<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health - Special</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Apr 2026 22:33:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Apr 2026 22:33:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بالوں اور جلد کو نکھارنے کیلئے بادام کے 5 فوائد جو شاید آپ نہیں جانتے!</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1197049/</link>
      <description>&lt;p&gt;اکثر مائیں ہمیں پچپن میں صبح سویرے بادام دیا کرتی تھیں، آج یہی ٹوٹکے آپ کے بال اور جلد کے لیے مفید ثابت ہوسکتے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج کل یقینی طور پر سب ہی چاہتے ہیں کہ ان کے صحت مند بال اور خوبصورت جلد ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر آپ بھی پتلے، دو منہ والے بالوں سے پریشان ہیں یا آپ اپنی جلد داغ دھبوں  سے پاک رکھنا چاہتے ہیں تو بادام کا استعمال انتہائی ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="1-نشوونما-میں-اضافہ" href="#1-نشوونما-میں-اضافہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;1۔ نشوونما میں اضافہ&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;بادام کھانے سے بال کی نشوونما میں اضافہ ہوتا ہے،  یہ بالوں کی طاقت اور ساخت کو بہتر بنانے میں مدد کرتا ہے، یہاں تک کہ مشہور ماہرین جلد کا خیال ہے کہ بادام جلد کو نکھارنے اور بالوں کی جڑوں کو مضبوط کرنے میں بےحد فائدہ مند ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="2-بالوں-کو-گرنے-سے-بچانے-میں-فائدہ-مند" href="#2-بالوں-کو-گرنے-سے-بچانے-میں-فائدہ-مند" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;2۔  بالوں کو گرنے سے بچانے میں فائدہ مند&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ہمارے بالوں کی صحت ہماری خوراک میں موجود میگنیشیم سے منسلک ہے اور یہ میگنیشیم بادام میں پایا جاتا ہے، میگنیشیم سے بھرپور بادام کا تیل بالوں کے جھڑنے والے مسائل سے چھٹکارا پانے میں مدد دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="3-جلد-کی-جھریاں-ختم-ہونے-میں-مددگار" href="#3-جلد-کی-جھریاں-ختم-ہونے-میں-مددگار" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;3۔ جلد کی جھریاں ختم ہونے میں مددگار&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق بادام کے تیل کو چہرے پر لگانے سے جھریاں ختم ہوتی ہیں، یہ داغ دھبے صاف کرتا ہے اور اسے بہترین موئسچرائزر کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/02/12115031a3e6f17.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="4-خشکی-ختم-کرنے-میں-فائدہ-مند" href="#4-خشکی-ختم-کرنے-میں-فائدہ-مند" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;4۔ خشکی ختم کرنے میں فائدہ مند&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;اگر آپ سر پر خشکی سے پریشان ہیں تو بادام کا تیل بے حد مفید ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ بادام کے تیل کے ذریعے بالوں اور جلد دونوں کو ہائیڈریٹ کرنے سے خشکی آہستہ آہستہ ختم ہوجاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="5-گنچ-پن-سے-محفوظ" href="#5-گنچ-پن-سے-محفوظ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;5۔ گنچ پن سے محفوظ&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;بادام کا تیل بالوں کو سورج کی شعاعوں سے بچاتا ہے کیونکہ اس میں قدرتی ایس پی ایف 5 سن اسکرین ہے، اس کے علاوہ بادام کے تیل میں وٹامن ای موجود ہوتا ہے، اور یہ وٹامن سر کے آکسیکرن کو کم کرتا ہے، جو گنجا پن کا امکان کم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="کڑوے-بادام-کا-تیل-بالوں-میں-کس-طرح-لگائیں" href="#کڑوے-بادام-کا-تیل-بالوں-میں-کس-طرح-لگائیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;کڑوے بادام کا تیل بالوں میں کس طرح لگائیں؟&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;1۔ بالوں کو اچھی طرح سلجھا لیں۔
2۔ اوپر سے نیچے تک بالوں میں کنگھا کریں، اس سے دورانِ خون تیز ہوتا ہے۔
3۔ آدھا چائے کا چمچ کڑوے تیل کی مقدار اپنی ہتھیلی پر نکالیں اور بالوں میں لگائیں ، اسے بالوں کی جڑوں میں لگائیں۔
4۔ اپنی انگلیوں کی مدد سے آہستہ آہستہ مساج کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نوٹ: اگر کسی کو الرجی ہے تو پہلے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور لیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اکثر مائیں ہمیں پچپن میں صبح سویرے بادام دیا کرتی تھیں، آج یہی ٹوٹکے آپ کے بال اور جلد کے لیے مفید ثابت ہوسکتے ہے۔</p>
<p>آج کل یقینی طور پر سب ہی چاہتے ہیں کہ ان کے صحت مند بال اور خوبصورت جلد ہو۔</p>
<p>اگر آپ بھی پتلے، دو منہ والے بالوں سے پریشان ہیں یا آپ اپنی جلد داغ دھبوں  سے پاک رکھنا چاہتے ہیں تو بادام کا استعمال انتہائی ضروری ہے۔</p>
<h3><a id="1-نشوونما-میں-اضافہ" href="#1-نشوونما-میں-اضافہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>1۔ نشوونما میں اضافہ</h3>
<p>بادام کھانے سے بال کی نشوونما میں اضافہ ہوتا ہے،  یہ بالوں کی طاقت اور ساخت کو بہتر بنانے میں مدد کرتا ہے، یہاں تک کہ مشہور ماہرین جلد کا خیال ہے کہ بادام جلد کو نکھارنے اور بالوں کی جڑوں کو مضبوط کرنے میں بےحد فائدہ مند ہے۔</p>
<h3><a id="2-بالوں-کو-گرنے-سے-بچانے-میں-فائدہ-مند" href="#2-بالوں-کو-گرنے-سے-بچانے-میں-فائدہ-مند" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>2۔  بالوں کو گرنے سے بچانے میں فائدہ مند</h3>
<p>ہمارے بالوں کی صحت ہماری خوراک میں موجود میگنیشیم سے منسلک ہے اور یہ میگنیشیم بادام میں پایا جاتا ہے، میگنیشیم سے بھرپور بادام کا تیل بالوں کے جھڑنے والے مسائل سے چھٹکارا پانے میں مدد دیتا ہے۔</p>
<h3><a id="3-جلد-کی-جھریاں-ختم-ہونے-میں-مددگار" href="#3-جلد-کی-جھریاں-ختم-ہونے-میں-مددگار" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>3۔ جلد کی جھریاں ختم ہونے میں مددگار</h3>
<p>ماہرین کے مطابق بادام کے تیل کو چہرے پر لگانے سے جھریاں ختم ہوتی ہیں، یہ داغ دھبے صاف کرتا ہے اور اسے بہترین موئسچرائزر کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/02/12115031a3e6f17.jpg'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<h3><a id="4-خشکی-ختم-کرنے-میں-فائدہ-مند" href="#4-خشکی-ختم-کرنے-میں-فائدہ-مند" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>4۔ خشکی ختم کرنے میں فائدہ مند</h3>
<p>اگر آپ سر پر خشکی سے پریشان ہیں تو بادام کا تیل بے حد مفید ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ بادام کے تیل کے ذریعے بالوں اور جلد دونوں کو ہائیڈریٹ کرنے سے خشکی آہستہ آہستہ ختم ہوجاتی ہے۔</p>
<h3><a id="5-گنچ-پن-سے-محفوظ" href="#5-گنچ-پن-سے-محفوظ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>5۔ گنچ پن سے محفوظ</h3>
<p>بادام کا تیل بالوں کو سورج کی شعاعوں سے بچاتا ہے کیونکہ اس میں قدرتی ایس پی ایف 5 سن اسکرین ہے، اس کے علاوہ بادام کے تیل میں وٹامن ای موجود ہوتا ہے، اور یہ وٹامن سر کے آکسیکرن کو کم کرتا ہے، جو گنجا پن کا امکان کم کرتا ہے۔</p>
<h3><a id="کڑوے-بادام-کا-تیل-بالوں-میں-کس-طرح-لگائیں" href="#کڑوے-بادام-کا-تیل-بالوں-میں-کس-طرح-لگائیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>کڑوے بادام کا تیل بالوں میں کس طرح لگائیں؟</h3>
<p>1۔ بالوں کو اچھی طرح سلجھا لیں۔
2۔ اوپر سے نیچے تک بالوں میں کنگھا کریں، اس سے دورانِ خون تیز ہوتا ہے۔
3۔ آدھا چائے کا چمچ کڑوے تیل کی مقدار اپنی ہتھیلی پر نکالیں اور بالوں میں لگائیں ، اسے بالوں کی جڑوں میں لگائیں۔
4۔ اپنی انگلیوں کی مدد سے آہستہ آہستہ مساج کریں۔</p>
<p><strong>نوٹ: اگر کسی کو الرجی ہے تو پہلے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور لیں۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1197049</guid>
      <pubDate>Sun, 12 Feb 2023 15:25:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/02/121150311e2cbf3.jpg?r=152616" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/02/121150311e2cbf3.jpg?r=152616"/>
        <media:title>بادام کھانے سے بال کی نشوونما میں اضافہ ہوتا ہے — فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایک اور وبا جلد دنیا میں پھیل سکتی ہے، بل گیٹس
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1177682/</link>
      <description>&lt;p&gt;بل گیٹس جنہوں نے پولیو کے خاتمے میں مدد کے لیے رواں ہفتے پاکستان کا دورہ بھی کیا تھا، خبردار کیا ہے کہ کووڈ-19 جیسی ایک اور وبا جلد دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1676043/another-pandemic-may-hit-the-world-soon-bill-gates"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے شریک چیئرمین بل گیٹس نے تسلیم کیا کہ کووِڈ 19 سے شدید بیماری کے خطرات ڈرامائی طور پر کم ہو گئے کیونکہ لوگ وائرس سے مدافعت حاصل کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سی این بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے بل گیٹس کا کہنا تھا کہ ممکنہ طور پر کورونا وائرس فیملی سے تعلق رکھنے والے مختلف پیتھوجن سے نئی وبا پھیل سکتی ہے تاہم، انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر ابھی سے سرمایہ کاری کی جائے تو طبی ٹیکنالوجی میں پیشرفت دنیا کو اس سے لڑنے کے لیے مزید مدد دے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/amp/1177546"&gt;بل گیٹس کا پہلا دورہ پاکستان، ہلال پاکستان ایوارڈ سے نواز دیا گیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بل گیٹس  نے نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس کو تقریباً دو سال ہوچکے ہیں اور عالمی آبادی کے ایک بڑے حصے میں کسی حد تک قوت مدافعت پیدا ہونے کے باعث وبائی مرض کے بدترین اثرات کم ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ 'اومیکرون' کی تازہ ترین قسم سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی شدت بھی کم ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وبائی مرض پر قابو پانے کی عالمی کوششوں کو کریڈٹ دینے کے بجائے بل گیٹس کا کہنا تھا کہ وائرس پھیلنے کے ساتھ ہی اپنی قوت مدافعت بھی پیدا کرتا رہا اور ویکسین سے زیادہ وائرس کے اس رجحان نے اس کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ شدید بیماری کا امکان، جو زیادہ تر بوڑھاپے اور موٹاپے یا ذیابیطس کے ساتھ منسلک ہوتا ہے، اب اس انفیکشن کے خلاف قوت مدافعت کے باعث خطرات ڈرامائی طور پر کم ہو گئے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1109192"&gt;بل گیٹس کا عمران خان کو خط، پولیو کے بڑھتے واقعات پر تحفظات کا اظہار&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بل گیٹس نے کہا کہ 2022 کے وسط تک عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے 70 فیصد عالمی آبادی کو ویکسین لگانے کے ہدف تک پہنچنے میں بہت دیر ہو چکی ہے، اس وقت دنیا کی 61.9 فیصد آبادی کو  ویکسین کی کم از کم ایک خوراک ملی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے صحت کے پیشہ ور افراد اور حکام پر زور دیا کہ جب اگلی وبائی بیماری دنیا میں آئے تو وہ ویکسین تیار کرنے اور تقسیم کرنے کے لیے مزید تیزی سے آگے بڑھیں گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بل  گیٹس کا اپنے انٹرویو میں مزید کہنا تھا کہ اگلی بار ہمیں کوشش کرنی چاہیے اور اسے دو سال کے بجائے، ہمیں اسے چھ ماہ کے اندر اندر کرنا چاہیے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ میسنجر آر این اے (ایم آر این اے) ٹیکنالوجی سمیت معیاری پلیٹ فارمز یہ ممکن بنائیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سین این بی سی کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں بل گیٹس کا کہنا تھا کہ اگلی وبا کے لیے تیار رہنے کی قیمت بہت زیادہ نہیں ہے، یہ موسمیاتی تبدیلی کی طرح نہیں ہے، اگر ہم عقلی انداز سے سوچیں تو اگلی بار ہم وبا پر جلد قابو پالیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بل گیٹس جنہوں نے پولیو کے خاتمے میں مدد کے لیے رواں ہفتے پاکستان کا دورہ بھی کیا تھا، خبردار کیا ہے کہ کووڈ-19 جیسی ایک اور وبا جلد دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1676043/another-pandemic-may-hit-the-world-soon-bill-gates">رپورٹ</a></strong> کے مطابق بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے شریک چیئرمین بل گیٹس نے تسلیم کیا کہ کووِڈ 19 سے شدید بیماری کے خطرات ڈرامائی طور پر کم ہو گئے کیونکہ لوگ وائرس سے مدافعت حاصل کر رہے ہیں۔</p>

<p>سی این بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے بل گیٹس کا کہنا تھا کہ ممکنہ طور پر کورونا وائرس فیملی سے تعلق رکھنے والے مختلف پیتھوجن سے نئی وبا پھیل سکتی ہے تاہم، انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر ابھی سے سرمایہ کاری کی جائے تو طبی ٹیکنالوجی میں پیشرفت دنیا کو اس سے لڑنے کے لیے مزید مدد دے گی۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/amp/1177546">بل گیٹس کا پہلا دورہ پاکستان، ہلال پاکستان ایوارڈ سے نواز دیا گیا</a></strong></p>

<p>بل گیٹس  نے نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس کو تقریباً دو سال ہوچکے ہیں اور عالمی آبادی کے ایک بڑے حصے میں کسی حد تک قوت مدافعت پیدا ہونے کے باعث وبائی مرض کے بدترین اثرات کم ہو رہے ہیں۔</p>

<p>انہوں نے مزید کہا کہ 'اومیکرون' کی تازہ ترین قسم سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی شدت بھی کم ہو گئی ہے۔</p>

<p>وبائی مرض پر قابو پانے کی عالمی کوششوں کو کریڈٹ دینے کے بجائے بل گیٹس کا کہنا تھا کہ وائرس پھیلنے کے ساتھ ہی اپنی قوت مدافعت بھی پیدا کرتا رہا اور ویکسین سے زیادہ وائرس کے اس رجحان نے اس کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ شدید بیماری کا امکان، جو زیادہ تر بوڑھاپے اور موٹاپے یا ذیابیطس کے ساتھ منسلک ہوتا ہے، اب اس انفیکشن کے خلاف قوت مدافعت کے باعث خطرات ڈرامائی طور پر کم ہو گئے ہیں۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1109192">بل گیٹس کا عمران خان کو خط، پولیو کے بڑھتے واقعات پر تحفظات کا اظہار</a></strong></p>

<p>بل گیٹس نے کہا کہ 2022 کے وسط تک عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے 70 فیصد عالمی آبادی کو ویکسین لگانے کے ہدف تک پہنچنے میں بہت دیر ہو چکی ہے، اس وقت دنیا کی 61.9 فیصد آبادی کو  ویکسین کی کم از کم ایک خوراک ملی ہے۔</p>

<p>انہوں نے صحت کے پیشہ ور افراد اور حکام پر زور دیا کہ جب اگلی وبائی بیماری دنیا میں آئے تو وہ ویکسین تیار کرنے اور تقسیم کرنے کے لیے مزید تیزی سے آگے بڑھیں گی۔</p>

<p>بل  گیٹس کا اپنے انٹرویو میں مزید کہنا تھا کہ اگلی بار ہمیں کوشش کرنی چاہیے اور اسے دو سال کے بجائے، ہمیں اسے چھ ماہ کے اندر اندر کرنا چاہیے۔ </p>

<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ میسنجر آر این اے (ایم آر این اے) ٹیکنالوجی سمیت معیاری پلیٹ فارمز یہ ممکن بنائیں گے۔</p>

<p>سین این بی سی کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں بل گیٹس کا کہنا تھا کہ اگلی وبا کے لیے تیار رہنے کی قیمت بہت زیادہ نہیں ہے، یہ موسمیاتی تبدیلی کی طرح نہیں ہے، اگر ہم عقلی انداز سے سوچیں تو اگلی بار ہم وبا پر جلد قابو پالیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1177682</guid>
      <pubDate>Sun, 20 Feb 2022 13:49:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انور اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/02/6211e920c8aa3.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/02/6211e920c8aa3.jpg"/>
        <media:title>بل گیٹس کا کہنا تھا کہ وائرس پھیلنے کے ساتھ ہی اپنی قوت مدافعت بھی پیدا کرتا رہا — فائل فوٹو:رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>رات کے کھانے کا وقت بلڈ شوگر کو کنٹرول میں رکھنے کیلئے بہت اہم
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1176347/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایسے شواہد مسلسل سامنے آرہے ہیں کہ کھانے کے اوقات دل اور میٹابولک صحت پر اثرات مرتب کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بلڈ شوگر زیادہ بڑھنے سے ذیابیطس کا خطرہ بڑھتا ہے اور ایسا متعدد وجوہات کی وجہ سے ہوتا ہے جیسے کھانے کے اوقات۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اب ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ رات کے کھانے کے وقت اور بلڈ شوگر کی سطح کے درمیان تعلق موجود ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی &lt;a href="https://www.sciencedaily.com/releases/2022/01/220125124032.htm"&gt;&lt;strong&gt;تحقیق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں سامنے آئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;میساچوسٹس جنرل ہاسپٹل، برگھم اینڈ ویمنز ہاسپٹل اور اسپین کی مورسیا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ کھانے کے اوقات نیند اور میلاٹونین کی سطح سے جڑے ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;میلاٹونین ایک ایسا ہارمون ہے جو رات کو جسم میں خارج ہوتا ہے جس سے نیند اور بیداری کے عمل کو کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی کی جانچ پڑتال کے لیے تحقیق میں ایک کلینکل ٹرائل پر کام کیا گیا اور 845 بالغ افراد کو اس کا حصہ بنایا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہر رضاکار کو 8 گھنٹے تک کچھ کھانے نہیں دیا گیا اور پھر 2 راتوں کو جلد کھانا کھلایا گیا اور پھر 2 راتوں کو سونے سے کچھ دیر پہلے کھانے کی ہدایت کی گئی&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس عمل کے دوران محققین نے میلاٹونین ریسیپٹر 1 جی جین کا تجزیہ بھی کیا کیونکہ سابقہ تحقیق کے مطابق اس میں ایک ویرینٹ ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ بڑھاتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین نے بتایا کہ ہم نے جلد اور دیر سے رات کے کھانے کے اوقات کی جانچ پڑتال کے لیے ایک گلوکوز مشروب کا استعمال کرایا اور خون میں 2 گھنٹوک تک شوگر کنٹرول کے اثرات کا موازنہ کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ دیر سے کھانے والے افراد مین میلاٹونین کی سطح ساڑھے 3 گنا زیادہ بڑھ گئی، جبکہ دیر سے کھانا انسولین کی کم سطح اور ہائی بلڈ شوگر کا باعث بھی بنا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ تعلق قابل فہم ہے کیونکہ انسولین بلڈ شوگر کی سطح کو کم کرنے کا کام کرتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق کے مطابق میلاٹونین ریسیپٹر 1بی جین میں مخصوص ویرینٹ والے افراد میں رات کے کھانے کے بعد بلڈ شوگر لیول اس جینیاتی ویرینٹ سے محروم افراد کے مقابلے میں زیادہ تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین نے بتایا کہ ہم نے دریافت کیا کہ دیر سے رات کو غذا کے استعمال سے پورے گروپ کا بلڈ شوگر کنٹرول متاثر ہوا، یہی اثر جینیاتی ویرینٹ کے خطرے سے دوچارہ افراد میں بھی دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تجربات سے انکشاف ہوا کہ میلاٹونین کی زیادہ سطح اور رات گئے کھانے کے دوران کاربوہائیڈریٹ کا استعمال بلڈ شوگر کنٹرول کو متاثر کرتا ہے کیونکہ انسولین بننے کے افعال پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین کے مطابق ہماری تحقیق کے نتائج ذیابیطس ٹائپ ٹو کی روک تھام کی کوشووں کے لیے اہم ہوسکتے ہیں، ان نتائج کا اطلاق ایک تہائی آبادی پر ہوتا ہے جو نیند سے کچھ دیر پہلے ہی کھانا کھاتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس تحقیق کے نتائج جریدے ڈائیبیٹس کیئر میں شائع ہوئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایسے شواہد مسلسل سامنے آرہے ہیں کہ کھانے کے اوقات دل اور میٹابولک صحت پر اثرات مرتب کرتے ہیں۔</p>

<p>بلڈ شوگر زیادہ بڑھنے سے ذیابیطس کا خطرہ بڑھتا ہے اور ایسا متعدد وجوہات کی وجہ سے ہوتا ہے جیسے کھانے کے اوقات۔</p>

<p>اب ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ رات کے کھانے کے وقت اور بلڈ شوگر کی سطح کے درمیان تعلق موجود ہے۔</p>

<p>یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی <a href="https://www.sciencedaily.com/releases/2022/01/220125124032.htm"><strong>تحقیق</strong></a> میں سامنے آئی۔</p>

<p>میساچوسٹس جنرل ہاسپٹل، برگھم اینڈ ویمنز ہاسپٹل اور اسپین کی مورسیا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ کھانے کے اوقات نیند اور میلاٹونین کی سطح سے جڑے ہوتے ہیں۔</p>

<p>میلاٹونین ایک ایسا ہارمون ہے جو رات کو جسم میں خارج ہوتا ہے جس سے نیند اور بیداری کے عمل کو کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے۔</p>

<p>اسی کی جانچ پڑتال کے لیے تحقیق میں ایک کلینکل ٹرائل پر کام کیا گیا اور 845 بالغ افراد کو اس کا حصہ بنایا گیا۔</p>

<p>ہر رضاکار کو 8 گھنٹے تک کچھ کھانے نہیں دیا گیا اور پھر 2 راتوں کو جلد کھانا کھلایا گیا اور پھر 2 راتوں کو سونے سے کچھ دیر پہلے کھانے کی ہدایت کی گئی</p>

<p>اس عمل کے دوران محققین نے میلاٹونین ریسیپٹر 1 جی جین کا تجزیہ بھی کیا کیونکہ سابقہ تحقیق کے مطابق اس میں ایک ویرینٹ ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ بڑھاتی ہے۔</p>

<p>محققین نے بتایا کہ ہم نے جلد اور دیر سے رات کے کھانے کے اوقات کی جانچ پڑتال کے لیے ایک گلوکوز مشروب کا استعمال کرایا اور خون میں 2 گھنٹوک تک شوگر کنٹرول کے اثرات کا موازنہ کیا۔</p>

<p>تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ دیر سے کھانے والے افراد مین میلاٹونین کی سطح ساڑھے 3 گنا زیادہ بڑھ گئی، جبکہ دیر سے کھانا انسولین کی کم سطح اور ہائی بلڈ شوگر کا باعث بھی بنا۔</p>

<p>یہ تعلق قابل فہم ہے کیونکہ انسولین بلڈ شوگر کی سطح کو کم کرنے کا کام کرتی ہے۔</p>

<p>تحقیق کے مطابق میلاٹونین ریسیپٹر 1بی جین میں مخصوص ویرینٹ والے افراد میں رات کے کھانے کے بعد بلڈ شوگر لیول اس جینیاتی ویرینٹ سے محروم افراد کے مقابلے میں زیادہ تھا۔</p>

<p>محققین نے بتایا کہ ہم نے دریافت کیا کہ دیر سے رات کو غذا کے استعمال سے پورے گروپ کا بلڈ شوگر کنٹرول متاثر ہوا، یہی اثر جینیاتی ویرینٹ کے خطرے سے دوچارہ افراد میں بھی دیکھا گیا۔</p>

<p>تجربات سے انکشاف ہوا کہ میلاٹونین کی زیادہ سطح اور رات گئے کھانے کے دوران کاربوہائیڈریٹ کا استعمال بلڈ شوگر کنٹرول کو متاثر کرتا ہے کیونکہ انسولین بننے کے افعال پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔</p>

<p>محققین کے مطابق ہماری تحقیق کے نتائج ذیابیطس ٹائپ ٹو کی روک تھام کی کوشووں کے لیے اہم ہوسکتے ہیں، ان نتائج کا اطلاق ایک تہائی آبادی پر ہوتا ہے جو نیند سے کچھ دیر پہلے ہی کھانا کھاتی ہے۔</p>

<p>اس تحقیق کے نتائج جریدے ڈائیبیٹس کیئر میں شائع ہوئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1176347</guid>
      <pubDate>Wed, 26 Jan 2022 22:52:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/01/61f189a78eaed.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/01/61f189a78eaed.jpg"/>
        <media:title>یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بچت کرنے میں مددگار آسان طریقے جان لیں
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1176199/</link>
      <description>&lt;p&gt;آپ ایسا روزانہ کیا کرتے ہیں جس سے آپ کا بینک اکاﺅنٹ بڑھتا ہے؟ اگر آپ اس سوال کا جواب نہیں دے سکتے تو اب وقت ہے کہ دولت کے حوالے سے نئی عادات کو اپنالیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آپ کی جسمانی صحت کی طرح مالی صحت کا انحصار بھی ان فیصلوں پر ہوتا ہے جو آپ روزمرہ کی زندگی میں کرتے ہیں، جیسے صحت مند عادات یعنی بہتر غذا اور ورزش آپ کو فٹ رکھتی ہیں، اسی طرح کچھ عادتیں آپ کو مالی لحاظ سے دولت مند بننے میں مدد دیتی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگر آپ بھی مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے بچت کرنا چاہتے ہیں تو ان چند &lt;a href="https://www.rd.com/list/money-saving-tips/"&gt;&lt;strong&gt;مالی عادات&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کو اپنی زندگی کا حصہ بنالیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61eeb19a671dd'&gt;ابھی آغٖاز کریں&lt;/h3&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/04/5cb0cc71b988f.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2019/04/5cb0cc71b988f.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2019/04/5cb0cc71b988f.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2019/04/5cb0cc71b988f.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق پیسوں کی اچھی بچت کرنے والے افراد بچپن میں سیکھ لیتے ہیں کہ یہ کتنا ضروری عمل ہے، مگر آپ ابھی تک بچت نہیں کررہے تو بہتر ہے کہ ابھی سے آغاز کردیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اب یہ کس ریٹائرمنٹ سیونگ پلان کا حصہ ہو یا کچھ، کوئی بھی بہتر آپشن نظر آئے اس کے لیے ابھی سے فیصلہ کرکے عمل شروع کریں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61eeb19a67259'&gt;ریٹائرمنٹ اکاؤنٹ&lt;/h3&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/11/564778ee76f8f.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/11/564778ee76f8f.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2015/11/564778ee76f8f.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/11/564778ee76f8f.jpg 1500w' sizes='(min-width: 992px)  1500px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ کوئی نیا مشورہ تو نہیں مگر ہر مالیاتی مشیر اس کو ضرور دیتا ہے کیونکہ یہ مستقبل کے بارے میں ہے۔ اس حوالے سے ایک اچھا اصول تو یہ ہے کہ آمدنی کا 10 سے 15 فیصد حصہ سیدھا ریٹائرمنٹ اکاؤنٹ میں جمع کرادیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61eeb19a6727a'&gt;ضرورت اور خواہش کا فرق جانیں&lt;/h3&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2016/10/580f58fec6b11.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2016/10/580f58fec6b11.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2016/10/580f58fec6b11.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2016/10/580f58fec6b11.jpg 1500w' sizes='(min-width: 992px)  1500px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق ایک سب سے بڑا جھوٹ جو ہمارے سامنے بولا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ خواہش کو ضرورت بنا دیاجاتا ہے۔ بیشتر افراد سیاحت، نئے کپڑوں اور باہر کھانے کو حقیقی ضرورت سمجھتے ہیں جبکہ ایسا نہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے مقابلے میں بچت کرنے والے اپنی بنیادی ضروریات اور خواہشات کی فہرست تیار کرتے ہیں تاکہ پیسے بچا سکیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61eeb19a67295'&gt;خودکار ادائیگیوں سے گریز&lt;/h3&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2016/10/580f58f4035e9.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2016/10/580f58f4035e9.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2016/10/580f58f4035e9.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2016/10/580f58f4035e9.jpg 1500w' sizes='(min-width: 992px)  1500px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;موجودہ دور میں متعدد اخراجات خودکار طور پر آپ کے اکاؤنٹ سے ادا ہوجاتے ہیں جیسے سبسکرائپشن فیس اور دیگر، مگر چیک لکھنے یا آن لائن فارم بھر کر بلز کو ادا کرے سے دماغ کو اخراجات کا علم ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگر آٹو پے پر انحصار کرتے ہیں تو بہتر ہے کہ مہینے میں ایک بار ٹرانزیکشنز کو چیک ضرور کرلیں تاکہ یقینی ہوسکے جو بھی خرچہ ہوا وہ درست تھا اور آپ کو بھی علم ہو کہ آپ کہاں پر خرچ کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61eeb19a672a8'&gt;اپنا بجٹ تیار کریں&lt;/h3&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/11/564778e9515fc.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/11/564778e9515fc.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2015/11/564778e9515fc.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/11/564778e9515fc.jpg 1500w' sizes='(min-width: 992px)  1500px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بنیادی اخراجات اور بلوں سے ہٹ کر دیگر چیزوں کی خریداری کے بجٹ بنانے کو بھی عادت بنالیں، اب چاہے وہ ہفتے میں دو بار چائے کی پتی خریدنا ہو، کہیںباہر کھانے جانا ہو یا گھر والوں کے لیے تحائف لینے ہوں، یہ بظاہر معمولی اخراجات آپ کی آمدنی کو چوس لیتے ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگر آپ ان کا خیال نہ رکھیں۔ گزشتہ ماہ کے تمام اخراجات کو کسی جگہ لکھ لیں اور اس سے پہلے کے بھی اخراجات یاد ہوں تو ان کو بھی تحریر کرلیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کو ترجیح کے مطابق نمبر دیں اور سرفہرست تین ترجیحات کے لیے اپنے بجٹ کا حصہ بنالیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61eeb19a672bb'&gt;نقد یا چیک کا استعمال کریں&lt;/h3&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2016/08/57a204f0a364c.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2016/08/57a204f0a364c.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2016/08/57a204f0a364c.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2016/08/57a204f0a364c.jpg 1500w' sizes='(min-width: 992px)  1500px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ بات سمجھنا بہت آسان ہے کہ کریڈٹ کارڈ کے ذریعے خریداری پر لوگ ضرورت سے زیادہ رقم خرچ کردیتے ہیں جبکہ نقد یا چیک کے ذریعے ادائیگی سے انہیں علم ہوتا ہے کہ وہ کتنا خرچہ کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگر آُ بچت کی کوشش کررہے ہیں تو کریڈٹ کارڈ کے غیرضروری استعمال سے گریز کریں تاکہ خوامخواہ اشیا کی خریداری نہ کرسکیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61eeb19a672cc'&gt;بچت کی ترجیحات&lt;/h3&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2016/10/580f58f3e8768.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2016/10/580f58f3e8768.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2016/10/580f58f3e8768.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2016/10/580f58f3e8768.jpg 1500w' sizes='(min-width: 992px)  1500px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ بچت کی بہترین ٹپس میں سے ایک ہے اور وہ یہ کہ بچت کو اپنی زندگی کی ایک ترجیح بنالیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کسی بھی چیز پر خرچہ کرنے سے قبل خود کو بچت کے لیے ادائیگی کریں، یعنی اپنی تنخواہ میں سے گھر کے اخراجات کرنے سے پہلے بچت کا حصہ سب سے پہلے الگ کرلیں، بچت کی کنجی یہی ہے کہ سب سے پہلے بچت کریں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61eeb19a672de'&gt;چھوٹی چھوٹی چیزوں کا خیال&lt;/h3&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/04/5cb0c928bb634.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2019/04/5cb0c928bb634.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2019/04/5cb0c928bb634.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2019/04/5cb0c928bb634.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک چائے یا کافی کے کپ کی قیمت کیا ہے؟ چھوٹی اشیا بہت تیزی سے زیادہ خرچے کا باعث بنتی ہیں اور اس کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بچت کے اچھے اصولوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اخراجات کی فہرست میں معمولی سے معمولی اشیا کو بھی شامل کیا جاتا ہے جس سے اخراجات کو ٹریک کرنا آسان ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61eeb19a672f0'&gt;اچھی ڈیل کی تلاش&lt;/h3&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2016/10/580f590067431.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2016/10/580f590067431.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2016/10/580f590067431.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2016/10/580f590067431.jpg 1500w' sizes='(min-width: 992px)  1500px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اپنی آمدنی کو دانشمندی سے خرچ کرنے کے لیے آپ کو اس قابل ہونا ہوگا کہ کسی چیز کو خریدنے سے پہلے مارکیٹ میں اس کا موازنہ ضرور کریں، کچھ دکانوں پر اگر کوئی چیز جیسے جوتا تین سے چار ہزار کا ملتا ہے تو اسی معیار کا کسی اور مارکیٹ میں اس سے کہیں کم قیمت پر خریدا جاسکتا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی طرح کوشش کریں ایسی چیز لیں جو زیادہ عرصے تک چل سکیں چاہے وہ کچھ مہنگی ہی کیوں نہ ہو کیونکہ یہ طویل المعیاد بنیادوں پر بچت کا باعث بنتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61eeb19a6730b'&gt;طرز زندگی میں تبدیلیوں سے مطابقت&lt;/h3&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2016/10/580f58fe256cb.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2016/10/580f58fe256cb.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2016/10/580f58fe256cb.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2016/10/580f58fe256cb.jpg 1500w' sizes='(min-width: 992px)  1500px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;زندگی میں بڑی تبدیلیاں جیسے ملازمت ختم ہوجانا، بیماری یا شریک حیات سے علیحدگی بجت پر اثرانداز ہوتی ہیں، بچت کرنے والے اپنی آمدنی کے نئے اسٹیٹس کو تسلیم کرکے خود کو اس مطابق ڈھالتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61eeb19a67325'&gt;غیرمتوقع کے لیے بچت&lt;/h3&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2016/10/580f58fdd557a.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2016/10/580f58fdd557a.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2016/10/580f58fdd557a.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2016/10/580f58fdd557a.jpg 1500w' sizes='(min-width: 992px)  1500px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اتنے مہینوں کے لیے کتنی بچت ضروری ہے اس کا انحصار تو آپ کے طرز زندگی پر ہے مگر ماہرین کے مطابق آپ کے پاس اتنے روپے ونے چاہیے جو 3 سے 6 ماہ کے بنیادی اخراجات کی ادائیگی کے لیے کافی ہوں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اضافی اخراجات اکثر سامنے آتے ہیں، چاہے کوئی حقیقی ایمرجنسی ہو یا نہ ہو وہ آپ کو مشکل میں ڈال سکتے ہیں۔ آپ کا دانت مسئلہ بن سکتا ہے، بچہ بیمار ہوسکتا ہے یا گھر کی کسی چیز کو فوری مرمت کی ضرورت ہوسکتی ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آپ کی آمدنی کو اس وقت دوگنا دھچکا لگ سکتا ہے جب یہ غیر متوقع اخراجات اس وقت سامنے آئیںجب آپ کے ہاتھ میں اضافی آمدنی نہ ہو۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61eeb19a67341'&gt;اپنے آپ سے دیانتداری&lt;/h3&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/04/5cb0cc1970213.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2019/04/5cb0cc1970213.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2019/04/5cb0cc1970213.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2019/04/5cb0cc1970213.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کوئی بھی فرد عمر کو بڑھنے سے روک نہیں سکتا مگر بیشتر افراد اس حقیقت کا خیال نہیں رکھتے جس سے مالیاتی تحفظ کے لیے خطرات بڑھتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بچت کرنے والے مخصوص خطرات جیسے بڑھتی عمر، ملازمت کی ناکافی سیکیورٹی، طبی مسائل، خاندانی مسائل اور دیگر کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے مطابق بچت کے منصوبے بناتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61eeb19a6735d'&gt;چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانا&lt;/h3&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2016/10/580f58fe86413.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2016/10/580f58fe86413.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2016/10/580f58fe86413.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2016/10/580f58fe86413.jpg 1500w' sizes='(min-width: 992px)  1500px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ ایک بنیادی حصول ہے کہ اگر آپ اپنی آمدنی سے زیادہ خرچ کریں گے تو مالی لحاظ سے کبھی آگے نہیں بڑھ سکتے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مگر چادر دیکھ کر پاﺅں پھیلانا آپ کے ہی ہاتھ میں ہے، بس اپنی آمدنی میں اضافے اور ایک حد میں رہتے ہوئے اخراجات کو کنٹرول کرنے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61eeb19a67378'&gt;خودکار بچت&lt;/h3&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2016/10/580f58f3e3fce.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2016/10/580f58f3e3fce.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2016/10/580f58f3e3fce.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2016/10/580f58f3e3fce.jpg 1500w' sizes='(min-width: 992px)  1500px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بلوں کی خودکار ادائیگی کی طرح بچت کو خودکار بنانا بھی بہت مددگار ثابت ہوتا ہے ،جیسے ہر مہینے ایک مخصوص دن طے شدہ رقم براہ راست سیونگ اکاؤنٹ میں منتقل کرنا اس حوالے سے مدد فراہم کرسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61eeb19a67392'&gt;اضافی آمدنی پر توجہ&lt;/h3&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2016/10/580f58f3d5576.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2016/10/580f58f3d5576.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2016/10/580f58f3d5576.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2016/10/580f58f3d5576.jpg 1500w' sizes='(min-width: 992px)  1500px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اخراجات کو کنٹرول کرنا اور بچت ضروری عادات ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ کمانا بھی اہمیت رکھتا ہے، تو آمدنی بڑھانے کے طریقوں کو دیکھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اپنے کسی مشغلے سے کمانے کا ذریعہ ڈھونڈنے کی کوشش کریں، جیسے آن لائن کچھ بنا کر بیچنا وغیرہ، اگر آپ کے پاس وقت نہیں تو اپنی ملازمت میں تنخواہ کو بڑھانے کے طریقے ڈھونڈیں، جانیں کہ تنخواہ میں اضافے کے لیے کیا کچھ درکار ہے اور پھر اس کی کوشش کریں۔ نئی صلاحتیوں اور تعلیم کو سیکھیں جس سے بھی آمدنی میں اضافے کا موقع بڑھ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61eeb19a673ac'&gt;چھوٹی بچت سے آغاز کریں&lt;/h3&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/08/5d653491caf74.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2019/08/5d653491caf74.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2019/08/5d653491caf74.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2019/08/5d653491caf74.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بچت کی ٹپس کی فہرست کو پڑھنا آسان ہے مگر ان پر عمل کافی مشکل ہوتا ہے، تو بچت کے لیے بہت زیادہ بڑی تبدیلی کی ضرورت نہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگر آپ ابھی بچت شروع کررہے ہیں تو کم بچت سے آغاز کریں کیونکہ چھوٹی تبدیلی کو اپنانا زندگی کو مکمل بدلنے سے آسان ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تو آغاز میں ہر ہفتے معمولی رقم کو بچائیں اور بتدریج اس میں اضافہ کرتے رہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>آپ ایسا روزانہ کیا کرتے ہیں جس سے آپ کا بینک اکاﺅنٹ بڑھتا ہے؟ اگر آپ اس سوال کا جواب نہیں دے سکتے تو اب وقت ہے کہ دولت کے حوالے سے نئی عادات کو اپنالیں۔</p>

<p>آپ کی جسمانی صحت کی طرح مالی صحت کا انحصار بھی ان فیصلوں پر ہوتا ہے جو آپ روزمرہ کی زندگی میں کرتے ہیں، جیسے صحت مند عادات یعنی بہتر غذا اور ورزش آپ کو فٹ رکھتی ہیں، اسی طرح کچھ عادتیں آپ کو مالی لحاظ سے دولت مند بننے میں مدد دیتی ہیں۔</p>

<p>اگر آپ بھی مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے بچت کرنا چاہتے ہیں تو ان چند <a href="https://www.rd.com/list/money-saving-tips/"><strong>مالی عادات</strong></a> کو اپنی زندگی کا حصہ بنالیں۔</p>

<h3 id='61eeb19a671dd'>ابھی آغٖاز کریں</h3>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/04/5cb0cc71b988f.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2019/04/5cb0cc71b988f.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2019/04/5cb0cc71b988f.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2019/04/5cb0cc71b988f.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>ماہرین کے مطابق پیسوں کی اچھی بچت کرنے والے افراد بچپن میں سیکھ لیتے ہیں کہ یہ کتنا ضروری عمل ہے، مگر آپ ابھی تک بچت نہیں کررہے تو بہتر ہے کہ ابھی سے آغاز کردیں۔</p>

<p>اب یہ کس ریٹائرمنٹ سیونگ پلان کا حصہ ہو یا کچھ، کوئی بھی بہتر آپشن نظر آئے اس کے لیے ابھی سے فیصلہ کرکے عمل شروع کریں۔</p>

<h3 id='61eeb19a67259'>ریٹائرمنٹ اکاؤنٹ</h3>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/11/564778ee76f8f.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/11/564778ee76f8f.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2015/11/564778ee76f8f.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/11/564778ee76f8f.jpg 1500w' sizes='(min-width: 992px)  1500px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>یہ کوئی نیا مشورہ تو نہیں مگر ہر مالیاتی مشیر اس کو ضرور دیتا ہے کیونکہ یہ مستقبل کے بارے میں ہے۔ اس حوالے سے ایک اچھا اصول تو یہ ہے کہ آمدنی کا 10 سے 15 فیصد حصہ سیدھا ریٹائرمنٹ اکاؤنٹ میں جمع کرادیں۔</p>

<h3 id='61eeb19a6727a'>ضرورت اور خواہش کا فرق جانیں</h3>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2016/10/580f58fec6b11.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2016/10/580f58fec6b11.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2016/10/580f58fec6b11.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2016/10/580f58fec6b11.jpg 1500w' sizes='(min-width: 992px)  1500px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>ماہرین کے مطابق ایک سب سے بڑا جھوٹ جو ہمارے سامنے بولا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ خواہش کو ضرورت بنا دیاجاتا ہے۔ بیشتر افراد سیاحت، نئے کپڑوں اور باہر کھانے کو حقیقی ضرورت سمجھتے ہیں جبکہ ایسا نہیں۔</p>

<p>اس کے مقابلے میں بچت کرنے والے اپنی بنیادی ضروریات اور خواہشات کی فہرست تیار کرتے ہیں تاکہ پیسے بچا سکیں۔</p>

<h3 id='61eeb19a67295'>خودکار ادائیگیوں سے گریز</h3>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2016/10/580f58f4035e9.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2016/10/580f58f4035e9.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2016/10/580f58f4035e9.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2016/10/580f58f4035e9.jpg 1500w' sizes='(min-width: 992px)  1500px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>موجودہ دور میں متعدد اخراجات خودکار طور پر آپ کے اکاؤنٹ سے ادا ہوجاتے ہیں جیسے سبسکرائپشن فیس اور دیگر، مگر چیک لکھنے یا آن لائن فارم بھر کر بلز کو ادا کرے سے دماغ کو اخراجات کا علم ہوتا ہے۔</p>

<p>اگر آٹو پے پر انحصار کرتے ہیں تو بہتر ہے کہ مہینے میں ایک بار ٹرانزیکشنز کو چیک ضرور کرلیں تاکہ یقینی ہوسکے جو بھی خرچہ ہوا وہ درست تھا اور آپ کو بھی علم ہو کہ آپ کہاں پر خرچ کررہے ہیں۔</p>

<h3 id='61eeb19a672a8'>اپنا بجٹ تیار کریں</h3>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/11/564778e9515fc.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/11/564778e9515fc.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2015/11/564778e9515fc.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/11/564778e9515fc.jpg 1500w' sizes='(min-width: 992px)  1500px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>بنیادی اخراجات اور بلوں سے ہٹ کر دیگر چیزوں کی خریداری کے بجٹ بنانے کو بھی عادت بنالیں، اب چاہے وہ ہفتے میں دو بار چائے کی پتی خریدنا ہو، کہیںباہر کھانے جانا ہو یا گھر والوں کے لیے تحائف لینے ہوں، یہ بظاہر معمولی اخراجات آپ کی آمدنی کو چوس لیتے ہیں۔ </p>

<p>اگر آپ ان کا خیال نہ رکھیں۔ گزشتہ ماہ کے تمام اخراجات کو کسی جگہ لکھ لیں اور اس سے پہلے کے بھی اخراجات یاد ہوں تو ان کو بھی تحریر کرلیں۔ </p>

<p>ان کو ترجیح کے مطابق نمبر دیں اور سرفہرست تین ترجیحات کے لیے اپنے بجٹ کا حصہ بنالیں۔</p>

<h3 id='61eeb19a672bb'>نقد یا چیک کا استعمال کریں</h3>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2016/08/57a204f0a364c.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2016/08/57a204f0a364c.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2016/08/57a204f0a364c.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2016/08/57a204f0a364c.jpg 1500w' sizes='(min-width: 992px)  1500px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>یہ بات سمجھنا بہت آسان ہے کہ کریڈٹ کارڈ کے ذریعے خریداری پر لوگ ضرورت سے زیادہ رقم خرچ کردیتے ہیں جبکہ نقد یا چیک کے ذریعے ادائیگی سے انہیں علم ہوتا ہے کہ وہ کتنا خرچہ کررہے ہیں۔</p>

<p>اگر آُ بچت کی کوشش کررہے ہیں تو کریڈٹ کارڈ کے غیرضروری استعمال سے گریز کریں تاکہ خوامخواہ اشیا کی خریداری نہ کرسکیں۔</p>

<h3 id='61eeb19a672cc'>بچت کی ترجیحات</h3>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2016/10/580f58f3e8768.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2016/10/580f58f3e8768.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2016/10/580f58f3e8768.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2016/10/580f58f3e8768.jpg 1500w' sizes='(min-width: 992px)  1500px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>یہ بچت کی بہترین ٹپس میں سے ایک ہے اور وہ یہ کہ بچت کو اپنی زندگی کی ایک ترجیح بنالیں۔</p>

<p>کسی بھی چیز پر خرچہ کرنے سے قبل خود کو بچت کے لیے ادائیگی کریں، یعنی اپنی تنخواہ میں سے گھر کے اخراجات کرنے سے پہلے بچت کا حصہ سب سے پہلے الگ کرلیں، بچت کی کنجی یہی ہے کہ سب سے پہلے بچت کریں۔</p>

<h3 id='61eeb19a672de'>چھوٹی چھوٹی چیزوں کا خیال</h3>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/04/5cb0c928bb634.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2019/04/5cb0c928bb634.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2019/04/5cb0c928bb634.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2019/04/5cb0c928bb634.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>ایک چائے یا کافی کے کپ کی قیمت کیا ہے؟ چھوٹی اشیا بہت تیزی سے زیادہ خرچے کا باعث بنتی ہیں اور اس کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ </p>

<p>بچت کے اچھے اصولوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اخراجات کی فہرست میں معمولی سے معمولی اشیا کو بھی شامل کیا جاتا ہے جس سے اخراجات کو ٹریک کرنا آسان ہوتا ہے۔</p>

<h3 id='61eeb19a672f0'>اچھی ڈیل کی تلاش</h3>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2016/10/580f590067431.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2016/10/580f590067431.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2016/10/580f590067431.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2016/10/580f590067431.jpg 1500w' sizes='(min-width: 992px)  1500px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>اپنی آمدنی کو دانشمندی سے خرچ کرنے کے لیے آپ کو اس قابل ہونا ہوگا کہ کسی چیز کو خریدنے سے پہلے مارکیٹ میں اس کا موازنہ ضرور کریں، کچھ دکانوں پر اگر کوئی چیز جیسے جوتا تین سے چار ہزار کا ملتا ہے تو اسی معیار کا کسی اور مارکیٹ میں اس سے کہیں کم قیمت پر خریدا جاسکتا ہے۔ </p>

<p>اسی طرح کوشش کریں ایسی چیز لیں جو زیادہ عرصے تک چل سکیں چاہے وہ کچھ مہنگی ہی کیوں نہ ہو کیونکہ یہ طویل المعیاد بنیادوں پر بچت کا باعث بنتا ہے۔</p>

<h3 id='61eeb19a6730b'>طرز زندگی میں تبدیلیوں سے مطابقت</h3>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2016/10/580f58fe256cb.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2016/10/580f58fe256cb.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2016/10/580f58fe256cb.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2016/10/580f58fe256cb.jpg 1500w' sizes='(min-width: 992px)  1500px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>زندگی میں بڑی تبدیلیاں جیسے ملازمت ختم ہوجانا، بیماری یا شریک حیات سے علیحدگی بجت پر اثرانداز ہوتی ہیں، بچت کرنے والے اپنی آمدنی کے نئے اسٹیٹس کو تسلیم کرکے خود کو اس مطابق ڈھالتے ہیں۔</p>

<h3 id='61eeb19a67325'>غیرمتوقع کے لیے بچت</h3>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2016/10/580f58fdd557a.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2016/10/580f58fdd557a.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2016/10/580f58fdd557a.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2016/10/580f58fdd557a.jpg 1500w' sizes='(min-width: 992px)  1500px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>اتنے مہینوں کے لیے کتنی بچت ضروری ہے اس کا انحصار تو آپ کے طرز زندگی پر ہے مگر ماہرین کے مطابق آپ کے پاس اتنے روپے ونے چاہیے جو 3 سے 6 ماہ کے بنیادی اخراجات کی ادائیگی کے لیے کافی ہوں۔</p>

<p>اضافی اخراجات اکثر سامنے آتے ہیں، چاہے کوئی حقیقی ایمرجنسی ہو یا نہ ہو وہ آپ کو مشکل میں ڈال سکتے ہیں۔ آپ کا دانت مسئلہ بن سکتا ہے، بچہ بیمار ہوسکتا ہے یا گھر کی کسی چیز کو فوری مرمت کی ضرورت ہوسکتی ہے۔ </p>

<p>آپ کی آمدنی کو اس وقت دوگنا دھچکا لگ سکتا ہے جب یہ غیر متوقع اخراجات اس وقت سامنے آئیںجب آپ کے ہاتھ میں اضافی آمدنی نہ ہو۔</p>

<h3 id='61eeb19a67341'>اپنے آپ سے دیانتداری</h3>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/04/5cb0cc1970213.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2019/04/5cb0cc1970213.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2019/04/5cb0cc1970213.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2019/04/5cb0cc1970213.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>کوئی بھی فرد عمر کو بڑھنے سے روک نہیں سکتا مگر بیشتر افراد اس حقیقت کا خیال نہیں رکھتے جس سے مالیاتی تحفظ کے لیے خطرات بڑھتے ہیں۔</p>

<p>بچت کرنے والے مخصوص خطرات جیسے بڑھتی عمر، ملازمت کی ناکافی سیکیورٹی، طبی مسائل، خاندانی مسائل اور دیگر کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے مطابق بچت کے منصوبے بناتے ہیں۔</p>

<h3 id='61eeb19a6735d'>چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانا</h3>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2016/10/580f58fe86413.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2016/10/580f58fe86413.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2016/10/580f58fe86413.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2016/10/580f58fe86413.jpg 1500w' sizes='(min-width: 992px)  1500px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>یہ ایک بنیادی حصول ہے کہ اگر آپ اپنی آمدنی سے زیادہ خرچ کریں گے تو مالی لحاظ سے کبھی آگے نہیں بڑھ سکتے۔ </p>

<p>مگر چادر دیکھ کر پاﺅں پھیلانا آپ کے ہی ہاتھ میں ہے، بس اپنی آمدنی میں اضافے اور ایک حد میں رہتے ہوئے اخراجات کو کنٹرول کرنے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔</p>

<h3 id='61eeb19a67378'>خودکار بچت</h3>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2016/10/580f58f3e3fce.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2016/10/580f58f3e3fce.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2016/10/580f58f3e3fce.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2016/10/580f58f3e3fce.jpg 1500w' sizes='(min-width: 992px)  1500px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>بلوں کی خودکار ادائیگی کی طرح بچت کو خودکار بنانا بھی بہت مددگار ثابت ہوتا ہے ،جیسے ہر مہینے ایک مخصوص دن طے شدہ رقم براہ راست سیونگ اکاؤنٹ میں منتقل کرنا اس حوالے سے مدد فراہم کرسکتا ہے۔</p>

<h3 id='61eeb19a67392'>اضافی آمدنی پر توجہ</h3>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2016/10/580f58f3d5576.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2016/10/580f58f3d5576.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2016/10/580f58f3d5576.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2016/10/580f58f3d5576.jpg 1500w' sizes='(min-width: 992px)  1500px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>اخراجات کو کنٹرول کرنا اور بچت ضروری عادات ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ کمانا بھی اہمیت رکھتا ہے، تو آمدنی بڑھانے کے طریقوں کو دیکھیں۔</p>

<p>اپنے کسی مشغلے سے کمانے کا ذریعہ ڈھونڈنے کی کوشش کریں، جیسے آن لائن کچھ بنا کر بیچنا وغیرہ، اگر آپ کے پاس وقت نہیں تو اپنی ملازمت میں تنخواہ کو بڑھانے کے طریقے ڈھونڈیں، جانیں کہ تنخواہ میں اضافے کے لیے کیا کچھ درکار ہے اور پھر اس کی کوشش کریں۔ نئی صلاحتیوں اور تعلیم کو سیکھیں جس سے بھی آمدنی میں اضافے کا موقع بڑھ جاتا ہے۔</p>

<h3 id='61eeb19a673ac'>چھوٹی بچت سے آغاز کریں</h3>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/08/5d653491caf74.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2019/08/5d653491caf74.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2019/08/5d653491caf74.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2019/08/5d653491caf74.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>بچت کی ٹپس کی فہرست کو پڑھنا آسان ہے مگر ان پر عمل کافی مشکل ہوتا ہے، تو بچت کے لیے بہت زیادہ بڑی تبدیلی کی ضرورت نہیں۔</p>

<p>اگر آپ ابھی بچت شروع کررہے ہیں تو کم بچت سے آغاز کریں کیونکہ چھوٹی تبدیلی کو اپنانا زندگی کو مکمل بدلنے سے آسان ہوتا ہے۔</p>

<p>تو آغاز میں ہر ہفتے معمولی رقم کو بچائیں اور بتدریج اس میں اضافہ کرتے رہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1176199</guid>
      <pubDate>Mon, 24 Jan 2022 19:03:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/01/61eea9cda862b.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/01/61eea9cda862b.jpg"/>
        <media:title>— شٹر اسٹاک فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جوڑوں کے امراض کا باعث بننے والی عام عادات
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1174844/</link>
      <description>&lt;p&gt;کیا آپ جوڑوں کے درد میں مبتلا ہیں ؟ اگر ہاں تو آپ تنہا نہیں درحقیقت عمر کی چوتھی اور پانچویں دہائی میں اکثر افراد اس تکلیف کا شکار ہوجاتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درحقیقت عمر بڑھنے کے ساتھ ہڈیاں بھی کمزور ہونے لگتی ہیں جس کے باعث جوڑوں کا درد لوگوں کو اپنا شکار بنالیتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1024245' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2019/06/5d0fcd743fd4d.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2019/06/5d0fcd743fd4d.png 280w, https://i.dawn.com/large/2019/06/5d0fcd743fd4d.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2019/06/5d0fcd743fd4d.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عام طور پر یہ مرض خون میں یورک ایسڈ جمنے کے نتیجے میں ہوتا ہے، یہ یورک ایسڈ جسمانی پراسیس کے نتیجے میں خارج ہوتا ہے اور عام طورپر خون میں تحلیل ہوکر گردوں کے راستے پیشاب کے ذریعے نکل جاتا ہے مگر جب جسم اس کی زیادہ مقدار بننے لگے تو گردے اس سے نجات پانے میں ناکام رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے نتیجے میں یہ جوڑوں میں کرسٹل کی شکل میں جمنے لگتا ہے جس سے جوڑوں میں درد ہونے لگتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ طرز زندگی چند &lt;a href="https://www.webmd.com/arthritis/ss/slideshow-arthritis-joint-badhabits"&gt;&lt;strong&gt;عام عادات&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; بھی آپ کو جوڑوں کے امراض کا شکار بناسکتی ہیں؟&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61cf2e451d5aa'&gt;اضافی جسمانی وزن&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;آپ کے جوڑ ہڈیوں کو ایک دوسرے سے جوڑتے ہیں، اسی وجہ سے وہ بھاری بوجھ کے لیے حساس ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جسمانی وزن میں ہر 400 گرام اضافہ گھٹنوں کے دباؤ کو 4 گنا زیادہ بڑھا دیتا ہے۔ اسی طرح کمر، کولہوں اور پیروں پر بھی دباؤ بڑھتا ہے جس کا نتیجہ تکلیف، نقصان اور درد کی شکل میں نکلتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;زیادہ جسمانی وزن سے ورم بھی متحرک ہوتا ہے جس کے نتیے میں جوڑ اکڑ جاتے ہیں، تکلیف اور سوجن کا سامنا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61cf2e451d62c'&gt;بہت زیادہ ٹیکسٹ پیغامات&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;موجودہ عہد میں ڈیوائسز میں تحریری پیغامات کو ٹائپ کرنا بہت عام ہے مگر ایسا بہت زیادہ کرنا ہاتھوں کی انگلیوں کے جوڑوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی طرح فون کو سر جھکا کر دیکھنا گردن اور کندھوں کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے، سر کے جھکاؤ میں ہر ایک انچ کا اضافہ مسلز پر دباؤ کو بڑھاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61cf2e451d643'&gt;ہائی ہیلز&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;ہائی ہیل خواتین کی خوبصورت میں تو اضافہ کرکستی ہے مگر اس جوتوں کی اونچائی جتنی زیادہ ہوگی اتنا رانوں کے مسلز کو گھٹنوں کو سیدھا رکھنے میں زیادہ محنت کرنا پوگی جس کا نتیجہ تکلیف کی شکل میں نکلتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ماہرین کے خیال میں ہائی ہیلز کا روزانہ استعمال ہڈیوں کے بھربھرے پن کا خطرہ بڑھاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61cf2e451d657'&gt;انگلیاں چٹخانا&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;یہ بہت عام عادت ہے اور اس سے جوڑوں کے امراض کا مسئلہ لاحق نہیں ہوتا مگر بہتر یہی ہے کہ اس عادت سے نجات حاصل کرلیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ یہ عادت ہاتھوں کی سوجن اور گرفت کو کمزور بنانے کا باعث بن سکتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61cf2e451d66a'&gt;بھاری بیگ&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;اب یہ پرس ہو، بیک پیک یا مسافر بیگ، ان میں بہت زیادہ سامان گردن اور کندھوں میں تکلیف کا باعث بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگر آپ ان بیگز کو جسم کے صرف ایک ہی حصے میں اٹھائے رکھتے ہیں تو اس کے نتیجے میں مسلز بہت زیادہ کھچ جاتے ہیں اور جوڑوں پر دباؤ بڑھتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگر آپ روز ایسا کرتے ہیں تو آپ کا جسم جوڑوں کی تکلیف کے ذریعے آپ کو پیغام دیتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61cf2e451d67d'&gt;کام کے لیے مسلز کا غلط استعمال&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;جب آپ چھوٹے مسلز پر بہت زیادہ بوجھ ڈالتے ہیں تو جوڑوں کو اس کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے، اگر آپ ایک بھاری دروازے کو کھول رہے ہیں تو انگلیوں کی بجائے کندھوں سے اس کو دھکا دیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگر آپ فرش سے کوئی بھاری سامان اٹھا رہے ہیں تو پہلے گھٹنوں کو موڑ لیں اور ٹانگوں کے مضبوط مسلز کے ذریعے اٹھیں، اگر کوئی سامان اٹھا کر چل ہے ہیں تو اسے انگلیوں پر لٹکانے کی بجائے ہتھیلی میں اٹھائیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61cf2e451d690'&gt;پیٹ کے بل سونا&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;اس طرح سونے سے ہوسکتا ہے کہ خراٹوں کے مسئلے میں کمی لانے میں مدد مل جائے مگر جسم کو زیادہ آرام نہیں ملتا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پیٹ کے بل لیٹنے سے ریڑھ کی ہڈی سکڑتی ہے، سر ایک سمت پر بہت دیر تک رہتا ہے اور ان سب سے دیگر جوڑوں اور مسلز پر دباؤ بڑھتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61cf2e451d6a2'&gt;اسکریچنگ سے دوری&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;یوگا پسند نہیں کرتے تو بھی اسکریچنگ کو معمول بنانا مسلز اور ٹینڈنز کو مضبوط بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے وہ زیادہ لچکدار بھی ہوتے ہیں جس سے جوڑوں کو زیادہ آسانی سے حرکت کرنے اور مسلز کے افعال میں بہتری آتی ہے، یہ سب صحت مند اور مستحکم جوڑوں کی کنجی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61cf2e451d6b3'&gt;ویٹ ٹریننگ&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;40 سال سے زائد عمر کے بعد ہڈیوں کی صحت متاثر ہونے لگتی ہے اور وہ معمولی پتلی ہوجاتی ہے اور زیادہ آسانی سے ٹوٹ سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مگر ویٹ ٹریننگ سے مسلز بنانے سے ہڈیوں کے حجم میں کمی کا عمل سست ہوتا ہے بلکہ نئی نشوونما کا عمل متحرک ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61cf2e451d6c5'&gt;تمباکو نوشی&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;تمباکو نوشی کی عادت کو ترک کرنے پر جسم کے جوڑ آپ کے شکر گزار ہوں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سیگریٹ میں موجود نکوٹین سے ہڈیوں کے لیے دوران خون کی رفتار کم ہوتی ہے اور ریڑھ کی ہڈی پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تمباکو نوشی سے ہڈیوں کو مضبوط رکھنے والے کیلشیئم کی مقدار محدود ہوتی ہے جبکہ ایسٹروجن کی مقدار بھی متاثر ہوتی ہے جو ہڈیوں کی صحت کے لیے اہم ہارمون ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان سب سے جوڑ کمزور ہوتے ہیں اور عمر بڑھنے کے ساتھ گرنے پر کولہے کی ہڈی ٹوٹنے کا خطرہ بڑھتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61cf2e451d6d6'&gt;نیند کی کمی&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;ہوسکتا ہے کہ آپ کو عجیب لگے کہ نیند کی کمی جوڑوں پر کیسے اثرانداز ہوسکتی ہے، مگر ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جوڑوں کے امراض کے شکار افراد کو بے خواب راتوں کے بعد زیادہ تکلیف محسوس ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک خیال یہ ہے کہ نیند کی کمی سے جسم میں ورم متحرک ہوتا ہے اور طویل المعیاد بنیادوں پر جوڑوں کے مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے مگر اس وقت تک اچھی نیند کو عادت بنانے میں کوئی نقصان بھی نہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61cf2e451d6e9'&gt;بیٹھنے اور چلنے پھرنے کا خراب انداز&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;جسمانی انداز اس حوالے سے بہت اہمیت رکھتا ہے، کرسی پر بیٹھنے کے بعد اگر کندھے اور سر آگے کی جانب جھکے ہوں تو مسلز اور جوڑوں پر دباؤ بڑھتا ہے جبکہ وہ تھکاوٹ کے شکار ہوجاتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تو اپنی کمر کو سیدھا رکھیں اور کندھوں کو جھکانے سے گریز کریں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61cf2e451d6fb'&gt;تکلیف کو نظرانداز کرنا&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;جب آپ ورزش کرتے ہیں تو آپ کو اس کے لیے زیادہ طاقت کی ضرورت ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یقیناً ورزش کرنے سے مسلز سوجن کا شکار ہوتے ہیں اور تکلیف ہوتی ہے جو عام سمجھا جاتا ہے، مگر یہ مسئلہ کئی دن تک برقرار رہے یا مسلز بہت زیادہ سوج جائیں تو یہ عام نہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جوڑوں کی تکلیف عام نہیں ہوتی تو اس پر توجہ کرنی چاہیے، اگر آپ کو لگتا ہے کہ ضرورت سے زیادہ ورزش کرلی ہے تو اس میں کمی لائیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگر تکلیف ختم نہ ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61cf2e451d70d'&gt;کمپیوٹر کے سامنے بہت زیادہ وقت گزارنا&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;اس سے گردن میں تکیف ہوسکتی ہے، کہنی، کلائیوں، کمر اور کندھے بھی تکلیف دہ ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ بیٹھنے کے غلط انداز کا ہی مسئلہ نہیں ہوتا بلکہ ایک ہی انداز میں بہت زیادہ وقت تک بیٹھے رہنے کا نتیجہ بھی ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے نتیجے میں مسلز کو ضرورت سے زیادہ کام کرنا پڑتا ہے، کمر کی ڈسکس پر دباؤ بڑھتا ہے، بہتر ہے کہ ہر ایک گھنٹے بعد کچھ منٹ کے لیے اپنی جگہ سے اٹھ کر چہل قدمی کرلیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کیا آپ جوڑوں کے درد میں مبتلا ہیں ؟ اگر ہاں تو آپ تنہا نہیں درحقیقت عمر کی چوتھی اور پانچویں دہائی میں اکثر افراد اس تکلیف کا شکار ہوجاتے ہیں۔</p>

<p>درحقیقت عمر بڑھنے کے ساتھ ہڈیاں بھی کمزور ہونے لگتی ہیں جس کے باعث جوڑوں کا درد لوگوں کو اپنا شکار بنالیتا ہے۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1024245' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2019/06/5d0fcd743fd4d.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2019/06/5d0fcd743fd4d.png 280w, https://i.dawn.com/large/2019/06/5d0fcd743fd4d.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2019/06/5d0fcd743fd4d.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>عام طور پر یہ مرض خون میں یورک ایسڈ جمنے کے نتیجے میں ہوتا ہے، یہ یورک ایسڈ جسمانی پراسیس کے نتیجے میں خارج ہوتا ہے اور عام طورپر خون میں تحلیل ہوکر گردوں کے راستے پیشاب کے ذریعے نکل جاتا ہے مگر جب جسم اس کی زیادہ مقدار بننے لگے تو گردے اس سے نجات پانے میں ناکام رہتے ہیں۔</p>

<p>اس کے نتیجے میں یہ جوڑوں میں کرسٹل کی شکل میں جمنے لگتا ہے جس سے جوڑوں میں درد ہونے لگتا ہے۔</p>

<p>مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ طرز زندگی چند <a href="https://www.webmd.com/arthritis/ss/slideshow-arthritis-joint-badhabits"><strong>عام عادات</strong></a> بھی آپ کو جوڑوں کے امراض کا شکار بناسکتی ہیں؟</p>

<h3 id='61cf2e451d5aa'>اضافی جسمانی وزن</h3>

<p>آپ کے جوڑ ہڈیوں کو ایک دوسرے سے جوڑتے ہیں، اسی وجہ سے وہ بھاری بوجھ کے لیے حساس ہوتے ہیں۔</p>

<p>جسمانی وزن میں ہر 400 گرام اضافہ گھٹنوں کے دباؤ کو 4 گنا زیادہ بڑھا دیتا ہے۔ اسی طرح کمر، کولہوں اور پیروں پر بھی دباؤ بڑھتا ہے جس کا نتیجہ تکلیف، نقصان اور درد کی شکل میں نکلتا ہے۔</p>

<p>زیادہ جسمانی وزن سے ورم بھی متحرک ہوتا ہے جس کے نتیے میں جوڑ اکڑ جاتے ہیں، تکلیف اور سوجن کا سامنا ہوتا ہے۔</p>

<h3 id='61cf2e451d62c'>بہت زیادہ ٹیکسٹ پیغامات</h3>

<p>موجودہ عہد میں ڈیوائسز میں تحریری پیغامات کو ٹائپ کرنا بہت عام ہے مگر ایسا بہت زیادہ کرنا ہاتھوں کی انگلیوں کے جوڑوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔</p>

<p>اسی طرح فون کو سر جھکا کر دیکھنا گردن اور کندھوں کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے، سر کے جھکاؤ میں ہر ایک انچ کا اضافہ مسلز پر دباؤ کو بڑھاتا ہے۔</p>

<h3 id='61cf2e451d643'>ہائی ہیلز</h3>

<p>ہائی ہیل خواتین کی خوبصورت میں تو اضافہ کرکستی ہے مگر اس جوتوں کی اونچائی جتنی زیادہ ہوگی اتنا رانوں کے مسلز کو گھٹنوں کو سیدھا رکھنے میں زیادہ محنت کرنا پوگی جس کا نتیجہ تکلیف کی شکل میں نکلتا ہے۔</p>

<p>ماہرین کے خیال میں ہائی ہیلز کا روزانہ استعمال ہڈیوں کے بھربھرے پن کا خطرہ بڑھاتا ہے۔</p>

<h3 id='61cf2e451d657'>انگلیاں چٹخانا</h3>

<p>یہ بہت عام عادت ہے اور اس سے جوڑوں کے امراض کا مسئلہ لاحق نہیں ہوتا مگر بہتر یہی ہے کہ اس عادت سے نجات حاصل کرلیں۔</p>

<p>ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ یہ عادت ہاتھوں کی سوجن اور گرفت کو کمزور بنانے کا باعث بن سکتی ہے۔</p>

<h3 id='61cf2e451d66a'>بھاری بیگ</h3>

<p>اب یہ پرس ہو، بیک پیک یا مسافر بیگ، ان میں بہت زیادہ سامان گردن اور کندھوں میں تکلیف کا باعث بن سکتا ہے۔</p>

<p>اگر آپ ان بیگز کو جسم کے صرف ایک ہی حصے میں اٹھائے رکھتے ہیں تو اس کے نتیجے میں مسلز بہت زیادہ کھچ جاتے ہیں اور جوڑوں پر دباؤ بڑھتا ہے۔</p>

<p>اگر آپ روز ایسا کرتے ہیں تو آپ کا جسم جوڑوں کی تکلیف کے ذریعے آپ کو پیغام دیتا ہے۔</p>

<h3 id='61cf2e451d67d'>کام کے لیے مسلز کا غلط استعمال</h3>

<p>جب آپ چھوٹے مسلز پر بہت زیادہ بوجھ ڈالتے ہیں تو جوڑوں کو اس کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے، اگر آپ ایک بھاری دروازے کو کھول رہے ہیں تو انگلیوں کی بجائے کندھوں سے اس کو دھکا دیں۔</p>

<p>اگر آپ فرش سے کوئی بھاری سامان اٹھا رہے ہیں تو پہلے گھٹنوں کو موڑ لیں اور ٹانگوں کے مضبوط مسلز کے ذریعے اٹھیں، اگر کوئی سامان اٹھا کر چل ہے ہیں تو اسے انگلیوں پر لٹکانے کی بجائے ہتھیلی میں اٹھائیں۔</p>

<h3 id='61cf2e451d690'>پیٹ کے بل سونا</h3>

<p>اس طرح سونے سے ہوسکتا ہے کہ خراٹوں کے مسئلے میں کمی لانے میں مدد مل جائے مگر جسم کو زیادہ آرام نہیں ملتا۔</p>

<p>پیٹ کے بل لیٹنے سے ریڑھ کی ہڈی سکڑتی ہے، سر ایک سمت پر بہت دیر تک رہتا ہے اور ان سب سے دیگر جوڑوں اور مسلز پر دباؤ بڑھتا ہے۔</p>

<h3 id='61cf2e451d6a2'>اسکریچنگ سے دوری</h3>

<p>یوگا پسند نہیں کرتے تو بھی اسکریچنگ کو معمول بنانا مسلز اور ٹینڈنز کو مضبوط بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔</p>

<p>اس سے وہ زیادہ لچکدار بھی ہوتے ہیں جس سے جوڑوں کو زیادہ آسانی سے حرکت کرنے اور مسلز کے افعال میں بہتری آتی ہے، یہ سب صحت مند اور مستحکم جوڑوں کی کنجی ہے۔</p>

<h3 id='61cf2e451d6b3'>ویٹ ٹریننگ</h3>

<p>40 سال سے زائد عمر کے بعد ہڈیوں کی صحت متاثر ہونے لگتی ہے اور وہ معمولی پتلی ہوجاتی ہے اور زیادہ آسانی سے ٹوٹ سکتی ہیں۔</p>

<p>مگر ویٹ ٹریننگ سے مسلز بنانے سے ہڈیوں کے حجم میں کمی کا عمل سست ہوتا ہے بلکہ نئی نشوونما کا عمل متحرک ہوتا ہے۔</p>

<h3 id='61cf2e451d6c5'>تمباکو نوشی</h3>

<p>تمباکو نوشی کی عادت کو ترک کرنے پر جسم کے جوڑ آپ کے شکر گزار ہوں گے۔</p>

<p>سیگریٹ میں موجود نکوٹین سے ہڈیوں کے لیے دوران خون کی رفتار کم ہوتی ہے اور ریڑھ کی ہڈی پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔</p>

<p>تمباکو نوشی سے ہڈیوں کو مضبوط رکھنے والے کیلشیئم کی مقدار محدود ہوتی ہے جبکہ ایسٹروجن کی مقدار بھی متاثر ہوتی ہے جو ہڈیوں کی صحت کے لیے اہم ہارمون ہے۔</p>

<p>ان سب سے جوڑ کمزور ہوتے ہیں اور عمر بڑھنے کے ساتھ گرنے پر کولہے کی ہڈی ٹوٹنے کا خطرہ بڑھتا ہے۔</p>

<h3 id='61cf2e451d6d6'>نیند کی کمی</h3>

<p>ہوسکتا ہے کہ آپ کو عجیب لگے کہ نیند کی کمی جوڑوں پر کیسے اثرانداز ہوسکتی ہے، مگر ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جوڑوں کے امراض کے شکار افراد کو بے خواب راتوں کے بعد زیادہ تکلیف محسوس ہوتی ہے۔</p>

<p>ایک خیال یہ ہے کہ نیند کی کمی سے جسم میں ورم متحرک ہوتا ہے اور طویل المعیاد بنیادوں پر جوڑوں کے مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔</p>

<p>اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے مگر اس وقت تک اچھی نیند کو عادت بنانے میں کوئی نقصان بھی نہیں۔</p>

<h3 id='61cf2e451d6e9'>بیٹھنے اور چلنے پھرنے کا خراب انداز</h3>

<p>جسمانی انداز اس حوالے سے بہت اہمیت رکھتا ہے، کرسی پر بیٹھنے کے بعد اگر کندھے اور سر آگے کی جانب جھکے ہوں تو مسلز اور جوڑوں پر دباؤ بڑھتا ہے جبکہ وہ تھکاوٹ کے شکار ہوجاتے ہیں۔</p>

<p>تو اپنی کمر کو سیدھا رکھیں اور کندھوں کو جھکانے سے گریز کریں۔</p>

<h3 id='61cf2e451d6fb'>تکلیف کو نظرانداز کرنا</h3>

<p>جب آپ ورزش کرتے ہیں تو آپ کو اس کے لیے زیادہ طاقت کی ضرورت ہوتی ہے۔</p>

<p>یقیناً ورزش کرنے سے مسلز سوجن کا شکار ہوتے ہیں اور تکلیف ہوتی ہے جو عام سمجھا جاتا ہے، مگر یہ مسئلہ کئی دن تک برقرار رہے یا مسلز بہت زیادہ سوج جائیں تو یہ عام نہیں۔</p>

<p>جوڑوں کی تکلیف عام نہیں ہوتی تو اس پر توجہ کرنی چاہیے، اگر آپ کو لگتا ہے کہ ضرورت سے زیادہ ورزش کرلی ہے تو اس میں کمی لائیں۔</p>

<p>اگر تکلیف ختم نہ ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔</p>

<h3 id='61cf2e451d70d'>کمپیوٹر کے سامنے بہت زیادہ وقت گزارنا</h3>

<p>اس سے گردن میں تکیف ہوسکتی ہے، کہنی، کلائیوں، کمر اور کندھے بھی تکلیف دہ ہوسکتے ہیں۔</p>

<p>یہ بیٹھنے کے غلط انداز کا ہی مسئلہ نہیں ہوتا بلکہ ایک ہی انداز میں بہت زیادہ وقت تک بیٹھے رہنے کا نتیجہ بھی ہوتا ہے۔</p>

<p>اس کے نتیجے میں مسلز کو ضرورت سے زیادہ کام کرنا پڑتا ہے، کمر کی ڈسکس پر دباؤ بڑھتا ہے، بہتر ہے کہ ہر ایک گھنٹے بعد کچھ منٹ کے لیے اپنی جگہ سے اٹھ کر چہل قدمی کرلیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1174844</guid>
      <pubDate>Fri, 31 Dec 2021 21:22:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/12/61cf2dc7be8d0.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/12/61cf2dc7be8d0.jpg"/>
        <media:title>— شٹر اسٹاک فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پروٹین کی کمی پر جسم کو کن مسائل کا سامنا ہوتا ہے؟
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1174643/</link>
      <description>&lt;p&gt;پروٹین جسمانی وزن میں کمی لانے کے لیے بہترین غذائی جز ہے کیونکہ اس سے پیٹ زیادہ دیر تک بھرا رہتا ہے جبکہ پروٹین جسم کے لیے اضافی چربی کے ذخیرے کو بھی مشکل بناتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مگر اس سے ہٹ کر بھی انسانی جسم کے افعال کے لیے پروٹین کی اہمیت بہت زیادہ ہے، جسمانی وزن میں کمی، مسلز بنانے اور دیگر کے لیے اس جز کی ضرورت ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں ایک ارب افراد پروٹین کی کمی کا شکار ہیں، خصوصاً وسطی افریقہ اور جنوبی ایشیایعنی ہمارا اپنا خطہ، جہاں 30 فیصد بچوں کو بہت کم پروٹین مل پاتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;طبی ماہرین کے مطابق بالغ مرد کے لیے روزانہ پروٹین کی ضرورت 56 گرام، خواتین کے لیے 40 سے 50 گرام جبکہ بچوں کے لیے 19 سے 34 گرام (ان کی عمر پر اس کا انحصار ہے) ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ دن بھر کی غذائی کیلوریز کا کم از کم 10 فیصد حصہ پروٹین پر مبنی ہونا چاہیے جو انڈوں، چکن، دہی اور متعدد غذاؤں سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم جسم میں &lt;a href="https://www.webmd.com/diet/ss/slideshow-not-enough-protein-signs"&gt;&lt;strong&gt;پروٹین کی کمی&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کا اندازہ کیسے لگایا جائے ؟ اس کی علامات درج ذیل ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61cb20141c01c'&gt;سوجن&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;جسم میں پروٹین کی کمی کی ایک سب سے عام علامت سوجن ہے بالخصوص پیٹ، ٹانگوں، پیروں اور ہاتھوں میں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کی ممکنہ وجہ یہ ہے کہ پروٹینز خون میں گردش کرتے ہیں اور سیال کو ٹشوز میں جمع ہونے سے روکتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61cb20141c089'&gt;چڑچڑا پن&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;ہمارا دماغ نیورو ٹرانسمیٹرز نامی کیمیکلز کو خلیات تک تفصیلات پہنچانے کے لیے استعمال کرتا ہے، متعدد نیورو ٹرانسمیٹرز امینو ایسڈز سے بنتے ہیں جو پروٹین کا حصہ ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تو پروٹین کی کمی کے نتیجے میں جسم مناسب مقدار میں نیورو ٹرانسمیٹرز بنا نہیں پاتا جس کے نتیجے میں دماغی افعال میں تبدیلیاں آتی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مثال کے طور پر ڈوپامائن اور سیروٹونین کی سطح کم ہوتی ہے جس سے مزاج پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور لوگ ڈپریشن یا زیادہ غصہ کرنے لگتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61cb20141c0ae'&gt;بالوں، ناخنوں اور جلد کے مسائل&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;بال، ناخن اور جلد تینوں ہی مختلف پروٹیشنز جیسے کولیگن اور کیرٹین سے بنتے ہیں، جب جسم میں ان کی کمی ہوتی ہے تو ناخن بھربھرے پن یا بال خشک، پتلے اور جلد پرت دار ہوجاتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61cb20141c0cf'&gt;کمزوری اور تھکاوٹ&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ محض ایک ہفتے تک غذا میں پروٹین کی مناسب مقدار کا استعمال نہ کرنا حرکت اور جسمانی انداز پر اثرانداز ہونے والے مسلز پر منفی اثرات مرتب کرسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خاص طور پر اگر آپ کی عمر 55 سال یا اس سے زیادہ ہو اور وقت کے ساتھ پروٹین کی کمی کے نتیجے میں مسلز کا حجم گھٹنے لگتا ہے جس سے جسمانی مضبوطی کم ہوتی ہے اور توازن برقرار رکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اور ہاں میٹابولزم کی رفتار بھی سست ہوجاتی ہے جبکہ خون کی کمی کا سامنا بھی ہوسکتا ہے جس سے تھکاوٹ کی شکایت کا سامنا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61cb20141c0ee'&gt;بھوک&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;پروٹین جسم کا ایندھن ہے، تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوتا ہے کہ پروٹین سے بھرپور غذائیں پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرے رکھنے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے برعکس پروٹین کی کمی کے نتیجے میں لوگوں کو زیادہ بھوک لگتی ہے اور ضرورت سے زیادہ غذا جزوبدن بناتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61cb20141c10c'&gt;زخموں کے بھرنے میں تاخیر&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;پروٹین کی کمی کے شکار افراد کے معمولی زخم اور خراشیں بھرنے میں کافی وقت لگ جاتا ہے، یہ بھی جسم کے مناسب مقدار میں کولیگن نہ بنانے کا نتیجہ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بلڈ کلاٹ کے لیے بھی ہمارے جسم کو پروٹینز کی ضرورت ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61cb20141c127'&gt;بیمار رہنا یا بار بار بیمار ہونا&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;خون میں موجود امینو ایسڈز مدافعتی نظام کو خون کے سفید خلیات کو متحرک کرکے وائرسز سے لڑنے والے اینٹی باڈیز بنانے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہمیں دیگر غذائی اجزا کو ہضم اور جذب کرنے کے لیے بھی پروٹین کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ جسم صحت مند رہ سکے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایسے شواہد بھی موجود ہیں جن سے عندیہ ملتا ہے کہ پروٹین معدے میں موجود امراض سے لڑنے والے بیکٹریا کی سطح میں بھی تبدیلی لاتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61cb20141c143'&gt;جگر پر چربی چڑھنا&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;جگر پر چربی چڑھنا پروٹین کی کمی کی عام ترین علامات میں سے ایک ہے اور اگر اس کا علاج نہ کرایا جائے تو یہ جگر کے امراض کا باعث بن سکتی ہے جیسے ورم چڑھنا، خراشیں پڑنا اور لیور فیلیئر وغیرہ۔ایسا عام طور پر الکحل استعمال کرنے والوں، موٹاپے کے شکار افراد کے ساتھ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پروٹین جسمانی وزن میں کمی لانے کے لیے بہترین غذائی جز ہے کیونکہ اس سے پیٹ زیادہ دیر تک بھرا رہتا ہے جبکہ پروٹین جسم کے لیے اضافی چربی کے ذخیرے کو بھی مشکل بناتا ہے۔</p>

<p>مگر اس سے ہٹ کر بھی انسانی جسم کے افعال کے لیے پروٹین کی اہمیت بہت زیادہ ہے، جسمانی وزن میں کمی، مسلز بنانے اور دیگر کے لیے اس جز کی ضرورت ہوتی ہے۔</p>

<p>ایک تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں ایک ارب افراد پروٹین کی کمی کا شکار ہیں، خصوصاً وسطی افریقہ اور جنوبی ایشیایعنی ہمارا اپنا خطہ، جہاں 30 فیصد بچوں کو بہت کم پروٹین مل پاتی ہے۔</p>

<p>طبی ماہرین کے مطابق بالغ مرد کے لیے روزانہ پروٹین کی ضرورت 56 گرام، خواتین کے لیے 40 سے 50 گرام جبکہ بچوں کے لیے 19 سے 34 گرام (ان کی عمر پر اس کا انحصار ہے) ہے۔</p>

<p>انہوں نے مزید بتایا کہ دن بھر کی غذائی کیلوریز کا کم از کم 10 فیصد حصہ پروٹین پر مبنی ہونا چاہیے جو انڈوں، چکن، دہی اور متعدد غذاؤں سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔</p>

<p>تاہم جسم میں <a href="https://www.webmd.com/diet/ss/slideshow-not-enough-protein-signs"><strong>پروٹین کی کمی</strong></a> کا اندازہ کیسے لگایا جائے ؟ اس کی علامات درج ذیل ہیں۔</p>

<h3 id='61cb20141c01c'>سوجن</h3>

<p>جسم میں پروٹین کی کمی کی ایک سب سے عام علامت سوجن ہے بالخصوص پیٹ، ٹانگوں، پیروں اور ہاتھوں میں۔ </p>

<p>اس کی ممکنہ وجہ یہ ہے کہ پروٹینز خون میں گردش کرتے ہیں اور سیال کو ٹشوز میں جمع ہونے سے روکتے ہیں۔</p>

<h3 id='61cb20141c089'>چڑچڑا پن</h3>

<p>ہمارا دماغ نیورو ٹرانسمیٹرز نامی کیمیکلز کو خلیات تک تفصیلات پہنچانے کے لیے استعمال کرتا ہے، متعدد نیورو ٹرانسمیٹرز امینو ایسڈز سے بنتے ہیں جو پروٹین کا حصہ ہوتے ہیں۔</p>

<p>تو پروٹین کی کمی کے نتیجے میں جسم مناسب مقدار میں نیورو ٹرانسمیٹرز بنا نہیں پاتا جس کے نتیجے میں دماغی افعال میں تبدیلیاں آتی ہیں۔</p>

<p>مثال کے طور پر ڈوپامائن اور سیروٹونین کی سطح کم ہوتی ہے جس سے مزاج پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور لوگ ڈپریشن یا زیادہ غصہ کرنے لگتے ہیں۔</p>

<h3 id='61cb20141c0ae'>بالوں، ناخنوں اور جلد کے مسائل</h3>

<p>بال، ناخن اور جلد تینوں ہی مختلف پروٹیشنز جیسے کولیگن اور کیرٹین سے بنتے ہیں، جب جسم میں ان کی کمی ہوتی ہے تو ناخن بھربھرے پن یا بال خشک، پتلے اور جلد پرت دار ہوجاتی ہے۔</p>

<h3 id='61cb20141c0cf'>کمزوری اور تھکاوٹ</h3>

<p>تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ محض ایک ہفتے تک غذا میں پروٹین کی مناسب مقدار کا استعمال نہ کرنا حرکت اور جسمانی انداز پر اثرانداز ہونے والے مسلز پر منفی اثرات مرتب کرسکتا ہے۔</p>

<p>خاص طور پر اگر آپ کی عمر 55 سال یا اس سے زیادہ ہو اور وقت کے ساتھ پروٹین کی کمی کے نتیجے میں مسلز کا حجم گھٹنے لگتا ہے جس سے جسمانی مضبوطی کم ہوتی ہے اور توازن برقرار رکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔</p>

<p>اور ہاں میٹابولزم کی رفتار بھی سست ہوجاتی ہے جبکہ خون کی کمی کا سامنا بھی ہوسکتا ہے جس سے تھکاوٹ کی شکایت کا سامنا ہوتا ہے۔</p>

<h3 id='61cb20141c0ee'>بھوک</h3>

<p>پروٹین جسم کا ایندھن ہے، تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوتا ہے کہ پروٹین سے بھرپور غذائیں پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرے رکھنے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔</p>

<p>اس کے برعکس پروٹین کی کمی کے نتیجے میں لوگوں کو زیادہ بھوک لگتی ہے اور ضرورت سے زیادہ غذا جزوبدن بناتے ہیں۔</p>

<h3 id='61cb20141c10c'>زخموں کے بھرنے میں تاخیر</h3>

<p>پروٹین کی کمی کے شکار افراد کے معمولی زخم اور خراشیں بھرنے میں کافی وقت لگ جاتا ہے، یہ بھی جسم کے مناسب مقدار میں کولیگن نہ بنانے کا نتیجہ ہوتا ہے۔</p>

<p>بلڈ کلاٹ کے لیے بھی ہمارے جسم کو پروٹینز کی ضرورت ہوتی ہے۔</p>

<h3 id='61cb20141c127'>بیمار رہنا یا بار بار بیمار ہونا</h3>

<p>خون میں موجود امینو ایسڈز مدافعتی نظام کو خون کے سفید خلیات کو متحرک کرکے وائرسز سے لڑنے والے اینٹی باڈیز بنانے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔</p>

<p>ہمیں دیگر غذائی اجزا کو ہضم اور جذب کرنے کے لیے بھی پروٹین کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ جسم صحت مند رہ سکے۔</p>

<p>ایسے شواہد بھی موجود ہیں جن سے عندیہ ملتا ہے کہ پروٹین معدے میں موجود امراض سے لڑنے والے بیکٹریا کی سطح میں بھی تبدیلی لاتے ہیں۔</p>

<h3 id='61cb20141c143'>جگر پر چربی چڑھنا</h3>

<p>جگر پر چربی چڑھنا پروٹین کی کمی کی عام ترین علامات میں سے ایک ہے اور اگر اس کا علاج نہ کرایا جائے تو یہ جگر کے امراض کا باعث بن سکتی ہے جیسے ورم چڑھنا، خراشیں پڑنا اور لیور فیلیئر وغیرہ۔ایسا عام طور پر الکحل استعمال کرنے والوں، موٹاپے کے شکار افراد کے ساتھ ہوتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1174643</guid>
      <pubDate>Tue, 28 Dec 2021 19:32:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/12/61cb0147e1bfe.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/12/61cb0147e1bfe.jpg"/>
        <media:title>— شٹر اسٹاک فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>8 وجوہات جو پورا سال کھجور کھانا عادت بنانے کی اہمیت ظاہر کریں
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1171873/</link>
      <description>&lt;p&gt;کھجور کھانا سنت نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ پھل چھ ہزار قبل مسیح سے کاشت کیا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ چند سب سے میٹھے پھلوں میں سے ایک ہے اور اس کی متعدد اقسام ہوتی ہیں، وہ سب ہی صحت کے لیے بھی فائدہ مند ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کھجور میں فائبر، پوٹاشیم، کاپر، مینگنیز، میگنیشم اور وٹامن بی سکس جیسے اجزا شامل ہوتے ہیں جو کہ متعدد طبی فوائد کا باعث بنتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اچھی بات یہ ہے کہ کھجوروں کا پورا سال استعمال کیا جاسکتا ہے چاہے وہ تازہ پھل کی شکل میں ہو یا خشک یا ڈرائی شکل میں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1170565' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2021/10/617183b329976.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/10/617183b329976.png 280w, https://i.dawn.com/large/2021/10/617183b329976.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2021/10/617183b329976.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دونوں ہی شکلوں میں یہ پھل صحت کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہاں طبی سائنس کے تسلیم شدہ وہ &lt;a href="https://www.dailysabah.com/life/food/8-reasons-you-should-be-eating-dates-the-fruit-of-ramadan-year-round"&gt;&lt;strong&gt;فوائد&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; جانیں جو کھجور کھانے سے آپ کو حاصل ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61961db077b20'&gt;بہترین غذائی اجزا سے بھرپور&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;کھجوریں غذائیت کے لحاظ سے بہترین پھل ہے، جس کی 100 گرام مقدار میں 277 کیلوریز، 75 گرام کاربوہائیڈریٹس، 7 گرام فائبر، پوٹاشیم کی روزانہ درکار مقدار کا 20 فیصد حصہ، میگنیشم کی روزانہ درکار مقدار کا 14 فیصد حصہ، کاپر کی روزانہ درکار مقدار کا 18 فیصد حصہ، مینگنیز کی روزانہ درکار مقدار کا 15 فیصد حصہ، آئرن کی روزانہ درکار مقدار کا 5 فیصد حصہ اور وٹامن بی 6 کی روزانہ درکار مقدار کا 12 فیصد حصہ جسم کو ملتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے ہٹ کر بھی کھجوریں اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہوتی ہیں جو متعدد طبی فوائد کا باعث ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61961db077b8d'&gt;پیٹ بھرے رکھنے میں مددگار&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;کھجوروں میں حل ہونے والے غذائی فائبر کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے، جو پانی کو اپنی جانب کھینچتا ہے، جس کے باعث پیٹ بھرنے کا احساس دیر تک برقرار رہتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فائبر سے بھرپور غذائیں جیسے کھجور پانی کے اجتماع سے کھانے کی اشتہا پر کنٹرول اور پیٹ بھرے رکھنے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61961db077bb0'&gt;قوت مدافعت کے لیے بہترین&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوا ہے کہ کھجوروں سے مدافعتی نظام متحرک ہوتا ہے، جس کی وجہ اس میں موجود مختلف اجزا ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے علاوہ کھجوروں میں فینولک مرکبات اور کیروٹینز کے ساتھ ساتھ وٹامنز کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جو مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61961db077bd0'&gt;چینی کی اشتہا ختم ہونا&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;چینی یا اس سے بنی اشیا میں کاربوہائیڈریٹس کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جس کے باعث ان کے استعمال سے بلڈ شوگر کی سطح بہت تیزی سے اوپر جاتی ہے اور پھر نیچے آتی ہے، جو طویل المعیاد بنیادوں پر ذیابیطس، جسمانی وزن میں اضافے اور دیگر مسائل کا خطرہ بڑھتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے مقابلے میں کھجوروں میں قدرتی مٹھاس زیادہ ہوتی ہے جو منہ میٹھا کرنے کی خواہش کی تشکین بھی کرتی ہے جبکہ یہ صحت کے لیے فائدہ مند پھل بھی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61961db077bee'&gt;قبض سے ریلیف&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;غذائی فائبر سے بھرپور غذائیں جیسے کھجور صحت بخش غذا کا اہم حصہ ہوتی ہیں۔ ماہرین کی جانب سے روزانہ 20 سے 30 گرام فائبر روزانہ جزوبدن بنانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوا ہے کہ غذائی فائبر کا استعمال بڑھانے سے آنتوں کے افعال درست ہوتے ہیں اور قبض کا خطرہ کم ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61961db077c0b'&gt;دل کے لیے فائدہ مند&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;کھجوریں پوٹاشیم کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے، ایک ایسا ضروری منرل جو جسم میں سیال اور الیکٹرو لائٹ توازن کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پوٹاشیم عصبی نظام، نبض اور بلڈ پریشر کو ریگولیٹ کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے، ماہرین کے مطابق پوٹاشیم سے بھرپور غذا بلڈ پریشر کی سطح میں کمی لاتی ہے جس سے امراض قلب بشمول ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ کم ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61961db077c29'&gt;آنکھوں کے امراض سے تحفظ&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;کھجوروں میں ایسے مرکبات موجود ہیں جو عمر بڑھنے سے لاحق ہونے والے آنکھوں کے امراض کی روک تھام میں مدد ملتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوا ہے کہ کھجوریں zeaxanthin اور لیوٹین کے حصول کا اچھا ذریعہ ے، جو کیروٹٰنز کی ایسی اقسام ہیں جو آنکھوں کے ٹشوز میں ہوتی ہیں اور اینٹی آکسائیڈنٹس خصوصیات سے لیس ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ مرکبات عمر کے ساتھ آنے والے آنکھوں کے پٹھوں کی تنزلی اور موتیا سے تحفظ فراہم کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61961db077c46'&gt;اعصابی نظام اور جسمانی توانائی&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;کھجوروں میں بی وٹامنز بشمول بی 1، بی 2، بی 3 اور دیگر کی معتدل مقدار ہتی ہے جس سے روزانہ درکار وٹامن بی کے حصول میں مدد ملتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بی وٹامنز کاربوہائیڈریٹس، پروٹینز اور چکنائی کو میٹابولائز کرنے کا کام کرتے ہیں، جسم کو ان غذائی اجزا سے توانائی حاصل ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ وٹامنز اعصابی نظام کے صحت مند افعال میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، جب جسم کو ان وٹامنز کی کمی کا سامنا ہوتا ہے جسمانی توانائی میں کمی، کمزوری، تھکاوٹ اور توجہ مرکوز کرنے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61961db077c63'&gt;مضبوط ہڈیوں کی کنجی&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;جب ہڈیوں کی صحت کی بات ہو تو سب سے پہلے جس منرل کا خیال آتا ہے وہ کیلشیئم ہے، کیلشیئم کے حصول کے ساتھ ساتھ اسے جذب کرنا بھی بہت اہمیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کیلشیئم اور فاسفورس ایسے 2 منرلز ہیں جو اکھٹے مل کر ہڈیوں کی صحت کو تحفظ فراہم کرتے ہیں اور اکٹھے استعمال کرنے پر ان کے جذب ہونے کی شرح بڑھاتے ہین۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کھجوروں میں کیلشیئم، میگنیشم اور زنک کے ساتھ فاسفورس جیسے منرلز موجود ہیں، جس سے ہڈیوں کی صھت کو بہتر بنانے اور ہڈیوں کے امراض کی روک تھام میں مدد مل سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کھجور کھانا سنت نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ پھل چھ ہزار قبل مسیح سے کاشت کیا جارہا ہے۔</p>

<p>یہ چند سب سے میٹھے پھلوں میں سے ایک ہے اور اس کی متعدد اقسام ہوتی ہیں، وہ سب ہی صحت کے لیے بھی فائدہ مند ہیں۔</p>

<p>کھجور میں فائبر، پوٹاشیم، کاپر، مینگنیز، میگنیشم اور وٹامن بی سکس جیسے اجزا شامل ہوتے ہیں جو کہ متعدد طبی فوائد کا باعث بنتے ہیں۔</p>

<p>اچھی بات یہ ہے کہ کھجوروں کا پورا سال استعمال کیا جاسکتا ہے چاہے وہ تازہ پھل کی شکل میں ہو یا خشک یا ڈرائی شکل میں۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1170565' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2021/10/617183b329976.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/10/617183b329976.png 280w, https://i.dawn.com/large/2021/10/617183b329976.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2021/10/617183b329976.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>دونوں ہی شکلوں میں یہ پھل صحت کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے۔</p>

<p>یہاں طبی سائنس کے تسلیم شدہ وہ <a href="https://www.dailysabah.com/life/food/8-reasons-you-should-be-eating-dates-the-fruit-of-ramadan-year-round"><strong>فوائد</strong></a> جانیں جو کھجور کھانے سے آپ کو حاصل ہوسکتے ہیں۔</p>

<h3 id='61961db077b20'>بہترین غذائی اجزا سے بھرپور</h3>

<p>کھجوریں غذائیت کے لحاظ سے بہترین پھل ہے، جس کی 100 گرام مقدار میں 277 کیلوریز، 75 گرام کاربوہائیڈریٹس، 7 گرام فائبر، پوٹاشیم کی روزانہ درکار مقدار کا 20 فیصد حصہ، میگنیشم کی روزانہ درکار مقدار کا 14 فیصد حصہ، کاپر کی روزانہ درکار مقدار کا 18 فیصد حصہ، مینگنیز کی روزانہ درکار مقدار کا 15 فیصد حصہ، آئرن کی روزانہ درکار مقدار کا 5 فیصد حصہ اور وٹامن بی 6 کی روزانہ درکار مقدار کا 12 فیصد حصہ جسم کو ملتا ہے۔</p>

<p>اس سے ہٹ کر بھی کھجوریں اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہوتی ہیں جو متعدد طبی فوائد کا باعث ہے۔</p>

<h3 id='61961db077b8d'>پیٹ بھرے رکھنے میں مددگار</h3>

<p>کھجوروں میں حل ہونے والے غذائی فائبر کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے، جو پانی کو اپنی جانب کھینچتا ہے، جس کے باعث پیٹ بھرنے کا احساس دیر تک برقرار رہتا ہے۔</p>

<p>فائبر سے بھرپور غذائیں جیسے کھجور پانی کے اجتماع سے کھانے کی اشتہا پر کنٹرول اور پیٹ بھرے رکھنے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔</p>

<h3 id='61961db077bb0'>قوت مدافعت کے لیے بہترین</h3>

<p>تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوا ہے کہ کھجوروں سے مدافعتی نظام متحرک ہوتا ہے، جس کی وجہ اس میں موجود مختلف اجزا ہیں۔</p>

<p>اس کے علاوہ کھجوروں میں فینولک مرکبات اور کیروٹینز کے ساتھ ساتھ وٹامنز کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جو مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔</p>

<h3 id='61961db077bd0'>چینی کی اشتہا ختم ہونا</h3>

<p>چینی یا اس سے بنی اشیا میں کاربوہائیڈریٹس کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جس کے باعث ان کے استعمال سے بلڈ شوگر کی سطح بہت تیزی سے اوپر جاتی ہے اور پھر نیچے آتی ہے، جو طویل المعیاد بنیادوں پر ذیابیطس، جسمانی وزن میں اضافے اور دیگر مسائل کا خطرہ بڑھتا ہے۔</p>

<p>اس کے مقابلے میں کھجوروں میں قدرتی مٹھاس زیادہ ہوتی ہے جو منہ میٹھا کرنے کی خواہش کی تشکین بھی کرتی ہے جبکہ یہ صحت کے لیے فائدہ مند پھل بھی ہے۔</p>

<h3 id='61961db077bee'>قبض سے ریلیف</h3>

<p>غذائی فائبر سے بھرپور غذائیں جیسے کھجور صحت بخش غذا کا اہم حصہ ہوتی ہیں۔ ماہرین کی جانب سے روزانہ 20 سے 30 گرام فائبر روزانہ جزوبدن بنانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔</p>

<p>تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوا ہے کہ غذائی فائبر کا استعمال بڑھانے سے آنتوں کے افعال درست ہوتے ہیں اور قبض کا خطرہ کم ہوتا ہے۔</p>

<h3 id='61961db077c0b'>دل کے لیے فائدہ مند</h3>

<p>کھجوریں پوٹاشیم کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے، ایک ایسا ضروری منرل جو جسم میں سیال اور الیکٹرو لائٹ توازن کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔</p>

<p>پوٹاشیم عصبی نظام، نبض اور بلڈ پریشر کو ریگولیٹ کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے، ماہرین کے مطابق پوٹاشیم سے بھرپور غذا بلڈ پریشر کی سطح میں کمی لاتی ہے جس سے امراض قلب بشمول ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ کم ہوتا ہے۔</p>

<h3 id='61961db077c29'>آنکھوں کے امراض سے تحفظ</h3>

<p>کھجوروں میں ایسے مرکبات موجود ہیں جو عمر بڑھنے سے لاحق ہونے والے آنکھوں کے امراض کی روک تھام میں مدد ملتی ہے۔</p>

<p>تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوا ہے کہ کھجوریں zeaxanthin اور لیوٹین کے حصول کا اچھا ذریعہ ے، جو کیروٹٰنز کی ایسی اقسام ہیں جو آنکھوں کے ٹشوز میں ہوتی ہیں اور اینٹی آکسائیڈنٹس خصوصیات سے لیس ہوتی ہیں۔</p>

<p>یہ مرکبات عمر کے ساتھ آنے والے آنکھوں کے پٹھوں کی تنزلی اور موتیا سے تحفظ فراہم کرسکتے ہیں۔</p>

<h3 id='61961db077c46'>اعصابی نظام اور جسمانی توانائی</h3>

<p>کھجوروں میں بی وٹامنز بشمول بی 1، بی 2، بی 3 اور دیگر کی معتدل مقدار ہتی ہے جس سے روزانہ درکار وٹامن بی کے حصول میں مدد ملتی ہے۔</p>

<p>بی وٹامنز کاربوہائیڈریٹس، پروٹینز اور چکنائی کو میٹابولائز کرنے کا کام کرتے ہیں، جسم کو ان غذائی اجزا سے توانائی حاصل ہوتی ہے۔</p>

<p>یہ وٹامنز اعصابی نظام کے صحت مند افعال میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، جب جسم کو ان وٹامنز کی کمی کا سامنا ہوتا ہے جسمانی توانائی میں کمی، کمزوری، تھکاوٹ اور توجہ مرکوز کرنے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔</p>

<h3 id='61961db077c63'>مضبوط ہڈیوں کی کنجی</h3>

<p>جب ہڈیوں کی صحت کی بات ہو تو سب سے پہلے جس منرل کا خیال آتا ہے وہ کیلشیئم ہے، کیلشیئم کے حصول کے ساتھ ساتھ اسے جذب کرنا بھی بہت اہمیت رکھتا ہے۔</p>

<p>کیلشیئم اور فاسفورس ایسے 2 منرلز ہیں جو اکھٹے مل کر ہڈیوں کی صحت کو تحفظ فراہم کرتے ہیں اور اکٹھے استعمال کرنے پر ان کے جذب ہونے کی شرح بڑھاتے ہین۔</p>

<p>کھجوروں میں کیلشیئم، میگنیشم اور زنک کے ساتھ فاسفورس جیسے منرلز موجود ہیں، جس سے ہڈیوں کی صھت کو بہتر بنانے اور ہڈیوں کے امراض کی روک تھام میں مدد مل سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1171873</guid>
      <pubDate>Thu, 18 Nov 2021 14:32:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/11/618137f4b3d91.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/11/618137f4b3d91.jpg"/>
        <media:title>کھجور کھانا سنت نبوی ہے— شٹر اسٹاک فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا اونٹنی کا دودھ ذیابیطس کے علاج کے لیے مؤثر ہے؟
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1171546/</link>
      <description>&lt;p&gt;اونٹنی کا دودھ صدیوں سے مشرق وسطیٰ سمیت دنیا کے کئی حصوں میں طبی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے جس کی وجہ اس میں موجود کم چکنائی (فیٹ) اور بنیادی غذائی اجزا کی کثرت ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کہ اونٹنی کا دودھ پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقبولیت حاصل کر رہا ہے، بالخصوص ایسے افراد میں جن کا جسم لیکٹوز (یعنی مِلک شُوگَر) قبول نہیں کرتا کیونکہ اونٹنی کا دودھ عام دودھ کی نسبت زیادہ آسانی سے ہضم کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1170565' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2021/10/617183b329976.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/10/617183b329976.png 280w, https://i.dawn.com/large/2021/10/617183b329976.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2021/10/617183b329976.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حالیہ برسوں میں طبی سائنس نے اونٹنی کے دودھ کے حیران کن فوائد پر روشنی ڈالی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یو اے ای یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر آف بائیولوجی محمد ایوب اور ایسوسی ایٹ پروفیسر آف فوڈ سائنس ساجد مقصود نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ دنیا کے مختلف حصوں میں مسلمانوں میں اونٹنی کے دودھ کے انسانی صحت اور غذائیت پر فائدہ مند اثرات پر یقین رکھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;متعدد تحقیقی رپورٹس میں اس &lt;a href="https://www.webmd.com/diabetes/news/20210810/camel-milk-superfood-for-diabetes"&gt;&lt;strong&gt;دودھ کو سپر فوڈ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; قرار دیا گیا ہے جو جراثیم کش، اینٹی آکسائیڈنٹ اور اینٹی ہائپر ٹینسیو (فشار خون کی روک تھام کرنے والا) ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مگر محققین کی توجہ جس چیز نے اپنی توجہ مرکوز کروائی، وہ جانوروں اور انسانوں پر کلینکل تحقیقی رپورٹس میں اونٹنی کے دودھ سے ذیابیطس سے جڑے عناصر جیسے بلڈ شوگر کنٹرول سے لے کر انسولین کی مزاحمت کے حوالے سے فوائد کا ثابت ہونا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تو کیا واقعی یہ دودھ ذیابیطس کی روک تھام یا علاج کے حوالے سے مفید ہے؟&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='617a073af2119'&gt;یہ دودھ اتنا خاص کیوں ہے؟&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;کہا جاتا ہے کہ اونٹوں کو 3 سے 4 ہزار سال پہلے انسانوں نے پالتو بنایا تھا، یہ جانور متعدد منفرد خصوصیات کا مالک ہے، جیسے اپنے کوہان میں 36 کلو تک چکنائی کو محفوظ کرنے کی صلاحیت، 100 میل تک چلنے اور 49 ڈگری درجہ حرارت میں بغیر پانی کے لگ بھگ ایک ہفتے تک زندہ رہنے کی صلاحیت وغیرہ۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اونٹ ان جانوروں میں شامل ہے جو غذا کو ہضم کرنے سے قبل خمیر بناتے ہیں اور بہت کم سے بھی بہت زیادہ حاصل کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ متعدد اقسام کے پودوں کو کھاتے ہیں اور ان کو گائے کے مقابلے میں زیادہ بہتر طریقے سے ہضم کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اونٹنی کے دودھ پر تحقیق کا سلسلہ 3 سے 4 دہائی قبل شروع ہوا تھا اور بظاہر گائے اور اس دودھ میں چکنائی، پروٹین، لیکٹوز اور کیلشیئم کی سطح قابل موازنہ ہے مگر زیادہ گہرائی میں جانے سے اس دودھ کے منفرد فوائد سامنے آئے جیسے وٹامن سی کی بہت زیادہ مقدار، اہم غذائی منرلز اور زیادہ آسانی سے ہضم ہونے کی صلاحیت وغیرہ اسے گائے کے دودھ سے زیادہ بہتر بناتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کچھ ٹرائلز میں دریافت کیا گیا کہ جن بچوں کو گائے کے دودھ سے الرجی ہوتی ہے وہ اونٹنی کا دودھ بغیر کسی مسئلے کے استعمال کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیقی رپورٹس کے مطابق اجزا کے لحاظ سے اونٹنی کا دودھ ماں کے دودھ سے کافی ملتا جلتا ہے، دونوں میں پروٹین ہوتی ہیں اور وہ اجزا نہیں ہوتے جو دودھ سے الرجی کا باعث بنتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یو اے ای میں امپرئیل کالج لندن ڈائیبیٹس سینٹر کے ماہرین نادر لیسان اور ایڈم بکلے نے بتایا کہ غذائی معیار سے قطع نظر اونٹنی کا دودھ ذیابیطس سے بچاؤ کی خصوصیات سے بھی لیس ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان دونوں نے انسولین کے ردعمل پر اونٹنی کے دودھ کے اثرات کا ایک کلینکل ٹرائل بھی کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یو اے ای یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر آف بائیولوجی محمد ایوب اور ایسوسی ایٹ پروفیسر آف فوڈ سائنس ساجد مقصود کی ایک حالیہ لیبارٹری تحقیق میں ذیابیطس کے حوالے سے اونٹنی کے دودھ کے اثرات پر مزید روشنی ڈالی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='617a073af2164'&gt;تحقیقی رپورٹس کے نتائج&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;ایسے ممالک جہاں یہ دودھ آسانی سے دستیاب ہے وہاں اس کے فوائد پہلے ہی نظر آرہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مثال کے طور پر شمالی بھارت میں اونٹ پالنے والی برادری پر ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو لوگ باقاعدگی سے اونٹنی کا دودھ پیتے ہیں ان میں ذیابیطس کی شرح صفر فیصد ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عالمی سطح پر اونٹنی کے دودھ کی پروڈکشن میں 1961 سے اب تک 4.6 گنا اضافہ ہوچکا ہے جس سے روایتی خطوں سے ہٹ کر بھی اس کے استعمال کی مقبولیت کا عندیہ ملتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یورپی یونین میں بھی 'کیمل ملک پراجیکٹ' کی کوششوں کو سپوٹ کیا جارہا ہے جبکہ بحیرہ روم کے خطے میں بھی اس کے حوالے سے دلچسپی بڑھی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چین سے لے کر آسٹریلیا میں اونٹنی کے دودھ سے بنی مصنوعات کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے جبکہ امریکا میں مختلف کمپنیوں کی جانب سے اس کی پروڈکشن بڑھانے پر کام ہورہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مگر اب بھی یہ گائے کے دودھ سے بہت مہنگا ہے اور متعدد افراد اسے روزانہ خریدنے کی طاقت نہیں رکھتے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ابھی کمرشل پراڈکٹ کی شکل میں اونٹنی کے دودھ کے فوائد کے تسلسل کے حوالے سے بھی بہت کچھ معلوم نہیں ہوسکا۔ 
اس دودھ کا معیار کا انحصار مختلف عناصر جیسے لوکیشن اسٹیج، خطہ، اونٹوں کی غذائی عادات وغیرہ پر ہوتا ہے تو ابھی یہ جاننا باقی ہے کہ ان سے دودھ پر کس حد تک اثرات مرتب ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='617a073af217a'&gt;ذیابیطس کے مریضوں کے لیے مشورہ&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;مگر محمد ایوب اور ساجد مقصود نے اپنی حالیہ تحقیق میں کہا کہ اونٹنی کا دودھ ذیابیطس کے نئے علاج کے لیے اہم ترین ثابت ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مگر ذیابیطس کے جو مریض اس دودھ کو آزمانا چاہتے ہیں انہیں کیا باتیں ذہن میں رکھنی چاہیے؟&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سب سے پہلی چیز تو یہ ہے کہ اس دودھ کو ابالے بغیر پینے سے گریز کرنا چاہیے ورنہ ای کولی اور دیگر جراثیم جسم میں جاکر نقصان پہنچا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی طرح اگرچہ متعدد تحقیقی رپورٹس میں عندیہ دیا گیا ہے کہ اونٹنی کا دودھ بلڈ شوگر کنٹرول کو بہتر اور ذیابیطس ٹائپ ون کے مریضوں میں انسولین کی ضرورت کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مگر ماہرین نے مریضوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اسے انسولین کا متبادل مت سمجھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اب تک تحقیقی رپورٹس میں یہ ضرور عندیہ ملا ہے کہ یہ دودھ ذیابیطس کے خلاف مددگار ثابت ہوسکتا ہے مگر اب بھی اس بارے میں بہت کچھ جاننا باقی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اونٹنی کا دودھ صدیوں سے مشرق وسطیٰ سمیت دنیا کے کئی حصوں میں طبی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے جس کی وجہ اس میں موجود کم چکنائی (فیٹ) اور بنیادی غذائی اجزا کی کثرت ہے۔</p>

<p>اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کہ اونٹنی کا دودھ پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقبولیت حاصل کر رہا ہے، بالخصوص ایسے افراد میں جن کا جسم لیکٹوز (یعنی مِلک شُوگَر) قبول نہیں کرتا کیونکہ اونٹنی کا دودھ عام دودھ کی نسبت زیادہ آسانی سے ہضم کیا جا سکتا ہے۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1170565' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2021/10/617183b329976.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/10/617183b329976.png 280w, https://i.dawn.com/large/2021/10/617183b329976.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2021/10/617183b329976.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>حالیہ برسوں میں طبی سائنس نے اونٹنی کے دودھ کے حیران کن فوائد پر روشنی ڈالی ہے۔</p>

<p>یو اے ای یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر آف بائیولوجی محمد ایوب اور ایسوسی ایٹ پروفیسر آف فوڈ سائنس ساجد مقصود نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ دنیا کے مختلف حصوں میں مسلمانوں میں اونٹنی کے دودھ کے انسانی صحت اور غذائیت پر فائدہ مند اثرات پر یقین رکھا جاتا ہے۔</p>

<p>متعدد تحقیقی رپورٹس میں اس <a href="https://www.webmd.com/diabetes/news/20210810/camel-milk-superfood-for-diabetes"><strong>دودھ کو سپر فوڈ</strong></a> قرار دیا گیا ہے جو جراثیم کش، اینٹی آکسائیڈنٹ اور اینٹی ہائپر ٹینسیو (فشار خون کی روک تھام کرنے والا) ہوتا ہے۔</p>

<p>مگر محققین کی توجہ جس چیز نے اپنی توجہ مرکوز کروائی، وہ جانوروں اور انسانوں پر کلینکل تحقیقی رپورٹس میں اونٹنی کے دودھ سے ذیابیطس سے جڑے عناصر جیسے بلڈ شوگر کنٹرول سے لے کر انسولین کی مزاحمت کے حوالے سے فوائد کا ثابت ہونا ہے۔</p>

<p>تو کیا واقعی یہ دودھ ذیابیطس کی روک تھام یا علاج کے حوالے سے مفید ہے؟</p>

<h3 id='617a073af2119'>یہ دودھ اتنا خاص کیوں ہے؟</h3>

<p>کہا جاتا ہے کہ اونٹوں کو 3 سے 4 ہزار سال پہلے انسانوں نے پالتو بنایا تھا، یہ جانور متعدد منفرد خصوصیات کا مالک ہے، جیسے اپنے کوہان میں 36 کلو تک چکنائی کو محفوظ کرنے کی صلاحیت، 100 میل تک چلنے اور 49 ڈگری درجہ حرارت میں بغیر پانی کے لگ بھگ ایک ہفتے تک زندہ رہنے کی صلاحیت وغیرہ۔</p>

<p>اونٹ ان جانوروں میں شامل ہے جو غذا کو ہضم کرنے سے قبل خمیر بناتے ہیں اور بہت کم سے بھی بہت زیادہ حاصل کرتے ہیں۔</p>

<p>یہ متعدد اقسام کے پودوں کو کھاتے ہیں اور ان کو گائے کے مقابلے میں زیادہ بہتر طریقے سے ہضم کرتے ہیں۔</p>

<p>اونٹنی کے دودھ پر تحقیق کا سلسلہ 3 سے 4 دہائی قبل شروع ہوا تھا اور بظاہر گائے اور اس دودھ میں چکنائی، پروٹین، لیکٹوز اور کیلشیئم کی سطح قابل موازنہ ہے مگر زیادہ گہرائی میں جانے سے اس دودھ کے منفرد فوائد سامنے آئے جیسے وٹامن سی کی بہت زیادہ مقدار، اہم غذائی منرلز اور زیادہ آسانی سے ہضم ہونے کی صلاحیت وغیرہ اسے گائے کے دودھ سے زیادہ بہتر بناتے ہیں۔</p>

<p>کچھ ٹرائلز میں دریافت کیا گیا کہ جن بچوں کو گائے کے دودھ سے الرجی ہوتی ہے وہ اونٹنی کا دودھ بغیر کسی مسئلے کے استعمال کرسکتے ہیں۔</p>

<p>تحقیقی رپورٹس کے مطابق اجزا کے لحاظ سے اونٹنی کا دودھ ماں کے دودھ سے کافی ملتا جلتا ہے، دونوں میں پروٹین ہوتی ہیں اور وہ اجزا نہیں ہوتے جو دودھ سے الرجی کا باعث بنتے ہیں۔</p>

<p>یو اے ای میں امپرئیل کالج لندن ڈائیبیٹس سینٹر کے ماہرین نادر لیسان اور ایڈم بکلے نے بتایا کہ غذائی معیار سے قطع نظر اونٹنی کا دودھ ذیابیطس سے بچاؤ کی خصوصیات سے بھی لیس ہوتا ہے۔</p>

<p>ان دونوں نے انسولین کے ردعمل پر اونٹنی کے دودھ کے اثرات کا ایک کلینکل ٹرائل بھی کیا۔</p>

<p>یو اے ای یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر آف بائیولوجی محمد ایوب اور ایسوسی ایٹ پروفیسر آف فوڈ سائنس ساجد مقصود کی ایک حالیہ لیبارٹری تحقیق میں ذیابیطس کے حوالے سے اونٹنی کے دودھ کے اثرات پر مزید روشنی ڈالی گئی۔</p>

<h3 id='617a073af2164'>تحقیقی رپورٹس کے نتائج</h3>

<p>ایسے ممالک جہاں یہ دودھ آسانی سے دستیاب ہے وہاں اس کے فوائد پہلے ہی نظر آرہے ہیں۔</p>

<p>مثال کے طور پر شمالی بھارت میں اونٹ پالنے والی برادری پر ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو لوگ باقاعدگی سے اونٹنی کا دودھ پیتے ہیں ان میں ذیابیطس کی شرح صفر فیصد ہوتی ہے۔</p>

<p>عالمی سطح پر اونٹنی کے دودھ کی پروڈکشن میں 1961 سے اب تک 4.6 گنا اضافہ ہوچکا ہے جس سے روایتی خطوں سے ہٹ کر بھی اس کے استعمال کی مقبولیت کا عندیہ ملتا ہے۔</p>

<p>یورپی یونین میں بھی 'کیمل ملک پراجیکٹ' کی کوششوں کو سپوٹ کیا جارہا ہے جبکہ بحیرہ روم کے خطے میں بھی اس کے حوالے سے دلچسپی بڑھی ہے۔</p>

<p>چین سے لے کر آسٹریلیا میں اونٹنی کے دودھ سے بنی مصنوعات کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے جبکہ امریکا میں مختلف کمپنیوں کی جانب سے اس کی پروڈکشن بڑھانے پر کام ہورہا ہے۔</p>

<p>مگر اب بھی یہ گائے کے دودھ سے بہت مہنگا ہے اور متعدد افراد اسے روزانہ خریدنے کی طاقت نہیں رکھتے۔</p>

<p>ابھی کمرشل پراڈکٹ کی شکل میں اونٹنی کے دودھ کے فوائد کے تسلسل کے حوالے سے بھی بہت کچھ معلوم نہیں ہوسکا۔ 
اس دودھ کا معیار کا انحصار مختلف عناصر جیسے لوکیشن اسٹیج، خطہ، اونٹوں کی غذائی عادات وغیرہ پر ہوتا ہے تو ابھی یہ جاننا باقی ہے کہ ان سے دودھ پر کس حد تک اثرات مرتب ہوتے ہیں۔</p>

<h3 id='617a073af217a'>ذیابیطس کے مریضوں کے لیے مشورہ</h3>

<p>مگر محمد ایوب اور ساجد مقصود نے اپنی حالیہ تحقیق میں کہا کہ اونٹنی کا دودھ ذیابیطس کے نئے علاج کے لیے اہم ترین ثابت ہوسکتا ہے۔</p>

<p>مگر ذیابیطس کے جو مریض اس دودھ کو آزمانا چاہتے ہیں انہیں کیا باتیں ذہن میں رکھنی چاہیے؟</p>

<p>سب سے پہلی چیز تو یہ ہے کہ اس دودھ کو ابالے بغیر پینے سے گریز کرنا چاہیے ورنہ ای کولی اور دیگر جراثیم جسم میں جاکر نقصان پہنچا سکتے ہیں۔</p>

<p>اسی طرح اگرچہ متعدد تحقیقی رپورٹس میں عندیہ دیا گیا ہے کہ اونٹنی کا دودھ بلڈ شوگر کنٹرول کو بہتر اور ذیابیطس ٹائپ ون کے مریضوں میں انسولین کی ضرورت کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔</p>

<p>مگر ماہرین نے مریضوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اسے انسولین کا متبادل مت سمجھیں۔</p>

<p>اب تک تحقیقی رپورٹس میں یہ ضرور عندیہ ملا ہے کہ یہ دودھ ذیابیطس کے خلاف مددگار ثابت ہوسکتا ہے مگر اب بھی اس بارے میں بہت کچھ جاننا باقی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1171546</guid>
      <pubDate>Thu, 28 Oct 2021 07:13:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/10/617964d93a53a.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/10/617964d93a53a.jpg"/>
        <media:title>اونٹنی کا دودھ پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقبولیت حاصل کر رہا ہے — شٹر اسٹاک فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>زندگی میں کامیابی چاہتے ہیں تو یہ آسان کام آج ہی شروع کردیں
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1171538/</link>
      <description>&lt;p&gt;زندگی میں کامیابی اکثر ایک اسرار لگتی ہے، کچھ افراد سب کچھ حاصل کرلیتے ہیں اور دیگر پیچھے رہ جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یقیناً قسمت اور جینز زندگی میں کردار ادا کرتے ہیں مگر آپ کے اپنے رویے بھی کامیابی کو زیادہ یقینی بناتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تو اگر آپ زندگی میں کامیابی کے خواہشمند ہیں تو ان چند سادہ چیزوں یا عادات کو اپنالیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61794e79c419d'&gt;مسکراہٹ کا جادو&lt;/h3&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2021/10/6179431875bf2.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/10/6179431875bf2.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/10/6179431875bf2.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/10/6179431875bf2.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لوگ ملاقات کے بعد 3 سیکنڈ میں ہی آپ کے بارے میں رائے بنانے لگتے ہیں تو مسکراہٹ کے ساتھ درست آغاز کریں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسروں پر اچھا تاثر قائم کرنے کے ساتھ مسکراہٹ سے مزاج پر خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے، تناؤ کم ہوگا، مدافعتی نظام مضبوط اور بلڈ پریشر کی سطح میں معمولی سی کم ہوجائے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61794e79c4215'&gt;اپنے خواب کا پرجوش تعاقب&lt;/h3&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/04/5cb0cb5fde8d3.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2019/04/5cb0cb5fde8d3.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2019/04/5cb0cb5fde8d3.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2019/04/5cb0cb5fde8d3.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جو لوگ زندگی میں کامیابی حاصل کرتے ہیں ان میں اس بات کا ٹھوس احساس ہوتا ہے کہ وہ کیا کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اپنے عزم کو دریافت کرنے کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ بچپن میں آپ کیا بننے کا سوچتے تھے، کیا چیز آپ کو پرجوش کردیتی ہے؟ اس سے آپ کو کسی حد تک اپنا راستہ مل سکے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61794e79c4235'&gt;روشن پہلو پر توجہ مرکوز کریں&lt;/h3&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/04/5cb0cc1970213.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2019/04/5cb0cc1970213.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2019/04/5cb0cc1970213.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2019/04/5cb0cc1970213.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مستقبل کے بارے میں مایوسی کے بجائے اچھی سوچ سے بڑھاپے کی علامات کی رفتار بھی سست ہوتی ہے اور بیماری کو شکست دینے میں مدد ملتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;توجہ مرکوز کریں کہ زندگی میں کیا کچھ چل رہا ہے اور اسے بہتر بنانے کے لیے منصوبہ بندی کریں، آپ کو اچھی چیزوں کو سراہنا چاہیے اور منفی چیزوں کو پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھ جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61794e79c4249'&gt;جسمانی سرگرمیاں&lt;/h3&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/04/5cb0ccc9c8c57.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2019/04/5cb0ccc9c8c57.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2019/04/5cb0ccc9c8c57.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2019/04/5cb0ccc9c8c57.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جسمانی سرگرمیاں ذہن کو تیز کرتی ہیں، نیند اچھی ہوتی ہے اور ذہنی صحت بھی بہتر ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہفتے میں 5 دن، دن بھر میں 30 منٹ کی جسمانی سرگرمیوں کو ہدف بنائیں جس سے جسمانی وزن کو کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی، جسم مضبوط ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61794e79c425c'&gt;کھانے کے آداب کا خیال رکھیں&lt;/h3&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2021/10/61794318539e7.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/10/61794318539e7.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/10/61794318539e7.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/10/61794318539e7.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کھانے کے اداب زندگی کے بارے میں آپ کے مثبت رویے کا اظہار ثابت ہوسکتے ہیں اور آپ کی شخصیت کا اچھا تاثر قائم ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61794e79c426e'&gt;ہاتھوں کی صفائی&lt;/h3&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/04/5540e74fd1230.jpg?r=74331163" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/04/5540e74fd1230.jpg?r=74331163 500w, https://i.dawn.com/large/2015/04/5540e74fd1230.jpg?r=74331163 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/04/5540e74fd1230.jpg?r=74331163 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ناخنوں کو صاف رکھیں، ہاتھوں کو کھانے سے قبل یا ٹوائلٹ جانے کے بعد 20 سیکنڈ تک دھوئیں، یہ نزلہ زکام اور فلو سے تحفظ فراہم کرنے والا مفت نسخہ بھی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;صابن یا پانی موجود نہیں تو الکحل ملے ہینڈ سینی ٹائزر سے بھی مدد لی جاسکتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61794e79c4281'&gt;خوشبو سے مدد لیں&lt;/h3&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2021/10/6179431801042.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/10/6179431801042.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/10/6179431801042.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/10/6179431801042.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;صاف لباس، روزانہ نہانے کے ساتھ ساتھ پرفیوم شیمپو اور دیگر اپنی پسند کی خوشبوؤں کا استعمال کریں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سانس کو مہکانے کے لیے برش، خلال اور دیگر طریقوں سے مدد لیں اور ہاں پرفیوم کی کم مقدار کا ہی استعمال کریں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61794e79c429d'&gt;لباس&lt;/h3&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2021/10/61794427c3f57.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/10/61794427c3f57.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/10/61794427c3f57.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/10/61794427c3f57.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اچھا نظر آنا اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ آپ اپنے کام کے لیے تیار ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کامیابی کے لیے لباس زیب تن کرنے کے لیے سیاہ، گرے یا نیوی بلیو جیسے کلاسیک رنگوں سے آغاز کریں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لباس سے ہم رنگ جراب پہنیں اور جوتوں کو پالش کریں، بال اور ناخن کی خراش تراش کا خیال رکھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61794e79c42b8'&gt;دوسروں سے اچھا سلوک&lt;/h3&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2021/10/617943af80bc5.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/10/617943af80bc5.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/10/617943af80bc5.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/10/617943af80bc5.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اپنے ارگرد موجود افراد کے ساتھ اچھے اور نرم سلوک سے عندیہ ملتا ہے کہ آپ ان کو اہمیت دیتے ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اپنے ارگرد موجود افراد کے بارے میں سوچ کر فیصلہ کریں کہ آپ ان کے لیے کیا کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آپ کا رویہ ان کی توجہ کا مرکز ضرور بنے گا اور وہ آپ سے متاثر ہوں گے، دوسروں کے ساتھ سلوک سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ آپ اپنے بارے میں بھی اچھے خیالات رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61794e79c42d3'&gt;وقت کی پابندی&lt;/h3&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2021/10/617943af276e6.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/10/617943af276e6.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/10/617943af276e6.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/10/617943af276e6.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وقت کی پابندی کا خیال رکھنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ اپنے اور دیگر افراد کے وقت کا احترام کرتے ہیں اور اپنی شخصیت پر آپ کو کنٹرول حاصل ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اہم مواقع اور ملاقاتوں کے لیے ایک رات قبل تیاری کریں اور یہ تخمینہ لگانے کی کوشش کریں کہ کسی ٹاسک پر کتنا وقت لگ سکتا ہے اور اس کے مطابق ممکنہ رکاوٹوں جیسے ٹریفک جام یا دیگر کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبہ بندی کریں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61794e79c42ef'&gt;دوسروں کی مدد&lt;/h3&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/04/5cb0cd0800756.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2019/04/5cb0cd0800756.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2019/04/5cb0cd0800756.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2019/04/5cb0cd0800756.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسروں کی مدد کرنے والے افراد اکثر زندگی سے خوش ہوتے ہیں، خود اعتمادی سے لیس ہوتے ہیں اور زندگی کے مقصد کا فہم رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61794e79c430a'&gt;اپنے لیے وقت نکالیں&lt;/h3&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/04/5cb0cdc3ef5ab.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2019/04/5cb0cdc3ef5ab.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2019/04/5cb0cdc3ef5ab.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2019/04/5cb0cdc3ef5ab.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;زندگی کی مصروفیات سے گاہے بگاہے وقفہ لیں، یہ وقت کا ضیاع نہیں بلکہ آپ کی توانائی کو نئی زندگی ملے گی، تناؤ اور فکریں کم ہوں گی جبکہ زندگی سے لطف اندوز ہونے اور کچھ نیا جاننے میں مدد ملے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61794e79c4325'&gt;بلند آواز سے ہنسنا&lt;/h3&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2021/10/617945035188f.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/10/617945035188f.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/10/617945035188f.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/10/617945035188f.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہنسنا جسم کے لیے مفید ہوتا ہے بالخصوص دل کے لیے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیقی رپورٹس میں ثابت ہوا ہے کہ ہنسنا خون کی شریانوں کے لیے مفید ہے، جس سے امراض قلب سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61794e79c433f'&gt;زندگی میں حدود&lt;/h3&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2021/10/617945036e9c9.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/10/617945036e9c9.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/10/617945036e9c9.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/10/617945036e9c9.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کسی بھی چیز کی زیادتی نقصان دہ ہوتی ہے اور اس کا اطلاق ہر چیز میں ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تمباکو نوشی کرتے ہیں تو کوشش کریں کہ اس کو محدود کریں اور اسی طرح اپنی بری عادات کے لیے حدود کا تعین کریں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61794e79c4352'&gt;کامیابی میں تاخیر پر مایوس نہ ہوں&lt;/h3&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/04/5cb0cc71b988f.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2019/04/5cb0cc71b988f.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2019/04/5cb0cc71b988f.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2019/04/5cb0cc71b988f.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کامیابی سو میٹر کی دوڑ نہیں بلکہ ایک میراتھون ریس کی طرح ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگر آپ اپنے عزم کا تعاقب جاری رکھے ہوئے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ ٹھیک کام کررہے ہیں اور اس پر فخر ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>زندگی میں کامیابی اکثر ایک اسرار لگتی ہے، کچھ افراد سب کچھ حاصل کرلیتے ہیں اور دیگر پیچھے رہ جاتے ہیں۔</p>

<p>یقیناً قسمت اور جینز زندگی میں کردار ادا کرتے ہیں مگر آپ کے اپنے رویے بھی کامیابی کو زیادہ یقینی بناتے ہیں۔</p>

<p>تو اگر آپ زندگی میں کامیابی کے خواہشمند ہیں تو ان چند سادہ چیزوں یا عادات کو اپنالیں۔</p>

<h3 id='61794e79c419d'>مسکراہٹ کا جادو</h3>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2021/10/6179431875bf2.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/10/6179431875bf2.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/10/6179431875bf2.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/10/6179431875bf2.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>لوگ ملاقات کے بعد 3 سیکنڈ میں ہی آپ کے بارے میں رائے بنانے لگتے ہیں تو مسکراہٹ کے ساتھ درست آغاز کریں۔</p>

<p>دوسروں پر اچھا تاثر قائم کرنے کے ساتھ مسکراہٹ سے مزاج پر خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے، تناؤ کم ہوگا، مدافعتی نظام مضبوط اور بلڈ پریشر کی سطح میں معمولی سی کم ہوجائے گی۔</p>

<h3 id='61794e79c4215'>اپنے خواب کا پرجوش تعاقب</h3>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/04/5cb0cb5fde8d3.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2019/04/5cb0cb5fde8d3.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2019/04/5cb0cb5fde8d3.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2019/04/5cb0cb5fde8d3.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>جو لوگ زندگی میں کامیابی حاصل کرتے ہیں ان میں اس بات کا ٹھوس احساس ہوتا ہے کہ وہ کیا کررہے ہیں۔</p>

<p>اپنے عزم کو دریافت کرنے کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ بچپن میں آپ کیا بننے کا سوچتے تھے، کیا چیز آپ کو پرجوش کردیتی ہے؟ اس سے آپ کو کسی حد تک اپنا راستہ مل سکے گا۔</p>

<h3 id='61794e79c4235'>روشن پہلو پر توجہ مرکوز کریں</h3>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/04/5cb0cc1970213.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2019/04/5cb0cc1970213.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2019/04/5cb0cc1970213.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2019/04/5cb0cc1970213.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>مستقبل کے بارے میں مایوسی کے بجائے اچھی سوچ سے بڑھاپے کی علامات کی رفتار بھی سست ہوتی ہے اور بیماری کو شکست دینے میں مدد ملتی ہے۔</p>

<p>توجہ مرکوز کریں کہ زندگی میں کیا کچھ چل رہا ہے اور اسے بہتر بنانے کے لیے منصوبہ بندی کریں، آپ کو اچھی چیزوں کو سراہنا چاہیے اور منفی چیزوں کو پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھ جانا چاہیے۔</p>

<h3 id='61794e79c4249'>جسمانی سرگرمیاں</h3>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/04/5cb0ccc9c8c57.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2019/04/5cb0ccc9c8c57.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2019/04/5cb0ccc9c8c57.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2019/04/5cb0ccc9c8c57.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>جسمانی سرگرمیاں ذہن کو تیز کرتی ہیں، نیند اچھی ہوتی ہے اور ذہنی صحت بھی بہتر ہوتی ہے۔</p>

<p>ہفتے میں 5 دن، دن بھر میں 30 منٹ کی جسمانی سرگرمیوں کو ہدف بنائیں جس سے جسمانی وزن کو کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی، جسم مضبوط ہوگا۔</p>

<h3 id='61794e79c425c'>کھانے کے آداب کا خیال رکھیں</h3>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2021/10/61794318539e7.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/10/61794318539e7.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/10/61794318539e7.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/10/61794318539e7.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>کھانے کے اداب زندگی کے بارے میں آپ کے مثبت رویے کا اظہار ثابت ہوسکتے ہیں اور آپ کی شخصیت کا اچھا تاثر قائم ہوتا ہے۔</p>

<h3 id='61794e79c426e'>ہاتھوں کی صفائی</h3>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/04/5540e74fd1230.jpg?r=74331163" srcset='https://i.dawn.com/medium/2015/04/5540e74fd1230.jpg?r=74331163 500w, https://i.dawn.com/large/2015/04/5540e74fd1230.jpg?r=74331163 800w, https://i.dawn.com/primary/2015/04/5540e74fd1230.jpg?r=74331163 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>ناخنوں کو صاف رکھیں، ہاتھوں کو کھانے سے قبل یا ٹوائلٹ جانے کے بعد 20 سیکنڈ تک دھوئیں، یہ نزلہ زکام اور فلو سے تحفظ فراہم کرنے والا مفت نسخہ بھی ہے۔</p>

<p>صابن یا پانی موجود نہیں تو الکحل ملے ہینڈ سینی ٹائزر سے بھی مدد لی جاسکتی ہے۔</p>

<h3 id='61794e79c4281'>خوشبو سے مدد لیں</h3>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2021/10/6179431801042.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/10/6179431801042.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/10/6179431801042.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/10/6179431801042.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>صاف لباس، روزانہ نہانے کے ساتھ ساتھ پرفیوم شیمپو اور دیگر اپنی پسند کی خوشبوؤں کا استعمال کریں۔</p>

<p>سانس کو مہکانے کے لیے برش، خلال اور دیگر طریقوں سے مدد لیں اور ہاں پرفیوم کی کم مقدار کا ہی استعمال کریں۔</p>

<h3 id='61794e79c429d'>لباس</h3>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2021/10/61794427c3f57.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/10/61794427c3f57.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/10/61794427c3f57.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/10/61794427c3f57.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>اچھا نظر آنا اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ آپ اپنے کام کے لیے تیار ہیں۔ </p>

<p>کامیابی کے لیے لباس زیب تن کرنے کے لیے سیاہ، گرے یا نیوی بلیو جیسے کلاسیک رنگوں سے آغاز کریں۔</p>

<p>لباس سے ہم رنگ جراب پہنیں اور جوتوں کو پالش کریں، بال اور ناخن کی خراش تراش کا خیال رکھیں۔</p>

<h3 id='61794e79c42b8'>دوسروں سے اچھا سلوک</h3>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2021/10/617943af80bc5.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/10/617943af80bc5.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/10/617943af80bc5.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/10/617943af80bc5.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>اپنے ارگرد موجود افراد کے ساتھ اچھے اور نرم سلوک سے عندیہ ملتا ہے کہ آپ ان کو اہمیت دیتے ہیں۔ </p>

<p>اپنے ارگرد موجود افراد کے بارے میں سوچ کر فیصلہ کریں کہ آپ ان کے لیے کیا کرسکتے ہیں۔</p>

<p>آپ کا رویہ ان کی توجہ کا مرکز ضرور بنے گا اور وہ آپ سے متاثر ہوں گے، دوسروں کے ساتھ سلوک سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ آپ اپنے بارے میں بھی اچھے خیالات رکھتے ہیں۔</p>

<h3 id='61794e79c42d3'>وقت کی پابندی</h3>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2021/10/617943af276e6.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/10/617943af276e6.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/10/617943af276e6.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/10/617943af276e6.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>وقت کی پابندی کا خیال رکھنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ اپنے اور دیگر افراد کے وقت کا احترام کرتے ہیں اور اپنی شخصیت پر آپ کو کنٹرول حاصل ہے۔</p>

<p>اہم مواقع اور ملاقاتوں کے لیے ایک رات قبل تیاری کریں اور یہ تخمینہ لگانے کی کوشش کریں کہ کسی ٹاسک پر کتنا وقت لگ سکتا ہے اور اس کے مطابق ممکنہ رکاوٹوں جیسے ٹریفک جام یا دیگر کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبہ بندی کریں۔</p>

<h3 id='61794e79c42ef'>دوسروں کی مدد</h3>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/04/5cb0cd0800756.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2019/04/5cb0cd0800756.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2019/04/5cb0cd0800756.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2019/04/5cb0cd0800756.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>دوسروں کی مدد کرنے والے افراد اکثر زندگی سے خوش ہوتے ہیں، خود اعتمادی سے لیس ہوتے ہیں اور زندگی کے مقصد کا فہم رکھتے ہیں۔</p>

<h3 id='61794e79c430a'>اپنے لیے وقت نکالیں</h3>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/04/5cb0cdc3ef5ab.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2019/04/5cb0cdc3ef5ab.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2019/04/5cb0cdc3ef5ab.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2019/04/5cb0cdc3ef5ab.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>زندگی کی مصروفیات سے گاہے بگاہے وقفہ لیں، یہ وقت کا ضیاع نہیں بلکہ آپ کی توانائی کو نئی زندگی ملے گی، تناؤ اور فکریں کم ہوں گی جبکہ زندگی سے لطف اندوز ہونے اور کچھ نیا جاننے میں مدد ملے گی۔</p>

<h3 id='61794e79c4325'>بلند آواز سے ہنسنا</h3>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2021/10/617945035188f.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/10/617945035188f.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/10/617945035188f.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/10/617945035188f.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>ہنسنا جسم کے لیے مفید ہوتا ہے بالخصوص دل کے لیے۔ </p>

<p>تحقیقی رپورٹس میں ثابت ہوا ہے کہ ہنسنا خون کی شریانوں کے لیے مفید ہے، جس سے امراض قلب سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے۔</p>

<h3 id='61794e79c433f'>زندگی میں حدود</h3>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2021/10/617945036e9c9.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/10/617945036e9c9.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/10/617945036e9c9.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/10/617945036e9c9.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>کسی بھی چیز کی زیادتی نقصان دہ ہوتی ہے اور اس کا اطلاق ہر چیز میں ہوتا ہے۔</p>

<p>تمباکو نوشی کرتے ہیں تو کوشش کریں کہ اس کو محدود کریں اور اسی طرح اپنی بری عادات کے لیے حدود کا تعین کریں۔</p>

<h3 id='61794e79c4352'>کامیابی میں تاخیر پر مایوس نہ ہوں</h3>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/04/5cb0cc71b988f.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2019/04/5cb0cc71b988f.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2019/04/5cb0cc71b988f.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2019/04/5cb0cc71b988f.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>کامیابی سو میٹر کی دوڑ نہیں بلکہ ایک میراتھون ریس کی طرح ہوتی ہے۔</p>

<p>اگر آپ اپنے عزم کا تعاقب جاری رکھے ہوئے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ ٹھیک کام کررہے ہیں اور اس پر فخر ہونا چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1171538</guid>
      <pubDate>Wed, 27 Oct 2021 18:04:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فیصل ظفر)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/10/61794580cf33d.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="900" width="1500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/10/61794580cf33d.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کینسر کے علاج سے متعلق وہ بڑی غلطی جس پر کم ہی بات ہوتی ہے
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1161789/</link>
      <description>&lt;p&gt;https://www.dawnnews.tv/news/1161787/&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>https://www.dawnnews.tv/news/1161787/</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1161789</guid>
      <pubDate>Thu, 26 Aug 2021 10:14:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/08/612723263fa5f.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/08/612723263fa5f.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کورونا وائرس مردوں کی تولیدی صحت کے لیے بھی نقصان دہ؟
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1160985/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایسا نظر آتا ہے کہ نئے کورونا وائرس سے جسم کا کوئی بھی حصہ محفوظ نہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کووڈ 19 کا باعث بننے والا یہ وائرس پھیپھڑوں کے افعال کو جان لیوا حد تک متاثر کرسکتا ہے، دل کے نظام پر اثرات مرتب کرتا ہے، دماغ، معدے اور گردے سمیت ہر جگہ تباہی مچاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1149579' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/large/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مگر اب ایسے شواہد میں اضافہ ہورہا ہے جن سے عندیہ ملتا ہے کہ یہ وائرس مردوں کے تولیدی نظام کو بھی نقصان پہنچاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جسم پر کووڈ سے مرتب ہونے والے طویل العمیاد اثرات کو جاننے کے لیے طبی ماہرین کی جانب سے مسلسل کام کیا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہی وجہ ہے کہ اب یہ بھی دیکھا جارہا ہے کہ اس وائرس اور ایریکٹائل ڈسفنکشن (ای ڈی) یا ایستادگی کی صلاحیت سے محرومی کے درمیان تعلق موجود ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی طرح یہ بھی دیکھا جارہا ہے کہ یہ وائرس مردوں کے اسپرمز کے نظام کو کس حد تک متاثر کرسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='60b395c9a140b'&gt;کووڈ اور اسپرمز کا تعلق&lt;/h3&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/11/5faae2f957b3d.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/11/5faae2f957b3d.png 500w, https://i.dawn.com/large/2020/11/5faae2f957b3d.png 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/11/5faae2f957b3d.png 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="اے پی فائل فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;اے پی فائل فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس حوالے سے نومبر 2020 میں &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1146403"&gt;یونیورسٹی آف میامی ملر اسکول آف میڈیسین&lt;/a&gt; کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ کووڈ 19 سے مردوں کی قوت باہ (male fertility) پر ممکنہ اثرات مرتب ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق کے دوران کورونا وائرس سے ہلاک ہوجانے والے 6 مردوں کے پوسٹمارٹم کے دوران دریافت کیا گیا کہ ان میں سے کچھ کے اسپرم کے افعال متاثر ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین کا کہنا تھا کہ ہم نے ایک مرد میں بھی وائرس کے آثار دریافت کیے جو بانجھ پن کے علاج کے عمل سے گزرا تھا اور کھ عرصے پہلے کووڈ 19 کا شکار تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ اس مریض میں کووڈ 19 کی علامات ظاہر نہیں ہوئی تھیں بلکہ ٹیسٹ بھی نیگیٹو رہا تھا مگر ٹیسٹیرون میں وائرس کو دریافت کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین کا کہنا تھا کہ یہ قابل فہم ہے کہ کووڈ 19 مردوں کے اسپرم کے افعال کو ہدف بناتا ہے کیونکہ جس ریسیپٹر کی مدد سے وہ خلیات کو متاثر کرتا ہے، وہ جسم کے متعدد اعضا جیسے گردوں، پھیپھڑوں، دل اور اسپرم وغیرہ میں پایا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعدازاں جنوری 2021 میں &lt;a href="https://academic.oup.com/humrep/advance-article/doi/10.1093/humrep/deab026/6125160"&gt;اٹلی میں ہونے والی ایک تحقیق&lt;/a&gt; میں بتایا گیا کہ کووڈ 19 کی سنگین شدت کا سامنا کرنے والے مردوں کے اسپرم کا معیار متاثر ہوسکتا ہے، جس سے بانجھ پن کا امکان بھی پیدا ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فلورنس یونیورسٹی کی اس تحقیق میں کہا گیا کہ پہلی بار ایسے براہ راست شواہد ملے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ کووڈ 19 سے اسپرم کا معیار اور مردوں کا تولیدی نظام متاثر ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس تحقیق میں 30 سے 65 سال کی عمر کے 43 مردوں کے نمونے کووڈ 19 سے صحتیابی کے ایک ماہ حاصل کیے گئے اور ان کا تجزیہ کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین نے دریافت کیا کہ مردوں کا اسپرم کاؤنٹ 25 فیصد تک گھٹ گیا اور 20 کے قریب مردوں میں اسپرمز ہی موجود نہیں تھے، جو کہ دنیا کی عام آبادی کی شرح سے زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دنیا بھر میں ایک فیصد مردوں کو اس مسئلے کا سامنا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جرنل ہیومین ری پروڈکشن میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ کووڈ 19 کی سنگین شدت کے باعث ہسپتال یا آئی سی یو میں داخل ہونے والے مریضوں میں اسپرم نہ ہونے کے برابر رہنے کا امکان زیادہ ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مگر محققین نے زور دیا کہ فی الحال یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کورونا وائرس براہ راست اسپرم کو متاثر کرتا ہے کیونکہ ان کے پاس بیماری سے پہلے ان مردوں کے اسپرم کاؤنٹ کا ریکارڈ نہیں تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم جن افراد میں اسپرمز کی مقدار لگ بھگ ختم ہوگئی تھی ان کی اولاد تھی، جس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ ان میں اسپرم کاؤنٹ کسی حد تک زیادہ تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی طرح کووڈ کے علاج کے لیے دی جانے والی ادویات سے بھی اسپرم کاؤنٹ متاثر ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جنوری 2021 کے آخر میں جرمنی کی Justus Liebig University Giessen کی &lt;a href="https://edition.cnn.com/2021/01/28/health/sperm-male-fertility-covid-19-wellness/index.html"&gt;تحقیق&lt;/a&gt; میں محققین نے دریافت کیا کہ کووڈ 19 کے شکار مردوں کے اسپرم سیلز میں ورم اور تکسیدی تناؤ میں نمایاں اضافہ ہوا اور دیگر افعال پر بھی کورونا وائرس سے منفی اثرات مرتب ہوئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین کا کہنا تھا کہ یہ منفی اثرات وقت کے ساتھ بہتر ہوتے نظر آتے ہیں، مگر بیماری کی شدت جتنی زیادہ ہوتی ہے، اتنی ہی تبدیلیاں اندرونی افعال میں آتی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین نے کووڈ 19 کے شکار مردوں میں ایس ٹو انزائمٹک ایکٹیویٹی کی بہت زیادہ شرح کو بھی دریافت کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ ایس ٹو وہ ریسیپٹر ہے جو کورونا وائرس کو خلیات کے اندر گھسنے میں سہولت فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یعنی ابھی یقین سے کچھ کہنا مشکل ہے کہ کووڈ سے براہ راست ایسا ہوتا ہے یا ادویات یا کسی اور وجہ سے اسپرمز کے افعال متاثر ہونے کا خطرہ بڑھتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہی وجہ ہے کہ اس حوالے سے طبی ماہرین کی جانب سے مزید تحقیقی کام کیا جارہا ہے تاکہ ان سوالات کے جواب تلاش کیے جاسکیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='60b395c9a1491'&gt;کووڈ اور ایریکٹائل ڈسفنکشن&lt;/h3&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2021/04/606e028416d30.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/04/606e028416d30.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/04/606e028416d30.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/04/606e028416d30.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مکمل یقین سے تو ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا مگر ہاں کافی حد تک یہ ثابت ہوچکا ہے کہ کورونا وائرس مردوں کی جنسی اور تولیدی صحت کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس حوالے سے کئی تحقیقی رپورٹس سامنے آئی ہیں جن کے مطابق کووڈ 19 کو مردوں میں اچانک ایریکٹائل ڈسفنکشن (ای ڈی) کے مسئلے سے منسلک کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اپریل 2021 میں &lt;a href="https://www.webmd.com/lung/news/20210407/erectile-dysfunction-risk-6-times-higher-in-men-with-covid"&gt;اٹلی کی روم یونیورسٹی کی تحقیق&lt;/a&gt; میں دونوں کے درمیان تعلق کی نشاندہی کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درحقیقت تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ  کووڈ 19 کی تاریخ رکھنے والے مردوں میں ای ڈی کا خطرہ 5.66 گنا زیادہ ہوتا ہے اور دیگر عناصر کو مدنظر رکھنے کے بعد بھی اتنا خطرہ برقرار رہتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق میں بتایا گیا کہ ای ڈی کووڈ 19 کی مختصر اور طویل المعیاد پیچیدگی ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین کا کہنا تھا کہ درحقیقت مردوں کو بیماری سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر پر خصوصی توجہ دینی چاہیے کیونکہ اس طرح وہ اپنی جنسی صلاحیت کو نقصان ہونے سے بچاسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ زیادہ عمر، ذیابیطس، زیادہ جسمانی وزن اور تمباکو نوشی کووڈ 19 کا شکار بنانے والے اہم عناصر ہیں اور یہی ای ڈی کا خطرہ بڑھانے والے اہم عناصر بھی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی طرح مئی 2021 میں ایک &lt;a href="https://www.webmd.com/lung/news/20210513/coronavirus-lingers-in-penis-and-could-cause-impotence##1"&gt;تحقیق&lt;/a&gt; میں بتایا گیا کہ اس وائرس کے نتیجے میں مرد ازدواجی تعلقات قائم کرنے کی صلاحیت سے بھی محروم ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق میں بتایا گیا کہ کورونا وائرس  مردوں کے مخصوص عضو کے خلیات تک پہنچ سکتے ہیں اور جنسی صلاحیت ختم کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق میں کووڈ 19 کے 2 مریضوں میں اس مسئلے کو دریافت کیا گیا اور دریافت کیا گیا کہ یہ وائرس خون کی شریانوں کو نقصان پہنچا کر اس تباہ کن اثر کا باعث بنتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یونیورسٹی آف میامی ملر اسکول آف میڈیسین کی اس تحقیق میں شامل ماہرین کا کہنا تھا کہ م نے دریافت کیا کہ وائرس سے مخصوص عضو کو خون پہنچانے والی شریانیں متاثر ہوتی ہیں جس کا نتیجہ ایستادگی کی صلاحیت سے محرومی کی شکل میں نکلتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم محققین کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے کیونکہ ایک یا 2 مریضوں سے کچھ ثابت نہیں ہوتا، مگر اس سے تحقیق کو آگے بڑھانے کی بنیاد ضرور ملتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ کووڈ کو شکست دینے والے مردوں کو ای ڈی کا سامنا ہو تو انہیں طبی امداد کے لیے رجوع کرنا چاہیے کیونکہ ہمارے خیال میں یہ دیرپا اثر ہوسکتا ہے جو خود ختم نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درحقیقت ان کا تو مشورہ تھا کہ مردوں کو کووڈ سے بچنا چاہیے اور ویکسین سے خود کو تحفظ فراہم کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درحقیقت ایریکٹائل ڈسفنکشن اور کووڈ کے درمیان تعلق کے حوالے سے ماہرین نے &lt;a href="https://health.clevelandclinic.org/yes-covid-19-can-cause-erectile-dysfunction/"&gt;چند وجوہات&lt;/a&gt; پر بھی روشنی ڈالی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='60b395c9a14b8'&gt;شریانوں اور رگوں پر اثرات&lt;/h3&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2021/05/60b393561373d.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/05/60b393561373d.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/05/60b393561373d.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/05/60b393561373d.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایریکٹائل ڈسفنکشن عموماً امراض قلب کی پیشگوئی کرنے والا عارضہ ہوتا ہے، تو یہ واضح ہے کہ تولیدی نظام اور شریانوں کا نظام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ بھی معلوم ہوچکا ہے کہ کووڈ 19 کے نتیجے میں پورے جسم میں ورم کا عمل بہت بڑھ جاتا ہے بالخصوص دل اور اس کے ارگرد کے پٹھوں میں، جس کے نتیجے میں تولیدی حصوںن تک خون کی فراہمی بلاک ہوسکتی ہے یا وائرس کے باعث شریانیں سکڑ سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='60b395c9a14d9'&gt;نفسیاتی اثرات&lt;/h3&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/large/2021/04/608707da5781f.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/04/608707da5781f.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/04/608707da5781f.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/04/608707da5781f.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جسمانی تعلقات اور ذہنی صحت میں قریبی تععلق ہے، وائرس سے متاثر ہونے کے باعث پیدا ہونے والا تناؤ، ذہنی بے چینی اور ڈپریشن بھی جنسی صلاحیت کو متاثر کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='60b395c9a14f9'&gt;مجموعی صحت متاثر ہونا&lt;/h3&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2021/04/606a09eb02937.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/04/606a09eb02937.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/04/606a09eb02937.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/04/606a09eb02937.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ای ڈی عموماً جسم کے اندر چھپے کسی مسئلے کی علامت ہوتا ہے، ناقص صحت کے شکار مردوں میں ای ڈی کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے اور جن افراد کو کووڈ کی سنگین شدت کا سامنا ہوتا ہے جس سے بھی صحت خراب ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;صحت خراب ہونے سے ای ڈی اور دیگر پیچیدگیوں کے خدشات بڑھتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق ای ڈی مجموعی صحت کا اشارہ ہوتا ہے، بالخصوص ایسے نوجوان اور صحت مند افراد میں جن کو کووڈ 19 کے بعد اس مسئلے کا سامنا ہو، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ انہیں زیادہ سنگین پیچیدگی کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ یہ نقصان مستقل ہے یا عارضی یا اس سے بانجھ پن کا خطرہ بڑھتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایسا نظر آتا ہے کہ نئے کورونا وائرس سے جسم کا کوئی بھی حصہ محفوظ نہیں۔</p>

<p>کووڈ 19 کا باعث بننے والا یہ وائرس پھیپھڑوں کے افعال کو جان لیوا حد تک متاثر کرسکتا ہے، دل کے نظام پر اثرات مرتب کرتا ہے، دماغ، معدے اور گردے سمیت ہر جگہ تباہی مچاسکتا ہے۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1149579' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/large/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>مگر اب ایسے شواہد میں اضافہ ہورہا ہے جن سے عندیہ ملتا ہے کہ یہ وائرس مردوں کے تولیدی نظام کو بھی نقصان پہنچاسکتا ہے۔</p>

<p>جسم پر کووڈ سے مرتب ہونے والے طویل العمیاد اثرات کو جاننے کے لیے طبی ماہرین کی جانب سے مسلسل کام کیا جارہا ہے۔</p>

<p>یہی وجہ ہے کہ اب یہ بھی دیکھا جارہا ہے کہ اس وائرس اور ایریکٹائل ڈسفنکشن (ای ڈی) یا ایستادگی کی صلاحیت سے محرومی کے درمیان تعلق موجود ہے یا نہیں۔</p>

<p>اسی طرح یہ بھی دیکھا جارہا ہے کہ یہ وائرس مردوں کے اسپرمز کے نظام کو کس حد تک متاثر کرسکتا ہے۔</p>

<h3 id='60b395c9a140b'>کووڈ اور اسپرمز کا تعلق</h3>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/11/5faae2f957b3d.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/11/5faae2f957b3d.png 500w, https://i.dawn.com/large/2020/11/5faae2f957b3d.png 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/11/5faae2f957b3d.png 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="اے پی فائل فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">اے پی فائل فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>اس حوالے سے نومبر 2020 میں <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1146403">یونیورسٹی آف میامی ملر اسکول آف میڈیسین</a> کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ کووڈ 19 سے مردوں کی قوت باہ (male fertility) پر ممکنہ اثرات مرتب ہوتے ہیں۔</p>

<p>تحقیق کے دوران کورونا وائرس سے ہلاک ہوجانے والے 6 مردوں کے پوسٹمارٹم کے دوران دریافت کیا گیا کہ ان میں سے کچھ کے اسپرم کے افعال متاثر ہوئے تھے۔</p>

<p>محققین کا کہنا تھا کہ ہم نے ایک مرد میں بھی وائرس کے آثار دریافت کیے جو بانجھ پن کے علاج کے عمل سے گزرا تھا اور کھ عرصے پہلے کووڈ 19 کا شکار تھا۔</p>

<p>انہوں نے بتایا کہ اس مریض میں کووڈ 19 کی علامات ظاہر نہیں ہوئی تھیں بلکہ ٹیسٹ بھی نیگیٹو رہا تھا مگر ٹیسٹیرون میں وائرس کو دریافت کیا گیا۔</p>

<p>محققین کا کہنا تھا کہ یہ قابل فہم ہے کہ کووڈ 19 مردوں کے اسپرم کے افعال کو ہدف بناتا ہے کیونکہ جس ریسیپٹر کی مدد سے وہ خلیات کو متاثر کرتا ہے، وہ جسم کے متعدد اعضا جیسے گردوں، پھیپھڑوں، دل اور اسپرم وغیرہ میں پایا جاتا ہے۔</p>

<p>بعدازاں جنوری 2021 میں <a href="https://academic.oup.com/humrep/advance-article/doi/10.1093/humrep/deab026/6125160">اٹلی میں ہونے والی ایک تحقیق</a> میں بتایا گیا کہ کووڈ 19 کی سنگین شدت کا سامنا کرنے والے مردوں کے اسپرم کا معیار متاثر ہوسکتا ہے، جس سے بانجھ پن کا امکان بھی پیدا ہوسکتا ہے۔</p>

<p>فلورنس یونیورسٹی کی اس تحقیق میں کہا گیا کہ پہلی بار ایسے براہ راست شواہد ملے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ کووڈ 19 سے اسپرم کا معیار اور مردوں کا تولیدی نظام متاثر ہوسکتا ہے۔</p>

<p>اس تحقیق میں 30 سے 65 سال کی عمر کے 43 مردوں کے نمونے کووڈ 19 سے صحتیابی کے ایک ماہ حاصل کیے گئے اور ان کا تجزیہ کیا گیا۔</p>

<p>محققین نے دریافت کیا کہ مردوں کا اسپرم کاؤنٹ 25 فیصد تک گھٹ گیا اور 20 کے قریب مردوں میں اسپرمز ہی موجود نہیں تھے، جو کہ دنیا کی عام آبادی کی شرح سے زیادہ ہے۔</p>

<p>دنیا بھر میں ایک فیصد مردوں کو اس مسئلے کا سامنا ہوتا ہے۔</p>

<p>جرنل ہیومین ری پروڈکشن میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ کووڈ 19 کی سنگین شدت کے باعث ہسپتال یا آئی سی یو میں داخل ہونے والے مریضوں میں اسپرم نہ ہونے کے برابر رہنے کا امکان زیادہ ہوسکتا ہے۔</p>

<p>مگر محققین نے زور دیا کہ فی الحال یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کورونا وائرس براہ راست اسپرم کو متاثر کرتا ہے کیونکہ ان کے پاس بیماری سے پہلے ان مردوں کے اسپرم کاؤنٹ کا ریکارڈ نہیں تھا۔</p>

<p>تاہم جن افراد میں اسپرمز کی مقدار لگ بھگ ختم ہوگئی تھی ان کی اولاد تھی، جس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ ان میں اسپرم کاؤنٹ کسی حد تک زیادہ تھا۔</p>

<p>اسی طرح کووڈ کے علاج کے لیے دی جانے والی ادویات سے بھی اسپرم کاؤنٹ متاثر ہوسکتا ہے۔</p>

<p>جنوری 2021 کے آخر میں جرمنی کی Justus Liebig University Giessen کی <a href="https://edition.cnn.com/2021/01/28/health/sperm-male-fertility-covid-19-wellness/index.html">تحقیق</a> میں محققین نے دریافت کیا کہ کووڈ 19 کے شکار مردوں کے اسپرم سیلز میں ورم اور تکسیدی تناؤ میں نمایاں اضافہ ہوا اور دیگر افعال پر بھی کورونا وائرس سے منفی اثرات مرتب ہوئے۔</p>

<p>محققین کا کہنا تھا کہ یہ منفی اثرات وقت کے ساتھ بہتر ہوتے نظر آتے ہیں، مگر بیماری کی شدت جتنی زیادہ ہوتی ہے، اتنی ہی تبدیلیاں اندرونی افعال میں آتی ہیں۔</p>

<p>محققین نے کووڈ 19 کے شکار مردوں میں ایس ٹو انزائمٹک ایکٹیویٹی کی بہت زیادہ شرح کو بھی دریافت کیا۔</p>

<p>خیال رہے کہ ایس ٹو وہ ریسیپٹر ہے جو کورونا وائرس کو خلیات کے اندر گھسنے میں سہولت فراہم کرتا ہے۔</p>

<p>یعنی ابھی یقین سے کچھ کہنا مشکل ہے کہ کووڈ سے براہ راست ایسا ہوتا ہے یا ادویات یا کسی اور وجہ سے اسپرمز کے افعال متاثر ہونے کا خطرہ بڑھتا ہے۔</p>

<p>یہی وجہ ہے کہ اس حوالے سے طبی ماہرین کی جانب سے مزید تحقیقی کام کیا جارہا ہے تاکہ ان سوالات کے جواب تلاش کیے جاسکیں۔</p>

<h3 id='60b395c9a1491'>کووڈ اور ایریکٹائل ڈسفنکشن</h3>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2021/04/606e028416d30.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/04/606e028416d30.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/04/606e028416d30.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/04/606e028416d30.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>مکمل یقین سے تو ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا مگر ہاں کافی حد تک یہ ثابت ہوچکا ہے کہ کورونا وائرس مردوں کی جنسی اور تولیدی صحت کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔</p>

<p>اس حوالے سے کئی تحقیقی رپورٹس سامنے آئی ہیں جن کے مطابق کووڈ 19 کو مردوں میں اچانک ایریکٹائل ڈسفنکشن (ای ڈی) کے مسئلے سے منسلک کیا جاسکتا ہے۔</p>

<p>اپریل 2021 میں <a href="https://www.webmd.com/lung/news/20210407/erectile-dysfunction-risk-6-times-higher-in-men-with-covid">اٹلی کی روم یونیورسٹی کی تحقیق</a> میں دونوں کے درمیان تعلق کی نشاندہی کی گئی تھی۔</p>

<p>درحقیقت تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ  کووڈ 19 کی تاریخ رکھنے والے مردوں میں ای ڈی کا خطرہ 5.66 گنا زیادہ ہوتا ہے اور دیگر عناصر کو مدنظر رکھنے کے بعد بھی اتنا خطرہ برقرار رہتا ہے۔</p>

<p>تحقیق میں بتایا گیا کہ ای ڈی کووڈ 19 کی مختصر اور طویل المعیاد پیچیدگی ہوسکتی ہے۔</p>

<p>محققین کا کہنا تھا کہ درحقیقت مردوں کو بیماری سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر پر خصوصی توجہ دینی چاہیے کیونکہ اس طرح وہ اپنی جنسی صلاحیت کو نقصان ہونے سے بچاسکتے ہیں۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ زیادہ عمر، ذیابیطس، زیادہ جسمانی وزن اور تمباکو نوشی کووڈ 19 کا شکار بنانے والے اہم عناصر ہیں اور یہی ای ڈی کا خطرہ بڑھانے والے اہم عناصر بھی ہیں۔</p>

<p>اسی طرح مئی 2021 میں ایک <a href="https://www.webmd.com/lung/news/20210513/coronavirus-lingers-in-penis-and-could-cause-impotence##1">تحقیق</a> میں بتایا گیا کہ اس وائرس کے نتیجے میں مرد ازدواجی تعلقات قائم کرنے کی صلاحیت سے بھی محروم ہوسکتے ہیں۔</p>

<p>تحقیق میں بتایا گیا کہ کورونا وائرس  مردوں کے مخصوص عضو کے خلیات تک پہنچ سکتے ہیں اور جنسی صلاحیت ختم کرسکتے ہیں۔</p>

<p>تحقیق میں کووڈ 19 کے 2 مریضوں میں اس مسئلے کو دریافت کیا گیا اور دریافت کیا گیا کہ یہ وائرس خون کی شریانوں کو نقصان پہنچا کر اس تباہ کن اثر کا باعث بنتا ہے۔</p>

<p>یونیورسٹی آف میامی ملر اسکول آف میڈیسین کی اس تحقیق میں شامل ماہرین کا کہنا تھا کہ م نے دریافت کیا کہ وائرس سے مخصوص عضو کو خون پہنچانے والی شریانیں متاثر ہوتی ہیں جس کا نتیجہ ایستادگی کی صلاحیت سے محرومی کی شکل میں نکلتا ہے۔</p>

<p>تاہم محققین کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے کیونکہ ایک یا 2 مریضوں سے کچھ ثابت نہیں ہوتا، مگر اس سے تحقیق کو آگے بڑھانے کی بنیاد ضرور ملتی ہے۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ کووڈ کو شکست دینے والے مردوں کو ای ڈی کا سامنا ہو تو انہیں طبی امداد کے لیے رجوع کرنا چاہیے کیونکہ ہمارے خیال میں یہ دیرپا اثر ہوسکتا ہے جو خود ختم نہیں ہوگا۔</p>

<p>درحقیقت ان کا تو مشورہ تھا کہ مردوں کو کووڈ سے بچنا چاہیے اور ویکسین سے خود کو تحفظ فراہم کرنا چاہیے۔</p>

<p>درحقیقت ایریکٹائل ڈسفنکشن اور کووڈ کے درمیان تعلق کے حوالے سے ماہرین نے <a href="https://health.clevelandclinic.org/yes-covid-19-can-cause-erectile-dysfunction/">چند وجوہات</a> پر بھی روشنی ڈالی ہے۔</p>

<h3 id='60b395c9a14b8'>شریانوں اور رگوں پر اثرات</h3>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2021/05/60b393561373d.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/05/60b393561373d.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/05/60b393561373d.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/05/60b393561373d.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>ایریکٹائل ڈسفنکشن عموماً امراض قلب کی پیشگوئی کرنے والا عارضہ ہوتا ہے، تو یہ واضح ہے کہ تولیدی نظام اور شریانوں کا نظام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔</p>

<p>یہ بھی معلوم ہوچکا ہے کہ کووڈ 19 کے نتیجے میں پورے جسم میں ورم کا عمل بہت بڑھ جاتا ہے بالخصوص دل اور اس کے ارگرد کے پٹھوں میں، جس کے نتیجے میں تولیدی حصوںن تک خون کی فراہمی بلاک ہوسکتی ہے یا وائرس کے باعث شریانیں سکڑ سکتی ہیں۔</p>

<h3 id='60b395c9a14d9'>نفسیاتی اثرات</h3>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/large/2021/04/608707da5781f.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/04/608707da5781f.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/04/608707da5781f.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/04/608707da5781f.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>جسمانی تعلقات اور ذہنی صحت میں قریبی تععلق ہے، وائرس سے متاثر ہونے کے باعث پیدا ہونے والا تناؤ، ذہنی بے چینی اور ڈپریشن بھی جنسی صلاحیت کو متاثر کرسکتے ہیں۔</p>

<h3 id='60b395c9a14f9'>مجموعی صحت متاثر ہونا</h3>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2021/04/606a09eb02937.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/04/606a09eb02937.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/04/606a09eb02937.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/04/606a09eb02937.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>ای ڈی عموماً جسم کے اندر چھپے کسی مسئلے کی علامت ہوتا ہے، ناقص صحت کے شکار مردوں میں ای ڈی کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے اور جن افراد کو کووڈ کی سنگین شدت کا سامنا ہوتا ہے جس سے بھی صحت خراب ہوتی ہے۔</p>

<p>صحت خراب ہونے سے ای ڈی اور دیگر پیچیدگیوں کے خدشات بڑھتے ہیں۔</p>

<p>ماہرین کے مطابق ای ڈی مجموعی صحت کا اشارہ ہوتا ہے، بالخصوص ایسے نوجوان اور صحت مند افراد میں جن کو کووڈ 19 کے بعد اس مسئلے کا سامنا ہو، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ انہیں زیادہ سنگین پیچیدگی کا سامنا ہے۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ یہ نقصان مستقل ہے یا عارضی یا اس سے بانجھ پن کا خطرہ بڑھتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1160985</guid>
      <pubDate>Sun, 30 May 2021 18:40:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فیصل ظفرعاطف راجہ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/05/60b393996e597.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/05/60b393996e597.jpg"/>
        <media:title>— شٹر اسٹاک فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دوپہر کی نیند کو عادت بنانے سے جسم میں کیا تبدیلیاں آتی ہیں؟
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1142433/</link>
      <description>&lt;p&gt;طبی ماہرین رات کو 7 سے 8 گھنٹے کی نیند لینے کا مشورہ دیتے ہیں مگر بیشتر افراد اس پر عمل نہیں کرپاتے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1094177' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2019/09/5d6bf6c0ae26c.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2019/09/5d6bf6c0ae26c.png 280w, https://i.dawn.com/large/2019/09/5d6bf6c0ae26c.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2019/09/5d6bf6c0ae26c.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اب اس کی وجہ کچھ بھی ہو مگر یہ سب کو معلوم ہے کہ نیند کی کمی صحت کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے اور اس کا حل دوپہر کو کچھ دیر کے لیے سونے یا قیلولے میں چھپا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;قیلولہ صرف بچوں کے لیے ہی نہیں بلکہ متعدد تحقیقی رپورٹس میں ثابت ہوا ہے کہ دوپہر کی نیند بالغ افراد کے لیے بھی بہت مفید ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوپہر کو کچھ دیر کی نیند یادداشت تیز، دفتری کارکردگی بہتر، مزاج خوشگوار، ذہنی و جسمانی چستی اور تناؤ میں کمی لاتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہاں &lt;a href="https://www.webmd.com/a-to-z-guides/ss/slideshow-health-benefits-of-napping"&gt;قیلولے کے ایسے فوائد&lt;/a&gt; بتائے جارہے ہیں جن کی سائنس نے تصدیق کی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='6159db7dccfa9'&gt;یادداشت کو بہتر بنائے&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f6627d17f10e.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f6627d17f10e.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f6627d17f10e.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f6627d17f10e.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوا کہ نیند یادوں کو محفوظ کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، دوپہر کی نیند سے دن بھر میں جو کچھ سیکھتے ہیں، انہین یاد رکھنے میں رات کی مکمل نیند مدد ملتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;قیلولے سے مختلف دماغی افعال بھی بہتر ہوتے ہیں جو یادداشت کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='6159db7dccff5'&gt;تفصیلات کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت بہتر&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f6627d1d915b.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f6627d1d915b.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f6627d1d915b.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f6627d1d915b.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;قیلولے سے نہ صرف سیکھی ہوئی چیزیں یاد رکھنے میں مدد ملتی ہے بلکہ یہ دماغ کو ان چیزوں کے درمیان تعلق بنانے میں بھی مددگار ہے جو آپ سیکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ دوپہر کو سونے کے عادی افراد دن بھر کے لیے دن بھر کی تفصیلات کو اکٹھا اور منظم کرنا آسان ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='6159db7dcd00d'&gt;کارکردگی بہتر بنائے&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f6627d1b6747.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f6627d1b6747.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f6627d1b6747.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f6627d1b6747.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جب آپ دن بھر میں ایک ہی کام بار بار کرتے ہوں تو کارکردگی دن گزرنے کے ساتھ بدتر ہوتی چلی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوا ہے کہ دن میں کچھ منٹ کا قیلولہ کارکردگی کا تسلسل برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='6159db7dcd022'&gt;مزاج خوشگوار بنائے&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f662ad5733fe.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f662ad5733fe.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f662ad5733fe.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f662ad5733fe.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگر چڑچڑا پن محسوس کررہے ہیں تو دوپہر کو کچھ دیر کی نیند یا محض آرام بھی مزاج پر خوشگوار اثرات مرتب کرسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ کچھ دیر سکون سے لیٹ کر آرام کرنا مزاج کو خوشگوار بناتا ہے، چاہے آپ نیند کے مزے لے یا نہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='6159db7dcd038'&gt;ذہنی و جسمانی چستی&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f662ad556168.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f662ad556168.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f662ad556168.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f662ad556168.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگر دوپہر کے کھانے کے بعد غنودگی اور سستی محسوس کررہے ہیں تو ایسا صرف آپ کے ساتھ ہی نہیں ہوتا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوپہر کے کھانے کے بعد اس طرح کی سستی کا سامنا کروڑوں افراد کو ہوتا ہے اور اس وقت 20 منٹ کا قیلولہ اس کا مقابلہ کرنے میں مدد دیتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='6159db7dcd04c'&gt;مختصر دورانیہ ہی بہتر&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f662ad561e39.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f662ad561e39.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f662ad561e39.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f662ad561e39.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محض 10 منٹ کا قیلولہ بھی صحت کے لیے مفید ثابت ہوسکتا ہے مگر ضروری ہے کہ دوپہر کی نیند کا وقت 30 منٹ یا اس سے بھی کم ہونا چاہیے تاکہ تھکاوٹ کا سامنا ہو۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگر آپ زیادہ دیر تک یعنی ایک گھنٹے تک قیلولہ کرتے ہیں تو اس بات کا امکان زیادہ ہوتا ہے کہ جب بیدار ہوں گے تو ذہنی دھند کا سامنا ہوگا، جس کے بعد مکمل طور پر بیداری کے لیے مزید وقت درکار ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='6159db7dcd05f'&gt;قیلولہ کیفین سے بہتر&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f662e423dcdc.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f662e423dcdc.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f662e423dcdc.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f662e423dcdc.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگر آپ تھکاوٹ محسوس کررہے ہیں مگر کام یا پڑھائی کرنا ہے تو کافی یا چائے کی بجائے قیلولے کو ترجیح دیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کفین کے مقابلے مین قیلولہ یادداشت اور سیکھنے کی صلاحیت کو بہتر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='6159db7dcd073'&gt;نیند کی کمی دور کرے&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f662e426878a.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f662e426878a.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f662e426878a.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f662e426878a.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگر آپ کو معلوم ہے کہ ایک یا 2 راتوں تک رات کو بھرپور نیند سے محروم رہیں گے تو طویل قیلولے سے مدد لے سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان حالات میں مختصر کی بجائے دوپہر کو جتنی دیر تک سو سکیں بہتر ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='6159db7dcd086'&gt;تناؤ میں کمی&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f662e420dafe.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f662e420dafe.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f662e420dafe.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f662e420dafe.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگر آپ کو بہت زیادہ دباؤ کا سامنا ہے تو کچھ دیر کا قیلولہ تنائو کو خارج اور مدافعتی صحت کو بہتر کرسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ماہرین کا ماننا ہے کہ اس مقصد کے لیے 30 منٹ کی نیند مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='6159db7dcd099'&gt;دل کی صحت بہتر بنائے&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f6630fc2b3c5.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f6630fc2b3c5.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f6630fc2b3c5.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f6630fc2b3c5.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;قیلولہ بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے جس سے امراض قلب، ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ کم ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو لوگ دوپہر میں سونے کے عادی ہوتے ہیں ان میں بلڈ پریشر کی سطح ذہنی تناؤ کے مراحل میں کم رہتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آسان الفاظ میں قیلولہ تناؤ والی صورتحال میں جسم کو ریکور کرنے مین مدد دیتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='6159db7dcd0ab'&gt;تخلیقی صلاحیت بڑھائے&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f6630ffbacf4.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f6630ffbacf4.png 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f6630ffbacf4.png 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f6630ffbacf4.png 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;قیلولہ کے بعد لوگوں کا ذہن تازہ دم اور غنودگی کی کیفیت محسوس نہیں ہوتی، جس کے نتیجے میں ذہن کی تخلیقی صلاحیت کو فائدہ پہنچتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کی مثال کچھ اس طرح ہے جب کمپیوٹر پر بہت زیادہ اوورلوڈ ہو یعنی بہت زیادہ فائلز اوپن ہو تو اسے ری بوٹ کیا جاتا ہے تاکہ اس کی کارکردگی بہتر بنائی جاسکے، ایسا ہی کچھ دوپہر کی نیند سے بھی ہوتا ہے جو ذہن کی صفائی کرکے اس کے لیے مسائل کا حل اور نئے آئیڈیاز کی تلاش آسان بنادیتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='6159db7dcd0be'&gt;رات کی اچھی نیند میں مددگار&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f6630fc78e1b.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f6630fc78e1b.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f6630fc78e1b.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f6630fc78e1b.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگرچہ یہ غیرمنطقی محسوس ہوگا مگر دوپہر کو سونا بزرگ افراد کو رات میں اچھی نیند میں مدد فراہم کرسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیقی رپورٹس کے مطابق دوپہر ایک سے 3 بجے کے دوران 30 منٹ کی نیند اور شام میں کچھ دیر کی چہل قدمی رات کے وقت نیند کو بہتر بنانے میں مددگار ہے، جبکہ ایسا کرنے سے ذہنی اور جسمانی صحت بھی بہتر ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='6159db7dcd0d1'&gt;بچوں کے لیے بھی مفید&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f6631008964a.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f6631008964a.png 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f6631008964a.png 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f6631008964a.png 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسکول جانے سے پہلے اکثر بے دوپہر کو سونا چھوڑ کے ہوتے ہیں مگر یہ عادت اس عمر میں سیکھنے اور نشوونما کے لیے انتہائی اہم ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جو بچے دوپہر کو سونے کے عادی ہوتے ہیں ان کی یادداشت بہتر ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>طبی ماہرین رات کو 7 سے 8 گھنٹے کی نیند لینے کا مشورہ دیتے ہیں مگر بیشتر افراد اس پر عمل نہیں کرپاتے۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1094177' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2019/09/5d6bf6c0ae26c.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2019/09/5d6bf6c0ae26c.png 280w, https://i.dawn.com/large/2019/09/5d6bf6c0ae26c.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2019/09/5d6bf6c0ae26c.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>اب اس کی وجہ کچھ بھی ہو مگر یہ سب کو معلوم ہے کہ نیند کی کمی صحت کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے اور اس کا حل دوپہر کو کچھ دیر کے لیے سونے یا قیلولے میں چھپا ہے۔</p>

<p>قیلولہ صرف بچوں کے لیے ہی نہیں بلکہ متعدد تحقیقی رپورٹس میں ثابت ہوا ہے کہ دوپہر کی نیند بالغ افراد کے لیے بھی بہت مفید ہے۔</p>

<p>دوپہر کو کچھ دیر کی نیند یادداشت تیز، دفتری کارکردگی بہتر، مزاج خوشگوار، ذہنی و جسمانی چستی اور تناؤ میں کمی لاتی ہے۔</p>

<p>یہاں <a href="https://www.webmd.com/a-to-z-guides/ss/slideshow-health-benefits-of-napping">قیلولے کے ایسے فوائد</a> بتائے جارہے ہیں جن کی سائنس نے تصدیق کی ہے۔</p>

<h2 id='6159db7dccfa9'>یادداشت کو بہتر بنائے</h2>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f6627d17f10e.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f6627d17f10e.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f6627d17f10e.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f6627d17f10e.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوا کہ نیند یادوں کو محفوظ کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، دوپہر کی نیند سے دن بھر میں جو کچھ سیکھتے ہیں، انہین یاد رکھنے میں رات کی مکمل نیند مدد ملتی ہے۔</p>

<p>قیلولے سے مختلف دماغی افعال بھی بہتر ہوتے ہیں جو یادداشت کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔</p>

<h2 id='6159db7dccff5'>تفصیلات کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت بہتر</h2>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f6627d1d915b.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f6627d1d915b.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f6627d1d915b.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f6627d1d915b.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>قیلولے سے نہ صرف سیکھی ہوئی چیزیں یاد رکھنے میں مدد ملتی ہے بلکہ یہ دماغ کو ان چیزوں کے درمیان تعلق بنانے میں بھی مددگار ہے جو آپ سیکھتے ہیں۔</p>

<p>ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ دوپہر کو سونے کے عادی افراد دن بھر کے لیے دن بھر کی تفصیلات کو اکٹھا اور منظم کرنا آسان ہوتا ہے۔</p>

<h2 id='6159db7dcd00d'>کارکردگی بہتر بنائے</h2>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f6627d1b6747.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f6627d1b6747.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f6627d1b6747.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f6627d1b6747.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>جب آپ دن بھر میں ایک ہی کام بار بار کرتے ہوں تو کارکردگی دن گزرنے کے ساتھ بدتر ہوتی چلی جاتی ہے۔</p>

<p>تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوا ہے کہ دن میں کچھ منٹ کا قیلولہ کارکردگی کا تسلسل برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔</p>

<h2 id='6159db7dcd022'>مزاج خوشگوار بنائے</h2>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f662ad5733fe.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f662ad5733fe.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f662ad5733fe.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f662ad5733fe.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>اگر چڑچڑا پن محسوس کررہے ہیں تو دوپہر کو کچھ دیر کی نیند یا محض آرام بھی مزاج پر خوشگوار اثرات مرتب کرسکتا ہے۔</p>

<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ کچھ دیر سکون سے لیٹ کر آرام کرنا مزاج کو خوشگوار بناتا ہے، چاہے آپ نیند کے مزے لے یا نہیں۔</p>

<h2 id='6159db7dcd038'>ذہنی و جسمانی چستی</h2>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f662ad556168.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f662ad556168.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f662ad556168.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f662ad556168.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>اگر دوپہر کے کھانے کے بعد غنودگی اور سستی محسوس کررہے ہیں تو ایسا صرف آپ کے ساتھ ہی نہیں ہوتا۔</p>

<p>دوپہر کے کھانے کے بعد اس طرح کی سستی کا سامنا کروڑوں افراد کو ہوتا ہے اور اس وقت 20 منٹ کا قیلولہ اس کا مقابلہ کرنے میں مدد دیتا ہے۔</p>

<h2 id='6159db7dcd04c'>مختصر دورانیہ ہی بہتر</h2>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f662ad561e39.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f662ad561e39.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f662ad561e39.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f662ad561e39.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>محض 10 منٹ کا قیلولہ بھی صحت کے لیے مفید ثابت ہوسکتا ہے مگر ضروری ہے کہ دوپہر کی نیند کا وقت 30 منٹ یا اس سے بھی کم ہونا چاہیے تاکہ تھکاوٹ کا سامنا ہو۔</p>

<p>اگر آپ زیادہ دیر تک یعنی ایک گھنٹے تک قیلولہ کرتے ہیں تو اس بات کا امکان زیادہ ہوتا ہے کہ جب بیدار ہوں گے تو ذہنی دھند کا سامنا ہوگا، جس کے بعد مکمل طور پر بیداری کے لیے مزید وقت درکار ہوگا۔</p>

<h2 id='6159db7dcd05f'>قیلولہ کیفین سے بہتر</h2>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f662e423dcdc.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f662e423dcdc.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f662e423dcdc.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f662e423dcdc.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>اگر آپ تھکاوٹ محسوس کررہے ہیں مگر کام یا پڑھائی کرنا ہے تو کافی یا چائے کی بجائے قیلولے کو ترجیح دیں۔ </p>

<p>کفین کے مقابلے مین قیلولہ یادداشت اور سیکھنے کی صلاحیت کو بہتر کرتا ہے۔</p>

<h2 id='6159db7dcd073'>نیند کی کمی دور کرے</h2>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f662e426878a.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f662e426878a.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f662e426878a.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f662e426878a.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>اگر آپ کو معلوم ہے کہ ایک یا 2 راتوں تک رات کو بھرپور نیند سے محروم رہیں گے تو طویل قیلولے سے مدد لے سکتے ہیں۔</p>

<p>ان حالات میں مختصر کی بجائے دوپہر کو جتنی دیر تک سو سکیں بہتر ہے۔</p>

<h2 id='6159db7dcd086'>تناؤ میں کمی</h2>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f662e420dafe.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f662e420dafe.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f662e420dafe.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f662e420dafe.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>اگر آپ کو بہت زیادہ دباؤ کا سامنا ہے تو کچھ دیر کا قیلولہ تنائو کو خارج اور مدافعتی صحت کو بہتر کرسکتا ہے۔</p>

<p>ماہرین کا ماننا ہے کہ اس مقصد کے لیے 30 منٹ کی نیند مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔</p>

<h2 id='6159db7dcd099'>دل کی صحت بہتر بنائے</h2>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f6630fc2b3c5.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f6630fc2b3c5.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f6630fc2b3c5.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f6630fc2b3c5.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>قیلولہ بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے جس سے امراض قلب، ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ کم ہوتا ہے۔</p>

<p>ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو لوگ دوپہر میں سونے کے عادی ہوتے ہیں ان میں بلڈ پریشر کی سطح ذہنی تناؤ کے مراحل میں کم رہتی ہے۔</p>

<p>آسان الفاظ میں قیلولہ تناؤ والی صورتحال میں جسم کو ریکور کرنے مین مدد دیتا ہے۔</p>

<h2 id='6159db7dcd0ab'>تخلیقی صلاحیت بڑھائے</h2>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f6630ffbacf4.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f6630ffbacf4.png 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f6630ffbacf4.png 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f6630ffbacf4.png 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>قیلولہ کے بعد لوگوں کا ذہن تازہ دم اور غنودگی کی کیفیت محسوس نہیں ہوتی، جس کے نتیجے میں ذہن کی تخلیقی صلاحیت کو فائدہ پہنچتا ہے۔</p>

<p>اس کی مثال کچھ اس طرح ہے جب کمپیوٹر پر بہت زیادہ اوورلوڈ ہو یعنی بہت زیادہ فائلز اوپن ہو تو اسے ری بوٹ کیا جاتا ہے تاکہ اس کی کارکردگی بہتر بنائی جاسکے، ایسا ہی کچھ دوپہر کی نیند سے بھی ہوتا ہے جو ذہن کی صفائی کرکے اس کے لیے مسائل کا حل اور نئے آئیڈیاز کی تلاش آسان بنادیتا ہے۔</p>

<h2 id='6159db7dcd0be'>رات کی اچھی نیند میں مددگار</h2>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f6630fc78e1b.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f6630fc78e1b.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f6630fc78e1b.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f6630fc78e1b.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>اگرچہ یہ غیرمنطقی محسوس ہوگا مگر دوپہر کو سونا بزرگ افراد کو رات میں اچھی نیند میں مدد فراہم کرسکتا ہے۔</p>

<p>تحقیقی رپورٹس کے مطابق دوپہر ایک سے 3 بجے کے دوران 30 منٹ کی نیند اور شام میں کچھ دیر کی چہل قدمی رات کے وقت نیند کو بہتر بنانے میں مددگار ہے، جبکہ ایسا کرنے سے ذہنی اور جسمانی صحت بھی بہتر ہوتی ہے۔</p>

<h2 id='6159db7dcd0d1'>بچوں کے لیے بھی مفید</h2>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f6631008964a.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f6631008964a.png 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f6631008964a.png 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f6631008964a.png 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>اسکول جانے سے پہلے اکثر بے دوپہر کو سونا چھوڑ کے ہوتے ہیں مگر یہ عادت اس عمر میں سیکھنے اور نشوونما کے لیے انتہائی اہم ہے۔</p>

<p>جو بچے دوپہر کو سونے کے عادی ہوتے ہیں ان کی یادداشت بہتر ہوتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1142433</guid>
      <pubDate>Sun, 03 Oct 2021 21:34:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/09/5f6630fc453ad.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="960" width="1600">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/09/5f6630fc453ad.jpg"/>
        <media:title>— شٹر اسٹاک فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وہ نشانیاں جو کسی بچے کے ذہین ہونے کی جانب اشارہ کرتی ہیں
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1142303/</link>
      <description>&lt;p&gt;لگ بھگ تمام والدین کا ماننا ہوتا ہے کہ وہ دنیا کے ذہین ترین بچے کی پرورش کررہے ہیں، یہ درست ہے یا نہیں اس سے قطع نظر زیادہ تر افراد ایسا سوچتے ضرور ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مگر یہ بھی حقیقت ہے ایسے والدین کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے جو قدرتی طور پر ذہین بچوں کی پرورش کررہے ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بس ان نشانیوں کو پہچاننے کی ضرورت ہوتی ہے جو اشارہ کرتی ہیں کہ بہ بہت ذہین ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ بتانا تو بہت مشکل ہوتا ہے کہ بچہ پیدائشی طور پر جنیئس ہے یا نہیں مگر &lt;a href="https://www.moms.com/signs-raising-intelligent-child/"&gt;&lt;strong&gt;کچھ نشانیوں&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; سے اس کا اشارہ ضرور مل سکتا ہے۔ جو درج ذیل ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5f6488cbbe925'&gt;تیزی سے سیکھنے والے&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;کسی بھی کام کو تیزی سے سیکھنا عموماً ایک نشانی ہوتی ہے کہ بچہ بہت ذہین ہے، اور اس حوالے سے کچھ مزید تفصیلات کو دیکھ کر بھی تصدیق کی جاسکتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بچہ اگر مخصوص موضوعات پر اپنے دوستوں کے مقابلے میں زیادہ معلومات رکھتا ہے تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ واقعی ذہین ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک اور نشانی یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ دیگر بچوں کے مقابلے میں اپنے اسباق کو بہت تیزی سے سیکھ لیتا ہے بلکہ اکیلے پروجیکٹس پر بھی کام کرلیتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5f6488cbbe9e2'&gt;اچھی یادداشت&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;اگر بچے کی یادداشت قدرتی طور پر بہت اچھی ہے تو یہ بھی ذہانت کی علامت ہوسکتی ہے، مگر بچے پیدائشی طور پر مضبوط یادداشت کی صلاحیت نہیں رکھتے، اس کے لیے والدین کو کچھ کام کرنا ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس مقصد کے لیے والدین کو اپنے بچوں میں مطالعے کی عادت کو فروغ دینا چاہیے جس سے ان کی یادداشت مضبوط کرنے میں مدد ملتی ہے، اسی طرح گیمز بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سادہ سرگرمیوں جیسے بچوں سے ایسے سوال پوچھنا جن کا جواب انہیں معلوم ہو، یعنی رشتے دار یا دوست کہاں رہتے ہیں، یا ان کی پسندیدہ کتابوں کے بارے میں پوچھنا بھی موثر ذریعہ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5f6488cbbea02'&gt;مطالعے میں دلچسپی&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;جو بچے ذہین ہوتے ہیں وہ اکثر مطالعے میں بہت زیادہ دلچسپی ظاہر کرتے ہیں، کئی بار بچے اسکول جانے سے پہلے ہی مطالعے میں بہت زیادہ دلچسپی ظاہر کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایسا ہو تو والدین کو معلوم ہونا چاہیے وہ ممکنہ طور پر ایک ایسے بچے کی پرورش کررہے ہیں جو بہت زیادہ ذہین ہے ، خاص طور پر اگر وہ کتابوں کو پڑھ کر لطف اندوز ہوں تو یہ ایک بڑی نشانی ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5f6488cbbea27'&gt;سوچنے پر مجبور کردینے والے سوال&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;جو بچے ذہین ہوتے ہیں ان میں دلچسپ سوالات کرنے کا رجحان نظر آتا ہے، صرف اس نشانی سے تو بتانا بہت مشکل ہوتا ہے کہ وہ حقیقی معنوں میں ذہین یا نہیں، تاہم ایسا ہونے کا امکان ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خاص طور پر اگر ان کی جانب سے ایسے سوال پوچھے جائیں جو سوچنے پر مجبور کردیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بچہ اس موضوع پر سوچتا ہے، جس کے بارے میں بات کررہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5f6488cbbea45'&gt;دوسروں کی قیادت کرنا&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;اچھی قائدانہ صلاحیت رکھنے والے بچے بہت ذہین ہوتے ہیں، اگر وہ دیگر بچوں کے گروپ کی قیادت اچھے طریقے سے کررہا ہے، تو یہ ایک ٹھوس نشانی ہوسکتی ہے کہ وہ بہت زیادہ ذہین ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس طرح کے بچے بہت زیادہ میل جول رکھتے ہیں اور وہ مختلف موضوعات کو سیکھنے میں بھی دلچسپی ظاہر کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5f6488cbbea63'&gt;منطق کا استعمال&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;منطق کا استعمال بیشتر افراد کرتے ہیں مگر جو بچے ذہین ہوتے ہیں ان میں یہ رجحان بہت زیادہ نظر آتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگر والدین کو نظر آئے کہ ان کا بچہ ایسے کاموں میں فہم کا استعمال کرتا ہے جہاں اس کی ضرورت ہوتی ہے، تو ہوسکتا ہے کہ وہ بہت زیادہ ذہین ہو۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5f6488cbbead0'&gt;اچھے گریڈز کا حصول&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;یہ بہت واضح نشانی ہے کہ بچہ بہت ذہین ہے، مگر صرف اچھے گریڈز حاصل کرنا تنہا بہت زیادہ ذہانت کی نشانی نہیں ہوتی بلکہ دیگر علامات کو بھی دیکھنا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بہت زیادہ ذہین بچے بہت مختلف ہوتے ہیں اور جلد سیکھنے کے ساتھ اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں جو اچھے نتائج کے حصول میں مددگار بھی ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5f6488cbbeaf5'&gt;توجہ مرکوز کرنے والے&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;اگر بہت چیزوں میں توجہ مرکوز کرتا ہے تو یہ بھی پیدائشی ذہانت کی نشانی ہوسکتی ہے، مگر ضروری نہیں کہ مخصوص چیزوں پر توجہ مرکوز نہ کرنے والے بچے ذہین نہ ہوں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درحقیقت ایسی متعدد وجوہات ہیں جن کے باعث کچھ بچوں کے لیے توجہ مرکوز کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگر کسی بچے کو اسکول میں توجہ مرکوز کرنے میں مشکل کا سامنا ہو تو اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اسے اپنے پڑھائی کے حوالے کچھ مسائل کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5f6488cbbeb14'&gt;تجسس&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;جو بچے متجسس طبیعت کے مالک ہوتے ہیں اکثر بہت زیادہ ذہین ہوتے ہیں، مخصوص معاملات میں تجسس بہت اہمیت رکھتا ہے کیونکہ وہ اس سے بہت کچھ سیکھ کر بھی ذہانت کو جلا دے سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چیزوں کے بارے میں سوالات ذہین بننے کے لیے اہم ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس رجحان سے ان کے لیے بہت کچھ واضح ہوتا ہے اور اپنے ارگرد کے ماحول کے بارے میں بہت کچھ جانتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5f6488cbbeb32'&gt;بچوں کے مقابلے میں بالغ افراد سے زیادہ گفتگو&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;جو بچے اپنے ہم عمر افراد سے زیادہ عقلمند ہوتے ہیں وہ عموماً بالغ افراد سے بات چیت کرکے زیادہ خوش ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ذہانت کی ایک اور نشانی یہ بھی ہے کہ جب بچہ دیگر افراد سے مختلف موضوعات پر بہت زیادہ بات چیت کرتا ہو۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لگ بھگ تمام والدین کا ماننا ہوتا ہے کہ وہ دنیا کے ذہین ترین بچے کی پرورش کررہے ہیں، یہ درست ہے یا نہیں اس سے قطع نظر زیادہ تر افراد ایسا سوچتے ضرور ہیں۔</p>

<p>مگر یہ بھی حقیقت ہے ایسے والدین کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے جو قدرتی طور پر ذہین بچوں کی پرورش کررہے ہوتے ہیں۔</p>

<p>بس ان نشانیوں کو پہچاننے کی ضرورت ہوتی ہے جو اشارہ کرتی ہیں کہ بہ بہت ذہین ہے۔</p>

<p>یہ بتانا تو بہت مشکل ہوتا ہے کہ بچہ پیدائشی طور پر جنیئس ہے یا نہیں مگر <a href="https://www.moms.com/signs-raising-intelligent-child/"><strong>کچھ نشانیوں</strong></a> سے اس کا اشارہ ضرور مل سکتا ہے۔ جو درج ذیل ہیں۔</p>

<h3 id='5f6488cbbe925'>تیزی سے سیکھنے والے</h3>

<p>کسی بھی کام کو تیزی سے سیکھنا عموماً ایک نشانی ہوتی ہے کہ بچہ بہت ذہین ہے، اور اس حوالے سے کچھ مزید تفصیلات کو دیکھ کر بھی تصدیق کی جاسکتی ہے۔</p>

<p>بچہ اگر مخصوص موضوعات پر اپنے دوستوں کے مقابلے میں زیادہ معلومات رکھتا ہے تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ واقعی ذہین ہوگا۔</p>

<p>ایک اور نشانی یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ دیگر بچوں کے مقابلے میں اپنے اسباق کو بہت تیزی سے سیکھ لیتا ہے بلکہ اکیلے پروجیکٹس پر بھی کام کرلیتا ہے۔</p>

<h3 id='5f6488cbbe9e2'>اچھی یادداشت</h3>

<p>اگر بچے کی یادداشت قدرتی طور پر بہت اچھی ہے تو یہ بھی ذہانت کی علامت ہوسکتی ہے، مگر بچے پیدائشی طور پر مضبوط یادداشت کی صلاحیت نہیں رکھتے، اس کے لیے والدین کو کچھ کام کرنا ہوتے ہیں۔</p>

<p>اس مقصد کے لیے والدین کو اپنے بچوں میں مطالعے کی عادت کو فروغ دینا چاہیے جس سے ان کی یادداشت مضبوط کرنے میں مدد ملتی ہے، اسی طرح گیمز بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔</p>

<p>سادہ سرگرمیوں جیسے بچوں سے ایسے سوال پوچھنا جن کا جواب انہیں معلوم ہو، یعنی رشتے دار یا دوست کہاں رہتے ہیں، یا ان کی پسندیدہ کتابوں کے بارے میں پوچھنا بھی موثر ذریعہ ہے۔</p>

<h3 id='5f6488cbbea02'>مطالعے میں دلچسپی</h3>

<p>جو بچے ذہین ہوتے ہیں وہ اکثر مطالعے میں بہت زیادہ دلچسپی ظاہر کرتے ہیں، کئی بار بچے اسکول جانے سے پہلے ہی مطالعے میں بہت زیادہ دلچسپی ظاہر کرتے ہیں۔</p>

<p>ایسا ہو تو والدین کو معلوم ہونا چاہیے وہ ممکنہ طور پر ایک ایسے بچے کی پرورش کررہے ہیں جو بہت زیادہ ذہین ہے ، خاص طور پر اگر وہ کتابوں کو پڑھ کر لطف اندوز ہوں تو یہ ایک بڑی نشانی ہوتی ہے۔</p>

<h3 id='5f6488cbbea27'>سوچنے پر مجبور کردینے والے سوال</h3>

<p>جو بچے ذہین ہوتے ہیں ان میں دلچسپ سوالات کرنے کا رجحان نظر آتا ہے، صرف اس نشانی سے تو بتانا بہت مشکل ہوتا ہے کہ وہ حقیقی معنوں میں ذہین یا نہیں، تاہم ایسا ہونے کا امکان ہوتا ہے۔</p>

<p>خاص طور پر اگر ان کی جانب سے ایسے سوال پوچھے جائیں جو سوچنے پر مجبور کردیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بچہ اس موضوع پر سوچتا ہے، جس کے بارے میں بات کررہا ہے۔</p>

<h3 id='5f6488cbbea45'>دوسروں کی قیادت کرنا</h3>

<p>اچھی قائدانہ صلاحیت رکھنے والے بچے بہت ذہین ہوتے ہیں، اگر وہ دیگر بچوں کے گروپ کی قیادت اچھے طریقے سے کررہا ہے، تو یہ ایک ٹھوس نشانی ہوسکتی ہے کہ وہ بہت زیادہ ذہین ہے۔</p>

<p>اس طرح کے بچے بہت زیادہ میل جول رکھتے ہیں اور وہ مختلف موضوعات کو سیکھنے میں بھی دلچسپی ظاہر کرتے ہیں۔</p>

<h3 id='5f6488cbbea63'>منطق کا استعمال</h3>

<p>منطق کا استعمال بیشتر افراد کرتے ہیں مگر جو بچے ذہین ہوتے ہیں ان میں یہ رجحان بہت زیادہ نظر آتا ہے۔</p>

<p>اگر والدین کو نظر آئے کہ ان کا بچہ ایسے کاموں میں فہم کا استعمال کرتا ہے جہاں اس کی ضرورت ہوتی ہے، تو ہوسکتا ہے کہ وہ بہت زیادہ ذہین ہو۔</p>

<h3 id='5f6488cbbead0'>اچھے گریڈز کا حصول</h3>

<p>یہ بہت واضح نشانی ہے کہ بچہ بہت ذہین ہے، مگر صرف اچھے گریڈز حاصل کرنا تنہا بہت زیادہ ذہانت کی نشانی نہیں ہوتی بلکہ دیگر علامات کو بھی دیکھنا ہوتا ہے۔</p>

<p>بہت زیادہ ذہین بچے بہت مختلف ہوتے ہیں اور جلد سیکھنے کے ساتھ اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں جو اچھے نتائج کے حصول میں مددگار بھی ہوتا ہے۔</p>

<h3 id='5f6488cbbeaf5'>توجہ مرکوز کرنے والے</h3>

<p>اگر بہت چیزوں میں توجہ مرکوز کرتا ہے تو یہ بھی پیدائشی ذہانت کی نشانی ہوسکتی ہے، مگر ضروری نہیں کہ مخصوص چیزوں پر توجہ مرکوز نہ کرنے والے بچے ذہین نہ ہوں۔</p>

<p>درحقیقت ایسی متعدد وجوہات ہیں جن کے باعث کچھ بچوں کے لیے توجہ مرکوز کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔</p>

<p>اگر کسی بچے کو اسکول میں توجہ مرکوز کرنے میں مشکل کا سامنا ہو تو اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اسے اپنے پڑھائی کے حوالے کچھ مسائل کا سامنا ہے۔</p>

<h3 id='5f6488cbbeb14'>تجسس</h3>

<p>جو بچے متجسس طبیعت کے مالک ہوتے ہیں اکثر بہت زیادہ ذہین ہوتے ہیں، مخصوص معاملات میں تجسس بہت اہمیت رکھتا ہے کیونکہ وہ اس سے بہت کچھ سیکھ کر بھی ذہانت کو جلا دے سکتے ہیں۔</p>

<p>چیزوں کے بارے میں سوالات ذہین بننے کے لیے اہم ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس رجحان سے ان کے لیے بہت کچھ واضح ہوتا ہے اور اپنے ارگرد کے ماحول کے بارے میں بہت کچھ جانتے ہیں۔</p>

<h3 id='5f6488cbbeb32'>بچوں کے مقابلے میں بالغ افراد سے زیادہ گفتگو</h3>

<p>جو بچے اپنے ہم عمر افراد سے زیادہ عقلمند ہوتے ہیں وہ عموماً بالغ افراد سے بات چیت کرکے زیادہ خوش ہوتے ہیں۔</p>

<p>ذہانت کی ایک اور نشانی یہ بھی ہے کہ جب بچہ دیگر افراد سے مختلف موضوعات پر بہت زیادہ بات چیت کرتا ہو۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1142303</guid>
      <pubDate>Fri, 18 Sep 2020 15:15:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/09/5f63b93564678.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/09/5f63b93564678.jpg"/>
        <media:title>— شٹر اسٹاک فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جوڑوں کے تکلیف دہ امراض میں کمی لانے میں مددگار غذائیں
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1142202/</link>
      <description>&lt;h1 id='5f6241849031c'&gt;جوڑوں کے تکلیف دہ امراض میں کمی لانے میں مددگار غذائیں&lt;/h1&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;br&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جوڑوں کا درد بہت تکلیف دہ ہوتا ہے اور اسے تمام امراض کی جڑ بھی قرار دیا جاتا ہے جو کہ کسی بھی عمر کے فرد کو اپنا شکار بنا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1024245' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2019/06/5d0fcd743fd4d.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2019/06/5d0fcd743fd4d.png 280w, https://i.dawn.com/large/2019/06/5d0fcd743fd4d.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2019/06/5d0fcd743fd4d.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عام طور پر یہ مرض خون میں یورک ایسڈ جمنے کے نتیجے میں ہوتا ہے، یہ یورک ایسڈ جسمانی پراسیس کے نتیجے میں خارج ہوتا ہے اور عام طورپر خون میں تحلیل ہوکر گردوں کے راستے پیشاب کے ذریعے نکل جاتا ہے مگر جب جسم اس کی زیادہ مقدار بننے لگے تو گردے اس سے نجات پانے میں ناکام رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے نتیجے میں یہ جوڑوں میں کرسٹل کی شکل میں جمنے لگتا ہے جس سے جوڑوں میں درد ہونے لگتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درحقیقت عمر بڑھنے کے ساتھ ہڈیاں بھی کمزور ہونے لگتی ہیں جس کے باعث جوڑوں کا درد لوگوں کو اپنا شکار بنالیتا ہے تاہم اس میں کمی لانا یا بچنا اتنا بھی مشکل کام نہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگر تو آپ اس کے شکار ہیں تو چند غذائیں ایسی ہیں جن کا استعمال ورم میں کمی لاتا ہے اور دیگر مسائل سے بھی ریلیف مل سکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تو ایسی ہی &lt;a href="https://www.healthline.com/nutrition/10-foods-for-arthritis"&gt;&lt;strong&gt;چند بہترین غذاؤں&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے بارے میں جان لیں جو جوڑوں کے مسائل میں کمی یا نجات میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5f62418490361'&gt;مچھلی&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5a3f1ad8806.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f5a3f1ad8806.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f5a3f1ad8806.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5a3f1ad8806.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چربی والی مچھلیوں میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جو ورم کش اثرات سے لیس فیٹی ایسڈز ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;33 افراد پر ہونے والی ایک تحقیق میں انہیں ہر ہفتے 4 بار چربی والی مچھلی، بغیر چربی والی مچھلی یا گوشت کا استعمال کرایا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;8 ہفتوں بعد دریافت کیا گیا کہ چربی والی مچھلی کھانے والے افراد میں ایسے مخصوص مرکبات کی سطح کم ہوگئی جن کو ورم سے منسلک کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی طرح 17 تحقیقی رپورٹس کے ایک تجزیے میں دریافت کیا گیا کہ اومیگا تھری فیٹی ایسڈز سپلیمنٹس سے جوڑوں کی تکلیف، صبح کے وقت ہونے والی اکڑن میں نمایاں کمی آتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک ٹیسٹ ٹیوب تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اومیگا تھری فیٹی ایسڈز سے متعدد ورم کا باعث بننے والے عناصر کی سطح کم ہوتی ہے جو جوڑوں کے امراض کا باعث بنتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مچھلی وٹامن ڈی کے حصول کا بھی اچھا ذریعہ ہے جس کی کمی بھی جوڑوں کے امراض کا خطرہ بڑھاتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5f62418490379'&gt;لہسن&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5a3ea7b537c.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f5a3ea7b537c.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f5a3ea7b537c.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5a3ea7b537c.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یقین کرنا مشکل ہوگا مگر لہسن متعدد طبی فوائد جسم کو فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کچھ ٹیسٹ ٹیوب تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا کہ لہسن اور اس میں موجود مرکبات اور اجزا امراض قلب اور ڈیمینشیا کا خطرہ کم کرسکتتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مگر اس کے ساتھ ساتھ اس کی ورم کش خصوصیات جوڑوں کے امراض کی علامات میں کمی لانے میں بھی مدد فراہم کرسکتی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درحقیقت کچھ تحقیقی رپورٹس میں ثابت کیا گیا کہ لہسن سے ایسے مخصوص مدافعتی خلیات کے افعال بہتر ہوتے ہیں جو مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے میں مدد دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک ہزار سے زائد افراد پر ہونے والی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو لوگ زیادہ لہسن جزوبدن بناتے ہیں، ان میں کولہے کے جوڑوں کے بھربھرے پن کا خطرہ کم ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک اور ٹیسٹ ٹیوب تحقیق میں ثابت ہوا کہ لہسن میں موجود مخصوص مرکبات جوڑوں کے امراض کا باعث سمجھے جانے والے عناصر کی سطح کم کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تو غذا میں لہسن کا اضافہ جوڑوں کے مسائل اور مجموعی صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5f6241849038e'&gt;ادرک&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f62407db72cd.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f62407db72cd.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f62407db72cd.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f62407db72cd.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ادرک بھی جوڑوں کے مسائل میں کمی لانے میں مددگار ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک تحقیق میں ادرک کے ایکسٹریکٹ کے اثرات کا تجزیہ جوڑوں کے امراض کے شکار 261 افراد پر کیا گیا اور دریافت ہوا کہ 6 ہفتے میں 63 فیصد افراد کی تکلیف میں کمی آئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک ٹیسٹ ٹیوب تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ادرک اور اس کے اجزا ایسے مواد کو بننے سے روکتے ہیں جو جسم میں ورم کا باعث بنتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ادرک کا کسی بھی شکل میں استعمال ورم میں کمی کے ساتھ ساتھ جوڑوں کے امراض کی علامات میں ریلیف فراہم کرسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5f624184903a4'&gt;اخروٹ&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f623ee76676a.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f623ee76676a.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f623ee76676a.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f623ee76676a.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اخروٹ ایسے مفید غذائی اجزا سے بھرپور گری ہے جو جوڑوں کے امراض کا باعث بننے والے ورم میں کمی لانے میں ممکنہ طور پر مددگار ثابت ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;13 تحقیقی رپورٹس کے ایک تجزیے میں ثابت ہوا کہ اخروٹ کھانا ورم میں کمی لانے میں مدد دے سکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اخروٹ میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جو جوڑوں کے امراض میں کمی لانے میں موثر ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;90 افراد پر ہونے والی ایک تحقیق میں جوڑوں کے امراض کے شکار رضاکاروں کو اومیگا تھری فیٹیس ایڈز کے سپلیمنٹس یا زیتون کے تیل کا استعمال کرایا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نتائج سے معلوم ہوا کہ اومیگا تھری فیٹی ایسڈز والے گروپ میں تکلیف نمایاں حد تک کم ہوئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم زیادہ تر تحقیقی رپورٹس میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز پر توجہ دی گئی ہے، اخروٹ کھانے سے مرتب ہونے والے اثرات پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5f624184903b8'&gt;بیریز&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5e2dfac0b9f.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f5e2dfac0b9f.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f5e2dfac0b9f.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5e2dfac0b9f.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اینٹی آکسائیڈنٹس، وٹامنز اور منرلز سے بھرپور بیریز ممکنہ طور پر ورم میں کمی لانے کی منفرد صلاحیت رکھتی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;38 ہزار سے زائد خواتین پر ہونے والی ایک تحقیق میں معلوم ہوا کہ ہر ہفتے کم از کم 2 بار اسٹرابیری کھانے سے خون میں ورم کا باعث بننے والے عناصر کی سطح میں 14 فیصد تک کمی آسکتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بیریز میں 2 ایسے نباتاتی مرکبات کیورسٹین اور ریوٹین موجود ہوتے ہیں جو صحت کے لیے بہت زیادہ مفید ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک ٹیسٹ ٹیوب تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کیورسٹین سے ورم کے اس عمل کو کسی حد تک بلاک کرنے میں مدد ملتی ہے جو جوڑوں کے امراض سے منسلک کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خوش قسمتی سے اسٹرابیری کے علاوہ بلیک بیریز، بلیو بیریز اور دیگر بیریز سب سے یہ فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5f624184903cb'&gt;پالک&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f623f4fd4737.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f623f4fd4737.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f623f4fd4737.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f623f4fd4737.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سبز پتوں والی سبزیاں جیسے پالک میں ایسے اجزا ہوتے ہیں جو جوڑوں کے امراض کا باعث بننے والے ورم کی روک تھام کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;متعدد تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا کہ پھلوں اور سبزیوں کا زیادہ استعمال جسمانی ورم کی سطح میں کمی لاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خاص طور پر پالک میں ایسے متعدد اینٹی آکسائیڈنٹس اور نباتاتی مرکبات موجود ہوتے ہیں جو ورم میں کمی اور بیماری سے لڑنے میں مدد دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پالک میں ایک اینٹی آکسائیڈنٹ kaempferol موجود ہوتا ہے جو ورم کا باعث بننے والے ان اجزا کے اثرات کم کرتا ہے جو جوڑوں کے امراض کا باعث بنتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5f624184903de'&gt;انگور&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/02/5c6b018ca3f76.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2019/02/5c6b018ca3f76.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2019/02/5c6b018ca3f76.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2019/02/5c6b018ca3f76.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انگور اینٹی آکسائیڈنٹس کے ساتھ ساتھ ورم کش خصوصیات سے لیس پھل ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مردوں پر ہونے والی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ انگور کا سفورف ورم کا باعث موثر طریقے سے خون میں ورم کا باعث بننے والے عناصر کی سطح کم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انگوروں میں متعدد ایسے مرکبات بھی موجود ہوتے ہیں جو جوڑوں کے امراض کے لیے مفید ثابت ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک ٹیسٹ ٹیوب تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ایک اینٹی آکسائیڈنٹ resveratrol جو انگور کی جلد پر ہوتا ہے، جوڑوں کے امراض کی روک تھام میں مدد فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انگوروں میں موجود ایک نباتاتی مرکب proanthocyanidin بھی جوڑوں کے امراض کے حوالے سے مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ معلوم ہوسکے کہ انگوروں میں موجود اجزا انسانوں پر کس حد تک اثرانداز ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5f624184903f1'&gt;زیتون کا تیل&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5a3bc0566dd.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f5a3bc0566dd.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f5a3bc0566dd.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5a3bc0566dd.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;زیتون کا تیل ورم کش خصوصیات کا حامل ہوتا ہے اور اسی وجہ سے یہ جوڑوں کے امراض کے لیے بہترین ثابت ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک تحقیق کے دوران چوہوں کو 6 ہفتوں تک زیتون کے تیل کا استعمال کرایا گیا جس سے ان میں جوڑوں کے امراض کے بننے کے عمل کو روکنے میں مدد مل، جوڑوں کی سوجن کم ہوگئی جبکہ ورم بھی گھٹ گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک اور تحقیق میں جوڑوں کے امراض کے شکار 49 افراد کو مچھلی کا تیل یا زیتون کا تیل روزانہ 24 ہفتوں تک استعمال کرایا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نتائج سے معلوم ہوا کہ دونوں گروپس میں ورم کا باعث بننے والے عناصر کی سطح میں کمی آئی ہے مگر زیتون کے تیل والے گروپ میں یہ زیادہ نمایاں تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;333 افراد پر ہونے والی ایک اور تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ زیتون کے تیل کا استعمال اس تکلیف دہ بیماری کا خطرہ کم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<h1 id='5f6241849031c'>جوڑوں کے تکلیف دہ امراض میں کمی لانے میں مددگار غذائیں</h1>

<hr />

<p><br></p>

<p>جوڑوں کا درد بہت تکلیف دہ ہوتا ہے اور اسے تمام امراض کی جڑ بھی قرار دیا جاتا ہے جو کہ کسی بھی عمر کے فرد کو اپنا شکار بنا سکتا ہے۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1024245' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2019/06/5d0fcd743fd4d.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2019/06/5d0fcd743fd4d.png 280w, https://i.dawn.com/large/2019/06/5d0fcd743fd4d.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2019/06/5d0fcd743fd4d.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>عام طور پر یہ مرض خون میں یورک ایسڈ جمنے کے نتیجے میں ہوتا ہے، یہ یورک ایسڈ جسمانی پراسیس کے نتیجے میں خارج ہوتا ہے اور عام طورپر خون میں تحلیل ہوکر گردوں کے راستے پیشاب کے ذریعے نکل جاتا ہے مگر جب جسم اس کی زیادہ مقدار بننے لگے تو گردے اس سے نجات پانے میں ناکام رہتے ہیں۔</p>

<p>اس کے نتیجے میں یہ جوڑوں میں کرسٹل کی شکل میں جمنے لگتا ہے جس سے جوڑوں میں درد ہونے لگتا ہے۔</p>

<p>درحقیقت عمر بڑھنے کے ساتھ ہڈیاں بھی کمزور ہونے لگتی ہیں جس کے باعث جوڑوں کا درد لوگوں کو اپنا شکار بنالیتا ہے تاہم اس میں کمی لانا یا بچنا اتنا بھی مشکل کام نہیں۔</p>

<p>اگر تو آپ اس کے شکار ہیں تو چند غذائیں ایسی ہیں جن کا استعمال ورم میں کمی لاتا ہے اور دیگر مسائل سے بھی ریلیف مل سکتا ہے۔</p>

<p>تو ایسی ہی <a href="https://www.healthline.com/nutrition/10-foods-for-arthritis"><strong>چند بہترین غذاؤں</strong></a> کے بارے میں جان لیں جو جوڑوں کے مسائل میں کمی یا نجات میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔</p>

<h2 id='5f62418490361'>مچھلی</h2>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5a3f1ad8806.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f5a3f1ad8806.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f5a3f1ad8806.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5a3f1ad8806.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>چربی والی مچھلیوں میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جو ورم کش اثرات سے لیس فیٹی ایسڈز ہیں۔</p>

<p>33 افراد پر ہونے والی ایک تحقیق میں انہیں ہر ہفتے 4 بار چربی والی مچھلی، بغیر چربی والی مچھلی یا گوشت کا استعمال کرایا گیا۔</p>

<p>8 ہفتوں بعد دریافت کیا گیا کہ چربی والی مچھلی کھانے والے افراد میں ایسے مخصوص مرکبات کی سطح کم ہوگئی جن کو ورم سے منسلک کیا جاتا ہے۔</p>

<p>اسی طرح 17 تحقیقی رپورٹس کے ایک تجزیے میں دریافت کیا گیا کہ اومیگا تھری فیٹی ایسڈز سپلیمنٹس سے جوڑوں کی تکلیف، صبح کے وقت ہونے والی اکڑن میں نمایاں کمی آتی ہے۔</p>

<p>ایک ٹیسٹ ٹیوب تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اومیگا تھری فیٹی ایسڈز سے متعدد ورم کا باعث بننے والے عناصر کی سطح کم ہوتی ہے جو جوڑوں کے امراض کا باعث بنتے ہیں۔</p>

<p>مچھلی وٹامن ڈی کے حصول کا بھی اچھا ذریعہ ہے جس کی کمی بھی جوڑوں کے امراض کا خطرہ بڑھاتی ہے۔</p>

<h2 id='5f62418490379'>لہسن</h2>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5a3ea7b537c.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f5a3ea7b537c.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f5a3ea7b537c.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5a3ea7b537c.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>یقین کرنا مشکل ہوگا مگر لہسن متعدد طبی فوائد جسم کو فراہم کرتی ہے۔</p>

<p>کچھ ٹیسٹ ٹیوب تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا کہ لہسن اور اس میں موجود مرکبات اور اجزا امراض قلب اور ڈیمینشیا کا خطرہ کم کرسکتتے ہیں۔</p>

<p>مگر اس کے ساتھ ساتھ اس کی ورم کش خصوصیات جوڑوں کے امراض کی علامات میں کمی لانے میں بھی مدد فراہم کرسکتی ہیں۔</p>

<p>درحقیقت کچھ تحقیقی رپورٹس میں ثابت کیا گیا کہ لہسن سے ایسے مخصوص مدافعتی خلیات کے افعال بہتر ہوتے ہیں جو مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے میں مدد دیتے ہیں۔</p>

<p>ایک ہزار سے زائد افراد پر ہونے والی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو لوگ زیادہ لہسن جزوبدن بناتے ہیں، ان میں کولہے کے جوڑوں کے بھربھرے پن کا خطرہ کم ہوتا ہے۔</p>

<p>ایک اور ٹیسٹ ٹیوب تحقیق میں ثابت ہوا کہ لہسن میں موجود مخصوص مرکبات جوڑوں کے امراض کا باعث سمجھے جانے والے عناصر کی سطح کم کرتے ہیں۔</p>

<p>تو غذا میں لہسن کا اضافہ جوڑوں کے مسائل اور مجموعی صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔</p>

<h2 id='5f6241849038e'>ادرک</h2>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f62407db72cd.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f62407db72cd.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f62407db72cd.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f62407db72cd.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>ادرک بھی جوڑوں کے مسائل میں کمی لانے میں مددگار ہے۔ </p>

<p>ایک تحقیق میں ادرک کے ایکسٹریکٹ کے اثرات کا تجزیہ جوڑوں کے امراض کے شکار 261 افراد پر کیا گیا اور دریافت ہوا کہ 6 ہفتے میں 63 فیصد افراد کی تکلیف میں کمی آئی۔</p>

<p>ایک ٹیسٹ ٹیوب تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ادرک اور اس کے اجزا ایسے مواد کو بننے سے روکتے ہیں جو جسم میں ورم کا باعث بنتے ہیں۔</p>

<p>ادرک کا کسی بھی شکل میں استعمال ورم میں کمی کے ساتھ ساتھ جوڑوں کے امراض کی علامات میں ریلیف فراہم کرسکتا ہے۔</p>

<h2 id='5f624184903a4'>اخروٹ</h2>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f623ee76676a.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f623ee76676a.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f623ee76676a.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f623ee76676a.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>اخروٹ ایسے مفید غذائی اجزا سے بھرپور گری ہے جو جوڑوں کے امراض کا باعث بننے والے ورم میں کمی لانے میں ممکنہ طور پر مددگار ثابت ہوتی ہے۔</p>

<p>13 تحقیقی رپورٹس کے ایک تجزیے میں ثابت ہوا کہ اخروٹ کھانا ورم میں کمی لانے میں مدد دے سکتا ہے۔</p>

<p>اخروٹ میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جو جوڑوں کے امراض میں کمی لانے میں موثر ہے۔</p>

<p>90 افراد پر ہونے والی ایک تحقیق میں جوڑوں کے امراض کے شکار رضاکاروں کو اومیگا تھری فیٹیس ایڈز کے سپلیمنٹس یا زیتون کے تیل کا استعمال کرایا گیا۔</p>

<p>نتائج سے معلوم ہوا کہ اومیگا تھری فیٹی ایسڈز والے گروپ میں تکلیف نمایاں حد تک کم ہوئی۔</p>

<p>تاہم زیادہ تر تحقیقی رپورٹس میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز پر توجہ دی گئی ہے، اخروٹ کھانے سے مرتب ہونے والے اثرات پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔</p>

<h2 id='5f624184903b8'>بیریز</h2>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5e2dfac0b9f.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f5e2dfac0b9f.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f5e2dfac0b9f.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5e2dfac0b9f.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>اینٹی آکسائیڈنٹس، وٹامنز اور منرلز سے بھرپور بیریز ممکنہ طور پر ورم میں کمی لانے کی منفرد صلاحیت رکھتی ہیں۔</p>

<p>38 ہزار سے زائد خواتین پر ہونے والی ایک تحقیق میں معلوم ہوا کہ ہر ہفتے کم از کم 2 بار اسٹرابیری کھانے سے خون میں ورم کا باعث بننے والے عناصر کی سطح میں 14 فیصد تک کمی آسکتی ہے۔</p>

<p>بیریز میں 2 ایسے نباتاتی مرکبات کیورسٹین اور ریوٹین موجود ہوتے ہیں جو صحت کے لیے بہت زیادہ مفید ہوتے ہیں۔</p>

<p>ایک ٹیسٹ ٹیوب تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کیورسٹین سے ورم کے اس عمل کو کسی حد تک بلاک کرنے میں مدد ملتی ہے جو جوڑوں کے امراض سے منسلک کیا جاتا ہے۔</p>

<p>خوش قسمتی سے اسٹرابیری کے علاوہ بلیک بیریز، بلیو بیریز اور دیگر بیریز سب سے یہ فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔</p>

<h2 id='5f624184903cb'>پالک</h2>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f623f4fd4737.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f623f4fd4737.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f623f4fd4737.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f623f4fd4737.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>سبز پتوں والی سبزیاں جیسے پالک میں ایسے اجزا ہوتے ہیں جو جوڑوں کے امراض کا باعث بننے والے ورم کی روک تھام کرتے ہیں۔</p>

<p>متعدد تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا کہ پھلوں اور سبزیوں کا زیادہ استعمال جسمانی ورم کی سطح میں کمی لاتا ہے۔</p>

<p>خاص طور پر پالک میں ایسے متعدد اینٹی آکسائیڈنٹس اور نباتاتی مرکبات موجود ہوتے ہیں جو ورم میں کمی اور بیماری سے لڑنے میں مدد دیتے ہیں۔</p>

<p>پالک میں ایک اینٹی آکسائیڈنٹ kaempferol موجود ہوتا ہے جو ورم کا باعث بننے والے ان اجزا کے اثرات کم کرتا ہے جو جوڑوں کے امراض کا باعث بنتے ہیں۔</p>

<h2 id='5f624184903de'>انگور</h2>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/02/5c6b018ca3f76.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2019/02/5c6b018ca3f76.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2019/02/5c6b018ca3f76.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2019/02/5c6b018ca3f76.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>انگور اینٹی آکسائیڈنٹس کے ساتھ ساتھ ورم کش خصوصیات سے لیس پھل ہے۔</p>

<p>مردوں پر ہونے والی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ انگور کا سفورف ورم کا باعث موثر طریقے سے خون میں ورم کا باعث بننے والے عناصر کی سطح کم کرتا ہے۔</p>

<p>انگوروں میں متعدد ایسے مرکبات بھی موجود ہوتے ہیں جو جوڑوں کے امراض کے لیے مفید ثابت ہوئے ہیں۔</p>

<p>ایک ٹیسٹ ٹیوب تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ایک اینٹی آکسائیڈنٹ resveratrol جو انگور کی جلد پر ہوتا ہے، جوڑوں کے امراض کی روک تھام میں مدد فراہم کرتا ہے۔</p>

<p>انگوروں میں موجود ایک نباتاتی مرکب proanthocyanidin بھی جوڑوں کے امراض کے حوالے سے مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔</p>

<p>اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ معلوم ہوسکے کہ انگوروں میں موجود اجزا انسانوں پر کس حد تک اثرانداز ہوسکتے ہیں۔</p>

<h2 id='5f624184903f1'>زیتون کا تیل</h2>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5a3bc0566dd.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f5a3bc0566dd.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f5a3bc0566dd.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5a3bc0566dd.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>زیتون کا تیل ورم کش خصوصیات کا حامل ہوتا ہے اور اسی وجہ سے یہ جوڑوں کے امراض کے لیے بہترین ثابت ہوسکتا ہے۔</p>

<p>ایک تحقیق کے دوران چوہوں کو 6 ہفتوں تک زیتون کے تیل کا استعمال کرایا گیا جس سے ان میں جوڑوں کے امراض کے بننے کے عمل کو روکنے میں مدد مل، جوڑوں کی سوجن کم ہوگئی جبکہ ورم بھی گھٹ گیا۔</p>

<p>ایک اور تحقیق میں جوڑوں کے امراض کے شکار 49 افراد کو مچھلی کا تیل یا زیتون کا تیل روزانہ 24 ہفتوں تک استعمال کرایا گیا۔</p>

<p>نتائج سے معلوم ہوا کہ دونوں گروپس میں ورم کا باعث بننے والے عناصر کی سطح میں کمی آئی ہے مگر زیتون کے تیل والے گروپ میں یہ زیادہ نمایاں تھی۔</p>

<p>333 افراد پر ہونے والی ایک اور تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ زیتون کے تیل کا استعمال اس تکلیف دہ بیماری کا خطرہ کم کرتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1142202</guid>
      <pubDate>Wed, 16 Sep 2020 21:47:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/09/5f6240d9932cf.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/09/5f6240d9932cf.jpg"/>
        <media:title>— شٹر اسٹاک فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دانتوں کو موتیوں جیسے سفید بنانے میں مددگار قدرتی ٹوٹکے
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1142033/</link>
      <description>&lt;h1 id='5f5f99b1b03ac'&gt;دانتوں کو موتیوں جیسے سفید بنانے میں مددگار قدرتی ٹوٹکے&lt;/h1&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;br&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سفید دانتوں کی چمک سے اپنی مسکراہٹ کو جگمگانا کس کی خواہش نہیں ہوتی اور لاتعداد افراد اس مقصد کے لیے ہزاروں روپے ڈینٹسٹ کو دے کر ان کی صفائی بھی کرواتے ہیں مگر ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1019363' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e0cf2d833bb2.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e0cf2d833bb2.png 280w, https://i.dawn.com/large/2020/01/5e0cf2d833bb2.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e0cf2d833bb2.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تو اس کا جواب بظاہر تو آسان ہے اور وہ ہے زیادہ برش کرنا، مگر یہ کام اتنا بھی آسان نہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دانتوں کی رنگت میں تبدیلی اکثر یقینی ہوتی ہے اور بتدریج نظر آتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درحقیقت عمر بڑھنے کے ساتھ دانتوں کی رنگت زیادہ زرد ہونے لگتی ہے جس ک یوجہ اوپری سطح کا غائب ہوجانا ہے اور اس کے نیچے موجود زرد جھلی زیادہ نمایاں ہوجاتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم اگر یہ جوانی میں ہی زرد ہونے لگیں تو یقیناً یہ کوئی خوشگوار نظارہ نہیں ہوتا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم اگر آپ اس زرد رنگت سے نجات چاہتے ہیں تو درج ذیل میں &lt;a href="https://www.webmd.com/oral-health/ss/slideshow-natural-teeth-whitening"&gt;چند آسان طریقے&lt;/a&gt; دیئے جارہے ہیں جن کو اپنا معمول بناکر آپ دانتوں کی سفیدی کو برقرار رکھنے میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5f5f99b1b0428'&gt;برش اور خلال&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5f853cccf86.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f5f853cccf86.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f5f853cccf86.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5f853cccf86.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;منہ کی اچھی صحت کے لیے یہ مستند طریہ کار ہے جو مسکراہٹ کو بہترین بنانے میں مدد دیتا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ٹوتھ پیسٹ نرمی سے دانتوں کی سطح پر سے داغوں کو ہٹاتا ہے جبکہ خلال خوران اور بیکٹریا کو منہ سے خارج کرتا ہے جو سخت پوکر پلاک کی شکل اختیار کرلیتے ہیں، جس سے دانت بدنما نظر آنے لگتے ہیں&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5f5f99b1b044e'&gt;تیل سے کلیاں&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5f867420fad.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f5f867420fad.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f5f867420fad.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5f867420fad.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس طریقہ کار میں تلوں، ناریل یا زیتون کے تیل کے ایک کھانے کے چمچ کو منہ میں بھر کر 20 منٹ تک گھمایا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایسا کرنے سے منہ میں موجود بیکٹریا خارج ہوتے ہیں، ایک حالیہ تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اس مقصد کے لیے ناریل کے تیل کا استعمال دانتوں کی فرسودگی کی روک تھام کرتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5f5f99b1b046f'&gt;بیکنگ سوڈٖا&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5f86064c889.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f5f86064c889.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f5f86064c889.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5f86064c889.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بیکنگ سوڈا کسی ریگ مال جیسا کام کرتے ہوئے داغوں کو دانتوں سے صاف کرتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس مقصد کے لیے حصول کے لیے بیکنگ سوڈا کا پیسٹ بناکر دانتوں پر برش کرنا مددگار ثابت ہوسکتا ہے یا سوڈیم بائی کاربونیٹ پر مبنی ٹوتھ پیسٹ بھی یہی کام کرسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک کھانے کے چمچ سوڈا اور چٹکی بھر نمک کو مکس کریں اور گیلے ٹوتھ برش کو اس مکسچر میں ڈبو کر دانتوں پر معمول کے مطابق برش کرلیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5f5f99b1b0492'&gt;سیب، انناس اور اسٹرابیری&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5e30af5b8c3.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f5e30af5b8c3.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f5e30af5b8c3.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5e30af5b8c3.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سیب میں موجود Malic acid منہ میں لعاب دہن کی مقدار بڑھاتا ہے جو تیزابیت کو بہا کر لے جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایسا مانا جاتا ہے کہ ان پھلوں کو کھانا دانتوں کو جگمگانے میں مدد دے سکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم اسٹرابیری بہت زیادہ کھانے سے گریز کرنا اہیے کیونکہ اس میں موجود سیٹرک ایسڈ دانتوں کی سطح کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5f5f99b1b04b4'&gt;ہائیڈروجن پری آکسائیڈ&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5f87af79728.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f5f87af79728.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f5f87af79728.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5f87af79728.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ ایسا بلیچنگ عنصر ہے جو بیشتر ہوم وائٹئنگ کٹس میں موجود ہوتا ہے، یہ دانت کی رنگت کو بدل دیتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ایسا جیل جس میں 6 فیصد مقدار ہائیڈروجن پری آکسائیڈ موجود ہوتا ہے، کا 2 ہفتے تک استعمال دانتوں کی سفیدی میں نمایں فرق لاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ویسے اس محلول کو براہ راست بھی کلیوں کی شکل میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5f5f99b1b04d2'&gt;سیب کا سرکہ&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5f8810ca92a.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f5f8810ca92a.png 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f5f8810ca92a.png 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5f8810ca92a.png 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دانتوں پر برش سے پہلے سیب کے سرکے سے غرارے کرنا بیکٹریا کو مارنے اور داغوں کو ہٹانے میں مدد دے سکتا ہے یا یوں کہہ لیں دانتوں کی سفیدی کو ممکن بنایا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ویسے اس دعویٰ کو درست ثابت کرنے کے لیے کوئی طبی تحقیق نہیں کی گئی تاہم اس طریقہ کار کا کوئی منفی نقصان بھی نہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5f5f99b1b04f2'&gt;ہلدی&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5f88a69f768.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f5f88a69f768.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f5f88a69f768.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5f88a69f768.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پکوانوں کے لیے عام استعمال ہونے والی ہلدی دانتوں کی سفیدی کے لیے بھی مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہلدی کا پیسٹ دانتوں کو جگمگانے میں مدد دے سکتا ہے جس کو پیسٹ کی طرح استعمال کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5f5f99b1b0514'&gt;اپنی غذا پر نظر رکھیں&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5f8937e8da3.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f5f8937e8da3.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f5f8937e8da3.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5f8937e8da3.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مشروبات جیسے کافی،سوڈا اور گہرے رنگت والی غذائیں دانتوں پر داغ کا باعث بن سکتے ہیں،&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس طرح کے مشروبات یا غذاؤں کے استعمال کے 30 منٹ بعد پانی سے کلیاں کرنے یہ خطرہ کم کی جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تمباکو نوشی کے نتیجے میں دانتوں پر داغ کا خطرہ بڑھتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<h1 id='5f5f99b1b03ac'>دانتوں کو موتیوں جیسے سفید بنانے میں مددگار قدرتی ٹوٹکے</h1>

<hr />

<p><br></p>

<p>سفید دانتوں کی چمک سے اپنی مسکراہٹ کو جگمگانا کس کی خواہش نہیں ہوتی اور لاتعداد افراد اس مقصد کے لیے ہزاروں روپے ڈینٹسٹ کو دے کر ان کی صفائی بھی کرواتے ہیں مگر ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1019363' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e0cf2d833bb2.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e0cf2d833bb2.png 280w, https://i.dawn.com/large/2020/01/5e0cf2d833bb2.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e0cf2d833bb2.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>تو اس کا جواب بظاہر تو آسان ہے اور وہ ہے زیادہ برش کرنا، مگر یہ کام اتنا بھی آسان نہیں۔</p>

<p>دانتوں کی رنگت میں تبدیلی اکثر یقینی ہوتی ہے اور بتدریج نظر آتی ہے۔</p>

<p>درحقیقت عمر بڑھنے کے ساتھ دانتوں کی رنگت زیادہ زرد ہونے لگتی ہے جس ک یوجہ اوپری سطح کا غائب ہوجانا ہے اور اس کے نیچے موجود زرد جھلی زیادہ نمایاں ہوجاتی ہے۔</p>

<p>تاہم اگر یہ جوانی میں ہی زرد ہونے لگیں تو یقیناً یہ کوئی خوشگوار نظارہ نہیں ہوتا۔</p>

<p>تاہم اگر آپ اس زرد رنگت سے نجات چاہتے ہیں تو درج ذیل میں <a href="https://www.webmd.com/oral-health/ss/slideshow-natural-teeth-whitening">چند آسان طریقے</a> دیئے جارہے ہیں جن کو اپنا معمول بناکر آپ دانتوں کی سفیدی کو برقرار رکھنے میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔</p>

<h2 id='5f5f99b1b0428'>برش اور خلال</h2>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5f853cccf86.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f5f853cccf86.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f5f853cccf86.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5f853cccf86.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>منہ کی اچھی صحت کے لیے یہ مستند طریہ کار ہے جو مسکراہٹ کو بہترین بنانے میں مدد دیتا ہے۔ </p>

<p>ٹوتھ پیسٹ نرمی سے دانتوں کی سطح پر سے داغوں کو ہٹاتا ہے جبکہ خلال خوران اور بیکٹریا کو منہ سے خارج کرتا ہے جو سخت پوکر پلاک کی شکل اختیار کرلیتے ہیں، جس سے دانت بدنما نظر آنے لگتے ہیں</p>

<h2 id='5f5f99b1b044e'>تیل سے کلیاں</h2>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5f867420fad.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f5f867420fad.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f5f867420fad.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5f867420fad.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>اس طریقہ کار میں تلوں، ناریل یا زیتون کے تیل کے ایک کھانے کے چمچ کو منہ میں بھر کر 20 منٹ تک گھمایا جاتا ہے۔</p>

<p>ایسا کرنے سے منہ میں موجود بیکٹریا خارج ہوتے ہیں، ایک حالیہ تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اس مقصد کے لیے ناریل کے تیل کا استعمال دانتوں کی فرسودگی کی روک تھام کرتا ہے۔</p>

<h2 id='5f5f99b1b046f'>بیکنگ سوڈٖا</h2>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5f86064c889.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f5f86064c889.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f5f86064c889.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5f86064c889.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>بیکنگ سوڈا کسی ریگ مال جیسا کام کرتے ہوئے داغوں کو دانتوں سے صاف کرتا ہے۔</p>

<p>اس مقصد کے لیے حصول کے لیے بیکنگ سوڈا کا پیسٹ بناکر دانتوں پر برش کرنا مددگار ثابت ہوسکتا ہے یا سوڈیم بائی کاربونیٹ پر مبنی ٹوتھ پیسٹ بھی یہی کام کرسکتا ہے۔</p>

<p>ایک کھانے کے چمچ سوڈا اور چٹکی بھر نمک کو مکس کریں اور گیلے ٹوتھ برش کو اس مکسچر میں ڈبو کر دانتوں پر معمول کے مطابق برش کرلیں۔</p>

<h2 id='5f5f99b1b0492'>سیب، انناس اور اسٹرابیری</h2>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5e30af5b8c3.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f5e30af5b8c3.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f5e30af5b8c3.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5e30af5b8c3.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>سیب میں موجود Malic acid منہ میں لعاب دہن کی مقدار بڑھاتا ہے جو تیزابیت کو بہا کر لے جاتا ہے۔</p>

<p>ایسا مانا جاتا ہے کہ ان پھلوں کو کھانا دانتوں کو جگمگانے میں مدد دے سکتا ہے۔</p>

<p>تاہم اسٹرابیری بہت زیادہ کھانے سے گریز کرنا اہیے کیونکہ اس میں موجود سیٹرک ایسڈ دانتوں کی سطح کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔</p>

<h2 id='5f5f99b1b04b4'>ہائیڈروجن پری آکسائیڈ</h2>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5f87af79728.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f5f87af79728.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f5f87af79728.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5f87af79728.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>یہ ایسا بلیچنگ عنصر ہے جو بیشتر ہوم وائٹئنگ کٹس میں موجود ہوتا ہے، یہ دانت کی رنگت کو بدل دیتا ہے۔</p>

<p>ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ایسا جیل جس میں 6 فیصد مقدار ہائیڈروجن پری آکسائیڈ موجود ہوتا ہے، کا 2 ہفتے تک استعمال دانتوں کی سفیدی میں نمایں فرق لاتا ہے۔</p>

<p>ویسے اس محلول کو براہ راست بھی کلیوں کی شکل میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔</p>

<h2 id='5f5f99b1b04d2'>سیب کا سرکہ</h2>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5f8810ca92a.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f5f8810ca92a.png 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f5f8810ca92a.png 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5f8810ca92a.png 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>دانتوں پر برش سے پہلے سیب کے سرکے سے غرارے کرنا بیکٹریا کو مارنے اور داغوں کو ہٹانے میں مدد دے سکتا ہے یا یوں کہہ لیں دانتوں کی سفیدی کو ممکن بنایا جاسکتا ہے۔</p>

<p>ویسے اس دعویٰ کو درست ثابت کرنے کے لیے کوئی طبی تحقیق نہیں کی گئی تاہم اس طریقہ کار کا کوئی منفی نقصان بھی نہیں۔</p>

<h2 id='5f5f99b1b04f2'>ہلدی</h2>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5f88a69f768.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f5f88a69f768.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f5f88a69f768.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5f88a69f768.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>پکوانوں کے لیے عام استعمال ہونے والی ہلدی دانتوں کی سفیدی کے لیے بھی مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔</p>

<p>ہلدی کا پیسٹ دانتوں کو جگمگانے میں مدد دے سکتا ہے جس کو پیسٹ کی طرح استعمال کیا جاسکتا ہے۔</p>

<h2 id='5f5f99b1b0514'>اپنی غذا پر نظر رکھیں</h2>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5f8937e8da3.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f5f8937e8da3.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f5f8937e8da3.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5f8937e8da3.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>مشروبات جیسے کافی،سوڈا اور گہرے رنگت والی غذائیں دانتوں پر داغ کا باعث بن سکتے ہیں،</p>

<p>اس طرح کے مشروبات یا غذاؤں کے استعمال کے 30 منٹ بعد پانی سے کلیاں کرنے یہ خطرہ کم کی جاسکتا ہے۔</p>

<p>تمباکو نوشی کے نتیجے میں دانتوں پر داغ کا خطرہ بڑھتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1142033</guid>
      <pubDate>Mon, 14 Sep 2020 21:26:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/09/5f5f848c36b29.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/09/5f5f848c36b29.jpg"/>
        <media:title>— شٹر اسٹاک فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلڈ شوگر سے بچنے کا نسخہ تو آپ کے کچن میں چھپا ہے
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1141952/</link>
      <description>&lt;h1 id='5f5e66fe3b902'&gt;بلڈ شوگر سے بچنے کا نسخہ تو آپ کے کچن میں چھپا ہے&lt;/h1&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;زندگی کس کو پیاری نہیں ہوتی مگر اچھی صحت کے بغیر جینا آسان نہیں ہوتا اور وہ جہنم جیسی لگنے لگتی ہے اور موجودہ عہد میں جو مرض انسانوں کے لیے سب سے زیادہ مہلک ثابت ہو رہا ہے وہ ذیابیطس ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1076023' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2019/07/5d1cf45b40445.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2019/07/5d1cf45b40445.png 280w, https://i.dawn.com/large/2019/07/5d1cf45b40445.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2019/07/5d1cf45b40445.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ذیابیطس وہ مرض ہے جو دیمک کی طرح خاموشی سے انسانی جسم کے اندرونی اعضا کو چاٹ جاتا ہے اور اگر اس کے بارے میں بروقت معلوم نہ ہوسکے تو یہ بینائی سے محرومی سے لے کر گردوں کے فیل ہونے اور دیگر لاتعداد طبی مسائل کا سبب بنتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حیرت انگیز طور پر ذیابیطس ٹائپ ٹو کے شکار 25 فیصد افراد کو اس کا شکار ہونے کا علم ہی نہیں ہوتا تو یہ ضروری ہے کہ بلڈ شوگر چیک اپ کرانا معمول بنالیا جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم اگر آپ اکثر بلڈ شوگر کو چیک کراتے رہتے ہیں اور ہر بار اس میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے تو یہ خطرے کی گھنٹی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہاں کچھ ایسی غذائیں بتائی جارہی ہیں جو &lt;a href="https://www.healthline.com/nutrition/foods-to-lower-blood-sugar"&gt;&lt;strong&gt;بلڈ شوگر کی سطح کو صحت مند لیول&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; پر لانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5f5e66fe3b965'&gt;سی فوڈ&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5a3f1ad8806.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f5a3f1ad8806.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f5a3f1ad8806.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5a3f1ad8806.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سی فوڈ بشمول مچھلی متعدد اقسام کے پروٹین، صحت بخش چکنائی، وٹامنز، منرلز اور اینٹی آکسائیڈنٹس بلڈ شوگر لیول کو کنٹرول کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بلڈ شوگر کنٹرول کے لیے پروٹین ضروری جز ہے جو کھانے کے بعد اس کے ہضم ہونے کی رفتار سست کرنے کے ساتھ بلڈ شوگر کی سطح میں تیزی سے اضافے کی روک تھام کرتا ہے جبکہ پیٹ کو دیر تک بھرے رکھنے کا احساس بھی بڑھاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مزید براں پروٹین بسیار خوری کی روک تھام کے ساتھ اضافی جسمانی چربی کو گھلانے میں بھی مدد دیتا ہے، یہ دونوں صحت مند بلڈ شوگر کی سطح کے لیے ضروری ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چربی والی مچھلی کا استعمال بلڈ شوگر کی سطح کو کنٹرول میں رکھنے میں مددگار ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;موٹاپے کے شکار افراد پر ہونے والی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ہر ہفتے 750 گرام مچھلی کھانے سے کھانے کے بعد بلڈشوگر لیول کی سطح میں نمایاں حد تک بہتری آتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5f5e66fe3b988'&gt;میٹھا کدو اور اس کے بیج&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5e29d49e330.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f5e29d49e330.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f5e29d49e330.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5e29d49e330.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;میٹھے کدو میں فائبر اور اینٹی آکسائیڈنٹس کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے اور بلڈ شوگر کو بڑھنے سے روکنے کے لیے اچھا انتخاب ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کدو میں ایسے کاربوہائیڈریٹس ہوتے ہیں جو بلڈ شوگر کو ریگولیٹ کرنے میں مددگار ثابت ہوئے ہیں، جانوروں اور انسانوں پر ہونے والی تحقیقی رپورٹس میں کدو کے ایکسٹریکٹ اور سفوف بلڈ شوگر کی سطح میں نمایاں کمی کے لیے مفید ثابت ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم اس حوالے سے تحقیق کی ضرورت ہے کہ کدو کو کس شکل میں کھانا بلڈ شوگر کے حوالے سے مفید ثابت ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کدو کے بیج بھی صحت بخش چکنائی اور پروٹینز سے بھرپور ہوتے ہیں اور بلڈ شوگر کنٹرول کے لیے بہترین ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 65 گرام بیجوں کا استعمال کھانے کے بعد بلڈشوگر کی سطح میں 35 فیصد تک کم لاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5f5e66fe3b9aa'&gt;گریاں&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5e2a3ef02dd.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f5e2a3ef02dd.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f5e2a3ef02dd.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5e2a3ef02dd.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیقی رپورٹس میں ثابت ہوا ہے کہ گریاں کھانا بلڈ شوگر کی سطح کو ریگولیٹ کرنے کا ایک موثر ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ذیابیطس ٹائپ ٹو کے شکار 25 افراد پر ہونے والی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ مونگ پھلی اور بادام کی کچھ مقدار کو دن بھر کھانا خالی پیٹ اور کھانے کے بعد بلڈ شوگر لیول کو کم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک اور تحقیق میں دریافت کای گیا کہ روزانہ 56 گرام گریوں کو کھانا خالی پیٹ بلڈ شوگر اور ہیموگلوبن اے 1 سی کو نمایاں تک کم کرتا ہے، یہ ہیموگلوبن طویل المعیاد بنیادوں پر شوگر کنٹرول کا ایک اشارہ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5f5e66fe3b9cb'&gt;بھنڈی&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5e2a95bc948.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f5e2a95bc948.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f5e2a95bc948.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5e2a95bc948.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کیا آپ کو معلوم ہے کہ بھنڈی درحقیقت ایک پھل ہے مگر اسے بیشتر افراد سبزی سمجھتے ہیں؟ یہ بلڈ شوگر کی سطح کم کرنے والے اجزا جیسے فللیونوئڈز آینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ترکی میں تو بھنڈی کے بیج عرصے سے ذیابیطس کے علاج کے لیے قدرتی ٹوٹکے کے طور پر استعمال ہوتے ہیں کیونکہ وہ بلڈ شوگر کی سطح میں کمی لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھنڈی میں موجود پولی سیکرائڈ نامی کاربوہائیڈریٹس کو ذیابیطس کش مرکب مانا جاتا ہے جبکہ اس میں موجود فلونوئڈز اور دیگر اجزا بھی بلڈ شوگر کی سطح میں کمی لاتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جانوروں میں تحقیقی رپورٹس میں اسے بلڈ شوگر میں کمی کے لیے مفید قرار دیا گیا ہے مگر انسانوں پر اس حوالے سے زیادہ کام نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5f5e66fe3b9eb'&gt;السی کے بیج&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5a3dd582cdc.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f5a3dd582cdc.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f5a3dd582cdc.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5a3dd582cdc.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;السی کے بیج فائبر اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور ہوتے ہیں اور صحت کے لیے مفید ہوتے ہیں، خاص طور پر بلڈ شوگر کی سطح میں کمی لانے کے لیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ذیابیطس ٹائپ ٹو کے 57 مریضوں پر ہونے والی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ روزانہ 200 گرام دہی میں 30 گرام السی کے بیج ڈال کر کھانے سے ہیموگلوبن اے 1 سی کو نمایاں حد تک کم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی طرح 25 تحقیقی رپورٹس کے ایک تجزیے میں دریافت کیا گیا کہ السج کے بیجوں کو کھانے سے بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے میں نمایاں مدد مل سکتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5f5e66fe3ba0a'&gt;بیج اور دالیں&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5e2ba56b0d2.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f5e2ba56b0d2.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f5e2ba56b0d2.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5e2ba56b0d2.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بیج اور دالیں متعدد اقسام کے غذائی اجزا جیسے میگنیشیم، فائبر اور پروٹین سے بھرپور ہوتے ہیں جو بلڈ شوگر کی سطح میں کمی کے لیے مفید ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خاص طور پر حل ہونے والے فائبر اور مزاحمت کرنے والے نشاستہ سے کھانے کو ہضم کرنے کا عمل سست ہوتا ہے اور اس سے کھانے کے بعد بلڈ شوگر کے ردعمل میں بہتری آسکتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;12 خواتین پر ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ کالے چنے یا سفید چنے کا چاول میں اضافہ کھانے کے بعد بلڈ شوگر کی سطح میں نمایاں کمی لاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دیگر تحقیقی رپورٹس میں بھی ثابت ہوا کہ بیجوں اور دالوں کو کھانا نہ صرف بلڈ شوگر ریگولیشن کے لیے مفید ہے بلکہ اس سے ذیابیطس کے خلاف بھی تحفظ ملتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5f5e66fe3ba2a'&gt;تخم ملنگا&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5e2d1b5b677.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f5e2d1b5b677.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f5e2d1b5b677.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5e2d1b5b677.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تخم ملنگا کا استعمال بھی بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے میں مدد فراہم کرسکتا ہے، تحقیقی رپورٹس میں ان بیجوں کے استعمال اور بلڈ شوگر کی سطح میں کمی کے ساتھ ساتھ انسولین کی حساسیت میں بہتری کے درمیان تعلق کو دریافت کیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جانورں پر ہونے والی 17 تحقیقی رپورٹس کے ایک حالیے تجزیے میں کہا گیا کہ تخ ملنگا کے استعمال سے انسولین کی حساسیت اور بلڈ شوگر کنٹرول میں مدد مل سکتی ہے جبکہ ذیابیطس کا خطرہ کم ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5f5e66fe3ba4d'&gt;بیریز&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5e2dfac0b9f.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f5e2dfac0b9f.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f5e2dfac0b9f.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5e2dfac0b9f.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لاتعداد تحقیقی رپورٹس میں بیریز کھانے کی عادت کو بلڈ شوگر کو قابو میں کرنے کے لیے مفید قرار دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بیریز فائبر، وٹامنز، منرلز اور اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہوتی ہیں اور بلڈ شوگر کے مسائل کی روک تھام کے لیے ایک بہترین انتخاب ثابت ہوسکتی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیقی رپورٹس میں ثابت ہوا ہے کہ اسٹرابیری، بلیو بیری اور بلیک بیریز بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے میں موثر ثابت ہوسکتی ہیں کیونکہ وہ انسولین کی حساسیت بڑھانے کے ساتھ خون میں گلوکوز کو صاف کرنے کا عمل بہتر کرنے والے پھل ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5f5e66fe3ba6f'&gt;جو اور جو کی بھوسی&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5e2f13ec0d0.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f5e2f13ec0d0.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f5e2f13ec0d0.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5e2f13ec0d0.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جو اور جو کی بھوسی کو غذا کا حصہ بنانا بلڈ شوگر کی سطح کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے جس کی وجہ ان میں موجود حل پذیر فائبر کی مقدار بہت زیادہ ہونا ہے، جو بلڈ شوگر کی سطح میں کمی لانے کے لیے موثر ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;16 تحقیقی رپورٹس کے ایک تجزیے میں دریافت کیا گیا کہ جو کے استعمال سے ہیموگلوبن اے 1 سی اور خالی پیٹ بلڈ شوگر کی سطح میں نمایاں کمی لاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;10 افراد پر ہونے والی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ سفید ڈبل روٹی کھانے سے قبل 27 گرام جو کی بھوسی کو پانی میں ملا کر پینا کھانے کے بعد بلڈ شوگر کو تیزی سے بڑھنے سے روکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5f5e66fe3ba8d'&gt;ترش پھل&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5a3cb36cc92.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f5a3cb36cc92.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f5a3cb36cc92.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5a3cb36cc92.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگرچہ ایسے بیشتر پھلوں میں مٹھاس کافی زیادہ ہوتی ہے مگر طبی سائنس کے مطابق ان کو کھانے سے بلڈ شوگر کی سطح میں کمی آسکتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان پھلوں کو کھانے سے بلڈ شوگر پر ایسے اثرات مرتب نہیں ہوتے جو دیگر پھل جیسے تربوز اور انناس کھانے سے ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ترش پھل جیسے مالٹے اور گریپ فروٹ فائبر سے بھرپور ہوتے ہیں جبکہ ان میں نباتاتی مرکبات موجود ہوتے جو طاقتور ذیابیطس کش خصوصایت رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان پھلوں کو کھانے سے انسولین کی حساسیت میں بہتری، ہیموگلوبن اے 1 سی میں کمی اور ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہونے کے خطرے سے تحفظ ملتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5f5e66fe3baaf'&gt;دہی&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5e2f9306464.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f5e2f9306464.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f5e2f9306464.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5e2f9306464.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دہی کھانے کی عادت بلڈ شوگر کو ریگولیٹ کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ روزانہ ڈیڑھ سو گرام دہی کے استعمال سے کھانے کے بعد انسولین اور بلڈ شوگر لیول میں بہتری آسکتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5f5e66fe3bad0'&gt;انڈے&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/12/5dfc5fe0940da.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2019/12/5dfc5fe0940da.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2019/12/5dfc5fe0940da.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2019/12/5dfc5fe0940da.jpg 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انڈے بہت پرغذائیت غذا ہے جو پروٹین، صحت بخش چکنائی، وٹامنز، منرلز اور اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کچھ تحقیقی رپورٹس میں انڈوں کے استعمال کو بہتر بلڈ شوگر کنٹرول سے منسلک کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;موٹاپے کے شکار ایسے 42 بالغ افراد جو ذیابیطس یا پری ڈائیبیٹس کے شکار تھے، پر یونے والی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ روزانہ ایک انڈا کھانے سے خالی پیٹ بلڈ شوگر کی سطح میں 4.4 فیصد کی نمایاں کمی آتی ہے، جبکہ انسولین کی حساسیت بھی بہتر ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی طرح 7 ہزار سے زائد کورین شہریوں پر 14 سال تک جاری رہنے والی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ہر ہفتے 4 بار انڈوں کو کھانے سے ذیابیطس کا خطرہ 40 فیصد تک کم کرسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5f5e66fe3baef'&gt;سیب&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5e30af5b8c3.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f5e30af5b8c3.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f5e30af5b8c3.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5e30af5b8c3.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سیب ایسا پھل ہے جس میں حل پذیر فائبر اور نباتاتی مرکبات موجود ہیں اور یہ سب بلڈ شوگر کی سطح میں کمی اور ذیابیطس سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پونے 2 لاکھ سے زائد افراد پر ہونے والی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ مخصوص پھل جیسے بلیوبیریز، انگور اور سیبوں کو کھانے سے ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ نمایاں حد تک کم ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک اور تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ چاول کھانے سے 30 منٹ قبل سیب کو جزوبدن بنانا کھانے کے بعد بلڈ شوگر کی سطح کو نمایاں حد تک کم کرسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<h1 id='5f5e66fe3b902'>بلڈ شوگر سے بچنے کا نسخہ تو آپ کے کچن میں چھپا ہے</h1>

<hr />

<p>زندگی کس کو پیاری نہیں ہوتی مگر اچھی صحت کے بغیر جینا آسان نہیں ہوتا اور وہ جہنم جیسی لگنے لگتی ہے اور موجودہ عہد میں جو مرض انسانوں کے لیے سب سے زیادہ مہلک ثابت ہو رہا ہے وہ ذیابیطس ہے۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1076023' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2019/07/5d1cf45b40445.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2019/07/5d1cf45b40445.png 280w, https://i.dawn.com/large/2019/07/5d1cf45b40445.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2019/07/5d1cf45b40445.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>ذیابیطس وہ مرض ہے جو دیمک کی طرح خاموشی سے انسانی جسم کے اندرونی اعضا کو چاٹ جاتا ہے اور اگر اس کے بارے میں بروقت معلوم نہ ہوسکے تو یہ بینائی سے محرومی سے لے کر گردوں کے فیل ہونے اور دیگر لاتعداد طبی مسائل کا سبب بنتا ہے۔</p>

<p>حیرت انگیز طور پر ذیابیطس ٹائپ ٹو کے شکار 25 فیصد افراد کو اس کا شکار ہونے کا علم ہی نہیں ہوتا تو یہ ضروری ہے کہ بلڈ شوگر چیک اپ کرانا معمول بنالیا جائے۔</p>

<p>تاہم اگر آپ اکثر بلڈ شوگر کو چیک کراتے رہتے ہیں اور ہر بار اس میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے تو یہ خطرے کی گھنٹی ہے۔</p>

<p>یہاں کچھ ایسی غذائیں بتائی جارہی ہیں جو <a href="https://www.healthline.com/nutrition/foods-to-lower-blood-sugar"><strong>بلڈ شوگر کی سطح کو صحت مند لیول</strong></a> پر لانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔</p>

<h2 id='5f5e66fe3b965'>سی فوڈ</h2>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5a3f1ad8806.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f5a3f1ad8806.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f5a3f1ad8806.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5a3f1ad8806.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>سی فوڈ بشمول مچھلی متعدد اقسام کے پروٹین، صحت بخش چکنائی، وٹامنز، منرلز اور اینٹی آکسائیڈنٹس بلڈ شوگر لیول کو کنٹرول کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔</p>

<p>بلڈ شوگر کنٹرول کے لیے پروٹین ضروری جز ہے جو کھانے کے بعد اس کے ہضم ہونے کی رفتار سست کرنے کے ساتھ بلڈ شوگر کی سطح میں تیزی سے اضافے کی روک تھام کرتا ہے جبکہ پیٹ کو دیر تک بھرے رکھنے کا احساس بھی بڑھاتا ہے۔</p>

<p>مزید براں پروٹین بسیار خوری کی روک تھام کے ساتھ اضافی جسمانی چربی کو گھلانے میں بھی مدد دیتا ہے، یہ دونوں صحت مند بلڈ شوگر کی سطح کے لیے ضروری ہیں۔</p>

<p>چربی والی مچھلی کا استعمال بلڈ شوگر کی سطح کو کنٹرول میں رکھنے میں مددگار ہے۔</p>

<p>موٹاپے کے شکار افراد پر ہونے والی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ہر ہفتے 750 گرام مچھلی کھانے سے کھانے کے بعد بلڈشوگر لیول کی سطح میں نمایاں حد تک بہتری آتی ہے۔</p>

<h2 id='5f5e66fe3b988'>میٹھا کدو اور اس کے بیج</h2>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5e29d49e330.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f5e29d49e330.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f5e29d49e330.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5e29d49e330.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>میٹھے کدو میں فائبر اور اینٹی آکسائیڈنٹس کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے اور بلڈ شوگر کو بڑھنے سے روکنے کے لیے اچھا انتخاب ہے۔</p>

<p>کدو میں ایسے کاربوہائیڈریٹس ہوتے ہیں جو بلڈ شوگر کو ریگولیٹ کرنے میں مددگار ثابت ہوئے ہیں، جانوروں اور انسانوں پر ہونے والی تحقیقی رپورٹس میں کدو کے ایکسٹریکٹ اور سفوف بلڈ شوگر کی سطح میں نمایاں کمی کے لیے مفید ثابت ہوئے ہیں۔</p>

<p>تاہم اس حوالے سے تحقیق کی ضرورت ہے کہ کدو کو کس شکل میں کھانا بلڈ شوگر کے حوالے سے مفید ثابت ہوسکتا ہے۔</p>

<p>کدو کے بیج بھی صحت بخش چکنائی اور پروٹینز سے بھرپور ہوتے ہیں اور بلڈ شوگر کنٹرول کے لیے بہترین ہیں۔</p>

<p>ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 65 گرام بیجوں کا استعمال کھانے کے بعد بلڈشوگر کی سطح میں 35 فیصد تک کم لاسکتا ہے۔</p>

<h2 id='5f5e66fe3b9aa'>گریاں</h2>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5e2a3ef02dd.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f5e2a3ef02dd.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f5e2a3ef02dd.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5e2a3ef02dd.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>تحقیقی رپورٹس میں ثابت ہوا ہے کہ گریاں کھانا بلڈ شوگر کی سطح کو ریگولیٹ کرنے کا ایک موثر ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے۔</p>

<p>ذیابیطس ٹائپ ٹو کے شکار 25 افراد پر ہونے والی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ مونگ پھلی اور بادام کی کچھ مقدار کو دن بھر کھانا خالی پیٹ اور کھانے کے بعد بلڈ شوگر لیول کو کم کرتا ہے۔</p>

<p>ایک اور تحقیق میں دریافت کای گیا کہ روزانہ 56 گرام گریوں کو کھانا خالی پیٹ بلڈ شوگر اور ہیموگلوبن اے 1 سی کو نمایاں تک کم کرتا ہے، یہ ہیموگلوبن طویل المعیاد بنیادوں پر شوگر کنٹرول کا ایک اشارہ ہوتا ہے۔</p>

<h2 id='5f5e66fe3b9cb'>بھنڈی</h2>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5e2a95bc948.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f5e2a95bc948.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f5e2a95bc948.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5e2a95bc948.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>کیا آپ کو معلوم ہے کہ بھنڈی درحقیقت ایک پھل ہے مگر اسے بیشتر افراد سبزی سمجھتے ہیں؟ یہ بلڈ شوگر کی سطح کم کرنے والے اجزا جیسے فللیونوئڈز آینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہے۔</p>

<p>ترکی میں تو بھنڈی کے بیج عرصے سے ذیابیطس کے علاج کے لیے قدرتی ٹوٹکے کے طور پر استعمال ہوتے ہیں کیونکہ وہ بلڈ شوگر کی سطح میں کمی لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔</p>

<p>بھنڈی میں موجود پولی سیکرائڈ نامی کاربوہائیڈریٹس کو ذیابیطس کش مرکب مانا جاتا ہے جبکہ اس میں موجود فلونوئڈز اور دیگر اجزا بھی بلڈ شوگر کی سطح میں کمی لاتے ہیں۔</p>

<p>جانوروں میں تحقیقی رپورٹس میں اسے بلڈ شوگر میں کمی کے لیے مفید قرار دیا گیا ہے مگر انسانوں پر اس حوالے سے زیادہ کام نہیں ہوا۔</p>

<h2 id='5f5e66fe3b9eb'>السی کے بیج</h2>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5a3dd582cdc.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f5a3dd582cdc.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f5a3dd582cdc.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5a3dd582cdc.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>السی کے بیج فائبر اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور ہوتے ہیں اور صحت کے لیے مفید ہوتے ہیں، خاص طور پر بلڈ شوگر کی سطح میں کمی لانے کے لیے۔</p>

<p>ذیابیطس ٹائپ ٹو کے 57 مریضوں پر ہونے والی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ روزانہ 200 گرام دہی میں 30 گرام السی کے بیج ڈال کر کھانے سے ہیموگلوبن اے 1 سی کو نمایاں حد تک کم کرتا ہے۔</p>

<p>اسی طرح 25 تحقیقی رپورٹس کے ایک تجزیے میں دریافت کیا گیا کہ السج کے بیجوں کو کھانے سے بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے میں نمایاں مدد مل سکتی ہے۔</p>

<h2 id='5f5e66fe3ba0a'>بیج اور دالیں</h2>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5e2ba56b0d2.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f5e2ba56b0d2.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f5e2ba56b0d2.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5e2ba56b0d2.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>بیج اور دالیں متعدد اقسام کے غذائی اجزا جیسے میگنیشیم، فائبر اور پروٹین سے بھرپور ہوتے ہیں جو بلڈ شوگر کی سطح میں کمی کے لیے مفید ہیں۔</p>

<p>خاص طور پر حل ہونے والے فائبر اور مزاحمت کرنے والے نشاستہ سے کھانے کو ہضم کرنے کا عمل سست ہوتا ہے اور اس سے کھانے کے بعد بلڈ شوگر کے ردعمل میں بہتری آسکتی ہے۔</p>

<p>12 خواتین پر ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ کالے چنے یا سفید چنے کا چاول میں اضافہ کھانے کے بعد بلڈ شوگر کی سطح میں نمایاں کمی لاتا ہے۔</p>

<p>دیگر تحقیقی رپورٹس میں بھی ثابت ہوا کہ بیجوں اور دالوں کو کھانا نہ صرف بلڈ شوگر ریگولیشن کے لیے مفید ہے بلکہ اس سے ذیابیطس کے خلاف بھی تحفظ ملتا ہے۔</p>

<h2 id='5f5e66fe3ba2a'>تخم ملنگا</h2>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5e2d1b5b677.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f5e2d1b5b677.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f5e2d1b5b677.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5e2d1b5b677.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>تخم ملنگا کا استعمال بھی بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے میں مدد فراہم کرسکتا ہے، تحقیقی رپورٹس میں ان بیجوں کے استعمال اور بلڈ شوگر کی سطح میں کمی کے ساتھ ساتھ انسولین کی حساسیت میں بہتری کے درمیان تعلق کو دریافت کیا ہے۔</p>

<p>جانورں پر ہونے والی 17 تحقیقی رپورٹس کے ایک حالیے تجزیے میں کہا گیا کہ تخ ملنگا کے استعمال سے انسولین کی حساسیت اور بلڈ شوگر کنٹرول میں مدد مل سکتی ہے جبکہ ذیابیطس کا خطرہ کم ہوتا ہے۔</p>

<h2 id='5f5e66fe3ba4d'>بیریز</h2>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5e2dfac0b9f.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f5e2dfac0b9f.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f5e2dfac0b9f.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5e2dfac0b9f.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>لاتعداد تحقیقی رپورٹس میں بیریز کھانے کی عادت کو بلڈ شوگر کو قابو میں کرنے کے لیے مفید قرار دیا گیا ہے۔</p>

<p>بیریز فائبر، وٹامنز، منرلز اور اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہوتی ہیں اور بلڈ شوگر کے مسائل کی روک تھام کے لیے ایک بہترین انتخاب ثابت ہوسکتی ہیں۔</p>

<p>تحقیقی رپورٹس میں ثابت ہوا ہے کہ اسٹرابیری، بلیو بیری اور بلیک بیریز بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے میں موثر ثابت ہوسکتی ہیں کیونکہ وہ انسولین کی حساسیت بڑھانے کے ساتھ خون میں گلوکوز کو صاف کرنے کا عمل بہتر کرنے والے پھل ہیں۔</p>

<h2 id='5f5e66fe3ba6f'>جو اور جو کی بھوسی</h2>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5e2f13ec0d0.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f5e2f13ec0d0.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f5e2f13ec0d0.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5e2f13ec0d0.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>جو اور جو کی بھوسی کو غذا کا حصہ بنانا بلڈ شوگر کی سطح کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے جس کی وجہ ان میں موجود حل پذیر فائبر کی مقدار بہت زیادہ ہونا ہے، جو بلڈ شوگر کی سطح میں کمی لانے کے لیے موثر ہے۔</p>

<p>16 تحقیقی رپورٹس کے ایک تجزیے میں دریافت کیا گیا کہ جو کے استعمال سے ہیموگلوبن اے 1 سی اور خالی پیٹ بلڈ شوگر کی سطح میں نمایاں کمی لاتا ہے۔</p>

<p>10 افراد پر ہونے والی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ سفید ڈبل روٹی کھانے سے قبل 27 گرام جو کی بھوسی کو پانی میں ملا کر پینا کھانے کے بعد بلڈ شوگر کو تیزی سے بڑھنے سے روکتا ہے۔</p>

<h2 id='5f5e66fe3ba8d'>ترش پھل</h2>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5a3cb36cc92.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f5a3cb36cc92.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f5a3cb36cc92.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5a3cb36cc92.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>اگرچہ ایسے بیشتر پھلوں میں مٹھاس کافی زیادہ ہوتی ہے مگر طبی سائنس کے مطابق ان کو کھانے سے بلڈ شوگر کی سطح میں کمی آسکتی ہے۔</p>

<p>ان پھلوں کو کھانے سے بلڈ شوگر پر ایسے اثرات مرتب نہیں ہوتے جو دیگر پھل جیسے تربوز اور انناس کھانے سے ہوسکتے ہیں۔</p>

<p>ترش پھل جیسے مالٹے اور گریپ فروٹ فائبر سے بھرپور ہوتے ہیں جبکہ ان میں نباتاتی مرکبات موجود ہوتے جو طاقتور ذیابیطس کش خصوصایت رکھتے ہیں۔</p>

<p>ان پھلوں کو کھانے سے انسولین کی حساسیت میں بہتری، ہیموگلوبن اے 1 سی میں کمی اور ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہونے کے خطرے سے تحفظ ملتا ہے۔</p>

<h2 id='5f5e66fe3baaf'>دہی</h2>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5e2f9306464.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f5e2f9306464.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f5e2f9306464.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5e2f9306464.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>دہی کھانے کی عادت بلڈ شوگر کو ریگولیٹ کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔</p>

<p>ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ روزانہ ڈیڑھ سو گرام دہی کے استعمال سے کھانے کے بعد انسولین اور بلڈ شوگر لیول میں بہتری آسکتی ہے۔</p>

<h2 id='5f5e66fe3bad0'>انڈے</h2>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/12/5dfc5fe0940da.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2019/12/5dfc5fe0940da.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2019/12/5dfc5fe0940da.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2019/12/5dfc5fe0940da.jpg 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>انڈے بہت پرغذائیت غذا ہے جو پروٹین، صحت بخش چکنائی، وٹامنز، منرلز اور اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہوتے ہیں۔</p>

<p>کچھ تحقیقی رپورٹس میں انڈوں کے استعمال کو بہتر بلڈ شوگر کنٹرول سے منسلک کیا گیا ہے۔</p>

<p>موٹاپے کے شکار ایسے 42 بالغ افراد جو ذیابیطس یا پری ڈائیبیٹس کے شکار تھے، پر یونے والی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ روزانہ ایک انڈا کھانے سے خالی پیٹ بلڈ شوگر کی سطح میں 4.4 فیصد کی نمایاں کمی آتی ہے، جبکہ انسولین کی حساسیت بھی بہتر ہوتی ہے۔</p>

<p>اسی طرح 7 ہزار سے زائد کورین شہریوں پر 14 سال تک جاری رہنے والی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ہر ہفتے 4 بار انڈوں کو کھانے سے ذیابیطس کا خطرہ 40 فیصد تک کم کرسکتا ہے۔</p>

<h2 id='5f5e66fe3baef'>سیب</h2>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5e30af5b8c3.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/09/5f5e30af5b8c3.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2020/09/5f5e30af5b8c3.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2020/09/5f5e30af5b8c3.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>سیب ایسا پھل ہے جس میں حل پذیر فائبر اور نباتاتی مرکبات موجود ہیں اور یہ سب بلڈ شوگر کی سطح میں کمی اور ذیابیطس سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔</p>

<p>پونے 2 لاکھ سے زائد افراد پر ہونے والی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ مخصوص پھل جیسے بلیوبیریز، انگور اور سیبوں کو کھانے سے ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ نمایاں حد تک کم ہوتا ہے۔</p>

<p>ایک اور تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ چاول کھانے سے 30 منٹ قبل سیب کو جزوبدن بنانا کھانے کے بعد بلڈ شوگر کی سطح کو نمایاں حد تک کم کرسکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1141952</guid>
      <pubDate>Sun, 13 Sep 2020 23:37:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/09/5f5e3161c56cb.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="960" width="1600">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/09/5f5e3161c56cb.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جب ایک خاتون نے صرف لفٹ استعمال کرکے 71 افراد کو کووڈ 19 کا شکار بنادیا
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1136997/</link>
      <description>&lt;p&gt;کورونا وائرس کا ایک مریض کتنی آسانی سے متعدد افراد کو متاثر کرسکتا ہے، اس کے بارے یقین کرنا مشکل ہے مگر ایسے واقعات مسلسل سامنے آرہے ہیں جو اس کی تصدیق کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ ایسے ہی ایک واقعے کے میں ایک خاتون نے اپنی لاعلمی میں کم از کم 71 دیگر افراد کو بھی کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کا شکار بنادیا اور وہ بھی صرف ایک لفٹ کو استعمال کرکے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1124376' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/large/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک &lt;a href="https://www.independent.co.uk/news/world/asia/coronavirus-super-spreader-woman-lift-infections-china-heilongjiang-a9615886.html"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt; کے مطابق یہ خاتون 19 مارچ کو امریکا سے واپس چین کے صوبے ہیلونگجیانگ میں اپنے گھر واپس اس وقت لوٹی تھی جب اس کے علاقے میں کووڈ 19 کے نئے کیسز 8 دن سے رپورٹ نہیں ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;طبی جریدے جرنل ایمرجنگ انفیکشیز ڈیزیز میں اس کیس کی تفصیلات شائع ہوئیں جن کے مطابق اس خاتون (نام ظاہر نہیں کیا گیا) میں بیماری کی علامات ظاہر نہیں ہوئی تھیں بلکہ وائرس کا ٹیسٹ بھی منفی رہا تھا، مگر اس نے خود کو گھر تک محدود کرلیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ اپنے اپارٹمنٹ کی عمارت میں اس نے اکیلے لفٹ کو استعمال کیا تھا، جس کے بعد اس نیچے کی منزل میں موجود ایک پڑوسی نے اس لفٹ کو استعمال کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;29 مارچ کو اس پڑوسی کی ماں اور ماں کا بوائے فرینڈ فلیٹ میں اس سے ملنے آئے اور لوگوں کے ایک گروپ کی ایک تقریب میں بھی شرکت کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پھر 2 اپریل کو اس گروپ میں سے ایک کو فالج کا سامنا ہوا اور ہسپتال لے جایا گیا، تاہم اس وقت امریکا سے آنے والی خاتون سے اس کوئی واضح تعلق نظر نہیں آیا تھا بلکہ اس مریض کا کورونا وائرس ٹیسٹ بھی نہیں ہوا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;طبی ماہرین نے بعد میں دریافت کیا کہ امریکا سے آنے والی خاتون نے اپنی عمارت کی لفٹ کو وائرس سے آلودہ کردیا تھا اور نچلی منزل کی پڑوسی لفٹ استعمال کرنے پر وائرس کا شکار ہوئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس پڑوسی نے آگے اپنی ماں اور بوائے فرینڈ کو کووڈ 19 کا شکار بنایا اور پھر فالج کے مریض اور اس کے 2 بیٹوں تک بھی اس بیماری کو پھیلا دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فالج کے مریض کو 6 اپریل کو دوسرے ہسپتال منتقل کیا گیا مگر اس دوران مریض اور اس کے بیٹوں نے پہلے ہسپتال میں 28 افراد بشمول 5 نرسوں اور ایک ڈاکٹر کو وبائی مرض کا شکار بنایا جبکہ دوسرے ہسپتال میں مزید 20 افراد تک وائرس کو پہنچادیا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/4  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1133093' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2020/06/5ee22fe0bef8f.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/06/5ee22fe0bef8f.png 262w, https://i.dawn.com/large/2020/06/5ee22fe0bef8f.png 262w, https://i.dawn.com/primary/2020/06/5ee22fe0bef8f.png 262w' sizes='(min-width: 992px)  262px, (min-width: 768px)  262px,  262px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt; 			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ سب کیسز اس وقت سامنے آئے جب نچلی منزل کی پڑوسی کی ماں کے بوائے فرینڈ میں کووڈ 19 کی علامات سامنے آئیں اور ٹیسٹ میں کووڈ 19 کی تشخیص ہوئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین نے جب یہ جانا کہ اس عمارت میں ایک خاتون حال ہی میں بیرون ملک سے آئی ہے تو اس کا ایک بار پھر ٹیسٹ ہوا اور اس بار اینٹی باڈیز کو دریافت کیا گیا جس سے عندیہ ملا کہ وہ پہلے کووڈ 19 کا شکار رہ چکی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چینی محققین نے بتایا کہ ہمارا ماننا ہے کہ یہ خاتون کووڈ 19 کا بغیر علامات والا کیس تھی جس سے خارج ہونے والی وائرس نے لفٹ کی سطح کو آلودہ کیا اور نچلی منزل کی پڑوسی اس کا شکار ہوئی اور پھر یہ سلسلہ آگے پھیلتا چلا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ کووڈ 19 کا بغیر علامات والا ایک مریض بھی بڑے پیمانے پر اس وائرس کو پھیلانے کا باعث بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کورونا وائرس کا ایک مریض کتنی آسانی سے متعدد افراد کو متاثر کرسکتا ہے، اس کے بارے یقین کرنا مشکل ہے مگر ایسے واقعات مسلسل سامنے آرہے ہیں جو اس کی تصدیق کرتے ہیں۔</p>

<p>طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ ایسے ہی ایک واقعے کے میں ایک خاتون نے اپنی لاعلمی میں کم از کم 71 دیگر افراد کو بھی کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کا شکار بنادیا اور وہ بھی صرف ایک لفٹ کو استعمال کرکے۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1124376' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/large/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>ایک <a href="https://www.independent.co.uk/news/world/asia/coronavirus-super-spreader-woman-lift-infections-china-heilongjiang-a9615886.html">رپورٹ</a> کے مطابق یہ خاتون 19 مارچ کو امریکا سے واپس چین کے صوبے ہیلونگجیانگ میں اپنے گھر واپس اس وقت لوٹی تھی جب اس کے علاقے میں کووڈ 19 کے نئے کیسز 8 دن سے رپورٹ نہیں ہوئے تھے۔</p>

<p>طبی جریدے جرنل ایمرجنگ انفیکشیز ڈیزیز میں اس کیس کی تفصیلات شائع ہوئیں جن کے مطابق اس خاتون (نام ظاہر نہیں کیا گیا) میں بیماری کی علامات ظاہر نہیں ہوئی تھیں بلکہ وائرس کا ٹیسٹ بھی منفی رہا تھا، مگر اس نے خود کو گھر تک محدود کرلیا تھا۔</p>

<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ اپنے اپارٹمنٹ کی عمارت میں اس نے اکیلے لفٹ کو استعمال کیا تھا، جس کے بعد اس نیچے کی منزل میں موجود ایک پڑوسی نے اس لفٹ کو استعمال کیا۔</p>

<p>29 مارچ کو اس پڑوسی کی ماں اور ماں کا بوائے فرینڈ فلیٹ میں اس سے ملنے آئے اور لوگوں کے ایک گروپ کی ایک تقریب میں بھی شرکت کی۔</p>

<p>پھر 2 اپریل کو اس گروپ میں سے ایک کو فالج کا سامنا ہوا اور ہسپتال لے جایا گیا، تاہم اس وقت امریکا سے آنے والی خاتون سے اس کوئی واضح تعلق نظر نہیں آیا تھا بلکہ اس مریض کا کورونا وائرس ٹیسٹ بھی نہیں ہوا تھا۔</p>

<p>طبی ماہرین نے بعد میں دریافت کیا کہ امریکا سے آنے والی خاتون نے اپنی عمارت کی لفٹ کو وائرس سے آلودہ کردیا تھا اور نچلی منزل کی پڑوسی لفٹ استعمال کرنے پر وائرس کا شکار ہوئی۔</p>

<p>اس پڑوسی نے آگے اپنی ماں اور بوائے فرینڈ کو کووڈ 19 کا شکار بنایا اور پھر فالج کے مریض اور اس کے 2 بیٹوں تک بھی اس بیماری کو پھیلا دیا۔</p>

<p>فالج کے مریض کو 6 اپریل کو دوسرے ہسپتال منتقل کیا گیا مگر اس دوران مریض اور اس کے بیٹوں نے پہلے ہسپتال میں 28 افراد بشمول 5 نرسوں اور ایک ڈاکٹر کو وبائی مرض کا شکار بنایا جبکہ دوسرے ہسپتال میں مزید 20 افراد تک وائرس کو پہنچادیا۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/4  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1133093' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2020/06/5ee22fe0bef8f.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/06/5ee22fe0bef8f.png 262w, https://i.dawn.com/large/2020/06/5ee22fe0bef8f.png 262w, https://i.dawn.com/primary/2020/06/5ee22fe0bef8f.png 262w' sizes='(min-width: 992px)  262px, (min-width: 768px)  262px,  262px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p> 			</p>

<p>یہ سب کیسز اس وقت سامنے آئے جب نچلی منزل کی پڑوسی کی ماں کے بوائے فرینڈ میں کووڈ 19 کی علامات سامنے آئیں اور ٹیسٹ میں کووڈ 19 کی تشخیص ہوئی۔</p>

<p>محققین نے جب یہ جانا کہ اس عمارت میں ایک خاتون حال ہی میں بیرون ملک سے آئی ہے تو اس کا ایک بار پھر ٹیسٹ ہوا اور اس بار اینٹی باڈیز کو دریافت کیا گیا جس سے عندیہ ملا کہ وہ پہلے کووڈ 19 کا شکار رہ چکی ہے۔</p>

<p>چینی محققین نے بتایا کہ ہمارا ماننا ہے کہ یہ خاتون کووڈ 19 کا بغیر علامات والا کیس تھی جس سے خارج ہونے والی وائرس نے لفٹ کی سطح کو آلودہ کیا اور نچلی منزل کی پڑوسی اس کا شکار ہوئی اور پھر یہ سلسلہ آگے پھیلتا چلا گیا۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ کووڈ 19 کا بغیر علامات والا ایک مریض بھی بڑے پیمانے پر اس وائرس کو پھیلانے کا باعث بن سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1136997</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Jul 2020 22:56:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/07/5f0df069dbc0c.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/07/5f0df069dbc0c.jpg"/>
        <media:title>— شٹر اسٹاک فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’میں کہیں اپنے شوہر اور بیٹے کو وائرس کا شکار نہ بنا دوں‘
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1131280/</link>
      <description>&lt;p&gt;https://www.dawnnews.tv/news/1129964/&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>https://www.dawnnews.tv/news/1129964/</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1131280</guid>
      <pubDate>Sun, 17 May 2020 13:13:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/05/5ec055b092e01.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/05/5ec055b092e01.jpg"/>
        <media:title>A member of a coronavirus prevention and control team communicates through walkie-talkie with a colleague inside a laboratory at the Ningxia Center for Diseases Prevention and Control in Yinchuan, Ningxia Hui Autonomous Region, China February 2, 2020. Picture taken February 2, 2020. cnsphoto via REUTERS   ATTENTION EDITORS - THIS IMAGE WAS PROVIDED BY A THIRD PARTY. CHINA OUT.
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چین کی کامیابی، ووہان کے ہسپتالوں میں کورونا کے تمام مریض صحتیاب
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1128353/</link>
      <description>&lt;p&gt;چین کے شہر ووہان سے نئے نووول کورونا وائرس کی وبا دسمبر میں پھیلنا شروع ہوئی جو اب دنیا کے لگ بھگ ہر ملک تک پہنچ چکی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دنیا بھر میں اب تک 29 لاکھ کے قریب کیسز کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ 2 لاکھ 3 ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1124376' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/large/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مگر اس وبا کا ابتدائی مرکز یعنی ووہان اب کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کو مکمل طور پر شکست دینے میں کامیاب ہوگیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن کے ترجمان نے اتوار کو بتایا کہ ووہان کے ہسپتالوں میں اب کووڈ 19 کا کوئی مریض زیرعلاج نہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ترجمان می فینگ کا کہنا تھا ' 26 اپریل کی تازہ خبر یہ ہے کہ ووہان میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد صفر ہوگئی ہے، جس کے لیے ہم ووہان اور چین بھر کے طبی عملے کی مشترکہ کوششوں کے شکرگزار ہیں'۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/PDChina/status/1254308521371299840"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ووہان میں مجموعی طور پر 46 ہزار 452 کیسز اور 3869 اموات رپورٹ ہوئی تھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ووہان دنیا کا وہ پہلا شہر تھا جہاں کورونا وائرس کی وجہ سے سب سے پہلے یعنی 23 جنوری 2002 کو انتظامیہ نے لاک ڈاؤن نافذ کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ابتدائی طور پر چینی حکام نے شہر کو جزوی طور پر بند کیا تھا تاہم بعد ازاں وائرس کے تیزی سے پھیلنے کی وجہ سے شہر کو مکمل طور پر لاک ڈاؤن کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ سخت ترین لاک ڈائون تھا جس کے ذریعے چینی حکام 2 ماہ کے عرصے میں اس وبا پر قابو پانے میں کامیاب ہوگئے تھے اور &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1122801"&gt;&lt;strong&gt;19 مارچ وہ دن تھا جب پہلی بار وہاں کوئی نیا کیس رپورٹ نہیں&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے بعد لگاتار کئی دن کوئی کیس رپورٹ نہ ہونے پر &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1123303"&gt;&lt;strong&gt;22 مارچ کو لاک ڈائون کو نرم&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/4  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1125992' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2020/04/5e91f1820ca2c.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/04/5e91f1820ca2c.png 262w, https://i.dawn.com/large/2020/04/5e91f1820ca2c.png 262w, https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e91f1820ca2c.png 262w' sizes='(min-width: 992px)  262px, (min-width: 768px)  262px,  262px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مارچ کے آخری ہفتے میں چین میں معمولات زندگی بحال ہونا شروع ہوئی تھیں اور اب وہاں جزوی طور پر تفریحی و عوامی مقامات کو کھولا جا چکا ہے جب کہ فضائی آپریشن بحال کرنے سمیت ٹرانسپورٹ کو بھی چلانے کی اجازت دی جا چکی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1125470"&gt;&lt;strong&gt;7 اپریل کو چین میں اس وبا کے دوران پہلی بار کورونا وائرس سے کوئی ہلاکت نہیں&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; ہوئی اور اگلے دن یعنی &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1125570/"&gt;&lt;strong&gt;8 اپریل کو ووہان میں لاک ڈائون کو مکمل طور پر ختم&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کردیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چین میں مجموعی طور پر 83 ہزار 909 کیسز اب تک سامنے آچکے ہیں، 4634 ہلاکتیں اور 78 یزار 185 صحتیاب ہوچکے ہیں، یعنی اس وقت وہاں صرف 1088 کیس ایکٹیو ہیں، جن میں سے کوئی بھی ووہان سے تعلق نہیں رکھتا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی طرح چین میں مسلسل 11 دن سے اب تک اس بیماری کے نتیجے میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی جبکہ اتوار کو صرف 11 دن کیسز سامنے آئے ہیں، جن میں سے 5 بیرون ملک سے آنے والے افراد ہیں، جبکہ دیگر 6 کیسز مقامی ٹرانسمیشن کا نتیجہ ہیں جو شمال مغربی اور جنوبی چین میں رپورٹ ہوئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>چین کے شہر ووہان سے نئے نووول کورونا وائرس کی وبا دسمبر میں پھیلنا شروع ہوئی جو اب دنیا کے لگ بھگ ہر ملک تک پہنچ چکی ہے۔</p>

<p>دنیا بھر میں اب تک 29 لاکھ کے قریب کیسز کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ 2 لاکھ 3 ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1124376' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/large/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>مگر اس وبا کا ابتدائی مرکز یعنی ووہان اب کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کو مکمل طور پر شکست دینے میں کامیاب ہوگیا ہے۔</p>

<p>چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن کے ترجمان نے اتوار کو بتایا کہ ووہان کے ہسپتالوں میں اب کووڈ 19 کا کوئی مریض زیرعلاج نہیں۔</p>

<p>ترجمان می فینگ کا کہنا تھا ' 26 اپریل کی تازہ خبر یہ ہے کہ ووہان میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد صفر ہوگئی ہے، جس کے لیے ہم ووہان اور چین بھر کے طبی عملے کی مشترکہ کوششوں کے شکرگزار ہیں'۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/PDChina/status/1254308521371299840"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>ووہان میں مجموعی طور پر 46 ہزار 452 کیسز اور 3869 اموات رپورٹ ہوئی تھیں۔</p>

<p>ووہان دنیا کا وہ پہلا شہر تھا جہاں کورونا وائرس کی وجہ سے سب سے پہلے یعنی 23 جنوری 2002 کو انتظامیہ نے لاک ڈاؤن نافذ کیا تھا۔</p>

<p>ابتدائی طور پر چینی حکام نے شہر کو جزوی طور پر بند کیا تھا تاہم بعد ازاں وائرس کے تیزی سے پھیلنے کی وجہ سے شہر کو مکمل طور پر لاک ڈاؤن کیا گیا تھا۔</p>

<p>یہ سخت ترین لاک ڈائون تھا جس کے ذریعے چینی حکام 2 ماہ کے عرصے میں اس وبا پر قابو پانے میں کامیاب ہوگئے تھے اور <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1122801"><strong>19 مارچ وہ دن تھا جب پہلی بار وہاں کوئی نیا کیس رپورٹ نہیں</strong></a> ہوا۔</p>

<p>اس کے بعد لگاتار کئی دن کوئی کیس رپورٹ نہ ہونے پر <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1123303"><strong>22 مارچ کو لاک ڈائون کو نرم</strong></a> کیا گیا۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/4  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1125992' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2020/04/5e91f1820ca2c.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/04/5e91f1820ca2c.png 262w, https://i.dawn.com/large/2020/04/5e91f1820ca2c.png 262w, https://i.dawn.com/primary/2020/04/5e91f1820ca2c.png 262w' sizes='(min-width: 992px)  262px, (min-width: 768px)  262px,  262px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>مارچ کے آخری ہفتے میں چین میں معمولات زندگی بحال ہونا شروع ہوئی تھیں اور اب وہاں جزوی طور پر تفریحی و عوامی مقامات کو کھولا جا چکا ہے جب کہ فضائی آپریشن بحال کرنے سمیت ٹرانسپورٹ کو بھی چلانے کی اجازت دی جا چکی ہے۔</p>

<p><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1125470"><strong>7 اپریل کو چین میں اس وبا کے دوران پہلی بار کورونا وائرس سے کوئی ہلاکت نہیں</strong></a> ہوئی اور اگلے دن یعنی <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1125570/"><strong>8 اپریل کو ووہان میں لاک ڈائون کو مکمل طور پر ختم</strong></a> کردیا گیا۔</p>

<p>چین میں مجموعی طور پر 83 ہزار 909 کیسز اب تک سامنے آچکے ہیں، 4634 ہلاکتیں اور 78 یزار 185 صحتیاب ہوچکے ہیں، یعنی اس وقت وہاں صرف 1088 کیس ایکٹیو ہیں، جن میں سے کوئی بھی ووہان سے تعلق نہیں رکھتا۔</p>

<p>اسی طرح چین میں مسلسل 11 دن سے اب تک اس بیماری کے نتیجے میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی جبکہ اتوار کو صرف 11 دن کیسز سامنے آئے ہیں، جن میں سے 5 بیرون ملک سے آنے والے افراد ہیں، جبکہ دیگر 6 کیسز مقامی ٹرانسمیشن کا نتیجہ ہیں جو شمال مغربی اور جنوبی چین میں رپورٹ ہوئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1128353</guid>
      <pubDate>Sun, 26 Apr 2020 18:14:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/04/5ea58620582fb.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/04/5ea58620582fb.jpg"/>
        <media:title>— اے پی فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وہ عام غذا جو بانجھ پن کا امکان بڑھائے
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1120910/</link>
      <description>&lt;p&gt;دنیا بھر میں مردوں میں بانجھ پن کی شرح میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور ابھی یہ تو واضح نہیں کہ اس کی بنیادی وجہ کیا ہے مگر یہ ممکنہ طور پر ایک عام غذا کا استعمال ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کم از کم امریکا میں ہونے والی ایک &lt;a href="https://jamanetwork.com/journals/jamanetworkopen/fullarticle/2761546?resultClick=1"&gt;تحقیق&lt;/a&gt; میں یہ دعویٰ سامنے آیا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1070145' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2019/06/5d1100044a515.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2019/06/5d1100044a515.png 280w, https://i.dawn.com/large/2019/06/5d1100044a515.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2019/06/5d1100044a515.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہارورڈ ٹی ایچ چن اسکول آف پبلک ہیلتھ کی تحقیق میں 29 سو سے زائد ڈینش نوجوانوں کو شامل کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق کے دوران محققین نے غذائی انتخاب اور تولیدی افعال کے درمیان تعلق کی جانچ پڑتال کی تھی اور نتائج سے معلوم ہوا کہ مغربی طرز کی غذا یا جنک فوڈ کا شوق اسپرم کی تعداد میں کمی اور بانجھ پن کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;طبی جریدے جاما نیٹ ورک اوپن میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ پیزا، فرائیز اور زیادہ میٹھا کھانے کا شوق رکھنے والے افراد اسپرم کاﺅنٹ پھلوں، سبزیوں اور مچھلی زیادہ کھانے والوں کے مقابلے میں 25 فیصدتک کم ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین نے دریافت کیا کہ پھلوں، سبزیوں، مچھلی اور چکن پر مشتمل غذا عام صحت کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے جبکہ جنک فوڈ نقصان دہ۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین کا کہنا تھا کہ غذائی عناصر صحت مند تولیدی افعال کے لیے ضروری ہوتے ہیں کیونکہ اس سے اسپرم کی صحت بہتر ہوتی ہے اور بانجھ پن کا امکان نہیں ہوتا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ اینٹی آکسائیڈنٹس سپلیمنٹس، سی فوڈ، چکن، گریاں، اجناس، سبزیاں اور پھل اس لیے اہم ہیں کیونکہ ان سے جسم کو اینٹی آکسائیڈیشن اور اومیگا تھری فیٹی ایسڈز ملتے ہیں جو اسپریم بننے کی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق میں شامل تمام افراد صحت مند اور نوجوان تھے اور ان کا انتخاب اس لیے ہوا کیونکہ ڈنمارک میں 18 سال کی عمر میں تمام مردوں کو ملٹری سروس کی فٹنس کے لیے جسمانی معائنے کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس معمول کے معائنے کے دوران تحقیقی ٹیم نے ان نوجوانوں کی خدمات تحقیق کے لیے حاصل کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان نوجوانوں سے غذائی اور طرز زندگی کی عادات کے بارے میں معلوم کیا گیا اور گزشتہ 3 ماہ کے دوران کیا کچھ کھایا، ، جس کے بعد ان کے غذائی رجحانات کو مدنظر رکھ کر انہیں 4 گروپس میں تقسیم کیا گیا، یعنی صرف سبزیاں کھانے والے، مغربی غذا، صحت بخش اور اوپن سینڈوچ۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کے خون اور اسپرم کے نمونے لیے گئے اور جسمانی وزن، قدوقامت بھی لیے گئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نتائج سے معلوم ہوا کہ مخصوص غذائیں جیسے جنک فوڈ یا مغربی طرز کی غذا کھانے والے افراد کے اسپریم کا معیار سب سے ناقص تھا اور اس کے بننے کی مقدار کی شرح بھی کم تھی، اس کے مقابلے میں صحت بخش غذا کھانے والے افراد اس حوالے سے سب سے صحت مند قرار پائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین نے مشورہ دیا کہ نوجوان مچھلی، چکن، سبزیاں، پھلوں اور سبزیوں کا استعمال زیادہ کریں جبکہ پیزا، فرنچ فرائیز، پراسیس اور سرخ گوشت، انرجی ڈرنکس اور میٹھے غرض جنک فوڈ کا کم از کم استعمال کریں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تولیدی صحت سے ہٹ کر بھی طویل المعیاد بنیادوں پر ذیابیطس، امراض قلب اور دیگر سنگین امراض سے بچنے کے لیے اچھی غذا کا استعمال کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>دنیا بھر میں مردوں میں بانجھ پن کی شرح میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور ابھی یہ تو واضح نہیں کہ اس کی بنیادی وجہ کیا ہے مگر یہ ممکنہ طور پر ایک عام غذا کا استعمال ہوسکتا ہے۔</p>

<p>کم از کم امریکا میں ہونے والی ایک <a href="https://jamanetwork.com/journals/jamanetworkopen/fullarticle/2761546?resultClick=1">تحقیق</a> میں یہ دعویٰ سامنے آیا۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1070145' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2019/06/5d1100044a515.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2019/06/5d1100044a515.png 280w, https://i.dawn.com/large/2019/06/5d1100044a515.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2019/06/5d1100044a515.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>ہارورڈ ٹی ایچ چن اسکول آف پبلک ہیلتھ کی تحقیق میں 29 سو سے زائد ڈینش نوجوانوں کو شامل کیا گیا تھا۔</p>

<p>تحقیق کے دوران محققین نے غذائی انتخاب اور تولیدی افعال کے درمیان تعلق کی جانچ پڑتال کی تھی اور نتائج سے معلوم ہوا کہ مغربی طرز کی غذا یا جنک فوڈ کا شوق اسپرم کی تعداد میں کمی اور بانجھ پن کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔</p>

<p>طبی جریدے جاما نیٹ ورک اوپن میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ پیزا، فرائیز اور زیادہ میٹھا کھانے کا شوق رکھنے والے افراد اسپرم کاﺅنٹ پھلوں، سبزیوں اور مچھلی زیادہ کھانے والوں کے مقابلے میں 25 فیصدتک کم ہوسکتا ہے۔</p>

<p>محققین نے دریافت کیا کہ پھلوں، سبزیوں، مچھلی اور چکن پر مشتمل غذا عام صحت کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے جبکہ جنک فوڈ نقصان دہ۔</p>

<p>محققین کا کہنا تھا کہ غذائی عناصر صحت مند تولیدی افعال کے لیے ضروری ہوتے ہیں کیونکہ اس سے اسپرم کی صحت بہتر ہوتی ہے اور بانجھ پن کا امکان نہیں ہوتا۔</p>

<p>انہوں نے بتایا کہ اینٹی آکسائیڈنٹس سپلیمنٹس، سی فوڈ، چکن، گریاں، اجناس، سبزیاں اور پھل اس لیے اہم ہیں کیونکہ ان سے جسم کو اینٹی آکسائیڈیشن اور اومیگا تھری فیٹی ایسڈز ملتے ہیں جو اسپریم بننے کی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہیں۔</p>

<p>تحقیق میں شامل تمام افراد صحت مند اور نوجوان تھے اور ان کا انتخاب اس لیے ہوا کیونکہ ڈنمارک میں 18 سال کی عمر میں تمام مردوں کو ملٹری سروس کی فٹنس کے لیے جسمانی معائنے کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔</p>

<p>اس معمول کے معائنے کے دوران تحقیقی ٹیم نے ان نوجوانوں کی خدمات تحقیق کے لیے حاصل کی۔</p>

<p>ان نوجوانوں سے غذائی اور طرز زندگی کی عادات کے بارے میں معلوم کیا گیا اور گزشتہ 3 ماہ کے دوران کیا کچھ کھایا، ، جس کے بعد ان کے غذائی رجحانات کو مدنظر رکھ کر انہیں 4 گروپس میں تقسیم کیا گیا، یعنی صرف سبزیاں کھانے والے، مغربی غذا، صحت بخش اور اوپن سینڈوچ۔</p>

<p>ان کے خون اور اسپرم کے نمونے لیے گئے اور جسمانی وزن، قدوقامت بھی لیے گئے۔</p>

<p>نتائج سے معلوم ہوا کہ مخصوص غذائیں جیسے جنک فوڈ یا مغربی طرز کی غذا کھانے والے افراد کے اسپریم کا معیار سب سے ناقص تھا اور اس کے بننے کی مقدار کی شرح بھی کم تھی، اس کے مقابلے میں صحت بخش غذا کھانے والے افراد اس حوالے سے سب سے صحت مند قرار پائے۔</p>

<p>محققین نے مشورہ دیا کہ نوجوان مچھلی، چکن، سبزیاں، پھلوں اور سبزیوں کا استعمال زیادہ کریں جبکہ پیزا، فرنچ فرائیز، پراسیس اور سرخ گوشت، انرجی ڈرنکس اور میٹھے غرض جنک فوڈ کا کم از کم استعمال کریں۔</p>

<p>تولیدی صحت سے ہٹ کر بھی طویل المعیاد بنیادوں پر ذیابیطس، امراض قلب اور دیگر سنگین امراض سے بچنے کے لیے اچھی غذا کا استعمال کرنا چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1120910</guid>
      <pubDate>Fri, 21 Feb 2020 23:50:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2020/02/5e502465432f1.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2020/02/5e502465432f1.jpg"/>
        <media:title>یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چکن پکانے سے پہلے دھونا کیوں خطرناک ہے؟
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1112700/</link>
      <description>&lt;p&gt;کبھی بھی چکن کے کچے گوشت کو پکانے سے پہلے دھونے کی غلطی نہ کریں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ وہ بات ہے جو نارتھ کیرولائنا اسٹیٹ یونیورسٹی اور یو ایس ایگریکلچرل ڈیپارٹمنٹ (یو ایس ڈی اے)کی &lt;a href="https://www.healthline.com/health-news/dont-wash-that-chicken-before-cooking-it-heres-why"&gt;تحقیق&lt;/a&gt; میں بتائی گئی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1060345' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2019/08/5d4723b360d1c.png"  alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین کا کہنا ہے کہ چکن کے گوشت کو دھونا جراثیموں کی آلودگی اور غذا سے ہونے والے امراض کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ کچھ صارفین کا خیال ہے کہ گوشت کو دھو کر وہ بیکٹریا کو ختم کرہے ہیں یا گوشت کو محفوظ بنارہے ہیں، مگر بیکٹریا کی کچھ مقدار اتنی مضبوطی سے گوشت سے جڑی ہوتی ہے کہ اسے کئی بار دھونے پر ختم کرنا ممکن نہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق کے مطابق ہوسکتا ہے کہ دیگر بیکٹریا دھلنے پر بہہت جائیں مگر یہ بھی ضروری نہیں کہ کوئی اچھی خبر ہو۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چکن کے گوشت میں ہیضہ، بخار اور مسلز اکڑنے کا باعث بننے والے بیکٹریا Campylobacter موجود ہوتاہ ے جبکہ اس میں سالمونیلا اور دیگر بیکٹریا بھی ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ جب آپ گوشت دھونے کے لیے پانی کی دھار مارتے ہیں تو ہاتھوں یا سنک میں جراثیموں کے اجتماع اور امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور اس خطرے کو گوشت کو بغیر دھوئے پکا کر کم کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گوشت کو دھونے سے کچن کے مختلف حصوں میں جراثیموں کی مقدار بڑھنے سے غذا سے ہونے والے امراض کا خطرہ زیادہ بڑھ جاتا ہے اور گوشت کو براہ راست برتن میں ڈال کر پکالینا چاہیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درحقیقت چکن کے گوشت کو 165 ڈگری فارن ہائیٹ درجہ حرارت یا یوں کہہ لیں تیز آنچ پر پکانا اس میں موجود بیکٹریا کو مار دیتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یو ایس ڈی اے کی طبیٹیم کا کہنا تھا کہ بھوننا یا ابالنا بھی اس حوالے سے مددگار ثابت ہوسکتا ہے بس جو بھی کریں وہ تیز آنچ پر کریں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے مشورہ دیا کہ چکن یا گائے کے گوشت کو پکانے کے دوران ہاتھوں کو زیادہ دھوئیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کبھی بھی چکن کے کچے گوشت کو پکانے سے پہلے دھونے کی غلطی نہ کریں۔</p>

<p>یہ وہ بات ہے جو نارتھ کیرولائنا اسٹیٹ یونیورسٹی اور یو ایس ایگریکلچرل ڈیپارٹمنٹ (یو ایس ڈی اے)کی <a href="https://www.healthline.com/health-news/dont-wash-that-chicken-before-cooking-it-heres-why">تحقیق</a> میں بتائی گئی ہے۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1060345' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2019/08/5d4723b360d1c.png"  alt="" /></a></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>محققین کا کہنا ہے کہ چکن کے گوشت کو دھونا جراثیموں کی آلودگی اور غذا سے ہونے والے امراض کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ کچھ صارفین کا خیال ہے کہ گوشت کو دھو کر وہ بیکٹریا کو ختم کرہے ہیں یا گوشت کو محفوظ بنارہے ہیں، مگر بیکٹریا کی کچھ مقدار اتنی مضبوطی سے گوشت سے جڑی ہوتی ہے کہ اسے کئی بار دھونے پر ختم کرنا ممکن نہیں۔</p>

<p>تحقیق کے مطابق ہوسکتا ہے کہ دیگر بیکٹریا دھلنے پر بہہت جائیں مگر یہ بھی ضروری نہیں کہ کوئی اچھی خبر ہو۔</p>

<p>چکن کے گوشت میں ہیضہ، بخار اور مسلز اکڑنے کا باعث بننے والے بیکٹریا Campylobacter موجود ہوتاہ ے جبکہ اس میں سالمونیلا اور دیگر بیکٹریا بھی ہوتے ہیں۔</p>

<p>محققین کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ جب آپ گوشت دھونے کے لیے پانی کی دھار مارتے ہیں تو ہاتھوں یا سنک میں جراثیموں کے اجتماع اور امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور اس خطرے کو گوشت کو بغیر دھوئے پکا کر کم کیا جاسکتا ہے۔</p>

<p>گوشت کو دھونے سے کچن کے مختلف حصوں میں جراثیموں کی مقدار بڑھنے سے غذا سے ہونے والے امراض کا خطرہ زیادہ بڑھ جاتا ہے اور گوشت کو براہ راست برتن میں ڈال کر پکالینا چاہیے۔</p>

<p>درحقیقت چکن کے گوشت کو 165 ڈگری فارن ہائیٹ درجہ حرارت یا یوں کہہ لیں تیز آنچ پر پکانا اس میں موجود بیکٹریا کو مار دیتا ہے۔</p>

<p>یو ایس ڈی اے کی طبیٹیم کا کہنا تھا کہ بھوننا یا ابالنا بھی اس حوالے سے مددگار ثابت ہوسکتا ہے بس جو بھی کریں وہ تیز آنچ پر کریں۔</p>

<p>انہوں نے مشورہ دیا کہ چکن یا گائے کے گوشت کو پکانے کے دوران ہاتھوں کو زیادہ دھوئیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1112700</guid>
      <pubDate>Thu, 17 Oct 2019 01:04:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/10/5da7758a91fcd.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/10/5da7758a91fcd.jpg"/>
        <media:title>یہ بات ایک تحقیق میں سامنے آئی— شٹر اسٹاک فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پلاسٹک کا استعمال ہمارے لیے زہرقاتل کیوں؟
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1109463/</link>
      <description>&lt;p&gt;کچھ عرصہ قبل ہی عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)سمیت کچھ ممالک کی تنظیموں کی جانب کی جانے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ دنیا کا ہر بالغ شخص سالانہ  50 ہزار پلاسٹک ذرات نگل رہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ زمین کی ایسی کوئی جگہ نہیں ہیں جہاں پلاسٹک ذرات موجود نہ ہوں، سمندر کی گہرائی سے لے کر ساحل سمندر کی ریت، پانی کی بوتل سے لے کر ڈسپوزایبل کھانے کے پیکٹوں اور راستوں پر پلاسٹک یا اس کے ذرات موجود ہوتے ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1104892///' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2019/08/5d5fd7fad9d99.jpg"  alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عالمی ادارہ صحت نے بھی مائکروپلاسٹک پر حال ہی میں ایک مفصل رپورٹ جاری کی تھی، جس میں بتایا گیا تھا کہ ہوا، پینے کے پانی اور غذائی اشیاء میں پلاسٹک کے ذرات کی موجودگی سے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہی وجہ ہے کہ آج کل پاکستان سمیت دنیا بھر میں پلاسٹک کے استعمال کی روک تھام کے لئے بہت سے اقدامات کئے جارہے ہیں اور اسلام آباد میں پلاسٹک کی تھیلیوں کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی ہے جبکہ سندھ اور دیگر مقامات پر بھی اس طرح کی پابندی کا نفاذ جلد ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لیکن اب دیکھنا یہ ہے حکومتی اقدامات سے ہٹ کرعوام، جو تقریبا 70 سال سے اپنی روز مرّہ ضروریات سے لے کر باقی چیزوں میں پلاسٹک کا بے دریغ استعمال کررہے ہیں، اس حکومتی فیصلے پر کس حد تک عمل درآمد کرتے ہیں. مگر اس سب سے پہلے یہاں یہ جاننا ضروری ہے کہ دنیا بھر میں پلاسٹک کے استعمال کو ترک کرنے پر زور کیوں دیا جا رہا ہے.&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پلاسٹک ایک پولیمر ہے. سائنسی اصطلاح میں پولیمرایک جیسے ایٹموں کی زنجیر کو کہتے ہیں. یہ  پولیمیرز زیادہ تر کاربن اور ہائیڈروجن کے ایٹموں سے بنے ہوتے ہیں. جبکہ چند پولیمرز آکسیجن، نائٹروجن، سلفر، کلورین، فلورین، فاسفورس اور سلیکون سے بنتے ہیں. &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پولیمر میں موجود یہ ایٹم آپس میں بہت زیادہ مضبوطی سے جڑے ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ پلاسٹک 500 سے ایک ہزار سال تک ختم نہیں ہوتا. پلاسٹک کی اسی مضبوطی اور عرصہ دراز نہ ختم ہونے کی صلاحیت نے ہمیں اس کے استعمال کی طرف راغب کیا. &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہماری روز مرہ کی زندگی میں پلاسٹک کا استعمال اس قدر زیادہ ہوچکا ہے کہ اس کے استعمال کی بغیر زندگی مشکل محسوس ہوتی ہے. اگر ہم اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو پلاسٹک کی بہت سی مصنوعات ملیں گی. کسی تفریحی مقام پر مسرور ہونے کے لئے جائیں تو پلاسٹک کی بوتلیں، گلاس اور شاپروں کی موجودگی گندگی پھیلاتی نظر آئے گی.&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی طرح اگر کسی دریا کے کنارے بیٹھے ٹھنڈی ہوا سے لطف اندوز ہونا چاہیں تو ہوا کو گرد آلود کرتے اڑتے ہوئے شاپر اس حسین نظارے پر داغ دار کردیتے ہیں. &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گھروں میں استعمال کے بعد پھینک دیے جانے والا پلاسٹک نالیوں اور گٹروں میں پھس کر پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے اور وہی گندا پانی گلیوں اور سڑکوں پر نکل آتا ہے جس سے طرح طرح کی بیماریاں پھیلتی ہیں. گزشتہ دنوں کراچی میں شدید بارشوں کی وجہ سے گلیوں اور سڑکوں پر نظر آنے والی گندگی اسی پلاسٹک کی مرہون منت تھی اور اس کی رہی سہی کسر قربانی کے جانوروں کی آلائشوں نے نکال دی.&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کھلونوں، کھانے کے برتنوں اور ڈبوں، فرنیچر اور برقی آلات میں پلاسٹک کے استعمال نے جہاں لکڑی کے استعمال کو کم کرکے جنگلات کو بچانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے وہیں زمین میں دبے پلاسٹک نے زیرزمین پانی کے ذخائر کو بری طرح متاثر کیا ہے. یہی وجہ ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں  پینے کے صاف پانی کی کمی ہوتی جارہی ہے. &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پلاسٹک کا استعمال صرف ماحول کے لئے ہی برا نہیں بلکہ تمام جانداروں کے لئے بھی وبال جان ہے. پلاسٹک کے شاپر میں یا ڈبے میں لی گی لذیذ غذا کسی زہر سے کم نہیں ہے. اسکول اور دفاتر جانے والے پلاسٹک کے ڈبے میں کھانا لے جاتے ہیں جو کہ مائکروویو اون میں گرم کرکے کھانے پر زہر میں تبدیل ہوجاتا ہے کیونکہ گرم ہونے پر پلاسٹک کے اجزا کھانے میں شامل ہوجاتے ہیں جوکے انسانی جسم میں داخل ہوکر کینسر کی وجہ بن سکتے ہیں.&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1108487' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2019/08/5d62aafbdce4a.png"  alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ریسرچ سے ثابت ہوا ہے کہ بائیس فینول اے (BPA) پلاسٹک کا ایک ایسا کیمیائی جز ہے جو کینسر کا سبب بنتا ہے.  اکثر پلاسٹک بنانے والے کارخانے اپنا فاضل مادے کا اخراج نہروں اور نالوں میں کرتے ہیں جس سے آبی زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے اور اسی وجہ سے ان کی بہت سی انواع ناپید ہونے کا خطرہ بڑھنے لگا ہے.&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اب بہت سے لوگوں کے ذہن میں یہ سوال منڈلا رہا ہوگا کہ اب تو پلاسٹک ہماری روز مرہ استعمال کی ہر چیز میں پایا جاتا ہے اور اگر حکومت کے کہنے پر اس کا استعمال ترک کر بھی دیں تو ان کی زندگی میں بہت سی مشکلات پیدا ہوجائیں گی لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے. &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آج پلاسٹک کے متبادل متعدد چیزیں موجود ہیں جن میں کاغذی لفافے ،کپڑے کے ٹھیلے اورماحول دوست شاپر شامل ہیں. &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستان میں حکومت کے علاوہ  بہت سےتعلیمی اور صنعتی ادارے پلاسٹک کےاستعمال کے خلاف مہم چلا رہے ہیں جن میں تعلیمی ادارہ کومسٹس یونیورسٹی اسلام آباد، "گائیہ (GAIA) بیگز" اور"ذی بیگز" اپنا اہم کردار ادا کر رہے ہیں. گائیہ (GAIA) بیگز پولی پروپائیلین (Polypropylene) پولیمیرز سے بنے ہوئے ہیں جو کہ مضبوط اور ماحول دوست کیمیائی مرکب ہے اور سب سے اہم بات کے انہیں بنانے میں زہریلی گوند استعمال نہیں کی گئی .اسی طرح زی بیگز کاغذ کے بننے لفافے ہیں جو کہ ماحول دوست ہونے کے ساتھ سستے بھی ہیں. &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آخر میں یہی کہوں گی کہ ہمارے ماحول اور تمام جانداروں کی بقا کے لئے ضروری ہے کہ پلاسٹک کے استعمال کو ترک کریں. &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گھروں میں پلاسٹک کی مصنوعات کی بجائے چینی یا شیشے کے برتنوں کو ترجیح دیں. پلاسٹک کے شاپروں کی بجانے متبادل چیزوں کا استعمال شروع کریں. ہمیں ملک پاکستان باقی ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا کیونکہ مشہور مقولہ ہے کہ قطرہ قطرہ دریا بنتا ہے لہذا ماحول اور ملک دونوں کی بہتری کے لئے ہر فرد کا کردار اہم ہے.&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/6 w-full  media--right    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2019/07/5d2b292c988e7.jpg"  alt="" /&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			 ندرت احسان بایو ٹیکنالوجیسٹ ہیں جنہوں نے فورمن کرسچین کالج یونیورسٹی سے ایم فل کیا ہے اور کیمبرج کے طالب علموں کو پڑھاتی ہیں. یہ اسٹروبائیولوجی نیٹ ورک اف پاکستان کی سینئر ممبران میں سے ہیں اور حیاتیات کے مضامین لکھنے میں خاصی دلچسپی رکھتی ہیں. ان سے nudrat.ehsan1@gmail.com پر رابطہ کیا جاسکتا ہے. &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہیں ٹوئٹر پر فالو کریں &lt;a href="https://twitter.com/ehsan_nudrat"&gt;@ehsan_nudrat&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دیئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کچھ عرصہ قبل ہی عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)سمیت کچھ ممالک کی تنظیموں کی جانب کی جانے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ دنیا کا ہر بالغ شخص سالانہ  50 ہزار پلاسٹک ذرات نگل رہا ہے۔</p>

<p>رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ زمین کی ایسی کوئی جگہ نہیں ہیں جہاں پلاسٹک ذرات موجود نہ ہوں، سمندر کی گہرائی سے لے کر ساحل سمندر کی ریت، پانی کی بوتل سے لے کر ڈسپوزایبل کھانے کے پیکٹوں اور راستوں پر پلاسٹک یا اس کے ذرات موجود ہوتے ہیں۔ </p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1104892///' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2019/08/5d5fd7fad9d99.jpg"  alt="" /></a></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>عالمی ادارہ صحت نے بھی مائکروپلاسٹک پر حال ہی میں ایک مفصل رپورٹ جاری کی تھی، جس میں بتایا گیا تھا کہ ہوا، پینے کے پانی اور غذائی اشیاء میں پلاسٹک کے ذرات کی موجودگی سے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ </p>

<p>یہی وجہ ہے کہ آج کل پاکستان سمیت دنیا بھر میں پلاسٹک کے استعمال کی روک تھام کے لئے بہت سے اقدامات کئے جارہے ہیں اور اسلام آباد میں پلاسٹک کی تھیلیوں کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی ہے جبکہ سندھ اور دیگر مقامات پر بھی اس طرح کی پابندی کا نفاذ جلد ہوگا۔</p>

<p>لیکن اب دیکھنا یہ ہے حکومتی اقدامات سے ہٹ کرعوام، جو تقریبا 70 سال سے اپنی روز مرّہ ضروریات سے لے کر باقی چیزوں میں پلاسٹک کا بے دریغ استعمال کررہے ہیں، اس حکومتی فیصلے پر کس حد تک عمل درآمد کرتے ہیں. مگر اس سب سے پہلے یہاں یہ جاننا ضروری ہے کہ دنیا بھر میں پلاسٹک کے استعمال کو ترک کرنے پر زور کیوں دیا جا رہا ہے.</p>

<p>پلاسٹک ایک پولیمر ہے. سائنسی اصطلاح میں پولیمرایک جیسے ایٹموں کی زنجیر کو کہتے ہیں. یہ  پولیمیرز زیادہ تر کاربن اور ہائیڈروجن کے ایٹموں سے بنے ہوتے ہیں. جبکہ چند پولیمرز آکسیجن، نائٹروجن، سلفر، کلورین، فلورین، فاسفورس اور سلیکون سے بنتے ہیں. </p>

<p>پولیمر میں موجود یہ ایٹم آپس میں بہت زیادہ مضبوطی سے جڑے ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ پلاسٹک 500 سے ایک ہزار سال تک ختم نہیں ہوتا. پلاسٹک کی اسی مضبوطی اور عرصہ دراز نہ ختم ہونے کی صلاحیت نے ہمیں اس کے استعمال کی طرف راغب کیا. </p>

<p>ہماری روز مرہ کی زندگی میں پلاسٹک کا استعمال اس قدر زیادہ ہوچکا ہے کہ اس کے استعمال کی بغیر زندگی مشکل محسوس ہوتی ہے. اگر ہم اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو پلاسٹک کی بہت سی مصنوعات ملیں گی. کسی تفریحی مقام پر مسرور ہونے کے لئے جائیں تو پلاسٹک کی بوتلیں، گلاس اور شاپروں کی موجودگی گندگی پھیلاتی نظر آئے گی.</p>

<p>اسی طرح اگر کسی دریا کے کنارے بیٹھے ٹھنڈی ہوا سے لطف اندوز ہونا چاہیں تو ہوا کو گرد آلود کرتے اڑتے ہوئے شاپر اس حسین نظارے پر داغ دار کردیتے ہیں. </p>

<p>گھروں میں استعمال کے بعد پھینک دیے جانے والا پلاسٹک نالیوں اور گٹروں میں پھس کر پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے اور وہی گندا پانی گلیوں اور سڑکوں پر نکل آتا ہے جس سے طرح طرح کی بیماریاں پھیلتی ہیں. گزشتہ دنوں کراچی میں شدید بارشوں کی وجہ سے گلیوں اور سڑکوں پر نظر آنے والی گندگی اسی پلاسٹک کی مرہون منت تھی اور اس کی رہی سہی کسر قربانی کے جانوروں کی آلائشوں نے نکال دی.</p>

<p>کھلونوں، کھانے کے برتنوں اور ڈبوں، فرنیچر اور برقی آلات میں پلاسٹک کے استعمال نے جہاں لکڑی کے استعمال کو کم کرکے جنگلات کو بچانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے وہیں زمین میں دبے پلاسٹک نے زیرزمین پانی کے ذخائر کو بری طرح متاثر کیا ہے. یہی وجہ ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں  پینے کے صاف پانی کی کمی ہوتی جارہی ہے. </p>

<p>پلاسٹک کا استعمال صرف ماحول کے لئے ہی برا نہیں بلکہ تمام جانداروں کے لئے بھی وبال جان ہے. پلاسٹک کے شاپر میں یا ڈبے میں لی گی لذیذ غذا کسی زہر سے کم نہیں ہے. اسکول اور دفاتر جانے والے پلاسٹک کے ڈبے میں کھانا لے جاتے ہیں جو کہ مائکروویو اون میں گرم کرکے کھانے پر زہر میں تبدیل ہوجاتا ہے کیونکہ گرم ہونے پر پلاسٹک کے اجزا کھانے میں شامل ہوجاتے ہیں جوکے انسانی جسم میں داخل ہوکر کینسر کی وجہ بن سکتے ہیں.</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1108487' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2019/08/5d62aafbdce4a.png"  alt="" /></a></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>ریسرچ سے ثابت ہوا ہے کہ بائیس فینول اے (BPA) پلاسٹک کا ایک ایسا کیمیائی جز ہے جو کینسر کا سبب بنتا ہے.  اکثر پلاسٹک بنانے والے کارخانے اپنا فاضل مادے کا اخراج نہروں اور نالوں میں کرتے ہیں جس سے آبی زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے اور اسی وجہ سے ان کی بہت سی انواع ناپید ہونے کا خطرہ بڑھنے لگا ہے.</p>

<p>اب بہت سے لوگوں کے ذہن میں یہ سوال منڈلا رہا ہوگا کہ اب تو پلاسٹک ہماری روز مرہ استعمال کی ہر چیز میں پایا جاتا ہے اور اگر حکومت کے کہنے پر اس کا استعمال ترک کر بھی دیں تو ان کی زندگی میں بہت سی مشکلات پیدا ہوجائیں گی لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے. </p>

<p>آج پلاسٹک کے متبادل متعدد چیزیں موجود ہیں جن میں کاغذی لفافے ،کپڑے کے ٹھیلے اورماحول دوست شاپر شامل ہیں. </p>

<p>پاکستان میں حکومت کے علاوہ  بہت سےتعلیمی اور صنعتی ادارے پلاسٹک کےاستعمال کے خلاف مہم چلا رہے ہیں جن میں تعلیمی ادارہ کومسٹس یونیورسٹی اسلام آباد، "گائیہ (GAIA) بیگز" اور"ذی بیگز" اپنا اہم کردار ادا کر رہے ہیں. گائیہ (GAIA) بیگز پولی پروپائیلین (Polypropylene) پولیمیرز سے بنے ہوئے ہیں جو کہ مضبوط اور ماحول دوست کیمیائی مرکب ہے اور سب سے اہم بات کے انہیں بنانے میں زہریلی گوند استعمال نہیں کی گئی .اسی طرح زی بیگز کاغذ کے بننے لفافے ہیں جو کہ ماحول دوست ہونے کے ساتھ سستے بھی ہیں. </p>

<p>آخر میں یہی کہوں گی کہ ہمارے ماحول اور تمام جانداروں کی بقا کے لئے ضروری ہے کہ پلاسٹک کے استعمال کو ترک کریں. </p>

<p>گھروں میں پلاسٹک کی مصنوعات کی بجائے چینی یا شیشے کے برتنوں کو ترجیح دیں. پلاسٹک کے شاپروں کی بجانے متبادل چیزوں کا استعمال شروع کریں. ہمیں ملک پاکستان باقی ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا کیونکہ مشہور مقولہ ہے کہ قطرہ قطرہ دریا بنتا ہے لہذا ماحول اور ملک دونوں کی بہتری کے لئے ہر فرد کا کردار اہم ہے.</p>

<hr />

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/6 w-full  media--right    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/medium/2019/07/5d2b292c988e7.jpg"  alt="" /></div>
				
			</figure>
<p>			 ندرت احسان بایو ٹیکنالوجیسٹ ہیں جنہوں نے فورمن کرسچین کالج یونیورسٹی سے ایم فل کیا ہے اور کیمبرج کے طالب علموں کو پڑھاتی ہیں. یہ اسٹروبائیولوجی نیٹ ورک اف پاکستان کی سینئر ممبران میں سے ہیں اور حیاتیات کے مضامین لکھنے میں خاصی دلچسپی رکھتی ہیں. ان سے nudrat.ehsan1@gmail.com پر رابطہ کیا جاسکتا ہے. </p>

<p>انہیں ٹوئٹر پر فالو کریں <a href="https://twitter.com/ehsan_nudrat">@ehsan_nudrat</a></p>

<hr />

<p>ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دیئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1109463</guid>
      <pubDate>Mon, 26 Aug 2019 07:21:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ندرت احسان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/08/5d62ab8c37112.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/08/5d62ab8c37112.jpg"/>
        <media:title>— شٹر اسٹاک فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عید پر زیادہ کھانے سے ہونے والی بدہضمی سے بچانے میں مددگار ٹوٹکے
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1108710/</link>
      <description>&lt;p&gt;عیدالاضحیٰ کا تہوار منہ کا ذائقہ دوبالا کردیتا ہے کیونکہ گوشت کے بے شمار پکوان آپ کے منتظر ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مگر گوشت کو زیادہ مقدار میں کھانا پیٹ پھولنے اور بدہضمی کا باعث بھی بن سکتا ہے جس کے دوران پیٹ کا بہت زیادہ بھرا ہونے کا احساس، درد یا معدے کے اوپری حصے میں جلن کا احساس ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1036627' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2019/03/5c855613df28d.png"  alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بدہضمی ویسے تو کوئی مرض نہیں بلکہ غذائی نالی کے دیگر مسائل جیسے سینے میں جلن یا دیگر کی ایک علامت ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عام طور پر افراد پیٹ پھولنے یا بدہضمی کی صورت میں ادویات کو ترجیح دیتے ہیں مگر اس کے لیے آپ کچن میں موجود چیزوں سے بھی مدد لے سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5d52eff5d2ad5'&gt;پودینے کی چائے&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;پودینے کو کھانے سے صرف سانس ہی نہیں مہکتی بلکہ یہ صحت کے لیے بھی فائدہ مند ہے، خصوصاً معدے کے مسائل جیسے دل متلانے اور بدہضمی کے لیے اچھا انتخاب ہے۔ عید کی دعوتوں کے بعد ایک کپ پودینے کی چائے کا استعمال فوری طور پر معدے کو سکون پہنچاتا ہے۔ اس سے بدہضمی سے نجات تو ملتی ہے مگر سینے میں جلن ہو تو پھر اس سے گریز کرنا بہتر ہے کیونکہ یہ غذائی نالی کے نچلے کے حصے کو پرسکون کرتی ہے، جس سے معدے میں موجود ایسڈ اوپر جاتا ہے جس سے سینے میں جلن کی شکایت بڑھ جاتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5d52eff5d2b2a'&gt;سیب کا سرکہ&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;سیب کا سرکہ صحت کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند سمجھا جاتا ہے اور بدہضمی سے ناجت میں بھی مدد دے سکتا ہے، معدے میں تیزاب کی کمی سے بدہضمی ہوتی ہے، سیب کا سرکہ پینے سے جسم میں اس تیزاب کی پیداوار بننے کا عمل تیز ہوتا ہے، ایک سے 2 چائے کا چمچ سیب کا سرکہ ایک کپ پانی میں ملا کر پینا فوری ریلیف دیتا ہے، یا کھانے سے آدھے گھنٹے پہلے اسے پی لینا بھی فائدہ مند ہے۔ خیال رہے کہ خالص سرکہ پینے سے گریز کریں کیونکہ وہ دل متلانے، بلڈ شوگر کی سطح میں کمی یا گلے میں جلن کا باعث بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5d52eff5d2b3f'&gt;ادرک&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;ادرک ادرک بھی بدہضمی کا قدرتی علاج ہے جو معدے میں تیزابیت کی بہت زیادہ مقدار میں کمی لاتا ہے، یعنی معدے میں تیزابیت کی بہت کم یا بہت زیادہ مقدار بدہضمی کا باعث بنتی ہے، ایک کپ ادرک کی چائے پینا معدے کو سکون پہنچا کر بدہضمی دور کرتا ہے یا ادرک کے ایک ٹکڑے کو پانی میں ابال کر شہد یا لیموں کے عرق ملا کر پینا بھی یہی فائدہ پہنچاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5d52eff5d2b51'&gt;سونف&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;سونف کو کھانے کے بعد کھانا بدہضمی کا خطرہ کم کرتا ہے یا اگر بدہضمی کے شکار ہیں تو اسے کھانے سے وہ دور ہوجاتی ہے جبکہ دیگر مسائل جیسے پیٹ پھولنے، دل متلانے اور درد وغیرہ میں بھی کمی لاتی ہے۔ ایک سے 2 چائے کے چمچ سونف کے سفوف کو پانی میں ملا کر 10 منٹ تک ابالیں اور پھر پی لیں، سونف کی یہ چائے بدہضمی ہونے پر پینا عادت بنائیں یا اگر اس میں مشکل ہو تو کھانے کے بعد کچھ مقدار میں سونف کھالیں جو یہی فائدہ پہنچاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5d52eff5d2b63'&gt;بیکنگ سوڈا&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;بیکنگ سوڈا معدے کی تیزابیت کو نیوٹرل کرکے بدہضمی، پیٹ پھولنے اور گیس جیسے مسائل دور کرتا ہے، آدھا چائے کا چمچ بیکنگ سوڈا 4 اونس گرم پانی میں ملائیں اور پی لیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5d52eff5d2b78'&gt;لیموں کا پانی&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;لیموں کا پانی معدے کی تیزابیت کو نیوٹرل کرتا ہے جبکہ ہاضمہ بھی بہتر ہوتا ہے، ایک کھانے کا چمچ لیموں کا عرق گرم پانی میں ملا کر کھانے سے چند منٹ پہلے پی لیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5d52eff5d2b89'&gt;ملیٹھی&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;ملیٹھی غذائی نالی کے ورم کو کم کرتی ہے جو بدہضمی کا باعث بنتی ہے، ڈھائی گرام ملیٹھی کو گرم پانی میں ملا کر پینا اس حوالے سے مددگار ثابت ہوتا ہے، اس مشروب کو کھانے سے آدھے گھنٹے پہلے یا کھانے کے ایک گھنٹے بعد پی لیں۔ اس مشروب کو دن میں ایک بار سے زیادہ پینا نقصان دہ ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;em&gt;نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔&lt;/em&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>عیدالاضحیٰ کا تہوار منہ کا ذائقہ دوبالا کردیتا ہے کیونکہ گوشت کے بے شمار پکوان آپ کے منتظر ہوتے ہیں۔</p>

<p>مگر گوشت کو زیادہ مقدار میں کھانا پیٹ پھولنے اور بدہضمی کا باعث بھی بن سکتا ہے جس کے دوران پیٹ کا بہت زیادہ بھرا ہونے کا احساس، درد یا معدے کے اوپری حصے میں جلن کا احساس ہوسکتا ہے۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1036627' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2019/03/5c855613df28d.png"  alt="" /></a></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>بدہضمی ویسے تو کوئی مرض نہیں بلکہ غذائی نالی کے دیگر مسائل جیسے سینے میں جلن یا دیگر کی ایک علامت ہوتی ہے۔</p>

<p>عام طور پر افراد پیٹ پھولنے یا بدہضمی کی صورت میں ادویات کو ترجیح دیتے ہیں مگر اس کے لیے آپ کچن میں موجود چیزوں سے بھی مدد لے سکتے ہیں۔</p>

<h3 id='5d52eff5d2ad5'>پودینے کی چائے</h3>

<p>پودینے کو کھانے سے صرف سانس ہی نہیں مہکتی بلکہ یہ صحت کے لیے بھی فائدہ مند ہے، خصوصاً معدے کے مسائل جیسے دل متلانے اور بدہضمی کے لیے اچھا انتخاب ہے۔ عید کی دعوتوں کے بعد ایک کپ پودینے کی چائے کا استعمال فوری طور پر معدے کو سکون پہنچاتا ہے۔ اس سے بدہضمی سے نجات تو ملتی ہے مگر سینے میں جلن ہو تو پھر اس سے گریز کرنا بہتر ہے کیونکہ یہ غذائی نالی کے نچلے کے حصے کو پرسکون کرتی ہے، جس سے معدے میں موجود ایسڈ اوپر جاتا ہے جس سے سینے میں جلن کی شکایت بڑھ جاتی ہے۔</p>

<h3 id='5d52eff5d2b2a'>سیب کا سرکہ</h3>

<p>سیب کا سرکہ صحت کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند سمجھا جاتا ہے اور بدہضمی سے ناجت میں بھی مدد دے سکتا ہے، معدے میں تیزاب کی کمی سے بدہضمی ہوتی ہے، سیب کا سرکہ پینے سے جسم میں اس تیزاب کی پیداوار بننے کا عمل تیز ہوتا ہے، ایک سے 2 چائے کا چمچ سیب کا سرکہ ایک کپ پانی میں ملا کر پینا فوری ریلیف دیتا ہے، یا کھانے سے آدھے گھنٹے پہلے اسے پی لینا بھی فائدہ مند ہے۔ خیال رہے کہ خالص سرکہ پینے سے گریز کریں کیونکہ وہ دل متلانے، بلڈ شوگر کی سطح میں کمی یا گلے میں جلن کا باعث بن سکتا ہے۔</p>

<h3 id='5d52eff5d2b3f'>ادرک</h3>

<p>ادرک ادرک بھی بدہضمی کا قدرتی علاج ہے جو معدے میں تیزابیت کی بہت زیادہ مقدار میں کمی لاتا ہے، یعنی معدے میں تیزابیت کی بہت کم یا بہت زیادہ مقدار بدہضمی کا باعث بنتی ہے، ایک کپ ادرک کی چائے پینا معدے کو سکون پہنچا کر بدہضمی دور کرتا ہے یا ادرک کے ایک ٹکڑے کو پانی میں ابال کر شہد یا لیموں کے عرق ملا کر پینا بھی یہی فائدہ پہنچاتا ہے۔</p>

<h3 id='5d52eff5d2b51'>سونف</h3>

<p>سونف کو کھانے کے بعد کھانا بدہضمی کا خطرہ کم کرتا ہے یا اگر بدہضمی کے شکار ہیں تو اسے کھانے سے وہ دور ہوجاتی ہے جبکہ دیگر مسائل جیسے پیٹ پھولنے، دل متلانے اور درد وغیرہ میں بھی کمی لاتی ہے۔ ایک سے 2 چائے کے چمچ سونف کے سفوف کو پانی میں ملا کر 10 منٹ تک ابالیں اور پھر پی لیں، سونف کی یہ چائے بدہضمی ہونے پر پینا عادت بنائیں یا اگر اس میں مشکل ہو تو کھانے کے بعد کچھ مقدار میں سونف کھالیں جو یہی فائدہ پہنچاتا ہے۔</p>

<h3 id='5d52eff5d2b63'>بیکنگ سوڈا</h3>

<p>بیکنگ سوڈا معدے کی تیزابیت کو نیوٹرل کرکے بدہضمی، پیٹ پھولنے اور گیس جیسے مسائل دور کرتا ہے، آدھا چائے کا چمچ بیکنگ سوڈا 4 اونس گرم پانی میں ملائیں اور پی لیں۔ </p>

<h3 id='5d52eff5d2b78'>لیموں کا پانی</h3>

<p>لیموں کا پانی معدے کی تیزابیت کو نیوٹرل کرتا ہے جبکہ ہاضمہ بھی بہتر ہوتا ہے، ایک کھانے کا چمچ لیموں کا عرق گرم پانی میں ملا کر کھانے سے چند منٹ پہلے پی لیں۔</p>

<h3 id='5d52eff5d2b89'>ملیٹھی</h3>

<p>ملیٹھی غذائی نالی کے ورم کو کم کرتی ہے جو بدہضمی کا باعث بنتی ہے، ڈھائی گرام ملیٹھی کو گرم پانی میں ملا کر پینا اس حوالے سے مددگار ثابت ہوتا ہے، اس مشروب کو کھانے سے آدھے گھنٹے پہلے یا کھانے کے ایک گھنٹے بعد پی لیں۔ اس مشروب کو دن میں ایک بار سے زیادہ پینا نقصان دہ ہوسکتا ہے۔</p>

<p><em>نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔</em></p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1108710</guid>
      <pubDate>Tue, 13 Aug 2019 22:14:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/08/5d52eecae3cb2.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/08/5d52eecae3cb2.jpg"/>
        <media:title>— شٹر اسٹاک فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ان مشروبات کا استعمال اچھی نیند کو یقینی بنائے
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1101500/</link>
      <description>&lt;p&gt;نیند کی کمی متعدد جان لیوا امراض کا خطرہ بڑھاتی ہے جبکہ بے خوابی کی شکایت اکثر ہارٹ اٹیک اور فالج کے خطرے کی جانب اشارہ کررہی ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1034970' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2019/04/5cb4c6c1ef950.png"  alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بیشتر افراد کو نیند کے مختلف عوارض جیسے بے خوابی یا خراٹوں کی شکایت کا سامنا ہوتا ہے جو دیگر بیماریوں کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیند کی کمی سے متاثر جسم اپنے افعال مناسب طریقے سے کرنے میں ناکام رہتا ہے جبکہ توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تو کیا اکثر آپ کو سونے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے اور کروٹیں بدلتے رہتے ہیں؟&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگر ہاں تو آپ کو سونے سے قبل چند مشروبات کو آزمانا چاہیے جن میں ایسے اجزاءموجود ہوتے ہیں جو جلد سونے میں مدد دینے کے ساتھ اس کا معیار بھی بہتر بناتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5cb4c75e05d33'&gt;گرم دودھ&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;گرم دودھ اچھی نیند کے حصول میں بہت زیادہ مددگار ثابت ہوسکتا ہے، اکثر کیلشیئم کی کمی بے خوابی کی بڑی وجہ ثابت ہوتی ہے۔ دودھ سے جسم کو کیلشیئم ملتا ہے جبکہ اس کے ساتھ اس میں ایک اور کمپاﺅنڈ سیروٹونین بھی موجود ہوتا ہے جو ذہن کو سکون اور آرام کا احساس دیتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5cb4c75e05ddf'&gt;ناریل کا پانی&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ جسم میں میگنیشم کی کمی ڈپریشن اور ذہنی بے چینی کا خطرہ بڑھاتا ہے، ناریل کے پانی میں میگنیشم اور پوٹاشیم موجود ہوتا ہے جو ذہن کو پرسکون رکھتا ہے، جس سے جلد سونے میں مدد ملتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5cb4c75e05e27'&gt;کیلے کا ملک شیک&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;کیلوں میں میگنیشم، پوٹاشیم کے ساتھ ٹرائی پیتھون نامی ایک امینو ایسڈ موجود ہوتا ہے جو نیند لانے میں مدد دینے والے کمپاﺅنڈ سیروٹونین بننے میں مدد دیتے ہیں۔ کیلے اور دودھ کے مکسچر میں شہد کا اضافہ اسے مزیدار بناتا ہے جو مزاج پر خوشگوار اثرات مرتب کرکے میٹھی نیند کا حصول ممکن بناتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5cb4c75e05e6d'&gt;بادام اور زعفران کا دودھ&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;بادام کے دودھ میں ضروری اجزا موجود ہوتے ہیں جو تناﺅ پر قابو پانے میں مدد دیتے ہیں جبکہ معمولی زعفران کا اضافہ اس دودھ کی اعصاب کو ریگولیٹ کرنے کی خصوصیات کو مزید بڑھا دیتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5cb4c75e05eb2'&gt;بابونہ چائے&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;بابونہ(Chamomile) پودے کی چائے بھی ذہن کو پرسکون رکھنے میں مدد گار ثابت ہوتی ہے، یہ ایک خاص قسم کی پھول نما جڑی بوٹی ہے، جس کے پتے سفید اور پیلے رنگ کے ہوتے ہیں اور پرسکون ذہن جلد نیند کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5cb4c75e05ef8'&gt;سبز چائے&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;سبز چائے کو دماغ کی صحت اور تھکاوٹ کے لیے بہتر سمجھا جاتا ہے، تاہم اس کا ایک اور فائدہ بھی ہوتا ہے کہ اگر اسے نیند سے ایک گھنٹہ قبل پیا جائے تو پر سکون نیند آتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;em&gt;نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔&lt;/em&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>نیند کی کمی متعدد جان لیوا امراض کا خطرہ بڑھاتی ہے جبکہ بے خوابی کی شکایت اکثر ہارٹ اٹیک اور فالج کے خطرے کی جانب اشارہ کررہی ہوتی ہے۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1034970' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2019/04/5cb4c6c1ef950.png"  alt="" /></a></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>بیشتر افراد کو نیند کے مختلف عوارض جیسے بے خوابی یا خراٹوں کی شکایت کا سامنا ہوتا ہے جو دیگر بیماریوں کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔</p>

<p>نیند کی کمی سے متاثر جسم اپنے افعال مناسب طریقے سے کرنے میں ناکام رہتا ہے جبکہ توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔</p>

<p>تو کیا اکثر آپ کو سونے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے اور کروٹیں بدلتے رہتے ہیں؟</p>

<p>اگر ہاں تو آپ کو سونے سے قبل چند مشروبات کو آزمانا چاہیے جن میں ایسے اجزاءموجود ہوتے ہیں جو جلد سونے میں مدد دینے کے ساتھ اس کا معیار بھی بہتر بناتے ہیں۔</p>

<h3 id='5cb4c75e05d33'>گرم دودھ</h3>

<p>گرم دودھ اچھی نیند کے حصول میں بہت زیادہ مددگار ثابت ہوسکتا ہے، اکثر کیلشیئم کی کمی بے خوابی کی بڑی وجہ ثابت ہوتی ہے۔ دودھ سے جسم کو کیلشیئم ملتا ہے جبکہ اس کے ساتھ اس میں ایک اور کمپاﺅنڈ سیروٹونین بھی موجود ہوتا ہے جو ذہن کو سکون اور آرام کا احساس دیتا ہے۔</p>

<h3 id='5cb4c75e05ddf'>ناریل کا پانی</h3>

<p>ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ جسم میں میگنیشم کی کمی ڈپریشن اور ذہنی بے چینی کا خطرہ بڑھاتا ہے، ناریل کے پانی میں میگنیشم اور پوٹاشیم موجود ہوتا ہے جو ذہن کو پرسکون رکھتا ہے، جس سے جلد سونے میں مدد ملتی ہے۔</p>

<h3 id='5cb4c75e05e27'>کیلے کا ملک شیک</h3>

<p>کیلوں میں میگنیشم، پوٹاشیم کے ساتھ ٹرائی پیتھون نامی ایک امینو ایسڈ موجود ہوتا ہے جو نیند لانے میں مدد دینے والے کمپاﺅنڈ سیروٹونین بننے میں مدد دیتے ہیں۔ کیلے اور دودھ کے مکسچر میں شہد کا اضافہ اسے مزیدار بناتا ہے جو مزاج پر خوشگوار اثرات مرتب کرکے میٹھی نیند کا حصول ممکن بناتا ہے۔</p>

<h3 id='5cb4c75e05e6d'>بادام اور زعفران کا دودھ</h3>

<p>بادام کے دودھ میں ضروری اجزا موجود ہوتے ہیں جو تناﺅ پر قابو پانے میں مدد دیتے ہیں جبکہ معمولی زعفران کا اضافہ اس دودھ کی اعصاب کو ریگولیٹ کرنے کی خصوصیات کو مزید بڑھا دیتا ہے۔</p>

<h3 id='5cb4c75e05eb2'>بابونہ چائے</h3>

<p>بابونہ(Chamomile) پودے کی چائے بھی ذہن کو پرسکون رکھنے میں مدد گار ثابت ہوتی ہے، یہ ایک خاص قسم کی پھول نما جڑی بوٹی ہے، جس کے پتے سفید اور پیلے رنگ کے ہوتے ہیں اور پرسکون ذہن جلد نیند کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے۔</p>

<h3 id='5cb4c75e05ef8'>سبز چائے</h3>

<p>سبز چائے کو دماغ کی صحت اور تھکاوٹ کے لیے بہتر سمجھا جاتا ہے، تاہم اس کا ایک اور فائدہ بھی ہوتا ہے کہ اگر اسے نیند سے ایک گھنٹہ قبل پیا جائے تو پر سکون نیند آتی ہے۔</p>

<p><em>نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔</em></p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1101500</guid>
      <pubDate>Mon, 15 Apr 2019 23:03:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/04/5cb4c653510c3.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/04/5cb4c653510c3.jpg"/>
        <media:title>کیا اکثر آپ کو سونے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے — شٹر اسٹاک فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قابلِ ترک (ڈسپوزیبل) پیڈز سے نجات کیوں ضروری؟
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1109237/</link>
      <description>&lt;p&gt;https://www.dawnnews.tv/news/1109001/&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>https://www.dawnnews.tv/news/1109001/</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1109237</guid>
      <pubDate>Thu, 22 Aug 2019 12:48:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/08/5d5e4705d5879.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/08/5d5e4705d5879.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>12 عام عادات جو آپ کو ہر دلعزیز بنائیں
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1026630/</link>
      <description>&lt;h1 id='5ca7b4ecb5fff'&gt;12 عام عادات جو آپ کو ہر دلعزیز بنائیں&lt;/h1&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اگر آپ کسی بہت زیادہ مسابقتی شعبے کا حصہ ہو تو صلاحیت اور ذہانت لازمی ہوتے ہیں مگر اس سے بھی بڑھ کر آپ کی ہر دلعزیزی بھی آپ کو دیگر افراد کے ساتھ جڑنے اور تعلق بنانے میں مدگار ثابت ہوتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اور یہ جان لیں کہ ایک کرشماتی شخصیت کا کوئی متبادل نہیں ہوتا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تو کچھ عام عادات ایسی ہوتی ہیں جو کس شخصیت کو بہت قیمتی بنادیتی ہیں اور وہ شخص ہر دل میں گھر کر جانے کی صلاحیت حاصل کرلیتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تو ایسی ہی عادات کے بارے میں جانے جو آپ کو زندگی میں آگے بڑھنے میں مدد دے سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5ca7b4ecb6064'&gt;مثبت ذہنی رویہ جو دیگر کو محسوس بھی ہوتا ہے&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/09/55f5c59ba8c74.jpg?r=1786438426"  alt="کریٹیو کامنز فوٹو" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;کریٹیو کامنز فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چڑچڑا یا بدمزاج ہونا تو اکثر آسان ہوتا ہے مگر جو لوگ مثبت ذہنی رویے کو اپنی شخصیت کا حصہ بنا لیتے ہیں وہ کامیابی کی سیڑھی پر بھی قدم رکھ دیتے ہیں اور ان کی ساکھ بھی لوگوں کی نظر میں بہتر ہوجاتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5ca7b4ecb60a9'&gt;محتاط گفتگو دوستانہ انداز سے&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/09/55f5c59bb867b.jpg?r=797761104"  alt="کریٹیو کامنز فوٹو" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;کریٹیو کامنز فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بہتر شخص وہ ہوتا ہے جو اپنے الفاظ کا محتاط انتخاب کرتے ہوئے پراعتماد انداز سے گفتگو کرتا ہے، جس سے اس کی آواز کو بھی خوش کن ساﺅنڈ ملتا ہے۔ اگر کسی ہجوم کے سامنے بات کرنے کا خیال آپ کو ڈرا دیتا ہے تو اس کی مشق اس وقت تک کریں جب تک ہجوم کے سامنے بولنے کا تجربہ آپ کو خوفزدہ نہ کرسکے۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5ca7b4ecb60ea'&gt;بولنے والے کی گفتگو پر پوری توجہ دینا&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/09/55f5c59b9ed32.jpg?r=1474247729"  alt="کریٹیو کامنز فوٹو" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;کریٹیو کامنز فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کسی سے بات چیت کے دوران بولنے والے کی بات کو پوری توجہ سے سننا دوسروں کی نظر میں آپ کی اہمیت بڑھاتا ہے کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ ان کی باتیں ہوا میں نہیں جارہیں جبکہ بار بار لقمہ دینے کی عادت انا کو تو تسکین پہنچا سکتی ہے مگر دوست بنانے میں کبھی مددگار ثابت نہیں ہوتی۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5ca7b4ecb612c'&gt;ہر قسم کے حالات میں پرسکون رہنا&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/09/55f5c59ab9271.jpg?r=2014184765"  alt="کریٹیو کامنز فوٹو" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;کریٹیو کامنز فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کسی خبر یا کام کے دوران حد سے زیادہ ردعمل چاہے مثبت ہو یا منفی لوگوں کے سامنے شخصیت کا برا تاثر ڈالتا ہے۔ جیسا کہا جاتا ہے کہ غصے کی حالت میں یاد رکھیں کہ خاموشی آپ کے آگ بھرے الفاظ کے مقابلے میں زیادہ موثر ثابت ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5ca7b4ecb616e'&gt;تحمل مزاج&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/09/55f5c59c55c50.jpg?r=11372448"  alt="کریٹیو کامنز فوٹو" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;کریٹیو کامنز فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہر چیز کا تحمل سے انتظار آپ کو نقصان نہیں پہنچاتی درحقیقت آپ کے الفاظ اور اقدام کا مناسب وقت وہ سب سے بڑا فائدہ ہے جو آپ کو بے صبر افراد پر حاصل ہوتا ہے کیونکہ وہ جلد بازی کے باعث نقصان اٹھاسکتے ہیں جبکہ مناسب وقت پر کوئی کام کرنا کامیابی کا امکان بڑھاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5ca7b4ecb61af'&gt;اپنا ذہن کھلا رکھنا&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/09/55f5c599aee82.jpg?r=1663928240"  alt="کریٹیو کامنز فوٹو" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;کریٹیو کامنز فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جو لوگ خود کو مخصوص خیالات اور اپنے جیسے مزاج کے حامل لوگوں تک محدود رکھتے ہیں وہ نہ صرف ذاتی ترقی سے محروم ہورہے ہوتے ہیں بلکہ وہ ایسے مواقعوں کو بھی گنوا دیتے ہیں جو ان کے کیرئیر کو آگے بڑھانے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5ca7b4ecb61f0'&gt;دوسروں سے بات کرتے ہوئے مسکرانا&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/09/55f5c59b40fe3.jpg?r=873965463"  alt="کریٹیو کامنز فوٹو" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;کریٹیو کامنز فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جیسا کہا جاتا ہے کہ کسی کو دیکھ کر مسکرا دینا بھی صدقہ ہے اور یہ حقیقت بھی ہے کسی شخص کا سب سے بڑا اثاثہ اس کی ملین ڈالر مسکراہٹ ہوسکتی ہے جس کو دوران گفتگو چہرے پر پھیلانے سے دیگر افراد کے اندر آپ کے لیے حسد یا کینہ پیدا ہونے کا امکان کم ہوجاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5ca7b4ecb6231'&gt;بہانے نہ کرنا&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/09/55f5c59c6c3b4.jpg?r=970825027"  alt="کریٹیو کامنز فوٹو" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;کریٹیو کامنز فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کسی کام کے لیے ٹال مٹول یا بہانے کرنے سے لوگوں تک آپ کی شخصیت کا بہت خراب تاثر جاتا ہے اور وہ ایسی شخصیت پر اعتماد کرنے کے لیے کبھی تیار نہیں ہوتے، انہیں یہ لگتا ہے کہ آپ کسی کام کو کرنے سے خوفزدہ ہیں اور وہ آپ کو نااہل تصور کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5ca7b4ecb6271'&gt;روزانہ کم از کم ایک اچھا کام کرنا&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/09/55f5c59ab1b67.jpg?r=1529750269"  alt="کریٹیو کامنز فوٹو" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;کریٹیو کامنز فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اچھا انسان وہ ہوتا ہے جو دیگر افراد کی مدد بغیر کسی غرض یا توقع کے ساتھ کرتا ہے۔ ضروری نہیں کہ بہت زیادہ پیسہ خرچ کریں یا بھاگ دوڑ کریں کسی کو سڑک پار کروا دینا یا ایسے ہی چھوٹی موٹی مدد بھی ساتھی ورکر سے بہترین تعلق کی بنیاد بن جاتی ہے اور زندگی میں آگے بڑھنے کے مواقع بھی بڑھ جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5ca7b4ecb62b2'&gt;ناکامیوں سے سبق سیکھنا&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/09/55f5c59bbc4f3.jpg?r=253325350"  alt="کریٹیو کامنز فوٹو" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;کریٹیو کامنز فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لوگ اس فرد سے بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں جو ناکامیوں کی دلدل سے ابھر کر سامنے آتا ہے اور وہ ہر وقت جلنے کڑھنے والے افراد کسی صورت پسند نہیں کرتے۔ دنیا میں کسی بھی میدان میں بھی کامیابی کی راہ میں ناکامی کا سامنا ہوتا ہے مگر اس سے سبق سیکھ کر اپنی خامیوں کو دور کرنا ہی اصل کامیابی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5ca7b4ecb62f3'&gt;پورے دل سے دوسروں کو سراہا&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/09/55f5c59d4fa29.jpg?r=217351169"  alt="کریٹیو کامنز فوٹو" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;کریٹیو کامنز فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسروں کی اچھی عادت کو سراہنا ان کا دل جیت لینے کے برابر ہوتا ہے مگر کبھی بھی اتنی بڑھا چڑھا کر تعریف نہ کریں جس کا مستحق وہ شخص نہ ہو یا کبھی بھی ایسے تعریف نہ کریں جس سے لگے کہ آپ خوش نہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5ca7b4ecb6333'&gt;اپنی غلطیوں پر کسی کو اعتماد میں لینا&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/09/55f5c59af10af.jpg?r=1691750000"  alt="کریٹیو کامنز فوٹو" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;کریٹیو کامنز فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کامیاب افراد ضروری نہیں ہر دلعزیز بھی ہو اور اگر وہ مقبول ہوتے ہیں تو درحقیقت اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ انہیں اپنی ساکھ اور اقدامات کی پروا ہوتی ہے۔ کسی ایسے فرد کو اپنا رازدار بنانا جو دیانتدار ہو درحقیقت آپ کو آگے بڑھنے میں مدد دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<h1 id='5ca7b4ecb5fff'>12 عام عادات جو آپ کو ہر دلعزیز بنائیں</h1>

<hr />

<p><strong>اگر آپ کسی بہت زیادہ مسابقتی شعبے کا حصہ ہو تو صلاحیت اور ذہانت لازمی ہوتے ہیں مگر اس سے بھی بڑھ کر آپ کی ہر دلعزیزی بھی آپ کو دیگر افراد کے ساتھ جڑنے اور تعلق بنانے میں مدگار ثابت ہوتی ہے۔</strong></p>

<p>اور یہ جان لیں کہ ایک کرشماتی شخصیت کا کوئی متبادل نہیں ہوتا۔</p>

<p>تو کچھ عام عادات ایسی ہوتی ہیں جو کس شخصیت کو بہت قیمتی بنادیتی ہیں اور وہ شخص ہر دل میں گھر کر جانے کی صلاحیت حاصل کرلیتا ہے۔</p>

<p>تو ایسی ہی عادات کے بارے میں جانے جو آپ کو زندگی میں آگے بڑھنے میں مدد دے سکتی ہیں۔</p>

<h2 id='5ca7b4ecb6064'>مثبت ذہنی رویہ جو دیگر کو محسوس بھی ہوتا ہے</h2>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/09/55f5c59ba8c74.jpg?r=1786438426"  alt="کریٹیو کامنز فوٹو" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">کریٹیو کامنز فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>چڑچڑا یا بدمزاج ہونا تو اکثر آسان ہوتا ہے مگر جو لوگ مثبت ذہنی رویے کو اپنی شخصیت کا حصہ بنا لیتے ہیں وہ کامیابی کی سیڑھی پر بھی قدم رکھ دیتے ہیں اور ان کی ساکھ بھی لوگوں کی نظر میں بہتر ہوجاتی ہے۔</p>

<h2 id='5ca7b4ecb60a9'>محتاط گفتگو دوستانہ انداز سے</h2>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/09/55f5c59bb867b.jpg?r=797761104"  alt="کریٹیو کامنز فوٹو" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">کریٹیو کامنز فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>بہتر شخص وہ ہوتا ہے جو اپنے الفاظ کا محتاط انتخاب کرتے ہوئے پراعتماد انداز سے گفتگو کرتا ہے، جس سے اس کی آواز کو بھی خوش کن ساﺅنڈ ملتا ہے۔ اگر کسی ہجوم کے سامنے بات کرنے کا خیال آپ کو ڈرا دیتا ہے تو اس کی مشق اس وقت تک کریں جب تک ہجوم کے سامنے بولنے کا تجربہ آپ کو خوفزدہ نہ کرسکے۔</p>

<h2 id='5ca7b4ecb60ea'>بولنے والے کی گفتگو پر پوری توجہ دینا</h2>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/09/55f5c59b9ed32.jpg?r=1474247729"  alt="کریٹیو کامنز فوٹو" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">کریٹیو کامنز فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>کسی سے بات چیت کے دوران بولنے والے کی بات کو پوری توجہ سے سننا دوسروں کی نظر میں آپ کی اہمیت بڑھاتا ہے کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ ان کی باتیں ہوا میں نہیں جارہیں جبکہ بار بار لقمہ دینے کی عادت انا کو تو تسکین پہنچا سکتی ہے مگر دوست بنانے میں کبھی مددگار ثابت نہیں ہوتی۔</p>

<h2 id='5ca7b4ecb612c'>ہر قسم کے حالات میں پرسکون رہنا</h2>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/09/55f5c59ab9271.jpg?r=2014184765"  alt="کریٹیو کامنز فوٹو" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">کریٹیو کامنز فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>کسی خبر یا کام کے دوران حد سے زیادہ ردعمل چاہے مثبت ہو یا منفی لوگوں کے سامنے شخصیت کا برا تاثر ڈالتا ہے۔ جیسا کہا جاتا ہے کہ غصے کی حالت میں یاد رکھیں کہ خاموشی آپ کے آگ بھرے الفاظ کے مقابلے میں زیادہ موثر ثابت ہوتی ہے۔</p>

<h2 id='5ca7b4ecb616e'>تحمل مزاج</h2>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/09/55f5c59c55c50.jpg?r=11372448"  alt="کریٹیو کامنز فوٹو" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">کریٹیو کامنز فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>ہر چیز کا تحمل سے انتظار آپ کو نقصان نہیں پہنچاتی درحقیقت آپ کے الفاظ اور اقدام کا مناسب وقت وہ سب سے بڑا فائدہ ہے جو آپ کو بے صبر افراد پر حاصل ہوتا ہے کیونکہ وہ جلد بازی کے باعث نقصان اٹھاسکتے ہیں جبکہ مناسب وقت پر کوئی کام کرنا کامیابی کا امکان بڑھاتا ہے۔</p>

<h2 id='5ca7b4ecb61af'>اپنا ذہن کھلا رکھنا</h2>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/09/55f5c599aee82.jpg?r=1663928240"  alt="کریٹیو کامنز فوٹو" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">کریٹیو کامنز فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>جو لوگ خود کو مخصوص خیالات اور اپنے جیسے مزاج کے حامل لوگوں تک محدود رکھتے ہیں وہ نہ صرف ذاتی ترقی سے محروم ہورہے ہوتے ہیں بلکہ وہ ایسے مواقعوں کو بھی گنوا دیتے ہیں جو ان کے کیرئیر کو آگے بڑھانے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔</p>

<h2 id='5ca7b4ecb61f0'>دوسروں سے بات کرتے ہوئے مسکرانا</h2>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/09/55f5c59b40fe3.jpg?r=873965463"  alt="کریٹیو کامنز فوٹو" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">کریٹیو کامنز فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>جیسا کہا جاتا ہے کہ کسی کو دیکھ کر مسکرا دینا بھی صدقہ ہے اور یہ حقیقت بھی ہے کسی شخص کا سب سے بڑا اثاثہ اس کی ملین ڈالر مسکراہٹ ہوسکتی ہے جس کو دوران گفتگو چہرے پر پھیلانے سے دیگر افراد کے اندر آپ کے لیے حسد یا کینہ پیدا ہونے کا امکان کم ہوجاتا ہے۔</p>

<h2 id='5ca7b4ecb6231'>بہانے نہ کرنا</h2>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/09/55f5c59c6c3b4.jpg?r=970825027"  alt="کریٹیو کامنز فوٹو" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">کریٹیو کامنز فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>کسی کام کے لیے ٹال مٹول یا بہانے کرنے سے لوگوں تک آپ کی شخصیت کا بہت خراب تاثر جاتا ہے اور وہ ایسی شخصیت پر اعتماد کرنے کے لیے کبھی تیار نہیں ہوتے، انہیں یہ لگتا ہے کہ آپ کسی کام کو کرنے سے خوفزدہ ہیں اور وہ آپ کو نااہل تصور کرتے ہیں۔</p>

<h2 id='5ca7b4ecb6271'>روزانہ کم از کم ایک اچھا کام کرنا</h2>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/09/55f5c59ab1b67.jpg?r=1529750269"  alt="کریٹیو کامنز فوٹو" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">کریٹیو کامنز فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>اچھا انسان وہ ہوتا ہے جو دیگر افراد کی مدد بغیر کسی غرض یا توقع کے ساتھ کرتا ہے۔ ضروری نہیں کہ بہت زیادہ پیسہ خرچ کریں یا بھاگ دوڑ کریں کسی کو سڑک پار کروا دینا یا ایسے ہی چھوٹی موٹی مدد بھی ساتھی ورکر سے بہترین تعلق کی بنیاد بن جاتی ہے اور زندگی میں آگے بڑھنے کے مواقع بھی بڑھ جاتے ہیں۔</p>

<h2 id='5ca7b4ecb62b2'>ناکامیوں سے سبق سیکھنا</h2>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/09/55f5c59bbc4f3.jpg?r=253325350"  alt="کریٹیو کامنز فوٹو" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">کریٹیو کامنز فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>لوگ اس فرد سے بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں جو ناکامیوں کی دلدل سے ابھر کر سامنے آتا ہے اور وہ ہر وقت جلنے کڑھنے والے افراد کسی صورت پسند نہیں کرتے۔ دنیا میں کسی بھی میدان میں بھی کامیابی کی راہ میں ناکامی کا سامنا ہوتا ہے مگر اس سے سبق سیکھ کر اپنی خامیوں کو دور کرنا ہی اصل کامیابی ہے۔</p>

<h2 id='5ca7b4ecb62f3'>پورے دل سے دوسروں کو سراہا</h2>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/09/55f5c59d4fa29.jpg?r=217351169"  alt="کریٹیو کامنز فوٹو" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">کریٹیو کامنز فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>دوسروں کی اچھی عادت کو سراہنا ان کا دل جیت لینے کے برابر ہوتا ہے مگر کبھی بھی اتنی بڑھا چڑھا کر تعریف نہ کریں جس کا مستحق وہ شخص نہ ہو یا کبھی بھی ایسے تعریف نہ کریں جس سے لگے کہ آپ خوش نہیں۔</p>

<h2 id='5ca7b4ecb6333'>اپنی غلطیوں پر کسی کو اعتماد میں لینا</h2>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/09/55f5c59af10af.jpg?r=1691750000"  alt="کریٹیو کامنز فوٹو" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">کریٹیو کامنز فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>کامیاب افراد ضروری نہیں ہر دلعزیز بھی ہو اور اگر وہ مقبول ہوتے ہیں تو درحقیقت اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ انہیں اپنی ساکھ اور اقدامات کی پروا ہوتی ہے۔ کسی ایسے فرد کو اپنا رازدار بنانا جو دیانتدار ہو درحقیقت آپ کو آگے بڑھنے میں مدد دیتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1026630</guid>
      <pubDate>Sat, 06 Apr 2019 01:05:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فیصل ظفر)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2015/09/55f5c59ab9271.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="900" width="1500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2015/09/55f5c59ab9271.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گرم موسم کی اس سوغات کو کھانا کیوں ضروری ہے؟
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1056998/</link>
      <description>&lt;p&gt;گرمیوں کا آغاز ہوگیا ہے اور تربوز آج کل عام دستیاب پھل ہے جو پیاس کی شدت کو ختم کردیتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1080740' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2019/04/5ca64d6757094.png"  alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درحقیقت صرف اس کی تصویر بھی ٹھنڈک فراہم کرسکتی ہے اور گرمیوں کی خاص سوغات ہے جو کچھ مہینے کے لیے ہی دستیاب ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ نہ صرف گرمی سے لڑنے والا پھل ہے بلکہ یہ جسم کو وٹامن اے، بی اور سی کے ساتھ پوٹاشیم، لائیکو پین اور دیگر فائدہ مند اجزا بھی فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;متعدد افراد اسے شوق سے کھاتے ہیں مگر کیا آپ کو اس کے صحت پر مرتب ہونے والے اثرات کا علم ہے؟&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگر نہیں تو درج ذیل فوائد اس پھل کے لیے آپ کی محبت مزید بڑھا دیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5ca65343b4427'&gt;نظام ہاضمہ میں مددگار&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;تربوز میں پانی کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جو کہ نظام ہاضمہ کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے، اس کے علاوہ تربوز میں موجود فائبر بھی ہاضمے کی کارکردگی بڑھاتا ہے جبکہ قبض کی روک تھام کرتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5ca65343b4478'&gt;حاملہ خواتین کے لیے فائدہ مند&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;تربوز کھانے سے سینے میں جلن کی شکایت کم ہوتی ہے، یہ مسئلہ دوران حمل کافی عام ہوتا ہے جبکہ اس میں موجود منرلز حمل کی تیسری سہ ماہی کے دوران مسلز کی تکلیف سے بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5ca65343b44bb'&gt;دمہ کی روک تھام&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;تربوز میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹ لائیکوپین جسم کو نزلہ زکام اور فلو سے لڑنے میں مدد دیتا ہے جبکہ یہ بچوں میں دمہ کی علامات کو بھی کم کرنے کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5ca65343b44fc'&gt;ذیابیطس کو کنٹرول کرنے میں مددگار&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;تربوز میں گلیسمیک انڈیکس زیادہ ہوتا ہے مگر گلیسمک لوڈ کم ہوتا ہے اور اسی لیے ذیابیطس کے مریض اسے محدود مقدار میں کھاسکتے ہیں۔ درحقیقت تربوز اس کا جوس ذیابیطس کے مریضوں کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے تاہم اس کا استعمال ڈاکٹر کے مشورے سے ہی کرنا چاہئے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5ca65343b453d'&gt;خلیات کو نقصان سے بچاتا ہے&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;تربوز لائیکوپین سے بھرپور پھل ہے جو کہ خلیات کو امراض قلب سے پہنچنے والے نقصان سے تحفظ فراہم کرتا ہے، یہ اینٹی آکسائیڈنٹ جسم میں گردش کرنے والے مضر فری ریڈیکلز سے لڑتا ہے اور خلیات کا دفاع کرتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5ca65343b457f'&gt;ہیٹ اسٹروک سے بھی بچائے&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;پانی کی زیادہ مقدار ہونے کے باعث یہ پھل ہیٹ اسٹروک سے بھی بچاتا ہے، یہ ان چند پھلوں میں سے ایک ہے جو پیاس کو بجھاتا ہے جبکہ گرمی سے جلن کے احساس پر قابو پانے میں بھی مدد دیتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5ca65343b45bf'&gt;جسمانی توانائی بڑھائے&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;تربوز وٹامن بی کے حصول کا اچھا ذریعہ ہے جو کہ جسم میں توانائی کی فراہمی کا ذمہ دار ہوتا ہے، اس میں کیلوریز کم ہوتی ہیں مگر توانائی زیادہ، جو دن بھر جسمانی طور پر متحرک رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اس میں موجود پوٹاشیم دن بھر کی مصروفیات کے باوجود تھکاوٹ کے احساس کو دور رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5ca65343b45ff'&gt;شریانوں اور ہڈیوں کی صحت&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;تربوز میں موجود لائیکو پین خون کی شریانوں کی صحت کے لیے بہت اہم ہے جبکہ یہ ہڈیوں کی صحت کو بھی بہتر بنا ہے۔ تربوز کا زیادہ استعمال خون کی شریانوں کے افعال کو بہتر بناتا ہے کیونکہ اس سے دوران خون بہتر ہوتا ہے جبکہ بلڈ پریشر کی سطح معمول پر آتی ہے۔ لائیکو پین سے آکسی ڈیٹیو اسٹریس بھی کم ہوتا ہے جبکہ ہڈیوں کی کمزوری کا باعث بنتا ہے، اسی طرح تربوز میں پوٹاشیم بھی ہوتا ہے جو کہ جسم میں کیلشیئم کی سطح برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے جو کہ مضبوط ہڈیوں کے لیے ضروری جز ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5ca65343b463f'&gt;جسمانی چربی میں کمی&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;تربوز میں موجود سٹرولائن خلیات میں چربی کے اجتماع کی شرح کم کرتا ہے، سٹرولائن ایسا امینو ایسڈ ہے جو کہ جسم میں جاکر آرجنین میں تبدیل ہوجاتا ہے جو کہ گردوں کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے۔ سٹرولائن فیٹ سیلز میں ایسی سرگرمیوں کو روکتا ہے جو کہ جسم پر چربی چڑحنے کا باعث بنتے ہیں جس سے توند سے نجات بھی ممکن ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5ca65343b467f'&gt;ورم کش&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;تربوز میں مختلف اجزاءجیسے فلیونوئڈز، کیروٹین اور دیگر شامل ہوتے ہیں، کیروٹین جسم میں ورم کی سطح میں کمی لانے اور مضر صحت اجزاءسے نجات میں مدد دیتا ہے۔ اس میں شامل tripterpenoid بھی ورم کش ہوتا ہے اور ایسے انزائمے روکتا ہے جو کہ جسمانی ورم کا باعث بنتا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5ca65343b46c0'&gt;جگر اور گردوں کے لیے مفید&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;تربوز پیشاب کی روانی کو بڑھانے میں مدد دیتا ہے مگر گردوں پر بوجھ نہیں ڈالتا۔ اسی طرح یہ پھل جگر کے افعال جیسے امونیا کے اخراج میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے جس میں خرابی کی صورت میں اضافی سیال مواد بڑھتا ہے اور گردوں پر دباﺅ بڑھ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5ca65343b46ff'&gt;مسلز کے لیے مفید&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;پوٹاشیم سے بھرپور ہونے کی وجہ سے تربوز اعصاب اور مسلز کے ایکشن کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے، پوٹاشیم مسلز کے زاویوں اور حجم کا تعین کرتا ہے جبکہ اعصاب کو کنٹرول کرتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5ca65343b473f'&gt;آنکھوں کی صحت بہتر بنائے&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;تربوز بیٹا کیروٹین کے حصول کا بھی اچھا ذریعہ ہے جو کہ جسم میں جاکر وٹامن اے میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ یہ جز آنکھ کے قرینے میں نسیج کے قدرتی رنگ کے حوالے سے مدد دیتا ہے جبکہ عمر بڑھنے سے بینائی میں آنے والی تنزلی سے بچاتا ہے۔ وٹامن اے صحت مند جلد، دانت اور نرم ٹشوز کے لیے بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5ca65343b477e'&gt;جلد کو بچائے&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;جیسا بتایا جاچکا ہے کہ اس میں لائیکو پین ہوتا ہے، یہ اینٹی آکسائیڈنٹ جز جلد کو سورج کی شعاعوں سے ہونے والے نقصان سے بچاتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق تربوز میں ٹماٹر کے مقابلے میں 40 فیصد زیادہ نباتاتی کیمیکل ہوتا ہے جو سن اسکرین کی طرح آپ کی جلد کی چمک دمک برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;em&gt;نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔&lt;/em&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>گرمیوں کا آغاز ہوگیا ہے اور تربوز آج کل عام دستیاب پھل ہے جو پیاس کی شدت کو ختم کردیتا ہے۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1080740' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2019/04/5ca64d6757094.png"  alt="" /></a></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>درحقیقت صرف اس کی تصویر بھی ٹھنڈک فراہم کرسکتی ہے اور گرمیوں کی خاص سوغات ہے جو کچھ مہینے کے لیے ہی دستیاب ہوتی ہے۔</p>

<p>یہ نہ صرف گرمی سے لڑنے والا پھل ہے بلکہ یہ جسم کو وٹامن اے، بی اور سی کے ساتھ پوٹاشیم، لائیکو پین اور دیگر فائدہ مند اجزا بھی فراہم کرتا ہے۔</p>

<p>متعدد افراد اسے شوق سے کھاتے ہیں مگر کیا آپ کو اس کے صحت پر مرتب ہونے والے اثرات کا علم ہے؟</p>

<p>اگر نہیں تو درج ذیل فوائد اس پھل کے لیے آپ کی محبت مزید بڑھا دیں گے۔</p>

<h3 id='5ca65343b4427'>نظام ہاضمہ میں مددگار</h3>

<p>تربوز میں پانی کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جو کہ نظام ہاضمہ کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے، اس کے علاوہ تربوز میں موجود فائبر بھی ہاضمے کی کارکردگی بڑھاتا ہے جبکہ قبض کی روک تھام کرتا ہے۔</p>

<h3 id='5ca65343b4478'>حاملہ خواتین کے لیے فائدہ مند</h3>

<p>تربوز کھانے سے سینے میں جلن کی شکایت کم ہوتی ہے، یہ مسئلہ دوران حمل کافی عام ہوتا ہے جبکہ اس میں موجود منرلز حمل کی تیسری سہ ماہی کے دوران مسلز کی تکلیف سے بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔</p>

<h3 id='5ca65343b44bb'>دمہ کی روک تھام</h3>

<p>تربوز میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹ لائیکوپین جسم کو نزلہ زکام اور فلو سے لڑنے میں مدد دیتا ہے جبکہ یہ بچوں میں دمہ کی علامات کو بھی کم کرنے کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔ </p>

<h3 id='5ca65343b44fc'>ذیابیطس کو کنٹرول کرنے میں مددگار</h3>

<p>تربوز میں گلیسمیک انڈیکس زیادہ ہوتا ہے مگر گلیسمک لوڈ کم ہوتا ہے اور اسی لیے ذیابیطس کے مریض اسے محدود مقدار میں کھاسکتے ہیں۔ درحقیقت تربوز اس کا جوس ذیابیطس کے مریضوں کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے تاہم اس کا استعمال ڈاکٹر کے مشورے سے ہی کرنا چاہئے۔</p>

<h3 id='5ca65343b453d'>خلیات کو نقصان سے بچاتا ہے</h3>

<p>تربوز لائیکوپین سے بھرپور پھل ہے جو کہ خلیات کو امراض قلب سے پہنچنے والے نقصان سے تحفظ فراہم کرتا ہے، یہ اینٹی آکسائیڈنٹ جسم میں گردش کرنے والے مضر فری ریڈیکلز سے لڑتا ہے اور خلیات کا دفاع کرتا ہے۔</p>

<h3 id='5ca65343b457f'>ہیٹ اسٹروک سے بھی بچائے</h3>

<p>پانی کی زیادہ مقدار ہونے کے باعث یہ پھل ہیٹ اسٹروک سے بھی بچاتا ہے، یہ ان چند پھلوں میں سے ایک ہے جو پیاس کو بجھاتا ہے جبکہ گرمی سے جلن کے احساس پر قابو پانے میں بھی مدد دیتا ہے۔</p>

<h3 id='5ca65343b45bf'>جسمانی توانائی بڑھائے</h3>

<p>تربوز وٹامن بی کے حصول کا اچھا ذریعہ ہے جو کہ جسم میں توانائی کی فراہمی کا ذمہ دار ہوتا ہے، اس میں کیلوریز کم ہوتی ہیں مگر توانائی زیادہ، جو دن بھر جسمانی طور پر متحرک رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اس میں موجود پوٹاشیم دن بھر کی مصروفیات کے باوجود تھکاوٹ کے احساس کو دور رکھتا ہے۔</p>

<h3 id='5ca65343b45ff'>شریانوں اور ہڈیوں کی صحت</h3>

<p>تربوز میں موجود لائیکو پین خون کی شریانوں کی صحت کے لیے بہت اہم ہے جبکہ یہ ہڈیوں کی صحت کو بھی بہتر بنا ہے۔ تربوز کا زیادہ استعمال خون کی شریانوں کے افعال کو بہتر بناتا ہے کیونکہ اس سے دوران خون بہتر ہوتا ہے جبکہ بلڈ پریشر کی سطح معمول پر آتی ہے۔ لائیکو پین سے آکسی ڈیٹیو اسٹریس بھی کم ہوتا ہے جبکہ ہڈیوں کی کمزوری کا باعث بنتا ہے، اسی طرح تربوز میں پوٹاشیم بھی ہوتا ہے جو کہ جسم میں کیلشیئم کی سطح برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے جو کہ مضبوط ہڈیوں کے لیے ضروری جز ہے۔</p>

<h3 id='5ca65343b463f'>جسمانی چربی میں کمی</h3>

<p>تربوز میں موجود سٹرولائن خلیات میں چربی کے اجتماع کی شرح کم کرتا ہے، سٹرولائن ایسا امینو ایسڈ ہے جو کہ جسم میں جاکر آرجنین میں تبدیل ہوجاتا ہے جو کہ گردوں کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے۔ سٹرولائن فیٹ سیلز میں ایسی سرگرمیوں کو روکتا ہے جو کہ جسم پر چربی چڑحنے کا باعث بنتے ہیں جس سے توند سے نجات بھی ممکن ہوتی ہے۔</p>

<h3 id='5ca65343b467f'>ورم کش</h3>

<p>تربوز میں مختلف اجزاءجیسے فلیونوئڈز، کیروٹین اور دیگر شامل ہوتے ہیں، کیروٹین جسم میں ورم کی سطح میں کمی لانے اور مضر صحت اجزاءسے نجات میں مدد دیتا ہے۔ اس میں شامل tripterpenoid بھی ورم کش ہوتا ہے اور ایسے انزائمے روکتا ہے جو کہ جسمانی ورم کا باعث بنتا ہے۔ </p>

<h3 id='5ca65343b46c0'>جگر اور گردوں کے لیے مفید</h3>

<p>تربوز پیشاب کی روانی کو بڑھانے میں مدد دیتا ہے مگر گردوں پر بوجھ نہیں ڈالتا۔ اسی طرح یہ پھل جگر کے افعال جیسے امونیا کے اخراج میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے جس میں خرابی کی صورت میں اضافی سیال مواد بڑھتا ہے اور گردوں پر دباﺅ بڑھ جاتا ہے۔</p>

<h3 id='5ca65343b46ff'>مسلز کے لیے مفید</h3>

<p>پوٹاشیم سے بھرپور ہونے کی وجہ سے تربوز اعصاب اور مسلز کے ایکشن کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے، پوٹاشیم مسلز کے زاویوں اور حجم کا تعین کرتا ہے جبکہ اعصاب کو کنٹرول کرتا ہے۔</p>

<h3 id='5ca65343b473f'>آنکھوں کی صحت بہتر بنائے</h3>

<p>تربوز بیٹا کیروٹین کے حصول کا بھی اچھا ذریعہ ہے جو کہ جسم میں جاکر وٹامن اے میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ یہ جز آنکھ کے قرینے میں نسیج کے قدرتی رنگ کے حوالے سے مدد دیتا ہے جبکہ عمر بڑھنے سے بینائی میں آنے والی تنزلی سے بچاتا ہے۔ وٹامن اے صحت مند جلد، دانت اور نرم ٹشوز کے لیے بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔</p>

<h3 id='5ca65343b477e'>جلد کو بچائے</h3>

<p>جیسا بتایا جاچکا ہے کہ اس میں لائیکو پین ہوتا ہے، یہ اینٹی آکسائیڈنٹ جز جلد کو سورج کی شعاعوں سے ہونے والے نقصان سے بچاتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق تربوز میں ٹماٹر کے مقابلے میں 40 فیصد زیادہ نباتاتی کیمیکل ہوتا ہے جو سن اسکرین کی طرح آپ کی جلد کی چمک دمک برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔</p>

<p><em>نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔</em></p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1056998</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Apr 2019 23:56:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2017/05/59078b8fc4b6e.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="900" width="1500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2017/05/59078b8fc4b6e.jpg"/>
        <media:title>تربوز آج کل عام دستیاب پھل ہے — شٹر اسٹاک فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وہ بہترین غذائیں جو توند کی چربی گھٹانے میں مدد دیں
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1100525/</link>
      <description>&lt;p&gt;کیا پیٹ اور کمر کے بڑھتی چربی یا آسان الفاظ میں توند سے نجات میں مشکل کا سامنا ہے؟ تو آپ اکیلے نہیں، دنیا بھر میں کروڑوں افراد کو اس تجربے کا سامنا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1064533' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2019/03/5ca1101812428.png"  alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈائٹنگ سے لے کر جم جانے تک متعدد طریقوں سے لوگ توند سے نجات پانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ اس اضافی چربی کو جلدازجلد گھلایا جاسکے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;طبی ماہرین کے مطابق متوازن غذا اور ورزش کو معمول بنانا توند کی چربی گھٹانے کا سب سے موثر طریقہ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم کچھ غذائیں بھی ایسی ہیں جن کا استعمال عادت بنانا نکلے ہوئے پیٹ کو سپاٹ کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5ca1112bcc762'&gt;دارچینی&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;کچھ تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دار چینی بلڈشوگر لیول کو مستحکم رکھنے میں مدد دینے والا مصالحہ ہے، جس سے کھانے کی اشتہا کم ہوتی ہے خصوصاً ذیابیطس ٹائپ ٹو کے شکار افراد میں، مگر ہر ایک اس مصالحے سے یہ فائدہ حاصل کرسکتے ہیں، اسے چائے یا کافی کا حصہ بناکر یا دہی میں ڈال کر استعمال کرنا مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5ca1112bcc7ea'&gt;گریپ فروٹ&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;ویسے تو یہ چربی گھلانے والی جادوئی خصوصیات نہیں رکھتا مگر یہ پھل بہت کم کیلوریز میں پیٹ کو بھرنے میں مدد دیتا ہے، جس کی وجہ اس میں موجود فائبر ہے جو ہضم ہونے میں کافی وقت لیتی ہے۔ آدھا گریپ فروٹ یا ایک گلاس گریپ فروٹ جوس کا کھانے سے پہلے پینا کم کیلورجز جزو بدن بنانے میں مدد دیتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5ca1112bcc830'&gt;سیب اور ناشپاتی&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;سیب اور ناشپاتی دونوں میں پانی کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے، چھلکوں کے ساتھ ان پھلوں کو کھانا اضافی فائبر فراہم کرتا ہے جو پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرے رکھنے میں مدد دیتا ہے، ان کے جوس کی بجائے پھل کو کھانا توند میں کمی لانے میں مدد دیتا ہے جس سے زیادہ فائبر جسم کو ملتا ہے جبکہ ان پھلوں کو چبانے سے بھی چند کیلوریز جل جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5ca1112bcc872'&gt;بیریز&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;دیگر پھلوں کی طرح بیریز میں بھی پانی اور فائبر کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جو پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرے رکھنے میں مدد دیتے ہیں، بیری کی ہر قسم میٹھی ہوتی ہے جو مٹھاس کی خواہش کو بھی پورا کرتی ہے مگر چینی کے مقابلے میں کیلوریز بہت کم ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5ca1112bcc8b3'&gt;شکرقندی&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;شکرقندی بہت مزیدار ہوتی ہے خاص طور پر اگر اسے بھون کر کھایا جائے اور کم کھانے پر بھی پیٹ بھرجاتا ہے، جس سے کم کیلوریز جسم کا حصہ بنتی ہیں جبکہ شکرقندی پوٹاشیم، بیٹا کیروٹین، وٹامن سی اور فائبر سے بھی بھرپور ہوتی ہے جو موٹاپے سے نجات میں مدد دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5ca1112bcc8f4'&gt;انڈے&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;ایک انڈے میں صرف 75 کیلوریز ہوتی ہیں جبکہ 7 گرام پروٹین جسم کو ملتا ہے، بھاری بھرکم ناشتے کے مقابلے میں انڈے کو ہضم کرتے ہوئے جسم زیادہ کیلوریز جلاتا ہے اور اچھی خبر یہ ہے کہ اسے کسی بھی شکل میں کھایا جاسکتا ہے اور اس میں موجود کولیسٹرول نقصان نہیں پہنچاتا۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5ca1112bcc934'&gt;یخنی&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;یخنی جسم کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند ہوتی ہے جس میں پانی کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جبکہ کیلوریز بہت کم، گرم ہونے کی وجہ سے بھی اسے زیادہ پینا ممکن نہیں ہوتا، کھانے سے پہلے اس کی کچھ مقدار کو پی لینا زیادہ کھانے سے روکتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5ca1112bcc973'&gt;پوپ کارن&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;تین کپ پوپ کارن سننے میں تو بہت زیادہ لگ سکتے ہیں مگر ان میں کیلوریز بہت کم ہوتی ہیں جبکہ چربی یا شکر بھی اس میں موجود نہیں ہوتی جو پیٹ بھرنے کے ساتھ موٹاپے سے بچانے میں بھی مدد دیتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5ca1112bcc9b4'&gt;مچھلی&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;مچھلی پروٹین کے حصول کا ایک بہترین ذریعہ ہے جبکہ ان میں چربی بہت کم ہوتی ہے اور وہ بھی صحت کے لیے فائدہ مند چربی۔ اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کی موجودگی بھی مچھلی کو فائدہ مند بناتی ہے جس سے امراض قلب اور دیگر امراض کا خطرہ کم ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5ca1112bcc9f4'&gt;جو اور گریاں&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;توند کی چربی گھٹانے کا ایک موثر ذریعہ ایسے فائبر کو اپنی غذا کا حصہ بنانا ہے جو کہ آسانی سے جذب ہوسکے اور یہ عام طور پر دلیہ اور سبزیوں وغیرہ میں پایا جاتا ہے۔ ایسی غذاﺅں میں جو کا دلیہ، گریاں قابل ذکر ہیں اور اس فائبر کا روزانہ 25 سے 35 گرام کرنا چاہئے جو کہ بلڈ شوگر کنٹرول کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے، جس سے بھی وزن کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5ca1112bcca33'&gt;کیلے&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;کیلے پوٹاشیم سے بھرپور ہوتے ہیں جو کہ بلڈ پریشر اور خون کی شریانوں کی صحت بہتر بنانے والا جز ہے جبکہ اس میں موجود وٹامنز بے وقت کھانے کی خواہش پر قابو پانے میں مدد دیتے ہیں۔ کیلے کھانے سے میٹابولزم ریٹ بھی بڑھتا ہے جو کہ توند کی چربی تیزی سے گھلانے میں مدد دیتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5ca1112bcca72'&gt;تربوز&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;تربوز بھی ایسا پھل ہے جس میں پوٹاشیم کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جو کہ واٹر ویٹ سے نجات میں مدد دیتا ہے، عام طور پر ایک بالغ فرد کے جسمانی وزن کا 50 سے 60 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے، اس سے زیادہ مقدار کو واٹر ویٹ کہا جاتا ہے جو کہ پیٹ پھولنے اور سوجن کا باعث بن کر لوگوں کو زیادہ موٹا دکھاتا ہے۔ ایک امریکی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ تربوز کا شربت پینے سے جسمانی چربی گھلتی ہے جبکہ کولیسٹرول کی سطح میں بھی کمی آتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5ca1112bccab4'&gt;دہی&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;پروبائیوٹک غذاﺅں میں صحت کے لیے فائدہ مند ایسے بیکٹریا موجود ہوتے ہیں جو کہ نظام ہاضمہ کو بہتر بناتے ہیں۔ کینیڈا میں ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جب موٹاپے کے شکار افراد کو روزانہ ایک کپ دہی کھلائی گئی تو ان کی جسمانی چربی میں 3 سے 4 فیصد کمی آئی۔ محققین کا کہنا تھا کہ دہی کو روزانہ کھانا نظام ہاضمہ کو صحت مند بنا کر توند کی چربی گھلانے میں مدد دیتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں : &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1070427"&gt;توند سے نجات میں مددگار بہترین ورزشیں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5ca1112bccaf3'&gt;کھیرے&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;اگر آپ کو بے وقت بھوک کے دوران نمکین یا میٹھی چیزیں کھانے کی عادت ہے تو توند کی اضافی چربی سے حیران ہونے کی ضرورت نہیں، چپس کے پیکٹ کو کھولنے کی خواہش پر قابو پانے کے لیے کھیرے انتہائی مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ کھیروں میں پانی کی زیادہ مقدار اور کیلوریز کی کمی اسے بے وقت منہ چلانے کے لیے بہترین انتخاب بناتا ہے، جبکہ اس میں موجود فائبر پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرے رکھ کرتیزی سے چربی گھلانے میں مدد دیتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5ca1112bccb32'&gt;پپیتا&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;اکثر افراد کو علم نہیں مگر پپیتا موٹاپے سے نجات کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔ فائبر سے بھرپور ہونے کے باعث پپیتا کھانے کی عادت پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرے رکھتی ہے جبکہ بے وقت کھانے کی خواہش سے نجات ملتی ہے، اس میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس جسمانی وزن میں کمی لاتے ہیں جو کہ توند گھلانے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اسی طرح یہ پھل نظام ہاضمہ بہتر کرتا ہے جو کہ توند سے نجات کے لیے بہت ضروری ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5ca1112bccb72'&gt;پودینہ&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;کیا پیٹ پھولنے کی شکایت رہتی ہے ؟ تو پودینے کی چائے پی کر دیکھیں، پودینے کا استعمال گیس کم کرتا ہے جس سے ہاضمہے کے مسائل بہتر ہوتے ہیں، یہاں تک کہ پودینے کو سونگھنا بھی بھوک کو کم کرکے بسیار خوری سے بچاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5ca1112bccbb2'&gt;گل بابونہ کی چائے&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;ذہنی تناﺅ اکثر جسمانی وزن میں اضافے خصوصاً توند نکلنے کا امکان بڑھتا ہے، گل بابونہ یا Chamomile چائے جسم کو قدرتی طور پر پرسکون کرکے پیٹ پھولنے کی تکلیف کو کم کرتی ہے۔ جسم میں پانی کی مناسب مقدار توند کی چربی گھٹانے کے لیے ایک موثر طریقہ ہے جبکہ یہ چائے جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے میں مدد دیتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5ca1112bccbf1'&gt;ڈارک چاکلیٹ&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;ڈارک چاکلیٹ میں کوکو کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس میں اینٹی آکسائیڈنٹس کی شرح بھی کافی زیادہ ہوتی ہے، جس سے جسمانی ورم کم ہوتا ہے جبکہ میٹھے کھانے کی لت پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔ ایک امریکی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ چاکلیٹ کھانا معمول بنانے والوں کا جسمانی وزن دیگر کے مقابلے میں کم ہوتا ہے، تاہم اس میٹھی سوغات کو اعتدال میں رہ کر کھانا ہی فائدہ پہنچاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5ca1112bccc30'&gt;دالیں&lt;/h2&gt;

&lt;p&gt;دالوں میں پروٹین اور فائبر کافی زیادہ ہوتے ہیں جو کہ سہ پہر کو چربی والی اشیاءکھانے کی خواہش کی روک تھام میں مدد دیتے ہیں، اس کے علاوہ دالوں کو کھانے سے آئرن جسم کا حصہ بنتا ہے جو کہ میٹابولزم کے افعال کو ہموار رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5ca1112bccc6f'&gt;ہری مرچیں&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;اپنے کھانے کو ہری مرچوں سے بھردیں اور یقین کریں کہ اس عادت سے آپ بہت تیزی سے توند کی چربی گھلاسکتے ہیں، ہری مرچوں سے نہ صرف میٹابولزم بہتر ہوتا ہے بلکہ اس میں موجود اجزا بسیار خوری سے روکنے میں بھی مدد دے سکتے ہیں۔ آملیٹ یا کسی بھی غذا میں ہری مرچوں کو شامل کرکے آپ پیٹ سپاٹ کرنے کے مقصد کو جلد حاصل کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5ca1112bcccaf'&gt;بادام&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;اداموں کی کچھ مقدار کو روز کھانا جسمانی میٹابولزم کو بہتر بناکر موٹاپے اور توند سے نجات دلانے میں مدد دے سکتا ہے بلکہ بہت تیزی سے چربی گھلاتا ہے۔ یہ گری دل کی صحت کو بہتر کرنے کے ساتھ بے وقت بھوک کو کنٹرول میں رکھتی ہے، اس میں موجود مونوسچورٹیڈ فیٹس توند گھٹانے میں مدد دیتے ہیں۔ ایک حالیہ تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ روزانہ چند گرام بادام کھانا بہت تیزی سے جسمانی وزن کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5ca1112bcccf8'&gt;سبز چائے&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;اگر آپ کو سبز چائے پینا پسند ہیں تو اچھی خبر یہ ہے کہ یہ مشروب کمر اور پیٹ کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اس میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس جسمانی توانائی بڑھانے، ہاضمہ بہتر کرنے اور چربی گھلانے کا عمل تیز کرتا ہے۔ سبز چائے پینے سے موٹاپے سے نجات کی رفتار کو تیز کیا جاسکتا ہے اور ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ اسے پینے سے چند دنوں میں ڈیڑھ کلو تک وزن کم کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;em&gt;نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔&lt;/em&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کیا پیٹ اور کمر کے بڑھتی چربی یا آسان الفاظ میں توند سے نجات میں مشکل کا سامنا ہے؟ تو آپ اکیلے نہیں، دنیا بھر میں کروڑوں افراد کو اس تجربے کا سامنا ہوتا ہے۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1064533' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2019/03/5ca1101812428.png"  alt="" /></a></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>ڈائٹنگ سے لے کر جم جانے تک متعدد طریقوں سے لوگ توند سے نجات پانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ اس اضافی چربی کو جلدازجلد گھلایا جاسکے۔</p>

<p>طبی ماہرین کے مطابق متوازن غذا اور ورزش کو معمول بنانا توند کی چربی گھٹانے کا سب سے موثر طریقہ ہے۔</p>

<p>تاہم کچھ غذائیں بھی ایسی ہیں جن کا استعمال عادت بنانا نکلے ہوئے پیٹ کو سپاٹ کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔</p>

<h3 id='5ca1112bcc762'>دارچینی</h3>

<p>کچھ تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دار چینی بلڈشوگر لیول کو مستحکم رکھنے میں مدد دینے والا مصالحہ ہے، جس سے کھانے کی اشتہا کم ہوتی ہے خصوصاً ذیابیطس ٹائپ ٹو کے شکار افراد میں، مگر ہر ایک اس مصالحے سے یہ فائدہ حاصل کرسکتے ہیں، اسے چائے یا کافی کا حصہ بناکر یا دہی میں ڈال کر استعمال کرنا مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔</p>

<h3 id='5ca1112bcc7ea'>گریپ فروٹ</h3>

<p>ویسے تو یہ چربی گھلانے والی جادوئی خصوصیات نہیں رکھتا مگر یہ پھل بہت کم کیلوریز میں پیٹ کو بھرنے میں مدد دیتا ہے، جس کی وجہ اس میں موجود فائبر ہے جو ہضم ہونے میں کافی وقت لیتی ہے۔ آدھا گریپ فروٹ یا ایک گلاس گریپ فروٹ جوس کا کھانے سے پہلے پینا کم کیلورجز جزو بدن بنانے میں مدد دیتا ہے۔</p>

<h3 id='5ca1112bcc830'>سیب اور ناشپاتی</h3>

<p>سیب اور ناشپاتی دونوں میں پانی کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے، چھلکوں کے ساتھ ان پھلوں کو کھانا اضافی فائبر فراہم کرتا ہے جو پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرے رکھنے میں مدد دیتا ہے، ان کے جوس کی بجائے پھل کو کھانا توند میں کمی لانے میں مدد دیتا ہے جس سے زیادہ فائبر جسم کو ملتا ہے جبکہ ان پھلوں کو چبانے سے بھی چند کیلوریز جل جاتی ہیں۔</p>

<h3 id='5ca1112bcc872'>بیریز</h3>

<p>دیگر پھلوں کی طرح بیریز میں بھی پانی اور فائبر کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جو پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرے رکھنے میں مدد دیتے ہیں، بیری کی ہر قسم میٹھی ہوتی ہے جو مٹھاس کی خواہش کو بھی پورا کرتی ہے مگر چینی کے مقابلے میں کیلوریز بہت کم ہوتی ہیں۔</p>

<h3 id='5ca1112bcc8b3'>شکرقندی</h3>

<p>شکرقندی بہت مزیدار ہوتی ہے خاص طور پر اگر اسے بھون کر کھایا جائے اور کم کھانے پر بھی پیٹ بھرجاتا ہے، جس سے کم کیلوریز جسم کا حصہ بنتی ہیں جبکہ شکرقندی پوٹاشیم، بیٹا کیروٹین، وٹامن سی اور فائبر سے بھی بھرپور ہوتی ہے جو موٹاپے سے نجات میں مدد دیتے ہیں۔</p>

<h3 id='5ca1112bcc8f4'>انڈے</h3>

<p>ایک انڈے میں صرف 75 کیلوریز ہوتی ہیں جبکہ 7 گرام پروٹین جسم کو ملتا ہے، بھاری بھرکم ناشتے کے مقابلے میں انڈے کو ہضم کرتے ہوئے جسم زیادہ کیلوریز جلاتا ہے اور اچھی خبر یہ ہے کہ اسے کسی بھی شکل میں کھایا جاسکتا ہے اور اس میں موجود کولیسٹرول نقصان نہیں پہنچاتا۔</p>

<h3 id='5ca1112bcc934'>یخنی</h3>

<p>یخنی جسم کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند ہوتی ہے جس میں پانی کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جبکہ کیلوریز بہت کم، گرم ہونے کی وجہ سے بھی اسے زیادہ پینا ممکن نہیں ہوتا، کھانے سے پہلے اس کی کچھ مقدار کو پی لینا زیادہ کھانے سے روکتی ہے۔</p>

<h3 id='5ca1112bcc973'>پوپ کارن</h3>

<p>تین کپ پوپ کارن سننے میں تو بہت زیادہ لگ سکتے ہیں مگر ان میں کیلوریز بہت کم ہوتی ہیں جبکہ چربی یا شکر بھی اس میں موجود نہیں ہوتی جو پیٹ بھرنے کے ساتھ موٹاپے سے بچانے میں بھی مدد دیتا ہے۔</p>

<h3 id='5ca1112bcc9b4'>مچھلی</h3>

<p>مچھلی پروٹین کے حصول کا ایک بہترین ذریعہ ہے جبکہ ان میں چربی بہت کم ہوتی ہے اور وہ بھی صحت کے لیے فائدہ مند چربی۔ اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کی موجودگی بھی مچھلی کو فائدہ مند بناتی ہے جس سے امراض قلب اور دیگر امراض کا خطرہ کم ہوتا ہے۔</p>

<h3 id='5ca1112bcc9f4'>جو اور گریاں</h3>

<p>توند کی چربی گھٹانے کا ایک موثر ذریعہ ایسے فائبر کو اپنی غذا کا حصہ بنانا ہے جو کہ آسانی سے جذب ہوسکے اور یہ عام طور پر دلیہ اور سبزیوں وغیرہ میں پایا جاتا ہے۔ ایسی غذاﺅں میں جو کا دلیہ، گریاں قابل ذکر ہیں اور اس فائبر کا روزانہ 25 سے 35 گرام کرنا چاہئے جو کہ بلڈ شوگر کنٹرول کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے، جس سے بھی وزن کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔</p>

<h3 id='5ca1112bcca33'>کیلے</h3>

<p>کیلے پوٹاشیم سے بھرپور ہوتے ہیں جو کہ بلڈ پریشر اور خون کی شریانوں کی صحت بہتر بنانے والا جز ہے جبکہ اس میں موجود وٹامنز بے وقت کھانے کی خواہش پر قابو پانے میں مدد دیتے ہیں۔ کیلے کھانے سے میٹابولزم ریٹ بھی بڑھتا ہے جو کہ توند کی چربی تیزی سے گھلانے میں مدد دیتا ہے۔</p>

<h3 id='5ca1112bcca72'>تربوز</h3>

<p>تربوز بھی ایسا پھل ہے جس میں پوٹاشیم کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جو کہ واٹر ویٹ سے نجات میں مدد دیتا ہے، عام طور پر ایک بالغ فرد کے جسمانی وزن کا 50 سے 60 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے، اس سے زیادہ مقدار کو واٹر ویٹ کہا جاتا ہے جو کہ پیٹ پھولنے اور سوجن کا باعث بن کر لوگوں کو زیادہ موٹا دکھاتا ہے۔ ایک امریکی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ تربوز کا شربت پینے سے جسمانی چربی گھلتی ہے جبکہ کولیسٹرول کی سطح میں بھی کمی آتی ہے۔</p>

<h3 id='5ca1112bccab4'>دہی</h3>

<p>پروبائیوٹک غذاﺅں میں صحت کے لیے فائدہ مند ایسے بیکٹریا موجود ہوتے ہیں جو کہ نظام ہاضمہ کو بہتر بناتے ہیں۔ کینیڈا میں ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جب موٹاپے کے شکار افراد کو روزانہ ایک کپ دہی کھلائی گئی تو ان کی جسمانی چربی میں 3 سے 4 فیصد کمی آئی۔ محققین کا کہنا تھا کہ دہی کو روزانہ کھانا نظام ہاضمہ کو صحت مند بنا کر توند کی چربی گھلانے میں مدد دیتا ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں : <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1070427">توند سے نجات میں مددگار بہترین ورزشیں</a></strong></p>

<h3 id='5ca1112bccaf3'>کھیرے</h3>

<p>اگر آپ کو بے وقت بھوک کے دوران نمکین یا میٹھی چیزیں کھانے کی عادت ہے تو توند کی اضافی چربی سے حیران ہونے کی ضرورت نہیں، چپس کے پیکٹ کو کھولنے کی خواہش پر قابو پانے کے لیے کھیرے انتہائی مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ کھیروں میں پانی کی زیادہ مقدار اور کیلوریز کی کمی اسے بے وقت منہ چلانے کے لیے بہترین انتخاب بناتا ہے، جبکہ اس میں موجود فائبر پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرے رکھ کرتیزی سے چربی گھلانے میں مدد دیتا ہے۔</p>

<h3 id='5ca1112bccb32'>پپیتا</h3>

<p>اکثر افراد کو علم نہیں مگر پپیتا موٹاپے سے نجات کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔ فائبر سے بھرپور ہونے کے باعث پپیتا کھانے کی عادت پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرے رکھتی ہے جبکہ بے وقت کھانے کی خواہش سے نجات ملتی ہے، اس میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس جسمانی وزن میں کمی لاتے ہیں جو کہ توند گھلانے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اسی طرح یہ پھل نظام ہاضمہ بہتر کرتا ہے جو کہ توند سے نجات کے لیے بہت ضروری ہے۔</p>

<h3 id='5ca1112bccb72'>پودینہ</h3>

<p>کیا پیٹ پھولنے کی شکایت رہتی ہے ؟ تو پودینے کی چائے پی کر دیکھیں، پودینے کا استعمال گیس کم کرتا ہے جس سے ہاضمہے کے مسائل بہتر ہوتے ہیں، یہاں تک کہ پودینے کو سونگھنا بھی بھوک کو کم کرکے بسیار خوری سے بچاتا ہے۔</p>

<h3 id='5ca1112bccbb2'>گل بابونہ کی چائے</h3>

<p>ذہنی تناﺅ اکثر جسمانی وزن میں اضافے خصوصاً توند نکلنے کا امکان بڑھتا ہے، گل بابونہ یا Chamomile چائے جسم کو قدرتی طور پر پرسکون کرکے پیٹ پھولنے کی تکلیف کو کم کرتی ہے۔ جسم میں پانی کی مناسب مقدار توند کی چربی گھٹانے کے لیے ایک موثر طریقہ ہے جبکہ یہ چائے جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے میں مدد دیتی ہے۔</p>

<h3 id='5ca1112bccbf1'>ڈارک چاکلیٹ</h3>

<p>ڈارک چاکلیٹ میں کوکو کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس میں اینٹی آکسائیڈنٹس کی شرح بھی کافی زیادہ ہوتی ہے، جس سے جسمانی ورم کم ہوتا ہے جبکہ میٹھے کھانے کی لت پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔ ایک امریکی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ چاکلیٹ کھانا معمول بنانے والوں کا جسمانی وزن دیگر کے مقابلے میں کم ہوتا ہے، تاہم اس میٹھی سوغات کو اعتدال میں رہ کر کھانا ہی فائدہ پہنچاتا ہے۔</p>

<h2 id='5ca1112bccc30'>دالیں</h2>

<p>دالوں میں پروٹین اور فائبر کافی زیادہ ہوتے ہیں جو کہ سہ پہر کو چربی والی اشیاءکھانے کی خواہش کی روک تھام میں مدد دیتے ہیں، اس کے علاوہ دالوں کو کھانے سے آئرن جسم کا حصہ بنتا ہے جو کہ میٹابولزم کے افعال کو ہموار رکھتا ہے۔</p>

<h3 id='5ca1112bccc6f'>ہری مرچیں</h3>

<p>اپنے کھانے کو ہری مرچوں سے بھردیں اور یقین کریں کہ اس عادت سے آپ بہت تیزی سے توند کی چربی گھلاسکتے ہیں، ہری مرچوں سے نہ صرف میٹابولزم بہتر ہوتا ہے بلکہ اس میں موجود اجزا بسیار خوری سے روکنے میں بھی مدد دے سکتے ہیں۔ آملیٹ یا کسی بھی غذا میں ہری مرچوں کو شامل کرکے آپ پیٹ سپاٹ کرنے کے مقصد کو جلد حاصل کرسکتے ہیں۔</p>

<h3 id='5ca1112bcccaf'>بادام</h3>

<p>اداموں کی کچھ مقدار کو روز کھانا جسمانی میٹابولزم کو بہتر بناکر موٹاپے اور توند سے نجات دلانے میں مدد دے سکتا ہے بلکہ بہت تیزی سے چربی گھلاتا ہے۔ یہ گری دل کی صحت کو بہتر کرنے کے ساتھ بے وقت بھوک کو کنٹرول میں رکھتی ہے، اس میں موجود مونوسچورٹیڈ فیٹس توند گھٹانے میں مدد دیتے ہیں۔ ایک حالیہ تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ روزانہ چند گرام بادام کھانا بہت تیزی سے جسمانی وزن کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔</p>

<h3 id='5ca1112bcccf8'>سبز چائے</h3>

<p>اگر آپ کو سبز چائے پینا پسند ہیں تو اچھی خبر یہ ہے کہ یہ مشروب کمر اور پیٹ کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اس میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس جسمانی توانائی بڑھانے، ہاضمہ بہتر کرنے اور چربی گھلانے کا عمل تیز کرتا ہے۔ سبز چائے پینے سے موٹاپے سے نجات کی رفتار کو تیز کیا جاسکتا ہے اور ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ اسے پینے سے چند دنوں میں ڈیڑھ کلو تک وزن کم کیا جاسکتا ہے۔</p>

<p><em>نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔</em></p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1100525</guid>
      <pubDate>Mon, 01 Apr 2019 00:12:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/03/5ca1107bdc633.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/03/5ca1107bdc633.jpg"/>
        <media:title>توند سے نجات میں مشکل کا سامنا ہے— شٹر اسٹاک فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فوڈ پوائزننگ جیسے مرض کا باعث بننے والی نمبرون غذا
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1100417/</link>
      <description>&lt;p&gt;اگر لوگوں سے ان کی پسندیدہ غذا کے بارے میں سوال کیا جائے تو اس بات کا امکان بہت زیادہ ہے کہ ان کے مرغوب پکوان میں ایک جز مشترک ہوگا اور وہ ہے چکن، کیونکہ یہ سفید گوشت دنیا میں سب سے زیادہ کھایا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/3 w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1041030' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/03/5c9e4ad60eb44.png"  alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اور یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اسے پکانا بہت آسان ہوتا ہے جبکہ پکوانوں کا تنوع اتنا زیادہ ہے کہ بس۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہی وجہ ہے کہ پاکستانی عوام کی اکثریت کی پسندیدہ غذاؤں میں چکن کی موجودگی ضرور ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی طرح پروٹین سے بھرپور ہونے کے ساتھ بہت کم چربی اسے سرخ گوشت کے مقابلے میں زیادہ صحت بخش انتخاب بنادیتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ فوڈ پوائزننگ کا شکار کردینے والی نمبرون غذا بھی ہے کم از کم امریکی محکمہ صحت سی ڈی سی کے اعدادوشمار تو یہی بتاتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فوڈ پوائزننگ یا قے اور اسہال اکثر ناقص غذا کے استعمال کے نتیجے میں لوگوں کو شکار بناتے ہیں ۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درحقیقت یہ زندگی کے لیے خطرہ بن جانے والا مرض ہے جس سے بچنا بہت آسان ہوتا ہے یعنی محفوظ غذا کا انتخاب اور چکن کو کھانے سے بھی آپ کو کوئی نہیں روکتا مگر کچھ احتیاطی تدابیر کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جیسے بازار میں چکن خریدنے کے بعد کبھی بھی اسے دیگر غذائی اشیا والے تھیلے میں نہ رکھیں ورنہ دیگر اشیا میں بھی جراثیم منتقل ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چکن کو ہاتھ لگانے سے پہلے اور بعد میں 20 سیکنڈ تک نیم گرم پانی سے ہاتھوں کو صابن سے اچھی طرح دھوئیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لوگ سب سے بڑی غلطی یہ کرتے ہیں کہ چکن کو پکانے سے پہلے دھو کر سمجھتے ہیں کہ تمام مضر صحت بیکٹریا کا خاتمہ ہوگیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم اس طرح وہ بیکٹریا کو کو کچن میں موجود دیگر اشیا اور غذاﺅں تک بھی پھیلا رہے ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آسٹریلین انسٹیٹوٹ آف فوڈ سیفٹی کی ہدایات کے مطابق جب کچن کے گوشت کو پکانے کا ارادہ ہو تو یہ بہت ضروری ہے کہ اسے نہ دھوئیں بلکہ اگر پکانا نہیں تو فریزر میں رکھ دیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی طرح ان چیزوں کو بھی احتیاط سے اچھی طرح دھوئیں جہاں اس گوشت عارضی طور پر رکھا ہو اور اپنے ہاتھ بھی اچھی طرح دھوئیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چکن میں کیمپائلو بیکٹر (Campylobacter) نامی بیکٹریا بھی پایا جاتا ہے جبکہ سالمونیلا کا ذکر اوپر ہوچکا ہے، یہ ایسے جراثیم ہیں جو پکانے کے دوران بھی بچ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس لیے یہ بھی ضروری ہے کہ چکن کو تیز آنچ میں پکایا جائے تاکہ نقصان دہ بیکٹریا کے خاتمے کو یقینی بنایا جاسکے، کیونکہ ان کی معمولی مقدار بھی بیمار کرنے کے لیے کافی ثابت ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کبھی بھی پکے ہوئے کھانے کو ایسی پلیٹ، کٹنگ بورڈ یا اس سطح پر نہ رکھیں جہاں کچا چکن رکھا گیا ہو۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کٹنگ بورڈز، چھریوں، برتنوں اور دیگر کو چکن پکانے کے بعد صابن ملے گرم پانی سے لازمی دھوئیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;em&gt;نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔&lt;/em&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اگر لوگوں سے ان کی پسندیدہ غذا کے بارے میں سوال کیا جائے تو اس بات کا امکان بہت زیادہ ہے کہ ان کے مرغوب پکوان میں ایک جز مشترک ہوگا اور وہ ہے چکن، کیونکہ یہ سفید گوشت دنیا میں سب سے زیادہ کھایا جاتا ہے۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/3 w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1041030' ><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/03/5c9e4ad60eb44.png"  alt="" /></a></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>اور یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اسے پکانا بہت آسان ہوتا ہے جبکہ پکوانوں کا تنوع اتنا زیادہ ہے کہ بس۔</p>

<p>یہی وجہ ہے کہ پاکستانی عوام کی اکثریت کی پسندیدہ غذاؤں میں چکن کی موجودگی ضرور ہوتی ہے۔</p>

<p>اسی طرح پروٹین سے بھرپور ہونے کے ساتھ بہت کم چربی اسے سرخ گوشت کے مقابلے میں زیادہ صحت بخش انتخاب بنادیتی ہے۔</p>

<p>مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ فوڈ پوائزننگ کا شکار کردینے والی نمبرون غذا بھی ہے کم از کم امریکی محکمہ صحت سی ڈی سی کے اعدادوشمار تو یہی بتاتے ہیں۔</p>

<p>فوڈ پوائزننگ یا قے اور اسہال اکثر ناقص غذا کے استعمال کے نتیجے میں لوگوں کو شکار بناتے ہیں ۔</p>

<p>درحقیقت یہ زندگی کے لیے خطرہ بن جانے والا مرض ہے جس سے بچنا بہت آسان ہوتا ہے یعنی محفوظ غذا کا انتخاب اور چکن کو کھانے سے بھی آپ کو کوئی نہیں روکتا مگر کچھ احتیاطی تدابیر کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔</p>

<p>جیسے بازار میں چکن خریدنے کے بعد کبھی بھی اسے دیگر غذائی اشیا والے تھیلے میں نہ رکھیں ورنہ دیگر اشیا میں بھی جراثیم منتقل ہوسکتے ہیں۔</p>

<p>چکن کو ہاتھ لگانے سے پہلے اور بعد میں 20 سیکنڈ تک نیم گرم پانی سے ہاتھوں کو صابن سے اچھی طرح دھوئیں۔</p>

<p>لوگ سب سے بڑی غلطی یہ کرتے ہیں کہ چکن کو پکانے سے پہلے دھو کر سمجھتے ہیں کہ تمام مضر صحت بیکٹریا کا خاتمہ ہوگیا ہے۔</p>

<p>تاہم اس طرح وہ بیکٹریا کو کو کچن میں موجود دیگر اشیا اور غذاﺅں تک بھی پھیلا رہے ہوتے ہیں۔</p>

<p>آسٹریلین انسٹیٹوٹ آف فوڈ سیفٹی کی ہدایات کے مطابق جب کچن کے گوشت کو پکانے کا ارادہ ہو تو یہ بہت ضروری ہے کہ اسے نہ دھوئیں بلکہ اگر پکانا نہیں تو فریزر میں رکھ دیں۔</p>

<p>اسی طرح ان چیزوں کو بھی احتیاط سے اچھی طرح دھوئیں جہاں اس گوشت عارضی طور پر رکھا ہو اور اپنے ہاتھ بھی اچھی طرح دھوئیں۔</p>

<p>چکن میں کیمپائلو بیکٹر (Campylobacter) نامی بیکٹریا بھی پایا جاتا ہے جبکہ سالمونیلا کا ذکر اوپر ہوچکا ہے، یہ ایسے جراثیم ہیں جو پکانے کے دوران بھی بچ سکتے ہیں۔</p>

<p>اس لیے یہ بھی ضروری ہے کہ چکن کو تیز آنچ میں پکایا جائے تاکہ نقصان دہ بیکٹریا کے خاتمے کو یقینی بنایا جاسکے، کیونکہ ان کی معمولی مقدار بھی بیمار کرنے کے لیے کافی ثابت ہوتی ہے۔</p>

<p>کبھی بھی پکے ہوئے کھانے کو ایسی پلیٹ، کٹنگ بورڈ یا اس سطح پر نہ رکھیں جہاں کچا چکن رکھا گیا ہو۔</p>

<p>کٹنگ بورڈز، چھریوں، برتنوں اور دیگر کو چکن پکانے کے بعد صابن ملے گرم پانی سے لازمی دھوئیں۔</p>

<p><em>نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔</em></p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1100417</guid>
      <pubDate>Fri, 29 Mar 2019 21:44:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/03/5c9e4aae80c01.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/03/5c9e4aae80c01.jpg"/>
        <media:title>یہ پاکستانیوں کی بھی پسندیدہ غذا ہے — شٹر اسٹاک فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ناقابل استعمال غذاؤں کی شناخت کرنا سیکھیں
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1040964/</link>
      <description>&lt;h1 id='5c87f5330d64a'&gt;ناقابل استعمال غذاؤں کی شناخت کرنا سیکھیں&lt;/h1&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;br&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مختلف غذاﺅں کے استعمال کی آخری تاریخ درحقیقت دھوکے سے زیادہ کچھ نہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ بات امریکا کی نیشنل ریسورس ڈیفنس کونسل نے اپنی سفارشات میں کہی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درحقیقت استعمال کی آخری تاریخ سے بہت کم ہی عندیہ ملتا ہے کہ کوئی چیز کس وقت کھانے کے قابل نہیں رہتی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اکثر غذاﺅں کو کب تک استعمال کیا جاسکتا ہے اس کا تعین چند معمولی باتوں سے کیا جاسکتا ہے، جو درج ذیل ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5c87f5330d6d4'&gt;سی فوڈ&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/11/564e147d80bd0.jpg"  alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وہ مچھلی جو خراب ہوچکی ہو، عام طور پر اس کے گوشت پر ایک گاڑھی اور پھسلنے والی تہہ بن جاتی ہے جبکہ ان میں بو بہت زیادہ ہوجاتی ہے جو خریدتے وقت نہیں محسوس ہوتی، خیال رہے کہ تازہ مچھلی خریدنے کے 36 گھنٹے کے اندر کھا لینی چاہئے۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5c87f5330d71d'&gt;چکن&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/03/5c87f43248ac4.jpg"  alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;شٹر اسٹاک فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چکن پاکستان بلکہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا گوشت ہے۔ تاہم آپ آسانی سے خراب چکن کی شناخت کرسکتے ہیں اور خریدنے سے پہلے یہ چیز آپ کو دیگر نقصانات سے بھی بچا سکتی ہے۔ اگر چکن کا گوشت گلابی کی بجائے گرے ہوجائے یا اس کے چربی والوں حصوں پر پیلا رنگ نمایاں ہوجائے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ گوشت کھانے کے قابل نہیں اور اسے نہ لینا ہی بہتر ہوگا۔ خراب چکن کی ایک نشانی اس میں پیدا ہوجانے والی بو ہے، اگر وہ عام چکن سے ہٹ کر کچھ میٹھی یا گندے انڈوں جیسی ہو تو اسے لینے کا فیصلہ ترک کردیں۔ عام طور پر کچا چکن نم تو ہوتا ہے مگر لجلجا نہیں، اگر آپ کو گوشت لجلجا لگے اور دھونے کے بعد بھی لیس دار یا چپچپا رہے تو یہ گوشت خراب ہونے کی نشانی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5c87f5330d760'&gt;ڈبل روٹی&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2016/07/5797aa61729b6.jpg"  alt="کریٹیو کامنز فوٹو" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;کریٹیو کامنز فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگر آپ ڈبل روٹی کے کسی حصے میں پھپھوندی دیکھیں تو وہ کھانے کے لیے محفوظ نہیں ہوتی چاہے باقی پوری ڈبل روٹی صاف ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈبل روٹی مسام دار ہوتی ہے اور پھپھوندی آسانی سے پھیل جاتی ہے یا اس کے ذرات صاف جگہوں پر بھی موجود ہوتے ہیں۔ اگر ڈبل روٹی سخت اور خشک ہوجائے مگر پھپھوندی نہ لگی ہو تو اسے استعمال کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5c87f5330d7a3'&gt;انڈے&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2016/07/5797aa6262e7d.jpg"  alt="رائٹرز فوٹو" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;رائٹرز فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگر انڈہ خراب ہو تو وہ میٹھے اور ٹھنڈے پانی میں تیرنے لگتا ہے، اگر ٹھیک ہو تو ڈوب جاتا ہے، ہوسکتا ہے آپ کو یہ احمقانہ بات لگے مگر یو ایس ڈپارٹمنٹ آف ایگریکلچر کے مطابق اس کے سائنسی شواہد موجود ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5c87f5330d7fd'&gt;تازہ پھل&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2016/07/5797aa654b8bb.jpg"  alt="کریٹیو کامنز فوٹو" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;کریٹیو کامنز فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگر تازہ پھلوں کی ساخت بدل جائے یعنی نرم یا دانے دار ہوجائیں تو اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ انہیں اب نہیں کھانا چاہیے۔ گریٹر شکاگو فوڈ کے مطابق پھلوں کی دیگر انتباہی علامات میں بُو آنا، ان کی جلد میں جھریاں پڑ جانا یا رنگ بدل جانا قابل ذکر ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5c87f5330d842'&gt;کچا گوشت&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2016/07/5797aa64a8463.jpg"  alt="کریٹیو کامنز فوٹو" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;کریٹیو کامنز فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کچا گوشت اگر رنگ بدل لے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کھانے کے قابل نہیں رہا، یو ایس ڈی اے کے مطابق اگر گوشت سے بو آنے لگے، لجلجا ہوجائے یا لیس دار ہوجائے تو اسے استعمال نہ کرنا ہی بہتر ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5c87f5330d883'&gt;تازہ سبزیاں&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2016/07/5797aa63c6331.jpg"  alt="کریٹیو کامنز فوٹو" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;کریٹیو کامنز فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اکثر سبز سبزیاں جب خراب ہوتی ہیں تو ان کا رنگ مدھم ہونے لگتا ہے یا وہ زرد ہونے لگتی ہیں، ایسا دیگر تازہ سبزیوں کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5c87f5330d8c5'&gt;دودھ&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2016/07/5797aa6146d74.jpg"  alt="کریٹیو کامنز فوٹو" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;کریٹیو کامنز فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دودھ کی ساخت میں تبدیلی اس کے خراب ہونے کی نشانی ہوتی ہے، اگر وہ گلٹی دار ہوجائے تو وہ لگ بھگ ناقابل استعمال ہوتا ہے جبکہ تیز ترش بو بھی دودھ کے خراب ہونے کی ایک اور علامت ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5c87f5330d907'&gt;پنیر&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2016/07/5797aa60edad4.jpg"  alt="کریٹیو کامنز فوٹو" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;کریٹیو کامنز فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نرم پنیر بہت جلد خراب ہوتا ہے، اگر اس پر پھپھوندی کو دیکھیں تو وہ پھینک دیں، اگر سخت پنیر پر پھپھوندی کو دیکھیں تو وہ عام طور پر قابل استعمال ہوتا ہے بس متاثرہ حصے کو کاٹ کر پھینک دیں۔ پنیر کے خراب ہونے کی ایک اور نشانی ترش بو یا ذائقہ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='5c87f5330d948'&gt;زیتون کا تیل&lt;/h2&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2016/07/5797aa660fed6.jpg"  alt="کریٹیو کامنز فوٹو" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;کریٹیو کامنز فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;زیتون کے تیل سے اگر زیتون کی خوشبو آنا بند ہوجائے اور وہ کسی موٹر آئل یا گلیو جیسی بو دینے لگے تو وہ ناقابل استعمال ہونے کی نشانی ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<h1 id='5c87f5330d64a'>ناقابل استعمال غذاؤں کی شناخت کرنا سیکھیں</h1>

<hr />

<p><br></p>

<p>مختلف غذاﺅں کے استعمال کی آخری تاریخ درحقیقت دھوکے سے زیادہ کچھ نہیں۔</p>

<p>یہ بات امریکا کی نیشنل ریسورس ڈیفنس کونسل نے اپنی سفارشات میں کہی ہے۔</p>

<p>درحقیقت استعمال کی آخری تاریخ سے بہت کم ہی عندیہ ملتا ہے کہ کوئی چیز کس وقت کھانے کے قابل نہیں رہتی۔</p>

<p>اکثر غذاﺅں کو کب تک استعمال کیا جاسکتا ہے اس کا تعین چند معمولی باتوں سے کیا جاسکتا ہے، جو درج ذیل ہیں۔</p>

<h2 id='5c87f5330d6d4'>سی فوڈ</h2>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/11/564e147d80bd0.jpg"  alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>وہ مچھلی جو خراب ہوچکی ہو، عام طور پر اس کے گوشت پر ایک گاڑھی اور پھسلنے والی تہہ بن جاتی ہے جبکہ ان میں بو بہت زیادہ ہوجاتی ہے جو خریدتے وقت نہیں محسوس ہوتی، خیال رہے کہ تازہ مچھلی خریدنے کے 36 گھنٹے کے اندر کھا لینی چاہئے۔</p>

<h2 id='5c87f5330d71d'>چکن</h2>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/03/5c87f43248ac4.jpg"  alt="شٹر اسٹاک فوٹو" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">شٹر اسٹاک فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>چکن پاکستان بلکہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا گوشت ہے۔ تاہم آپ آسانی سے خراب چکن کی شناخت کرسکتے ہیں اور خریدنے سے پہلے یہ چیز آپ کو دیگر نقصانات سے بھی بچا سکتی ہے۔ اگر چکن کا گوشت گلابی کی بجائے گرے ہوجائے یا اس کے چربی والوں حصوں پر پیلا رنگ نمایاں ہوجائے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ گوشت کھانے کے قابل نہیں اور اسے نہ لینا ہی بہتر ہوگا۔ خراب چکن کی ایک نشانی اس میں پیدا ہوجانے والی بو ہے، اگر وہ عام چکن سے ہٹ کر کچھ میٹھی یا گندے انڈوں جیسی ہو تو اسے لینے کا فیصلہ ترک کردیں۔ عام طور پر کچا چکن نم تو ہوتا ہے مگر لجلجا نہیں، اگر آپ کو گوشت لجلجا لگے اور دھونے کے بعد بھی لیس دار یا چپچپا رہے تو یہ گوشت خراب ہونے کی نشانی ہے۔</p>

<h2 id='5c87f5330d760'>ڈبل روٹی</h2>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2016/07/5797aa61729b6.jpg"  alt="کریٹیو کامنز فوٹو" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">کریٹیو کامنز فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>اگر آپ ڈبل روٹی کے کسی حصے میں پھپھوندی دیکھیں تو وہ کھانے کے لیے محفوظ نہیں ہوتی چاہے باقی پوری ڈبل روٹی صاف ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈبل روٹی مسام دار ہوتی ہے اور پھپھوندی آسانی سے پھیل جاتی ہے یا اس کے ذرات صاف جگہوں پر بھی موجود ہوتے ہیں۔ اگر ڈبل روٹی سخت اور خشک ہوجائے مگر پھپھوندی نہ لگی ہو تو اسے استعمال کیا جاسکتا ہے۔</p>

<h2 id='5c87f5330d7a3'>انڈے</h2>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2016/07/5797aa6262e7d.jpg"  alt="رائٹرز فوٹو" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">رائٹرز فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>اگر انڈہ خراب ہو تو وہ میٹھے اور ٹھنڈے پانی میں تیرنے لگتا ہے، اگر ٹھیک ہو تو ڈوب جاتا ہے، ہوسکتا ہے آپ کو یہ احمقانہ بات لگے مگر یو ایس ڈپارٹمنٹ آف ایگریکلچر کے مطابق اس کے سائنسی شواہد موجود ہیں۔ </p>

<h2 id='5c87f5330d7fd'>تازہ پھل</h2>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2016/07/5797aa654b8bb.jpg"  alt="کریٹیو کامنز فوٹو" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">کریٹیو کامنز فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>اگر تازہ پھلوں کی ساخت بدل جائے یعنی نرم یا دانے دار ہوجائیں تو اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ انہیں اب نہیں کھانا چاہیے۔ گریٹر شکاگو فوڈ کے مطابق پھلوں کی دیگر انتباہی علامات میں بُو آنا، ان کی جلد میں جھریاں پڑ جانا یا رنگ بدل جانا قابل ذکر ہیں۔</p>

<h2 id='5c87f5330d842'>کچا گوشت</h2>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2016/07/5797aa64a8463.jpg"  alt="کریٹیو کامنز فوٹو" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">کریٹیو کامنز فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>کچا گوشت اگر رنگ بدل لے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کھانے کے قابل نہیں رہا، یو ایس ڈی اے کے مطابق اگر گوشت سے بو آنے لگے، لجلجا ہوجائے یا لیس دار ہوجائے تو اسے استعمال نہ کرنا ہی بہتر ہوتا ہے۔</p>

<h2 id='5c87f5330d883'>تازہ سبزیاں</h2>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2016/07/5797aa63c6331.jpg"  alt="کریٹیو کامنز فوٹو" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">کریٹیو کامنز فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>اکثر سبز سبزیاں جب خراب ہوتی ہیں تو ان کا رنگ مدھم ہونے لگتا ہے یا وہ زرد ہونے لگتی ہیں، ایسا دیگر تازہ سبزیوں کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔</p>

<h2 id='5c87f5330d8c5'>دودھ</h2>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2016/07/5797aa6146d74.jpg"  alt="کریٹیو کامنز فوٹو" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">کریٹیو کامنز فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>دودھ کی ساخت میں تبدیلی اس کے خراب ہونے کی نشانی ہوتی ہے، اگر وہ گلٹی دار ہوجائے تو وہ لگ بھگ ناقابل استعمال ہوتا ہے جبکہ تیز ترش بو بھی دودھ کے خراب ہونے کی ایک اور علامت ہے۔</p>

<h2 id='5c87f5330d907'>پنیر</h2>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2016/07/5797aa60edad4.jpg"  alt="کریٹیو کامنز فوٹو" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">کریٹیو کامنز فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>نرم پنیر بہت جلد خراب ہوتا ہے، اگر اس پر پھپھوندی کو دیکھیں تو وہ پھینک دیں، اگر سخت پنیر پر پھپھوندی کو دیکھیں تو وہ عام طور پر قابل استعمال ہوتا ہے بس متاثرہ حصے کو کاٹ کر پھینک دیں۔ پنیر کے خراب ہونے کی ایک اور نشانی ترش بو یا ذائقہ ہوتا ہے۔</p>

<h2 id='5c87f5330d948'>زیتون کا تیل</h2>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2016/07/5797aa660fed6.jpg"  alt="کریٹیو کامنز فوٹو" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">کریٹیو کامنز فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>زیتون کے تیل سے اگر زیتون کی خوشبو آنا بند ہوجائے اور وہ کسی موٹر آئل یا گلیو جیسی بو دینے لگے تو وہ ناقابل استعمال ہونے کی نشانی ہوتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1040964</guid>
      <pubDate>Tue, 12 Mar 2019 23:06:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فیصل ظفر)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2016/07/5797aa61729b6.jpg?r=1180900779" type="image/jpeg" medium="image" height="901" width="1501">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2016/07/5797aa61729b6.jpg?r=2045982293"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
