<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Business - Dollar</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 05 Apr 2026 08:24:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 05 Apr 2026 08:24:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈالر کی کمی روپے کے مصنوعی استحکام کیلئے چیلنج بن گئی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1268067/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستانی روپے پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے کیونکہ ڈالر کی طلب میں اضافہ اور کیش ڈالرز کی شدید کمی کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے ایکسچینج کمپنیاں مشکلات سے دوچار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1938513/dollar-shortage-strains-rupees-artificial-strength"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق کرنسی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خاص طور پر ملک بھر میں تباہ کن سیلاب جیسے غیر متوقع واقعات کے بعد روپے کو سہارا دینے کے لیے کیے گئے انتظامی اقدامات الٹا نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی میں حکومتی کریک ڈاؤن اور سخت نگرانی کے بعد روپے میں قدرے استحکام دیکھا گیا ہے، لیکن ماہرین کے مطابق یہ رجحان زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکتا اگر طلب رسد پر غالب رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرنسی ڈیلرز کے مطابق بیشتر ایکسچینج کمپنیاں امریکی ڈالر کی شدید کمی کا شکار ہیں، جس سے ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ڈیلر نے کہا کہ اسمگلنگ پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا ہے لیکن اب ذخیرہ اندوزی کے امکانات نمایاں ہو رہے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ غیر قانونی کرنسی آپریٹرز کی سرگرمیوں میں اضافہ بھی صورتحال کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹریزمارک کے سی ای او فیصل مامسا نے خبردار کیا کہ جب بنیادی عوامل کسی کرنسی کے خلاف ہوں تو کوئی قوت مارکیٹ کو نہیں ہرا سکتی، ان کے مطابق روپے کو انتظامی اقدامات کے ذریعے مصنوعی طور پر مضبوط بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں اوپن مارکیٹ میں حقیقی کیش لین دین سست پڑ گیا ہے، انہوں نے کہا کہ ایکسچینج کمپنیاں بمشکل ہی فارن ایکسچینج کیش رکھ پا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صورتحال کا منفی اثر ترسیلات زر پر بھی متوقع ہے، فیصل مامسا کا کہنا ہے کہ اس سے دوبارہ حوالہ ہنڈی اور کرپٹو کرنسی کے ذریعے لین دین کو فروغ مل سکتا ہے جو زرمبادلہ کی غیر رسمی منڈیوں کو تقویت دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے اسٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر ڈاکٹر عنایت حسین نے تصدیق کی کہ 2024 کے وسط سے روپے کی مضبوطی زیادہ تر انتظامی کنٹرول اور زرمبادلہ کی آمد میں اضافے کی وجہ سے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ اوور کریکشن سے بچنے کے لیے اسٹیٹ بینک نے مارکیٹ سے 7.8 ارب ڈالر خریدے ہیں جس سے ذخائر بڑھ کر 14.5 ارب ڈالر (تقریباً 2.3 ماہ کی درآمدی ضروریات) تک جا پہنچے ہیں، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ سطح پر روپیہ منصفانہ قدر پر ہے اور استحکام برقرار رکھنے کے لیے مداخلت ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف برآمدکنندگان اپنی آمدنی روک کر بیٹھے ہیں جس سے مارکیٹ میں رسد مزید سکڑ گئی ہے اور ایک غیر یقینی سکون کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے، یعنی بظاہر استحکام لیکن درحقیقت سپلائی تیزی سے ختم ہو رہی ہے، ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر زرمبادلہ کی آمد میں تعطل برقرار رہا تو روپے پر دباؤ میں شدت آ سکتی ہے جس کے نتیجے میں اچانک اور بڑی گراوٹ کا سامنا ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ امریکا کی جانب سے بھارتی ٹیکسٹائل مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف عائد ہونے سے پاکستان کے لیے 16 ارب ڈالر کی مارکیٹ دستیاب ہو گئی ہے، مزید یہ کہ امریکا کو پاکستانی برآمدات پر 19 فیصد ٹیرف ہے جو بنگلہ دیش اور ویتنام سے نسبتاً بہتر ہے کیونکہ ان دونوں ممالک کو 20 فیصد ٹیرف کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستانی روپے پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے کیونکہ ڈالر کی طلب میں اضافہ اور کیش ڈالرز کی شدید کمی کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے ایکسچینج کمپنیاں مشکلات سے دوچار ہیں۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1938513/dollar-shortage-strains-rupees-artificial-strength"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق کرنسی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خاص طور پر ملک بھر میں تباہ کن سیلاب جیسے غیر متوقع واقعات کے بعد روپے کو سہارا دینے کے لیے کیے گئے انتظامی اقدامات الٹا نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>جولائی میں حکومتی کریک ڈاؤن اور سخت نگرانی کے بعد روپے میں قدرے استحکام دیکھا گیا ہے، لیکن ماہرین کے مطابق یہ رجحان زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکتا اگر طلب رسد پر غالب رہی۔</p>
<p>کرنسی ڈیلرز کے مطابق بیشتر ایکسچینج کمپنیاں امریکی ڈالر کی شدید کمی کا شکار ہیں، جس سے ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔</p>
<p>ایک ڈیلر نے کہا کہ اسمگلنگ پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا ہے لیکن اب ذخیرہ اندوزی کے امکانات نمایاں ہو رہے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ غیر قانونی کرنسی آپریٹرز کی سرگرمیوں میں اضافہ بھی صورتحال کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔</p>
<p>ٹریزمارک کے سی ای او فیصل مامسا نے خبردار کیا کہ جب بنیادی عوامل کسی کرنسی کے خلاف ہوں تو کوئی قوت مارکیٹ کو نہیں ہرا سکتی، ان کے مطابق روپے کو انتظامی اقدامات کے ذریعے مصنوعی طور پر مضبوط بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں اوپن مارکیٹ میں حقیقی کیش لین دین سست پڑ گیا ہے، انہوں نے کہا کہ ایکسچینج کمپنیاں بمشکل ہی فارن ایکسچینج کیش رکھ پا رہی ہیں۔</p>
<p>اس صورتحال کا منفی اثر ترسیلات زر پر بھی متوقع ہے، فیصل مامسا کا کہنا ہے کہ اس سے دوبارہ حوالہ ہنڈی اور کرپٹو کرنسی کے ذریعے لین دین کو فروغ مل سکتا ہے جو زرمبادلہ کی غیر رسمی منڈیوں کو تقویت دیتے ہیں۔</p>
<p>قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے اسٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر ڈاکٹر عنایت حسین نے تصدیق کی کہ 2024 کے وسط سے روپے کی مضبوطی زیادہ تر انتظامی کنٹرول اور زرمبادلہ کی آمد میں اضافے کی وجہ سے ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ اوور کریکشن سے بچنے کے لیے اسٹیٹ بینک نے مارکیٹ سے 7.8 ارب ڈالر خریدے ہیں جس سے ذخائر بڑھ کر 14.5 ارب ڈالر (تقریباً 2.3 ماہ کی درآمدی ضروریات) تک جا پہنچے ہیں، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ سطح پر روپیہ منصفانہ قدر پر ہے اور استحکام برقرار رکھنے کے لیے مداخلت ضروری ہے۔</p>
<p>دوسری طرف برآمدکنندگان اپنی آمدنی روک کر بیٹھے ہیں جس سے مارکیٹ میں رسد مزید سکڑ گئی ہے اور ایک غیر یقینی سکون کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے، یعنی بظاہر استحکام لیکن درحقیقت سپلائی تیزی سے ختم ہو رہی ہے، ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر زرمبادلہ کی آمد میں تعطل برقرار رہا تو روپے پر دباؤ میں شدت آ سکتی ہے جس کے نتیجے میں اچانک اور بڑی گراوٹ کا سامنا ہو سکتا ہے۔</p>
<p>ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ امریکا کی جانب سے بھارتی ٹیکسٹائل مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف عائد ہونے سے پاکستان کے لیے 16 ارب ڈالر کی مارکیٹ دستیاب ہو گئی ہے، مزید یہ کہ امریکا کو پاکستانی برآمدات پر 19 فیصد ٹیرف ہے جو بنگلہ دیش اور ویتنام سے نسبتاً بہتر ہے کیونکہ ان دونوں ممالک کو 20 فیصد ٹیرف کا سامنا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1268067</guid>
      <pubDate>Sun, 31 Aug 2025 11:14:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شاہد اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/08/3111080427f871d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/08/3111080427f871d.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو/ رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں مسلسل تیسرے روز اضافہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1253907/</link>
      <description>&lt;p&gt;انٹربینک مارکیٹ میں پاکستانی روپے کے مقابلے میں مسلسل تیسرے روز ڈالر کی قدر بڑھنے کا رجحان جاری رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق انٹربینک مارکیٹ میں پاکستانی روپے کے مقابلے میں ڈالر 279 روپے 67 پیسے پر پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/02/25182519772ec06.png'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ 24 فروری کو پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر 0.03 فیصد اضافے کے بعد 279 روپے 66 پیسے ریکارڈ کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل گزشتہ ہفتے کے آخری کاروباری روز 21 فروری کو ڈالر 0.04 فیصد مہنگا ہو کر 279 روپے 46 پیسے پر پہنچا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>انٹربینک مارکیٹ میں پاکستانی روپے کے مقابلے میں مسلسل تیسرے روز ڈالر کی قدر بڑھنے کا رجحان جاری رہا۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق انٹربینک مارکیٹ میں پاکستانی روپے کے مقابلے میں ڈالر 279 روپے 67 پیسے پر پہنچ گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/02/25182519772ec06.png'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>واضح رہے کہ 24 فروری کو پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر 0.03 فیصد اضافے کے بعد 279 روپے 66 پیسے ریکارڈ کی گئی تھی۔</p>
<p>اس سے قبل گزشتہ ہفتے کے آخری کاروباری روز 21 فروری کو ڈالر 0.04 فیصد مہنگا ہو کر 279 روپے 46 پیسے پر پہنچا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1253907</guid>
      <pubDate>Tue, 25 Feb 2025 18:42:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/02/25183443d5ecd92.jpg?r=183501" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/02/25183443d5ecd92.jpg?r=183501"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گرے مارکیٹ کے دوبارہ وجود نے سال 2023 کی یادیں تازہ کردیں</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1239450/</link>
      <description>&lt;p&gt;ماہرین نے کہا ہے کہ پاکستان میں  غیر قانونی طور پر کام کرنے والی  گرے کرنسی مارکیٹ  پڑوسی ممالک کو ڈالر کی اسمگلنگ میں اضافے کی وجہ سے دوبارہ ابھر رہی ہے جو کہ باقاعدہ ترسیلات زر کے دائرے سے باہر کام کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1850617/reemergence-of-grey-market-brings-back-memories-of-2023#:~:text=According%20to%20currency%20dealers%2C%20the,currency%20in%20the%20local%20market."&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جنرل سیکرٹری ظفر پراچہ کے مطابق مارکیٹ سرکاری شرح سے 4 روپے فی ڈالر زیادہ کی شرح مبادلہ پیش کر کے ماہانہ تقریباً  50 کرور ڈالر حاصل کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرے مارکیٹ تقریباً 284 روپے فی امریکی ڈالر کی پیشکش کر رہی ہے جو کہ  اوپن مارکیٹ ریٹ 280 روپے کے مقابلے میں ریٹ 4 روپے فی ڈالر زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرنسی ڈیلرز کے مطابق گرے مارکیٹ، جس پر 2023 میں حکومت کے وسیع کریک ڈاؤن کے بعد جزوی طور پر کنٹرول کیا گیا تھا، افغانستان اور ایران کو ڈالر کی اسمگلنگ کی وجہ سے دوبارہ ابھر رہی ہے، اس نے مقامی مارکیٹ میں کرنسی کی زیادہ مانگ پیدا کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ حکومت نے اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر 340 روپے تک بڑھنے کے بعد کریک ڈاؤن شروع کیا تھا، جب کہ انٹربینک ریٹ جسے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کنٹرول کرتا ہے، 307 روپے پر برقرار تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1210557"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرے مارکیٹ کی تیزی نے مالی سال 2023 میں ترسیلات زر میں 4 ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا کیونکہ سرحد پار سے ہونے والی اسمگلنگ نے بھی ڈالر کی دستیابی میں کمی میں حصہ ڈالا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صورتحال نے جون 2023 کے آخر میں پاکستان کو  ڈیفالٹ کے دہانے کے قریب پہنچا دیا تھا بعد ازاں  آئی ایم ایف سے 3 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ نے معیشت کو زندہ رہنے کے سہارا فراہم کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسمگلنگ اور گرے مارکیٹ کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد شرح مبادلہ بتدریج مستحکم ہوگیا تھا اور 4 ماہ سے زائد عرصے تک اسی طرح رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="بدلتی-ہوئی-صورتحال" href="#بدلتی-ہوئی-صورتحال" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;بدلتی ہوئی صورتحال&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ظفر پراچہ  نے ڈان کو بتایا کہ اگر صورتحال ایسی ہی رہی تو ماہانہ  50 کرور  ڈالر کے اخراج کے نتیجے میں رواں مالی سال کے اختتام پر 6 ارب ڈالر کا نقصان ہو گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ یہ نقصان ترسیلات زر میں کمی سے ظاہر ہو گا، جو مالی سال 2024 میں بڑھ کر 30.25 ارب ڈالر ہو گئے تھے جبکہ مالی سال 2023 میں یہ 27.33 ارب ڈالر تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ظفر پراچہ نے  بتایا کہ گرے مارکیٹ کے دوبارہ ابھرنے سے پہلے ہی دبئی میں ڈالر کی شرح متاثر ہوگئی تھی، جہاں یہ 285 روپے تک پہنچ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرنسی ڈیلرز کے مطابق گرے مارکیٹ میں زیادہ ریٹ کا مطلب یہ ہو گا کہ ڈالر بیرونی ممالک میں روکے گئے ہیں جبکہ ترسیلات زر کو روپے میں حوالہ سسٹم کے ذریعے بھیجا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ رجحان پہلے ہی دکھائی دے رہا ہے کیونکہ ایکسچینج کمپنیوں کی جانب سے بینکوں کو فروخت کیے گئے ڈالر کی مقدار جون کے مقابلے جولائی میں کم ہوگئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ظفر پراچہ نے کہا کہ ایکسچینج کمپنیوں نے جولائی میں بینکوں کو تقریباً 33.5 کروڑ ڈالر فروخت کیے جو جون میں 44.5 کروڑ ڈالر تھے، انہوں نے اشارہ کیا کہ ڈالر، جو کہ ایکسچینج کمپنیوں کے ذریعے آنے والے تھے، گرے مارکیٹ کی طرف منحرف ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ماہرین نے کہا ہے کہ پاکستان میں  غیر قانونی طور پر کام کرنے والی  گرے کرنسی مارکیٹ  پڑوسی ممالک کو ڈالر کی اسمگلنگ میں اضافے کی وجہ سے دوبارہ ابھر رہی ہے جو کہ باقاعدہ ترسیلات زر کے دائرے سے باہر کام کرتی ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1850617/reemergence-of-grey-market-brings-back-memories-of-2023#:~:text=According%20to%20currency%20dealers%2C%20the,currency%20in%20the%20local%20market.">رپورٹ</a></strong> کے مطابق ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جنرل سیکرٹری ظفر پراچہ کے مطابق مارکیٹ سرکاری شرح سے 4 روپے فی ڈالر زیادہ کی شرح مبادلہ پیش کر کے ماہانہ تقریباً  50 کرور ڈالر حاصل کر رہی ہے۔</p>
<p>گرے مارکیٹ تقریباً 284 روپے فی امریکی ڈالر کی پیشکش کر رہی ہے جو کہ  اوپن مارکیٹ ریٹ 280 روپے کے مقابلے میں ریٹ 4 روپے فی ڈالر زیادہ ہے۔</p>
<p>کرنسی ڈیلرز کے مطابق گرے مارکیٹ، جس پر 2023 میں حکومت کے وسیع کریک ڈاؤن کے بعد جزوی طور پر کنٹرول کیا گیا تھا، افغانستان اور ایران کو ڈالر کی اسمگلنگ کی وجہ سے دوبارہ ابھر رہی ہے، اس نے مقامی مارکیٹ میں کرنسی کی زیادہ مانگ پیدا کر دی ہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ حکومت نے اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر 340 روپے تک بڑھنے کے بعد کریک ڈاؤن شروع کیا تھا، جب کہ انٹربینک ریٹ جسے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کنٹرول کرتا ہے، 307 روپے پر برقرار تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1210557"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>گرے مارکیٹ کی تیزی نے مالی سال 2023 میں ترسیلات زر میں 4 ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا کیونکہ سرحد پار سے ہونے والی اسمگلنگ نے بھی ڈالر کی دستیابی میں کمی میں حصہ ڈالا تھا۔</p>
<p>اس صورتحال نے جون 2023 کے آخر میں پاکستان کو  ڈیفالٹ کے دہانے کے قریب پہنچا دیا تھا بعد ازاں  آئی ایم ایف سے 3 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ نے معیشت کو زندہ رہنے کے سہارا فراہم کیا۔</p>
<p>اسمگلنگ اور گرے مارکیٹ کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد شرح مبادلہ بتدریج مستحکم ہوگیا تھا اور 4 ماہ سے زائد عرصے تک اسی طرح رہا۔</p>
<h1><a id="بدلتی-ہوئی-صورتحال" href="#بدلتی-ہوئی-صورتحال" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>بدلتی ہوئی صورتحال</h1>
<p>ظفر پراچہ  نے ڈان کو بتایا کہ اگر صورتحال ایسی ہی رہی تو ماہانہ  50 کرور  ڈالر کے اخراج کے نتیجے میں رواں مالی سال کے اختتام پر 6 ارب ڈالر کا نقصان ہو گا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ یہ نقصان ترسیلات زر میں کمی سے ظاہر ہو گا، جو مالی سال 2024 میں بڑھ کر 30.25 ارب ڈالر ہو گئے تھے جبکہ مالی سال 2023 میں یہ 27.33 ارب ڈالر تھے۔</p>
<p>ظفر پراچہ نے  بتایا کہ گرے مارکیٹ کے دوبارہ ابھرنے سے پہلے ہی دبئی میں ڈالر کی شرح متاثر ہوگئی تھی، جہاں یہ 285 روپے تک پہنچ گیا ہے۔</p>
<p>کرنسی ڈیلرز کے مطابق گرے مارکیٹ میں زیادہ ریٹ کا مطلب یہ ہو گا کہ ڈالر بیرونی ممالک میں روکے گئے ہیں جبکہ ترسیلات زر کو روپے میں حوالہ سسٹم کے ذریعے بھیجا جارہا ہے۔</p>
<p>یہ رجحان پہلے ہی دکھائی دے رہا ہے کیونکہ ایکسچینج کمپنیوں کی جانب سے بینکوں کو فروخت کیے گئے ڈالر کی مقدار جون کے مقابلے جولائی میں کم ہوگئی ہے۔</p>
<p>ظفر پراچہ نے کہا کہ ایکسچینج کمپنیوں نے جولائی میں بینکوں کو تقریباً 33.5 کروڑ ڈالر فروخت کیے جو جون میں 44.5 کروڑ ڈالر تھے، انہوں نے اشارہ کیا کہ ڈالر، جو کہ ایکسچینج کمپنیوں کے ذریعے آنے والے تھے، گرے مارکیٹ کی طرف منحرف ہو رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1239450</guid>
      <pubDate>Tue, 10 Dec 2024 17:23:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شاہد اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/08/07095052b6e62bf.gif?r=095649" type="image/gif" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/08/07095052b6e62bf.gif?r=095649"/>
        <media:title>فائل فوٹو: ڈان اخبار
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر مزید 10 پیسے بہتر ہوئی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1234223/</link>
      <description>&lt;p&gt;انٹر بینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں مزید 10 پیسے بہتری کے بعد 278 روپے 20 پیسے پر پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری خبر رساں ادارے ’اے پی پی‘ کی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://urdu.app.com.pk/urdu/%D8%A7%D9%85%D8%B1%DB%8C%DA%A9%DB%8C-%DA%88%D8%A7%D9%84%D8%B1-%DA%A9%DB%92-%D9%85%D9%82%D8%A7%D8%A8%D9%84%DB%92-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%DB%8C-%D8%B1%D9%88%D9%BE/"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کے  مقابلے میں روپے کی قدر جمعہ کو بڑھ کر  278 روپے 20 پیسے ہوگئی، جو اس سے ایک روز قبل 278 روپے 30 پیسے پر ریکارڈ کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے مطابق اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت خرید اور قیمت فروخت بالترتیب 277 روپے 50 پیسے اور 280 روپے 20 پیسے ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق جمعہ کو روپے کے مقابلے میں  یورو کی قدر 51 پیسے کمی کے ساتھ 301 روپے 16 پیسے پر بند ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح جمعہ کو جاپانی ین بغیر کسی تبدیلی کے 1.77 روپے پر بند ہوا، جبکہ برطانوی پاؤنڈ 51 پیسے سستا ہو کر 353 روپے 34 پیسے پر ٹریڈ ہوا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>انٹر بینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں مزید 10 پیسے بہتری کے بعد 278 روپے 20 پیسے پر پہنچ گئی۔</p>
<p>سرکاری خبر رساں ادارے ’اے پی پی‘ کی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://urdu.app.com.pk/urdu/%D8%A7%D9%85%D8%B1%DB%8C%DA%A9%DB%8C-%DA%88%D8%A7%D9%84%D8%B1-%DA%A9%DB%92-%D9%85%D9%82%D8%A7%D8%A8%D9%84%DB%92-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%DB%8C-%D8%B1%D9%88%D9%BE/"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کے  مقابلے میں روپے کی قدر جمعہ کو بڑھ کر  278 روپے 20 پیسے ہوگئی، جو اس سے ایک روز قبل 278 روپے 30 پیسے پر ریکارڈ کی گئی تھی۔</p>
<p>فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے مطابق اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت خرید اور قیمت فروخت بالترتیب 277 روپے 50 پیسے اور 280 روپے 20 پیسے ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق جمعہ کو روپے کے مقابلے میں  یورو کی قدر 51 پیسے کمی کے ساتھ 301 روپے 16 پیسے پر بند ہوئی۔</p>
<p>اسی طرح جمعہ کو جاپانی ین بغیر کسی تبدیلی کے 1.77 روپے پر بند ہوا، جبکہ برطانوی پاؤنڈ 51 پیسے سستا ہو کر 353 روپے 34 پیسے پر ٹریڈ ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1234223</guid>
      <pubDate>Sat, 25 May 2024 14:23:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/05/2514190345f47c1.jpg?r=142010" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/05/2514190345f47c1.jpg?r=142010"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: شٹراسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انٹر بینک میں ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں اضافہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1234067/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان کی انٹر بینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں 17 پیسے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق جمعرات کو انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قیمت میں 17 پیسے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے بعد اس کی نئی قیمت 278 روپے 30 پیسے ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹر بینک مارکیٹ میں پاکستانی روپے کے مقابلے میں سعودی ریال کی قدر 74 روپے 20 پیسے جبکہ بحرین کے دینار کی قدر 738 روپے 19 پیسے رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح عمانی ریال کی انٹربینک مارکیٹ میں قدر 723 روپے 03 پیسے، کویتی دینار کی 906 روپے 72 پیسے اور قطری ریال کی قیمت 76 روپے 35 پیسے ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں جمعرات کو امریکی ڈالر کی قیمت خرید 277 روپے 35 پیسے اور قیمت فروخت 280 روپے 10 پیسے ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان کی انٹر بینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں 17 پیسے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق جمعرات کو انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قیمت میں 17 پیسے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے بعد اس کی نئی قیمت 278 روپے 30 پیسے ہو گئی ہے۔</p>
<p>انٹر بینک مارکیٹ میں پاکستانی روپے کے مقابلے میں سعودی ریال کی قدر 74 روپے 20 پیسے جبکہ بحرین کے دینار کی قدر 738 روپے 19 پیسے رہی۔</p>
<p>اسی طرح عمانی ریال کی انٹربینک مارکیٹ میں قدر 723 روپے 03 پیسے، کویتی دینار کی 906 روپے 72 پیسے اور قطری ریال کی قیمت 76 روپے 35 پیسے ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں جمعرات کو امریکی ڈالر کی قیمت خرید 277 روپے 35 پیسے اور قیمت فروخت 280 روپے 10 پیسے ریکارڈ کی گئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1234067</guid>
      <pubDate>Thu, 23 May 2024 19:36:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/05/23193334aa8080a.jpg?r=193356" type="image/jpeg" medium="image" height="174" width="290">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/05/23193334aa8080a.jpg?r=193356"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/05/23193346dedeaa7.jpg?r=193356" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/05/23193346dedeaa7.jpg?r=193356"/>
        <media:title>فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
