<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - OnDawnNews</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 18:38:12 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 18:38:12 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی کے شپاٹر!</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274915/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی کی بڑی شاہراہوں پر گاڑی چلانے والے اکثر ڈرائیوروں نے یہ منظر بارہا دیکھا ہے، خاص طور پر ویک اینڈ کی راتوں اور سرکاری تعطیلات پر، پیچھے سے تیزی سے قریب آتی ہوئی ایک ’ایسی موٹر سائیکل جس پر کوئی سوار نہ ہو‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدا میں وہ ریئر ویو مرر میں محض ایک دھندلا سا سایہ ہوتی ہے۔ پھر جیسے جیسے وہ قریب آتی ہے، ڈرائیور کو آخرکار ایک نوجوان نظر آتا ہے جو پوری موٹر سائیکل پر چپکا ہوا لیٹا ہوتا ہے، اس کی آنکھیں ہینڈل کے عین اوپر سے سڑک کو گھور رہی ہوتی ہیں، اسپیڈومیٹر غائب ہوتا ہے، بازو جسم کے ساتھ جکڑے ہوتے ہیں یا تو ہینڈل کو مضبوطی سے تھامے ہوئے یا بعض اوقات سائڈ پر سسپنشن کو پکڑ کر، کاندھوں کی مدد سے ہینڈل کو موڑتے ہوئے۔ ٹانگیں یا تو بالکل سیدھی لیٹی ہوتی ہیں یا ٹخنوں پر قینچی کی طرح جڑی ہوتی ہیں، پورا جسم ہوا کی رفتار کو کم کرنے والی پوزیشن میں جکڑا ہوا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/12/241854165fb927d.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/12/241854165fb927d.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;زیادہ تر ڈرائیور جانتے ہیں کہ ایسی موٹر سائیکل کا سامنا ہو تو انہیں کیا کرنا چاہیے: اپنی لائن برقرار رکھیں، دائیں جائیں نہ بائیں۔ اچانک بریک نہ لگائیں۔ اسٹیئرنگ نہ موڑیں۔ تقریباً ہر بار، موٹر سائیکل سوار آخری لمحے میں مڑتا ہے، گاڑیوں کے درمیان سے زِگ زیگ کرتا ہوا نکل جاتا ہے اور پلک جھپکتے ہی غائب ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن یہ شاذ و نادر ہی اکیلا ہوتا ہے۔ اس کے فوراً بعد ایسی ہی کئی موٹر سائیکلوں کا جھنڈ آتا ہے، جو ہر سمت سے گزر جاتا ہے، ڈرائیوروں کو اسٹیئرنگ وہیل مضبوطی سے پکڑنے اور دل ہی دل میں دعائیں مانگنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ موٹر سائیکل سواروں کی سلامتی کے لیے بھی اور اپنی جان کے لیے بھی۔ اس برق رفتاری پر معمولی سی غلطی، اچانک لین بدلنا، گھبراہٹ میں بریک لگانا، لمحہ بھر کی ہچکچاہٹ۔ نہ صرف موٹر سائیکل سوار بلکہ سڑک پر موجود کسی بھی شخص کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سوار زیادہ تر کم عمر اور نوجوان ہوتے ہیں۔ ان کے پاس حفاظتی سامان کے نام پر صرف آنکھوں پر لگے گوگلز ہوتے ہیں، تاکہ گرد و غبار سے نظر دھندلی نہ ہو۔ ان کی موٹر سائیکلیں بالکل برہنہ ہوتی ہیں، تیزرفتاری کی غرض سے ہر غیر ضروری پرزہ ہٹا دیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی کی سڑکوں پر انہیں ایک ہی نام سے جانا جاتا ہے، شپاٹر۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/12/69474bad82242.jpg'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/12/69474bad82242.jpg'  alt='فوٹو: وائٹ اسٹار' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فوٹو: وائٹ اسٹار&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="شپاٹر-کیا-ہوتا-ہے" href="#شپاٹر-کیا-ہوتا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;شپاٹر کیا ہوتا ہے؟&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;اس لفظ کے اصل اور درست معنی واضح نہیں تاہم کراچی کے تجربہ کار موٹر سائیکل ریسرز کے مطابق یہ غالباً ’شارپ‘ اور ’فنٹر‘ (مقامی طور پر punter کا بگڑی ہوئی شکل) کا مجموعہ ہے، جس سے مراد کم عمری میں دو پہیوں پر غیر معمولی مہارت دکھانے والا فرد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اصطلاح 1990 کی دہائی سے رائج ہے اور بعض اوقات اسے سیاسی طاقت اور چھوٹے جرائم سے بھی جوڑا گیا، اگرچہ ریسرز اس تصور کو اب غیر متعلق سمجھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;24 سالہ محمد طارق جو طارق 180 کے نام سے مشہور ہیں، نے بتایا کہ ’ہم میں سے زیادہ تر محنت کش لوگ ہیں، جو ریسنگ کے شوقین ہیں‘۔ مضبوط جسامت کے حامل طارق ایک ماہر مکینک بھی ہیں اور اب اپنی ورکشاپ چلاتے ہیں۔ انہوں نے 2009 میں اسکول چھوڑ کر بطور اپرینٹس کام شروع کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طارق ریسنگ کی دنیا میں موٹرسائیکل پر وہیلی کرنے سے داخل ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طارق نے بتایا کہ’ 14-2013 میں، میں نے CB 180cc بائیک خریدی، جس کے بعد مجھے 180 کا نام ملا‘۔ تاہم طارق کو اپنے بیشتر ہم عصروں پر ایک نمایاں برتری حاصل ہے۔ وہ صرف سوار نہیں بلکہ استاد بھی ہیں، ایک ایسا ماہر مکینک جو موٹر سائیکل کے ہر پرزے کو سمجھتا ہے اور جانتا ہے کہ کسی خاص ریس کے لیے اسے کس طرح بہترین بنایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن ایک نوجوان ایسا بھی تھا، جس نے محض اپنی رائیڈنگ مہارت کے بل پر کراچی کے اس غیر قانونی ریسنگ سرکٹ میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔ اس کی سب سے مشہور ریس جو اس کی آخری بھی ثابت ہوئی آج بھی معما بنی ہوئی ہے اور شاید یہی اس کے افسانوی کردار کو مزید مضبوط کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.dawn.com/medium/2025/12/69474badbb311.jpg'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/medium/2025/12/69474badbb311.jpg'  alt=' اُذیب اپنی بیٹی کے ساتھ موٹرسائیکل پر سوا ہیں۔ فوٹو: بذریعہ فیملی ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;اُذیب اپنی بیٹی کے ساتھ موٹرسائیکل پر سوا ہیں۔ فوٹو: بذریعہ فیملی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="بابو-70-کی-داستان" href="#بابو-70-کی-داستان" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;بابو 70 کی داستان&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;اُزیب مصطفیٰ جو بابو 70 کے نام سے مشہور ہوئے، کا جنون بھی گزدرآباد (رنچھوڑ لائنز) میں بچپن کے دوران سائیکل پر وہیلی کرنے سے شروع ہوا۔ ان کے بھائی مرتضیٰ کے مطابق علاقے کے بیشتر نوجوانوں کی طرح وہ بھی ریحان استاد کی ورکشاپ میں بیٹھنے لگے، جہاں موٹر سائیکلوں کے پرزوں اور مرمت کا کاروبار عروج پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دُبلے جسم کے حامل تقریباً 5 فٹ 6 انچ قد کے بابو ریسنگ کے لیے موزوں جسم رکھتے تھے۔ سائیکل اور پھر موٹر سائیکل پر وہیلی کرنے میں ان کی مہارت پہلے ہی انہیں ممتاز بنا چکی تھی۔ انہیں بابو 70 کا نام اپنے والد کی وجہ سے ملا، جو فٹبالر تھے اور 70cc موٹر سائیکل چلاتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ تر شپاٹروں کی طرح بابو نے بھی لائسنس کے بغیر ریسنگ شروع کی۔ 2011 میں 18 برس کی عمر میں انہوں نے چیمپئن ریسر بالی ایکس کو شکست دے کر اپنی پہچان بنائی۔ اگلے پانچ برسوں میں انہوں نے شاہراہِ فیصل اور دیگر ٹریکس پر اپنی برتری قائم کر لی۔ 2016 تک وہ کراچی کے اس وقت کے سرِفہرست شپاٹر، ثاقب سنکی کے برابر آ چکے تھے۔ ان کی رقابت ایک آخری جان لیوا ریس پر ختم ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرتضیٰ کے مطابق ایک موقع پر سنکی اس ریس سے پیچھے ہٹنا چاہتے تھے کیونکہ پہلے کی ایک ریس کے فیصلے پر بابو اور ان کے درمیان تلخی پیدا ہو گئی تھی۔ مگر بابو نے اصرار کیا، کیونکہ وہ دو دن بعد دبئی جا رہے تھے، جہاں ان کے دوست ان کے لیے کاروبار قائم کرنے میں مدد کر رہے تھے۔&lt;br&gt;یہ ریس نومبر 2016 کی ایک صبح 4 بجے ہوئی۔ ابتدا میں منصوبہ تھا کہ 12 کلومیٹر کی ریس شاہراہِ فیصل پر ہو، جو ایئرپورٹ کے قریب سے شروع ہو کر ایف ٹی سی پل پر ختم ہو۔ مگر سڑک پر تیل ہونے کے باعث آغاز کا مقام ڈرگ روڈ ریلوے اسٹیشن کے قریب منتقل کر دیا گیا۔&lt;br&gt;ریس شروع ہوتے ہی بابو نے برتری حاصل کر لی، جو آدھے راستے سے آگے تک برقرار رہی۔ اس پر سب متفق ہیں۔ اس کے بعد کیا ہوا، اس پر اختلاف ہے۔&lt;br&gt;مرتضیٰ کہتے ہیں کہ بابو کو ایک کار نے ٹکر ماری تاہم انہیں یاد نہیں کہ وہ سیڈان تھی یا ہیچ بیک۔ علی جو اب ریسنگ چھوڑ چکے ہیں، دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ثاقب سنکی کے لوگ تھے اور ثاقب سنکی نے خود بھی بابو کی موٹر سائیکل کو لات ماری۔&lt;br&gt;طارق 180 ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ’بابو کی موٹر سائیکل کا انجن ریس کے دوران خراب ہو گیا تھا، تیل بہنے لگا، جو پہیے پر آ گیا اور وہ کنٹرول کھو بیٹھا‘۔&lt;br&gt;مرتضیٰ کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب جیت چند لمحوں کی دوری پر تھی۔ ’وہ تقریباً ایک کلومیٹر تک زمین پر رگڑتا رہا اور شدید زخمی ہو گیا‘۔&lt;br&gt;بابو تقریباً چار ہفتے اسپتال میں زیر علاج رہے اور پھر انتقال کر گئے۔ اہلِ خانہ نے پولیس میں رپورٹ درج نہیں کرائی، جس سے طارق کے اس موقف کو تقویت ملتی ہے کہ کوئی سازش نہیں تھی۔&lt;br&gt;ڈان نے ثاقب سنکی سے رابطے کی کئی کوششیں کیں، مگر ان کے شاگردوں نے بتایا کہ وہ کسی صحافی سے بات نہیں کرنا چاہتے، حالانکہ ان کی ویڈیوز اور ریس باقاعدگی سے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ ہوتی ہیں۔ ایک وجہ ان کے قانونی مسائل ہو سکتے ہیں۔ ثاقب اس وقت 2022 کے ایک ڈکیتی کیس میں ضمانت پر ہیں۔&lt;br&gt;اس کے باوجود ان کی مقبولیت کم نہیں ہوئی۔ ٹک ٹاک، فیس بک اور انسٹاگرام پر ان کے نام سے متعدد اکاؤنٹس چل رہے ہیں۔&lt;br&gt;پھر بھی بہت سے لوگ آج بھی بابو کو ان سے بہتر مانتے ہیں۔ ’بابو واضح طور پر بہتر رائیڈر تھے، اور اگر وہ ثاقب سنکی کو ہرا دیتے تو کراچی کے بے تاج بادشاہ بن جاتے‘۔ سابق ریسر ابراہیم کہتے ہیں ’آج بھی اگر نوجوانوں سے پوچھیں کہ وہ کس جیسے بننا چاہتے ہیں تو اکثر بابو 70 کا نام لیں گے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بابو کی موت کے بعد چند برس تک ان کے مداح ان کی برسی پر یادگاری ریلیاں نکالتے رہے۔ ان کی ریسوں کی ویڈیوز اور کارنامے آج بھی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر چھائے ہوئے ہیں۔ کراچی یا پاکستان کے بہترین رائیڈرز پر جب بھی بحث ہوتی ہے تو ان کا نام لازماً سامنے آتا ہے اور اس بات پر دعوے اور جوابی دعوے ہوتے ہیں کہ کراچی کی سڑکوں پر سب سے بڑا شپاٹر کون تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/12/69474badd25d7.jpg'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/12/69474badd25d7.jpg'  alt='فوٹو: وائٹ اسٹار' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فوٹو: وائٹ اسٹار&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="ریس-رائیڈر-اور-مشین" href="#ریس-رائیڈر-اور-مشین" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ریس، رائیڈر اور مشین&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;طارق کے مطابق عزت و شہرت حاصل کرنے کے لیے صرف بہترین رائیڈر کافی نہیں ایک ماہر استاد بھی ضروری ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’جان تو رائیڈر داؤ پر لگاتا ہے، مگر موٹر سائیکل کو ریس کے لیے تیار استاد ہی کرتا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ زیادہ تر غیر تعلیم یافتہ موٹر سائیکل سوار اپنے عملی تجربے کے ذریعے طبیعیات کے بعض اصولوں  جیسے ایروڈائنامکس اور ہوا کے دباؤ  کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ شپاٹر کی لیٹی ہوئی پوزیشن ہوا کی مزاحمت کم کرتی ہے اور کسی گاڑی کے پیچھے چلنا ہوا کے دباؤ کو گھٹا کر رفتار بڑھاتا ہے۔ طارق اپنے فون میں جی پی ایس میٹر استعمال کرتے ہیں تاکہ ریس سے پہلے موٹر سائیکل کی کارکردگی جانچ سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن اصل کمال استاد کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ برسوں کے تجربے، پرزے کھولنے، جوڑنے اور آزمائش سے یہ مہارت حاصل ہوتی ہے۔ طارق بتاتے ہیں کہ ’اسی طرح 70cc بائیک 150 کلومیٹر فی گھنٹہ سے اوپر جاتی ہے، استاد رائیڈر کو ناقابلِ شکست بنا سکتا ہے، مگر ریسر اور استاد دنوں ہی یکساں اہمیت کے حامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے جب کوئی رائیڈر چیلنج دیتا ہے تو وہ اپنے استاد کا نام بھی لیتا ہے۔ یہ چیلنج اب زیادہ تر فیس بک گروپس میں دیے جاتے ہیں۔ قبولیت کے بعد ایک منصف طے کیا جاتا ہے جو عموماً تجربہ کار رائیڈر ہوتا ہے اور موٹر سائیکل پر سوار دونوں ریسرز کو فالو کر کے ویڈیو بناتا ہے۔ شرط کی رقم، جو 15 ہزار سے ڈیڑھ لاکھ روپے یا اس سے زیادہ ہو سکتی ہے، منصف کے پاس جمع ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریس کی شرائط مقامی اصطلاحات میں طے ہوتی ہیں: جیسے ’اپنی ہوا‘ (دوسرے کے پیچھے نہ چلنا)، ’سی ایس آلٹر‘ (کاربوریٹر اور سپروکیٹس میں تبدیلی کی اجازت)۔ سب سے خطرناک فارمیٹ ’فری اسٹائل‘ ہوتا ہے، جس میں ایک دوسرے کو مارنا، پکڑنا یا لات مارنا شامل ہے ۔ طارق نے بتایا کہ استادوں کے اتفاق سے اب یہ  فری اسٹائل کافی حد تک ختم ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریس سے قبل دونوں فریق موٹر سائیکلوں کا معائنہ کرتے ہیں تاکہ کسی خلاف ورزی کا پتا چلایا جا سکے۔ اگر اعتراضات درست ثابت ہوں تو منصف کسی بھی فریق کو نااہل قرار دے سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شو روم سے شو روم ریسیں بھی ہوتی ہیں، جن میں دونوں فریق شو روم سے موٹر سائیکل لیتے ہیں اور سیدھا طے شدہ ٹریک پر ریس کے لیے پہنچ جاتے ہیں۔ طارق کے مطابق یہ رجحان موٹر سائیکلوں میں تبدیلیوں کی نئی جدت کے باعث سامنے آیا۔ ان کے بقول آج کل ایسی ہوشیاری ہو چکی ہے کہ بڑے بڑے استاد بھی تبدیلیاں نہیں پکڑ پاتے، زیادہ تر تبدیلیاں لاہور کے مکینک کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کراچی میں رائیڈر بہتر ہیں لیکن استاد لاہور میں زیادہ ماہر ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/12/69474badd3197.jpg'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2025/12/69474badd3197.jpg'  alt='فوٹو: وائٹ اسٹار' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فوٹو: وائٹ اسٹار&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="خطرے-کی-قیمت" href="#خطرے-کی-قیمت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;خطرے کی قیمت&lt;/strong&gt;&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;تمام مہارت، دلیری اور کہانیوں کے باوجود شپاٹر جو خطرات مول لیتے ہیں وہ صرف ان تک محدود نہیں رہتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی کی مصروف اور تنگ سڑکیں پہلے ہی شہریوں کے لیے خطرہ ہیں۔ گزشتہ برس شہر میں کم از کم پانچ سو سڑک حادثات میں ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں، جن میں اکثریت موٹر سائیکل سواروں کی تھی تاہم اعداد و شمار میں ریس کرنے والوں کی الگ شناخت موجود نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روڈ ٹریفک انجری ریسرچ اینڈ پریوینشن پروگرام جو نیورو سرجن ڈاکٹر راشد جوما نے شروع کیا تھا، کراچی میں ٹریفک حادثات کے اعداد و شمار جمع کرنے والا واحد پروگرام تھا۔ فنڈز اور سرکاری سرپرستی نہ ملنے پر 2017 میں بند ہونے والے اس پروگرام کی نومبر 2016 کی رپورٹ کے مطابق 2007 سے 2014 کے دوران 9 ہزار 129 افراد ٹریفک حادثات میں جاں بحق ہوئے۔ دستیاب معلومات کے مطابق 8 ہزار 654 کیسز میں سے 3 ہزار 871 یعنی 44.7 فیصد ہلاکتوں میں حادثے کا شکار گاڑی موٹر سائیکل تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کسی بھی ریس کرنے والے موٹر سائیکل سوار سے بات کریں تو وہ دوستوں کے نام گنوا دے گا جو ریسنگ یا پریکٹس کے دوران جان سے گئے۔ طارق اپنے سر کا زخم دکھاتے ہیں جس پر ان کے بقول دو درجن ٹانکے آئے تھے، جبکہ ایک زخم ان کی پشت پر بھی ہے۔ ان کے مطابق محمود آباد کے پانچ چھ لڑکے حالیہ برسوں میں جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں استاد سہیل ایس ون بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹریفک پولیس کے مطابق قانونی کارروائی بہت مشکل ہے کیونکہ ریسیں اچانک طے پاتی ہیں اور اکثر صبح سویرے ہوتی ہیں جب سڑکیں بظاہر خالی ہوتی ہیں۔ کراچی ٹریفک کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پیر محمد شاہ کے مطابق یہ موٹر سائیکل سوار بغیر نمبر پلیٹ اور حفاظتی سامان کے ہوتے ہیں اور اپنی مہارت کے باعث پکڑ میں نہیں آتے۔ ان کا کہنا ہے کہ حال ہی میں فضائی نگرانی متعارف کرائی گئی ہے اور ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کی امید پے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ تر ریس کرنے والے ای چالان یا کریک ڈاؤن کی پروا نہیں کرتے۔ ان کی اصل تشویش ریس کے آغاز کے وقت قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موجودگی ہوتی ہے۔ طارق کے مطابق ریس کے وقت حتیٰ کہ ہائی وے پر بھی رائیڈر آغاز کے مقام پر جمع ہو کر لمحاتی طور پر سڑک بند کرتے ہیں تاکہ ٹریک خالی ہو سکے۔ اس موقع پر پولیس کی آمد سڑک روکنے والوں کے لیے مشکل کھڑی کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجربہ کار پولیس افسر نصراللہ خان جو مختلف ریسنگ ہاٹ اسپاٹس میں ایس ایچ او رہے، کہتے ہیں کہ یہ ریسیں غیر قانونی ہیں اور موٹر سائیکلوں میں غیر مجاز تبدیلیاں بھی جرم ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کو 70 سی سی کی موٹر سائیکل کا ٹیکس ادا کیا جاتا ہے جبکہ گاڑی 150 سی سی کی طرح چلتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نصراللہ خان کے مطابق سی ویو کا ’شیطانی پوائنٹ‘ مختلف ریسوں کا مرکز تھا، جسے سڑک کے درمیان بیریئرز لگا کر بند کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ داخلی اور خارجی راستے بند کر کے کاروں اور بائیکس کی ریسوں میں شامل افراد کو گرفتار کرتے تھے، تاہم عموماً ان پر لاپروائی سے ڈرائیونگ کا مقدمہ ہی بن پاتا اور گاڑیاں ضبط کی جاتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے بقول ریسوں میں استعمال ہونے والی بہت سی موٹر سائیکلیں چوری کی ہوتی ہیں یا ان میں چوری شدہ پرزے لگے ہوتے ہیں۔ طارق کا کہنا ہے کہ وہ اس خدشے سے بچنے کے لیے گاہکوں سے گاڑیوں کے کاغذات طلب کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس افسر اور رائیڈر دونوں متفق ہیں کہ پابندیوں یا کریک ڈاؤن کے باوجود بائیک ریسنگ جاری رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نصراللہ خان کے مطابق واحد حل یہ ہے کہ ریسنگ کو کم خطرناک بنایا جائے، نہ صرف شپاٹرز کے لیے بلکہ سڑک پر موجود دیگر افراد کے لیے بھی۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک ممکنہ حل یہ ہے کہ ریسنگ کے لیے مخصوص جگہ فراہم کی جائے جیسا کہ جیپ ریلیوں اور دیگر مقابلوں میں ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب نے ڈان کو بتایا کہ شہر کی انتظامیہ اس خیال کے لیے تیار ہے، تاہم اگر ایسی جگہ ملی بھی تو وہ شہر کے مضافات میں ہو گی جہاں زیادہ تر لوگ جانا نہیں چاہتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طارق کے مطابق بڑی ریس پہلے ہی ہائی وے کے حصوں پر اور شہر سے باہر نوری آباد تک ہوتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب تک ان کے پاس اپنی جگہ نہیں ہوتی، شپاٹرز کراچی کی سڑکوں پر ریئر ویو مررز میں نظر آتے رہیں گے، ایک تیز رفتار دھندلا سایہ جو اچانک پیچھے سے آتا ہے اور ڈرائیوروں کو اپنی لائن پکڑ کر رکھنے اور خیر کی اُمید کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان سڑکوں پر افسانے اور المیے کے درمیان فاصلہ کلومیٹرز میں نہیں بلکہ لمحوں میں ناپا جاتا ہے اور ہر بابو کے افسانہ بن جانے کے باوجود درجنوں ایسے  ہیں جو اسی عارضی شہرت کے لیے اپنا سب کچھ داؤ پر لگانے کے لیے تیار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;اس تحریر کو انگریزی میں &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1962165/society-the-shapatar-boys-of-karachi"&gt;&lt;strong&gt;پڑھیں&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی کی بڑی شاہراہوں پر گاڑی چلانے والے اکثر ڈرائیوروں نے یہ منظر بارہا دیکھا ہے، خاص طور پر ویک اینڈ کی راتوں اور سرکاری تعطیلات پر، پیچھے سے تیزی سے قریب آتی ہوئی ایک ’ایسی موٹر سائیکل جس پر کوئی سوار نہ ہو‘۔</p>
<p>ابتدا میں وہ ریئر ویو مرر میں محض ایک دھندلا سا سایہ ہوتی ہے۔ پھر جیسے جیسے وہ قریب آتی ہے، ڈرائیور کو آخرکار ایک نوجوان نظر آتا ہے جو پوری موٹر سائیکل پر چپکا ہوا لیٹا ہوتا ہے، اس کی آنکھیں ہینڈل کے عین اوپر سے سڑک کو گھور رہی ہوتی ہیں، اسپیڈومیٹر غائب ہوتا ہے، بازو جسم کے ساتھ جکڑے ہوتے ہیں یا تو ہینڈل کو مضبوطی سے تھامے ہوئے یا بعض اوقات سائڈ پر سسپنشن کو پکڑ کر، کاندھوں کی مدد سے ہینڈل کو موڑتے ہوئے۔ ٹانگیں یا تو بالکل سیدھی لیٹی ہوتی ہیں یا ٹخنوں پر قینچی کی طرح جڑی ہوتی ہیں، پورا جسم ہوا کی رفتار کو کم کرنے والی پوزیشن میں جکڑا ہوا ہوتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/12/241854165fb927d.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/12/241854165fb927d.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>زیادہ تر ڈرائیور جانتے ہیں کہ ایسی موٹر سائیکل کا سامنا ہو تو انہیں کیا کرنا چاہیے: اپنی لائن برقرار رکھیں، دائیں جائیں نہ بائیں۔ اچانک بریک نہ لگائیں۔ اسٹیئرنگ نہ موڑیں۔ تقریباً ہر بار، موٹر سائیکل سوار آخری لمحے میں مڑتا ہے، گاڑیوں کے درمیان سے زِگ زیگ کرتا ہوا نکل جاتا ہے اور پلک جھپکتے ہی غائب ہو جاتا ہے۔</p>
<p>لیکن یہ شاذ و نادر ہی اکیلا ہوتا ہے۔ اس کے فوراً بعد ایسی ہی کئی موٹر سائیکلوں کا جھنڈ آتا ہے، جو ہر سمت سے گزر جاتا ہے، ڈرائیوروں کو اسٹیئرنگ وہیل مضبوطی سے پکڑنے اور دل ہی دل میں دعائیں مانگنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ موٹر سائیکل سواروں کی سلامتی کے لیے بھی اور اپنی جان کے لیے بھی۔ اس برق رفتاری پر معمولی سی غلطی، اچانک لین بدلنا، گھبراہٹ میں بریک لگانا، لمحہ بھر کی ہچکچاہٹ۔ نہ صرف موٹر سائیکل سوار بلکہ سڑک پر موجود کسی بھی شخص کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔</p>
<p>یہ سوار زیادہ تر کم عمر اور نوجوان ہوتے ہیں۔ ان کے پاس حفاظتی سامان کے نام پر صرف آنکھوں پر لگے گوگلز ہوتے ہیں، تاکہ گرد و غبار سے نظر دھندلی نہ ہو۔ ان کی موٹر سائیکلیں بالکل برہنہ ہوتی ہیں، تیزرفتاری کی غرض سے ہر غیر ضروری پرزہ ہٹا دیا جاتا ہے۔</p>
<p>کراچی کی سڑکوں پر انہیں ایک ہی نام سے جانا جاتا ہے، شپاٹر۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/12/69474bad82242.jpg'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/12/69474bad82242.jpg'  alt='فوٹو: وائٹ اسٹار' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فوٹو: وائٹ اسٹار</figcaption>
    </figure>
<hr />
<h2><a id="شپاٹر-کیا-ہوتا-ہے" href="#شپاٹر-کیا-ہوتا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>شپاٹر کیا ہوتا ہے؟</h2>
<p>اس لفظ کے اصل اور درست معنی واضح نہیں تاہم کراچی کے تجربہ کار موٹر سائیکل ریسرز کے مطابق یہ غالباً ’شارپ‘ اور ’فنٹر‘ (مقامی طور پر punter کا بگڑی ہوئی شکل) کا مجموعہ ہے، جس سے مراد کم عمری میں دو پہیوں پر غیر معمولی مہارت دکھانے والا فرد ہے۔</p>
<p>یہ اصطلاح 1990 کی دہائی سے رائج ہے اور بعض اوقات اسے سیاسی طاقت اور چھوٹے جرائم سے بھی جوڑا گیا، اگرچہ ریسرز اس تصور کو اب غیر متعلق سمجھتے ہیں۔</p>
<p>24 سالہ محمد طارق جو طارق 180 کے نام سے مشہور ہیں، نے بتایا کہ ’ہم میں سے زیادہ تر محنت کش لوگ ہیں، جو ریسنگ کے شوقین ہیں‘۔ مضبوط جسامت کے حامل طارق ایک ماہر مکینک بھی ہیں اور اب اپنی ورکشاپ چلاتے ہیں۔ انہوں نے 2009 میں اسکول چھوڑ کر بطور اپرینٹس کام شروع کیا تھا۔</p>
<p>طارق ریسنگ کی دنیا میں موٹرسائیکل پر وہیلی کرنے سے داخل ہوا۔</p>
<p>طارق نے بتایا کہ’ 14-2013 میں، میں نے CB 180cc بائیک خریدی، جس کے بعد مجھے 180 کا نام ملا‘۔ تاہم طارق کو اپنے بیشتر ہم عصروں پر ایک نمایاں برتری حاصل ہے۔ وہ صرف سوار نہیں بلکہ استاد بھی ہیں، ایک ایسا ماہر مکینک جو موٹر سائیکل کے ہر پرزے کو سمجھتا ہے اور جانتا ہے کہ کسی خاص ریس کے لیے اسے کس طرح بہترین بنایا جائے۔</p>
<p>لیکن ایک نوجوان ایسا بھی تھا، جس نے محض اپنی رائیڈنگ مہارت کے بل پر کراچی کے اس غیر قانونی ریسنگ سرکٹ میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔ اس کی سب سے مشہور ریس جو اس کی آخری بھی ثابت ہوئی آج بھی معما بنی ہوئی ہے اور شاید یہی اس کے افسانوی کردار کو مزید مضبوط کرتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.dawn.com/medium/2025/12/69474badbb311.jpg'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/medium/2025/12/69474badbb311.jpg'  alt=' اُذیب اپنی بیٹی کے ساتھ موٹرسائیکل پر سوا ہیں۔ فوٹو: بذریعہ فیملی ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>اُذیب اپنی بیٹی کے ساتھ موٹرسائیکل پر سوا ہیں۔ فوٹو: بذریعہ فیملی</figcaption>
    </figure>
<hr />
<h2><a id="بابو-70-کی-داستان" href="#بابو-70-کی-داستان" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>بابو 70 کی داستان</h2>
<p>اُزیب مصطفیٰ جو بابو 70 کے نام سے مشہور ہوئے، کا جنون بھی گزدرآباد (رنچھوڑ لائنز) میں بچپن کے دوران سائیکل پر وہیلی کرنے سے شروع ہوا۔ ان کے بھائی مرتضیٰ کے مطابق علاقے کے بیشتر نوجوانوں کی طرح وہ بھی ریحان استاد کی ورکشاپ میں بیٹھنے لگے، جہاں موٹر سائیکلوں کے پرزوں اور مرمت کا کاروبار عروج پر ہے۔</p>
<p>دُبلے جسم کے حامل تقریباً 5 فٹ 6 انچ قد کے بابو ریسنگ کے لیے موزوں جسم رکھتے تھے۔ سائیکل اور پھر موٹر سائیکل پر وہیلی کرنے میں ان کی مہارت پہلے ہی انہیں ممتاز بنا چکی تھی۔ انہیں بابو 70 کا نام اپنے والد کی وجہ سے ملا، جو فٹبالر تھے اور 70cc موٹر سائیکل چلاتے تھے۔</p>
<p>زیادہ تر شپاٹروں کی طرح بابو نے بھی لائسنس کے بغیر ریسنگ شروع کی۔ 2011 میں 18 برس کی عمر میں انہوں نے چیمپئن ریسر بالی ایکس کو شکست دے کر اپنی پہچان بنائی۔ اگلے پانچ برسوں میں انہوں نے شاہراہِ فیصل اور دیگر ٹریکس پر اپنی برتری قائم کر لی۔ 2016 تک وہ کراچی کے اس وقت کے سرِفہرست شپاٹر، ثاقب سنکی کے برابر آ چکے تھے۔ ان کی رقابت ایک آخری جان لیوا ریس پر ختم ہوئی۔</p>
<p>مرتضیٰ کے مطابق ایک موقع پر سنکی اس ریس سے پیچھے ہٹنا چاہتے تھے کیونکہ پہلے کی ایک ریس کے فیصلے پر بابو اور ان کے درمیان تلخی پیدا ہو گئی تھی۔ مگر بابو نے اصرار کیا، کیونکہ وہ دو دن بعد دبئی جا رہے تھے، جہاں ان کے دوست ان کے لیے کاروبار قائم کرنے میں مدد کر رہے تھے۔<br>یہ ریس نومبر 2016 کی ایک صبح 4 بجے ہوئی۔ ابتدا میں منصوبہ تھا کہ 12 کلومیٹر کی ریس شاہراہِ فیصل پر ہو، جو ایئرپورٹ کے قریب سے شروع ہو کر ایف ٹی سی پل پر ختم ہو۔ مگر سڑک پر تیل ہونے کے باعث آغاز کا مقام ڈرگ روڈ ریلوے اسٹیشن کے قریب منتقل کر دیا گیا۔<br>ریس شروع ہوتے ہی بابو نے برتری حاصل کر لی، جو آدھے راستے سے آگے تک برقرار رہی۔ اس پر سب متفق ہیں۔ اس کے بعد کیا ہوا، اس پر اختلاف ہے۔<br>مرتضیٰ کہتے ہیں کہ بابو کو ایک کار نے ٹکر ماری تاہم انہیں یاد نہیں کہ وہ سیڈان تھی یا ہیچ بیک۔ علی جو اب ریسنگ چھوڑ چکے ہیں، دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ثاقب سنکی کے لوگ تھے اور ثاقب سنکی نے خود بھی بابو کی موٹر سائیکل کو لات ماری۔<br>طارق 180 ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ’بابو کی موٹر سائیکل کا انجن ریس کے دوران خراب ہو گیا تھا، تیل بہنے لگا، جو پہیے پر آ گیا اور وہ کنٹرول کھو بیٹھا‘۔<br>مرتضیٰ کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب جیت چند لمحوں کی دوری پر تھی۔ ’وہ تقریباً ایک کلومیٹر تک زمین پر رگڑتا رہا اور شدید زخمی ہو گیا‘۔<br>بابو تقریباً چار ہفتے اسپتال میں زیر علاج رہے اور پھر انتقال کر گئے۔ اہلِ خانہ نے پولیس میں رپورٹ درج نہیں کرائی، جس سے طارق کے اس موقف کو تقویت ملتی ہے کہ کوئی سازش نہیں تھی۔<br>ڈان نے ثاقب سنکی سے رابطے کی کئی کوششیں کیں، مگر ان کے شاگردوں نے بتایا کہ وہ کسی صحافی سے بات نہیں کرنا چاہتے، حالانکہ ان کی ویڈیوز اور ریس باقاعدگی سے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ ہوتی ہیں۔ ایک وجہ ان کے قانونی مسائل ہو سکتے ہیں۔ ثاقب اس وقت 2022 کے ایک ڈکیتی کیس میں ضمانت پر ہیں۔<br>اس کے باوجود ان کی مقبولیت کم نہیں ہوئی۔ ٹک ٹاک، فیس بک اور انسٹاگرام پر ان کے نام سے متعدد اکاؤنٹس چل رہے ہیں۔<br>پھر بھی بہت سے لوگ آج بھی بابو کو ان سے بہتر مانتے ہیں۔ ’بابو واضح طور پر بہتر رائیڈر تھے، اور اگر وہ ثاقب سنکی کو ہرا دیتے تو کراچی کے بے تاج بادشاہ بن جاتے‘۔ سابق ریسر ابراہیم کہتے ہیں ’آج بھی اگر نوجوانوں سے پوچھیں کہ وہ کس جیسے بننا چاہتے ہیں تو اکثر بابو 70 کا نام لیں گے۔‘</p>
<p>بابو کی موت کے بعد چند برس تک ان کے مداح ان کی برسی پر یادگاری ریلیاں نکالتے رہے۔ ان کی ریسوں کی ویڈیوز اور کارنامے آج بھی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر چھائے ہوئے ہیں۔ کراچی یا پاکستان کے بہترین رائیڈرز پر جب بھی بحث ہوتی ہے تو ان کا نام لازماً سامنے آتا ہے اور اس بات پر دعوے اور جوابی دعوے ہوتے ہیں کہ کراچی کی سڑکوں پر سب سے بڑا شپاٹر کون تھا۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/12/69474badd25d7.jpg'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/12/69474badd25d7.jpg'  alt='فوٹو: وائٹ اسٹار' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فوٹو: وائٹ اسٹار</figcaption>
    </figure>
<hr />
<h2><a id="ریس-رائیڈر-اور-مشین" href="#ریس-رائیڈر-اور-مشین" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ریس، رائیڈر اور مشین</h2>
<p>طارق کے مطابق عزت و شہرت حاصل کرنے کے لیے صرف بہترین رائیڈر کافی نہیں ایک ماہر استاد بھی ضروری ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’جان تو رائیڈر داؤ پر لگاتا ہے، مگر موٹر سائیکل کو ریس کے لیے تیار استاد ہی کرتا ہے‘۔</p>
<p>یہ زیادہ تر غیر تعلیم یافتہ موٹر سائیکل سوار اپنے عملی تجربے کے ذریعے طبیعیات کے بعض اصولوں  جیسے ایروڈائنامکس اور ہوا کے دباؤ  کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ شپاٹر کی لیٹی ہوئی پوزیشن ہوا کی مزاحمت کم کرتی ہے اور کسی گاڑی کے پیچھے چلنا ہوا کے دباؤ کو گھٹا کر رفتار بڑھاتا ہے۔ طارق اپنے فون میں جی پی ایس میٹر استعمال کرتے ہیں تاکہ ریس سے پہلے موٹر سائیکل کی کارکردگی جانچ سکیں۔</p>
<p>لیکن اصل کمال استاد کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ برسوں کے تجربے، پرزے کھولنے، جوڑنے اور آزمائش سے یہ مہارت حاصل ہوتی ہے۔ طارق بتاتے ہیں کہ ’اسی طرح 70cc بائیک 150 کلومیٹر فی گھنٹہ سے اوپر جاتی ہے، استاد رائیڈر کو ناقابلِ شکست بنا سکتا ہے، مگر ریسر اور استاد دنوں ہی یکساں اہمیت کے حامل ہیں۔</p>
<p>اسی لیے جب کوئی رائیڈر چیلنج دیتا ہے تو وہ اپنے استاد کا نام بھی لیتا ہے۔ یہ چیلنج اب زیادہ تر فیس بک گروپس میں دیے جاتے ہیں۔ قبولیت کے بعد ایک منصف طے کیا جاتا ہے جو عموماً تجربہ کار رائیڈر ہوتا ہے اور موٹر سائیکل پر سوار دونوں ریسرز کو فالو کر کے ویڈیو بناتا ہے۔ شرط کی رقم، جو 15 ہزار سے ڈیڑھ لاکھ روپے یا اس سے زیادہ ہو سکتی ہے، منصف کے پاس جمع ہوتی ہے۔</p>
<p>ریس کی شرائط مقامی اصطلاحات میں طے ہوتی ہیں: جیسے ’اپنی ہوا‘ (دوسرے کے پیچھے نہ چلنا)، ’سی ایس آلٹر‘ (کاربوریٹر اور سپروکیٹس میں تبدیلی کی اجازت)۔ سب سے خطرناک فارمیٹ ’فری اسٹائل‘ ہوتا ہے، جس میں ایک دوسرے کو مارنا، پکڑنا یا لات مارنا شامل ہے ۔ طارق نے بتایا کہ استادوں کے اتفاق سے اب یہ  فری اسٹائل کافی حد تک ختم ہو چکا ہے۔</p>
<p>ریس سے قبل دونوں فریق موٹر سائیکلوں کا معائنہ کرتے ہیں تاکہ کسی خلاف ورزی کا پتا چلایا جا سکے۔ اگر اعتراضات درست ثابت ہوں تو منصف کسی بھی فریق کو نااہل قرار دے سکتا ہے۔</p>
<p>شو روم سے شو روم ریسیں بھی ہوتی ہیں، جن میں دونوں فریق شو روم سے موٹر سائیکل لیتے ہیں اور سیدھا طے شدہ ٹریک پر ریس کے لیے پہنچ جاتے ہیں۔ طارق کے مطابق یہ رجحان موٹر سائیکلوں میں تبدیلیوں کی نئی جدت کے باعث سامنے آیا۔ ان کے بقول آج کل ایسی ہوشیاری ہو چکی ہے کہ بڑے بڑے استاد بھی تبدیلیاں نہیں پکڑ پاتے، زیادہ تر تبدیلیاں لاہور کے مکینک کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کراچی میں رائیڈر بہتر ہیں لیکن استاد لاہور میں زیادہ ماہر ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2025/12/69474badd3197.jpg'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2025/12/69474badd3197.jpg'  alt='فوٹو: وائٹ اسٹار' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فوٹو: وائٹ اسٹار</figcaption>
    </figure>
<hr />
<h2><a id="خطرے-کی-قیمت" href="#خطرے-کی-قیمت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>خطرے کی قیمت</strong></h2>
<p>تمام مہارت، دلیری اور کہانیوں کے باوجود شپاٹر جو خطرات مول لیتے ہیں وہ صرف ان تک محدود نہیں رہتے۔</p>
<p>کراچی کی مصروف اور تنگ سڑکیں پہلے ہی شہریوں کے لیے خطرہ ہیں۔ گزشتہ برس شہر میں کم از کم پانچ سو سڑک حادثات میں ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں، جن میں اکثریت موٹر سائیکل سواروں کی تھی تاہم اعداد و شمار میں ریس کرنے والوں کی الگ شناخت موجود نہیں۔</p>
<p>روڈ ٹریفک انجری ریسرچ اینڈ پریوینشن پروگرام جو نیورو سرجن ڈاکٹر راشد جوما نے شروع کیا تھا، کراچی میں ٹریفک حادثات کے اعداد و شمار جمع کرنے والا واحد پروگرام تھا۔ فنڈز اور سرکاری سرپرستی نہ ملنے پر 2017 میں بند ہونے والے اس پروگرام کی نومبر 2016 کی رپورٹ کے مطابق 2007 سے 2014 کے دوران 9 ہزار 129 افراد ٹریفک حادثات میں جاں بحق ہوئے۔ دستیاب معلومات کے مطابق 8 ہزار 654 کیسز میں سے 3 ہزار 871 یعنی 44.7 فیصد ہلاکتوں میں حادثے کا شکار گاڑی موٹر سائیکل تھی۔</p>
<p>کسی بھی ریس کرنے والے موٹر سائیکل سوار سے بات کریں تو وہ دوستوں کے نام گنوا دے گا جو ریسنگ یا پریکٹس کے دوران جان سے گئے۔ طارق اپنے سر کا زخم دکھاتے ہیں جس پر ان کے بقول دو درجن ٹانکے آئے تھے، جبکہ ایک زخم ان کی پشت پر بھی ہے۔ ان کے مطابق محمود آباد کے پانچ چھ لڑکے حالیہ برسوں میں جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں استاد سہیل ایس ون بھی شامل ہیں۔</p>
<p>ٹریفک پولیس کے مطابق قانونی کارروائی بہت مشکل ہے کیونکہ ریسیں اچانک طے پاتی ہیں اور اکثر صبح سویرے ہوتی ہیں جب سڑکیں بظاہر خالی ہوتی ہیں۔ کراچی ٹریفک کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پیر محمد شاہ کے مطابق یہ موٹر سائیکل سوار بغیر نمبر پلیٹ اور حفاظتی سامان کے ہوتے ہیں اور اپنی مہارت کے باعث پکڑ میں نہیں آتے۔ ان کا کہنا ہے کہ حال ہی میں فضائی نگرانی متعارف کرائی گئی ہے اور ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کی امید پے۔</p>
<p>زیادہ تر ریس کرنے والے ای چالان یا کریک ڈاؤن کی پروا نہیں کرتے۔ ان کی اصل تشویش ریس کے آغاز کے وقت قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موجودگی ہوتی ہے۔ طارق کے مطابق ریس کے وقت حتیٰ کہ ہائی وے پر بھی رائیڈر آغاز کے مقام پر جمع ہو کر لمحاتی طور پر سڑک بند کرتے ہیں تاکہ ٹریک خالی ہو سکے۔ اس موقع پر پولیس کی آمد سڑک روکنے والوں کے لیے مشکل کھڑی کر سکتی ہے۔</p>
<p>تجربہ کار پولیس افسر نصراللہ خان جو مختلف ریسنگ ہاٹ اسپاٹس میں ایس ایچ او رہے، کہتے ہیں کہ یہ ریسیں غیر قانونی ہیں اور موٹر سائیکلوں میں غیر مجاز تبدیلیاں بھی جرم ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کو 70 سی سی کی موٹر سائیکل کا ٹیکس ادا کیا جاتا ہے جبکہ گاڑی 150 سی سی کی طرح چلتی ہے۔</p>
<p>نصراللہ خان کے مطابق سی ویو کا ’شیطانی پوائنٹ‘ مختلف ریسوں کا مرکز تھا، جسے سڑک کے درمیان بیریئرز لگا کر بند کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ داخلی اور خارجی راستے بند کر کے کاروں اور بائیکس کی ریسوں میں شامل افراد کو گرفتار کرتے تھے، تاہم عموماً ان پر لاپروائی سے ڈرائیونگ کا مقدمہ ہی بن پاتا اور گاڑیاں ضبط کی جاتیں۔</p>
<p>ان کے بقول ریسوں میں استعمال ہونے والی بہت سی موٹر سائیکلیں چوری کی ہوتی ہیں یا ان میں چوری شدہ پرزے لگے ہوتے ہیں۔ طارق کا کہنا ہے کہ وہ اس خدشے سے بچنے کے لیے گاہکوں سے گاڑیوں کے کاغذات طلب کرتے ہیں۔</p>
<p>پولیس افسر اور رائیڈر دونوں متفق ہیں کہ پابندیوں یا کریک ڈاؤن کے باوجود بائیک ریسنگ جاری رہے گی۔</p>
<p>نصراللہ خان کے مطابق واحد حل یہ ہے کہ ریسنگ کو کم خطرناک بنایا جائے، نہ صرف شپاٹرز کے لیے بلکہ سڑک پر موجود دیگر افراد کے لیے بھی۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک ممکنہ حل یہ ہے کہ ریسنگ کے لیے مخصوص جگہ فراہم کی جائے جیسا کہ جیپ ریلیوں اور دیگر مقابلوں میں ہوتا ہے۔</p>
<p>کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب نے ڈان کو بتایا کہ شہر کی انتظامیہ اس خیال کے لیے تیار ہے، تاہم اگر ایسی جگہ ملی بھی تو وہ شہر کے مضافات میں ہو گی جہاں زیادہ تر لوگ جانا نہیں چاہتے۔</p>
<p>طارق کے مطابق بڑی ریس پہلے ہی ہائی وے کے حصوں پر اور شہر سے باہر نوری آباد تک ہوتی تھی۔</p>
<p>جب تک ان کے پاس اپنی جگہ نہیں ہوتی، شپاٹرز کراچی کی سڑکوں پر ریئر ویو مررز میں نظر آتے رہیں گے، ایک تیز رفتار دھندلا سایہ جو اچانک پیچھے سے آتا ہے اور ڈرائیوروں کو اپنی لائن پکڑ کر رکھنے اور خیر کی اُمید کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔</p>
<p>ان سڑکوں پر افسانے اور المیے کے درمیان فاصلہ کلومیٹرز میں نہیں بلکہ لمحوں میں ناپا جاتا ہے اور ہر بابو کے افسانہ بن جانے کے باوجود درجنوں ایسے  ہیں جو اسی عارضی شہرت کے لیے اپنا سب کچھ داؤ پر لگانے کے لیے تیار ہیں۔</p>
<hr />
<p>اس تحریر کو انگریزی میں <a href="https://www.dawn.com/news/1962165/society-the-shapatar-boys-of-karachi"><strong>پڑھیں</strong></a>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274915</guid>
      <pubDate>Fri, 26 Dec 2025 16:16:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (حسین دادا)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/261606568109fdc.webp" type="image/webp" medium="image" height="688" width="1552">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/261606568109fdc.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نادرا کے بایو میٹرک قوانین میں ترمیم، چہرے اور آنکھوں کی اسکیننگ کو قانونی شناخت مل گئی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274964/</link>
      <description>&lt;p&gt;وفاقی حکومت نے قومی شناختی کارڈ قواعد میں ترمیم کرتے ہوئے بایومیٹرکس کی تعریف کو وسیع کر دیا ہے، جس کے تحت فنگر پرنٹس کے علاوہ چہرے اور آنکھوں کی اسکیننگ کو بھی قانونی طور پر قابلِ قبول بایومیٹرک شناخت تسلیم کر لیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نادرا کی سفارش پر کی گئی اس ترمیم سے پاکستان میں ملٹی بایومیٹرک ویری فکیشن سسٹم کے نفاذ کے لیے مضبوط قانونی بنیاد فراہم ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی قانونی فریم ورک کی بنیاد پر نادرا نے کنٹیکٹ لیس فنگر پرنٹ اور فیشل ریکگنیشن پر مبنی بایومیٹرک تصدیق کی تکنیکی سہولت متعارف کرا دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نادرا کے مطابق یہ نظام اس وقت نادرا کے رجسٹریشن مراکز اور پاک آئی ڈی موبائل ایپ پر دستیاب ہے اور اسے اسلام آباد میں رجسٹرڈ گاڑیوں کی منتقلی اور آن لائن پاسپورٹ درخواستوں میں بایومیٹرک تصدیق کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1250246/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1250246"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مستقبل میں وفاقی حکومت کے پنشنرز کے لیے پروف آف لائف سرٹیفکیٹس بھی اسی نظام کے تحت جاری کیے جائیں گے جبکہ ان ڈیجیٹل سہولیات کے دائرہ کار کو مرحلہ وار بڑھایا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;20 جنوری 2026 سے نادرا تمام رجسٹریشن مراکز پر ان شہریوں کے لیے فیشل ریکگنیشن پر مبنی بایومیٹرک تصدیقی سرٹیفکیٹس جاری کرنا شروع کرے گا جن کے فنگر پرنٹس کے ذریعے تصدیق ممکن نہیں ہوتی۔ جہاں بھی کسی ادارے کو ایسی تصدیق درکار ہو، شہری 20 روپے کی معمولی فیس ادا کر کے کسی بھی نادرا رجسٹریشن مرکز سے یہ سرٹیفکیٹ حاصل کر سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس طریقہ کار کے تحت اگر کسی سروس فراہم کرنے والے ادارے کے پاس فنگر پرنٹ کے ذریعے بایومیٹرک تصدیق ناکام ہو جائے تو شہری قریبی نادرا رجسٹریشن مرکز جا کر نئی تصویر بنوائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تصویر نادرا کے ریکارڈ میں موجود تصویر سے میچ کی جائے گی۔ کامیاب تصدیق کی صورت میں نادرا ایک سرٹیفکیٹ جاری کرے گا جس میں تصدیق کا مقصد، شہری کی حالیہ تصویر اور ریکارڈ میں موجود تصویر، قومی شناختی کارڈ نمبر، نام، والد کا نام، منفرد ٹریکنگ آئی ڈی اور کیو آر کوڈ شامل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سرٹیفکیٹ سات دن کے لیے قابلِ استعمال ہوگا۔ شہری اسے متعلقہ ادارے میں جمع کروائیں گے، جہاں بایومیٹرک تصدیق درکار ہوگی اور ادارہ اسے نادرا کے ذریعے آن لائن ویریفائی کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مستقبل میں فیشل امیج پر مبنی بایومیٹرک تصدیقی سرٹیفکیٹس نادرا کی ای سہولت فرنچائزز پر بھی دستیاب ہوں گے۔ ڈیجیٹل آئی ڈی کے باضابطہ اجرا کے بعد یہ سہولت پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے تمام خدمات کے لیے فراہم کر دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نادرا نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ اس نظام کے نفاذ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے تاہم اس کے مؤثر اطلاق کے لیے ریگولیٹرز، متعلقہ سرکاری اداروں اور نجی شعبے کی تنظیموں سے کہا گیا ہے کہ وہ منظور شدہ معیارات کے مطابق اپنے ہارڈویئر اور سافٹ ویئر کو مرحلہ وار اپ گریڈ کریں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1269533'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269533"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پہلے مرحلے میں اداروں کے سافٹ ویئر سسٹمز میں تکنیکی اپ گریڈ درکار ہوں گے تاکہ نادرا کی جانب سے جاری کردہ فیشل ریکگنیشن بایومیٹرک سرٹیفکیٹس کو ضم کیا جا سکے۔ دوسرے مرحلے میں سروس کاؤنٹرز پر کیمرے نصب کرنا یا موجودہ کے وائی سی بایومیٹرک مشینوں میں کیمرے شامل کرنا ضروری ہوگا، کیونکہ ان اپ گریڈز کے بغیر نادرا براہِ راست ان مقامات پر یہ سہولت فراہم نہیں کر سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر 20 جنوری 2026 کے بعد شہریوں کو اس سہولت کے حصول میں کسی قسم کا مسئلہ درپیش ہو تو وہ متعلقہ ادارے یا محکمے میں شکایت درج کرا سکتے ہیں کیونکہ نادرا کی جانب سے یہ سروس دستیاب ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سہولت کے جلد از جلد عملی نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے نادرا نے وزارتِ داخلہ سے بھی درخواست کی ہے کہ تمام متعلقہ اداروں کو ضروری ہدایات جاری کی جائیں، توقع ہے کہ اس نظام کے مکمل نفاذ کے بعد شہریوں کو فنگر پرنٹس سے متعلق پیچیدگیاں اور مشکلات مؤثر طور پر دور ہو جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مکمل نفاذ کے بعد شہریوں کو متعلقہ اداروں میں ہی یہ سہولت دستیاب ہوگی اور نادرا رجسٹریشن مرکز جانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ ڈیجیٹل آئی ڈی کے اجرا کے بعد شہری پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے بھی خود یہ سہولت حاصل کر سکیں گے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1265956'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1265956"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;عمر بڑھنے یا بعض طبی وجوہات کی بنا پر کئی شہریوں کے فنگر پرنٹس وقت کے ساتھ مدھم ہو جاتے ہیں، جس کے باعث بینکوں، سم کارڈ فرنچائزز، ہاؤسنگ سوسائٹیز، جائیداد کی منتقلی اور دیگر لین دین میں جہاں فنگر پرنٹ کے ذریعے بایومیٹرک تصدیق لازمی ہو، انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ کئی مقامات پر ناقص یا کم معیار کے فنگر پرنٹ ریڈرز کے باعث بھی بایومیٹرک تصدیق ممکن نہیں ہو پاتی۔ اگرچہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے ایسے شہریوں کے لیے طریقہ کار مقرر کر رکھے ہیں تاہم عملی طور پر مسائل برقرار رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان مسائل کے فوری اور مؤثر حل کے لیے وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے نادرا کو ہدایات جاری کی تھیں، جن پر عمل درآمد کے تحت یہ اقدامات کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وفاقی حکومت نے قومی شناختی کارڈ قواعد میں ترمیم کرتے ہوئے بایومیٹرکس کی تعریف کو وسیع کر دیا ہے، جس کے تحت فنگر پرنٹس کے علاوہ چہرے اور آنکھوں کی اسکیننگ کو بھی قانونی طور پر قابلِ قبول بایومیٹرک شناخت تسلیم کر لیا گیا ہے۔</p>
<p>نادرا کی سفارش پر کی گئی اس ترمیم سے پاکستان میں ملٹی بایومیٹرک ویری فکیشن سسٹم کے نفاذ کے لیے مضبوط قانونی بنیاد فراہم ہو گئی ہے۔</p>
<p>اسی قانونی فریم ورک کی بنیاد پر نادرا نے کنٹیکٹ لیس فنگر پرنٹ اور فیشل ریکگنیشن پر مبنی بایومیٹرک تصدیق کی تکنیکی سہولت متعارف کرا دی ہے۔</p>
<p>نادرا کے مطابق یہ نظام اس وقت نادرا کے رجسٹریشن مراکز اور پاک آئی ڈی موبائل ایپ پر دستیاب ہے اور اسے اسلام آباد میں رجسٹرڈ گاڑیوں کی منتقلی اور آن لائن پاسپورٹ درخواستوں میں بایومیٹرک تصدیق کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1250246/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1250246"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>مستقبل میں وفاقی حکومت کے پنشنرز کے لیے پروف آف لائف سرٹیفکیٹس بھی اسی نظام کے تحت جاری کیے جائیں گے جبکہ ان ڈیجیٹل سہولیات کے دائرہ کار کو مرحلہ وار بڑھایا جا رہا ہے۔</p>
<p>20 جنوری 2026 سے نادرا تمام رجسٹریشن مراکز پر ان شہریوں کے لیے فیشل ریکگنیشن پر مبنی بایومیٹرک تصدیقی سرٹیفکیٹس جاری کرنا شروع کرے گا جن کے فنگر پرنٹس کے ذریعے تصدیق ممکن نہیں ہوتی۔ جہاں بھی کسی ادارے کو ایسی تصدیق درکار ہو، شہری 20 روپے کی معمولی فیس ادا کر کے کسی بھی نادرا رجسٹریشن مرکز سے یہ سرٹیفکیٹ حاصل کر سکیں گے۔</p>
<p>اس طریقہ کار کے تحت اگر کسی سروس فراہم کرنے والے ادارے کے پاس فنگر پرنٹ کے ذریعے بایومیٹرک تصدیق ناکام ہو جائے تو شہری قریبی نادرا رجسٹریشن مرکز جا کر نئی تصویر بنوائیں گے۔</p>
<p>یہ تصویر نادرا کے ریکارڈ میں موجود تصویر سے میچ کی جائے گی۔ کامیاب تصدیق کی صورت میں نادرا ایک سرٹیفکیٹ جاری کرے گا جس میں تصدیق کا مقصد، شہری کی حالیہ تصویر اور ریکارڈ میں موجود تصویر، قومی شناختی کارڈ نمبر، نام، والد کا نام، منفرد ٹریکنگ آئی ڈی اور کیو آر کوڈ شامل ہوں گے۔</p>
<p>یہ سرٹیفکیٹ سات دن کے لیے قابلِ استعمال ہوگا۔ شہری اسے متعلقہ ادارے میں جمع کروائیں گے، جہاں بایومیٹرک تصدیق درکار ہوگی اور ادارہ اسے نادرا کے ذریعے آن لائن ویریفائی کرے گا۔</p>
<p>مستقبل میں فیشل امیج پر مبنی بایومیٹرک تصدیقی سرٹیفکیٹس نادرا کی ای سہولت فرنچائزز پر بھی دستیاب ہوں گے۔ ڈیجیٹل آئی ڈی کے باضابطہ اجرا کے بعد یہ سہولت پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے تمام خدمات کے لیے فراہم کر دی جائے گی۔</p>
<p>نادرا نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ اس نظام کے نفاذ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے تاہم اس کے مؤثر اطلاق کے لیے ریگولیٹرز، متعلقہ سرکاری اداروں اور نجی شعبے کی تنظیموں سے کہا گیا ہے کہ وہ منظور شدہ معیارات کے مطابق اپنے ہارڈویئر اور سافٹ ویئر کو مرحلہ وار اپ گریڈ کریں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1269533'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1269533"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پہلے مرحلے میں اداروں کے سافٹ ویئر سسٹمز میں تکنیکی اپ گریڈ درکار ہوں گے تاکہ نادرا کی جانب سے جاری کردہ فیشل ریکگنیشن بایومیٹرک سرٹیفکیٹس کو ضم کیا جا سکے۔ دوسرے مرحلے میں سروس کاؤنٹرز پر کیمرے نصب کرنا یا موجودہ کے وائی سی بایومیٹرک مشینوں میں کیمرے شامل کرنا ضروری ہوگا، کیونکہ ان اپ گریڈز کے بغیر نادرا براہِ راست ان مقامات پر یہ سہولت فراہم نہیں کر سکے گا۔</p>
<p>اگر 20 جنوری 2026 کے بعد شہریوں کو اس سہولت کے حصول میں کسی قسم کا مسئلہ درپیش ہو تو وہ متعلقہ ادارے یا محکمے میں شکایت درج کرا سکتے ہیں کیونکہ نادرا کی جانب سے یہ سروس دستیاب ہوگی۔</p>
<p>اس سہولت کے جلد از جلد عملی نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے نادرا نے وزارتِ داخلہ سے بھی درخواست کی ہے کہ تمام متعلقہ اداروں کو ضروری ہدایات جاری کی جائیں، توقع ہے کہ اس نظام کے مکمل نفاذ کے بعد شہریوں کو فنگر پرنٹس سے متعلق پیچیدگیاں اور مشکلات مؤثر طور پر دور ہو جائیں گی۔</p>
<p>مکمل نفاذ کے بعد شہریوں کو متعلقہ اداروں میں ہی یہ سہولت دستیاب ہوگی اور نادرا رجسٹریشن مرکز جانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ ڈیجیٹل آئی ڈی کے اجرا کے بعد شہری پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے بھی خود یہ سہولت حاصل کر سکیں گے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1265956'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1265956"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>عمر بڑھنے یا بعض طبی وجوہات کی بنا پر کئی شہریوں کے فنگر پرنٹس وقت کے ساتھ مدھم ہو جاتے ہیں، جس کے باعث بینکوں، سم کارڈ فرنچائزز، ہاؤسنگ سوسائٹیز، جائیداد کی منتقلی اور دیگر لین دین میں جہاں فنگر پرنٹ کے ذریعے بایومیٹرک تصدیق لازمی ہو، انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ کئی مقامات پر ناقص یا کم معیار کے فنگر پرنٹ ریڈرز کے باعث بھی بایومیٹرک تصدیق ممکن نہیں ہو پاتی۔ اگرچہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے ایسے شہریوں کے لیے طریقہ کار مقرر کر رکھے ہیں تاہم عملی طور پر مسائل برقرار رہتے ہیں۔</p>
<p>ان مسائل کے فوری اور مؤثر حل کے لیے وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے نادرا کو ہدایات جاری کی تھیں، جن پر عمل درآمد کے تحت یہ اقدامات کیے گئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274964</guid>
      <pubDate>Wed, 31 Dec 2025 14:27:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (افتخار اے خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/31140134b1b48ae.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/31140134b1b48ae.webp"/>
        <media:title>نادرا کی سفارش پر کی گئی اس ترمیم سے پاکستان میں ملٹی بایومیٹرک ویری فکیشن سسٹم کے نفاذ کے لیے مضبوط قانونی بنیاد فراہم ہو گئی ہے— فوٹو: فہیم صدیقی/وائٹ اسٹار
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’شکریہ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ! تاریخ بھولے گی نہ معاف کرے گی‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273767/</link>
      <description>&lt;p&gt;’اے مین آف آل سیزن‘ ڈرامے کے سب سے یادگار مناظر میں سے ایک وہ ہے جب تھامس مور اپنے جذباتی اور تیز مزاج داماد، روپر کے ساتھ بحث کرتا ہے۔ روپر کا اصرار تھا کہ ’شیطان‘یعنی کوئی بھی ایسا شخص جو خطرناک ہو یا سیاسی طور پر خطرہ ہو، اسے پکڑنے کے لیے قانون کو نظر انداز کیا جانا چاہیے یا اسے ایک طرف کردینا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے جواب میں تھامس مور ایک مضبوط استعارہ پیش کرتا ہے، وہ کہتا ہے کہ انگلینڈ ’جنگل کی طرح‘ قوانین سے بھرا ہوا ہے اور یہ قوانین ہر ایک کی حفاظت کرتے ہیں، یہاں تک کہ ان لوگوں کو بھی جن کو ہم ناپسند کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد تھامس مور ایک چبھتا ہوا سوال پوچھتا ہے۔ اگر تم اپنے دشمنوں کا پیچھا کرنے کے لیے ہر قانون کو ختم کردو گے تو جب طاقت کا رخ بدل کر تمہارے خلاف ہوجائے تب تمہیں کون بچائے گا؟ تھامس مور خبردار کرتا ہے کہ قانون کے بغیر تم ایک کھلے میدان میں کھڑے ہوگے، ہر طرف سے ہوائیں چل رہی ہوں گی اور تم بالکل بے سہارا ہو گے جہاں تم اپنا دفاع نہیں کر پاؤ گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی منظر ڈرامے کا مرکزی خیال بیان کرتا ہے۔ قانون کی حکمرانی طاقتوروں کا ہتھیار نہیں بلکہ سب کے لیے ایک ڈھال ہے۔ اور جب اسے وقتی فائدے کے لیے کمزور کر دیا جائے تو پھر کوئی نہیں جان پائے گا کہ آگے کیا ہونے والا ہے اور نہ ہی کوئی ہونے والی چیز کو روک سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو روز قبل پاکستان کی عدلیہ نے اپنے دو انتہائی باصلاحیت قانون دانوں، جسٹس سید منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کو کھو دیا۔ یہ کیوں ہوا، اس کا جواب تاریخ ہی دے سکے گی۔ مگر اُن کی کہانی دو دن پہلے سے شروع نہیں ہوئی تھی۔ یہ تو کئی دہائیاں پہلے 1997ء میں شروع ہوئی تھی جب تین دوست جو آئین پر اٹوٹ یقین رکھتے تھے، نے اس وقت کی سب سے ترقی پسند ترین لا فرم قائم کی جس کا نام  اَفریدی، شاہ اینڈ من اللہ تھا۔ ان کے پاس صرف اپنی ذہانت، یقین اور اقتدار کی خاطر اپنے اصولوں سے دستبردار نہ ہونے کا پختہ عزم تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک دہائی بعد، اُن کے اس عزم کا امتحان ہوا۔ وہ اپنے اصولوں پر ڈٹے رہے۔ ڈوگر کورٹ کا بائیکاٹ کیا اور ملک گیر وکلا تحریک کا حصہ بن کر چیف جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی کے لیے سڑکوں پر آئے۔ اُن کے حوصلے خاموش تھے، مضبوط تھے جو کبھی ڈگمگائے نہیں۔ ڈوگر کورٹ ختم ہوگئی۔ افتخار چوہدری کی عدالت بحال ہو گئی۔ اس چار دیواری کے اندر کیا ہوا، اس پر کسی اور دن بات کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273697'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273697"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="جسٹس-منصور-علی-شاہ-اصلاحات-کا-بینچ" href="#جسٹس-منصور-علی-شاہ-اصلاحات-کا-بینچ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;جسٹس منصور علی شاہ، اصلاحات کا بینچ&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;جسٹس منصور علی شاہ کو 2009ء میں لاہور ہائی کورٹ میں ترقی دی گئی جوکہ اُن کے شاندار قانونی کریئر کے بعد ہوا جہاں انہوں نے ٹیکس، کارپوریٹ اور متعدد عوامی مفاد کے مقدمات کی سماعت کی، خاص طور پر ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کے شعبوں میں بھی فیصلے دیے۔ ترقی کبھی اُن کے ذہن میں نہیں تھی مگر چند لوگوں نے اُنہیں قائل کیا کہ یہ بینچ اُنہیں قانون کی تشریح کرنے، حقوق کو وسعت دینے، سماجی نظام کو بدلنے اور قانون کی حکمرانی کو قائم رکھنے کا موقع دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور انہوں نے یہ سب کچھ کیا بلکہ اس سے بھی زیادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس منصور علی شاہ نے انتخابات، جمہوریت، معذوری، صنف، ماحولیاتی تحفظ، ٹیکنالوجی، عدالتی تاخیر، مقامی حکومت اور دیگر موضوعات پر سب سے زیادہ ترقی پسند فیصلے دیے۔ وہ اس وقت ’گرین جج‘ کے نام سے مشہور ہوئے کہ جب انہوں نے گرین بینچ کی قیادت کی تاکہ موسمیاتی اور ماحولیاتی تنازعات کی سماعت ہوسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک عدالتی اصلاح پسند کے طور پر، انہوں نے پنجاب میں متبادل تنازعات کے حل کے مراکز قائم کیے تاکہ مقدمات کے طویل التوا کو کم کیا جا سکے، فوجداری اور سول ماڈل عدالتیں قائم کیں تاکہ رابطے بہتر ہوں اور انصاف تیزی سے فراہم کیا جا سکے اور کیس مینجمنٹ اور کورٹ آٹومیشن سسٹمز متعارف کروائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے ساتھ مل کر، انہوں نے پہلا انٹرپرائز آئی ٹی سسٹم نافذ کیا تاکہ عدالتی نظام آئندہ دہائی کے لیے شفاف، کھلا اور مکمل طور پر متعلقہ بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="جسٹس-اطہر-من-اللہ-اسلام-آباد-میں-حوصلے-کی-مثال" href="#جسٹس-اطہر-من-اللہ-اسلام-آباد-میں-حوصلے-کی-مثال" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;جسٹس اطہر من اللہ، اسلام آباد میں حوصلے کی مثال&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;2014ء میں  دوست اور سابقہ لا فرم کے ساتھی، اطہر من اللہ نے منصور علی شاہ کا ساتھ دیا اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں بینچ پر فائز ہوئے جہاں عدالتی حوصلے کی ایک واضح جھلک نظر آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس اطہر من اللہ نے جبری گمشدگیاں، غیرقانونی زمین کی خریداری، حیوانات کے حقوق کی خلاف ورزیوں کا سامنا کیا اور معاشرے کے کمزور افراد کا دفاع کیا۔ جب 2016ء کا الیکٹرانک کرائمز ایکٹ اختلاف رائے کو دبانے کے لیے استعمال کیا گیا تو انہوں نے اسے غیر آئینی قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے عدالتی تقرریوں میں بھی مثالی کردار ادا کیا جن میں کئی جج شامل رہے جو شدید انتظامی دباؤ کے باوجود بار بار اصولوں پر ڈٹے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تحریر کا مقصد متعلقہ قانون دانوں کی ہر عدالتی کامیابی کی فہرست تیار کرنا نہیں ہے۔ حتیٰ کہ ان کے ناقدین بھی ان کی تخلیقی صلاحیت، آئینی بصیرت اور سیکڑوں فیصلوں کو تسلیم کرنے پر مجبور ہیں جنہوں نے اندرون اور بیرون ملک پاکستان کے قانونی نظام کو بہتر کیا۔ انہوں نے یہ سب بہترین طریقے سے سپریم کورٹ میں وقار اور حوصلے کے ساتھ انجام دیا اور ان کا اثر آج بھی محسوس کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کسی کو ان حضرات کے بہت سے فیصلوں سے اختلاف ہو سکتا ہے لیکن یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ وہ بھی سب کی طرح انسان ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسا کہ جسٹس اطہر من اللہ نے حال ہی میں ایک خط میں یاد دلایا، ’چند استثنیٰ کو چھوڑ کر، مجھ سمیت ہم سب ان اصولوں میں غلطی کرتے ہیں یا اُن پر پورا نہیں اتر پاتے جن کی پابندی کی ہم نے قسم کھائی ہے۔ آخرکار ہم سب انسان ہیں اور غلطی کرنے کا امکان رکھتے ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273508/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273508"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="قاضی-کی-عدالت" href="#قاضی-کی-عدالت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;قاضی کی عدالت&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ دو سالوں میں جو کچھ ہوا ہے اس میں سے زیادہ تر یہ ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح یکے بعد دیگر ججز کی مدت نے آئین کو شدید نقصان پہنچایا۔ قاضی عدالت نے یہ سلسلہ شروع کیا۔ اس کے بعد جو بچا تھا، وہ صرف تباہ نہیں ہوا بلکہ اسے اگلی عدالت نے اور بھی آگے بڑھایا جو سخت، آمرانہ قانونی قوانین سے چلتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس عرصے کے دوران پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کو 2024ء کے عام انتخابات کے دہانے پر اپنے انتخابی نشان سے محروم کر دیا گیا۔ عدالت نے پی ٹی آئی کی قانونی حیثیت واضح کرنے سے انکار کر دیا جس کے نتیجے میں اس کے امیدواروں کو آزاد حیثیت میں انتخاب لڑنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب وہ آزاد امیدوار جو متعدد رکاوٹوں کے باوجود کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تو وہ اپنی جمہوری حیثیت کے مطابق نمائندگی حاصل کرنے سے محروم رہ گئے۔ جب پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں نے مخصوص نشستیں حاصل کرنے کے لیے کسی اور ادارے کے ساتھ الحاق کیا تو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انہیں ان کے آئینی حقوق سے محروم کر دیا۔ پشاور ہائی کورٹ نے بھی اس محرومی کی توثیق کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاملہ پھر سپریم کورٹ پہنچا جہاں جسٹس منصور علی شاہ کی قیادت میں تین رکنی بینچ جس میں جسٹس اطہر من اللہ بھی شامل تھے، نے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو معطل کیا اور ایک بڑے بینچ کے قیام کی ہدایت دی۔ 8-5 اکثریت سے فل کورٹ کی جس رائے پر جسٹس منصور عی شاہ نے دستخط کیے اور جسٹس اطہر من اللہ نے ان کا ساتھ دیا، یہ بات واضح کی کہ ’پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت تھی اور آج بھی ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فیصلے نے انتخابی جمہوریت کے ایک بنیادی اصول کو دوبارہ واضح کیا کہ ’جب الیکشن کمیشن غلطی کرے یا انتخابی عمل پر اثر انداز ہونے والی اہم غلطیاں کرے تو ان کی اصلاح کے لیے عدالتی مداخلت ضروری ہو جاتی ہے تاکہ انتخابی انصاف کو یقینی بنایا جا سکے۔ عدلیہ، جسے انتخابی انصاف کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، سب سے پہلے عوام کی مرضی کی حفاظت کرنے کی پابند ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سب بھی کافی نہ تھا۔ ’ماسٹر آف دی روسٹر‘ کے اصول جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ خود پہلے تنقید کر چکے تھے، دوبارہ بحال کر دیا گیا لیکن اب اسے اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا گیا۔ سپریم کورٹ کی پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کو دوبارہ ترتیب دیا گیا تاکہ بینچ کی تشکیل میں مداخلت کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ججز کو منتخب کیا گیا، فیصلے پلٹ دیے گئے اور 26ویں آئینی ترمیم کے لیے راستہ ہموار کیا گیا جو کسی ایک فرد کو چیف جسٹس بننے سے روکنے کے لیے بنائی گئی تھی۔ تاریخ اس واقعے کو نہیں بھولے گی۔ یہ واقعی ایک تاریک باب تھا جو تاریخ کے پنوں پر لکھا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273614/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273614"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پھر بھی عوام کی مرضی کبھی پوری نہیں ہوئی۔ نہ اُس وقت ہوئی، نہ بعد اور نہ آج تک پوری ہوسکی ہے اسی عدالت نے دو مخالف ججز کی مدد سے الیکشن کمیشن کو عدالت کے فیصلے کو نظر انداز کرنے کی اجازت دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تو قاضی کی عدالت ہمیں کہاں لے آئی؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئین کو بے قابو چھوڑ دیا گیا، عوامی آزادیوں کو معطل کر دیا گیا، آئین پر انتظامی قبضہ مضبوط ہوگیا اور عدالتی آزادی چکناچور ہو گئی۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے عہدے کے آخری دن جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ دونوں نے چیف جسٹس کے ریفرنس میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس منصور علی شاہ نے انہیں یوں بیان کیا، ‘ایک شتر مرغ کی طرح جس نے اپنا سر ریت میں چھپا لیا ہو، خود اطمینان اور عدلیہ پر بیرونی اثرات و دباؤ کے بارے میں بے پروا ہوچکا ہو‘۔ حتیٰ کہ جب جرأت مند ججز نے اپنے کام میں مداخلت کا سامنا کیا تو چیف جسٹس نے عوامی طور پر اصرار کیا کہ ’عدلیہ پر کوئی بیرونی اثر و رسوخ نہیں ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان ججز کو انصاف نہیں ملا اور آج تک نہیں ملا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="وفادار-عدالت-اور-27ویں-آئینی-ترمیم-کا-راستہ" href="#وفادار-عدالت-اور-27ویں-آئینی-ترمیم-کا-راستہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;وفادار عدالت اور 27ویں آئینی ترمیم کا راستہ&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;قاضی کی عدالت پہلے ہی آئین کی بنیاد کو نقصان پہنچا چکی تھی۔ فوجی عدالتوں کو قانونی حیثیت دی گئی، عوام کی مرضی کو بحال کرنے والے فیصلے پلٹ دیے گئے اور 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف چیلنجز کو نظر انداز کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مخصوص نشستوں کے فیصلے میں جسٹس منصور علی شاہ نے ہمیں یاد دلایا، ‘ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ آئین وقتی قوانین نہیں ہیں جو صرف عارضی حالات کو پورا کرنے کے لیے بنائے جائیں بلکہ یہ اس وقت تک قائم رہنے کے لیے ہیں جب تک انسانی ادارے قائم رہ سکتے ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج پارلیمنٹ نے زبردستی ایک آئینی ترمیم منظور کی ہے جس سے عدلیہ اور حکومت کے درمیان طاقت کا توازن بدل جاتا ہے۔ اس ترمیم سے ایک وفاقی آئینی عدالت وجود میں آتی ہے جو بنیادی طور پر حکومت کے زیرِکنٹرول عدالت ہے جو سپریم کورٹ آف پاکستان کا بنیادی کام چھین لیتی ہے جوکہ آئین کی تشریح کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ترمیم کے تحت، صدر اور وزیرِ اعظم وفاقی آئینی عدالت (ایف سی سی) کے چیف جسٹس اور ابتدائی ججز کا تقرر کریں گے جس سے جسٹس کمیشن آف پاکستان کو نظرانداز کیا جائے گا اور آغاز سے ہی انتظامیہ کا اثر قائم کر دیا جائے گا۔ جب تک قانون اس کی تشکیل کا تعین نہیں کرتا، ججز کی تعداد کا فیصلہ صرف انتظامیہ کرے گی۔ ان کا پسندیدہ نامزد امیدوار پہلے ہی منتخب کیا جا چکا ہے جوکہ وہی جج ہے جنہوں نے الیکشن کمیشن کو سپریم کورٹ کے فیصلے کو نظر انداز کرنے کی ہدایت دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273707/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273707"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریباً ہر عوامی یا فوجداری مقدمہ آئینی مسئلہ اٹھاتا ہے لیکن اب لوگوں کو یہ معلوم کرنا ہوگا کہ ایف سی سی یا سپریم کورٹ میں جانا ہے۔ مقدمات آگے پیچھے اچھالیں گے، انصاف کو سست، زیادہ مہنگا عمل اور فیصلوں کو غیریقینی بنا دیں گے۔ عام شہری جنہیں طاقتور مفادات سے تحفظ کی ضرورت ہے، ان کے پاس انصاف حاصل کرنے کا کوئی واضح راستہ نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاریخ کم ہی ان حکومتوں کو نرمی دکھاتی ہے جو آئینی ہیر پھیر کے ذریعے مستقل طاقت قائم کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ان کے منصوبے ہمیشہ ناکام ہو جاتے ہیں مگر اس سے پہلے وہ ان اداروں کو شدید نقصان پہنچا جاتے ہیں جو شہریوں کے تحفظ کے لیے بنائے گئے ہیں۔ پاکستان یہ سلسلہ پہلے بھی دیکھ چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذوالفقار علی بھٹو ریفرنس میں اپنے اضافی نوٹ میں جسٹس یحییٰ اَفریدی نے خبردار کیا کہ ’اس وقت کے غیر معمولی سیاسی ماحول اور ایسے ماحول میں موجود دباؤ نے عدالتی عمل پر اس طرح اثر ڈالا جو عدلیہ کی آزادی کے نظریات سے میل نہیں کھاتا‘۔ انہوں نے جسٹس ڈوراب پٹیل، محمد حلیم اور جی صفدر شاہ کو خراجِ تحسین پیش کیا جوکہ وہ ججز تھے جو تاریکی کے لمحات میں مضبوط رہے، حتیٰ کہ جب ان کے اختلافی نوٹ نتیجہ بدلنے میں کارگر بھی ثابت نہ ہوسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن جب تاریخ نے انہیں اسی امتحان میں ڈالا تو لگتا ہے کہ چیف جسٹس نے اپنے اصولوں پر قائم رہنے پر سمجھوتے کا انتخاب کیا ہے۔ 27ویں ترمیم زبردستی کروائی گئی اور انہوں نے عدلیہ کو مزید کمزور کرنے پر مزاحمت نہیں کی۔ انہوں نے اس عمل میں عدلیہ کی حفاظت نہیں کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں لوگوں نے اسے عدالت کا دفاع کرنے کے بجائے اپنے مفادات کو برقرار رکھنے میں دلچسپی کے طور پر دیکھا، اب وہ ایک ایسی سپریم کورٹ کی قیادت کررہے ہیں جسے بے اختیار چھوڑ دیا گیا ہے اور اس کا آئینی اختیار چھین لیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="احتساب-اور-ذمہ-داری" href="#احتساب-اور-ذمہ-داری" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;احتساب اور ذمہ داری&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;یہ نقصان ملک کو برسوں تک پریشان رکھے گا۔ اگرچہ تمام آئینی حملوں کی طرح، یہ بھی بلآخر واپس ہوجائے گا لیکن ہم اس احتساب کو صرف وقت پر نہیں چھوڑ سکتے۔ یہ لمحہ وضاحت، حوصلے اور یادداشت کا تقاضا کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جو جج ایک غیر قانونی، وفاقی کنٹرول شدہ عدالت میں حلف اٹھائیں گے، وہ اس غیرآئینی عمل میں سہولت کار ہوں گے۔ جو جج ضمیر کے بدلے توسیع اور عہدے قبول کریں گے۔ انہوں نے انہی اصولوں کے ساتھ خیانت کی ہے جن کی پابندی کی انہوں نے قسم کھائی تھی۔ اب عمل کرنے کا وقت ہے۔ یہ ذمہ داری صرف انہی تک محدود نہیں، یہ ہم سب پر بھی عائد ہوتی ہے جو آئین کی بالادستی، عزم اور عدالتی آزادی پر یقین رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وکلا تحریک کے 18 سال بعد جب تین دوست اور ساتھی جو آئین پر مشترکہ یقین رکھتے تھے، ایک بار پھر آزمائے گئے تو ان میں سے صرف دو ہی اس عزم پر قائم رہ سکے۔ منصور علی شاہ اور اطہر من اللہ آج بھی مضبوط، جرات مند، اور نہ جھکنے والوں کی صف میں کھڑے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور یوں کہانی واپس نقطہ آغاز پر آ جاتی ہے۔ جب قانون کا دفاع ذہانت، مضبوط عقائد اور بہادری کے ساتھ کیا جاتا ہے تو یہ ایک جنگل کی طرح رہتا ہے جہاں انصاف پروان چڑھ سکتا ہے۔ یہ ہر کسی کو حتیٰ کہ ان لوگوں کو بھی انصاف دیتا ہے جنہیں ہم ناپسند کرتے ہیں اور انہیں طاقت کی غیرمنصفانہ قوتوں سے محفوظ رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شکریہ، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ! تاریخ  بھولے گی  نہ معاف کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1955043/justices-shah-and-minallah-guardians-of-the-constitution"&gt;پڑھیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>’اے مین آف آل سیزن‘ ڈرامے کے سب سے یادگار مناظر میں سے ایک وہ ہے جب تھامس مور اپنے جذباتی اور تیز مزاج داماد، روپر کے ساتھ بحث کرتا ہے۔ روپر کا اصرار تھا کہ ’شیطان‘یعنی کوئی بھی ایسا شخص جو خطرناک ہو یا سیاسی طور پر خطرہ ہو، اسے پکڑنے کے لیے قانون کو نظر انداز کیا جانا چاہیے یا اسے ایک طرف کردینا چاہیے۔</p>
<p>اس کے جواب میں تھامس مور ایک مضبوط استعارہ پیش کرتا ہے، وہ کہتا ہے کہ انگلینڈ ’جنگل کی طرح‘ قوانین سے بھرا ہوا ہے اور یہ قوانین ہر ایک کی حفاظت کرتے ہیں، یہاں تک کہ ان لوگوں کو بھی جن کو ہم ناپسند کرتے ہیں۔</p>
<p>اس کے بعد تھامس مور ایک چبھتا ہوا سوال پوچھتا ہے۔ اگر تم اپنے دشمنوں کا پیچھا کرنے کے لیے ہر قانون کو ختم کردو گے تو جب طاقت کا رخ بدل کر تمہارے خلاف ہوجائے تب تمہیں کون بچائے گا؟ تھامس مور خبردار کرتا ہے کہ قانون کے بغیر تم ایک کھلے میدان میں کھڑے ہوگے، ہر طرف سے ہوائیں چل رہی ہوں گی اور تم بالکل بے سہارا ہو گے جہاں تم اپنا دفاع نہیں کر پاؤ گے۔</p>
<p>یہی منظر ڈرامے کا مرکزی خیال بیان کرتا ہے۔ قانون کی حکمرانی طاقتوروں کا ہتھیار نہیں بلکہ سب کے لیے ایک ڈھال ہے۔ اور جب اسے وقتی فائدے کے لیے کمزور کر دیا جائے تو پھر کوئی نہیں جان پائے گا کہ آگے کیا ہونے والا ہے اور نہ ہی کوئی ہونے والی چیز کو روک سکتا ہے۔</p>
<p>دو روز قبل پاکستان کی عدلیہ نے اپنے دو انتہائی باصلاحیت قانون دانوں، جسٹس سید منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کو کھو دیا۔ یہ کیوں ہوا، اس کا جواب تاریخ ہی دے سکے گی۔ مگر اُن کی کہانی دو دن پہلے سے شروع نہیں ہوئی تھی۔ یہ تو کئی دہائیاں پہلے 1997ء میں شروع ہوئی تھی جب تین دوست جو آئین پر اٹوٹ یقین رکھتے تھے، نے اس وقت کی سب سے ترقی پسند ترین لا فرم قائم کی جس کا نام  اَفریدی، شاہ اینڈ من اللہ تھا۔ ان کے پاس صرف اپنی ذہانت، یقین اور اقتدار کی خاطر اپنے اصولوں سے دستبردار نہ ہونے کا پختہ عزم تھا۔</p>
<p>ایک دہائی بعد، اُن کے اس عزم کا امتحان ہوا۔ وہ اپنے اصولوں پر ڈٹے رہے۔ ڈوگر کورٹ کا بائیکاٹ کیا اور ملک گیر وکلا تحریک کا حصہ بن کر چیف جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی کے لیے سڑکوں پر آئے۔ اُن کے حوصلے خاموش تھے، مضبوط تھے جو کبھی ڈگمگائے نہیں۔ ڈوگر کورٹ ختم ہوگئی۔ افتخار چوہدری کی عدالت بحال ہو گئی۔ اس چار دیواری کے اندر کیا ہوا، اس پر کسی اور دن بات کریں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273697'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273697"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<h1><a id="جسٹس-منصور-علی-شاہ-اصلاحات-کا-بینچ" href="#جسٹس-منصور-علی-شاہ-اصلاحات-کا-بینچ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>جسٹس منصور علی شاہ، اصلاحات کا بینچ</h1>
<p>جسٹس منصور علی شاہ کو 2009ء میں لاہور ہائی کورٹ میں ترقی دی گئی جوکہ اُن کے شاندار قانونی کریئر کے بعد ہوا جہاں انہوں نے ٹیکس، کارپوریٹ اور متعدد عوامی مفاد کے مقدمات کی سماعت کی، خاص طور پر ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کے شعبوں میں بھی فیصلے دیے۔ ترقی کبھی اُن کے ذہن میں نہیں تھی مگر چند لوگوں نے اُنہیں قائل کیا کہ یہ بینچ اُنہیں قانون کی تشریح کرنے، حقوق کو وسعت دینے، سماجی نظام کو بدلنے اور قانون کی حکمرانی کو قائم رکھنے کا موقع دے گا۔</p>
<p>اور انہوں نے یہ سب کچھ کیا بلکہ اس سے بھی زیادہ کیا۔</p>
<p>لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس منصور علی شاہ نے انتخابات، جمہوریت، معذوری، صنف، ماحولیاتی تحفظ، ٹیکنالوجی، عدالتی تاخیر، مقامی حکومت اور دیگر موضوعات پر سب سے زیادہ ترقی پسند فیصلے دیے۔ وہ اس وقت ’گرین جج‘ کے نام سے مشہور ہوئے کہ جب انہوں نے گرین بینچ کی قیادت کی تاکہ موسمیاتی اور ماحولیاتی تنازعات کی سماعت ہوسکے۔</p>
<p>ایک عدالتی اصلاح پسند کے طور پر، انہوں نے پنجاب میں متبادل تنازعات کے حل کے مراکز قائم کیے تاکہ مقدمات کے طویل التوا کو کم کیا جا سکے، فوجداری اور سول ماڈل عدالتیں قائم کیں تاکہ رابطے بہتر ہوں اور انصاف تیزی سے فراہم کیا جا سکے اور کیس مینجمنٹ اور کورٹ آٹومیشن سسٹمز متعارف کروائے۔</p>
<p>پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے ساتھ مل کر، انہوں نے پہلا انٹرپرائز آئی ٹی سسٹم نافذ کیا تاکہ عدالتی نظام آئندہ دہائی کے لیے شفاف، کھلا اور مکمل طور پر متعلقہ بنایا جا سکے۔</p>
<h1><a id="جسٹس-اطہر-من-اللہ-اسلام-آباد-میں-حوصلے-کی-مثال" href="#جسٹس-اطہر-من-اللہ-اسلام-آباد-میں-حوصلے-کی-مثال" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>جسٹس اطہر من اللہ، اسلام آباد میں حوصلے کی مثال</h1>
<p>2014ء میں  دوست اور سابقہ لا فرم کے ساتھی، اطہر من اللہ نے منصور علی شاہ کا ساتھ دیا اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں بینچ پر فائز ہوئے جہاں عدالتی حوصلے کی ایک واضح جھلک نظر آئی۔</p>
<p>جسٹس اطہر من اللہ نے جبری گمشدگیاں، غیرقانونی زمین کی خریداری، حیوانات کے حقوق کی خلاف ورزیوں کا سامنا کیا اور معاشرے کے کمزور افراد کا دفاع کیا۔ جب 2016ء کا الیکٹرانک کرائمز ایکٹ اختلاف رائے کو دبانے کے لیے استعمال کیا گیا تو انہوں نے اسے غیر آئینی قرار دیا۔</p>
<p>انہوں نے عدالتی تقرریوں میں بھی مثالی کردار ادا کیا جن میں کئی جج شامل رہے جو شدید انتظامی دباؤ کے باوجود بار بار اصولوں پر ڈٹے رہے۔</p>
<p>اس تحریر کا مقصد متعلقہ قانون دانوں کی ہر عدالتی کامیابی کی فہرست تیار کرنا نہیں ہے۔ حتیٰ کہ ان کے ناقدین بھی ان کی تخلیقی صلاحیت، آئینی بصیرت اور سیکڑوں فیصلوں کو تسلیم کرنے پر مجبور ہیں جنہوں نے اندرون اور بیرون ملک پاکستان کے قانونی نظام کو بہتر کیا۔ انہوں نے یہ سب بہترین طریقے سے سپریم کورٹ میں وقار اور حوصلے کے ساتھ انجام دیا اور ان کا اثر آج بھی محسوس کیا جاتا ہے۔</p>
<p>کسی کو ان حضرات کے بہت سے فیصلوں سے اختلاف ہو سکتا ہے لیکن یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ وہ بھی سب کی طرح انسان ہیں۔</p>
<p>جیسا کہ جسٹس اطہر من اللہ نے حال ہی میں ایک خط میں یاد دلایا، ’چند استثنیٰ کو چھوڑ کر، مجھ سمیت ہم سب ان اصولوں میں غلطی کرتے ہیں یا اُن پر پورا نہیں اتر پاتے جن کی پابندی کی ہم نے قسم کھائی ہے۔ آخرکار ہم سب انسان ہیں اور غلطی کرنے کا امکان رکھتے ہیں‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273508/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273508"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<h1><a id="قاضی-کی-عدالت" href="#قاضی-کی-عدالت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>قاضی کی عدالت</h1>
<p>گزشتہ دو سالوں میں جو کچھ ہوا ہے اس میں سے زیادہ تر یہ ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح یکے بعد دیگر ججز کی مدت نے آئین کو شدید نقصان پہنچایا۔ قاضی عدالت نے یہ سلسلہ شروع کیا۔ اس کے بعد جو بچا تھا، وہ صرف تباہ نہیں ہوا بلکہ اسے اگلی عدالت نے اور بھی آگے بڑھایا جو سخت، آمرانہ قانونی قوانین سے چلتی تھی۔</p>
<p>اس عرصے کے دوران پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کو 2024ء کے عام انتخابات کے دہانے پر اپنے انتخابی نشان سے محروم کر دیا گیا۔ عدالت نے پی ٹی آئی کی قانونی حیثیت واضح کرنے سے انکار کر دیا جس کے نتیجے میں اس کے امیدواروں کو آزاد حیثیت میں انتخاب لڑنا پڑا۔</p>
<p>جب وہ آزاد امیدوار جو متعدد رکاوٹوں کے باوجود کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تو وہ اپنی جمہوری حیثیت کے مطابق نمائندگی حاصل کرنے سے محروم رہ گئے۔ جب پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں نے مخصوص نشستیں حاصل کرنے کے لیے کسی اور ادارے کے ساتھ الحاق کیا تو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انہیں ان کے آئینی حقوق سے محروم کر دیا۔ پشاور ہائی کورٹ نے بھی اس محرومی کی توثیق کی۔</p>
<p>یہ معاملہ پھر سپریم کورٹ پہنچا جہاں جسٹس منصور علی شاہ کی قیادت میں تین رکنی بینچ جس میں جسٹس اطہر من اللہ بھی شامل تھے، نے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو معطل کیا اور ایک بڑے بینچ کے قیام کی ہدایت دی۔ 8-5 اکثریت سے فل کورٹ کی جس رائے پر جسٹس منصور عی شاہ نے دستخط کیے اور جسٹس اطہر من اللہ نے ان کا ساتھ دیا، یہ بات واضح کی کہ ’پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت تھی اور آج بھی ہے‘۔</p>
<p>اس فیصلے نے انتخابی جمہوریت کے ایک بنیادی اصول کو دوبارہ واضح کیا کہ ’جب الیکشن کمیشن غلطی کرے یا انتخابی عمل پر اثر انداز ہونے والی اہم غلطیاں کرے تو ان کی اصلاح کے لیے عدالتی مداخلت ضروری ہو جاتی ہے تاکہ انتخابی انصاف کو یقینی بنایا جا سکے۔ عدلیہ، جسے انتخابی انصاف کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، سب سے پہلے عوام کی مرضی کی حفاظت کرنے کی پابند ہے‘۔</p>
<p>یہ سب بھی کافی نہ تھا۔ ’ماسٹر آف دی روسٹر‘ کے اصول جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ خود پہلے تنقید کر چکے تھے، دوبارہ بحال کر دیا گیا لیکن اب اسے اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا گیا۔ سپریم کورٹ کی پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کو دوبارہ ترتیب دیا گیا تاکہ بینچ کی تشکیل میں مداخلت کی جا سکے۔</p>
<p>ججز کو منتخب کیا گیا، فیصلے پلٹ دیے گئے اور 26ویں آئینی ترمیم کے لیے راستہ ہموار کیا گیا جو کسی ایک فرد کو چیف جسٹس بننے سے روکنے کے لیے بنائی گئی تھی۔ تاریخ اس واقعے کو نہیں بھولے گی۔ یہ واقعی ایک تاریک باب تھا جو تاریخ کے پنوں پر لکھا جائے گا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273614/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273614"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>پھر بھی عوام کی مرضی کبھی پوری نہیں ہوئی۔ نہ اُس وقت ہوئی، نہ بعد اور نہ آج تک پوری ہوسکی ہے اسی عدالت نے دو مخالف ججز کی مدد سے الیکشن کمیشن کو عدالت کے فیصلے کو نظر انداز کرنے کی اجازت دی۔</p>
<p>تو قاضی کی عدالت ہمیں کہاں لے آئی؟</p>
<p>آئین کو بے قابو چھوڑ دیا گیا، عوامی آزادیوں کو معطل کر دیا گیا، آئین پر انتظامی قبضہ مضبوط ہوگیا اور عدالتی آزادی چکناچور ہو گئی۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے عہدے کے آخری دن جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ دونوں نے چیف جسٹس کے ریفرنس میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا۔</p>
<p>جسٹس منصور علی شاہ نے انہیں یوں بیان کیا، ‘ایک شتر مرغ کی طرح جس نے اپنا سر ریت میں چھپا لیا ہو، خود اطمینان اور عدلیہ پر بیرونی اثرات و دباؤ کے بارے میں بے پروا ہوچکا ہو‘۔ حتیٰ کہ جب جرأت مند ججز نے اپنے کام میں مداخلت کا سامنا کیا تو چیف جسٹس نے عوامی طور پر اصرار کیا کہ ’عدلیہ پر کوئی بیرونی اثر و رسوخ نہیں ہے‘۔</p>
<p>ان ججز کو انصاف نہیں ملا اور آج تک نہیں ملا۔</p>
<h1><a id="وفادار-عدالت-اور-27ویں-آئینی-ترمیم-کا-راستہ" href="#وفادار-عدالت-اور-27ویں-آئینی-ترمیم-کا-راستہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>وفادار عدالت اور 27ویں آئینی ترمیم کا راستہ</h1>
<p>قاضی کی عدالت پہلے ہی آئین کی بنیاد کو نقصان پہنچا چکی تھی۔ فوجی عدالتوں کو قانونی حیثیت دی گئی، عوام کی مرضی کو بحال کرنے والے فیصلے پلٹ دیے گئے اور 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف چیلنجز کو نظر انداز کیا گیا۔</p>
<p>مخصوص نشستوں کے فیصلے میں جسٹس منصور علی شاہ نے ہمیں یاد دلایا، ‘ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ آئین وقتی قوانین نہیں ہیں جو صرف عارضی حالات کو پورا کرنے کے لیے بنائے جائیں بلکہ یہ اس وقت تک قائم رہنے کے لیے ہیں جب تک انسانی ادارے قائم رہ سکتے ہیں‘۔</p>
<p>آج پارلیمنٹ نے زبردستی ایک آئینی ترمیم منظور کی ہے جس سے عدلیہ اور حکومت کے درمیان طاقت کا توازن بدل جاتا ہے۔ اس ترمیم سے ایک وفاقی آئینی عدالت وجود میں آتی ہے جو بنیادی طور پر حکومت کے زیرِکنٹرول عدالت ہے جو سپریم کورٹ آف پاکستان کا بنیادی کام چھین لیتی ہے جوکہ آئین کی تشریح کرنا ہے۔</p>
<p>اس ترمیم کے تحت، صدر اور وزیرِ اعظم وفاقی آئینی عدالت (ایف سی سی) کے چیف جسٹس اور ابتدائی ججز کا تقرر کریں گے جس سے جسٹس کمیشن آف پاکستان کو نظرانداز کیا جائے گا اور آغاز سے ہی انتظامیہ کا اثر قائم کر دیا جائے گا۔ جب تک قانون اس کی تشکیل کا تعین نہیں کرتا، ججز کی تعداد کا فیصلہ صرف انتظامیہ کرے گی۔ ان کا پسندیدہ نامزد امیدوار پہلے ہی منتخب کیا جا چکا ہے جوکہ وہی جج ہے جنہوں نے الیکشن کمیشن کو سپریم کورٹ کے فیصلے کو نظر انداز کرنے کی ہدایت دی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1273707/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1273707"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>تقریباً ہر عوامی یا فوجداری مقدمہ آئینی مسئلہ اٹھاتا ہے لیکن اب لوگوں کو یہ معلوم کرنا ہوگا کہ ایف سی سی یا سپریم کورٹ میں جانا ہے۔ مقدمات آگے پیچھے اچھالیں گے، انصاف کو سست، زیادہ مہنگا عمل اور فیصلوں کو غیریقینی بنا دیں گے۔ عام شہری جنہیں طاقتور مفادات سے تحفظ کی ضرورت ہے، ان کے پاس انصاف حاصل کرنے کا کوئی واضح راستہ نہیں ہوگا۔</p>
<p>تاریخ کم ہی ان حکومتوں کو نرمی دکھاتی ہے جو آئینی ہیر پھیر کے ذریعے مستقل طاقت قائم کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ان کے منصوبے ہمیشہ ناکام ہو جاتے ہیں مگر اس سے پہلے وہ ان اداروں کو شدید نقصان پہنچا جاتے ہیں جو شہریوں کے تحفظ کے لیے بنائے گئے ہیں۔ پاکستان یہ سلسلہ پہلے بھی دیکھ چکا ہے۔</p>
<p>ذوالفقار علی بھٹو ریفرنس میں اپنے اضافی نوٹ میں جسٹس یحییٰ اَفریدی نے خبردار کیا کہ ’اس وقت کے غیر معمولی سیاسی ماحول اور ایسے ماحول میں موجود دباؤ نے عدالتی عمل پر اس طرح اثر ڈالا جو عدلیہ کی آزادی کے نظریات سے میل نہیں کھاتا‘۔ انہوں نے جسٹس ڈوراب پٹیل، محمد حلیم اور جی صفدر شاہ کو خراجِ تحسین پیش کیا جوکہ وہ ججز تھے جو تاریکی کے لمحات میں مضبوط رہے، حتیٰ کہ جب ان کے اختلافی نوٹ نتیجہ بدلنے میں کارگر بھی ثابت نہ ہوسکے۔</p>
<p>لیکن جب تاریخ نے انہیں اسی امتحان میں ڈالا تو لگتا ہے کہ چیف جسٹس نے اپنے اصولوں پر قائم رہنے پر سمجھوتے کا انتخاب کیا ہے۔ 27ویں ترمیم زبردستی کروائی گئی اور انہوں نے عدلیہ کو مزید کمزور کرنے پر مزاحمت نہیں کی۔ انہوں نے اس عمل میں عدلیہ کی حفاظت نہیں کی۔</p>
<p>آخر میں لوگوں نے اسے عدالت کا دفاع کرنے کے بجائے اپنے مفادات کو برقرار رکھنے میں دلچسپی کے طور پر دیکھا، اب وہ ایک ایسی سپریم کورٹ کی قیادت کررہے ہیں جسے بے اختیار چھوڑ دیا گیا ہے اور اس کا آئینی اختیار چھین لیا گیا ہے۔</p>
<h1><a id="احتساب-اور-ذمہ-داری" href="#احتساب-اور-ذمہ-داری" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>احتساب اور ذمہ داری</h1>
<p>یہ نقصان ملک کو برسوں تک پریشان رکھے گا۔ اگرچہ تمام آئینی حملوں کی طرح، یہ بھی بلآخر واپس ہوجائے گا لیکن ہم اس احتساب کو صرف وقت پر نہیں چھوڑ سکتے۔ یہ لمحہ وضاحت، حوصلے اور یادداشت کا تقاضا کرتا ہے۔</p>
<p>جو جج ایک غیر قانونی، وفاقی کنٹرول شدہ عدالت میں حلف اٹھائیں گے، وہ اس غیرآئینی عمل میں سہولت کار ہوں گے۔ جو جج ضمیر کے بدلے توسیع اور عہدے قبول کریں گے۔ انہوں نے انہی اصولوں کے ساتھ خیانت کی ہے جن کی پابندی کی انہوں نے قسم کھائی تھی۔ اب عمل کرنے کا وقت ہے۔ یہ ذمہ داری صرف انہی تک محدود نہیں، یہ ہم سب پر بھی عائد ہوتی ہے جو آئین کی بالادستی، عزم اور عدالتی آزادی پر یقین رکھتے ہیں۔</p>
<p>وکلا تحریک کے 18 سال بعد جب تین دوست اور ساتھی جو آئین پر مشترکہ یقین رکھتے تھے، ایک بار پھر آزمائے گئے تو ان میں سے صرف دو ہی اس عزم پر قائم رہ سکے۔ منصور علی شاہ اور اطہر من اللہ آج بھی مضبوط، جرات مند، اور نہ جھکنے والوں کی صف میں کھڑے ہیں۔</p>
<p>اور یوں کہانی واپس نقطہ آغاز پر آ جاتی ہے۔ جب قانون کا دفاع ذہانت، مضبوط عقائد اور بہادری کے ساتھ کیا جاتا ہے تو یہ ایک جنگل کی طرح رہتا ہے جہاں انصاف پروان چڑھ سکتا ہے۔ یہ ہر کسی کو حتیٰ کہ ان لوگوں کو بھی انصاف دیتا ہے جنہیں ہم ناپسند کرتے ہیں اور انہیں طاقت کی غیرمنصفانہ قوتوں سے محفوظ رکھتا ہے۔</p>
<p>شکریہ، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ! تاریخ  بھولے گی  نہ معاف کرے گی۔</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1955043/justices-shah-and-minallah-guardians-of-the-constitution">پڑھیے</a></strong>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273767</guid>
      <pubDate>Sat, 15 Nov 2025 14:31:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عمر اے رانجھا)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/15124530ff3c0af.webp" type="image/webp" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/15124530ff3c0af.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
