<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 02:12:12 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 02:12:12 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>موسم سرما کا موٹاپے سے کیا تعلق؟
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1115854/</link>
      <description>&lt;p&gt;کیا آپ اپنے بڑھتے ہوئے جسمانی وزن سے پریشان ہیں؟ تو اس سرد موسم میں کچھ دیر بغیر گرم ملبوسات کے گھومنے کو عادت بنالیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق ورزش یا سرد موسم میں گھومنے سے جسم میں بہترین چربی بڑھتی ہے جو کیلوریز کو جلانے کا کام کرتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق میں بتایا گیا کہ سرد موسم کا سامنا کرنے سے معدے میں موجود بیکٹریا میں ڈرامائی تبدیلی آتی ہے اور اس سے چربی گھلنے لگتی ہے، گلوکوز میٹابولزم بہترین ہوتا ہے جبکہ جسمانی وزن میں کمی آتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے موٹاپے کے شکار افراد کے وزن میں کمی لانے کے لیے نئے طریقہ کار کو تشکیل دینے میں مدد ملے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/12/5661df51b190c.jpg"  alt="کریٹیو کامنز فوٹو" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;کریٹیو کامنز فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق کے مطابق ارگرد کا ماحول معدے میں موجود بیکٹریا پر اثرانداز ہوکر توانائی کے توازن کو کنٹرول کرنے کے نظام کو کنٹرول کرتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین کا کہنا ہے کہ تحقیق کے نتائج حوصلہ افزاء ہیں اور اس سے موٹاپے کی روک تھام کے لیے طریقہ کار تشکیل دینے میں مدد ملے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس تحقیق کے دوران چوہے پر 6 سینٹی گریڈ درجہ حرارت پر دس دن تک تجربات کیے گئے جس سے معلوم ہوا کہ اس کے معدے کے بیکٹریا میں ایسی تبدیلی آئی ہے جو وزن میں اضافے کی روک تھام کا کام کررہی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ تحقیق طبی جریدے سیل میں شائع ہوئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کیا آپ اپنے بڑھتے ہوئے جسمانی وزن سے پریشان ہیں؟ تو اس سرد موسم میں کچھ دیر بغیر گرم ملبوسات کے گھومنے کو عادت بنالیں۔</p>

<p>امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق ورزش یا سرد موسم میں گھومنے سے جسم میں بہترین چربی بڑھتی ہے جو کیلوریز کو جلانے کا کام کرتی ہے۔</p>

<p>تحقیق میں بتایا گیا کہ سرد موسم کا سامنا کرنے سے معدے میں موجود بیکٹریا میں ڈرامائی تبدیلی آتی ہے اور اس سے چربی گھلنے لگتی ہے، گلوکوز میٹابولزم بہترین ہوتا ہے جبکہ جسمانی وزن میں کمی آتی ہے۔</p>

<p>محققین کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے موٹاپے کے شکار افراد کے وزن میں کمی لانے کے لیے نئے طریقہ کار کو تشکیل دینے میں مدد ملے گی۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/12/5661df51b190c.jpg"  alt="کریٹیو کامنز فوٹو" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">کریٹیو کامنز فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>تحقیق کے مطابق ارگرد کا ماحول معدے میں موجود بیکٹریا پر اثرانداز ہوکر توانائی کے توازن کو کنٹرول کرنے کے نظام کو کنٹرول کرتا ہے۔</p>

<p>محققین کا کہنا ہے کہ تحقیق کے نتائج حوصلہ افزاء ہیں اور اس سے موٹاپے کی روک تھام کے لیے طریقہ کار تشکیل دینے میں مدد ملے گی۔</p>

<p>اس تحقیق کے دوران چوہے پر 6 سینٹی گریڈ درجہ حرارت پر دس دن تک تجربات کیے گئے جس سے معلوم ہوا کہ اس کے معدے کے بیکٹریا میں ایسی تبدیلی آئی ہے جو وزن میں اضافے کی روک تھام کا کام کررہی ہے۔</p>

<p>یہ تحقیق طبی جریدے سیل میں شائع ہوئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1115854</guid>
      <pubDate>Sat, 10 Jan 2026 14:32:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ہیلتھ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/12/5de5f170739f0.jpg?r=1546812112" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/12/5de5f170739f0.jpg?r=2024537179"/>
        <media:title>فوٹو/ شٹراسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>موسم سرما میں الرجی اور خارش کیوں ہوتی ہے؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275054/</link>
      <description>&lt;p&gt;سردیوں کے موسم میں جلد کے خشک اور مرجھانے سے جہاں بعض افراد کو چڑ چڑاپن اور الجھن ہوجاتی ہے، وہیں بعض افراد خارش کا شکار بھی بن جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سردیوں میں جسم کو خشک ہونے سے بچانے کے لیے بعض افراد لوشنز اور کریموں پر ہزاروں روپے خرچ کرتے ہیں، تاہم اس باوجود کچھ افراد خارش سمیت دوسرے مسائل کا شکار بن جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین صحت کے مطابق سردیوں میں جلد خشک ہوا کی وجہ اور جسم میں نمی کی کمی کے باعث خارش کے مختلف امراض کا شکار ہو جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1096377'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1096377"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سردیوں میں عام طور پر ’ایکزیما، ایکنی، چنبل، ہونٹوں اور ایڑیوں کا پھٹنا، جلد کا سخت خشک ہوجانا، سردیوں سے الرجی اور سردیوں میں جسم پر خارش ہوجانا عام مسائل ہیں، جو کہ عام طور پر سردیوں کا موسم ختم ہوتے ہی خود بخود ٹھیک ہوجاتے ہیں لیکن بعض افراد میں مذکورہ مسائل رہ جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق ایکزیما، یا ایٹوپک ڈرمیٹیٹائٹس سردیوں میں ہونے والا جلد کا ایک عام عارضہ ہے، جس سے خارش، سوجن والے دھبے ہوتے ہیں، یہ اکثر بچوں کو متاثر کرتا ہے لیکن بچوں کے علاوہ نوعمروں اور بڑوں کو بھی مختلف طریقوں سے متاثر کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح ایکنی بھی سردیوں میں عام افراد اور خاص طور پر لڑکیوں کو بہت زیادہ متاثر کرتا ہے، یہ نو عمر افراد کو زیادہ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایکنی میں کیل، مہاسے اور سرخ دانے نکلتے ہیں جو کہ تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں جب کہ بعض اوقات ایکنی تکلیف دہ بھی ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق بعض افراد کو سردیوں میں چنبل بھی ہوتا ہے جب کہ کچھ افراد کو سردی کے موسم سے الرجی بھی ہوتی ہے، جس وجہ سے وہ ہر وقت اپنے جسم میں خارش محسوس کرنے لگتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سردیوں میں ہونے والی خارش اور خارش جیسی کیفیات سے بچنے کے لیے ماہرین امراض جلد سے رابطہ کیا جانا چاہیے، تاہم ایسے مسائل سے نمٹنے کے لیے گھریلو ٹوٹکے بھی آزمائے جا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خارش اور الرجی جیسے مسائل سے نمٹنے والے افراد کو ماہرین صحت کی تجویز سے اینٹی الرجی ادویات سمیت کریمز، لوشنز اور دیسی ٹوٹکوں کی مدد لینی چاہیے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سردیوں کے موسم میں جلد کے خشک اور مرجھانے سے جہاں بعض افراد کو چڑ چڑاپن اور الجھن ہوجاتی ہے، وہیں بعض افراد خارش کا شکار بھی بن جاتے ہیں۔</p>
<p>سردیوں میں جسم کو خشک ہونے سے بچانے کے لیے بعض افراد لوشنز اور کریموں پر ہزاروں روپے خرچ کرتے ہیں، تاہم اس باوجود کچھ افراد خارش سمیت دوسرے مسائل کا شکار بن جاتے ہیں۔</p>
<p>ماہرین صحت کے مطابق سردیوں میں جلد خشک ہوا کی وجہ اور جسم میں نمی کی کمی کے باعث خارش کے مختلف امراض کا شکار ہو جاتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1096377'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1096377"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>سردیوں میں عام طور پر ’ایکزیما، ایکنی، چنبل، ہونٹوں اور ایڑیوں کا پھٹنا، جلد کا سخت خشک ہوجانا، سردیوں سے الرجی اور سردیوں میں جسم پر خارش ہوجانا عام مسائل ہیں، جو کہ عام طور پر سردیوں کا موسم ختم ہوتے ہی خود بخود ٹھیک ہوجاتے ہیں لیکن بعض افراد میں مذکورہ مسائل رہ جاتے ہیں۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق ایکزیما، یا ایٹوپک ڈرمیٹیٹائٹس سردیوں میں ہونے والا جلد کا ایک عام عارضہ ہے، جس سے خارش، سوجن والے دھبے ہوتے ہیں، یہ اکثر بچوں کو متاثر کرتا ہے لیکن بچوں کے علاوہ نوعمروں اور بڑوں کو بھی مختلف طریقوں سے متاثر کر سکتا ہے۔</p>
<p>اسی طرح ایکنی بھی سردیوں میں عام افراد اور خاص طور پر لڑکیوں کو بہت زیادہ متاثر کرتا ہے، یہ نو عمر افراد کو زیادہ ہوتا ہے۔</p>
<p>ایکنی میں کیل، مہاسے اور سرخ دانے نکلتے ہیں جو کہ تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں جب کہ بعض اوقات ایکنی تکلیف دہ بھی ہوتا ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق بعض افراد کو سردیوں میں چنبل بھی ہوتا ہے جب کہ کچھ افراد کو سردی کے موسم سے الرجی بھی ہوتی ہے، جس وجہ سے وہ ہر وقت اپنے جسم میں خارش محسوس کرنے لگتے ہیں۔</p>
<p>سردیوں میں ہونے والی خارش اور خارش جیسی کیفیات سے بچنے کے لیے ماہرین امراض جلد سے رابطہ کیا جانا چاہیے، تاہم ایسے مسائل سے نمٹنے کے لیے گھریلو ٹوٹکے بھی آزمائے جا سکتے ہیں۔</p>
<p>خارش اور الرجی جیسے مسائل سے نمٹنے والے افراد کو ماہرین صحت کی تجویز سے اینٹی الرجی ادویات سمیت کریمز، لوشنز اور دیسی ٹوٹکوں کی مدد لینی چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275054</guid>
      <pubDate>Thu, 08 Jan 2026 18:32:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ہیلتھ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/08182955f799987.webp" type="image/webp" medium="image" height="1024" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/08182955f799987.webp"/>
        <media:title>ماہرین کے مطابق بعض افراد کو سردیوں میں چنبل بھی ہوتا ہے جب کہ کچھ افراد کو سردی کے موسم سے الرجی بھی ہوتی ہے، جس وجہ سے وہ ہر وقت اپنے جسم میں خارش محسوس کرنے لگتے ہیں۔ فوٹو اے آئی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برطانیہ: دن کے اوقات میں آن لائن اور ٹی وی پر جنک فوڈ کے اشتہارات دکھانے پر پابندی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275017/</link>
      <description>&lt;p&gt;برطانیہ میں دن کے اوقات میں  ٹیلی وژن اور آن لائن پلیٹ فارمز پر جنک فوڈ کے اشتہارات پر پابندی عائد کر دی گئی، حکومت نے اسے بچوں میں موٹاپے سے نمٹنے کے لیے دنیا میں اپنی نوعیت کا نمایاں اقدام قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق یہ پابندی ان مصنوعات کے اشتہارات پر لاگو ہوگی جن میں چکنائی، نمک یا چینی کی مقدار زیادہ ہو، وزارتِ صحت کے مطابق اس اقدام سے بچوں کی خوراک سے سالانہ تقریباً 7.2 ارب کیلوریز کم ہو سکیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پابندی رات 9 بجے سے پہلے نشر ہونے والے ٹی وی اشتہارات اور ہر وقت آن لائن اشتہارات پر لاگو ہوگی، جس کے نتیجے میں بچوں میں موٹاپے کا شکار افراد کی تعداد میں 20 ہزار تک کمی آئے گی اور صحت کے شعبے میں تقریباً دو ارب ڈالر کے فوائد حاصل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نیا اقدام دسمبر 2024 میں کیے گئے اقدامات کا تسلسل ہے جن میں ملک شیکس، ریڈی ٹو ڈرنک کافی اور میٹھے دہی والے مشروبات جیسی پیک شدہ اشیا پر شوگر ٹیکس میں توسیع کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تازہ اقدام میں مقامی انتظامیہ کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ اسکولوں کے باہر فاسٹ فوڈ دکانیں قائم ہونے سے روک سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کا کہنا ہے کہ اعداد و شمار سے ثابت ہوتا ہے کہ اشتہارات بچوں کی خوراک کے انتخاب اور کھانے کے اوقات پر اثر انداز ہوتے ہیں، جس سے کم عمری میں ذوق بنتا ہے اور موٹاپے اور اس سے جڑی بیماریوں کا خطرہ بڑھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری اعداد و شمار کے مطابق انگلینڈ میں پرائمری اسکول میں داخل ہونے والے تقریباً 22 فیصد بچے زائد وزن یا موٹاپے کا شکار ہوتے ہیں، جبکہ سیکنڈری اسکول کی عمر تک پہنچتے پہنچتے یہ شرح ایک تہائی سے بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق دانتوں کی خرابی کم عمر بچوں میں اسپتال داخلے کی سب سے بڑی وجہ بن چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر صحت ایشلے ڈالٹن نے کہا کہ رات 9 بجے سے پہلے جنک فوڈ کے اشتہارات محدود کرنے اور آن لائن اشتہارات پر پابندی سے غیر صحت مند خوراک کی غیر ضروری تشہیر میں نمایاں کمی آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ اقدام نیشنل ہیلتھ سروس کو صرف علاج تک محدود رکھنے کے بجائے بیماریوں کی روک تھام پر بھی توجہ دینے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوبیسیٹی ہیلتھ الائنس کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین جینر نے اس فیصلے کو بچوں کو غیر صحت مند خوراک اور مشروبات کے اشتہارات سے بہتر تحفظ فراہم کرنے کی جانب خوش آئند اور طویل عرصے سے منتظر قدم قرار دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>برطانیہ میں دن کے اوقات میں  ٹیلی وژن اور آن لائن پلیٹ فارمز پر جنک فوڈ کے اشتہارات پر پابندی عائد کر دی گئی، حکومت نے اسے بچوں میں موٹاپے سے نمٹنے کے لیے دنیا میں اپنی نوعیت کا نمایاں اقدام قرار دیا ہے۔</p>
<p>اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق یہ پابندی ان مصنوعات کے اشتہارات پر لاگو ہوگی جن میں چکنائی، نمک یا چینی کی مقدار زیادہ ہو، وزارتِ صحت کے مطابق اس اقدام سے بچوں کی خوراک سے سالانہ تقریباً 7.2 ارب کیلوریز کم ہو سکیں گی۔</p>
<p>یہ پابندی رات 9 بجے سے پہلے نشر ہونے والے ٹی وی اشتہارات اور ہر وقت آن لائن اشتہارات پر لاگو ہوگی، جس کے نتیجے میں بچوں میں موٹاپے کا شکار افراد کی تعداد میں 20 ہزار تک کمی آئے گی اور صحت کے شعبے میں تقریباً دو ارب ڈالر کے فوائد حاصل ہوں گے۔</p>
<p>یہ نیا اقدام دسمبر 2024 میں کیے گئے اقدامات کا تسلسل ہے جن میں ملک شیکس، ریڈی ٹو ڈرنک کافی اور میٹھے دہی والے مشروبات جیسی پیک شدہ اشیا پر شوگر ٹیکس میں توسیع کی گئی تھی۔</p>
<p>تازہ اقدام میں مقامی انتظامیہ کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ اسکولوں کے باہر فاسٹ فوڈ دکانیں قائم ہونے سے روک سکے۔</p>
<p>حکومت کا کہنا ہے کہ اعداد و شمار سے ثابت ہوتا ہے کہ اشتہارات بچوں کی خوراک کے انتخاب اور کھانے کے اوقات پر اثر انداز ہوتے ہیں، جس سے کم عمری میں ذوق بنتا ہے اور موٹاپے اور اس سے جڑی بیماریوں کا خطرہ بڑھتا ہے۔</p>
<p>سرکاری اعداد و شمار کے مطابق انگلینڈ میں پرائمری اسکول میں داخل ہونے والے تقریباً 22 فیصد بچے زائد وزن یا موٹاپے کا شکار ہوتے ہیں، جبکہ سیکنڈری اسکول کی عمر تک پہنچتے پہنچتے یہ شرح ایک تہائی سے بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔</p>
<p>حکام کے مطابق دانتوں کی خرابی کم عمر بچوں میں اسپتال داخلے کی سب سے بڑی وجہ بن چکی ہے۔</p>
<p>وزیر صحت ایشلے ڈالٹن نے کہا کہ رات 9 بجے سے پہلے جنک فوڈ کے اشتہارات محدود کرنے اور آن لائن اشتہارات پر پابندی سے غیر صحت مند خوراک کی غیر ضروری تشہیر میں نمایاں کمی آئے گی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ اقدام نیشنل ہیلتھ سروس کو صرف علاج تک محدود رکھنے کے بجائے بیماریوں کی روک تھام پر بھی توجہ دینے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔</p>
<p>اوبیسیٹی ہیلتھ الائنس کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین جینر نے اس فیصلے کو بچوں کو غیر صحت مند خوراک اور مشروبات کے اشتہارات سے بہتر تحفظ فراہم کرنے کی جانب خوش آئند اور طویل عرصے سے منتظر قدم قرار دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275017</guid>
      <pubDate>Mon, 05 Jan 2026 13:52:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/0513403769af5f1.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/0513403769af5f1.webp"/>
        <media:title>ہ پابندی ان مصنوعات کے اشتہارات پر لاگو ہوگی جن میں چکنائی، نمک یا چینی کی مقدار زیادہ ہو، وزارتِ صحت کے مطابق اس اقدام سے بچوں کی خوراک سے سالانہ تقریباً 7.2 ارب کیلوریز کم ہو سکیں گی۔ فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>8 لاکھ بچے ویکسین سے محروم رہ جانے کے باوجود 2025 میں پولیو کیسز کم رپورٹ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274965/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: سال کی آخری پولیو مہم کے دوران تقریباً آٹھ لاکھ بچے ویکسین سے محروم رہنے کے باوجود پولیو کے خاتمے کے پروگرام کے مطابق 2025 میں پاکستان نے پولیو وائرس کے خلاف جدوجہد میں پیش رفت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیو ایک نہایت متعدی اور لاعلاج مرض ہے جو زندگی بھر کی معذوری کا سبب بن سکتا ہے۔ اس سے بچاؤ کا واحد مؤثر طریقہ یہ ہے کہ پانچ سال سے کم عمر ہر بچے کو ہر مہم کے دوران پولیو کے قطرے پلائے جائیں اور تمام بنیادی حفاظتی ٹیکوں کی بروقت تکمیل کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پروگرام کے بیان کے مطابق سال کے دوران پولیو ویکسینیشن کی 6 مہم چلائی گئیں، جن میں 5 ملک گیر تھیں۔ اس کے نتیجے میں پولیو کے رپورٹ ہونے والے کیسز 2024 میں 74 سے کم ہو کر 2025 میں 30 رہ گئے جبکہ ستمبر کے بعد ملک بھر میں کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ایک پولیو ایکسپرٹ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ وائرس کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ وہ چند سال غیر فعال رہتا ہے اور پھر دوبارہ شدت کے ساتھ سامنے آ جاتا ہے۔ ان کے مطابق یہ درست ہے کہ 2024 میں 74 کیسز رپورٹ ہوئے اور جاری سال میں یہ تعداد 30 تک کم ہوئی مگر 2023 میں صرف چھ کیسز تھے جبکہ 2022 میں 20 کیسز سامنے آئے تھے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1267406'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1267406"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ سال تقریباً مکمل ہو چکا ہے، اس کے باوجود کیسز کی تعداد میں اضافے کا امکان موجود ہے کیونکہ کسی بچے میں فالج پولیو کی وجہ سے ہے یا کسی اور سبب سے اس کی تصدیق میں تقریباً تین ہفتے لگتے ہیں۔ ان کے مطابق ہر سال لیبارٹری میں فالج کے شکار بچوں کے تقریباً چار ہزار نمونے جانچ کے لیے آتے ہیں، اس لیے جنوری کے اختتام تک 2025 کے حتمی کیسز کی تصدیق ہو سکے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ آخری ملک گیر پولیو مہم کا ہدف پانچ سال سے کم عمر ساڑھے چار کروڑ54 لاکھ بچوں کو قطرے پلانا تھا، تاہم ملک بھر میں انکار کے واقعات کے باعث مجموعی طور پر چار کروڑ 46 لاکھ  بچوں کو ویکسین دی جا سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="پولیو-وائرس-کی-مکمل-مانیٹرنگ-کی-ضرورت" href="#پولیو-وائرس-کی-مکمل-مانیٹرنگ-کی-ضرورت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;پولیو وائرس  کی مکمل مانیٹرنگ کی ضرورت&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;پولیو پروگرام کے بیان میں کہا گیا کہ اگرچہ پولیو کیسز کی تعداد میں کمی آ رہی ہے، لیکن بیماری کے مکمل خاتمے تک پاکستان کی جدوجہد جاری رہے گی۔ وائرس اب بھی بعض زیادہ خطرے والے علاقوں میں گردش کر رہا ہے جس کے باعث مسلسل نگرانی نہایت ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق ہر بچے تک رسائی اور کسی بھی ممکنہ واپسی کو روکنے کے لیے ہدفی اقدامات، مؤثر کمیونٹی روابط اور مسلسل ویکسینیشن مہمات ناگزیر ہیں۔ فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز، سیکیورٹی اہلکار اور مقامی انتظامیہ باہمی تعاون سے کام کر رہے ہیں تاکہ قوتِ مدافعت کی بلند سطح برقرار رہے اور پاکستان پولیو فری بننے کی راہ پر گامزن رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت 15 سے 21 دسمبر تک جاری رہنے والی تازہ ترین قومی پولیو مہم کے دوران مزید مضبوط ہوئی، جس میں قومی سطح پر 98 فیصد سے زائد کوریج حاصل کی گئی۔ چاروں صوبوں کے ساتھ آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور اسلام آباد میں بھی کارکردگی حوصلہ افزا رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پچھلی مہم کے مقابلے میں ویکسین سے محروم رہ جانے والے بچوں کی تعداد میں 18 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ خاص طور پر جنوبی خیبرپختونخوا میں رسائی اور آپریشنل کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1260157/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1260157"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ اس کے باوجود کوششیں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک ہر بچے کو تحفظ فراہم نہیں ہو جاتا۔ اگرچہ ان اقدامات سے اہم کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں مگر پولیو کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق کمیونٹیز، مذہبی رہنماؤں، سول سوسائٹی اور میڈیا کے ساتھ مسلسل روابط اعتماد بڑھانے، غلط معلومات کا تدارک کرنے اور ہر بچے کو پولیو سے محفوظ بنانے کے لیے نہایت اہم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ اگرچہ مقامی سطح پر رسائی کے مسائل، خصوصاً جنوبی خیبرپختونخوا کے بعض حصوں میں اب بھی موجود ہیں تاہم ان کی نشاندہی کر لی گئی ہے اور ضلعی سطح پر ہدفی اقدامات کے ذریعے انہیں حل کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق 2025 میں حاصل ہونے والی پیش رفت کی بنیاد پر پاکستان کا پولیو خاتمے کا پروگرام 2026 میں ہدفی کوششوں کو مزید تیز کر رہا ہے تاکہ باقی ماندہ وائرس کی ترسیل کو روکا جا سکے اور فیصلہ کن طور پر خاتمے کی جانب بڑھا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ اب جبکہ وائرس کی ترسیل محدود ہو چکی ہے، آبادی میں قوتِ مدافعت بڑھ رہی ہے اور مشکل سمجھے جانے والے علاقوں میں کارکردگی بہتر ہو رہی ہے، پروگرام ہر بچے کے لیے پولیو فری مستقبل کے حصول کی راہ پر مضبوطی سے گامزن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ پاکستان دنیا کے ان آخری دو ممالک میں شامل ہے جہاں پولیو اب بھی موجود ہے، دوسرا ملک افغانستان ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: سال کی آخری پولیو مہم کے دوران تقریباً آٹھ لاکھ بچے ویکسین سے محروم رہنے کے باوجود پولیو کے خاتمے کے پروگرام کے مطابق 2025 میں پاکستان نے پولیو وائرس کے خلاف جدوجہد میں پیش رفت کی ہے۔</p>
<p>پولیو ایک نہایت متعدی اور لاعلاج مرض ہے جو زندگی بھر کی معذوری کا سبب بن سکتا ہے۔ اس سے بچاؤ کا واحد مؤثر طریقہ یہ ہے کہ پانچ سال سے کم عمر ہر بچے کو ہر مہم کے دوران پولیو کے قطرے پلائے جائیں اور تمام بنیادی حفاظتی ٹیکوں کی بروقت تکمیل کی جائے۔</p>
<p>پروگرام کے بیان کے مطابق سال کے دوران پولیو ویکسینیشن کی 6 مہم چلائی گئیں، جن میں 5 ملک گیر تھیں۔ اس کے نتیجے میں پولیو کے رپورٹ ہونے والے کیسز 2024 میں 74 سے کم ہو کر 2025 میں 30 رہ گئے جبکہ ستمبر کے بعد ملک بھر میں کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا۔</p>
<p>تاہم ایک پولیو ایکسپرٹ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ وائرس کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ وہ چند سال غیر فعال رہتا ہے اور پھر دوبارہ شدت کے ساتھ سامنے آ جاتا ہے۔ ان کے مطابق یہ درست ہے کہ 2024 میں 74 کیسز رپورٹ ہوئے اور جاری سال میں یہ تعداد 30 تک کم ہوئی مگر 2023 میں صرف چھ کیسز تھے جبکہ 2022 میں 20 کیسز سامنے آئے تھے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1267406'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1267406"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ سال تقریباً مکمل ہو چکا ہے، اس کے باوجود کیسز کی تعداد میں اضافے کا امکان موجود ہے کیونکہ کسی بچے میں فالج پولیو کی وجہ سے ہے یا کسی اور سبب سے اس کی تصدیق میں تقریباً تین ہفتے لگتے ہیں۔ ان کے مطابق ہر سال لیبارٹری میں فالج کے شکار بچوں کے تقریباً چار ہزار نمونے جانچ کے لیے آتے ہیں، اس لیے جنوری کے اختتام تک 2025 کے حتمی کیسز کی تصدیق ہو سکے گی۔</p>
<p>یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ آخری ملک گیر پولیو مہم کا ہدف پانچ سال سے کم عمر ساڑھے چار کروڑ54 لاکھ بچوں کو قطرے پلانا تھا، تاہم ملک بھر میں انکار کے واقعات کے باعث مجموعی طور پر چار کروڑ 46 لاکھ  بچوں کو ویکسین دی جا سکی۔</p>
<h2><a id="پولیو-وائرس-کی-مکمل-مانیٹرنگ-کی-ضرورت" href="#پولیو-وائرس-کی-مکمل-مانیٹرنگ-کی-ضرورت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>پولیو وائرس  کی مکمل مانیٹرنگ کی ضرورت</h2>
<p>پولیو پروگرام کے بیان میں کہا گیا کہ اگرچہ پولیو کیسز کی تعداد میں کمی آ رہی ہے، لیکن بیماری کے مکمل خاتمے تک پاکستان کی جدوجہد جاری رہے گی۔ وائرس اب بھی بعض زیادہ خطرے والے علاقوں میں گردش کر رہا ہے جس کے باعث مسلسل نگرانی نہایت ضروری ہے۔</p>
<p>بیان کے مطابق ہر بچے تک رسائی اور کسی بھی ممکنہ واپسی کو روکنے کے لیے ہدفی اقدامات، مؤثر کمیونٹی روابط اور مسلسل ویکسینیشن مہمات ناگزیر ہیں۔ فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز، سیکیورٹی اہلکار اور مقامی انتظامیہ باہمی تعاون سے کام کر رہے ہیں تاکہ قوتِ مدافعت کی بلند سطح برقرار رہے اور پاکستان پولیو فری بننے کی راہ پر گامزن رہے۔</p>
<p>یہ پیش رفت 15 سے 21 دسمبر تک جاری رہنے والی تازہ ترین قومی پولیو مہم کے دوران مزید مضبوط ہوئی، جس میں قومی سطح پر 98 فیصد سے زائد کوریج حاصل کی گئی۔ چاروں صوبوں کے ساتھ آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور اسلام آباد میں بھی کارکردگی حوصلہ افزا رہی۔</p>
<p>پچھلی مہم کے مقابلے میں ویکسین سے محروم رہ جانے والے بچوں کی تعداد میں 18 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ خاص طور پر جنوبی خیبرپختونخوا میں رسائی اور آپریشنل کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1260157/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1260157"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>بیان میں کہا گیا کہ اس کے باوجود کوششیں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک ہر بچے کو تحفظ فراہم نہیں ہو جاتا۔ اگرچہ ان اقدامات سے اہم کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں مگر پولیو کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔</p>
<p>بیان کے مطابق کمیونٹیز، مذہبی رہنماؤں، سول سوسائٹی اور میڈیا کے ساتھ مسلسل روابط اعتماد بڑھانے، غلط معلومات کا تدارک کرنے اور ہر بچے کو پولیو سے محفوظ بنانے کے لیے نہایت اہم ہیں۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ اگرچہ مقامی سطح پر رسائی کے مسائل، خصوصاً جنوبی خیبرپختونخوا کے بعض حصوں میں اب بھی موجود ہیں تاہم ان کی نشاندہی کر لی گئی ہے اور ضلعی سطح پر ہدفی اقدامات کے ذریعے انہیں حل کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>بیان کے مطابق 2025 میں حاصل ہونے والی پیش رفت کی بنیاد پر پاکستان کا پولیو خاتمے کا پروگرام 2026 میں ہدفی کوششوں کو مزید تیز کر رہا ہے تاکہ باقی ماندہ وائرس کی ترسیل کو روکا جا سکے اور فیصلہ کن طور پر خاتمے کی جانب بڑھا جا سکے۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ اب جبکہ وائرس کی ترسیل محدود ہو چکی ہے، آبادی میں قوتِ مدافعت بڑھ رہی ہے اور مشکل سمجھے جانے والے علاقوں میں کارکردگی بہتر ہو رہی ہے، پروگرام ہر بچے کے لیے پولیو فری مستقبل کے حصول کی راہ پر مضبوطی سے گامزن ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ پاکستان دنیا کے ان آخری دو ممالک میں شامل ہے جہاں پولیو اب بھی موجود ہے، دوسرا ملک افغانستان ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274965</guid>
      <pubDate>Wed, 31 Dec 2025 15:09:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اکرام جنیدی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/3114595753728e7.webp" type="image/webp" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/3114595753728e7.webp"/>
        <media:title>پچھلی مہم کے مقابلے میں ویکسین سے محروم رہ جانے والے بچوں کی تعداد میں 18 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈپریشن کے وہ اسباب جن پر ہم غور نہیں کرتے!</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274883/</link>
      <description>&lt;p&gt;دنیا میں کونسا انسان ہے جو دکھ، مالیاتی مشکلات اور بے روزگاری سمیت دیگر مسائل کی بنا پر ڈپریشن یا اینزائٹی کا شکار نہیں ہوتا اور یہی عام طور پر اس کی معروف وجوہات بھی سمجھی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مگر ایسا نہ ہونے کے باوجود آپ ڈپریشن کا شکار ہیں اور اس کی کوئی خاص وجہ سمجھ نہیں آرہی تو درحقیقت ایسی متعدد حیرت انگیز چیزیں جو آپ کو مایوس بنارہی ہوتی ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ بیشتر افراد ان سے واقف بھی نہیں ہوتے جن کو جان کر آپ حیران رہ جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="موسم" href="#موسم" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;موسم&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;موسموں کے مزاج پر اثرانداز ہونے کا تعلق عام طور پر سردیوں سے جورا جاتا ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ گرم موسم بھی ڈپریشن کا سبب بن سکتا ہے، ایسا اس وقت ہوتا ہے جب موسم گرما معمول سے زیادہ لمبا ہوجائے یا جسم کو گرمی سے مطابقت پیدا کرنے میں مشکل پیش آرہی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوریگن ہیلتھ اینڈ سائنس یونیورسٹی کے مطابق گرم موسم میں جسم کو مطابقت پیدا کرنے میں مشکل ہو تو اس سے دماغی کیمیسٹری اور ہارمونز کے نظام میں عدم توازن پیدا ہوتا ہے جو ڈپریشن کا سبب بن جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="تمباکو-نوشی" href="#تمباکو-نوشی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;تمباکو نوشی&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ مایوسی کے شکار افراد تمباکو نوشی کی عادت کا شکار ہوجاتے ہیں مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ سگریٹ میں شامل نکوٹین دماغی ٹرانسمیٹر کی سرگرمیوں پر اثر انداز ہوتا ہے جس کے نتیجے میں ہارمونز بڑی مقدار میں خارج ہوتے ہیں جو مزاج کو بدلنے کا سبب بن جاتے ہیں یا یوں کہہ لیں ڈپریشن بڑھا دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="گلے-کے-امراض" href="#گلے-کے-امراض" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;گلے کے امراض&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;تھائی رائیڈ گردن میں تتلی کی شکل کے غدود مناسب مقدار میں تھائی رائیڈ ہارمون پیدا نہ کررہا ہو تو انسانی جسم میں ڈپریشن بڑھنے لگتا ہے، درحقیقت اس ہارمون کا کام دماغی سرگرمیوں اور اس کے ہارمونز کو کنٹرول کرنا ہوتا ہے، اگر آپ کو ڈپریشن کے دوران جسم سرد ہوتا یا خوف محسوس ہو تو اس چیز کو چیک کرالینا زیادہ بہتر ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="نیند-کی-خراب-عادت" href="#نیند-کی-خراب-عادت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;نیند کی خراب عادت&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;یہ کوئی حیرت انگیز بات نہیں کہ نیند کی کمی چڑچڑے پن کا سبب بنتی ہے مگر یہ ڈپریشن کا خطرہ بھی بڑھا دیتا ہے، ایک طبی تحقیق کے مطابق نیند کی کمی کے نتیجے میں لوگوں کے دماغی خلیات دوبارہ مرمت نہیں ہوپاتے جس کے نتیجے میں ان میں مایوسی جنم لینے لگتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="فیس-بک-کا-بہت-زیادہ-استعمال" href="#فیس-بک-کا-بہت-زیادہ-استعمال" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;فیس بک کا بہت زیادہ استعمال&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;کیا آپ سوشل میڈیا سائٹس پر بہت زیادہ وقت گزارتے ہیں؟ اگر ہاں تو مختلف تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ یہ عادت ڈپریشن کی جانب لے جاسکتی ہے خاص طور پر نوجوان اور جوان اس سے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں، درحقیقت انٹرنیٹ کی عادت سے لوگوں کے اندر حقیقی زندگی میں اپنے ساتھیوں سے بات چیت میں جدوجہد کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کسی ساتھی کی کمی سے ڈپریشن جنم لینا لگتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="ٹی-وی-شو-یا-فلم-کا-اختتام" href="#ٹی-وی-شو-یا-فلم-کا-اختتام" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ٹی وی شو یا فلم کا اختتام&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;جب کوئی ضروری چیز جیسے ٹی وی شو، فلم یا گھر کی تزئین نو کا اختتام ہوتا ہے تو اس سے کچھ افراد کے اندر ڈپریشن پیدا ہوتا ہے، ایک تحقیق کے مطابق ایسا اس وقت سامنے آیا تھا جب ہیری پوٹر سیریز کی آخری فلم سامنے آئی تھی جبکہ وہ اس کو دیکھنے اور اس میں اپنی حقیقی زندگیوں کے مسائل بھلا دینے کے عادی ہوچکے تھے، جس پر انہیں شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="رہائش-کا-مقام" href="#رہائش-کا-مقام" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;رہائش کا مقام&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;آپ اس پر جتنا بحث کرلیں کہ شہر یا گاﺅں میں سے کس کی زندگی بہتر ہے مگر سائنس کا تو ماننا ہے کہ شہری علاقوں میں رہنے والے افراد کے مزاج میں اتار چڑھاﺅ کا خطرہ دیہاتی لوگوں کے مقابلے میں 39 فیصد زائد ہوتا ہے، شہرون میں لوگ زیادہ سرگرم رہتے ہیں جس سے ان کے دماغ کو تناﺅ کو ریگولیٹ کرنے میں مشکل پیش آتی ہے اور یہی چیز آگے بڑھ کر ڈپریشن کا سبب بن جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="بہت-زیادہ-آپشنز" href="#بہت-زیادہ-آپشنز" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;بہت زیادہ آپشنز&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;اگر بہت زیادہ آپشنز دستیاب ہو مثال کے طور پر ناشتے کے لیے کوئی چیز لینے جائیں اور بہت کچھ مل رہا ہو تو لوگوں کو سمجھ نہیں آتا کہ کیا انتخاب کریں، جس کے نتیجے میں وہ بہتر سے بہترین کی تلاش میں لگ جاتے ہیں اور یہ رجحان ان میں ڈپریشن کا سبب بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="خوراک-میں-مچھلی-سے-دوری" href="#خوراک-میں-مچھلی-سے-دوری" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;خوراک میں مچھلی سے دوری&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;مچھلی میں پائے جانے والے اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کا کم استعمال بھی ڈپریشن کا خطرہ بہت زیادہ بڑحا دیتا ہے، ایک تحقیق کے مطابق یہ فیٹی ایسڈز نیوروٹرانسمیٹرز کو ریگولیٹ کرتے ہیں جو ڈپریشن سے بھی بچانے کا کام کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="بہن-بھائیوں-سے-خراب-تعلقات" href="#بہن-بھائیوں-سے-خراب-تعلقات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;بہن بھائیوں سے خراب تعلقات&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ کسی سے بھی خراب تعلق ڈپریشن کا سبب بن سکتا ہے مگر ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جن افراد کا اپنے بہن بھائیوں سے تعلق بہتر نہیں ہوتا ان میں نوجوانی کے عرصے میں ڈپریشن کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے، اگرچہ اس کی وجہ واضح نہیں تاہم محققین کے خیال میں بہن بھائیوں سے انسان سماج میں تعلقات بڑھانا سیکھتا ہے، تاہم لڑائی جھگڑے ان کی یہ صلاحیت متاثر کرتے ہیں جو بعد کی زندگی میں ڈپریشن کا سبب بن جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="امتناع-حمل-گولیاں" href="#امتناع-حمل-گولیاں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;امتناع حمل گولیاں&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;حمل سے بچاﺅ کی گولیوں کے مضر اثرات سے انکار ممکن نہیں اور کئی تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ ان کا استعمال اکثر خواتین میں ڈپریشن کا سبب بن جاتا ہے جس کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہوسکی ہے، تاہم ایسا ہر ایک ساتھ نہیں ہوتا مگر پھر بھی امکان ضرور باقی رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="خواب-آور-ادویات" href="#خواب-آور-ادویات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;خواب آور ادویات&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;کئی ادویات کے استعمال کے نتیجے میں بھی ڈپریشن لاحق ہوسکتا ہے خاص طور پر نیند کی گولیوں کا استعمال متعدد افراد میں اس کا سبب بن سکتا ہے بلکہ ان میں خودکشی تک کے رجحانات پیدا ہوجاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>دنیا میں کونسا انسان ہے جو دکھ، مالیاتی مشکلات اور بے روزگاری سمیت دیگر مسائل کی بنا پر ڈپریشن یا اینزائٹی کا شکار نہیں ہوتا اور یہی عام طور پر اس کی معروف وجوہات بھی سمجھی جاتی ہیں۔</p>
<p>مگر ایسا نہ ہونے کے باوجود آپ ڈپریشن کا شکار ہیں اور اس کی کوئی خاص وجہ سمجھ نہیں آرہی تو درحقیقت ایسی متعدد حیرت انگیز چیزیں جو آپ کو مایوس بنارہی ہوتی ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ بیشتر افراد ان سے واقف بھی نہیں ہوتے جن کو جان کر آپ حیران رہ جائیں گے۔</p>
<h2><a id="موسم" href="#موسم" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>موسم</h2>
<p>موسموں کے مزاج پر اثرانداز ہونے کا تعلق عام طور پر سردیوں سے جورا جاتا ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ گرم موسم بھی ڈپریشن کا سبب بن سکتا ہے، ایسا اس وقت ہوتا ہے جب موسم گرما معمول سے زیادہ لمبا ہوجائے یا جسم کو گرمی سے مطابقت پیدا کرنے میں مشکل پیش آرہی ہو۔</p>
<p>اوریگن ہیلتھ اینڈ سائنس یونیورسٹی کے مطابق گرم موسم میں جسم کو مطابقت پیدا کرنے میں مشکل ہو تو اس سے دماغی کیمیسٹری اور ہارمونز کے نظام میں عدم توازن پیدا ہوتا ہے جو ڈپریشن کا سبب بن جاتا ہے۔</p>
<h2><a id="تمباکو-نوشی" href="#تمباکو-نوشی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>تمباکو نوشی</h2>
<p>عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ مایوسی کے شکار افراد تمباکو نوشی کی عادت کا شکار ہوجاتے ہیں مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ سگریٹ میں شامل نکوٹین دماغی ٹرانسمیٹر کی سرگرمیوں پر اثر انداز ہوتا ہے جس کے نتیجے میں ہارمونز بڑی مقدار میں خارج ہوتے ہیں جو مزاج کو بدلنے کا سبب بن جاتے ہیں یا یوں کہہ لیں ڈپریشن بڑھا دیتے ہیں۔</p>
<h2><a id="گلے-کے-امراض" href="#گلے-کے-امراض" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>گلے کے امراض</h2>
<p>تھائی رائیڈ گردن میں تتلی کی شکل کے غدود مناسب مقدار میں تھائی رائیڈ ہارمون پیدا نہ کررہا ہو تو انسانی جسم میں ڈپریشن بڑھنے لگتا ہے، درحقیقت اس ہارمون کا کام دماغی سرگرمیوں اور اس کے ہارمونز کو کنٹرول کرنا ہوتا ہے، اگر آپ کو ڈپریشن کے دوران جسم سرد ہوتا یا خوف محسوس ہو تو اس چیز کو چیک کرالینا زیادہ بہتر ہوگا۔</p>
<h2><a id="نیند-کی-خراب-عادت" href="#نیند-کی-خراب-عادت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>نیند کی خراب عادت</h2>
<p>یہ کوئی حیرت انگیز بات نہیں کہ نیند کی کمی چڑچڑے پن کا سبب بنتی ہے مگر یہ ڈپریشن کا خطرہ بھی بڑھا دیتا ہے، ایک طبی تحقیق کے مطابق نیند کی کمی کے نتیجے میں لوگوں کے دماغی خلیات دوبارہ مرمت نہیں ہوپاتے جس کے نتیجے میں ان میں مایوسی جنم لینے لگتی ہے۔</p>
<h2><a id="فیس-بک-کا-بہت-زیادہ-استعمال" href="#فیس-بک-کا-بہت-زیادہ-استعمال" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>فیس بک کا بہت زیادہ استعمال</h2>
<p>کیا آپ سوشل میڈیا سائٹس پر بہت زیادہ وقت گزارتے ہیں؟ اگر ہاں تو مختلف تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ یہ عادت ڈپریشن کی جانب لے جاسکتی ہے خاص طور پر نوجوان اور جوان اس سے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں، درحقیقت انٹرنیٹ کی عادت سے لوگوں کے اندر حقیقی زندگی میں اپنے ساتھیوں سے بات چیت میں جدوجہد کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کسی ساتھی کی کمی سے ڈپریشن جنم لینا لگتا ہے۔</p>
<h2><a id="ٹی-وی-شو-یا-فلم-کا-اختتام" href="#ٹی-وی-شو-یا-فلم-کا-اختتام" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ٹی وی شو یا فلم کا اختتام</h2>
<p>جب کوئی ضروری چیز جیسے ٹی وی شو، فلم یا گھر کی تزئین نو کا اختتام ہوتا ہے تو اس سے کچھ افراد کے اندر ڈپریشن پیدا ہوتا ہے، ایک تحقیق کے مطابق ایسا اس وقت سامنے آیا تھا جب ہیری پوٹر سیریز کی آخری فلم سامنے آئی تھی جبکہ وہ اس کو دیکھنے اور اس میں اپنی حقیقی زندگیوں کے مسائل بھلا دینے کے عادی ہوچکے تھے، جس پر انہیں شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔</p>
<h2><a id="رہائش-کا-مقام" href="#رہائش-کا-مقام" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>رہائش کا مقام</h2>
<p>آپ اس پر جتنا بحث کرلیں کہ شہر یا گاﺅں میں سے کس کی زندگی بہتر ہے مگر سائنس کا تو ماننا ہے کہ شہری علاقوں میں رہنے والے افراد کے مزاج میں اتار چڑھاﺅ کا خطرہ دیہاتی لوگوں کے مقابلے میں 39 فیصد زائد ہوتا ہے، شہرون میں لوگ زیادہ سرگرم رہتے ہیں جس سے ان کے دماغ کو تناﺅ کو ریگولیٹ کرنے میں مشکل پیش آتی ہے اور یہی چیز آگے بڑھ کر ڈپریشن کا سبب بن جاتی ہے۔</p>
<h2><a id="بہت-زیادہ-آپشنز" href="#بہت-زیادہ-آپشنز" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>بہت زیادہ آپشنز</h2>
<p>اگر بہت زیادہ آپشنز دستیاب ہو مثال کے طور پر ناشتے کے لیے کوئی چیز لینے جائیں اور بہت کچھ مل رہا ہو تو لوگوں کو سمجھ نہیں آتا کہ کیا انتخاب کریں، جس کے نتیجے میں وہ بہتر سے بہترین کی تلاش میں لگ جاتے ہیں اور یہ رجحان ان میں ڈپریشن کا سبب بنتا ہے۔</p>
<h2><a id="خوراک-میں-مچھلی-سے-دوری" href="#خوراک-میں-مچھلی-سے-دوری" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>خوراک میں مچھلی سے دوری</h2>
<p>مچھلی میں پائے جانے والے اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کا کم استعمال بھی ڈپریشن کا خطرہ بہت زیادہ بڑحا دیتا ہے، ایک تحقیق کے مطابق یہ فیٹی ایسڈز نیوروٹرانسمیٹرز کو ریگولیٹ کرتے ہیں جو ڈپریشن سے بھی بچانے کا کام کرتے ہیں۔</p>
<h2><a id="بہن-بھائیوں-سے-خراب-تعلقات" href="#بہن-بھائیوں-سے-خراب-تعلقات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>بہن بھائیوں سے خراب تعلقات</h2>
<p>اگرچہ کسی سے بھی خراب تعلق ڈپریشن کا سبب بن سکتا ہے مگر ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جن افراد کا اپنے بہن بھائیوں سے تعلق بہتر نہیں ہوتا ان میں نوجوانی کے عرصے میں ڈپریشن کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے، اگرچہ اس کی وجہ واضح نہیں تاہم محققین کے خیال میں بہن بھائیوں سے انسان سماج میں تعلقات بڑھانا سیکھتا ہے، تاہم لڑائی جھگڑے ان کی یہ صلاحیت متاثر کرتے ہیں جو بعد کی زندگی میں ڈپریشن کا سبب بن جاتا ہے۔</p>
<h2><a id="امتناع-حمل-گولیاں" href="#امتناع-حمل-گولیاں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>امتناع حمل گولیاں</h2>
<p>حمل سے بچاﺅ کی گولیوں کے مضر اثرات سے انکار ممکن نہیں اور کئی تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ ان کا استعمال اکثر خواتین میں ڈپریشن کا سبب بن جاتا ہے جس کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہوسکی ہے، تاہم ایسا ہر ایک ساتھ نہیں ہوتا مگر پھر بھی امکان ضرور باقی رہتا ہے۔</p>
<h2><a id="خواب-آور-ادویات" href="#خواب-آور-ادویات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>خواب آور ادویات</h2>
<p>کئی ادویات کے استعمال کے نتیجے میں بھی ڈپریشن لاحق ہوسکتا ہے خاص طور پر نیند کی گولیوں کا استعمال متعدد افراد میں اس کا سبب بن سکتا ہے بلکہ ان میں خودکشی تک کے رجحانات پیدا ہوجاتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274883</guid>
      <pubDate>Sat, 20 Dec 2025 19:33:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ہیلتھ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/2016505956b7949.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/2016505956b7949.webp"/>
        <media:title>— اے ایف پی فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دودھ، دہی اور کیلا ڈپریشن سے بچانے میں مددگار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274867/</link>
      <description>&lt;p&gt;سنگاپور کے ماہرین کی جانب سے کی جانے والی ایک تازہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ’پرو بائیوٹک غذائیں‘ کھانے سے نہ صرف نظام ہاضمہ بہتر ہوتا ہے بلکہ ایسی غذائیں ذہنی صحت اور ڈپریشن سے بچانے میں بھی مددگار ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی ویب سائٹ کے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.scmp.com/lifestyle/health-wellness/article/3299237/why-eating-more-miso-kimchi-and-other-probiotics-could-ease-your-anxiety-and-depression?module=top_story&amp;amp;pgtype=section"&gt;&lt;strong&gt;مطابق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; سنگاپور کے ماہرین نے غذائیت، نظام ہاظمہ اور ذہنی صحت میں تعلق دریافت کرنے کے لیے چوہوں پر تحقیق کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے پہلے چوہوں کو ڈپریشن جیسی بیماری میں مبتلا کیا اور پھر جانا کہ ایسی کون سی وجوہات ہیں، جس سے چوہوں کی ذہنی صحت متاثر ہو رہی اور اس کی وجہ کیا ہے؟&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1010617'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1010617"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے پایا کہ غذائیں کھانے سے چوہوں کا نظام ہاضمہ جن میں معدہ، آنتیں اور غذائی نالی سمیت دیگر اعضا شامل تھے، وہ متاثر ہوئے اور انہوں نے (indole ) نامی جز تیار کیا جو کہ ذہنی صحت اور خصوصی طور پر ڈپریشن کا سبب بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق غذائی نالی، معدے اور آنتوں میں مضر صحت بیکٹیریاز بن کر ڈپریشن کا سبب بننے والی اجزا تیار کرنے لگتی ہیں جو ذہنی صحت کی خرابی کا سبب بنتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق جب نظام ہاضمہ کے اعضا ڈپریشن کا سبب بنے والی اجزا تیار کرکے ذہن کی طرف منتقل کرتی ہیں تو ذہن میں (calcium-dependent SK2) نامی پروٹین بننے لگتا ہے جو کہ ڈپریشن کا سبب بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے بعد ازاں چوہوں کے نظام ہاضمہ کو پروبائیوٹین غذائیں دیں اور دیکھا کہ ایسی غذاؤں کا کیا اثر ہوتا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے پایا کہ پروبائیوٹین غذاؤں سے چوہوں کی آنتوں، معدے اور غذائی نالی نے ایسی بیکٹیریاز نہیں بنائیں جن سے ذہن میں ڈپریشن کا سبب بننے والی (calcium-dependent SK2) پروٹین بنے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق پروبائیوٹین غذاؤں سے چوہوں میں ڈپریشن میں مبتلا رہنے جیسی علامات دور ہوئیں، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ ایسی غذائیں ڈپریشن سے بچانے میں مددگار ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے مذکورہ تحقیق پر مزید تحقیق کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پروبائیوٹین غذائیں حالیہ دور میں نیا اور بہترین علاج بن کر سامنے آ رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ پروبائیوٹین غذائیں دودھ، دہی، دلیہ، کیلے، لہسن، ادرک، پنیر اور سرکوں جیسی غزاؤں پر مشتمل ہوتی ہیں اور ماہرین دہائیوں سے انہیں صحت کے لیے فائدہ مند قرار دیتے آ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سنگاپور کے ماہرین کی جانب سے کی جانے والی ایک تازہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ’پرو بائیوٹک غذائیں‘ کھانے سے نہ صرف نظام ہاضمہ بہتر ہوتا ہے بلکہ ایسی غذائیں ذہنی صحت اور ڈپریشن سے بچانے میں بھی مددگار ہوتی ہیں۔</p>
<p>چینی ویب سائٹ کے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.scmp.com/lifestyle/health-wellness/article/3299237/why-eating-more-miso-kimchi-and-other-probiotics-could-ease-your-anxiety-and-depression?module=top_story&amp;pgtype=section"><strong>مطابق</strong></a> سنگاپور کے ماہرین نے غذائیت، نظام ہاظمہ اور ذہنی صحت میں تعلق دریافت کرنے کے لیے چوہوں پر تحقیق کی۔</p>
<p>ماہرین نے پہلے چوہوں کو ڈپریشن جیسی بیماری میں مبتلا کیا اور پھر جانا کہ ایسی کون سی وجوہات ہیں، جس سے چوہوں کی ذہنی صحت متاثر ہو رہی اور اس کی وجہ کیا ہے؟</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1010617'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1010617"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین نے پایا کہ غذائیں کھانے سے چوہوں کا نظام ہاضمہ جن میں معدہ، آنتیں اور غذائی نالی سمیت دیگر اعضا شامل تھے، وہ متاثر ہوئے اور انہوں نے (indole ) نامی جز تیار کیا جو کہ ذہنی صحت اور خصوصی طور پر ڈپریشن کا سبب بنتا ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق غذائی نالی، معدے اور آنتوں میں مضر صحت بیکٹیریاز بن کر ڈپریشن کا سبب بننے والی اجزا تیار کرنے لگتی ہیں جو ذہنی صحت کی خرابی کا سبب بنتی ہیں۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق جب نظام ہاضمہ کے اعضا ڈپریشن کا سبب بنے والی اجزا تیار کرکے ذہن کی طرف منتقل کرتی ہیں تو ذہن میں (calcium-dependent SK2) نامی پروٹین بننے لگتا ہے جو کہ ڈپریشن کا سبب بنتا ہے۔</p>
<p>ماہرین نے بعد ازاں چوہوں کے نظام ہاضمہ کو پروبائیوٹین غذائیں دیں اور دیکھا کہ ایسی غذاؤں کا کیا اثر ہوتا ہے؟</p>
<p>ماہرین نے پایا کہ پروبائیوٹین غذاؤں سے چوہوں کی آنتوں، معدے اور غذائی نالی نے ایسی بیکٹیریاز نہیں بنائیں جن سے ذہن میں ڈپریشن کا سبب بننے والی (calcium-dependent SK2) پروٹین بنے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق پروبائیوٹین غذاؤں سے چوہوں میں ڈپریشن میں مبتلا رہنے جیسی علامات دور ہوئیں، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ ایسی غذائیں ڈپریشن سے بچانے میں مددگار ہوتی ہیں۔</p>
<p>ماہرین نے مذکورہ تحقیق پر مزید تحقیق کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پروبائیوٹین غذائیں حالیہ دور میں نیا اور بہترین علاج بن کر سامنے آ رہی ہیں۔</p>
<p>خیال رہے کہ پروبائیوٹین غذائیں دودھ، دہی، دلیہ، کیلے، لہسن، ادرک، پنیر اور سرکوں جیسی غزاؤں پر مشتمل ہوتی ہیں اور ماہرین دہائیوں سے انہیں صحت کے لیے فائدہ مند قرار دیتے آ رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274867</guid>
      <pubDate>Thu, 18 Dec 2025 20:14:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ہیلتھ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/1817143087f6f66.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/1817143087f6f66.webp"/>
        <media:title>—فوٹو: شٹر اسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان میں ’سپر فلو‘ واقعی خطرناک ہے، ماہرین صحت کیا کہتے ہیں؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274816/kya-super-flu-waqai-itna-khatarnak-hai</link>
      <description>&lt;p&gt;یورپ کے کئی ممالک بالخصوص برطانیہ میں جس تیزی سے پھیلنے والے فلو کو ’سپر فلو‘ کہا جا رہا ہے، اس میں اضافے کے باعث تشویش پائی جا رہی ہے، تاہم پاکستانی ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ صورتحال احتیاط کی متقاضی ضرور ہے مگر گھبرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ بیماری کسی نئے وائرس کے بجائے ایک موجودہ وائرس میں جینیاتی تبدیلیوں کے باعث سامنے آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق اس اضافے کی بنیادی وجہ انفلوئنزا اے (H3N2) اور اس کی ایک نئی ذیلی قسم سب کلاڈ کے ہے، جو H3N2 کی ہی ایک تبدیل شدہ قسم ہے اور اس میں متعلقہ وائرسز کے مقابلے میں کئی جینیاتی تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈبلیو ایچ او نے تصدیق کی ہے کہ حالیہ مہینوں میں دنیا بھر میں فلو کی سرگرمی میں اضافہ ہوا ہے اور کئی ممالک میں معمول کے موسم سے پہلے ہی فلو کے کیسز بڑھنا شروع ہو گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم موجودہ وبائی اعداد و شمار یہ ظاہر نہیں کرتے کہ سب کلاڈ کے پہلے کے وائرسز کے مقابلے میں زیادہ شدید بیماری کا سبب بنتا ہے۔ البتہ اس کا معمول سے پہلے پھیلاؤ تشویشناک ضرور ہے، جبکہ ویکسینیشن بدستور شدید بیماری اور ہسپتال میں داخلے کے خطرے کو کم کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈبلیو ایچ او نے اس بات پر زور دیا ہے کہ انفلوئنزا ایک عام بیماری ہے جو ہر سال بتدریج جینیاتی تبدیلیوں کے ذریعے ارتقا پذیر رہتی ہے، جس کے باعث مسلسل نگرانی اور ویکسین کی بروقت اپ ڈیٹ ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="پاکستان-میں-صورتحال" href="#پاکستان-میں-صورتحال" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;پاکستان میں صورتحال&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق اگرچہ یورپ میں اس وائرس کے باعث ہسپتالوں میں داخلے بڑھے ہیں، تاہم پاکستان میں بزرگ آبادی نسبتاً کم اور موسمی پیٹرن مختلف ہونے کے باعث اس کے اثرات کم شدید مگر پھر بھی قابلِ توجہ رہنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں سابق صوبائی وزیرِ صحت پنجاب اور رائل کالج آف لندن کے انٹرنیشنل ایڈوائزر ڈاکٹر جاوید اکرم نے ڈان کو بتایا کہ وائرس میں ہونے والی تبدیلیاں کمزور طبقات کے لیے خطرہ بڑھا سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ “جب فلو نمونیا میں تبدیل ہو جائے تو مریضوں، بالخصوص بچوں، بزرگوں اور دیگر بیماریوں میں مبتلا افراد کو وینٹی لیٹر پر منتقل کیے جانے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ میں مشورہ دیتا ہوں کہ عوام سردیوں کے آغاز سے قبل انفلوئنزا کی ویکسین لگوائیں۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان سوسائٹی آف انٹرنل میڈیسن کے چیئرمین ڈاکٹر جاوید اکرم نے مزید کہا کہ ویکسین اوسطاً 70 فیصد تک انفلوئنزا کے خطرے کو کم کرتی ہے، اس لیے تمام طبی عملے کو بھی ویکسین لگوانی چاہیے کیونکہ وہ نہ صرف زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں بلکہ وائرس پھیلانے کا ذریعہ بھی بن سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابھرتی ہوئی متعدی بیماریوں کے ماہر اور پاکستان میں کووڈ۔19 ردعمل کی قیادت کرنے والے ڈاکٹر رانا صفدر کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان فلو کے پھیلاؤ کے عروج پر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اگرچہ نوجوان افراد کمیونٹی میں وائرس پھیلانے کا بڑا ذریعہ بنتے ہیں، مگر شدید پیچیدگیاں زیادہ تر بزرگوں اور دائمی امراض میں مبتلا افراد میں سامنے آتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ“پاکستان میں بہت کم بزرگ فلو کی ویکسین لگواتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ ہر سردیوں میں زیادہ خطرے میں رہتے ہیں۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر رانا صفدر نے تصدیق کی کہ برطانیہ میں فلو کی لہر کی ذمہ دار H3N2 سب کلاڈ کے پاکستان میں بھی رپورٹ ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق، “اگرچہ یہ وائرس اس سٹرین سے مختلف ہے جسے ڈبلیو ایچ او نے 2025-26 کی فلو ویکسین کے لیے منتخب کیا ہے، تاہم ویکسین پھر بھی شدید بیماری کے خطرے کو کم کرے گی۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے خبردار کیا کہ ملک کے مختلف حصوں میں چھائی ہوئی شدید دھند وائرس کے پھیلاؤ کو مزید بڑھا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ احتیاطی تدابیر وہی روایتی ہیں، جن میں ماسک کا استعمال، ہاتھوں کی صفائی اور علامات رکھنے والے افراد سے فاصلہ شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مشورہ دیا کہ “علامات کی صورت میں مریض فوراً اینٹی بایوٹکس کا استعمال نہ کریں بلکہ مناسب آرام کریں، گرم مشروبات پئیں اور صحت بخش غذا استعمال کریں۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مائیکرو بایولوجسٹ پروفیسر جاوید عثمان نے کہا کہ اس وقت گردش کرنے والے متعدد سانس کے وائرسز جن میں رائنو وائرس، پیراانفلوئنزا، آر ایس وی اور سارس کوو۔2 شامل ہیں — کے باعث صرف علامات کی بنیاد پر فلو کی تشخیص تقریباً ناممکن ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ “فلو ویکسین لگوانے کا بہترین وقت، جسے ’سویٹ اسپاٹ‘ کہا جاتا ہے، ستمبر سے اکتوبر کے درمیان ہے کیونکہ مؤثر مدافعت پیدا ہونے میں کم از کم دو ہفتے لگتے ہیں۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی ادارۂ صحت (این آئی ایچ) میں چیف آف پبلک ہیلتھ لیبارٹریز ڈاکٹر محمد سلمان نے تصدیق کی کہ موسمی انفلوئنزا اس وقت دنیا بھر کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی عام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ “ہر سال اگست میں نئی فلو ویکسین متعارف کرائی جاتی ہے، اور میں تجویز کرتا ہوں کہ یہ ویکسین بزرگ افراد اور کمزور مدافعتی نظام رکھنے والوں کو ضرور لگائی جائے۔”&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="پنجاب-بھر-میں-تیز-اضافہ" href="#پنجاب-بھر-میں-تیز-اضافہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;پنجاب بھر میں تیز اضافہ&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;لاہور میں سینئر طبی ماہرین نے سپر فلو کے کیسز میں “تیز اضافہ” رپورٹ کیا ہے، خاص طور پر گنجان آباد شہری علاقوں میں۔ کثیر المنزلہ عمارتوں میں رہنے والے افراد، مصروف بازاروں میں آنے جانے والے لوگ اور شادیوں جیسی تقریبات میں شرکت کرنے والے افراد وائرس کے زیادہ خطرے میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینئر پرنسپل میڈیکل آفیسر اور کنسلٹنٹ ڈاکٹر مسعود اختر شیخ نے بتایا کہ یہ اسٹرین “لاہور، گوجرانوالہ، راولپنڈی اور فیصل آباد سمیت پنجاب کے بڑے شہروں میں کیسز میں واضح اضافے کا سبب بن رہی ہے۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں تاحال اس ویرینٹ سے کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی، تاہم فلو اور سینے کی پیچیدگیوں کے ساتھ آنے والے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔&lt;br&gt;“بچے گھروں میں سپر اسپریڈر کا کردار ادا کر رہے ہیں اور اکثر وائرس بزرگ افراد تک منتقل کر دیتے ہیں۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر شیخ نے کہا کہ موجودہ صورتحال موسمی فلو، کووڈ۔19 اور آر ایس وی انفیکشنز کے ساتھ مل کر مزید سنگین ہو گئی ہے، جبکہ بین الاقوامی سفر وائرس کے پھیلاؤ کو تیز کر سکتا ہے، جیسا کہ برطانیہ میں دیکھا گیا جہاں اس سیزن کو 2017-18 کی شدید فلو لہر سے تشبیہ دی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور کے شیخ زاید اسپتال کے سابق سربراہ ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ ڈاکٹر محمد ارشد نے زیادہ خطرے والے مریضوں کے لیے اوسیلیٹامیویر (Oseltamivir) تجویز کی، جس سے بیماری کی مدت اور شدت میں کمی آ سکتی ہے۔ تاہم، یہ دوا تمام مریضوں کے لیے ضروری نہیں اور ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر استعمال نہیں کی جانی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مریض کو این 95 ماسک پہننا چاہیے، ہاتھوں کو بار بار دھونا چاہیے اور کمروں میں مناسب ہوا کا گزر یقینی بنانا چاہیے، جبکہ جلد صحت یابی کے لیے مناسب پانی، متوازن غذا اور آرام بے حد ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ چھ ماہ سے زائد عمر کے تمام افراد کو فلو ویکسین لگوانی چاہیے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>یورپ کے کئی ممالک بالخصوص برطانیہ میں جس تیزی سے پھیلنے والے فلو کو ’سپر فلو‘ کہا جا رہا ہے، اس میں اضافے کے باعث تشویش پائی جا رہی ہے، تاہم پاکستانی ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ صورتحال احتیاط کی متقاضی ضرور ہے مگر گھبرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ بیماری کسی نئے وائرس کے بجائے ایک موجودہ وائرس میں جینیاتی تبدیلیوں کے باعث سامنے آئی ہے۔</p>
<p>عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق اس اضافے کی بنیادی وجہ انفلوئنزا اے (H3N2) اور اس کی ایک نئی ذیلی قسم سب کلاڈ کے ہے، جو H3N2 کی ہی ایک تبدیل شدہ قسم ہے اور اس میں متعلقہ وائرسز کے مقابلے میں کئی جینیاتی تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں۔</p>
<p>ڈبلیو ایچ او نے تصدیق کی ہے کہ حالیہ مہینوں میں دنیا بھر میں فلو کی سرگرمی میں اضافہ ہوا ہے اور کئی ممالک میں معمول کے موسم سے پہلے ہی فلو کے کیسز بڑھنا شروع ہو گئے ہیں۔</p>
<p>تاہم موجودہ وبائی اعداد و شمار یہ ظاہر نہیں کرتے کہ سب کلاڈ کے پہلے کے وائرسز کے مقابلے میں زیادہ شدید بیماری کا سبب بنتا ہے۔ البتہ اس کا معمول سے پہلے پھیلاؤ تشویشناک ضرور ہے، جبکہ ویکسینیشن بدستور شدید بیماری اور ہسپتال میں داخلے کے خطرے کو کم کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔</p>
<p>ڈبلیو ایچ او نے اس بات پر زور دیا ہے کہ انفلوئنزا ایک عام بیماری ہے جو ہر سال بتدریج جینیاتی تبدیلیوں کے ذریعے ارتقا پذیر رہتی ہے، جس کے باعث مسلسل نگرانی اور ویکسین کی بروقت اپ ڈیٹ ضروری ہے۔</p>
<h2><a id="پاکستان-میں-صورتحال" href="#پاکستان-میں-صورتحال" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>پاکستان میں صورتحال</h2>
<p>ماہرین کے مطابق اگرچہ یورپ میں اس وائرس کے باعث ہسپتالوں میں داخلے بڑھے ہیں، تاہم پاکستان میں بزرگ آبادی نسبتاً کم اور موسمی پیٹرن مختلف ہونے کے باعث اس کے اثرات کم شدید مگر پھر بھی قابلِ توجہ رہنے کا امکان ہے۔</p>
<p>اسلام آباد میں سابق صوبائی وزیرِ صحت پنجاب اور رائل کالج آف لندن کے انٹرنیشنل ایڈوائزر ڈاکٹر جاوید اکرم نے ڈان کو بتایا کہ وائرس میں ہونے والی تبدیلیاں کمزور طبقات کے لیے خطرہ بڑھا سکتی ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ “جب فلو نمونیا میں تبدیل ہو جائے تو مریضوں، بالخصوص بچوں، بزرگوں اور دیگر بیماریوں میں مبتلا افراد کو وینٹی لیٹر پر منتقل کیے جانے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ میں مشورہ دیتا ہوں کہ عوام سردیوں کے آغاز سے قبل انفلوئنزا کی ویکسین لگوائیں۔”</p>
<p>پاکستان سوسائٹی آف انٹرنل میڈیسن کے چیئرمین ڈاکٹر جاوید اکرم نے مزید کہا کہ ویکسین اوسطاً 70 فیصد تک انفلوئنزا کے خطرے کو کم کرتی ہے، اس لیے تمام طبی عملے کو بھی ویکسین لگوانی چاہیے کیونکہ وہ نہ صرف زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں بلکہ وائرس پھیلانے کا ذریعہ بھی بن سکتے ہیں۔</p>
<p>ابھرتی ہوئی متعدی بیماریوں کے ماہر اور پاکستان میں کووڈ۔19 ردعمل کی قیادت کرنے والے ڈاکٹر رانا صفدر کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان فلو کے پھیلاؤ کے عروج پر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اگرچہ نوجوان افراد کمیونٹی میں وائرس پھیلانے کا بڑا ذریعہ بنتے ہیں، مگر شدید پیچیدگیاں زیادہ تر بزرگوں اور دائمی امراض میں مبتلا افراد میں سامنے آتی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ“پاکستان میں بہت کم بزرگ فلو کی ویکسین لگواتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ ہر سردیوں میں زیادہ خطرے میں رہتے ہیں۔”</p>
<p>ڈاکٹر رانا صفدر نے تصدیق کی کہ برطانیہ میں فلو کی لہر کی ذمہ دار H3N2 سب کلاڈ کے پاکستان میں بھی رپورٹ ہو رہا ہے۔</p>
<p>ان کے مطابق، “اگرچہ یہ وائرس اس سٹرین سے مختلف ہے جسے ڈبلیو ایچ او نے 2025-26 کی فلو ویکسین کے لیے منتخب کیا ہے، تاہم ویکسین پھر بھی شدید بیماری کے خطرے کو کم کرے گی۔”</p>
<p>انہوں نے خبردار کیا کہ ملک کے مختلف حصوں میں چھائی ہوئی شدید دھند وائرس کے پھیلاؤ کو مزید بڑھا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ احتیاطی تدابیر وہی روایتی ہیں، جن میں ماسک کا استعمال، ہاتھوں کی صفائی اور علامات رکھنے والے افراد سے فاصلہ شامل ہے۔</p>
<p>انہوں نے مشورہ دیا کہ “علامات کی صورت میں مریض فوراً اینٹی بایوٹکس کا استعمال نہ کریں بلکہ مناسب آرام کریں، گرم مشروبات پئیں اور صحت بخش غذا استعمال کریں۔”</p>
<p>مائیکرو بایولوجسٹ پروفیسر جاوید عثمان نے کہا کہ اس وقت گردش کرنے والے متعدد سانس کے وائرسز جن میں رائنو وائرس، پیراانفلوئنزا، آر ایس وی اور سارس کوو۔2 شامل ہیں — کے باعث صرف علامات کی بنیاد پر فلو کی تشخیص تقریباً ناممکن ہو چکی ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ “فلو ویکسین لگوانے کا بہترین وقت، جسے ’سویٹ اسپاٹ‘ کہا جاتا ہے، ستمبر سے اکتوبر کے درمیان ہے کیونکہ مؤثر مدافعت پیدا ہونے میں کم از کم دو ہفتے لگتے ہیں۔”</p>
<p>قومی ادارۂ صحت (این آئی ایچ) میں چیف آف پبلک ہیلتھ لیبارٹریز ڈاکٹر محمد سلمان نے تصدیق کی کہ موسمی انفلوئنزا اس وقت دنیا بھر کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی عام ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ “ہر سال اگست میں نئی فلو ویکسین متعارف کرائی جاتی ہے، اور میں تجویز کرتا ہوں کہ یہ ویکسین بزرگ افراد اور کمزور مدافعتی نظام رکھنے والوں کو ضرور لگائی جائے۔”</p>
<h2><a id="پنجاب-بھر-میں-تیز-اضافہ" href="#پنجاب-بھر-میں-تیز-اضافہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>پنجاب بھر میں تیز اضافہ</h2>
<p>لاہور میں سینئر طبی ماہرین نے سپر فلو کے کیسز میں “تیز اضافہ” رپورٹ کیا ہے، خاص طور پر گنجان آباد شہری علاقوں میں۔ کثیر المنزلہ عمارتوں میں رہنے والے افراد، مصروف بازاروں میں آنے جانے والے لوگ اور شادیوں جیسی تقریبات میں شرکت کرنے والے افراد وائرس کے زیادہ خطرے میں ہیں۔</p>
<p>سینئر پرنسپل میڈیکل آفیسر اور کنسلٹنٹ ڈاکٹر مسعود اختر شیخ نے بتایا کہ یہ اسٹرین “لاہور، گوجرانوالہ، راولپنڈی اور فیصل آباد سمیت پنجاب کے بڑے شہروں میں کیسز میں واضح اضافے کا سبب بن رہی ہے۔”</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں تاحال اس ویرینٹ سے کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی، تاہم فلو اور سینے کی پیچیدگیوں کے ساتھ آنے والے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔<br>“بچے گھروں میں سپر اسپریڈر کا کردار ادا کر رہے ہیں اور اکثر وائرس بزرگ افراد تک منتقل کر دیتے ہیں۔”</p>
<p>ڈاکٹر شیخ نے کہا کہ موجودہ صورتحال موسمی فلو، کووڈ۔19 اور آر ایس وی انفیکشنز کے ساتھ مل کر مزید سنگین ہو گئی ہے، جبکہ بین الاقوامی سفر وائرس کے پھیلاؤ کو تیز کر سکتا ہے، جیسا کہ برطانیہ میں دیکھا گیا جہاں اس سیزن کو 2017-18 کی شدید فلو لہر سے تشبیہ دی جا رہی ہے۔</p>
<p>لاہور کے شیخ زاید اسپتال کے سابق سربراہ ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ ڈاکٹر محمد ارشد نے زیادہ خطرے والے مریضوں کے لیے اوسیلیٹامیویر (Oseltamivir) تجویز کی، جس سے بیماری کی مدت اور شدت میں کمی آ سکتی ہے۔ تاہم، یہ دوا تمام مریضوں کے لیے ضروری نہیں اور ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر استعمال نہیں کی جانی چاہیے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ مریض کو این 95 ماسک پہننا چاہیے، ہاتھوں کو بار بار دھونا چاہیے اور کمروں میں مناسب ہوا کا گزر یقینی بنانا چاہیے، جبکہ جلد صحت یابی کے لیے مناسب پانی، متوازن غذا اور آرام بے حد ضروری ہے۔</p>
<p>انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ چھ ماہ سے زائد عمر کے تمام افراد کو فلو ویکسین لگوانی چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274816</guid>
      <pubDate>Sat, 13 Dec 2025 13:03:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اکرام جنیدیآصف چوہدری)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/131300563432daf.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/131300563432daf.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/13130117421b0eb.webp" type="image/webp" medium="image" height="1200" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/13130117421b0eb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>موسم سرما میں جسم پر پڑنے والے مثبت و منفی اثرات کیا ہیں؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274810/</link>
      <description>&lt;p&gt;موسم بہت تیزی سے سرد ہورہا ہے اور اس تبدیلی کے جسم اور ذہن پر کچھ غیر متوقع اثرات مرتب ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جی ہاں واقعی موسم بدلنے سے ہمارے جسم اور ذہن میں بھی متعدد تبدیلیاں آتی ہیں اور طبی ماہرین بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان تبدیلیوں کو مدنظر رکھنا سارا سال صحت مند رہنے کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں آپ موسم سرد ہونے سے جسم پر مرتب ہونے والےمثبت و منفی اثرات کے بارے میں جان سکیں گے جن میں کچھ آپ کو حیران کردیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="موٹاپے-سے-نجات-پانا-آسان" href="#موٹاپے-سے-نجات-پانا-آسان" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;موٹاپے سے نجات پانا آسان&lt;/h2&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2016/03/56f95173615ff.jpg'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2016/03/56f95173615ff.jpg'  alt='شٹر اسٹاک فوٹو' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جی ہاں واقعی سرد موسم کا یہ بہت بڑا فائدہ ہے اور طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق جب موسم سرد ہوتا ہے تو ہمارا جسم زیادہ کیلوریز جلانے لگتا ہے تاکہ جسم کو گرم رکھا جاسکے، ویسے یہ اتنا بڑا فرق نہیں جو مکمل طور پر موٹاپے سے نجات دلا سکے تاہم اس کے ساتھ ورزش یا دیگر طریقوں کو اپنا کر اضافی چربی کو کافی حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="انگلیاں-سکڑ-جاتی-ہیں" href="#انگلیاں-سکڑ-جاتی-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;انگلیاں ’سکڑ‘ جاتی ہیں&lt;/h2&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2017/11/5a16fa1bab079.jpg'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/11/5a16fa1bab079.jpg'  alt='شٹر اسٹاک فوٹو' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کیا آپ نے کبھی نوٹس کیا ہے کہ سرد موسم میں آپ کی انگلی میں انگوٹھی ڈھیلی ہوجاتی ہے؟ یہ آپ کا تخیل نہیں، درحقیقت ہاتھوں اور پیروں کی انگلیوں کی ہڈیاں گرم موسم میں پھول جاتی ہیں اور سردیوں میں یہ عمل الٹا ہوجاتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ ’سکڑ‘ جاتی ہیں۔ اس طرح جسم اپنے جسمانی حرارت کو محفوظ رکھنے کی کوشش کرتا ہے اور بنیادی درجہ حرارت برقرار رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="ہڈیوں-کا-درد" href="#ہڈیوں-کا-درد" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ہڈیوں کا درد&lt;/h2&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2017/11/5a16fa1b83f7f.jpg'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/11/5a16fa1b83f7f.jpg'  alt='شٹر اسٹاک فوٹو' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کچھ افراد کو سردیوں میں کچھ ہڈیوں میں تکلیف کا زیادہ سامنا ہوتا ہے جس کی وجہ سرد موسم میں سامنے آنے والا جسمانی ردعمل ہوتا ہے، عام طور پر یہ ہاتھوں، پیروں اور کانوں میں ہوتا ہے، جس کی وجہ وہاں موجود خون کی چھوٹی شریانوں میں خون کی سپلائی بہت زیادہ بڑھ جانا ہوتا ہے، یہ خطرناک تو نہیں ہوتا مگر تکلیف دہ ضرور ثابت ہوتا ہے۔ اس سے بچنے کے لیے مناسب گرم ملبوسات اور باہر زیادہ دیر تک رہنے سے گریز کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="بینائی-متاثر-ہونے-کا-امکان" href="#بینائی-متاثر-ہونے-کا-امکان" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;بینائی متاثر ہونے کا امکان&lt;/h2&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2017/10/59f62a9c7d884.jpg'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2017/10/59f62a9c7d884.jpg'  alt='شٹر اسٹاک فوٹو' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;زیادہ سرد درجہ حرارت، سر ہوا اور برفباری وغیرہ بینائی پر اثرات مرتب کرسکتے ہیں، ایسے علاقے جہاں برفباری ہوتی ہے وہاں لوگوں کے لیے ضروری ہے کہ سن گلاسز کا استعمال ضرور کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="چہرہ-سرخ-ہوجانا" href="#چہرہ-سرخ-ہوجانا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;چہرہ سرخ ہوجانا&lt;/h2&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2017/11/5a16fa1ba8ee1.jpg'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/11/5a16fa1ba8ee1.jpg'  alt='شٹر اسٹاک فوٹو' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اگر سردی سے ناک یا گال سرخ ہوگئے ہیں، تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ان حصوں کا خون زیادہ اہم اعضا جیسے دل یا پھیپھڑوں کی جانب منتقل ہورہا ہوتا ہے، تو چہرے کو خون کی فراہمی کم ہوجاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مگر جب آپ گرم کمرے میں آتے ہیں اور خون کی گردش معمول پر آجاتی ہے تو اس کا نتیجہ چہرے کے کچھ حصوں ٹماٹر کی طرح سرخ ہونے کی صورت میں نکلتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="ہارٹ-اٹیک-کا-زیاہ-خطرہ" href="#ہارٹ-اٹیک-کا-زیاہ-خطرہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ہارٹ اٹیک کا زیاہ خطرہ&lt;/h2&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2017/11/5a0487fbdb736.jpg'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2017/11/5a0487fbdb736.jpg'  alt='شٹر اسٹاک فوٹو' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بزرگ افراد کے لیے اس موسم میں دل کے دورے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے خاص طور پر جو پہلے ہی امراض قلب کا شکار ہوں۔ ایک تحقیق کے مطابق جب جسم درجہ حرارت محفوظ رکھنے کی کوشش کرتا ہے تو دل پر دباﺅ بڑھ جاتا ہے، وہ خون پمپ کرنے کے لیے زیادہ کام کرنے لگتا ہے جس سے بلڈ پریشر کچھ حد تک بڑھ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="مزاج-پر-اتار-چڑھاﺅ" href="#مزاج-پر-اتار-چڑھاﺅ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;مزاج پر اتار چڑھاﺅ&lt;/h2&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2016/03/56ec109385597.jpg'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2016/03/56ec109385597.jpg'  alt='شٹر اسٹاک فوٹو' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جب درجہ حرارت کم ہوتا ہے تو اس کے اثرات مزاج پر منفی طریقے سے اثرانداز ہوتے ہیں جس کی وجہ سورج کی روشنی کے کم وقت کی وجہ سے وٹامن ڈی کی کمی آنا ہوتا ہے، اس کی شدت کا انحصار موسمی شدت پر ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ناک-اور-آنکھیں-خشک-ہونا" href="#ناک-اور-آنکھیں-خشک-ہونا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ناک اور آنکھیں خشک ہونا&lt;/h3&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2019/04/5ca2606c9fee2.jpg'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2019/04/5ca2606c9fee2.jpg'  alt='شٹر اسٹاک فوٹو' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سرد موسم میں ہوا کی نمی بھی کم ہو جاتی ہے جس کے باعث آنکھیں اور ناک خشک ہو جاتے ہیں تاکہ جسم دیگر اعضا کی نمی برقرار رکھ سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ناک-کا-مسلسل-بہنا" href="#ناک-کا-مسلسل-بہنا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ناک کا مسلسل بہنا&lt;/h3&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2017/09/59c0188be44d3.jpg'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/09/59c0188be44d3.jpg'  alt='شٹر اسٹاک فوٹو' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جسم سردی میں خشکی کا مقابلہ کرتا ہے تو آپ کو آنکھوں میں مسلسل نمی یا مسلسل ناک بہنے کا سامنا ہوسکتا ہے کیونکہ ان کے خشک ہونے پر آنسوؤں اور بلغم بننے کا عمل تیز ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="زیادہ-پیشاب-آنا" href="#زیادہ-پیشاب-آنا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;زیادہ پیشاب آنا&lt;/h3&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2019/06/5d166311b1487.jpg'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2019/06/5d166311b1487.jpg'  alt='شٹر اسٹاک فوٹو' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سرد موسم میں خون کا بہاؤ اہم اعضا کی جانب بڑھ جاتا ہے جس کے باعث آپ کو زیادہ پیشاب کا تجربی ہوتا ہے کیونکہ بہاؤ بڑھنے سے بلڈ پریشر بڑھتا ہے اور اس کے ردعمل میں گردے اضافی سیال کو فلٹر کرنے لگتے ہیں تاکہ اضافی دباؤ کو کم کرسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="سانس-لینے-میں-مشکل" href="#سانس-لینے-میں-مشکل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;سانس لینے میں مشکل&lt;/h3&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2018/11/5be09e161fba9.jpg'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2018/11/5be09e161fba9.jpg'  alt='شٹر اسٹاک فوٹو' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اگر سرد موسم میں سانس لینے میں مشکل کا سامنا ہو تو اس کی وجہ یہ ہے کہ پھیپھڑوں کو مناسب مقدار میں ہوا نہیں مل رہی، ٹھنڈی ہوا میں سانس لینے سے پھیپھڑوں میں ہوا کی گزرگاہ کے مالز سخت ہوتے ہیں جس سے سانس سے ہوا کی مقدار گھٹ جاتی ہے اور سانس لینے میں مشکل محسوس ہوتی ہے، بالخصوص دمہ اور سانس کے دیگر امراض کے شکار افراد کو زیادہ مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>موسم بہت تیزی سے سرد ہورہا ہے اور اس تبدیلی کے جسم اور ذہن پر کچھ غیر متوقع اثرات مرتب ہوتے ہیں۔</p>
<p>جی ہاں واقعی موسم بدلنے سے ہمارے جسم اور ذہن میں بھی متعدد تبدیلیاں آتی ہیں اور طبی ماہرین بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں۔</p>
<p>ان تبدیلیوں کو مدنظر رکھنا سارا سال صحت مند رہنے کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے۔</p>
<p>یہاں آپ موسم سرد ہونے سے جسم پر مرتب ہونے والےمثبت و منفی اثرات کے بارے میں جان سکیں گے جن میں کچھ آپ کو حیران کردیں گے۔</p>
<h2><a id="موٹاپے-سے-نجات-پانا-آسان" href="#موٹاپے-سے-نجات-پانا-آسان" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>موٹاپے سے نجات پانا آسان</h2>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2016/03/56f95173615ff.jpg'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2016/03/56f95173615ff.jpg'  alt='شٹر اسٹاک فوٹو' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
    </figure>
<p>جی ہاں واقعی سرد موسم کا یہ بہت بڑا فائدہ ہے اور طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق جب موسم سرد ہوتا ہے تو ہمارا جسم زیادہ کیلوریز جلانے لگتا ہے تاکہ جسم کو گرم رکھا جاسکے، ویسے یہ اتنا بڑا فرق نہیں جو مکمل طور پر موٹاپے سے نجات دلا سکے تاہم اس کے ساتھ ورزش یا دیگر طریقوں کو اپنا کر اضافی چربی کو کافی حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔</p>
<h2><a id="انگلیاں-سکڑ-جاتی-ہیں" href="#انگلیاں-سکڑ-جاتی-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>انگلیاں ’سکڑ‘ جاتی ہیں</h2>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2017/11/5a16fa1bab079.jpg'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/11/5a16fa1bab079.jpg'  alt='شٹر اسٹاک فوٹو' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
    </figure>
<p>کیا آپ نے کبھی نوٹس کیا ہے کہ سرد موسم میں آپ کی انگلی میں انگوٹھی ڈھیلی ہوجاتی ہے؟ یہ آپ کا تخیل نہیں، درحقیقت ہاتھوں اور پیروں کی انگلیوں کی ہڈیاں گرم موسم میں پھول جاتی ہیں اور سردیوں میں یہ عمل الٹا ہوجاتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ ’سکڑ‘ جاتی ہیں۔ اس طرح جسم اپنے جسمانی حرارت کو محفوظ رکھنے کی کوشش کرتا ہے اور بنیادی درجہ حرارت برقرار رکھتا ہے۔</p>
<h2><a id="ہڈیوں-کا-درد" href="#ہڈیوں-کا-درد" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ہڈیوں کا درد</h2>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2017/11/5a16fa1b83f7f.jpg'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/11/5a16fa1b83f7f.jpg'  alt='شٹر اسٹاک فوٹو' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
    </figure>
<p>کچھ افراد کو سردیوں میں کچھ ہڈیوں میں تکلیف کا زیادہ سامنا ہوتا ہے جس کی وجہ سرد موسم میں سامنے آنے والا جسمانی ردعمل ہوتا ہے، عام طور پر یہ ہاتھوں، پیروں اور کانوں میں ہوتا ہے، جس کی وجہ وہاں موجود خون کی چھوٹی شریانوں میں خون کی سپلائی بہت زیادہ بڑھ جانا ہوتا ہے، یہ خطرناک تو نہیں ہوتا مگر تکلیف دہ ضرور ثابت ہوتا ہے۔ اس سے بچنے کے لیے مناسب گرم ملبوسات اور باہر زیادہ دیر تک رہنے سے گریز کرنا چاہیے۔</p>
<h2><a id="بینائی-متاثر-ہونے-کا-امکان" href="#بینائی-متاثر-ہونے-کا-امکان" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>بینائی متاثر ہونے کا امکان</h2>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2017/10/59f62a9c7d884.jpg'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2017/10/59f62a9c7d884.jpg'  alt='شٹر اسٹاک فوٹو' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
    </figure>
<p>زیادہ سرد درجہ حرارت، سر ہوا اور برفباری وغیرہ بینائی پر اثرات مرتب کرسکتے ہیں، ایسے علاقے جہاں برفباری ہوتی ہے وہاں لوگوں کے لیے ضروری ہے کہ سن گلاسز کا استعمال ضرور کریں۔</p>
<h2><a id="چہرہ-سرخ-ہوجانا" href="#چہرہ-سرخ-ہوجانا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>چہرہ سرخ ہوجانا</h2>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2017/11/5a16fa1ba8ee1.jpg'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/11/5a16fa1ba8ee1.jpg'  alt='شٹر اسٹاک فوٹو' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
    </figure>
<p>اگر سردی سے ناک یا گال سرخ ہوگئے ہیں، تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ان حصوں کا خون زیادہ اہم اعضا جیسے دل یا پھیپھڑوں کی جانب منتقل ہورہا ہوتا ہے، تو چہرے کو خون کی فراہمی کم ہوجاتی ہے۔</p>
<p>مگر جب آپ گرم کمرے میں آتے ہیں اور خون کی گردش معمول پر آجاتی ہے تو اس کا نتیجہ چہرے کے کچھ حصوں ٹماٹر کی طرح سرخ ہونے کی صورت میں نکلتا ہے۔</p>
<h2><a id="ہارٹ-اٹیک-کا-زیاہ-خطرہ" href="#ہارٹ-اٹیک-کا-زیاہ-خطرہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ہارٹ اٹیک کا زیاہ خطرہ</h2>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2017/11/5a0487fbdb736.jpg'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2017/11/5a0487fbdb736.jpg'  alt='شٹر اسٹاک فوٹو' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
    </figure>
<p>بزرگ افراد کے لیے اس موسم میں دل کے دورے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے خاص طور پر جو پہلے ہی امراض قلب کا شکار ہوں۔ ایک تحقیق کے مطابق جب جسم درجہ حرارت محفوظ رکھنے کی کوشش کرتا ہے تو دل پر دباﺅ بڑھ جاتا ہے، وہ خون پمپ کرنے کے لیے زیادہ کام کرنے لگتا ہے جس سے بلڈ پریشر کچھ حد تک بڑھ جاتا ہے۔</p>
<h2><a id="مزاج-پر-اتار-چڑھاﺅ" href="#مزاج-پر-اتار-چڑھاﺅ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>مزاج پر اتار چڑھاﺅ</h2>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2016/03/56ec109385597.jpg'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2016/03/56ec109385597.jpg'  alt='شٹر اسٹاک فوٹو' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
    </figure>
<p>جب درجہ حرارت کم ہوتا ہے تو اس کے اثرات مزاج پر منفی طریقے سے اثرانداز ہوتے ہیں جس کی وجہ سورج کی روشنی کے کم وقت کی وجہ سے وٹامن ڈی کی کمی آنا ہوتا ہے، اس کی شدت کا انحصار موسمی شدت پر ہوتا ہے۔</p>
<h3><a id="ناک-اور-آنکھیں-خشک-ہونا" href="#ناک-اور-آنکھیں-خشک-ہونا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ناک اور آنکھیں خشک ہونا</h3>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2019/04/5ca2606c9fee2.jpg'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2019/04/5ca2606c9fee2.jpg'  alt='شٹر اسٹاک فوٹو' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
    </figure>
<p>سرد موسم میں ہوا کی نمی بھی کم ہو جاتی ہے جس کے باعث آنکھیں اور ناک خشک ہو جاتے ہیں تاکہ جسم دیگر اعضا کی نمی برقرار رکھ سکے۔</p>
<h3><a id="ناک-کا-مسلسل-بہنا" href="#ناک-کا-مسلسل-بہنا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ناک کا مسلسل بہنا</h3>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2017/09/59c0188be44d3.jpg'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/09/59c0188be44d3.jpg'  alt='شٹر اسٹاک فوٹو' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
    </figure>
<p>جسم سردی میں خشکی کا مقابلہ کرتا ہے تو آپ کو آنکھوں میں مسلسل نمی یا مسلسل ناک بہنے کا سامنا ہوسکتا ہے کیونکہ ان کے خشک ہونے پر آنسوؤں اور بلغم بننے کا عمل تیز ہوسکتا ہے۔</p>
<h3><a id="زیادہ-پیشاب-آنا" href="#زیادہ-پیشاب-آنا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>زیادہ پیشاب آنا</h3>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2019/06/5d166311b1487.jpg'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2019/06/5d166311b1487.jpg'  alt='شٹر اسٹاک فوٹو' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
    </figure>
<p>سرد موسم میں خون کا بہاؤ اہم اعضا کی جانب بڑھ جاتا ہے جس کے باعث آپ کو زیادہ پیشاب کا تجربی ہوتا ہے کیونکہ بہاؤ بڑھنے سے بلڈ پریشر بڑھتا ہے اور اس کے ردعمل میں گردے اضافی سیال کو فلٹر کرنے لگتے ہیں تاکہ اضافی دباؤ کو کم کرسکے۔</p>
<h3><a id="سانس-لینے-میں-مشکل" href="#سانس-لینے-میں-مشکل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>سانس لینے میں مشکل</h3>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2018/11/5be09e161fba9.jpg'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2018/11/5be09e161fba9.jpg'  alt='شٹر اسٹاک فوٹو' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
    </figure>
<p>اگر سرد موسم میں سانس لینے میں مشکل کا سامنا ہو تو اس کی وجہ یہ ہے کہ پھیپھڑوں کو مناسب مقدار میں ہوا نہیں مل رہی، ٹھنڈی ہوا میں سانس لینے سے پھیپھڑوں میں ہوا کی گزرگاہ کے مالز سخت ہوتے ہیں جس سے سانس سے ہوا کی مقدار گھٹ جاتی ہے اور سانس لینے میں مشکل محسوس ہوتی ہے، بالخصوص دمہ اور سانس کے دیگر امراض کے شکار افراد کو زیادہ مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274810</guid>
      <pubDate>Fri, 12 Dec 2025 16:48:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ہیلتھ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/12164904ad90046.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/12164904ad90046.webp"/>
        <media:title>فوٹو: شٹراسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گھریلو ٹوٹکوں سے پائیں نزلہ زکام اور کھانسی سے فوری نجات</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274781/gharelu-totkon-se-payen-nazla-zukam-aur-khansi-se-fauri-najat</link>
      <description>&lt;p&gt;موسم سرما اپنی آب و تاب کے ساتھ آچکا ہے، ایسے میں نزلہ کھانسی اور دیگر ہلکی پھلکی بیماریاں ہمیں گھیر لیتی ہیں، خاص طور پر بچوں اور بزرگوں کو موسم کی یہ سختی زیادہ پریشان کردیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم آپ کو کچھ ایسے ٹوٹکے بتائیں گے جو آپ کو ان بیماریوں سے فوری نجات دلاسکتے ہیں۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ چکن سوپ نزلہ زکام کے لیے بہترین دوا ہے؟ یا محض سادہ پانی کے غراروں سے کیا فوائد حاصل ہوتے ہیں؟ اگر نہیں تو یہ مضمون آپ ہی کے لیے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درحقیقت سائنس نے بھی بیشتر ایسے گھریلو نسخوں کی افادیت کو تسلیم کرلیا ہے جن پر پہلے اعتبار کرنا مشکل ہوتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="پانی-کے-غرارے-اور-گلے-کا-انفیکشن-ختم" href="#پانی-کے-غرارے-اور-گلے-کا-انفیکشن-ختم" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;پانی کے غرارے اور گلے کا انفیکشن ختم&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;گلے میں خرابی محسوس ہورہی ہے تو سادہ پانی سے غرارے کرکے دیکھیں۔ ایک طبی تحقیق کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ جو لوگ سادہ پانی سے غرارے کرتے ہیں ان میں سانس کی بالائی نالی میں انفیکشن کا خطرہ کم ہوتا ہے، یہ وہ انفیکشن ہے جو نزلہ زکام اور فلو کا باعث بنتا ہے۔ محققین کے مطابق یہ لوگوں کو نزلہ زکام سے تحفظ دینے کا موثر طریقہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="چکن-سوپ--نزلہ-زکام-کے-لیے" href="#چکن-سوپ--نزلہ-زکام-کے-لیے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;چکن سوپ ، نزلہ زکام کے لیے&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;ایک طبی تحقیق کے مطابق چکن سوپ کا استعمال خون کے سفید خلیات کے اُس حصے کی سرگرمی کو سست کردیتا ہے جو شدید انفیکشن کا باعث بنتا ہے، با الفاظ دیگر سوپ نزلہ زکام کا باعث بننے والی متعدد چیزوں کی روک تھام کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="سیب-اور-گاجریں-سفید-دانتوں-کے-لیے" href="#سیب-اور-گاجریں-سفید-دانتوں-کے-لیے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;سیب اور گاجریں سفید دانتوں کے لیے&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;سیب اور گاجریں نہ صرف جسم کے لیے اچھے ہوتے ہیں بلکہ یہ دونوں آپ کے دانتوں کو بھی جگمگاتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق جب سیب اور گاجر کو دانتوں سے توڑ کر چبایا جاتا ہے تو یہ دانتوں کی سطح پر موجود داغوں کو ہٹانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ سیب اور اسٹرابری میں مالیس ایسڈ بھی ہوتا ہے جو دانتوں کی سطح کو سفید رکھنے میں مدد دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="کھانسی-کے-لیے-شہد-کا-استعمال" href="#کھانسی-کے-لیے-شہد-کا-استعمال" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;کھانسی کے لیے شہد کا استعمال&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;کھانسی سے بچاﺅ کے شربت کا ذائقہ پسند نہیں؟ تو یہ جان لیں کہ عالمی ادارہ صحت نے شہد کو بھی بچوں کی کھانسی کی ادویات میں شامل کررکھا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق کھانسی کے شکار بچوں کو اگر سونے سے قبل دس گرام شہد کھلایا جائے تو کھانسی کی شکایت میں کمی آتی ہے اور نیند بھی خراب نہیں ہوتی۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="سخت-دانوں-یا-مسے-کے-لیے-ڈکٹ-ٹیپ" href="#سخت-دانوں-یا-مسے-کے-لیے-ڈکٹ-ٹیپ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;سخت دانوں یا مسے کے لیے ڈکٹ ٹیپ&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;سخت دانے یا مسے جلد کے لیے نقصان دہ تو نہیں ہوتے مگر یہ ایک سے دوسرے شخص میں منتقل ضرور ہوسکتے ہیں مگر اچھی خبر یہ ہے کہ ایک طبی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ ان دانوں کو ڈکٹ ٹیپ سے کور کرلینے سے انہیں ختم کیا جاسکتا ہے۔ تاہم اس کو آزمانے سے قبل متاثرہ حصے کو اچھی طرح صاف کریں، ٹیپ کا ایک ٹکڑا لیں اور پھر اسے متاثرہ جگہ پر لپیٹ دیں۔ ہر چند دن بعد ٹیپ کو اُس وقت تک بدلتے رہیں جب تک وہ دانے یا مسے غائب نہیں ہوجاتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;em&gt;نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔&lt;/em&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>موسم سرما اپنی آب و تاب کے ساتھ آچکا ہے، ایسے میں نزلہ کھانسی اور دیگر ہلکی پھلکی بیماریاں ہمیں گھیر لیتی ہیں، خاص طور پر بچوں اور بزرگوں کو موسم کی یہ سختی زیادہ پریشان کردیتی ہے۔</p>
<p>ہم آپ کو کچھ ایسے ٹوٹکے بتائیں گے جو آپ کو ان بیماریوں سے فوری نجات دلاسکتے ہیں۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ چکن سوپ نزلہ زکام کے لیے بہترین دوا ہے؟ یا محض سادہ پانی کے غراروں سے کیا فوائد حاصل ہوتے ہیں؟ اگر نہیں تو یہ مضمون آپ ہی کے لیے ہے۔</p>
<p>درحقیقت سائنس نے بھی بیشتر ایسے گھریلو نسخوں کی افادیت کو تسلیم کرلیا ہے جن پر پہلے اعتبار کرنا مشکل ہوتا تھا۔</p>
<h2><a id="پانی-کے-غرارے-اور-گلے-کا-انفیکشن-ختم" href="#پانی-کے-غرارے-اور-گلے-کا-انفیکشن-ختم" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>پانی کے غرارے اور گلے کا انفیکشن ختم</h2>
<p>گلے میں خرابی محسوس ہورہی ہے تو سادہ پانی سے غرارے کرکے دیکھیں۔ ایک طبی تحقیق کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ جو لوگ سادہ پانی سے غرارے کرتے ہیں ان میں سانس کی بالائی نالی میں انفیکشن کا خطرہ کم ہوتا ہے، یہ وہ انفیکشن ہے جو نزلہ زکام اور فلو کا باعث بنتا ہے۔ محققین کے مطابق یہ لوگوں کو نزلہ زکام سے تحفظ دینے کا موثر طریقہ ہے۔</p>
<h2><a id="چکن-سوپ--نزلہ-زکام-کے-لیے" href="#چکن-سوپ--نزلہ-زکام-کے-لیے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>چکن سوپ ، نزلہ زکام کے لیے</h2>
<p>ایک طبی تحقیق کے مطابق چکن سوپ کا استعمال خون کے سفید خلیات کے اُس حصے کی سرگرمی کو سست کردیتا ہے جو شدید انفیکشن کا باعث بنتا ہے، با الفاظ دیگر سوپ نزلہ زکام کا باعث بننے والی متعدد چیزوں کی روک تھام کرتا ہے۔</p>
<h2><a id="سیب-اور-گاجریں-سفید-دانتوں-کے-لیے" href="#سیب-اور-گاجریں-سفید-دانتوں-کے-لیے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>سیب اور گاجریں سفید دانتوں کے لیے</h2>
<p>سیب اور گاجریں نہ صرف جسم کے لیے اچھے ہوتے ہیں بلکہ یہ دونوں آپ کے دانتوں کو بھی جگمگاتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق جب سیب اور گاجر کو دانتوں سے توڑ کر چبایا جاتا ہے تو یہ دانتوں کی سطح پر موجود داغوں کو ہٹانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ سیب اور اسٹرابری میں مالیس ایسڈ بھی ہوتا ہے جو دانتوں کی سطح کو سفید رکھنے میں مدد دیتا ہے۔</p>
<h2><a id="کھانسی-کے-لیے-شہد-کا-استعمال" href="#کھانسی-کے-لیے-شہد-کا-استعمال" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>کھانسی کے لیے شہد کا استعمال</h2>
<p>کھانسی سے بچاﺅ کے شربت کا ذائقہ پسند نہیں؟ تو یہ جان لیں کہ عالمی ادارہ صحت نے شہد کو بھی بچوں کی کھانسی کی ادویات میں شامل کررکھا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق کھانسی کے شکار بچوں کو اگر سونے سے قبل دس گرام شہد کھلایا جائے تو کھانسی کی شکایت میں کمی آتی ہے اور نیند بھی خراب نہیں ہوتی۔</p>
<h2><a id="سخت-دانوں-یا-مسے-کے-لیے-ڈکٹ-ٹیپ" href="#سخت-دانوں-یا-مسے-کے-لیے-ڈکٹ-ٹیپ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>سخت دانوں یا مسے کے لیے ڈکٹ ٹیپ</h2>
<p>سخت دانے یا مسے جلد کے لیے نقصان دہ تو نہیں ہوتے مگر یہ ایک سے دوسرے شخص میں منتقل ضرور ہوسکتے ہیں مگر اچھی خبر یہ ہے کہ ایک طبی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ ان دانوں کو ڈکٹ ٹیپ سے کور کرلینے سے انہیں ختم کیا جاسکتا ہے۔ تاہم اس کو آزمانے سے قبل متاثرہ حصے کو اچھی طرح صاف کریں، ٹیپ کا ایک ٹکڑا لیں اور پھر اسے متاثرہ جگہ پر لپیٹ دیں۔ ہر چند دن بعد ٹیپ کو اُس وقت تک بدلتے رہیں جب تک وہ دانے یا مسے غائب نہیں ہوجاتے۔</p>
<p><em>نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔</em></p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274781</guid>
      <pubDate>Wed, 10 Dec 2025 11:18:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ہیلتھ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/1011173425b8d0c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/1011173425b8d0c.webp"/>
        <media:title>— کریٹیو کامنز فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان سوڈانی طبی عملے کی تربیت، ماہرین علم و تجربے کے تبادلے کے فروغ کیلئے تیار ہے،مصطفیٰ کمال</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274741/</link>
      <description>&lt;p&gt;وفاقی وزیر صحت سید مصطفی کمال نے کہا ہے کہ پاکستان سوڈان کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، صحت کے شعبے میں پاکستان کے ساتھ تعاون کو مضبوط بنانے میں سوڈان کی دلچسپی کو سراہتے ہیں&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری خبر رساں ادارے ‘اے پی پی’ کی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://urdu.app.com.pk/urdu/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%b3%d9%88%da%88%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%b7%d8%a8%db%8c-%d8%b9%d9%85%d9%84%db%92-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%b1%d8%a8%db%8c%d8%aa%d8%8c-%d9%85%d8%a7%db%81%d8%b1/"&gt;رپورٹ &lt;/a&gt;کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو سوڈان کے اعلیٰ سطح کے وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیرِ صحت نے سوڈان کے ساتھ صحت کے شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا، پاکستان سوڈانی طبی عملے کی تربیت، ماہرین علم و تجربے کے تبادلے کے فروغ کے لئے تیار ہے ، پاکستان تعاون کو کسی مخصوص شعبے تک محدود نہیں رکھنا چاہتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ فارماسیوٹیکل، میڈیکل ڈیوائسز اور ریگولیٹری معاملات ڈریپ کے دائرہ کار میں آتے ہیں، پاکستان ڈبلیو ایچ او کے ریگولیٹری میچورٹی لیول 3 کے حصول کی جانب پیشرفت کر رہا ہے، پاکستان میں میڈیکل ٹورازم کے فروغ کیلئے پر عزم ہیں ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ویزا سہولت کاری کے معاملات پاکستانی سفارتخانے کے ساتھ مشاورت سے آگے بڑھائے جائیں گے ، وزارتِ خارجہ موثر اور بروقت پیشرفت کے لئے باہمی تعاون کی یادداشت کے عمل کو تیز کرے گی، انہوں نے کہا کہ پاکستان ہنگامی ردِعمل، بحالی، استعداد کار میں اضافے اور طویل مدتی شراکت داری کے لیے بھرپور تعاون جاری رکھے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں سوڈانی وفد نے ملک میں جاری صحت کے شعبے میں چیلنجز بارے وفاقی وزیر صحت کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ سوڈان نے آئندہ پانچ برسوں پر مشتمل ایک جامع حکمتِ عملی تیار کی ہے، جس میں تقریباً 45 صحت منصوبے شامل ہیں ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے صحت کے شعبے کی بحالی و تعمیرِ نو، طبی آلات و ٹیکنالوجیز کی فراہمی میں پاکستان سے تعاون کی درخواست کی ۔صحت مراکز میں سولر توانائی کی بحالی اور ادارہ جاتی تعاون کے فروغ میں پاکستان سے تعاون کے خواہاں ہیں ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوڈانی وفد نے پاکستان کے مسلسل تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان بہتر ہم آہنگی اور زیادہ مؤثر شراکت داری کا باعث بنے گا ۔اس موقع پر وفاقی سیکرٹری صحت حامد یعقوب اور وزارت کے سینئر افسران بھی موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;
&lt;br&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وفاقی وزیر صحت سید مصطفی کمال نے کہا ہے کہ پاکستان سوڈان کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، صحت کے شعبے میں پاکستان کے ساتھ تعاون کو مضبوط بنانے میں سوڈان کی دلچسپی کو سراہتے ہیں</p>
<p>سرکاری خبر رساں ادارے ‘اے پی پی’ کی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://urdu.app.com.pk/urdu/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%b3%d9%88%da%88%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%b7%d8%a8%db%8c-%d8%b9%d9%85%d9%84%db%92-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%b1%d8%a8%db%8c%d8%aa%d8%8c-%d9%85%d8%a7%db%81%d8%b1/">رپورٹ </a>کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو سوڈان کے اعلیٰ سطح کے وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔</p>
<p>وفاقی وزیرِ صحت نے سوڈان کے ساتھ صحت کے شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا، پاکستان سوڈانی طبی عملے کی تربیت، ماہرین علم و تجربے کے تبادلے کے فروغ کے لئے تیار ہے ، پاکستان تعاون کو کسی مخصوص شعبے تک محدود نہیں رکھنا چاہتا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ فارماسیوٹیکل، میڈیکل ڈیوائسز اور ریگولیٹری معاملات ڈریپ کے دائرہ کار میں آتے ہیں، پاکستان ڈبلیو ایچ او کے ریگولیٹری میچورٹی لیول 3 کے حصول کی جانب پیشرفت کر رہا ہے، پاکستان میں میڈیکل ٹورازم کے فروغ کیلئے پر عزم ہیں ۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ویزا سہولت کاری کے معاملات پاکستانی سفارتخانے کے ساتھ مشاورت سے آگے بڑھائے جائیں گے ، وزارتِ خارجہ موثر اور بروقت پیشرفت کے لئے باہمی تعاون کی یادداشت کے عمل کو تیز کرے گی، انہوں نے کہا کہ پاکستان ہنگامی ردِعمل، بحالی، استعداد کار میں اضافے اور طویل مدتی شراکت داری کے لیے بھرپور تعاون جاری رکھے گا۔</p>
<p>ملاقات میں سوڈانی وفد نے ملک میں جاری صحت کے شعبے میں چیلنجز بارے وفاقی وزیر صحت کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ سوڈان نے آئندہ پانچ برسوں پر مشتمل ایک جامع حکمتِ عملی تیار کی ہے، جس میں تقریباً 45 صحت منصوبے شامل ہیں ۔</p>
<p>انہوں نے صحت کے شعبے کی بحالی و تعمیرِ نو، طبی آلات و ٹیکنالوجیز کی فراہمی میں پاکستان سے تعاون کی درخواست کی ۔صحت مراکز میں سولر توانائی کی بحالی اور ادارہ جاتی تعاون کے فروغ میں پاکستان سے تعاون کے خواہاں ہیں ۔</p>
<p>سوڈانی وفد نے پاکستان کے مسلسل تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان بہتر ہم آہنگی اور زیادہ مؤثر شراکت داری کا باعث بنے گا ۔اس موقع پر وفاقی سیکرٹری صحت حامد یعقوب اور وزارت کے سینئر افسران بھی موجود تھے۔</p>
<ul>
<li>
<br>
</li>
</ul>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274741</guid>
      <pubDate>Mon, 08 Dec 2025 23:20:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/0818535014e3bef.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/0818535014e3bef.gif"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: سوشل میڈیا/وزارت قومی صحت
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چہل قدمی کے انداز سے پارکنسن سے تشخیص ممکن</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274679/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ روزانہ کی چہل قدمی اور پیدل چلنے کے انداز سے پارکنسن کی بیماری کا ابتدائی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی ویب سائٹ کی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://medicalxpress.com/news/2025-12-early-parkinson-predictor-daily.html"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق آکسفورڈ یونیورسٹی کے بگ ڈیٹا انسٹی ٹیوٹ اور نیو فیلڈ ڈیپارٹمنٹ آف پاپولیشن ہیلتھ کے سائنسدانوں نے برطانیہ بائیو بینک کے 94 ہزار سے زائد لوگوں کا ڈیٹا دیکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیٹا میں شامل افراد نے 2013 سے 2015 تک اپنے ہاتھ پر ایک قسم کا سینسر پہنا ہوا تھا جو ان کی روزانہ کی چہل قدمی کی گنتی کرتا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1064402'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1064402"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ لوگ تقریباً 8 سال تک فالو کیے گئے اور ان میں سے 407 کو پارکنسن کی بیماری ہوئی، ان میں اوسطاً بیماری 5 سال بعد تشخیص ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق سے معلوم ہوا کہ جو لوگ روزانہ 12 ہزار سے زیادہ قدم چلتے تھے، ان میں پارکنسن ہونے کا خطرہ ان لوگوں کے مقابلے میں 59 فیصد کم تھا جو 6 ہزار سے کم قدم چلتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیٹا سے معلوم ہوا کہ ہر ہزار اضافی قدم چلنے سے خطرہ 8 فیصد کم ہو جاتا ہے، چاہے وزن، ڈپریشن، ذیابیطس، قبض، پیشاب کی خرابی یا نیند کی مقدار جیسی دیگر چیزوں کو بھی مدنظر رکھا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق سے معلوم ہوا کہ جن لوگوں میں بعد میں پارکنسن کی تشخیص ہوئی، ان کی چہل قدمی کی تعداد وقت کے ساتھ بڑھتی تو گئی مگر پھر بھی صحت مند لوگوں سے کم رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے بتایا کہ  تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ کہ کم چلنا پارکنسن کی بیماری کی ابتدائی نشانی ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے واضح کیا کہ کم چلنا یا چہل قدمی نہ کرپانا پارکنسن بیماری کی وجہ سے نہیں ہوتا، تاہم اسے بیماری کی ابتدائی علامت کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا تھا کہ اسمارٹ واچز جیسے آلات سے روزانہ کی چالوں کی گنتی کرکے پارکنسن کی ابتدائی نگرانی کی جا سکتی ہے اور جسمانی سرگرمی کو بیماری کی روک تھام میں مددگار سمجھا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ روزانہ کی چہل قدمی اور پیدل چلنے کے انداز سے پارکنسن کی بیماری کا ابتدائی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔</p>
<p>طبی ویب سائٹ کی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://medicalxpress.com/news/2025-12-early-parkinson-predictor-daily.html"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق آکسفورڈ یونیورسٹی کے بگ ڈیٹا انسٹی ٹیوٹ اور نیو فیلڈ ڈیپارٹمنٹ آف پاپولیشن ہیلتھ کے سائنسدانوں نے برطانیہ بائیو بینک کے 94 ہزار سے زائد لوگوں کا ڈیٹا دیکھا۔</p>
<p>ڈیٹا میں شامل افراد نے 2013 سے 2015 تک اپنے ہاتھ پر ایک قسم کا سینسر پہنا ہوا تھا جو ان کی روزانہ کی چہل قدمی کی گنتی کرتا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1064402'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1064402"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>مذکورہ لوگ تقریباً 8 سال تک فالو کیے گئے اور ان میں سے 407 کو پارکنسن کی بیماری ہوئی، ان میں اوسطاً بیماری 5 سال بعد تشخیص ہوئی۔</p>
<p>تحقیق سے معلوم ہوا کہ جو لوگ روزانہ 12 ہزار سے زیادہ قدم چلتے تھے، ان میں پارکنسن ہونے کا خطرہ ان لوگوں کے مقابلے میں 59 فیصد کم تھا جو 6 ہزار سے کم قدم چلتے تھے۔</p>
<p>ڈیٹا سے معلوم ہوا کہ ہر ہزار اضافی قدم چلنے سے خطرہ 8 فیصد کم ہو جاتا ہے، چاہے وزن، ڈپریشن، ذیابیطس، قبض، پیشاب کی خرابی یا نیند کی مقدار جیسی دیگر چیزوں کو بھی مدنظر رکھا جائے۔</p>
<p>تحقیق سے معلوم ہوا کہ جن لوگوں میں بعد میں پارکنسن کی تشخیص ہوئی، ان کی چہل قدمی کی تعداد وقت کے ساتھ بڑھتی تو گئی مگر پھر بھی صحت مند لوگوں سے کم رہی۔</p>
<p>ماہرین نے بتایا کہ  تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ کہ کم چلنا پارکنسن کی بیماری کی ابتدائی نشانی ہو سکتی ہے۔</p>
<p>ماہرین نے واضح کیا کہ کم چلنا یا چہل قدمی نہ کرپانا پارکنسن بیماری کی وجہ سے نہیں ہوتا، تاہم اسے بیماری کی ابتدائی علامت کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا تھا کہ اسمارٹ واچز جیسے آلات سے روزانہ کی چالوں کی گنتی کرکے پارکنسن کی ابتدائی نگرانی کی جا سکتی ہے اور جسمانی سرگرمی کو بیماری کی روک تھام میں مددگار سمجھا جا سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274679</guid>
      <pubDate>Fri, 05 Dec 2025 23:55:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ہیلتھ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/052008236ccf470.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/052008236ccf470.webp"/>
        <media:title>—فوٹو: شٹر اسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وٹامن سی فضائی آلودگی کے منفی اثرات سے بچانے میں مددگار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274615/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایک تازہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ وٹامن سی ٹریفک سے پیدا ہونے والی فضائی آلودگی، جنگل کی آگ، دھول و مٹی کے طوفانوں سے پیدا ہونے والی پھیپھڑوں کی بیماریوں سمیت دیگر طبی پیچیدگیوں سے بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی ویب سائٹ کے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://medicalxpress.com/news/2025-12-vitamin-air-pollution.html"&gt;&lt;strong&gt;مطابق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی سڈنی (یو ٹی ایس) کے لائف سائنسز اسکول اور وولکاک انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ریسرچ کے ماہرین کی جانب سے کی جانے والی تحقیق کے مطابق وٹامن سی متعدد طبی پیچیدگیوں سے بچانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے PM 2.5 جو شہری آلودگی میں عام طور پر پائے جانے والے چھوٹے ہوا میں اڑنے والے ذرات ہیں سے پیدا ہونے والی پھیپھڑوں کی سوزش اور مائٹوکونڈریا کی کمی کو کم کرنے میں وٹامن سی کے اثر کا جائزہ لیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1068855'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1068855"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق بڑے شہروں میں PM 2.5 سے پیدا ہونے والی فضائی آلودگی غیر محفوظ سطح پر ہوتی ہے،۔کم سطحوں پر PM 2.5 کی آلودگی پھیپھڑوں کی بیماریوں میں حصہ ڈال سکتی ہے، جن میں استھما، دائمی رکاوٹ والی پھیپھڑوں کی بیماری، پھیپھڑوں کی فائبروسس اور پھیپھڑوں کا کینسر شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیقی ٹیم نے دریافت کیا کہ اینٹی آکسیڈنٹ وٹامن سی کی سپلیمنٹس کم سطح PM 2.5 کی نمائش کے منفی اثرات کو کم کرنے میں مددگار ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق وٹامن سی لینا PM 2.5 سے پیدا ہونے والا آکسیڈیٹو تناؤ اور سوزش کو مؤثر طریقے سے روکتا ہے، وٹامن سی لینا خلیوں میں نقصان دہ مادوں کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے اور ان چھوٹے ذرات سے خلیوں کی توانائی پیدا کرنے والے (مائٹوکونڈریا) کو نقصان سے بچاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے تجویز دی کہ فضائی آلودگی کا سامنا کرنے والے افراد اور پھیپھڑوں کی بیماریوں سے متاثر لوگ ماہرین کے مشورے سے وٹامن سی کی مقدار لیں تاکہ ان کی پیچیدگیاں کم ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;br&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایک تازہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ وٹامن سی ٹریفک سے پیدا ہونے والی فضائی آلودگی، جنگل کی آگ، دھول و مٹی کے طوفانوں سے پیدا ہونے والی پھیپھڑوں کی بیماریوں سمیت دیگر طبی پیچیدگیوں سے بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔</p>
<p>طبی ویب سائٹ کے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://medicalxpress.com/news/2025-12-vitamin-air-pollution.html"><strong>مطابق</strong></a> یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی سڈنی (یو ٹی ایس) کے لائف سائنسز اسکول اور وولکاک انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ریسرچ کے ماہرین کی جانب سے کی جانے والی تحقیق کے مطابق وٹامن سی متعدد طبی پیچیدگیوں سے بچانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔</p>
<p>ماہرین نے PM 2.5 جو شہری آلودگی میں عام طور پر پائے جانے والے چھوٹے ہوا میں اڑنے والے ذرات ہیں سے پیدا ہونے والی پھیپھڑوں کی سوزش اور مائٹوکونڈریا کی کمی کو کم کرنے میں وٹامن سی کے اثر کا جائزہ لیا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1068855'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1068855"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین کے مطابق بڑے شہروں میں PM 2.5 سے پیدا ہونے والی فضائی آلودگی غیر محفوظ سطح پر ہوتی ہے،۔کم سطحوں پر PM 2.5 کی آلودگی پھیپھڑوں کی بیماریوں میں حصہ ڈال سکتی ہے، جن میں استھما، دائمی رکاوٹ والی پھیپھڑوں کی بیماری، پھیپھڑوں کی فائبروسس اور پھیپھڑوں کا کینسر شامل ہیں۔</p>
<p>تحقیقی ٹیم نے دریافت کیا کہ اینٹی آکسیڈنٹ وٹامن سی کی سپلیمنٹس کم سطح PM 2.5 کی نمائش کے منفی اثرات کو کم کرنے میں مددگار ہوتی ہیں۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق وٹامن سی لینا PM 2.5 سے پیدا ہونے والا آکسیڈیٹو تناؤ اور سوزش کو مؤثر طریقے سے روکتا ہے، وٹامن سی لینا خلیوں میں نقصان دہ مادوں کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے اور ان چھوٹے ذرات سے خلیوں کی توانائی پیدا کرنے والے (مائٹوکونڈریا) کو نقصان سے بچاتا ہے۔</p>
<p>ماہرین نے تجویز دی کہ فضائی آلودگی کا سامنا کرنے والے افراد اور پھیپھڑوں کی بیماریوں سے متاثر لوگ ماہرین کے مشورے سے وٹامن سی کی مقدار لیں تاکہ ان کی پیچیدگیاں کم ہوں۔</p>
<br>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274615</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Dec 2025 23:58:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ہیلتھ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/0320010573a00a5.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/0320010573a00a5.webp"/>
        <media:title>—فوٹو: فیس بک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>موٹاپے سے الزائمر کے مرض میں تیزی کا انکشاف</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274577/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایک نئی طبی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ موٹاپا الزائمر جیسی دماغی بیماریوں کے عمل کو تیز کر سکتا ہے اور اس بات کا پتہ خون کے ٹیسٹ سے لگایا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی ویب سائٹ میں شائع &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://medicalxpress.com/news/2025-12-blood-obesity-alzheimer.html"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق رواں ہفتے شائع ہونے والی طبی تحقیق کو ریڈیولوجیکل سوسائٹی آف نارتھ امریکا کی سالانہ میٹنگ میں پیش کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق میں 407 افراد کے خون کے نمونے اور اُن کے دماغ کی اسکین رپورٹس کا پانچ سالہ ڈیٹا شامل تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1242636'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1242636"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;محققین نے خون میں ایسے کیمیائی عناصر یا ’بایومارکرز‘ کی سطح کا جائزہ لیا جو الزائمر کی شروعات سے جڑے ہوتے ہیں، ان میں pTau217، NfL اور GFAP نامی عناصر شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتائج کے مطابق جن افراد کا وزن زیادہ تھا، ان کے خون میں الزائمر سے متعلق یہ نشانیاں عام وزن رکھنے والے افراد کے مقابلے میں تقریباً 29 فیصد سے 95 فیصد زیادہ تیزی سے بڑھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ خون کے ٹیسٹ دماغ کی اسکیننگ کے مقابلے میں بیماری کی ابتدا کا زیادہ جلد پتہ دے سکتے ہیں، جس سے علاج میں بہتری کی امید پیدا ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر موٹاپا کم کیا جائے یا وزن کو قابو میں رکھا جائے تو دماغ کو نقصان پہنچنے کی رفتار کم ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محققین کا کہنا ہے کہ وزن کا بڑھنا صرف دل یا شوگر کے مسئلے ہی نہیں بڑھاتا بلکہ دماغ کی صحت پر بھی گہرا اثر ڈالتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تحقیق اس خیال کو مضبوط کرتی ہے کہ صحت مند وزن برقرار رکھنا الزائمر جیسے مرض کے خطرات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پہلی بار ہے کہ جب سائنس دانوں نے موٹاپے اور الزائمر کی بیماری کے درمیان تعلق کو خون کے بائیو مارکر ٹیسٹوں سے ناپا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایک نئی طبی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ موٹاپا الزائمر جیسی دماغی بیماریوں کے عمل کو تیز کر سکتا ہے اور اس بات کا پتہ خون کے ٹیسٹ سے لگایا جا سکتا ہے۔</p>
<p>طبی ویب سائٹ میں شائع <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://medicalxpress.com/news/2025-12-blood-obesity-alzheimer.html"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق رواں ہفتے شائع ہونے والی طبی تحقیق کو ریڈیولوجیکل سوسائٹی آف نارتھ امریکا کی سالانہ میٹنگ میں پیش کیا گیا۔</p>
<p>تحقیق میں 407 افراد کے خون کے نمونے اور اُن کے دماغ کی اسکین رپورٹس کا پانچ سالہ ڈیٹا شامل تھا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1242636'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1242636"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>محققین نے خون میں ایسے کیمیائی عناصر یا ’بایومارکرز‘ کی سطح کا جائزہ لیا جو الزائمر کی شروعات سے جڑے ہوتے ہیں، ان میں pTau217، NfL اور GFAP نامی عناصر شامل تھے۔</p>
<p>نتائج کے مطابق جن افراد کا وزن زیادہ تھا، ان کے خون میں الزائمر سے متعلق یہ نشانیاں عام وزن رکھنے والے افراد کے مقابلے میں تقریباً 29 فیصد سے 95 فیصد زیادہ تیزی سے بڑھیں۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ خون کے ٹیسٹ دماغ کی اسکیننگ کے مقابلے میں بیماری کی ابتدا کا زیادہ جلد پتہ دے سکتے ہیں، جس سے علاج میں بہتری کی امید پیدا ہوتی ہے۔</p>
<p>تحقیق میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر موٹاپا کم کیا جائے یا وزن کو قابو میں رکھا جائے تو دماغ کو نقصان پہنچنے کی رفتار کم ہو سکتی ہے۔</p>
<p>محققین کا کہنا ہے کہ وزن کا بڑھنا صرف دل یا شوگر کے مسئلے ہی نہیں بڑھاتا بلکہ دماغ کی صحت پر بھی گہرا اثر ڈالتا ہے۔</p>
<p>یہ تحقیق اس خیال کو مضبوط کرتی ہے کہ صحت مند وزن برقرار رکھنا الزائمر جیسے مرض کے خطرات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔</p>
<p>یہ پہلی بار ہے کہ جب سائنس دانوں نے موٹاپے اور الزائمر کی بیماری کے درمیان تعلق کو خون کے بائیو مارکر ٹیسٹوں سے ناپا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274577</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Dec 2025 23:56:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ہیلتھ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/0219290923bc4b4.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/0219290923bc4b4.webp"/>
        <media:title>—فوٹو: شٹر اسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دنیا بھر میں ایچ آئی وی مریضوں کی تعداد 4 کروڑ 80 لاکھ تک پہنچ گئی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274534/</link>
      <description>&lt;p&gt;عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق دنیا بھر میں ہومن امیونو ڈیفیشنسی وائرس (ایچ آئی وی) سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 4 کروڑ 80 لاکھ تک پہنچ چکی، مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقی خطے میں وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ افراد رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی ادارہ صحت کے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.emro.who.int/media/news/world-aids-day-2025-overcoming-disruption-transforming-the-aids-response.html"&gt;&lt;strong&gt;مطابق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; 4 کروڑ 80 لاکھ میں سے 6 لاکھ 10 ہزار افراد مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقی خطے میں رہائش پذیر ہیں، جہاں سالانہ نئے انفیکشنز کی تعداد کم از کم ایک دہائی میں تقریباً دگنی ہوچکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی ادارے کے مطابق مذکورہ خطوں میں 2016 میں 37,000 افراد وائرس سے مبتلا تھے، جن کی تعداد 2024 میں بڑھ کر 72,000 تک جا پہنچی، خطے میں کم از کم 10 میں سے 4 افراد ایچ آئی وی سے متعلق اپنی حیثیت جانتے ہیں جب کہ صرف تین میں سے ایک شخص علاج حاصل کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1122062'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1122062"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;عالمی ادارے کے مطابق ایڈز کی رسپانس ایک اہم موڑ پر داخل ہو رہی ہے، عالمی سطح پر ایچ آئی وی کے لیے وقف فنڈنگ کم ہو رہی ہے جو کئی دہائیوں کی ترقی کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ اب ایچ آئی وی ایک دائمی علاج پذیر انفیکشن بن چکا ہے لیکن 2030 تک ایڈز ختم کرنے کے ہدف تک پہنچنے کے لیے فوری طور پر فنڈنگ بڑھانے اور مضبوط ایچ آئی وی خدمات کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی ادارہ صحت نے بتایا کہ عالمی سطح پر فنڈنگ کم ہونے سے نئے ایچ آئی وی انفیکشنز اور اموات کی تعداد بڑھے گی، صحت کے نظام پر زیادہ دباؤ پڑے گا اور 2030 تک ایڈز ختم کرنے کا ہدف نامکمل ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی ادارہ صحت نے ایچ آئی وی کی جلد تشخیص اور علاج کے لیے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کی مدد لینے پر بھی زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ ایچ آئی وی ایک وائرس ہے جو جسم کی امیون سسٹم پر حملہ کرتا ہے، خاص طور پر سفید خون کی خلیات کو تباہ کرتا ہے، جس سے متاثرہ شخص کی امیونٹی کمزور ہو جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایچ آئی وی انفیکشن کا کوئی علاج نہیں ہے، تاہم موثر ایچ آئی وی روک تھام، تشخیص، علامتوں کے علاج اور دوسرے ہونے والے انفیکشنز کے علاج سے ایچ آئی وی انفیکشن کو کنٹرول میں رکھا جا سکتا ہے اور ممکن ہے کہ ایچ آئی وی کبھی ایڈز میں تبدیل نہ ہو۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق دنیا بھر میں ہومن امیونو ڈیفیشنسی وائرس (ایچ آئی وی) سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 4 کروڑ 80 لاکھ تک پہنچ چکی، مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقی خطے میں وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ افراد رہتے ہیں۔</p>
<p>عالمی ادارہ صحت کے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.emro.who.int/media/news/world-aids-day-2025-overcoming-disruption-transforming-the-aids-response.html"><strong>مطابق</strong></a> 4 کروڑ 80 لاکھ میں سے 6 لاکھ 10 ہزار افراد مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقی خطے میں رہائش پذیر ہیں، جہاں سالانہ نئے انفیکشنز کی تعداد کم از کم ایک دہائی میں تقریباً دگنی ہوچکی ہے۔</p>
<p>عالمی ادارے کے مطابق مذکورہ خطوں میں 2016 میں 37,000 افراد وائرس سے مبتلا تھے، جن کی تعداد 2024 میں بڑھ کر 72,000 تک جا پہنچی، خطے میں کم از کم 10 میں سے 4 افراد ایچ آئی وی سے متعلق اپنی حیثیت جانتے ہیں جب کہ صرف تین میں سے ایک شخص علاج حاصل کر رہا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1122062'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1122062"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>عالمی ادارے کے مطابق ایڈز کی رسپانس ایک اہم موڑ پر داخل ہو رہی ہے، عالمی سطح پر ایچ آئی وی کے لیے وقف فنڈنگ کم ہو رہی ہے جو کئی دہائیوں کی ترقی کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔</p>
<p>ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ اب ایچ آئی وی ایک دائمی علاج پذیر انفیکشن بن چکا ہے لیکن 2030 تک ایڈز ختم کرنے کے ہدف تک پہنچنے کے لیے فوری طور پر فنڈنگ بڑھانے اور مضبوط ایچ آئی وی خدمات کی ضرورت ہے۔</p>
<p>عالمی ادارہ صحت نے بتایا کہ عالمی سطح پر فنڈنگ کم ہونے سے نئے ایچ آئی وی انفیکشنز اور اموات کی تعداد بڑھے گی، صحت کے نظام پر زیادہ دباؤ پڑے گا اور 2030 تک ایڈز ختم کرنے کا ہدف نامکمل ہوگا۔</p>
<p>عالمی ادارہ صحت نے ایچ آئی وی کی جلد تشخیص اور علاج کے لیے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کی مدد لینے پر بھی زور دیا۔</p>
<p>خیال رہے کہ ایچ آئی وی ایک وائرس ہے جو جسم کی امیون سسٹم پر حملہ کرتا ہے، خاص طور پر سفید خون کی خلیات کو تباہ کرتا ہے، جس سے متاثرہ شخص کی امیونٹی کمزور ہو جاتی ہے۔</p>
<p>ایچ آئی وی انفیکشن کا کوئی علاج نہیں ہے، تاہم موثر ایچ آئی وی روک تھام، تشخیص، علامتوں کے علاج اور دوسرے ہونے والے انفیکشنز کے علاج سے ایچ آئی وی انفیکشن کو کنٹرول میں رکھا جا سکتا ہے اور ممکن ہے کہ ایچ آئی وی کبھی ایڈز میں تبدیل نہ ہو۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274534</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Dec 2025 01:03:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ہیلتھ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/12/01203455dcda5c8.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/12/01203455dcda5c8.webp"/>
        <media:title>—فوٹو: آئی اسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایس آئی یو ٹی شاہراہ فیصل کی نئی عمارت میں ڈائیلائسس سینٹر کا آغاز کرے گا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274472/</link>
      <description>&lt;p&gt;سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) جلد ہی شاہراہ فیصل پر سابق ریجنٹ پلازہ کی حال ہی میں حاصل کردہ عمارت میں ایک مکمل ڈائیلائسس/لیتھوٹرپسی سینٹر باضابطہ طور پر لانچ کرنے والا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1958214/siut-set-to-launch-dialysis-centre-at-sharea-faisal-facility"&gt;&lt;strong&gt;خبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق اس وقت ایس آئی یو ٹی ٹرسٹ ہسپتال میں 60 بیڈز موجود ہیں اور روزانہ ڈائلائسِس سیشنز جاری ہیں، توقع ہے کہ اس صلاحیت کو بڑھا کر روزانہ 200 سیشنز تک پہنچایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1213481'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1213481"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ہسپتال کے ایک اہلکار کے مطابق گزشتہ سال، ہسپتال نے شہر کے مرکزی حصے میں ایک کثیر المنزلہ ہوٹل کی عمارت حاصل کی تھی، اس کا مقصد موجودہ سہولت میں جگہ کی کمی کو پورا کرنا تھا کیونکہ یہاں مریضوں کی آمد مسلسل بڑھ رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس آئی یو ٹی نے اپنا آغاز 1971 میں سول ہسپتال کراچی میں صرف 8 بیڈز کے ساتھ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برسوں کے دوران، ہسپتال کی ٹیم نے قابل ذکر ترقی کی اور متعدد سنگ میل عبور کیے، یورولوجی، نیفولوجی، ہیپاٹوگیسٹرواینٹرولوجی، پیڈیاٹرک یورولوجی، کارڈیولوجی اور خاص طور پر ٹرانسپلانٹیشن میں جدید ترین علاج کی سہولیات فراہم کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک پریس ریلیز میں کہا گیا کہ یہ ہسپتال علاج کی سہولیات بالکل مفت فراہم کرتا ہے اور کسی بھی قسم کے امتیاز کے بغیر مریضوں کو خدمت فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) جلد ہی شاہراہ فیصل پر سابق ریجنٹ پلازہ کی حال ہی میں حاصل کردہ عمارت میں ایک مکمل ڈائیلائسس/لیتھوٹرپسی سینٹر باضابطہ طور پر لانچ کرنے والا ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1958214/siut-set-to-launch-dialysis-centre-at-sharea-faisal-facility"><strong>خبر</strong></a> کے مطابق اس وقت ایس آئی یو ٹی ٹرسٹ ہسپتال میں 60 بیڈز موجود ہیں اور روزانہ ڈائلائسِس سیشنز جاری ہیں، توقع ہے کہ اس صلاحیت کو بڑھا کر روزانہ 200 سیشنز تک پہنچایا جائے گا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1213481'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1213481"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ہسپتال کے ایک اہلکار کے مطابق گزشتہ سال، ہسپتال نے شہر کے مرکزی حصے میں ایک کثیر المنزلہ ہوٹل کی عمارت حاصل کی تھی، اس کا مقصد موجودہ سہولت میں جگہ کی کمی کو پورا کرنا تھا کیونکہ یہاں مریضوں کی آمد مسلسل بڑھ رہی تھی۔</p>
<p>ایس آئی یو ٹی نے اپنا آغاز 1971 میں سول ہسپتال کراچی میں صرف 8 بیڈز کے ساتھ کیا تھا۔</p>
<p>برسوں کے دوران، ہسپتال کی ٹیم نے قابل ذکر ترقی کی اور متعدد سنگ میل عبور کیے، یورولوجی، نیفولوجی، ہیپاٹوگیسٹرواینٹرولوجی، پیڈیاٹرک یورولوجی، کارڈیولوجی اور خاص طور پر ٹرانسپلانٹیشن میں جدید ترین علاج کی سہولیات فراہم کیں۔</p>
<p>ایک پریس ریلیز میں کہا گیا کہ یہ ہسپتال علاج کی سہولیات بالکل مفت فراہم کرتا ہے اور کسی بھی قسم کے امتیاز کے بغیر مریضوں کو خدمت فراہم کرتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274472</guid>
      <pubDate>Sun, 30 Nov 2025 12:45:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/301234263a217a1.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/301234263a217a1.webp"/>
        <media:title>ایس آئی یو ٹی نے اپنا آغاز 1971 میں سول ہسپتال کراچی میں صرف 8 بیڈز کے ساتھ کیا تھا۔ — فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کینو کے جوس کا یومیہ استعمال بلڈ پریشر اور تیزابیت سے بچانے میں مددگار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274441/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایک حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ باقاعدہ کینو جوس کا استعمال نہ صرف مدافعتی خلیوں کے اندر ہزاروں جینز کی سرگرمی کو بہتر بناتا ہے جو کہ بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے، سوزش کو کم کرنے اور جسم کے شوگر پروسیسنگ کے طریقہ کار کو منظم کرنے میں مدد دیتے ہیں اور اس عمل سے طویل مدتی دل کی صحت میں بہتری ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی ویب سائٹ کے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://medicalxpress.com/news/2025-11-daily-orange-juice-heart.html"&gt;&lt;strong&gt;مطابق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; مذکورہ مطالعے میں روزانہ 500 ملی لیٹر خالص پیسٹورائزڈ سانٹری جوس پینے والے بالغ افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے پایا کہ محض دو ماہ بعد ہی ایسے افراد کی سوزش اور زیادہ بلڈ پریشر سے منسلک بہت سے جینز کی سرگرمی کم ہو گئی۔ ان جینز میں NAMPT، IL6، IL1B اور NLRP3 شامل ہیں، جو عام طور پر جسم پر تناؤ کے دوران فعال ہو جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں ایک اور جین SGK1 جو گردوں کی سوڈیم (نمک) کو برقرار رکھنے کی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے بھی کم فعال ہوا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1117473'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1117473"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق ایسی تبدیلیاں اس بات سے مطابقت رکھتی ہیں کہ روزانہ کینو اور اسی طرح کے دوسرے فروٹس کے تازہ جوس پینے سے نوجوانوں میں بلڈ پریشر کم ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا تھا کہ کینو اور اسی طرح کے دوسرے فروٹس میں قدرتی کمپاؤنڈز، خاص طور پر esperidin نامی جز پایا جاتا ہے جو کہ اپنے اینٹی آکسیڈنٹ اور اینٹی انفلیمیٹری اثرات کے لیے جانا جاتا ہے، اس سے ہائی بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور بلڈ شوگر کی سطح کو قابو کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل 15 مطالعوں پر مشتمل 639 شرکا والے ایک سسٹمیٹک ریویو سے پتہ چلا تھا کہ باقاعدہ کینو اور اسی طرح کے دوسرے فروٹ کے جوس کا استعمال انسولین ریزسٹنس اور بلڈ کولیسٹرول کی سطح کو کم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسولین ریزسٹنس پری ڈائیبیٹیز کی اہم خصوصیت ہے اور ہائی کولیسٹرول دل کی بیماری کا قائم شدہ خطرہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح زائد الوزن اور موٹاپے کے شکار بالغ افراد کے ایک دوسرے تجزیے سے پتہ چلا تھا کہ کئی ہفتوں تک روزانہ کینو جوس استعمال کے بعد systolic بلڈ پریشر میں چھوٹی کمی اور ہائی ڈینسٹی لپو پروٹین (HDL) جو اکثر اچھا کولیسٹرول کہلاتا ہے میں اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ یہ تبدیلیاں معمولی ہیں لیکن بلڈ پریشر اور کولیسٹرول میں معمولی بہتری بھی کئی سالوں تک برقرار رہنے پر معنی خیز فرق پیدا کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایک حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ باقاعدہ کینو جوس کا استعمال نہ صرف مدافعتی خلیوں کے اندر ہزاروں جینز کی سرگرمی کو بہتر بناتا ہے جو کہ بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے، سوزش کو کم کرنے اور جسم کے شوگر پروسیسنگ کے طریقہ کار کو منظم کرنے میں مدد دیتے ہیں اور اس عمل سے طویل مدتی دل کی صحت میں بہتری ہوتی ہے۔</p>
<p>طبی ویب سائٹ کے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://medicalxpress.com/news/2025-11-daily-orange-juice-heart.html"><strong>مطابق</strong></a> مذکورہ مطالعے میں روزانہ 500 ملی لیٹر خالص پیسٹورائزڈ سانٹری جوس پینے والے بالغ افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا۔</p>
<p>ماہرین نے پایا کہ محض دو ماہ بعد ہی ایسے افراد کی سوزش اور زیادہ بلڈ پریشر سے منسلک بہت سے جینز کی سرگرمی کم ہو گئی۔ ان جینز میں NAMPT، IL6، IL1B اور NLRP3 شامل ہیں، جو عام طور پر جسم پر تناؤ کے دوران فعال ہو جاتے ہیں۔</p>
<p>علاوہ ازیں ایک اور جین SGK1 جو گردوں کی سوڈیم (نمک) کو برقرار رکھنے کی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے بھی کم فعال ہوا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1117473'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1117473"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ماہرین کے مطابق ایسی تبدیلیاں اس بات سے مطابقت رکھتی ہیں کہ روزانہ کینو اور اسی طرح کے دوسرے فروٹس کے تازہ جوس پینے سے نوجوانوں میں بلڈ پریشر کم ہو سکتا ہے۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا تھا کہ کینو اور اسی طرح کے دوسرے فروٹس میں قدرتی کمپاؤنڈز، خاص طور پر esperidin نامی جز پایا جاتا ہے جو کہ اپنے اینٹی آکسیڈنٹ اور اینٹی انفلیمیٹری اثرات کے لیے جانا جاتا ہے، اس سے ہائی بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور بلڈ شوگر کی سطح کو قابو کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>اس سے قبل 15 مطالعوں پر مشتمل 639 شرکا والے ایک سسٹمیٹک ریویو سے پتہ چلا تھا کہ باقاعدہ کینو اور اسی طرح کے دوسرے فروٹ کے جوس کا استعمال انسولین ریزسٹنس اور بلڈ کولیسٹرول کی سطح کو کم کرتا ہے۔</p>
<p>انسولین ریزسٹنس پری ڈائیبیٹیز کی اہم خصوصیت ہے اور ہائی کولیسٹرول دل کی بیماری کا قائم شدہ خطرہ ہے۔</p>
<p>اسی طرح زائد الوزن اور موٹاپے کے شکار بالغ افراد کے ایک دوسرے تجزیے سے پتہ چلا تھا کہ کئی ہفتوں تک روزانہ کینو جوس استعمال کے بعد systolic بلڈ پریشر میں چھوٹی کمی اور ہائی ڈینسٹی لپو پروٹین (HDL) جو اکثر اچھا کولیسٹرول کہلاتا ہے میں اضافہ ہوا۔</p>
<p>اگرچہ یہ تبدیلیاں معمولی ہیں لیکن بلڈ پریشر اور کولیسٹرول میں معمولی بہتری بھی کئی سالوں تک برقرار رہنے پر معنی خیز فرق پیدا کر سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274441</guid>
      <pubDate>Sat, 29 Nov 2025 19:28:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ہیلتھ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/29155448d1be5cb.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/29155448d1be5cb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی: خاتون کے پیٹ سے 15 کلو وزنی ٹیومر نکالنے کی کامیاب سرجری</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274443/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی کے لیاری جنرل ہسپتال میں خاتون کے پیٹ کی کامیاب سرجری کے بعد 15 کلو وزنی ٹیومر نکال لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق لیاری جنرل ہسپتال کے سربراہ ڈاکٹر انجم رحمٰن نے بتایا کہ ٹھٹہ کی رہائشی خاتون کے پیٹ سے 15 کلو وزنی ٹیومر بحفاظت نکال دیا گیا، 38 سالہ خاتون 5 بچوں کی ماں کو تشویش ناک حالت میں شعبہ ایمرجنسی میں لایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سربراہ لیاری جنرل ہسپتال کے مطابق خاتون کےابتدائی طبی ٹیسٹ میں ہی ایک بڑی اور وزنی رسولی کی نشاندہی ہوگئی تھی، کیس پیچیدہ تھا، ماہرین کی ٹیم نے کامیابی سے آپریشن  کے ذریعے رسولی نکال دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر انجم رحمٰن کا مزید کہنا تھا کہ آپریشن کے بعد مریضہ کی حالت اب بہتر ہے۔ &lt;br&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی کے لیاری جنرل ہسپتال میں خاتون کے پیٹ کی کامیاب سرجری کے بعد 15 کلو وزنی ٹیومر نکال لیا گیا۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق لیاری جنرل ہسپتال کے سربراہ ڈاکٹر انجم رحمٰن نے بتایا کہ ٹھٹہ کی رہائشی خاتون کے پیٹ سے 15 کلو وزنی ٹیومر بحفاظت نکال دیا گیا، 38 سالہ خاتون 5 بچوں کی ماں کو تشویش ناک حالت میں شعبہ ایمرجنسی میں لایا گیا تھا۔</p>
<p>سربراہ لیاری جنرل ہسپتال کے مطابق خاتون کےابتدائی طبی ٹیسٹ میں ہی ایک بڑی اور وزنی رسولی کی نشاندہی ہوگئی تھی، کیس پیچیدہ تھا، ماہرین کی ٹیم نے کامیابی سے آپریشن  کے ذریعے رسولی نکال دی ہے۔</p>
<p>ڈاکٹر انجم رحمٰن کا مزید کہنا تھا کہ آپریشن کے بعد مریضہ کی حالت اب بہتر ہے۔ <br></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274443</guid>
      <pubDate>Sat, 29 Nov 2025 17:03:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/29170140370bee3.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/29170140370bee3.webp"/>
        <media:title>— فوٹو: کریٹیو کامنز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یورپ میں ایچ آئی وی کے نصف سے زائد کیسز کی تتشخیص تاخیر سے ہونے کا انکشاف</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274411/</link>
      <description>&lt;p&gt;عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) سمیت دیگر عالمی اداروں نے انکشاف کیا ہے کہ یورپ میں ایچ آئی وی کے تشخیص شدہ نصف سے زیادہ کیسز ایسے ہوتے ہیں جن کی تصدیق تاخیر سے اس وقت ہوتی ہے جب مریضوں میں مرض کی شدت سنگین بن چکی ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی نشریاتی ادارے کی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.euronews.com/health/2025/11/27/undiagnosed-hiv-a-silent-crisis-growing-in-europe"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ہر سال یورپ میں ہزاروں لوگوں میں ایچ آئی وی کا تشخیص ہوتی ہے اور ان تشخیص شدہ کیسز میں سے تقریباً آدھے کیسز کی تصدیق اس وقت ہوتی ہے جب سنگین بیماری کا خطرہ بڑھ چکا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق عالمی ادارہ صحت سمیت دیگر اداروں کی تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یورپ کو فوری طور پر ایچ آئی وی کی بہتر روک تھام اور ٹیسٹنگ کی پریکٹسز قائم کرنے اور عوامی شعور میں اضافے کرنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1122062'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1122062"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;عالمی ادارہ صحت کے یورپ کے علاقائی ڈائریکٹر کے مطابق یورپ میں بھی ایچ آئی وی سے متعلق تفریق پائی جاتی ہے، امتیازی سلوک کی وجہ سے لوگ ایک سادہ ٹیسٹ کرانے سے کتراتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں شائع ہونے والی ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور یورپی سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کی نئی رپورٹ کے مطابق 2024 میں یورپ میں کل 105,922 لوگوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق 2024 کی تمام ایچ آئی وی تشخیصوں میں سے آدھے سے زیادہ تشخیصیں دیر سے ہوئیں، 33.6 فیصد کیسز میں وائرس کی تشخیص بیماری کے انتہائی عروج پر ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ تشخیص نہ ہونے والے ایچ آئی وی کے شکار لوگوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، جو متوقع اور رپورٹ ہونے والے کیسز کے فرق کی بنیاد پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین صحت نے مذکورہ صورتحال کو ایک خاموش بحران قرار دیا اور یورپین یونین پر ایچ آئی وی سے متعلق سخت اور فوری اقدامات اٹھانے کا مطالبہ بھی کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ دیر سے تشخیصوں کے سب سے زیادہ فیصد والے ممالک میں بوسنیا اور ہرزیگووینا (80.6 فیصد)، شمالی مقدونیہ (74.5 فیصد)، کروشیا (68.3 فیصد) اور سویڈن (66.7 فیصد) شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فن لینڈ اور قبرص میں دیر سے تشخیصوں کا سب سے کم تناسب ریکارڈنگ کیا گیا، جو بالترتیب 27 فیصد اور 41 فیصد رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایچ آئی وی وائرس مدافعتی نظام پر حملہ کرتا ہے، جس سے متاثرہ شخص دیگر انفیکشنز کا شکار ہو جاتا ہے، مناسب علاج کے بغیر، یہ ایڈز میں تبدیل ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ابھی تک اس کا کوئی مستند علاج نہیں، تاہم مناسب دیکھ بھال اور علامات کے علاج کی بنیاد پر ایچ آئی وی کو مکمل طور پر کنٹرول کیا جا سکتا ہے، جس سے لوگ نارمل زندگی گزار سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سال 2024 میں یورپ میں ایچ آئی وی پھیلنے کا سب سے بڑا ذریعہ مرد و خواتین میں غیر محفوظ جنسی عمل تھا، ایسے کیسز کی مجموعی تعداد  62 فیصد تھی، دوسرے نمبر پر مردوں کے درمیان جنسی تعلقات کے کیسز تھے، جن کی تعداد 13 فیصد رہی، اس کے بعد انجکشن کے ذریعے ہونے والے کیسز تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) سمیت دیگر عالمی اداروں نے انکشاف کیا ہے کہ یورپ میں ایچ آئی وی کے تشخیص شدہ نصف سے زیادہ کیسز ایسے ہوتے ہیں جن کی تصدیق تاخیر سے اس وقت ہوتی ہے جب مریضوں میں مرض کی شدت سنگین بن چکی ہوتی ہے۔</p>
<p>یورپی نشریاتی ادارے کی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.euronews.com/health/2025/11/27/undiagnosed-hiv-a-silent-crisis-growing-in-europe"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق ہر سال یورپ میں ہزاروں لوگوں میں ایچ آئی وی کا تشخیص ہوتی ہے اور ان تشخیص شدہ کیسز میں سے تقریباً آدھے کیسز کی تصدیق اس وقت ہوتی ہے جب سنگین بیماری کا خطرہ بڑھ چکا ہوتا ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق عالمی ادارہ صحت سمیت دیگر اداروں کی تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یورپ کو فوری طور پر ایچ آئی وی کی بہتر روک تھام اور ٹیسٹنگ کی پریکٹسز قائم کرنے اور عوامی شعور میں اضافے کرنے کی ضرورت ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1122062'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1122062"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>عالمی ادارہ صحت کے یورپ کے علاقائی ڈائریکٹر کے مطابق یورپ میں بھی ایچ آئی وی سے متعلق تفریق پائی جاتی ہے، امتیازی سلوک کی وجہ سے لوگ ایک سادہ ٹیسٹ کرانے سے کتراتے ہیں۔</p>
<p>حال ہی میں شائع ہونے والی ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور یورپی سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کی نئی رپورٹ کے مطابق 2024 میں یورپ میں کل 105,922 لوگوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق 2024 کی تمام ایچ آئی وی تشخیصوں میں سے آدھے سے زیادہ تشخیصیں دیر سے ہوئیں، 33.6 فیصد کیسز میں وائرس کی تشخیص بیماری کے انتہائی عروج پر ہوئی۔</p>
<p>رپورٹ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ تشخیص نہ ہونے والے ایچ آئی وی کے شکار لوگوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، جو متوقع اور رپورٹ ہونے والے کیسز کے فرق کی بنیاد پر ہے۔</p>
<p>ماہرین صحت نے مذکورہ صورتحال کو ایک خاموش بحران قرار دیا اور یورپین یونین پر ایچ آئی وی سے متعلق سخت اور فوری اقدامات اٹھانے کا مطالبہ بھی کیا۔</p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ دیر سے تشخیصوں کے سب سے زیادہ فیصد والے ممالک میں بوسنیا اور ہرزیگووینا (80.6 فیصد)، شمالی مقدونیہ (74.5 فیصد)، کروشیا (68.3 فیصد) اور سویڈن (66.7 فیصد) شامل ہیں۔</p>
<p>فن لینڈ اور قبرص میں دیر سے تشخیصوں کا سب سے کم تناسب ریکارڈنگ کیا گیا، جو بالترتیب 27 فیصد اور 41 فیصد رہا۔</p>
<p>ایچ آئی وی وائرس مدافعتی نظام پر حملہ کرتا ہے، جس سے متاثرہ شخص دیگر انفیکشنز کا شکار ہو جاتا ہے، مناسب علاج کے بغیر، یہ ایڈز میں تبدیل ہو سکتا ہے۔</p>
<p>اگرچہ ابھی تک اس کا کوئی مستند علاج نہیں، تاہم مناسب دیکھ بھال اور علامات کے علاج کی بنیاد پر ایچ آئی وی کو مکمل طور پر کنٹرول کیا جا سکتا ہے، جس سے لوگ نارمل زندگی گزار سکتے ہیں۔</p>
<p>سال 2024 میں یورپ میں ایچ آئی وی پھیلنے کا سب سے بڑا ذریعہ مرد و خواتین میں غیر محفوظ جنسی عمل تھا، ایسے کیسز کی مجموعی تعداد  62 فیصد تھی، دوسرے نمبر پر مردوں کے درمیان جنسی تعلقات کے کیسز تھے، جن کی تعداد 13 فیصد رہی، اس کے بعد انجکشن کے ذریعے ہونے والے کیسز تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274411</guid>
      <pubDate>Fri, 28 Nov 2025 23:54:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ہیلتھ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/2820141629fb11f.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/2820141629fb11f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برازیل میں دنیا کی پہلی سنگل ڈوز ڈینگی ویکسین کے استعمال کی منظوری</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274372/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جنوبی امریکی ملک برازیل کی حکومت نے سنگل ڈوز کی دنیا کی پہلی ڈینگی سے تحفظ دینے والی ویکسین کے استعمال کی منظوری دے دی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;طبی ویب سائٹ کے&lt;/strong&gt; &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://medicalxpress.com/news/2025-11-brazil-world-dose-dengue-vaccine.html"&gt;مطابق&lt;/a&gt; &lt;strong&gt;برازیل میں ہی تیار کی گئی ویکسین کو 12 سے 59 سال کی عمر کے ڈینگی سے متاثرہ افراد پر استعمال کرنے کی منظوری دے دی گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مذکورہ ویکسین کے استعمال کی منظوری سے قبل 8 سال تک اس کی آزمائش کی گئی اور بہترین نتائج آنے کے بعد حکومت نے اس کے استعمال کی منظوری دی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1036137'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1036137"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مذکورہ ویکسین کو چینی کمپنی کی مدد سے برازیل میں ہی تیار کیا گیا ہے اور اس میں ڈینگی وائرس کا لائیو وائرس استعمال کیا گیا ہے، جس طرح پولیو ویکسین میں پولیو کا وائرس استعمال کیا جاتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مذکورہ ویکسین کے نتائج سے معلوم ہوا تھا کہ ویکسین لگوانے کے بعد ڈینگی بخاری کی مجموعی علامات 74 فیصد تک کم ہوجاتی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نتائج سے یہ بھی معلوم ہوا تھا کہ سنگل ڈوز ویکسین لگوانے کے بعد ڈینگی کی شدید ترین علامات 84 فیصد تک کم ہوجاتی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ویکسین 12 سے 59 سال کے افراد کے لیے محفوظ ہے، تاہم جلد ہی اسے مزید کم عمر اور زائد العمر افراد کے لیے بھی تیار کیا جائے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مذکورہ ویکسین کو فوری طور پر صرف برازیل میں ہی استعمال کیا جائے گا، اگلے مرحلے میں ویکسین کو دوسرے ممالک بھی بھیجے جانے کا امکان ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;برازیل کی سنگل ڈوز ڈینگی ویکسین سے قبل عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے صرف ایک ہی ڈینگی ویکسین کے استعمال کی اجازت دے رکھی ہے اور اس کے دو ڈوز ہیں اور دونوں ڈوز تین ماہ کے وقفے سے لگائے جاتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جنوبی امریکی ملک برازیل کی حکومت نے سنگل ڈوز کی دنیا کی پہلی ڈینگی سے تحفظ دینے والی ویکسین کے استعمال کی منظوری دے دی۔</strong></p>
<p><strong>طبی ویب سائٹ کے</strong> <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://medicalxpress.com/news/2025-11-brazil-world-dose-dengue-vaccine.html">مطابق</a> <strong>برازیل میں ہی تیار کی گئی ویکسین کو 12 سے 59 سال کی عمر کے ڈینگی سے متاثرہ افراد پر استعمال کرنے کی منظوری دے دی گئی۔</strong></p>
<p><strong>مذکورہ ویکسین کے استعمال کی منظوری سے قبل 8 سال تک اس کی آزمائش کی گئی اور بہترین نتائج آنے کے بعد حکومت نے اس کے استعمال کی منظوری دی۔</strong></p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1036137'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1036137"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p><strong>مذکورہ ویکسین کو چینی کمپنی کی مدد سے برازیل میں ہی تیار کیا گیا ہے اور اس میں ڈینگی وائرس کا لائیو وائرس استعمال کیا گیا ہے، جس طرح پولیو ویکسین میں پولیو کا وائرس استعمال کیا جاتا ہے۔</strong></p>
<p><strong>مذکورہ ویکسین کے نتائج سے معلوم ہوا تھا کہ ویکسین لگوانے کے بعد ڈینگی بخاری کی مجموعی علامات 74 فیصد تک کم ہوجاتی ہیں۔</strong></p>
<p><strong>نتائج سے یہ بھی معلوم ہوا تھا کہ سنگل ڈوز ویکسین لگوانے کے بعد ڈینگی کی شدید ترین علامات 84 فیصد تک کم ہوجاتی ہیں۔</strong></p>
<p><strong>ویکسین 12 سے 59 سال کے افراد کے لیے محفوظ ہے، تاہم جلد ہی اسے مزید کم عمر اور زائد العمر افراد کے لیے بھی تیار کیا جائے گا۔</strong></p>
<p><strong>مذکورہ ویکسین کو فوری طور پر صرف برازیل میں ہی استعمال کیا جائے گا، اگلے مرحلے میں ویکسین کو دوسرے ممالک بھی بھیجے جانے کا امکان ہے۔</strong></p>
<p><strong>برازیل کی سنگل ڈوز ڈینگی ویکسین سے قبل عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے صرف ایک ہی ڈینگی ویکسین کے استعمال کی اجازت دے رکھی ہے اور اس کے دو ڈوز ہیں اور دونوں ڈوز تین ماہ کے وقفے سے لگائے جاتے ہیں۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274372</guid>
      <pubDate>Fri, 28 Nov 2025 10:10:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ہیلتھ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/27220533adfc6ea.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/27220533adfc6ea.webp"/>
        <media:title>—فوٹو: میڈیکل ایکسپریس
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شہرت سے انسان کی زندگی ساڑھے چار سال تک کم ہوسکتی ہے، تحقیق</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274321/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایک منفرد اور تازہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ شہرت انسان کی زندگی کو مختصر کرسکتی ہے اور خصوصی طور پر شہرت یافتہ گلوکار ان فنکاروں کے مقابلے کم زندگی پاتے ہیں جو زیادہ مقبول نہیں ہوتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/news/articles/cde6702n4geo"&gt;&lt;strong&gt;مطابق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; جرمنی میں کی جانے والی منفرد تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مشہور موسیقاروں کی زندگی کی اوسط عمر عام گلوکاروں کے مقابلے میں 4.6 سال کم ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جرمن کی یونیورسٹی وٹن/ہیرڈیکے کے ماہرین کی تحقیق جو جرنل آف ایپیڈیمولوجی اینڈ کمیونٹی ہیلتھ میں شائع ہوئی، میں 648 گلوکاروں کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان میں سے نصف مشہور فنکار تھے، جو ایکلیمڈ میوزک کی ’ٹاپ 2,000 آرٹسٹ آف آل ٹائم‘ فہرست سے منتخب کیے گئے تھے جبکہ باقی نصف کم مشہور تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1056027'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1056027"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشہور گلوکاروں میں دی بیٹلز، باب ڈائلن، دی رولنگ اسٹونز، ڈیوڈ باؤئی اور بروس اسپرنگسٹین جیسے نام بھی شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محققین نے ہر مشہور گلوکار کو جنس، قومیت اور موسیقی کی صنف کی بنیاد پر ایک کم مشہور گلوکار سے ملایا اور پھر دونوں کی اوسط عمر کا موازنہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتائج سے پتہ چلا کہ مشہور گلوکاروں کی اوسط عمر 75 سال رہی جبکہ کم مشہور گلوکار 79 سال تک زندہ رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق کے مطابق شہرت موت کے بڑھتے ہوئے خطرات میں سے ایک عمل ہے جو صحت کے مسائل کا سبب بنتی ہے جب کہ شہرت سے سولو آرٹسٹوں کو بینڈ ممبران کے مقابلے میں زیادہ خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ انہیں جذباتی اور عملی مدد کم ملتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ شہرت سے متعلق خطرات میں رازداری کا خاتمہ، عوامی تنقید اور پرفارمنس کا دباؤ شامل ہو سکتے ہیں، جس وجہ سے ان میں صحت کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل 2007 کی امریکی تحقیق کے مطابق 2 سے 25 سال کی عمر میں شہرت پانے والے پاپ اسٹارز کی موت کا خطرہ عام آبادی کے مقابلے میں دو سے تین گنا زیادہ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق میں حال ہی میں انتقال کرنے والے فنکاروں میں ریپر میک ملر (26 سال)، ڈی جے ایویچی (28 سال) اور لائم پین (31 سال) کو تازہ مثالوں کی طور پر پیش کیا گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایک منفرد اور تازہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ شہرت انسان کی زندگی کو مختصر کرسکتی ہے اور خصوصی طور پر شہرت یافتہ گلوکار ان فنکاروں کے مقابلے کم زندگی پاتے ہیں جو زیادہ مقبول نہیں ہوتے۔</p>
<p>برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/news/articles/cde6702n4geo"><strong>مطابق</strong></a> جرمنی میں کی جانے والی منفرد تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مشہور موسیقاروں کی زندگی کی اوسط عمر عام گلوکاروں کے مقابلے میں 4.6 سال کم ہو سکتی ہے۔</p>
<p>جرمن کی یونیورسٹی وٹن/ہیرڈیکے کے ماہرین کی تحقیق جو جرنل آف ایپیڈیمولوجی اینڈ کمیونٹی ہیلتھ میں شائع ہوئی، میں 648 گلوکاروں کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا۔</p>
<p>ان میں سے نصف مشہور فنکار تھے، جو ایکلیمڈ میوزک کی ’ٹاپ 2,000 آرٹسٹ آف آل ٹائم‘ فہرست سے منتخب کیے گئے تھے جبکہ باقی نصف کم مشہور تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1056027'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1056027"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مشہور گلوکاروں میں دی بیٹلز، باب ڈائلن، دی رولنگ اسٹونز، ڈیوڈ باؤئی اور بروس اسپرنگسٹین جیسے نام بھی شامل تھے۔</p>
<p>محققین نے ہر مشہور گلوکار کو جنس، قومیت اور موسیقی کی صنف کی بنیاد پر ایک کم مشہور گلوکار سے ملایا اور پھر دونوں کی اوسط عمر کا موازنہ کیا۔</p>
<p>نتائج سے پتہ چلا کہ مشہور گلوکاروں کی اوسط عمر 75 سال رہی جبکہ کم مشہور گلوکار 79 سال تک زندہ رہے۔</p>
<p>تحقیق کے مطابق شہرت موت کے بڑھتے ہوئے خطرات میں سے ایک عمل ہے جو صحت کے مسائل کا سبب بنتی ہے جب کہ شہرت سے سولو آرٹسٹوں کو بینڈ ممبران کے مقابلے میں زیادہ خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ انہیں جذباتی اور عملی مدد کم ملتی ہے۔</p>
<p>تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ شہرت سے متعلق خطرات میں رازداری کا خاتمہ، عوامی تنقید اور پرفارمنس کا دباؤ شامل ہو سکتے ہیں، جس وجہ سے ان میں صحت کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔</p>
<p>اس سے قبل 2007 کی امریکی تحقیق کے مطابق 2 سے 25 سال کی عمر میں شہرت پانے والے پاپ اسٹارز کی موت کا خطرہ عام آبادی کے مقابلے میں دو سے تین گنا زیادہ ہوتا ہے۔</p>
<p>تحقیق میں حال ہی میں انتقال کرنے والے فنکاروں میں ریپر میک ملر (26 سال)، ڈی جے ایویچی (28 سال) اور لائم پین (31 سال) کو تازہ مثالوں کی طور پر پیش کیا گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274321</guid>
      <pubDate>Wed, 26 Nov 2025 23:55:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ہیلتھ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/26201042293f8be.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/26201042293f8be.webp"/>
        <media:title>—فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ہر بالغ فرد میں پائے جانے والے وائرس سے لوپس ہونے کا انکشاف</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274263/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایک نئی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ تقریبا ہر بالغ فرد میں پایا جانے والا  Epstein-Barr نامی وائرس ممکنہ طور پر سیسٹیمک لوپس ایریتیھمیٹوسس systemic lupus erythematosus (SLE) یعنی لوپس جیسی بیماری کا سبب بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی ویب سائٹ میں&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.medicalnewstoday.com/articles/study-links-autoimmune-lupus-common-virus-epstein-barr-infection"&gt; شائع رپورٹ&lt;/a&gt; کے مطابق سانفورڈ یونیورسٹی کے محققین کی جانب سے کی جانے والی تحقیق میں انکشاف ہوا کہ تقریباً ہر انسان میں پایا جانے والا Epstein-Barr نامی وائرس آٹو امیون ڈیزیز کا سبب بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مطالعے میں سائنسدانوں نے جدید single-cell sequencing ٹیکنالوجی استعمال کی تاکہ ان بی نامی خلیات کی نشاندہی کی جائے جن میں مذکورہ Epstein-Barr وائرس موجود ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1237632'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1237632"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کی جانب سے خلیات کی نشاندہی کے نتیجے میں یہ معلوم ہوا کہ لوپس کے مریضوں میں ایسے بی نامی خلیات کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے جن میں وائرس پایا جاتا ہے، عام افراد کے مقابلے میں لوپس کے مریضوں میں ایسے خلیات تقریباً 25 گنا زیادہ ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محققین نے یہ بھی دریافت کیا ہے کہ Epstein-Barr نامی وائرس خلیات کو دوبارہ پروگرام کرتا ہے،  خاص طور پر یہ وائرس خلیات کو ایک پروٹین EBNA2 بنانے پر مجبور کرتا ہے جو خلیاتی جینز کو چالو کرتی ہے اور سوزشی (inflammatory) اور خود مدافعتی رد عمل کو بھڑکاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق ایسے عمل سے وائرس خلیات کو ڈرائیوربنا دیتا ہے جو مدافعتی نظام کو تحریک دے کر جسم کے اپنے ٹشوز پر حملہ کرنے والے رد عمل کو شروع کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ساتھی محققین نے یہ امکان بھی پیش کیا ہے کہ یہی میکانزم دیگر خود مدافعتی بیماریوں، جیسے ملٹیپل اسکلیرسس یا آرتھرائٹس میں بھی کارفرما ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایک نئی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ تقریبا ہر بالغ فرد میں پایا جانے والا  Epstein-Barr نامی وائرس ممکنہ طور پر سیسٹیمک لوپس ایریتیھمیٹوسس systemic lupus erythematosus (SLE) یعنی لوپس جیسی بیماری کا سبب بن سکتا ہے۔</p>
<p>طبی ویب سائٹ میں<a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.medicalnewstoday.com/articles/study-links-autoimmune-lupus-common-virus-epstein-barr-infection"> شائع رپورٹ</a> کے مطابق سانفورڈ یونیورسٹی کے محققین کی جانب سے کی جانے والی تحقیق میں انکشاف ہوا کہ تقریباً ہر انسان میں پایا جانے والا Epstein-Barr نامی وائرس آٹو امیون ڈیزیز کا سبب بن سکتا ہے۔</p>
<p>مطالعے میں سائنسدانوں نے جدید single-cell sequencing ٹیکنالوجی استعمال کی تاکہ ان بی نامی خلیات کی نشاندہی کی جائے جن میں مذکورہ Epstein-Barr وائرس موجود ہوتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1237632'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1237632"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ماہرین کی جانب سے خلیات کی نشاندہی کے نتیجے میں یہ معلوم ہوا کہ لوپس کے مریضوں میں ایسے بی نامی خلیات کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے جن میں وائرس پایا جاتا ہے، عام افراد کے مقابلے میں لوپس کے مریضوں میں ایسے خلیات تقریباً 25 گنا زیادہ ہوتے ہیں۔</p>
<p>محققین نے یہ بھی دریافت کیا ہے کہ Epstein-Barr نامی وائرس خلیات کو دوبارہ پروگرام کرتا ہے،  خاص طور پر یہ وائرس خلیات کو ایک پروٹین EBNA2 بنانے پر مجبور کرتا ہے جو خلیاتی جینز کو چالو کرتی ہے اور سوزشی (inflammatory) اور خود مدافعتی رد عمل کو بھڑکاتی ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق ایسے عمل سے وائرس خلیات کو ڈرائیوربنا دیتا ہے جو مدافعتی نظام کو تحریک دے کر جسم کے اپنے ٹشوز پر حملہ کرنے والے رد عمل کو شروع کرتے ہیں۔</p>
<p>ساتھی محققین نے یہ امکان بھی پیش کیا ہے کہ یہی میکانزم دیگر خود مدافعتی بیماریوں، جیسے ملٹیپل اسکلیرسس یا آرتھرائٹس میں بھی کارفرما ہو سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274263</guid>
      <pubDate>Tue, 25 Nov 2025 22:48:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ہیلتھ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/2520210164065d8.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/2520210164065d8.webp"/>
        <media:title>—فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وٹامن ڈی کی کمی سے ذیابیطس کا خطرہ بڑھنے کا انکشاف</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274218/</link>
      <description>&lt;p&gt;وٹامن ڈی کی کمی سے صحت کے کئی مسائل ہوجاتے ہیں اور عالمی سطح پر وٹامن ڈی کی کمی تیزی سے دیکھی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان میں کی جانے والی ایک حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ وٹامن ڈی کی کمی کو دور کرنے والی سپلیمنٹس لینے سے ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ کم ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی جریدے بی ایم جے میں شائع تحقیق کے مطابق ماہرین کی جانب سے 1256 افراد پر تین سال تک کی جانے والی تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ جو لوگ وٹامن ڈی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے سپلمینٹس لیتے ہیں ان میں نہ صرف ذیابیطس ٹائپ ٹو کے ہونے کا خطرہ کم ہوتا ہے بلکہ ان میں انسولین کی مقدار بھی بہتر رہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق کے دوران ماہرین نے رضاکاروں کو دو گروپوں میں تقسیم کیا، جس میں سے ایک گروپ کو ماہرین نے یومیہ وٹامن ڈی کے سپلیمنٹ کی انتہائی کم مقدار فراہم کی، جب کہ دوسرے گروپ کو صرف سادہ گلوکوز دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے تحقیق کے دوران رضاکاروں کے ہر تین ماہ کے بعد مختلف ٹیسٹ کیے، جن میں ان کے باڈی ماس انڈیکس کے علاوہ دیگر ٹیسٹ بھی شامل تھے اور ان میں ذیابیطس کو بھی چیک کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتائج سے معلوم ہوا کہ جو افراد وٹامن ڈی کی کمی کو پورا کرنے والے سپلمینٹس لے رہے تھے ان میں ذیابیطس ٹائپ ٹو کے ہونے کے امکانات 11 فیصد کم تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق میں شامل ماہرین کے مطابق اگرچہ وٹامن ڈی کی کمی کے شکار افراد اور وٹامن ڈی کے سپلیمینٹ لینے والے افراد کے نتائج میں کوئی بہت بڑا نمایاں فرق نہیں تھا، تاہم یہ دیکھا گیا کہ سپلیمینٹ لینے والے افراد میں ذیابیطس ٹائپ ٹو سے متاثر ہونے کے امکانات کم ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے تجویز دی کہ ذیابیطس ٹائپ ٹو سے بچنے کے لیے لوگ وٹامن ڈی کے سپلیمینٹس لے سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وٹامن ڈی کی کمی سے صحت کے کئی مسائل ہوجاتے ہیں اور عالمی سطح پر وٹامن ڈی کی کمی تیزی سے دیکھی جا رہی ہے۔</p>
<p>جاپان میں کی جانے والی ایک حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ وٹامن ڈی کی کمی کو دور کرنے والی سپلیمنٹس لینے سے ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ کم ہوتا ہے۔</p>
<p>طبی جریدے بی ایم جے میں شائع تحقیق کے مطابق ماہرین کی جانب سے 1256 افراد پر تین سال تک کی جانے والی تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ جو لوگ وٹامن ڈی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے سپلمینٹس لیتے ہیں ان میں نہ صرف ذیابیطس ٹائپ ٹو کے ہونے کا خطرہ کم ہوتا ہے بلکہ ان میں انسولین کی مقدار بھی بہتر رہتی ہے۔</p>
<p>تحقیق کے دوران ماہرین نے رضاکاروں کو دو گروپوں میں تقسیم کیا، جس میں سے ایک گروپ کو ماہرین نے یومیہ وٹامن ڈی کے سپلیمنٹ کی انتہائی کم مقدار فراہم کی، جب کہ دوسرے گروپ کو صرف سادہ گلوکوز دیا گیا۔</p>
<p>ماہرین نے تحقیق کے دوران رضاکاروں کے ہر تین ماہ کے بعد مختلف ٹیسٹ کیے، جن میں ان کے باڈی ماس انڈیکس کے علاوہ دیگر ٹیسٹ بھی شامل تھے اور ان میں ذیابیطس کو بھی چیک کیا گیا۔</p>
<p>نتائج سے معلوم ہوا کہ جو افراد وٹامن ڈی کی کمی کو پورا کرنے والے سپلمینٹس لے رہے تھے ان میں ذیابیطس ٹائپ ٹو کے ہونے کے امکانات 11 فیصد کم تھے۔</p>
<p>تحقیق میں شامل ماہرین کے مطابق اگرچہ وٹامن ڈی کی کمی کے شکار افراد اور وٹامن ڈی کے سپلیمینٹ لینے والے افراد کے نتائج میں کوئی بہت بڑا نمایاں فرق نہیں تھا، تاہم یہ دیکھا گیا کہ سپلیمینٹ لینے والے افراد میں ذیابیطس ٹائپ ٹو سے متاثر ہونے کے امکانات کم ہوتے ہیں۔</p>
<p>ماہرین نے تجویز دی کہ ذیابیطس ٹائپ ٹو سے بچنے کے لیے لوگ وٹامن ڈی کے سپلیمینٹس لے سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274218</guid>
      <pubDate>Mon, 24 Nov 2025 23:58:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ہیلتھ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/24223445108862c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/24223445108862c.webp"/>
        <media:title>— شٹر اسٹاک فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>روزانہ صرف 1 سگریٹ پینے سے بھی دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، تحقیق میں انکشاف</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274147/</link>
      <description>&lt;p&gt;حالیہ طبی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ روزانہ صرف ایک سگریٹ پینا بھی آپ کے دل کی صحت پر سنگین اثرات ڈال سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.news-medical.net/news/20251121/Even-one-cigarette-a-day-harms-the-heart-at-every-level.aspx"&gt;طبی ویب سائٹ&lt;/a&gt; پر شائع تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کم شدت والی سگریٹ نوشی بھی آپ کی جلد موت کے خطرے کو 60 فیصد تک بڑھا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق کے دوران تقریباً 3 لاکھ لوگوں کے 20 سال کے اعداد و شمار کا مطالعہ کیا گیا، جس سے پتہ چلا کہ تھوڑی بہت سگریٹ نوشی کرنے والوں کی صحت کو بھی سگریٹ نوشی کے عادی افراد کی طرح شدید خطرہ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بھی بتایا گیا کہ سگریٹ نوشی نہ کرنے والے لوگوں کے مقابلے میں سگریٹ نوشی کرنے والوں کے امراض قلب میں مبتلا ہونے کا امکان 50 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1269998"&gt;&lt;strong&gt;ای سگریٹ استعمال کرنے سے بھی ذیابیطس کا خطرہ بڑھنے کا انکشاف&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق کے مطابق اگر کوئی شخص دن میں 2 سے 5 سگریٹ پیتا ہے تو اس میں دل کی بیماری کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے اور صرف سگریٹ کی مقدار کم کرنا خطرے کو مکمل طور پر ختم نہیں کرتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق سگریٹ چھوڑنے سے دل کی صحت پر فوری اور طویل مدتی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں، جیسے کہ تین سال کے اندر سگریٹ چھوڑنے والے افراد میں موت کے اضافی خطرات میں 90 سے 95 فیصد کمی آ جاتی ہے، اگر کوئی شخص تقریباً 20 سال تک سگریٹ ترک کر دیتا ہے تو اس کا دل ان لوگوں کے مقابلے میں تقریباً 80 فیصد محفوظ رہتا ہے جو سگریٹ نوشی جاری رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق سے واضح ہوا کہ کوئی بھی سگریٹ نقصان دہ ہے، صرف کم پینا یا کبھی کبھار پینا محفوظ نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ بہتر یہ ہے کہ تمباکو نوشی کو مکمل طور پر ترک کیا جائے تاکہ دل اور پورے جسم کی صحت محفوظ رہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>حالیہ طبی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ روزانہ صرف ایک سگریٹ پینا بھی آپ کے دل کی صحت پر سنگین اثرات ڈال سکتا ہے۔</p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.news-medical.net/news/20251121/Even-one-cigarette-a-day-harms-the-heart-at-every-level.aspx">طبی ویب سائٹ</a> پر شائع تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کم شدت والی سگریٹ نوشی بھی آپ کی جلد موت کے خطرے کو 60 فیصد تک بڑھا سکتی ہے۔</p>
<p>تحقیق کے دوران تقریباً 3 لاکھ لوگوں کے 20 سال کے اعداد و شمار کا مطالعہ کیا گیا، جس سے پتہ چلا کہ تھوڑی بہت سگریٹ نوشی کرنے والوں کی صحت کو بھی سگریٹ نوشی کے عادی افراد کی طرح شدید خطرہ ہوتا ہے۔</p>
<p>یہ بھی بتایا گیا کہ سگریٹ نوشی نہ کرنے والے لوگوں کے مقابلے میں سگریٹ نوشی کرنے والوں کے امراض قلب میں مبتلا ہونے کا امکان 50 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔</p>
<p><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1269998"><strong>ای سگریٹ استعمال کرنے سے بھی ذیابیطس کا خطرہ بڑھنے کا انکشاف</strong></a></p>
<p>تحقیق کے مطابق اگر کوئی شخص دن میں 2 سے 5 سگریٹ پیتا ہے تو اس میں دل کی بیماری کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے اور صرف سگریٹ کی مقدار کم کرنا خطرے کو مکمل طور پر ختم نہیں کرتا۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق سگریٹ چھوڑنے سے دل کی صحت پر فوری اور طویل مدتی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں، جیسے کہ تین سال کے اندر سگریٹ چھوڑنے والے افراد میں موت کے اضافی خطرات میں 90 سے 95 فیصد کمی آ جاتی ہے، اگر کوئی شخص تقریباً 20 سال تک سگریٹ ترک کر دیتا ہے تو اس کا دل ان لوگوں کے مقابلے میں تقریباً 80 فیصد محفوظ رہتا ہے جو سگریٹ نوشی جاری رکھتے ہیں۔</p>
<p>تحقیق سے واضح ہوا کہ کوئی بھی سگریٹ نقصان دہ ہے، صرف کم پینا یا کبھی کبھار پینا محفوظ نہیں ہے۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ بہتر یہ ہے کہ تمباکو نوشی کو مکمل طور پر ترک کیا جائے تاکہ دل اور پورے جسم کی صحت محفوظ رہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274147</guid>
      <pubDate>Sun, 23 Nov 2025 22:47:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ہیلتھ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/23121640a7d97dc.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/23121640a7d97dc.webp"/>
        <media:title>—فوٹو: شٹر اسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>موسم سرما میں انڈے، چائے اور دودھ سے بنی اشیا غذائیں کتنی فائدہ مند ہیں؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274123/</link>
      <description>&lt;p&gt;موسم سرما کو کھانے کا موسم بھی کہا جاتا ہے اور سردیاں شروع ہوتے ہی ہر طرف گرم گرم غذاؤں کے اسٹالز اور ہوٹلز پر رش لگ جاتا ہے جب کہ گھروں میں بھی لوگ گرم غذاؤں کو اہتمام سے تیار کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موسم سرما میں زیادہ تر افراد کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ خود کو سردیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے ایسی گرم غذائیں زیادہ سے زیادہ کھائیں جو سردی کی شدت کو کم کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم بعض گرم غذائیں ایسی بھی ہیں جنہیں سردیوں میں زیادہ کھانے سے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم درج ذیل کچھ ایسی غذاؤں کی فہرست دے رہے ہیں، جنہیں سردیوں کے لیے اچھی غذائیں مانا جاتا ہے لیکن اگر ان کا زیادہ استعمال کیا جائے تو مسائل ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دودھ سے بنی مصنوعات&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ دودھ کو مکمل غذا مانا جاتا ہے مگر موسم سرما میں بہتر یہی ہے کہ اس کا استعمال کم کردینا چاہیے، ماہرین کے مطابق دودھ بلغم کا باعث بنتا ہے، جو گلے میں خراش کو بڑھانے کا سبب بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ٹھنڈے یا گرم مشروبات&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہر شخص اس موسم میں چائے کافی کا استعمال پسند کرتا ہے مگر ان مشروبات میں موجود چربی اور کیفین کی مقدار کو ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے، یہ مشروبات جسم میں پانی کی کمی کا باعث بن سکتے ہیں، تو ان سے لطف اندوز ضرور ہوں مگر بہت زیادہ پینے سے گریز کریں بلکہ پانی کو ترجیح دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سرخ گوشت اور انڈے&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ دونوں چیزیں پروٹین کے حصول کا بہترین ذریعہ ہیں، مگر بہت زیادہ پروٹین گلے میں مواد کے اجتماع کا باعث بن سکتا ہے، خاص طور پر پراسیس گوشت یا زیادہ چربی والا گوشت مسئلے کا باعث بن سکتا ہے جبکہ مچھلی اور مرغی نسبتاً بہتر آپشن ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تلی ہوئی غذائیں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیپ فرائی غذائیں ٹرانس فیٹ سے بھی بھرپور ہوتی ہیں اور غذائی فائدہ جسم کو پہنچانے کے بغیر ہی کیلوریز کی مجموعی مقدار کو بڑھا دیتی ہیں، اس طرح کی غذائیں بدہضمی یا معدے کے دیگر مسائل کا باعث بھی بن سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;غیر موسمی پھل&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کبھی بھی ایسے پھل کو استعمال نہ کریں جو کسی اور موسم کا ہو کیونکہ وہ تازہ نہیں ہوتا اور بیماری یا طبی مسائل کا باعث بن سکتا ہے، اس کی جگہ زیادہ ترش پھل جیسے مالٹے، کینو وغیرہ کا استعمال کریں جو جسم کے میٹابولزم کو بہتر کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چینی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ موسم سرما میں زیادہ میٹھا کھانا جسمانی دفاعی نظام کو کمزور کرسکتا ہے، جو مختلف امراض کے لیے جسم کو آسان شکار بنا دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>موسم سرما کو کھانے کا موسم بھی کہا جاتا ہے اور سردیاں شروع ہوتے ہی ہر طرف گرم گرم غذاؤں کے اسٹالز اور ہوٹلز پر رش لگ جاتا ہے جب کہ گھروں میں بھی لوگ گرم غذاؤں کو اہتمام سے تیار کرتے ہیں۔</p>
<p>موسم سرما میں زیادہ تر افراد کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ خود کو سردیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے ایسی گرم غذائیں زیادہ سے زیادہ کھائیں جو سردی کی شدت کو کم کرتی ہیں۔</p>
<p>تاہم بعض گرم غذائیں ایسی بھی ہیں جنہیں سردیوں میں زیادہ کھانے سے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>ہم درج ذیل کچھ ایسی غذاؤں کی فہرست دے رہے ہیں، جنہیں سردیوں کے لیے اچھی غذائیں مانا جاتا ہے لیکن اگر ان کا زیادہ استعمال کیا جائے تو مسائل ہو سکتے ہیں۔</p>
<p><strong>دودھ سے بنی مصنوعات</strong></p>
<p>اگرچہ دودھ کو مکمل غذا مانا جاتا ہے مگر موسم سرما میں بہتر یہی ہے کہ اس کا استعمال کم کردینا چاہیے، ماہرین کے مطابق دودھ بلغم کا باعث بنتا ہے، جو گلے میں خراش کو بڑھانے کا سبب بن سکتا ہے۔</p>
<p><strong>ٹھنڈے یا گرم مشروبات</strong></p>
<p>ہر شخص اس موسم میں چائے کافی کا استعمال پسند کرتا ہے مگر ان مشروبات میں موجود چربی اور کیفین کی مقدار کو ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے، یہ مشروبات جسم میں پانی کی کمی کا باعث بن سکتے ہیں، تو ان سے لطف اندوز ضرور ہوں مگر بہت زیادہ پینے سے گریز کریں بلکہ پانی کو ترجیح دیں۔</p>
<p><strong>سرخ گوشت اور انڈے</strong></p>
<p>یہ دونوں چیزیں پروٹین کے حصول کا بہترین ذریعہ ہیں، مگر بہت زیادہ پروٹین گلے میں مواد کے اجتماع کا باعث بن سکتا ہے، خاص طور پر پراسیس گوشت یا زیادہ چربی والا گوشت مسئلے کا باعث بن سکتا ہے جبکہ مچھلی اور مرغی نسبتاً بہتر آپشن ہیں۔</p>
<p><strong>تلی ہوئی غذائیں</strong></p>
<p>ڈیپ فرائی غذائیں ٹرانس فیٹ سے بھی بھرپور ہوتی ہیں اور غذائی فائدہ جسم کو پہنچانے کے بغیر ہی کیلوریز کی مجموعی مقدار کو بڑھا دیتی ہیں، اس طرح کی غذائیں بدہضمی یا معدے کے دیگر مسائل کا باعث بھی بن سکتی ہیں۔</p>
<p><strong>غیر موسمی پھل</strong></p>
<p>کبھی بھی ایسے پھل کو استعمال نہ کریں جو کسی اور موسم کا ہو کیونکہ وہ تازہ نہیں ہوتا اور بیماری یا طبی مسائل کا باعث بن سکتا ہے، اس کی جگہ زیادہ ترش پھل جیسے مالٹے، کینو وغیرہ کا استعمال کریں جو جسم کے میٹابولزم کو بہتر کرتے ہیں۔</p>
<p><strong>چینی</strong></p>
<p>طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ موسم سرما میں زیادہ میٹھا کھانا جسمانی دفاعی نظام کو کمزور کرسکتا ہے، جو مختلف امراض کے لیے جسم کو آسان شکار بنا دیتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274123</guid>
      <pubDate>Sat, 22 Nov 2025 21:36:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ہیلتھ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/22182638c684e68.webp" type="image/webp" medium="image" height="548" width="916">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/22182638c684e68.webp"/>
        <media:title>فوٹو: الفا فوٹوگرافی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سائنس دانوں نے بچوں میں اندھے پن کے علاج کو سمجھنے کے لیے ماڈل تیار کرلیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274091/</link>
      <description>&lt;p&gt;طبی ماہرین نےاسٹیم سیلز کی مدد سے لیبر کانجینیٹل اماؤروسس (Leber Congenital Amaurosis ) نامی ایک نایاب اور شدید جینیاتی آنکھ کی بیماری کا لیبارٹری ماڈل تیار کرلیا، جسے بچوں میں اندھے پن کے علاج میں مدد مل سکے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی ویب سائٹ کے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://medicalxpress.com/news/2025-11-scientists-stem-cells-rare-genetic.html"&gt;مطابق&lt;/a&gt; ماہرین نے تحقیق میں RPGRIP1 نامی جین پر توجہ مرکوز رکھی، جو آنکھ کی روشنی محسوس کرنے والے خلیوں (فوٹوریسیپٹرز) کے ارتقاء اور قائم رہنے کے لیے ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب مذکورہ جین میں خرابی ہوتی ہے تو بچوں کی نظر شدید طور پر متاثر ہوجاتی ہے اور اب ماہرین نے ایسی بیماریوں کو سمجھنے اور ان کا علاج کرنے کے لیے اسٹیم سیلز کی مدد سے ماڈل تیار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ بیماری کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ RPGRIP1 نامی جین کی مختلف اقسام ہوتی ہیں، جن میں متعدد تبدیلیاں ہوتی ہیں اور ان تبدیلیوں سے یہ واضح نہیں ہو پاتا کہ وہ واقعی بیمار ہیں یا نہیں، جس وجہ سے بیماری کی تشخیص اور علاج مشکل بن جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب ماہرین نے لیبارٹری میں اسٹیم سیلز سے تھری ڈی ریٹِنل آرگنائڈز تیار کیے ہیں جو کہ انسانی آنکھ کے ریٹینا کی ساخت کی کاپی بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیار کیے گئے مذکورہ چھوٹے نمونوں کی بدولت ماہرین یہ جان سکتے ہیں کہ RPGRIP1 کی خرابی آنکھ میں کیسے بیماری کو جنم دیتی ہے جب کہ دیگر پیچیدگیوں کو بھی جانا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق میں شامل ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب ایسے انسانی ریٹائنل ماڈلز تیار کیے گئے ہیں جو نہ صرف مریض سے لیے گئے اسٹیم سیلز بلکہ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ خلیوں کے ساتھ بنائے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ ماڈل تیار کیے جانے کے بعد امید ظاہر کی گئی ہے کہ جین تھراپی مستقبل میں ان بچوں کی بینائی کو بحال کرنے کا ایک ممکنہ حل بن سکتی ہے، چاہے وہ آنکھیں بہت چھوٹی عمر میں متاثر ہو چکی ہوں۔&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://medicalxpress.com/news/2025-11-scientists-stem-cells-rare-genetic.html?utm_source=chatgpt.com"&gt; &lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>طبی ماہرین نےاسٹیم سیلز کی مدد سے لیبر کانجینیٹل اماؤروسس (Leber Congenital Amaurosis ) نامی ایک نایاب اور شدید جینیاتی آنکھ کی بیماری کا لیبارٹری ماڈل تیار کرلیا، جسے بچوں میں اندھے پن کے علاج میں مدد مل سکے گی۔</p>
<p>طبی ویب سائٹ کے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://medicalxpress.com/news/2025-11-scientists-stem-cells-rare-genetic.html">مطابق</a> ماہرین نے تحقیق میں RPGRIP1 نامی جین پر توجہ مرکوز رکھی، جو آنکھ کی روشنی محسوس کرنے والے خلیوں (فوٹوریسیپٹرز) کے ارتقاء اور قائم رہنے کے لیے ضروری ہے۔</p>
<p>جب مذکورہ جین میں خرابی ہوتی ہے تو بچوں کی نظر شدید طور پر متاثر ہوجاتی ہے اور اب ماہرین نے ایسی بیماریوں کو سمجھنے اور ان کا علاج کرنے کے لیے اسٹیم سیلز کی مدد سے ماڈل تیار کیا ہے۔</p>
<p>مذکورہ بیماری کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ RPGRIP1 نامی جین کی مختلف اقسام ہوتی ہیں، جن میں متعدد تبدیلیاں ہوتی ہیں اور ان تبدیلیوں سے یہ واضح نہیں ہو پاتا کہ وہ واقعی بیمار ہیں یا نہیں، جس وجہ سے بیماری کی تشخیص اور علاج مشکل بن جاتا ہے۔</p>
<p>اب ماہرین نے لیبارٹری میں اسٹیم سیلز سے تھری ڈی ریٹِنل آرگنائڈز تیار کیے ہیں جو کہ انسانی آنکھ کے ریٹینا کی ساخت کی کاپی بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔</p>
<p>تیار کیے گئے مذکورہ چھوٹے نمونوں کی بدولت ماہرین یہ جان سکتے ہیں کہ RPGRIP1 کی خرابی آنکھ میں کیسے بیماری کو جنم دیتی ہے جب کہ دیگر پیچیدگیوں کو بھی جانا جا سکتا ہے۔</p>
<p>تحقیق میں شامل ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب ایسے انسانی ریٹائنل ماڈلز تیار کیے گئے ہیں جو نہ صرف مریض سے لیے گئے اسٹیم سیلز بلکہ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ خلیوں کے ساتھ بنائے گئے ہیں۔</p>
<p>مذکورہ ماڈل تیار کیے جانے کے بعد امید ظاہر کی گئی ہے کہ جین تھراپی مستقبل میں ان بچوں کی بینائی کو بحال کرنے کا ایک ممکنہ حل بن سکتی ہے، چاہے وہ آنکھیں بہت چھوٹی عمر میں متاثر ہو چکی ہوں۔<a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://medicalxpress.com/news/2025-11-scientists-stem-cells-rare-genetic.html?utm_source=chatgpt.com"> </a></p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274091</guid>
      <pubDate>Fri, 21 Nov 2025 23:43:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ہیلتھ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/212255464be7757.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/212255464be7757.gif"/>
        <media:title>فوٹو: آن لائن
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>رقص کرنا اور دیکھنا دماغی صحت کے لیے فائدہ مند، تحقیق</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1274006/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایک دلچسپ تحقیق سے معلوم ہوا کہ مختلف انداز کے رقص دیکھنے سے انسانی دماغ مختلف طریقوں سے متحرک ہوتا ہے اور اس سے دماغ کی حرکات، جمالیات اور جذبات کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی ویب سائٹ کے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://medicalxpress.com/news/2025-11-brain.html"&gt;&lt;strong&gt;مطابق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; جاپان میں کی جانے والی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ رقص کی اقسام انسانی دماغ میں الگ الگ نقشے بناتی ہیں اور ماہر رقاصوں کا رقص دماغ کو نئے سرے سے منفرد انداز میں اثر انداز ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق کے دوران ٹیم نے 14 افراد (سات نئے رقاص اور سات ماہر رقاصوں پر مشتمل) کے دماغوں کو اسکین کیا جبکہ وہ تقریباً پانچ گھنٹوں کی رقص کی ویڈیوز دیکھ رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1265264'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1265264"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان ویڈیوز میں 30 سے زائد رقاصوں نے 60 سے زیادہ مختلف موسیقی کی اقسام پر 10 مختلف طریقوں کے رقص کیے جن میں ہپ ہاپ، بریک ڈانس، اسٹریٹ جاز اور بیلٹ شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محققین نے ایک جدید مصنوعی ذہانت (اے آئی) ماڈل استعمال کیا جو بڑی تعداد میں رقص کی ویڈیوز پر تربیت یافتہ تھا اور اس سے شرکا کے دماغی ڈیٹا کا جائزہ بھی لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس طریقہ کار سے پتہ چلا کہ رقص کی حرکات، موسیقی، جمالیات اور جذبات جیسی خصوصیات شرکا کے دماغوں میں رقص کی نقشہ سازی کی پیش گوئی کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیے سے معلوم ہوا کہ ماہر رقاصوں کے دماغوں میں ہر رقص کی اقسام کے لیے زیادہ انفرادی اور منفرد نقشے بنے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق کے نتائج سے یہ بھی عیاں ہوا کہ رقص دیکھنے کے دوران دماغ موسیقی اور جذبات کے اشاروں کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے، جو رقص کی تخلیق اور اس کی تفہیم کو سمجھنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق سے یہ بھی پتہ چلا کہ تربیت سے دماغ کی ساخت تبدیل ہو سکتی ہے، جو رقص کی تخلیق اور اسے سمجھنے میں نئی بصیرت فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایک دلچسپ تحقیق سے معلوم ہوا کہ مختلف انداز کے رقص دیکھنے سے انسانی دماغ مختلف طریقوں سے متحرک ہوتا ہے اور اس سے دماغ کی حرکات، جمالیات اور جذبات کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے۔</p>
<p>طبی ویب سائٹ کے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://medicalxpress.com/news/2025-11-brain.html"><strong>مطابق</strong></a> جاپان میں کی جانے والی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ رقص کی اقسام انسانی دماغ میں الگ الگ نقشے بناتی ہیں اور ماہر رقاصوں کا رقص دماغ کو نئے سرے سے منفرد انداز میں اثر انداز ہوسکتا ہے۔</p>
<p>تحقیق کے دوران ٹیم نے 14 افراد (سات نئے رقاص اور سات ماہر رقاصوں پر مشتمل) کے دماغوں کو اسکین کیا جبکہ وہ تقریباً پانچ گھنٹوں کی رقص کی ویڈیوز دیکھ رہے تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1265264'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1265264"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ان ویڈیوز میں 30 سے زائد رقاصوں نے 60 سے زیادہ مختلف موسیقی کی اقسام پر 10 مختلف طریقوں کے رقص کیے جن میں ہپ ہاپ، بریک ڈانس، اسٹریٹ جاز اور بیلٹ شامل تھے۔</p>
<p>محققین نے ایک جدید مصنوعی ذہانت (اے آئی) ماڈل استعمال کیا جو بڑی تعداد میں رقص کی ویڈیوز پر تربیت یافتہ تھا اور اس سے شرکا کے دماغی ڈیٹا کا جائزہ بھی لیا۔</p>
<p>اس طریقہ کار سے پتہ چلا کہ رقص کی حرکات، موسیقی، جمالیات اور جذبات جیسی خصوصیات شرکا کے دماغوں میں رقص کی نقشہ سازی کی پیش گوئی کرتی ہیں۔</p>
<p>تجزیے سے معلوم ہوا کہ ماہر رقاصوں کے دماغوں میں ہر رقص کی اقسام کے لیے زیادہ انفرادی اور منفرد نقشے بنے۔</p>
<p>تحقیق کے نتائج سے یہ بھی عیاں ہوا کہ رقص دیکھنے کے دوران دماغ موسیقی اور جذبات کے اشاروں کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے، جو رقص کی تخلیق اور اس کی تفہیم کو سمجھنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔</p>
<p>تحقیق سے یہ بھی پتہ چلا کہ تربیت سے دماغ کی ساخت تبدیل ہو سکتی ہے، جو رقص کی تخلیق اور اسے سمجھنے میں نئی بصیرت فراہم کرتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1274006</guid>
      <pubDate>Wed, 19 Nov 2025 23:53:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انٹرٹینمنٹ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/192222432a30e4f.webp" type="image/webp" medium="image" height="900" width="1500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/192222432a30e4f.webp"/>
        <media:title>—فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حاملہ خواتین کے تناؤ سے بچوں کے دودھ کے دانت جلدی نکل سکتے ہیں، تحقیق</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273919/</link>
      <description>&lt;p&gt;تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ حاملہ خواتین اگر تناؤ میں ہوں تو ان کے بچوں کے دودھ کے دانت وقت سے پہلے نکل سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://medicalxpress.com/news/2025-11-teeth-babies-stressed-mothers-earlier.html"&gt;طبی ویب سائٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; پر شائع تحقیق کے مطابق امریکا میں کی گئی اس تحقیق کے دوران 142 حاملہ خواتین کا مطالعہ کیا گیا، اس دوران ان خواتین کے تھوک کے نمونے لیے گئے اور ان کے تناؤ کی سطح کو جانچا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق کے دوران ان خواتین کے بچوں کی پیدائش کے بعد کا گہرائی سے مشاہدہ کیا گیا، جیسے 2، 4، 6، 12، 18 اور 24 ویں مہینے کی عمر تک بچوں کا مطالعہ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1162254'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1162254"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتائج سے معلوم ہوا کہ وہ مائیں جن کے تناؤ کے ہارمون (کورٹیسول) کی سطح زیادہ تھی، ان کے بچوں کے دودھ کے دانت جلدی نکلے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خاص طور پر چھے ماہ کی عمر تک ایسے بچوں میں اوسطاً چار دانت زیادہ نکلے، ان بچوں کے مقابلے میں جن کی ماؤں میں کم کورٹیسول تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق ماؤں کے تناؤ کا ہارمون بچوں کے ہڈیوں اور دانتوں کی نمو کو متاثر کرتا ہے، جیسے کیلشیم اور وٹامن ڈی کی ریگولیشن میں فرق پیدا کرنا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس بارے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ ماں کے ہارمونز کی سطح کس حد تک اور کن میکانی راستوں کے ذریعے بچے کی مجموعی صحت اور عمر پر اثر ڈالتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ حاملہ خواتین اگر تناؤ میں ہوں تو ان کے بچوں کے دودھ کے دانت وقت سے پہلے نکل سکتے ہیں۔</p>
<p><strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://medicalxpress.com/news/2025-11-teeth-babies-stressed-mothers-earlier.html">طبی ویب سائٹ</a></strong> پر شائع تحقیق کے مطابق امریکا میں کی گئی اس تحقیق کے دوران 142 حاملہ خواتین کا مطالعہ کیا گیا، اس دوران ان خواتین کے تھوک کے نمونے لیے گئے اور ان کے تناؤ کی سطح کو جانچا گیا۔</p>
<p>تحقیق کے دوران ان خواتین کے بچوں کی پیدائش کے بعد کا گہرائی سے مشاہدہ کیا گیا، جیسے 2، 4، 6، 12، 18 اور 24 ویں مہینے کی عمر تک بچوں کا مطالعہ کیا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1162254'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1162254"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>نتائج سے معلوم ہوا کہ وہ مائیں جن کے تناؤ کے ہارمون (کورٹیسول) کی سطح زیادہ تھی، ان کے بچوں کے دودھ کے دانت جلدی نکلے۔</p>
<p>خاص طور پر چھے ماہ کی عمر تک ایسے بچوں میں اوسطاً چار دانت زیادہ نکلے، ان بچوں کے مقابلے میں جن کی ماؤں میں کم کورٹیسول تھا۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق ماؤں کے تناؤ کا ہارمون بچوں کے ہڈیوں اور دانتوں کی نمو کو متاثر کرتا ہے، جیسے کیلشیم اور وٹامن ڈی کی ریگولیشن میں فرق پیدا کرنا۔</p>
<p>ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس بارے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ ماں کے ہارمونز کی سطح کس حد تک اور کن میکانی راستوں کے ذریعے بچے کی مجموعی صحت اور عمر پر اثر ڈالتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273919</guid>
      <pubDate>Tue, 18 Nov 2025 20:07:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ہیلتھ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/18135609ae58675.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/18135609ae58675.webp"/>
        <media:title>—فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسموگ سے سانس کی بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ہے، قومی ادارہ صحت</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273936/</link>
      <description>&lt;p&gt;قومی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ اسموگ سے سانس کی بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ہے، ملک بھر میں صحت کے شعبے، اتھارٹیز اور ماہرین اسموگ کے حوالے سے ضروری اقدامات کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق  قومی ادارہ صحت نے اسموگ(فضائی آلودگی ) سے بچاؤ اوراحتیاطی اقدامات کے حوالے سے ایڈوائزری جاری کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ  سرد موسم میں ’اسموگ‘ رواں ماہ  سے فروری تک انسانی صحت کو شدید متاثر کرسکتی ہے، اور  فضا میں زہریلے مادے اور سردی مل کر نمونیا کی بیماری پھیلانے کا سبب بنے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ  اسموگ سے صحت، معیشت اور معیار زندگی کو شدید متاثر ہو گی، اور اسموگ سے ماحولیاتی آلودگی سانس اور دل کی بیمار یوں سمیت کئی طرح کے بحران کا سامناکرنا پڑسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈوائزری کے مطابق  فضائی آلودگی سے بچوں، معمر افراد اور  پہلے سے بیمار کو زیادہ خطرہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ  پنجاب کے شہر لاہور،  ملتان،گوجرانوالہ، راولپنڈی اور اسلام آباد کو اسموگ کے زیادہ خطرات ہیں، بالخصوص لاہور میں فضائی آلودگی سب سے زیادہ ہے جہاں شہریوں کو زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ  ملک بھر میں صحت کے شعبے، اتھارٹیز اور ماہرین اسموگ کے حوالے سے ضروری اقدامات کریں،  بچوں کو زیادہ دیر باہر رہنے سے اجتناب برتنا چاہیے، مثاثرہ علاقوں میں بڑے اور بچے فیس ماسک کا استعمال کریں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>قومی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ اسموگ سے سانس کی بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ہے، ملک بھر میں صحت کے شعبے، اتھارٹیز اور ماہرین اسموگ کے حوالے سے ضروری اقدامات کریں۔</p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق  قومی ادارہ صحت نے اسموگ(فضائی آلودگی ) سے بچاؤ اوراحتیاطی اقدامات کے حوالے سے ایڈوائزری جاری کردی۔</p>
<p>ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ  سرد موسم میں ’اسموگ‘ رواں ماہ  سے فروری تک انسانی صحت کو شدید متاثر کرسکتی ہے، اور  فضا میں زہریلے مادے اور سردی مل کر نمونیا کی بیماری پھیلانے کا سبب بنے گی۔</p>
<p>ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ  اسموگ سے صحت، معیشت اور معیار زندگی کو شدید متاثر ہو گی، اور اسموگ سے ماحولیاتی آلودگی سانس اور دل کی بیمار یوں سمیت کئی طرح کے بحران کا سامناکرنا پڑسکتا ہے۔</p>
<p>ایڈوائزری کے مطابق  فضائی آلودگی سے بچوں، معمر افراد اور  پہلے سے بیمار کو زیادہ خطرہ ہے۔</p>
<p>قومی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ  پنجاب کے شہر لاہور،  ملتان،گوجرانوالہ، راولپنڈی اور اسلام آباد کو اسموگ کے زیادہ خطرات ہیں، بالخصوص لاہور میں فضائی آلودگی سب سے زیادہ ہے جہاں شہریوں کو زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔</p>
<p>ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ  ملک بھر میں صحت کے شعبے، اتھارٹیز اور ماہرین اسموگ کے حوالے سے ضروری اقدامات کریں،  بچوں کو زیادہ دیر باہر رہنے سے اجتناب برتنا چاہیے، مثاثرہ علاقوں میں بڑے اور بچے فیس ماسک کا استعمال کریں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273936</guid>
      <pubDate>Tue, 18 Nov 2025 18:52:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رخسانہ خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/18182108953c94f.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/18182108953c94f.webp"/>
        <media:title>فوٹو: سوشل میڈیا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی: کلثوم بائی ولیکا ہسپتال میں علاج کرانے والے 18 بچے ایچ آئی وی کا شکار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273848/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی کے سائٹ ٹاؤن کے غریب اور گنجان آباد علاقے میں بچوں میں ایچ آئی وی (ہیومن امیونوڈیفیشنسی وائرس) کے پھیلاؤ  سے صحت کا ایک سنگین بحران ابھر رہا ہے،  گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ایک سال کی عمر کے بچے بھی اس سے متاثر ہوئے ہیں، اور کم از کم 2 بچوں کی موت بھی ہو چکی ہے، جبکہ متاثرہ بچوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1955518/hiv-found-in-children-previously-treated-at-hospital-in-karachis-site-town"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق اس بحران کا مرکز کلثوم بائی ولیکا سوشل سیکیورٹی سائٹ ہسپتال (ولیکا ہسپتال) ہے، جہاں مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے لائے گئے بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب مقامی لوگوں نے اپنے مقامی حکومتی نمائندوں اور سیاسی قیادت کے تعاون سے اس حقیقت کو جان کر سخت موقف اختیار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائٹ ٹاؤن میں پٹھان کالونی اور باوانی چالی کے علاقوں پر مشتمل یوسی ون کے نائب چیئرمین ارشاد خان نے بتایا کہ اگست 2025 میں 18 ماہ کی ایک بچی بیمار ہوئی اور ولیکا ہسپتال میں داخل کرائی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ بچی کا بخار اور کمزوری برقرار رہی تو اسے نجی ہسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹرز کو شبہ ہوا کہ بچی کو شاید کوئی اور سنجیدہ مسئلہ ہے، انہوں نے مختلف ٹیسٹ کیے جس کے بعد بچی میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی، نجی ہسپتال کے ڈاکٹرز نے جب کے پچھلے علاج کے حوالے سے معلوم کیا تو انہیں آگاہ کیا گیا کہ اس کا ولیکا ہسپتال میں علاج ہوچکا ہے، جس کے باعث خطرے کی گھنٹی بج گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1246517/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1246517"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد ہم نے علاقے کی سیاسی جماعتوں جماعت اسلامی، پیپلزپارٹی اور اے این پی کی مقامی قیادت پر مشتمل 5 رکنی کمیٹی تشکیل دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے ارشاد خان کی سربراہی میں قائم کردہ کمیٹی نے سختی کے ساتھ  ولیکا ہسپتال کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ گزشتہ چند ماہ میں زیر علاج رہنے والے تمام بچوں کی ایچ آئی وی اسکریننگ کرے، جس کی ابتدائی جانچ میں کم از کم 18 بچے ایچ آئی وی مثبت پائے گئے جن کی عمر ایک سے نو سال کے درمیان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ارشاد خان نے بتایا کہ اس سنگین مسئلے کے باوجود ہسپتال انتظامیہ میں سنجیدگی نہیں دکھائی دیتی اور محکمہ صحت کی طرف سے بھی کوئی فوری قدم نہیں اٹھایا جا رہا، کمیٹی روزانہ ہسپتال کا دورہ کرتی ہے، مگر کوئی موثر جواب نہیں ملتا، علاقے میں سیکڑوں بچے ایسے ہیں جو اب بھی گھروں، سڑکوں اور اسکولوں میں موجود ہیں، اس لیے یہ مسئلہ ممکنہ طور پر بہت وسیع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ولیکا ہسپتال کے ایک اہلکار نے بتایا کہ اسکریننگ جاری ہے اور کچھ بچے ایچ آئی وی پازیٹو پائے گئے ہیں، مگر متاثرہ بچوں کی تعداد ظاہر نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ کے محکمہ صحت کی ایڈیشنل ڈائریکٹر ڈاکٹر کنول مصطفیٰ نے کہا کہ ان کی ٹیم نے فوراً کارروائی کرتے ہوئے ہسپتال میں اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی سینٹر قائم کیا ہے اور علاقے میں ایچ آئی وی علاج اور نگہداشت کی سہولتوں کو بڑھا رہے ہیں، سندھ بھر میں 31 آرٹ سینٹر قائم کیے گئے ہیں جو ایچ آئی وی بازیٹوافراد اور ان کے بچوں کو مفت مشاورت، تشخیص اور علاج فراہم کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر کنول نے کہا کہ پاکستان میں ایچ آئی وی کا پھیلاؤ کئی عوامل کی وجہ سے ہوتا ہے، جیسے غیر قانونی ڈاکٹر کا سرنج یا آئی وی ڈرپس کا دوبارہ استعمال، غیر ریگولیٹڈ بلڈ بینک، غربت اور ناخواندگی، بہت سے پاکستانی انجکشن کو فوری آرام دینے والا حل سمجھتے ہیں، جس کی وجہ سے انجکشنز کا زیادہ استعمال ہوتا ہے، اس کے علاوہ اتائیوں اور منشیات استعمال کرنے والے افراد کے خطرناک رویے، اور پانچ سال سے کم بچوں میں خون کی کمی کی وجہ سے خون کی منتقلی کی ضرورت ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کے خطرے کو بڑھاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ارشاد خان نے بتایا کہ وہ اور کمیٹی کے دیگر اراکین نے ولیکا ہسپتال کے دوروں کے دوران سرنج دوبارہ استعمال ہوتے ہوئے خود دیکھا اور ہسپتال کے بعض عملے نے بھی اس کی تصدیق کی، ان کے مطابق یہ حکومت کے ہسپتال میں ممکن ہونا حیران کن ہے اور یہ ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ منظرنامہ ظاہر کرتا ہے کہ سائٹ ٹاؤن کے بچوں میں ایچ آئی وی کا  پھیلاؤ ایک سنگین اور فوری توجہ طلب مسئلہ ہے، جس کے حل کے لیے ہسپتال انتظامیہ اور حکومت کی سنجیدگی اور فوری کارروائی ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی کے سائٹ ٹاؤن کے غریب اور گنجان آباد علاقے میں بچوں میں ایچ آئی وی (ہیومن امیونوڈیفیشنسی وائرس) کے پھیلاؤ  سے صحت کا ایک سنگین بحران ابھر رہا ہے،  گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ایک سال کی عمر کے بچے بھی اس سے متاثر ہوئے ہیں، اور کم از کم 2 بچوں کی موت بھی ہو چکی ہے، جبکہ متاثرہ بچوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1955518/hiv-found-in-children-previously-treated-at-hospital-in-karachis-site-town"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق اس بحران کا مرکز کلثوم بائی ولیکا سوشل سیکیورٹی سائٹ ہسپتال (ولیکا ہسپتال) ہے، جہاں مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے لائے گئے بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی ہے۔</p>
<p>یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب مقامی لوگوں نے اپنے مقامی حکومتی نمائندوں اور سیاسی قیادت کے تعاون سے اس حقیقت کو جان کر سخت موقف اختیار کیا۔</p>
<p>سائٹ ٹاؤن میں پٹھان کالونی اور باوانی چالی کے علاقوں پر مشتمل یوسی ون کے نائب چیئرمین ارشاد خان نے بتایا کہ اگست 2025 میں 18 ماہ کی ایک بچی بیمار ہوئی اور ولیکا ہسپتال میں داخل کرائی گئی۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ بچی کا بخار اور کمزوری برقرار رہی تو اسے نجی ہسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹرز کو شبہ ہوا کہ بچی کو شاید کوئی اور سنجیدہ مسئلہ ہے، انہوں نے مختلف ٹیسٹ کیے جس کے بعد بچی میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی، نجی ہسپتال کے ڈاکٹرز نے جب کے پچھلے علاج کے حوالے سے معلوم کیا تو انہیں آگاہ کیا گیا کہ اس کا ولیکا ہسپتال میں علاج ہوچکا ہے، جس کے باعث خطرے کی گھنٹی بج گئی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1246517/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1246517"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد ہم نے علاقے کی سیاسی جماعتوں جماعت اسلامی، پیپلزپارٹی اور اے این پی کی مقامی قیادت پر مشتمل 5 رکنی کمیٹی تشکیل دی۔</p>
<p>تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے ارشاد خان کی سربراہی میں قائم کردہ کمیٹی نے سختی کے ساتھ  ولیکا ہسپتال کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ گزشتہ چند ماہ میں زیر علاج رہنے والے تمام بچوں کی ایچ آئی وی اسکریننگ کرے، جس کی ابتدائی جانچ میں کم از کم 18 بچے ایچ آئی وی مثبت پائے گئے جن کی عمر ایک سے نو سال کے درمیان ہے۔</p>
<p>ارشاد خان نے بتایا کہ اس سنگین مسئلے کے باوجود ہسپتال انتظامیہ میں سنجیدگی نہیں دکھائی دیتی اور محکمہ صحت کی طرف سے بھی کوئی فوری قدم نہیں اٹھایا جا رہا، کمیٹی روزانہ ہسپتال کا دورہ کرتی ہے، مگر کوئی موثر جواب نہیں ملتا، علاقے میں سیکڑوں بچے ایسے ہیں جو اب بھی گھروں، سڑکوں اور اسکولوں میں موجود ہیں، اس لیے یہ مسئلہ ممکنہ طور پر بہت وسیع ہے۔</p>
<p>ولیکا ہسپتال کے ایک اہلکار نے بتایا کہ اسکریننگ جاری ہے اور کچھ بچے ایچ آئی وی پازیٹو پائے گئے ہیں، مگر متاثرہ بچوں کی تعداد ظاہر نہیں کی گئی۔</p>
<p>سندھ کے محکمہ صحت کی ایڈیشنل ڈائریکٹر ڈاکٹر کنول مصطفیٰ نے کہا کہ ان کی ٹیم نے فوراً کارروائی کرتے ہوئے ہسپتال میں اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی سینٹر قائم کیا ہے اور علاقے میں ایچ آئی وی علاج اور نگہداشت کی سہولتوں کو بڑھا رہے ہیں، سندھ بھر میں 31 آرٹ سینٹر قائم کیے گئے ہیں جو ایچ آئی وی بازیٹوافراد اور ان کے بچوں کو مفت مشاورت، تشخیص اور علاج فراہم کرتے ہیں۔</p>
<p>ڈاکٹر کنول نے کہا کہ پاکستان میں ایچ آئی وی کا پھیلاؤ کئی عوامل کی وجہ سے ہوتا ہے، جیسے غیر قانونی ڈاکٹر کا سرنج یا آئی وی ڈرپس کا دوبارہ استعمال، غیر ریگولیٹڈ بلڈ بینک، غربت اور ناخواندگی، بہت سے پاکستانی انجکشن کو فوری آرام دینے والا حل سمجھتے ہیں، جس کی وجہ سے انجکشنز کا زیادہ استعمال ہوتا ہے، اس کے علاوہ اتائیوں اور منشیات استعمال کرنے والے افراد کے خطرناک رویے، اور پانچ سال سے کم بچوں میں خون کی کمی کی وجہ سے خون کی منتقلی کی ضرورت ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کے خطرے کو بڑھاتی ہے۔</p>
<p>ارشاد خان نے بتایا کہ وہ اور کمیٹی کے دیگر اراکین نے ولیکا ہسپتال کے دوروں کے دوران سرنج دوبارہ استعمال ہوتے ہوئے خود دیکھا اور ہسپتال کے بعض عملے نے بھی اس کی تصدیق کی، ان کے مطابق یہ حکومت کے ہسپتال میں ممکن ہونا حیران کن ہے اور یہ ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ ہو سکتا ہے۔</p>
<p>یہ منظرنامہ ظاہر کرتا ہے کہ سائٹ ٹاؤن کے بچوں میں ایچ آئی وی کا  پھیلاؤ ایک سنگین اور فوری توجہ طلب مسئلہ ہے، جس کے حل کے لیے ہسپتال انتظامیہ اور حکومت کی سنجیدگی اور فوری کارروائی ضروری ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273848</guid>
      <pubDate>Mon, 17 Nov 2025 12:31:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عمران ایوب)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/171054251132649.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/171054251132649.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>الٹرا پروسیسڈ غذاؤں کے زیادہ استعمال سے خواتین میں آنتوں کا کینسر بڑھنے کا انکشاف</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1273812/</link>
      <description>&lt;p&gt;حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ‘الٹرا پروسیسڈ’ غذاؤں کے متواتر استعمال سے خواتین میں آنت کے کینسر کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الٹرا پروسیسڈ فوڈز کی اصطلاح تقریباً 15 سال قبل بنائی گئی تھی، اس میں مختلف اقسام شامل ہیں جیسے براؤنڈ بریڈ کے ٹکڑے سے تیار شدہ کھانے، آئس کریم، پاپڑ، چپس، پیکجنگ میں دستیاب دہی اور دودھ جیسی غذائیں، جنہیں صنعتی پروسیسنگ سے تیار کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ تر غذائیں جو فیکٹریوں، صنعتوں، ہوٹلز اور فوڈ چینز میں تیار ہوتی ہیں، انہیں الٹرا پروسیسڈ کہا جاتا ہے، ان کے استعمال کے منفی اثرات سے متعلق پہلے بھی متعدد تحقیقات میں بتایا جا چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی ویب سائٹ پر &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://medicalxpress.com/news/2025-11-ultra-foods-higher-early-onset.html"&gt;شائع&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; تحقیق کے مطابق الٹرا پروسیسڈ غذاؤں کے زیادہ استعمال سے خواتین میں آنت کے کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، خاص طور پر 50 سال سے زائد عمر کی خواتین میں یہ خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1265834'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1265834"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق میں تقریباً 29 ہزار خواتین نرسوں کا ڈیٹا 24 سال تک جمع کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتائج سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی خاتون روزانہ تقریباً 10 طرح کی الٹرا پروسیسڈ غذائیں کھاتی ہیں تو ان کی آنت میں کینسر کے ابتدائی پولپس (growths) پیدا ہونے کا خطرہ 45 فیصد زیادہ ہوتا ہے، بنسبت ان خواتین کے جو روزانہ صرف 3 قسم کی ایسی غذائیں کھاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پولپس ایڈینوماس کہلاتے ہیں، جو بعض اوقات کینسر میں تبدیل ہو سکتے ہیں، الٹرا پروسیسڈ کھانوں کا زیادہ استعمال اس خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی غذاؤں کا استعمال کم کرنا اور صحت مند متبادل استعمال کرنا آنت کے کینسر کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ‘الٹرا پروسیسڈ’ غذاؤں کے متواتر استعمال سے خواتین میں آنت کے کینسر کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔</p>
<p>الٹرا پروسیسڈ فوڈز کی اصطلاح تقریباً 15 سال قبل بنائی گئی تھی، اس میں مختلف اقسام شامل ہیں جیسے براؤنڈ بریڈ کے ٹکڑے سے تیار شدہ کھانے، آئس کریم، پاپڑ، چپس، پیکجنگ میں دستیاب دہی اور دودھ جیسی غذائیں، جنہیں صنعتی پروسیسنگ سے تیار کیا جاتا ہے۔</p>
<p>زیادہ تر غذائیں جو فیکٹریوں، صنعتوں، ہوٹلز اور فوڈ چینز میں تیار ہوتی ہیں، انہیں الٹرا پروسیسڈ کہا جاتا ہے، ان کے استعمال کے منفی اثرات سے متعلق پہلے بھی متعدد تحقیقات میں بتایا جا چکا ہے۔</p>
<p>طبی ویب سائٹ پر <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://medicalxpress.com/news/2025-11-ultra-foods-higher-early-onset.html">شائع</a></strong> تحقیق کے مطابق الٹرا پروسیسڈ غذاؤں کے زیادہ استعمال سے خواتین میں آنت کے کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، خاص طور پر 50 سال سے زائد عمر کی خواتین میں یہ خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1265834'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1265834"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>تحقیق میں تقریباً 29 ہزار خواتین نرسوں کا ڈیٹا 24 سال تک جمع کیا گیا۔</p>
<p>نتائج سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی خاتون روزانہ تقریباً 10 طرح کی الٹرا پروسیسڈ غذائیں کھاتی ہیں تو ان کی آنت میں کینسر کے ابتدائی پولپس (growths) پیدا ہونے کا خطرہ 45 فیصد زیادہ ہوتا ہے، بنسبت ان خواتین کے جو روزانہ صرف 3 قسم کی ایسی غذائیں کھاتی ہیں۔</p>
<p>یہ پولپس ایڈینوماس کہلاتے ہیں، جو بعض اوقات کینسر میں تبدیل ہو سکتے ہیں، الٹرا پروسیسڈ کھانوں کا زیادہ استعمال اس خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی غذاؤں کا استعمال کم کرنا اور صحت مند متبادل استعمال کرنا آنت کے کینسر کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1273812</guid>
      <pubDate>Sun, 16 Nov 2025 19:51:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ہیلتھ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2025/11/16124528154d9c6.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2025/11/16124528154d9c6.webp"/>
        <media:title>—فوٹو: شٹر اسٹک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
