ رواں سال 17 جولائی کو وزیراعظم شہباز شریف نے چینی کے شعبے کو ڈی ریگولیٹ کرنے کے لیے وزیر توانائی کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کی تھی۔</p>
<p>سیکریٹری صنعت و پیداوار کمیٹی کے کنوینر جبکہ وزیر خزانہ، وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق اور وزیر اقتصادی امور سمیت دیگر وزرا کمیٹی کے ارکان تھے۔<br></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274862</guid>
      <pubDate>Thu, 18 Dec 2025 13:39:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/1813314774be435.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/1813314774be435.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: اے پی پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>روس کے ساتھ تیل کی تلاش اور ریفائننگ میں تعاون پر بات چیت جاری ہے، وزیر خزانہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274842/</link>
      <description>&lt;p&gt;وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے پاکستان اور روس کے درمیان تیل کی تلاش، پیداوار اور ریفائننگ سے متعلق بات چیت جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق روسی خبر رساں ادارے آر آئی اے کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ روس کا تیل سے متعلق مختلف شعبوں میں وسیع تجربہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوران انٹرویو جب ان سے دونوں ممالک کے درمیان تیل کی تلاش، پیداوار اور ریفائننگ کے شعبوں میں وسیع تر تعاون سے متعلق سوال کیا گیا تو محمد اورنگزیب نے کہا، ’یہ تمام شعبے روس کی مضبوطی ہیں، اور اگر روس اس شعبے میں پاکستان کے ساتھ کسی معاہدے پر آمادہ ہو جائے تو ہمیں بے حد خوشی ہوگی۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’اس وقت یہ معاملہ دونوں ممالک کی وزارتِ توانائی کے درمیان زیرِ بحث ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ روس کے وزیرِ توانائی سرگئی تسیویلیوف نے نومبر میں کہا تھا کہ روس نے پاکستان میں ایک ریفائنری کو اپ گریڈ کرنے کے معاملے پر بھی بات چیت کی ہے، جس میں روسی کمپنیاں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ برسوں میں پاکستان نے روس کے ساتھ روابط میں اضافہ کیا ہے، کیونکہ یوکرین کے معاملے پر مغربی پابندیوں کے بعد ماسکو نئی توانائی منڈیوں کی تلاش میں ہے جبکہ اسلام آباد درآمدی اخراجات کم کرنے کا خواہاں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے 2023 میں روسی خام تیل کی خریداری کا آغاز کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٓآر آئی اے کی رپورٹ کے مطابق محمد اورنگزیب نے مزید بتایا کہ دونوں ممالک پاکستان میں ایک اور اسٹیل پلانٹ کے قیام کے امکان پر بھی غور کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے پاکستان اور روس کے درمیان تیل کی تلاش، پیداوار اور ریفائننگ سے متعلق بات چیت جاری ہے۔</p>
<p>برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق روسی خبر رساں ادارے آر آئی اے کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ روس کا تیل سے متعلق مختلف شعبوں میں وسیع تجربہ ہے۔</p>
<p>دوران انٹرویو جب ان سے دونوں ممالک کے درمیان تیل کی تلاش، پیداوار اور ریفائننگ کے شعبوں میں وسیع تر تعاون سے متعلق سوال کیا گیا تو محمد اورنگزیب نے کہا، ’یہ تمام شعبے روس کی مضبوطی ہیں، اور اگر روس اس شعبے میں پاکستان کے ساتھ کسی معاہدے پر آمادہ ہو جائے تو ہمیں بے حد خوشی ہوگی۔‘</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ’اس وقت یہ معاملہ دونوں ممالک کی وزارتِ توانائی کے درمیان زیرِ بحث ہے۔‘</p>
<p>یاد رہے کہ روس کے وزیرِ توانائی سرگئی تسیویلیوف نے نومبر میں کہا تھا کہ روس نے پاکستان میں ایک ریفائنری کو اپ گریڈ کرنے کے معاملے پر بھی بات چیت کی ہے، جس میں روسی کمپنیاں شامل ہیں۔</p>
<p>حالیہ برسوں میں پاکستان نے روس کے ساتھ روابط میں اضافہ کیا ہے، کیونکہ یوکرین کے معاملے پر مغربی پابندیوں کے بعد ماسکو نئی توانائی منڈیوں کی تلاش میں ہے جبکہ اسلام آباد درآمدی اخراجات کم کرنے کا خواہاں ہے۔</p>
<p>پاکستان نے 2023 میں روسی خام تیل کی خریداری کا آغاز کیا تھا۔</p>
<p>ٓآر آئی اے کی رپورٹ کے مطابق محمد اورنگزیب نے مزید بتایا کہ دونوں ممالک پاکستان میں ایک اور اسٹیل پلانٹ کے قیام کے امکان پر بھی غور کر رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274842</guid>
      <pubDate>Tue, 16 Dec 2025 13:00:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسکرائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/16123652454b947.webp" type="image/webp" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/16123652454b947.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹیٹ بینک کا شرح سود میں کمی کا اعلان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274835/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی: اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے شرح سود میں کمی کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے آج مانیٹری پالیسی میٹنگ میں پالیسی ریٹ میں 50 بیسز پوائنٹس کی کمی کردی جس کے نتیجے میں شرح سود 11 فیصد سے کم ہو کر 10.5 فیصد ہوگئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/StateBank_Pak/status/2000520681847771600?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2000520681847771600%7Ctwgr%5Edccfc0fa8d312f3da7550f40b14f4fb862a747e7%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1961265'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/StateBank_Pak/status/2000520681847771600?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2000520681847771600%7Ctwgr%5Edccfc0fa8d312f3da7550f40b14f4fb862a747e7%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1961265"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں معاشی اعشاریوں کا جائزہ لے کر شرح سود کے تعین کا فیصلہ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے گزشتہ چار اجلاس میں شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھا گیا تھا۔ اور آخری بار مئی 2025 میں شرح سود میں 100 بیسز پوائنٹ کی کمی کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ سخت مانیٹری پالیسی کے حوالے سے سٹیٹ بینک آئی ایم ایف کے زیر اثر ہے، مہنگائی کم اور شرح سود زیادہ ہونے کے باعث تاجر برادری کی جانب سے مسلسل شرح سود میں کمی کا مطالبہ کیا جارہا تھا جس کو بالآخر مان لیا گیا اور اپنے آج کے جائزہ اجلاس میں مرکزی بینک نے شرح سود میں کمی کا اعلان کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;br&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی: اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے شرح سود میں کمی کردی۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے آج مانیٹری پالیسی میٹنگ میں پالیسی ریٹ میں 50 بیسز پوائنٹس کی کمی کردی جس کے نتیجے میں شرح سود 11 فیصد سے کم ہو کر 10.5 فیصد ہوگئی۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/StateBank_Pak/status/2000520681847771600?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2000520681847771600%7Ctwgr%5Edccfc0fa8d312f3da7550f40b14f4fb862a747e7%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1961265'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/StateBank_Pak/status/2000520681847771600?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2000520681847771600%7Ctwgr%5Edccfc0fa8d312f3da7550f40b14f4fb862a747e7%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1961265"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں معاشی اعشاریوں کا جائزہ لے کر شرح سود کے تعین کا فیصلہ کیا گیا۔</p>
<p>واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے گزشتہ چار اجلاس میں شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھا گیا تھا۔ اور آخری بار مئی 2025 میں شرح سود میں 100 بیسز پوائنٹ کی کمی کی گئی تھی۔</p>
<p>اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ سخت مانیٹری پالیسی کے حوالے سے سٹیٹ بینک آئی ایم ایف کے زیر اثر ہے، مہنگائی کم اور شرح سود زیادہ ہونے کے باعث تاجر برادری کی جانب سے مسلسل شرح سود میں کمی کا مطالبہ کیا جارہا تھا جس کو بالآخر مان لیا گیا اور اپنے آج کے جائزہ اجلاس میں مرکزی بینک نے شرح سود میں کمی کا اعلان کردیا۔</p>
<br>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274835</guid>
      <pubDate>Mon, 15 Dec 2025 17:38:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/15173740c123d42.webp" type="image/webp" medium="image" height="560" width="934">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/15173740c123d42.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اطمینان ہے پاکستان معاشی بحران سے نکل چکا، وزیراعظم شہباز شریف</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274821/</link>
      <description>&lt;p&gt;وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہمیں اطمینان ہے کہ پاکستان معاشی بحران سے نکل چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل ریگولیٹری ریفارمز کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ اصلاحات کا مطالبہ عوام اور کاروباری طبقے کی گزشتہ کئی دہائیوں سے خواہش تھی۔ سرمایہ کار، صنعتکار، تاجر برادری پیچیدہ قوانین، غیر ضروری ضوابط اور طویل طریقہ کار سے پریشان تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ جب حکومت سنبھالی تو پاکستان کی معیشت نازک صورتحال سے دوچار تھی، ملک عملی طور پر مالی دیوالیہ پن کے دہانے پر کھڑا تھا، مہنگائی بےقابو تھی، پالیسی ریٹ معیشت کو مفلوج کر چکا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ملک میں کاروباری سرگرمیاں جمود کا شکار تھیں، ہماری حکومت نے اُمید کا دامن نہیں چھوڑا اور بہترین حکمت عملی کے ساتھ چیلنجز کا مقابلہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہباز شریف نے کہا کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی قسط کی منظوری دی ہے، معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نوجوان ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں، ان کو فنی اور پیشہ وارانہ تربیت فراہم کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہمیں اطمینان ہے کہ پاکستان معاشی بحران سے نکل چکا ہے۔</p>
<p>نیشنل ریگولیٹری ریفارمز کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ اصلاحات کا مطالبہ عوام اور کاروباری طبقے کی گزشتہ کئی دہائیوں سے خواہش تھی۔ سرمایہ کار، صنعتکار، تاجر برادری پیچیدہ قوانین، غیر ضروری ضوابط اور طویل طریقہ کار سے پریشان تھے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ جب حکومت سنبھالی تو پاکستان کی معیشت نازک صورتحال سے دوچار تھی، ملک عملی طور پر مالی دیوالیہ پن کے دہانے پر کھڑا تھا، مہنگائی بےقابو تھی، پالیسی ریٹ معیشت کو مفلوج کر چکا تھا۔</p>
<p>وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ملک میں کاروباری سرگرمیاں جمود کا شکار تھیں، ہماری حکومت نے اُمید کا دامن نہیں چھوڑا اور بہترین حکمت عملی کے ساتھ چیلنجز کا مقابلہ کیا۔</p>
<p>شہباز شریف نے کہا کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی قسط کی منظوری دی ہے، معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے۔</p>
<p>ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نوجوان ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں، ان کو فنی اور پیشہ وارانہ تربیت فراہم کر رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274821</guid>
      <pubDate>Sat, 13 Dec 2025 15:20:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/131520192c966b2.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/131520192c966b2.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو:
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت نے چین کے بزنس ویزوں کی رکاوٹیں ختم کردیں، تعلقات میں بہتری کی جانب بڑی پیش رفت</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274811/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارت نے چینی پروفیشنلز کو بزنس ویزے تیزی سے جاری کرنے کے لیے سرکاری رکاوٹیں ختم کر دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکام کے مطابق یہ قدم دونوں ایشیائی طاقتوں کے تعلقات بہتر کرنے اور تکنیکی ماہرین کی کمی کے باعث ہونے والے اربوں ڈالر کے نقصان کو روکنے کی کوشش کا حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم نریندر مودی نے امریکی محصولات کے دباؤ کے باوجود چین کے ساتھ تعلقات کو احتیاط سے بحال کرنا شروع کیا ہے۔ حکام کے مطابق نئی دہلی نے ویزوں کی منظوری کے عمل سے ایک پورا بیوروکریٹک مرحلہ نکال دیا ہے، اور اب ویزے ایک ماہ سے بھی کم وقت میں جاری ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں طرف کے حکام نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرف پر برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات چیت میں اس پیش رفت کی تصدیق کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ 2020 میں ہمالیائی سرحد پر جھڑپ کے بعد بھارت نے چینی شہریوں کے تقریباً تمام دورے روک دیے تھے اور بزنس ویزوں کی جانچ کو بھی سخت کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اہلکار نے بتایا کہ ویزوں سے متعلق مسائل اب “مکمل طور پر حل ہو چکے ہیں”۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ “ہم نے انتظامی جانچ کا وہ اضافی مرحلہ ختم کر دیا ہے اور بزنس ویزے چار ہفتوں کے اندر اندر نمٹا رہے ہیں۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کی وزارتِ خارجہ، وزارتِ داخلہ، وزارتِ تجارت، وزیراعظم آفس اور ملکی پالیسی تھنک ٹینک نے تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پیش رفت کے بعد چین کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ اس نے بھارت کی جانب سے “مثبت اقدام” کا نوٹس لیا ہے، جو دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان روابط کے فروغ کے لیے اہم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان گُو جیاکُن نے کہا کہ چین بھارت کے ساتھ رابطے بڑھانے اور تبادلوں میں آسانی پیدا کرنے کے لیے مشاورت جاری رکھے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تھنک ٹینک آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے مطابق سخت جانچ پڑتال کی وجہ سے بھارتی الیکٹرانکس انڈسٹری کو چار سال میں 15 ارب ڈالر کا نقصان ہوا کیونکہ موبائل فون بنانے کے لیے جو مشینری چین سے آتی ہے وہ بروقت نہ پہنچ سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ برس رائٹرز نے رپورٹ کیا تھا کہ بڑی چینی کمپنیوں  جن میں شیاؤمی بھی شامل ہے کو اپنے عملے کے ویزوں کے حصول میں شدید مشکلات پیش آئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈسٹری کے عہدیداروں نے کہا کہ ویزا پابندیوں نے نہ صرف الیکٹرانکس انڈسٹری بلکہ شمسی توانائی کے شعبے کو بھی متاثر کیا، جہاں مہارت رکھنے والا عملہ نہ ملنے سے کام رکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری رکاوٹیں دور کرنے کا اعلان مودی کے سات سال بعد چین کے حالیہ دورے کے فوراً بعد سامنے آیا، جہاں انہوں نے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کرکے تعلقات بہتر بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں دونوں ملکوں کے درمیان براہ راست پروازیں بھی بحال ہو گئیں، جو 2020 سے معطل تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رکاوٹیں ختم کرنے کی سفارش ایک اعلیٰ سطح کمیٹی نے کی تھی جس کی سربراہی سابق کابینہ سیکریٹری راجیو گوبا کر رہے تھے، جو اب سرکاری تھنک ٹینک کے رکن ہیں۔ کمیٹی نے چین کے لیے سرمایہ کاری کی پابندیوں میں نرمی کی بھی تجویز دی ہے تاکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈین سیلولر اینڈ الیکٹرانکس ایسوسی ایشن کے سربراہ پنکج موہنڈرو نے کہا کہ “ہم حکومت کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں کہ سرحدی ممالک کے ماہرین کے لیے ویزا منظوری کا عمل تیز کیا جائے۔ یہ تعاون کی علامت ہے اور ہماری سفارشات کو قبول کرنے کا ثبوت بھی ہے۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب بھارت مختلف مصنوعات مکمل تیار کردہ پروڈکٹ سے لے کر پرزہ جات تک  کی تیاری میں رفتار بڑھا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="امریکا-کی-ٹیرف-پالیسی-کے-بعد-چین-سے-تعلقات-میں-گرم-جوشی" href="#امریکا-کی-ٹیرف-پالیسی-کے-بعد-چین-سے-تعلقات-میں-گرم-جوشی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;امریکا کی ٹیرف پالیسی کے بعد چین سے تعلقات میں گرم جوشی&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;بھارت اور چین کے تعلقات میں یہ بہتری اُس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیکس عائد کر دیا، جبکہ روسی تیل خریدنے پر اضافی 25 فیصد ٹیکس لگایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد بھارت نے اپنی سفارتی حکمتِ عملی دوبارہ ترتیب دی، چین کے ساتھ تعلقات بہتر کیے، روس سے تعاون بڑھایا اور واشنگٹن کے ساتھ ٹریڈ ڈیل پر بات چیت جاری رکھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مودی حکومت غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول بنانے پر توجہ دے رہی ہے، جس میں چین کے ساتھ کاروبار کو آسان بنانا بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت نے کچھ عرصہ پہلے ہی کنزمپشن ٹیکس اور لیبر قوانین میں نرمی کی، تاکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرے اہلکار نے آخر میں بتایا کہ“ہم چین سے متعلق کچھ پابندیاں محتاط انداز میں نرم کر رہے ہیں، اور امید ہے کہ اس سے مجموعی کاروباری ماحول بہتر ہوگا۔”&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارت نے چینی پروفیشنلز کو بزنس ویزے تیزی سے جاری کرنے کے لیے سرکاری رکاوٹیں ختم کر دیں۔</p>
<p>برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکام کے مطابق یہ قدم دونوں ایشیائی طاقتوں کے تعلقات بہتر کرنے اور تکنیکی ماہرین کی کمی کے باعث ہونے والے اربوں ڈالر کے نقصان کو روکنے کی کوشش کا حصہ ہے۔</p>
<p>وزیر اعظم نریندر مودی نے امریکی محصولات کے دباؤ کے باوجود چین کے ساتھ تعلقات کو احتیاط سے بحال کرنا شروع کیا ہے۔ حکام کے مطابق نئی دہلی نے ویزوں کی منظوری کے عمل سے ایک پورا بیوروکریٹک مرحلہ نکال دیا ہے، اور اب ویزے ایک ماہ سے بھی کم وقت میں جاری ہو رہے ہیں۔</p>
<p>دونوں طرف کے حکام نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرف پر برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات چیت میں اس پیش رفت کی تصدیق کی۔</p>
<p>واضح رہے کہ 2020 میں ہمالیائی سرحد پر جھڑپ کے بعد بھارت نے چینی شہریوں کے تقریباً تمام دورے روک دیے تھے اور بزنس ویزوں کی جانچ کو بھی سخت کر دیا تھا۔</p>
<p>ایک اہلکار نے بتایا کہ ویزوں سے متعلق مسائل اب “مکمل طور پر حل ہو چکے ہیں”۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ “ہم نے انتظامی جانچ کا وہ اضافی مرحلہ ختم کر دیا ہے اور بزنس ویزے چار ہفتوں کے اندر اندر نمٹا رہے ہیں۔”</p>
<p>بھارت کی وزارتِ خارجہ، وزارتِ داخلہ، وزارتِ تجارت، وزیراعظم آفس اور ملکی پالیسی تھنک ٹینک نے تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔</p>
<p>اس پیش رفت کے بعد چین کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ اس نے بھارت کی جانب سے “مثبت اقدام” کا نوٹس لیا ہے، جو دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان روابط کے فروغ کے لیے اہم ہے۔</p>
<p>ترجمان گُو جیاکُن نے کہا کہ چین بھارت کے ساتھ رابطے بڑھانے اور تبادلوں میں آسانی پیدا کرنے کے لیے مشاورت جاری رکھے گا۔</p>
<p>تھنک ٹینک آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے مطابق سخت جانچ پڑتال کی وجہ سے بھارتی الیکٹرانکس انڈسٹری کو چار سال میں 15 ارب ڈالر کا نقصان ہوا کیونکہ موبائل فون بنانے کے لیے جو مشینری چین سے آتی ہے وہ بروقت نہ پہنچ سکی۔</p>
<p>گزشتہ برس رائٹرز نے رپورٹ کیا تھا کہ بڑی چینی کمپنیوں  جن میں شیاؤمی بھی شامل ہے کو اپنے عملے کے ویزوں کے حصول میں شدید مشکلات پیش آئیں۔</p>
<p>انڈسٹری کے عہدیداروں نے کہا کہ ویزا پابندیوں نے نہ صرف الیکٹرانکس انڈسٹری بلکہ شمسی توانائی کے شعبے کو بھی متاثر کیا، جہاں مہارت رکھنے والا عملہ نہ ملنے سے کام رکا۔</p>
<p>سرکاری رکاوٹیں دور کرنے کا اعلان مودی کے سات سال بعد چین کے حالیہ دورے کے فوراً بعد سامنے آیا، جہاں انہوں نے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کرکے تعلقات بہتر بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔</p>
<p>بعد ازاں دونوں ملکوں کے درمیان براہ راست پروازیں بھی بحال ہو گئیں، جو 2020 سے معطل تھیں۔</p>
<p>رکاوٹیں ختم کرنے کی سفارش ایک اعلیٰ سطح کمیٹی نے کی تھی جس کی سربراہی سابق کابینہ سیکریٹری راجیو گوبا کر رہے تھے، جو اب سرکاری تھنک ٹینک کے رکن ہیں۔ کمیٹی نے چین کے لیے سرمایہ کاری کی پابندیوں میں نرمی کی بھی تجویز دی ہے تاکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا جا سکے۔</p>
<p>انڈین سیلولر اینڈ الیکٹرانکس ایسوسی ایشن کے سربراہ پنکج موہنڈرو نے کہا کہ “ہم حکومت کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں کہ سرحدی ممالک کے ماہرین کے لیے ویزا منظوری کا عمل تیز کیا جائے۔ یہ تعاون کی علامت ہے اور ہماری سفارشات کو قبول کرنے کا ثبوت بھی ہے۔”</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب بھارت مختلف مصنوعات مکمل تیار کردہ پروڈکٹ سے لے کر پرزہ جات تک  کی تیاری میں رفتار بڑھا رہا ہے۔</p>
<h2><a id="امریکا-کی-ٹیرف-پالیسی-کے-بعد-چین-سے-تعلقات-میں-گرم-جوشی" href="#امریکا-کی-ٹیرف-پالیسی-کے-بعد-چین-سے-تعلقات-میں-گرم-جوشی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>امریکا کی ٹیرف پالیسی کے بعد چین سے تعلقات میں گرم جوشی</h2>
<p>بھارت اور چین کے تعلقات میں یہ بہتری اُس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیکس عائد کر دیا، جبکہ روسی تیل خریدنے پر اضافی 25 فیصد ٹیکس لگایا گیا۔</p>
<p>اس کے بعد بھارت نے اپنی سفارتی حکمتِ عملی دوبارہ ترتیب دی، چین کے ساتھ تعلقات بہتر کیے، روس سے تعاون بڑھایا اور واشنگٹن کے ساتھ ٹریڈ ڈیل پر بات چیت جاری رکھی۔</p>
<p>مودی حکومت غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول بنانے پر توجہ دے رہی ہے، جس میں چین کے ساتھ کاروبار کو آسان بنانا بھی شامل ہے۔</p>
<p>بھارت نے کچھ عرصہ پہلے ہی کنزمپشن ٹیکس اور لیبر قوانین میں نرمی کی، تاکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کیا جا سکے۔</p>
<p>دوسرے اہلکار نے آخر میں بتایا کہ“ہم چین سے متعلق کچھ پابندیاں محتاط انداز میں نرم کر رہے ہیں، اور امید ہے کہ اس سے مجموعی کاروباری ماحول بہتر ہوگا۔”</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274811</guid>
      <pubDate>Fri, 12 Dec 2025 17:15:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/1217162257ccd56.webp" type="image/webp" medium="image" height="456" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/1217162257ccd56.webp"/>
        <media:title>فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ورلڈ بینک کے بعد ایشیائی ترقیاتی بینک کی بھی پاکستان کیلئے قرض کی منظوری</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274812/</link>
      <description>&lt;p&gt;عالمی بینک کے بعد ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے بھی پاکستان کے لیے قرض کی منظوری دے دی، اے ڈی بی نے پاکستان کے لیے 54 کروڑ ڈالر کے دو منصوبوں کی منظوری دی جب کہ ورلڈ بینک نے پاکستان کے لیے 40 کروڑ ڈالر فنانسنگ کی منظوری دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعے کو اے ڈی بی نے پاکستان کے لیے مجموعی طور پر 54 کروڑ  ڈالر کے دو منصوبوں کی منظوری دے دی ہے، جن میں ایک رزلٹ بیسڈ لون پروگرام اور سندھ میں ماحولیاتی تحفظ سے متعلق بڑا منصوبہ شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ40 کروڑ  ڈالر کا رزلٹ بیسڈ لون پروگرام سرکاری اداروں کی گورننس اور کارکردگی بہتر بنانے پر فوکس کرے گا۔ اس پروگرام میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کی ری اسٹرکچرنگ اور کمرشلائزیشن بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ڈی بی کا کہنا ہے کہ گزشتہ پانچ سال میں اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز (ایس او ایز) کی اصلاحات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، جبکہ 2023 میں ایس او ایز ایکٹ اور پالیسی کا نفاذ اہم سنگِ میل رہا۔ بینک کے مطابق اصلاحاتی عمل کے نفاذ کے لیے 7 لاکھ 50 ہزار ڈالر کی تکنیکی معاونت بھی فراہم کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274809/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274809"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید بتایا گیا کہ 14 کروڑ ڈالر سندھ کوسٹل ریزیلینس سیکٹر پروجیکٹ کے لیے منظور کیے گئے ہیں، جس سے پانچ لاکھ افراد براہِ راست مستفید ہوں گے۔ منصوبے کے تحت 1 لاکھ 50 ہزار ہیکٹر زرعی زمین کو سیلابی خطرات سے تحفظ ملے گا اور 22 ہزار ہیکٹر جنگلات کی بحالی کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ڈی بی کے مطابق یہ منصوبہ غذائی تحفظ، حیاتیاتی تنوع اور مجموعی ماحولیاتی بہتری میں اہم کردار ادا کرے گا۔ منصوبے کے لیے گرین کلائمٹ فنڈ کی دو کروڑ ڈالر گرانٹ اور دو کروڑ ڈالر کنسیشنل لون کے ذریعے کو-فنانسنگ بھی کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>عالمی بینک کے بعد ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے بھی پاکستان کے لیے قرض کی منظوری دے دی، اے ڈی بی نے پاکستان کے لیے 54 کروڑ ڈالر کے دو منصوبوں کی منظوری دی جب کہ ورلڈ بینک نے پاکستان کے لیے 40 کروڑ ڈالر فنانسنگ کی منظوری دی۔</p>
<p>جمعے کو اے ڈی بی نے پاکستان کے لیے مجموعی طور پر 54 کروڑ  ڈالر کے دو منصوبوں کی منظوری دے دی ہے، جن میں ایک رزلٹ بیسڈ لون پروگرام اور سندھ میں ماحولیاتی تحفظ سے متعلق بڑا منصوبہ شامل ہے۔</p>
<p>ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ40 کروڑ  ڈالر کا رزلٹ بیسڈ لون پروگرام سرکاری اداروں کی گورننس اور کارکردگی بہتر بنانے پر فوکس کرے گا۔ اس پروگرام میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کی ری اسٹرکچرنگ اور کمرشلائزیشن بھی شامل ہے۔</p>
<p>اے ڈی بی کا کہنا ہے کہ گزشتہ پانچ سال میں اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز (ایس او ایز) کی اصلاحات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، جبکہ 2023 میں ایس او ایز ایکٹ اور پالیسی کا نفاذ اہم سنگِ میل رہا۔ بینک کے مطابق اصلاحاتی عمل کے نفاذ کے لیے 7 لاکھ 50 ہزار ڈالر کی تکنیکی معاونت بھی فراہم کی جائے گی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274809/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274809"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>بیان میں مزید بتایا گیا کہ 14 کروڑ ڈالر سندھ کوسٹل ریزیلینس سیکٹر پروجیکٹ کے لیے منظور کیے گئے ہیں، جس سے پانچ لاکھ افراد براہِ راست مستفید ہوں گے۔ منصوبے کے تحت 1 لاکھ 50 ہزار ہیکٹر زرعی زمین کو سیلابی خطرات سے تحفظ ملے گا اور 22 ہزار ہیکٹر جنگلات کی بحالی کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے۔</p>
<p>اے ڈی بی کے مطابق یہ منصوبہ غذائی تحفظ، حیاتیاتی تنوع اور مجموعی ماحولیاتی بہتری میں اہم کردار ادا کرے گا۔ منصوبے کے لیے گرین کلائمٹ فنڈ کی دو کروڑ ڈالر گرانٹ اور دو کروڑ ڈالر کنسیشنل لون کے ذریعے کو-فنانسنگ بھی کی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274812</guid>
      <pubDate>Fri, 12 Dec 2025 17:40:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/1217380347c7427.webp" type="image/webp" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/1217380347c7427.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عالمی بینک نے پاکستان کے لیے 40 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری دے دی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274809/</link>
      <description>&lt;p&gt;عالمی بینک نے پاکستان کے لیے 40 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری دے دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بینک کے اعلامیہ کے مطابق رقم پانی، صفائی اور بنیادی حفظانِ صحت کے منصوبوں کے لیے صوبہ پنجاب میں شہروں میں صفائی اور پانی کی سہولیات کے لیے خرچ ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پروگرام پنجاب کے 16 شہروں میں شروع کیا جائےگا۔ پروگرام سیوریج سسٹمز،پانی کے ٹریٹمنٹ پلانٹس کی بہتری اور بحالی میں مدد کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بینک کے مطابق منصوبہ صحت اخراجات میں کمی اور پانی سے پیدا بیماریوں میں کمی لائے گا، مقامی حکومتوں کی استعداد کار اور ریونیو بڑھانے میں بھی مدد ملے گی، منصوبہ شہروں کو سیلاب و خشک سالی کے مقابلے کیلئے زیادہ مضبوط بنائے گا، شہروں کی پائیدار ترقی اور ماحول دوستی کے اہداف میں بھی معاون ثابت ہوگا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271046'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271046"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اعلامیہ میں بتایا گیا کہ منصوبے میں خواتین کیلئے نئی بھرتیاں اور فیصلہ سازی میں نمائندگی کو ترجیح دی جائے گی، خواتین کیلئے سکل ڈویلپمنٹ اور جینڈر کمپلینٹ ڈیسک قائم کئے جائیں گے، گھریلو سطح پر بہتر صفائی و صحت کے لیے آگاہی مہمات منصوبہ کا حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بینک کے مطابق نجی شعبے کی سرمایہ کاری پانی و صفائی کے شعبے میں متحرک کرنے کا ہدف ہے، منصوبہ پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام اور ستھرا پنجاب پروگرام کی معاونت کرے گا، صحت مند کمیونٹیز اور خوشحال پاکستان کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>عالمی بینک نے پاکستان کے لیے 40 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری دے دی ہے۔</p>
<p>عالمی بینک کے اعلامیہ کے مطابق رقم پانی، صفائی اور بنیادی حفظانِ صحت کے منصوبوں کے لیے صوبہ پنجاب میں شہروں میں صفائی اور پانی کی سہولیات کے لیے خرچ ہوگی۔</p>
<p>یہ پروگرام پنجاب کے 16 شہروں میں شروع کیا جائےگا۔ پروگرام سیوریج سسٹمز،پانی کے ٹریٹمنٹ پلانٹس کی بہتری اور بحالی میں مدد کرے گا۔</p>
<p>عالمی بینک کے مطابق منصوبہ صحت اخراجات میں کمی اور پانی سے پیدا بیماریوں میں کمی لائے گا، مقامی حکومتوں کی استعداد کار اور ریونیو بڑھانے میں بھی مدد ملے گی، منصوبہ شہروں کو سیلاب و خشک سالی کے مقابلے کیلئے زیادہ مضبوط بنائے گا، شہروں کی پائیدار ترقی اور ماحول دوستی کے اہداف میں بھی معاون ثابت ہوگا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271046'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271046"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اعلامیہ میں بتایا گیا کہ منصوبے میں خواتین کیلئے نئی بھرتیاں اور فیصلہ سازی میں نمائندگی کو ترجیح دی جائے گی، خواتین کیلئے سکل ڈویلپمنٹ اور جینڈر کمپلینٹ ڈیسک قائم کئے جائیں گے، گھریلو سطح پر بہتر صفائی و صحت کے لیے آگاہی مہمات منصوبہ کا حصہ ہے۔</p>
<p>عالمی بینک کے مطابق نجی شعبے کی سرمایہ کاری پانی و صفائی کے شعبے میں متحرک کرنے کا ہدف ہے، منصوبہ پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام اور ستھرا پنجاب پروگرام کی معاونت کرے گا، صحت مند کمیونٹیز اور خوشحال پاکستان کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274809</guid>
      <pubDate>Fri, 12 Dec 2025 16:43:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/1216411791e7297.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/1216411791e7297.webp"/>
        <media:title>فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سونے کی قیمت میں 10 ہزار 700 روپے کا اضافہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274807/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مقامی و بین الاقوامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمتیں بڑھ کر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت یک دم 107ڈالر کے اضافے سے 4ہزار 319ڈالر کی نئی بلند ترین سطح پر آگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی مارکیٹ میں اضافے کے سبب پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت بھی 10ہزار 700روپے کے بڑے اضافے سے 4لاکھ 54ہزار 262روپے کی سطح پر آگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی دس گرام سونے کی قیمت 9ہزار 174روپے بڑھ کر 3لاکھ 89ہزار 456روپے کی سطح پر آگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح فی تولہ چاندی کی قیمت بھی 232روپے کے اضافے سے 6ہزار 684روپے کی نئی بلند سطح پر آگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;br&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مقامی و بین الاقوامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمتیں بڑھ کر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔</strong></p>
<p>بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت یک دم 107ڈالر کے اضافے سے 4ہزار 319ڈالر کی نئی بلند ترین سطح پر آگئی۔</p>
<p>عالمی مارکیٹ میں اضافے کے سبب پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت بھی 10ہزار 700روپے کے بڑے اضافے سے 4لاکھ 54ہزار 262روپے کی سطح پر آگئی۔</p>
<p>فی دس گرام سونے کی قیمت 9ہزار 174روپے بڑھ کر 3لاکھ 89ہزار 456روپے کی سطح پر آگئی۔</p>
<p>اسی طرح فی تولہ چاندی کی قیمت بھی 232روپے کے اضافے سے 6ہزار 684روپے کی نئی بلند سطح پر آگئی۔</p>
<br>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274807</guid>
      <pubDate>Fri, 12 Dec 2025 16:22:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/121621219f6c19a.webp" type="image/webp" medium="image" height="288" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/121621219f6c19a.webp"/>
        <media:title>فوٹو: تیارکردہ بذریعہ کینوا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کو آئی ایم ایف سے 1.2 ارب ڈالر موصول، اسٹیٹ بینک کی تصدیق</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274797/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی مالیاتی ادارے ( آئی ایم ایف) نے پاکستان کو ایک  ارب 20 کروڑ ڈالر منتقل کر دیے ۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے جمعرات کو اعلان کیا کہ اسے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (ای ایف ایف) اور ریزیلیئنس اینڈ سسٹین ایبلیٹی فسیلٹی (آر ایس ایف) کے تحت تقریباً 1.2 ارب ڈالر موصول ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک نے کہا کہ آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ نے 8 دسمبر 2025 کو ہونے والی اپنی میٹنگ میں ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) کے تحت پاکستان کے لیے دوسرا جائزہ مکمل کیا اور 760 ملین ایس ڈی آر کی رقم کی منظوری دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ نے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلیٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) کے تحت 154 ملین ایس ڈی آر کی پہلی قسط کی منظوری بھی دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جس کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو ای ایف ایف اور آر ایس ایف کے تحت مجموعی طور پر 914 ملین ایس ڈی آر (تقریباً 1.2 ارب امریکی ڈالر کے مساوی) موصول ہو چکے ہیں جو 10 دسمبر 2025 کو آئی ایم ایف کی جانب سے ادا کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک بینک نے مزید بتایا کہ یہ رقم 12 دسمبر 2025 کو ختم ہونے والے ہفتے کے لیے اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں ظاہر ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ نے پیر (8 دسمبر ) کو پاکستان کے لیے ای ایف ایف اور آر ایس ایف کے تحت 1.2 ارب ڈالر کی رقم کی منظوری دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس کے بعد ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر اور قائم مقام چیئر نائیجل کلارک نے بیان جاری کیا  تھا کہ ای ایف ایف کے تحت پاکستان کی اصلاحات نے حالیہ متعدد جھٹکوں کے باوجود معاشی استحکام کو برقرار رکھنے میں مدد دی ہے۔ حقیقی جی ڈی پی کی ترقی تیز ہوئی، مہنگائی کی توقعات مستحکم رہیں، اور مالی اور بیرونی عدم توازن میں بہتری آئی۔ عالمی ماحول کی  بے یقینی کے باوجود پاکستان کو محتاط پالیسیوں کو برقرار رکھنا ہوگا تاکہ معاشی استحکام مزید مضبوط ہو، اور وہ اصلاحات تیز کرے جو مضبوط، پرائیویٹ سیکٹر پر مبنی اور پائیدار درمیانی مدت کی ترقی کے لیے ضروری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی ایک ٹیم جس کی قیادت ایوا پیٹرووا نے کی، نے 24 ستمبر سے 8 اکتوبر 2025 کے دوران کراچی اور اسلام آباد میں اور واشنگٹن ڈی سی میں ای ایف ایف کے دوسرے جائزے اور آر ایس ایف کے پہلے جائزے کے لیے بات چیت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;br&gt;
&lt;br&gt;
&lt;br&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی مالیاتی ادارے ( آئی ایم ایف) نے پاکستان کو ایک  ارب 20 کروڑ ڈالر منتقل کر دیے ۔</strong></p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے جمعرات کو اعلان کیا کہ اسے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (ای ایف ایف) اور ریزیلیئنس اینڈ سسٹین ایبلیٹی فسیلٹی (آر ایس ایف) کے تحت تقریباً 1.2 ارب ڈالر موصول ہو چکے ہیں۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک نے کہا کہ آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ نے 8 دسمبر 2025 کو ہونے والی اپنی میٹنگ میں ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) کے تحت پاکستان کے لیے دوسرا جائزہ مکمل کیا اور 760 ملین ایس ڈی آر کی رقم کی منظوری دی۔</p>
<p>مزید برآں، آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ نے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلیٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) کے تحت 154 ملین ایس ڈی آر کی پہلی قسط کی منظوری بھی دی۔</p>
<p>جس کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو ای ایف ایف اور آر ایس ایف کے تحت مجموعی طور پر 914 ملین ایس ڈی آر (تقریباً 1.2 ارب امریکی ڈالر کے مساوی) موصول ہو چکے ہیں جو 10 دسمبر 2025 کو آئی ایم ایف کی جانب سے ادا کیے گئے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک بینک نے مزید بتایا کہ یہ رقم 12 دسمبر 2025 کو ختم ہونے والے ہفتے کے لیے اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں ظاہر ہوگی۔</p>
<p>واضح رہے کہ آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ نے پیر (8 دسمبر ) کو پاکستان کے لیے ای ایف ایف اور آر ایس ایف کے تحت 1.2 ارب ڈالر کی رقم کی منظوری دی تھی۔</p>
<p>ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس کے بعد ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر اور قائم مقام چیئر نائیجل کلارک نے بیان جاری کیا  تھا کہ ای ایف ایف کے تحت پاکستان کی اصلاحات نے حالیہ متعدد جھٹکوں کے باوجود معاشی استحکام کو برقرار رکھنے میں مدد دی ہے۔ حقیقی جی ڈی پی کی ترقی تیز ہوئی، مہنگائی کی توقعات مستحکم رہیں، اور مالی اور بیرونی عدم توازن میں بہتری آئی۔ عالمی ماحول کی  بے یقینی کے باوجود پاکستان کو محتاط پالیسیوں کو برقرار رکھنا ہوگا تاکہ معاشی استحکام مزید مضبوط ہو، اور وہ اصلاحات تیز کرے جو مضبوط، پرائیویٹ سیکٹر پر مبنی اور پائیدار درمیانی مدت کی ترقی کے لیے ضروری ہیں۔</p>
<p>آئی ایم ایف کی ایک ٹیم جس کی قیادت ایوا پیٹرووا نے کی، نے 24 ستمبر سے 8 اکتوبر 2025 کے دوران کراچی اور اسلام آباد میں اور واشنگٹن ڈی سی میں ای ایف ایف کے دوسرے جائزے اور آر ایس ایف کے پہلے جائزے کے لیے بات چیت کی۔</p>
<br>
<br>
<br>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274797</guid>
      <pubDate>Thu, 11 Dec 2025 13:01:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/11125921bb181b3.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/11125921bb181b3.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سیاسی کشمکش میں نئی شدت معاشی استحکام کے لیے نیا چیلنج</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274796/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان میں اس وقت ایک سیاسی جنگ جاری ہے جو متعدد محاذوں پر، مختلف حکمتِ عملیوں اور مختلف کھلاڑیوں کے ساتھ لڑی جا رہی ہے۔ داؤ پر اس ملک کی سیاست کا مستقبل لگا ہوا ہے۔ اور اس تمام صورتحال کے محرک وہ معیشت ہے جو طویل عرصے سے جمود کا شکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معیشت سے آغاز کریں اور پھر اُن اثرات کا جائزہ لیں جو سیاسی نظام میں پھیلتے ہیں۔ 2022 کی گرمیوں میں معیشت حد سے زیادہ گرم ہو چکی تھی، یہ عمل ایک سال قبل شروع ہوا تھا اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اس وقت کے وزیرِ خزانہ شوکت ترین نے 2021 کے دوسرے نصف میں اس کا اعتراف بھی کیا تھا۔ مہنگائی آسمان کو چھو رہی تھی اور جون 2022 تک زرمبادلہ ذخائر ڈیفالٹ کے قریب پہنچ چکے تھے۔ فضا میں یہ خدشات گونج رہے تھے کہ کہیں پاکستان ’سری لنکا طرز‘ کے بحران میں نہ جا گرے۔ معیشت سے اٹھنے والی شدید بے چینی پورے معاشرے میں پھیل رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگست 2022 میں آخری لمحے میں آئی ایم ایف کے پروگرام نے پاکستان کو کھائی کے کنارے سے واپس کھینچا لیکن یہ سلسلہ زیادہ دیر نہ چل سکا۔ اسحٰق ڈار نے بطور وزیرِ خزانہ ذمہ داری سنبھالتے ہی پروگرام سے انحراف کیا جس کے بعد ملک ایک بار پھر ڈیفالٹ کے دہانے پر جا پہنچا، یہاں تک کہ جولائی 2023 میں ایک اور ہنگامی آئی ایم ایف پروگرام نے ایک مرتبہ پھر بچا لیا۔ ایک سال میں دو بار آخری لمحے میں بچاؤ شاید ایک ریکارڈ ہو۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274513/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274513"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جولائی 2023 کے بعد سے معیشت مستحکم رہی، مہنگائی ختم ہو گئی، زرمبادلہ ذخائر بڑھے اور درآمدات کے لیے کور کم از کم ڈھائی ماہ تک پہنچ گیا۔ لیکن اچھی خبریں بس یہیں تک تھیں۔ 2024 اور 2025 کے دوران معیشت تو مستحکم رہی، اور بے چینی بھی آہستہ آہستہ کم ہوئی، مگر اس کا ایک بھاری خمیازہ سامنے آیا۔ روزگار کے مواقع رک گئے، ترقی رک گئی اور معیشت میں ایک نئی قسم کا دباؤ پیدا ہونا شروع ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمود معیشت کے کچھ حصوں کو جیسے قیمتوں اور درآمدی طلب کو تو مستحکم کر دیتا ہے مگر یہی جمود سرمایہ کاروں میں مایوسی بڑھا دیتا ہے، متوسط طبقہ اپنی قوتِ خرید کو تیزی سے کھوتا ہے اور محنت کش طبقے کیلئے زندگی ایک کٹھن جدوجہد بنتی جاتی ہےکیونکہ پاکستان میں اجرت ہمیشہ سب سے آخر میں بحال ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مایوسی ریاست کی بڑھتی ہوئی وسائل کی طلب میں مزید اضافہ کرتی ہے، جو استحکام کے دور میں بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔ ٹیکس بڑھتے ہیں، اخراجات کم ہوتے ہیں، اسٹیٹ بینک ہر دستیاب ڈالر کو ذخائر بڑھانے کے لیے سمیٹ لیتا ہے۔ ریاست کے مطالبات براہِ راست سرمایہ پر پڑتے ہیں، زیادہ ٹیکس، زیادہ شرحِ سود، اور ڈالر کی کمی پالیسیوں کو جکڑ لیتی ہے۔ ترقی کے وہ ادوار جو ایسے بحران سے پہلے آتے ہیں، سرمایہ داروں کو بہت زیادہ منافع دیتے ہیں۔ مگر جب باری بحران کی آتی ہے تو ریاست حساب لینے آتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیاسی نظام میں ابھرنے والی ہلچل بھی انہی عوامل کی عکاس ہے۔ نظام کی پہلی دراڑ سول اور ملٹری اداروں کے درمیان پیدا ہوتی ہے۔ دونوں ہی استحکام کے دور میں وسائل کی کمی کا شدید دباؤ محسوس کرتے ہیں۔ سرکاری ملازمین مہنگائی کے باعث اپنی قوتِ خرید کھونے پر پریشان ہوتے ہیں اور ریاستی ڈھانچےانفرااسٹرکچر سے ہتھیاروں کی خریداری تک سرمایہ مانگتے ہیں۔ سول حکومتیں عوام کے سامنے جوابدہ ہوتی ہیں، اس لیے وہ اپنے ووٹرز کو راضی کرنے کے لیے ریاستی وسائل اُن تک منتقل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274017/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274017"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کاروباری طبقہ اس بھاری بوجھ کو کم کرنے کے لیے سرگرم ہو جاتا ہے۔ ٹیکس، شرح سود اور مراعات کا دباؤ بڑھ جاتا ہے اور اکثر وہ اپنے مفاد کیلئے ریاست کے مختلف اداروں کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوں نچلی سطح کی مایوسی اوپر کی کشمکش کو بھڑکاتی ہے۔ حکمران طبقے میں بے اعتمادی، شک اور مایوسی بڑھتی ہے۔ یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ حکومت ناکام ہے، نااہل ہے، خود غرض ہے۔ یہ سب کچھ حکومت کی توجہ معیشت کے استحکام سے ہٹا دیتا ہے اور ترقی کی بے قراری دوبارہ سر اٹھاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اس چکر سے ایک بار پھر گزر رہا ہے، مگر اس بار کچھ فرق کے ساتھ۔ مرکز اب غیر جمہوری قوتوں کے ہاتھ میں چلا گیا ہے، 2018 میں شروع ہونے والا ہائبرڈ تجربہ 2024 کے بعد مزید مضبوط ہوا اور ایگزیکٹو فیصلوں میں سول اداروں کی جگہ لیتا گیا۔ جمہوری قوتیں اب صوبوں میں اپنے اپنے مضبوط قلعوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ ہر بڑی سیاسی جماعت ایک صوبے پر قابض ہے، جس کی آمدن اُنہیں زندہ رکھے ہوئے ہے۔ ہر جماعت نے اپنے صوبے کو بنیاد بنا کر پہلے نظام میں اپنی جگہ بنائی ہے اور پھر مرکز میں اپنی ’حق دار‘ جگہ دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش میں ہے، میں اسے ’عظیم پسپائی‘ کہتا ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران استحکام کا تیسرا سال شروع ہوتے ہی مرکز کی وسائل کی طلب بے انتہا بڑھ گئی ہے اور غیر جمہوری قوتیں اس کے پیچھے ہیں۔ وہ عناصر جو جمہوری قوتوں کو مکمل طور پر مٹائے بغیر اپنے سیاسی مستقبل کا تصور نہیں کر سکتے، اس کوشش کو مزید ہوا دے رہے ہیں۔ این ایف سی ایوارڈ کو واپس لینے اور صوبوں کو توڑنے کی باتیں اسی سول-ملٹری کشمکش سے جنم لیتی ہیں، جب معاشی استحکام عوام کو کاٹنے لگتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب تک استحکام سے نکلنے کا کوئی ٹھوس منصوبہ سامنے نہیں آتا، نظام مزید اندرونی کشمکش کا شکار ہوگا اور کسی نہ کسی بڑے تصادم یا حساب کتاب کے بغیر یہ دباؤ نہیں ٹلے گا۔ کھلاڑی بہت زیادہ ہیں اور کھیل میں جگہ بہت کم۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر کوئی بڑی بیرونی مالی مدد نہ ملی تو معاشی استحکام کے تیسرے سال پاکستان میں سیاسی عدم استحکام کی شدت بڑھتی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;اس کالم کو انگریزی میں &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1960458/the-great-retreat"&gt;&lt;strong&gt;پڑھیں&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان میں اس وقت ایک سیاسی جنگ جاری ہے جو متعدد محاذوں پر، مختلف حکمتِ عملیوں اور مختلف کھلاڑیوں کے ساتھ لڑی جا رہی ہے۔ داؤ پر اس ملک کی سیاست کا مستقبل لگا ہوا ہے۔ اور اس تمام صورتحال کے محرک وہ معیشت ہے جو طویل عرصے سے جمود کا شکار ہے۔</p>
<p>معیشت سے آغاز کریں اور پھر اُن اثرات کا جائزہ لیں جو سیاسی نظام میں پھیلتے ہیں۔ 2022 کی گرمیوں میں معیشت حد سے زیادہ گرم ہو چکی تھی، یہ عمل ایک سال قبل شروع ہوا تھا اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اس وقت کے وزیرِ خزانہ شوکت ترین نے 2021 کے دوسرے نصف میں اس کا اعتراف بھی کیا تھا۔ مہنگائی آسمان کو چھو رہی تھی اور جون 2022 تک زرمبادلہ ذخائر ڈیفالٹ کے قریب پہنچ چکے تھے۔ فضا میں یہ خدشات گونج رہے تھے کہ کہیں پاکستان ’سری لنکا طرز‘ کے بحران میں نہ جا گرے۔ معیشت سے اٹھنے والی شدید بے چینی پورے معاشرے میں پھیل رہی تھی۔</p>
<p>اگست 2022 میں آخری لمحے میں آئی ایم ایف کے پروگرام نے پاکستان کو کھائی کے کنارے سے واپس کھینچا لیکن یہ سلسلہ زیادہ دیر نہ چل سکا۔ اسحٰق ڈار نے بطور وزیرِ خزانہ ذمہ داری سنبھالتے ہی پروگرام سے انحراف کیا جس کے بعد ملک ایک بار پھر ڈیفالٹ کے دہانے پر جا پہنچا، یہاں تک کہ جولائی 2023 میں ایک اور ہنگامی آئی ایم ایف پروگرام نے ایک مرتبہ پھر بچا لیا۔ ایک سال میں دو بار آخری لمحے میں بچاؤ شاید ایک ریکارڈ ہو۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274513/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274513"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>جولائی 2023 کے بعد سے معیشت مستحکم رہی، مہنگائی ختم ہو گئی، زرمبادلہ ذخائر بڑھے اور درآمدات کے لیے کور کم از کم ڈھائی ماہ تک پہنچ گیا۔ لیکن اچھی خبریں بس یہیں تک تھیں۔ 2024 اور 2025 کے دوران معیشت تو مستحکم رہی، اور بے چینی بھی آہستہ آہستہ کم ہوئی، مگر اس کا ایک بھاری خمیازہ سامنے آیا۔ روزگار کے مواقع رک گئے، ترقی رک گئی اور معیشت میں ایک نئی قسم کا دباؤ پیدا ہونا شروع ہو گیا۔</p>
<p>جمود معیشت کے کچھ حصوں کو جیسے قیمتوں اور درآمدی طلب کو تو مستحکم کر دیتا ہے مگر یہی جمود سرمایہ کاروں میں مایوسی بڑھا دیتا ہے، متوسط طبقہ اپنی قوتِ خرید کو تیزی سے کھوتا ہے اور محنت کش طبقے کیلئے زندگی ایک کٹھن جدوجہد بنتی جاتی ہےکیونکہ پاکستان میں اجرت ہمیشہ سب سے آخر میں بحال ہوتی ہیں۔</p>
<p>یہ مایوسی ریاست کی بڑھتی ہوئی وسائل کی طلب میں مزید اضافہ کرتی ہے، جو استحکام کے دور میں بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔ ٹیکس بڑھتے ہیں، اخراجات کم ہوتے ہیں، اسٹیٹ بینک ہر دستیاب ڈالر کو ذخائر بڑھانے کے لیے سمیٹ لیتا ہے۔ ریاست کے مطالبات براہِ راست سرمایہ پر پڑتے ہیں، زیادہ ٹیکس، زیادہ شرحِ سود، اور ڈالر کی کمی پالیسیوں کو جکڑ لیتی ہے۔ ترقی کے وہ ادوار جو ایسے بحران سے پہلے آتے ہیں، سرمایہ داروں کو بہت زیادہ منافع دیتے ہیں۔ مگر جب باری بحران کی آتی ہے تو ریاست حساب لینے آتی ہے۔</p>
<p>سیاسی نظام میں ابھرنے والی ہلچل بھی انہی عوامل کی عکاس ہے۔ نظام کی پہلی دراڑ سول اور ملٹری اداروں کے درمیان پیدا ہوتی ہے۔ دونوں ہی استحکام کے دور میں وسائل کی کمی کا شدید دباؤ محسوس کرتے ہیں۔ سرکاری ملازمین مہنگائی کے باعث اپنی قوتِ خرید کھونے پر پریشان ہوتے ہیں اور ریاستی ڈھانچےانفرااسٹرکچر سے ہتھیاروں کی خریداری تک سرمایہ مانگتے ہیں۔ سول حکومتیں عوام کے سامنے جوابدہ ہوتی ہیں، اس لیے وہ اپنے ووٹرز کو راضی کرنے کے لیے ریاستی وسائل اُن تک منتقل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274017/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274017"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>کاروباری طبقہ اس بھاری بوجھ کو کم کرنے کے لیے سرگرم ہو جاتا ہے۔ ٹیکس، شرح سود اور مراعات کا دباؤ بڑھ جاتا ہے اور اکثر وہ اپنے مفاد کیلئے ریاست کے مختلف اداروں کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔</p>
<p>یوں نچلی سطح کی مایوسی اوپر کی کشمکش کو بھڑکاتی ہے۔ حکمران طبقے میں بے اعتمادی، شک اور مایوسی بڑھتی ہے۔ یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ حکومت ناکام ہے، نااہل ہے، خود غرض ہے۔ یہ سب کچھ حکومت کی توجہ معیشت کے استحکام سے ہٹا دیتا ہے اور ترقی کی بے قراری دوبارہ سر اٹھاتی ہے۔</p>
<p>پاکستان اس چکر سے ایک بار پھر گزر رہا ہے، مگر اس بار کچھ فرق کے ساتھ۔ مرکز اب غیر جمہوری قوتوں کے ہاتھ میں چلا گیا ہے، 2018 میں شروع ہونے والا ہائبرڈ تجربہ 2024 کے بعد مزید مضبوط ہوا اور ایگزیکٹو فیصلوں میں سول اداروں کی جگہ لیتا گیا۔ جمہوری قوتیں اب صوبوں میں اپنے اپنے مضبوط قلعوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ ہر بڑی سیاسی جماعت ایک صوبے پر قابض ہے، جس کی آمدن اُنہیں زندہ رکھے ہوئے ہے۔ ہر جماعت نے اپنے صوبے کو بنیاد بنا کر پہلے نظام میں اپنی جگہ بنائی ہے اور پھر مرکز میں اپنی ’حق دار‘ جگہ دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش میں ہے، میں اسے ’عظیم پسپائی‘ کہتا ہوں۔</p>
<p>اسی دوران استحکام کا تیسرا سال شروع ہوتے ہی مرکز کی وسائل کی طلب بے انتہا بڑھ گئی ہے اور غیر جمہوری قوتیں اس کے پیچھے ہیں۔ وہ عناصر جو جمہوری قوتوں کو مکمل طور پر مٹائے بغیر اپنے سیاسی مستقبل کا تصور نہیں کر سکتے، اس کوشش کو مزید ہوا دے رہے ہیں۔ این ایف سی ایوارڈ کو واپس لینے اور صوبوں کو توڑنے کی باتیں اسی سول-ملٹری کشمکش سے جنم لیتی ہیں، جب معاشی استحکام عوام کو کاٹنے لگتا ہے۔</p>
<p>جب تک استحکام سے نکلنے کا کوئی ٹھوس منصوبہ سامنے نہیں آتا، نظام مزید اندرونی کشمکش کا شکار ہوگا اور کسی نہ کسی بڑے تصادم یا حساب کتاب کے بغیر یہ دباؤ نہیں ٹلے گا۔ کھلاڑی بہت زیادہ ہیں اور کھیل میں جگہ بہت کم۔</p>
<p>اگر کوئی بڑی بیرونی مالی مدد نہ ملی تو معاشی استحکام کے تیسرے سال پاکستان میں سیاسی عدم استحکام کی شدت بڑھتی جائے گی۔</p>
<hr />
<p>اس کالم کو انگریزی میں <a href="https://www.dawn.com/news/1960458/the-great-retreat"><strong>پڑھیں</strong></a>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274796</guid>
      <pubDate>Thu, 11 Dec 2025 12:37:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خرم حسین)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/111234402845100.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/111234402845100.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>موبائل فون لگژری آئٹمز نہیں، ٹیکسوں پر نظرثانی کیلئے جامع رپورٹ دی جائے، قائمہ کمیٹی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274787/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات نے منگل کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو ہدایت کی ہے کہ موبائل فونز پر عائد ٹیکسوں سے متعلق ایک جامع رپورٹ تیار کریں، جس میں پالیسی آپشنز، معاشی اثرات، بین الاقوامی موازنہ اور ممکنہ ترامیم شامل ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1960239/na-body-orders-review-of-mobile-phone-taxes"&gt;&lt;strong&gt;خبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق یہ ہدایت قائمہ کمیٹی کے چیئرمین ایم این اے نوید قمر نے جاری کی، جنہوں نے موبائل فونز پر بڑھتے ہوئے ٹیکسوں پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان اداروں نے غلط طور پر موبائل فونز کو لگژری آئٹمز میں شامل کر رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین نے ایف بی آر اور ٹیکس پالیسی آفس کو ہدایت کی کہ وہ ذاتی سامان (personal baggage) اور رجسٹریشن اسکیمز کے تحت موبائل فونز کی درآمد پر موجودہ ٹیکس شرحوں کا ازسرِ نو جائزہ لیں۔ نوید قمر نے کہا کہ یہ رپورٹ مارچ 2026 تک تیار ہونی چاہیے تاکہ بجٹ سے قبل اس معاملے کا جامع جائزہ لیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم این اے قاسم گیلانی نے موبائل فونز پر بھاری ٹیکسوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر فون کھو جائے یا چوری ہو جائے تو صارفین کو دوبارہ ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے نشاندہی کی کہ اسمارٹ فونز پہلے ہی بہت مہنگے ہیں، یہاں تک کہ پرانے آئی فون 6 ماڈل پر 35 ہزار روپے اور آئی فون 12 کی درآمد پر ایک لاکھ روپے تک ٹیکس لیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ لوگ اسمارٹ فونز کو کانٹینٹ کریشن، ویڈیوز شیئرنگ اور ای کامرس کے لیے استعمال کر رہے ہیں، اس لیے یہ روزگار کا ذریعہ بھی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رکن قومی اسمبلی شرمیلا فاروقی نے کہا کہ نیا آئی فون 3 لاکھ 50 ہزار روپے کا ہے، جس پر ایک لاکھ 90 ہزار روپے کا اضافی ٹیکس بھی دینا پڑتا ہے۔ ایف بی آر حکام نے وضاحت کی کہ ٹیکس مخصوص ماڈلز پر نہیں بلکہ فون کی قیمت کے مطابق لگایا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رکن قومی اسمبلی مرزا اختیار بیگ نے کہا کہ ٹیکس لگانے کے لیے واضح طریقہ کار ضروری ہے اور یہ تاثر غلط ہے کہ اسمارٹ فون صرف امیروں کے لیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی اے چیئرمین نے کمیٹی کو بتایا کہ صرف 6 فیصد ہائی اینڈ فونز درآمد کیے جاتے ہیں جبکہ زیادہ تر موبائل فونز مقامی طور پر تیار ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگلے سال فروری یا مارچ تک 5G لائسنس جاری کر دیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر چیئرمین راشد محمود لنگڑیال نے کہا کہ مجموعی طور پر اسمارٹ فونز کی قیمتیں اور ٹیکس کم ہوئے ہیں، سوائے چند بڑے برانڈز کے۔ ان کے مطابق گزشتہ مالی سال میں موبائل فونز سے 82 ارب روپے کا ٹیکس وصول کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے تجویز دی کہ اسمارٹ فونز کو ایٹھ شیڈول میں شامل کر کے صارفین کو ریلیف دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکس حکام نے بتایا کہ اس وقت ٹیلی کام پر نائنتھ شیڈول لاگو ہے جبکہ ایٹھ شیڈول میں مختلف رعایتیں موجود ہیں، انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایپل کے علاوہ زیادہ تر موبائل فونز اب ملک میں تیار کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات نے منگل کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو ہدایت کی ہے کہ موبائل فونز پر عائد ٹیکسوں سے متعلق ایک جامع رپورٹ تیار کریں، جس میں پالیسی آپشنز، معاشی اثرات، بین الاقوامی موازنہ اور ممکنہ ترامیم شامل ہوں۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1960239/na-body-orders-review-of-mobile-phone-taxes"><strong>خبر</strong></a> کے مطابق یہ ہدایت قائمہ کمیٹی کے چیئرمین ایم این اے نوید قمر نے جاری کی، جنہوں نے موبائل فونز پر بڑھتے ہوئے ٹیکسوں پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان اداروں نے غلط طور پر موبائل فونز کو لگژری آئٹمز میں شامل کر رکھا ہے۔</p>
<p>چیئرمین نے ایف بی آر اور ٹیکس پالیسی آفس کو ہدایت کی کہ وہ ذاتی سامان (personal baggage) اور رجسٹریشن اسکیمز کے تحت موبائل فونز کی درآمد پر موجودہ ٹیکس شرحوں کا ازسرِ نو جائزہ لیں۔ نوید قمر نے کہا کہ یہ رپورٹ مارچ 2026 تک تیار ہونی چاہیے تاکہ بجٹ سے قبل اس معاملے کا جامع جائزہ لیا جا سکے۔</p>
<p>ایم این اے قاسم گیلانی نے موبائل فونز پر بھاری ٹیکسوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر فون کھو جائے یا چوری ہو جائے تو صارفین کو دوبارہ ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے نشاندہی کی کہ اسمارٹ فونز پہلے ہی بہت مہنگے ہیں، یہاں تک کہ پرانے آئی فون 6 ماڈل پر 35 ہزار روپے اور آئی فون 12 کی درآمد پر ایک لاکھ روپے تک ٹیکس لیا جا رہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ لوگ اسمارٹ فونز کو کانٹینٹ کریشن، ویڈیوز شیئرنگ اور ای کامرس کے لیے استعمال کر رہے ہیں، اس لیے یہ روزگار کا ذریعہ بھی ہیں۔</p>
<p>رکن قومی اسمبلی شرمیلا فاروقی نے کہا کہ نیا آئی فون 3 لاکھ 50 ہزار روپے کا ہے، جس پر ایک لاکھ 90 ہزار روپے کا اضافی ٹیکس بھی دینا پڑتا ہے۔ ایف بی آر حکام نے وضاحت کی کہ ٹیکس مخصوص ماڈلز پر نہیں بلکہ فون کی قیمت کے مطابق لگایا جاتا ہے۔</p>
<p>رکن قومی اسمبلی مرزا اختیار بیگ نے کہا کہ ٹیکس لگانے کے لیے واضح طریقہ کار ضروری ہے اور یہ تاثر غلط ہے کہ اسمارٹ فون صرف امیروں کے لیے ہیں۔</p>
<p>پی ٹی اے چیئرمین نے کمیٹی کو بتایا کہ صرف 6 فیصد ہائی اینڈ فونز درآمد کیے جاتے ہیں جبکہ زیادہ تر موبائل فونز مقامی طور پر تیار ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگلے سال فروری یا مارچ تک 5G لائسنس جاری کر دیے جائیں گے۔</p>
<p>ایف بی آر چیئرمین راشد محمود لنگڑیال نے کہا کہ مجموعی طور پر اسمارٹ فونز کی قیمتیں اور ٹیکس کم ہوئے ہیں، سوائے چند بڑے برانڈز کے۔ ان کے مطابق گزشتہ مالی سال میں موبائل فونز سے 82 ارب روپے کا ٹیکس وصول کیا گیا۔</p>
<p>کمیٹی نے تجویز دی کہ اسمارٹ فونز کو ایٹھ شیڈول میں شامل کر کے صارفین کو ریلیف دیا جائے۔</p>
<p>ٹیکس حکام نے بتایا کہ اس وقت ٹیلی کام پر نائنتھ شیڈول لاگو ہے جبکہ ایٹھ شیڈول میں مختلف رعایتیں موجود ہیں، انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایپل کے علاوہ زیادہ تر موبائل فونز اب ملک میں تیار کیے جا رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274787</guid>
      <pubDate>Wed, 10 Dec 2025 15:36:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مبارک زیب خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/10152012d222010.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/10152012d222010.webp"/>
        <media:title>__فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ملک میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274789/</link>
      <description>&lt;p&gt;ملک بھر میں سونےاور چاندی کی قیمت میں اضافہ ہوگیا، 12 سو روپےکے اضافے سے فی تولہ سونا 4 لاکھ 43 ہزار 62 روپے پرپہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دس گرام سونے کی قیمت ایک ہزار 29 روپے کے اضافے سے 3 لاکھ 79 ہزار 854 روپے ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں 12 ڈالرکے اضافے سے فی اونس سونا 4 ہزار 204 ڈالر پر پہنچ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سونے کے ساتھ چاندی کی قیمت بھی بڑھ گئی ہے، فی تولہ چاندی 265 روپے کے اضافے سے 6 ہزار 3667 پرپہنچ گئی، دس گرام چاندی کی قیمت 227 روپے کے اضافےسے 5 ہزار 458 روپے ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی مارکیٹ میں فی اونس چاندی 60.9 ڈالر ہوگئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ملک بھر میں سونےاور چاندی کی قیمت میں اضافہ ہوگیا، 12 سو روپےکے اضافے سے فی تولہ سونا 4 لاکھ 43 ہزار 62 روپے پرپہنچ گیا۔</p>
<p>دس گرام سونے کی قیمت ایک ہزار 29 روپے کے اضافے سے 3 لاکھ 79 ہزار 854 روپے ہوگئی۔</p>
<p>دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں 12 ڈالرکے اضافے سے فی اونس سونا 4 ہزار 204 ڈالر پر پہنچ گیا ہے۔</p>
<p>سونے کے ساتھ چاندی کی قیمت بھی بڑھ گئی ہے، فی تولہ چاندی 265 روپے کے اضافے سے 6 ہزار 3667 پرپہنچ گئی، دس گرام چاندی کی قیمت 227 روپے کے اضافےسے 5 ہزار 458 روپے ہوگئی۔</p>
<p>عالمی مارکیٹ میں فی اونس چاندی 60.9 ڈالر ہوگئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274789</guid>
      <pubDate>Wed, 10 Dec 2025 17:24:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/101619076fd1d05.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/101619076fd1d05.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>محمد اورنگزیب سے برطانوی وزیر کی ملاقات، شعبہ توانائی، پنشن اصلاحات کا جائزہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274775/</link>
      <description>&lt;p&gt;وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے برطانوی وزیر برائے ڈیولپمنٹ بیرونس چیمپن نے اسلام آباد میں ملاقات کی جس میں آئی ایم ایف پروگرام ریویوز کی کامیاب تکمیل پر برطانیہ کی حمایت کا اعتراف کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے معاشی استحکام کی کوششوں اور ساختی اصلاحات پر وفد کو بریفنگ دی۔&lt;br&gt;&lt;br&gt;سرکاری پاکستان ٹیلی ویژن کی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://ptv.com.pk/ptvnews/urdunewsdetail/17147"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ملاقات میں توانائی شعبے میں بہتری، قرض انتظام اور پنشن اصلاحات پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا، فریقین نے صحت، تعلیم، آبادی اور موسمیاتی لچک میں سرمایہ کاری کے لیے وفاقی و صوبائی ہم آہنگی پر زور دیا۔&lt;br&gt;&lt;br&gt;ملاقات میں خواتین کی معاشی شمولیت اور آبادی سے متعلق پالیسی چیلنجز پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، وفد نے برطانیہ کی جانب سے ڈیجیٹلائزیشن، گورننس اصلاحات اور بزنس میں آسانی کے لیے معاونت کی یقین دہانی بھی کرائی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے برطانوی وزیر برائے ڈیولپمنٹ بیرونس چیمپن نے اسلام آباد میں ملاقات کی جس میں آئی ایم ایف پروگرام ریویوز کی کامیاب تکمیل پر برطانیہ کی حمایت کا اعتراف کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے معاشی استحکام کی کوششوں اور ساختی اصلاحات پر وفد کو بریفنگ دی۔<br><br>سرکاری پاکستان ٹیلی ویژن کی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://ptv.com.pk/ptvnews/urdunewsdetail/17147"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق ملاقات میں توانائی شعبے میں بہتری، قرض انتظام اور پنشن اصلاحات پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا، فریقین نے صحت، تعلیم، آبادی اور موسمیاتی لچک میں سرمایہ کاری کے لیے وفاقی و صوبائی ہم آہنگی پر زور دیا۔<br><br>ملاقات میں خواتین کی معاشی شمولیت اور آبادی سے متعلق پالیسی چیلنجز پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، وفد نے برطانیہ کی جانب سے ڈیجیٹلائزیشن، گورننس اصلاحات اور بزنس میں آسانی کے لیے معاونت کی یقین دہانی بھی کرائی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274775</guid>
      <pubDate>Tue, 09 Dec 2025 22:52:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/091938557e6f513.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/091938557e6f513.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: پی ٹی وی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اقتصادی رابطہ کمیٹی نے شہریوں پر اضافی بوجھ ڈالنے کی منظوری دیدی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274772/</link>
      <description>&lt;p&gt;اقتصادی رابطہ کمیٹی نے شہریوں پر اضافی بوجھ ڈالنے کی منظوری دے دی، او ایم سی مارجن 1.22 روپے تک بڑھ جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ای سی سی کا اجلاس ہوا جس میں اقتصادی رابطہ کمیٹی نے شہریوں پر اضافی بوجھ ڈالنے کی منظوری دے دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ ای سی سی نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈیلرز کے مارجن میں اضافے کی منظوری دے دی، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر 2 روپے 56 پیسے تک اضافی بوجھ پڑے گا جب کہ ایک روپے 28 پیسے فی لیٹر کا اضافی بوجھ فوری طور پر منتقل ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے بتایا کہ پیٹرول کےفی لیٹر پر او ایم سی مارجن ایک روپے 22 پیسے تک بڑھ جائے گا جب کہ ڈیزل کے فی لیٹر پرڈیلرز کا کمیشن میں ایک روپے 34 پیسے کا اضافہ ہوجائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای سی سی کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق پٹرولیم مصنوعات پر ڈیلرز اور او ایم سیز مارجنز میں 5 سے 10 فیصد کے درمیان اضافہ منظور کرلیا گیا، مارجن میں آدھا اضافہ فوری، آدھا ڈیجیٹلائزیشن سے مشروط ہوگا، پٹرولیم ڈویژن یکم جون 2026 تک رپورٹ دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیہ میں کہا گیا کہ ای سی سی نے سرکلر ڈَیٹ مینجمنٹ پلان کا تفصیلی جائزہ  لیا، پاور سیکٹر کی مالی پائیداری یقینی بنانے پر غور کیا گیا اور پاور ڈویژن کو وسط مدتی پلان تیار کرنے کی ہدایت کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں ڈسکوز اہداف کی مانیٹرنگ کے لیے فالو اپ میکنزم بنانے کی ہدایت کی گئی اور گاڑیوں کی امپورٹ پالیسی میں ترامیم کی منظوری دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں، ای سی سی نے ٹرانسفر آف ریذیڈنس اور گفٹ اسکیم برقرار رکھنے کی منظوری دی، درآمدی گاڑیوں پر کمرشل معیار حفاظت و ماحولیات کا اطلاق ہوگا، درآمدی گاڑیوں کی مدت 2 سے بڑھا کر 3 سال کر دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیہ کے مطابق درآمد شدہ گاڑیاں ایک سال تک ناقابل منتقلی ہوں گی، کلوروفارم کی درآمد پر سخت پابندیاں منظور کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیہ میں کہا گیا کہ کلوروفارم صرف فارما کمپنیاں ڈی آر اے پی این او سی سے درآمد کر سکیں گی، گھنی گلاس کے کنسیشنری گیس ٹیرف کیس کو ناقابل عمل قرار دی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقتصادی رابطہ کمیٹی کا کہنا تھا کہ سبسڈی ختم، وسیع ایکسپورٹ سپورٹ پالیسی پہلے سے جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کے لیے ایک ارب 28 کروڑ روپے کی گرانٹ منظور کی گئی، کابینہ ڈویژن کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز ریلیز کرنے کی منظوری دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں، ہاؤسنگ اینڈ ورکس ڈویژن کے لیے 5 ارب روپے کی گرانٹ منظور کی گئی اور &lt;br&gt;پی اے ایس سی او کی وائنڈنگ اپ کے لیے خصوصی کمپنی کے قیام کی منظوری دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیہ کے مطابق خصوصی کمپنی واجبات نمٹانے کے بعد تحلیل کر دی جائے گی،  جب کہ پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کے پنشن اور میڈیکل اخراجات کے لیے فنڈز کی اصولی منظوری دی گئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اقتصادی رابطہ کمیٹی نے شہریوں پر اضافی بوجھ ڈالنے کی منظوری دے دی، او ایم سی مارجن 1.22 روپے تک بڑھ جائے گا۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ای سی سی کا اجلاس ہوا جس میں اقتصادی رابطہ کمیٹی نے شہریوں پر اضافی بوجھ ڈالنے کی منظوری دے دی ہے۔</p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ ای سی سی نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈیلرز کے مارجن میں اضافے کی منظوری دے دی، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر 2 روپے 56 پیسے تک اضافی بوجھ پڑے گا جب کہ ایک روپے 28 پیسے فی لیٹر کا اضافی بوجھ فوری طور پر منتقل ہوگا۔</p>
<p>ذرائع نے بتایا کہ پیٹرول کےفی لیٹر پر او ایم سی مارجن ایک روپے 22 پیسے تک بڑھ جائے گا جب کہ ڈیزل کے فی لیٹر پرڈیلرز کا کمیشن میں ایک روپے 34 پیسے کا اضافہ ہوجائے گا۔</p>
<p>ای سی سی کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق پٹرولیم مصنوعات پر ڈیلرز اور او ایم سیز مارجنز میں 5 سے 10 فیصد کے درمیان اضافہ منظور کرلیا گیا، مارجن میں آدھا اضافہ فوری، آدھا ڈیجیٹلائزیشن سے مشروط ہوگا، پٹرولیم ڈویژن یکم جون 2026 تک رپورٹ دے گا۔</p>
<p>اعلامیہ میں کہا گیا کہ ای سی سی نے سرکلر ڈَیٹ مینجمنٹ پلان کا تفصیلی جائزہ  لیا، پاور سیکٹر کی مالی پائیداری یقینی بنانے پر غور کیا گیا اور پاور ڈویژن کو وسط مدتی پلان تیار کرنے کی ہدایت کی گئی۔</p>
<p>اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں ڈسکوز اہداف کی مانیٹرنگ کے لیے فالو اپ میکنزم بنانے کی ہدایت کی گئی اور گاڑیوں کی امپورٹ پالیسی میں ترامیم کی منظوری دی گئی۔</p>
<p>علاوہ ازیں، ای سی سی نے ٹرانسفر آف ریذیڈنس اور گفٹ اسکیم برقرار رکھنے کی منظوری دی، درآمدی گاڑیوں پر کمرشل معیار حفاظت و ماحولیات کا اطلاق ہوگا، درآمدی گاڑیوں کی مدت 2 سے بڑھا کر 3 سال کر دی گئی۔</p>
<p>اعلامیہ کے مطابق درآمد شدہ گاڑیاں ایک سال تک ناقابل منتقلی ہوں گی، کلوروفارم کی درآمد پر سخت پابندیاں منظور کی گئی۔</p>
<p>اعلامیہ میں کہا گیا کہ کلوروفارم صرف فارما کمپنیاں ڈی آر اے پی این او سی سے درآمد کر سکیں گی، گھنی گلاس کے کنسیشنری گیس ٹیرف کیس کو ناقابل عمل قرار دی گئیں۔</p>
<p>اقتصادی رابطہ کمیٹی کا کہنا تھا کہ سبسڈی ختم، وسیع ایکسپورٹ سپورٹ پالیسی پہلے سے جاری ہے۔</p>
<p>اجلاس میں پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کے لیے ایک ارب 28 کروڑ روپے کی گرانٹ منظور کی گئی، کابینہ ڈویژن کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز ریلیز کرنے کی منظوری دی گئی۔</p>
<p>علاوہ ازیں، ہاؤسنگ اینڈ ورکس ڈویژن کے لیے 5 ارب روپے کی گرانٹ منظور کی گئی اور <br>پی اے ایس سی او کی وائنڈنگ اپ کے لیے خصوصی کمپنی کے قیام کی منظوری دی گئی۔</p>
<p>اعلامیہ کے مطابق خصوصی کمپنی واجبات نمٹانے کے بعد تحلیل کر دی جائے گی،  جب کہ پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کے پنشن اور میڈیکل اخراجات کے لیے فنڈز کی اصولی منظوری دی گئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274772</guid>
      <pubDate>Tue, 09 Dec 2025 18:36:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر شیرانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/09183611a16152e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/09183611a16152e.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی سمیت ملک بھر کیلئے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں بجلی مہنگی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274769/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی سمیت ملک بھر کے لیے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی مہنگی کر دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی33 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی منظوری دے دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی تا ستمبر 2025 کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں بجلی مہنگی کرنے کی منظوری دی گئی ہے، اطلاق دسمبر 2025 سے فروری 2026 کے 3ماہ کے لیے ہوگا&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کا بجلی صارفین پر 6 ارب 6 کروڑ 70 لاکھ روپےکا بوجھ پڑے گا، نیپرا نے فیصلہ نوٹیفکیشن کے ذریعے وفاقی حکومت کو بھجوا دیا۔&lt;br&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی سمیت ملک بھر کے لیے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی مہنگی کر دی گئی۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی33 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی منظوری دے دی۔</p>
<p>جولائی تا ستمبر 2025 کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں بجلی مہنگی کرنے کی منظوری دی گئی ہے، اطلاق دسمبر 2025 سے فروری 2026 کے 3ماہ کے لیے ہوگا</p>
<p>سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کا بجلی صارفین پر 6 ارب 6 کروڑ 70 لاکھ روپےکا بوجھ پڑے گا، نیپرا نے فیصلہ نوٹیفکیشن کے ذریعے وفاقی حکومت کو بھجوا دیا۔<br></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274769</guid>
      <pubDate>Tue, 09 Dec 2025 18:20:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/091736284863585.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/091736284863585.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سونے کی فی تولہ قیمت میں 1900 روپے کی کمی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274766/</link>
      <description>&lt;p&gt;ملک بھر میں آج سونے کی فی تولہ میں 1900 روپے کی کمی ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن نے رپورٹ کیا کہ 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت ایک ہزار 900 روپے تنزلی سے 4 لاکھ 41 ہزار 862 روپے ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح 24 قیراط 10 گرام سونا ایک ہزار 629 روپے کمی سے 3 لاکھ 78 ہزار 825 روپے ریکارڈ کیا گیا، جبکہ 22 قیراط 10 گرام سونے کے نرخ ایک ہزار 494 روپے گراوٹ کے بعد 3 لاکھ 47 ہزار 268 روپے ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت 19 ڈالر کمی کے بعد 4 ہزار 195 ڈالر ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر، فی تولہ چاندی کی قیمت 6,102 روپے پر برقرار رہی اور 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 5,231 روپے پر مستحکم رہی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ملک بھر میں آج سونے کی فی تولہ میں 1900 روپے کی کمی ہو گئی۔</p>
<p>سرکاری خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن نے رپورٹ کیا کہ 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت ایک ہزار 900 روپے تنزلی سے 4 لاکھ 41 ہزار 862 روپے ہو گئی۔</p>
<p>اسی طرح 24 قیراط 10 گرام سونا ایک ہزار 629 روپے کمی سے 3 لاکھ 78 ہزار 825 روپے ریکارڈ کیا گیا، جبکہ 22 قیراط 10 گرام سونے کے نرخ ایک ہزار 494 روپے گراوٹ کے بعد 3 لاکھ 47 ہزار 268 روپے ہو گئے۔</p>
<p>عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت 19 ڈالر کمی کے بعد 4 ہزار 195 ڈالر ہوگئی۔</p>
<p>ادھر، فی تولہ چاندی کی قیمت 6,102 روپے پر برقرار رہی اور 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 5,231 روپے پر مستحکم رہی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274766</guid>
      <pubDate>Tue, 09 Dec 2025 17:24:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/091721371e83bd6.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/091721371e83bd6.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
