<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Business - Energy</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 05 Apr 2026 08:31:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 05 Apr 2026 08:31:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پیٹرول کی قیمت میں 10 روپے سے زائد کی کمی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274969/</link>
      <description>&lt;p&gt;حکومت نے آئندہ پندرہ روز کے لیے پیٹرول کی قیمت میں 10.28 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 8.57 روپے فی لیٹر کمی کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رات گئے اعلان میں پیٹرولیم ڈویژن نے بتایا کہ قیمتوں میں یہ رد و بدل عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ ور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی اوگرا کی سفارشات کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلان کے مطابق ایکس ڈپو پیٹرول کی قیمت 263.45 روپے فی لیٹر سے کم کرکے 253.17 روپے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔ پیٹرول زیادہ تر نجی ٹرانسپورٹ، چھوٹی گاڑیوں، رکشوں اور موٹر سائیکلوں میں استعمال ہوتا ہے اور اس کا براہِ راست اثر متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے بجٹ پر پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ایکس ڈپو قیمت 265.65 روپے فی لیٹر سے کم کرکے موجودہ پندرہ روز کے لیے 257.08 روپے فی لیٹر کردی گئی ہے۔ ٹرانسپورٹ کے زیادہ تر شعبے میں ہائی اسپیڈ ڈیزل استعمال ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت کو مہنگائی بڑھانے والا عنصر سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ بھاری ٹرانسپورٹ گاڑیوں، ٹرینوں اور زرعی مشینری جیسے ٹرکوں، بسوں، ٹریکٹروں، ٹیوب ویلوں اور تھریشرز میں استعمال ہوتا ہے اور بالخصوص سبزیوں اور دیگر خوراکی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ تمام پیٹرولیم مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس صفر ہے، تاہم حکومت ڈیزل پر 78 روپے فی لیٹر اور پیٹرول اور ہائی آکٹین مصنوعات پر 82 روپے فی لیٹر پٹرولیم لیوی وصول کر رہی ہے، جبکہ 2.50 روپے فی لیٹر ماحولیاتی معاونت لیوی بھی عائد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ حکومت پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر تقریباً 16 سے 17 روپے فی لیٹر کسٹم ڈیوٹی بھی وصول کر رہی ہے، چاہے یہ مقامی پیداوار ہوں یا درآمدی۔ مزید یہ کہ تیل کمپنیوں اور ان کے ڈیلرز کو تقسیم اور فروخت کی مد میں تقریباً 17 روپے فی لیٹر مارجن دیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل حکومتی آمدن کے بڑے ذرائع ہیں، جن کی ماہانہ اوسط فروخت 7 سے 8 لاکھ ٹن کے لگ بھگ ہے، جبکہ مٹی کے تیل کی ماہانہ طلب صرف 10 ہزار ٹن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے مالی سال 2025 میں صرف پیٹرولیم لیوی کی مد میں تقریباً 1.161 کھرب روپے وصول کیے اور موجودہ مالی سال میں اس آمدن کے تقریباً 27 فیصد اضافے کے ساتھ 1.470 کھرب روپے تک پہنچنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>حکومت نے آئندہ پندرہ روز کے لیے پیٹرول کی قیمت میں 10.28 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 8.57 روپے فی لیٹر کمی کردی۔</p>
<p>رات گئے اعلان میں پیٹرولیم ڈویژن نے بتایا کہ قیمتوں میں یہ رد و بدل عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ ور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی اوگرا کی سفارشات کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔</p>
<p>اعلان کے مطابق ایکس ڈپو پیٹرول کی قیمت 263.45 روپے فی لیٹر سے کم کرکے 253.17 روپے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔ پیٹرول زیادہ تر نجی ٹرانسپورٹ، چھوٹی گاڑیوں، رکشوں اور موٹر سائیکلوں میں استعمال ہوتا ہے اور اس کا براہِ راست اثر متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے بجٹ پر پڑتا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ایکس ڈپو قیمت 265.65 روپے فی لیٹر سے کم کرکے موجودہ پندرہ روز کے لیے 257.08 روپے فی لیٹر کردی گئی ہے۔ ٹرانسپورٹ کے زیادہ تر شعبے میں ہائی اسپیڈ ڈیزل استعمال ہوتا ہے۔</p>
<p>ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت کو مہنگائی بڑھانے والا عنصر سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ بھاری ٹرانسپورٹ گاڑیوں، ٹرینوں اور زرعی مشینری جیسے ٹرکوں، بسوں، ٹریکٹروں، ٹیوب ویلوں اور تھریشرز میں استعمال ہوتا ہے اور بالخصوص سبزیوں اور دیگر خوراکی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔</p>
<p>اگرچہ تمام پیٹرولیم مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس صفر ہے، تاہم حکومت ڈیزل پر 78 روپے فی لیٹر اور پیٹرول اور ہائی آکٹین مصنوعات پر 82 روپے فی لیٹر پٹرولیم لیوی وصول کر رہی ہے، جبکہ 2.50 روپے فی لیٹر ماحولیاتی معاونت لیوی بھی عائد ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ حکومت پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر تقریباً 16 سے 17 روپے فی لیٹر کسٹم ڈیوٹی بھی وصول کر رہی ہے، چاہے یہ مقامی پیداوار ہوں یا درآمدی۔ مزید یہ کہ تیل کمپنیوں اور ان کے ڈیلرز کو تقسیم اور فروخت کی مد میں تقریباً 17 روپے فی لیٹر مارجن دیا جاتا ہے۔</p>
<p>پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل حکومتی آمدن کے بڑے ذرائع ہیں، جن کی ماہانہ اوسط فروخت 7 سے 8 لاکھ ٹن کے لگ بھگ ہے، جبکہ مٹی کے تیل کی ماہانہ طلب صرف 10 ہزار ٹن ہے۔</p>
<p>حکومت نے مالی سال 2025 میں صرف پیٹرولیم لیوی کی مد میں تقریباً 1.161 کھرب روپے وصول کیے اور موجودہ مالی سال میں اس آمدن کے تقریباً 27 فیصد اضافے کے ساتھ 1.470 کھرب روپے تک پہنچنے کی توقع ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274969</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Jan 2026 01:55:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/0101534228050fc.webp" type="image/webp" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/0101534228050fc.webp"/>
        <media:title>فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اے ڈی بی نے صاف توانائی کی ترسیل کے منصوبے کیلئے 33 کروڑ ڈالر قرض منظور کرلیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274039/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے جمعرات کو پاکستان کے ’سیکنڈ پاور ٹرانسمیشن اسٹرینتھنگ پروجیکٹ‘ کے لیے مجموعی طور پر 33 کروڑ ڈالر کے قرضوں کی منظوری دے دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ڈی بی کی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ یہ منصوبہ حکومت کی ’سب سے ترجیحی سرمایہ کاری‘ میں سے ایک ہے، جس کا مقصد قومی ٹرانسمیشن نیٹ ورک کو توسیع دینا اور کم لاگت قابلِ تجدید توانائی اور پن بجلی کو بڑے لوڈ مراکز تک پہنچانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایشیائی ترقیاتی بینک کے مطابق منصوبے کے تحت تقریباً 290 کلومیٹر طویل نئی 500 کلو وولٹ کی ٹرانسمیشن لائن تعمیر کی جائے گی، اس کے علاوہ اسلام آباد اور فیصل آباد کو سپلائی کرنے والے ’اہم گرڈ انفرااسٹرکچر‘ کو بھی اپ گریڈ کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1270195'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270195"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ڈی بی نے کہا کہ ’یہ سرمایہ کاری پاکستان کے شمال–جنوب پاور کوریڈور میں طویل عرصے سے موجود رکاوٹوں کو دور کرے گی، جس سے ملک کے شمال میں واقع پن بجلی گھروں سے 3 ہزار 200 میگاواٹ تک صاف توانائی کی ترسیل ممکن ہو سکے گی، اس سے درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہوگا، توانائی کے تحفظ میں بہتری آئے گی اور پاکستان کے لیے قابلِ استطاعت اور پائیدار توانائی مکس کی طرف منتقلی میں مدد ملے گی‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ڈی بی کے مطابق یہ اقدام پاکستان کی وسیع تر پاور سیکٹر اصلاحات کی حمایت کرتا ہے، اور سرکاری ملکیتی اداروں (ایس او ایز) کی اصلاحات میں بھی کردار ادا کرتا ہے، کیونکہ یہ نیشنل گرڈ کمپنی آف پاکستان لمیٹڈ (این جی سی) کی ادارہ جاتی، مالیاتی، عملیاتی اور گورننس سے متعلق بہتری کو مضبوط بناتا ہے، اور اسے ایک جدید گرڈ آپریٹر بننے کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ این جی سی اس منصوبے کے نفاذ کی ذمہ دار ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پریس ریلیز کے مطابق، اے ڈی بی کے فنانسنگ پیکیج میں 28 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کا قرض شامل ہے، جو بینک کے عام سرمایہ جاتی وسائل سے فراہم کیا جائے گا، جب کہ 4 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کا رعایتی قرض بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فنانسنگ این جی سی کو ٹرانسمیشن اثاثوں کی توسیع اور جدید کاری، ادارہ جاتی استعداد کار میں بہتری، مالیاتی نظم و ضبط میں مضبوطی، اور عوامی آگاہی و صنفی مساوات کے اقدامات کو آگے بڑھانے میں مدد دے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پریس ریلیز میں اے ڈی بی کی پاکستان کے لیے کنٹری ڈائریکٹر ایما فین کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ یہ منصوبہ پاکستان کے ساتھ اے ڈی بی کی مضبوط شراکت داری اور صاف توانائی کی منتقلی اور انضمام کو تیز کرنے، اور ایک مضبوط اور پائیدار توانائی کے شعبے کے حصول کے لیے ہمارے باہمی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1260812'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1260812"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے منصوبہ مطابق ٹرانسمیشن کی گنجائش بڑھا کر اور کم لاگت پن بجلی کی ترسیل کو ممکن بنا کر یہ منصوبہ توانائی کے مکس میں صاف توانائی تک رسائی بہتر بنانے، نظام کی لاگت کم کرنے اور پاکستان کی طویل مدتی اور پائیدار معاشی ترقی کی حمایت کرنے کا ہدف رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پریس ریلیز میں مزید کہا گیا کہ سیکنڈ پاور ٹرانسمیشن اسٹرینتھنگ پروجیکٹ پاکستان کی نیشنل پاور پالیسی (2021)، وژن 2025، اور نیشنل ڈیٹرمنڈ کنٹری بیوشنز (2021) کے مطابق ہے، جو توانائی کے تحفظ، موسمیاتی لچک، قابلِ برداشت صاف توانائی اور پائیدار ترقی پر زور دیتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق نیا انفرااسٹرکچر تکنیکی نقصانات کو بھی کم کرے گا، گرڈ کی قابلِ بھروسگی میں اضافہ کرے گا اور توانائی کے شعبے کی مالیاتی پائیداری کو مضبوط کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ڈی بی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ’پاکستان اور ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ مل کر اصلاحات کو آگے بڑھانے، شعبے کی گورننس کو بہتر بنانے، اور زیادہ سبز اور زیادہ قابلِ بھروسہ بجلی تک رسائی کو وسعت دینے‘ کا سلسلہ جاری رکھے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے جمعرات کو پاکستان کے ’سیکنڈ پاور ٹرانسمیشن اسٹرینتھنگ پروجیکٹ‘ کے لیے مجموعی طور پر 33 کروڑ ڈالر کے قرضوں کی منظوری دے دی۔</p>
<p>اے ڈی بی کی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ یہ منصوبہ حکومت کی ’سب سے ترجیحی سرمایہ کاری‘ میں سے ایک ہے، جس کا مقصد قومی ٹرانسمیشن نیٹ ورک کو توسیع دینا اور کم لاگت قابلِ تجدید توانائی اور پن بجلی کو بڑے لوڈ مراکز تک پہنچانا ہے۔</p>
<p>ایشیائی ترقیاتی بینک کے مطابق منصوبے کے تحت تقریباً 290 کلومیٹر طویل نئی 500 کلو وولٹ کی ٹرانسمیشن لائن تعمیر کی جائے گی، اس کے علاوہ اسلام آباد اور فیصل آباد کو سپلائی کرنے والے ’اہم گرڈ انفرااسٹرکچر‘ کو بھی اپ گریڈ کیا جائے گا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1270195'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270195"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اے ڈی بی نے کہا کہ ’یہ سرمایہ کاری پاکستان کے شمال–جنوب پاور کوریڈور میں طویل عرصے سے موجود رکاوٹوں کو دور کرے گی، جس سے ملک کے شمال میں واقع پن بجلی گھروں سے 3 ہزار 200 میگاواٹ تک صاف توانائی کی ترسیل ممکن ہو سکے گی، اس سے درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہوگا، توانائی کے تحفظ میں بہتری آئے گی اور پاکستان کے لیے قابلِ استطاعت اور پائیدار توانائی مکس کی طرف منتقلی میں مدد ملے گی‘۔</p>
<p>اے ڈی بی کے مطابق یہ اقدام پاکستان کی وسیع تر پاور سیکٹر اصلاحات کی حمایت کرتا ہے، اور سرکاری ملکیتی اداروں (ایس او ایز) کی اصلاحات میں بھی کردار ادا کرتا ہے، کیونکہ یہ نیشنل گرڈ کمپنی آف پاکستان لمیٹڈ (این جی سی) کی ادارہ جاتی، مالیاتی، عملیاتی اور گورننس سے متعلق بہتری کو مضبوط بناتا ہے، اور اسے ایک جدید گرڈ آپریٹر بننے کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ این جی سی اس منصوبے کے نفاذ کی ذمہ دار ہوگی۔</p>
<p>پریس ریلیز کے مطابق، اے ڈی بی کے فنانسنگ پیکیج میں 28 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کا قرض شامل ہے، جو بینک کے عام سرمایہ جاتی وسائل سے فراہم کیا جائے گا، جب کہ 4 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کا رعایتی قرض بھی شامل ہے۔</p>
<p>یہ فنانسنگ این جی سی کو ٹرانسمیشن اثاثوں کی توسیع اور جدید کاری، ادارہ جاتی استعداد کار میں بہتری، مالیاتی نظم و ضبط میں مضبوطی، اور عوامی آگاہی و صنفی مساوات کے اقدامات کو آگے بڑھانے میں مدد دے گی۔</p>
<p>پریس ریلیز میں اے ڈی بی کی پاکستان کے لیے کنٹری ڈائریکٹر ایما فین کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ یہ منصوبہ پاکستان کے ساتھ اے ڈی بی کی مضبوط شراکت داری اور صاف توانائی کی منتقلی اور انضمام کو تیز کرنے، اور ایک مضبوط اور پائیدار توانائی کے شعبے کے حصول کے لیے ہمارے باہمی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1260812'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1260812"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بیان کے منصوبہ مطابق ٹرانسمیشن کی گنجائش بڑھا کر اور کم لاگت پن بجلی کی ترسیل کو ممکن بنا کر یہ منصوبہ توانائی کے مکس میں صاف توانائی تک رسائی بہتر بنانے، نظام کی لاگت کم کرنے اور پاکستان کی طویل مدتی اور پائیدار معاشی ترقی کی حمایت کرنے کا ہدف رکھتا ہے۔</p>
<p>پریس ریلیز میں مزید کہا گیا کہ سیکنڈ پاور ٹرانسمیشن اسٹرینتھنگ پروجیکٹ پاکستان کی نیشنل پاور پالیسی (2021)، وژن 2025، اور نیشنل ڈیٹرمنڈ کنٹری بیوشنز (2021) کے مطابق ہے، جو توانائی کے تحفظ، موسمیاتی لچک، قابلِ برداشت صاف توانائی اور پائیدار ترقی پر زور دیتی ہیں۔</p>
<p>بیان کے مطابق نیا انفرااسٹرکچر تکنیکی نقصانات کو بھی کم کرے گا، گرڈ کی قابلِ بھروسگی میں اضافہ کرے گا اور توانائی کے شعبے کی مالیاتی پائیداری کو مضبوط کرے گا۔</p>
<p>اے ڈی بی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ’پاکستان اور ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ مل کر اصلاحات کو آگے بڑھانے، شعبے کی گورننس کو بہتر بنانے، اور زیادہ سبز اور زیادہ قابلِ بھروسہ بجلی تک رسائی کو وسعت دینے‘ کا سلسلہ جاری رکھے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274039</guid>
      <pubDate>Thu, 20 Nov 2025 16:06:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/201508119bdca66.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/201508119bdca66.webp"/>
        <media:title>ایشیائی ترقیاتی بینک کے مطابق 290 کلومیٹر طویل نئی 500 کلو وولٹ کی ٹرانسمیشن لائن تعمیر کی جائے گی — فائل فوٹو: اے ڈی بی/ویب سائٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان اور کویت کے درمیان مہمند ڈیم ہائیڈرو پاور منصوبے کے دوسرے قرض پروگرام پر دستخط</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1272908/pakstan-aor-koyt-k-drmyan-mmnd-ym-ayyro-paor-mnsob-k-dosr-krd-program-pr-dstkht</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان اور کویت فنڈ فار اکنامک ڈیولپمنٹ (کے ایف اے ای ڈی) کے درمیان مہمند ڈیم ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے دوسرے قرض پروگرام پر دستخط ہوگئے، پاکستان کو ڈھائی کروڑ ڈالر ملیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت اقتصادی امور کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق  دستخط کی یہ تقریب وزارت اقتصادی امور میں منعقد ہوئی، اس پروگرام کے تحت پاکستان کو 7.5 ملین کویتی دینار (2 کروڑ 50 لاکھ امریکی ڈالر) ملیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی جانب سے معاہدے پر سیکرہٹری وزارت اقتصادی امور محمد حمیر کریم نے دستخط کیے، اس تقریب میں کویتی سفارتخانے کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن فہد حشام سمیت وزارت اقتصادی امور اور واپڈا کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے میں بتایا گیا کہ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سیکریٹری وزارت اقتصادی امور نے کویتی حکومت اور کے ایف ای اے ڈی کا پاکستان کے ترقیاتی ایجنڈے میں مسلسل تعاون پر تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حمیر کریم نے مزید کہا کہ یہ رعایتی مالی امداد پاکستان اور کویت کے درمیان برادرانہ تعلقات اور پائیدار شراکت کی عکاسی کرتی ہے، انہوں نے توانائی، پانی اور سماجی شعبے کے منصوبوں میں کویت فنڈ کی مالی معاونت کو سراہا جو پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1260043'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1260043"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ مئی 2024 میں ہونے والے پاکستان-کویت مشترکہ وزارتی کمیشن کے پانچویں اجلاس کے دوران پاکستان نے کویت فنڈ سے مہمند ڈیم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کے لیے کل 30 ملین کویتی دینار (10 کروڑ ڈالر) کے فنانسنگ معاہدے پر جلد دستخط کرنے کی درخواست کی تھی، جو چار مساوی قسطوں میں جاری کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے کے مطابق جون 2024 میں قرض کے پہلے معاہدے پر دستخط کے بعد آج دوسرے مرحلے کےلیے دستخط کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکریٹری اقتصادی امور محمد حمیر کریم نے حکام کو بتایا کہ یہ منصوبہ آسانی سے آگے بڑھ رہا ہے اور دوسرے قرض کے تحت اس اہم منصوبے پر تعمیراتی سرگرمیوں میں مزید تیزی آئے گی، جس کا مقصد پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کو بڑھانا، صاف توانائی پیدا کرنا، پشاور شہر کو پینے کے پانی کی فراہمی اور پاکستان میں سیلاب پر قابو پانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے قرض کے تیسرے معاہدے پر جلد دستخط کرنے پر بھی زور دیا اور کویت فنڈ کو پاکستان میں دیگر ترجیحی ترقیاتی منصوبوں کے لیے اضافی فنانسنگ پر غور کرنے کی دعوت دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کویتی سفارتخانے کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن فہد ہشام نے دوطرفہ اقتصادی تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے اپنی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا اور پاکستان کے ترقیاتی اقدامات کے لیے کے ایف ای اے ڈی کی مسلسل حمایت کا یقین دلایا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان اور کویت فنڈ فار اکنامک ڈیولپمنٹ (کے ایف اے ای ڈی) کے درمیان مہمند ڈیم ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے دوسرے قرض پروگرام پر دستخط ہوگئے، پاکستان کو ڈھائی کروڑ ڈالر ملیں گے۔</p>
<p>وزارت اقتصادی امور کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق  دستخط کی یہ تقریب وزارت اقتصادی امور میں منعقد ہوئی، اس پروگرام کے تحت پاکستان کو 7.5 ملین کویتی دینار (2 کروڑ 50 لاکھ امریکی ڈالر) ملیں گے۔</p>
<p>پاکستان کی جانب سے معاہدے پر سیکرہٹری وزارت اقتصادی امور محمد حمیر کریم نے دستخط کیے، اس تقریب میں کویتی سفارتخانے کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن فہد حشام سمیت وزارت اقتصادی امور اور واپڈا کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔</p>
<p>اعلامیے میں بتایا گیا کہ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سیکریٹری وزارت اقتصادی امور نے کویتی حکومت اور کے ایف ای اے ڈی کا پاکستان کے ترقیاتی ایجنڈے میں مسلسل تعاون پر تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔</p>
<p>حمیر کریم نے مزید کہا کہ یہ رعایتی مالی امداد پاکستان اور کویت کے درمیان برادرانہ تعلقات اور پائیدار شراکت کی عکاسی کرتی ہے، انہوں نے توانائی، پانی اور سماجی شعبے کے منصوبوں میں کویت فنڈ کی مالی معاونت کو سراہا جو پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1260043'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1260043"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یاد رہے کہ مئی 2024 میں ہونے والے پاکستان-کویت مشترکہ وزارتی کمیشن کے پانچویں اجلاس کے دوران پاکستان نے کویت فنڈ سے مہمند ڈیم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کے لیے کل 30 ملین کویتی دینار (10 کروڑ ڈالر) کے فنانسنگ معاہدے پر جلد دستخط کرنے کی درخواست کی تھی، جو چار مساوی قسطوں میں جاری کی جائے گی۔</p>
<p>اعلامیے کے مطابق جون 2024 میں قرض کے پہلے معاہدے پر دستخط کے بعد آج دوسرے مرحلے کےلیے دستخط کیے گئے۔</p>
<p>سیکریٹری اقتصادی امور محمد حمیر کریم نے حکام کو بتایا کہ یہ منصوبہ آسانی سے آگے بڑھ رہا ہے اور دوسرے قرض کے تحت اس اہم منصوبے پر تعمیراتی سرگرمیوں میں مزید تیزی آئے گی، جس کا مقصد پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کو بڑھانا، صاف توانائی پیدا کرنا، پشاور شہر کو پینے کے پانی کی فراہمی اور پاکستان میں سیلاب پر قابو پانا ہے۔</p>
<p>انہوں نے قرض کے تیسرے معاہدے پر جلد دستخط کرنے پر بھی زور دیا اور کویت فنڈ کو پاکستان میں دیگر ترجیحی ترقیاتی منصوبوں کے لیے اضافی فنانسنگ پر غور کرنے کی دعوت دی۔</p>
<p>تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کویتی سفارتخانے کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن فہد ہشام نے دوطرفہ اقتصادی تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے اپنی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا اور پاکستان کے ترقیاتی اقدامات کے لیے کے ایف ای اے ڈی کی مسلسل حمایت کا یقین دلایا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1272908</guid>
      <pubDate>Fri, 31 Oct 2025 19:30:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر شیرانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/311908180df373e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/311908180df373e.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: وزارت اقتصادی امور
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کو سمندر میں تیل و گیس کی دریافت کیلئے کامیاب بولیاں موصول، ایک ارب ڈالر سرمایہ کاری متوقع</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1272898/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان کو دو دہائیوں بعد سمندر میں تیل و گیس کی دریافت کیلئے کامیاب بولیاں موصول ہوئی ہیں، پہلے فیز میں تقریباً 8 کروڑ امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری ہو گی، جبکہ سرمایہ کاری ایک ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کے انرجی سیکیورٹی اور  مقامی ذخائر کی ڈیولپمنٹ وژن کے عین مطابق 20 سال بعد پاکستان کے آف شور تیل و گیس ذخائر میں بڑی کامیابی ملی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے میں بتایا گیا کہ پاکستان کو دو دہائیوں بعد سمندر میں تیل و گیس کی دریافت کی کامیاب بولیاں موصول ہوئی ہیں، لائسنز کے پہلے فیز میں پاکستانی سمندر میں تیل و گیس دریافت میں تقریباً 8 کروڑ امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری ہو گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق ڈرلنگ کے دوران یہ سرمایہ کاری ایک ارب امریکی ڈالر تک بڑھنے کا امکان ہے، اعلامیے کے مطابق آف شور میں تیل و گیس کی 23 بلاکس کی کامیاب بولیاں مصول ہوئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1268770'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1268770"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید بتایا کہ کامیاب بڈنگ راؤنڈ پاکستانی معیشت کے لیے بہترین ثابت ہو گا، انڈس اور مکران بیسن میں بیک وقت ایکسپلوریشن کی حمت عملی پاکستان کے لیے کامیاب رہی، کامیاب بولیاں  تقریباً 53,510 مربع کلومیٹر کا رقبہ پر مشتمل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے کے مطابق کامیاب بڈنگ راؤنڈ پاکستان کے اپ اسٹریم سیکٹر میں سرمایہ کاروں کے مضبوط اعتماد کا ثبوت ہے، امریکی ادارے ڈیگلیور اینڈ میکناٹن نےحالیہ بیسن سٹڈی کے دوران  پاکستان کے سمندر میں 100 ٹریلین کیوبک فٹ کے ممکنہ ذخائر کا عندیہ دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے میں مزید بتایا گیا کہ اسی ممکنہ پوٹینشل کی بنا پر آف شور راؤنڈ 2025 لانچ کیا گیا جس میں کامیابی ملی، اہم بین الاقوامی اور پرائیوٹ کمپنیاں پاکستان کے سمندر میں تیل و گیس کی دریافت کریں گے، ترکیہ پیٹرولیم، یونائیٹڈ انرجی، اورینٹ پیٹرولیم اور فاطمہ پیٹرولیم، بھی جوائنٹ وینچر شراکت دار کے طور پر شامل ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے کے مطابق کامیاب بڈرز میں پاکستان کی معروف کمپنیاں او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل، ماری انرجیز اور پرائم انرجی شامل ہیں، پاکستان کے آف شور پوٹینشل میں بڑھتی ہوئی بین الاقوامی دلچسپی کی عکاس کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ 31 جولائی 2025 کو صدر ٹرمپ نے بتایا تھا کہ ’ہم نے ابھی پاکستان کے ساتھ ایک معاہدہ طے کیا ہے، جس کے تحت پاکستان اور امریکا مل کر پاکستان میں تیل کے وسیع ذخائر کو ترقی دیں گے، ہم اس وقت اُس آئل کمپنی کا انتخاب کرنے کے عمل میں ہیں جو اس شراکت داری کی قیادت کرے گی‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ پاکستان میں تیل کے وسیع ذخائر کی دریافت سے متعلق خبر گزشتہ سال ستمبر میں ڈان نیوز نے بریک کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;6 ستمبر 2024 کو ڈان نیوز نے انکشاف کیا تھا کہ پاکستان نے دوست ملک کے تعاون سے سمندر میں سروے کیا ہے، 3 سال جاری رہنے والے اس سروے میں ثابت ہوا کہ پاکستان کے پاس تیل اور گیس کے وسیع ترین ذخائر موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز نے سیکیورٹی ذرائع سے خبر دی تھی کہ اس سروے میں تیل و گیس کے ذخائر کے حجم اور مقام کا تعین بھی کرلیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1241732/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1241732"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;8 ستمبر 2025 کو نیوی کے ریٹائرڈ ریئر ایڈمرل فواد امین بیگ نے کہا تھا کہ پاکستان نیوی نے چین کی مدد سے سمندر کی تہہ سے گیس کے ذخائر تلاش کر لیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر سینئر صحافی حامد میر نے ریٹائرڈ ایڈمرل فواد امین بیگ کا ایک کلپ شیئر کیا تھا، جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ ہمارے سمندر میں نہ صرف معدنیات کی دولت سے مالا مال ہے بلکہ اس میں دیگر وسائل کا خزانہ چھپا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ابھی تک ہم اسے نکالنے کے حوالے سے صلاحیت نہیں پیدا کرسکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان کو دو دہائیوں بعد سمندر میں تیل و گیس کی دریافت کیلئے کامیاب بولیاں موصول ہوئی ہیں، پہلے فیز میں تقریباً 8 کروڑ امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری ہو گی، جبکہ سرمایہ کاری ایک ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔</p>
<p>پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کے انرجی سیکیورٹی اور  مقامی ذخائر کی ڈیولپمنٹ وژن کے عین مطابق 20 سال بعد پاکستان کے آف شور تیل و گیس ذخائر میں بڑی کامیابی ملی ہے۔</p>
<p>اعلامیے میں بتایا گیا کہ پاکستان کو دو دہائیوں بعد سمندر میں تیل و گیس کی دریافت کی کامیاب بولیاں موصول ہوئی ہیں، لائسنز کے پہلے فیز میں پاکستانی سمندر میں تیل و گیس دریافت میں تقریباً 8 کروڑ امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری ہو گی۔</p>
<p>پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق ڈرلنگ کے دوران یہ سرمایہ کاری ایک ارب امریکی ڈالر تک بڑھنے کا امکان ہے، اعلامیے کے مطابق آف شور میں تیل و گیس کی 23 بلاکس کی کامیاب بولیاں مصول ہوئی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1268770'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1268770"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مزید بتایا کہ کامیاب بڈنگ راؤنڈ پاکستانی معیشت کے لیے بہترین ثابت ہو گا، انڈس اور مکران بیسن میں بیک وقت ایکسپلوریشن کی حمت عملی پاکستان کے لیے کامیاب رہی، کامیاب بولیاں  تقریباً 53,510 مربع کلومیٹر کا رقبہ پر مشتمل ہیں۔</p>
<p>اعلامیے کے مطابق کامیاب بڈنگ راؤنڈ پاکستان کے اپ اسٹریم سیکٹر میں سرمایہ کاروں کے مضبوط اعتماد کا ثبوت ہے، امریکی ادارے ڈیگلیور اینڈ میکناٹن نےحالیہ بیسن سٹڈی کے دوران  پاکستان کے سمندر میں 100 ٹریلین کیوبک فٹ کے ممکنہ ذخائر کا عندیہ دیا تھا۔</p>
<p>اعلامیے میں مزید بتایا گیا کہ اسی ممکنہ پوٹینشل کی بنا پر آف شور راؤنڈ 2025 لانچ کیا گیا جس میں کامیابی ملی، اہم بین الاقوامی اور پرائیوٹ کمپنیاں پاکستان کے سمندر میں تیل و گیس کی دریافت کریں گے، ترکیہ پیٹرولیم، یونائیٹڈ انرجی، اورینٹ پیٹرولیم اور فاطمہ پیٹرولیم، بھی جوائنٹ وینچر شراکت دار کے طور پر شامل ہوئے ہیں۔</p>
<p>اعلامیے کے مطابق کامیاب بڈرز میں پاکستان کی معروف کمپنیاں او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل، ماری انرجیز اور پرائم انرجی شامل ہیں، پاکستان کے آف شور پوٹینشل میں بڑھتی ہوئی بین الاقوامی دلچسپی کی عکاس کرتی ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ 31 جولائی 2025 کو صدر ٹرمپ نے بتایا تھا کہ ’ہم نے ابھی پاکستان کے ساتھ ایک معاہدہ طے کیا ہے، جس کے تحت پاکستان اور امریکا مل کر پاکستان میں تیل کے وسیع ذخائر کو ترقی دیں گے، ہم اس وقت اُس آئل کمپنی کا انتخاب کرنے کے عمل میں ہیں جو اس شراکت داری کی قیادت کرے گی‘۔</p>
<p>یاد رہے کہ پاکستان میں تیل کے وسیع ذخائر کی دریافت سے متعلق خبر گزشتہ سال ستمبر میں ڈان نیوز نے بریک کی تھی۔</p>
<p>6 ستمبر 2024 کو ڈان نیوز نے انکشاف کیا تھا کہ پاکستان نے دوست ملک کے تعاون سے سمندر میں سروے کیا ہے، 3 سال جاری رہنے والے اس سروے میں ثابت ہوا کہ پاکستان کے پاس تیل اور گیس کے وسیع ترین ذخائر موجود ہیں۔</p>
<p>ڈان نیوز نے سیکیورٹی ذرائع سے خبر دی تھی کہ اس سروے میں تیل و گیس کے ذخائر کے حجم اور مقام کا تعین بھی کرلیا گیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1241732/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1241732"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>8 ستمبر 2025 کو نیوی کے ریٹائرڈ ریئر ایڈمرل فواد امین بیگ نے کہا تھا کہ پاکستان نیوی نے چین کی مدد سے سمندر کی تہہ سے گیس کے ذخائر تلاش کر لیے۔</p>
<p>سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر سینئر صحافی حامد میر نے ریٹائرڈ ایڈمرل فواد امین بیگ کا ایک کلپ شیئر کیا تھا، جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ ہمارے سمندر میں نہ صرف معدنیات کی دولت سے مالا مال ہے بلکہ اس میں دیگر وسائل کا خزانہ چھپا ہوا ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ابھی تک ہم اسے نکالنے کے حوالے سے صلاحیت نہیں پیدا کرسکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1272898</guid>
      <pubDate>Fri, 31 Oct 2025 18:00:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر شیرانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/311753411eb545f.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/311753411eb545f.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو : ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیپرا نے ’کے الیکٹرک‘ کے ٹیرف میں 7 روپے فی یونٹ کمی کے فیصلے کو اجتماعی حکمت قرار دیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1272782/</link>
      <description>&lt;p&gt;نیپرا نے اپنے ایک فیصلے میں ’کے الیکٹرک‘ کے ٹیرف میں 7 روپے فی یونٹ کمی کی منظوری دی اور اسے اجتماعی حکمت کا نتیجہ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1952056/decision-to-slash-kes-base-tariff-reflects-collective-wisdom-says-nepra"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بدھ کے روز کے الیکٹرک کے ٹیرف میں تقریباً 7 روپے فی یونٹ کی کمی کے فیصلے پر براہ راست کوئی بھی تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ستمبر میں کھپت کے لیے منفی ایندھن لاگت ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کی درخواست پر سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کی عوامی سماعت کے دوران، ایک شخص نے یہ سوال کیا کہ آیا ریگولیٹر نے اجتماعی حکمت سے کام لیا ہے جب کے الیکٹرک کے بیس ٹیرف میں تقریباً 20 فیصد کمی کی گئی، جس سے حکومت کی سبسڈی 7 روپے فی یونٹ تک کم ہو جائے گی اور یہ حسابات مئی اور اکتوبر میں کس طرح کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیپرا کی رکن (قانونی) امینہ احمد نے عوامی سماعت کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ نیپرا کے فیصلے پر دستخطوں کا مطلب یہ ہے کہ اجتماعی حکمت شامل تھی اور فیصلے میں مختلف ٹیرف پیرامیٹرز میں تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272539'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272539"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ریگولیٹر نے سبسڈی کا حساب نہیں کیا کیونکہ یہ نیپرا کا کام نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل سی پی پی اے کے چیف ایگزیکٹو افسر ریحان اختر نے عوامی سماعت میں بتایا کہ ستمبر میں اصل ایندھن کی لاگت صارفین سے وصول کی جانے والی قیمت سے کم تھی، اس لیے ملک بھر کے صارفین کو 37 پیسے فی یونٹ کی واپسی کی ضرورت تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ صارفین نے اکتوبر میں 8 پیسے فی یونٹ کی مثبت ایف سی اے پہلے ہی ادا کی تھی، جو اب ختم ہو چکی ہے، اس لیے ریگولیٹری منظوری کے بعد صارفین کو 45 پیسے فی یونٹ کا خالص ریلیف ملے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریحان اختر نے سماعت کو بتایا کہ ستمبر 2025 کی کھپت گزشتہ سال کے اسی مہینے سے تقریباً 24 فیصد زیادہ تھی جس کی وجہ طویل موسم گرما تھا، تاہم یہ اگست سے پانچ فیصد کم تھی اور ستمبر کے ٹیرف کے حوالہ جاتی تخمینے سے تین فیصد کم تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ صنعتی کھپت بھی میکرو اکنامک عوامل، زیادہ بجلی کی قیمتوں اور سولرائزیشن کی وجہ سے کم ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے وضاحت دی کہ ہائیڈروپاور پیداوار اندازوں سے بہتر تھی، لیکن چند تھرمل اور نیوکلیئر پاور پلانٹس پر زبردستی کی بندشوں اور بلوچستان کے اُچ میں مقامی گیس کی کمی اور ایل این جی کی وجہ سے مہنگے ذرائع کا استعمال کیا گیا، ورنہ ایف سی اے زیادہ ہوتا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>نیپرا نے اپنے ایک فیصلے میں ’کے الیکٹرک‘ کے ٹیرف میں 7 روپے فی یونٹ کمی کی منظوری دی اور اسے اجتماعی حکمت کا نتیجہ قرار دیا۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1952056/decision-to-slash-kes-base-tariff-reflects-collective-wisdom-says-nepra">رپورٹ</a></strong> کے مطابق نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بدھ کے روز کے الیکٹرک کے ٹیرف میں تقریباً 7 روپے فی یونٹ کی کمی کے فیصلے پر براہ راست کوئی بھی تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔</p>
<p>ستمبر میں کھپت کے لیے منفی ایندھن لاگت ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کی درخواست پر سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کی عوامی سماعت کے دوران، ایک شخص نے یہ سوال کیا کہ آیا ریگولیٹر نے اجتماعی حکمت سے کام لیا ہے جب کے الیکٹرک کے بیس ٹیرف میں تقریباً 20 فیصد کمی کی گئی، جس سے حکومت کی سبسڈی 7 روپے فی یونٹ تک کم ہو جائے گی اور یہ حسابات مئی اور اکتوبر میں کس طرح کیے گئے تھے۔</p>
<p>نیپرا کی رکن (قانونی) امینہ احمد نے عوامی سماعت کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ نیپرا کے فیصلے پر دستخطوں کا مطلب یہ ہے کہ اجتماعی حکمت شامل تھی اور فیصلے میں مختلف ٹیرف پیرامیٹرز میں تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272539'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272539"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ریگولیٹر نے سبسڈی کا حساب نہیں کیا کیونکہ یہ نیپرا کا کام نہیں ہے۔</p>
<p>اس سے قبل سی پی پی اے کے چیف ایگزیکٹو افسر ریحان اختر نے عوامی سماعت میں بتایا کہ ستمبر میں اصل ایندھن کی لاگت صارفین سے وصول کی جانے والی قیمت سے کم تھی، اس لیے ملک بھر کے صارفین کو 37 پیسے فی یونٹ کی واپسی کی ضرورت تھی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ صارفین نے اکتوبر میں 8 پیسے فی یونٹ کی مثبت ایف سی اے پہلے ہی ادا کی تھی، جو اب ختم ہو چکی ہے، اس لیے ریگولیٹری منظوری کے بعد صارفین کو 45 پیسے فی یونٹ کا خالص ریلیف ملے گا۔</p>
<p>ریحان اختر نے سماعت کو بتایا کہ ستمبر 2025 کی کھپت گزشتہ سال کے اسی مہینے سے تقریباً 24 فیصد زیادہ تھی جس کی وجہ طویل موسم گرما تھا، تاہم یہ اگست سے پانچ فیصد کم تھی اور ستمبر کے ٹیرف کے حوالہ جاتی تخمینے سے تین فیصد کم تھی۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ صنعتی کھپت بھی میکرو اکنامک عوامل، زیادہ بجلی کی قیمتوں اور سولرائزیشن کی وجہ سے کم ہوئی ہے۔</p>
<p>انہوں نے وضاحت دی کہ ہائیڈروپاور پیداوار اندازوں سے بہتر تھی، لیکن چند تھرمل اور نیوکلیئر پاور پلانٹس پر زبردستی کی بندشوں اور بلوچستان کے اُچ میں مقامی گیس کی کمی اور ایل این جی کی وجہ سے مہنگے ذرائع کا استعمال کیا گیا، ورنہ ایف سی اے زیادہ ہوتا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1272782</guid>
      <pubDate>Thu, 30 Oct 2025 13:04:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خلیق کیانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/30103520309db0c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/30103520309db0c.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: اے پی پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیپرا کا فیصلہ کراچی والوں کے حق میں ہے، سبسڈی کو کے الیکٹرک کا منافع بنانے سے روک دیا، پاور ڈویژن</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1272539/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاور ڈویژن نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی جانب سے کے الیکٹرک کے ملٹی ایئر ٹیرف پر نظرثانی کے فیصلے پر  تفصیلی وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیپرا کا فیصلہ کراچی والوں کے حق میں ہے، کراچی کے صارفین کو سبسڈی ملتی رہے گی، سبسڈی کو کے الیکٹرک کے منافع کا حصہ بنانے سے روک دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان پاور ڈویژن نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ نیپرا نے کے الیکٹرک کے ملٹی ایئر ٹیرف پر نظرثانی شدہ فیصلہ جاری کیا ہے، بعض حلقے نیپرا کے فیصلے پر گمراہ کن تاثر پھیلا رہے ہیں، نیپرا کا فیصلہ کراچی صارفین کے خلاف نہیں ان کے حق میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن نے کہا ہے کہ کے الیکٹرک کو کارکردگی سرکاری اداروں سے بہتر بنانی چاہیے، آئیسکو، فیسکو، گیپکو جیسے ادارے ریکوری اور سروس میں آگے ہیں، نیپرا کا نظرثانی شدہ فیصلہ انتظامی اصلاحات سے متعلق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا ہے کہ کے الیکٹرک نیشنل گرڈ سے 2 ہزار میگاواٹ بجلی لے رہی ہے، جو کے الیکٹرک کے اپنے پلانٹس سے سستی ہے، کے الیکٹرک صارفین کے لیے بھی فی یونٹ نرخ قومی سطح پر یکساں ہیں، اخراجات میں کمی صارفین کے لیے مثبت اقدام ثابت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="اب-کے-الیکٹرک-کا-منافع-ڈالر-کے-بجائے-پاکستانی-روپے-سے-منسلک-ہوگا" href="#اب-کے-الیکٹرک-کا-منافع-ڈالر-کے-بجائے-پاکستانی-روپے-سے-منسلک-ہوگا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;’اب کے الیکٹرک کا منافع ڈالر کے بجائے پاکستانی روپے سے منسلک ہوگا‘&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272116'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272116"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن نے واضح کیا ہے کہ کراچی کے صارفین کو سبسڈی بدستور ملتی رہے گی، سبسڈی کو کے الیکٹرک کے منافع کا حصہ بننے سے روکا گیا ہے، نیپرا کے نظرثانی شدہ فیصلے کی بدولت غیر موصول واجبات بلوں میں شامل نہیں کیے جا سکیں گے، صرف تصدیق شدہ واجبات ہی شامل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان پاور ڈویژن نے کہا کہ نیپرا کا فیصلہ صارفین کے مفاد میں مثبت اقدام ہے، کے الیکٹرک کے منافع کو جائز حد میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا، اب کے الیکٹرک کا منافع ڈالر کے بجائے پاکستانی روپے سے منسلک ہوگا جس کی شرح 24 سے 30 فیصد کم کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="بند-پاور-پلانٹس-کے-اخراجات-صارفین-سے-نہیں-لیے-جائیں-گے" href="#بند-پاور-پلانٹس-کے-اخراجات-صارفین-سے-نہیں-لیے-جائیں-گے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;’بند پاور پلانٹس کے اخراجات صارفین سے نہیں لیے جائیں گے‘&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ترجمان کے مطابق آزاد کنسلٹنٹ نے کے الیکٹرک کے نقصانات اور خرچ کا انکشاف کیا، نیپرا نے نقصانات کی شرح کم کر کے عوامی مفاد کا تحفظ کیا، بند پاور پلانٹس کے اخراجات صارفین سے نہیں لیے جائیں گے، نیشنل گرڈ سے سستی بجلی ملنے سے فیول اخراجات کم ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا ہے کہ نیپرا کا نظرثانی شدہ فیصلہ ریگولیٹری نظام کی مضبوطی کی سمت اہم قدم ہے، فیصلہ ٹیکس دہندگان پر بوجھ میں کمی کا باعث بنے گا اور کے الیکٹرک اور سرکاری ڈسکوز میں توازن پیدا کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے واضح کیا ہے کہ کراچی کو لوڈشیڈنگ کا کوئی خطرہ نہیں، نیشنل گرڈ میں وافر اور سستی بجلی دستیاب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ نیپرا نے رواں ماہ 21 اکتوبر کو کے الیکٹرک کے ملٹی ایئر ٹیرف کی درخواستوں پر نظرثانی شدہ فیصلہ جاری کرتے ہوئے بجلی کمپنی کا اوسط ٹیرف 39.97 فی یونٹ سے کم کرکے 32.37 روپے کردیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیصلہ کئی اہم شعبوں کا احاطہ کرتا ہے، جن میں کے الیکٹرک کے جنریشن پاور پلانٹس کے لیے ملٹی ایئر ٹیرف ڈٹرمینیشن، ٹرانسمیشن، ڈسٹری بیوشن (نیٹ ورک) اور سپلائی بزنسز کے لیے مالی سال 2024 سے 2030 تک کی ملٹی ایئر ٹیرف ڈٹرمینیشن، ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن انویسٹمنٹ پلان اور نقصانات کا تخمینہ اور ملٹی ایئر ٹیرف 23-2017 کے لیے کےالیکٹرک کے رائٹ آف کلیمز شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان تبدیلیوں کے نتیجے میں وہ اوسط ٹیرف جو نیپرا نے 27 مئی 2025 کو 39.97 روپے فی کلو واٹ آور مقرر کیا تھا، اب کم ہو کر 32.37 روپے فی کلو واٹ آور کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان کے الیکٹرک نے فیصلے پر اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ رائٹ آف کلیمز کے حوالے سے نیپرا نے اپنا سابقہ فیصلہ برقرار رکھا ہے، تاہم، دیگر معاملات میں نیپرا نے اپنے پچھلے فیصلوں میں نمایاں تبدیلیاں کی ہیں جو کمپنی کے لیے پائیدار نہیں ہیں اور اس کے اسٹیک ہولڈرز، بشمول صارفین پر دور رس اثرات مرتب کریں گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاور ڈویژن نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی جانب سے کے الیکٹرک کے ملٹی ایئر ٹیرف پر نظرثانی کے فیصلے پر  تفصیلی وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیپرا کا فیصلہ کراچی والوں کے حق میں ہے، کراچی کے صارفین کو سبسڈی ملتی رہے گی، سبسڈی کو کے الیکٹرک کے منافع کا حصہ بنانے سے روک دیا گیا ہے۔</p>
<p>ترجمان پاور ڈویژن نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ نیپرا نے کے الیکٹرک کے ملٹی ایئر ٹیرف پر نظرثانی شدہ فیصلہ جاری کیا ہے، بعض حلقے نیپرا کے فیصلے پر گمراہ کن تاثر پھیلا رہے ہیں، نیپرا کا فیصلہ کراچی صارفین کے خلاف نہیں ان کے حق میں ہے۔</p>
<p>پاور ڈویژن نے کہا ہے کہ کے الیکٹرک کو کارکردگی سرکاری اداروں سے بہتر بنانی چاہیے، آئیسکو، فیسکو، گیپکو جیسے ادارے ریکوری اور سروس میں آگے ہیں، نیپرا کا نظرثانی شدہ فیصلہ انتظامی اصلاحات سے متعلق ہے۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا ہے کہ کے الیکٹرک نیشنل گرڈ سے 2 ہزار میگاواٹ بجلی لے رہی ہے، جو کے الیکٹرک کے اپنے پلانٹس سے سستی ہے، کے الیکٹرک صارفین کے لیے بھی فی یونٹ نرخ قومی سطح پر یکساں ہیں، اخراجات میں کمی صارفین کے لیے مثبت اقدام ثابت ہوگی۔</p>
<h1><a id="اب-کے-الیکٹرک-کا-منافع-ڈالر-کے-بجائے-پاکستانی-روپے-سے-منسلک-ہوگا" href="#اب-کے-الیکٹرک-کا-منافع-ڈالر-کے-بجائے-پاکستانی-روپے-سے-منسلک-ہوگا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>’اب کے الیکٹرک کا منافع ڈالر کے بجائے پاکستانی روپے سے منسلک ہوگا‘</h1>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272116'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272116"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>پاور ڈویژن نے واضح کیا ہے کہ کراچی کے صارفین کو سبسڈی بدستور ملتی رہے گی، سبسڈی کو کے الیکٹرک کے منافع کا حصہ بننے سے روکا گیا ہے، نیپرا کے نظرثانی شدہ فیصلے کی بدولت غیر موصول واجبات بلوں میں شامل نہیں کیے جا سکیں گے، صرف تصدیق شدہ واجبات ہی شامل ہوں گے۔</p>
<p>ترجمان پاور ڈویژن نے کہا کہ نیپرا کا فیصلہ صارفین کے مفاد میں مثبت اقدام ہے، کے الیکٹرک کے منافع کو جائز حد میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا، اب کے الیکٹرک کا منافع ڈالر کے بجائے پاکستانی روپے سے منسلک ہوگا جس کی شرح 24 سے 30 فیصد کم کی گئی ہے۔</p>
<h1><a id="بند-پاور-پلانٹس-کے-اخراجات-صارفین-سے-نہیں-لیے-جائیں-گے" href="#بند-پاور-پلانٹس-کے-اخراجات-صارفین-سے-نہیں-لیے-جائیں-گے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>’بند پاور پلانٹس کے اخراجات صارفین سے نہیں لیے جائیں گے‘</h1>
<p>ترجمان کے مطابق آزاد کنسلٹنٹ نے کے الیکٹرک کے نقصانات اور خرچ کا انکشاف کیا، نیپرا نے نقصانات کی شرح کم کر کے عوامی مفاد کا تحفظ کیا، بند پاور پلانٹس کے اخراجات صارفین سے نہیں لیے جائیں گے، نیشنل گرڈ سے سستی بجلی ملنے سے فیول اخراجات کم ہوں گے۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا ہے کہ نیپرا کا نظرثانی شدہ فیصلہ ریگولیٹری نظام کی مضبوطی کی سمت اہم قدم ہے، فیصلہ ٹیکس دہندگان پر بوجھ میں کمی کا باعث بنے گا اور کے الیکٹرک اور سرکاری ڈسکوز میں توازن پیدا کرے گا۔</p>
<p>ترجمان نے واضح کیا ہے کہ کراچی کو لوڈشیڈنگ کا کوئی خطرہ نہیں، نیشنل گرڈ میں وافر اور سستی بجلی دستیاب ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ نیپرا نے رواں ماہ 21 اکتوبر کو کے الیکٹرک کے ملٹی ایئر ٹیرف کی درخواستوں پر نظرثانی شدہ فیصلہ جاری کرتے ہوئے بجلی کمپنی کا اوسط ٹیرف 39.97 فی یونٹ سے کم کرکے 32.37 روپے کردیا تھا۔</p>
<p>یہ فیصلہ کئی اہم شعبوں کا احاطہ کرتا ہے، جن میں کے الیکٹرک کے جنریشن پاور پلانٹس کے لیے ملٹی ایئر ٹیرف ڈٹرمینیشن، ٹرانسمیشن، ڈسٹری بیوشن (نیٹ ورک) اور سپلائی بزنسز کے لیے مالی سال 2024 سے 2030 تک کی ملٹی ایئر ٹیرف ڈٹرمینیشن، ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن انویسٹمنٹ پلان اور نقصانات کا تخمینہ اور ملٹی ایئر ٹیرف 23-2017 کے لیے کےالیکٹرک کے رائٹ آف کلیمز شامل ہیں۔</p>
<p>ان تبدیلیوں کے نتیجے میں وہ اوسط ٹیرف جو نیپرا نے 27 مئی 2025 کو 39.97 روپے فی کلو واٹ آور مقرر کیا تھا، اب کم ہو کر 32.37 روپے فی کلو واٹ آور کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>ترجمان کے الیکٹرک نے فیصلے پر اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ رائٹ آف کلیمز کے حوالے سے نیپرا نے اپنا سابقہ فیصلہ برقرار رکھا ہے، تاہم، دیگر معاملات میں نیپرا نے اپنے پچھلے فیصلوں میں نمایاں تبدیلیاں کی ہیں جو کمپنی کے لیے پائیدار نہیں ہیں اور اس کے اسٹیک ہولڈرز، بشمول صارفین پر دور رس اثرات مرتب کریں گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1272539</guid>
      <pubDate>Mon, 27 Oct 2025 15:31:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر شیرانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/271410147731dc7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/271410147731dc7.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: آن لائن
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>صارفین کیلئے اچھی خبر، کراچی سمیت ملک بھر کیلئے بجلی سستی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1272184/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی سمیت ملک بھرکے بجلی صارفین کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے، ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی میں بجلی37 پیسےفی یونٹ سستی کرنےکی درخواست نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں جمع کروائی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے ستمبرکی ایڈجسٹمنٹ کی درخواست نیپرا میں جمع کرادی، نیپراکی جانب سےدرخواست پر29 اکتوبرکوسماعت کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت کراچی سمیت ملک بھر کےلیےاگست کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ لاگو ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ 14 اکتوبر کو کراچی سمیت ملک بھر کے لیے ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی مہنگی کردی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن میں بتایا گیا تھا کہ کراچی سمیت ملک بھر کے لیے ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 8 پیسے فی یونٹ مہنگی کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹی فکیشن میں بتایا گیا تھا کہ  بجلی کی قیمت میں اضافہ اگست 2025 کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ میں کیا گیا، حکومتی پالیسی گائیڈ لائنز کے مطابق اطلاق کے الیکڑک صارفین پر بھی ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹی فکیشن میں مزید کہا گیا تھا کہ بجلی صارفین سے وصولی اکتوبر کے بلوں میں کی جائے گی، سی پی پی اے نے اگست کی ایڈجسٹمنٹ میں 19 پیسے فی یونٹ کا اضافہ مانگا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی سمیت ملک بھرکے بجلی صارفین کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے، ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی میں بجلی37 پیسےفی یونٹ سستی کرنےکی درخواست نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں جمع کروائی گئی ہے۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے ستمبرکی ایڈجسٹمنٹ کی درخواست نیپرا میں جمع کرادی، نیپراکی جانب سےدرخواست پر29 اکتوبرکوسماعت کی جائے گی۔</p>
<p>اس وقت کراچی سمیت ملک بھر کےلیےاگست کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ لاگو ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ 14 اکتوبر کو کراچی سمیت ملک بھر کے لیے ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی مہنگی کردی گئی تھی۔</p>
<p>نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن میں بتایا گیا تھا کہ کراچی سمیت ملک بھر کے لیے ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 8 پیسے فی یونٹ مہنگی کردی۔</p>
<p>نوٹی فکیشن میں بتایا گیا تھا کہ  بجلی کی قیمت میں اضافہ اگست 2025 کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ میں کیا گیا، حکومتی پالیسی گائیڈ لائنز کے مطابق اطلاق کے الیکڑک صارفین پر بھی ہوگا۔</p>
<p>نوٹی فکیشن میں مزید کہا گیا تھا کہ بجلی صارفین سے وصولی اکتوبر کے بلوں میں کی جائے گی، سی پی پی اے نے اگست کی ایڈجسٹمنٹ میں 19 پیسے فی یونٹ کا اضافہ مانگا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1272184</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Oct 2025 23:52:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر شیرانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/212351314980449.webp" type="image/webp" medium="image" height="647" width="1078">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/212351314980449.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیپرا نے کے-الیکٹرک کا اوسط ٹیرف 39.97 فی یونٹ سے کم کرکے 32.37 روپے کردیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1272116/</link>
      <description>&lt;p&gt;نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے کے-الیکٹرک کے ملٹی ایئر ٹیرف کی درخواستوں پر فیصلہ جاری کرتے ہوئے کراچی کی بجلی کمپنی کا اوسط ٹیرف 39.97 فی یونٹ سے کم کرکے 32.37 روپے کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے کے-الیکٹرک کے ملٹی ایئر ٹیرف سے متعلق مالی سال 2024 سے 2030 کی کنٹرول مدت کے دوران مختلف فریقین کی جانب سے دائر کی گئی نظرِ ثانی کی درخواستوں پر اپنا فیصلہ جاری کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیصلہ کئی اہم شعبوں کا احاطہ کرتا ہے، جن میں کے-الیکٹرک کے جنریشن پاور پلانٹس کے لیے ملٹی ایئر ٹیرف ڈٹرمینیشن، ٹرانسمیشن، ڈسٹری بیوشن (نیٹ ورک) اور سپلائی بزنسز کے لیے مالی سال 2024 سے 2030 تک کی ملٹی ایئر ٹیرف ڈٹرمینیشن، ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن انویسٹمنٹ پلان اور نقصانات کا تخمینہ اور ملٹی ایئر ٹیرف 2023-2017 کے لیے کے-الیکٹرک کے رائٹ آف کلیمز شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹ آف کلیمز کے حوالے سے نیپرا نے اپنا سابقہ فیصلہ برقرار رکھا ہے، تاہم، دیگر معاملات میں نیپرا نے اپنے پچھلے فیصلوں میں نمایاں تبدیلیاں کی ہیں جو کے-الیکٹرک کے مطابق کمپنی کے لیے پائیدار نہیں ہیں اور اس کے اسٹیک ہولڈرز، بشمول صارفین، پر دور رس اثرات مرتب کریں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271199'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271199"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان تبدیلیوں کے نتیجے میں وہ اوسط ٹیرف جو نیپرا نے 27 مئی 2025 کو 39.97 روپے فی کلو واٹ آور مقرر کیا تھا، اب کم ہو کر 32.37 روپے فی کلو واٹ آور کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے-الیکٹرک اس وقت نیپرا کے فیصلوں کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے اور متعلقہ قوانین و ریگولیٹری فریم ورک کے تحت دستیاب تمام قانونی راستے اختیار کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان کے-الیکٹرک کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ نیپرا نے کے۔الیکٹرک کے مالی سال 2024 تا 2030 کے ملٹی ایئر ٹیرف سے متعلق نظرِثانی کی درخواستوں فیصلہ جاری کردیا، یہ فیصلہ کےالیکٹرک کے جنریشن، ٹرانسمیشن، ڈسٹری بیوشن، سپلائی بزنس کے متعدد پہلوؤں پر محیط ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان کے-الیکٹرک کا کہنا تھا کہ رائٹ آف کلیمز سے متعلق نیپرا نے اپنا سابقہ فیصلہ برقرار رکھا ہے، دیگر معاملات میں نیپرا کی جانب سے نمایاں تبدیلیاں کمپنی کے لیے غیر پائیدار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ان تبدیلیوں سے تمام اسٹیک ہولڈرز خصوصاً صارفین پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے جب کہ کے۔الیکٹرک نیپرا کے فیصلے کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان کے-الیکٹرک نے کہا کہ کمپنی لاگو قوانین اور ریگولیٹری فریم ورک کے تحت مستقبل کا لائحہ عمل طے کرے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے کے-الیکٹرک کے ملٹی ایئر ٹیرف کی درخواستوں پر فیصلہ جاری کرتے ہوئے کراچی کی بجلی کمپنی کا اوسط ٹیرف 39.97 فی یونٹ سے کم کرکے 32.37 روپے کردیا۔</p>
<p>نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے کے-الیکٹرک کے ملٹی ایئر ٹیرف سے متعلق مالی سال 2024 سے 2030 کی کنٹرول مدت کے دوران مختلف فریقین کی جانب سے دائر کی گئی نظرِ ثانی کی درخواستوں پر اپنا فیصلہ جاری کر دیا ہے۔</p>
<p>یہ فیصلہ کئی اہم شعبوں کا احاطہ کرتا ہے، جن میں کے-الیکٹرک کے جنریشن پاور پلانٹس کے لیے ملٹی ایئر ٹیرف ڈٹرمینیشن، ٹرانسمیشن، ڈسٹری بیوشن (نیٹ ورک) اور سپلائی بزنسز کے لیے مالی سال 2024 سے 2030 تک کی ملٹی ایئر ٹیرف ڈٹرمینیشن، ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن انویسٹمنٹ پلان اور نقصانات کا تخمینہ اور ملٹی ایئر ٹیرف 2023-2017 کے لیے کے-الیکٹرک کے رائٹ آف کلیمز شامل ہیں۔</p>
<p>رائٹ آف کلیمز کے حوالے سے نیپرا نے اپنا سابقہ فیصلہ برقرار رکھا ہے، تاہم، دیگر معاملات میں نیپرا نے اپنے پچھلے فیصلوں میں نمایاں تبدیلیاں کی ہیں جو کے-الیکٹرک کے مطابق کمپنی کے لیے پائیدار نہیں ہیں اور اس کے اسٹیک ہولڈرز، بشمول صارفین، پر دور رس اثرات مرتب کریں گی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271199'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271199"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ان تبدیلیوں کے نتیجے میں وہ اوسط ٹیرف جو نیپرا نے 27 مئی 2025 کو 39.97 روپے فی کلو واٹ آور مقرر کیا تھا، اب کم ہو کر 32.37 روپے فی کلو واٹ آور کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>کے-الیکٹرک اس وقت نیپرا کے فیصلوں کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے اور متعلقہ قوانین و ریگولیٹری فریم ورک کے تحت دستیاب تمام قانونی راستے اختیار کرے گی۔</p>
<p>ترجمان کے-الیکٹرک کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ نیپرا نے کے۔الیکٹرک کے مالی سال 2024 تا 2030 کے ملٹی ایئر ٹیرف سے متعلق نظرِثانی کی درخواستوں فیصلہ جاری کردیا، یہ فیصلہ کےالیکٹرک کے جنریشن، ٹرانسمیشن، ڈسٹری بیوشن، سپلائی بزنس کے متعدد پہلوؤں پر محیط ہے۔</p>
<p>ترجمان کے-الیکٹرک کا کہنا تھا کہ رائٹ آف کلیمز سے متعلق نیپرا نے اپنا سابقہ فیصلہ برقرار رکھا ہے، دیگر معاملات میں نیپرا کی جانب سے نمایاں تبدیلیاں کمپنی کے لیے غیر پائیدار ہیں۔</p>
<p>ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ان تبدیلیوں سے تمام اسٹیک ہولڈرز خصوصاً صارفین پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے جب کہ کے۔الیکٹرک نیپرا کے فیصلے کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے۔</p>
<p>ترجمان کے-الیکٹرک نے کہا کہ کمپنی لاگو قوانین اور ریگولیٹری فریم ورک کے تحت مستقبل کا لائحہ عمل طے کرے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1272116</guid>
      <pubDate>Wed, 22 Oct 2025 16:15:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر شیرانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/10/21131456f1ae6c2.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/10/21131456f1ae6c2.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اپٹما نے بجلی کی پیداوار کیلئے حکومت کا ’غیر حقیقی‘ منصوبہ مسترد کر دیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1270245/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی تنظیم، آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) نے حکومت کے اس ہدف پر سوال اٹھایا ہے کہ 2025 سے 2035 کے دوران بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں 50 فیصد اضافہ کر کے اسے 64 ہزار میگاواٹ تک لے جایا جائے، اپٹما نے اس ہدف کو غیر حقیقی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے لیے تقریباً 50 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوگی جو ’مہنگی بجلی‘ کو مستقل بنا دے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1945389/all-pakistan-textile-mills-association-slams-unrealistic-plan-of-power-generation"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق اپٹما نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو اپنے تفصیلی اعتراضات میں کہا ہے کہ بجلی کی طلب میں اضافے کے تخمینے مبالغہ آرائی پر مبنی ہیں، جو آبادی اور جی ڈی پی کی شرح نمو کی بنیاد پر لگائے گئے ہیں، مگر ملک اور توانائی کے شعبے کی بدلتی زمینی حقائق کو نظرانداز کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنظیم نے کہا کہ اسے ’طلب کے اندازے کے طریقہ کار پر بنیادی اعتراض ہے، جو پورے منصوبے کی ساکھ کو متاثر کرتا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپٹما نے مطالبہ کیا کہ توانائی منصوبہ بندی کو حقیقی معیشت کے حالات اور صارفین کے لیے سستی اور مسابقتی ٹیرف کی اہم ضرورت کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے وسیع تر ترجیحات کو اشاریہ جاتی پیداوار صلاحیت توسیعی منصوبے (آئی جی سی ای پی 35-2025) میں شامل کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1268318"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنظیم نے کہا کہ ’آئی جی سی ای پی‘ نے ایک حد سے زیادہ سادہ اور غلط شماریاتی (ریگریشن) ماڈل استعمال کیا ہے جو بجلی کے استعمال کو جی ڈی پی، آبادی میں اضافے اور دیگر بڑے پیمانے کے اعداد و شمار سے جوڑتا ہے، بنیادی مفروضہ یہ ہے کہ جیسے ہی معیشت اور آبادی بڑھتی ہے، بجلی کی طلب بھی اتنی ہی بڑھے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن یہ طریقہ کار ان متبادل ذرائع کو شامل نہیں کرتا جیسے کیپٹو پاور (گیس یا فرنس آئل کے جنریٹر)، چھتوں پر نصب سولر پینل، گیس بوائلر، سولر واٹر ہیٹر، الیکٹرک چولہے اور دیگر غیرمرکزی توانائی کے ذرائع، جو بجلی کے متوازی طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپٹما نے کہا کہ ان کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے ماڈل غلط طور پر معیشت کی زیادہ تر سرگرمی کو بجلی کے استعمال سے جوڑ دیتا ہے اور نتیجتاً بجلی کی طلب کا اندازہ حد سے زیادہ ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مسئلہ ماڈل کے اندر اینڈوجینیٹی کے باعث پیدا ہوتا ہے، کیونکہ جب متبادل توانائی کے ذرائع کو نکال دیا جائے تو ان کے اثرات ایرر ٹرم میں شامل ہو جاتے ہیں، جو جی ڈی پی اور آبادی کی شرح نمو سے منسلک ہیں، نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اندازے جانبدار اور غیر معتبر ہو جاتے ہیں اور بجلی کی طلب کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں جہاں غیرمرکزی توانائی ذرائع تیزی سے بڑھ رہے ہیں، یہ تعصبی جھکاؤ بجلی کی طلب کے مستقبل کے تخمینے کو حد سے زیادہ بڑھا دیتا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ طلب کا اندازہ زیادہ دکھایا گیا، کیونکہ ماڈل نے متبادل توانائی کے ذرائع کو نظرانداز کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپٹما نے الزام عائد کیا کہ آئی جی سی ای پی کی طلب کا اندازہ جان بوجھ کر زیادہ دکھایا گیا ہے، یہ اوپر کی طرف جھکاؤ غیر ضروری طور پر بجلی گھروں میں اضافہ کرتا ہے جو زیادہ کیپیسیٹی پیمنٹس، بیکار اثاثے اور مالیاتی دباؤ میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپٹما نے کہا کہ یہی ’غلط طریقہ‘ صارفین کے ٹیرف کے تعین کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے، جس سے ان کے تخمینے بھی جانبدار اور غلط ثابت ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ صورتحال اور زیادہ خطرناک ہو جاتی ہے، کیونکہ آئی جی سی ای پی خود تسلیم کرتا ہے کہ بجلی کی طلب کے تخمینے پورے شعبے کی منصوبہ بندی کی بنیاد ہیں، اگر بنیاد ہی غلط ہو تو پوری منصوبہ بندی غیر معتبر ہو جاتی ہے جس کے نتیجے میں غلط سرمایہ کاری، زیادہ اخراجات اور مہنگی بجلی جنم لیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1263764"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپٹما نے کہا کہ جب تک بجلی کو سستا بنانا منصوبہ بندی کا مرکزی اصول نہیں بنایا جاتا، آئی جی سی ای پی انہی مسائل کو بڑھاتا رہے گا، جو بڑھتے ہوئے کیپیسیٹی پیمنٹس کی جڑ ہیں، یہ ادائیگیاں پچھلے 10 برسوں میں فی یونٹ 2 روپے سے بڑھ کر 17.06 روپے تک پہنچ چکی ہیں اور اب صارف کے ٹیرف کا نصف سے زیادہ حصہ کھا جاتی ہیں جو مجموعی طور پر پچھلی دہائی میں 6 کھرب روپے سے بھی زیادہ ہو چکی ہیں، اور ایندھن کی لاگت سے بھی بڑھ گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپٹما نے کہا کہ اس سطح پر یہ نظام بالکل ناقابل برداشت ہے، خاص طور پر ایسے ملک میں جہاں مالی وسائل محدود ہوں، صنعتی ترقی سست ہو، اور عوام کی قوتِ خرید کمزور ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمدی تنظیم نے مطالبہ کیا کہ بجلی کی کوئی نئی پیداوار اس وقت تک شامل نہیں کی جانی چاہیے، جب تک اس بوجھ کو فی یونٹ 5 روپے سے کم نہ کر دیا جائے، یہ حد ایک لازمی معیار بننی چاہیے تاکہ مستقبل کی تمام منصوبہ بندی اور منظوریوں میں ڈسپلن لایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپٹما نے یہ بھی نشاندہی کی کہ اس وقت ملک کو طلب میں جمود، زائد صلاحیت اور غیر فعال منصوبوں کا سامنا ہے، اس نے کہا کہ مالی سال 2025 میں صنعتی طلب تقریباً 4 فیصد کم ہوئی ہے، جب کہ زرعی کھپت ایک تہائی سے زیادہ گر گئی ہے، کیونکہ کسان ڈیزل اور سولر کی طرف منتقل ہو گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپٹما نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ قومی سطح پر بجلی کی طلب جمود کا شکار ہے، لیکن آئی جی سی ای پی تقریباً 20 ہزار میگاواٹ صلاحیت میں اضافے کا منصوبہ بنا رہا ہے، یہ تضاد مزید بیکار پلانٹس، بھاری فکسڈ اخراجات اور بڑھتے ہوئے گردشی قرضے کا باعث بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی تنظیم، آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) نے حکومت کے اس ہدف پر سوال اٹھایا ہے کہ 2025 سے 2035 کے دوران بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں 50 فیصد اضافہ کر کے اسے 64 ہزار میگاواٹ تک لے جایا جائے، اپٹما نے اس ہدف کو غیر حقیقی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے لیے تقریباً 50 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوگی جو ’مہنگی بجلی‘ کو مستقل بنا دے گی۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1945389/all-pakistan-textile-mills-association-slams-unrealistic-plan-of-power-generation"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق اپٹما نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو اپنے تفصیلی اعتراضات میں کہا ہے کہ بجلی کی طلب میں اضافے کے تخمینے مبالغہ آرائی پر مبنی ہیں، جو آبادی اور جی ڈی پی کی شرح نمو کی بنیاد پر لگائے گئے ہیں، مگر ملک اور توانائی کے شعبے کی بدلتی زمینی حقائق کو نظرانداز کیا گیا ہے۔</p>
<p>تنظیم نے کہا کہ اسے ’طلب کے اندازے کے طریقہ کار پر بنیادی اعتراض ہے، جو پورے منصوبے کی ساکھ کو متاثر کرتا ہے‘۔</p>
<p>اپٹما نے مطالبہ کیا کہ توانائی منصوبہ بندی کو حقیقی معیشت کے حالات اور صارفین کے لیے سستی اور مسابقتی ٹیرف کی اہم ضرورت کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے وسیع تر ترجیحات کو اشاریہ جاتی پیداوار صلاحیت توسیعی منصوبے (آئی جی سی ای پی 35-2025) میں شامل کیا جائے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1268318"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>تنظیم نے کہا کہ ’آئی جی سی ای پی‘ نے ایک حد سے زیادہ سادہ اور غلط شماریاتی (ریگریشن) ماڈل استعمال کیا ہے جو بجلی کے استعمال کو جی ڈی پی، آبادی میں اضافے اور دیگر بڑے پیمانے کے اعداد و شمار سے جوڑتا ہے، بنیادی مفروضہ یہ ہے کہ جیسے ہی معیشت اور آبادی بڑھتی ہے، بجلی کی طلب بھی اتنی ہی بڑھے گی۔</p>
<p>لیکن یہ طریقہ کار ان متبادل ذرائع کو شامل نہیں کرتا جیسے کیپٹو پاور (گیس یا فرنس آئل کے جنریٹر)، چھتوں پر نصب سولر پینل، گیس بوائلر، سولر واٹر ہیٹر، الیکٹرک چولہے اور دیگر غیرمرکزی توانائی کے ذرائع، جو بجلی کے متوازی طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔</p>
<p>اپٹما نے کہا کہ ان کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے ماڈل غلط طور پر معیشت کی زیادہ تر سرگرمی کو بجلی کے استعمال سے جوڑ دیتا ہے اور نتیجتاً بجلی کی طلب کا اندازہ حد سے زیادہ ہو جاتا ہے۔</p>
<p>یہ مسئلہ ماڈل کے اندر اینڈوجینیٹی کے باعث پیدا ہوتا ہے، کیونکہ جب متبادل توانائی کے ذرائع کو نکال دیا جائے تو ان کے اثرات ایرر ٹرم میں شامل ہو جاتے ہیں، جو جی ڈی پی اور آبادی کی شرح نمو سے منسلک ہیں، نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اندازے جانبدار اور غیر معتبر ہو جاتے ہیں اور بجلی کی طلب کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں جہاں غیرمرکزی توانائی ذرائع تیزی سے بڑھ رہے ہیں، یہ تعصبی جھکاؤ بجلی کی طلب کے مستقبل کے تخمینے کو حد سے زیادہ بڑھا دیتا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ طلب کا اندازہ زیادہ دکھایا گیا، کیونکہ ماڈل نے متبادل توانائی کے ذرائع کو نظرانداز کیا۔</p>
<p>اپٹما نے الزام عائد کیا کہ آئی جی سی ای پی کی طلب کا اندازہ جان بوجھ کر زیادہ دکھایا گیا ہے، یہ اوپر کی طرف جھکاؤ غیر ضروری طور پر بجلی گھروں میں اضافہ کرتا ہے جو زیادہ کیپیسیٹی پیمنٹس، بیکار اثاثے اور مالیاتی دباؤ میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔</p>
<p>اپٹما نے کہا کہ یہی ’غلط طریقہ‘ صارفین کے ٹیرف کے تعین کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے، جس سے ان کے تخمینے بھی جانبدار اور غلط ثابت ہوتے ہیں۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ صورتحال اور زیادہ خطرناک ہو جاتی ہے، کیونکہ آئی جی سی ای پی خود تسلیم کرتا ہے کہ بجلی کی طلب کے تخمینے پورے شعبے کی منصوبہ بندی کی بنیاد ہیں، اگر بنیاد ہی غلط ہو تو پوری منصوبہ بندی غیر معتبر ہو جاتی ہے جس کے نتیجے میں غلط سرمایہ کاری، زیادہ اخراجات اور مہنگی بجلی جنم لیتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1263764"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اپٹما نے کہا کہ جب تک بجلی کو سستا بنانا منصوبہ بندی کا مرکزی اصول نہیں بنایا جاتا، آئی جی سی ای پی انہی مسائل کو بڑھاتا رہے گا، جو بڑھتے ہوئے کیپیسیٹی پیمنٹس کی جڑ ہیں، یہ ادائیگیاں پچھلے 10 برسوں میں فی یونٹ 2 روپے سے بڑھ کر 17.06 روپے تک پہنچ چکی ہیں اور اب صارف کے ٹیرف کا نصف سے زیادہ حصہ کھا جاتی ہیں جو مجموعی طور پر پچھلی دہائی میں 6 کھرب روپے سے بھی زیادہ ہو چکی ہیں، اور ایندھن کی لاگت سے بھی بڑھ گئی ہیں۔</p>
<p>اپٹما نے کہا کہ اس سطح پر یہ نظام بالکل ناقابل برداشت ہے، خاص طور پر ایسے ملک میں جہاں مالی وسائل محدود ہوں، صنعتی ترقی سست ہو، اور عوام کی قوتِ خرید کمزور ہو۔</p>
<p>برآمدی تنظیم نے مطالبہ کیا کہ بجلی کی کوئی نئی پیداوار اس وقت تک شامل نہیں کی جانی چاہیے، جب تک اس بوجھ کو فی یونٹ 5 روپے سے کم نہ کر دیا جائے، یہ حد ایک لازمی معیار بننی چاہیے تاکہ مستقبل کی تمام منصوبہ بندی اور منظوریوں میں ڈسپلن لایا جا سکے۔</p>
<p>اپٹما نے یہ بھی نشاندہی کی کہ اس وقت ملک کو طلب میں جمود، زائد صلاحیت اور غیر فعال منصوبوں کا سامنا ہے، اس نے کہا کہ مالی سال 2025 میں صنعتی طلب تقریباً 4 فیصد کم ہوئی ہے، جب کہ زرعی کھپت ایک تہائی سے زیادہ گر گئی ہے، کیونکہ کسان ڈیزل اور سولر کی طرف منتقل ہو گئے ہیں۔</p>
<p>اپٹما نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ قومی سطح پر بجلی کی طلب جمود کا شکار ہے، لیکن آئی جی سی ای پی تقریباً 20 ہزار میگاواٹ صلاحیت میں اضافے کا منصوبہ بنا رہا ہے، یہ تضاد مزید بیکار پلانٹس، بھاری فکسڈ اخراجات اور بڑھتے ہوئے گردشی قرضے کا باعث بنتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1270245</guid>
      <pubDate>Mon, 29 Sep 2025 11:05:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خلیق کیانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/09/291010063f2df92.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/09/291010063f2df92.webp"/>
        <media:title>اپٹما نے نیپرا کو اعتراضات میں کہا کہ بجلی کی طلب میں اضافے کے تخمینے مبالغہ آرائی پر مبنی ہیں — فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت نے گردشی قرض چکانے کیلئے 12.25 کھرب روپے قرض لے لیا، بوجھ صارفین بجلی اٹھائیں گے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1270030/</link>
      <description>&lt;p&gt;حکومت نے توانائی کے شعبے کے گردشی قرضوں کے خاتمے اور نجی بجلی گھروں (آئی پی پیز) کو ادائیگی کے لیے 18 بینکوں کے ساتھ تقریباً 12 کھرب 25 ارب روپے کے قرضوں کے معاہدوں پر دستخط کردیے، یہ ادائیگیاں صارفین سے اگلے 6 برس تک فی یونٹ 3.23 روپے سرچارج وصول کر کے پوری کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1944474/rs12tr-bank-loan-secured-to-settle-circular-debt"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق اس معاہدے پر وزیراعظم آفس میں دستخط ہوئے، تقریب میں وزیر اعظم نے نیویارک سے ورچوئلی شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاہدے کے تحت حکومت کو 30 دن کے اندر بینکوں سے فنڈز کی فراہمی کی درخواست کرنا ہوگی تاکہ وقت پر استعمال ممکن ہو ورنہ جرمانے لگ سکتے ہیں۔ درخواست دینے کے بعد منظور شدہ رقم نکلوانے کے لیے حکومت کے پاس 3 ماہ ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;12 کھرب 25 ارب روپے کے مجموعی قرضے کی ادائیگی ڈیٹ سروس سرچارج (ڈی ایس ایس) کے ذریعے کی جائے گی، اس میں سے 659 ارب روپے پاور ہولڈنگ لمیٹڈ کو قابلِ ادائیگی قرضوں پر خرچ ہوں گے، باقی رقم آئی پی پیز، پیٹرولیم سیکٹر کی کمپنیوں اور سبسڈی ایڈجسٹمنٹس پر استعمال ہو گی، جس میں کتابی اندراجات اور نقد ادائیگیاں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270027"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خزانہ نے 18 بینکوں کے ساتھ یہ معاہدے کرائے جن میں حبیب بینک، میزان بینک، نیشنل بینک آف پاکستان، الائیڈ بینک لمیٹڈ، یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ، فیصل بینک، بینک الحبیب، ایم سی بی بینک، بینک الفلاح، دبئی اسلامک بینک، بینک آف پنجاب، بینک اسلامی پاکستان، عسکری بینک، حبیب میٹروپولیٹن بینک، البرکہ بینک، بینک آف خیبر، ایم سی بی اسلامک بینک اور سونیری بینک شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کابینہ پہلے ہی اس قرضے اور ادائیگی کے طریقہ کار کی منظوری دے چکی تھی، اس کے تحت سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کو تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے ایجنٹ مقرر کیا گیا ہے تاکہ گردشی قرضے کے تصفیے کے اقدامات کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خزانہ اور اسٹیٹ بینک کی رہنمائی میں بینکوں کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے مطابق یہ قرضے کائبور مائنس 9 فیصد کی شرح پر 6 برس کے لیے ہوں گے اور ہر سہ ماہی میں 310 سے 315 ارب روپے کی ادائیگی صارفین سے فی یونٹ 3.23 روپے ڈی ایس ایس کے ذریعے وصول کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی ایس ایس پہلے بھی 5 برس کے لیے لاگو تھا جو جون 2025 میں ختم ہونا تھا، مگر اب اسے مزید 6 برس کے لیے بڑھا دیا گیا ہے، اس قرضے پر کل سود کا تخمینہ تقریباً 640 ارب روپے لگایا گیا ہے، اس کے لیے نیپرا ایکٹ کی شق 31(8) میں ترمیم فنانس بل 26-2025 میں شامل کی گئی، جس کے ذریعے بنیادی ٹیرف پر 10 فیصد کی حد بھی ختم کر دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی 2025 کے اختتام پر پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ تقریباً 16 کھرب 61 ارب روپے تک پہنچ گیا جو صرف ایک ماہ میں 47 ارب روپے بڑھا، جون کے آخر تک حکومت نے سبسڈی کی مد میں 780 ارب روپے استعمال کر کے یہ قرضہ 23 کھرب 93 ارب روپے سے کم کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269674"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتوں میں انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل فنانس (آئی آئی ایف) اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے کہا کہ یہ قرضے اور مالی معاونت پائیدار نہیں جب تک سسٹم کی گہرائی میں اصلاحات نہ کی جائیں تاکہ نقصانات کم ہوں، وصولیاں بہتر ہوں اور دیگر کمزوریاں دور کی جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی آئی ایف کے مطابق توانائی کے شعبے کا قرضہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً 4 فیصد کے برابر ہے، جو معیشت کے ہر شعبے، چاہے وہ مالیاتی توازن ہو، مہنگائی ہو، بیرونی کھاتہ ہو یا بینکاری نظام، کو متاثر کرتا ہے، اس کے مطابق گردشی قرضہ اور توانائی کی سبسڈیز عوامی مالیات پر دباؤ ڈالتی ہیں اور حکومت کو دوسرے شعبوں میں سرمایہ کاری، سماجی پروگراموں اور ترقیاتی منصوبوں کے بجائے وسائل توانائی کا خسارا پورا کرنے پر لگانے پر مجبور کرتی ہیں، جس سے نجی شعبہ بھی دباؤ کا شکار ہوجاتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>حکومت نے توانائی کے شعبے کے گردشی قرضوں کے خاتمے اور نجی بجلی گھروں (آئی پی پیز) کو ادائیگی کے لیے 18 بینکوں کے ساتھ تقریباً 12 کھرب 25 ارب روپے کے قرضوں کے معاہدوں پر دستخط کردیے، یہ ادائیگیاں صارفین سے اگلے 6 برس تک فی یونٹ 3.23 روپے سرچارج وصول کر کے پوری کی جائیں گی۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1944474/rs12tr-bank-loan-secured-to-settle-circular-debt"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق اس معاہدے پر وزیراعظم آفس میں دستخط ہوئے، تقریب میں وزیر اعظم نے نیویارک سے ورچوئلی شرکت کی۔</p>
<p>معاہدے کے تحت حکومت کو 30 دن کے اندر بینکوں سے فنڈز کی فراہمی کی درخواست کرنا ہوگی تاکہ وقت پر استعمال ممکن ہو ورنہ جرمانے لگ سکتے ہیں۔ درخواست دینے کے بعد منظور شدہ رقم نکلوانے کے لیے حکومت کے پاس 3 ماہ ہوں گے۔</p>
<p>12 کھرب 25 ارب روپے کے مجموعی قرضے کی ادائیگی ڈیٹ سروس سرچارج (ڈی ایس ایس) کے ذریعے کی جائے گی، اس میں سے 659 ارب روپے پاور ہولڈنگ لمیٹڈ کو قابلِ ادائیگی قرضوں پر خرچ ہوں گے، باقی رقم آئی پی پیز، پیٹرولیم سیکٹر کی کمپنیوں اور سبسڈی ایڈجسٹمنٹس پر استعمال ہو گی، جس میں کتابی اندراجات اور نقد ادائیگیاں شامل ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1270027"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>وزارتِ خزانہ نے 18 بینکوں کے ساتھ یہ معاہدے کرائے جن میں حبیب بینک، میزان بینک، نیشنل بینک آف پاکستان، الائیڈ بینک لمیٹڈ، یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ، فیصل بینک، بینک الحبیب، ایم سی بی بینک، بینک الفلاح، دبئی اسلامک بینک، بینک آف پنجاب، بینک اسلامی پاکستان، عسکری بینک، حبیب میٹروپولیٹن بینک، البرکہ بینک، بینک آف خیبر، ایم سی بی اسلامک بینک اور سونیری بینک شامل ہیں۔</p>
<p>کابینہ پہلے ہی اس قرضے اور ادائیگی کے طریقہ کار کی منظوری دے چکی تھی، اس کے تحت سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کو تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے ایجنٹ مقرر کیا گیا ہے تاکہ گردشی قرضے کے تصفیے کے اقدامات کرے۔</p>
<p>وزارتِ خزانہ اور اسٹیٹ بینک کی رہنمائی میں بینکوں کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے مطابق یہ قرضے کائبور مائنس 9 فیصد کی شرح پر 6 برس کے لیے ہوں گے اور ہر سہ ماہی میں 310 سے 315 ارب روپے کی ادائیگی صارفین سے فی یونٹ 3.23 روپے ڈی ایس ایس کے ذریعے وصول کی جائے گی۔</p>
<p>ڈی ایس ایس پہلے بھی 5 برس کے لیے لاگو تھا جو جون 2025 میں ختم ہونا تھا، مگر اب اسے مزید 6 برس کے لیے بڑھا دیا گیا ہے، اس قرضے پر کل سود کا تخمینہ تقریباً 640 ارب روپے لگایا گیا ہے، اس کے لیے نیپرا ایکٹ کی شق 31(8) میں ترمیم فنانس بل 26-2025 میں شامل کی گئی، جس کے ذریعے بنیادی ٹیرف پر 10 فیصد کی حد بھی ختم کر دی گئی۔</p>
<p>جولائی 2025 کے اختتام پر پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ تقریباً 16 کھرب 61 ارب روپے تک پہنچ گیا جو صرف ایک ماہ میں 47 ارب روپے بڑھا، جون کے آخر تک حکومت نے سبسڈی کی مد میں 780 ارب روپے استعمال کر کے یہ قرضہ 23 کھرب 93 ارب روپے سے کم کیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269674"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>گزشتہ ہفتوں میں انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل فنانس (آئی آئی ایف) اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے کہا کہ یہ قرضے اور مالی معاونت پائیدار نہیں جب تک سسٹم کی گہرائی میں اصلاحات نہ کی جائیں تاکہ نقصانات کم ہوں، وصولیاں بہتر ہوں اور دیگر کمزوریاں دور کی جائیں۔</p>
<p>آئی آئی ایف کے مطابق توانائی کے شعبے کا قرضہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً 4 فیصد کے برابر ہے، جو معیشت کے ہر شعبے، چاہے وہ مالیاتی توازن ہو، مہنگائی ہو، بیرونی کھاتہ ہو یا بینکاری نظام، کو متاثر کرتا ہے، اس کے مطابق گردشی قرضہ اور توانائی کی سبسڈیز عوامی مالیات پر دباؤ ڈالتی ہیں اور حکومت کو دوسرے شعبوں میں سرمایہ کاری، سماجی پروگراموں اور ترقیاتی منصوبوں کے بجائے وسائل توانائی کا خسارا پورا کرنے پر لگانے پر مجبور کرتی ہیں، جس سے نجی شعبہ بھی دباؤ کا شکار ہوجاتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1270030</guid>
      <pubDate>Thu, 25 Sep 2025 15:35:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خلیق کیانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/09/25130758999109c.gif" type="image/gif" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/09/25130758999109c.gif"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: اے پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیپرا نے حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی پر کروڑوں روپے کا جرمانہ کر دیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1269305/</link>
      <description>&lt;p&gt;نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے کروڑوں روپے کا جرمانہ عائد کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیپرا کی جانب سے جاری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ لوڈشیڈنگ پر حیسکو پرکروڑوں روپےکاجرمانہ عائد کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے میں مزید کہا گیا کہ حیسکو 4 اپریل 2024 سے یومیہ ایک لاکھ روپے جرمانہ جمع کرائے گی، نقصانات کی بنیاد پر لوڈشیڈنگ کرنے  پر حیسکو پرجرمانہ عائد کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیپرا کا فیصلہ  میں کہنا تھا کہ حیسکو کےخلاف شوکاز نوٹس کے بعد کارروائی کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269117"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل 12 ستمبر کو نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے اضافی بجلی بلوں اور لوڈشیڈنگ پر 2 سرکاری بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کےخلاف ایکشن لیتے ہوئے مجموعی طور پر 25 کروڑ روپے سے زائد جرمانہ عائد کردیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیپرا نے فیصلے میں کہا تھا کہ اضافی بلنگ پر گیپکو کو20 کروڑ روپے جرمانہ کیا گیا ہے، جبکہ گیپکو کو صارفین سے وصول کردہ اضافی رقم واپس کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیپرا نے کہا تھا کہ نقصانات کی بنیاد پر لوڈشیڈنگ کرنے پر سیپکو پر جرمانہ عائد کیا گیا ہے، سیپکو 4 اپریل 2024 سے اب تک یومیہ ایک لاکھ جرمانہ جمع کرائے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے کروڑوں روپے کا جرمانہ عائد کر دیا۔</p>
<p>نیپرا کی جانب سے جاری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ لوڈشیڈنگ پر حیسکو پرکروڑوں روپےکاجرمانہ عائد کیا گیا ہے۔</p>
<p>فیصلے میں مزید کہا گیا کہ حیسکو 4 اپریل 2024 سے یومیہ ایک لاکھ روپے جرمانہ جمع کرائے گی، نقصانات کی بنیاد پر لوڈشیڈنگ کرنے  پر حیسکو پرجرمانہ عائد کیا گیا ہے۔</p>
<p>نیپرا کا فیصلہ  میں کہنا تھا کہ حیسکو کےخلاف شوکاز نوٹس کے بعد کارروائی کی گئی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269117"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس سے قبل 12 ستمبر کو نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے اضافی بجلی بلوں اور لوڈشیڈنگ پر 2 سرکاری بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کےخلاف ایکشن لیتے ہوئے مجموعی طور پر 25 کروڑ روپے سے زائد جرمانہ عائد کردیا تھا۔</p>
<p>نیپرا نے فیصلے میں کہا تھا کہ اضافی بلنگ پر گیپکو کو20 کروڑ روپے جرمانہ کیا گیا ہے، جبکہ گیپکو کو صارفین سے وصول کردہ اضافی رقم واپس کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔</p>
<p>نیپرا نے کہا تھا کہ نقصانات کی بنیاد پر لوڈشیڈنگ کرنے پر سیپکو پر جرمانہ عائد کیا گیا ہے، سیپکو 4 اپریل 2024 سے اب تک یومیہ ایک لاکھ جرمانہ جمع کرائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1269305</guid>
      <pubDate>Mon, 15 Sep 2025 17:46:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر شیرانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/09/15174344262266f.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/09/15174344262266f.webp"/>
        <media:title>فائل فوٹو:  اے پی پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت کا وافر مقدار کے باوجود توانائی سیکٹر کو گیس کی فراہمی پر نیا ٹیکس لگانے پر غور</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1268783/</link>
      <description>&lt;p&gt;سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) گرمیوں میں بھی بغیر اطلاع دیے قدرتی گیس کی راشننگ جاری رکھے ہوئے ہے، جب کہ ایک تیسرے فریق کو پائپ لائن کی گنجائش دینے کے معاملے پر جاری کھینچا تانی کے درمیان توقع کی جارہی ہے کہ حکومت بجلی کے شعبے کو گیس کی تقسیم پر ’کیپٹو گیس لیوی‘ نافذ کرے گی، تاکہ سرکاری اور نجی شعبے کے گیس سپلائرز کے لیے یکساں مواقع یقینی بنائے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1940628/govt-eyes-new-gas-levy-amid-paradox-of-glut-and-rationing"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق پاکستان قدرتی گیس اور ایل این جی کی شدید فراہمی کی زیادتی کا شکار ہے، جس کے باعث حکومت کو 170 سے زائد ایل این جی کارگو کی درآمد مؤخر کرنی پڑی ہے، اور ایس این جی پی ایل نے مقامی گیس پیدا کرنے والوں کو اپنی پیداوار بند یا کم کرنے پر مجبور کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے مقامی پروڈیوسرز، لندن اسٹاک ایکسچینج میں درج سرکاری او جی ڈی سی ایل کو بھاری نقصان ہو رہا ہے، جو نہ صرف ملک کے زرمبادلہ کو کمزور کرتا ہے بلکہ صارفین کو بھی مجبور کرتا ہے کہ وہ دن میں چند گھنٹوں کے لیے ملنے والی گیس پر بھاری فکسڈ چارجز ادا کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران جب سیاسی قیادت آگ بجھانے میں مصروف ہے، مرکز اور ایس این جی پی ایل کے حکام، اپنے بورڈ آف ڈائریکٹرز، کاروباری افراد اور سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھنے والے دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ، اپنے اپنے مفادات اور دلائل کو سنبھالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="یکساں-مواقع-فراہم-کرنے-کے-اقدام-کا-مقصد" href="#یکساں-مواقع-فراہم-کرنے-کے-اقدام-کا-مقصد" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;’یکساں مواقع فراہم کرنے‘ کے اقدام کا مقصد&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1259693"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان کے رابطہ کرنے پر کسی بھی فریق،  پیٹرولیم ڈویژن، ایس این جی پی ایل انتظامیہ اور نجی اداروں نے ریکارڈ پر بات کرنے کو ترجیح نہیں دی بلکہ ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران، ایس این جی پی ایل نے مقامی سستی گیس پیدا کرنے والے ذخائر کو بند کرنے یا پیداوار کم کرنے کی ہدایت جاری کر دی تاکہ مہنگی ایل این جی، جو بین الاقوامی معاہدوں کے تحت خریدی گئی ہے، سسٹم میں جذب کی جا سکے، اس وقت 300 ملین مکعب فٹ یومیہ (ایم ایم سی ایف ڈی) سے زائد مقامی گیس کی پیداوار محدود کی جا چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="بغیر-اطلاع-کے-راشننگ" href="#بغیر-اطلاع-کے-راشننگ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;بغیر اطلاع کے راشننگ&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ایس این جی پی ایل نے پیداوار کنندگان کو سپلائی محدود کرنے پر مجبور کرنے کے ساتھ ہی گھریلو اور کمرشل صارفین کے لیے بغیر اطلاع دیے راشننگ شروع کر دی ہے، جس میں صرف ناشتے، دوپہر اور رات کے کھانے کے اوقات میں 2 سے 3 گھنٹے کے لیے گیس فراہم کی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اقدام اس حکومتی فیصلے کے بعد آیا ہے جس کے تحت یکم جولائی 2025 سے فکسڈ ماہانہ چارجز کو دگنا کر دیا گیا ہے، نتیجتاً تقریباً 450 روپے کی گیس کے استعمال پر فکسڈ چارجز اور ٹیکس شامل کیے جائیں تو مجموعی بل تقریباً 2 ہزار 500 روپے بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیداواری کٹوتیوں نے مقامی پروڈیوسرز، او جی ڈی سی ایل، جی ایچ پی ایل اور دیگر (جن میں چند نجی شعبے کے بھی شامل ہیں) کے لیے کیش فلو کے مسائل پیدا کر دیے ہیں، جس سے ان کی ملکی اور بین الاقوامی ایکسپلوریشن سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک کے سب سے بڑے پروڈیوسر او جی ڈی سی ایل نے اس صورتحال پر کھلے عام افسوس کا اظہار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے اپنی بورڈ آف ڈائریکٹرز کو پیش کی گئی ایک رپورٹ میں کہا کہ قادِرپور، نوشپا، چنڈہ، ڈھوک حسین، میلہ، بٹانی، پیرکوہ، توغ، لوٹی فیلڈز اور ٹال سے ایس این جی پی ایل کے سسٹم کی رکاوٹوں کے باعث گیس کی کم خریداری، اور یو پی ایل کی جانب سے اوچ فیلڈز سے کم خریداری کی وجہ سے روزانہ کی پیداوار میں ایک ہزار 148 بیرل خام تیل، 76 ایم ایم سی ایف گیس اور 55 ٹن ایل پی جی کی کمی ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 31 مارچ 2025 کو ختم ہونے والی تیسری سہ ماہی کے دوران او جی ڈی سی ایل نے 310 ارب 90 کروڑ 70 لاکھ روپے کا سیلز ریونیو حاصل کیا، جو گزشتہ سال کی اسی مدت میں 348 ارب 16 کروڑ 40 لاکھ روپے تھا،  کمپنی کی فروخت میں کمی بنیادی طور پر پیداوار میں جبری کٹوتی اور خام تیل کی اوسط قیمت میں کمی کے باعث ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب توانائی کے شعبے کا گردشی قرضہ 4 کھرب 60 ارب روپے سے تجاوز کر گیا تو حکومت نے مقامی پروڈیوسرز کو اپنی کچھ گیس تیسرے فریق کو بیچنے کی اجازت دی تاکہ ان کے کیش فلو کو بہتر کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1239830"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس انتظام کے تحت کچھ پروڈیوسرز جیسے ایم او ایل-پاکستان اور پیٹرولیم ایکسپلوریشن لمیٹڈ کو اپنی پیداوار، رازیگر اور زہرہ نارتھ فیلڈز اور کچھ دیگر سے، تیسرے فریق کو فروخت کرنے کی اجازت دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، ایس این جی پی ایل نے رازیگر فیلڈ کے لیے اس انتظام کی مخالفت کی، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ اس سے مارکیٹ کا بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے نشاندہی کی کہ 791 روپے فی یونٹ کیپٹو لیوی، جو آئی ایم ایف کی ہدایت پر اس کے صنعتی صارفین پر نافذ کی گئی تھی، نجی سپلائرز پر لاگو نہیں ہوتی، جس کے باعث صارفین سستی نجی گیس کی طرف منتقل ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مزاحمت کے باوجود ایس این جی پی ایل کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے رازیگر گیس کو تیسرے فریق کو پائپ لائن کی گنجائش دینے کی منظوری دی، بعد میں ایس این جی پی ایل انتظامیہ نے کسی ایسی منظوری سے انکار کیا، مگر ’ڈان‘ کو دستیاب ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ کم از کم 11 میں سے 9 بورڈ ممبران نے اس فیصلے پر دستخط کیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کھینچا تانی کے جواب میں وزارت قانون نے اب فیصلہ دیا ہے کہ کیپٹو پاور لیوی ایل این جی یا مقامی گیس کے تمام صارفین پر لاگو ہو گی، چاہے وہ سرکاری یا نجی اداروں سے فراہم کی گئی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسئلے کے حل کے لیے وزارت نے قرار دیا کہ اگرچہ پروڈیوسرز سے سپلائرز کو گیس کی فروخت ڈی ریگولیٹڈ ہے، مگر سپلائرز سے کیپٹو پاور پلانٹس (سی پی پیز) کو فروخت ڈی ریگولیٹڈ نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت نے طے کیا کہ سیکشن 8(6) کے تحت اور اوگرا آرڈیننس کے سیکشنز 43A اور 43B کے مطابق قیمت کا تعین اوگرا کو کرنا ہو گا، تاکہ 2025 کے لیوی ایکٹ کے تحت لیوی وصول کی جاسکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) گرمیوں میں بھی بغیر اطلاع دیے قدرتی گیس کی راشننگ جاری رکھے ہوئے ہے، جب کہ ایک تیسرے فریق کو پائپ لائن کی گنجائش دینے کے معاملے پر جاری کھینچا تانی کے درمیان توقع کی جارہی ہے کہ حکومت بجلی کے شعبے کو گیس کی تقسیم پر ’کیپٹو گیس لیوی‘ نافذ کرے گی، تاکہ سرکاری اور نجی شعبے کے گیس سپلائرز کے لیے یکساں مواقع یقینی بنائے جا سکیں۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1940628/govt-eyes-new-gas-levy-amid-paradox-of-glut-and-rationing"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق پاکستان قدرتی گیس اور ایل این جی کی شدید فراہمی کی زیادتی کا شکار ہے، جس کے باعث حکومت کو 170 سے زائد ایل این جی کارگو کی درآمد مؤخر کرنی پڑی ہے، اور ایس این جی پی ایل نے مقامی گیس پیدا کرنے والوں کو اپنی پیداوار بند یا کم کرنے پر مجبور کیا ہے۔</p>
<p>اس سے مقامی پروڈیوسرز، لندن اسٹاک ایکسچینج میں درج سرکاری او جی ڈی سی ایل کو بھاری نقصان ہو رہا ہے، جو نہ صرف ملک کے زرمبادلہ کو کمزور کرتا ہے بلکہ صارفین کو بھی مجبور کرتا ہے کہ وہ دن میں چند گھنٹوں کے لیے ملنے والی گیس پر بھاری فکسڈ چارجز ادا کریں۔</p>
<p>اسی دوران جب سیاسی قیادت آگ بجھانے میں مصروف ہے، مرکز اور ایس این جی پی ایل کے حکام، اپنے بورڈ آف ڈائریکٹرز، کاروباری افراد اور سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھنے والے دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ، اپنے اپنے مفادات اور دلائل کو سنبھالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔</p>
<h1><a id="یکساں-مواقع-فراہم-کرنے-کے-اقدام-کا-مقصد" href="#یکساں-مواقع-فراہم-کرنے-کے-اقدام-کا-مقصد" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>’یکساں مواقع فراہم کرنے‘ کے اقدام کا مقصد</h1>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1259693"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ڈان کے رابطہ کرنے پر کسی بھی فریق،  پیٹرولیم ڈویژن، ایس این جی پی ایل انتظامیہ اور نجی اداروں نے ریکارڈ پر بات کرنے کو ترجیح نہیں دی بلکہ ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال دی۔</p>
<p>اسی دوران، ایس این جی پی ایل نے مقامی سستی گیس پیدا کرنے والے ذخائر کو بند کرنے یا پیداوار کم کرنے کی ہدایت جاری کر دی تاکہ مہنگی ایل این جی، جو بین الاقوامی معاہدوں کے تحت خریدی گئی ہے، سسٹم میں جذب کی جا سکے، اس وقت 300 ملین مکعب فٹ یومیہ (ایم ایم سی ایف ڈی) سے زائد مقامی گیس کی پیداوار محدود کی جا چکی ہے۔</p>
<h1><a id="بغیر-اطلاع-کے-راشننگ" href="#بغیر-اطلاع-کے-راشننگ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>بغیر اطلاع کے راشننگ</h1>
<p>ایس این جی پی ایل نے پیداوار کنندگان کو سپلائی محدود کرنے پر مجبور کرنے کے ساتھ ہی گھریلو اور کمرشل صارفین کے لیے بغیر اطلاع دیے راشننگ شروع کر دی ہے، جس میں صرف ناشتے، دوپہر اور رات کے کھانے کے اوقات میں 2 سے 3 گھنٹے کے لیے گیس فراہم کی جاتی ہے۔</p>
<p>یہ اقدام اس حکومتی فیصلے کے بعد آیا ہے جس کے تحت یکم جولائی 2025 سے فکسڈ ماہانہ چارجز کو دگنا کر دیا گیا ہے، نتیجتاً تقریباً 450 روپے کی گیس کے استعمال پر فکسڈ چارجز اور ٹیکس شامل کیے جائیں تو مجموعی بل تقریباً 2 ہزار 500 روپے بنتا ہے۔</p>
<p>پیداواری کٹوتیوں نے مقامی پروڈیوسرز، او جی ڈی سی ایل، جی ایچ پی ایل اور دیگر (جن میں چند نجی شعبے کے بھی شامل ہیں) کے لیے کیش فلو کے مسائل پیدا کر دیے ہیں، جس سے ان کی ملکی اور بین الاقوامی ایکسپلوریشن سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔</p>
<p>ملک کے سب سے بڑے پروڈیوسر او جی ڈی سی ایل نے اس صورتحال پر کھلے عام افسوس کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p>کمپنی نے اپنی بورڈ آف ڈائریکٹرز کو پیش کی گئی ایک رپورٹ میں کہا کہ قادِرپور، نوشپا، چنڈہ، ڈھوک حسین، میلہ، بٹانی، پیرکوہ، توغ، لوٹی فیلڈز اور ٹال سے ایس این جی پی ایل کے سسٹم کی رکاوٹوں کے باعث گیس کی کم خریداری، اور یو پی ایل کی جانب سے اوچ فیلڈز سے کم خریداری کی وجہ سے روزانہ کی پیداوار میں ایک ہزار 148 بیرل خام تیل، 76 ایم ایم سی ایف گیس اور 55 ٹن ایل پی جی کی کمی ہوئی۔</p>
<p>رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 31 مارچ 2025 کو ختم ہونے والی تیسری سہ ماہی کے دوران او جی ڈی سی ایل نے 310 ارب 90 کروڑ 70 لاکھ روپے کا سیلز ریونیو حاصل کیا، جو گزشتہ سال کی اسی مدت میں 348 ارب 16 کروڑ 40 لاکھ روپے تھا،  کمپنی کی فروخت میں کمی بنیادی طور پر پیداوار میں جبری کٹوتی اور خام تیل کی اوسط قیمت میں کمی کے باعث ہوئی۔</p>
<p>جب توانائی کے شعبے کا گردشی قرضہ 4 کھرب 60 ارب روپے سے تجاوز کر گیا تو حکومت نے مقامی پروڈیوسرز کو اپنی کچھ گیس تیسرے فریق کو بیچنے کی اجازت دی تاکہ ان کے کیش فلو کو بہتر کیا جا سکے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1239830"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس انتظام کے تحت کچھ پروڈیوسرز جیسے ایم او ایل-پاکستان اور پیٹرولیم ایکسپلوریشن لمیٹڈ کو اپنی پیداوار، رازیگر اور زہرہ نارتھ فیلڈز اور کچھ دیگر سے، تیسرے فریق کو فروخت کرنے کی اجازت دی گئی۔</p>
<p>تاہم، ایس این جی پی ایل نے رازیگر فیلڈ کے لیے اس انتظام کی مخالفت کی، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ اس سے مارکیٹ کا بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔</p>
<p>کمپنی نے نشاندہی کی کہ 791 روپے فی یونٹ کیپٹو لیوی، جو آئی ایم ایف کی ہدایت پر اس کے صنعتی صارفین پر نافذ کی گئی تھی، نجی سپلائرز پر لاگو نہیں ہوتی، جس کے باعث صارفین سستی نجی گیس کی طرف منتقل ہو گئے۔</p>
<p>اس مزاحمت کے باوجود ایس این جی پی ایل کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے رازیگر گیس کو تیسرے فریق کو پائپ لائن کی گنجائش دینے کی منظوری دی، بعد میں ایس این جی پی ایل انتظامیہ نے کسی ایسی منظوری سے انکار کیا، مگر ’ڈان‘ کو دستیاب ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ کم از کم 11 میں سے 9 بورڈ ممبران نے اس فیصلے پر دستخط کیے تھے۔</p>
<p>اس کھینچا تانی کے جواب میں وزارت قانون نے اب فیصلہ دیا ہے کہ کیپٹو پاور لیوی ایل این جی یا مقامی گیس کے تمام صارفین پر لاگو ہو گی، چاہے وہ سرکاری یا نجی اداروں سے فراہم کی گئی ہو۔</p>
<p>مسئلے کے حل کے لیے وزارت نے قرار دیا کہ اگرچہ پروڈیوسرز سے سپلائرز کو گیس کی فروخت ڈی ریگولیٹڈ ہے، مگر سپلائرز سے کیپٹو پاور پلانٹس (سی پی پیز) کو فروخت ڈی ریگولیٹڈ نہیں ہے۔</p>
<p>وزارت نے طے کیا کہ سیکشن 8(6) کے تحت اور اوگرا آرڈیننس کے سیکشنز 43A اور 43B کے مطابق قیمت کا تعین اوگرا کو کرنا ہو گا، تاکہ 2025 کے لیوی ایکٹ کے تحت لیوی وصول کی جاسکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1268783</guid>
      <pubDate>Tue, 09 Sep 2025 13:29:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خلیق کیانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/09/09104213db65e2a.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/09/09104213db65e2a.webp"/>
        <media:title>450 روپے کی گیس پر فکسڈ چارجز اور ٹیکس شامل کیے جائیں تو بل تقریباً 2 ہزار 500 روپے بنتا ہے — فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ملک بھر کیلئے ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 1.69 روپے سستی ہونے کا امکان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1267754/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی سمیت ملک بھر کے لیے ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی سستی ہونےکا امکان ہے، سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کی جولائی کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی ایک روپے 69 پیسےفی یونٹ سستی کرنےکی درخواست پر نیپرا میں کل سماعت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے جولائی 2025 کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی درخواست نیپرامیں جمع کرا رکھی ہے جس پر کل سماعت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای سی سی کی پالیسی گائیڈلائنز کے تحت ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کا اطلاق کے الیکٹرک پر بھی ہوگا، ای سی سی نے ملک بھر کے لیے یکساں فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ لاگوکرنےکی منظوری دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجلی کا بنیادی ٹیرف اور سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ ملک بھر کے لیے یکساں طور پر لاگو ہوتی ہے اور اب ای سی سی کے نئے فیصلے کے تحت ماہانہ ایڈجسٹمنٹ بھی کراچی سمیت ملک بھر کے لیے یکساں لاگو ہوا کرے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی سمیت ملک بھر کے لیے ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی سستی ہونےکا امکان ہے، سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کی جولائی کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی ایک روپے 69 پیسےفی یونٹ سستی کرنےکی درخواست پر نیپرا میں کل سماعت ہوگی۔</p>
<p>سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے جولائی 2025 کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی درخواست نیپرامیں جمع کرا رکھی ہے جس پر کل سماعت ہوگی۔</p>
<p>ای سی سی کی پالیسی گائیڈلائنز کے تحت ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کا اطلاق کے الیکٹرک پر بھی ہوگا، ای سی سی نے ملک بھر کے لیے یکساں فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ لاگوکرنےکی منظوری دی تھی۔</p>
<p>بجلی کا بنیادی ٹیرف اور سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ ملک بھر کے لیے یکساں طور پر لاگو ہوتی ہے اور اب ای سی سی کے نئے فیصلے کے تحت ماہانہ ایڈجسٹمنٹ بھی کراچی سمیت ملک بھر کے لیے یکساں لاگو ہوا کرے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1267754</guid>
      <pubDate>Wed, 27 Aug 2025 15:43:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/08/271542403f2df92.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/08/271542403f2df92.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سندھ نے پہلے بی ٹو بی گرین پاور منصوبے کیلئے جھمپیر میں 300 ایکڑ زمین مختص کردی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1266946/</link>
      <description>&lt;p&gt;سندھ حکومت نے جھمپیر میں 300 ایکڑ زمین مورو پاور کمپنی (ایم پی سی) کو الاٹ کر دی ہے تاکہ وہاں 100 میگاواٹ کا ہائبرڈ ونڈ اور سولر پروجیکٹ قائم کیا جا سکے، یہ منصوبہ صوبے کے اپنے ریگولیٹر کے تحت بجلی کا پہلا بزنس ٹو بزنس (بی ٹو بی) وینچر ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1931343/sindh-earmarks-land-for-first-b2b-green-power-project"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ سندھ الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (سیپرا) کے تحت مکمل کیا جائے گا، جس کے ذریعے ایم پی سی نوری آباد کی صنعتوں کو براہِ راست بجلی فراہم کرے گی، اور اس کے لیے سندھ ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (ایس ٹی ڈی سی) کو استعمال کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس منصوبے کا مقصد صنعتوں کو قابلِ اعتماد اور سستی متبادل توانائی فراہم کرنا ہے، جس سے اخراجات کم ہوں گے اور صوبے کی صنعتی بنیاد مستحکم ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ پاکستان کا واحد صوبہ ہے جس کا اپنا پاور ریگولیٹر موجود ہے، جو وفاقی حکومت سے آزاد ہو کر ٹیرف مقرر کرنے اور پیداوار، ترسیل اور تقسیم کی نگرانی کرنے کا اختیار رکھتا ہے، اس وجہ سے جھمپیر کا یہ منصوبہ ملک میں غیرمرکزی بجلی پیداوار کی طرف ایک انقلابی قدم تصور کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1263976"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر توانائی سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ صوبائی حکومت جھمپیر کے ونڈ کوریڈور کو بروئے کار لانے کے لیے پرعزم ہے، جہاں فی یونٹ محض 8 روپے کی کم ترین لاگت پر 50 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے، انہوں نے کہا کہ ’ہم اس قدرتی وسیلے سے فائدہ اٹھانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں، جو سندھ میں صنعتی ترقی اور معاشی استحکام کا باعث بن سکتا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم پی سی کے چیف ایگزیکٹو مصطفیٰ عبداللہ نے بتایا کہ کمپنی 65 میگاواٹ کے ونڈ ٹربائنز اور 35 میگاواٹ کے سولر پینلز لگائے گی، ہم پہلے ہی نوری آباد کی درجن بھر صنعتوں کے ساتھ 20 روپے فی کلو واٹ کے حساب سے بجلی فراہمی کا معاہدہ کر چکے ہیں اور پروجیکٹ فنانسنگ کے لیے الفلاح ایسٹ مینجمنٹ اور دیگر بینکوں سے بات کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ایم پی سی پنجاب بینک، فیصل بینک اور جے ایس بینک کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے تاکہ 80 فیصد قرض پر مبنی فنانسنگ حاصل کی جا سکے، جو پاکستان کے لیے عالمی بینک کے 7 ارب ڈالر کے گرین فنڈز کے تحت ممکن ہے۔ یہ سیپرا کے تحت پہلا منصوبہ ہوگا جو 2026 تک صنعتوں کو سستی بجلی فراہم کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق ایس ٹی ڈی سی جھمپیر سائٹ کو صرف 20 کلومیٹر فاصلے پر موجود نوری آباد انڈسٹریل اسٹیٹ سے جوڑنے کے لیے ٹرانسمیشن لائنز تعمیر کرے گی، انہوں نے کہا کہ ’یہ اقدام نہ صرف صنعتی مسابقت کو بہتر بنائے گا بلکہ کم کاربن مستقبل کو بھی فروغ دے گا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جھمپیر کا ونڈ کوریڈور پہلے ہی 36 پاور پروڈیوسرز کو اپنی طرف متوجہ کر چکا ہے، جن کی مجموعی پیداواری صلاحیت 1845 میگاواٹ ہے, حکام کا خیال ہے کہ صوبائی حکومت کی متبادل توانائی کی جانب پیش رفت اربوں ڈالر کی مزید سرمایہ کاری کو کھینچ سکتی ہے اور روزگار کے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم پی سی نے نشاندہی کی کہ چین، جرمنی اور بھارت جیسے ممالک نے ونڈ انرجی میں بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں، جہاں نصب شدہ صلاحیت بالترتیب 7لاکھ میگاواٹ، ایک لاکھ 20 ہزار میگاواٹ اور 50ہزار میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان، حالانکہ سندھ اور بلوچستان میں مضبوط ونڈ کوریڈورز رکھتا ہے، لیکن اپنی صلاحیت کے استعمال کے ابتدائی مراحل میں ہے، ماہرین کا خیال ہے کہ صوبائی سطح پر چلنے والے منصوبے وفاقی رکاوٹوں کو نظرانداز کر کے پیش رفت کو تیز کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مبصرین سندھ کے بی ٹو بی ماڈل کو دیگر صوبوں کے لیے بھی ایک ممکنہ نمونہ قرار دے رہے ہیں، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ وفاقی سطح پر گردشی قرضوں اور گرڈ کی رکاوٹوں کے مسائل بار بار سامنے آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سینیئر توانائی عہدیدار نے کہا کہ جھمپیر کا یہ منصوبہ سندھ کی توانائی کے منظرنامے میں ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتا ہے، ’اپنے وسیع متبادل وسائل کے ساتھ سندھ پاکستان کی صاف توانائی کی منتقلی کی قیادت کر سکتا ہے، صنعتوں کو سستی بجلی فراہم کر کے ایسے منصوبے صنعتی ترقی اور معاشی استحکام کو دوام بخش سکتے ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصطفیٰ عبداللہ نے بھی اس رائے کی تائید کی اور کہا کہ یہ منصوبہ دکھائے گا کہ نجی سرمایہ کاری، بین الاقوامی گرین فنڈز اور صوبائی خودمختاری کس طرح مل کر پائیدار توانائی کے حل فراہم کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبائی حکومت متبادل توانائی کے منصوبوں پر انحصار کر رہی ہے تاکہ مہنگے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، کاربن کے اخراج میں کمی لائی جا سکے اور اپنی صنعتی ترقی کو وسعت دی جا سکے، اگر کامیاب ہوا تو جھمپیر کا یہ ہائبرڈ پلانٹ نہ صرف سندھ کے پاور سیکٹر کو بدل دے گا بلکہ ملک کے باقی حصوں کے لیے بھی ایک ماڈل ثابت ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سندھ حکومت نے جھمپیر میں 300 ایکڑ زمین مورو پاور کمپنی (ایم پی سی) کو الاٹ کر دی ہے تاکہ وہاں 100 میگاواٹ کا ہائبرڈ ونڈ اور سولر پروجیکٹ قائم کیا جا سکے، یہ منصوبہ صوبے کے اپنے ریگولیٹر کے تحت بجلی کا پہلا بزنس ٹو بزنس (بی ٹو بی) وینچر ہوگا۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1931343/sindh-earmarks-land-for-first-b2b-green-power-project"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ سندھ الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (سیپرا) کے تحت مکمل کیا جائے گا، جس کے ذریعے ایم پی سی نوری آباد کی صنعتوں کو براہِ راست بجلی فراہم کرے گی، اور اس کے لیے سندھ ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (ایس ٹی ڈی سی) کو استعمال کیا جائے گا۔</p>
<p>اس منصوبے کا مقصد صنعتوں کو قابلِ اعتماد اور سستی متبادل توانائی فراہم کرنا ہے، جس سے اخراجات کم ہوں گے اور صوبے کی صنعتی بنیاد مستحکم ہوگی۔</p>
<p>سندھ پاکستان کا واحد صوبہ ہے جس کا اپنا پاور ریگولیٹر موجود ہے، جو وفاقی حکومت سے آزاد ہو کر ٹیرف مقرر کرنے اور پیداوار، ترسیل اور تقسیم کی نگرانی کرنے کا اختیار رکھتا ہے، اس وجہ سے جھمپیر کا یہ منصوبہ ملک میں غیرمرکزی بجلی پیداوار کی طرف ایک انقلابی قدم تصور کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1263976"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>وزیر توانائی سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ صوبائی حکومت جھمپیر کے ونڈ کوریڈور کو بروئے کار لانے کے لیے پرعزم ہے، جہاں فی یونٹ محض 8 روپے کی کم ترین لاگت پر 50 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے، انہوں نے کہا کہ ’ہم اس قدرتی وسیلے سے فائدہ اٹھانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں، جو سندھ میں صنعتی ترقی اور معاشی استحکام کا باعث بن سکتا ہے‘۔</p>
<p>ایم پی سی کے چیف ایگزیکٹو مصطفیٰ عبداللہ نے بتایا کہ کمپنی 65 میگاواٹ کے ونڈ ٹربائنز اور 35 میگاواٹ کے سولر پینلز لگائے گی، ہم پہلے ہی نوری آباد کی درجن بھر صنعتوں کے ساتھ 20 روپے فی کلو واٹ کے حساب سے بجلی فراہمی کا معاہدہ کر چکے ہیں اور پروجیکٹ فنانسنگ کے لیے الفلاح ایسٹ مینجمنٹ اور دیگر بینکوں سے بات کر رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ایم پی سی پنجاب بینک، فیصل بینک اور جے ایس بینک کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے تاکہ 80 فیصد قرض پر مبنی فنانسنگ حاصل کی جا سکے، جو پاکستان کے لیے عالمی بینک کے 7 ارب ڈالر کے گرین فنڈز کے تحت ممکن ہے۔ یہ سیپرا کے تحت پہلا منصوبہ ہوگا جو 2026 تک صنعتوں کو سستی بجلی فراہم کرے گا۔</p>
<p>ان کے مطابق ایس ٹی ڈی سی جھمپیر سائٹ کو صرف 20 کلومیٹر فاصلے پر موجود نوری آباد انڈسٹریل اسٹیٹ سے جوڑنے کے لیے ٹرانسمیشن لائنز تعمیر کرے گی، انہوں نے کہا کہ ’یہ اقدام نہ صرف صنعتی مسابقت کو بہتر بنائے گا بلکہ کم کاربن مستقبل کو بھی فروغ دے گا‘۔</p>
<p>جھمپیر کا ونڈ کوریڈور پہلے ہی 36 پاور پروڈیوسرز کو اپنی طرف متوجہ کر چکا ہے، جن کی مجموعی پیداواری صلاحیت 1845 میگاواٹ ہے, حکام کا خیال ہے کہ صوبائی حکومت کی متبادل توانائی کی جانب پیش رفت اربوں ڈالر کی مزید سرمایہ کاری کو کھینچ سکتی ہے اور روزگار کے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔</p>
<p>ایم پی سی نے نشاندہی کی کہ چین، جرمنی اور بھارت جیسے ممالک نے ونڈ انرجی میں بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں، جہاں نصب شدہ صلاحیت بالترتیب 7لاکھ میگاواٹ، ایک لاکھ 20 ہزار میگاواٹ اور 50ہزار میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے۔</p>
<p>پاکستان، حالانکہ سندھ اور بلوچستان میں مضبوط ونڈ کوریڈورز رکھتا ہے، لیکن اپنی صلاحیت کے استعمال کے ابتدائی مراحل میں ہے، ماہرین کا خیال ہے کہ صوبائی سطح پر چلنے والے منصوبے وفاقی رکاوٹوں کو نظرانداز کر کے پیش رفت کو تیز کر سکتے ہیں۔</p>
<p>مبصرین سندھ کے بی ٹو بی ماڈل کو دیگر صوبوں کے لیے بھی ایک ممکنہ نمونہ قرار دے رہے ہیں، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ وفاقی سطح پر گردشی قرضوں اور گرڈ کی رکاوٹوں کے مسائل بار بار سامنے آتے ہیں۔</p>
<p>ایک سینیئر توانائی عہدیدار نے کہا کہ جھمپیر کا یہ منصوبہ سندھ کی توانائی کے منظرنامے میں ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتا ہے، ’اپنے وسیع متبادل وسائل کے ساتھ سندھ پاکستان کی صاف توانائی کی منتقلی کی قیادت کر سکتا ہے، صنعتوں کو سستی بجلی فراہم کر کے ایسے منصوبے صنعتی ترقی اور معاشی استحکام کو دوام بخش سکتے ہیں‘۔</p>
<p>مصطفیٰ عبداللہ نے بھی اس رائے کی تائید کی اور کہا کہ یہ منصوبہ دکھائے گا کہ نجی سرمایہ کاری، بین الاقوامی گرین فنڈز اور صوبائی خودمختاری کس طرح مل کر پائیدار توانائی کے حل فراہم کر سکتے ہیں۔</p>
<p>صوبائی حکومت متبادل توانائی کے منصوبوں پر انحصار کر رہی ہے تاکہ مہنگے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، کاربن کے اخراج میں کمی لائی جا سکے اور اپنی صنعتی ترقی کو وسعت دی جا سکے، اگر کامیاب ہوا تو جھمپیر کا یہ ہائبرڈ پلانٹ نہ صرف سندھ کے پاور سیکٹر کو بدل دے گا بلکہ ملک کے باقی حصوں کے لیے بھی ایک ماڈل ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1266946</guid>
      <pubDate>Sun, 17 Aug 2025 16:10:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/08/17160850093e0a5.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/08/17160850093e0a5.jpg"/>
        <media:title>منصوبےکے ذریعے مورو پاور کمپنی نوری آباد کی صنعتوں کو براہِ راست بجلی فراہم کرے گی— فوٹو: طاپر صدیقی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی سمیت ملک بھر کیلئے بجلی سستی کرنے کی منظوری</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1266155/</link>
      <description>&lt;p&gt;نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے کراچی سمیت ملک بھر کے لیے بجلی  سستی کرنے کی منظوری دے دی،  کمی کا اطلاق لائف لائن اور پری پیڈ صارفین پر نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق  کراچی سمیت ملک بھر کے بجلی صارفین کے لیے اچھی خبر ہے کہ نیپرا  نے  سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی 1.89 روپے فی یونٹ سستی کرنے کی منظوری دے دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیپرا نے بجلی کی قیمت میں کمی کافیصلہ وفاقی حکومت کو  ارسال کردیا، جس میں کہا گیا ہے کہ  قیمت میں کمی اپریل تا جون 2025 کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں منظور کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/BKnvK-KYb8M?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے میں کہا گیا ہے کہ قیمت میں  کمی کا اطلاق کے الیکڑک سمیت تمام ڈسکوز کے صارفین پر اور  اگست تا اکتوبر 2025 کے لیے ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیپرا کے فیصلے کے مطابق  بجلی صارفین کو کمی کا 55 ارب87 کروڑ 40لاکھ روپے کا ریلیف ملے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، نیپرا  نے جون 2025 کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بھی بجلی 78 پیسے فی یونٹ سستی کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1265138"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹیفکیشن کے مطابق  جون 2025 کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں  بجلی کراچی کے سوا باقی ملک کے لیے 78 پیسے فی یونٹ سستی کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ  بجلی صارفین کو کمی کا ریلیف اگست کے بلوں میں ملے گا، جبکہ بجلی کی قیمت میں اس کمی کا اطلاق کے الیکڑک صارفین پر نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیپرا کے مطابق  بجلی کی قیمت میں کمی کا اطلاق لائف لائن اور پری پیڈ صارفین پر نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے کراچی سمیت ملک بھر کے لیے بجلی  سستی کرنے کی منظوری دے دی،  کمی کا اطلاق لائف لائن اور پری پیڈ صارفین پر نہیں ہوگا۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق  کراچی سمیت ملک بھر کے بجلی صارفین کے لیے اچھی خبر ہے کہ نیپرا  نے  سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی 1.89 روپے فی یونٹ سستی کرنے کی منظوری دے دی ہے۔</p>
<p>نیپرا نے بجلی کی قیمت میں کمی کافیصلہ وفاقی حکومت کو  ارسال کردیا، جس میں کہا گیا ہے کہ  قیمت میں کمی اپریل تا جون 2025 کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں منظور کی گئی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/BKnvK-KYb8M?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>فیصلے میں کہا گیا ہے کہ قیمت میں  کمی کا اطلاق کے الیکڑک سمیت تمام ڈسکوز کے صارفین پر اور  اگست تا اکتوبر 2025 کے لیے ہوگا۔</p>
<p>نیپرا کے فیصلے کے مطابق  بجلی صارفین کو کمی کا 55 ارب87 کروڑ 40لاکھ روپے کا ریلیف ملے گا۔</p>
<p>دریں اثنا، نیپرا  نے جون 2025 کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بھی بجلی 78 پیسے فی یونٹ سستی کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1265138"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>نوٹیفکیشن کے مطابق  جون 2025 کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں  بجلی کراچی کے سوا باقی ملک کے لیے 78 پیسے فی یونٹ سستی کی گئی ہے۔</p>
<p>نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ  بجلی صارفین کو کمی کا ریلیف اگست کے بلوں میں ملے گا، جبکہ بجلی کی قیمت میں اس کمی کا اطلاق کے الیکڑک صارفین پر نہیں ہوگا۔</p>
<p>نیپرا کے مطابق  بجلی کی قیمت میں کمی کا اطلاق لائف لائن اور پری پیڈ صارفین پر نہیں ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1266155</guid>
      <pubDate>Thu, 07 Aug 2025 17:34:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/08/071648000b44285.jpg?r=165024" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/08/071648000b44285.jpg?r=165024"/>
        <media:title>فائل فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>2034 تک بجلی 25 فیصد مہنگی ہو سکتی ہے، پاور ڈویژن کی پیشگوئی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1265809/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاور ڈویژن کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ آئندہ آٹھ برسوں میں بجلی کی قیمتوں میں اوسطاً 25 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1928625/power-division-projects-25pc-rise-in-tariff-by-2034"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق پاور ڈویژن کے حوالے سے کی گئی ایک پیشگوئی میں بتایا گیا ہے کہ آئندہ آٹھ سالوں میں بجلی کی قیمتوں میں ایک چوتھائی (25 فیصد) تک اضافہ متوقع ہے، جب کہ گزشتہ تین سالوں میں کرنسی کی شدید قدر میں کمی کے باعث بجلی کے نرخوں میں 50 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن کی جانب سے جولائی کے آخری ہفتے میں اسٹیک ہولڈرز سے شیئر کی گئی ورکنگ پیپر کے مطابق، 2034 تک بجلی کا اوسط ٹیرف 29 روپے 70 پیسے فی یونٹ تک پہنچنے کا امکان ہے، جو موجودہ 24 روپے فی یونٹ کے مقابلے میں 5 روپے 70 پیسے زیادہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا کہ گزشتہ تین برسوں میں نرخوں میں ہونے والا اضافہ بڑی حد تک روپے کی قدر میں کمی کے باعث ہوا، جس کے بعد مہنگائی کی دوسری لہر اور سخت مالیاتی پالیسی نے نرخوں میں مزید اضافہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2022 سے 2025 کے دوران اوسط پاور پرچیز ریٹ (بجلی خریدنے کی اوسط قیمت) 50 فیصد بڑھ کر 16 روپے 77 پیسے سے 24 روپے 88 پیسے فی یونٹ ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دوران سالانہ کپیسٹی چارجز میں تقریباً 115 فیصد اضافہ ہوا، جو 971 ارب روپے سے بڑھ کر تقریباً 2 کھرب 10 ارب روپے ہو گئے، حالانکہ توانائی کی ادائیگیاں 11 فیصد کم ہو کر ایک کھرب 43 ارب روپے سے ایک کھرب 27 ارب روپے ہو گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر پاور پرچیز ریٹس مالی سال 2016 میں 7 روپے 17 پیسے فی یونٹ سے  تقریباً 250 فیصد بڑھ کر مالی سال 2025 میں 24 روپے 88 پیسے فی یونٹ تک پہنچ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1264675"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دوران کپیسٹی چارجز 275 ارب روپے سے بڑھ کر 2 کھرب 10 ارب روپے ہو گئے، یعنی 660 فیصد اضافہ، جو زیادہ تر سی پیک کے تحت بڑے پاور منصوبوں کے نتیجے میں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="کرنسی-کا-اثر" href="#کرنسی-کا-اثر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;کرنسی کا اثر&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن کے مطابق مالی سال 2023 سے 2025 کے دوران ڈالر کے حساب سے اوسط بیس ٹیرف (0.12 ڈالر فی یونٹ) تقریباً تبدیل نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم روپے کی قدر میں کمی کے باعث مؤثر بیس ریٹ 25 روپے سے 44 فیصد بڑھ کر 35 روپے 50 پیسے فی یونٹ ہو گیا، کپیسٹی چارجز 11 روپے سے 66 فیصد بڑھ کر 18 روپے 4 پیسے فی یونٹ ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توانائی کی قیمت مالی سال 2023 میں 10 روپے 2 پیسے فی یونٹ سے معمولی فرق سے بڑھ کر 2025 میں 10 روپے 94 پیسے فی یونٹ ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن کے مطابق، کپیسٹی چارجز جو امریکی ڈالر میں طے ہوتے ہیں، روپے کی قدر میں کمی (تقریباً 100 سے 300 روپے فی ڈالر) کے باعث 11 روپے سے بڑھ کر 18 روپے 4 پیسے ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1263156"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایندھن کی قیمتیں نسبتاً مستحکم رہیں، کیونکہ کم لاگت والی مقامی پیداوار کی صلاحیتیں سسٹم میں شامل ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن نے تجویز دی کہ کپیسٹی چارجز کو روپے کی قدر میں کمی سے الگ کرنا اور مقامی وسائل پر انحصار بڑھانا پائیداری کے لیے نہایت اہم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، اضافی ٹیکسوں اور دیگر چارجز کی وجہ سے مجموعی نرخ مزید بڑھ جاتے ہیں، جس سے صارف پر بوجھ بڑھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تمام اصلاحاتی اقدامات کے باوجود، پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ اوسط ٹیرف اور کپیسٹی چارجز آئندہ بھی بڑھتے رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2034 میں کپیسٹی چارجز 3 کھرب 14 ارب روپے تک پہنچنے کا امکان ہے، جو 65 فیصد اضافہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="صنعتی-زوال" href="#صنعتی-زوال" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;صنعتی زوال&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ بجلی کی بلند قیمتوں نے صنعتی زوال کو جنم دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق بجلی کی قیمتوں میں اضافے نے صنعتی شعبے کو غیر مسابقتی بنا دیا، جس کے نتیجے میں فیکٹریوں کی بندش اور صنعتی سرگرمیوں میں کمی آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 34 ارب یونٹ تھی، جو مالی سال 2024 میں کم ہو کر 28 ارب یونٹ رہ گئی، جس کی بڑی وجہ قیمتوں میں اضافہ اور آف گرڈ جنریشن کی طرف منتقلی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن نے کہا کہ غیر مؤثر نرخوں کی وجہ سے قرضوں کی ادائیگی کی لاگت میں بھی اضافہ ہوا، جس نے صارفین پر مزید بوجھ ڈالا اور بجلی کی طلب کو کم کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید مشکلات اس وقت بڑھ گئیں، جب دعووں کے باوجود تکنیکی اور تجارتی نقصانات (اے ٹی سی) میں کوئی خاص بہتری نہیں آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2013 میں 18.9 فیصد سے گھٹ کر مالی سال 2024 میں صرف 18.3 فیصد تک آئے، اے ٹی سی نقصانات کا مطلب ہے پیدا شدہ اور صارف سے وصول کی گئی بجلی میں فرق۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن نے پیشگوئی کی ہے کہ آئندہ دہائی میں نرخوں میں اضافہ نسبتاً سست (25 سے 30 فیصد) ہوگا، جو گزشتہ دہائی میں 260 فیصد تھا، اس کی وجہ یہ ہے کہ 2034 تک بجلی کی پیداوار میں صاف ایندھن کا حصہ 66 فیصد تک بڑھنے کی توقع ہے، جو مالی سال 2025 میں 46 فیصد تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاور ڈویژن کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ آئندہ آٹھ برسوں میں بجلی کی قیمتوں میں اوسطاً 25 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1928625/power-division-projects-25pc-rise-in-tariff-by-2034">رپورٹ</a></strong> کے مطابق پاور ڈویژن کے حوالے سے کی گئی ایک پیشگوئی میں بتایا گیا ہے کہ آئندہ آٹھ سالوں میں بجلی کی قیمتوں میں ایک چوتھائی (25 فیصد) تک اضافہ متوقع ہے، جب کہ گزشتہ تین سالوں میں کرنسی کی شدید قدر میں کمی کے باعث بجلی کے نرخوں میں 50 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔</p>
<p>پاور ڈویژن کی جانب سے جولائی کے آخری ہفتے میں اسٹیک ہولڈرز سے شیئر کی گئی ورکنگ پیپر کے مطابق، 2034 تک بجلی کا اوسط ٹیرف 29 روپے 70 پیسے فی یونٹ تک پہنچنے کا امکان ہے، جو موجودہ 24 روپے فی یونٹ کے مقابلے میں 5 روپے 70 پیسے زیادہ ہوگا۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا کہ گزشتہ تین برسوں میں نرخوں میں ہونے والا اضافہ بڑی حد تک روپے کی قدر میں کمی کے باعث ہوا، جس کے بعد مہنگائی کی دوسری لہر اور سخت مالیاتی پالیسی نے نرخوں میں مزید اضافہ کیا۔</p>
<p>مالی سال 2022 سے 2025 کے دوران اوسط پاور پرچیز ریٹ (بجلی خریدنے کی اوسط قیمت) 50 فیصد بڑھ کر 16 روپے 77 پیسے سے 24 روپے 88 پیسے فی یونٹ ہو گئی۔</p>
<p>اس دوران سالانہ کپیسٹی چارجز میں تقریباً 115 فیصد اضافہ ہوا، جو 971 ارب روپے سے بڑھ کر تقریباً 2 کھرب 10 ارب روپے ہو گئے، حالانکہ توانائی کی ادائیگیاں 11 فیصد کم ہو کر ایک کھرب 43 ارب روپے سے ایک کھرب 27 ارب روپے ہو گئیں۔</p>
<p>مجموعی طور پر پاور پرچیز ریٹس مالی سال 2016 میں 7 روپے 17 پیسے فی یونٹ سے  تقریباً 250 فیصد بڑھ کر مالی سال 2025 میں 24 روپے 88 پیسے فی یونٹ تک پہنچ گئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1264675"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس دوران کپیسٹی چارجز 275 ارب روپے سے بڑھ کر 2 کھرب 10 ارب روپے ہو گئے، یعنی 660 فیصد اضافہ، جو زیادہ تر سی پیک کے تحت بڑے پاور منصوبوں کے نتیجے میں ہوا۔</p>
<h1><a id="کرنسی-کا-اثر" href="#کرنسی-کا-اثر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>کرنسی کا اثر</h1>
<p>پاور ڈویژن کے مطابق مالی سال 2023 سے 2025 کے دوران ڈالر کے حساب سے اوسط بیس ٹیرف (0.12 ڈالر فی یونٹ) تقریباً تبدیل نہیں ہوا۔</p>
<p>تاہم روپے کی قدر میں کمی کے باعث مؤثر بیس ریٹ 25 روپے سے 44 فیصد بڑھ کر 35 روپے 50 پیسے فی یونٹ ہو گیا، کپیسٹی چارجز 11 روپے سے 66 فیصد بڑھ کر 18 روپے 4 پیسے فی یونٹ ہو گئے۔</p>
<p>توانائی کی قیمت مالی سال 2023 میں 10 روپے 2 پیسے فی یونٹ سے معمولی فرق سے بڑھ کر 2025 میں 10 روپے 94 پیسے فی یونٹ ہوئی۔</p>
<p>پاور ڈویژن کے مطابق، کپیسٹی چارجز جو امریکی ڈالر میں طے ہوتے ہیں، روپے کی قدر میں کمی (تقریباً 100 سے 300 روپے فی ڈالر) کے باعث 11 روپے سے بڑھ کر 18 روپے 4 پیسے ہو گئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1263156"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ایندھن کی قیمتیں نسبتاً مستحکم رہیں، کیونکہ کم لاگت والی مقامی پیداوار کی صلاحیتیں سسٹم میں شامل ہوئیں۔</p>
<p>پاور ڈویژن نے تجویز دی کہ کپیسٹی چارجز کو روپے کی قدر میں کمی سے الگ کرنا اور مقامی وسائل پر انحصار بڑھانا پائیداری کے لیے نہایت اہم ہے۔</p>
<p>مزید برآں، اضافی ٹیکسوں اور دیگر چارجز کی وجہ سے مجموعی نرخ مزید بڑھ جاتے ہیں، جس سے صارف پر بوجھ بڑھتا ہے۔</p>
<p>تمام اصلاحاتی اقدامات کے باوجود، پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ اوسط ٹیرف اور کپیسٹی چارجز آئندہ بھی بڑھتے رہیں گے۔</p>
<p>2034 میں کپیسٹی چارجز 3 کھرب 14 ارب روپے تک پہنچنے کا امکان ہے، جو 65 فیصد اضافہ ہے۔</p>
<h1><a id="صنعتی-زوال" href="#صنعتی-زوال" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>صنعتی زوال</h1>
<p>پاور ڈویژن نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ بجلی کی بلند قیمتوں نے صنعتی زوال کو جنم دیا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق بجلی کی قیمتوں میں اضافے نے صنعتی شعبے کو غیر مسابقتی بنا دیا، جس کے نتیجے میں فیکٹریوں کی بندش اور صنعتی سرگرمیوں میں کمی آئی۔</p>
<p>مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 34 ارب یونٹ تھی، جو مالی سال 2024 میں کم ہو کر 28 ارب یونٹ رہ گئی، جس کی بڑی وجہ قیمتوں میں اضافہ اور آف گرڈ جنریشن کی طرف منتقلی ہے۔</p>
<p>پاور ڈویژن نے کہا کہ غیر مؤثر نرخوں کی وجہ سے قرضوں کی ادائیگی کی لاگت میں بھی اضافہ ہوا، جس نے صارفین پر مزید بوجھ ڈالا اور بجلی کی طلب کو کم کیا۔</p>
<p>مزید مشکلات اس وقت بڑھ گئیں، جب دعووں کے باوجود تکنیکی اور تجارتی نقصانات (اے ٹی سی) میں کوئی خاص بہتری نہیں آئی۔</p>
<p>مالی سال 2013 میں 18.9 فیصد سے گھٹ کر مالی سال 2024 میں صرف 18.3 فیصد تک آئے، اے ٹی سی نقصانات کا مطلب ہے پیدا شدہ اور صارف سے وصول کی گئی بجلی میں فرق۔</p>
<p>پاور ڈویژن نے پیشگوئی کی ہے کہ آئندہ دہائی میں نرخوں میں اضافہ نسبتاً سست (25 سے 30 فیصد) ہوگا، جو گزشتہ دہائی میں 260 فیصد تھا، اس کی وجہ یہ ہے کہ 2034 تک بجلی کی پیداوار میں صاف ایندھن کا حصہ 66 فیصد تک بڑھنے کی توقع ہے، جو مالی سال 2025 میں 46 فیصد تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1265809</guid>
      <pubDate>Mon, 04 Aug 2025 12:47:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خلیق کیانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/08/0410423950a136a.jpg?r=124754" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/08/0410423950a136a.jpg?r=124754"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: شٹر اسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی سمیت ملک بھر کیلئے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں بجلی سستی ہونے کا امکان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1265138/</link>
      <description>&lt;p&gt;کیپسٹی چارجز میں کمی کے بعد بجلی کی قیمتوں میں مزید کمی کی راہ ہموار ہوگئی، ملک بھر کے لیے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں بجلی سستی ہونے کا امکان ہے، بجلی تقسیم کار کمپنیوں نے بجلی صارفین کو 53 ارب 39 کروڑ 30 لاکھ روپے کے ریلیف کے لیے درخواست نیپرا میں دائر کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجلی کی تقسیم کارکمپنیوں نے بجلی سستی کرنے کے لیے نیپرا سے رجوع کرتے ہوئے صارفین کو 53 ارب 39 کروڑ 30 لاکھ روپے کا ریلیف دینے کے لیے درخواست دائر کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست گزشتہ مالی سال کی آخری سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں جمع کرائی گئی ہے، نیپرا کی جانب سے ڈسکوز کی درخواست پر 4 اگست کو سماعت کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈسکوز کی جانب سے ارسال کردہ درخواست میں کیپیسٹی چارجز کی مد میں 53 ارب 71 کروڑ 40 لاکھ روپےکی کمی مانگی گئی ہے جبکہ ٹرانسمیشن اینڈڈسٹری بیوشن نقصانات کی مد میں 66 کروڑ 20 لاکھ روپے اور آپریشنز اینڈ میٹیننس کی مد میں 18 کروڑ 20 لاکھ روپے وصول کرنے کی درخواست کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست کے مطابق اپریل تا جون 2025 کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کا اطلاق کے الیکٹرک پر بھی ہوگا، گزشتہ مالی سال کی تیسری سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں بجلی 1.55 فی یونٹ سستی کی گئی تھی، تیسری سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں کمی کا اطلاق مئی سے جولائی 2025 کے لیے کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کیپسٹی چارجز میں کمی کے بعد بجلی کی قیمتوں میں مزید کمی کی راہ ہموار ہوگئی، ملک بھر کے لیے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں بجلی سستی ہونے کا امکان ہے، بجلی تقسیم کار کمپنیوں نے بجلی صارفین کو 53 ارب 39 کروڑ 30 لاکھ روپے کے ریلیف کے لیے درخواست نیپرا میں دائر کردی۔</p>
<p>بجلی کی تقسیم کارکمپنیوں نے بجلی سستی کرنے کے لیے نیپرا سے رجوع کرتے ہوئے صارفین کو 53 ارب 39 کروڑ 30 لاکھ روپے کا ریلیف دینے کے لیے درخواست دائر کردی۔</p>
<p>درخواست گزشتہ مالی سال کی آخری سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں جمع کرائی گئی ہے، نیپرا کی جانب سے ڈسکوز کی درخواست پر 4 اگست کو سماعت کی جائے گی۔</p>
<p>ڈسکوز کی جانب سے ارسال کردہ درخواست میں کیپیسٹی چارجز کی مد میں 53 ارب 71 کروڑ 40 لاکھ روپےکی کمی مانگی گئی ہے جبکہ ٹرانسمیشن اینڈڈسٹری بیوشن نقصانات کی مد میں 66 کروڑ 20 لاکھ روپے اور آپریشنز اینڈ میٹیننس کی مد میں 18 کروڑ 20 لاکھ روپے وصول کرنے کی درخواست کی ہے۔</p>
<p>درخواست کے مطابق اپریل تا جون 2025 کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کا اطلاق کے الیکٹرک پر بھی ہوگا، گزشتہ مالی سال کی تیسری سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں بجلی 1.55 فی یونٹ سستی کی گئی تھی، تیسری سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں کمی کا اطلاق مئی سے جولائی 2025 کے لیے کیا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1265138</guid>
      <pubDate>Tue, 29 Jul 2025 14:51:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر شیرانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/07/291127053f2df92.jpg?r=112841" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/07/291127053f2df92.jpg?r=112841"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت کا 2 ماہ میں پہلی فری انرجی مارکیٹ پالیسی نافذ کرنے کا اعلان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1264801/</link>
      <description>&lt;p&gt;وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ’فری انرجی مارکیٹ پالیسی‘  آئندہ دو ماہ میں اپنے حتمی نفاذ کے مرحلے میں داخل ہو جائے گی، جس کے بعد حکومت کی جانب سے بجلی کی خریداری کا سلسلہ مستقل طور پر ختم ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا کہ یہ بات وزیر توانائی نے عالمی بینک کے ایک اعلیٰ سطح کے وفد سے ملاقات کے دوران کہی، جس کی قیادت عالمی بینک کے ریجنل نائب صدر برائے مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان، عثمان ڈیون کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر توانائی نے بتایا کہ مسابقتی تجارتی دو طرفہ کنٹریکٹ مارکیٹ&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.nepra.org.pk/ctbcm.php"&gt;&lt;strong&gt;(سی ٹی بی سی ایم)&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے تحت مارکیٹ میں بجلی کی آزادانہ تجارت ممکن ہو سکے گی،  اس ماڈل کے تحت ’وِیلنگ چارجز‘ اور دیگر میکانزم متعارف کرائے جا رہے ہیں اور حکومت کا کردار صرف ریگولیٹری فریم ورک تک محدود کر دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے واضح کیا کہ یہ منتقلی بتدریج اور ایک جامع حکمت عملی کے تحت کی جائے گی تاکہ نظام میں استحکام قائم رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کے دوران سردار اویس لغاری نے عالمی بینک کے وفد کو حکومت کی توانائی اصلاحات، نیٹ میٹرنگ پالیسی، نجکاری، ریگولیٹری بہتری اور سرمایہ کاری کے مواقع سے متعلق تفصیلی بتایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1258335"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پالیسی کا جھکاؤ واضح طور پر نجی شعبے کے فروغ اور شفافیت کی جانب ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ بین الاقوامی سرمایہ کار اس میں شراکت دار بنیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے کے مطابق اس موقع پر عثمان ڈیون نے پاکستان میں توانائی کے شعبے میں ہونے والی اصلاحات کو سراہا اور اس امر پر زور دیا کہ توانائی ترقی کی بنیاد ہے اور کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے توانائی کا شعبہ بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے، اسی لیے عالمی بینک اس شعبے میں پاکستان کی حمایت جاری رکھے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ عالمی بینک حکومتِ پاکستان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے تاکہ پائیدار، قابل اعتماد اور سرمایہ کاری کے لیے موزوں توانائی نظام کو فروغ دیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے عالمی بینک کے وفد کو شعبے میں جاری ریفارمز پر مبنی ایک جامع کتابچہ بھی پیش کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ موجودہ شراکت داری مستقبل میں مزید مضبوط ہو گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ’فری انرجی مارکیٹ پالیسی‘  آئندہ دو ماہ میں اپنے حتمی نفاذ کے مرحلے میں داخل ہو جائے گی، جس کے بعد حکومت کی جانب سے بجلی کی خریداری کا سلسلہ مستقل طور پر ختم ہو جائے گا۔</p>
<p>پاور ڈویژن کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا کہ یہ بات وزیر توانائی نے عالمی بینک کے ایک اعلیٰ سطح کے وفد سے ملاقات کے دوران کہی، جس کی قیادت عالمی بینک کے ریجنل نائب صدر برائے مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان، عثمان ڈیون کر رہے تھے۔</p>
<p>وفاقی وزیر توانائی نے بتایا کہ مسابقتی تجارتی دو طرفہ کنٹریکٹ مارکیٹ<a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.nepra.org.pk/ctbcm.php"><strong>(سی ٹی بی سی ایم)</strong></a> کے تحت مارکیٹ میں بجلی کی آزادانہ تجارت ممکن ہو سکے گی،  اس ماڈل کے تحت ’وِیلنگ چارجز‘ اور دیگر میکانزم متعارف کرائے جا رہے ہیں اور حکومت کا کردار صرف ریگولیٹری فریم ورک تک محدود کر دیا جائے گا۔</p>
<p>انہوں نے واضح کیا کہ یہ منتقلی بتدریج اور ایک جامع حکمت عملی کے تحت کی جائے گی تاکہ نظام میں استحکام قائم رہے۔</p>
<p>ملاقات کے دوران سردار اویس لغاری نے عالمی بینک کے وفد کو حکومت کی توانائی اصلاحات، نیٹ میٹرنگ پالیسی، نجکاری، ریگولیٹری بہتری اور سرمایہ کاری کے مواقع سے متعلق تفصیلی بتایا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1258335"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پالیسی کا جھکاؤ واضح طور پر نجی شعبے کے فروغ اور شفافیت کی جانب ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ بین الاقوامی سرمایہ کار اس میں شراکت دار بنیں۔</p>
<p>اعلامیے کے مطابق اس موقع پر عثمان ڈیون نے پاکستان میں توانائی کے شعبے میں ہونے والی اصلاحات کو سراہا اور اس امر پر زور دیا کہ توانائی ترقی کی بنیاد ہے اور کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے توانائی کا شعبہ بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے، اسی لیے عالمی بینک اس شعبے میں پاکستان کی حمایت جاری رکھے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ عالمی بینک حکومتِ پاکستان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے تاکہ پائیدار، قابل اعتماد اور سرمایہ کاری کے لیے موزوں توانائی نظام کو فروغ دیا جا سکے۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے عالمی بینک کے وفد کو شعبے میں جاری ریفارمز پر مبنی ایک جامع کتابچہ بھی پیش کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ موجودہ شراکت داری مستقبل میں مزید مضبوط ہو گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1264801</guid>
      <pubDate>Thu, 24 Jul 2025 18:43:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر شیرانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/07/24175740bc3ffec.jpg?r=175837" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/07/24175740bc3ffec.jpg?r=175837"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے بڑھتی لاگت اور لوڈشیڈنگ پر پاور ڈویژن کو آڑے ہاتھوں لے لیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1264675/</link>
      <description>&lt;p&gt;پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے منگل کے روز وزارت توانائی سے متعلق آڈٹ اعتراضات کا تفصیلی جائزہ لیا جس میں انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز)، بڑھتی ہوئی بجلی کی قیمتوں، نامکمل ترقیاتی اسکیموں اور حد سے زیادہ لوڈشیڈنگ پر توجہ مرکوز کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1925925/pac-slams-power-division-over-soaring-costs-loadshedding"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے- جی) کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ آئی پی پیز کی انسٹالڈ کیپیسٹی 2015 میں 9 ہزار 765 میگاواٹ سے بڑھ کر 2024 میں 25 ہزار 642 میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ سالانہ کپیسٹی پرچیز پرائس 2015 میں 141 ارب روپے سے بڑھ کر 2024 میں ایک ہزار 400 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے، اس کے برعکس، بجلی کی پیداوار 2014 میں 90 ارب کلو واٹ گھنٹے سے کم ہو کر 2015 میں 58 ارب کلو واٹ گھنٹے رہ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رکن قومی اسمبلی (ایم این اے) جنید اکبر خان کی زیر صدارت اجلاس میں کمیٹی نے ان اضافوں کی منطق پر سوال اٹھایا، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے نوید قمر نے کوئلے کی قیمتوں میں اضافے کو بجلی ڈویژن کی طرف سے جواز بنانے پر اعتراض کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1264425"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنید اکبر نے گنے کے بگاس سے 200 فیصد تک بجلی پیدا کرنے کی کارکردگی کے دعوے پر حیرت کا اظہار کیا، جس پر سی پی پی اے -جی کے حکام نے وضاحت کی کہ اصل پیداوار ان کے 45 فیصد تخمینہ سے بڑھ گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے بعض پاور پلانٹس میں ناقص کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے، ریاض فتیانہ نے بھکی پاور پلانٹ پر اسٹاف پوزیشنز بند ہونے کے باوجود تنخواہوں کی ادائیگی پر اعتراض کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سوال کیا کہ ساہیوال میں کوئلے سے چلنے والا پلانٹ کیوں لگایا گیا، جب کہ وہاں کوئلہ دستیاب ہی نہیں اور کالا باغ ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کو بہتر متبادل قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹر محسن عزیز نے ان پلانٹس کی اصل لاگت کے بارے میں پوچھا، جب کہ جنید اکبر نے سوال اٹھایا کہ اضافی بجلی کو صنعتی اور زرعی شعبوں کو کیوں نہیں فراہم کیا جا رہا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور اہم مسئلہ بجلی کے بلنگ سسٹم کا تھا، کمیٹی نے ان صارفین پر مالی بوجھ پر بات کی جن کی بجلی استعمال 200 یونٹس سے کچھ زیادہ ہو جاتی ہے، جنید اکبر نے کہا کہ اگر صرف ایک بار 200 یونٹس سے زیادہ استعمال کرلے تو صارف کو اگلے 6 ماہ تک زیادہ بل ادا کرنا پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور سیکریٹری ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان نے تصدیق کی کہ 58 فیصد صارفین اس کیٹیگری میں آتے ہیں اور تسلیم کیا کہ اگر حد بڑھائی گئی تو سبسڈی کی ضرورت بڑھے گی، انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے ڈیٹا کی مدد سے براہ راست سبسڈی ماڈل پر منتقل ہونے پر کام کر رہی ہے، اور موجودہ نظام کو 2027 تک ختم کر دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم این اے شازیہ مری نے اپنے حلقے میں 15 سے 16 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ پر پاور ڈویژن کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور شفافیت کی کمی اور ناقص انتظام پر سوال اٹھایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر عرفان نے ان نقصانات کو تکنیکی مسائل کا نتیجہ قرار دیا اور کہا کہ پالیسی فیصلے آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت کیے جاتے ہیں، جن کے لیے پہلے سے منظوری لینا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی اے سی نے آئی پی پیز سے متعلق معاملات کو ایک ذیلی کمیٹی کے سپرد کر دیا اور ایک خصوصی آڈٹ کا حکم دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور اجلاس میں کمیٹی نے نامکمل بجلی اسکیموں پر شکایات کا جائزہ لیا، ایم این اے ثنا اللہ خان مستی خیل نے انکشاف کیا کہ 2021 میں فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) کو ان کے حلقے کے لیے نئی اسکیم کے لیے 31 کروڑ روپے جاری کیے گئے، مگر کام مکمل نہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم این اے عامر ڈوگر اور خواجہ شیراز محمود نے ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو) میں اسکیموں کی تعداد میں تضاد کی نشاندہی کی اور سچ سامنے لانے کے لیے خصوصی آڈٹ کا مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواجہ شیراز نے کہا کہ یہ ایک بے رحم نظام ہے، انہوں نے اہلکاروں پر ٹرانسفارمر چوری کو فروغ دینے اور نظام میں ردوبدل کا الزام بھی لگایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ پاور سیکٹر ہی ملک کو تباہ کرنے کے لیے کافی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے منگل کے روز وزارت توانائی سے متعلق آڈٹ اعتراضات کا تفصیلی جائزہ لیا جس میں انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز)، بڑھتی ہوئی بجلی کی قیمتوں، نامکمل ترقیاتی اسکیموں اور حد سے زیادہ لوڈشیڈنگ پر توجہ مرکوز کی گئی۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1925925/pac-slams-power-division-over-soaring-costs-loadshedding"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے- جی) کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ آئی پی پیز کی انسٹالڈ کیپیسٹی 2015 میں 9 ہزار 765 میگاواٹ سے بڑھ کر 2024 میں 25 ہزار 642 میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ سالانہ کپیسٹی پرچیز پرائس 2015 میں 141 ارب روپے سے بڑھ کر 2024 میں ایک ہزار 400 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے، اس کے برعکس، بجلی کی پیداوار 2014 میں 90 ارب کلو واٹ گھنٹے سے کم ہو کر 2015 میں 58 ارب کلو واٹ گھنٹے رہ گئی۔</p>
<p>رکن قومی اسمبلی (ایم این اے) جنید اکبر خان کی زیر صدارت اجلاس میں کمیٹی نے ان اضافوں کی منطق پر سوال اٹھایا، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے نوید قمر نے کوئلے کی قیمتوں میں اضافے کو بجلی ڈویژن کی طرف سے جواز بنانے پر اعتراض کیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1264425"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>جنید اکبر نے گنے کے بگاس سے 200 فیصد تک بجلی پیدا کرنے کی کارکردگی کے دعوے پر حیرت کا اظہار کیا، جس پر سی پی پی اے -جی کے حکام نے وضاحت کی کہ اصل پیداوار ان کے 45 فیصد تخمینہ سے بڑھ گئی تھی۔</p>
<p>کمیٹی نے بعض پاور پلانٹس میں ناقص کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے، ریاض فتیانہ نے بھکی پاور پلانٹ پر اسٹاف پوزیشنز بند ہونے کے باوجود تنخواہوں کی ادائیگی پر اعتراض کیا۔</p>
<p>انہوں نے سوال کیا کہ ساہیوال میں کوئلے سے چلنے والا پلانٹ کیوں لگایا گیا، جب کہ وہاں کوئلہ دستیاب ہی نہیں اور کالا باغ ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کو بہتر متبادل قرار دیا۔</p>
<p>سینیٹر محسن عزیز نے ان پلانٹس کی اصل لاگت کے بارے میں پوچھا، جب کہ جنید اکبر نے سوال اٹھایا کہ اضافی بجلی کو صنعتی اور زرعی شعبوں کو کیوں نہیں فراہم کیا جا رہا؟</p>
<p>ایک اور اہم مسئلہ بجلی کے بلنگ سسٹم کا تھا، کمیٹی نے ان صارفین پر مالی بوجھ پر بات کی جن کی بجلی استعمال 200 یونٹس سے کچھ زیادہ ہو جاتی ہے، جنید اکبر نے کہا کہ اگر صرف ایک بار 200 یونٹس سے زیادہ استعمال کرلے تو صارف کو اگلے 6 ماہ تک زیادہ بل ادا کرنا پڑتا ہے۔</p>
<p>پاور سیکریٹری ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان نے تصدیق کی کہ 58 فیصد صارفین اس کیٹیگری میں آتے ہیں اور تسلیم کیا کہ اگر حد بڑھائی گئی تو سبسڈی کی ضرورت بڑھے گی، انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے ڈیٹا کی مدد سے براہ راست سبسڈی ماڈل پر منتقل ہونے پر کام کر رہی ہے، اور موجودہ نظام کو 2027 تک ختم کر دیا جائے گا۔</p>
<p>ایم این اے شازیہ مری نے اپنے حلقے میں 15 سے 16 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ پر پاور ڈویژن کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور شفافیت کی کمی اور ناقص انتظام پر سوال اٹھایا۔</p>
<p>ڈاکٹر عرفان نے ان نقصانات کو تکنیکی مسائل کا نتیجہ قرار دیا اور کہا کہ پالیسی فیصلے آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت کیے جاتے ہیں، جن کے لیے پہلے سے منظوری لینا ضروری ہے۔</p>
<p>پی اے سی نے آئی پی پیز سے متعلق معاملات کو ایک ذیلی کمیٹی کے سپرد کر دیا اور ایک خصوصی آڈٹ کا حکم دیا۔</p>
<p>ایک اور اجلاس میں کمیٹی نے نامکمل بجلی اسکیموں پر شکایات کا جائزہ لیا، ایم این اے ثنا اللہ خان مستی خیل نے انکشاف کیا کہ 2021 میں فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) کو ان کے حلقے کے لیے نئی اسکیم کے لیے 31 کروڑ روپے جاری کیے گئے، مگر کام مکمل نہ ہوا۔</p>
<p>ایم این اے عامر ڈوگر اور خواجہ شیراز محمود نے ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو) میں اسکیموں کی تعداد میں تضاد کی نشاندہی کی اور سچ سامنے لانے کے لیے خصوصی آڈٹ کا مطالبہ کیا۔</p>
<p>خواجہ شیراز نے کہا کہ یہ ایک بے رحم نظام ہے، انہوں نے اہلکاروں پر ٹرانسفارمر چوری کو فروغ دینے اور نظام میں ردوبدل کا الزام بھی لگایا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ پاور سیکٹر ہی ملک کو تباہ کرنے کے لیے کافی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1264675</guid>
      <pubDate>Wed, 23 Jul 2025 11:15:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (جمال شاہد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/07/2309230128aa15e.png?r=111559" type="image/png" medium="image" height="174" width="290">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/07/2309230128aa15e.png?r=111559"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیراعظم نے ایک بار پھر نیٹ میٹرنگ پالیسی پر نظرثانی کا عمل رکوادیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1264534/</link>
      <description>&lt;p&gt;وزیر اعظم شہباز شریف نے تیسری مرتبہ نیٹ میٹرنگ پالیسی کے خلاف سرکاری مہم کو روکنے کی ہدایت جاری کی ہے، حتیٰ کہ اس حوالے سے قیمت خرید میں رد و بدل کی کوئی رسمی سمری ان کے دفتر تک پہنچنے سے پہلے ہی اس مہم کو منجمد کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1925577/pm-blocks-review-of-net-metering-policy-again"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق پاور ڈویژن کے ایک سینئر افسر نے ڈان کو بتایا ہے کہ ’ہمیں وزیر اعظم آفس کی جانب سے نیٹ میٹرنگ کے خلاف مہم روکنے کی ہدایت دی گئی ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ پاور ڈویژن نے وزارت اطلاعات و نشریات کے ذریعے ایک بیانیہ تشکیل دینا تھا جس کے بعد کابینہ میں سمری پیش کی جانی تھی، لیکن ’ہمیں تیسری بار پیچھے ہٹنے کا کہا گیا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افسر کے مطابق اگرچہ ایسی مہمات نے نیٹ میٹرنگ کے ذریعے سولر سسٹمز کے پھیلاؤ کو سست کر دیا ہے، لیکن اس کے برعکس ہائبرڈ سولر سسٹمز کی غیر مربوط توسیع تیزی سے بڑھی ہے، جو قومی گرڈ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا رہی ہے بلکہ دن کے اوقات میں بجلی کی طلب میں کمی لا کر اضافی صلاحیت کے مسئلے کو مزید گھمبیر بنارہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے نیٹ میٹرنگ کے لیے بجلی کی قیمت خرید میں تبدیلی کی منظوری دی تھی، تاہم وفاقی کابینہ نے اسے مسترد کر دیا، یہ فیصلہ سول سوسائٹی اور بجلی پیدا کرنے والے صارفین کی جانب سے شدید تنقید کے بعد کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1263838"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;10 جولائی کو وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے اعلان کیا تھا کہ وہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد ایک نظرثانی شدہ منصوبہ کابینہ کے سامنے رکھیں گے، جس کے تحت نیٹ میٹرنگ میں سرمایہ کاری کی وصولی کا دورانیہ ڈیڑھ سال سے بڑھا کر 2 سے 3 سال کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اگر اقدامات نہ کیے گئے تو سولر سسٹمز کا پھیلاؤ قومی گرڈ میں اضافی بجلی کی موجودگی کے مسئلے کو مزید بڑھا دے گا، انہوں نے کہا کہ اضافی بجلی کی فروخت اور نیٹ میٹرنگ کے پھیلاؤ کو محدود کرنے سے گرڈ میں استحکام آسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے واضح کیا کہ صارفین نے نیٹ میٹرنگ حکومت کی پالیسی کے تحت اپنائی ہے، اس لیے انہیں سزا نہیں دی جائے گی لیکن موجودہ صورت میں صارفین سے خریدی گئی بجلی کی قیمت ’غیر منصفانہ‘ ہو چکی ہے، اگر اصلاح نہ کی گئی تو مستقبل میں نیٹ میٹرنگ والے صارفین بھی اربوں روپے کے بجلی کے بل ادا کرنے پر مجبور ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن نے وزیر اعظم اور کابینہ کے لیے ایک سمری تیار کی تھی جس میں تجویز دی گئی تھی کہ نیٹ میٹرنگ کے تحت خریدی گئی بجلی کا موجودہ فی یونٹ نرخ 27 روپے سے کم کر کے 11.30 روپے کر دیا جائے، جو کہ موجودہ آئی پی پیز کی اوسط سولر جنریشن ٹیرف کے مطابق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ کہ بلنگ اور سیٹلمنٹ کا نیا نظام اور نیٹ میٹرنگ کے نئے ضوابط بھی تجویز کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن کے مطابق فی یونٹ 27 روپے کی موجودہ قیمت خرید ’ناقابل برداشت اور غیر پائیدار‘ ہے، حالانکہ بجلی تقسیم کار کمپنیاں، بشمول کے-الیکٹرک، اکثر صارفین کو بروقت ادائیگی نہیں کرتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عملی طور پر نیٹ میٹرنگ صارفین کو اپنے بھاری بھرکم بلوں کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے، لیکن یہ قومی گرڈ کی دن کے وقت کی طلب کو بھی کم کرتی ہے، جس سے اضافی بجلی کی پیداوار ایک مسئلہ بن جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1255024"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجلی کی ناقابل برداشت اور مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ہزاروں صنعتی اور متوسط طبقے کے رہائشی صارفین کو مجبور کیا ہے کہ وہ نیٹ میٹرنگ اختیار کریں تاکہ اپنے بجلی کے اخراجات پر قابو پا سکیں، کیونکہ حکومتیں اور بجلی کمپنیاں بجلی کی فراہمی میں بہتری لانے میں ناکام رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن نے پہلے تجویز دی تھی کہ موجودہ نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیے نرخوں میں کوئی تبدیلی نہ کی جائے، لیکن نئے آنے والے صارفین کے لیے کم نرخ اور سینکشنڈ لوڈ کے مطابق مقررہ چارجز نافذ کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بھی تجویز کیا گیا کہ نیپرا موجودہ قیمت خرید اور سیٹلمنٹ طریقہ کار کو ’معقول‘ بنائے، کیونکہ اس نے ماضی میں نیٹ میٹرنگ کی قیمت خرید کو 9-10 روپے سے بڑھا کر پہلے 19 روپے اور پھر 27 روپے فی یونٹ کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری تخمینوں کے مطابق ملک بھر میں رہائشی، تجارتی اور صنعتی سطح پر تقریباً 3 لاکھ 25 ہزار نیٹ میٹرنگ کنیکشنز موجود ہیں، جن کی مجموعی تنصیب شدہ صلاحیت تقریباً 6500 میگاواٹ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن اور ڈسکوز کا کہنا ہے کہ تقریباً اتنے ہی یا اس سے زیادہ سسٹمز زیرِ تکمیل ہیں، تاہم یہ تخمینے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے سولر پینل امپورٹ ڈیٹا پر مبنی ہیں، جنہیں ایف بی آر کی طرف سے رپورٹ کردہ تجارتی بنیادوں پر منی لانڈرنگ کیسز کی بنیاد پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے چیلنج کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق نیٹ میٹرنگ کے سب سے زیادہ کنکشنز لاہور میں ہیں (تقریباً 25 فیصد)، اس کے بعد راولپنڈی میں 11 فیصد، کراچی میں 8.5 فیصد، ملتان اور اسلام آباد میں 7.5 فیصد، فیصل آباد میں 5 فیصد اور پشاور، بہاولپور، سیالکوٹ اور گوجرانوالہ میں تقریباً 3.7 فیصد ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے علاوہ پنجاب اور سندھ کی صوبائی حکومتوں کی جانب سے سبسڈی والے سولر کنیکشن بھی عوام کو فراہم کیے جا رہے ہیں، جن کی لاگت ٹیکس دہندگان اٹھا رہے ہیں، جب کہ آف گرڈ اور ہائبرڈ سسٹمز بھی الگ سے لگائے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وزیر اعظم شہباز شریف نے تیسری مرتبہ نیٹ میٹرنگ پالیسی کے خلاف سرکاری مہم کو روکنے کی ہدایت جاری کی ہے، حتیٰ کہ اس حوالے سے قیمت خرید میں رد و بدل کی کوئی رسمی سمری ان کے دفتر تک پہنچنے سے پہلے ہی اس مہم کو منجمد کر دیا گیا۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1925577/pm-blocks-review-of-net-metering-policy-again"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق پاور ڈویژن کے ایک سینئر افسر نے ڈان کو بتایا ہے کہ ’ہمیں وزیر اعظم آفس کی جانب سے نیٹ میٹرنگ کے خلاف مہم روکنے کی ہدایت دی گئی ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ پاور ڈویژن نے وزارت اطلاعات و نشریات کے ذریعے ایک بیانیہ تشکیل دینا تھا جس کے بعد کابینہ میں سمری پیش کی جانی تھی، لیکن ’ہمیں تیسری بار پیچھے ہٹنے کا کہا گیا ہے‘۔</p>
<p>افسر کے مطابق اگرچہ ایسی مہمات نے نیٹ میٹرنگ کے ذریعے سولر سسٹمز کے پھیلاؤ کو سست کر دیا ہے، لیکن اس کے برعکس ہائبرڈ سولر سسٹمز کی غیر مربوط توسیع تیزی سے بڑھی ہے، جو قومی گرڈ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا رہی ہے بلکہ دن کے اوقات میں بجلی کی طلب میں کمی لا کر اضافی صلاحیت کے مسئلے کو مزید گھمبیر بنارہی ہے۔</p>
<p>اس سے قبل کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے نیٹ میٹرنگ کے لیے بجلی کی قیمت خرید میں تبدیلی کی منظوری دی تھی، تاہم وفاقی کابینہ نے اسے مسترد کر دیا، یہ فیصلہ سول سوسائٹی اور بجلی پیدا کرنے والے صارفین کی جانب سے شدید تنقید کے بعد کیا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1263838"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>10 جولائی کو وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے اعلان کیا تھا کہ وہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد ایک نظرثانی شدہ منصوبہ کابینہ کے سامنے رکھیں گے، جس کے تحت نیٹ میٹرنگ میں سرمایہ کاری کی وصولی کا دورانیہ ڈیڑھ سال سے بڑھا کر 2 سے 3 سال کیا جائے گا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ اگر اقدامات نہ کیے گئے تو سولر سسٹمز کا پھیلاؤ قومی گرڈ میں اضافی بجلی کی موجودگی کے مسئلے کو مزید بڑھا دے گا، انہوں نے کہا کہ اضافی بجلی کی فروخت اور نیٹ میٹرنگ کے پھیلاؤ کو محدود کرنے سے گرڈ میں استحکام آسکتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے واضح کیا کہ صارفین نے نیٹ میٹرنگ حکومت کی پالیسی کے تحت اپنائی ہے، اس لیے انہیں سزا نہیں دی جائے گی لیکن موجودہ صورت میں صارفین سے خریدی گئی بجلی کی قیمت ’غیر منصفانہ‘ ہو چکی ہے، اگر اصلاح نہ کی گئی تو مستقبل میں نیٹ میٹرنگ والے صارفین بھی اربوں روپے کے بجلی کے بل ادا کرنے پر مجبور ہوں گے۔</p>
<p>پاور ڈویژن نے وزیر اعظم اور کابینہ کے لیے ایک سمری تیار کی تھی جس میں تجویز دی گئی تھی کہ نیٹ میٹرنگ کے تحت خریدی گئی بجلی کا موجودہ فی یونٹ نرخ 27 روپے سے کم کر کے 11.30 روپے کر دیا جائے، جو کہ موجودہ آئی پی پیز کی اوسط سولر جنریشن ٹیرف کے مطابق ہے۔</p>
<p>مزید یہ کہ بلنگ اور سیٹلمنٹ کا نیا نظام اور نیٹ میٹرنگ کے نئے ضوابط بھی تجویز کیے گئے تھے۔</p>
<p>پاور ڈویژن کے مطابق فی یونٹ 27 روپے کی موجودہ قیمت خرید ’ناقابل برداشت اور غیر پائیدار‘ ہے، حالانکہ بجلی تقسیم کار کمپنیاں، بشمول کے-الیکٹرک، اکثر صارفین کو بروقت ادائیگی نہیں کرتیں۔</p>
<p>عملی طور پر نیٹ میٹرنگ صارفین کو اپنے بھاری بھرکم بلوں کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے، لیکن یہ قومی گرڈ کی دن کے وقت کی طلب کو بھی کم کرتی ہے، جس سے اضافی بجلی کی پیداوار ایک مسئلہ بن جاتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1255024"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بجلی کی ناقابل برداشت اور مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ہزاروں صنعتی اور متوسط طبقے کے رہائشی صارفین کو مجبور کیا ہے کہ وہ نیٹ میٹرنگ اختیار کریں تاکہ اپنے بجلی کے اخراجات پر قابو پا سکیں، کیونکہ حکومتیں اور بجلی کمپنیاں بجلی کی فراہمی میں بہتری لانے میں ناکام رہیں۔</p>
<p>پاور ڈویژن نے پہلے تجویز دی تھی کہ موجودہ نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیے نرخوں میں کوئی تبدیلی نہ کی جائے، لیکن نئے آنے والے صارفین کے لیے کم نرخ اور سینکشنڈ لوڈ کے مطابق مقررہ چارجز نافذ کیے جائیں۔</p>
<p>یہ بھی تجویز کیا گیا کہ نیپرا موجودہ قیمت خرید اور سیٹلمنٹ طریقہ کار کو ’معقول‘ بنائے، کیونکہ اس نے ماضی میں نیٹ میٹرنگ کی قیمت خرید کو 9-10 روپے سے بڑھا کر پہلے 19 روپے اور پھر 27 روپے فی یونٹ کر دیا تھا۔</p>
<p>سرکاری تخمینوں کے مطابق ملک بھر میں رہائشی، تجارتی اور صنعتی سطح پر تقریباً 3 لاکھ 25 ہزار نیٹ میٹرنگ کنیکشنز موجود ہیں، جن کی مجموعی تنصیب شدہ صلاحیت تقریباً 6500 میگاواٹ ہے۔</p>
<p>پاور ڈویژن اور ڈسکوز کا کہنا ہے کہ تقریباً اتنے ہی یا اس سے زیادہ سسٹمز زیرِ تکمیل ہیں، تاہم یہ تخمینے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے سولر پینل امپورٹ ڈیٹا پر مبنی ہیں، جنہیں ایف بی آر کی طرف سے رپورٹ کردہ تجارتی بنیادوں پر منی لانڈرنگ کیسز کی بنیاد پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے چیلنج کیا ہے۔</p>
<p>رپورٹس کے مطابق نیٹ میٹرنگ کے سب سے زیادہ کنکشنز لاہور میں ہیں (تقریباً 25 فیصد)، اس کے بعد راولپنڈی میں 11 فیصد، کراچی میں 8.5 فیصد، ملتان اور اسلام آباد میں 7.5 فیصد، فیصل آباد میں 5 فیصد اور پشاور، بہاولپور، سیالکوٹ اور گوجرانوالہ میں تقریباً 3.7 فیصد ہیں۔</p>
<p>ان کے علاوہ پنجاب اور سندھ کی صوبائی حکومتوں کی جانب سے سبسڈی والے سولر کنیکشن بھی عوام کو فراہم کیے جا رہے ہیں، جن کی لاگت ٹیکس دہندگان اٹھا رہے ہیں، جب کہ آف گرڈ اور ہائبرڈ سسٹمز بھی الگ سے لگائے جا رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1264534</guid>
      <pubDate>Mon, 21 Jul 2025 12:16:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خلیق کیانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/07/211058091b30381.gif?r=110210" type="image/gif" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/07/211058091b30381.gif?r=110210"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: وائٹ اسٹار
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کے الیکٹرک صارفین مسلسل چھٹی بار ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کے مکمل فائدے سے محروم</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1263763/</link>
      <description>&lt;p&gt;نیپرا نے کے الیکٹرک صارفین کو مسلسل چھٹی بار ماہانہ ایڈجسٹمنٹ میں مکمل فائدے سے محروم کردیا، اپریل کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کے الیکٹرک صارفین کو مزید 66 پیسے فی یونٹ کاریلیف مل سکتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق کے الیکٹرک نے اپریل کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں فی یونٹ 4 روپے 69 پیسے کمی کی درخواست کی تھی، تاہم نیپرا نے گزشتہ روز 4 روپے 3 پیسے فی یونٹ کمی کا نوٹی فکیشن جاری کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیپرا نے کے الیکٹرک صارفین کے لیے اپریل کی ایڈجسٹمنٹ میں مزید 80 کروڑ روپے کی کمی روک دی ہے، اپریل کی ایڈجسٹمنٹ میں 7 ارب 17 کروڑ 30 لاکھ کمی بنتی تھی تاہم نیپرا نے 6 ارب 17 کروڑ 60 روپے کمی کی اجازت دی جبکہ کےالیکٹرک نےاپریل کے ایڈجسٹمنٹ میں 4 روپے 69 پیسے فی یونٹ کمی کی درخواست کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1263707"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل کے الیکٹرک صارفین کے لیے مارچ کی ایڈجسٹمنٹ میں 5 روپے 2 پیسے فی یونٹ کمی بنتی تھی اور نیپرا نے 2 روپے 99 پیسے فی یونٹ کمی کی اجازت دی تھی، فروری کی ایڈجسٹمنٹ میں کراچی کے لیے 6 روپے 62 پیسے کمی بنتی تھی اور نیپرا نے 3 روپے 64 پیسے فی یونٹ کمی کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوری 2025 کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ میں 5 روپے 8 پیسےکمی بنتی تھی تاہم 3 روپے 2 پیسے کمی کی گئی تھی، دسمبر 2024 کی ایڈجسٹمنٹ میں 5 روپےکمی بنتی تھی تاہم 3 روپے کی کمی کی گئی تھی جبکہ کے الیکٹرک نے 4 روپے 95 پیسے فی یونٹ کمی مانگی تھی.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نومبر 2024 کی ایڈجسٹمنٹ میں 5 روپےکمی بنتی تھی تاہم ایک روپے 23 پیسے فی یونٹ کمی کی گئی تھی جبکہ نومبر کی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کے الیکٹرک نے 4 روپے 98 پیسے فی یونٹ کی کمی مانگی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>نیپرا نے کے الیکٹرک صارفین کو مسلسل چھٹی بار ماہانہ ایڈجسٹمنٹ میں مکمل فائدے سے محروم کردیا، اپریل کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کے الیکٹرک صارفین کو مزید 66 پیسے فی یونٹ کاریلیف مل سکتا تھا۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق کے الیکٹرک نے اپریل کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں فی یونٹ 4 روپے 69 پیسے کمی کی درخواست کی تھی، تاہم نیپرا نے گزشتہ روز 4 روپے 3 پیسے فی یونٹ کمی کا نوٹی فکیشن جاری کیا۔</p>
<p>نیپرا نے کے الیکٹرک صارفین کے لیے اپریل کی ایڈجسٹمنٹ میں مزید 80 کروڑ روپے کی کمی روک دی ہے، اپریل کی ایڈجسٹمنٹ میں 7 ارب 17 کروڑ 30 لاکھ کمی بنتی تھی تاہم نیپرا نے 6 ارب 17 کروڑ 60 روپے کمی کی اجازت دی جبکہ کےالیکٹرک نےاپریل کے ایڈجسٹمنٹ میں 4 روپے 69 پیسے فی یونٹ کمی کی درخواست کی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1263707"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس سے قبل کے الیکٹرک صارفین کے لیے مارچ کی ایڈجسٹمنٹ میں 5 روپے 2 پیسے فی یونٹ کمی بنتی تھی اور نیپرا نے 2 روپے 99 پیسے فی یونٹ کمی کی اجازت دی تھی، فروری کی ایڈجسٹمنٹ میں کراچی کے لیے 6 روپے 62 پیسے کمی بنتی تھی اور نیپرا نے 3 روپے 64 پیسے فی یونٹ کمی کی تھی۔</p>
<p>جنوری 2025 کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ میں 5 روپے 8 پیسےکمی بنتی تھی تاہم 3 روپے 2 پیسے کمی کی گئی تھی، دسمبر 2024 کی ایڈجسٹمنٹ میں 5 روپےکمی بنتی تھی تاہم 3 روپے کی کمی کی گئی تھی جبکہ کے الیکٹرک نے 4 روپے 95 پیسے فی یونٹ کمی مانگی تھی.</p>
<p>نومبر 2024 کی ایڈجسٹمنٹ میں 5 روپےکمی بنتی تھی تاہم ایک روپے 23 پیسے فی یونٹ کمی کی گئی تھی جبکہ نومبر کی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کے الیکٹرک نے 4 روپے 98 پیسے فی یونٹ کی کمی مانگی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1263763</guid>
      <pubDate>Thu, 10 Jul 2025 15:05:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/07/10133747ab1541e.png?r=133851" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/07/10133747ab1541e.png?r=133851"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سالانہ 250 ارب روپے کی بجلی چوری ہو رہی ہے، وفاقی وزیر توانائی کا قائمہ کمیٹی میں انکشاف</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1263586/</link>
      <description>&lt;p&gt;وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کو آگاہ کیا ہے کہ سالانہ 250 ارب روپے کی بجلی چوری ہورہی ہے، کے الیکٹرک نیشنل گرڈ سے 600 میگاواٹ تک بجلی لے سکتی ہے، اقدام  سے کے الیکٹرک کے پاس 2 ہزار میگاواٹ بجلی ہو جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق رکن قومی اسمبلی محمد ادریس کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی برائے پاور کا اجلاس ہوا، حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) کے حکام نے بتایا کہ اگر جامشورو میں فالٹ آئے تو پورا حیسکو بلیک آؤٹ میں چلا جاتا ہے، جامشورو کےگرڈ میں فالٹ کا مطلب 13 شہروں کا بجلی سے محروم ہونا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر توانائی نے کہا کہ جامشورو گرڈ بھی تب بلیک آوٹ میں جاتا ہے جب نیشنل بلیک آؤٹ ہو، مجھے یاد نہیں کہ جامشورو گرڈ میں الگ سے کوئی فالٹ آیا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1250621"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حیسکو کے حکام نے کہا کہ ماضی میں بھی جامشورو گرڈ میں فالٹ آیا تھا جس سے پورا حیسکو متاثر ہوا، اس لیے ہم نے متبادل گرڈ اسٹیشن کے لیے درخواست کی ہے، ہم چاہتے ہیں حیسکو کو 220 کے وی کا متبادل گرڈ اسٹیشن دیا جائے، حیسکو کو متبادل گرڈ مٹیاری اور نواب شاہ سے دیے جا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی کے رکن سید وسیم حسین نے کہا کہ جامشورو گرڈ میں فالٹ آنے سے پورا کراچی بھی متاثر ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر برائے توانائی نے کہا کہ جامشورو گرڈ کا کے الیکٹرک کے ساتھ تو کوئی تعلق ہی نہیں ہے، کے الیکٹرک کا بجلی کا سارا نظام بالکل الگ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اویس لغاری نے کہا کہ کے الیکٹرک اب نیشنل گرڈ سے 600 میگاواٹ تک بجلی لے سکتی ہے، اس سے کے الیکٹرک کے پاس 2 ہزار میگاواٹ بجلی ہو جائے گی، متبادل گرڈ کی ضرورت کے حوالے سے پہلے ہم ایک رپورٹ تیار کروا لیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہم اس سے پہلے ایک اتھارٹی کا رول کیسے ادا کر سکتے ہیں، میرے لیے کنکشن دینا  آسان ہے، اس سے بجلی زیادہ استعمال ہوگی، زیادہ بجلی استعمال ہوگی تو بجلی کے ریٹ کم ہو جائیں گے، بجلی کی قیمت اس لیے ہی زیادہ ہے کیوں کہ بجلی کا استعمال کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1244037"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رانا سکندر حیات نے کہا کہ اس لیے سوسائٹیوں میں کنکشن دیں تاکہ استعمال بڑھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اویس لغاری نے کہا کہ یہ بجلی کے محکمے کا تو فائدہ ہے، لیکن قومی نقصان ہے، اتھارٹیز سے ڈیمانڈ نوٹس بھجوا دیں ہم کنکشن لگا دیں گے، 500 ارب کی بجلی چوری نہیں ہے، بجلی چوری 250 ارب سالانہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رانا سکندر حیات نے کہا کہ باقی بلوں میں ریکور نہ ہونے والی رقم ہے، ملک انور تاج نے کہا کہ 200 یونٹ اور 201 یونٹ کا معاملہ آج کل لوگوں میں زیر بحث ہے، انہوں نے 200 اور 201 یونٹ پر بلوں میں فرق کا ایجنڈا شامل کرنے کا مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی کے رکن ملک انور تاج نے کہا کہ ایجنڈا شامل کیا جائے کہ ایک یونٹ کے فرق پر بل اتنا کیوں بڑھ جاتا ہے؟&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کو آگاہ کیا ہے کہ سالانہ 250 ارب روپے کی بجلی چوری ہورہی ہے، کے الیکٹرک نیشنل گرڈ سے 600 میگاواٹ تک بجلی لے سکتی ہے، اقدام  سے کے الیکٹرک کے پاس 2 ہزار میگاواٹ بجلی ہو جائے گی۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق رکن قومی اسمبلی محمد ادریس کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی برائے پاور کا اجلاس ہوا، حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) کے حکام نے بتایا کہ اگر جامشورو میں فالٹ آئے تو پورا حیسکو بلیک آؤٹ میں چلا جاتا ہے، جامشورو کےگرڈ میں فالٹ کا مطلب 13 شہروں کا بجلی سے محروم ہونا ہے۔</p>
<p>وفاقی وزیر توانائی نے کہا کہ جامشورو گرڈ بھی تب بلیک آوٹ میں جاتا ہے جب نیشنل بلیک آؤٹ ہو، مجھے یاد نہیں کہ جامشورو گرڈ میں الگ سے کوئی فالٹ آیا ہو۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1250621"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>حیسکو کے حکام نے کہا کہ ماضی میں بھی جامشورو گرڈ میں فالٹ آیا تھا جس سے پورا حیسکو متاثر ہوا، اس لیے ہم نے متبادل گرڈ اسٹیشن کے لیے درخواست کی ہے، ہم چاہتے ہیں حیسکو کو 220 کے وی کا متبادل گرڈ اسٹیشن دیا جائے، حیسکو کو متبادل گرڈ مٹیاری اور نواب شاہ سے دیے جا سکتے ہیں۔</p>
<p>کمیٹی کے رکن سید وسیم حسین نے کہا کہ جامشورو گرڈ میں فالٹ آنے سے پورا کراچی بھی متاثر ہوتا ہے۔</p>
<p>وفاقی وزیر برائے توانائی نے کہا کہ جامشورو گرڈ کا کے الیکٹرک کے ساتھ تو کوئی تعلق ہی نہیں ہے، کے الیکٹرک کا بجلی کا سارا نظام بالکل الگ ہے۔</p>
<p>اویس لغاری نے کہا کہ کے الیکٹرک اب نیشنل گرڈ سے 600 میگاواٹ تک بجلی لے سکتی ہے، اس سے کے الیکٹرک کے پاس 2 ہزار میگاواٹ بجلی ہو جائے گی، متبادل گرڈ کی ضرورت کے حوالے سے پہلے ہم ایک رپورٹ تیار کروا لیتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہم اس سے پہلے ایک اتھارٹی کا رول کیسے ادا کر سکتے ہیں، میرے لیے کنکشن دینا  آسان ہے، اس سے بجلی زیادہ استعمال ہوگی، زیادہ بجلی استعمال ہوگی تو بجلی کے ریٹ کم ہو جائیں گے، بجلی کی قیمت اس لیے ہی زیادہ ہے کیوں کہ بجلی کا استعمال کم ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1244037"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>رانا سکندر حیات نے کہا کہ اس لیے سوسائٹیوں میں کنکشن دیں تاکہ استعمال بڑھے۔</p>
<p>اویس لغاری نے کہا کہ یہ بجلی کے محکمے کا تو فائدہ ہے، لیکن قومی نقصان ہے، اتھارٹیز سے ڈیمانڈ نوٹس بھجوا دیں ہم کنکشن لگا دیں گے، 500 ارب کی بجلی چوری نہیں ہے، بجلی چوری 250 ارب سالانہ ہے۔</p>
<p>رانا سکندر حیات نے کہا کہ باقی بلوں میں ریکور نہ ہونے والی رقم ہے، ملک انور تاج نے کہا کہ 200 یونٹ اور 201 یونٹ کا معاملہ آج کل لوگوں میں زیر بحث ہے، انہوں نے 200 اور 201 یونٹ پر بلوں میں فرق کا ایجنڈا شامل کرنے کا مطالبہ کیا۔</p>
<p>کمیٹی کے رکن ملک انور تاج نے کہا کہ ایجنڈا شامل کیا جائے کہ ایک یونٹ کے فرق پر بل اتنا کیوں بڑھ جاتا ہے؟</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1263586</guid>
      <pubDate>Tue, 08 Jul 2025 15:52:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر شیرانیویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/07/0813253550a136a.jpg?r=155216" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/07/0813253550a136a.jpg?r=155216"/>
        <media:title>کمیٹی رکن ملک انور تاج نے کہا کہ ایجنڈا شامل کیا جائے کہ 1 یونٹ کے فرق پر بل کیوں بڑھ جاتا ہے؟ — فائل فوٹو: شٹر اسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت کا یکم جولائی سے ملک بھر میں بجلی کی قیمت میں کمی کا فیصلہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1263008/</link>
      <description>&lt;p&gt;حکومت نے ملک بھر میں یکم جولائی سے بجلی کی قیمتوں میں کمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1921131/govt-asks-for-rs115unit-cut-in-electricity-rate"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق وفاقی حکومت نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں فی یونٹ 1.15 روپے کی کمی کی سفارش کی گئی ہے، اس تبدیلی کا اطلاق لائف لائن گھریلو صارفین کے سوا سب پر ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن نے تجویز دی ہے کہ گھریلو صارفین کی ابتدائی 2 لائف لائن سلیبز کے نرخوں میں کوئی تبدیلی نہ کی جائے کیونکہ ان کو پہلے ہی بہت زیادہ سبسڈی دی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیپرا نے یکم جولائی کو عوامی سماعت بلائی ہے تاکہ نوٹی فکیشن اور نئی شرح کے اطلاق سے قبل ضابطے کی کارروائی مکمل کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست کے مطابق وہ صارفین جو ماہانہ 50 یونٹس تک بجلی استعمال کرتے ہیں، ان کے لیے نرخ 3.95 روپے فی یونٹ برقرار رہیں گے، جبکہ 50 سے 100 یونٹس استعمال کرنے والوں کے لیے بجلی 7.74 روپے فی یونٹ ہوجائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر تمام صارفین اور کیٹیگریز کے لیے حکومت نے مالی سال 26-2025 کے لیے فی یونٹ 1.15 روپے کی کمی کی تجویز دی ہے، تاہم موجودہ نرخوں کے مطابق کمی کی شرح 3 سے 10 فیصد کے درمیان ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مثال کے طور پر 1 سے 100 یونٹس استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ صارفین سے اب فی یونٹ بجلی کے عوض 11.69 روپے کے بجائے 10.54 روپے وصول کیے جائیں گے جو 9.8 فیصد کمی بنتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1262956"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح 101 سے 200 یونٹس کے درمیان بجلی استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے نرخ 14.16 روپے سے کم ہوکر 13.01 روپے فی یونٹ ہوں گے، جو 8 فیصد کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;200 یونٹس سے زیادہ بجلی استعمال کرنے والے نان پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے ابتدائی 100 یونٹس پر نرخ 23.59 روپے سے کم ہوکر 23.44 روپے فی یونٹ ہوگا، جو تقریباً 5 فیصد کمی بنتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر تمام کیٹیگریز جیسے کہ کمرشل، صنعتی، زرعی اور بلک صارفین کے لیے بھی فی یونٹ 1.15 روپے کی کمی ہوگی، تاہم کمی کی شرح 3 سے 4 فیصد تک ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجلی کا اوسط نرخ اب تقریباً 31.60 روپے فی یونٹ ہو جائے گا، جو اس وقت تقریباً 32.75 روپے فی یونٹ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نرخ نیپرا کی جانب سے تمام تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے ریونیو تقاضوں، مالی سال 26-2025 میں بجلی کی خریداری کی اوسط قیمت اور وفاقی بجٹ میں سبسڈی میں کمی کی بنیاد پر طے کیے گئے ہیں، جو عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے معاہدے کے تحت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیپرا نے مالی سال 26-2025کے لیے اوسط قومی نرخ 34 روپے فی یونٹ مقرر کیا ہے، جو اس سال کے 35.50 روپے فی یونٹ سے کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجویز کردہ نرخ میں وہ سبسڈی بھی شامل ہے جو بجٹ میں 12.9 فیصد کم کی گئی ہے، یعنی 26-2025 میں 1.04 کھرب روپے جبکہ 25-2024 میں یہ 1.19 کھرب روپے تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس میں انٹر-ڈسکو ٹیرف فرق کی سبسڈی (ٹی ڈی ایس) 26-2025 میں 249.14 ارب روپے رکھی گئی ہے، جو پچھلے سال کے 276 ارب روپے سے 10 فیصد کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلوچستان میں ٹیوب ویل صارفین کے لیے ٹیرف فرق کی سبسڈی 25-2024 میں 9.5 ارب روپے تھی، جو 26-2025 میں کم ہوکر 4 ارب روپے رہ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع اور سابقہ فاٹا کے لیے سبسڈی 65 ارب روپے سے کم کرکے 40 ارب روپےکر دی گئی ہے جو  38 فیصد کم کو ظاہر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح، کے الیکٹرک کے لیے سبسڈی 174 ارب روپے سے کم ہو کر 125 ارب روپے کم کر دی گئی ہے جو 28 فیصد کمی کو ظاہر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آزاد جموں و کشمیر کے لیے بھی ٹی ڈی ایس سبسڈی 108 ارب روپے سے کم ہو کر 74 ارب روپے کر دی گئی ہے، جو 31.5 فیصد کمی بنتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی سرمایہ کاروں کو بروقت ادائیگی کے لیے قائم پاکستان انرجی ریزالوِنگ فنڈ کے لیے سبسڈی 48 ارب روپے برقرار رکھی گئی ہے، جبکہ قبائلی علاقوں کے لیے ٹی ڈی ایس سبسڈی 65 ارب روپے سے کم ہو کر 40 ارب روپے کر دی گئی ہے، جو 39 فیصد کمی بنتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، 26-2025 کے لیے مجموعی سبسڈی 400 ارب روپے رکھی گئی ہے، جو کہ 25-2024 کے 394 ارب روپے سے معمولی زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن نے کہا کہ اس کی درخواست نیشنل الیکٹریسٹی پالیسی 2021 کی شق 5.6.1 کے مطابق ہے، جس کے تحت بجلی کے شعبے کی مالی پائیداری اس بات پر منحصر ہے کہ سروس کی مکمل لاگت صارفین سے مؤثر ٹیرف اسٹرکچر کے ذریعے حاصل کی جائے تاکہ شعبے میں مالیاتی بہاؤ جاری رہ سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن نے کہا کہ تجویز کردہ نرخ نیپرا کی جانب سے تمام ڈسکوز کے لیے طے شدہ نرخ، سماجی و اقتصادی اہداف اور بجٹ کے اہداف سے ہم آہنگ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈسکوز کے لیے حالیہ یونیفارم ٹیرف نیپرا نے 13 جولائی 2024 کو جاری کیا تھا، جو 14 جولائی کو نوٹیفائی ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن کے مطابق اس نے 28 جون (ہفتہ) کو وفاقی کابینہ میں تجویز کردہ یونیفارم ٹیرف جمع کروا دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے، تجویز کردہ یونیفارم ٹیرف، جو کہ حکومت کی اقتصادی و سماجی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے اور ریگولیٹر کی جانب سے منظور کردہ اور طے شدہ مجموعی ریونیو کی بنیاد پر ہے، اس کی منظوری بغیر کسی تبدیلی کے متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن نے کہا کہ حکومت کے الیکٹرک اور ڈسکوز کی نجکاری کے بعد بھی صارفین کے لیے یکساں نرخ برقرار رکھے گی، چاہے یہ سبسڈی براہ راست دی جائے یا بالواسطہ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے، کے الیکٹرک کے لیے یکساں لاگو ہونے والا ویری ایبل چارج بھی نیپرا کی جانب سے طے شدہ ریونیو تقاضوں کی بنیاد پر، تجویز کردہ ٹارگٹڈ سبسڈی اور کراس سبسڈیز کو مدنظر رکھتے ہوئے تبدیل کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>حکومت نے ملک بھر میں یکم جولائی سے بجلی کی قیمتوں میں کمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1921131/govt-asks-for-rs115unit-cut-in-electricity-rate"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق وفاقی حکومت نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں فی یونٹ 1.15 روپے کی کمی کی سفارش کی گئی ہے، اس تبدیلی کا اطلاق لائف لائن گھریلو صارفین کے سوا سب پر ہوگا۔</p>
<p>پاور ڈویژن نے تجویز دی ہے کہ گھریلو صارفین کی ابتدائی 2 لائف لائن سلیبز کے نرخوں میں کوئی تبدیلی نہ کی جائے کیونکہ ان کو پہلے ہی بہت زیادہ سبسڈی دی جا رہی ہے۔</p>
<p>نیپرا نے یکم جولائی کو عوامی سماعت بلائی ہے تاکہ نوٹی فکیشن اور نئی شرح کے اطلاق سے قبل ضابطے کی کارروائی مکمل کی جا سکے۔</p>
<p>درخواست کے مطابق وہ صارفین جو ماہانہ 50 یونٹس تک بجلی استعمال کرتے ہیں، ان کے لیے نرخ 3.95 روپے فی یونٹ برقرار رہیں گے، جبکہ 50 سے 100 یونٹس استعمال کرنے والوں کے لیے بجلی 7.74 روپے فی یونٹ ہوجائے گی۔</p>
<p>دیگر تمام صارفین اور کیٹیگریز کے لیے حکومت نے مالی سال 26-2025 کے لیے فی یونٹ 1.15 روپے کی کمی کی تجویز دی ہے، تاہم موجودہ نرخوں کے مطابق کمی کی شرح 3 سے 10 فیصد کے درمیان ہوگی۔</p>
<p>مثال کے طور پر 1 سے 100 یونٹس استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ صارفین سے اب فی یونٹ بجلی کے عوض 11.69 روپے کے بجائے 10.54 روپے وصول کیے جائیں گے جو 9.8 فیصد کمی بنتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1262956"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اسی طرح 101 سے 200 یونٹس کے درمیان بجلی استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے نرخ 14.16 روپے سے کم ہوکر 13.01 روپے فی یونٹ ہوں گے، جو 8 فیصد کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔</p>
<p>200 یونٹس سے زیادہ بجلی استعمال کرنے والے نان پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے ابتدائی 100 یونٹس پر نرخ 23.59 روپے سے کم ہوکر 23.44 روپے فی یونٹ ہوگا، جو تقریباً 5 فیصد کمی بنتی ہے۔</p>
<p>دیگر تمام کیٹیگریز جیسے کہ کمرشل، صنعتی، زرعی اور بلک صارفین کے لیے بھی فی یونٹ 1.15 روپے کی کمی ہوگی، تاہم کمی کی شرح 3 سے 4 فیصد تک ہوگی۔</p>
<p>بجلی کا اوسط نرخ اب تقریباً 31.60 روپے فی یونٹ ہو جائے گا، جو اس وقت تقریباً 32.75 روپے فی یونٹ ہے۔</p>
<p>یہ نرخ نیپرا کی جانب سے تمام تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے ریونیو تقاضوں، مالی سال 26-2025 میں بجلی کی خریداری کی اوسط قیمت اور وفاقی بجٹ میں سبسڈی میں کمی کی بنیاد پر طے کیے گئے ہیں، جو عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے معاہدے کے تحت ہے۔</p>
<p>نیپرا نے مالی سال 26-2025کے لیے اوسط قومی نرخ 34 روپے فی یونٹ مقرر کیا ہے، جو اس سال کے 35.50 روپے فی یونٹ سے کم ہے۔</p>
<p>تجویز کردہ نرخ میں وہ سبسڈی بھی شامل ہے جو بجٹ میں 12.9 فیصد کم کی گئی ہے، یعنی 26-2025 میں 1.04 کھرب روپے جبکہ 25-2024 میں یہ 1.19 کھرب روپے تھی۔</p>
<p>اس میں انٹر-ڈسکو ٹیرف فرق کی سبسڈی (ٹی ڈی ایس) 26-2025 میں 249.14 ارب روپے رکھی گئی ہے، جو پچھلے سال کے 276 ارب روپے سے 10 فیصد کم ہے۔</p>
<p>بلوچستان میں ٹیوب ویل صارفین کے لیے ٹیرف فرق کی سبسڈی 25-2024 میں 9.5 ارب روپے تھی، جو 26-2025 میں کم ہوکر 4 ارب روپے رہ گئی ہے۔</p>
<p>خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع اور سابقہ فاٹا کے لیے سبسڈی 65 ارب روپے سے کم کرکے 40 ارب روپےکر دی گئی ہے جو  38 فیصد کم کو ظاہر کرتی ہے۔</p>
<p>اسی طرح، کے الیکٹرک کے لیے سبسڈی 174 ارب روپے سے کم ہو کر 125 ارب روپے کم کر دی گئی ہے جو 28 فیصد کمی کو ظاہر کرتی ہے۔</p>
<p>آزاد جموں و کشمیر کے لیے بھی ٹی ڈی ایس سبسڈی 108 ارب روپے سے کم ہو کر 74 ارب روپے کر دی گئی ہے، جو 31.5 فیصد کمی بنتی ہے۔</p>
<p>چینی سرمایہ کاروں کو بروقت ادائیگی کے لیے قائم پاکستان انرجی ریزالوِنگ فنڈ کے لیے سبسڈی 48 ارب روپے برقرار رکھی گئی ہے، جبکہ قبائلی علاقوں کے لیے ٹی ڈی ایس سبسڈی 65 ارب روپے سے کم ہو کر 40 ارب روپے کر دی گئی ہے، جو 39 فیصد کمی بنتی ہے۔</p>
<p>تاہم، 26-2025 کے لیے مجموعی سبسڈی 400 ارب روپے رکھی گئی ہے، جو کہ 25-2024 کے 394 ارب روپے سے معمولی زیادہ ہے۔</p>
<p>پاور ڈویژن نے کہا کہ اس کی درخواست نیشنل الیکٹریسٹی پالیسی 2021 کی شق 5.6.1 کے مطابق ہے، جس کے تحت بجلی کے شعبے کی مالی پائیداری اس بات پر منحصر ہے کہ سروس کی مکمل لاگت صارفین سے مؤثر ٹیرف اسٹرکچر کے ذریعے حاصل کی جائے تاکہ شعبے میں مالیاتی بہاؤ جاری رہ سکے۔</p>
<p>پاور ڈویژن نے کہا کہ تجویز کردہ نرخ نیپرا کی جانب سے تمام ڈسکوز کے لیے طے شدہ نرخ، سماجی و اقتصادی اہداف اور بجٹ کے اہداف سے ہم آہنگ ہیں۔</p>
<p>ڈسکوز کے لیے حالیہ یونیفارم ٹیرف نیپرا نے 13 جولائی 2024 کو جاری کیا تھا، جو 14 جولائی کو نوٹیفائی ہوا تھا۔</p>
<p>پاور ڈویژن کے مطابق اس نے 28 جون (ہفتہ) کو وفاقی کابینہ میں تجویز کردہ یونیفارم ٹیرف جمع کروا دیا تھا۔</p>
<p>اسی لیے، تجویز کردہ یونیفارم ٹیرف، جو کہ حکومت کی اقتصادی و سماجی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے اور ریگولیٹر کی جانب سے منظور کردہ اور طے شدہ مجموعی ریونیو کی بنیاد پر ہے، اس کی منظوری بغیر کسی تبدیلی کے متوقع ہے۔</p>
<p>پاور ڈویژن نے کہا کہ حکومت کے الیکٹرک اور ڈسکوز کی نجکاری کے بعد بھی صارفین کے لیے یکساں نرخ برقرار رکھے گی، چاہے یہ سبسڈی براہ راست دی جائے یا بالواسطہ۔</p>
<p>اسی لیے، کے الیکٹرک کے لیے یکساں لاگو ہونے والا ویری ایبل چارج بھی نیپرا کی جانب سے طے شدہ ریونیو تقاضوں کی بنیاد پر، تجویز کردہ ٹارگٹڈ سبسڈی اور کراس سبسڈیز کو مدنظر رکھتے ہوئے تبدیل کیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1263008</guid>
      <pubDate>Mon, 30 Jun 2025 11:24:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خلیق کیانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/06/30093732369ba15.png?r=094005" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/06/30093732369ba15.png?r=094005"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ایم ایف کے مطالبات کو پورا کرنے کیلئے حکومت نے گیس 50 فیصد مہنگی کرنے کی منظوری دیدی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1262898/</link>
      <description>&lt;p&gt;حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مطالبات کو پورا کرنے کے لیے بظاہر ایک اقدام کے طور پر گیس کی قیمت میں 50 فیصد اضافہ کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1920726/ecc-okays-up-to-50pc-hike-in-gas-charges"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے یکم جولائی سے تمام صارفین کے لیے گیس کے مقررہ چارجز میں اضافے کی منظوری دے دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر گھریلو صارفین کے لیے گیس کی قیمت میں 29 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جس کا مقصد اضافی 72 ارب روپے جمع کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کو وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ای سی سی کے اجلاس میں 856 ارب روپے کی ضمنی گرانٹس کی بھی منظوری دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم کمیٹی چینی کی درآمد پر فیصلہ نہ کر سکی اور اس معاملے کو قومی غذائی تحفظ اور تحقیق کے وزیر کی سربراہی میں ایک سیاسی کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="گیس-کی-قیمتوں-میں-اضافہ" href="#گیس-کی-قیمتوں-میں-اضافہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;گیس کی قیمتوں میں اضافہ&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1251705"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 26-2025 کے لیے گیس کی نئی قیمتوں کی ساخت کے حوالے سے سمری پیٹرولیم ڈویژن نے پیش کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت نے محفوظ گھریلو صارفین کے لیے 56 فیصد اور مقررہ چارجز میں 37 فیصد اضافے کی منظوری مانگی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، ای سی سی نے گھریلو صارفین کے لیے مقررہ چارجز میں 50 فیصد اضافے کی منظوری دی اور کچھ بوجھ بڑے صارفین، بجلی کے شعبے اور صنعت پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجلی کے شعبے کے لیے گیس کی قیمت میں اضافے سے بجلی کے اوسط نرخ پر فی یونٹ 0.12 روپے کا اثر پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محفوظ صارفین کے لیے مقررہ چارجز 50 فیصد بڑھا کر 400 روپے سے 600 روپے کر دیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح، غیر محفوظ گھریلو صارفین کے لیے مقررہ چارجز بھی 50 فیصد بڑھا کر ایک ہزار سے ایک ہزار 500 روپے کر دیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای سی سی نے محفوظ اور غیر محفوظ گھریلو صارفین کے لیے ایک سلیب فائدہ بھی ختم کر دیا، اب صارفین سے ہر زمرے کی پہلی شرح کے مطابق چارجز وصول کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلک صارفین کے لیے گیس کے نرخ 9.5 فیصد بڑھا کر 2 ہزار 900 روپے سے 3 ہزار 175 روپے فی ملین برٹش تھرمل یونٹ (ایم ایم بی ٹی یو) کر دیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجلی کے شعبے کے لیے گیس کی قیمتیں 29 فیصد بڑھا کر ایک ہزار 50 سے ایک ہزار 350 روپے فی ایم ایم بی ٹی یوکر دی گئیں، حالانکہ پیٹرولیم ڈویژن نے 25 فیصد اضافے کی تجویز دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1247733"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح، صنعتی (پروسیس) صارفین کے لیے نرخ 9.3 فیصد بڑھا کر 2 ہزار 150 روپے سے 2 ہزار 350 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت خزانہ کے بیان میں کہا گیا کہ اوگرا قانون کے تحت، حکومت کو قیمتوں میں تبدیلی کی اطلاع اوگرا کے تعین کے 40 دن کے اندر دینا لازم ہے، تاکہ لاگت کی ریکوری اور ریگولیٹری تقاضے پورے کیے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ سبمیشن آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ ساختی اہداف سے بھی ہم آہنگ ہے، جن میں کیپٹو پاور ٹیرف کا معقول بنانا اور کراس سبسڈی کے بجائے کم آمدنی والے صارفین کے لیے براہ راست ٹارگٹ معاونت شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ ای سی سی نے گھریلو صارفین کو تحفظ دینے کے لیے صرف مقررہ چارجز میں رد و بدل کیا ہے، تاکہ اثاثہ جات کی لاگت کی ریکوری ممکن ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے بلک صارفین، قدرتی گیس پر چلنے والے پاور پلانٹس اور صنعت کے لیے گیس کی قیمتوں میں اوسطاً 10 فیصد اضافے کی اجازت دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اقدام سے مالی سال 26-2025 کے لیے اوگرا کی جانب سے مقرر کردہ 888 ارب 60 کروڑ روپے کی آمدنی کی ضرورت پوری ہو جائے گی، جس میں ایس این جی پی ایل کے لیے 534 ارب 46 کروڑ روپے اور ایس ایس جی سی ایل کے لیے 354 ارب 20 کروڑ روپے شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یکم فروری سے نافذ موجودہ گیس قیمتوں کی بنیاد پر، مالی سال 2026 کے اختتام پر دونوں سوئی کمپنیوں کی متوقع آمدنی 847 ارب 71 کروڑ روپے تھی، ایس این جی پی ایل کے لیے 493 ارب 54 کروڑ روپے اور ایس ایس جی سی ایل کے لیے 354 ارب 18 کروڑ روپے، یہ اعداد و شمار 41 ارب روپے کے خسارہ کو ظاہر کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای سی سی کی طرف سے منظور کی گئی گیس کی قیمتوں میں رد و بدل کا مقصد اسی 41 ارب روپے کے خسارے کو پورا کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیٹرولیم ڈویژن نے خبردار کیا کہ حکومت پہلے ہی آئی ایم ایف کے ساتھ کراس سبسڈی کے خاتمے اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے ذریعے براہ راست، بجٹ سے امداد فراہم کرنے کے حوالے سے بات چیت کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="چینی-کی-درآمد" href="#چینی-کی-درآمد" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;چینی کی درآمد&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1249196"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای سی سی نے مقامی مارکیٹ میں قیمتوں کو مستحکم کرنے کے لیے چینی کی درآمد کے مسئلے پر بھی غور کیا، اور اس حوالے سے مزید غور و خوض کے لیے ایک 10 رکنی اسٹیئرنگ کمیٹی قائم کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کمیٹی غذائی تحفظ کے وزیر کی سربراہی میں کام کرے گی، اور اس میں وزیر تجارت، معاون خصوصی برائے خارجہ امور، سیکریٹری خزانہ، چیئرمین ایف بی آر اور دیگر شامل ہوں گے، جو اپنی سفارشات ای سی سی کو پیش کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای سی سی نے ترسیلات زر کی ترغیبی اسکیموں میں مجوزہ تبدیلیوں پر بھی تبادلہ خیال کیا اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور وزارت خزانہ کو ہدایت دی کہ وہ 31 جولائی تک منصوبہ پیش کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں وزارت خزانہ کی جانب سے چھوٹے کسانوں اور کم ترقی یافتہ علاقوں کے لیے رسک کور اسکیم کے اجرا کی تجویز پر اصولی منظوری بھی دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای سی سی نے نوٹ کیا کہ یہ اسکیم ممکنہ طور پر 7 لاکھ 50 ہزار نئے زرعی قرض دہندگان کو رسمی مالیاتی نظام میں لائے گی، اور 3 سال کے عرصے میں 300 ارب روپے کے اضافی قرضوں کا باعث بنے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں مجموعی طور پر 856 ارب روپے کی 14 ضمنی گرانٹس کی منظوری دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان میں اہم ترین گرانٹ 832 ارب روپے وزارت خزانہ کو قرض کی واپسی کے لیے دی گئی، 15 ارب 84 کروڑ روپے وزارت دفاع کو ملازمین کی تنخواہوں، واجبات کی ادائیگی اور بھارت کے ساتھ حالیہ جھڑپوں میں شہید ہونے والوں کے لیے وزیراعظم کے پیکیج کے تحت واجبات کی ادائیگی کے لیے دیے گئے، جب کہ اسٹریٹجک پلانز ڈویژن کو سپارکو کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے کی گرانٹ دی گئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مطالبات کو پورا کرنے کے لیے بظاہر ایک اقدام کے طور پر گیس کی قیمت میں 50 فیصد اضافہ کر دیا ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1920726/ecc-okays-up-to-50pc-hike-in-gas-charges"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے یکم جولائی سے تمام صارفین کے لیے گیس کے مقررہ چارجز میں اضافے کی منظوری دے دی۔</p>
<p>غیر گھریلو صارفین کے لیے گیس کی قیمت میں 29 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جس کا مقصد اضافی 72 ارب روپے جمع کرنا ہے۔</p>
<p>جمعہ کو وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ای سی سی کے اجلاس میں 856 ارب روپے کی ضمنی گرانٹس کی بھی منظوری دی گئی۔</p>
<p>تاہم کمیٹی چینی کی درآمد پر فیصلہ نہ کر سکی اور اس معاملے کو قومی غذائی تحفظ اور تحقیق کے وزیر کی سربراہی میں ایک سیاسی کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔</p>
<h1><a id="گیس-کی-قیمتوں-میں-اضافہ" href="#گیس-کی-قیمتوں-میں-اضافہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>گیس کی قیمتوں میں اضافہ</h1>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1251705"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مالی سال 26-2025 کے لیے گیس کی نئی قیمتوں کی ساخت کے حوالے سے سمری پیٹرولیم ڈویژن نے پیش کی تھی۔</p>
<p>وزارت نے محفوظ گھریلو صارفین کے لیے 56 فیصد اور مقررہ چارجز میں 37 فیصد اضافے کی منظوری مانگی تھی۔</p>
<p>تاہم، ای سی سی نے گھریلو صارفین کے لیے مقررہ چارجز میں 50 فیصد اضافے کی منظوری دی اور کچھ بوجھ بڑے صارفین، بجلی کے شعبے اور صنعت پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔</p>
<p>بجلی کے شعبے کے لیے گیس کی قیمت میں اضافے سے بجلی کے اوسط نرخ پر فی یونٹ 0.12 روپے کا اثر پڑے گا۔</p>
<p>محفوظ صارفین کے لیے مقررہ چارجز 50 فیصد بڑھا کر 400 روپے سے 600 روپے کر دیے گئے۔</p>
<p>اسی طرح، غیر محفوظ گھریلو صارفین کے لیے مقررہ چارجز بھی 50 فیصد بڑھا کر ایک ہزار سے ایک ہزار 500 روپے کر دیے گئے۔</p>
<p>ای سی سی نے محفوظ اور غیر محفوظ گھریلو صارفین کے لیے ایک سلیب فائدہ بھی ختم کر دیا، اب صارفین سے ہر زمرے کی پہلی شرح کے مطابق چارجز وصول کیے جائیں گے۔</p>
<p>بلک صارفین کے لیے گیس کے نرخ 9.5 فیصد بڑھا کر 2 ہزار 900 روپے سے 3 ہزار 175 روپے فی ملین برٹش تھرمل یونٹ (ایم ایم بی ٹی یو) کر دیے گئے۔</p>
<p>بجلی کے شعبے کے لیے گیس کی قیمتیں 29 فیصد بڑھا کر ایک ہزار 50 سے ایک ہزار 350 روپے فی ایم ایم بی ٹی یوکر دی گئیں، حالانکہ پیٹرولیم ڈویژن نے 25 فیصد اضافے کی تجویز دی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1247733"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اسی طرح، صنعتی (پروسیس) صارفین کے لیے نرخ 9.3 فیصد بڑھا کر 2 ہزار 150 روپے سے 2 ہزار 350 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کیے گئے۔</p>
<p>وزارت خزانہ کے بیان میں کہا گیا کہ اوگرا قانون کے تحت، حکومت کو قیمتوں میں تبدیلی کی اطلاع اوگرا کے تعین کے 40 دن کے اندر دینا لازم ہے، تاکہ لاگت کی ریکوری اور ریگولیٹری تقاضے پورے کیے جا سکیں۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ سبمیشن آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ ساختی اہداف سے بھی ہم آہنگ ہے، جن میں کیپٹو پاور ٹیرف کا معقول بنانا اور کراس سبسڈی کے بجائے کم آمدنی والے صارفین کے لیے براہ راست ٹارگٹ معاونت شامل ہے۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ ای سی سی نے گھریلو صارفین کو تحفظ دینے کے لیے صرف مقررہ چارجز میں رد و بدل کیا ہے، تاکہ اثاثہ جات کی لاگت کی ریکوری ممکن ہو۔</p>
<p>کمیٹی نے بلک صارفین، قدرتی گیس پر چلنے والے پاور پلانٹس اور صنعت کے لیے گیس کی قیمتوں میں اوسطاً 10 فیصد اضافے کی اجازت دی۔</p>
<p>اس اقدام سے مالی سال 26-2025 کے لیے اوگرا کی جانب سے مقرر کردہ 888 ارب 60 کروڑ روپے کی آمدنی کی ضرورت پوری ہو جائے گی، جس میں ایس این جی پی ایل کے لیے 534 ارب 46 کروڑ روپے اور ایس ایس جی سی ایل کے لیے 354 ارب 20 کروڑ روپے شامل ہیں۔</p>
<p>یکم فروری سے نافذ موجودہ گیس قیمتوں کی بنیاد پر، مالی سال 2026 کے اختتام پر دونوں سوئی کمپنیوں کی متوقع آمدنی 847 ارب 71 کروڑ روپے تھی، ایس این جی پی ایل کے لیے 493 ارب 54 کروڑ روپے اور ایس ایس جی سی ایل کے لیے 354 ارب 18 کروڑ روپے، یہ اعداد و شمار 41 ارب روپے کے خسارہ کو ظاہر کرتے ہیں۔</p>
<p>ای سی سی کی طرف سے منظور کی گئی گیس کی قیمتوں میں رد و بدل کا مقصد اسی 41 ارب روپے کے خسارے کو پورا کرنا ہے۔</p>
<p>پیٹرولیم ڈویژن نے خبردار کیا کہ حکومت پہلے ہی آئی ایم ایف کے ساتھ کراس سبسڈی کے خاتمے اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے ذریعے براہ راست، بجٹ سے امداد فراہم کرنے کے حوالے سے بات چیت کر رہی ہے۔</p>
<h1><a id="چینی-کی-درآمد" href="#چینی-کی-درآمد" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>چینی کی درآمد</h1>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1249196"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ای سی سی نے مقامی مارکیٹ میں قیمتوں کو مستحکم کرنے کے لیے چینی کی درآمد کے مسئلے پر بھی غور کیا، اور اس حوالے سے مزید غور و خوض کے لیے ایک 10 رکنی اسٹیئرنگ کمیٹی قائم کر دی۔</p>
<p>یہ کمیٹی غذائی تحفظ کے وزیر کی سربراہی میں کام کرے گی، اور اس میں وزیر تجارت، معاون خصوصی برائے خارجہ امور، سیکریٹری خزانہ، چیئرمین ایف بی آر اور دیگر شامل ہوں گے، جو اپنی سفارشات ای سی سی کو پیش کریں گے۔</p>
<p>ای سی سی نے ترسیلات زر کی ترغیبی اسکیموں میں مجوزہ تبدیلیوں پر بھی تبادلہ خیال کیا اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور وزارت خزانہ کو ہدایت دی کہ وہ 31 جولائی تک منصوبہ پیش کریں۔</p>
<p>اجلاس میں وزارت خزانہ کی جانب سے چھوٹے کسانوں اور کم ترقی یافتہ علاقوں کے لیے رسک کور اسکیم کے اجرا کی تجویز پر اصولی منظوری بھی دی گئی۔</p>
<p>ای سی سی نے نوٹ کیا کہ یہ اسکیم ممکنہ طور پر 7 لاکھ 50 ہزار نئے زرعی قرض دہندگان کو رسمی مالیاتی نظام میں لائے گی، اور 3 سال کے عرصے میں 300 ارب روپے کے اضافی قرضوں کا باعث بنے گی۔</p>
<p>اجلاس میں مجموعی طور پر 856 ارب روپے کی 14 ضمنی گرانٹس کی منظوری دی گئی۔</p>
<p>ان میں اہم ترین گرانٹ 832 ارب روپے وزارت خزانہ کو قرض کی واپسی کے لیے دی گئی، 15 ارب 84 کروڑ روپے وزارت دفاع کو ملازمین کی تنخواہوں، واجبات کی ادائیگی اور بھارت کے ساتھ حالیہ جھڑپوں میں شہید ہونے والوں کے لیے وزیراعظم کے پیکیج کے تحت واجبات کی ادائیگی کے لیے دیے گئے، جب کہ اسٹریٹجک پلانز ڈویژن کو سپارکو کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے کی گرانٹ دی گئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1262898</guid>
      <pubDate>Sat, 28 Jun 2025 11:14:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خلیق کیانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/06/28084841a9b3071.gif?r=111502" type="image/gif" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/06/28084841a9b3071.gif?r=111502"/>
        <media:title>محفوظ صارفین کے لیے مقررہ چارجز 50 فیصد بڑھا کر 400 روپے سے 600 روپے کر دیے گئے — فائل فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز کے قیام کا عمل تیز، جینکوز کی نیلامی جلد مکمل کی جائے، وزیراعظم</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1262713/</link>
      <description>&lt;p&gt;وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ہدایت کی ہے کہ الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز کے قیام کا عمل تیز کیا جائے، نقصان میں چلنے والی بجلی کی پیداواری کمپنیوں (جینکوز) کی نیلامی جلد مکمل کی جائے اور جینکوز کی نیلامی کے عمل کو میڈیا پر براہ راست نشر کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق ان خیالات کا اظہار  وزیر اعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں بجلی کے شعبے کی جاری اصلاحات پر جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، وزیراعظم نے ہدایت کی کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے عمل کو بھی تیز کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کو بجلی شعبے کی پیدوار، ترسیل اور تقسیم کے حوالے سے جاری اصلاحات اور منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں وفاقی وزرا سردار اویس خان لغاری، احد خان چیمہ، علی پرویز ملک، مشیر وزیرِ اعظم محمد علی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، نیشنل کوآرڈینیٹر پاور ٹاسک فورس لیفٹیننٹ جنرل ظفر اقبال، وزیرِ اعظم کے کو آرڈینیٹر مشرف زیدی اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1258406"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیرِ اعظم کی ہدایت پر فرسودہ اور نقصان میں چلنے  والے جینکوز کی نیلامی کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا، جس سے قومی خزانے کو 9 ارب 5 کروڑ روپے کی آمدن ہوئی، جبکہ دوسرے اور تیسرے مرحلے کو مکمل کرنے کے لیے اقدمات تیزی سے جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کو بتایا گیا کہ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے نیلامی کی کارروائی براہ راست نشر کی جاتی ہے. 36 انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے ساتھ بجلی کے نرخوں کے حوالے سے کامیاب مذاکرات ہوئے جس کے نتیجے میں مجموعی طور ملکی خزانے کو 30 کھرب 69 ارب روپے کی بچت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ ملکی صنعتوں کو ٹرانسمیشن لائن پر لا کر انہیں بلاتعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے، جس سے صنعتی پیدوار، برآمدات اور زرمبادلہ میں اضافہ ہوگا، نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی لمیٹڈ کو تحلیل کرکے انرجی انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ کمپنی اور نیشنل گرڈ کمپنی تشکیل دی گئی، اور ان کو ذمہ داریاں سونپی جا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک بھر میں الیکٹرک وہیکلز کے فروغ کے لیے چارجنگ اسٹیشنز کے قیام کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے، الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز کے قیام کی درخواستوں کو وصول کرنے کے لیے آن لائن پورٹل فعال ہے، جس کے ذریعے 120 درخواستیں وصول کی جا چکی ہیں، جس میں سے 48 درخواستوں کو عبوری رجسٹریشن کی دستاویزات تفویض کی گئی ہیں، اسی طرح پہلے سے موجود چارجنگ اسٹیشنز کی ریگولرائیزیشن کا عمل بھی مکمل ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بریفنگ میں بتایا گیا کہ بجلی کے شعبے کی بہتری کے لیے پاور پلاننگ اور مانیٹرنگ کمپنی (پی پی ایم سی) کا قیام عمل میں لایا جاچکا ہے، ملک کی بیشتر تقسیم کار کمپنیوں کے انتظامی ڈھانچے کی تشکیل نو کی جاچکی، جو کہ اب مکمل طور پر فعال ہیں.&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ اعظم کو مٹیاری-مورو-رحیم یار خان، غازی بروتھا-فیصل آباد ٹرانسمیشن لائنز کے حوالے سے بھی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ان کی فنانسنگ میں مقامی و بین الاقوامی اداروں نے دلچسپی کا اظہار کیا ہے، آئندہ 6 سال میں 20 کھرب 40 ارب کے گرشی قرضے کے مکمل خاتمے کے لیے بھی لائحہ عمل سے آگاہ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1243818"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کو بتایا گیا کہ بجلی کی بچت کے لیے انرجی ایفیشنٹ پنکھوں کے فروغ کے حوالے سے بینکوں سے آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی کا لائحہ عمل تیار کیا جارہا ہے، تاکہ متوسط طبقے کے صارفین بجلی بچا کر بلوں میں کمی سے مستفید ہو سکیں، بجلی کی بچت کے لیے انرجی ایفیشنٹ عمارتوں کی تعمیر کے حوالے سے بھی روڈ میپ تیار ہے اور صوبائی حکومتوں سے بھی اس پر عملدرآمد پر مشاورت مکمل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ  عوامی ریلیف، صنعتوں کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی اولین ترجیحات میں شامل ہے،  نقصان کرنے والی جینکوز کی نیلامی جلد مکمل کی جائے، وزیراعظم جینکوز کی نیلامی کے عمل کو میڈیا پر براہ راست نشر کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ہدایت کی کہ اسمارٹ میٹرز کی تنصیب مکمل کرکے جلد رپورٹ پیش کی جائے،  بلوچستان کے ٹیوب ویلز کی سولرائزیشن کا عمل مکمل ہو چکا، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے عمل کو تیز کیا جائے، ملک بھر میں الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز کے قیام کے عمل کو تیز کیا جائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ہدایت کی ہے کہ الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز کے قیام کا عمل تیز کیا جائے، نقصان میں چلنے والی بجلی کی پیداواری کمپنیوں (جینکوز) کی نیلامی جلد مکمل کی جائے اور جینکوز کی نیلامی کے عمل کو میڈیا پر براہ راست نشر کیا جائے۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق ان خیالات کا اظہار  وزیر اعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں بجلی کے شعبے کی جاری اصلاحات پر جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، وزیراعظم نے ہدایت کی کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے عمل کو بھی تیز کیا جائے۔</p>
<p>اجلاس کو بجلی شعبے کی پیدوار، ترسیل اور تقسیم کے حوالے سے جاری اصلاحات اور منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔</p>
<p>اجلاس میں وفاقی وزرا سردار اویس خان لغاری، احد خان چیمہ، علی پرویز ملک، مشیر وزیرِ اعظم محمد علی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، نیشنل کوآرڈینیٹر پاور ٹاسک فورس لیفٹیننٹ جنرل ظفر اقبال، وزیرِ اعظم کے کو آرڈینیٹر مشرف زیدی اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1258406"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیرِ اعظم کی ہدایت پر فرسودہ اور نقصان میں چلنے  والے جینکوز کی نیلامی کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا، جس سے قومی خزانے کو 9 ارب 5 کروڑ روپے کی آمدن ہوئی، جبکہ دوسرے اور تیسرے مرحلے کو مکمل کرنے کے لیے اقدمات تیزی سے جاری ہیں۔</p>
<p>اجلاس کو بتایا گیا کہ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے نیلامی کی کارروائی براہ راست نشر کی جاتی ہے. 36 انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے ساتھ بجلی کے نرخوں کے حوالے سے کامیاب مذاکرات ہوئے جس کے نتیجے میں مجموعی طور ملکی خزانے کو 30 کھرب 69 ارب روپے کی بچت ہوگی۔</p>
<p>اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ ملکی صنعتوں کو ٹرانسمیشن لائن پر لا کر انہیں بلاتعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے، جس سے صنعتی پیدوار، برآمدات اور زرمبادلہ میں اضافہ ہوگا، نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی لمیٹڈ کو تحلیل کرکے انرجی انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ کمپنی اور نیشنل گرڈ کمپنی تشکیل دی گئی، اور ان کو ذمہ داریاں سونپی جا رہی ہیں۔</p>
<p>اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک بھر میں الیکٹرک وہیکلز کے فروغ کے لیے چارجنگ اسٹیشنز کے قیام کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے، الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز کے قیام کی درخواستوں کو وصول کرنے کے لیے آن لائن پورٹل فعال ہے، جس کے ذریعے 120 درخواستیں وصول کی جا چکی ہیں، جس میں سے 48 درخواستوں کو عبوری رجسٹریشن کی دستاویزات تفویض کی گئی ہیں، اسی طرح پہلے سے موجود چارجنگ اسٹیشنز کی ریگولرائیزیشن کا عمل بھی مکمل ہو چکا ہے۔</p>
<p>بریفنگ میں بتایا گیا کہ بجلی کے شعبے کی بہتری کے لیے پاور پلاننگ اور مانیٹرنگ کمپنی (پی پی ایم سی) کا قیام عمل میں لایا جاچکا ہے، ملک کی بیشتر تقسیم کار کمپنیوں کے انتظامی ڈھانچے کی تشکیل نو کی جاچکی، جو کہ اب مکمل طور پر فعال ہیں.</p>
<p>وزیرِ اعظم کو مٹیاری-مورو-رحیم یار خان، غازی بروتھا-فیصل آباد ٹرانسمیشن لائنز کے حوالے سے بھی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ان کی فنانسنگ میں مقامی و بین الاقوامی اداروں نے دلچسپی کا اظہار کیا ہے، آئندہ 6 سال میں 20 کھرب 40 ارب کے گرشی قرضے کے مکمل خاتمے کے لیے بھی لائحہ عمل سے آگاہ کیا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1243818"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اجلاس کو بتایا گیا کہ بجلی کی بچت کے لیے انرجی ایفیشنٹ پنکھوں کے فروغ کے حوالے سے بینکوں سے آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی کا لائحہ عمل تیار کیا جارہا ہے، تاکہ متوسط طبقے کے صارفین بجلی بچا کر بلوں میں کمی سے مستفید ہو سکیں، بجلی کی بچت کے لیے انرجی ایفیشنٹ عمارتوں کی تعمیر کے حوالے سے بھی روڈ میپ تیار ہے اور صوبائی حکومتوں سے بھی اس پر عملدرآمد پر مشاورت مکمل ہے۔</p>
<p>وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ  عوامی ریلیف، صنعتوں کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی اولین ترجیحات میں شامل ہے،  نقصان کرنے والی جینکوز کی نیلامی جلد مکمل کی جائے، وزیراعظم جینکوز کی نیلامی کے عمل کو میڈیا پر براہ راست نشر کیا جائے۔</p>
<p>انہوں نے ہدایت کی کہ اسمارٹ میٹرز کی تنصیب مکمل کرکے جلد رپورٹ پیش کی جائے،  بلوچستان کے ٹیوب ویلز کی سولرائزیشن کا عمل مکمل ہو چکا، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے عمل کو تیز کیا جائے، ملک بھر میں الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز کے قیام کے عمل کو تیز کیا جائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1262713</guid>
      <pubDate>Wed, 25 Jun 2025 22:18:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/06/252146152eeca5f.jpg?r=214710" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/06/252146152eeca5f.jpg?r=214710"/>
        <media:title>—فوٹو: اے پی پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاور سیکٹر کے قرضوں کو کم کرنے کیلئے 4.5 ارب ڈالر کے قرض معاہدے پر دستخط</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1262277/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان نے اپنے توانائی کے شعبے میں بڑھتے ہوئے قرض کی ادائیگی میں مدد کے لیے 18 کمرشل بینکوں کے ساتھ 12 کھرب 75 ارب روپے (4.50 ارب ڈالر) کی اسلامی مالیاتی سہولت کے لیے ٹرم شیٹس پر دستخط کردیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1918559/45bn-loan-deal-signed-to-ease-power-sector-debt"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق حکومت، جو کہ بجلی کے بنیادی ڈھانچے کے زیادہ تر حصے کی مالک ہے یا اسے کنٹرول کرتی ہے، بڑھتے ہوئے سرکلر ڈیٹ، ادا نہ کیے جانے والے بلوں اور سبسڈیز سے دوچار ہے، جس نے اس شعبے کا گلا گھونٹ دیا ہے اور معیشت پر بوجھ ڈالا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکویڈیٹی بحران نے سپلائی میں خلل ڈالا ہے، سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کی ہے اور مالیاتی دباؤ میں اضافہ کیا ہے، جس کے باعث یہ پاکستان کے 7 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام میں ایک کلیدی توجہ بن گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1261991"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خسارے کو پورا کرنے کے لیے فنڈز کا بندوبست کرنا ایک مستقل چیلنج رہا ہے، کیونکہ محدود مالی گنجائش اور مہنگے پُرانے قرضے حل کی کوششوں کو مزید مشکل بنا دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے ’رائٹرز‘ کو بتایا کہ اٹھارہ کمرشل بینکس، اسلامی فنانسنگ کے ذریعے قرض فراہم کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سہولت، جو اسلامی اصولوں کے تحت ترتیب دی گئی ہے، رعایتی شرح پر حاصل کی گئی ہے جو تین ماہ کے کائبور (KIBOR) — وہ معیار شرح سود جو بینک قرضوں کی قیمت طے کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں — سے 0.9 فیصد کم ہے، اور یہ فارمولا آئی ایم ایف کے ساتھ طے پایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا کہ ’یہ چھ سالوں میں 24 سہ ماہی اقساط میں ادا کیا جائے گا اور اس سے عوامی قرضوں میں اضافہ نہیں ہوگا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ واجبات پر زیادہ لاگت آتی ہے، جن میں نجی بجلی پیدا کرنے والوں (آئی پی پیز) کو تاخیر سے ادائیگی پر کائبور کے علاوہ 4.5 فیصد تک سرچارج شامل ہے، جبکہ پرانے قرضے بینچ مارک شرح سے کچھ زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میزان بینک، ایچ بی ایل، نیشنل بینک آف پاکستان اور یو بی ایل معاہدے میں حصہ لینے والے بینکوں میں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت، قرض کی ادائیگی کے لیے سالانہ 323 ارب روپے مختص کرنے کی توقع رکھتی ہے، جس کی حد چھ سالوں میں 19 کھرب 38 ارب روپے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاہدہ پاکستان کے 2028 تک سود پر مبنی بینکاری کو ختم کرنے کے ہدف کے ساتھ بھی مطابقت رکھتا ہے، جس میں اسلامی مالیات اب کل بینکنگ اثاثوں کا تقریباً ایک چوتھائی پر مشتمل ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان نے اپنے توانائی کے شعبے میں بڑھتے ہوئے قرض کی ادائیگی میں مدد کے لیے 18 کمرشل بینکوں کے ساتھ 12 کھرب 75 ارب روپے (4.50 ارب ڈالر) کی اسلامی مالیاتی سہولت کے لیے ٹرم شیٹس پر دستخط کردیے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کی <a href="https://www.dawn.com/news/1918559/45bn-loan-deal-signed-to-ease-power-sector-debt"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق حکومت، جو کہ بجلی کے بنیادی ڈھانچے کے زیادہ تر حصے کی مالک ہے یا اسے کنٹرول کرتی ہے، بڑھتے ہوئے سرکلر ڈیٹ، ادا نہ کیے جانے والے بلوں اور سبسڈیز سے دوچار ہے، جس نے اس شعبے کا گلا گھونٹ دیا ہے اور معیشت پر بوجھ ڈالا ہے۔</p>
<p>لیکویڈیٹی بحران نے سپلائی میں خلل ڈالا ہے، سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کی ہے اور مالیاتی دباؤ میں اضافہ کیا ہے، جس کے باعث یہ پاکستان کے 7 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام میں ایک کلیدی توجہ بن گیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1261991"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>خسارے کو پورا کرنے کے لیے فنڈز کا بندوبست کرنا ایک مستقل چیلنج رہا ہے، کیونکہ محدود مالی گنجائش اور مہنگے پُرانے قرضے حل کی کوششوں کو مزید مشکل بنا دیتے ہیں۔</p>
<p>وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے ’رائٹرز‘ کو بتایا کہ اٹھارہ کمرشل بینکس، اسلامی فنانسنگ کے ذریعے قرض فراہم کریں گے۔</p>
<p>یہ سہولت، جو اسلامی اصولوں کے تحت ترتیب دی گئی ہے، رعایتی شرح پر حاصل کی گئی ہے جو تین ماہ کے کائبور (KIBOR) — وہ معیار شرح سود جو بینک قرضوں کی قیمت طے کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں — سے 0.9 فیصد کم ہے، اور یہ فارمولا آئی ایم ایف کے ساتھ طے پایا ہے۔</p>
<p>وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا کہ ’یہ چھ سالوں میں 24 سہ ماہی اقساط میں ادا کیا جائے گا اور اس سے عوامی قرضوں میں اضافہ نہیں ہوگا‘۔</p>
<p>موجودہ واجبات پر زیادہ لاگت آتی ہے، جن میں نجی بجلی پیدا کرنے والوں (آئی پی پیز) کو تاخیر سے ادائیگی پر کائبور کے علاوہ 4.5 فیصد تک سرچارج شامل ہے، جبکہ پرانے قرضے بینچ مارک شرح سے کچھ زیادہ ہے۔</p>
<p>میزان بینک، ایچ بی ایل، نیشنل بینک آف پاکستان اور یو بی ایل معاہدے میں حصہ لینے والے بینکوں میں شامل ہیں۔</p>
<p>حکومت، قرض کی ادائیگی کے لیے سالانہ 323 ارب روپے مختص کرنے کی توقع رکھتی ہے، جس کی حد چھ سالوں میں 19 کھرب 38 ارب روپے ہے۔</p>
<p>یہ معاہدہ پاکستان کے 2028 تک سود پر مبنی بینکاری کو ختم کرنے کے ہدف کے ساتھ بھی مطابقت رکھتا ہے، جس میں اسلامی مالیات اب کل بینکنگ اثاثوں کا تقریباً ایک چوتھائی پر مشتمل ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1262277</guid>
      <pubDate>Sat, 21 Jun 2025 13:12:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/06/21130909f9d5ae8.jpg?r=131117" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/06/21130909f9d5ae8.jpg?r=131117"/>
        <media:title>— فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی کیلئے بجلی 2.99 روپے فی یونٹ سستی، باقی ملک کیلئے 93 پیسے مہنگی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1261002/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی کے لیے ماہانہ ایڈجسٹمنٹ میں بجلی 2 روپے 99 پیسے فی یونٹ سستی جبکہ باقی ملک کے لیے 93 پیسے فی یونٹ مہنگی کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمتوں سے متعلق الگ، الگ نوٹیفکیشنز جاری کر دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹیفکیشن کے مطابق کراچی کے لیے بجلی کی قیمت میں 2 روپے 99 پیسے فی یونٹ کی کمی کی گئی ہے، کراچی کے صارفین کو کمی کا ریلیف جون کے بلوں میں ملے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید کہا گیا ہے کہ کے الیکٹرک کے لیے بجلی مارچ 2025 کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ میں سستی کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ کے الیکٹرک نے 5 روپے 2 پیسے فی یونٹ کمی کی درخواست جمع کرائی تھی، مگر کراچی والوں کو مکمل ریلیف نہیں مل سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیپرا کی جانب سے جاری دوسرے نوٹیفکیشن کے مطابق باقی ملک کے لیے بجلی 93 پیسے فی یونٹ مہنگی کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹی فکیشن کے مطابق ملک کے لیے اپریل 2025 کی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمت میں اضافہ کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صارفین سے یہ اضافی وصولیاں جون کے بلوں میں کی جائیں گی، سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے اپریل 2025 کی ایڈجسٹمنٹ میں ایک روپے 27 پیسے فی یونٹ کا اضافہ مانگا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی کے لیے ماہانہ ایڈجسٹمنٹ میں بجلی 2 روپے 99 پیسے فی یونٹ سستی جبکہ باقی ملک کے لیے 93 پیسے فی یونٹ مہنگی کی گئی ہے۔</p>
<p>نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمتوں سے متعلق الگ، الگ نوٹیفکیشنز جاری کر دیے۔</p>
<p>نوٹیفکیشن کے مطابق کراچی کے لیے بجلی کی قیمت میں 2 روپے 99 پیسے فی یونٹ کی کمی کی گئی ہے، کراچی کے صارفین کو کمی کا ریلیف جون کے بلوں میں ملے گا۔</p>
<p>مزید کہا گیا ہے کہ کے الیکٹرک کے لیے بجلی مارچ 2025 کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ میں سستی کی گئی ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ کے الیکٹرک نے 5 روپے 2 پیسے فی یونٹ کمی کی درخواست جمع کرائی تھی، مگر کراچی والوں کو مکمل ریلیف نہیں مل سکا۔</p>
<p>نیپرا کی جانب سے جاری دوسرے نوٹیفکیشن کے مطابق باقی ملک کے لیے بجلی 93 پیسے فی یونٹ مہنگی کی گئی ہے۔</p>
<p>نوٹی فکیشن کے مطابق ملک کے لیے اپریل 2025 کی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمت میں اضافہ کیا گیا ہے۔</p>
<p>صارفین سے یہ اضافی وصولیاں جون کے بلوں میں کی جائیں گی، سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے اپریل 2025 کی ایڈجسٹمنٹ میں ایک روپے 27 پیسے فی یونٹ کا اضافہ مانگا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1261002</guid>
      <pubDate>Thu, 05 Jun 2025 17:17:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر شیرانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/06/05165951062fcbd.jpg?r=165954" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/06/05165951062fcbd.jpg?r=165954"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ملک بھر میں ایک لاکھ 16 ہزار سے زائد نئے گیس کنکشنز دینے کا منصوبہ تیار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1261458/</link>
      <description>&lt;p&gt;ملک میں گیس کی قلت کے باوجود ایک لاکھ 16 ہزار سے زائد نئے گیس کنکشنز دینے کا منصوبہ تیار کرلیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری دستاویز کے مطابق آئندہ مالی سال ایک لاکھ 15 ہزار 530 نئےگھریلو گیس صارفین، 550 نئے کمرشل گیس صارفین اور 350 نئے صنعتی صارفین کو کنکشن دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق سندھ اور بلوچستان میں آئندہ مالی سال 85 ہزار 740 نئے گیس کنکشن دیے جائیں گے، پنجاب، اسلام آباد، اور خیبر پختونخوا میں آئندہ مالی سال 30 ہزار 530 نئے گیس کنکشنز دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1236213"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں مالی سال کے نظرثانی ہدف کے مقابلے میں نئے سال 96 ہزار 209  نئے گیس کنکشنز دینے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، آئندہ مالی سال سوئی ناردرن کے سسٹم پر 30 ہزار 530 نئے گیس کنکشنز کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دستیاب دستاویز کے مطابق نئے مالی سال میں سوئی سدرن کے سسٹم پر 85 ہزار 740 نئے گیس کنکشن دینے کا ہدف رکھا گیا ہے، آئندہ مالی سال ایک لاکھ 15 ہزار 530 نئے گھریلو گیس صارفین کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ رواں مالی سال 25-2024 میں نئے گیس کنکشنز کا ہدف 68 ہزار 990 مقرر کیا گیا ہے، تاہم رواں مالی سال نظرثانی شدہ نئے گیس کنکشنز کا ہدف 20 ہزار 61 ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ملک میں گیس کی قلت کے باوجود ایک لاکھ 16 ہزار سے زائد نئے گیس کنکشنز دینے کا منصوبہ تیار کرلیا گیا ہے۔</p>
<p>سرکاری دستاویز کے مطابق آئندہ مالی سال ایک لاکھ 15 ہزار 530 نئےگھریلو گیس صارفین، 550 نئے کمرشل گیس صارفین اور 350 نئے صنعتی صارفین کو کنکشن دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق سندھ اور بلوچستان میں آئندہ مالی سال 85 ہزار 740 نئے گیس کنکشن دیے جائیں گے، پنجاب، اسلام آباد، اور خیبر پختونخوا میں آئندہ مالی سال 30 ہزار 530 نئے گیس کنکشنز دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1236213"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>رواں مالی سال کے نظرثانی ہدف کے مقابلے میں نئے سال 96 ہزار 209  نئے گیس کنکشنز دینے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، آئندہ مالی سال سوئی ناردرن کے سسٹم پر 30 ہزار 530 نئے گیس کنکشنز کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔</p>
<p>دستیاب دستاویز کے مطابق نئے مالی سال میں سوئی سدرن کے سسٹم پر 85 ہزار 740 نئے گیس کنکشن دینے کا ہدف رکھا گیا ہے، آئندہ مالی سال ایک لاکھ 15 ہزار 530 نئے گھریلو گیس صارفین کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ رواں مالی سال 25-2024 میں نئے گیس کنکشنز کا ہدف 68 ہزار 990 مقرر کیا گیا ہے، تاہم رواں مالی سال نظرثانی شدہ نئے گیس کنکشنز کا ہدف 20 ہزار 61 ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1261458</guid>
      <pubDate>Thu, 12 Jun 2025 15:45:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر شیرانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/06/1213031081ffa6a.jpg?r=154539" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/06/1213031081ffa6a.jpg?r=154539"/>
        <media:title>رواں مالی سال نظرثانی شدہ نئے گیس کنکشنز کا ہدف 20 ہزار 61 ہے — فائل فوٹو: نیوز 360
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شہباز شریف نئی ٹیرف پالیسی کا اعلان جلد کریں گے، وفاقی وزیر توانائی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1260497/</link>
      <description>&lt;p&gt;وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف جلد نئی ٹیرف پالیسی کا اعلان کریں گے، جس سے صنعتوں کے مزید مسابقتی ہونے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ رواں ماہ کے اوائل میں ایک اہم پالیسی تبدیلی میں وزیر اعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ 26-2025 میں اعلان کیے جانے والے جامع پانچ سالہ ٹیرف اصلاحات کے منصوبے کی &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1259479/"&gt;&lt;strong&gt;منظوری&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; دی تھی، جس کا مقصد کسٹم ڈیوٹی، اضافی کسٹم ڈیوٹی، خام مال اور نیم تیار اشیا پر ریگولیٹری ڈیوٹی، اور مخصوص صنعتوں کے لیے مجموعی محصولات کے تحفظات میں مرحلہ وار کمی کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگلے روز وزیر اعظم شہاز شریف نے پانچ سالہ قومی ٹیرف پالیسی کو نافذ کرنے، ٹیرف سے متعلق میکرو اکنامک اشاریوں کی نگرانی، اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور برآمدات کے لیے صنعتی سرپلس پیدا کرنے کے لیے ایک مضبوط بیانیہ تیار کرنے کے لیے ایک اعلیٰ اختیاراتی اسٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق آج اسلام آباد میں انرجی ورکشاپ سے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.radio.gov.pk/29-05-2025/new-tariff-policy-expected-to-be-announced-soon-by-pm-awais"&gt;&lt;strong&gt;خطاب&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کرتے ہوئے وفاقی وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ حکومت نے گزشتہ سال صنعتوں کے لیے بجلی کی قیمتوں میں 30 فیصد سے زائد کمی کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اویس لغاری نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے مزید کہا کہ ان کے نقصانات میں کمی حوصلہ افزا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ حکومت قابل تجدید توانائی پر توجہ مرکوز کر رہی ہے اور اس نے گزشتہ چند مہینوں میں فرنس آئل پر مبنی 3 ہزار میگا واٹ کے پلانٹ بند کر دیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اویس لغاری کا کہنا تھا کہ آئندہ 2 سے 3 ماہ میں بلوچستان میں 27 ہزار زرعی ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر منتقل کر دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف جلد نئی ٹیرف پالیسی کا اعلان کریں گے، جس سے صنعتوں کے مزید مسابقتی ہونے کی توقع ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ رواں ماہ کے اوائل میں ایک اہم پالیسی تبدیلی میں وزیر اعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ 26-2025 میں اعلان کیے جانے والے جامع پانچ سالہ ٹیرف اصلاحات کے منصوبے کی <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1259479/"><strong>منظوری</strong></a> دی تھی، جس کا مقصد کسٹم ڈیوٹی، اضافی کسٹم ڈیوٹی، خام مال اور نیم تیار اشیا پر ریگولیٹری ڈیوٹی، اور مخصوص صنعتوں کے لیے مجموعی محصولات کے تحفظات میں مرحلہ وار کمی کرنا ہے۔</p>
<p>اگلے روز وزیر اعظم شہاز شریف نے پانچ سالہ قومی ٹیرف پالیسی کو نافذ کرنے، ٹیرف سے متعلق میکرو اکنامک اشاریوں کی نگرانی، اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور برآمدات کے لیے صنعتی سرپلس پیدا کرنے کے لیے ایک مضبوط بیانیہ تیار کرنے کے لیے ایک اعلیٰ اختیاراتی اسٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دی تھی۔</p>
<p>ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق آج اسلام آباد میں انرجی ورکشاپ سے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.radio.gov.pk/29-05-2025/new-tariff-policy-expected-to-be-announced-soon-by-pm-awais"><strong>خطاب</strong></a> کرتے ہوئے وفاقی وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ حکومت نے گزشتہ سال صنعتوں کے لیے بجلی کی قیمتوں میں 30 فیصد سے زائد کمی کی ہے۔</p>
<p>اویس لغاری نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے مزید کہا کہ ان کے نقصانات میں کمی حوصلہ افزا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ حکومت قابل تجدید توانائی پر توجہ مرکوز کر رہی ہے اور اس نے گزشتہ چند مہینوں میں فرنس آئل پر مبنی 3 ہزار میگا واٹ کے پلانٹ بند کر دیے ہیں۔</p>
<p>اویس لغاری کا کہنا تھا کہ آئندہ 2 سے 3 ماہ میں بلوچستان میں 27 ہزار زرعی ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر منتقل کر دیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1260497</guid>
      <pubDate>Thu, 29 May 2025 21:34:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/05/292130460e5b1f9.png?r=213059" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/05/292130460e5b1f9.png?r=213059"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت کا نیپرا کے ’کے الیکٹرک دوست‘ فیصلوں کو چیلنج کرنے کا عندیہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1260444/</link>
      <description>&lt;p&gt;وفاقی حکومت نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی جانب سے کے الیکٹرک کے حق میں حالیہ فیصلوں پر گہرے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انہیں عوام، صارفین اور ٹیکس دہندگان کے مفادات کے خلاف قرار دیا ہے اور انہیں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1914022/government-to-challenge-k-electric-friendly-nepra-rulings"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے ریگولیٹری فیصلوں پر ایک غیر معمولی عوامی تبصرے میں کہا ہے کہ ان کی وزارت کو نیپرا کے حالیہ فیصلوں پر سنجیدہ تحفظات ہیں، جو صرف ٹیرف سے متعلق نہیں بلکہ کے الیکٹرک کو جنریشن، ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کے لیے جاری کردہ لائسنسز سے بھی متعلق ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر اپنے بیان میں کہا کہ ’وزارت نے نیپرا کے متعدد فیصلوں پر سنجیدہ تحفظات کا اظہار کیا ہے جو کےالیکٹرک کو جنریشن، ٹرانسمیشن، ڈسٹری بیوشن اور سپلائی کے لائسنس سے متعلق ہیں، ان فیصلوں کا تعلق ملٹی ایئر ٹیرف کی آئندہ مدت کے لیے سرمایہ کاری کے منصوبے سے بھی ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/akleghari/status/1927652004517613986"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’یہ فیصلے صارفین کے ٹیرف اور یکساں ٹیرف نظام کے تحت وفاقی حکومت کی سبسڈی پر طویل المدتی اثرات ڈال سکتے ہیں، وزارت ٹرانسمیشن، ڈسٹری بیوشن اور سپلائی سے متعلق حال ہی میں جاری کردہ فیصلوں کا جائزہ لینے کا ارادہ رکھتی ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اویس لغاری نے یاد دلایا کہ کے الیکٹرک کے لیے جنریشن ٹیرف سے متعلق پہلے فیصلے پر دسمبر 2024 میں جمع کروائی گئی نظرثانی درخواست تقریباً 6 ماہ سے نیپرا کی توجہ کی منتظر ہے، انہوں نے خبردار کیا کہ یہ تاخیر توانائی کے شعبے اور اس کی سبسڈی کے لیے سنگین مالی اثرات رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;باخبر ذرائع کے مطابق پاور ڈویژن کو نیپرا کی جانب سے کے الیکٹرک کے بیس پاور سپلائی ٹیرف میں متعارف کرائے گئے ریکوری لاس بینیفٹ اور ناقابل وصول واجبات کی رائٹ آف کلیمز کے معیار میں تبدیلی پر شدید تحفظات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ دونوں اقدامات ٹیرف ڈفرینشل سبسڈی (ٹی ڈی ایس) کی لاگت میں نمایاں اضافے کا سبب سمجھے جا رہے ہیں، جو موجودہ مالی سال کے لیے وفاقی بجٹ سے ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے 260 ارب روپے رکھی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ پاور ڈویژن نے نیپرا کے سامنے نظرثانی کی درخواست جمع کرانے کی تیاری شروع کر دی ہے تاکہ کےالیکٹرک کی جنریشن، ٹرانسمیشن، ڈسٹری بیوشن، سپلائی ٹیرف اور لائسنسز سے متعلق متعدد نکات کو چیلنج کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1260374"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت ڈپریسی ایشن، سرمایہ کاری پر منافع، قرضوں کے سود کی شرح اور قرضوں کے حساب کتاب کے طریقہ کار پر بھی غیر مطمئن ہے، اس کا ماننا ہے کہ مالی اداروں کو کے الیکٹرک کی طرف سے ادا کیا جانے والا سود اصل طور پر شمار ہونا چاہیے تھا، مگر موجودہ ٹیرف میں وہ غیر ضروری حد تک زیادہ لگ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق حکومت کا مؤقف ہے کہ نیپرا کےحالیہ  فیصلوں کے ذریعے کے-الیکٹرک کو غیر معمولی منافع دیا گیا ہے، جو اس کے حق سے زیادہ ہے اور سرکاری سبسڈی کے ذریعے نجی اداروں کو فائدہ پہنچانا درست نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کا کہنا ہے کہ نجی اداروں کو بہتر کارکردگی کی بنیاد پر ترقی کرنی چاہیے بصورتِ دیگر نجکاری کے ذریعے عوامی شعبے کی موجودہ صورتحال کو بہتر بنانے کی توقع نہیں کی جاسکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر توانائی نے کہا کہ ’اگر ان مخصوص امور کو حل نہ کیا گیا تو یہ نہ صرف صارفین بلکہ پورے ریگولیٹری نظام پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں اور پاکستان کی ڈسٹری بیوشن سیکٹر میں نجی شراکت داری کے فروغ کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو نیپرا نے کےالیکٹرک کے لیے 24-2023 کے لیے بیس ٹیرف 40 روپے فی یونٹ مقرر کیا، جو کہ 2024 کے لیے بجلی کی 10 سرکاری تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے اوسط 28 روپے فی یونٹ سے تقریباً 40 فیصد زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈسکوز کے اوسط ٹیرف اور کےالیکٹرک کے منظور شدہ زیادہ ٹیرف کے درمیان جو فرق (ڈیلٹا) پیدا ہوتا ہے وہ براہِ راست وفاقی بجٹ کے ذریعے ٹیرف ڈفرینشل سبسڈی (ٹی ڈی ائس) کی شکل میں ٹیکس دہندگان پر منتقل کر دیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیپرا نے اپنی فیصلہ سازی میں کے الیکٹرک کے بلوں کی 100 فیصد وصولی کی بنیاد پر طے کردہ پر مبنی ٹیرف میکانزم کو تبدیل کیا اور اس کے بجائے وصولی کے نقصانات ٹیرف میں پورا کرنے کی اجازت دے دی، جو مالی 2024 میں 6.75 فیصد سے شروع ہو کر مالی سال 2030 تک بتدریج 3.5 فیصد تک کم ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈسکوز کا ٹیرف اب بھی بلوں کی 100 فیصد وصولی کی بنیاد پر ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وفاقی حکومت نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی جانب سے کے الیکٹرک کے حق میں حالیہ فیصلوں پر گہرے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انہیں عوام، صارفین اور ٹیکس دہندگان کے مفادات کے خلاف قرار دیا ہے اور انہیں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1914022/government-to-challenge-k-electric-friendly-nepra-rulings"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے ریگولیٹری فیصلوں پر ایک غیر معمولی عوامی تبصرے میں کہا ہے کہ ان کی وزارت کو نیپرا کے حالیہ فیصلوں پر سنجیدہ تحفظات ہیں، جو صرف ٹیرف سے متعلق نہیں بلکہ کے الیکٹرک کو جنریشن، ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کے لیے جاری کردہ لائسنسز سے بھی متعلق ہیں۔</p>
<p>وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر اپنے بیان میں کہا کہ ’وزارت نے نیپرا کے متعدد فیصلوں پر سنجیدہ تحفظات کا اظہار کیا ہے جو کےالیکٹرک کو جنریشن، ٹرانسمیشن، ڈسٹری بیوشن اور سپلائی کے لائسنس سے متعلق ہیں، ان فیصلوں کا تعلق ملٹی ایئر ٹیرف کی آئندہ مدت کے لیے سرمایہ کاری کے منصوبے سے بھی ہے‘۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/akleghari/status/1927652004517613986"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے کہا کہ ’یہ فیصلے صارفین کے ٹیرف اور یکساں ٹیرف نظام کے تحت وفاقی حکومت کی سبسڈی پر طویل المدتی اثرات ڈال سکتے ہیں، وزارت ٹرانسمیشن، ڈسٹری بیوشن اور سپلائی سے متعلق حال ہی میں جاری کردہ فیصلوں کا جائزہ لینے کا ارادہ رکھتی ہے‘۔</p>
<p>اویس لغاری نے یاد دلایا کہ کے الیکٹرک کے لیے جنریشن ٹیرف سے متعلق پہلے فیصلے پر دسمبر 2024 میں جمع کروائی گئی نظرثانی درخواست تقریباً 6 ماہ سے نیپرا کی توجہ کی منتظر ہے، انہوں نے خبردار کیا کہ یہ تاخیر توانائی کے شعبے اور اس کی سبسڈی کے لیے سنگین مالی اثرات رکھتی ہے۔</p>
<p>باخبر ذرائع کے مطابق پاور ڈویژن کو نیپرا کی جانب سے کے الیکٹرک کے بیس پاور سپلائی ٹیرف میں متعارف کرائے گئے ریکوری لاس بینیفٹ اور ناقابل وصول واجبات کی رائٹ آف کلیمز کے معیار میں تبدیلی پر شدید تحفظات ہیں۔</p>
<p>یہ دونوں اقدامات ٹیرف ڈفرینشل سبسڈی (ٹی ڈی ایس) کی لاگت میں نمایاں اضافے کا سبب سمجھے جا رہے ہیں، جو موجودہ مالی سال کے لیے وفاقی بجٹ سے ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے 260 ارب روپے رکھی گئی ہے۔</p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ پاور ڈویژن نے نیپرا کے سامنے نظرثانی کی درخواست جمع کرانے کی تیاری شروع کر دی ہے تاکہ کےالیکٹرک کی جنریشن، ٹرانسمیشن، ڈسٹری بیوشن، سپلائی ٹیرف اور لائسنسز سے متعلق متعدد نکات کو چیلنج کیا جا سکے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1260374"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت ڈپریسی ایشن، سرمایہ کاری پر منافع، قرضوں کے سود کی شرح اور قرضوں کے حساب کتاب کے طریقہ کار پر بھی غیر مطمئن ہے، اس کا ماننا ہے کہ مالی اداروں کو کے الیکٹرک کی طرف سے ادا کیا جانے والا سود اصل طور پر شمار ہونا چاہیے تھا، مگر موجودہ ٹیرف میں وہ غیر ضروری حد تک زیادہ لگ رہا ہے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق حکومت کا مؤقف ہے کہ نیپرا کےحالیہ  فیصلوں کے ذریعے کے-الیکٹرک کو غیر معمولی منافع دیا گیا ہے، جو اس کے حق سے زیادہ ہے اور سرکاری سبسڈی کے ذریعے نجی اداروں کو فائدہ پہنچانا درست نہیں۔</p>
<p>حکومت کا کہنا ہے کہ نجی اداروں کو بہتر کارکردگی کی بنیاد پر ترقی کرنی چاہیے بصورتِ دیگر نجکاری کے ذریعے عوامی شعبے کی موجودہ صورتحال کو بہتر بنانے کی توقع نہیں کی جاسکتی۔</p>
<p>وزیر توانائی نے کہا کہ ’اگر ان مخصوص امور کو حل نہ کیا گیا تو یہ نہ صرف صارفین بلکہ پورے ریگولیٹری نظام پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں اور پاکستان کی ڈسٹری بیوشن سیکٹر میں نجی شراکت داری کے فروغ کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں‘۔</p>
<p>منگل کو نیپرا نے کےالیکٹرک کے لیے 24-2023 کے لیے بیس ٹیرف 40 روپے فی یونٹ مقرر کیا، جو کہ 2024 کے لیے بجلی کی 10 سرکاری تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے اوسط 28 روپے فی یونٹ سے تقریباً 40 فیصد زیادہ ہے۔</p>
<p>ڈسکوز کے اوسط ٹیرف اور کےالیکٹرک کے منظور شدہ زیادہ ٹیرف کے درمیان جو فرق (ڈیلٹا) پیدا ہوتا ہے وہ براہِ راست وفاقی بجٹ کے ذریعے ٹیرف ڈفرینشل سبسڈی (ٹی ڈی ائس) کی شکل میں ٹیکس دہندگان پر منتقل کر دیا جاتا ہے۔</p>
<p>نیپرا نے اپنی فیصلہ سازی میں کے الیکٹرک کے بلوں کی 100 فیصد وصولی کی بنیاد پر طے کردہ پر مبنی ٹیرف میکانزم کو تبدیل کیا اور اس کے بجائے وصولی کے نقصانات ٹیرف میں پورا کرنے کی اجازت دے دی، جو مالی 2024 میں 6.75 فیصد سے شروع ہو کر مالی سال 2030 تک بتدریج 3.5 فیصد تک کم ہوں گے۔</p>
<p>دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈسکوز کا ٹیرف اب بھی بلوں کی 100 فیصد وصولی کی بنیاد پر ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1260444</guid>
      <pubDate>Thu, 29 May 2025 14:00:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خلیق کیانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/05/29112748024ea3b.jpg?r=140042" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/05/29112748024ea3b.jpg?r=140042"/>
        <media:title>— فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
