<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Business - Economy</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 04 Apr 2026 10:29:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 04 Apr 2026 10:29:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جولائی سے اکتوبر کے دوران خدمات کی برآمدات میں 16 فیصد اضافہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274663/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان کی خدمات کی برآمدات موجودہ مالی سال کے پہلے 4 مہینوں میں پچھلے سال کے مقابلے میں 15.95 فیصد بڑھیں، جس کی بنیادی وجہ ٹیلی کمیونی کیشن، کمپیوٹر اور انفارمیشن سروسز ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1959244/services-exports-rise-16pc-in-july-october"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ادارہ شماریات پاکستان کے مرتب کردہ مالیاتی اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ موجودہ مالی سال کے آغاز سے خدمات کی برآمدات ایک مستقل بڑھتے ہوئے رجحان میں رہی ہیں، جولائی میں 18.27 فیصد، اگست میں 8.41 فیصد، ستمبر میں 14.85 فیصد اور اکتوبر میں 17.61 فیصد اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2026 میں جولائی تا اکتوبر خدمات کی برآمدات 3.034 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو پچھلے سال کے اسی عرصے میں 2.617 ارب ڈالر تھیں، روپے کے لحاظ سے برآمدات 17.67 فیصد بڑھ کر 856.799 ارب روپے ہو گئیں، جو پچھلے سال کے 728.119 ارب روپے تھے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ موجودہ مالی سال میں خدمات کی برآمدات مسلسل بڑھ رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اکتوبر میں خدمات کی برآمدات 82 کروڑ 50 لاکھ 98 ہزار ڈالر رہیں، جو پچھلے سال کے اسی مہینے کے 70 کروڑ 20لاکھ 29 ہزار ڈالر کے مقابلے میں 17.61 فیصد زیادہ ہیں، ماہ بہ ماہ بنیاد پر خدمات کی برآمدات میں 2.45 فیصد اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فروری 2024 سے خدمات کی برآمدات میں اضافہ دیکھا گیا، جس کی بڑی وجہ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر کاروباری خدمات کی برآمدات ہیں، البتہ اگست 2024 میں 6.50 فیصد کمی بھی دیکھی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق ٹیلی کمیونی کیشن، کمپیوٹر اور انفارمیشن سروسز کی برآمدات 19.55 فیصد بڑھ کر 1.443 ارب ڈالر ہو گئیں، جو پچھلے سال 1.207 ارب ڈالر تھیں، دیگر کاروباری خدمات کی برآمدات 20.86 فیصد بڑھ کر 64 کروڑ 30 لاکھ ڈالر ہو گئیں، جو پچھلے سال 53 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرانسپورٹ خدمات کی برآمدات میں 3.88 فیصد کمی ہوئی، جو 27 کروڑ 20 لاکھ ڈالر رہیں، پچھلے سال 28 کروڑ 30 لاکھ ڈالر تھیں، سفری خدمات کی برآمدات 7.07 فیصد بڑھ کر 24کروڑ 20 ملین ڈالر ہوئیں، جو پچھلے سال 22 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران خدمات کی درآمدات میں 12 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 4.195 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو پچھلے سال 3.746 ارب ڈالر تھیں، ماہ بہ ماہ درآمدات میں 3.97 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ اکتوبر میں ماہانہ بنیاد پر خدمات کی درآمدات 12.81 فیصد بڑھ کر 1.050 ارب ڈالر ہو گئیں، 4 ماہ کے دوران تجارتی خسارہ 2.84 فیصد بڑھ کر 1.161 ارب ڈالر ہو گیا، جو پچھلے سال 1.129 ارب ڈالر تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان کی خدمات کی برآمدات موجودہ مالی سال کے پہلے 4 مہینوں میں پچھلے سال کے مقابلے میں 15.95 فیصد بڑھیں، جس کی بنیادی وجہ ٹیلی کمیونی کیشن، کمپیوٹر اور انفارمیشن سروسز ہیں۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1959244/services-exports-rise-16pc-in-july-october"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق ادارہ شماریات پاکستان کے مرتب کردہ مالیاتی اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ موجودہ مالی سال کے آغاز سے خدمات کی برآمدات ایک مستقل بڑھتے ہوئے رجحان میں رہی ہیں، جولائی میں 18.27 فیصد، اگست میں 8.41 فیصد، ستمبر میں 14.85 فیصد اور اکتوبر میں 17.61 فیصد اضافہ ہوا۔</p>
<p>مالی سال 2026 میں جولائی تا اکتوبر خدمات کی برآمدات 3.034 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو پچھلے سال کے اسی عرصے میں 2.617 ارب ڈالر تھیں، روپے کے لحاظ سے برآمدات 17.67 فیصد بڑھ کر 856.799 ارب روپے ہو گئیں، جو پچھلے سال کے 728.119 ارب روپے تھے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ موجودہ مالی سال میں خدمات کی برآمدات مسلسل بڑھ رہی ہیں۔</p>
<p>اکتوبر میں خدمات کی برآمدات 82 کروڑ 50 لاکھ 98 ہزار ڈالر رہیں، جو پچھلے سال کے اسی مہینے کے 70 کروڑ 20لاکھ 29 ہزار ڈالر کے مقابلے میں 17.61 فیصد زیادہ ہیں، ماہ بہ ماہ بنیاد پر خدمات کی برآمدات میں 2.45 فیصد اضافہ ہوا۔</p>
<p>فروری 2024 سے خدمات کی برآمدات میں اضافہ دیکھا گیا، جس کی بڑی وجہ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر کاروباری خدمات کی برآمدات ہیں، البتہ اگست 2024 میں 6.50 فیصد کمی بھی دیکھی گئی تھی۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق ٹیلی کمیونی کیشن، کمپیوٹر اور انفارمیشن سروسز کی برآمدات 19.55 فیصد بڑھ کر 1.443 ارب ڈالر ہو گئیں، جو پچھلے سال 1.207 ارب ڈالر تھیں، دیگر کاروباری خدمات کی برآمدات 20.86 فیصد بڑھ کر 64 کروڑ 30 لاکھ ڈالر ہو گئیں، جو پچھلے سال 53 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تھیں۔</p>
<p>ٹرانسپورٹ خدمات کی برآمدات میں 3.88 فیصد کمی ہوئی، جو 27 کروڑ 20 لاکھ ڈالر رہیں، پچھلے سال 28 کروڑ 30 لاکھ ڈالر تھیں، سفری خدمات کی برآمدات 7.07 فیصد بڑھ کر 24کروڑ 20 ملین ڈالر ہوئیں، جو پچھلے سال 22 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تھیں۔</p>
<p>اسی دوران خدمات کی درآمدات میں 12 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 4.195 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو پچھلے سال 3.746 ارب ڈالر تھیں، ماہ بہ ماہ درآمدات میں 3.97 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ اکتوبر میں ماہانہ بنیاد پر خدمات کی درآمدات 12.81 فیصد بڑھ کر 1.050 ارب ڈالر ہو گئیں، 4 ماہ کے دوران تجارتی خسارہ 2.84 فیصد بڑھ کر 1.161 ارب ڈالر ہو گیا، جو پچھلے سال 1.129 ارب ڈالر تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274663</guid>
      <pubDate>Fri, 05 Dec 2025 12:37:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مبارک زیب خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/05123611b24cb45.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/05123611b24cb45.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ایم ایف اجلاس سے قبل پاکستان کو ایک ارب 20 کروڑ ڈالر ملنے کی راہ ہموار ہوگئی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274708/</link>
      <description>&lt;p&gt;بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا ایگزیکٹو بورڈ کل (8 دسمبر) پاکستان کے قرضہ جائزوں پر غور کرے گا، جو معیشت کے لیے نہایت اہم موقع پر تقریباً ایک  ارب 20 کروڑ ڈالر کی نئی فنڈنگ کی راہ ہموار کرنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1959692/pakistan-set-to-get-12bn-as-imf-meeting-looms"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق آئی ایم ایف نے جمعہ کو ایک مختصر اعلان میں اجلاس کی تاریخ کی تصدیق کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنڈ کے سرکاری بورڈ کیلنڈر میں درج سیشن میں پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ ایگزٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (ای ایف ایف) اور ریزیلیئنس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی (آر ایس ایف) کے تحت لیا جائے گا، منظوری کی صورت میں، پاکستان کو ای ایف ایف کے تحت تقریباً ایک ارب ڈالر اور آر ایس ایف کے تحت 20 کروڑ ڈالر جاری ہو سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بورڈ اجلاس اسٹاف سطح کے اس معاہدے کے بعد ہو رہا ہے، جو اکتوبر میں کراچی، اسلام آباد اور واشنگٹن میں 24 ستمبر سے 8 اکتوبر تک ہونے والے مذاکرات کے بعد طے پایا تھا، اگرچہ اسٹاف مشن نے پاکستان کی پیش رفت کو تسلیم کرلیا تھا، لیکن رقوم کی فراہمی کا انحصار بورڈ کی باضابطہ منظوری پر ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273660'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273660"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد اور قرض دینے والے ادارے کے درمیان مذاکرات، جن کی قیادت آئی ایم ایف مشن چیف ایوا پیٹرووا نے کی، کا محور پاکستان کی مالیاتی کارکردگی، مالیاتی پالیسی کا مؤقف، اسٹرکچرل اصلاحات اور ماحولیاتی وعدوں پر پیش رفت تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنی ابتدائی جائزہ رپورٹ میں، آئی ایم ایف نے کہا تھا کہ پاکستان نے مالیاتی استحکام، افراطِ زر میں کمی اور بیرونی مالیاتی ذخائر کو مضبوط کرنے میں نمایاں پیش رفت کی ہے، اس نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی سخت مانیٹری پالیسی کو بھی سراہا، جس نے افراطِ زر کی توقعات کو قابو میں رکھنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹرکچرل اصلاحات، خصوصاً سرکاری اداروں، توانائی کے شعبے کی پائیداری، مسابقت اور عوامی خدمات کی فراہمی سے متعلق ایسے شعبے قرار دیے گئے جہاں حکام نے مسلسل عزم کا اظہار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف نے آر ایس ایف کے تحت جاری ماحولیاتی ایجنڈے میں بھی پیش رفت کی نشاندہی کی، جن میں قدرتی آفات کے مقابلے میں لچک بڑھانے، آبی وسائل کے بہتر انتظام اور موسمیاتی معلوماتی نظام کو بہتر بنانے کے اقدامات شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ سیلاب، جس نے زراعت، بنیادی ڈھانچے اور روزگار کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا، کے بعد یہ اصلاحات مزید ضروری ہو گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جائزوں کی منظوری ایک نازک مرحلے پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط بنانے کی امید ہے، کیونکہ پاکستان بیرونی دباؤ اور سیلاب کے اثرات کے درمیان اپنی معیشت کو مستحکم کرنے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد پر مستقل دباؤ ہے کہ وہ مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھے، توانائی کے شعبے میں اصلاحات تیز کرے اور طویل المدتی استحکام کے لیے محصولات بڑھانے کے اقدامات جاری رکھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ خطرات اب بھی زیادہ ہیں، معاشی منظرنامہ سیلابی نقصانات سے متاثر ہوا ہے، اور فنڈ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ افراطِ زر کو اسٹیٹ بینک کے ہدف کے اندر رکھنے کے لیے مانیٹری پالیسی مناسب طور پر سخت اور ڈیٹا پر مبنی ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنڈ نے مسابقت کو مضبوط بنانے، پیداواری صلاحیت بڑھانے، عوامی خدمات بہتر کرنے اور توانائی کے شعبے میں مستقل مسائل کو کم کرنے کے لیے اصلاحات کے جاری عمل پر بھی زور دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر آئی ایم ایف بورڈ کل منظوری دے دیتا ہے تو پاکستان کو ممکنہ طور پر اگلے ہی روز رقوم مل سکتی ہیں، اسلام آباد کے حکام کو امید ہے کہ یہ آمدنی بیرونی ذخائر کو تقویت دے گی، معاشی بحالی میں مدد کرے گی اور حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے پر بین الاقوامی اعتماد کو مستحکم کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="اہم-رپورٹ-جاری" href="#اہم-رپورٹ-جاری" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;اہم رپورٹ جاری&lt;/strong&gt;&lt;/h1&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274277'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274277"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل آئی ایم ایف نے اپنی طویل انتظار کی گئی گورننس اور کرپشن ڈائیگناسٹک اسیسمنٹ (جی سی ڈی اے) رپورٹ جاری کی تھی، جس میں پاکستان میں بدعنوانی کے دیرینہ چیلنجوں کو اجاگر کیا گیا تھا، جو ریاستی اداروں میں نظامی کمزوریوں سے پیدا ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں شفافیت، انصاف اور دیانت داری میں بہتری کے لیے 15 نکاتی اصلاحاتی ایجنڈا فوری طور پر شروع کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ رپورٹ، جس کی اشاعت آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کی قرضہ پروگراموں کی منظوری کے لیے ایک شرط ہے، اس کا تخمینہ ہے کہ پاکستان آئندہ 3 سے 6 ماہ کے اندر گورننس اصلاحات پر عمل درآمد شروع کر کے آئندہ 5 برسوں میں اپنی معاشی نمو کو تقریباً 5 سے 6.5 فیصد تک بڑھا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے اجرا کے بعد حکومت پر تنقید ہوئی اور اپوزیشن جماعتوں نے ’پاکستان کی تاریخ کے بدترین مالیاتی اسکینڈل‘ کی تحقیق کا مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ یہ رپورٹ ’تنقید نہیں‘ بلکہ ’طویل عرصے سے مطلوب اصلاحات کو تیز کرنے کے لیے محرک‘ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں ٹیکس اور گورننس سمیت کئی شعبوں میں قابلِ ذکر پیش رفت کو سراہا گیا ہے، اور اس کی بہت سی ترجیحی سفارشات پر پہلے ہی کام جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے مزید کہا تھا کہ حکومت باقی سفارشات پر بھی عمل درآمد کے لیے پُرعزم ہے، جو پاکستان کی معاشی بحالی کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری وسیع ادارہ جاتی اصلاحات کا حصہ ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا ایگزیکٹو بورڈ کل (8 دسمبر) پاکستان کے قرضہ جائزوں پر غور کرے گا، جو معیشت کے لیے نہایت اہم موقع پر تقریباً ایک  ارب 20 کروڑ ڈالر کی نئی فنڈنگ کی راہ ہموار کرنے کی توقع ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1959692/pakistan-set-to-get-12bn-as-imf-meeting-looms"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق آئی ایم ایف نے جمعہ کو ایک مختصر اعلان میں اجلاس کی تاریخ کی تصدیق کی۔</p>
<p>فنڈ کے سرکاری بورڈ کیلنڈر میں درج سیشن میں پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ ایگزٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (ای ایف ایف) اور ریزیلیئنس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی (آر ایس ایف) کے تحت لیا جائے گا، منظوری کی صورت میں، پاکستان کو ای ایف ایف کے تحت تقریباً ایک ارب ڈالر اور آر ایس ایف کے تحت 20 کروڑ ڈالر جاری ہو سکیں گے۔</p>
<p>یہ بورڈ اجلاس اسٹاف سطح کے اس معاہدے کے بعد ہو رہا ہے، جو اکتوبر میں کراچی، اسلام آباد اور واشنگٹن میں 24 ستمبر سے 8 اکتوبر تک ہونے والے مذاکرات کے بعد طے پایا تھا، اگرچہ اسٹاف مشن نے پاکستان کی پیش رفت کو تسلیم کرلیا تھا، لیکن رقوم کی فراہمی کا انحصار بورڈ کی باضابطہ منظوری پر ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273660'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273660"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اسلام آباد اور قرض دینے والے ادارے کے درمیان مذاکرات، جن کی قیادت آئی ایم ایف مشن چیف ایوا پیٹرووا نے کی، کا محور پاکستان کی مالیاتی کارکردگی، مالیاتی پالیسی کا مؤقف، اسٹرکچرل اصلاحات اور ماحولیاتی وعدوں پر پیش رفت تھا۔</p>
<p>اپنی ابتدائی جائزہ رپورٹ میں، آئی ایم ایف نے کہا تھا کہ پاکستان نے مالیاتی استحکام، افراطِ زر میں کمی اور بیرونی مالیاتی ذخائر کو مضبوط کرنے میں نمایاں پیش رفت کی ہے، اس نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی سخت مانیٹری پالیسی کو بھی سراہا، جس نے افراطِ زر کی توقعات کو قابو میں رکھنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔</p>
<p>اسٹرکچرل اصلاحات، خصوصاً سرکاری اداروں، توانائی کے شعبے کی پائیداری، مسابقت اور عوامی خدمات کی فراہمی سے متعلق ایسے شعبے قرار دیے گئے جہاں حکام نے مسلسل عزم کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف نے آر ایس ایف کے تحت جاری ماحولیاتی ایجنڈے میں بھی پیش رفت کی نشاندہی کی، جن میں قدرتی آفات کے مقابلے میں لچک بڑھانے، آبی وسائل کے بہتر انتظام اور موسمیاتی معلوماتی نظام کو بہتر بنانے کے اقدامات شامل ہیں۔</p>
<p>حالیہ سیلاب، جس نے زراعت، بنیادی ڈھانچے اور روزگار کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا، کے بعد یہ اصلاحات مزید ضروری ہو گئی ہیں۔</p>
<p>جائزوں کی منظوری ایک نازک مرحلے پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط بنانے کی امید ہے، کیونکہ پاکستان بیرونی دباؤ اور سیلاب کے اثرات کے درمیان اپنی معیشت کو مستحکم کرنے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔</p>
<p>اسلام آباد پر مستقل دباؤ ہے کہ وہ مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھے، توانائی کے شعبے میں اصلاحات تیز کرے اور طویل المدتی استحکام کے لیے محصولات بڑھانے کے اقدامات جاری رکھے۔</p>
<p>آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ خطرات اب بھی زیادہ ہیں، معاشی منظرنامہ سیلابی نقصانات سے متاثر ہوا ہے، اور فنڈ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ افراطِ زر کو اسٹیٹ بینک کے ہدف کے اندر رکھنے کے لیے مانیٹری پالیسی مناسب طور پر سخت اور ڈیٹا پر مبنی ہونی چاہیے۔</p>
<p>فنڈ نے مسابقت کو مضبوط بنانے، پیداواری صلاحیت بڑھانے، عوامی خدمات بہتر کرنے اور توانائی کے شعبے میں مستقل مسائل کو کم کرنے کے لیے اصلاحات کے جاری عمل پر بھی زور دیا ہے۔</p>
<p>اگر آئی ایم ایف بورڈ کل منظوری دے دیتا ہے تو پاکستان کو ممکنہ طور پر اگلے ہی روز رقوم مل سکتی ہیں، اسلام آباد کے حکام کو امید ہے کہ یہ آمدنی بیرونی ذخائر کو تقویت دے گی، معاشی بحالی میں مدد کرے گی اور حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے پر بین الاقوامی اعتماد کو مستحکم کرے گی۔</p>
<h1><a id="اہم-رپورٹ-جاری" href="#اہم-رپورٹ-جاری" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>اہم رپورٹ جاری</strong></h1>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274277'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274277"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اس سے قبل آئی ایم ایف نے اپنی طویل انتظار کی گئی گورننس اور کرپشن ڈائیگناسٹک اسیسمنٹ (جی سی ڈی اے) رپورٹ جاری کی تھی، جس میں پاکستان میں بدعنوانی کے دیرینہ چیلنجوں کو اجاگر کیا گیا تھا، جو ریاستی اداروں میں نظامی کمزوریوں سے پیدا ہوتے ہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں شفافیت، انصاف اور دیانت داری میں بہتری کے لیے 15 نکاتی اصلاحاتی ایجنڈا فوری طور پر شروع کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔</p>
<p>یہ رپورٹ، جس کی اشاعت آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کی قرضہ پروگراموں کی منظوری کے لیے ایک شرط ہے، اس کا تخمینہ ہے کہ پاکستان آئندہ 3 سے 6 ماہ کے اندر گورننس اصلاحات پر عمل درآمد شروع کر کے آئندہ 5 برسوں میں اپنی معاشی نمو کو تقریباً 5 سے 6.5 فیصد تک بڑھا سکتا ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے اجرا کے بعد حکومت پر تنقید ہوئی اور اپوزیشن جماعتوں نے ’پاکستان کی تاریخ کے بدترین مالیاتی اسکینڈل‘ کی تحقیق کا مطالبہ کیا۔</p>
<p>تاہم، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ یہ رپورٹ ’تنقید نہیں‘ بلکہ ’طویل عرصے سے مطلوب اصلاحات کو تیز کرنے کے لیے محرک‘ ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں ٹیکس اور گورننس سمیت کئی شعبوں میں قابلِ ذکر پیش رفت کو سراہا گیا ہے، اور اس کی بہت سی ترجیحی سفارشات پر پہلے ہی کام جاری ہے۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے مزید کہا تھا کہ حکومت باقی سفارشات پر بھی عمل درآمد کے لیے پُرعزم ہے، جو پاکستان کی معاشی بحالی کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری وسیع ادارہ جاتی اصلاحات کا حصہ ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274708</guid>
      <pubDate>Sun, 07 Dec 2025 15:04:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انور اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/07150308432ef2a.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/07150308432ef2a.webp"/>
        <media:title>اگر آئی ایم ایف بورڈ کل منظوری دے دیتا ہے تو پاکستان کو ممکنہ طور پر اگلے ہی روز رقوم مل سکتی ہیں۔ — فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مالی سال کے 5 ماہ میں تجارتی خسارہ اور درآمدات بڑھ گئیں، برآمدات میں کمی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274565/</link>
      <description>&lt;p&gt;رواں مالی سال کے پہلے 5 ماہ میں تجارتی خسارہ اور درآمدات بڑھ گئیں جبکہ برآمدات میں کمی ہوگئی، جولائی سے نومبر تک تجارتی خسارے میں سینتیس اعشاریہ ایک سات فیصد کا اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی ادارہ شماریات کے جاری کردہ تجارتی اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال جولائی تا نومبر تجارتی خسارے میں 37.17 فیصدکا اضافہ ہوا اور تجارتی خسارہ 15 ارب 46 کروڑ 90 لاکھ ڈالر پرپہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارہ شماریات کے مطابق نومبرمیں سالانہ بنیاد پر تجارتی خسارہ 32.79 فیصد بڑھا تاہم ماہانہ بنیادپر تجارتی خسارہ 11.86فیصد کم ہوکر 2 ارب 85 کروڑ 50 لاکھ ڈالر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق جولائی تا نومبر درآمدات 13.26 فیصد بڑھ کر 28 ارب 31 کروڑ 30 لاکھ ڈالر رہیں جبکہ نومبرمیں درآمدات 5ارب 25کروڑ 30لاکھ ڈالر رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارہ شماریات کے مطابق جولائی تا نومبر برآمدات 6.39 فیصدکم ہوکر 12 ارب 84 کروڑ 40 لاکھ ڈالر رہیں، نومبر میں سالانہ بنیاد پر برآمدات میں 15.35 فیصد اور ماہانہ بنیادپر 15.80فیصد کمی واقع ہوئی جبکہ نومبر میں برآمدات 2 ارب 39کروڑ 80لاکھ ڈالر رہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>رواں مالی سال کے پہلے 5 ماہ میں تجارتی خسارہ اور درآمدات بڑھ گئیں جبکہ برآمدات میں کمی ہوگئی، جولائی سے نومبر تک تجارتی خسارے میں سینتیس اعشاریہ ایک سات فیصد کا اضافہ ہوا۔</p>
<p>وفاقی ادارہ شماریات کے جاری کردہ تجارتی اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال جولائی تا نومبر تجارتی خسارے میں 37.17 فیصدکا اضافہ ہوا اور تجارتی خسارہ 15 ارب 46 کروڑ 90 لاکھ ڈالر پرپہنچ گیا۔</p>
<p>ادارہ شماریات کے مطابق نومبرمیں سالانہ بنیاد پر تجارتی خسارہ 32.79 فیصد بڑھا تاہم ماہانہ بنیادپر تجارتی خسارہ 11.86فیصد کم ہوکر 2 ارب 85 کروڑ 50 لاکھ ڈالر رہا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق جولائی تا نومبر درآمدات 13.26 فیصد بڑھ کر 28 ارب 31 کروڑ 30 لاکھ ڈالر رہیں جبکہ نومبرمیں درآمدات 5ارب 25کروڑ 30لاکھ ڈالر رہیں۔</p>
<p>ادارہ شماریات کے مطابق جولائی تا نومبر برآمدات 6.39 فیصدکم ہوکر 12 ارب 84 کروڑ 40 لاکھ ڈالر رہیں، نومبر میں سالانہ بنیاد پر برآمدات میں 15.35 فیصد اور ماہانہ بنیادپر 15.80فیصد کمی واقع ہوئی جبکہ نومبر میں برآمدات 2 ارب 39کروڑ 80لاکھ ڈالر رہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274565</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Dec 2025 15:28:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/02152849a7a6900.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/02152849a7a6900.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایک سال میں زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر میں 3.47 کروڑ ڈالر سے زائد کا اضافہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274476/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایک سال میں زرمبادلہ کےمجموعی ذخائر میں 3 ارب 47 کروڑ 65 لاکھ ڈالرزکا اضافہ ہوگیا، اگلےہفتے آئی ایم ایف فنڈز کی منظوری سے زرمبادلہ کے ذخائر مزید بڑھنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے دستاویز کے مطابق اسٹیٹ بینک کے ذخائر ایک سال میں 2 ارب 52 کروڑ 28 لاکھ ڈالرز بڑھ گئے ہیں، اسی مدت میں کمرشل بینکوں کے ذخائر میں 95 کروڑ 37 لاکھ ڈالرزکا اضافہ ریکارڈ کیاگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دستاویز کے مطابق زرمبادلہ کےمجموعی ذخائر 19 ارب 60 کروڑ 50لاکھ ڈالرز ہوچکے ہیں، جن میں اسٹیٹ بینک کے ذخائر14 ارب56 کروڑ7 لاکھ ڈالرزپر پہنچ گئے ہیں  جبکہ کمرشل بینکوں کے پاس5 ارب 4 کروڑ 43 لاکھ ڈالرز کے ذخائر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دستاویز کے مطابق ایک سال قبل زرمبادلہ کےمجموعی ذخائر 16 ارب 12 کروڑ 85 لاکھ ڈالرز تھے، جن میں اسٹیٹ بینک کے پاس 12 ارب 3 کروڑ 79 لاکھ ڈالرز کے ذخائر تھے جبکہ کمرشل بینکوں کے پاس4 ارب 9 کروڑ 6لاکھ ڈالرز کے ذخائر تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دستاویز کے مطابق پاکستان کے لیےآئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈکا اجلاس8 دسمبرکو شیڈول ہے جس میں پاکستان کے لیے ایک ارب 20 کروڑ ڈالرز جاری کرنے کاجائزہ لیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایک سال میں زرمبادلہ کےمجموعی ذخائر میں 3 ارب 47 کروڑ 65 لاکھ ڈالرزکا اضافہ ہوگیا، اگلےہفتے آئی ایم ایف فنڈز کی منظوری سے زرمبادلہ کے ذخائر مزید بڑھنے کا امکان ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے دستاویز کے مطابق اسٹیٹ بینک کے ذخائر ایک سال میں 2 ارب 52 کروڑ 28 لاکھ ڈالرز بڑھ گئے ہیں، اسی مدت میں کمرشل بینکوں کے ذخائر میں 95 کروڑ 37 لاکھ ڈالرزکا اضافہ ریکارڈ کیاگیا۔</p>
<p>دستاویز کے مطابق زرمبادلہ کےمجموعی ذخائر 19 ارب 60 کروڑ 50لاکھ ڈالرز ہوچکے ہیں، جن میں اسٹیٹ بینک کے ذخائر14 ارب56 کروڑ7 لاکھ ڈالرزپر پہنچ گئے ہیں  جبکہ کمرشل بینکوں کے پاس5 ارب 4 کروڑ 43 لاکھ ڈالرز کے ذخائر ہیں۔</p>
<p>دستاویز کے مطابق ایک سال قبل زرمبادلہ کےمجموعی ذخائر 16 ارب 12 کروڑ 85 لاکھ ڈالرز تھے، جن میں اسٹیٹ بینک کے پاس 12 ارب 3 کروڑ 79 لاکھ ڈالرز کے ذخائر تھے جبکہ کمرشل بینکوں کے پاس4 ارب 9 کروڑ 6لاکھ ڈالرز کے ذخائر تھے۔</p>
<p>دستاویز کے مطابق پاکستان کے لیےآئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈکا اجلاس8 دسمبرکو شیڈول ہے جس میں پاکستان کے لیے ایک ارب 20 کروڑ ڈالرز جاری کرنے کاجائزہ لیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274476</guid>
      <pubDate>Sun, 30 Nov 2025 13:13:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر شیرانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/301313148a43e4e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/301313148a43e4e.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاک افغان سرحد کی بندش سے تجارت مفلوج، سیمنٹ، ادویات اور زرعی برآمدات سخت متاثر</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274461/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاک افغان سرحد کی بندش نے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیوں کو شدید متاثر کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں سیمنٹ، ادویات، پھل اور سبزیوں سمیت متعدد اہم صنعتیں بحران کا شکار ہو گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1958257/afghan-border-closure-chokes-crucial-exports"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد 11 اکتوبر کو سرحد بند ہونے سے دونوں ممالک کی تجارت شدید متاثر ہوئی ہے، مختلف کاروباری افراد اس صورتحال کو مختلف انداز سے دیکھ رہے ہیں، جب کہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سرحد جلد نہ کھلی تو پاکستان کی برآمدات پر مزید دباؤ بڑھ جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ بارڈر بند ہونے سے افغانستان سے پاکستان میں آنے والی اسمگل شدہ چیزوں میں بھی کمی ہو گی۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="سیمنٹ-اور-کوئلہ" href="#سیمنٹ-اور-کوئلہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;سیمنٹ اور کوئلہ&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ایک سیمنٹ کمپنی کے مطابق سرحد بند ہونے کے بعد افغانستان سے کوئلے کی درآمد اور افغانستان کو سیمنٹ کی برآمد دونوں رک گئی ہیں، اس وجہ سے مقامی کوئلہ مہنگا ہو کر 30 سے 32 ہزار روپے فی ٹن سے بڑھ کر 42 سے 45 ہزار روپے فی ٹن ہو گیا ہے، افغان کوئلہ بھی پہلے 30 سے 38 ہزار روپے فی ٹن میں مل رہا تھا، لیکن اب بالکل دستیاب نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی پاکستان کے کارخانے پہلے ہی باہر سے کوئلہ خرید کر استعمال کر رہے تھے، لیکن شمالی علاقوں کے سیمنٹ کارخانوں کا زیادہ تر انحصار افغان کوئلے پر تھا، اب وہ بھی مجبوری میں جنوبی افریقہ، انڈونیشیا اور موزمبیق سے کوئلہ منگوانے لگے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیمنٹ کی صنعت کو کوئلہ بہت زیادہ مقدار میں چاہیے ہوتا ہے، تقریباً 40 لاکھ ٹن سالانہ۔ کارخانوں نے ایران کے راستے سیمنٹ برآمد کرنے یا کوئلہ منگوانے کے خیال کو مسترد کیا ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان بینکنگ سسٹم موجود نہیں اور اتنی بڑی مقدار میں کوئلہ اس راستے سے لانا بھی ممکن نہیں، افغانستان پاکستان کی مجموعی سیمنٹ برآمدات کا تقریباً 7 فیصد حصہ خریدتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق ڈی جی خان سیمنٹ نے بتایا کہ اس وقت درآمدی کوئلہ 90 سے 100 ڈالر فی ٹن کے درمیان مل رہا ہے اور بارڈر بند ہونے کے باعث کمپنی اسی درآمدی کوئلے پر انحصار کرتی رہے گی، کیونکہ افغان کوئلہ استعمال نہیں ہو رہا، کچھ سیمنٹ کمپنیاں آر بی 2 نامی درمیانی کوالٹی کا کوئلہ بھی درآمد کر رہی ہیں، جو قیمت کے لحاظ سے بہتر سمجھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسائٹ ریسرچ کے مطابق سیمنٹ کی وہ کمپنیاں جن کی زیادہ برآمدات افغانستان جاتی تھیں، وہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہیں، ان میں چیراٹ سیمنٹ، فوجی سیمنٹ اور میپل لیف شامل ہیں، ان کی افغانستان کو برآمدات بالترتیب 9.8 فیصد، 5.8 فیصد اور 3.1 فیصد آمدنی پر مشتمل تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="ادویات" href="#ادویات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ادویات&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) کے سابق چیئرمین ڈاکٹر قیصر وحید نے بتایا کہ پاکستان کی افغانستان کو کل 1 ارب 80 کروڑ ڈالر کی برآمدات میں سے تقریباً 18 کروڑ 70 لاکھ ڈالر صرف ادویات پر مشتمل ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274336/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274336"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ غیر رسمی چینلز کے ذریعے ادویات کی برآمد، قانونی چینلز کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے، خیبر پختونخوا کے اسٹیک ہولڈرز اس سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں، کیونکہ افغان خریدار وہیں آ کر ادویات خرید کر لے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمد کنندگان اپنی یونٹس میں تیار شدہ ادویات کے اسٹاک کے جمع ہونے پر پریشان ہیں، جو بارڈر کھلنے کا انتظار کر رہے ہیں، اگر صورتحال برقرار رہی تو ادویات کو مقامی مارکیٹ میں بھیجا جا سکتا ہے، لیکن افغانستان کے لیے تیار کی گئی بہت سی ادویات پاکستان میں استعمال ہی نہیں ہوتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق سیریل پاکستان نے بتایا کہ اگر بارڈر پورے سال بند رہے تو اس کی افغانستان کو برآمدات پر 2 ارب روپے تک کا اثر پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسائٹ ریسرچ کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں متعدد بار بارڈر بندش کے باوجود، صورتحال اس وقت سنگین ہو چکی ہے کیونکہ افغانستان نے پاکستان سے ادویات کی درآمد پر 3 ماہ کی پابندی عائد کر دی ہے، پانچ بڑی فارما کمپنیوں کی افغانستان کو برآمدات ان کی مجموعی آمدنی کا 1.9 فیصد سے 8.1 فیصد تک بنتی ہیں، جب کہ چند کمپنیوں کی ایکسپوژر 1 فیصد سے بڑھ کر 45 فیصد تک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان افغانستان جوائنٹ چیمبر آف کامرس کے سابق صدر قاضی زاہد حسین کے مطابق سرحد بند ہونے کی وجہ سے تقریباً 700 سے 750 کنٹینرز چمن پر اور 350 سے 400 کنٹینرز طورخم بارڈر پر پھنسے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح 9 ہزار سے زیادہ کنٹینرز مختلف پاکستانی بندرگاہوں پر کلیئر ہونے کا انتظار کر رہے ہیں، ان میں سے 500 سے زائد کنٹینرز آرمیینیا، آذربائیجان اور قازقستان جیسے CIS ممالک بھیجے جانے تھے، جو اب تاخیر کا شکار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="سبزیاں-اور-پھل" href="#سبزیاں-اور-پھل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;سبزیاں اور پھل&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;آل پاکستان فروٹس اینڈ ویجیٹیبلز ایکسپورٹرز، امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ وحید احمد نے بتایا کہ پاکستان سیزن کے دوران افغانستان کو کیلا، آلو، کینو اور آم برآمد کرتا ہے، جب کہ سی آئی ایس ممالک تک پہنچنے کے لیے بھی افغان روٹس استعمال ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق افغانستان اور سی آئی ایس ممالک کو پھلوں اور سبزیوں کی برآمدات سالانہ 15 کروڑ ڈالر کے قریب ہیں، ساتھ ہی پاکستان افغانستان سے ٹماٹر، پیاز، انار، انگور اور خوبانیاں بھی درآمد کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو طرفہ تجارت رکنے کے بعد برآمدکنندگان کو خراب ہونے والے پھل اور سبزیاں مقامی مارکیٹ میں کم قیمت پر بیچنے یا خراب ہونے کی صورت میں ضائع کرنے پر مجبور ہونا پڑا، ایران کے راستے افغانستان تک رسائی کی کوششیں جاری ہیں اور گزشتہ ہفتے وزارت قومی غذائی تحفظ میں اس حوالے سے اجلاس بھی ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، برآمدکنندگان کو ایران روٹ استعمال کرنے کے لیے بینکوں سے مالیاتی اسناد درکار ہیں، جو فی الحال جاری نہیں ہو رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی اے جے سی سی آئی کے صدر جنید مکڈا نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 19 نومبر کو ایران اور CIS ممالک کے لیے ایران کے راستے برآمدات میں اسناد کی شرط ختم کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے بتایا کہ متعدد پاکستانی ڈرائیور افغانستان میں ہفتوں سے پھنسے ہوئے ہیں، کئی گاڑیاں حملوں کا نشانہ بھی بنی ہیں، جب کہ ڈرائیور خوراک، پیسے اور رہائش کی شدید مشکلات کا شکار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی ویلفیئر فروٹس ایسوسی ایشن کے صدر عبد القدیم آغا نے بتایا کہ اب افغانستان کی بجائے زیادہ تر انار ایران سے آ رہے ہیں، جس کی قیمت 2 ہزار سے 2 ہزار 500 روپے سے بڑھ کر 4 ہزار سے 4 ہزار 500 روپے فی 10 کلو کارٹن ہو گئی ہے، کوئٹہ اور بلوچستان سے سپلائی تقریباً بند ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی سیب اور انگور بھی بڑی تعداد میں مارکیٹ میں آ رہے ہیں، جن کی قیمت 2 ہزار سے 3 ہزار روپے فی 10 کلو کارٹن ہے، روزانہ 15 سے 20 کنٹینرز ایرانی پھلوں کے آ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="گھی-کوکنگ-آئل-آٹا" href="#گھی-کوکنگ-آئل-آٹا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;گھی، کوکنگ آئل، آٹا&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;پاکستان وانسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی وی ایم اے) کے چیئرمین شیخ عمر ریحان نے بتایا کہ تجارت بند ہونے سے پہلے باقاعدہ چینلز کے ذریعے 6 ہزار سے 8 ہزار ٹن گھی ماہانہ افغانستان برآمد کیا جا رہا تھا، جب کہ کوکنگ آئل کی برآمدات نہ ہونے کے برابر تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن سندھ زون کے سابق چیئرمین عامر عبداللہ نے کہا کہ گزشتہ 3 سے 4 سالوں میں پاکستان سے افغانستان بہت ہی کم مقدار میں آٹا جا رہا تھا، پاکستان افغانستان کو گندم برآمد نہیں کرتا، افغانستان اپنی گندم کا زیادہ تر حصہ روس، ترکمانستان اور قازقستان سے خریدتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ حقیقت میں ہم افغانستان کی مارکیٹ بھی کھو چکے ہیں اور زرمبادلہ کمانے کے مواقع بھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاک افغان سرحد کی بندش نے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیوں کو شدید متاثر کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں سیمنٹ، ادویات، پھل اور سبزیوں سمیت متعدد اہم صنعتیں بحران کا شکار ہو گئی ہیں۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1958257/afghan-border-closure-chokes-crucial-exports"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد 11 اکتوبر کو سرحد بند ہونے سے دونوں ممالک کی تجارت شدید متاثر ہوئی ہے، مختلف کاروباری افراد اس صورتحال کو مختلف انداز سے دیکھ رہے ہیں، جب کہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سرحد جلد نہ کھلی تو پاکستان کی برآمدات پر مزید دباؤ بڑھ جائے گا۔</p>
<p>کچھ ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ بارڈر بند ہونے سے افغانستان سے پاکستان میں آنے والی اسمگل شدہ چیزوں میں بھی کمی ہو گی۔</p>
<h1><a id="سیمنٹ-اور-کوئلہ" href="#سیمنٹ-اور-کوئلہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>سیمنٹ اور کوئلہ</h1>
<p>ایک سیمنٹ کمپنی کے مطابق سرحد بند ہونے کے بعد افغانستان سے کوئلے کی درآمد اور افغانستان کو سیمنٹ کی برآمد دونوں رک گئی ہیں، اس وجہ سے مقامی کوئلہ مہنگا ہو کر 30 سے 32 ہزار روپے فی ٹن سے بڑھ کر 42 سے 45 ہزار روپے فی ٹن ہو گیا ہے، افغان کوئلہ بھی پہلے 30 سے 38 ہزار روپے فی ٹن میں مل رہا تھا، لیکن اب بالکل دستیاب نہیں۔</p>
<p>جنوبی پاکستان کے کارخانے پہلے ہی باہر سے کوئلہ خرید کر استعمال کر رہے تھے، لیکن شمالی علاقوں کے سیمنٹ کارخانوں کا زیادہ تر انحصار افغان کوئلے پر تھا، اب وہ بھی مجبوری میں جنوبی افریقہ، انڈونیشیا اور موزمبیق سے کوئلہ منگوانے لگے ہیں۔</p>
<p>سیمنٹ کی صنعت کو کوئلہ بہت زیادہ مقدار میں چاہیے ہوتا ہے، تقریباً 40 لاکھ ٹن سالانہ۔ کارخانوں نے ایران کے راستے سیمنٹ برآمد کرنے یا کوئلہ منگوانے کے خیال کو مسترد کیا ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان بینکنگ سسٹم موجود نہیں اور اتنی بڑی مقدار میں کوئلہ اس راستے سے لانا بھی ممکن نہیں، افغانستان پاکستان کی مجموعی سیمنٹ برآمدات کا تقریباً 7 فیصد حصہ خریدتا ہے۔</p>
<p>ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق ڈی جی خان سیمنٹ نے بتایا کہ اس وقت درآمدی کوئلہ 90 سے 100 ڈالر فی ٹن کے درمیان مل رہا ہے اور بارڈر بند ہونے کے باعث کمپنی اسی درآمدی کوئلے پر انحصار کرتی رہے گی، کیونکہ افغان کوئلہ استعمال نہیں ہو رہا، کچھ سیمنٹ کمپنیاں آر بی 2 نامی درمیانی کوالٹی کا کوئلہ بھی درآمد کر رہی ہیں، جو قیمت کے لحاظ سے بہتر سمجھا جا رہا ہے۔</p>
<p>انسائٹ ریسرچ کے مطابق سیمنٹ کی وہ کمپنیاں جن کی زیادہ برآمدات افغانستان جاتی تھیں، وہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہیں، ان میں چیراٹ سیمنٹ، فوجی سیمنٹ اور میپل لیف شامل ہیں، ان کی افغانستان کو برآمدات بالترتیب 9.8 فیصد، 5.8 فیصد اور 3.1 فیصد آمدنی پر مشتمل تھیں۔</p>
<h1><a id="ادویات" href="#ادویات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ادویات</h1>
<p>پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) کے سابق چیئرمین ڈاکٹر قیصر وحید نے بتایا کہ پاکستان کی افغانستان کو کل 1 ارب 80 کروڑ ڈالر کی برآمدات میں سے تقریباً 18 کروڑ 70 لاکھ ڈالر صرف ادویات پر مشتمل ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274336/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274336"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ان کا کہنا تھا کہ غیر رسمی چینلز کے ذریعے ادویات کی برآمد، قانونی چینلز کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے، خیبر پختونخوا کے اسٹیک ہولڈرز اس سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں، کیونکہ افغان خریدار وہیں آ کر ادویات خرید کر لے جاتے ہیں۔</p>
<p>برآمد کنندگان اپنی یونٹس میں تیار شدہ ادویات کے اسٹاک کے جمع ہونے پر پریشان ہیں، جو بارڈر کھلنے کا انتظار کر رہے ہیں، اگر صورتحال برقرار رہی تو ادویات کو مقامی مارکیٹ میں بھیجا جا سکتا ہے، لیکن افغانستان کے لیے تیار کی گئی بہت سی ادویات پاکستان میں استعمال ہی نہیں ہوتیں۔</p>
<p>ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق سیریل پاکستان نے بتایا کہ اگر بارڈر پورے سال بند رہے تو اس کی افغانستان کو برآمدات پر 2 ارب روپے تک کا اثر پڑ سکتا ہے۔</p>
<p>انسائٹ ریسرچ کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں متعدد بار بارڈر بندش کے باوجود، صورتحال اس وقت سنگین ہو چکی ہے کیونکہ افغانستان نے پاکستان سے ادویات کی درآمد پر 3 ماہ کی پابندی عائد کر دی ہے، پانچ بڑی فارما کمپنیوں کی افغانستان کو برآمدات ان کی مجموعی آمدنی کا 1.9 فیصد سے 8.1 فیصد تک بنتی ہیں، جب کہ چند کمپنیوں کی ایکسپوژر 1 فیصد سے بڑھ کر 45 فیصد تک ہے۔</p>
<p>پاکستان افغانستان جوائنٹ چیمبر آف کامرس کے سابق صدر قاضی زاہد حسین کے مطابق سرحد بند ہونے کی وجہ سے تقریباً 700 سے 750 کنٹینرز چمن پر اور 350 سے 400 کنٹینرز طورخم بارڈر پر پھنسے ہوئے ہیں۔</p>
<p>اسی طرح 9 ہزار سے زیادہ کنٹینرز مختلف پاکستانی بندرگاہوں پر کلیئر ہونے کا انتظار کر رہے ہیں، ان میں سے 500 سے زائد کنٹینرز آرمیینیا، آذربائیجان اور قازقستان جیسے CIS ممالک بھیجے جانے تھے، جو اب تاخیر کا شکار ہیں۔</p>
<h1><a id="سبزیاں-اور-پھل" href="#سبزیاں-اور-پھل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>سبزیاں اور پھل</h1>
<p>آل پاکستان فروٹس اینڈ ویجیٹیبلز ایکسپورٹرز، امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ وحید احمد نے بتایا کہ پاکستان سیزن کے دوران افغانستان کو کیلا، آلو، کینو اور آم برآمد کرتا ہے، جب کہ سی آئی ایس ممالک تک پہنچنے کے لیے بھی افغان روٹس استعمال ہوتے ہیں۔</p>
<p>ان کے مطابق افغانستان اور سی آئی ایس ممالک کو پھلوں اور سبزیوں کی برآمدات سالانہ 15 کروڑ ڈالر کے قریب ہیں، ساتھ ہی پاکستان افغانستان سے ٹماٹر، پیاز، انار، انگور اور خوبانیاں بھی درآمد کرتا ہے۔</p>
<p>دو طرفہ تجارت رکنے کے بعد برآمدکنندگان کو خراب ہونے والے پھل اور سبزیاں مقامی مارکیٹ میں کم قیمت پر بیچنے یا خراب ہونے کی صورت میں ضائع کرنے پر مجبور ہونا پڑا، ایران کے راستے افغانستان تک رسائی کی کوششیں جاری ہیں اور گزشتہ ہفتے وزارت قومی غذائی تحفظ میں اس حوالے سے اجلاس بھی ہوا۔</p>
<p>تاہم، برآمدکنندگان کو ایران روٹ استعمال کرنے کے لیے بینکوں سے مالیاتی اسناد درکار ہیں، جو فی الحال جاری نہیں ہو رہیں۔</p>
<p>پی اے جے سی سی آئی کے صدر جنید مکڈا نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 19 نومبر کو ایران اور CIS ممالک کے لیے ایران کے راستے برآمدات میں اسناد کی شرط ختم کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔</p>
<p>انہوں نے صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے بتایا کہ متعدد پاکستانی ڈرائیور افغانستان میں ہفتوں سے پھنسے ہوئے ہیں، کئی گاڑیاں حملوں کا نشانہ بھی بنی ہیں، جب کہ ڈرائیور خوراک، پیسے اور رہائش کی شدید مشکلات کا شکار ہیں۔</p>
<p>کراچی ویلفیئر فروٹس ایسوسی ایشن کے صدر عبد القدیم آغا نے بتایا کہ اب افغانستان کی بجائے زیادہ تر انار ایران سے آ رہے ہیں، جس کی قیمت 2 ہزار سے 2 ہزار 500 روپے سے بڑھ کر 4 ہزار سے 4 ہزار 500 روپے فی 10 کلو کارٹن ہو گئی ہے، کوئٹہ اور بلوچستان سے سپلائی تقریباً بند ہے۔</p>
<p>ایرانی سیب اور انگور بھی بڑی تعداد میں مارکیٹ میں آ رہے ہیں، جن کی قیمت 2 ہزار سے 3 ہزار روپے فی 10 کلو کارٹن ہے، روزانہ 15 سے 20 کنٹینرز ایرانی پھلوں کے آ رہے ہیں۔</p>
<h1><a id="گھی-کوکنگ-آئل-آٹا" href="#گھی-کوکنگ-آئل-آٹا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>گھی، کوکنگ آئل، آٹا</h1>
<p>پاکستان وانسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی وی ایم اے) کے چیئرمین شیخ عمر ریحان نے بتایا کہ تجارت بند ہونے سے پہلے باقاعدہ چینلز کے ذریعے 6 ہزار سے 8 ہزار ٹن گھی ماہانہ افغانستان برآمد کیا جا رہا تھا، جب کہ کوکنگ آئل کی برآمدات نہ ہونے کے برابر تھیں۔</p>
<p>پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن سندھ زون کے سابق چیئرمین عامر عبداللہ نے کہا کہ گزشتہ 3 سے 4 سالوں میں پاکستان سے افغانستان بہت ہی کم مقدار میں آٹا جا رہا تھا، پاکستان افغانستان کو گندم برآمد نہیں کرتا، افغانستان اپنی گندم کا زیادہ تر حصہ روس، ترکمانستان اور قازقستان سے خریدتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ حقیقت میں ہم افغانستان کی مارکیٹ بھی کھو چکے ہیں اور زرمبادلہ کمانے کے مواقع بھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274461</guid>
      <pubDate>Sun, 30 Nov 2025 11:02:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عامر شفاعت خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/30105314eee2b23.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/30105314eee2b23.webp"/>
        <media:title>—فوٹو: پاکستان پریس انٹرنیشنل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کی فرنس آئل کی برآمدات ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں، آئندہ سال مزید اضافے کا امکان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274378/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان کی فرنس آئل کی برآمدات رواں سال تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں اور توقع ہے کہ آئندہ سال یہ مزید بڑھ سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1957772/pakistans-fuel-oil-exports-scale-fresh-high-in-2025"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق صنعتی ذرائع نے بتایا کہ رواں سال پاکستان کی فرنس آئل (فیول آئل) کی برآمدات ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہیں، توقع ہے کہ اگلے سال بھی یہ برآمدات اسی سطح پر رہیں گی یا اس میں مزید اضافہ ہوگا، کیونکہ حکومت نے اس پر مقامی ٹیکس بڑھا دیے ہیں اور بجلی گھر فرنس آئل کے بجائے صاف توانائی کے ذرائع استعمال کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاجروں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی برآمدات بڑھنے سے ایشیا میں فیول آئل کی فراہمی بہت زیادہ ہو گئی ہے، جس کی وجہ سے اس کی قیمتوں پر دباؤ پڑ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کپلر اور ایل ایس ای جی کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی فرنس آئل برآمدات اس سال نئی بلند ترین سطح تک پہنچ چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعداد و شمار کے مطابق پاکستان اب تک 14 لاکھ ٹن (تقریباً 89 لاکھ بیرل) سے زیادہ فرنس آئل برآمد کر چکا ہے، جو 2024 کے مقابلے میں 16 فیصد زیادہ ہے، جب کہ زیادہ تر برآمدات جنوب مشرقی ایشیا اور مشرق وسطیٰ بھیجی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایل ایس ای جی کے مطابق 2025 میں اب تک 13 لاکھ 30 ہزار ٹن برآمد ہو چکی ہیں، جو گزشتہ سال کی 11 لاکھ 10 ہزار ٹن سے زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق زیادہ تر بھیجا جانے والا فرنس آئل ہائی سلفر (ایچ ایس ایف او) تھا، جسے زیادہ تر بحری جہاز ایندھن کے طور پر استعمال کرتے ہیں، جب کہ تھوڑی مقدار ریفائنریوں میں خام مال کے طور پر استعمال ہوئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273908'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273908"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ریسرچ فرم رائسٹڈ انرجی کی نائب صدر ویلیری پانوپیئو کے مطابق پاکستان زیادہ تر ایشیائی ممالک کو ایچ ایس ایف او برآمد کرتا ہے، گرمیوں کے بعد اس ایندھن کی سپلائی وہاں پہلے ہی زیادہ ہوتی ہے، اسی لیے اس کی قیمتیں مزید کم ہو گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سال پاکستانی ریفائنریز نے زیادہ فیول آئل ٹینڈرز کے ذریعے فروخت کیا کیونکہ حکومت نے ملک میں اس کے استعمال پر ٹیکس بڑھا دیا تھا، جب کہ بجلی بنانے والے ادارے کوئلے اور سولر جیسے متبادل ذرائع کی طرف بڑھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاجروں کے مطابق سب سے زیادہ فیول آئل برآمد کرنے والی کمپنی پاک عرب ریفائنری رہی، جبکہ سینرجیکو، اٹک ریفائنری، نیشنل ریفائنری اور پاکستان ریفائنری بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک کی سب سے بڑی آئل ریفائنری سینرجیکو کا کہنا ہے کہ وہ اپنی برآمدات مزید بڑھانا چاہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے نائب چیئرمین اسامہ قریشی نے بتایا کہ کمپنی نے 25-2024 میں تقریباً 2 لاکھ 47 ہزار ٹن فرنس آئل برآمد کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسامہ قریشی نے مزید بتایا کہ انہیں امید ہے کہ اس سال کمپنی کی برآمدات میں کم از کم 50 فیصد اضافہ ہوگا، کیونکہ کمپنی اب زیادہ ہلکا اور کم سلفر والا خام تیل استعمال کر رہی ہے، جس سے بہت کم سلفر والا فرنس آئل زیادہ مقدار میں تیار ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے عالمی تجارتی ادارے وِٹول کے ساتھ شراکت بھی کر لی ہے تاکہ پاکستانی بندرگاہوں سے کم سلفر والا بحری ایندھن زیادہ مقدار میں بھیجا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل کے سیکریٹری جنرل سید نذیر عباس زیدی کا کہنا ہے کہ 2026 میں فرنس آئل کی برآمدات کا یہ سلسلہ مزید بڑھے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق بجلی بنانے کے لیے فرنس آئل اب فائدہ مند نہیں رہا اور گزشتہ بجٹ کے بعد اسے مقامی مارکیٹ میں بیچنا بھی منافع بخش نہیں رہا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان کی فرنس آئل کی برآمدات رواں سال تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں اور توقع ہے کہ آئندہ سال یہ مزید بڑھ سکتی ہیں۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی <a href="https://www.dawn.com/news/1957772/pakistans-fuel-oil-exports-scale-fresh-high-in-2025"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق صنعتی ذرائع نے بتایا کہ رواں سال پاکستان کی فرنس آئل (فیول آئل) کی برآمدات ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہیں، توقع ہے کہ اگلے سال بھی یہ برآمدات اسی سطح پر رہیں گی یا اس میں مزید اضافہ ہوگا، کیونکہ حکومت نے اس پر مقامی ٹیکس بڑھا دیے ہیں اور بجلی گھر فرنس آئل کے بجائے صاف توانائی کے ذرائع استعمال کر رہے ہیں۔</p>
<p>تاجروں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی برآمدات بڑھنے سے ایشیا میں فیول آئل کی فراہمی بہت زیادہ ہو گئی ہے، جس کی وجہ سے اس کی قیمتوں پر دباؤ پڑ رہا ہے۔</p>
<p>کپلر اور ایل ایس ای جی کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی فرنس آئل برآمدات اس سال نئی بلند ترین سطح تک پہنچ چکی ہیں۔</p>
<p>اعداد و شمار کے مطابق پاکستان اب تک 14 لاکھ ٹن (تقریباً 89 لاکھ بیرل) سے زیادہ فرنس آئل برآمد کر چکا ہے، جو 2024 کے مقابلے میں 16 فیصد زیادہ ہے، جب کہ زیادہ تر برآمدات جنوب مشرقی ایشیا اور مشرق وسطیٰ بھیجی گئیں۔</p>
<p>ایل ایس ای جی کے مطابق 2025 میں اب تک 13 لاکھ 30 ہزار ٹن برآمد ہو چکی ہیں، جو گزشتہ سال کی 11 لاکھ 10 ہزار ٹن سے زیادہ ہے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق زیادہ تر بھیجا جانے والا فرنس آئل ہائی سلفر (ایچ ایس ایف او) تھا، جسے زیادہ تر بحری جہاز ایندھن کے طور پر استعمال کرتے ہیں، جب کہ تھوڑی مقدار ریفائنریوں میں خام مال کے طور پر استعمال ہوئی۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273908'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273908"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ریسرچ فرم رائسٹڈ انرجی کی نائب صدر ویلیری پانوپیئو کے مطابق پاکستان زیادہ تر ایشیائی ممالک کو ایچ ایس ایف او برآمد کرتا ہے، گرمیوں کے بعد اس ایندھن کی سپلائی وہاں پہلے ہی زیادہ ہوتی ہے، اسی لیے اس کی قیمتیں مزید کم ہو گئی ہیں۔</p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سال پاکستانی ریفائنریز نے زیادہ فیول آئل ٹینڈرز کے ذریعے فروخت کیا کیونکہ حکومت نے ملک میں اس کے استعمال پر ٹیکس بڑھا دیا تھا، جب کہ بجلی بنانے والے ادارے کوئلے اور سولر جیسے متبادل ذرائع کی طرف بڑھ رہے ہیں۔</p>
<p>تاجروں کے مطابق سب سے زیادہ فیول آئل برآمد کرنے والی کمپنی پاک عرب ریفائنری رہی، جبکہ سینرجیکو، اٹک ریفائنری، نیشنل ریفائنری اور پاکستان ریفائنری بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔</p>
<p>ملک کی سب سے بڑی آئل ریفائنری سینرجیکو کا کہنا ہے کہ وہ اپنی برآمدات مزید بڑھانا چاہتی ہے۔</p>
<p>کمپنی کے نائب چیئرمین اسامہ قریشی نے بتایا کہ کمپنی نے 25-2024 میں تقریباً 2 لاکھ 47 ہزار ٹن فرنس آئل برآمد کیا ہے۔</p>
<p>اسامہ قریشی نے مزید بتایا کہ انہیں امید ہے کہ اس سال کمپنی کی برآمدات میں کم از کم 50 فیصد اضافہ ہوگا، کیونکہ کمپنی اب زیادہ ہلکا اور کم سلفر والا خام تیل استعمال کر رہی ہے، جس سے بہت کم سلفر والا فرنس آئل زیادہ مقدار میں تیار ہو رہا ہے۔</p>
<p>کمپنی نے عالمی تجارتی ادارے وِٹول کے ساتھ شراکت بھی کر لی ہے تاکہ پاکستانی بندرگاہوں سے کم سلفر والا بحری ایندھن زیادہ مقدار میں بھیجا جا سکے۔</p>
<p>پاکستان آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل کے سیکریٹری جنرل سید نذیر عباس زیدی کا کہنا ہے کہ 2026 میں فرنس آئل کی برآمدات کا یہ سلسلہ مزید بڑھے گا۔</p>
<p>ان کے مطابق بجلی بنانے کے لیے فرنس آئل اب فائدہ مند نہیں رہا اور گزشتہ بجٹ کے بعد اسے مقامی مارکیٹ میں بیچنا بھی منافع بخش نہیں رہا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274378</guid>
      <pubDate>Fri, 28 Nov 2025 13:21:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/28092651981bd85.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/28092651981bd85.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کی اقتصادی پالیسی میں بڑی تبدیلی، مستحکم اور پائیدار ترقی ہدف قرار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274333/</link>
      <description>&lt;p&gt;وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے واضح کیا ہے کہ حکومت اب تیز مگر غیر پائیدار ترقی کے بجائے ایسی معاشی حکمتِ عملی اپنا رہی ہے جس میں مسلسل، مستحکم اور دیرپا ترقی کو بنیادی ہدف بنایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1957620/aurangzeb-shifts-focus-to-steady-sustainable-economic-growth"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے حکومت کی اقتصادی سمت میں واضح تبدیلی کا اشارہ دیا ہے اور کہا ہے کہ اب ہدف ایسے مختصر دورانیے کے 5 سے 6 فیصد شرحِ نمو کے حصول کا نہیں رہا، جو بار بار معاشی عدم استحکام کا باعث بنتے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پاکستان بزنس کونسل (پی بی سی) کے زیرِ اہتمام بدھ کو ہونے والے دو روزہ اقتصادی مکالمے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ماضی کے ایسے غیر پائیدار ترقیاتی چکروں کو دہرانا نہیں چاہتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب کے مطابق توجہ اب مستحکم اور پائیدار ترقی کی جانب منتقل ہو رہی ہے، جو بار بار پیدا ہونے والے بوم اینڈ بسٹ چکروں کو توڑ سکے اور معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے کہا کہ ترقی کی رفتار بذاتِ خود مسئلہ نہیں، اصل چیلنج اس ترقی کے تسلسل کو برقرار رکھنا ہے، ماضی میں کی جانے والی کوششیں پائیدار ثابت نہیں ہوئیں، جن کی انہوں نے نشاندہی بھی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پرانے انداز کو دہرانے سے خبردار کیا اور اس بات کو دہرایا کہ برآمدات پر مبنی ترقی ہی بہتر معاشی کارکردگی کا واحد راستہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے نام لیے بغیر ایک ہمسایہ ملک کی مثال دی جو 8 فیصد کی تیز رفتار ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے، لیکن وہاں بیروزگاری بہت زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اصل توجہ اس بات پر ہے کہ ترقی سب کے لیے فائدہ مند اور منصفانہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مختلف شعبوں کی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت صنعتوں کو دوبارہ فعال بنانے کے لیے کام کر رہی ہے اور نئی صنعتی پالیسی میں اس پہلو پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق اس سال معاشی ترقی 3.5 فیصد تک رہنے کی امید ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ اگلے دو سے تین سال میں اقتصادی ترقی تقریباً 4 فیصد تک پہنچ سکتی ہے اور اگر زراعت، صنعت اور خدمات کے شعبے مضبوط رہے تو درمیانی مدت میں یہ 6 سے 7 فیصد تک بھی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273105'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273105"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ترسیلات زر کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ باقاعدہ ذرائع سے آنے والی رقوم ہر ماہ مستحکم ہیں اور روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کی کارکردگی بھی اچھی ہے، توقع ہے کہ اس سال ترسیلات زر 41 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے کہا کہ جیسے جیسے مالی حالات بہتر ہوں گے، قرض لینے کی لاگت میں کمی آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، انہوں نے کمپنیوں کو مشورہ دیا کہ صرف بینکوں سے قرض لینے کے بجائے سرمایہ مارکیٹوں سے بھی فائدہ اٹھائیں تاکہ وہ طویل المدت اور زیادہ مسابقتی سرمایہ حاصل کرسکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ٹیکس اور توانائی کے شعبوں میں موجود ساختی مسائل حل کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ہم جمعرات کو پہلی ٹیکس ایڈوائزری کونسل کا اجلاس کر رہے ہیں، جو اگلے بجٹ سے قبل بزنس کمیونٹی سے تجاویز حاصل کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے اٹھائے گئے سیکیورٹی خدشات کے جواب میں وزیر خزانہ نے کہا کہ قومی سلامتی کسی بھی صورت قابلِ سمجھوتہ نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق سیکیورٹی، معاشی استحکام اور منافع کی بلا رکاوٹ واپسی عالمی سرمایہ کاری کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ 11ویں این ایف سی کا ابتدائی اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا اور ہم صوبوں کے ساتھ مل کر ٹھوس نتائج حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے یہ بھی اعلان کیا کہ پاکستان اپنی پہلی پانڈا بانڈ کے اجرا کی تیاری کر رہا ہے، جو چینی نئے سال سے قبل متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ آرامکو سمیت کئی بڑی عالمی کمپنیاں پاکستان میں دلچسپی دکھا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ترکیہ اور ابوظہبی کی کمپنیاں بھی توانائی، معدنیات، ٹیکنالوجی، لاجسٹکس اور آٹوموٹیو شعبوں میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں، جو پاکستان کی معاشی پالیسیوں پر بڑھتے ہوئے عالمی اعتماد کا مظہر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان بزنس کونسل کی چیئرپرسن ڈاکٹر زیلاف منیر نے کہا کہ ملک کی اقتصادی مضبوطی ایسے کاروبار سے وابستہ ہے جو پیداوار میں اضافہ کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ معیشت کی بہتری کے لیے ضروری ہے کہ پالیسیاں تحقیق کی بنیاد پر بنیں، استحکام ہو اور طویل مدت کی اصلاحات جاری رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ترقی کے لیے اعتماد، انصاف اور واضح منصوبہ بندی ضروری ہے، جب کہ پائیدار ترقی اس وقت ممکن ہوتی ہے جب حکومت، کاروباری طبقہ، تعلیمی ادارے اور سول سوسائٹی مل کر کام کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="طویل-مدتی-استحکام" href="#طویل-مدتی-استحکام" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;طویل مدتی استحکام&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ایک اور سیشن میں وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے کہا کہ معیشت پر دباؤ کم کرنے اور طویل مدتی استحکام پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ برآمدات کی رفتار درآمدات سے زیادہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے صنعتی ترقی کو قومی خوشحالی کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ صنعت معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ بہتر برآمدی کارکردگی کے لیے مقامی صنعت اور پیداوار کی حمایت ضروری ہے اور اسٹیل جیسے اہم خام مال کی مقامی پیداوار برآمدی صلاحیت بڑھانے کے لیے ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہارون اختر نے کہا کہ پاکستان کو غیر ملکی سرمایہ کاری پر انحصار کرنے سے پہلے مقامی سرمایہ کاری کو مضبوط بنانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے تیز رفتار معاشی ترقی ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ آنے والی صنعتی پالیسی میں شامل ٹیکس پیکیج آئی ایم ایف کے سامنے پیش کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق مجوزہ اصلاحات طویل مدتی اور پائیدار معاشی ترقی کی حمایت کے لیے تیار کی جا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے واضح کیا ہے کہ حکومت اب تیز مگر غیر پائیدار ترقی کے بجائے ایسی معاشی حکمتِ عملی اپنا رہی ہے جس میں مسلسل، مستحکم اور دیرپا ترقی کو بنیادی ہدف بنایا گیا ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1957620/aurangzeb-shifts-focus-to-steady-sustainable-economic-growth"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے حکومت کی اقتصادی سمت میں واضح تبدیلی کا اشارہ دیا ہے اور کہا ہے کہ اب ہدف ایسے مختصر دورانیے کے 5 سے 6 فیصد شرحِ نمو کے حصول کا نہیں رہا، جو بار بار معاشی عدم استحکام کا باعث بنتے رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے پاکستان بزنس کونسل (پی بی سی) کے زیرِ اہتمام بدھ کو ہونے والے دو روزہ اقتصادی مکالمے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ماضی کے ایسے غیر پائیدار ترقیاتی چکروں کو دہرانا نہیں چاہتے۔</p>
<p>محمد اورنگزیب کے مطابق توجہ اب مستحکم اور پائیدار ترقی کی جانب منتقل ہو رہی ہے، جو بار بار پیدا ہونے والے بوم اینڈ بسٹ چکروں کو توڑ سکے اور معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرسکے۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے کہا کہ ترقی کی رفتار بذاتِ خود مسئلہ نہیں، اصل چیلنج اس ترقی کے تسلسل کو برقرار رکھنا ہے، ماضی میں کی جانے والی کوششیں پائیدار ثابت نہیں ہوئیں، جن کی انہوں نے نشاندہی بھی کی۔</p>
<p>انہوں نے پرانے انداز کو دہرانے سے خبردار کیا اور اس بات کو دہرایا کہ برآمدات پر مبنی ترقی ہی بہتر معاشی کارکردگی کا واحد راستہ ہے۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے نام لیے بغیر ایک ہمسایہ ملک کی مثال دی جو 8 فیصد کی تیز رفتار ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے، لیکن وہاں بیروزگاری بہت زیادہ ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اصل توجہ اس بات پر ہے کہ ترقی سب کے لیے فائدہ مند اور منصفانہ ہو۔</p>
<p>مختلف شعبوں کی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت صنعتوں کو دوبارہ فعال بنانے کے لیے کام کر رہی ہے اور نئی صنعتی پالیسی میں اس پہلو پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔</p>
<p>ان کے مطابق اس سال معاشی ترقی 3.5 فیصد تک رہنے کی امید ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ اگلے دو سے تین سال میں اقتصادی ترقی تقریباً 4 فیصد تک پہنچ سکتی ہے اور اگر زراعت، صنعت اور خدمات کے شعبے مضبوط رہے تو درمیانی مدت میں یہ 6 سے 7 فیصد تک بھی جا سکتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273105'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273105"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ترسیلات زر کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ باقاعدہ ذرائع سے آنے والی رقوم ہر ماہ مستحکم ہیں اور روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کی کارکردگی بھی اچھی ہے، توقع ہے کہ اس سال ترسیلات زر 41 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے کہا کہ جیسے جیسے مالی حالات بہتر ہوں گے، قرض لینے کی لاگت میں کمی آئے گی۔</p>
<p>تاہم، انہوں نے کمپنیوں کو مشورہ دیا کہ صرف بینکوں سے قرض لینے کے بجائے سرمایہ مارکیٹوں سے بھی فائدہ اٹھائیں تاکہ وہ طویل المدت اور زیادہ مسابقتی سرمایہ حاصل کرسکیں۔</p>
<p>انہوں نے ٹیکس اور توانائی کے شعبوں میں موجود ساختی مسائل حل کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ہم جمعرات کو پہلی ٹیکس ایڈوائزری کونسل کا اجلاس کر رہے ہیں، جو اگلے بجٹ سے قبل بزنس کمیونٹی سے تجاویز حاصل کرے گی۔</p>
<p>غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے اٹھائے گئے سیکیورٹی خدشات کے جواب میں وزیر خزانہ نے کہا کہ قومی سلامتی کسی بھی صورت قابلِ سمجھوتہ نہیں۔</p>
<p>ان کے مطابق سیکیورٹی، معاشی استحکام اور منافع کی بلا رکاوٹ واپسی عالمی سرمایہ کاری کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ 11ویں این ایف سی کا ابتدائی اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا اور ہم صوبوں کے ساتھ مل کر ٹھوس نتائج حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے یہ بھی اعلان کیا کہ پاکستان اپنی پہلی پانڈا بانڈ کے اجرا کی تیاری کر رہا ہے، جو چینی نئے سال سے قبل متوقع ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ آرامکو سمیت کئی بڑی عالمی کمپنیاں پاکستان میں دلچسپی دکھا رہی ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ترکیہ اور ابوظہبی کی کمپنیاں بھی توانائی، معدنیات، ٹیکنالوجی، لاجسٹکس اور آٹوموٹیو شعبوں میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں، جو پاکستان کی معاشی پالیسیوں پر بڑھتے ہوئے عالمی اعتماد کا مظہر ہے۔</p>
<p>پاکستان بزنس کونسل کی چیئرپرسن ڈاکٹر زیلاف منیر نے کہا کہ ملک کی اقتصادی مضبوطی ایسے کاروبار سے وابستہ ہے جو پیداوار میں اضافہ کرتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ معیشت کی بہتری کے لیے ضروری ہے کہ پالیسیاں تحقیق کی بنیاد پر بنیں، استحکام ہو اور طویل مدت کی اصلاحات جاری رہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ترقی کے لیے اعتماد، انصاف اور واضح منصوبہ بندی ضروری ہے، جب کہ پائیدار ترقی اس وقت ممکن ہوتی ہے جب حکومت، کاروباری طبقہ، تعلیمی ادارے اور سول سوسائٹی مل کر کام کریں۔</p>
<h1><a id="طویل-مدتی-استحکام" href="#طویل-مدتی-استحکام" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>طویل مدتی استحکام</h1>
<p>ایک اور سیشن میں وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے کہا کہ معیشت پر دباؤ کم کرنے اور طویل مدتی استحکام پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ برآمدات کی رفتار درآمدات سے زیادہ ہو۔</p>
<p>انہوں نے صنعتی ترقی کو قومی خوشحالی کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ صنعت معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ بہتر برآمدی کارکردگی کے لیے مقامی صنعت اور پیداوار کی حمایت ضروری ہے اور اسٹیل جیسے اہم خام مال کی مقامی پیداوار برآمدی صلاحیت بڑھانے کے لیے ناگزیر ہے۔</p>
<p>ہارون اختر نے کہا کہ پاکستان کو غیر ملکی سرمایہ کاری پر انحصار کرنے سے پہلے مقامی سرمایہ کاری کو مضبوط بنانا چاہیے۔</p>
<p>ان کے مطابق روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے تیز رفتار معاشی ترقی ضروری ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ آنے والی صنعتی پالیسی میں شامل ٹیکس پیکیج آئی ایم ایف کے سامنے پیش کیا جائے گا۔</p>
<p>ان کے مطابق مجوزہ اصلاحات طویل مدتی اور پائیدار معاشی ترقی کی حمایت کے لیے تیار کی جا رہی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274333</guid>
      <pubDate>Thu, 27 Nov 2025 09:58:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مبارک زیب خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/27095519091b380.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/27095519091b380.webp"/>
        <media:title>—فوٹو: فنانس گروپ (ایکس)
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مسابقتی کمیشن نے پاکستان کی سونے کی مارکیٹ پر مسابقتی اسسمنٹ اسٹڈی جاری کردی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274297/</link>
      <description>&lt;p&gt;مسابقتی کمیشن آف پاکستان نے پاکستان کی سونے کی مارکیٹ پر مسابقتی اسسمنٹ اسٹڈی جاری کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق کمیشن نےگولڈ مارکیٹ کو دستاویزی شکل دینے کے لئے پاکستان گولڈ اینڈ جیم اسٹون اتھارٹی تشکیل دینے، سونے کی لائسنسنگ، درآمدات اور انسداد منی لانڈرنگ ریگولیشنز کے نفاذ کے لیے اتھارٹی قائم کرنے سمیت سونے کی خریدو فروخت کو ایف بی آر کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم سے منسلک  کرنے کی تجاویز دی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں ریکوڈک منصوبے کے کمرشل آغاز سے پہلے گولڈ مارکیٹ کے لیے ریگولیشنز متعارف کروانا ضروری قراد دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسابقتی کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ پاکستان میں سونے کی ایک ایسی  مارکیٹ کا نقشہ پیش کرتی ہے جہاں کوئی خاص ریگولیشن، ضوابط موجود نہیں اور غیر شفاف قیمتوں کے باعث مسائل کا شکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1043347'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1043347"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سالانہ 60 سے 90 ٹن تک سونے کی کھپت ہوتی ہے، جس کی بڑی وجہ سماجی و ثقافتی عوامل ہیں جب کہ ملک میں 90 فیصد سے زیادہ سونے کی تجارت غیر رسمی چینلز اور طریقوں سے ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید کہا گیا کہ پاکستان تقریباً مکمل طور پر درآمدی سونے پر انحصار کرتا ہے اور سال 2024 میں ملک میں 17ملین ڈالر مالیت کا سونا درآمد کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں ریکو ڈیک کاپرگولڈ پراجیکٹ کو بھی اہم قرار دیا گیا ہے، یہ منصوبہ اپنے مجوزہ 37 سالہ دورانیے میں تقریباً 74 ارب ڈالر کی مالیت کا سونا اور تانبا پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور ملکی سپلائی چین کو بدلنے کی ممکنہ طاقت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غیر دستاویزات مارکیٹ ہونے کی وجہ سے سونے کے تاجر زیادہ تر نقد لین دین کرتے ہیں اور تاجروں کے گروہ سونے کی قیمتوں اور سپلائی پر اثرانداز ہوتے ہیں، سونے کے نرخ مقرر کرنے کا کوئی مارکیٹ میکانزم موجود نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید کہا گیا کہ مختلف شہروں کی ایسوسی ائیشن روزانہ کی بنیادوں پر قیمتیوں جاری کرتی ہیں، ملک میں سونے کی درآمد اور تجارت کو ریگولیٹ کرنے کے لئے وزارتِ تجارت، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، اسٹیٹ بینک، پاکستان جیولری اینڈ جم ڈویلپمنٹ کمپنی اور ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے الگ الگ ریگولیشن جاری کر رکھے ہیں لیکن ان اداروں کی  پالیسیاں میں تضادات موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق سونے کی ٹرانزیکشن پر پیچیدہ ٹیکس کا نظام ، غیر واضح طریقہ کار اور عدم یکسانیت اسمگلنگ اور انڈر انوائسنگ کو فروغ دیتے ہیں، ملک میں سونے کی ریفائننگ تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید کہا گیا کہ ہال مارکنگ کی ناکافی سہولیات کے باعث ملاوٹ اور صارفین کے ساتھ دھوکہ دہی کے مسائل جنم لیتے ہیں، سونے کی درآمدات، فروخت اور خالص ہونے سے متعلق قابلِ اعتماد ڈیٹا نہ ہونے سے مؤثر پالیسی سازی ممکن نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1176277'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1176277"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملک میں گولڈ کی مارکیٹ کو منظم کرنے اور درپیش مسائل سے نمٹنے کے لیے کمپٹیشن کمیشن نے جامع اصلاحات تجویز کیں ہیں، پاکستان گولڈ اینڈ جیم اسٹون اتھارٹی تشکیل دی جائے جو لائسنسنگ، درآمدات اور اینٹی منی لانڈرنگ کے ریگولیشنز کی کمپلائنس سمیت تمام قوانین اور ضوابط کو یکجا کر کے جامع ریگولیٹری فریم ورک تشکل دے اور نافذ کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بھی کہا گیا کہ سونے کے خالص ہونے اور اس کے معیار کی درجہ بندی کے لئے خرید و فروخت ہونے والے تمام سونے کی جانچ اور اس کی درجہ بندی کو لازمی قرار دیا جائے تاکہ صارفین کو تحفظ حاصل ہو اور ملکی سونے کی برآمدات کو بھی فروغ دیا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق سونے کی ویلیو چین کی ڈیجیٹل تبدیلی، سونے کی خرید و فروخت کو جدید ٹیکنالوجی یعنی بلاک چین پر مبنی ٹریس ایبلٹی تشکیل دے کر ایف بی آر کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم سے منسلک کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق ترکی کے ماڈل کو مد نظر رکھتے ہوئے، گھروں میں پڑا سونے کو فارمل معیشت میں شامل کرنے کے لیے ایک گولڈ بنک کا نظام قائم کیا جائے، سونے کی درآمد ، پیداوار ، برآمد بارے جامع رپورٹنگ اور مارکیٹ میں ریگولیشنز اور پرائس مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرائے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپٹیشن کمیشن کا کہنا ہے خصوصاً اس وقت جب پاکستان ریکو ڈیک منصوبے کے کمرشل آغاز کی تیاری کر رہا ہے ، ملک میں سونے کی مارکیٹ کے لئے جدید ریگولیشنز متعارف کروانے ضرووری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بھی کہا گیا کہ سونے کو دستاویزی مارکیٹ میں لانے سے مارکیٹ کی شفافیت میں اضافہ ہوگا اور صارفین کا تحفظ حاصل ہوگا، سونے کی غیر رسمی اور اسمگلنگ میں کمی آئے گی اور ملک میں دستیاب سونے کی ملکی معیشت میں قدر شامل ہوگی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>مسابقتی کمیشن آف پاکستان نے پاکستان کی سونے کی مارکیٹ پر مسابقتی اسسمنٹ اسٹڈی جاری کردی۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق کمیشن نےگولڈ مارکیٹ کو دستاویزی شکل دینے کے لئے پاکستان گولڈ اینڈ جیم اسٹون اتھارٹی تشکیل دینے، سونے کی لائسنسنگ، درآمدات اور انسداد منی لانڈرنگ ریگولیشنز کے نفاذ کے لیے اتھارٹی قائم کرنے سمیت سونے کی خریدو فروخت کو ایف بی آر کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم سے منسلک  کرنے کی تجاویز دی ہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں ریکوڈک منصوبے کے کمرشل آغاز سے پہلے گولڈ مارکیٹ کے لیے ریگولیشنز متعارف کروانا ضروری قراد دیا گیا ہے۔</p>
<p>مسابقتی کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ پاکستان میں سونے کی ایک ایسی  مارکیٹ کا نقشہ پیش کرتی ہے جہاں کوئی خاص ریگولیشن، ضوابط موجود نہیں اور غیر شفاف قیمتوں کے باعث مسائل کا شکار ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1043347'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1043347"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سالانہ 60 سے 90 ٹن تک سونے کی کھپت ہوتی ہے، جس کی بڑی وجہ سماجی و ثقافتی عوامل ہیں جب کہ ملک میں 90 فیصد سے زیادہ سونے کی تجارت غیر رسمی چینلز اور طریقوں سے ہوتی ہے۔</p>
<p>مزید کہا گیا کہ پاکستان تقریباً مکمل طور پر درآمدی سونے پر انحصار کرتا ہے اور سال 2024 میں ملک میں 17ملین ڈالر مالیت کا سونا درآمد کیا گیا۔</p>
<p>رپورٹ میں ریکو ڈیک کاپرگولڈ پراجیکٹ کو بھی اہم قرار دیا گیا ہے، یہ منصوبہ اپنے مجوزہ 37 سالہ دورانیے میں تقریباً 74 ارب ڈالر کی مالیت کا سونا اور تانبا پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور ملکی سپلائی چین کو بدلنے کی ممکنہ طاقت رکھتا ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غیر دستاویزات مارکیٹ ہونے کی وجہ سے سونے کے تاجر زیادہ تر نقد لین دین کرتے ہیں اور تاجروں کے گروہ سونے کی قیمتوں اور سپلائی پر اثرانداز ہوتے ہیں، سونے کے نرخ مقرر کرنے کا کوئی مارکیٹ میکانزم موجود نہیں۔</p>
<p>مزید کہا گیا کہ مختلف شہروں کی ایسوسی ائیشن روزانہ کی بنیادوں پر قیمتیوں جاری کرتی ہیں، ملک میں سونے کی درآمد اور تجارت کو ریگولیٹ کرنے کے لئے وزارتِ تجارت، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، اسٹیٹ بینک، پاکستان جیولری اینڈ جم ڈویلپمنٹ کمپنی اور ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے الگ الگ ریگولیشن جاری کر رکھے ہیں لیکن ان اداروں کی  پالیسیاں میں تضادات موجود ہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق سونے کی ٹرانزیکشن پر پیچیدہ ٹیکس کا نظام ، غیر واضح طریقہ کار اور عدم یکسانیت اسمگلنگ اور انڈر انوائسنگ کو فروغ دیتے ہیں، ملک میں سونے کی ریفائننگ تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔</p>
<p>مزید کہا گیا کہ ہال مارکنگ کی ناکافی سہولیات کے باعث ملاوٹ اور صارفین کے ساتھ دھوکہ دہی کے مسائل جنم لیتے ہیں، سونے کی درآمدات، فروخت اور خالص ہونے سے متعلق قابلِ اعتماد ڈیٹا نہ ہونے سے مؤثر پالیسی سازی ممکن نہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1176277'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1176277"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملک میں گولڈ کی مارکیٹ کو منظم کرنے اور درپیش مسائل سے نمٹنے کے لیے کمپٹیشن کمیشن نے جامع اصلاحات تجویز کیں ہیں، پاکستان گولڈ اینڈ جیم اسٹون اتھارٹی تشکیل دی جائے جو لائسنسنگ، درآمدات اور اینٹی منی لانڈرنگ کے ریگولیشنز کی کمپلائنس سمیت تمام قوانین اور ضوابط کو یکجا کر کے جامع ریگولیٹری فریم ورک تشکل دے اور نافذ کرے۔</p>
<p>یہ بھی کہا گیا کہ سونے کے خالص ہونے اور اس کے معیار کی درجہ بندی کے لئے خرید و فروخت ہونے والے تمام سونے کی جانچ اور اس کی درجہ بندی کو لازمی قرار دیا جائے تاکہ صارفین کو تحفظ حاصل ہو اور ملکی سونے کی برآمدات کو بھی فروغ دیا جاسکے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق سونے کی ویلیو چین کی ڈیجیٹل تبدیلی، سونے کی خرید و فروخت کو جدید ٹیکنالوجی یعنی بلاک چین پر مبنی ٹریس ایبلٹی تشکیل دے کر ایف بی آر کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم سے منسلک کیا جائے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق ترکی کے ماڈل کو مد نظر رکھتے ہوئے، گھروں میں پڑا سونے کو فارمل معیشت میں شامل کرنے کے لیے ایک گولڈ بنک کا نظام قائم کیا جائے، سونے کی درآمد ، پیداوار ، برآمد بارے جامع رپورٹنگ اور مارکیٹ میں ریگولیشنز اور پرائس مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرائے جائیں۔</p>
<p>کمپٹیشن کمیشن کا کہنا ہے خصوصاً اس وقت جب پاکستان ریکو ڈیک منصوبے کے کمرشل آغاز کی تیاری کر رہا ہے ، ملک میں سونے کی مارکیٹ کے لئے جدید ریگولیشنز متعارف کروانے ضرووری ہیں۔</p>
<p>یہ بھی کہا گیا کہ سونے کو دستاویزی مارکیٹ میں لانے سے مارکیٹ کی شفافیت میں اضافہ ہوگا اور صارفین کا تحفظ حاصل ہوگا، سونے کی غیر رسمی اور اسمگلنگ میں کمی آئے گی اور ملک میں دستیاب سونے کی ملکی معیشت میں قدر شامل ہوگی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274297</guid>
      <pubDate>Wed, 26 Nov 2025 14:55:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر شیرانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/26145513a7b9a35.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/26145513a7b9a35.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آڈٹ نظام کی کمزوری سے کھربوں روپے کے عوامی فنڈز کو خطرہ ہے، آئی ایم ایف کا انتباہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274173/</link>
      <description>&lt;p&gt;عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اپنی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ آڈٹ نظام کی کمزوریوں کے باعث کھربوں روپے کے سرکاری وسائل ضائع ہونے یا غلط استعمال ہونے کے خطرات بڑھ رہے ہیں، جس سے معیشت اور مالی نظم و ضبط پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1957018/alarmed-by-weakness-of-audit-mechanism-imf-calls-for-independent-agp-office"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق آئی ایم ایف نے پاکستان میں اندرونی آڈٹ کے نظام کی عدم موجودگی اور آئینی و پارلیمانی آڈٹ نگرانی کی کمزوری پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ خلا وفاقی سطح پر اندازاً 40 کھرب روپے اور صوبوں میں اس سے بھی زیادہ کے عوامی فنڈز کے لیے بڑے مالیاتی خطرات پیدا کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف نے ٹیکس دہندگان کے پیسے کے بہتر استعمال کو یقینی بنانے کے لیے آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) کے مکمل طور پر خود مختار دفتر کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ ’گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگنوسس اسیسمنٹ (جی سی ڈی اے)‘ کے ایک تفصیلی حصے میں پاکستان کے داخلی مالیاتی کنٹرولز، اندرونی و بیرونی آڈٹ کے نظام، آئینی خود مختاری کے باوجود اے جی پی کے عملی طور پر حکومتی کنٹرول میں ہونے اور پارلیمانی نگرانی کے ادارے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کی ناکافی صلاحیت اور کردار سمیت متعدد کمزوریاں اجاگر کی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274020'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274020"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق یہ حیران کن نہیں کہ مالی بے ضابطگیوں، خرد برد اور بدعنوانی کے کھربوں روپے مالیت کے کیسز ہر سال بے نقاب ہوتے رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف نے کہا کہ ایک مؤثر اندرونی کنٹرول کا نظام ایسے ماحول کی تشکیل کے لیے ضروری ہے جو عوامی وسائل کے استعمال سے متعلق مناسب فیصلوں کو یقینی بنائے اور ان فیصلوں پر واضح جوابدہی بھی قائم کرے، جس میں انتظامی ڈھانچوں کے ذریعے نگرانی اور اعلیٰ آڈٹ اداروں اور پارلیمنٹ کے ذریعے بیرونی نگرانی شامل ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنڈ کے مطابق اندرونی اور بیرونی دونوں آڈٹ کسی بھی ادارے کے آپریشنز اور مالی رپورٹنگ کی شفافیت برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہیں، جو بدعنوانی کے خطرے کو کم کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان میں اندرونی آڈٹ کمزور ہے، پبلک فنانس مینجمنٹ (پی ایف ایم) ایکٹ 2019 کے مطابق ہر ڈویژن میں چیف انٹرنل آڈیٹر (سی آئی اے) کی تقرری ضروری تھی، جو 2020 تک پرنسپل اکاؤنٹنگ افسران کے ساتھ براہِ راست کام کرتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف نے بتایا کہ اس کے باوجود سی آئی ایز کی تقرری پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق 25 چیف فنانس اینڈ اکاؤنٹس افسران (سی ایف اے اوز) وزارتوں میں مالی امور کے لیے کام کر رہے ہیں، لیکن سی آئی ایز تمام وزارتوں و ڈویژنز میں تعینات نہیں کیے گئے، جب کہ 15 وزارتوں اور ڈویژنز میں سی ایف اے اوز بھی موجود نہیں، یوں چھ سال گزرنے کے باوجود پی ایف ایم ایکٹ 2019 پر مکمل عمل درآمد اب بھی ایک خواب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید کہا گیا کہ جن وزارتوں اور ڈویژنز میں سی ایف اے اوز موجود ہیں وہاں بھی اندرونی آڈٹ رپورٹس پر مستقل مزاجی، دلچسپی اور فالو اپ کا فقدان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنڈ نے سوال اٹھایا کہ آڈیٹر جنرل کا دفتر اب تک فیڈرل سیکریٹریٹ کا منسلک ادارہ کیوں ہے، جس کے باعث مکمل خود مختاری حاصل نہیں ہوتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئین کے آرٹیکل 171 اور پاکستان آڈٹ آرڈیننس 2001 کے آرٹیکل 7 کے مطابق اے جی پی کو وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں کے محکموں کے اخراجات اور مالیاتی حسابات کی توثیق کرنا ہوتی ہے اور تصدیق شدہ رپورٹس بالترتیب صدر اور گورنرز کو پیش کی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1268758/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1268758"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق منسلک ادارے کی حیثیت کے باعث آڈیٹر جنرل براہ راست پارلیمنٹ کو رپورٹ نہیں کرتا بلکہ وفاقی سیکریٹریٹ، وزیر اعظم اور صدر کے ذریعے رپورٹ کرتا ہے، جو آڈٹ کے آزادانہ اور غیر جانبدارانہ عمل کو متاثر کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ کہ آڈیٹر جنرل کے دفتر کو آڈیٹرز کی بھرتی کے لیے فیڈرل پبلک سروس کمیشن کی منظوری درکار ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;او اے جی نے آئی ایم ایف کو بتایا کہ انہیں عملے کی شدید کمی کا سامنا ہے، یعنی ایک ہزار 500 ملازمین کی کمی، کیونکہ مالی پابندیوں کے باعث بھرتیوں کی منظوری نہیں مل رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ آڈیٹر جنرل کا بجٹ ایسا ہوتا ہے جس پر پارلیمنٹ سے منظوری نہیں لینی پڑتی، لیکن پھر بھی اس بجٹ کو جاری کرنے کے لیے انہیں فنانس ڈویژن سے اجازت لینا ہوتی ہے اور یہ اجازت اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ سرکاری خزانے میں پیسے موجود ہیں یا نہیں، اس وجہ سے آڈیٹر جنرل کا دفتر پوری طرح آزادانہ طور پر کام نہیں کر پاتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسئلہ اس وقت اور بڑھ جاتا ہے جب آڈٹ رپورٹس بہت لمبی ہوتی ہیں، ان میں پرانی سفارشات بار بار دہرائی جاتی ہیں اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) ان رپورٹس کا بروقت جائزہ نہیں لیتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آڈیٹر جنرل کا دفتر ہر سال 6 ہزار سے زیادہ رپورٹس بناتا ہے، لیکن پی اے سی اور متعلقہ وزارتیں ان پر تقریباً کوئی کارروائی نہیں کرتیں، اسی وجہ سے سپریم آڈٹ ادارے کی 34 ہزار میں سے 75 فیصد سفارشات اب تک پی اے سی میں زیرِ غور نہیں آئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید کہا گیا کہ بعض رپورٹس ہزاروں صفحات پر مشتمل ہوتی ہیں، جن میں برسوں سے موجود ایک ہی نوعیت کی سفارشات دہرائی جاتی ہیں کیونکہ متعلقہ ادارے ان بے ضابطگیوں کو دور نہیں کرتے، مثال کے طور پر وفاقی حکومت کی کمپلائنس آڈٹ رپورٹ برائے 24-2023 چار ہزار صفحات پر مشتمل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ آڈٹ اعتراضات اور سفارشات کے جواب یا ان پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے کوئی نظام موجود نہیں، جس سے آڈٹ کے اثرات اور افادیت مزید کم ہوجاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا کہ ایسا نظام بنایا جائے جس کے تحت حکومتی اداروں کو آڈٹ سفارشات اور پی اے سی کے احکامات نہ ماننے پر جوابدہ ٹھہرایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنڈ نے تجویز دی کہ پی اے سی کے قواعد و ضوابط اور اے جی پی ایکٹ میں مناسب ترامیم کی جائیں تاکہ ان اداروں کو اپنے احکامات پر عملدرآمد یقینی بنانے کے اختیارات مل سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف نے آئندہ کے لیے سفارش کی کہ آڈٹ رپورٹس کو مختصر اور اہم ترین سفارشات تک محدود کیا جائے اور مسائل کو ان کی اہمیت اور ہنگامی نوعیت کے مطابق مرتب کیا جائے، جن کی وضاحت کے لیے ٹریفک لائٹس جیسے بصری نظام بھی استعمال کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح پارلیمانی نگرانی کو مضبوط بنایا جائے، پی اے سی کو آڈٹ رپورٹس کے بروقت جائزے کا پابند کیا جائے اور عملدرآمد کی نگرانی کے لیے مرکزی سیکریٹریٹ کے ذریعے ایک ٹریکنگ سسٹم قائم کیا جائے تاکہ شفافیت اور جوابدہی میں بہتری لائی جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اپنی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ آڈٹ نظام کی کمزوریوں کے باعث کھربوں روپے کے سرکاری وسائل ضائع ہونے یا غلط استعمال ہونے کے خطرات بڑھ رہے ہیں، جس سے معیشت اور مالی نظم و ضبط پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1957018/alarmed-by-weakness-of-audit-mechanism-imf-calls-for-independent-agp-office"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق آئی ایم ایف نے پاکستان میں اندرونی آڈٹ کے نظام کی عدم موجودگی اور آئینی و پارلیمانی آڈٹ نگرانی کی کمزوری پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ خلا وفاقی سطح پر اندازاً 40 کھرب روپے اور صوبوں میں اس سے بھی زیادہ کے عوامی فنڈز کے لیے بڑے مالیاتی خطرات پیدا کرتا ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف نے ٹیکس دہندگان کے پیسے کے بہتر استعمال کو یقینی بنانے کے لیے آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) کے مکمل طور پر خود مختار دفتر کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ ’گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگنوسس اسیسمنٹ (جی سی ڈی اے)‘ کے ایک تفصیلی حصے میں پاکستان کے داخلی مالیاتی کنٹرولز، اندرونی و بیرونی آڈٹ کے نظام، آئینی خود مختاری کے باوجود اے جی پی کے عملی طور پر حکومتی کنٹرول میں ہونے اور پارلیمانی نگرانی کے ادارے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کی ناکافی صلاحیت اور کردار سمیت متعدد کمزوریاں اجاگر کی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274020'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274020"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>رپورٹ کے مطابق یہ حیران کن نہیں کہ مالی بے ضابطگیوں، خرد برد اور بدعنوانی کے کھربوں روپے مالیت کے کیسز ہر سال بے نقاب ہوتے رہتے ہیں۔</p>
<p>آئی ایم ایف نے کہا کہ ایک مؤثر اندرونی کنٹرول کا نظام ایسے ماحول کی تشکیل کے لیے ضروری ہے جو عوامی وسائل کے استعمال سے متعلق مناسب فیصلوں کو یقینی بنائے اور ان فیصلوں پر واضح جوابدہی بھی قائم کرے، جس میں انتظامی ڈھانچوں کے ذریعے نگرانی اور اعلیٰ آڈٹ اداروں اور پارلیمنٹ کے ذریعے بیرونی نگرانی شامل ہو۔</p>
<p>فنڈ کے مطابق اندرونی اور بیرونی دونوں آڈٹ کسی بھی ادارے کے آپریشنز اور مالی رپورٹنگ کی شفافیت برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہیں، جو بدعنوانی کے خطرے کو کم کرتے ہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان میں اندرونی آڈٹ کمزور ہے، پبلک فنانس مینجمنٹ (پی ایف ایم) ایکٹ 2019 کے مطابق ہر ڈویژن میں چیف انٹرنل آڈیٹر (سی آئی اے) کی تقرری ضروری تھی، جو 2020 تک پرنسپل اکاؤنٹنگ افسران کے ساتھ براہِ راست کام کرتے۔</p>
<p>آئی ایم ایف نے بتایا کہ اس کے باوجود سی آئی ایز کی تقرری پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق 25 چیف فنانس اینڈ اکاؤنٹس افسران (سی ایف اے اوز) وزارتوں میں مالی امور کے لیے کام کر رہے ہیں، لیکن سی آئی ایز تمام وزارتوں و ڈویژنز میں تعینات نہیں کیے گئے، جب کہ 15 وزارتوں اور ڈویژنز میں سی ایف اے اوز بھی موجود نہیں، یوں چھ سال گزرنے کے باوجود پی ایف ایم ایکٹ 2019 پر مکمل عمل درآمد اب بھی ایک خواب ہے۔</p>
<p>مزید کہا گیا کہ جن وزارتوں اور ڈویژنز میں سی ایف اے اوز موجود ہیں وہاں بھی اندرونی آڈٹ رپورٹس پر مستقل مزاجی، دلچسپی اور فالو اپ کا فقدان ہے۔</p>
<p>فنڈ نے سوال اٹھایا کہ آڈیٹر جنرل کا دفتر اب تک فیڈرل سیکریٹریٹ کا منسلک ادارہ کیوں ہے، جس کے باعث مکمل خود مختاری حاصل نہیں ہوتی۔</p>
<p>آئین کے آرٹیکل 171 اور پاکستان آڈٹ آرڈیننس 2001 کے آرٹیکل 7 کے مطابق اے جی پی کو وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں کے محکموں کے اخراجات اور مالیاتی حسابات کی توثیق کرنا ہوتی ہے اور تصدیق شدہ رپورٹس بالترتیب صدر اور گورنرز کو پیش کی جاتی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1268758/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1268758"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>رپورٹ کے مطابق منسلک ادارے کی حیثیت کے باعث آڈیٹر جنرل براہ راست پارلیمنٹ کو رپورٹ نہیں کرتا بلکہ وفاقی سیکریٹریٹ، وزیر اعظم اور صدر کے ذریعے رپورٹ کرتا ہے، جو آڈٹ کے آزادانہ اور غیر جانبدارانہ عمل کو متاثر کر سکتا ہے۔</p>
<p>مزید یہ کہ آڈیٹر جنرل کے دفتر کو آڈیٹرز کی بھرتی کے لیے فیڈرل پبلک سروس کمیشن کی منظوری درکار ہوتی ہے۔</p>
<p>او اے جی نے آئی ایم ایف کو بتایا کہ انہیں عملے کی شدید کمی کا سامنا ہے، یعنی ایک ہزار 500 ملازمین کی کمی، کیونکہ مالی پابندیوں کے باعث بھرتیوں کی منظوری نہیں مل رہی۔</p>
<p>اگرچہ آڈیٹر جنرل کا بجٹ ایسا ہوتا ہے جس پر پارلیمنٹ سے منظوری نہیں لینی پڑتی، لیکن پھر بھی اس بجٹ کو جاری کرنے کے لیے انہیں فنانس ڈویژن سے اجازت لینا ہوتی ہے اور یہ اجازت اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ سرکاری خزانے میں پیسے موجود ہیں یا نہیں، اس وجہ سے آڈیٹر جنرل کا دفتر پوری طرح آزادانہ طور پر کام نہیں کر پاتا۔</p>
<p>مسئلہ اس وقت اور بڑھ جاتا ہے جب آڈٹ رپورٹس بہت لمبی ہوتی ہیں، ان میں پرانی سفارشات بار بار دہرائی جاتی ہیں اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) ان رپورٹس کا بروقت جائزہ نہیں لیتی۔</p>
<p>آڈیٹر جنرل کا دفتر ہر سال 6 ہزار سے زیادہ رپورٹس بناتا ہے، لیکن پی اے سی اور متعلقہ وزارتیں ان پر تقریباً کوئی کارروائی نہیں کرتیں، اسی وجہ سے سپریم آڈٹ ادارے کی 34 ہزار میں سے 75 فیصد سفارشات اب تک پی اے سی میں زیرِ غور نہیں آئیں۔</p>
<p>مزید کہا گیا کہ بعض رپورٹس ہزاروں صفحات پر مشتمل ہوتی ہیں، جن میں برسوں سے موجود ایک ہی نوعیت کی سفارشات دہرائی جاتی ہیں کیونکہ متعلقہ ادارے ان بے ضابطگیوں کو دور نہیں کرتے، مثال کے طور پر وفاقی حکومت کی کمپلائنس آڈٹ رپورٹ برائے 24-2023 چار ہزار صفحات پر مشتمل ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ آڈٹ اعتراضات اور سفارشات کے جواب یا ان پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے کوئی نظام موجود نہیں، جس سے آڈٹ کے اثرات اور افادیت مزید کم ہوجاتی ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا کہ ایسا نظام بنایا جائے جس کے تحت حکومتی اداروں کو آڈٹ سفارشات اور پی اے سی کے احکامات نہ ماننے پر جوابدہ ٹھہرایا جا سکے۔</p>
<p>فنڈ نے تجویز دی کہ پی اے سی کے قواعد و ضوابط اور اے جی پی ایکٹ میں مناسب ترامیم کی جائیں تاکہ ان اداروں کو اپنے احکامات پر عملدرآمد یقینی بنانے کے اختیارات مل سکیں۔</p>
<p>آئی ایم ایف نے آئندہ کے لیے سفارش کی کہ آڈٹ رپورٹس کو مختصر اور اہم ترین سفارشات تک محدود کیا جائے اور مسائل کو ان کی اہمیت اور ہنگامی نوعیت کے مطابق مرتب کیا جائے، جن کی وضاحت کے لیے ٹریفک لائٹس جیسے بصری نظام بھی استعمال کیے جائیں۔</p>
<p>اسی طرح پارلیمانی نگرانی کو مضبوط بنایا جائے، پی اے سی کو آڈٹ رپورٹس کے بروقت جائزے کا پابند کیا جائے اور عملدرآمد کی نگرانی کے لیے مرکزی سیکریٹریٹ کے ذریعے ایک ٹریکنگ سسٹم قائم کیا جائے تاکہ شفافیت اور جوابدہی میں بہتری لائی جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274173</guid>
      <pubDate>Mon, 24 Nov 2025 11:47:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خلیق کیانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/24091948c222063.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/24091948c222063.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ایم ایف کی مدد سے غیر ملکی قرضوں میں 33 فیصد اضافہ، 4 ماہ میں نصف ہدف حاصل کرلیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274020/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان نے مالی سال 2026 کے پہلے چار ماہ میں غیر ملکی قرضوں میں 33 فیصد اضافہ دیکھا ہے، جس کی بڑی وجہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی معاونت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1956207/foreign-loan-inflows-surge-33pc-in-july-oct"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق پاکستان میں غیر ملکی قرضوں کی آمدنی مالی سال 26-2025 کے پہلے چار ماہ میں 33 فیصد سے زیادہ بڑھ کر 2 ارب 29 کروڑ 30 لاکھ ڈالر ہو گئی، جس کی بنیادی وجہ آئی ایم ایف کی معاونت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی بدولت حکومت نئے مالی سال کا آغاز بہتر طریقے سے کر سکی، جب کہ گزشتہ سال آئی ایم ایف کی مدد نہ ہونے کی وجہ سے شروعات کمزور رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی سے اکتوبر کے دوران کل غیر ملکی آمدنی (قرضے اور گرانٹس دونوں) 2 ارب 29 کروڑ 30 لاکھ ڈالر رہی، جو گزشتہ سال کے 1 ارب 72 کروڑ 30 لاکھ ڈالر سے 33 فیصد زیادہ ہے، صرف اکتوبر میں آمدنی 47 کروڑ 10 لاکھ ڈالر رہی، جو گزشتہ سال کے اسی مہینے کے 41 کروڑ 40 لاکھ ڈالر سے زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں سال غیر ملکی قرضوں کی آمدنی ایک ارب 82 کروڑ 20 لاکھ ڈالر رہی، جو گزشتہ سال کے ایک ارب 30 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں 39 فیصد زیادہ ہے، لیکن گرانٹس کم ہو کر صرف 5 کروڑ 56 لاکھ ڈالر رہیں، جب کہ پچھلے سال یہ 8 کروڑ 76 لاکھ 60 ہزار ڈالر تھیں، یعنی 73 فیصد کمی ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1268758'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1268758"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2026 کے لیے حکومت نے غیر ملکی آمدنی کا ہدف 19 ارب 90 کروڑ ڈالر مقرر کیا ہے، جو پچھلے سال کے 19 ارب 40 کروڑ ڈالر سے زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی تا اکتوبر 2023 میں پاکستان نے 3 ارب 85 کروڑ ڈالر سے زیادہ حاصل کیے، جس کی بڑی وجہ آئی ایم ایف کے ساتھ نو ماہ کے اسٹینڈ بائی ایگریمنٹ (ایس بی اے) پر دستخط تھے، اس کے نتیجے میں سعودی عرب سے 2 ارب ڈالر کے ٹائم ڈپازٹ کی بڑی رقم موصول ہوئی، دراصل جولائی 2023 میں کل غیر ملکی آمدنی 5 ارب 10 کروڑ ڈالر تھی، جس میں آئی ایم ایف سے ایک ارب 20 کروڑ ڈالر اور متحدہ عرب امارات سے ایک ارب ڈالر شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت اقتصادی امور نے بدھ کو بتایا کہ مالی سال 2026 کے پہلے چار ماہ میں کل غیر ملکی آمدنی 2 ارب 29 کروڑ 30 لاکھ ڈالر رہی، جب کہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ ایک ارب 72 کروڑ 30 لاکھ ڈالر تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت کے مطابق اس میں سے 77 کروڑ 30 لاکھ ڈالر منصوبہ جاتی مالی اعانت کے لیے موصول ہوئے اور غیر منصوبہ جاتی آمدنی ایک ارب 52 کروڑ ڈالر رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی تا اکتوبر کے دوران بجٹ سپورٹ کے لیے تقریباً 73 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے قرضے موصول ہوئے، جب کہ اس سال بجٹ سپورٹ کے لیے سالانہ ہدف 13 ارب 50 کروڑ ڈالر مقرر کیا گیا ہے، گزشتہ سال یہ 15 ارب ڈالر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام چار ماہ میں سعودی آئل سہولت کے تحت 40 کروڑ ڈالر بھی حاصل کرنے میں کامیاب رہے، ہر ماہ 10 کروڑ ڈالر کی شرح سے، جب کہ سالانہ ہدف ایک ارب ڈالر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273336'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273336"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملٹی لیٹرل اداروں (آئی ایم ایف کے علاوہ) سے مکمل سال کے 5 ارب ڈالر کے ہدف کے مقابلے میں پاکستان نے چار ماہ میں ایک ارب 20 کروڑ ڈالر حاصل کیے، جب کہ پچھلے سال اسی عرصے میں یہ رقم 72 کروڑ ڈالر تھی، جب سالانہ ہدف 4 ارب 50 کروڑ ڈالر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوطرفہ قرض دہندگان (تین اسٹریٹجک دوست ممالک کے علاوہ) سے اس سال کے پہلے دو ماہ میں کل آمدنی 44 کروڑ 90 لاکھ ڈالر رہی، جو سالانہ ہدف ایک ارب 36 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں کم تھی، لیکن پچھلے سال کے 26 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں 73 فیصد زیادہ تھی، جب مکمل سال کا ہدف 52 کروڑ 30 لاکھ ڈالر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ میں دوطرفہ اور کثیرطرفہ قرض دہندگان سے کل آمدنی ایک ارب 55 کروڑ 80 لاکھ ڈالر رہی، جب کہ سالانہ ہدف 6 ارب 40 کروڑ ڈالر مقرر تھا۔ گزشتہ سال حکومت نے ان ذرائع سے 98 کروڑ 10 لاکھ ڈالر حاصل کیے تھے، جب کہ سالانہ ہدف 5 ارب 5 کروڑ ڈالر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی پاکستانیوں سے آمدنی موجودہ مالی سال کے پہلے چار ماہ میں نیا پاکستان سرٹیفیکیٹس کے ذریعے 73 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال 54 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تھی، حکومت نے رواں سال ان سرٹیفکیٹس کے ذریعے مجموعی طور پر 60 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کی آمدنی کا تخمینہ لگایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ مالی سال کے 19 ارب 90 کروڑ ڈالر کے مکمل سالانہ ہدف میں 6 ارب 40 کروڑ ڈالر کثیرطرفہ اور دوطرفہ قرض دہندگان سے شامل ہیں، جس میں 5 ارب 5 کروڑ ڈالر کثیرطرفہ اداروں سے اور ایک ارب 36 کروڑ ڈالر دوطرفہ قرض دہندگان سے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ 40 کروڑ ڈالر بین الاقوامی بانڈز، 3 ارب 10 کروڑ ڈالر غیر ملکی تجارتی قرضے، 5 ارب ڈالر سعودی عرب کے ٹائم ڈپازٹ اور 4 ارب ڈالر چین کے سیف ڈپازٹ میں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان نے مالی سال 2026 کے پہلے چار ماہ میں غیر ملکی قرضوں میں 33 فیصد اضافہ دیکھا ہے، جس کی بڑی وجہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی معاونت ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1956207/foreign-loan-inflows-surge-33pc-in-july-oct">رپورٹ</a></strong> کے مطابق پاکستان میں غیر ملکی قرضوں کی آمدنی مالی سال 26-2025 کے پہلے چار ماہ میں 33 فیصد سے زیادہ بڑھ کر 2 ارب 29 کروڑ 30 لاکھ ڈالر ہو گئی، جس کی بنیادی وجہ آئی ایم ایف کی معاونت ہے۔</p>
<p>اس کی بدولت حکومت نئے مالی سال کا آغاز بہتر طریقے سے کر سکی، جب کہ گزشتہ سال آئی ایم ایف کی مدد نہ ہونے کی وجہ سے شروعات کمزور رہی تھی۔</p>
<p>جولائی سے اکتوبر کے دوران کل غیر ملکی آمدنی (قرضے اور گرانٹس دونوں) 2 ارب 29 کروڑ 30 لاکھ ڈالر رہی، جو گزشتہ سال کے 1 ارب 72 کروڑ 30 لاکھ ڈالر سے 33 فیصد زیادہ ہے، صرف اکتوبر میں آمدنی 47 کروڑ 10 لاکھ ڈالر رہی، جو گزشتہ سال کے اسی مہینے کے 41 کروڑ 40 لاکھ ڈالر سے زیادہ ہے۔</p>
<p>رواں سال غیر ملکی قرضوں کی آمدنی ایک ارب 82 کروڑ 20 لاکھ ڈالر رہی، جو گزشتہ سال کے ایک ارب 30 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں 39 فیصد زیادہ ہے، لیکن گرانٹس کم ہو کر صرف 5 کروڑ 56 لاکھ ڈالر رہیں، جب کہ پچھلے سال یہ 8 کروڑ 76 لاکھ 60 ہزار ڈالر تھیں، یعنی 73 فیصد کمی ہوئی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1268758'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1268758"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مالی سال 2026 کے لیے حکومت نے غیر ملکی آمدنی کا ہدف 19 ارب 90 کروڑ ڈالر مقرر کیا ہے، جو پچھلے سال کے 19 ارب 40 کروڑ ڈالر سے زیادہ ہے۔</p>
<p>جولائی تا اکتوبر 2023 میں پاکستان نے 3 ارب 85 کروڑ ڈالر سے زیادہ حاصل کیے، جس کی بڑی وجہ آئی ایم ایف کے ساتھ نو ماہ کے اسٹینڈ بائی ایگریمنٹ (ایس بی اے) پر دستخط تھے، اس کے نتیجے میں سعودی عرب سے 2 ارب ڈالر کے ٹائم ڈپازٹ کی بڑی رقم موصول ہوئی، دراصل جولائی 2023 میں کل غیر ملکی آمدنی 5 ارب 10 کروڑ ڈالر تھی، جس میں آئی ایم ایف سے ایک ارب 20 کروڑ ڈالر اور متحدہ عرب امارات سے ایک ارب ڈالر شامل تھے۔</p>
<p>وزارت اقتصادی امور نے بدھ کو بتایا کہ مالی سال 2026 کے پہلے چار ماہ میں کل غیر ملکی آمدنی 2 ارب 29 کروڑ 30 لاکھ ڈالر رہی، جب کہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ ایک ارب 72 کروڑ 30 لاکھ ڈالر تھی۔</p>
<p>وزارت کے مطابق اس میں سے 77 کروڑ 30 لاکھ ڈالر منصوبہ جاتی مالی اعانت کے لیے موصول ہوئے اور غیر منصوبہ جاتی آمدنی ایک ارب 52 کروڑ ڈالر رہی۔</p>
<p>جولائی تا اکتوبر کے دوران بجٹ سپورٹ کے لیے تقریباً 73 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے قرضے موصول ہوئے، جب کہ اس سال بجٹ سپورٹ کے لیے سالانہ ہدف 13 ارب 50 کروڑ ڈالر مقرر کیا گیا ہے، گزشتہ سال یہ 15 ارب ڈالر تھا۔</p>
<p>حکام چار ماہ میں سعودی آئل سہولت کے تحت 40 کروڑ ڈالر بھی حاصل کرنے میں کامیاب رہے، ہر ماہ 10 کروڑ ڈالر کی شرح سے، جب کہ سالانہ ہدف ایک ارب ڈالر تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273336'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273336"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ملٹی لیٹرل اداروں (آئی ایم ایف کے علاوہ) سے مکمل سال کے 5 ارب ڈالر کے ہدف کے مقابلے میں پاکستان نے چار ماہ میں ایک ارب 20 کروڑ ڈالر حاصل کیے، جب کہ پچھلے سال اسی عرصے میں یہ رقم 72 کروڑ ڈالر تھی، جب سالانہ ہدف 4 ارب 50 کروڑ ڈالر تھا۔</p>
<p>دوطرفہ قرض دہندگان (تین اسٹریٹجک دوست ممالک کے علاوہ) سے اس سال کے پہلے دو ماہ میں کل آمدنی 44 کروڑ 90 لاکھ ڈالر رہی، جو سالانہ ہدف ایک ارب 36 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں کم تھی، لیکن پچھلے سال کے 26 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں 73 فیصد زیادہ تھی، جب مکمل سال کا ہدف 52 کروڑ 30 لاکھ ڈالر تھا۔</p>
<p>رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ میں دوطرفہ اور کثیرطرفہ قرض دہندگان سے کل آمدنی ایک ارب 55 کروڑ 80 لاکھ ڈالر رہی، جب کہ سالانہ ہدف 6 ارب 40 کروڑ ڈالر مقرر تھا۔ گزشتہ سال حکومت نے ان ذرائع سے 98 کروڑ 10 لاکھ ڈالر حاصل کیے تھے، جب کہ سالانہ ہدف 5 ارب 5 کروڑ ڈالر تھا۔</p>
<p>غیر ملکی پاکستانیوں سے آمدنی موجودہ مالی سال کے پہلے چار ماہ میں نیا پاکستان سرٹیفیکیٹس کے ذریعے 73 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال 54 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تھی، حکومت نے رواں سال ان سرٹیفکیٹس کے ذریعے مجموعی طور پر 60 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کی آمدنی کا تخمینہ لگایا ہے۔</p>
<p>موجودہ مالی سال کے 19 ارب 90 کروڑ ڈالر کے مکمل سالانہ ہدف میں 6 ارب 40 کروڑ ڈالر کثیرطرفہ اور دوطرفہ قرض دہندگان سے شامل ہیں، جس میں 5 ارب 5 کروڑ ڈالر کثیرطرفہ اداروں سے اور ایک ارب 36 کروڑ ڈالر دوطرفہ قرض دہندگان سے ہیں۔</p>
<p>اس کے علاوہ 40 کروڑ ڈالر بین الاقوامی بانڈز، 3 ارب 10 کروڑ ڈالر غیر ملکی تجارتی قرضے، 5 ارب ڈالر سعودی عرب کے ٹائم ڈپازٹ اور 4 ارب ڈالر چین کے سیف ڈپازٹ میں شامل ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274020</guid>
      <pubDate>Thu, 20 Nov 2025 15:07:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خلیق کیانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/2011034042803c1.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/2011034042803c1.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ایم ایف کے مطالبے پر حکومت 2026 سے اعلیٰ عہدیداروں کے اثاثے عام کرے گی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274062/</link>
      <description>&lt;p&gt;عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے ملک کے سب سے بڑے احتسابی ادارے، قومی احتساب بیورو (نیب) کو سیاسی سمجھوتہ قرار دیے جانے کے بعد حکومت نے اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کے اثاثہ جات کے گوشواروں کو 2026 میں شائع کرنے پر اتفاق کر لیا، تاکہ ملک میں بدعنوانی کے پھیلاؤ کے خلاف احتساب اور شفافیت کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1956398/govt-agrees-on-asset-declaration-reforms-to-combat-corruption"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ آئی ایم ایف کی گورننس اور کرپشن ڈائگناسٹک اسیسمنٹ (جی سی ڈی اے) کے مطابق (جو 7 ارب ڈالر کے قرضہ پروگرام کا ایک اسٹرکچرل بینچ مارک ہے)، دونوں فریقین نے قریبی مدت کے ایکشن پلان کے تحت وفاقی سول سروس کے اعلیٰ عہدیداروں میں احتساب اور شفافیت کو مضبوط بنانے کے لیے 2026 میں اثاثہ جات کے گوشواروں کی اشاعت کا آغاز کرنے اور ان گوشواروں کی رسک بیسڈ تصدیق متعارف کروانے پر اتفاق کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طویل المدتی منصوبے کے تحت دونوں فریقین نے اتفاق کیا ہے کہ اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کے اثاثہ جات کے گوشواروں کو جمع کرنے، ڈیجیٹل بنانے اور شائع کرنے کے لیے ایک مرکزی اتھارٹی قائم کرنے پر غور کیا جائے، جس کے پاس رسک بیسڈ تصدیق کے لیے مناسب اختیارات اور وسائل موجود ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، آئی ایم ایف پروگرام کی مدت ختم ہونے کے باعث یہ منصوبہ غیر واضح مستقبل کا شکار ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درمیانی مدت میں قرض دینے والے ادارے نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نیب کے سربراہ کے تقرری کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے، تحقیقاتی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے اور مضبوط اندرونی احتسابی نظام قائم کرنے کے ذریعے اعلیٰ سطح کی کرپشن کی تحقیقات میں نیب کی آزادی اور مؤثریت کو بڑھایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1229116/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1229116"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ نے سرکاری مشینری، خاص طور پر سینئر ریونیو حکام، کے اندر کرپشن سے متعلق تادیبی کارروائیوں کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اُن کے تحقیقاتی اختیارات صرف انٹرویوز کرنے اور اثاثہ جات کے گوشوارے چیک کرنے تک محدود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا کہ ان کی سزا معمولی (ترقی روک دینا) سے لے کر بڑی (ملازمت سے برطرفی) تک ہو سکتی ہے، لیکن اس میں فوجداری کارروائی شامل نہیں ہے، حالانکہ فوجداری کارروائی قانونی طور پر ممکن ہے لیکن عملی طور پر بہت کم کی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) حالیہ برسوں میں فوجداری مقدمات کی تعداد سے متعلق ڈیٹا فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق اگرچہ فوجداری مقدمات بدعنوانی کے خلاف روک تھام کا سبب بن سکتے ہیں لیکن اس کا مؤثر اثر محدود رہتا ہے کیونکہ اس کا اطلاق بہت کم ہوتا ہے اور اعلیٰ عہدیدار عملی طور پر استثنیٰ رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید کہاگیا کہ صوبوں میں، اینٹی کرپشن ایجنسیاں تحقیقات شروع کرنے سے قبل اعلیٰ صوبائی حکام سے اجازت لینے کی پابند ہیں جب کہ پاکستان کے اس سیاسی نظام کے تناظر میں، یہ خطرہ موجود ہے کہ کرپشن کی تحقیقات اُن افراد کے خلاف آگے نہ بڑھ سکیں جو صوبائی حکمرانوں کے اتحادی یا حمایت یافتہ ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں، تحقیقاتی صلاحیتوں اور تربیت کو مزید نقصان اس وجہ سے ہوتا ہے کہ ان ایجنسیوں کو نادرا، ٹیکس معلومات، اثاثہ جات کے گوشواروں اور بینک اکاؤنٹس جیسے ڈیٹا بیس تک رسائی حاصل نہیں ہوتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق سرکاری افسران کے اثاثہ جات کے گوشواروں کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ وہ سخت رسک بیسڈ تصدیق کے تابع نہیں، جو بدعنوانی کی روک تھام میں اس نظام کے مؤثر کردار کو کمزور کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، پاکستان میں اثاثہ جات کے گوشواروں کا نظام بکھرا ہوا ہے، سرکاری ملازمین یا عوامی عہدیداروں، خدمات انجام دینے والے فوجی اہلکاروں اور عدلیہ کے لیے اثاثہ جات کے گوشواروں کے تقاضے الگ الگ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوجی اہلکاروں کے لیے اثاثہ جات کے گوشواروں کے جو قواعد ہیں وہ عام نہیں کیے جاتے جب کہ تمام عوامی عہدیدار اور وفاقی و صوبائی سرکاری ملازمین، بطور ٹیکس دہندگان، انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت سالانہ انکم ٹیکس ریٹرن اور ویلتھ اسٹیٹمنٹ جمع کروانے کے پابند ہیں، لیکن یہ ٹیکس کے مقاصد کے لیے ہوتی ہیں، انسدادِ بدعنوانی کے مقاصد کے لیے نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدلیہ کے معاملے میں، ہر جج کو اپنے اثاثہ جات کے گوشوارے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو جمع کروانے ہوتے ہیں، تاہم یہ بھی عوام کے لیے عام نہیں کیے جاتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ نیب کے چیئرمین اور دیگر سینئر افسران کے اثاثہ جات کے گوشوارے بھی رازداری کے مسائل کے باعث ظاہر نہیں کیے جا سکتے، یہ انتہائی اہم ہے کہ اثاثہ جات کے گوشوارے جمع کرنے اور ان کی تصدیق کے لیے ایک مضبوط، آزاد اور قابلِ اعتبار نظام موجود ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ طرزِ زندگی کی نگرانی یعنی سرکاری اہلکار کے معیارِ زندگی اور اُن کی ظاہر کردہ آمدن اور اثاثہ جات کا تقابل بھی غیرقانونی دولت کے سراغ تک پہنچنے اور بدعنوانی کی روک تھام کے لیے ایک موثر طریقہ ثابت ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق نیب کے چیئرمین کی تقرری کا موجودہ طریقہ ’سیاسی سمجھوتہ‘ ہے، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان چیئرمین نیب کے انتخاب پر اتفاق رائے میرٹ پر مبنی، کھلی اور مسابقتی تقرری کے عمل کے بجائے سیاسی سمجھوتوں کا باعث بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی انسدادِ بدعنوانی کے بہترین طریقوں کے مطابق رپورٹ نے تجویز پیش کی کہ چیئرمین نیب کے تقرری کا عمل اس طرح بہتر بنایا جائے کہ انتظامیہ، اپوزیشن، عدلیہ، سول سروس، اکیڈمیا اور سول سوسائٹی کے نمائندوں پر مشتمل ایک ملٹی اسٹیک ہولڈر کمیشن کھلے، اصولوں پر مبنی، سخت اور شفاف مقابلے کے ذریعے انتخاب کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ پراسیکیوٹرز اور چیئرمین نیب کے لیے موجودہ اہلیت کے معیارات بہت وسیع ہیں اور صرف ریٹائرڈ اعلیٰ عہدیداروں (سابق چیف جسٹس یا سپریم کورٹ کے جج، ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، مسلح افواج کے افسران یا گریڈ 22 کے وفاقی افسران) تک محدود ہیں، جس سے اہل امیدواروں کا دائرہ مزید سکڑ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں آئی ایم ایف نے مشورہ دیا کہ نیب کے اندرونی کنٹرول عمل کے آڈٹ کے لیے ایک خود مختار اور کثیر شراکتی نگرانی کا ادارہ تشکیل دیا جائے، تاکہ شفافیت اور ادارے کی ساکھ میں نمایاں بہتری لائی جا سکے اور سیاسی اثر و رسوخ کے خطرات کم سے کم ہوں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے ملک کے سب سے بڑے احتسابی ادارے، قومی احتساب بیورو (نیب) کو سیاسی سمجھوتہ قرار دیے جانے کے بعد حکومت نے اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کے اثاثہ جات کے گوشواروں کو 2026 میں شائع کرنے پر اتفاق کر لیا، تاکہ ملک میں بدعنوانی کے پھیلاؤ کے خلاف احتساب اور شفافیت کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1956398/govt-agrees-on-asset-declaration-reforms-to-combat-corruption"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ آئی ایم ایف کی گورننس اور کرپشن ڈائگناسٹک اسیسمنٹ (جی سی ڈی اے) کے مطابق (جو 7 ارب ڈالر کے قرضہ پروگرام کا ایک اسٹرکچرل بینچ مارک ہے)، دونوں فریقین نے قریبی مدت کے ایکشن پلان کے تحت وفاقی سول سروس کے اعلیٰ عہدیداروں میں احتساب اور شفافیت کو مضبوط بنانے کے لیے 2026 میں اثاثہ جات کے گوشواروں کی اشاعت کا آغاز کرنے اور ان گوشواروں کی رسک بیسڈ تصدیق متعارف کروانے پر اتفاق کیا ہے۔</p>
<p>طویل المدتی منصوبے کے تحت دونوں فریقین نے اتفاق کیا ہے کہ اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کے اثاثہ جات کے گوشواروں کو جمع کرنے، ڈیجیٹل بنانے اور شائع کرنے کے لیے ایک مرکزی اتھارٹی قائم کرنے پر غور کیا جائے، جس کے پاس رسک بیسڈ تصدیق کے لیے مناسب اختیارات اور وسائل موجود ہوں۔</p>
<p>تاہم، آئی ایم ایف پروگرام کی مدت ختم ہونے کے باعث یہ منصوبہ غیر واضح مستقبل کا شکار ہو سکتا ہے۔</p>
<p>درمیانی مدت میں قرض دینے والے ادارے نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نیب کے سربراہ کے تقرری کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے، تحقیقاتی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے اور مضبوط اندرونی احتسابی نظام قائم کرنے کے ذریعے اعلیٰ سطح کی کرپشن کی تحقیقات میں نیب کی آزادی اور مؤثریت کو بڑھایا جائے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1229116/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1229116"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>رپورٹ نے سرکاری مشینری، خاص طور پر سینئر ریونیو حکام، کے اندر کرپشن سے متعلق تادیبی کارروائیوں کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اُن کے تحقیقاتی اختیارات صرف انٹرویوز کرنے اور اثاثہ جات کے گوشوارے چیک کرنے تک محدود ہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا کہ ان کی سزا معمولی (ترقی روک دینا) سے لے کر بڑی (ملازمت سے برطرفی) تک ہو سکتی ہے، لیکن اس میں فوجداری کارروائی شامل نہیں ہے، حالانکہ فوجداری کارروائی قانونی طور پر ممکن ہے لیکن عملی طور پر بہت کم کی جاتی ہے۔</p>
<p>فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) حالیہ برسوں میں فوجداری مقدمات کی تعداد سے متعلق ڈیٹا فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق اگرچہ فوجداری مقدمات بدعنوانی کے خلاف روک تھام کا سبب بن سکتے ہیں لیکن اس کا مؤثر اثر محدود رہتا ہے کیونکہ اس کا اطلاق بہت کم ہوتا ہے اور اعلیٰ عہدیدار عملی طور پر استثنیٰ رکھتے ہیں۔</p>
<p>مزید کہاگیا کہ صوبوں میں، اینٹی کرپشن ایجنسیاں تحقیقات شروع کرنے سے قبل اعلیٰ صوبائی حکام سے اجازت لینے کی پابند ہیں جب کہ پاکستان کے اس سیاسی نظام کے تناظر میں، یہ خطرہ موجود ہے کہ کرپشن کی تحقیقات اُن افراد کے خلاف آگے نہ بڑھ سکیں جو صوبائی حکمرانوں کے اتحادی یا حمایت یافتہ ہوں۔</p>
<p>علاوہ ازیں، تحقیقاتی صلاحیتوں اور تربیت کو مزید نقصان اس وجہ سے ہوتا ہے کہ ان ایجنسیوں کو نادرا، ٹیکس معلومات، اثاثہ جات کے گوشواروں اور بینک اکاؤنٹس جیسے ڈیٹا بیس تک رسائی حاصل نہیں ہوتی۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق سرکاری افسران کے اثاثہ جات کے گوشواروں کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ وہ سخت رسک بیسڈ تصدیق کے تابع نہیں، جو بدعنوانی کی روک تھام میں اس نظام کے مؤثر کردار کو کمزور کرتا ہے۔</p>
<p>مزید برآں، پاکستان میں اثاثہ جات کے گوشواروں کا نظام بکھرا ہوا ہے، سرکاری ملازمین یا عوامی عہدیداروں، خدمات انجام دینے والے فوجی اہلکاروں اور عدلیہ کے لیے اثاثہ جات کے گوشواروں کے تقاضے الگ الگ ہیں۔</p>
<p>فوجی اہلکاروں کے لیے اثاثہ جات کے گوشواروں کے جو قواعد ہیں وہ عام نہیں کیے جاتے جب کہ تمام عوامی عہدیدار اور وفاقی و صوبائی سرکاری ملازمین، بطور ٹیکس دہندگان، انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت سالانہ انکم ٹیکس ریٹرن اور ویلتھ اسٹیٹمنٹ جمع کروانے کے پابند ہیں، لیکن یہ ٹیکس کے مقاصد کے لیے ہوتی ہیں، انسدادِ بدعنوانی کے مقاصد کے لیے نہیں۔</p>
<p>عدلیہ کے معاملے میں، ہر جج کو اپنے اثاثہ جات کے گوشوارے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو جمع کروانے ہوتے ہیں، تاہم یہ بھی عوام کے لیے عام نہیں کیے جاتے۔</p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ نیب کے چیئرمین اور دیگر سینئر افسران کے اثاثہ جات کے گوشوارے بھی رازداری کے مسائل کے باعث ظاہر نہیں کیے جا سکتے، یہ انتہائی اہم ہے کہ اثاثہ جات کے گوشوارے جمع کرنے اور ان کی تصدیق کے لیے ایک مضبوط، آزاد اور قابلِ اعتبار نظام موجود ہو۔</p>
<p>رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ طرزِ زندگی کی نگرانی یعنی سرکاری اہلکار کے معیارِ زندگی اور اُن کی ظاہر کردہ آمدن اور اثاثہ جات کا تقابل بھی غیرقانونی دولت کے سراغ تک پہنچنے اور بدعنوانی کی روک تھام کے لیے ایک موثر طریقہ ثابت ہوسکتا ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق نیب کے چیئرمین کی تقرری کا موجودہ طریقہ ’سیاسی سمجھوتہ‘ ہے، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان چیئرمین نیب کے انتخاب پر اتفاق رائے میرٹ پر مبنی، کھلی اور مسابقتی تقرری کے عمل کے بجائے سیاسی سمجھوتوں کا باعث بنتا ہے۔</p>
<p>عالمی انسدادِ بدعنوانی کے بہترین طریقوں کے مطابق رپورٹ نے تجویز پیش کی کہ چیئرمین نیب کے تقرری کا عمل اس طرح بہتر بنایا جائے کہ انتظامیہ، اپوزیشن، عدلیہ، سول سروس، اکیڈمیا اور سول سوسائٹی کے نمائندوں پر مشتمل ایک ملٹی اسٹیک ہولڈر کمیشن کھلے، اصولوں پر مبنی، سخت اور شفاف مقابلے کے ذریعے انتخاب کرے۔</p>
<p>رپورٹ نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ پراسیکیوٹرز اور چیئرمین نیب کے لیے موجودہ اہلیت کے معیارات بہت وسیع ہیں اور صرف ریٹائرڈ اعلیٰ عہدیداروں (سابق چیف جسٹس یا سپریم کورٹ کے جج، ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، مسلح افواج کے افسران یا گریڈ 22 کے وفاقی افسران) تک محدود ہیں، جس سے اہل امیدواروں کا دائرہ مزید سکڑ جاتا ہے۔</p>
<p>آخر میں آئی ایم ایف نے مشورہ دیا کہ نیب کے اندرونی کنٹرول عمل کے آڈٹ کے لیے ایک خود مختار اور کثیر شراکتی نگرانی کا ادارہ تشکیل دیا جائے، تاکہ شفافیت اور ادارے کی ساکھ میں نمایاں بہتری لائی جا سکے اور سیاسی اثر و رسوخ کے خطرات کم سے کم ہوں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274062</guid>
      <pubDate>Fri, 21 Nov 2025 12:45:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خلیق کیانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/2110201383e576b.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/2110201383e576b.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سولر نیٹ میٹرنگ قومی گرڈ کو نقصان نہیں پہنچا رہی، حکومت کا اعتراف</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273972/</link>
      <description>&lt;p&gt;شمسی توانائی کے موضوع پر ایک نئے تناظر میں حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ نیٹ میٹرنگ کے ذریعے شمسی توانائی کے بڑھنے سے اب تک قومی گرڈ پر وہ منفی اثر نہیں پڑا جو اکثر کہا جاتا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1955930/govt-says-rooftop-solar-not-hurting-grid"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے سی ای او ریحان اختر نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا کہ ’شمسی توانائی کی پیداوار بڑھ رہی ہے، لیکن اس کا گرڈ پر کوئی اہم اثر نہیں پڑ رہا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی پی پی اے بجلی کی خریداری اور تمام ڈسٹری بیوشن کمپنیوں تک فراہم کرنے کے معاملات اور ان کے تجارتی امور سنبھالنے کے لیے کام کرنے والا مرکزی ادارہ ہے، جو پاور ڈویژن کے تحت کام کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریحان اختر نے کہا کہ بجلی کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے شمسی توانائی کی طرف منتقلی کو بڑھا دیا ہے، اب صارفین سولر کی دستیابی کی وجہ سے زیادہ بجلی استعمال کر رہے ہیں، لیکن قومی گرڈ سے ان کی کھپت میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی، ان کا گرڈ سے بجلی لینا تقریباً مستحکم ہے، وہ اتنی ہی مقدار لے رہے ہیں جتنی پہلے لے رہے تھے، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ مستقبل کے بارے میں یہی نہیں کہا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1263838'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1263838"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ باتیں سی پی پی اے کی جانب سے جنوری 2026 سے پاور پرچیز پرائس (پی پی پی) میں دوبارہ بنیاد رکھنے کی درخواست پر نیپرا میں ہونے والی عوامی سماعت کے دوران سامنے آئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی پی پی اے نے جنوری 2026 سے ٹیرف میں ممکنہ ترامیم کے 5 مختلف اندازے پیش کیے۔ ان اندازوں میں اوسط پاور پرچیز پرائس 25.95 روپے فی یونٹ سے 26.53 روپے فی یونٹ کے درمیان رکھی گئی، جہاں مہنگائی یا کرنسی کی کمزوری کے بدترین منظرنامے میں ڈالر 300 سے 310 روپے تک جا سکتا ہے جبکہ موجودہ شرح 280 سے 290 روپے فی ڈالر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ مالی سال 2026 کے لیے پاور پرچیز پرائس 25.98 روپے فی یونٹ ہے، جو استحکام کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق، نیٹ میٹرنگ کی شراکت 2023 کے 26 کروڑ 60 لاکھ یونٹس کے مقابلے میں 2024 میں 173 فیصد بڑھ 72 کروڑ 60 لاکھ یونٹس ہو گئی، حالانکہ پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کی مجموعی نمو صرف ایک فیصد رہی، دوسری جانب کے الیکٹرک کے گرڈ سے کھپت میں 9.4 فیصد اضافہ ہوا کیونکہ اس نے مکمل 2 ہزار 50 میگاواٹ کی کھپت شروع کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیپرا کو بتایا گیا کہ ایندھن کی قیمتیں عموماً مستحکم رہیں گی اور بدترین صورت میں عالمی قیمتوں میں 5 فیصد اضافے کا خطرہ ہے، اسی طرح، بیرونی زر مبادلہ کے ذخائر کی کمزوری کی وجہ سے مقامی کرنسی کے اگلے سال پہلے 6 ماہ میں10 روپے اور دوسرے 6 ماہ میں 10 روپے اضافے کا ایک ہی امکان ہے، سود کی شرح پہلی ششماہی میں 11 فیصد اور دوسری ششماہی میں 10.5 فیصد متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1255024'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1255024"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتی صارفین نے توانائی کی مہنگی قیمتوں پر تشویش ظاہر کی جس کی وجہ سے ان کی مصنوعات غیر مسابقتی بن گئی ہیں، انہوں نے کہا کہ صنعت اب بھی دیگر صارفین کے لیے 131 ارب روپے کی سبسڈی دے رہی ہے، اور حکومت کی جانب سے اعلان کردہ تمام ٹیرف میں کمی پہلے ہی ختم ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ سی پی پی اے کا یہ حساب کہ طلب میں اضافہ ہوگا، زمینی حقائق کے مطابق نہیں ہے، کیونکہ توانائی کی زیادہ قیمتوں، صنعتوں کے بند ہونے اور سولر توانائی کی طرف منتقلی کی وجہ سے بجلی کی کھپت کم ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>شمسی توانائی کے موضوع پر ایک نئے تناظر میں حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ نیٹ میٹرنگ کے ذریعے شمسی توانائی کے بڑھنے سے اب تک قومی گرڈ پر وہ منفی اثر نہیں پڑا جو اکثر کہا جاتا رہا ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1955930/govt-says-rooftop-solar-not-hurting-grid"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے سی ای او ریحان اختر نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا کہ ’شمسی توانائی کی پیداوار بڑھ رہی ہے، لیکن اس کا گرڈ پر کوئی اہم اثر نہیں پڑ رہا‘۔</p>
<p>سی پی پی اے بجلی کی خریداری اور تمام ڈسٹری بیوشن کمپنیوں تک فراہم کرنے کے معاملات اور ان کے تجارتی امور سنبھالنے کے لیے کام کرنے والا مرکزی ادارہ ہے، جو پاور ڈویژن کے تحت کام کرتا ہے۔</p>
<p>ریحان اختر نے کہا کہ بجلی کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے شمسی توانائی کی طرف منتقلی کو بڑھا دیا ہے، اب صارفین سولر کی دستیابی کی وجہ سے زیادہ بجلی استعمال کر رہے ہیں، لیکن قومی گرڈ سے ان کی کھپت میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی، ان کا گرڈ سے بجلی لینا تقریباً مستحکم ہے، وہ اتنی ہی مقدار لے رہے ہیں جتنی پہلے لے رہے تھے، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ مستقبل کے بارے میں یہی نہیں کہا جا سکتا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1263838'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1263838"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یہ باتیں سی پی پی اے کی جانب سے جنوری 2026 سے پاور پرچیز پرائس (پی پی پی) میں دوبارہ بنیاد رکھنے کی درخواست پر نیپرا میں ہونے والی عوامی سماعت کے دوران سامنے آئیں۔</p>
<p>سی پی پی اے نے جنوری 2026 سے ٹیرف میں ممکنہ ترامیم کے 5 مختلف اندازے پیش کیے۔ ان اندازوں میں اوسط پاور پرچیز پرائس 25.95 روپے فی یونٹ سے 26.53 روپے فی یونٹ کے درمیان رکھی گئی، جہاں مہنگائی یا کرنسی کی کمزوری کے بدترین منظرنامے میں ڈالر 300 سے 310 روپے تک جا سکتا ہے جبکہ موجودہ شرح 280 سے 290 روپے فی ڈالر ہے۔</p>
<p>موجودہ مالی سال 2026 کے لیے پاور پرچیز پرائس 25.98 روپے فی یونٹ ہے، جو استحکام کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔</p>
<p>رپورٹس کے مطابق، نیٹ میٹرنگ کی شراکت 2023 کے 26 کروڑ 60 لاکھ یونٹس کے مقابلے میں 2024 میں 173 فیصد بڑھ 72 کروڑ 60 لاکھ یونٹس ہو گئی، حالانکہ پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کی مجموعی نمو صرف ایک فیصد رہی، دوسری جانب کے الیکٹرک کے گرڈ سے کھپت میں 9.4 فیصد اضافہ ہوا کیونکہ اس نے مکمل 2 ہزار 50 میگاواٹ کی کھپت شروع کی۔</p>
<p>نیپرا کو بتایا گیا کہ ایندھن کی قیمتیں عموماً مستحکم رہیں گی اور بدترین صورت میں عالمی قیمتوں میں 5 فیصد اضافے کا خطرہ ہے، اسی طرح، بیرونی زر مبادلہ کے ذخائر کی کمزوری کی وجہ سے مقامی کرنسی کے اگلے سال پہلے 6 ماہ میں10 روپے اور دوسرے 6 ماہ میں 10 روپے اضافے کا ایک ہی امکان ہے، سود کی شرح پہلی ششماہی میں 11 فیصد اور دوسری ششماہی میں 10.5 فیصد متوقع ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1255024'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1255024"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>صنعتی صارفین نے توانائی کی مہنگی قیمتوں پر تشویش ظاہر کی جس کی وجہ سے ان کی مصنوعات غیر مسابقتی بن گئی ہیں، انہوں نے کہا کہ صنعت اب بھی دیگر صارفین کے لیے 131 ارب روپے کی سبسڈی دے رہی ہے، اور حکومت کی جانب سے اعلان کردہ تمام ٹیرف میں کمی پہلے ہی ختم ہو چکی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ سی پی پی اے کا یہ حساب کہ طلب میں اضافہ ہوگا، زمینی حقائق کے مطابق نہیں ہے، کیونکہ توانائی کی زیادہ قیمتوں، صنعتوں کے بند ہونے اور سولر توانائی کی طرف منتقلی کی وجہ سے بجلی کی کھپت کم ہو رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273972</guid>
      <pubDate>Wed, 19 Nov 2025 15:45:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خلیق کیانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/191154379ba4b89.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/191154379ba4b89.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی پورٹ میں جدید بنکرنگ کا آغاز، پورٹ کی ساکھ اور آمدن میں اضافہ متوقع</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273964/</link>
      <description>&lt;p&gt;ملک کی سب سے بڑی بندرگاہ کراچی پورٹ پر پہلی بار جدید بنکرنگ کی سہولت کا آغاز کر دیا گیا ہے، جس سے توقع کی جا رہی ہے کہ نہ صرف پورٹ کی ساکھ میں اضافہ ہوگا بلکہ آمدن میں بھی بہتری آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1955932/pakistan-enters-bunkering-market-with-first-facility"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق پاکستان نے کراچی پورٹ پر پہلی بار معیاری بنکرنگ کی سہولت شروع کر دی ہے، جس سے ملک کی سب سے بڑی بندرگاہ اب عالمی معیار کے مطابق چل سکے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پورٹ پر بنکرنگ کا مطلب ہے جہازوں کو ایندھن دینا، جیسے میرین گیس آئل، ہیوی فیول آئل یا ایل این جی جو جہاز چلانے اور اس کی مشینری کے لیے استعمال ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنکرنگ ایک بہت حساس اور سخت قوانین کے تحت چلنے والا عمل ہے، جس میں زمین پر موجود ذخیرہ گاہوں، ٹینکر ٹرکس یا بنکر جہازوں سے ایندھن کو جہاز کے ٹینک میں منتقل کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو وزیرِ بحری امور جنید انور چوہدری نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد پورٹ کی خدمات کو جدید بنانا اور پاکستان کے سمندری ڈھانچے کو بہتر بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271507'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271507"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ریگولیٹڈ بنکرنگ کی سہولت کراچی پورٹ میں ایک پرانا خلا دور کرے گی اور اسے خطے اور دنیا کے دیگر بنکرنگ مراکز کے مقابلے میں زیادہ مؤثر بنائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ بحری امور نے مزید کہا کہ محفوظ، قابلِ اعتماد اور منظم بنکرنگ سہولت کی دستیابی سے توقع ہے کہ زیادہ بین الاقوامی شپنگ کمپنیاں کراچی کی بندرگاہ کا رخ کریں گی، خاص طور پر وہ جو تیز اور معیاری خدمات چاہتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں ملک میں تجارتی جہازوں کے لیے ایندھن بھرنے کی کوئی سہولت موجود نہیں تھی اور جہازوں کو ایندھن لینے کے لیے فجیرہ یا سنگاپور جانا پڑتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب ایندھن کی فراہمی اور بنکرنگ کا کام سوئس نژاد ڈچ کمپنی ’وٹول‘ اپنی بارج کے ذریعے کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران کراچی کی ریفائنری ’سینرجیکو‘ نے جہازوں کے لیے عالمی معیار کا ’ویری لو سلفر فیول آئل‘ (وی ایل ایس ایف او) تیار کرنا شروع کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سہولت اس لیے بھی ضروری ہو گئی ہے کہ بھارت نے ان جہازوں پر پابندی لگا دی ہے جو اس کی بندرگاہوں پر آتے یا وہاں سے روانہ ہوتے ہیں اور کسی پاکستانی بندرگاہ پر رک کر خدمات حاصل کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) کے ذرائع نے کہا کہ بنکرنگ سہولت کی دستیابی سے پورٹ پر جہازوں کی آمد بڑھ جائے گی، جس سے آمدن میں بھی اضافہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر بحری امور نے کہا کہ اس اقدام سے پورٹ فیس، میرین سروسز اور دیگر تجارتی سرگرمیوں جیسے مرمت، سپلائز اور میری ٹائم لاجسٹکس کے ذریعے ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنید انور چوہدری کے مطابق نئی سروس پاکستان کی عالمی سمندری مارکیٹ میں ساکھ بڑھائے گی اور ظاہر کرے گی کہ ملک جدید، ماحول دوست اور عالمی معیار کے مطابق پورٹ منیجمنٹ کے لیے پرعزم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ایندھن کے معیار، حفاظتی اقدامات، دستاویزات اور شفافیت جیسے عالمی معیارات پر عمل درآمد جہاز مالکان اور بین الاقوامی کمپنیوں کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے کہا کہ پہلے مرحلے میں دنیا کی معروف انرجی ٹریڈنگ کمپنیوں میں سے ایک کے ساتھ مل کر کراچی پورٹ پر عالمی معیار کے مطابق بنکرنگ شروع کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے مقامی ریفائنریز عالمی معیار کے مطابق زیادہ ایندھن فراہم کریں گی، منصوبے میں مزید توسیع ہوگی، جس کا براہ راست فائدہ قومی خزانے کو ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنید انور چوہدری نے بتایا کہ کے پی ٹی نے موجودہ بنکرنگ طریقہ کار کا جائزہ لیا، عالمی طریقے سیکھے، نئی دستاویزات تیار کیں اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو شامل کیا تاکہ یہ سروس فعال ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ سنگِ میل کے پی ٹی کے مقصد کو مضبوط کرتا ہے کہ وہ خطے کا اہم پورٹ ہب بنے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت پورٹ کی صلاحیتوں کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ملک کی سب سے بڑی بندرگاہ کراچی پورٹ پر پہلی بار جدید بنکرنگ کی سہولت کا آغاز کر دیا گیا ہے، جس سے توقع کی جا رہی ہے کہ نہ صرف پورٹ کی ساکھ میں اضافہ ہوگا بلکہ آمدن میں بھی بہتری آئے گی۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1955932/pakistan-enters-bunkering-market-with-first-facility">رپورٹ</a></strong> کے مطابق پاکستان نے کراچی پورٹ پر پہلی بار معیاری بنکرنگ کی سہولت شروع کر دی ہے، جس سے ملک کی سب سے بڑی بندرگاہ اب عالمی معیار کے مطابق چل سکے گی۔</p>
<p>پورٹ پر بنکرنگ کا مطلب ہے جہازوں کو ایندھن دینا، جیسے میرین گیس آئل، ہیوی فیول آئل یا ایل این جی جو جہاز چلانے اور اس کی مشینری کے لیے استعمال ہوتا ہے۔</p>
<p>بنکرنگ ایک بہت حساس اور سخت قوانین کے تحت چلنے والا عمل ہے، جس میں زمین پر موجود ذخیرہ گاہوں، ٹینکر ٹرکس یا بنکر جہازوں سے ایندھن کو جہاز کے ٹینک میں منتقل کیا جاتا ہے۔</p>
<p>منگل کو وزیرِ بحری امور جنید انور چوہدری نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد پورٹ کی خدمات کو جدید بنانا اور پاکستان کے سمندری ڈھانچے کو بہتر بنانا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271507'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271507"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے کہا کہ ریگولیٹڈ بنکرنگ کی سہولت کراچی پورٹ میں ایک پرانا خلا دور کرے گی اور اسے خطے اور دنیا کے دیگر بنکرنگ مراکز کے مقابلے میں زیادہ مؤثر بنائے گی۔</p>
<p>وزیرِ بحری امور نے مزید کہا کہ محفوظ، قابلِ اعتماد اور منظم بنکرنگ سہولت کی دستیابی سے توقع ہے کہ زیادہ بین الاقوامی شپنگ کمپنیاں کراچی کی بندرگاہ کا رخ کریں گی، خاص طور پر وہ جو تیز اور معیاری خدمات چاہتی ہیں۔</p>
<p>قبل ازیں ملک میں تجارتی جہازوں کے لیے ایندھن بھرنے کی کوئی سہولت موجود نہیں تھی اور جہازوں کو ایندھن لینے کے لیے فجیرہ یا سنگاپور جانا پڑتا تھا۔</p>
<p>اب ایندھن کی فراہمی اور بنکرنگ کا کام سوئس نژاد ڈچ کمپنی ’وٹول‘ اپنی بارج کے ذریعے کرے گی۔</p>
<p>اسی دوران کراچی کی ریفائنری ’سینرجیکو‘ نے جہازوں کے لیے عالمی معیار کا ’ویری لو سلفر فیول آئل‘ (وی ایل ایس ایف او) تیار کرنا شروع کر دیا ہے۔</p>
<p>یہ سہولت اس لیے بھی ضروری ہو گئی ہے کہ بھارت نے ان جہازوں پر پابندی لگا دی ہے جو اس کی بندرگاہوں پر آتے یا وہاں سے روانہ ہوتے ہیں اور کسی پاکستانی بندرگاہ پر رک کر خدمات حاصل کرتے ہیں۔</p>
<p>کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) کے ذرائع نے کہا کہ بنکرنگ سہولت کی دستیابی سے پورٹ پر جہازوں کی آمد بڑھ جائے گی، جس سے آمدن میں بھی اضافہ ہوگا۔</p>
<p>وزیر بحری امور نے کہا کہ اس اقدام سے پورٹ فیس، میرین سروسز اور دیگر تجارتی سرگرمیوں جیسے مرمت، سپلائز اور میری ٹائم لاجسٹکس کے ذریعے ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگا۔</p>
<p>جنید انور چوہدری کے مطابق نئی سروس پاکستان کی عالمی سمندری مارکیٹ میں ساکھ بڑھائے گی اور ظاہر کرے گی کہ ملک جدید، ماحول دوست اور عالمی معیار کے مطابق پورٹ منیجمنٹ کے لیے پرعزم ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ایندھن کے معیار، حفاظتی اقدامات، دستاویزات اور شفافیت جیسے عالمی معیارات پر عمل درآمد جہاز مالکان اور بین الاقوامی کمپنیوں کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے کہا کہ پہلے مرحلے میں دنیا کی معروف انرجی ٹریڈنگ کمپنیوں میں سے ایک کے ساتھ مل کر کراچی پورٹ پر عالمی معیار کے مطابق بنکرنگ شروع کی جائے گی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے مقامی ریفائنریز عالمی معیار کے مطابق زیادہ ایندھن فراہم کریں گی، منصوبے میں مزید توسیع ہوگی، جس کا براہ راست فائدہ قومی خزانے کو ہوگا۔</p>
<p>جنید انور چوہدری نے بتایا کہ کے پی ٹی نے موجودہ بنکرنگ طریقہ کار کا جائزہ لیا، عالمی طریقے سیکھے، نئی دستاویزات تیار کیں اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو شامل کیا تاکہ یہ سروس فعال ہو سکے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ سنگِ میل کے پی ٹی کے مقصد کو مضبوط کرتا ہے کہ وہ خطے کا اہم پورٹ ہب بنے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت پورٹ کی صلاحیتوں کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273964</guid>
      <pubDate>Wed, 19 Nov 2025 14:56:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (کلبِ علی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/191010497b7dfe8.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/191010497b7dfe8.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: کراچی پورٹ ٹرسٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ٹی سیکٹر نے اکتوبر میں پہلی بار 38 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کی برآمدات کیں</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273869/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان کے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) سیکٹر نے اکتوبر میں پہلی بار 38 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کی برآمدات کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستانی آئی ٹی سیکٹر ایک سال میں 17 فیصداور ایک ماہ میں 5.5 فیصد بڑھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے آئی ٹی سیکٹر کی برآمدات مالی سال26-2025 کے 4 ماہ میں ایک ارب 40 کروڑ ڈالر پر پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹس میں رقم کی حد 35 فیصد سے 50 فیصد کرنے سے آئی ٹی برآمدات میں اضافہ ہوا، روپے کی قدر میں استحکام آیا اور  برآمدکنندگان کے اعتماد میں اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان کے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) سیکٹر نے اکتوبر میں پہلی بار 38 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کی برآمدات کیں۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستانی آئی ٹی سیکٹر ایک سال میں 17 فیصداور ایک ماہ میں 5.5 فیصد بڑھا۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے آئی ٹی سیکٹر کی برآمدات مالی سال26-2025 کے 4 ماہ میں ایک ارب 40 کروڑ ڈالر پر پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ ہیں۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹس میں رقم کی حد 35 فیصد سے 50 فیصد کرنے سے آئی ٹی برآمدات میں اضافہ ہوا، روپے کی قدر میں استحکام آیا اور  برآمدکنندگان کے اعتماد میں اضافہ ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273869</guid>
      <pubDate>Mon, 17 Nov 2025 15:24:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/17152329db770bd.webp" type="image/webp" medium="image" height="174" width="290">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/17152329db770bd.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: ایکشن انسٹیٹیوٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>11ویں این ایف سی ایوارڈ کا ابتدائی اجلاس پھر ملتوی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273839/</link>
      <description>&lt;p&gt;قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی)، جسے تین ماہ پہلے تشکیل دیا گیا تھا، کا ابتدائی اجلاس اب بھی ہوتا نظر نہیں آرہا، 18 نومبر کی مجوزہ تاریخ بھی مؤخر کردی گئی ہے، اور اس دوران موجودہ مالی سال کے لیے معاشی ترقی کے ہدف میں 0.7 فیصد تک کمی کرتے ہوئے اسے 3.5 فیصد کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1955573/maiden-session-of-11th-national-finance-commission-delayed-again"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق باخبر ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف چاہتے ہیں کہ این ایف سی کے تکنیکی اور آئینی فورم پر مالیاتی امور کی باضابطہ بحث شروع کرنے سے پہلے مرکز اور صوبوں کے اہم سیاسی معاملات پر بات چیت کا ماحول بن جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;11واں این ایف سی ایوارڈ 22 اگست کو تشکیل پایا تھا تاکہ مرکز اور صوبوں کے درمیان قابل تقسیم وفاقی وسائل کی نئی تقسیم طے کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلا اجلاس پہلے 27 اگست کو بلایا گیا، پھر 29 اگست تک مؤخر کیا گیا، بعد میں سندھ حکومت کی درخواست پر سیلاب کے باعث اسے دوبارہ ملتوی کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوں 2009 میں جاری ہونے والا ساتواں این ایف سی ایوارڈ آج تک برقرار ہے حالانکہ اس کی آئینی مدت صرف 5 سال تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی وجہ سے وزارتِ خزانہ، مسلح افواج اور آئی ایم ایف سمیت کئی حلقے مسلسل مطالبہ کر رہے ہیں کہ ساتویں این ایف سی کے تحت صوبوں کو ملنے والے بڑے حصے پر دوبارہ نظرثانی کی جائے، مگر یہ مطالبات اب تک پورے نہیں ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئین کے مطابق کسی بھی صوبے کا حصہ کم نہیں کیا جا سکتا اور این ایف سی ایوارڈ، مرکز اور چاروں صوبوں کے اتفاقِ رائے سے ہی طے ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273373'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273373"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو قابل تقسیم ٹیکسوں میں مجموعی طور پر 57.5 فیصد حصہ ملتا ہے جن میں انکم ٹیکس، ویلتھ ٹیکس، کیپیٹل ویلیو ٹیکس، جنرل سیلز ٹیکس، کسٹمز ڈیوٹیز اور فیڈرل ایکسائز شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم آبادی، غربت، ریونیو کلیکشن اور کم آبادی والے علاقوں کے لیے اضافی وزن کی بنیاد پر ہوتی ہے، اس کے تحت پنجاب کو 51.74 فیصد، سندھ کو 24.55 فیصد، خیبر پختونخوا کو 14.62 فیصد اور بلوچستان کو 9.09 فیصد حصہ ملتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="سیاسی-سودے-بازی" href="#سیاسی-سودے-بازی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;سیاسی سودے بازی&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق صوبوں کو اس ماہ کے آغاز میں 18 نومبر کی تاریخ سے غیر رسمی طور پر آگاہ کیا گیا تھا مگر بعد میں وزیراعظم آفس نے اجلاس مؤخر کرنے اور نئی تاریخ فی الحال نہ بتانے کی ہدایت کی، وزیراعظم کا این ایف سی کے معاملات میں براہِ راست کوئی کردار نہیں ہوتا کیونکہ یہ کمیشن صدر بناتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;این ایف سی کی شرائط کا ازسرنو تعین پہلے مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم کا حصہ تھا، جس میں مرکز صوبوں کا حصہ کم کرنا اور تعلیم، آبادی وغیرہ جیسے کچھ محکمے واپس لینا چاہتا تھا، مگر مسلح افواج اور عدلیہ سے متعلق ترامیم پر پیپلز پارٹی کے ساتھ سیاسی سمجھوتے کے بعد وفاق نے یہ مطالبات وقتی طور پر چھوڑ دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود وزیراعظم، پیپلز پارٹی کے ساتھ این ایف سی پر مکالمہ جاری رکھنے کا اشارہ دے چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرکز نے این ایف سی کے دائرے سے باہر پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی (پی ڈی ایل) کو ایک بڑی آمدنی کے طور پر پہلے ہی اپنا لیا ہے، اور اس کے علاوہ صوبوں سے تقریباً 15 کھرب روپے کی رقم بھی نقد سرپلس کی صورت میں حاصل کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="این-ایف-سی-کے-علاوہ-آمدنی-کے-ذرائع" href="#این-ایف-سی-کے-علاوہ-آمدنی-کے-ذرائع" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;این ایف سی  کے علاوہ آمدنی کے ذرائع&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;پی ڈی ایل اور صوبائی نقد سرپلس کا مجموعی فائدہ اس مالی سال میں تقریباً 30 کھرب روپے بنتا ہے، جو جی ڈی پی کے 2 فیصد کے برابر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں اور گزشتہ مالی سال کے دوران بلند ترین شرح سود کی وجہ سے مرکز نے اسٹیٹ بینک کے منافع میں سے بھی تقریباً 2.5 ارب روپے سالانہ حاصل کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273366'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273366"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی بیورو آف ریونیو کے ٹیکس اہداف میں 275 ارب روپے کی کمی پہلے ہی آچکی ہے اور معاشی سست رفتاری کے باعث یہ فرق مزید بڑھ سکتا ہے، جی ڈی پی کی کم شرحِ نمو کا براہِ راست اثر ایف بی آر کی ٹیکس وصولی اور پھر این ایف سی کے تحت صوبوں کے حصے پر پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں صوبوں کے مرکز کو نقد سرپلس دینے کے وعدے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ کم معاشی ترقی کا کچھ ازالہ مہنگائی میں اضافے سے ہونے والی سیلز ٹیکس آمدن سے ہو سکتا ہے، لیکن یہ اثر مکمل نہیں ہوتا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="سیلاب-کی-تباہ-کاریاں" href="#سیلاب-کی-تباہ-کاریاں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;سیلاب کی تباہ کاریاں&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خزانہ نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ منصوبہ بندی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق 30 ستمبر تک موصول ہونے والے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیلاب نے آئندہ مالی سال 2026 کی جی ڈی پی شرح نمو میں 0.3 سے 0.7 فیصد کمی کر دی ہے، جس سے ہدف 4.2 فیصد سے گھٹ کر 3.5 سے 3.9 فیصد کے درمیان آگیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقتصادی نقصانات کا اندازہ 822 ارب روپے، یعنی تقریباً 2.9 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خزانہ کے مطابق سیلاب نے مہنگائی میں اضافہ کیا ہے، مالی سال 2026 کے ابتدائی 2 ماہ میں مہنگائی 4.1 اور 3 فیصد رہی، لیکن ستمبر میں خوراک کی قیمتیں بڑھنے سے یہ 5.6 فیصد تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زرعی شعبے کو 430 ارب روپے کے نقصان کا سامنا ہوا ہے، جن میں سے 422.7 ارب روپے فصلوں کی تباہی کی وجہ سے ہیں، اسی طرح 307 ارب روپے کے انفرااسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچا ہے، فصلوں کے نقصان کے باعث زرعی ترقی کا ہدف 4.5 فیصد کے مقابلے میں اب 3 سے 3.8 فیصد رہ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت نے خبردار کیا کہ چاول کی برآمدات متاثر ہو سکتی ہیں جبکہ روئی، گندم، دالوں اور تعمیراتی سامان کی درآمدات بڑھ سکتی ہیں، جس سے تجارتی خسارہ اور زرمبادلہ کے دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے، تاہم بیرون ملک پاکستانیوں کی بلند تر ترسیلاتِ زر اس خسارے کو کچھ حد تک کم کر سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ کہ خوراک اور بنیادی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹوں اور پیداواری اخراجات میں اضافے کے باعث مہنگائی کا خطرہ برقرار رہے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی)، جسے تین ماہ پہلے تشکیل دیا گیا تھا، کا ابتدائی اجلاس اب بھی ہوتا نظر نہیں آرہا، 18 نومبر کی مجوزہ تاریخ بھی مؤخر کردی گئی ہے، اور اس دوران موجودہ مالی سال کے لیے معاشی ترقی کے ہدف میں 0.7 فیصد تک کمی کرتے ہوئے اسے 3.5 فیصد کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1955573/maiden-session-of-11th-national-finance-commission-delayed-again"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق باخبر ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف چاہتے ہیں کہ این ایف سی کے تکنیکی اور آئینی فورم پر مالیاتی امور کی باضابطہ بحث شروع کرنے سے پہلے مرکز اور صوبوں کے اہم سیاسی معاملات پر بات چیت کا ماحول بن جائے۔</p>
<p>11واں این ایف سی ایوارڈ 22 اگست کو تشکیل پایا تھا تاکہ مرکز اور صوبوں کے درمیان قابل تقسیم وفاقی وسائل کی نئی تقسیم طے کی جا سکے۔</p>
<p>پہلا اجلاس پہلے 27 اگست کو بلایا گیا، پھر 29 اگست تک مؤخر کیا گیا، بعد میں سندھ حکومت کی درخواست پر سیلاب کے باعث اسے دوبارہ ملتوی کرنا پڑا۔</p>
<p>یوں 2009 میں جاری ہونے والا ساتواں این ایف سی ایوارڈ آج تک برقرار ہے حالانکہ اس کی آئینی مدت صرف 5 سال تھی۔</p>
<p>اسی وجہ سے وزارتِ خزانہ، مسلح افواج اور آئی ایم ایف سمیت کئی حلقے مسلسل مطالبہ کر رہے ہیں کہ ساتویں این ایف سی کے تحت صوبوں کو ملنے والے بڑے حصے پر دوبارہ نظرثانی کی جائے، مگر یہ مطالبات اب تک پورے نہیں ہوئے۔</p>
<p>آئین کے مطابق کسی بھی صوبے کا حصہ کم نہیں کیا جا سکتا اور این ایف سی ایوارڈ، مرکز اور چاروں صوبوں کے اتفاقِ رائے سے ہی طے ہوتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273373'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273373"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو قابل تقسیم ٹیکسوں میں مجموعی طور پر 57.5 فیصد حصہ ملتا ہے جن میں انکم ٹیکس، ویلتھ ٹیکس، کیپیٹل ویلیو ٹیکس، جنرل سیلز ٹیکس، کسٹمز ڈیوٹیز اور فیڈرل ایکسائز شامل ہیں۔</p>
<p>صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم آبادی، غربت، ریونیو کلیکشن اور کم آبادی والے علاقوں کے لیے اضافی وزن کی بنیاد پر ہوتی ہے، اس کے تحت پنجاب کو 51.74 فیصد، سندھ کو 24.55 فیصد، خیبر پختونخوا کو 14.62 فیصد اور بلوچستان کو 9.09 فیصد حصہ ملتا ہے۔</p>
<h1><a id="سیاسی-سودے-بازی" href="#سیاسی-سودے-بازی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>سیاسی سودے بازی</h1>
<p>ذرائع کے مطابق صوبوں کو اس ماہ کے آغاز میں 18 نومبر کی تاریخ سے غیر رسمی طور پر آگاہ کیا گیا تھا مگر بعد میں وزیراعظم آفس نے اجلاس مؤخر کرنے اور نئی تاریخ فی الحال نہ بتانے کی ہدایت کی، وزیراعظم کا این ایف سی کے معاملات میں براہِ راست کوئی کردار نہیں ہوتا کیونکہ یہ کمیشن صدر بناتے ہیں۔</p>
<p>این ایف سی کی شرائط کا ازسرنو تعین پہلے مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم کا حصہ تھا، جس میں مرکز صوبوں کا حصہ کم کرنا اور تعلیم، آبادی وغیرہ جیسے کچھ محکمے واپس لینا چاہتا تھا، مگر مسلح افواج اور عدلیہ سے متعلق ترامیم پر پیپلز پارٹی کے ساتھ سیاسی سمجھوتے کے بعد وفاق نے یہ مطالبات وقتی طور پر چھوڑ دیے۔</p>
<p>اس کے باوجود وزیراعظم، پیپلز پارٹی کے ساتھ این ایف سی پر مکالمہ جاری رکھنے کا اشارہ دے چکے ہیں۔</p>
<p>مرکز نے این ایف سی کے دائرے سے باہر پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی (پی ڈی ایل) کو ایک بڑی آمدنی کے طور پر پہلے ہی اپنا لیا ہے، اور اس کے علاوہ صوبوں سے تقریباً 15 کھرب روپے کی رقم بھی نقد سرپلس کی صورت میں حاصل کی ہے۔</p>
<h1><a id="این-ایف-سی-کے-علاوہ-آمدنی-کے-ذرائع" href="#این-ایف-سی-کے-علاوہ-آمدنی-کے-ذرائع" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>این ایف سی  کے علاوہ آمدنی کے ذرائع</h1>
<p>پی ڈی ایل اور صوبائی نقد سرپلس کا مجموعی فائدہ اس مالی سال میں تقریباً 30 کھرب روپے بنتا ہے، جو جی ڈی پی کے 2 فیصد کے برابر ہے۔</p>
<p>رواں اور گزشتہ مالی سال کے دوران بلند ترین شرح سود کی وجہ سے مرکز نے اسٹیٹ بینک کے منافع میں سے بھی تقریباً 2.5 ارب روپے سالانہ حاصل کیے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273366'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273366"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>وفاقی بیورو آف ریونیو کے ٹیکس اہداف میں 275 ارب روپے کی کمی پہلے ہی آچکی ہے اور معاشی سست رفتاری کے باعث یہ فرق مزید بڑھ سکتا ہے، جی ڈی پی کی کم شرحِ نمو کا براہِ راست اثر ایف بی آر کی ٹیکس وصولی اور پھر این ایف سی کے تحت صوبوں کے حصے پر پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں صوبوں کے مرکز کو نقد سرپلس دینے کے وعدے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>اگرچہ کم معاشی ترقی کا کچھ ازالہ مہنگائی میں اضافے سے ہونے والی سیلز ٹیکس آمدن سے ہو سکتا ہے، لیکن یہ اثر مکمل نہیں ہوتا۔</p>
<h1><a id="سیلاب-کی-تباہ-کاریاں" href="#سیلاب-کی-تباہ-کاریاں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>سیلاب کی تباہ کاریاں</h1>
<p>وزارتِ خزانہ نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ منصوبہ بندی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق 30 ستمبر تک موصول ہونے والے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیلاب نے آئندہ مالی سال 2026 کی جی ڈی پی شرح نمو میں 0.3 سے 0.7 فیصد کمی کر دی ہے، جس سے ہدف 4.2 فیصد سے گھٹ کر 3.5 سے 3.9 فیصد کے درمیان آگیا ہے۔</p>
<p>اقتصادی نقصانات کا اندازہ 822 ارب روپے، یعنی تقریباً 2.9 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔</p>
<p>وزارتِ خزانہ کے مطابق سیلاب نے مہنگائی میں اضافہ کیا ہے، مالی سال 2026 کے ابتدائی 2 ماہ میں مہنگائی 4.1 اور 3 فیصد رہی، لیکن ستمبر میں خوراک کی قیمتیں بڑھنے سے یہ 5.6 فیصد تک پہنچ گئی۔</p>
<p>زرعی شعبے کو 430 ارب روپے کے نقصان کا سامنا ہوا ہے، جن میں سے 422.7 ارب روپے فصلوں کی تباہی کی وجہ سے ہیں، اسی طرح 307 ارب روپے کے انفرااسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچا ہے، فصلوں کے نقصان کے باعث زرعی ترقی کا ہدف 4.5 فیصد کے مقابلے میں اب 3 سے 3.8 فیصد رہ گیا ہے۔</p>
<p>وزارت نے خبردار کیا کہ چاول کی برآمدات متاثر ہو سکتی ہیں جبکہ روئی، گندم، دالوں اور تعمیراتی سامان کی درآمدات بڑھ سکتی ہیں، جس سے تجارتی خسارہ اور زرمبادلہ کے دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے، تاہم بیرون ملک پاکستانیوں کی بلند تر ترسیلاتِ زر اس خسارے کو کچھ حد تک کم کر سکتی ہیں۔</p>
<p>مزید یہ کہ خوراک اور بنیادی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹوں اور پیداواری اخراجات میں اضافے کے باعث مہنگائی کا خطرہ برقرار رہے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273839</guid>
      <pubDate>Mon, 17 Nov 2025 10:33:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خلیق کیانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/17093236b565760.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/17093236b565760.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: وزیراعظم آفس
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان نے 23 بلاکس کی الاٹمنٹ کے ذریعے سمندر میں تیل و گیس کی تلاش پھر شروع کر دی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273719/</link>
      <description>&lt;p&gt;حکومت نے ماڑی انرجیز کی زیر قیادت سرکاری شعبے کی 3 آئل و گیس کمپنیوں کو سمندر میں تیل و گیس کی کھوج کے لیے 23 نئے آف شور بلاکس 3 سال کے لیے عبوری طور پر الاٹ کر دیے ہیں، جن پر مجموعی طور پر تقریباً 8 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کا تخمینہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1954930"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ماڑی انرجیز، جو فوجی فاؤنڈیشن اور وفاقی حکومت و اس کے دیگر اداروں کا مشترکہ منصوبہ ہے، بولی کے مرحلے میں تمام 23 بلاکس میں حصص حاصل کرکے نمایاں رہنے میں کامیاب رہی، جبکہ حکومت نے مجموعی طور پر 40 آف شور بلاکس پیش کیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماڑی انرجیز نے بتایا کہ اسے 23 میں سے 18 بلاکس میں بطور آپریٹر اور 5 میں بطور شریک کمپنی حصہ ملا ہے، ان میں سے 10 بلاکس میں کمپنی کی مکمل ملکیت اور آپریٹرشپ ہوگی جبکہ 8 بلاکس میں اکثریتی حصہ اور آپریٹرشپ اس کے پاس ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک کی قدیم ترین پروڈیوسر اور کراچی میں قائم سرکاری کمپنی پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) نے 6 بلاکس بطور آپریٹر حاصل کیے اور 2 میں شراکت داری حاصل کرنے میں کامیاب رہی، اسی طرح سب سے بڑی پیداواری کمپنی آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل)، جس کا ہیڈ آفس اسلام آباد میں ہے، کو 2 بلاکس میں آپریٹرشپ اور 6 میں شراکت داری ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272898'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272898"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک بجی کمپنی پرائم گلوبل انرجیز نے بھی ایک بلاک میں 31 فیصد شیئرز کے ساتھ آپریٹرشپ حاصل کی ہے جبکہ اس میں ماڑی، پی پی ایل اور او جی ڈی سی ایل کے 23، 23 فیصد حصص ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ الاٹمنٹ اس وقت حتمی ہوگی جب پروڈکشن شیئرنگ ایگریمنٹس (پی ایس ایز) پر دستخط ہوں، کھوج کے لائسنس جاری کیے جائیں، شراکت دار کمپنیاں جوائنٹ آپریٹنگ ایگریمنٹس پر دستخط کریں اور تمام قانونی و تقابلی تقاضے پورے کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کو 31 اکتوبر کو 40 آف شور بلاکس کے لیے مجموعی طور پر 23 بولیاں موصول ہوئی تھیں اور اب تک کی عبوری الاٹمنٹ تقریباً 53 ہزار 510 مربع کلومیٹر کے علاقے پر محیط ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ حکومت نے 23 آن شور بلاکس کے لیے صرف ایک ہی بولی حاصل کی تھی جو ماڑی انرجیز کی جانب سے دی گئی تھی، ترکش پیٹرولیم، یونائیٹڈ انرجی، اورینٹ پیٹرولیم اور فاطمہ پیٹرولیم سمیت بین الاقوامی اور مقامی شراکت دار بھی اس مشترکہ منصوبے کا حصہ ہیں، جو پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق پاکستان کے آف شور ذخائر میں بڑھتی ہوئی بین الاقوامی دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا کی سرکردہ کمپنیوں جیسے شیل اور ایکسن موبل کے پاکستان میں آف شور تیل و گیس کے ذخائر تلاش کرنے کے ماضی کے تجربات کامیاب نہ ہوسکے، 5 سال قبل ایکسن موبل کے زیر قیادت کنسورشیم نے کیکڑا-1 میں کوشش کی تھی، جہاں خاطر خواہ ہائیڈروکاربن ڈیٹا موجود ہونے کے باوجود نتائج نہیں ملے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پورے عمل سے پہلے پیٹرولیم ڈویژن نے ماڈل پروڈکشن شیئرنگ ایگریمنٹ (ایم پی ایس اے) تیار کیا، جو بولی کے پیکیج کا اہم حصہ تھا تاکہ شفافیت، مسابقت اور سرمایہ کاروں کا اعتماد یقینی بنایا جا سکے، اسی کے ساتھ آف شور پیٹرولیم رولز بھی نافذ کیے گئے، جو پاکستان کے پانیوں میں دوبارہ بھرپور کھوج کے لیے جامع ریگولیٹری فریم ورک فراہم کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی کمپنی ڈی گولئیر اینڈ مکناٹن کی حالیہ تحقیق میں اشارہ دیا گیا ہے کہ پاکستان کے آف شور بیسنز میں ابھی تک دریافت نہ ہونے والے ہائیڈروکاربن ذخائر کی خاصی مقدار موجود ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس امید افزا رپورٹ کی بنیاد پر آف شور بِڈ راؤنڈ 2025 کا آغاز کیا گیا، تاکہ کمپنیوں کو سندھ اور بلوچستان کے قریب انڈس اور مکران بیسنز میں مختلف جیو لوجیکل ذخائر کی جانچ کے لیے بلاکس دیے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1241732'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1241732"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آف شور بِڈ راؤنڈ 2025 کا آغاز اس سال جنوری میں 18 سال بعد کیا گیا تاکہ انڈس اور مکران کے 40 آف شور بلاکس کے لیے کھوج کے لائسنس جاری کیے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیٹرولیم ڈویژن نے کہا ہے کہ ابتدائی 3 سالہ لائسنس کے پہلے مرحلے میں 23 بلاکس کے لیے مجموعی طور پر 4 ہزار 427 ورک یونٹس کی کمٹمنٹ کی گئی ہے، جن پر تقریباً 8 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنیوں نے ایسے ورک پروگرام جمع کرائے ہیں جن کا مقصد جیو لوجیکل خطرات کو بتدریج کم کرنا ہے اور اگر ڈرلنگ کا مرحلہ آیا تو سرمایہ کاری 75 کروڑ ڈالر سے ایک ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلے مرحلے میں کمپنیاں جامع جیو فزیکل اور جیو لوجیکل اسٹڈی کریں گی، جس میں سیسمک ڈیٹا کا حصول، اس کی پراسیسنگ اور تشریح شامل ہے، تاکہ آف شور بیسنز میں ہائیڈروکاربن کے امکانات کی بہتر نشاندہی ہو سکے، ان مطالعات کی تکمیل کے بعد دوسرے مرحلے کا ورک پروگرام حتمی کیا جائے گا، جس میں ممکنہ مقامات پر ایکسپلورٹری ڈرلنگ شامل ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیٹرولیم ڈویژن کے بیان میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے انڈس اور مکران بیسنز میں بیک وقت کھوج شروع کرنے کی حکمت عملی کامیاب رہی، جیسا کہ بِڈ راؤنڈ میں شرکت اور نتائج سے ظاہر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق مرحلہ وار جی اینڈ جی کام اور ڈرلنگ منصوبہ بندی کے بعد، وزارت بین الاقوامی آئل کمپنیوں کو اگلے مرحلے میں شمولیت کی دعوت دے گی، ان میں سے کئی کمپنیاں پہلے ہی حکومت اور مقامی اداروں سے رابطے میں ہیں اور دستیاب ڈیٹا کا جائزہ لے رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>حکومت نے ماڑی انرجیز کی زیر قیادت سرکاری شعبے کی 3 آئل و گیس کمپنیوں کو سمندر میں تیل و گیس کی کھوج کے لیے 23 نئے آف شور بلاکس 3 سال کے لیے عبوری طور پر الاٹ کر دیے ہیں، جن پر مجموعی طور پر تقریباً 8 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کا تخمینہ ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1954930"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق ماڑی انرجیز، جو فوجی فاؤنڈیشن اور وفاقی حکومت و اس کے دیگر اداروں کا مشترکہ منصوبہ ہے، بولی کے مرحلے میں تمام 23 بلاکس میں حصص حاصل کرکے نمایاں رہنے میں کامیاب رہی، جبکہ حکومت نے مجموعی طور پر 40 آف شور بلاکس پیش کیے تھے۔</p>
<p>ماڑی انرجیز نے بتایا کہ اسے 23 میں سے 18 بلاکس میں بطور آپریٹر اور 5 میں بطور شریک کمپنی حصہ ملا ہے، ان میں سے 10 بلاکس میں کمپنی کی مکمل ملکیت اور آپریٹرشپ ہوگی جبکہ 8 بلاکس میں اکثریتی حصہ اور آپریٹرشپ اس کے پاس ہوگی۔</p>
<p>ملک کی قدیم ترین پروڈیوسر اور کراچی میں قائم سرکاری کمپنی پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) نے 6 بلاکس بطور آپریٹر حاصل کیے اور 2 میں شراکت داری حاصل کرنے میں کامیاب رہی، اسی طرح سب سے بڑی پیداواری کمپنی آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل)، جس کا ہیڈ آفس اسلام آباد میں ہے، کو 2 بلاکس میں آپریٹرشپ اور 6 میں شراکت داری ملی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272898'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272898"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ایک بجی کمپنی پرائم گلوبل انرجیز نے بھی ایک بلاک میں 31 فیصد شیئرز کے ساتھ آپریٹرشپ حاصل کی ہے جبکہ اس میں ماڑی، پی پی ایل اور او جی ڈی سی ایل کے 23، 23 فیصد حصص ہوں گے۔</p>
<p>یہ الاٹمنٹ اس وقت حتمی ہوگی جب پروڈکشن شیئرنگ ایگریمنٹس (پی ایس ایز) پر دستخط ہوں، کھوج کے لائسنس جاری کیے جائیں، شراکت دار کمپنیاں جوائنٹ آپریٹنگ ایگریمنٹس پر دستخط کریں اور تمام قانونی و تقابلی تقاضے پورے کیے جائیں۔</p>
<p>حکومت کو 31 اکتوبر کو 40 آف شور بلاکس کے لیے مجموعی طور پر 23 بولیاں موصول ہوئی تھیں اور اب تک کی عبوری الاٹمنٹ تقریباً 53 ہزار 510 مربع کلومیٹر کے علاقے پر محیط ہے۔</p>
<p>گزشتہ ماہ حکومت نے 23 آن شور بلاکس کے لیے صرف ایک ہی بولی حاصل کی تھی جو ماڑی انرجیز کی جانب سے دی گئی تھی، ترکش پیٹرولیم، یونائیٹڈ انرجی، اورینٹ پیٹرولیم اور فاطمہ پیٹرولیم سمیت بین الاقوامی اور مقامی شراکت دار بھی اس مشترکہ منصوبے کا حصہ ہیں، جو پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق پاکستان کے آف شور ذخائر میں بڑھتی ہوئی بین الاقوامی دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>دنیا کی سرکردہ کمپنیوں جیسے شیل اور ایکسن موبل کے پاکستان میں آف شور تیل و گیس کے ذخائر تلاش کرنے کے ماضی کے تجربات کامیاب نہ ہوسکے، 5 سال قبل ایکسن موبل کے زیر قیادت کنسورشیم نے کیکڑا-1 میں کوشش کی تھی، جہاں خاطر خواہ ہائیڈروکاربن ڈیٹا موجود ہونے کے باوجود نتائج نہیں ملے۔</p>
<p>اس پورے عمل سے پہلے پیٹرولیم ڈویژن نے ماڈل پروڈکشن شیئرنگ ایگریمنٹ (ایم پی ایس اے) تیار کیا، جو بولی کے پیکیج کا اہم حصہ تھا تاکہ شفافیت، مسابقت اور سرمایہ کاروں کا اعتماد یقینی بنایا جا سکے، اسی کے ساتھ آف شور پیٹرولیم رولز بھی نافذ کیے گئے، جو پاکستان کے پانیوں میں دوبارہ بھرپور کھوج کے لیے جامع ریگولیٹری فریم ورک فراہم کرتے ہیں۔</p>
<p>امریکی کمپنی ڈی گولئیر اینڈ مکناٹن کی حالیہ تحقیق میں اشارہ دیا گیا ہے کہ پاکستان کے آف شور بیسنز میں ابھی تک دریافت نہ ہونے والے ہائیڈروکاربن ذخائر کی خاصی مقدار موجود ہو سکتی ہے۔</p>
<p>اس امید افزا رپورٹ کی بنیاد پر آف شور بِڈ راؤنڈ 2025 کا آغاز کیا گیا، تاکہ کمپنیوں کو سندھ اور بلوچستان کے قریب انڈس اور مکران بیسنز میں مختلف جیو لوجیکل ذخائر کی جانچ کے لیے بلاکس دیے جا سکیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1241732'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1241732"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>آف شور بِڈ راؤنڈ 2025 کا آغاز اس سال جنوری میں 18 سال بعد کیا گیا تاکہ انڈس اور مکران کے 40 آف شور بلاکس کے لیے کھوج کے لائسنس جاری کیے جا سکیں۔</p>
<p>پیٹرولیم ڈویژن نے کہا ہے کہ ابتدائی 3 سالہ لائسنس کے پہلے مرحلے میں 23 بلاکس کے لیے مجموعی طور پر 4 ہزار 427 ورک یونٹس کی کمٹمنٹ کی گئی ہے، جن پر تقریباً 8 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔</p>
<p>کمپنیوں نے ایسے ورک پروگرام جمع کرائے ہیں جن کا مقصد جیو لوجیکل خطرات کو بتدریج کم کرنا ہے اور اگر ڈرلنگ کا مرحلہ آیا تو سرمایہ کاری 75 کروڑ ڈالر سے ایک ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔</p>
<p>پہلے مرحلے میں کمپنیاں جامع جیو فزیکل اور جیو لوجیکل اسٹڈی کریں گی، جس میں سیسمک ڈیٹا کا حصول، اس کی پراسیسنگ اور تشریح شامل ہے، تاکہ آف شور بیسنز میں ہائیڈروکاربن کے امکانات کی بہتر نشاندہی ہو سکے، ان مطالعات کی تکمیل کے بعد دوسرے مرحلے کا ورک پروگرام حتمی کیا جائے گا، جس میں ممکنہ مقامات پر ایکسپلورٹری ڈرلنگ شامل ہوگی۔</p>
<p>پیٹرولیم ڈویژن کے بیان میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے انڈس اور مکران بیسنز میں بیک وقت کھوج شروع کرنے کی حکمت عملی کامیاب رہی، جیسا کہ بِڈ راؤنڈ میں شرکت اور نتائج سے ظاہر ہے۔</p>
<p>بیان کے مطابق مرحلہ وار جی اینڈ جی کام اور ڈرلنگ منصوبہ بندی کے بعد، وزارت بین الاقوامی آئل کمپنیوں کو اگلے مرحلے میں شمولیت کی دعوت دے گی، ان میں سے کئی کمپنیاں پہلے ہی حکومت اور مقامی اداروں سے رابطے میں ہیں اور دستیاب ڈیٹا کا جائزہ لے رہی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273719</guid>
      <pubDate>Fri, 14 Nov 2025 13:24:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خلیق کیانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/14115908883015e.webp" type="image/webp" medium="image" height="467" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/14115908883015e.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پیٹرول فی لیٹر 2 روپے سستا اور ڈیزل 9.5 روپے مہنگا ہونے کا امکان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273710/</link>
      <description>&lt;p&gt;بین الاقوامی منڈی میں معمولی اتار چڑھاؤ کے باعث پیٹرول کے علاوہ تمام پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں آئندہ 15 روز (30 نومبر تک) کے لیے ہفتے کو زیادہ سے زیادہ 9 روپے 50 پیسے فی لیٹر تک اضافہ متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں معلوم ذرائع کے حوالے سے شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1954934/fuel-prices-barring-petrol-likely-to-rise-by-up-to-rs95"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق موجودہ ٹیکس شرحوں کی بنیاد پر ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی ایکس ڈپو قیمت میں تقریباً 9 روپے 50 پیسے فی لیٹر (یعنی تقریباً 3.4 فیصد) اضافے کا خدشہ ہے، جبکہ پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 2 روپے فی لیٹر یا 0.7 فیصد کمی کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یکم جون سے اب تک پیٹرول اور ڈیزل کی نیٹ قیمتوں میں بالترتیب تقریباً 12 روپے 50 پیسے اور 23 روپے فی لیٹر اضافہ ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل آئل (ایل ڈی او) کی ایکس ڈپو قیمتوں میں بھی بالترتیب 8 روپے 80 پیسے (4.8 فیصد) اور 7 روپے 15 پیسے فی لیٹر (4.4 فیصد) اضافے کا خدشہ ہے، فی الوقت مٹی کا تیل 185 روپے اور ایل ڈی او 164 روپے فی لیٹر میں دستیاب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272934'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272934"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایکس ڈپو پیٹرول کی موجودہ قیمت 265 روپے 45 پیسے فی لیٹر ہے، جو کم ہو کر 263 روپے 50 پیسے ہونے کا امکان ہے، پیٹرول زیادہ تر نجی ٹرانسپورٹ، چھوٹی گاڑیوں، رکشوں اور موٹر سائیکلوں میں استعمال ہوتا ہے اور اس کی قیمت کا براہِ راست اثر متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے بجٹ پر پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہائی اسپیڈ ڈیزل کی موجودہ ایکس ڈپو قیمت 278 روپے 44 پیسے فی لیٹر ہے، جو 15 نومبر کو بڑھ کر 288 روپے فی لیٹر سے اوپر جا سکتی ہے، ٹرانسپورٹ سیکٹر کی زیادہ تر سرگرمیاں اسی ایندھن پر منحصر ہیں، اس کی قیمت میں اضافہ مہنگائی کا باعث بنتا ہے کیونکہ یہ ٹرکوں، بسوں، ٹریکٹروں، ٹیوب ویلز، اور تھریشرز سمیت بڑے ٹرانسپورٹ اور زرعی مشینری میں استعمال ہوتا ہے، جس سے سبزیوں اور دیگر کھانے پینے کی اشیا کی قیمتیں بھی بڑھتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرانسپورٹر پہلے ہی مئی سے اگست کے دوران 27 روپے فی لیٹر اضافے کی بنیاد پر کرائے بڑھا چکے ہیں اور 13 روپے فی لیٹر کمی کے باوجود انہیں واپس نہیں لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیٹرول اور ڈیزل حکومت کے لیے بڑی آمدنی کا ذریعہ ہیں، جن کی اوسط ماہانہ فروخت تقریباً 7 سے 8 لاکھ ٹن ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بین الاقوامی منڈی میں معمولی اتار چڑھاؤ کے باعث پیٹرول کے علاوہ تمام پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں آئندہ 15 روز (30 نومبر تک) کے لیے ہفتے کو زیادہ سے زیادہ 9 روپے 50 پیسے فی لیٹر تک اضافہ متوقع ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں معلوم ذرائع کے حوالے سے شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1954934/fuel-prices-barring-petrol-likely-to-rise-by-up-to-rs95"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق موجودہ ٹیکس شرحوں کی بنیاد پر ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی ایکس ڈپو قیمت میں تقریباً 9 روپے 50 پیسے فی لیٹر (یعنی تقریباً 3.4 فیصد) اضافے کا خدشہ ہے، جبکہ پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 2 روپے فی لیٹر یا 0.7 فیصد کمی کا امکان ہے۔</p>
<p>یکم جون سے اب تک پیٹرول اور ڈیزل کی نیٹ قیمتوں میں بالترتیب تقریباً 12 روپے 50 پیسے اور 23 روپے فی لیٹر اضافہ ہو چکا ہے۔</p>
<p>مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل آئل (ایل ڈی او) کی ایکس ڈپو قیمتوں میں بھی بالترتیب 8 روپے 80 پیسے (4.8 فیصد) اور 7 روپے 15 پیسے فی لیٹر (4.4 فیصد) اضافے کا خدشہ ہے، فی الوقت مٹی کا تیل 185 روپے اور ایل ڈی او 164 روپے فی لیٹر میں دستیاب ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272934'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272934"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ایکس ڈپو پیٹرول کی موجودہ قیمت 265 روپے 45 پیسے فی لیٹر ہے، جو کم ہو کر 263 روپے 50 پیسے ہونے کا امکان ہے، پیٹرول زیادہ تر نجی ٹرانسپورٹ، چھوٹی گاڑیوں، رکشوں اور موٹر سائیکلوں میں استعمال ہوتا ہے اور اس کی قیمت کا براہِ راست اثر متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے بجٹ پر پڑتا ہے۔</p>
<p>ہائی اسپیڈ ڈیزل کی موجودہ ایکس ڈپو قیمت 278 روپے 44 پیسے فی لیٹر ہے، جو 15 نومبر کو بڑھ کر 288 روپے فی لیٹر سے اوپر جا سکتی ہے، ٹرانسپورٹ سیکٹر کی زیادہ تر سرگرمیاں اسی ایندھن پر منحصر ہیں، اس کی قیمت میں اضافہ مہنگائی کا باعث بنتا ہے کیونکہ یہ ٹرکوں، بسوں، ٹریکٹروں، ٹیوب ویلز، اور تھریشرز سمیت بڑے ٹرانسپورٹ اور زرعی مشینری میں استعمال ہوتا ہے، جس سے سبزیوں اور دیگر کھانے پینے کی اشیا کی قیمتیں بھی بڑھتی ہیں۔</p>
<p>ٹرانسپورٹر پہلے ہی مئی سے اگست کے دوران 27 روپے فی لیٹر اضافے کی بنیاد پر کرائے بڑھا چکے ہیں اور 13 روپے فی لیٹر کمی کے باوجود انہیں واپس نہیں لیا۔</p>
<p>پیٹرول اور ڈیزل حکومت کے لیے بڑی آمدنی کا ذریعہ ہیں، جن کی اوسط ماہانہ فروخت تقریباً 7 سے 8 لاکھ ٹن ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273710</guid>
      <pubDate>Fri, 14 Nov 2025 10:19:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/140917159229850.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/140917159229850.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایف بی آر کا ٹیکس چوری کی روک تھام کیلئے سگریٹ تیاری کی ڈیجیٹل نگرانی کا فیصلہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273674/</link>
      <description>&lt;p&gt;فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے تمباکو سے سگریٹ کی تیاری کے عمل کی فیکٹری سطح پر ڈیجیٹل نگرانی کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اس شعبے میں وسیع پیمانے پر ٹیکس چوری کی روک تھام کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1954793/monitoring-of-tobacco-sector-to-boost-revenues"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ٹیکس چوری کی روک تھام کے لیے ایف بی آر نے سگریٹ فیکٹریوں اور گرین لیف تھریشنگ اسٹیشنز پر سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کے احکامات جاری کیے ہیں تاکہ پیداوار کو مکمل طور پر مانیٹر کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سلسلے میں تمباکو بنانے والی تمام کمپنیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی فیکٹریوں کے مخصوص مقامات پر آئی پی (آئی پی) بیسڈ سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کریں تاکہ سگریٹ کی پیداوار کا حقیقی وقت میں مشاہدہ کیا جا سکے، یہ ہدایت بدھ کو جاری ہونے والے سیلز ٹیکس جنرل آرڈر نمبر 7، 2025 کے ذریعے دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ اقدامات کے تحت ایف بی آر نے تمام 9 گرین لیف تھریشنگ اسٹیشنز پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے ہیں، ان میں سے 2 اسٹیشنز ملٹی نیشنل کمپنیوں کے زیرِ انتظام ہیں جبکہ باقی 7 مقامی طور پر چلائے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1259290'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1259290"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تھریشر یونٹس پر مانیٹرنگ سے تمباکو کی پروسیسنگ کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے بڑی مشینوں کا استعمال ممکن ہوتا ہے اور کیمروں کی تنصیب سے اس عمل کی آسان نگرانی ممکن ہو جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کا ماننا ہے کہ یہ نفاذی اقدام سگریٹ کی اصل پیداوار کا تعین کرنے میں مدد کرے گا اور تمباکو صنعت سے محصول میں اضافہ کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہدایت کے مطابق تمباکو بنانے والی تمام چھوٹی یا بڑی کمپنیوں کو فیکٹری سے تیار شدہ مصنوعات نکالنے سے منع کیا گیا ہے جب تک کہ پیداواری عمل آئی پی- سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے ریکارڈ اور مانیٹر نہ کیا گیا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت سگریٹ پر 1990 کے سیلز ٹیکس ایکٹ کے مطابق 18 فیصد کی معمول کی شرح سے سیلز ٹیکس جمع کر رہی ہے، ملکی سطح پر سگریٹ کی فروخت سے حاصل ہونے والا یہ ٹیکس ٹاپ 20 ریونیو جنریٹرز میں شامل ہے، اسی شرح سے 2005 کے فیڈرل ایکسائز ایکٹ کے تحت فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی  بھی جمع کی جا رہی ہے اور گزشتہ چند سالوں میں اس میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیلڈ یونٹس کو فوری طور پر فیکٹریوں پر کیمروں کی تنصیب یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے، ایف بی آر کا کہنا ہے کہ تمباکو کے شعبے سے حاصل ہونے والا ٹیکس اس کی اصل صلاحیت سے کم ہے، نجی شعبے کے تجزیے کی بنیاد پر ایف بی آر کا تخمینہ ہے کہ تمباکو صنعت سے اصل ٹیکس وصولی تقریباً 600 ارب روپے ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے تمباکو سے سگریٹ کی تیاری کے عمل کی فیکٹری سطح پر ڈیجیٹل نگرانی کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اس شعبے میں وسیع پیمانے پر ٹیکس چوری کی روک تھام کی جا سکے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1954793/monitoring-of-tobacco-sector-to-boost-revenues"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق ٹیکس چوری کی روک تھام کے لیے ایف بی آر نے سگریٹ فیکٹریوں اور گرین لیف تھریشنگ اسٹیشنز پر سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کے احکامات جاری کیے ہیں تاکہ پیداوار کو مکمل طور پر مانیٹر کیا جا سکے۔</p>
<p>اس سلسلے میں تمباکو بنانے والی تمام کمپنیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی فیکٹریوں کے مخصوص مقامات پر آئی پی (آئی پی) بیسڈ سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کریں تاکہ سگریٹ کی پیداوار کا حقیقی وقت میں مشاہدہ کیا جا سکے، یہ ہدایت بدھ کو جاری ہونے والے سیلز ٹیکس جنرل آرڈر نمبر 7، 2025 کے ذریعے دی گئی۔</p>
<p>حالیہ اقدامات کے تحت ایف بی آر نے تمام 9 گرین لیف تھریشنگ اسٹیشنز پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے ہیں، ان میں سے 2 اسٹیشنز ملٹی نیشنل کمپنیوں کے زیرِ انتظام ہیں جبکہ باقی 7 مقامی طور پر چلائے جاتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1259290'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1259290"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>تھریشر یونٹس پر مانیٹرنگ سے تمباکو کی پروسیسنگ کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے بڑی مشینوں کا استعمال ممکن ہوتا ہے اور کیمروں کی تنصیب سے اس عمل کی آسان نگرانی ممکن ہو جاتی ہے۔</p>
<p>ایف بی آر کا ماننا ہے کہ یہ نفاذی اقدام سگریٹ کی اصل پیداوار کا تعین کرنے میں مدد کرے گا اور تمباکو صنعت سے محصول میں اضافہ کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔</p>
<p>ہدایت کے مطابق تمباکو بنانے والی تمام چھوٹی یا بڑی کمپنیوں کو فیکٹری سے تیار شدہ مصنوعات نکالنے سے منع کیا گیا ہے جب تک کہ پیداواری عمل آئی پی- سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے ریکارڈ اور مانیٹر نہ کیا گیا ہو۔</p>
<p>حکومت سگریٹ پر 1990 کے سیلز ٹیکس ایکٹ کے مطابق 18 فیصد کی معمول کی شرح سے سیلز ٹیکس جمع کر رہی ہے، ملکی سطح پر سگریٹ کی فروخت سے حاصل ہونے والا یہ ٹیکس ٹاپ 20 ریونیو جنریٹرز میں شامل ہے، اسی شرح سے 2005 کے فیڈرل ایکسائز ایکٹ کے تحت فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی  بھی جمع کی جا رہی ہے اور گزشتہ چند سالوں میں اس میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>فیلڈ یونٹس کو فوری طور پر فیکٹریوں پر کیمروں کی تنصیب یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے، ایف بی آر کا کہنا ہے کہ تمباکو کے شعبے سے حاصل ہونے والا ٹیکس اس کی اصل صلاحیت سے کم ہے، نجی شعبے کے تجزیے کی بنیاد پر ایف بی آر کا تخمینہ ہے کہ تمباکو صنعت سے اصل ٹیکس وصولی تقریباً 600 ارب روپے ہونی چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273674</guid>
      <pubDate>Thu, 13 Nov 2025 13:06:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مبارک زیب خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/131121243b902e8.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/131121243b902e8.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کو آئندہ ماہ آئی ایم ایف سے ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی قسط ملنے کی توقع</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273660/</link>
      <description>&lt;p&gt;عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے لیے ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی فوری قسط کی منظوری کے لیے اپنی ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس 8 دسمبر کو بلا لیا ہے، رقم 2 متوازی پروگراموں کے تحت جاری کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1954796/pakistan-may-get-12bn-from-imf-on-dec-9"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 14 اکتوبر کو 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) کے دوسرے جائزے اور ایک ارب 40 کروڑ ڈالر کے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فنڈ (آر ایس ایف) کے پہلے جائزے پر اسٹاف لیول ایگریمنٹ (ایس ایل اے) طے پایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس معاہدے کے تحت پاکستان کو ای ایف ایف کے تحت ایک ارب ڈالر اور آر ایس ایف کے تحت 20 کروڑ ڈالر ملیں گے، یہ ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی رقم 9 دسمبر کو پاکستان کے اکاؤنٹ میں منتقل ہونے کی توقع ہے، جس سے دونوں پروگراموں کے تحت مجموعی ادائیگیاں تقریباً 3.3 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کے شیڈول کے مطابق 8 دسمبر کو پاکستان اور صومالیہ کے لیے الگ الگ اجلاس ہوں گے، تاکہ دونوں کے اسٹاف لیول ایگریمنٹس کی منظوری دی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271563'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271563"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بورڈ اجلاس سے قبل پاکستان سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ گورننس اور کرپشن ڈائیگناسٹک (جی سی ڈی) اسیسمنٹ رپورٹ شائع کرے گا، جو ای ایف ایف کے تحت ایک کلیدی ساختی بینچ مارک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس معیار کی آخری تاریخ جولائی کے اختتام پر مقرر تھی، جسے بعد میں اگست اور پھر اکتوبر کے آخر تک بڑھایا گیا، مگر اب تک پوری نہیں ہو سکی، تاخیر کی وجہ پاکستان کے حکام اور آئی ایم ایف کے ماہرین کے درمیان تکنیکی و حقائق پر مبنی اختلافات بتائے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق اب وہ اختلافات دور کر دیے گئے ہیں، اور پاکستان نے فنڈ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ رپورٹ بورڈ اجلاس سے قبل شائع کر دی جائے گی۔ ایک عہدیدار کے مطابق، یہ رپورٹ آئی ایم ایف کی تکنیکی اور قانونی ٹیموں نے او ای سی ڈی اور ایف اے ٹی ایف جیسے عالمی اداروں کے ساتھ مشاورت کے بعد تیار کی ہے، اور یہ ایک جامع مشق تھی جو 100 سے زائد قواعد کا احاطہ کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عہدیدار نے بتایا کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مسودوں کے تبادلے اور مختلف اداروں (بشمول انسدادِ بدعنوانی کے ادارے، اعلیٰ عدلیہ، تحقیقاتی ایجنسیاں، وزارتِ خزانہ اور قانون) کے ساتھ تفصیلی مشاورت کے کئی مراحل طے کیے گئے، تاکہ عالمی ماہرین کی رہنمائی کے تحت بہترین نتائج حاصل کیے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں فریقین کے درمیان اس بات پر بھی بات چیت ہوئی کہ جی سی ڈی رپورٹ کی اشاعت اور اس کی بنیاد پر گورننس ایکشن پلان کے نفاذ کے درمیان وقت کا فرق کم سے کم رکھا جائے، تاکہ اصلاحات بروقت عمل میں لائی جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کا ایک اسکوپنگ مشن رواں سال کے آغاز میں پاکستان آیا تھا، جس نے سپریم کورٹ، وزارت قانون و انصاف، آڈیٹر جنرل، پارلیمنٹ، قومی احتساب بیورو (نیب)، ایف بی آر، اور اسٹیٹ بینک کے حکام سے ملاقاتیں کیں، اس کے نتیجے میں ایک جامع رپورٹ تیار کی گئی جس میں پبلک فنانس مینجمنٹ، ٹیکس نظام اور اے جی پی آر کے طریقہ کار میں کمزوریاں اور خامیاں واضح کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ گورننس نظام کے تحت زیادہ تر سرکاری افسران اپنی اور اپنے خاندان کی جائیدادوں کا اعلان نہ تو ٹیکس حکام کے سامنے کرتے ہیں اور نہ ہی اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو فراہم کرتے ہیں، جب کہ احتساب کے لیے مؤثر ادارہ جاتی نظام بھی موجود نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1269184'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269184"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ کئی ادارے، بشمول ریگولیٹری باڈیز، ان انکشافات اور جانچ سے مستثنیٰ ہیں، اسی وجہ سے بیوروکریسی اور سیاسی حلقوں میں بدعنوانی کی شکایات عام ہیں اور پاکستان بین الاقوامی کرپشن کے اشاریوں میں ہمیشہ بلند درجہ پر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف مسلسل زور دے رہا ہے کہ حکومت ڈیٹا پر مبنی خطرات کی نشاندہی، احتیاطی اقدامات، شفافیت کے اصول اور بدعنوانی و سرکاری اختیارات کے غلط استعمال کے خلاف واضح رہنما اصول اپنائے، کیونکہ انہی وجوہات نے پالیسی سازی اور کاروباری اعتماد کو متاثر کیا ہے۔ پیرس میں قائم فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے بھی اس ضمن میں کمزوریاں اجاگر کی ہیں اور اصلاحات کی سفارشات پیش کی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف نے عملے کی سطح کا معاہدہ طے پانے پر اعلان کیا تھا کہ فنڈ نے پاکستان کی مالی اور معاشی کارکردگی، خاص طور پر ای ایف ایف کے تحت معاشی استحکام اور مارکیٹ اعتماد کی بحالی کے اقدامات کو کو سراہا ہے، معاشی بحالی جاری ہے، مالی سال 2025 میں کرنٹ اکاؤنٹ 14 سال بعد پہلی بار سرپلس میں رہا، مالیاتی توازن ہدف سے بہتر رہا، مہنگائی قابو میں ہے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئی ہے، اور مالیاتی حالات مستحکم ہوئے ہیں، کیونکہ حکومتی بانڈز کے اسپریڈز نمایاں طور پر کم ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، فنڈ نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی تھی کہ حالیہ سیلابی تباہی (جس سے تقریباً 70 لاکھ افراد متاثر ہوئے، ایک ہزار سے زائد اموات ہوئیں اور مکانات، بنیادی ڈھانچے اور زرعی زمین کو شدید نقصان پہنچا) معیشت پر خاص طور پر زرعی شعبے پر منفی اثر ڈال رہی ہے، جس کے نتیجے میں مالی سال 2026 کی جی ڈی پی شرح نمو کا تخمینہ 3.25 تا 3.5 فیصد تک کم کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنڈ نے کہا کہ یہ سیلاب پاکستان کی قدرتی آفات کے خطرات اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے حوالے سے بلند حساسیت کو ظاہر کرتے ہیں، اس لیے موسمیاتی لچک پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، حکام نے ای ایف ایف اور آر ایس ایف کے تحت پائیدار مالیاتی اور ساختی اصلاحات جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے لیے ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی فوری قسط کی منظوری کے لیے اپنی ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس 8 دسمبر کو بلا لیا ہے، رقم 2 متوازی پروگراموں کے تحت جاری کی جائے گی۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1954796/pakistan-may-get-12bn-from-imf-on-dec-9"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 14 اکتوبر کو 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) کے دوسرے جائزے اور ایک ارب 40 کروڑ ڈالر کے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فنڈ (آر ایس ایف) کے پہلے جائزے پر اسٹاف لیول ایگریمنٹ (ایس ایل اے) طے پایا تھا۔</p>
<p>اس معاہدے کے تحت پاکستان کو ای ایف ایف کے تحت ایک ارب ڈالر اور آر ایس ایف کے تحت 20 کروڑ ڈالر ملیں گے، یہ ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی رقم 9 دسمبر کو پاکستان کے اکاؤنٹ میں منتقل ہونے کی توقع ہے، جس سے دونوں پروگراموں کے تحت مجموعی ادائیگیاں تقریباً 3.3 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔</p>
<p>آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کے شیڈول کے مطابق 8 دسمبر کو پاکستان اور صومالیہ کے لیے الگ الگ اجلاس ہوں گے، تاکہ دونوں کے اسٹاف لیول ایگریمنٹس کی منظوری دی جا سکے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271563'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271563"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بورڈ اجلاس سے قبل پاکستان سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ گورننس اور کرپشن ڈائیگناسٹک (جی سی ڈی) اسیسمنٹ رپورٹ شائع کرے گا، جو ای ایف ایف کے تحت ایک کلیدی ساختی بینچ مارک ہے۔</p>
<p>اس معیار کی آخری تاریخ جولائی کے اختتام پر مقرر تھی، جسے بعد میں اگست اور پھر اکتوبر کے آخر تک بڑھایا گیا، مگر اب تک پوری نہیں ہو سکی، تاخیر کی وجہ پاکستان کے حکام اور آئی ایم ایف کے ماہرین کے درمیان تکنیکی و حقائق پر مبنی اختلافات بتائے گئے ہیں۔</p>
<p>حکام کے مطابق اب وہ اختلافات دور کر دیے گئے ہیں، اور پاکستان نے فنڈ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ رپورٹ بورڈ اجلاس سے قبل شائع کر دی جائے گی۔ ایک عہدیدار کے مطابق، یہ رپورٹ آئی ایم ایف کی تکنیکی اور قانونی ٹیموں نے او ای سی ڈی اور ایف اے ٹی ایف جیسے عالمی اداروں کے ساتھ مشاورت کے بعد تیار کی ہے، اور یہ ایک جامع مشق تھی جو 100 سے زائد قواعد کا احاطہ کرتی ہے۔</p>
<p>عہدیدار نے بتایا کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مسودوں کے تبادلے اور مختلف اداروں (بشمول انسدادِ بدعنوانی کے ادارے، اعلیٰ عدلیہ، تحقیقاتی ایجنسیاں، وزارتِ خزانہ اور قانون) کے ساتھ تفصیلی مشاورت کے کئی مراحل طے کیے گئے، تاکہ عالمی ماہرین کی رہنمائی کے تحت بہترین نتائج حاصل کیے جا سکیں۔</p>
<p>دونوں فریقین کے درمیان اس بات پر بھی بات چیت ہوئی کہ جی سی ڈی رپورٹ کی اشاعت اور اس کی بنیاد پر گورننس ایکشن پلان کے نفاذ کے درمیان وقت کا فرق کم سے کم رکھا جائے، تاکہ اصلاحات بروقت عمل میں لائی جا سکیں۔</p>
<p>آئی ایم ایف کا ایک اسکوپنگ مشن رواں سال کے آغاز میں پاکستان آیا تھا، جس نے سپریم کورٹ، وزارت قانون و انصاف، آڈیٹر جنرل، پارلیمنٹ، قومی احتساب بیورو (نیب)، ایف بی آر، اور اسٹیٹ بینک کے حکام سے ملاقاتیں کیں، اس کے نتیجے میں ایک جامع رپورٹ تیار کی گئی جس میں پبلک فنانس مینجمنٹ، ٹیکس نظام اور اے جی پی آر کے طریقہ کار میں کمزوریاں اور خامیاں واضح کی گئیں۔</p>
<p>موجودہ گورننس نظام کے تحت زیادہ تر سرکاری افسران اپنی اور اپنے خاندان کی جائیدادوں کا اعلان نہ تو ٹیکس حکام کے سامنے کرتے ہیں اور نہ ہی اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو فراہم کرتے ہیں، جب کہ احتساب کے لیے مؤثر ادارہ جاتی نظام بھی موجود نہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1269184'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269184"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس کے علاوہ کئی ادارے، بشمول ریگولیٹری باڈیز، ان انکشافات اور جانچ سے مستثنیٰ ہیں، اسی وجہ سے بیوروکریسی اور سیاسی حلقوں میں بدعنوانی کی شکایات عام ہیں اور پاکستان بین الاقوامی کرپشن کے اشاریوں میں ہمیشہ بلند درجہ پر رہا ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف مسلسل زور دے رہا ہے کہ حکومت ڈیٹا پر مبنی خطرات کی نشاندہی، احتیاطی اقدامات، شفافیت کے اصول اور بدعنوانی و سرکاری اختیارات کے غلط استعمال کے خلاف واضح رہنما اصول اپنائے، کیونکہ انہی وجوہات نے پالیسی سازی اور کاروباری اعتماد کو متاثر کیا ہے۔ پیرس میں قائم فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے بھی اس ضمن میں کمزوریاں اجاگر کی ہیں اور اصلاحات کی سفارشات پیش کی ہیں۔</p>
<p>آئی ایم ایف نے عملے کی سطح کا معاہدہ طے پانے پر اعلان کیا تھا کہ فنڈ نے پاکستان کی مالی اور معاشی کارکردگی، خاص طور پر ای ایف ایف کے تحت معاشی استحکام اور مارکیٹ اعتماد کی بحالی کے اقدامات کو کو سراہا ہے، معاشی بحالی جاری ہے، مالی سال 2025 میں کرنٹ اکاؤنٹ 14 سال بعد پہلی بار سرپلس میں رہا، مالیاتی توازن ہدف سے بہتر رہا، مہنگائی قابو میں ہے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئی ہے، اور مالیاتی حالات مستحکم ہوئے ہیں، کیونکہ حکومتی بانڈز کے اسپریڈز نمایاں طور پر کم ہوئے ہیں۔</p>
<p>تاہم، فنڈ نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی تھی کہ حالیہ سیلابی تباہی (جس سے تقریباً 70 لاکھ افراد متاثر ہوئے، ایک ہزار سے زائد اموات ہوئیں اور مکانات، بنیادی ڈھانچے اور زرعی زمین کو شدید نقصان پہنچا) معیشت پر خاص طور پر زرعی شعبے پر منفی اثر ڈال رہی ہے، جس کے نتیجے میں مالی سال 2026 کی جی ڈی پی شرح نمو کا تخمینہ 3.25 تا 3.5 فیصد تک کم کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>فنڈ نے کہا کہ یہ سیلاب پاکستان کی قدرتی آفات کے خطرات اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے حوالے سے بلند حساسیت کو ظاہر کرتے ہیں، اس لیے موسمیاتی لچک پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، حکام نے ای ایف ایف اور آر ایس ایف کے تحت پائیدار مالیاتی اور ساختی اصلاحات جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273660</guid>
      <pubDate>Thu, 13 Nov 2025 10:31:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خلیق کیانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/130928293935805.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/130928293935805.webp"/>
        <media:title>بورڈ اجلاس سے قبل پاکستان گورننس اور کرپشن ڈائیگناسٹک اسیسمنٹ رپورٹ شائع کرے گا — فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت نے 4 ماہ میں ترقیاتی کاموں پر محض 76 ارب روپے خرچ کیے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273671/</link>
      <description>&lt;p&gt;پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت اخراجات رواں مالی سال کے ابتدائی 4 ماہ میں سست روی کا شکار ہیں، کیونکہ حکومت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے سامنے مالی نظم و ضبط ظاہر کرنے کے لیے رقوم کے اجرا پر سخت کنٹرول رکھے ہوئے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1954792"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق مالی سال 26-2025 کے جولائی سے اکتوبر تک کے عرصے میں پی ایس ڈی پی پر مجموعی طور پر 76 ارب روپے خرچ کیے گئے، جو 10کھرب روپے کی کل سالانہ رقم کا صرف 7.6 فیصد بنتے ہیں، یہ پچھلے مالی سال کے مقابلے میں کم ہے، جبکہ منصوبہ بندی کمیشن کی جانب سے 330 ارب روپے کے اجرا کی منظوری دی گئی تھی، لیکن اس میں سے اصل خرچ بہت کم رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی ہے جب حکومت نے مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 1.6 فیصد بجٹ سرپلس ریکارڈ کیا، جو اسٹیٹ بینک کے منافع، پیٹرولیم لیوی کی بھاری وصولیوں اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت سیکڑوں منصوبوں کی بندش کے باعث ممکن ہوا، تاکہ وسائل کو ترقی کے آخری مراحل میں پہنچے ہوئے اہم اسٹریٹجک منصوبوں کی تکمیل پر مرکوز کیا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ منصوبہ بندی و ترقی کے بدھ کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق کارپوریشنز کو نکال کر دیکھا جائے تو تقریباً 35 وزارتوں اور ڈویژنز نے مجموعی طور پر صرف 54 ارب روپے خرچ کیے، جو ان کے 682 ارب روپے کے مجموعی بجٹ کا صرف 8 فیصد بنتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1269455'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269455"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب پاور سیکٹر اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی سمیت کارپوریشنز نے اپنی 318 ارب روپے کی سالانہ رقم کے مقابلے میں صرف 22 ارب روپے (یعنی 6.9 فیصد) استعمال کیے، پاور سیکٹر کا خرچ محض 1.9 ارب روپے رہا جو اس کے 91 ارب روپے کے بجٹ کا صرف 2 فیصد بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خزانہ کے وضع کردہ میکانزم کے مطابق حکومت کو پہلی سہ ماہی میں بجٹ کی رقم کا 15 فیصد، دوسری سہ ماہی میں 20 فیصد، تیسری میں 25 فیصد اور آخری سہ ماہی میں 40 فیصد جاری کرنا ہوتا ہے تاکہ محصولات میں کسی ممکنہ کمی کی صورت میں ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کر کے آئی ایم ایف کے مقررہ مالیاتی اہداف برقرار رکھے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس نظام کے تحت منصوبہ کمیشن نے دعویٰ کیا کہ اس نے وفاقی وزارتوں کے لیے 4 ماہ کے دوران 330.4 ارب روپے کے اجرا کی منظوری دی، جو سالانہ ہدف کا 33 فیصد بنتے ہیں، اور وزارتِ خزانہ کی ہدایات سے بھی زیادہ ہیں، مگر حقیقت میں صرف 76 ارب روپے یعنی 7.6 فیصد خرچ ہو پائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی 4 ماہ میں صرف 7 وزارتیں ہی ایک ارب روپے سے زائد خرچ کر سکیں، ان میں سرِفہرست واٹر ریسورسز ڈویژن رہی جس نے اپنے 129 ارب روپے کے سالانہ بجٹ میں سے 13.56 ارب روپے (یعنی 10.5 فیصد) خرچ کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے 227 ارب روپے کے مقابلے میں 20 ارب روپے (8.8 فیصد) اور ہائر ایجوکیشن کمیشن نے 42 ارب روپے میں سے 5.2 ارب روپے (12.4 فیصد) استعمال کیے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت اخراجات رواں مالی سال کے ابتدائی 4 ماہ میں سست روی کا شکار ہیں، کیونکہ حکومت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے سامنے مالی نظم و ضبط ظاہر کرنے کے لیے رقوم کے اجرا پر سخت کنٹرول رکھے ہوئے ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1954792"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق مالی سال 26-2025 کے جولائی سے اکتوبر تک کے عرصے میں پی ایس ڈی پی پر مجموعی طور پر 76 ارب روپے خرچ کیے گئے، جو 10کھرب روپے کی کل سالانہ رقم کا صرف 7.6 فیصد بنتے ہیں، یہ پچھلے مالی سال کے مقابلے میں کم ہے، جبکہ منصوبہ بندی کمیشن کی جانب سے 330 ارب روپے کے اجرا کی منظوری دی گئی تھی، لیکن اس میں سے اصل خرچ بہت کم رہا۔</p>
<p>یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی ہے جب حکومت نے مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 1.6 فیصد بجٹ سرپلس ریکارڈ کیا، جو اسٹیٹ بینک کے منافع، پیٹرولیم لیوی کی بھاری وصولیوں اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت سیکڑوں منصوبوں کی بندش کے باعث ممکن ہوا، تاکہ وسائل کو ترقی کے آخری مراحل میں پہنچے ہوئے اہم اسٹریٹجک منصوبوں کی تکمیل پر مرکوز کیا جاسکے۔</p>
<p>وزارتِ منصوبہ بندی و ترقی کے بدھ کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق کارپوریشنز کو نکال کر دیکھا جائے تو تقریباً 35 وزارتوں اور ڈویژنز نے مجموعی طور پر صرف 54 ارب روپے خرچ کیے، جو ان کے 682 ارب روپے کے مجموعی بجٹ کا صرف 8 فیصد بنتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1269455'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269455"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>دوسری جانب پاور سیکٹر اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی سمیت کارپوریشنز نے اپنی 318 ارب روپے کی سالانہ رقم کے مقابلے میں صرف 22 ارب روپے (یعنی 6.9 فیصد) استعمال کیے، پاور سیکٹر کا خرچ محض 1.9 ارب روپے رہا جو اس کے 91 ارب روپے کے بجٹ کا صرف 2 فیصد بنتا ہے۔</p>
<p>وزارتِ خزانہ کے وضع کردہ میکانزم کے مطابق حکومت کو پہلی سہ ماہی میں بجٹ کی رقم کا 15 فیصد، دوسری سہ ماہی میں 20 فیصد، تیسری میں 25 فیصد اور آخری سہ ماہی میں 40 فیصد جاری کرنا ہوتا ہے تاکہ محصولات میں کسی ممکنہ کمی کی صورت میں ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کر کے آئی ایم ایف کے مقررہ مالیاتی اہداف برقرار رکھے جا سکیں۔</p>
<p>اس نظام کے تحت منصوبہ کمیشن نے دعویٰ کیا کہ اس نے وفاقی وزارتوں کے لیے 4 ماہ کے دوران 330.4 ارب روپے کے اجرا کی منظوری دی، جو سالانہ ہدف کا 33 فیصد بنتے ہیں، اور وزارتِ خزانہ کی ہدایات سے بھی زیادہ ہیں، مگر حقیقت میں صرف 76 ارب روپے یعنی 7.6 فیصد خرچ ہو پائے۔</p>
<p>ابتدائی 4 ماہ میں صرف 7 وزارتیں ہی ایک ارب روپے سے زائد خرچ کر سکیں، ان میں سرِفہرست واٹر ریسورسز ڈویژن رہی جس نے اپنے 129 ارب روپے کے سالانہ بجٹ میں سے 13.56 ارب روپے (یعنی 10.5 فیصد) خرچ کیے۔</p>
<p>نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے 227 ارب روپے کے مقابلے میں 20 ارب روپے (8.8 فیصد) اور ہائر ایجوکیشن کمیشن نے 42 ارب روپے میں سے 5.2 ارب روپے (12.4 فیصد) استعمال کیے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273671</guid>
      <pubDate>Thu, 13 Nov 2025 13:03:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خلیق کیانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/1311083207dec7c.webp" type="image/webp" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/1311083207dec7c.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اکتوبر میں 17 ہزار 333 یونٹس کے ساتھ گاڑیوں کی فروخت میں نمایاں بہتری</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273617/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان کی آٹو انڈسٹری نے اکتوبر میں نمایاں بہتری دکھائی ہے جب کاروں، وینز، پک اپس اور اسپورٹ یوٹیلیٹی وہیکلز (ایس یو ویز) کی فروخت 17 ہزار 333 یونٹس تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 32 فیصد اور ستمبر کے مقابلے میں ایک فیصد معمولی اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1954574/auto-sales-rev-up-in-october"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی مائیشا سہیل نے بتایا ہےکہ سال بہ سال اضافے کی بڑی وجوہات میں معاشی استحکام، نئی گاڑیوں کے ماڈلز کی آمد، کم شرحِ سود، افراطِ زر میں کمی اور صارفین کے اعتماد میں بہتری شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہ بہ ماہ فروخت میں تقریباً کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی، جس کی بڑی وجہ پاک سوزوکی موٹر کمپنی (پی ایس ایم سی) کی فروخت میں 18 فیصد کمی تھی، کمپنی کی جانب سے راوی، بولان، ایوری وی ایکس اور ویگن آر جیسے ماڈلز بند کرنے سے سوئفٹ، راوی اور ایوری کی فروخت میں بالترتیب 17، 84 اور 28 فیصد کمی آئی، جبکہ بولان کی فروخت مئی 2025 سے بند ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 26-2025 کے پہلی 4 ماہ میں مجموعی طور پر گاڑیوں کی فروخت 46 فیصد بڑھ کر 59 ہزار 600 یونٹس تک جا پہنچی، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 40 ہزار 693 یونٹس تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1269074'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269074"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈس موٹر کمپنی (آئی ایم سی) نے اکتوبر میں سب سے زیادہ ماہ بہ ماہ اضافہ ریکارڈ کیا، جس میں فروخت 44 فیصد بڑھ کر 4 ہزار 529 یونٹس تک پہنچ گئی، کرولا، یارس اور کرولا کراس ماڈلز کی فروخت 41 فیصد ماہ بہ ماہ اور 78 فیصد سال بہ سال بڑھ کر 3 ہزار 742 یونٹس تک جا پہنچی، جبکہ فورچیونر اور آئی ایم وی ماڈلز کی فروخت 58 فیصد ماہ بہ ماہ اور 83 فیصد سال بہ سال اضافے کے ساتھ 787 یونٹس تک پہنچ گئی، آئی ایم سی کی چار ماہ کی فروخت 14 ہزار 418 یونٹس رہی جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 66 فیصد زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہنڈائی نشاط نے سال بہ سال تمام کار ساز کمپنیوں میں سب سے زیادہ اضافہ دکھایا، جو 82 فیصد اضافے کے ساتھ ایک ہزار 86 یونٹس تک پہنچ گئی، یہ اضافہ خاص طور پر ٹوسان اور ایلنٹرا ماڈلز کی مضبوط مانگ کے باعث ہوا، تاہم ماہ بہ ماہ فروخت میں 8 فیصد کمی دیکھی گئی، جولائی تا اکتوبر 26-2025 میں کمپنی کی مجموعی فروخت 4 ہزار 698 یونٹس رہی، جو 81 فیصد زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہنڈا اٹلس کارز لمیٹڈ (ایچ اے سی ایل) کی فروخت اکتوبر میں 72 فیصد سال بہ سال اور 13 فیصد ماہ بہ ماہ بڑھ کر 2 ہزار 247 یونٹس تک پہنچ گئی، جس میں سٹی اور سوک ماڈلز نے نمایاں کردار ادا کیا، 4 ماہ میں کمپنی کی مجموعی فروخت 54 فیصد بڑھ کر 7 ہزار 487 یونٹس رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاک سوزوکی کی اکتوبر میں فروخت ماہ بہ ماہ 18 فیصد کم ہو کر 7 ہزار 403 یونٹس رہی، جس کی بڑی وجہ سوئفٹ، راوی اور ایوری ماڈلز کی فروخت میں کمی تھی۔ تاہم سال بہ سال فروخت میں ایک فیصد معمولی اضافہ ہوا، مالی سال کے ابتدائی چار ماہ میں پاک سوزوکی کی مجموعی فروخت 33 فیصد اضافے کے ساتھ 27 ہزار 234 یونٹس رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="موٹرسائیکلوں-اور-رکشوں-کی-فروخت-میں-بھی-نمایاں-اضافہ" href="#موٹرسائیکلوں-اور-رکشوں-کی-فروخت-میں-بھی-نمایاں-اضافہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;موٹرسائیکلوں اور رکشوں کی فروخت میں بھی نمایاں اضافہ&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;موٹرسائیکلوں اور رکشوں کی فروخت اکتوبر میں سال بہ سال  20 فیصد اور ماہ بہ ماہ 4 فیصد بڑھ کر ایک لاکھ 65 ہزار 500 یونٹس تک جا پہنچی، جو تقریباً 4 سال کی بلند ترین سطح ہے، 4 ماہ میں ان کی مجموعی فروخت 30 فیصد اضافے کے ساتھ 5 لاکھ 97 ہزار یونٹس رہی، اٹلس ہنڈا لمیٹڈ (اے ایچ ایل) نے ریکارڈ قائم کیا اور اکتوبر میں ایک لاکھ 40 ہزار 178 سی ڈی 70 موٹر سائیکلیں فروخت کیں، جو ستمبر 2025 کے ریکارڈ سے بھی زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹریکٹرز کی فروخت اکتوبر میں سال بہ سال 67 فیصد اور ماہ بہ ماہ 265 فیصد بڑھ کر 2 ہزار 886 یونٹس تک جا پہنچی، جس کی بڑی وجہ پنجاب گرین ٹریکٹر اسکیم تھی، تاہم 4 ماہ کے دوران فروخت 15 فیصد کم ہو کر 5 ہزار 867 یونٹس رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرک اور بسوں کی فروخت اکتوبر میں 118 فیصد سال بہ سال بڑھنے کے باوجود ماہ بہ ماہ 7 فیصد کمی کے ساتھ 766 یونٹس رہی، مالی سال کے ابتدائی 4 ماہ میں ان کی مجموعی فروخت 106 فیصد بڑھ کر 2 ہزار 630 یونٹس تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="مالی-سال-26-2025-کیلئے-آؤٹ-لک" href="#مالی-سال-26-2025-کیلئے-آؤٹ-لک" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;مالی سال 26-2025 کیلئے آؤٹ لک&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;مائیشا سہیل کے مطابق پاکستان کی آٹو انڈسٹری میں مثبت رجحان مالی سال 26-2025 میں بھی برقرار رہنے کی توقع ہے، جس کی بنیادی وجوہات میں کم شرحِ سود اور روایتی، ہائبرڈ اور پلگ اِن ہائبرڈ انجنز کی نئی گاڑیوں کی لانچ شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان کی آٹو انڈسٹری نے اکتوبر میں نمایاں بہتری دکھائی ہے جب کاروں، وینز، پک اپس اور اسپورٹ یوٹیلیٹی وہیکلز (ایس یو ویز) کی فروخت 17 ہزار 333 یونٹس تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 32 فیصد اور ستمبر کے مقابلے میں ایک فیصد معمولی اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1954574/auto-sales-rev-up-in-october"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی مائیشا سہیل نے بتایا ہےکہ سال بہ سال اضافے کی بڑی وجوہات میں معاشی استحکام، نئی گاڑیوں کے ماڈلز کی آمد، کم شرحِ سود، افراطِ زر میں کمی اور صارفین کے اعتماد میں بہتری شامل ہیں۔</p>
<p>ماہ بہ ماہ فروخت میں تقریباً کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی، جس کی بڑی وجہ پاک سوزوکی موٹر کمپنی (پی ایس ایم سی) کی فروخت میں 18 فیصد کمی تھی، کمپنی کی جانب سے راوی، بولان، ایوری وی ایکس اور ویگن آر جیسے ماڈلز بند کرنے سے سوئفٹ، راوی اور ایوری کی فروخت میں بالترتیب 17، 84 اور 28 فیصد کمی آئی، جبکہ بولان کی فروخت مئی 2025 سے بند ہے۔</p>
<p>مالی سال 26-2025 کے پہلی 4 ماہ میں مجموعی طور پر گاڑیوں کی فروخت 46 فیصد بڑھ کر 59 ہزار 600 یونٹس تک جا پہنچی، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 40 ہزار 693 یونٹس تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1269074'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269074"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انڈس موٹر کمپنی (آئی ایم سی) نے اکتوبر میں سب سے زیادہ ماہ بہ ماہ اضافہ ریکارڈ کیا، جس میں فروخت 44 فیصد بڑھ کر 4 ہزار 529 یونٹس تک پہنچ گئی، کرولا، یارس اور کرولا کراس ماڈلز کی فروخت 41 فیصد ماہ بہ ماہ اور 78 فیصد سال بہ سال بڑھ کر 3 ہزار 742 یونٹس تک جا پہنچی، جبکہ فورچیونر اور آئی ایم وی ماڈلز کی فروخت 58 فیصد ماہ بہ ماہ اور 83 فیصد سال بہ سال اضافے کے ساتھ 787 یونٹس تک پہنچ گئی، آئی ایم سی کی چار ماہ کی فروخت 14 ہزار 418 یونٹس رہی جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 66 فیصد زیادہ ہے۔</p>
<p>ہنڈائی نشاط نے سال بہ سال تمام کار ساز کمپنیوں میں سب سے زیادہ اضافہ دکھایا، جو 82 فیصد اضافے کے ساتھ ایک ہزار 86 یونٹس تک پہنچ گئی، یہ اضافہ خاص طور پر ٹوسان اور ایلنٹرا ماڈلز کی مضبوط مانگ کے باعث ہوا، تاہم ماہ بہ ماہ فروخت میں 8 فیصد کمی دیکھی گئی، جولائی تا اکتوبر 26-2025 میں کمپنی کی مجموعی فروخت 4 ہزار 698 یونٹس رہی، جو 81 فیصد زیادہ ہے۔</p>
<p>ہنڈا اٹلس کارز لمیٹڈ (ایچ اے سی ایل) کی فروخت اکتوبر میں 72 فیصد سال بہ سال اور 13 فیصد ماہ بہ ماہ بڑھ کر 2 ہزار 247 یونٹس تک پہنچ گئی، جس میں سٹی اور سوک ماڈلز نے نمایاں کردار ادا کیا، 4 ماہ میں کمپنی کی مجموعی فروخت 54 فیصد بڑھ کر 7 ہزار 487 یونٹس رہی۔</p>
<p>پاک سوزوکی کی اکتوبر میں فروخت ماہ بہ ماہ 18 فیصد کم ہو کر 7 ہزار 403 یونٹس رہی، جس کی بڑی وجہ سوئفٹ، راوی اور ایوری ماڈلز کی فروخت میں کمی تھی۔ تاہم سال بہ سال فروخت میں ایک فیصد معمولی اضافہ ہوا، مالی سال کے ابتدائی چار ماہ میں پاک سوزوکی کی مجموعی فروخت 33 فیصد اضافے کے ساتھ 27 ہزار 234 یونٹس رہی۔</p>
<h1><a id="موٹرسائیکلوں-اور-رکشوں-کی-فروخت-میں-بھی-نمایاں-اضافہ" href="#موٹرسائیکلوں-اور-رکشوں-کی-فروخت-میں-بھی-نمایاں-اضافہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>موٹرسائیکلوں اور رکشوں کی فروخت میں بھی نمایاں اضافہ</h1>
<p>موٹرسائیکلوں اور رکشوں کی فروخت اکتوبر میں سال بہ سال  20 فیصد اور ماہ بہ ماہ 4 فیصد بڑھ کر ایک لاکھ 65 ہزار 500 یونٹس تک جا پہنچی، جو تقریباً 4 سال کی بلند ترین سطح ہے، 4 ماہ میں ان کی مجموعی فروخت 30 فیصد اضافے کے ساتھ 5 لاکھ 97 ہزار یونٹس رہی، اٹلس ہنڈا لمیٹڈ (اے ایچ ایل) نے ریکارڈ قائم کیا اور اکتوبر میں ایک لاکھ 40 ہزار 178 سی ڈی 70 موٹر سائیکلیں فروخت کیں، جو ستمبر 2025 کے ریکارڈ سے بھی زیادہ ہے۔</p>
<p>ٹریکٹرز کی فروخت اکتوبر میں سال بہ سال 67 فیصد اور ماہ بہ ماہ 265 فیصد بڑھ کر 2 ہزار 886 یونٹس تک جا پہنچی، جس کی بڑی وجہ پنجاب گرین ٹریکٹر اسکیم تھی، تاہم 4 ماہ کے دوران فروخت 15 فیصد کم ہو کر 5 ہزار 867 یونٹس رہی۔</p>
<p>ٹرک اور بسوں کی فروخت اکتوبر میں 118 فیصد سال بہ سال بڑھنے کے باوجود ماہ بہ ماہ 7 فیصد کمی کے ساتھ 766 یونٹس رہی، مالی سال کے ابتدائی 4 ماہ میں ان کی مجموعی فروخت 106 فیصد بڑھ کر 2 ہزار 630 یونٹس تک پہنچ گئی۔</p>
<h1><a id="مالی-سال-26-2025-کیلئے-آؤٹ-لک" href="#مالی-سال-26-2025-کیلئے-آؤٹ-لک" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>مالی سال 26-2025 کیلئے آؤٹ لک</h1>
<p>مائیشا سہیل کے مطابق پاکستان کی آٹو انڈسٹری میں مثبت رجحان مالی سال 26-2025 میں بھی برقرار رہنے کی توقع ہے، جس کی بنیادی وجوہات میں کم شرحِ سود اور روایتی، ہائبرڈ اور پلگ اِن ہائبرڈ انجنز کی نئی گاڑیوں کی لانچ شامل ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273617</guid>
      <pubDate>Wed, 12 Nov 2025 14:43:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عامر شفاعت خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/121111142a280c8.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/121111142a280c8.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اکتوبر کے مہینے میں ترسیلات زر 3 ارب 40 کروڑ ڈالر کی سطح تک پہنچ گئیں</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273422/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی بھیجی گئی ترسیلات زر موجودہ مالی سال کے لیے ریکارڈ سطح تک پہنچ گئیں اور اکتوبر میں یہ 3 ارب 40 کروڑ ڈالر تک جا پہنچی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1953815/remittances-hit-34bn-in-october"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق مالی سال 26 کے پہلے 4  ماہ کے دوران ترسیلات میں سالانہ بنیاد پر 9.3 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 12 ارب 95 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 11 ارب 85 کروڑ 10 لاکھ ڈالر تھیں، یعنی ایک سال میں تقریباً ایک ارب 10 کروڑ ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اکتوبر کی ترسیلات ستمبر کے مقابلے میں 7.4 فیصد زیادہ تھیں، جو حکومت کے لیے حوصلہ افزا ہے، کیونکہ حکومت مالی سال کے آخر تک کُل 40 ارب ڈالر کی ترسیلات حاصل کرنے کا ہدف رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271189'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271189"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے مزید مزدور برآمد کرنے کے منصوبے کا بھی اعلان کیا ہے، تاہم کسی مخصوص ملک کی نشاندہی نہیں کی گئی، سعودی عرب کے ساتھ بہتر سفارتی اور دفاعی تعلقات کے بعد، مبصرین توقع کرتے ہیں کہ زیادہ تعداد میں مزدور عرب ممالک کی جانب جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور دیگر خلیجی ممالک نے مالی سال 26 کے جولائی تا اکتوبر کے عرصے میں کل ترسیلات میں 7 ارب ڈالر سے زائد کا حصہ ڈالا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے بڑی شراکت سعودی عرب کی تھی، جس نے 3 ارب 32 کروڑ ڈالر بھیجے، جو سالانہ بنیاد پر 7.1 فیصد اضافہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یو اے ای نے 2 ارب 68 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کی ترسیلات بھیجیں، جب کہ دیگر جی سی سی ممالک (سعودی عرب اور یو اے ای کو چھوڑ کر) نے ایک ارب 24 کروڑ ڈالر کا حصہ ڈالا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے نمایاں اضافہ یورپی یونین کے ممالک سے ہوا، جہاں ترسیلات میں 19.7 فیصد اضافہ ہوا اور یہ ایک ارب 73 کروڑ 70 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی یونین سے آنے والی ترسیلات نے جی سی سی اور امریکا سے آنے والی ترسیلات کو پیچھے چھوڑ دیا اور تقریباً ایک ارب 85 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے ساتھ برطانیہ سے بھیجی گئی رقم کے برابر ہو گئیں، جو سالانہ بنیاد پر 4.7 فیصد اضافہ تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="بڑھتا-ہوا-انحصار" href="#بڑھتا-ہوا-انحصار" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;بڑھتا ہوا انحصار&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا ترسیلات پر انحصار بڑھتا جا رہا ہے، کیونکہ اب ترسیلات زر برآمدات سے زیادہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1263685'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1263685"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک کو مالی سال 25 میں 38 ارب 30 کروڑ ڈالر موصول ہوئے تھے، جو پچھلی 2 دہائیوں کی سب سے زیادہ رقم ہے، جس سے معمولی کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس حاصل ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ سرپلس جزوی طور پر 16 ارب ڈالر سے زائد قرض کی ادائیگی کی منتقلی کے سبب تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ مالی سال میں چیلنج اور بھی بڑا ہے، کیونکہ 25 ارب ڈالر کے بیرونی قرض کی ادائیگیاں واجب الادا ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ بھاری قرض اور مسلسل تجارتی خسارہ حکومت کو ترسیلات زر کے مضبوط بہاؤ کو بیرونی مالی دباؤ کم کرنے کے لیے مؤثر طریقے سے استعمال کرنے سے روک رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ پہلے 4 ماہ میں کل 9.3 فیصد اضافہ پچھلے سال کے اسی عرصے میں ریکارڈ شدہ 34.7 فیصد اضافہ کے مقابلے میں کم ہے، لیکن اکتوبر میں اضافے نے امیدیں بڑھا دی ہیں کہ اس مالی سال کی ترسیلات زر گزشتہ سال کے مجموعی ہدف سے زیادہ ہو سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی بھیجی گئی ترسیلات زر موجودہ مالی سال کے لیے ریکارڈ سطح تک پہنچ گئیں اور اکتوبر میں یہ 3 ارب 40 کروڑ ڈالر تک جا پہنچی ہیں۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1953815/remittances-hit-34bn-in-october"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق مالی سال 26 کے پہلے 4  ماہ کے دوران ترسیلات میں سالانہ بنیاد پر 9.3 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 12 ارب 95 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 11 ارب 85 کروڑ 10 لاکھ ڈالر تھیں، یعنی ایک سال میں تقریباً ایک ارب 10 کروڑ ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔</p>
<p>اکتوبر کی ترسیلات ستمبر کے مقابلے میں 7.4 فیصد زیادہ تھیں، جو حکومت کے لیے حوصلہ افزا ہے، کیونکہ حکومت مالی سال کے آخر تک کُل 40 ارب ڈالر کی ترسیلات حاصل کرنے کا ہدف رکھتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271189'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271189"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>حکومت نے مزید مزدور برآمد کرنے کے منصوبے کا بھی اعلان کیا ہے، تاہم کسی مخصوص ملک کی نشاندہی نہیں کی گئی، سعودی عرب کے ساتھ بہتر سفارتی اور دفاعی تعلقات کے بعد، مبصرین توقع کرتے ہیں کہ زیادہ تعداد میں مزدور عرب ممالک کی جانب جائیں گے۔</p>
<p>اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور دیگر خلیجی ممالک نے مالی سال 26 کے جولائی تا اکتوبر کے عرصے میں کل ترسیلات میں 7 ارب ڈالر سے زائد کا حصہ ڈالا۔</p>
<p>سب سے بڑی شراکت سعودی عرب کی تھی، جس نے 3 ارب 32 کروڑ ڈالر بھیجے، جو سالانہ بنیاد پر 7.1 فیصد اضافہ ہے۔</p>
<p>یو اے ای نے 2 ارب 68 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کی ترسیلات بھیجیں، جب کہ دیگر جی سی سی ممالک (سعودی عرب اور یو اے ای کو چھوڑ کر) نے ایک ارب 24 کروڑ ڈالر کا حصہ ڈالا۔</p>
<p>سب سے نمایاں اضافہ یورپی یونین کے ممالک سے ہوا، جہاں ترسیلات میں 19.7 فیصد اضافہ ہوا اور یہ ایک ارب 73 کروڑ 70 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں۔</p>
<p>یورپی یونین سے آنے والی ترسیلات نے جی سی سی اور امریکا سے آنے والی ترسیلات کو پیچھے چھوڑ دیا اور تقریباً ایک ارب 85 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے ساتھ برطانیہ سے بھیجی گئی رقم کے برابر ہو گئیں، جو سالانہ بنیاد پر 4.7 فیصد اضافہ تھی۔</p>
<h1><a id="بڑھتا-ہوا-انحصار" href="#بڑھتا-ہوا-انحصار" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>بڑھتا ہوا انحصار</h1>
<p>پاکستان کا ترسیلات پر انحصار بڑھتا جا رہا ہے، کیونکہ اب ترسیلات زر برآمدات سے زیادہ ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1263685'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1263685"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ملک کو مالی سال 25 میں 38 ارب 30 کروڑ ڈالر موصول ہوئے تھے، جو پچھلی 2 دہائیوں کی سب سے زیادہ رقم ہے، جس سے معمولی کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس حاصل ہوا۔</p>
<p>تاہم یہ سرپلس جزوی طور پر 16 ارب ڈالر سے زائد قرض کی ادائیگی کی منتقلی کے سبب تھا۔</p>
<p>موجودہ مالی سال میں چیلنج اور بھی بڑا ہے، کیونکہ 25 ارب ڈالر کے بیرونی قرض کی ادائیگیاں واجب الادا ہیں۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ بھاری قرض اور مسلسل تجارتی خسارہ حکومت کو ترسیلات زر کے مضبوط بہاؤ کو بیرونی مالی دباؤ کم کرنے کے لیے مؤثر طریقے سے استعمال کرنے سے روک رہے ہیں۔</p>
<p>اگرچہ پہلے 4 ماہ میں کل 9.3 فیصد اضافہ پچھلے سال کے اسی عرصے میں ریکارڈ شدہ 34.7 فیصد اضافہ کے مقابلے میں کم ہے، لیکن اکتوبر میں اضافے نے امیدیں بڑھا دی ہیں کہ اس مالی سال کی ترسیلات زر گزشتہ سال کے مجموعی ہدف سے زیادہ ہو سکتی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273422</guid>
      <pubDate>Sat, 08 Nov 2025 14:57:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شاہد اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/081220473ad6a74.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/081220473ad6a74.webp"/>
        <media:title>سب سے نمایاں اضافہ یورپی یونین کے ممالک سے ہوا، جہاں ترسیلات میں 19.7 فیصد اضافہ ہوا — فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>درآمدات میں اضافہ اور برآمدات میں کمی، تجارتی خسارہ 12 ارب 58 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273249/</link>
      <description>&lt;p&gt;رواں مالی سال کے ابتدائی چار مہینوں کے دوران پاکستان کا تجارتی خسارہ نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے، جولائی سے اکتوبر 26-2025 کے عرصے میں تجارتی خسارہ 38 فیصد اضافے کے ساتھ 12 ارب 58 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا، جس کی بنیادی وجوہات درآمدات میں اضافہ اور برآمدات میں کمی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1953208/trade-deficit-surges-56pc-in-october"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق پاکستان کی معاشی بحالی کو بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے کیونکہ تجارتی خسارے اور مہنگائی سمیت اہم معاشی اشاریے تشویش ناک رجحانات ظاہر کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی منگل کو جاری رپورٹ کے مطابق اکتوبر میں تجارتی خسارہ گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 56 فیصد بڑھ کر 3 ارب 20 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا، اگرچہ یہ خسارہ ستمبر کے مقابلے میں 4 فیصد کم تھا، لیکن پھر بھی اس میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جو ظاہر کرتا ہے کہ ملک کی معیشت پر بیرونی دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی سے اکتوبر 26-2025 کے دوران پاکستان کا مجموعی تجارتی خسارہ 38 فیصد بڑھ کر 12 ارب 58 کروڑ 20 لاکھ ڈالر ہو گیا، جو پچھلے سال اسی عرصے میں 9 ارب 11 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تھا، ماہرین کے مطابق اس اضافے کی وجہ درآمدات میں اضافہ اور برآمدات میں کمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلے چار مہینوں کے دوران برآمدات 4 فیصد کمی کے بعد 10 ارب 44 کروڑ 80 لاکھ ڈالر رہیں، جب کہ درآمدات 15 فیصد بڑھ کر 23 ارب 3 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں، اکتوبر میں برآمدات اگرچہ ستمبر سے 4 فیصد زیادہ رہیں، لیکن درآمدات تقریباً تین سال بعد پہلی بار 6 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں، جو اکتوبر 2024 میں 5 ارب ڈالر تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1270648'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270648"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ اگر درآمدات کو قابو میں نہ رکھا گیا تو تجارتی خسارہ مزید بڑھے گا، جس سے کرنٹ اکاؤنٹ میں بہتری، اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر اور مستحکم روپے کی قدر پر منفی اثر پڑ سکتا ہے، تاہم اگر حکومت درآمدات کو محدود کرتی ہے تو اس سے معیشت کی رفتار کم ہو سکتی ہے، روزگار کے مواقع کم ہوں گے اور غربت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اکتوبر میں مہنگائی کی شرح بڑھ کر 6.2 فیصد تک پہنچ گئی، جو اس سال کی سب سے زیادہ سطح ہے، تاہم یہ اب بھی وزارتِ خزانہ کی 26-2025 کے لیے دی گئی پیشگوئی، یعنی 6.8 سے 7.2 فیصد کی حد کے اندر ہے، اس کے باوجود بنیادی مہنگائی 7.5 فیصد سے زیادہ برقرار ہے، جس کی وجہ سے معیشت میں ضروری اصلاحات لانے کی گنجائش کم ہوتی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ ملکی معیشت مستحکم ہے، لیکن انہوں نے جی ڈی پی میں اضافہ کے لیے اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، ماہرین کا خیال ہے کہ بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ اور مسلسل مہنگائی حکومت کے لیے ترقی پر مبنی پالیسیوں پر مؤثر عملدرآمد کو مشکل بنا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کی موجودہ پالیسی کا مرکزی نکتہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعے معیشت کو سہارا دینا ہے، مگر بڑھتا ہوا درآمدی خرچ اور کمزور برآمدی کارکردگی ظاہر کرتے ہیں کہ جب تک حکومت تجارتی توازن بہتر بنانے، مہنگائی کم کرنے اور صنعتوں کو مضبوط کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں کرتی، معاشی بحالی غیر یقینی رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اس وقت ایک نازک صورتحال میں ہے، اگر درآمدات میں مزید اضافہ ہوا تو کرنٹ اکاؤنٹ میں حاصل ہونے والے فوائد ختم ہو سکتے ہیں، جب کہ اگر درآمدات کو محدود کیا گیا تو معاشی ترقی سست، روزگار کے مواقع کم، اور غربت میں اضافہ ہو سکتا ہے، یہی توازن مالی سال 26-2025 کی معیشت کی سمت طے کرے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>رواں مالی سال کے ابتدائی چار مہینوں کے دوران پاکستان کا تجارتی خسارہ نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے، جولائی سے اکتوبر 26-2025 کے عرصے میں تجارتی خسارہ 38 فیصد اضافے کے ساتھ 12 ارب 58 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا، جس کی بنیادی وجوہات درآمدات میں اضافہ اور برآمدات میں کمی ہیں۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1953208/trade-deficit-surges-56pc-in-october">رپورٹ</a></strong> کے مطابق پاکستان کی معاشی بحالی کو بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے کیونکہ تجارتی خسارے اور مہنگائی سمیت اہم معاشی اشاریے تشویش ناک رجحانات ظاہر کر رہے ہیں۔</p>
<p>پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی منگل کو جاری رپورٹ کے مطابق اکتوبر میں تجارتی خسارہ گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 56 فیصد بڑھ کر 3 ارب 20 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا، اگرچہ یہ خسارہ ستمبر کے مقابلے میں 4 فیصد کم تھا، لیکن پھر بھی اس میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جو ظاہر کرتا ہے کہ ملک کی معیشت پر بیرونی دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔</p>
<p>جولائی سے اکتوبر 26-2025 کے دوران پاکستان کا مجموعی تجارتی خسارہ 38 فیصد بڑھ کر 12 ارب 58 کروڑ 20 لاکھ ڈالر ہو گیا، جو پچھلے سال اسی عرصے میں 9 ارب 11 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تھا، ماہرین کے مطابق اس اضافے کی وجہ درآمدات میں اضافہ اور برآمدات میں کمی ہے۔</p>
<p>پہلے چار مہینوں کے دوران برآمدات 4 فیصد کمی کے بعد 10 ارب 44 کروڑ 80 لاکھ ڈالر رہیں، جب کہ درآمدات 15 فیصد بڑھ کر 23 ارب 3 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں، اکتوبر میں برآمدات اگرچہ ستمبر سے 4 فیصد زیادہ رہیں، لیکن درآمدات تقریباً تین سال بعد پہلی بار 6 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں، جو اکتوبر 2024 میں 5 ارب ڈالر تھیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1270648'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270648"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ اگر درآمدات کو قابو میں نہ رکھا گیا تو تجارتی خسارہ مزید بڑھے گا، جس سے کرنٹ اکاؤنٹ میں بہتری، اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر اور مستحکم روپے کی قدر پر منفی اثر پڑ سکتا ہے، تاہم اگر حکومت درآمدات کو محدود کرتی ہے تو اس سے معیشت کی رفتار کم ہو سکتی ہے، روزگار کے مواقع کم ہوں گے اور غربت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب اکتوبر میں مہنگائی کی شرح بڑھ کر 6.2 فیصد تک پہنچ گئی، جو اس سال کی سب سے زیادہ سطح ہے، تاہم یہ اب بھی وزارتِ خزانہ کی 26-2025 کے لیے دی گئی پیشگوئی، یعنی 6.8 سے 7.2 فیصد کی حد کے اندر ہے، اس کے باوجود بنیادی مہنگائی 7.5 فیصد سے زیادہ برقرار ہے، جس کی وجہ سے معیشت میں ضروری اصلاحات لانے کی گنجائش کم ہوتی جا رہی ہے۔</p>
<p>وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ ملکی معیشت مستحکم ہے، لیکن انہوں نے جی ڈی پی میں اضافہ کے لیے اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔</p>
<p>تاہم، ماہرین کا خیال ہے کہ بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ اور مسلسل مہنگائی حکومت کے لیے ترقی پر مبنی پالیسیوں پر مؤثر عملدرآمد کو مشکل بنا رہے ہیں۔</p>
<p>حکومت کی موجودہ پالیسی کا مرکزی نکتہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعے معیشت کو سہارا دینا ہے، مگر بڑھتا ہوا درآمدی خرچ اور کمزور برآمدی کارکردگی ظاہر کرتے ہیں کہ جب تک حکومت تجارتی توازن بہتر بنانے، مہنگائی کم کرنے اور صنعتوں کو مضبوط کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں کرتی، معاشی بحالی غیر یقینی رہے گی۔</p>
<p>پاکستان اس وقت ایک نازک صورتحال میں ہے، اگر درآمدات میں مزید اضافہ ہوا تو کرنٹ اکاؤنٹ میں حاصل ہونے والے فوائد ختم ہو سکتے ہیں، جب کہ اگر درآمدات کو محدود کیا گیا تو معاشی ترقی سست، روزگار کے مواقع کم، اور غربت میں اضافہ ہو سکتا ہے، یہی توازن مالی سال 26-2025 کی معیشت کی سمت طے کرے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273249</guid>
      <pubDate>Wed, 05 Nov 2025 10:14:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شاہد اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/0510015885ce41a.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/0510015885ce41a.webp"/>
        <media:title>—فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کاٹی نے ’کے الیکٹرک‘ صارفین سے فیول کاسٹ چارجز کی وصولی مسترد کردی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273333/</link>
      <description>&lt;p&gt;کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے صدر محمد اکرام راجپوت نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) اور پاور ڈویژن کے اس فیصلے کی شدید مذمت کی ہے جس کے تحت مالی سال 2024 کے لیے کے-الیکٹرک کے صارفین پر فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) اور فیول کاسٹ کمپوننٹ (ایف سی سی) کے چارجز عائد کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1953213/kati-rejects-fuel-cost-charges-on-ke-consumers"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق محمد اکرم راجپوت نے اس اقدام کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ کراچی کے عوام اور صنعتوں، دونوں پر غیر منصفانہ مالی بوجھ ڈالے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ نیپرا کی دستاویزات کے مطابق اس فیصلے سے کراچی کے صارفین سے تقریباً 28 ارب روپے وصول کیے جائیں گے، جب کہ کورونا وبا کے دوران شہر کی صنعتوں سے 33 ارب روپے کے جس ریلیف پیکیج کا وعدہ کیا گیا تھا وہ اب تک جاری نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اکرم راجپوت کے مطابق حکومت ریلیف دینے کے بجائے اپنے سابقہ وعدوں سے پیچھے ہٹ رہی ہے اور نئے مالی بوجھ ڈال رہی ہے، جو کراچی کے صنعتی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273316/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273316"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے تشویش ظاہر کی کہ کے-الیکٹرک کے ملٹی ایئر ٹیرف پر نظرِ ثانی کے دوران ماضی کے فیصلوں کو دوبارہ کھولا جا رہا ہے، جس سے کاروباری برادری میں غیر یقینی کی فضا پیدا ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اکرم راجپوت نے الزام لگایا کہ نیپرا اپنے ہی شفافیت کے دعوؤں کو نقصان پہنچا رہی ہے کیونکہ وہ اپنے سابقہ فیصلوں میں تبدیلیاں کر کے نئی مالی ذمہ داریاں متعارف کرا رہی ہے، جو ملٹی ایئر ٹیرف فریم ورک کے بنیادی مقاصد کے منافی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ کے-الیکٹرک کا موجودہ ٹیرف 32.57 روپے فی یونٹ دیگر تقسیم کار کمپنیوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے، اس کے باوجود کراچی کی صنعتوں کو دیگر خسارے میں چلنے والی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو سبسڈی دینے پر مجبور کیا جا رہا ہے، ان کے بقول یہ انتہائی ناانصافی ہے اور کسی صورت قبول نہیں کیا جاسکتا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے صدر محمد اکرام راجپوت نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) اور پاور ڈویژن کے اس فیصلے کی شدید مذمت کی ہے جس کے تحت مالی سال 2024 کے لیے کے-الیکٹرک کے صارفین پر فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) اور فیول کاسٹ کمپوننٹ (ایف سی سی) کے چارجز عائد کیے گئے ہیں۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1953213/kati-rejects-fuel-cost-charges-on-ke-consumers"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق محمد اکرم راجپوت نے اس اقدام کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ کراچی کے عوام اور صنعتوں، دونوں پر غیر منصفانہ مالی بوجھ ڈالے گا۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ نیپرا کی دستاویزات کے مطابق اس فیصلے سے کراچی کے صارفین سے تقریباً 28 ارب روپے وصول کیے جائیں گے، جب کہ کورونا وبا کے دوران شہر کی صنعتوں سے 33 ارب روپے کے جس ریلیف پیکیج کا وعدہ کیا گیا تھا وہ اب تک جاری نہیں کیا گیا۔</p>
<p>اکرم راجپوت کے مطابق حکومت ریلیف دینے کے بجائے اپنے سابقہ وعدوں سے پیچھے ہٹ رہی ہے اور نئے مالی بوجھ ڈال رہی ہے، جو کراچی کے صنعتی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273316/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273316"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے تشویش ظاہر کی کہ کے-الیکٹرک کے ملٹی ایئر ٹیرف پر نظرِ ثانی کے دوران ماضی کے فیصلوں کو دوبارہ کھولا جا رہا ہے، جس سے کاروباری برادری میں غیر یقینی کی فضا پیدا ہو رہی ہے۔</p>
<p>محمد اکرم راجپوت نے الزام لگایا کہ نیپرا اپنے ہی شفافیت کے دعوؤں کو نقصان پہنچا رہی ہے کیونکہ وہ اپنے سابقہ فیصلوں میں تبدیلیاں کر کے نئی مالی ذمہ داریاں متعارف کرا رہی ہے، جو ملٹی ایئر ٹیرف فریم ورک کے بنیادی مقاصد کے منافی ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ کے-الیکٹرک کا موجودہ ٹیرف 32.57 روپے فی یونٹ دیگر تقسیم کار کمپنیوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے، اس کے باوجود کراچی کی صنعتوں کو دیگر خسارے میں چلنے والی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو سبسڈی دینے پر مجبور کیا جا رہا ہے، ان کے بقول یہ انتہائی ناانصافی ہے اور کسی صورت قبول نہیں کیا جاسکتا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273333</guid>
      <pubDate>Thu, 06 Nov 2025 15:15:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/06115919ef533b2.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/06115919ef533b2.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مالی سال 2026 کے ابتدائی 4 ماہ میں تیل کی فروخت میں 4 فیصد اضافہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273336/</link>
      <description>&lt;p&gt;تیل کی مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کی اکتوبر میں مجموعی فروخت 15 لاکھ ٹن رہی، جو سال بہ سال تقریباً برقرار رہی، تاہم ماہ بہ ماہ 9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بنیادی وجہ فصلوں کی کٹائی کے موسم میں ڈیزل کے زیادہ استعمال کو قرار دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1953209/oil-sales-inch-up-4pc-in-4mfy26"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی مائشہ سہیل کے مطابق ماہانہ بنیاد پر یہ اضافہ مون سون بارشوں اور ملک کے مختلف حصوں میں آنے والے سیلاب کے خاتمے کے بعد ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی طلب میں بحالی سے ممکن ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2026 کی پہلی 4 ماہ میں او ایم سیز کی مجموعی فروخت 54 لاکھ ٹن رہی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے 52 لاکھ ٹن کے مقابلے میں 4 فیصد زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اکتوبر میں پیٹرول کی فروخت سال بہ سال 2 فیصد اور ماہ بہ ماہ 4 فیصد کم ہو کر 6 لاکھ 57 ہزار ٹن رہی، تاہم مالی سال 2026 کے پہلے 4 ماہ میں پیٹرول کی مجموعی فروخت 4 فیصد بڑھ کر 26 لاکھ 28 ہزار ٹن رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1268246'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1268246"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اکتوبر میں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فروخت سال بہ سال 4 فیصد اور ماہ بہ ماہ 21 فیصد بڑھ کر 7 لاکھ 14 ہزار ٹن رہی، مالی سال 2026 کے پہلے 4 ماہ میں ڈیزل کی مجموعی فروخت 23 لاکھ 36 ہزار ٹن رہی، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 11 فیصد زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، فرنس آئل کی فروخت سال بہ سال 52 فیصد کمی کے ساتھ اکتوبر میں صرف 28 ہزار ٹن رہی، تاہم ماہانہ بنیاد پر اس میں 108 فیصد اضافہ ہوا، جو بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کی عارضی طلب کے باعث ہوا، مالی سال 2026 کی پہلی 4 ماہ میں فرنس آئل کی مجموعی فروخت 75 ہزار ٹن رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 72 فیصد کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق اکتوبر میں فرنس آئل فروخت کرنے والی نمایاں کمپنیاں سائنرجی، پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) اور پرل پارکو تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مائشہ سہیل کے مطابق مالی سال 2026 میں مجموعی تیل فروخت میں 7 سے 10 فیصد اضافہ متوقع ہے، جو بہتر معاشی سرگرمیوں، بڑھتی ہوئی ٹرانسپورٹیشن کی طلب اور زرعی پیداوار میں بہتری سے ممکن ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>تیل کی مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کی اکتوبر میں مجموعی فروخت 15 لاکھ ٹن رہی، جو سال بہ سال تقریباً برقرار رہی، تاہم ماہ بہ ماہ 9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بنیادی وجہ فصلوں کی کٹائی کے موسم میں ڈیزل کے زیادہ استعمال کو قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1953209/oil-sales-inch-up-4pc-in-4mfy26"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی مائشہ سہیل کے مطابق ماہانہ بنیاد پر یہ اضافہ مون سون بارشوں اور ملک کے مختلف حصوں میں آنے والے سیلاب کے خاتمے کے بعد ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی طلب میں بحالی سے ممکن ہوا۔</p>
<p>مالی سال 2026 کی پہلی 4 ماہ میں او ایم سیز کی مجموعی فروخت 54 لاکھ ٹن رہی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے 52 لاکھ ٹن کے مقابلے میں 4 فیصد زیادہ ہے۔</p>
<p>اکتوبر میں پیٹرول کی فروخت سال بہ سال 2 فیصد اور ماہ بہ ماہ 4 فیصد کم ہو کر 6 لاکھ 57 ہزار ٹن رہی، تاہم مالی سال 2026 کے پہلے 4 ماہ میں پیٹرول کی مجموعی فروخت 4 فیصد بڑھ کر 26 لاکھ 28 ہزار ٹن رہی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1268246'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1268246"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اکتوبر میں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فروخت سال بہ سال 4 فیصد اور ماہ بہ ماہ 21 فیصد بڑھ کر 7 لاکھ 14 ہزار ٹن رہی، مالی سال 2026 کے پہلے 4 ماہ میں ڈیزل کی مجموعی فروخت 23 لاکھ 36 ہزار ٹن رہی، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 11 فیصد زیادہ ہے۔</p>
<p>دوسری جانب، فرنس آئل کی فروخت سال بہ سال 52 فیصد کمی کے ساتھ اکتوبر میں صرف 28 ہزار ٹن رہی، تاہم ماہانہ بنیاد پر اس میں 108 فیصد اضافہ ہوا، جو بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کی عارضی طلب کے باعث ہوا، مالی سال 2026 کی پہلی 4 ماہ میں فرنس آئل کی مجموعی فروخت 75 ہزار ٹن رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 72 فیصد کم ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق اکتوبر میں فرنس آئل فروخت کرنے والی نمایاں کمپنیاں سائنرجی، پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) اور پرل پارکو تھیں۔</p>
<p>مائشہ سہیل کے مطابق مالی سال 2026 میں مجموعی تیل فروخت میں 7 سے 10 فیصد اضافہ متوقع ہے، جو بہتر معاشی سرگرمیوں، بڑھتی ہوئی ٹرانسپورٹیشن کی طلب اور زرعی پیداوار میں بہتری سے ممکن ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273336</guid>
      <pubDate>Thu, 06 Nov 2025 12:30:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/061214479d095f6.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/061214479d095f6.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جولائی تا ستمبر بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ 79 ارب روپے بڑھ گیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273288/</link>
      <description>&lt;p&gt;جون 2025 کےمقابلے میں جولائی سے ستمبر تک بجلی کے شعبے کے گردشی قرض میں 79 ارب روپے کا اضافہ ہوگیا، ستمبر 2025 تک بجلی شعبے کا گردشی قرضہ 1693 ارب روپے ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجلی کے شعبے کے گردشی قرض پر پاور ڈویژن کی رپورٹ سامنے آگئی، رپورٹ کے مطابق جون 2025کے مقابلے جولائی تا ستمبر پاور سیکٹر کے گردشی قرض میں 79 ارب روپے اضافہ ہوگیا، ستمبر2025 تک بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ 1693ارب روپے ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق جون2025 تک بجلی کے شعبے کا حجم 1614 ارب روپے تھا، ستمبر 2024 کے مقابلے ستمبر 2025 تک بجلی کا سرکلر ڈیٹ 774 ارب روپےکم ہوا، ستمبر2024 تک توانائی شعبے کا گردشی قرضہ 2 ہزار 467 ارب روپے تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جون 2025 کےمقابلے میں جولائی سے ستمبر تک بجلی کے شعبے کے گردشی قرض میں 79 ارب روپے کا اضافہ ہوگیا، ستمبر 2025 تک بجلی شعبے کا گردشی قرضہ 1693 ارب روپے ہوگیا۔</p>
<p>بجلی کے شعبے کے گردشی قرض پر پاور ڈویژن کی رپورٹ سامنے آگئی، رپورٹ کے مطابق جون 2025کے مقابلے جولائی تا ستمبر پاور سیکٹر کے گردشی قرض میں 79 ارب روپے اضافہ ہوگیا، ستمبر2025 تک بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ 1693ارب روپے ہوگیا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق جون2025 تک بجلی کے شعبے کا حجم 1614 ارب روپے تھا، ستمبر 2024 کے مقابلے ستمبر 2025 تک بجلی کا سرکلر ڈیٹ 774 ارب روپےکم ہوا، ستمبر2024 تک توانائی شعبے کا گردشی قرضہ 2 ہزار 467 ارب روپے تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273288</guid>
      <pubDate>Wed, 05 Nov 2025 16:52:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر شیرانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/05160905cf28cc2.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/05160905cf28cc2.gif"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: اے پی پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سوست ڈرائی پورٹ سے اکتوبر میں ریکارڈ 1.88 ارب روپے کا ریونیو حاصل</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273335/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان کسٹمز نے اکتوبر کے دوران سوست ڈرائی پورٹ سے 1.88 ارب روپے کا ریکارڈ ریونیو جمع کیا، جو ڈرائی پورٹ کی تاریخ میں ماہانہ بنیاد پر سب سے بڑی وصولی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1953421/record-revenue-collected-from-sost-dry-port"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق یہ اضافہ پاکستان اور چین کے درمیان خنجراب پاس کے ذریعے تجارتی سرگرمیوں کے دوبارہ آغاز کے بعد ممکن ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کسٹمز حکام کے مطابق گلگت بلتستان کے تاجروں کے احتجاج کے باعث کئی ماہ تک معطل رہنے والی سرحدی تجارت اب مکمل طور پر بحال ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاجروں کی ہڑتال ستمبر کے آخری ہفتے میں اس وقت ختم ہوئی جب وزیرِاعظم کی جانب سے قائم کردہ کمیٹی اور گلگت بلتستان ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے نمائندوں کے درمیان معاہدہ طے پایا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان کسٹمز نے اکتوبر کے دوران سوست ڈرائی پورٹ سے 1.88 ارب روپے کا ریکارڈ ریونیو جمع کیا، جو ڈرائی پورٹ کی تاریخ میں ماہانہ بنیاد پر سب سے بڑی وصولی ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1953421/record-revenue-collected-from-sost-dry-port"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق یہ اضافہ پاکستان اور چین کے درمیان خنجراب پاس کے ذریعے تجارتی سرگرمیوں کے دوبارہ آغاز کے بعد ممکن ہوا۔</p>
<p>کسٹمز حکام کے مطابق گلگت بلتستان کے تاجروں کے احتجاج کے باعث کئی ماہ تک معطل رہنے والی سرحدی تجارت اب مکمل طور پر بحال ہو چکی ہے۔</p>
<p>تاجروں کی ہڑتال ستمبر کے آخری ہفتے میں اس وقت ختم ہوئی جب وزیرِاعظم کی جانب سے قائم کردہ کمیٹی اور گلگت بلتستان ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے نمائندوں کے درمیان معاہدہ طے پایا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273335</guid>
      <pubDate>Thu, 06 Nov 2025 15:48:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (جمیل نگری)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/0612121290fba3e.webp" type="image/webp" medium="image" height="392" width="690">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/0612121290fba3e.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: امتیاز علی تاج
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اکتوبر میں مسلسل تیسرے ماہ ٹیسکٹائل برآمدات میں سالانہ بنیاد پر کمی ریکارڈ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273280/</link>
      <description>&lt;p&gt;اکتوبر میں مسلسل تیسرے مہینے ٹیکسٹائل برآمدات میں سالانہ بنیادوں پر کمی ریکارڈ ہوئی،  رواں مالی سال کے پہلے 4 ماہ میں ٹیکسٹائل برآمدات 4.39 فیصد بڑھیں، اکتوبر 2025 میں سالانہ بنیاد پر ٹیکسٹائل برآمدات میں 0.61 فیصد کی کمی ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ اکتوبرمیں مسلسل تیسرے مہینے ٹیکسٹائل برآمدات میں سالانہ بنیادوں پر کمی ہوئی ہے، رواں مالی سال کے پہلے 4 ماہ میں ٹیکسٹائل برآمدات4.39 فیصدبڑھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اکتوبر2025 میں سالانہ بنیاد پر ٹیکسٹائل برآمدات میں 0.61 فیصدکی کمی ہوئی جبکہ
ماہانہ بنیاد پر اکتوبر میں ٹیکسٹائل برآمدات میں 2.53 فیصد کا اضافہ رکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271693'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271693"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق جولائی تااکتوبر 2025 میں ٹیکسٹائل برآمدات 6 ارب 42کروڑ ڈالر رہیں، گزشتہ سال اسی عرصے میں ٹیکسٹائل برآمدات 6 ارب 15 کروڑ ڈالر تھیں، گزشتہ ماہ ٹیکسٹائل برآمدات کا حجم ایک ارب 62 کروڑ ڈالر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق ستمبر2025 میں ٹیکسٹائل برآمدات ایک ارب 58 کروڑ ڈالرز تھیں، اکتوبر 2024 میں ٹیکسٹائل برآمدات کا حجم ایک ارب63 کروڑڈالرز تھاجبکہ اکتوبر2023 میں ٹیکسٹائل برآمدات ایک ارب 44کروڑ ڈالرز تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل اکتوبر2022 میں ٹیکسٹائل برآمدات ایک ارب 36کروڑڈالر جبکہ اکتوبر2021 میں ٹیکسٹائل برآمدات کاحجم ایک ارب 60کروڑ ڈالر تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اکتوبر میں مسلسل تیسرے مہینے ٹیکسٹائل برآمدات میں سالانہ بنیادوں پر کمی ریکارڈ ہوئی،  رواں مالی سال کے پہلے 4 ماہ میں ٹیکسٹائل برآمدات 4.39 فیصد بڑھیں، اکتوبر 2025 میں سالانہ بنیاد پر ٹیکسٹائل برآمدات میں 0.61 فیصد کی کمی ہوئی۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ اکتوبرمیں مسلسل تیسرے مہینے ٹیکسٹائل برآمدات میں سالانہ بنیادوں پر کمی ہوئی ہے، رواں مالی سال کے پہلے 4 ماہ میں ٹیکسٹائل برآمدات4.39 فیصدبڑھیں۔</p>
<p>اکتوبر2025 میں سالانہ بنیاد پر ٹیکسٹائل برآمدات میں 0.61 فیصدکی کمی ہوئی جبکہ
ماہانہ بنیاد پر اکتوبر میں ٹیکسٹائل برآمدات میں 2.53 فیصد کا اضافہ رکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271693'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271693"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ذرائع کے مطابق جولائی تااکتوبر 2025 میں ٹیکسٹائل برآمدات 6 ارب 42کروڑ ڈالر رہیں، گزشتہ سال اسی عرصے میں ٹیکسٹائل برآمدات 6 ارب 15 کروڑ ڈالر تھیں، گزشتہ ماہ ٹیکسٹائل برآمدات کا حجم ایک ارب 62 کروڑ ڈالر رہا۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق ستمبر2025 میں ٹیکسٹائل برآمدات ایک ارب 58 کروڑ ڈالرز تھیں، اکتوبر 2024 میں ٹیکسٹائل برآمدات کا حجم ایک ارب63 کروڑڈالرز تھاجبکہ اکتوبر2023 میں ٹیکسٹائل برآمدات ایک ارب 44کروڑ ڈالرز تھیں۔</p>
<p>اس سے قبل اکتوبر2022 میں ٹیکسٹائل برآمدات ایک ارب 36کروڑڈالر جبکہ اکتوبر2021 میں ٹیکسٹائل برآمدات کاحجم ایک ارب 60کروڑ ڈالر تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273280</guid>
      <pubDate>Wed, 05 Nov 2025 15:14:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر شیرانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/0515125080bb661.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/0515125080bb661.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت کا آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ اجلاس سے قبل اہم رپورٹ جاری کرنے کا فیصلہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273243/</link>
      <description>&lt;p&gt;حکومتِ پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ گورننس اور بدعنوانی سے متعلق دیرینہ رکی ہوئی تشخیصی رپورٹ (جی ڈی سی اسسمنٹ رپورٹ) کو آئی ایم ایف کے آئندہ ایگزیکٹو بورڈ اجلاس سے پہلے شائع کرے گی، جس میں پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی قسط کی منظوری دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1953225/govt-to-release-key-report-ahead-of-imf-board-meeting"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ پروگرام (ای ایف ایف) کے تحت آئی ایم ایف کی تیار کردہ گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگنوسٹک رپورٹ کی اشاعت اور اس کے بعد وفاقی و صوبائی سطح پر گورننس کی کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے ایک عملی منصوبے کی تیاری ایک اہم اسٹرکچرل بینچ مارک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ڈیڈ لائن پہلے جولائی کے آخر تک تھی، پھر اسے اگست اور اکتوبر 2025 کے آخر تک بڑھایا گیا، مگر ابھی تک مکمل نہیں ہوسکی، اس میں تاخیر کی بڑی وجہ پاکستانی حکام اور آئی ایم ایف کے درمیان تکنیکی و حقائق پر مبنی اختلافات بتائے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سرکاری اہلکار کے مطابق ہم نے اس اسٹرکچرل بینچ مارک کی دوبارہ توثیق کی ہے اور آئی ایم ایف کے ساتھ باہمی سمجھ بوجھ کے بعد یہ وعدہ کیا ہے کہ رپورٹ کو اس ماہ کے آخر یا اگلے ماہ کے آغاز میں ہونے والے (آئی ایم ایف ایگزیکٹو) بورڈ اجلاس سے قبل شائع کر دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271595'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271595"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہلکار نے بتایا کہ یہ ایک نہایت جامع مشق تھی جو آئی ایم ایف کی تکنیکی اور قانونی ٹیموں نے اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم (او ای سی ڈی) اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) جیسے عالمی اداروں کے تعاون سے انجام دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مسودے کا متعدد بار پاکستانی فریقین، جن میں انسدادِ بدعنوانی کے ادارے، اعلیٰ عدلیہ، تحقیقاتی ایجنسیاں، وزارتِ خزانہ اور وزارتِ قانون شامل تھیں، کے ساتھ تبادلہ کیاگیا تاکہ بین الاقوامی ماہرین کی مدد سے بہترین نتیجہ حاصل کیا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ قواعد و ضوابط کی تشریح پر مقامی اور بین الاقوامی سیاق و سباق میں سخت اختلافات تھے، مگر اب یہ مرحلہ ختم ہوچکا ہے اور رپورٹ کا حتمی مسودہ واشنگٹن میں آئی ایم ایف کے ہیڈکوارٹر بھیج دیا گیا ہے تاکہ اشاعت سے قبل آخری جائزہ لیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں فریقین نے اس بات پر بھی تبادلہ خیال کیا ہے کہ رپورٹ کی اشاعت اور اس کی سفارشات کی بنیاد پر گورننس ایکشن پلان کے درمیان وقفہ کم کیا جائے تاکہ اصلاحات پر جلد عمل شروع کیا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلے یہ طے تھا کہ جی سی ڈی رپورٹ جولائی میں شائع ہوگی اور 3 ماہ بعد، یعنی اکتوبر کے آخر تک ایکشن پلان جاری کیا جائے گا، تاہم اب امکان ہے کہ یہ منصوبہ دسمبر سے پہلے جاری کر دیا جائے گا تاکہ اسے اگلی ششماہی جائزہ رپورٹ میں شامل کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری اہلکاروں کے اثاثوں کی تفصیلات جمع کرانے کے حوالے سے اب بھی عمل درآمد میں کمی پائی جاتی ہے، اگرچہ سول سرونٹس کے مرکزی قانون میں ترمیم کر کے گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے افسران بشمول ان کے اہل خانہ اور ذاتی ملکیت کے اثاثوں کے لیے الیکٹرانک فائلنگ کو لازمی قرار دیا گیا ہے، مگر اس پر یکساں عمل درآمد نہیں ہو رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کا ایک جائزہ مشن رواں سال کے اوائل میں پاکستان آیا تھا اور اس نے سپریم کورٹ، وزارت قانون و انصاف، آڈیٹر جنرل، ارکانِ پارلیمان، قومی احتساب بیورو (نیب)، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور اسٹیٹ بینک کے ساتھ ملاقاتیں کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مشن نے ایک جامع رپورٹ تیار کی جس میں سرکاری مالیاتی نظم، ایف بی آر کے ٹیکس نظام، اور اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو کے طریقہ کار میں پائی جانے والی خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ نظامِ گورننس کے تحت زیادہ تر سرکاری افسران اپنے یا اپنے اہل خانہ کے اثاثے نہ تو ٹیکس حکام کے سامنے ظاہر کرتے ہیں اور نہ ہی اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو فراہم کرتے ہیں، جبکہ احتساب کے مؤثر ادارہ جاتی طریقہ کار کی بھی کمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ کہ کئی ادارے، جن میں ریگولیٹری باڈیز بھی شامل ہیں، ایسے انکشافات سے مستثنیٰ ہیں، جس کے باعث بدعنوانی کے متعدد واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں، اسی بنا پر پاکستان بدعنوانی کے عالمی اشاریوں میں مسلسل بلند درجہ بندی پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف طویل عرصے سے شفاف ڈیٹا، احتیاطی اقدامات، حفاظتی نظام اور پالیسی رہنما اصولوں پر زور دیتا آ رہا ہے تاکہ عوامی اختیارات کے غلط استعمال اور پالیسیوں میں کمزور فیصلہ سازی سے ملکی معیشت اور ترقی کو پہنچنے والے نقصان کو روکا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیرس میں قائم ایف اے ٹی ایف نے بھی ایسے ہی کمزور پہلوؤں کی نشاندہی کرتے ہوئے اصلاحات کی سفارشات دی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 14 اکتوبر کو 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکیج کے دوسرے جائزے اور 1.4 ارب ڈالر کے ریزیلیئنس اینڈ سسٹین ایبلٹی فنڈ (آر ایس ایف) کے پہلے جائزے پر اسٹاف لیول معاہدہ طے پایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس معاہدے کے تحت آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد پاکستان کو ای ایف ایف کے تحت ایک ارب ڈالر اور آر ایس ایف کے تحت 20 کروڑ ڈالر کی قسط ملے گی، بورڈ کا اجلاس تاحال طے نہیں ہوا، تاہم حکام کے مطابق یہ 15 نومبر کے بعد کسی بھی وقت بلایا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>حکومتِ پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ گورننس اور بدعنوانی سے متعلق دیرینہ رکی ہوئی تشخیصی رپورٹ (جی ڈی سی اسسمنٹ رپورٹ) کو آئی ایم ایف کے آئندہ ایگزیکٹو بورڈ اجلاس سے پہلے شائع کرے گی، جس میں پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی قسط کی منظوری دی جائے گی۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1953225/govt-to-release-key-report-ahead-of-imf-board-meeting"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ پروگرام (ای ایف ایف) کے تحت آئی ایم ایف کی تیار کردہ گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگنوسٹک رپورٹ کی اشاعت اور اس کے بعد وفاقی و صوبائی سطح پر گورننس کی کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے ایک عملی منصوبے کی تیاری ایک اہم اسٹرکچرل بینچ مارک ہے۔</p>
<p>یہ ڈیڈ لائن پہلے جولائی کے آخر تک تھی، پھر اسے اگست اور اکتوبر 2025 کے آخر تک بڑھایا گیا، مگر ابھی تک مکمل نہیں ہوسکی، اس میں تاخیر کی بڑی وجہ پاکستانی حکام اور آئی ایم ایف کے درمیان تکنیکی و حقائق پر مبنی اختلافات بتائے جاتے ہیں۔</p>
<p>ایک سرکاری اہلکار کے مطابق ہم نے اس اسٹرکچرل بینچ مارک کی دوبارہ توثیق کی ہے اور آئی ایم ایف کے ساتھ باہمی سمجھ بوجھ کے بعد یہ وعدہ کیا ہے کہ رپورٹ کو اس ماہ کے آخر یا اگلے ماہ کے آغاز میں ہونے والے (آئی ایم ایف ایگزیکٹو) بورڈ اجلاس سے قبل شائع کر دیا جائے گا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271595'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271595"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اہلکار نے بتایا کہ یہ ایک نہایت جامع مشق تھی جو آئی ایم ایف کی تکنیکی اور قانونی ٹیموں نے اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم (او ای سی ڈی) اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) جیسے عالمی اداروں کے تعاون سے انجام دی۔</p>
<p>رپورٹ کے مسودے کا متعدد بار پاکستانی فریقین، جن میں انسدادِ بدعنوانی کے ادارے، اعلیٰ عدلیہ، تحقیقاتی ایجنسیاں، وزارتِ خزانہ اور وزارتِ قانون شامل تھیں، کے ساتھ تبادلہ کیاگیا تاکہ بین الاقوامی ماہرین کی مدد سے بہترین نتیجہ حاصل کیا جاسکے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ قواعد و ضوابط کی تشریح پر مقامی اور بین الاقوامی سیاق و سباق میں سخت اختلافات تھے، مگر اب یہ مرحلہ ختم ہوچکا ہے اور رپورٹ کا حتمی مسودہ واشنگٹن میں آئی ایم ایف کے ہیڈکوارٹر بھیج دیا گیا ہے تاکہ اشاعت سے قبل آخری جائزہ لیا جا سکے۔</p>
<p>دونوں فریقین نے اس بات پر بھی تبادلہ خیال کیا ہے کہ رپورٹ کی اشاعت اور اس کی سفارشات کی بنیاد پر گورننس ایکشن پلان کے درمیان وقفہ کم کیا جائے تاکہ اصلاحات پر جلد عمل شروع کیا جاسکے۔</p>
<p>پہلے یہ طے تھا کہ جی سی ڈی رپورٹ جولائی میں شائع ہوگی اور 3 ماہ بعد، یعنی اکتوبر کے آخر تک ایکشن پلان جاری کیا جائے گا، تاہم اب امکان ہے کہ یہ منصوبہ دسمبر سے پہلے جاری کر دیا جائے گا تاکہ اسے اگلی ششماہی جائزہ رپورٹ میں شامل کیا جا سکے۔</p>
<p>سرکاری اہلکاروں کے اثاثوں کی تفصیلات جمع کرانے کے حوالے سے اب بھی عمل درآمد میں کمی پائی جاتی ہے، اگرچہ سول سرونٹس کے مرکزی قانون میں ترمیم کر کے گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے افسران بشمول ان کے اہل خانہ اور ذاتی ملکیت کے اثاثوں کے لیے الیکٹرانک فائلنگ کو لازمی قرار دیا گیا ہے، مگر اس پر یکساں عمل درآمد نہیں ہو رہا۔</p>
<p>آئی ایم ایف کا ایک جائزہ مشن رواں سال کے اوائل میں پاکستان آیا تھا اور اس نے سپریم کورٹ، وزارت قانون و انصاف، آڈیٹر جنرل، ارکانِ پارلیمان، قومی احتساب بیورو (نیب)، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور اسٹیٹ بینک کے ساتھ ملاقاتیں کیں۔</p>
<p>اس مشن نے ایک جامع رپورٹ تیار کی جس میں سرکاری مالیاتی نظم، ایف بی آر کے ٹیکس نظام، اور اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو کے طریقہ کار میں پائی جانے والی خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔</p>
<p>موجودہ نظامِ گورننس کے تحت زیادہ تر سرکاری افسران اپنے یا اپنے اہل خانہ کے اثاثے نہ تو ٹیکس حکام کے سامنے ظاہر کرتے ہیں اور نہ ہی اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو فراہم کرتے ہیں، جبکہ احتساب کے مؤثر ادارہ جاتی طریقہ کار کی بھی کمی ہے۔</p>
<p>مزید یہ کہ کئی ادارے، جن میں ریگولیٹری باڈیز بھی شامل ہیں، ایسے انکشافات سے مستثنیٰ ہیں، جس کے باعث بدعنوانی کے متعدد واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں، اسی بنا پر پاکستان بدعنوانی کے عالمی اشاریوں میں مسلسل بلند درجہ بندی پر ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف طویل عرصے سے شفاف ڈیٹا، احتیاطی اقدامات، حفاظتی نظام اور پالیسی رہنما اصولوں پر زور دیتا آ رہا ہے تاکہ عوامی اختیارات کے غلط استعمال اور پالیسیوں میں کمزور فیصلہ سازی سے ملکی معیشت اور ترقی کو پہنچنے والے نقصان کو روکا جا سکے۔</p>
<p>پیرس میں قائم ایف اے ٹی ایف نے بھی ایسے ہی کمزور پہلوؤں کی نشاندہی کرتے ہوئے اصلاحات کی سفارشات دی تھیں۔</p>
<p>پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 14 اکتوبر کو 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکیج کے دوسرے جائزے اور 1.4 ارب ڈالر کے ریزیلیئنس اینڈ سسٹین ایبلٹی فنڈ (آر ایس ایف) کے پہلے جائزے پر اسٹاف لیول معاہدہ طے پایا تھا۔</p>
<p>اس معاہدے کے تحت آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد پاکستان کو ای ایف ایف کے تحت ایک ارب ڈالر اور آر ایس ایف کے تحت 20 کروڑ ڈالر کی قسط ملے گی، بورڈ کا اجلاس تاحال طے نہیں ہوا، تاہم حکام کے مطابق یہ 15 نومبر کے بعد کسی بھی وقت بلایا جا سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273243</guid>
      <pubDate>Wed, 05 Nov 2025 09:24:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خلیق کیانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/050916504ef9176.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/050916504ef9176.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان نے ای این آئی سے منگوائے جانے والے 21 ایل این جی کارگو منسوخ کر دیے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273244/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان نے طویل المدتی معاہدے کے تحت اٹلی کی کمپنی اینی (ای این آئی) سے 21 لیکوفائیڈ نیچرل گیس (ایل این جی)  کارگو منسوخ کرنے کا معاہدہ کر لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1953207/pakistan-cancels-21-lng-cargoes-from-eni"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ایک سرکاری دستاویز اور 2 ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ یہ اقدام اضافی درآمدات کو محدود کرنے کے منصوبے کا حصہ ہے، ضرورت سے زیادہ درآمد شدہ گیس سے ملک کے گیس کا نیٹ ورک بھر چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریاستی ملکیتی کمپنی پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) کی جانب سے 22 اکتوبر کو وزارتِ توانائی کو بھیجی گئی ایک دستاویز کے مطابق، 2026 کے لیے منصوبہ بند 11 کارگو اور 2027 کے لیے 10 کارگو گیس کی تقسیم کار کمپنی سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کی درخواست پر منسوخ کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272523'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272523"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
دستاویز کے مطابق، صرف جنوری میں بھیجے جانے والے کارگو (دونوں سالوں کے) اور دسمبر 2027 کے کارگو کو برقرار رکھا جائے گا تاکہ سردیوں کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاملے سے واقف پاکستان کے 2 ذرائع نے بتایا کہ اینی نے یہ قدم معاہدے میں موجود لچکدار شقوں کے تحت اٹھانے پر اتفاق کیا گیا ہے، اس وقت دنیا بھر میں ایل این جی کی طلب بہت زیادہ ہے، اور عموماً سپلائرز مختصر مدتی (اسپاٹ مارکیٹ) میں فروخت کر کے طویل المدتی معاہدوں کے مقابلے میں زیادہ منافع کما سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="قطر-سے-ایل-این-جی-کی-فراہمی-کے-معاہدے-پر-نظرثانی" href="#قطر-سے-ایل-این-جی-کی-فراہمی-کے-معاہدے-پر-نظرثانی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;قطر سے ایل این جی کی فراہمی کے معاہدے پر نظرثانی&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ای این آئی نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے، جب کہ پی ایل ایل، ایس این جی پی ایل، اور وزارتِ پیٹرولیم نے تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ایل ایل کا یہ اقدام پاکستان کی جانب سے ایل این جی کی درآمدات کم کرنے کی سب سے بڑی کوششوں میں سے ایک ہے، کیوں کہ قابلِ تجدید توانائی کے بڑھتے استعمال اور صنعتی طلب میں کمی کی وجہ سے ملک میں درآمد شدہ گیس کی اضافی مقدار موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای این آئی نے 2017 میں پی ایل ایل کے ساتھ ایک طویل المدتی سپلائی معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت وہ 2032 تک ہر ماہ ایک کارگو فراہم کرنے کی پابند تھی، تاہم معاہدے میں جہازوں کو دوسری منزلوں پر منتقل کرنے کی اجازت بھی شامل تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق، پاکستان خلیجی ملک قطر کے ساتھ بھی گیس سپلائی کے معاملات پر بات چیت کر رہا ہے، اس میں کچھ کارگو موخر کرنے یا دوبارہ فروخت کرنے کے اختیارات زیر غور ہیں، جو معاہدے کی موجودہ شقوں کے مطابق ممکن ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے ایک تکنیکی ٹیم کراچی پہنچی تھی، تاکہ کارگو شیڈول ترتیب دیا جا سکے، بات چیت جاری ہے اور ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطر انرجی نے بھی اس حوالے سے کسی تبصرے سے گریز کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="گیس-کی-طلب-میں-کمی" href="#گیس-کی-طلب-میں-کمی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;گیس کی طلب میں کمی&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1269461'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269461"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
پاکستان کے طویل المدتی ایل این جی سپلائی معاہدے )قطر اور ای این آئی کے ساتھ) سالانہ تقریباً 120 کارگو پر مشتمل ہیں، جن میں دو قطری معاہدوں کے تحت ماہانہ اوسطاً 9 اور ای این آئی کے ساتھ ایک کارگو شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، اس سال پاکستان کی ایل این جی درآمدات میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، کیوں کہ شمسی اور پن بجلی کی پیداوار میں اضافے کی وجہ سے بجلی گھروں کی طلب میں کمی واقع ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجلی گھر اور صنعتی یونٹ جو اپنی بجلی خود پیدا کرتے ہیں، ان کی گیس استعمال میں کمی نے نظام میں زیادہ فراہمی (اوور سپلائی) پیدا کر دی ہے، جو کئی سال میں پہلی بار ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گیس کی اس اضافی فراہمی نے حکومت کو مجبور کیا کہ وہ گیس کو بھاری رعایتوں پر فروخت کرے، مقامی پیداوار کم کرے، اور اضافی کارگو کے لیے آف شور ذخیرہ یا دوبارہ فروخت جیسے اقدامات پر غور کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تفصیلات رائٹرز کے زیرِ جائزہ سرکاری پریزنٹیشنز میں سامنے آئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کپلر (Kpler) کے اعداد و شمار کے مطابق ای این آئی کی آخری ترسیل شدہ کارگو 3 جنوری کو گیس پورٹ ٹرمینل پر موصول ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق پاکستان اور ای این آئی کے درمیان 2025 میں مزید کارگو وصول نہ کرنے پر بھی اتفاق ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2024 میں ای این آئی نے پاکستان کو 12 کارگو فراہم کیے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان نے طویل المدتی معاہدے کے تحت اٹلی کی کمپنی اینی (ای این آئی) سے 21 لیکوفائیڈ نیچرل گیس (ایل این جی)  کارگو منسوخ کرنے کا معاہدہ کر لیا ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی <a href="https://www.dawn.com/news/1953207/pakistan-cancels-21-lng-cargoes-from-eni"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق ایک سرکاری دستاویز اور 2 ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ یہ اقدام اضافی درآمدات کو محدود کرنے کے منصوبے کا حصہ ہے، ضرورت سے زیادہ درآمد شدہ گیس سے ملک کے گیس کا نیٹ ورک بھر چکا ہے۔</p>
<p>ریاستی ملکیتی کمپنی پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) کی جانب سے 22 اکتوبر کو وزارتِ توانائی کو بھیجی گئی ایک دستاویز کے مطابق، 2026 کے لیے منصوبہ بند 11 کارگو اور 2027 کے لیے 10 کارگو گیس کی تقسیم کار کمپنی سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کی درخواست پر منسوخ کیے جائیں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272523'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272523"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
دستاویز کے مطابق، صرف جنوری میں بھیجے جانے والے کارگو (دونوں سالوں کے) اور دسمبر 2027 کے کارگو کو برقرار رکھا جائے گا تاکہ سردیوں کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کیا جا سکے۔</p>
<p>معاملے سے واقف پاکستان کے 2 ذرائع نے بتایا کہ اینی نے یہ قدم معاہدے میں موجود لچکدار شقوں کے تحت اٹھانے پر اتفاق کیا گیا ہے، اس وقت دنیا بھر میں ایل این جی کی طلب بہت زیادہ ہے، اور عموماً سپلائرز مختصر مدتی (اسپاٹ مارکیٹ) میں فروخت کر کے طویل المدتی معاہدوں کے مقابلے میں زیادہ منافع کما سکتے ہیں۔</p>
<h1><a id="قطر-سے-ایل-این-جی-کی-فراہمی-کے-معاہدے-پر-نظرثانی" href="#قطر-سے-ایل-این-جی-کی-فراہمی-کے-معاہدے-پر-نظرثانی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>قطر سے ایل این جی کی فراہمی کے معاہدے پر نظرثانی</h1>
<p>ای این آئی نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے، جب کہ پی ایل ایل، ایس این جی پی ایل، اور وزارتِ پیٹرولیم نے تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔</p>
<p>پی ایل ایل کا یہ اقدام پاکستان کی جانب سے ایل این جی کی درآمدات کم کرنے کی سب سے بڑی کوششوں میں سے ایک ہے، کیوں کہ قابلِ تجدید توانائی کے بڑھتے استعمال اور صنعتی طلب میں کمی کی وجہ سے ملک میں درآمد شدہ گیس کی اضافی مقدار موجود ہے۔</p>
<p>ای این آئی نے 2017 میں پی ایل ایل کے ساتھ ایک طویل المدتی سپلائی معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت وہ 2032 تک ہر ماہ ایک کارگو فراہم کرنے کی پابند تھی، تاہم معاہدے میں جہازوں کو دوسری منزلوں پر منتقل کرنے کی اجازت بھی شامل تھی۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق، پاکستان خلیجی ملک قطر کے ساتھ بھی گیس سپلائی کے معاملات پر بات چیت کر رہا ہے، اس میں کچھ کارگو موخر کرنے یا دوبارہ فروخت کرنے کے اختیارات زیر غور ہیں، جو معاہدے کی موجودہ شقوں کے مطابق ممکن ہیں۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے ایک تکنیکی ٹیم کراچی پہنچی تھی، تاکہ کارگو شیڈول ترتیب دیا جا سکے، بات چیت جاری ہے اور ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔</p>
<p>قطر انرجی نے بھی اس حوالے سے کسی تبصرے سے گریز کیا۔</p>
<h1><a id="گیس-کی-طلب-میں-کمی" href="#گیس-کی-طلب-میں-کمی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>گیس کی طلب میں کمی</h1>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1269461'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269461"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
پاکستان کے طویل المدتی ایل این جی سپلائی معاہدے )قطر اور ای این آئی کے ساتھ) سالانہ تقریباً 120 کارگو پر مشتمل ہیں، جن میں دو قطری معاہدوں کے تحت ماہانہ اوسطاً 9 اور ای این آئی کے ساتھ ایک کارگو شامل ہے۔</p>
<p>تاہم، اس سال پاکستان کی ایل این جی درآمدات میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، کیوں کہ شمسی اور پن بجلی کی پیداوار میں اضافے کی وجہ سے بجلی گھروں کی طلب میں کمی واقع ہوئی ہے۔</p>
<p>بجلی گھر اور صنعتی یونٹ جو اپنی بجلی خود پیدا کرتے ہیں، ان کی گیس استعمال میں کمی نے نظام میں زیادہ فراہمی (اوور سپلائی) پیدا کر دی ہے، جو کئی سال میں پہلی بار ہوا ہے۔</p>
<p>گیس کی اس اضافی فراہمی نے حکومت کو مجبور کیا کہ وہ گیس کو بھاری رعایتوں پر فروخت کرے، مقامی پیداوار کم کرے، اور اضافی کارگو کے لیے آف شور ذخیرہ یا دوبارہ فروخت جیسے اقدامات پر غور کرے۔</p>
<p>یہ تفصیلات رائٹرز کے زیرِ جائزہ سرکاری پریزنٹیشنز میں سامنے آئیں۔</p>
<p>کپلر (Kpler) کے اعداد و شمار کے مطابق ای این آئی کی آخری ترسیل شدہ کارگو 3 جنوری کو گیس پورٹ ٹرمینل پر موصول ہوئی تھی۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق پاکستان اور ای این آئی کے درمیان 2025 میں مزید کارگو وصول نہ کرنے پر بھی اتفاق ہو گیا ہے۔</p>
<p>2024 میں ای این آئی نے پاکستان کو 12 کارگو فراہم کیے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273244</guid>
      <pubDate>Wed, 05 Nov 2025 09:34:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/050918324e858b7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/050918324e858b7.webp"/>
        <media:title>پاکستان قطر کیساتھ بھی گیس سپلائی مؤخر کرنے کے معاملات پر بات چیت کر رہا ہے۔ —فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
