<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Latest News</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 17:50:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 17:50:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستانی مسافروں کیلئے بڑی خبر، یو اے ای پہنچنے پر طویل امیگریشن کارروائی سے چھٹکارا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275084/</link>
      <description>&lt;p&gt;متحدہ عرب امارات اور پاکستان نے  متحدہ عرب امارات (یو اے ای) جانے والے پاکستانی شہریوں کے لیے پری امیگریشن کلیئرنس سے متعلق باضابطہ معاہدہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت داخلہ کے مطابق معاہدے پر دستخط کے بعد پاکستانی شہریوں کو یو اے ای پہنچنے پر طویل امیگریشن عمل سے گزرنا نہیں پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیصلہ وزیر داخلہ محسن نقوی اور یو اے ای کے وفد کے درمیان ملاقات میں کیا گیا، جس کی قیادت ڈائریکٹر جنرل کسٹمز اینڈ پورٹ سیکیورٹی احمد بن لہج الفلاسی نے کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محسن نقوی کے مطابق مسافروں کی امیگریشن کارروائی سفر سے قبل پاکستان میں مکمل کر لی جائے گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274392'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274392"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس نظام کے نفاذ کے بعد پاکستانی شہری یو اے ای پہنچنے پر ڈومیسٹک پروازوں کے مسافروں کی طرح براہ راست ایئرپورٹ سے باہر جا سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر داخلہ نے بتایا کہ یہ نظام پائلٹ منصوبے کے طور پر متعارف کرایا جائے گا جس کا پہلا مرحلہ کراچی سے شروع ہوگا تاہم اس کے آغاز کی تاریخ نہیں بتائی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محسن نقوی نے امید ظاہر کی کہ نیا نظام سفر کو آسان بنائے گا اور مجموعی سفری تجربے کو بہتر کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یو اے ای کے وفد نے اس اقدام کو دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند قرار دیتے ہوئے اس پر عملدرآمد میں تعاون کی یقین دہانی کرائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق متعلقہ ادارے پائلٹ منصوبے کے انتظامی اور تکنیکی پہلوؤں کو حتمی شکل دینے کے لیے باہمی رابطہ رکھیں گے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1263892'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1263892"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کراچی میں پائلٹ مرحلہ مکمل ہونے کے بعد اس نظام کو دیگر شہروں تک بھی توسیع دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور وفاقی سیکریٹری داخلہ خرم آغا بھی موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستانیوں کو یو اے ای کے ویزے حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نومبر 2025 میں ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ سلمان چوہدری نے بتایا تھا کہ یو اے ای پاکستانیوں کو ویزے جاری نہیں کر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں یہ بھی کہا تھا کہ سعودی عرب اور یو اے ای نے پاکستانی پاسپورٹ پر پابندی عائد کرنے سے بس ایک قدم پیچھے رہ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>متحدہ عرب امارات اور پاکستان نے  متحدہ عرب امارات (یو اے ای) جانے والے پاکستانی شہریوں کے لیے پری امیگریشن کلیئرنس سے متعلق باضابطہ معاہدہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔</p>
<p>وزارت داخلہ کے مطابق معاہدے پر دستخط کے بعد پاکستانی شہریوں کو یو اے ای پہنچنے پر طویل امیگریشن عمل سے گزرنا نہیں پڑے گا۔</p>
<p>یہ فیصلہ وزیر داخلہ محسن نقوی اور یو اے ای کے وفد کے درمیان ملاقات میں کیا گیا، جس کی قیادت ڈائریکٹر جنرل کسٹمز اینڈ پورٹ سیکیورٹی احمد بن لہج الفلاسی نے کی۔</p>
<p>محسن نقوی کے مطابق مسافروں کی امیگریشن کارروائی سفر سے قبل پاکستان میں مکمل کر لی جائے گی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274392'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274392"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے کہا کہ اس نظام کے نفاذ کے بعد پاکستانی شہری یو اے ای پہنچنے پر ڈومیسٹک پروازوں کے مسافروں کی طرح براہ راست ایئرپورٹ سے باہر جا سکیں گے۔</p>
<p>وزیر داخلہ نے بتایا کہ یہ نظام پائلٹ منصوبے کے طور پر متعارف کرایا جائے گا جس کا پہلا مرحلہ کراچی سے شروع ہوگا تاہم اس کے آغاز کی تاریخ نہیں بتائی گئی۔</p>
<p>محسن نقوی نے امید ظاہر کی کہ نیا نظام سفر کو آسان بنائے گا اور مجموعی سفری تجربے کو بہتر کرے گا۔</p>
<p>یو اے ای کے وفد نے اس اقدام کو دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند قرار دیتے ہوئے اس پر عملدرآمد میں تعاون کی یقین دہانی کرائی۔</p>
<p>بیان کے مطابق متعلقہ ادارے پائلٹ منصوبے کے انتظامی اور تکنیکی پہلوؤں کو حتمی شکل دینے کے لیے باہمی رابطہ رکھیں گے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1263892'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1263892"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>کراچی میں پائلٹ مرحلہ مکمل ہونے کے بعد اس نظام کو دیگر شہروں تک بھی توسیع دی جائے گی۔</p>
<p>ملاقات میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور وفاقی سیکریٹری داخلہ خرم آغا بھی موجود تھے۔</p>
<p>یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستانیوں کو یو اے ای کے ویزے حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا رہا ہے۔</p>
<p>نومبر 2025 میں ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ سلمان چوہدری نے بتایا تھا کہ یو اے ای پاکستانیوں کو ویزے جاری نہیں کر رہا۔</p>
<p>انہوں نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں یہ بھی کہا تھا کہ سعودی عرب اور یو اے ای نے پاکستانی پاسپورٹ پر پابندی عائد کرنے سے بس ایک قدم پیچھے رہ گئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275084</guid>
      <pubDate>Tue, 13 Jan 2026 13:06:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/13125733d38128e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/13125733d38128e.webp"/>
        <media:title>وزیر داخلہ نے بتایا کہ یہ نظام پائلٹ منصوبے کے طور پر متعارف کرایا جائے گا جس کا پہلا مرحلہ کراچی سے شروع ہوگا، تاہم اس کے آغاز کی تاریخ نہیں بتائی گئی۔ فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’کشمیر کی وادی ہماری ہے‘ چین نے شکسگام پر بھارتی دعویٰ مسترد کر دیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275085/</link>
      <description>&lt;p&gt;چین نے بھارتی وزارت خارجہ کے کشمیر کی وادی شکسگام سے متعلق دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ شکسگام چین کا علاقہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کو پریس کانفرنس کے دوران جب پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے شکسگام وادی میں چین کے انفرااسٹرکچر منصوبوں پر بھارتی تنقید سے متعلق سوال کیا تو چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے کہا کہ چین کو اپنی سرزمین پر تعمیراتی سرگرمیاں انجام دینے کا مکمل حق حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ جس علاقے کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ چین کا حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے جمعے کو کہا تھا کہ شکسگام وادی بھارتی علاقہ ہے اور نئی دہلی اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ بھارت نے 1963 میں ہونے والے نام نہاد چین پاکستان سرحدی معاہدے کو کبھی تسلیم نہیں کیا اور اس معاہدے کو غیر قانونی اور کالعدم سمجھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی ترجمان نے یہ بھی کہا کہ نئی دہلی نام نہاد چین پاکستان اقتصادی راہداری کو بھی تسلیم نہیں کرتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر اور لداخ کے تمام یونین ٹیریٹریز بھارت کا اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ ہیں اور یہ مؤقف پاکستانی اور چینی حکام کو متعدد بار واضح طور پر بتایا جا چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ بھارت شکسگام وادی میں زمینی حقائق تبدیل کرنے کی چینی کوششوں پر مسلسل احتجاج کرتا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی ترجمان ماؤ ننگ نے بھارتی مؤقف کے جواب میں کہا کہ چین اور پاکستان نے 1960 کی دہائی میں سرحدی معاہدے پر دستخط کیے تھے اور دونوں ممالک نے اپنی سرحدوں کی حد بندی کی تھی جو خودمختار ریاستوں کا حق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری ایک اقتصادی تعاون کا منصوبہ ہے جس کا مقصد مقامی سماجی و اقتصادی ترقی اور عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماؤ ننگ کے مطابق چین پاکستان سرحدی معاہدہ اور سی پیک، کشمیر کے مسئلے پر چین کے مؤقف کو متاثر نہیں کرتے اور اس حوالے سے چین کا مؤقف بدستور برقرار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ بھارت اور چین کے درمیان طویل عرصے سے سرحدی تنازعات چلے آ رہے ہیں، تاہم 2024 میں دونوں ممالک نے ہمالیائی سرحد پر فوجی کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک اہم معاہدہ کیا تھا، جہاں 2020 میں جھڑپ کے دوران بھارت کے 20 اور چین کے چار فوجی ہلاک ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2024 کے معاہدے کے بعد دونوں ممالک نے تعلقات بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے، جن میں براہ راست پروازوں کی بحالی اور سرمایہ کاری و تجارت میں اضافہ شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود چین اور بھارت کے درمیان اروناچل پردیش سمیت مختلف علاقوں پر تنازع برقرار ہے، جسے بیجنگ زانگنان کہتا ہے اور جنوبی تبت کا حصہ قرار دیتا ہے جبکہ بھارت ان دعووں کو مسلسل مسترد کرتا آیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیجنگ کی جانب سے اس شمال مشرقی ہمالیائی ریاست میں مقامات کے نام تبدیل کرنے پر بھی نئی دہلی کی طرف سے سخت ردعمل سامنے آتا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>چین نے بھارتی وزارت خارجہ کے کشمیر کی وادی شکسگام سے متعلق دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ شکسگام چین کا علاقہ ہے۔</p>
<p>پیر کو پریس کانفرنس کے دوران جب پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے شکسگام وادی میں چین کے انفرااسٹرکچر منصوبوں پر بھارتی تنقید سے متعلق سوال کیا تو چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے کہا کہ چین کو اپنی سرزمین پر تعمیراتی سرگرمیاں انجام دینے کا مکمل حق حاصل ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ جس علاقے کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ چین کا حصہ ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے جمعے کو کہا تھا کہ شکسگام وادی بھارتی علاقہ ہے اور نئی دہلی اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ بھارت نے 1963 میں ہونے والے نام نہاد چین پاکستان سرحدی معاہدے کو کبھی تسلیم نہیں کیا اور اس معاہدے کو غیر قانونی اور کالعدم سمجھتا ہے۔</p>
<p>بھارتی ترجمان نے یہ بھی کہا کہ نئی دہلی نام نہاد چین پاکستان اقتصادی راہداری کو بھی تسلیم نہیں کرتی۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر اور لداخ کے تمام یونین ٹیریٹریز بھارت کا اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ ہیں اور یہ مؤقف پاکستانی اور چینی حکام کو متعدد بار واضح طور پر بتایا جا چکا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ بھارت شکسگام وادی میں زمینی حقائق تبدیل کرنے کی چینی کوششوں پر مسلسل احتجاج کرتا رہا ہے۔</p>
<p>چینی ترجمان ماؤ ننگ نے بھارتی مؤقف کے جواب میں کہا کہ چین اور پاکستان نے 1960 کی دہائی میں سرحدی معاہدے پر دستخط کیے تھے اور دونوں ممالک نے اپنی سرحدوں کی حد بندی کی تھی جو خودمختار ریاستوں کا حق ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری ایک اقتصادی تعاون کا منصوبہ ہے جس کا مقصد مقامی سماجی و اقتصادی ترقی اور عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا ہے۔</p>
<p>ماؤ ننگ کے مطابق چین پاکستان سرحدی معاہدہ اور سی پیک، کشمیر کے مسئلے پر چین کے مؤقف کو متاثر نہیں کرتے اور اس حوالے سے چین کا مؤقف بدستور برقرار ہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ بھارت اور چین کے درمیان طویل عرصے سے سرحدی تنازعات چلے آ رہے ہیں، تاہم 2024 میں دونوں ممالک نے ہمالیائی سرحد پر فوجی کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک اہم معاہدہ کیا تھا، جہاں 2020 میں جھڑپ کے دوران بھارت کے 20 اور چین کے چار فوجی ہلاک ہوئے تھے۔</p>
<p>2024 کے معاہدے کے بعد دونوں ممالک نے تعلقات بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے، جن میں براہ راست پروازوں کی بحالی اور سرمایہ کاری و تجارت میں اضافہ شامل ہے۔</p>
<p>اس کے باوجود چین اور بھارت کے درمیان اروناچل پردیش سمیت مختلف علاقوں پر تنازع برقرار ہے، جسے بیجنگ زانگنان کہتا ہے اور جنوبی تبت کا حصہ قرار دیتا ہے جبکہ بھارت ان دعووں کو مسلسل مسترد کرتا آیا ہے۔</p>
<p>بیجنگ کی جانب سے اس شمال مشرقی ہمالیائی ریاست میں مقامات کے نام تبدیل کرنے پر بھی نئی دہلی کی طرف سے سخت ردعمل سامنے آتا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275085</guid>
      <pubDate>Tue, 13 Jan 2026 13:19:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/13131200632efb4.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/13131200632efb4.webp"/>
        <media:title>چینی ترجمان ماؤ ننگ نے بھارتی مؤقف کے جواب میں کہا کہ چین اور پاکستان نے 1960 کی دہائی میں سرحدی معاہدے پر دستخط کیے تھے اور دونوں ممالک نے اپنی سرحدوں کی حد بندی کی تھی، جو خودمختار ریاستوں کا حق ہے۔ فوٹو: چینی وزارت خارجہ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹی ایل پی سربراہ سعد رضوی اور ان کے بھائی کی گمشدگی کا معما برقرار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275086/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور: قانون نافذ کرنے والے ادارے تقریباً تین ماہ گزرنے کے باوجود تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد حسین رضوی اور ان کے بھائی انس رضوی کے ٹھکانے کے بارے میں لاعلم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1966699/law-enforcers-still-in-the-dark-on-tlp-leaders-whereabouts"&gt;&lt;strong&gt;خبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق یہ معاملہ چند روز قبل اس وقت دوبارہ سامنے آیا جب کالعدم مذہبی تنظیم سے منسوب ایک مبینہ بیان سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگا، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ دونوں بھائی ریاستی اداروں کی تحویل میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم قانون نافذ کرنے والے سینئر حکام اپنے پہلے مؤقف پر قائم ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ دونوں بھائی آزاد جموں و کشمیر میں کہیں چھپے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق رضوی برادران اس دن فرار ہوئے جب پنجاب پولیس نے مریدکے میں جی ٹی روڈ پر قائم ٹی ایل پی کے احتجاجی کیمپ کو ختم کرنے کے لیے علی الصبح آپریشن کیا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271153/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271153"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایک سینئر افسر نے ڈان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ سعد اور انس کسی بھی سیکیورٹی ادارے کی تحویل میں نہیں اور تاحال آزاد کشمیر میں موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے بقول غالب امکان ہے کہ وہ کالعدم تنظیم کے کسی وفادار کارکن کے پاس پہاڑی علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مبینہ ٹی ایل پی بیان کو جھوٹا، مضحکہ خیز اور خود ساختہ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق بیان وائرل ہونے کے بعد ایک سینئر پنجاب افسر کو وفاقی حکام سے رابطہ کر کے اس دعوے کی تصدیق کی ذمہ داری دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنجاب پولیس نے اسلام آباد میں متعلقہ حکام کو آگاہ کیا کہ اگر سعد اور انس کسی ادارے کی تحویل میں ہوں تو انہیں متعدد مقدمات میں گرفتار کیا جانا چاہیے، تاہم وفاقی حکام نے بتایا کہ دونوں کسی ایجنسی کی تحویل میں نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں بھائیوں کو سنگین نوعیت کے مقدمات میں انتہائی مطلوب ملزمان قرار دیا جا چکا ہے، جن میں انسداد دہشت گردی کے الزامات بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق سعد اور انس کے خلاف شیخوپورہ میں 44 جبکہ لاہور میں 11 مقدمات درج ہیں، جن میں انہیں نامزد کیا گیا ہے اور الزامات نہایت سنگین نوعیت کے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بھی بتایا گیا کہ دونوں روپوش رہنماؤں کی گرفتاری میں مشکلات اس لیے پیش آ رہی ہیں کیونکہ وہ فون یا دیگر ڈیجیٹل ذرائع استعمال نہیں کر رہے، جس کے باعث ان کے ٹھکانوں کا سراغ لگانا مشکل ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272679'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272679"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایک افسر نے کہا کہ ملک بھر میں تمام نظام متحرک کیے جا چکے ہیں اور متعلقہ ریاستی اداروں نے تصدیق کی ہے کہ ٹی ایل پی کے سربراہ اور ان کے بھائی پاکستان ہی میں موجود ہیں، جب کہ ان کے بیرون ملک فرار ہونے کا امکان مسترد کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ پنجاب پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے متعدد ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الزامات کے بارے میں بتایا گیا کہ دونوں بھائیوں نے مبینہ طور پر ٹی ایل پی کارکنوں اور سخت گیر عناصر کو قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں، سرکاری گاڑیوں اور املاک کو نقصان پہنچانے پر اکسایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور اور شیخوپورہ میں ٹی ایل پی کارکنوں کے بار بار حملوں کے دوران ایک ایس ایچ او جاں بحق جبکہ درجنوں اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ حکام کے مطابق سعد رضوی اور انس رضوی نے اکتوبر میں لاہور سے اسلام آباد کی جانب غزہ مارچ کی قیادت بھی کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا ایف آئی اے نے بھی کارروائی کرتے ہوئے سعد رضوی سے منسوب تقریباً 95 بینک اکاؤنٹس کا سراغ لگایا اور منی لانڈرنگ کے الزامات کے تحت تحقیقات شروع کر دی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نے کالعدم ٹی ایل پی کے ترجمان یا نمائندے سے رابطہ کر کے اس دعوے کی تصدیق کی کوشش کی کہ سعد رضوی اور انس رضوی ریاستی اداروں کی تحویل میں ہیں تاہم فون اور واٹس ایپ پیغامات کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور: قانون نافذ کرنے والے ادارے تقریباً تین ماہ گزرنے کے باوجود تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد حسین رضوی اور ان کے بھائی انس رضوی کے ٹھکانے کے بارے میں لاعلم ہیں۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1966699/law-enforcers-still-in-the-dark-on-tlp-leaders-whereabouts"><strong>خبر</strong></a> کے مطابق یہ معاملہ چند روز قبل اس وقت دوبارہ سامنے آیا جب کالعدم مذہبی تنظیم سے منسوب ایک مبینہ بیان سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگا، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ دونوں بھائی ریاستی اداروں کی تحویل میں ہیں۔</p>
<p>تاہم قانون نافذ کرنے والے سینئر حکام اپنے پہلے مؤقف پر قائم ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ دونوں بھائی آزاد جموں و کشمیر میں کہیں چھپے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق رضوی برادران اس دن فرار ہوئے جب پنجاب پولیس نے مریدکے میں جی ٹی روڈ پر قائم ٹی ایل پی کے احتجاجی کیمپ کو ختم کرنے کے لیے علی الصبح آپریشن کیا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271153/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271153"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ایک سینئر افسر نے ڈان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ سعد اور انس کسی بھی سیکیورٹی ادارے کی تحویل میں نہیں اور تاحال آزاد کشمیر میں موجود ہیں۔</p>
<p>ان کے بقول غالب امکان ہے کہ وہ کالعدم تنظیم کے کسی وفادار کارکن کے پاس پہاڑی علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مبینہ ٹی ایل پی بیان کو جھوٹا، مضحکہ خیز اور خود ساختہ قرار دیا۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق بیان وائرل ہونے کے بعد ایک سینئر پنجاب افسر کو وفاقی حکام سے رابطہ کر کے اس دعوے کی تصدیق کی ذمہ داری دی گئی۔</p>
<p>پنجاب پولیس نے اسلام آباد میں متعلقہ حکام کو آگاہ کیا کہ اگر سعد اور انس کسی ادارے کی تحویل میں ہوں تو انہیں متعدد مقدمات میں گرفتار کیا جانا چاہیے، تاہم وفاقی حکام نے بتایا کہ دونوں کسی ایجنسی کی تحویل میں نہیں ہیں۔</p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں بھائیوں کو سنگین نوعیت کے مقدمات میں انتہائی مطلوب ملزمان قرار دیا جا چکا ہے، جن میں انسداد دہشت گردی کے الزامات بھی شامل ہیں۔</p>
<p>حکام کے مطابق سعد اور انس کے خلاف شیخوپورہ میں 44 جبکہ لاہور میں 11 مقدمات درج ہیں، جن میں انہیں نامزد کیا گیا ہے اور الزامات نہایت سنگین نوعیت کے ہیں۔</p>
<p>یہ بھی بتایا گیا کہ دونوں روپوش رہنماؤں کی گرفتاری میں مشکلات اس لیے پیش آ رہی ہیں کیونکہ وہ فون یا دیگر ڈیجیٹل ذرائع استعمال نہیں کر رہے، جس کے باعث ان کے ٹھکانوں کا سراغ لگانا مشکل ہو گیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272679'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272679"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ایک افسر نے کہا کہ ملک بھر میں تمام نظام متحرک کیے جا چکے ہیں اور متعلقہ ریاستی اداروں نے تصدیق کی ہے کہ ٹی ایل پی کے سربراہ اور ان کے بھائی پاکستان ہی میں موجود ہیں، جب کہ ان کے بیرون ملک فرار ہونے کا امکان مسترد کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ پنجاب پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے متعدد ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔</p>
<p>الزامات کے بارے میں بتایا گیا کہ دونوں بھائیوں نے مبینہ طور پر ٹی ایل پی کارکنوں اور سخت گیر عناصر کو قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں، سرکاری گاڑیوں اور املاک کو نقصان پہنچانے پر اکسایا۔</p>
<p>لاہور اور شیخوپورہ میں ٹی ایل پی کارکنوں کے بار بار حملوں کے دوران ایک ایس ایچ او جاں بحق جبکہ درجنوں اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ حکام کے مطابق سعد رضوی اور انس رضوی نے اکتوبر میں لاہور سے اسلام آباد کی جانب غزہ مارچ کی قیادت بھی کی تھی۔</p>
<p>دریں اثنا ایف آئی اے نے بھی کارروائی کرتے ہوئے سعد رضوی سے منسوب تقریباً 95 بینک اکاؤنٹس کا سراغ لگایا اور منی لانڈرنگ کے الزامات کے تحت تحقیقات شروع کر دی ہیں۔</p>
<p>ڈان نے کالعدم ٹی ایل پی کے ترجمان یا نمائندے سے رابطہ کر کے اس دعوے کی تصدیق کی کوشش کی کہ سعد رضوی اور انس رضوی ریاستی اداروں کی تحویل میں ہیں تاہم فون اور واٹس ایپ پیغامات کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275086</guid>
      <pubDate>Tue, 13 Jan 2026 13:42:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (آصف چوہدری)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/13132723a0858db.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/13132723a0858db.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: ایکس
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خیبرپختونخوا: ٹانک میں پولیس کی بکتر بند گاڑی پر دھماکا، 6 اہلکار شہید</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275081/</link>
      <description>&lt;p&gt;خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں بم دھماکے کے نتیجے میں 6 پولیس اہلکار شہید ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹانک پولیس کے ترجمان کے مطابق پولیس کی بکتر بند گاڑی گومل پولیس اسٹیشن سے ٹانک کی جانب جا رہی تھی کہ راستے میں اسے نشانہ بنایا گیا، دھماکے کے نتیجے میں 6 پولیس اہلکار شہید ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس ترجمان نے بتایا کہ شہدا میں ایک ایڈیشنل اسٹیشن ہاؤس آفیسر بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریسکیو 1122 نے شہدا کی لاشیں ٹانک ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعے کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق سکیورٹی فورسز کی جانب سے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="کے-پی-گورنر-کی-رپورٹ-طلب" href="#کے-پی-گورنر-کی-رپورٹ-طلب" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;کے پی گورنر کی رپورٹ طلب&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گورنر خیبر پختونخوا  فیصل کریم کنڈی نے واقعے پر پولیس کے اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب کر لی، گورنر ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے گہرے رنج و غم اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے شہدا کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس کے بہادر جوانوں نے عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے جامِ شہادت نوش کیا اور انہوں نے شہدا پر فخر کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی سرپرستی میں سرگرم فتنہ الخوارج کی کارروائیاں ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گورنر نے صوبے میں امن و امان کے قیام کے لیے تحریک انصاف کی زیر قیادت صوبائی حکومت سے عملی اقدامات اٹھانے کا مطالبہ بھی کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="قوم-کے-پُرامن-کل-کے-لیے-آج-کی-قربانی" href="#قوم-کے-پُرامن-کل-کے-لیے-آج-کی-قربانی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;قوم کے پُرامن کل کے لیے آج کی قربانی&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;صدر مملکت آصف علی زرداری نے دہشت گرد حملے میں پولیس اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایوانِ صدر سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے پولیس اہلکاروں کی بہادری اور ملک کی خدمت کے جذبے کو خراجِ تحسین پیش کیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MediaCellPPP/status/2010658334727458837?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2010658334727458837%7Ctwgr%5Eff4171a85ff6c1217645d085b27b5c7b85a75abb%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966559'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/MediaCellPPP/status/2010658334727458837?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2010658334727458837%7Ctwgr%5Eff4171a85ff6c1217645d085b27b5c7b85a75abb%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966559"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;صدر نے شہدا کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے پولیس کے پانچ اہلکاروں کی قربانیوں کو سراہا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MOIofficialGoP/status/2010658334685454489?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2010658334685454489%7Ctwgr%5Eff4171a85ff6c1217645d085b27b5c7b85a75abb%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966559'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/MOIofficialGoP/status/2010658334685454489?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2010658334685454489%7Ctwgr%5Eff4171a85ff6c1217645d085b27b5c7b85a75abb%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966559"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;وزارت داخلہ کے مطابق محسن نقوی نے کہا کہ پولیس کے بہادر جوانوں نے قوم کے پُرامن کل کے لیے آج کی قربانی دی، اور شہدا کی عظیم قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں بم دھماکے کے نتیجے میں 6 پولیس اہلکار شہید ہو گئے۔</p>
<p>ٹانک پولیس کے ترجمان کے مطابق پولیس کی بکتر بند گاڑی گومل پولیس اسٹیشن سے ٹانک کی جانب جا رہی تھی کہ راستے میں اسے نشانہ بنایا گیا، دھماکے کے نتیجے میں 6 پولیس اہلکار شہید ہوگئے۔</p>
<p>پولیس ترجمان نے بتایا کہ شہدا میں ایک ایڈیشنل اسٹیشن ہاؤس آفیسر بھی شامل ہے۔</p>
<p>ریسکیو 1122 نے شہدا کی لاشیں ٹانک ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کیں۔</p>
<p>واقعے کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق سکیورٹی فورسز کی جانب سے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن جاری ہے۔</p>
<h3><a id="کے-پی-گورنر-کی-رپورٹ-طلب" href="#کے-پی-گورنر-کی-رپورٹ-طلب" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>کے پی گورنر کی رپورٹ طلب</h3>
<p>گورنر خیبر پختونخوا  فیصل کریم کنڈی نے واقعے پر پولیس کے اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب کر لی، گورنر ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے گہرے رنج و غم اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے شہدا کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔</p>
<p>فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس کے بہادر جوانوں نے عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے جامِ شہادت نوش کیا اور انہوں نے شہدا پر فخر کا اظہار کیا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی سرپرستی میں سرگرم فتنہ الخوارج کی کارروائیاں ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتیں۔</p>
<p>گورنر نے صوبے میں امن و امان کے قیام کے لیے تحریک انصاف کی زیر قیادت صوبائی حکومت سے عملی اقدامات اٹھانے کا مطالبہ بھی کیا۔</p>
<h3><a id="قوم-کے-پُرامن-کل-کے-لیے-آج-کی-قربانی" href="#قوم-کے-پُرامن-کل-کے-لیے-آج-کی-قربانی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>قوم کے پُرامن کل کے لیے آج کی قربانی</h3>
<p>صدر مملکت آصف علی زرداری نے دہشت گرد حملے میں پولیس اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔</p>
<p>ایوانِ صدر سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے پولیس اہلکاروں کی بہادری اور ملک کی خدمت کے جذبے کو خراجِ تحسین پیش کیا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MediaCellPPP/status/2010658334727458837?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2010658334727458837%7Ctwgr%5Eff4171a85ff6c1217645d085b27b5c7b85a75abb%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966559'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/MediaCellPPP/status/2010658334727458837?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2010658334727458837%7Ctwgr%5Eff4171a85ff6c1217645d085b27b5c7b85a75abb%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966559"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>صدر نے شہدا کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔</p>
<p>وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے پولیس کے پانچ اہلکاروں کی قربانیوں کو سراہا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MOIofficialGoP/status/2010658334685454489?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2010658334685454489%7Ctwgr%5Eff4171a85ff6c1217645d085b27b5c7b85a75abb%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966559'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/MOIofficialGoP/status/2010658334685454489?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2010658334685454489%7Ctwgr%5Eff4171a85ff6c1217645d085b27b5c7b85a75abb%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966559"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>وزارت داخلہ کے مطابق محسن نقوی نے کہا کہ پولیس کے بہادر جوانوں نے قوم کے پُرامن کل کے لیے آج کی قربانی دی، اور شہدا کی عظیم قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275081</guid>
      <pubDate>Mon, 12 Jan 2026 16:00:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد عرفان مغل)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/12155525367fe22.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/12155525367fe22.webp"/>
        <media:title>پولیس ترجمان نے بتایا کہ شہدا میں ایک ایڈیشنل اسٹیشن ہاؤس آفیسر بھی شامل ہے۔ فوٹو: کے پی پولیس
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران نے مذاکرات کے لیے رابطہ کیا ہے مگر اس سے پہلے کارروائی بھی ہوسکتی ہے، ٹرمپ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275076/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی قیادت نے فوجی کارروائی کی دھمکیوں کے بعد مذاکرات کے لیے رابطہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایئر فورس ون میں اتوار کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ ایران کے رہنماؤں نے گزشتہ روز فون کیا اور ایک ملاقات طے کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق ایران مذاکرات چاہتا ہے تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ممکن ہے ملاقات سے پہلے ہی ہمیں کارروائی کرنا پڑے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران میں 2022 کے بعد سے سب سے بڑے مظاہروں کے تناظر میں ٹرمپ متعدد بار یہ دھمکی دے چکے ہیں کہ اگر مظاہرین کے خلاف طاقت استعمال کی گئی تو امریکا مداخلت کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران نے مظاہروں میں ہلاکتوں کے حوالے سے کوئی سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کیے، جبکہ رائٹرز بھی انسانی حقوق کی تنظیموں کے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مظاہرے 28 دسمبر کو مہنگائی میں شدید اضافے کے خلاف شروع ہوئے تھے، جو بعد ازاں 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد قائم ہونے والے نظام کے خلاف احتجاج میں بدل گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="مفلوج-شہر" href="#مفلوج-شہر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;مفلوج شہر&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;تہران میں اے ایف پی کے ایک صحافی کے مطابق شہر تقریباً مفلوج حالت میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مظاہروں کے آغاز کے بعد گوشت کی قیمتیں تقریباً دگنی ہوچکی ہیں جبکہ بیشتر دکانیں بند ہیں جو دکانیں کھلتی بھی ہیں وہ سکیورٹی فورسز کی بڑے پیمانے پر تعیناتی کے باعث شام چار یا پانچ بجے بند کر دی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتوار کو سوشل میڈیا پر مظاہروں کی ویڈیوز کم نظر آئیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ اس کی وجہ انٹرنیٹ بندش کس حد تک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک وائرل ویڈیو میں تہران کے پونک علاقے میں مظاہرین کو معزول بادشاہت کے حق میں نعرے لگاتے دیکھا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مظاہرے 86 سالہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں، خاص طور پر جون میں ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ کے بعد جس کی امریکا نے حمایت کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریاستی ٹی وی نے جلتی عمارتوں جن میں ایک مسجد بھی شامل ہے اور سکیورٹی اہلکاروں کے جنازوں کی تصاویر نشر کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم تین دن کی شدید کارروائیوں کے بعد سرکاری میڈیا نے اتوار کو حالات میں بہتری ظاہر کرنے کی کوشش کی اور رواں ٹریفک کی فوٹیج نشر کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تہران کے گورنر محمد صادق معتمدیان نے ٹیلی وژن پر کہا کہ مظاہروں کی تعداد میں کمی آ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی حکومت نے اتوار کو سکیورٹی اہلکاروں سمیت ہلاک ہونے والوں کو شہدا قرار دیتے ہوئے تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر مسعود پزشکیان نے بھی پیر کو تشدد کے خلاف قومی مزاحمتی مارچ میں شرکت کی اپیل کی۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ٹرمپ-کا-ایلون-مسک-سے-ایران-میں-انٹرنیٹ-بحال-کرنے-پرگفتگو-کرنے-کا-اعلان" href="#ٹرمپ-کا-ایلون-مسک-سے-ایران-میں-انٹرنیٹ-بحال-کرنے-پرگفتگو-کرنے-کا-اعلان" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ٹرمپ کا ایلون مسک سے ایران میں انٹرنیٹ بحال کرنے پرگفتگو کرنے کا اعلان&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ ایران میں انٹرنیٹ کی بحالی کے لیے ایلون مسک سے بات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جہاں چار دن سے انٹرنیٹ سروس بند ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صحافیوں کے سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ ایلون مسک اس قسم کے معاملات میں ماہر ہیں اور ان کی کمپنی سیٹلائٹ انٹرنیٹ فراہم کرتی ہے۔ اسپیس ایکس کی اسٹار لنک سروس ماضی میں ایران میں استعمال ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/netblocks/status/2010570931559915633?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2010570931559915633%7Ctwgr%5E939e044a606ccbd3b7373ad0c35a51e5d0225e79%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966524'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/netblocks/status/2010570931559915633?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2010570931559915633%7Ctwgr%5E939e044a606ccbd3b7373ad0c35a51e5d0225e79%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966524"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایلون مسک اور اسپیس ایکس کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات سے جاری انٹرنیٹ بندش کے باعث ایران سے اطلاعات کی ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="رضا-پہلوی-کا-سکیورٹی-فورسز-سے-عوام-کا-ساتھ-دینے-کا-مطالبہ" href="#رضا-پہلوی-کا-سکیورٹی-فورسز-سے-عوام-کا-ساتھ-دینے-کا-مطالبہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;رضا پہلوی کا سکیورٹی فورسز سے عوام کا ساتھ دینے کا مطالبہ&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;امریکا میں مقیم معزول ایرانی شاہ کے بیٹے رضا پہلوی نے ایرانی سرکاری ملازمین اور سکیورٹی فورسز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عوامی احتجاجی تحریک کا ساتھ دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رضا پہلوی نے سوشل میڈیا پر کہا کہ سرکاری اداروں کے ملازمین اور مسلح و سکیورٹی فورسز کے ارکان کے پاس انتخاب ہے کہ وہ عوام کے ساتھ کھڑے ہو کر قوم کے اتحادی بنیں یا پھر عوام کے قاتلوں کے ساتھ شریک رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بیرون ملک ایرانی سفارت خانوں کے باہر اسلامی جمہوریہ کے پرچم کے بجائے انقلاب سے پہلے والا قومی پرچم لہرانے کا مطالبہ بھی کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق اب وقت آ گیا ہے کہ ایرانی سفارت خانے اسلامی جمہوریہ کے شرمناک پرچم کے بجائے ایران کے اصل قومی پرچم سے آراستہ ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لندن میں مظاہرین نے ہفتے کے آخر میں ایرانی سفارت خانے پر اسلامی دور سے پہلے والا پرچم لہرا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پرچم دنیا بھر میں ایران میں ہونے والے مظاہروں کے حق میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کی علامت بن چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ایران کی وزارت خارجہ نے پرچم کی تبدیلی پر برطانوی سفیر کو اتوار طلب کیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی قیادت نے فوجی کارروائی کی دھمکیوں کے بعد مذاکرات کے لیے رابطہ کیا ہے۔</p>
<p>ایئر فورس ون میں اتوار کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ ایران کے رہنماؤں نے گزشتہ روز فون کیا اور ایک ملاقات طے کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق ایران مذاکرات چاہتا ہے تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ممکن ہے ملاقات سے پہلے ہی ہمیں کارروائی کرنا پڑے۔</p>
<p>ایران میں 2022 کے بعد سے سب سے بڑے مظاہروں کے تناظر میں ٹرمپ متعدد بار یہ دھمکی دے چکے ہیں کہ اگر مظاہرین کے خلاف طاقت استعمال کی گئی تو امریکا مداخلت کر سکتا ہے۔</p>
<p>ایران نے مظاہروں میں ہلاکتوں کے حوالے سے کوئی سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کیے، جبکہ رائٹرز بھی انسانی حقوق کی تنظیموں کے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔</p>
<p>یہ مظاہرے 28 دسمبر کو مہنگائی میں شدید اضافے کے خلاف شروع ہوئے تھے، جو بعد ازاں 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد قائم ہونے والے نظام کے خلاف احتجاج میں بدل گئے۔</p>
<h3><a id="مفلوج-شہر" href="#مفلوج-شہر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>مفلوج شہر</h3>
<p>تہران میں اے ایف پی کے ایک صحافی کے مطابق شہر تقریباً مفلوج حالت میں ہے۔</p>
<p>مظاہروں کے آغاز کے بعد گوشت کی قیمتیں تقریباً دگنی ہوچکی ہیں جبکہ بیشتر دکانیں بند ہیں جو دکانیں کھلتی بھی ہیں وہ سکیورٹی فورسز کی بڑے پیمانے پر تعیناتی کے باعث شام چار یا پانچ بجے بند کر دی جاتی ہیں۔</p>
<p>اتوار کو سوشل میڈیا پر مظاہروں کی ویڈیوز کم نظر آئیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ اس کی وجہ انٹرنیٹ بندش کس حد تک ہے۔</p>
<p>ایک وائرل ویڈیو میں تہران کے پونک علاقے میں مظاہرین کو معزول بادشاہت کے حق میں نعرے لگاتے دیکھا جا سکتا ہے۔</p>
<p>یہ مظاہرے 86 سالہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں، خاص طور پر جون میں ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ کے بعد جس کی امریکا نے حمایت کی تھی۔</p>
<p>ریاستی ٹی وی نے جلتی عمارتوں جن میں ایک مسجد بھی شامل ہے اور سکیورٹی اہلکاروں کے جنازوں کی تصاویر نشر کیں۔</p>
<p>تاہم تین دن کی شدید کارروائیوں کے بعد سرکاری میڈیا نے اتوار کو حالات میں بہتری ظاہر کرنے کی کوشش کی اور رواں ٹریفک کی فوٹیج نشر کی۔</p>
<p>تہران کے گورنر محمد صادق معتمدیان نے ٹیلی وژن پر کہا کہ مظاہروں کی تعداد میں کمی آ رہی ہے۔</p>
<p>ایرانی حکومت نے اتوار کو سکیورٹی اہلکاروں سمیت ہلاک ہونے والوں کو شہدا قرار دیتے ہوئے تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا۔</p>
<p>صدر مسعود پزشکیان نے بھی پیر کو تشدد کے خلاف قومی مزاحمتی مارچ میں شرکت کی اپیل کی۔</p>
<h3><a id="ٹرمپ-کا-ایلون-مسک-سے-ایران-میں-انٹرنیٹ-بحال-کرنے-پرگفتگو-کرنے-کا-اعلان" href="#ٹرمپ-کا-ایلون-مسک-سے-ایران-میں-انٹرنیٹ-بحال-کرنے-پرگفتگو-کرنے-کا-اعلان" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ٹرمپ کا ایلون مسک سے ایران میں انٹرنیٹ بحال کرنے پرگفتگو کرنے کا اعلان</h3>
<p>ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ ایران میں انٹرنیٹ کی بحالی کے لیے ایلون مسک سے بات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جہاں چار دن سے انٹرنیٹ سروس بند ہے۔</p>
<p>صحافیوں کے سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ ایلون مسک اس قسم کے معاملات میں ماہر ہیں اور ان کی کمپنی سیٹلائٹ انٹرنیٹ فراہم کرتی ہے۔ اسپیس ایکس کی اسٹار لنک سروس ماضی میں ایران میں استعمال ہو چکی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/netblocks/status/2010570931559915633?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2010570931559915633%7Ctwgr%5E939e044a606ccbd3b7373ad0c35a51e5d0225e79%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966524'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/netblocks/status/2010570931559915633?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2010570931559915633%7Ctwgr%5E939e044a606ccbd3b7373ad0c35a51e5d0225e79%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966524"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ایلون مسک اور اسپیس ایکس کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔</p>
<p>جمعرات سے جاری انٹرنیٹ بندش کے باعث ایران سے اطلاعات کی ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے۔</p>
<h3><a id="رضا-پہلوی-کا-سکیورٹی-فورسز-سے-عوام-کا-ساتھ-دینے-کا-مطالبہ" href="#رضا-پہلوی-کا-سکیورٹی-فورسز-سے-عوام-کا-ساتھ-دینے-کا-مطالبہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>رضا پہلوی کا سکیورٹی فورسز سے عوام کا ساتھ دینے کا مطالبہ</h3>
<p>امریکا میں مقیم معزول ایرانی شاہ کے بیٹے رضا پہلوی نے ایرانی سرکاری ملازمین اور سکیورٹی فورسز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عوامی احتجاجی تحریک کا ساتھ دیں۔</p>
<p>رضا پہلوی نے سوشل میڈیا پر کہا کہ سرکاری اداروں کے ملازمین اور مسلح و سکیورٹی فورسز کے ارکان کے پاس انتخاب ہے کہ وہ عوام کے ساتھ کھڑے ہو کر قوم کے اتحادی بنیں یا پھر عوام کے قاتلوں کے ساتھ شریک رہیں۔</p>
<p>انہوں نے بیرون ملک ایرانی سفارت خانوں کے باہر اسلامی جمہوریہ کے پرچم کے بجائے انقلاب سے پہلے والا قومی پرچم لہرانے کا مطالبہ بھی کیا۔</p>
<p>ان کے مطابق اب وقت آ گیا ہے کہ ایرانی سفارت خانے اسلامی جمہوریہ کے شرمناک پرچم کے بجائے ایران کے اصل قومی پرچم سے آراستہ ہوں۔</p>
<p>لندن میں مظاہرین نے ہفتے کے آخر میں ایرانی سفارت خانے پر اسلامی دور سے پہلے والا پرچم لہرا دیا۔</p>
<p>یہ پرچم دنیا بھر میں ایران میں ہونے والے مظاہروں کے حق میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کی علامت بن چکا ہے۔</p>
<p>ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ایران کی وزارت خارجہ نے پرچم کی تبدیلی پر برطانوی سفیر کو اتوار طلب کیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275076</guid>
      <pubDate>Mon, 12 Jan 2026 12:09:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/121156167d5b729.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/121156167d5b729.webp"/>
        <media:title>ٹرمپ نے خبردار کیا کہ ممکن ہے ملاقات سے پہلے ہی ہمیں کارروائی کرنا پڑے۔ فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹی ایل پی سربراہ سعد رضوی اور ان کے بھائی کی گمشدگی کا معما برقرار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275086/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور: قانون نافذ کرنے والے ادارے تقریباً تین ماہ گزرنے کے باوجود تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد حسین رضوی اور ان کے بھائی انس رضوی کے ٹھکانے کے بارے میں لاعلم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1966699/law-enforcers-still-in-the-dark-on-tlp-leaders-whereabouts"&gt;&lt;strong&gt;خبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق یہ معاملہ چند روز قبل اس وقت دوبارہ سامنے آیا جب کالعدم مذہبی تنظیم سے منسوب ایک مبینہ بیان سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگا، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ دونوں بھائی ریاستی اداروں کی تحویل میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم قانون نافذ کرنے والے سینئر حکام اپنے پہلے مؤقف پر قائم ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ دونوں بھائی آزاد جموں و کشمیر میں کہیں چھپے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق رضوی برادران اس دن فرار ہوئے جب پنجاب پولیس نے مریدکے میں جی ٹی روڈ پر قائم ٹی ایل پی کے احتجاجی کیمپ کو ختم کرنے کے لیے علی الصبح آپریشن کیا تھا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271153/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271153"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایک سینئر افسر نے ڈان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ سعد اور انس کسی بھی سیکیورٹی ادارے کی تحویل میں نہیں اور تاحال آزاد کشمیر میں موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے بقول غالب امکان ہے کہ وہ کالعدم تنظیم کے کسی وفادار کارکن کے پاس پہاڑی علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مبینہ ٹی ایل پی بیان کو جھوٹا، مضحکہ خیز اور خود ساختہ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق بیان وائرل ہونے کے بعد ایک سینئر پنجاب افسر کو وفاقی حکام سے رابطہ کر کے اس دعوے کی تصدیق کی ذمہ داری دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنجاب پولیس نے اسلام آباد میں متعلقہ حکام کو آگاہ کیا کہ اگر سعد اور انس کسی ادارے کی تحویل میں ہوں تو انہیں متعدد مقدمات میں گرفتار کیا جانا چاہیے، تاہم وفاقی حکام نے بتایا کہ دونوں کسی ایجنسی کی تحویل میں نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں بھائیوں کو سنگین نوعیت کے مقدمات میں انتہائی مطلوب ملزمان قرار دیا جا چکا ہے، جن میں انسداد دہشت گردی کے الزامات بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق سعد اور انس کے خلاف شیخوپورہ میں 44 جبکہ لاہور میں 11 مقدمات درج ہیں، جن میں انہیں نامزد کیا گیا ہے اور الزامات نہایت سنگین نوعیت کے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بھی بتایا گیا کہ دونوں روپوش رہنماؤں کی گرفتاری میں مشکلات اس لیے پیش آ رہی ہیں کیونکہ وہ فون یا دیگر ڈیجیٹل ذرائع استعمال نہیں کر رہے، جس کے باعث ان کے ٹھکانوں کا سراغ لگانا مشکل ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272679'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272679"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایک افسر نے کہا کہ ملک بھر میں تمام نظام متحرک کیے جا چکے ہیں اور متعلقہ ریاستی اداروں نے تصدیق کی ہے کہ ٹی ایل پی کے سربراہ اور ان کے بھائی پاکستان ہی میں موجود ہیں، جب کہ ان کے بیرون ملک فرار ہونے کا امکان مسترد کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ پنجاب پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے متعدد ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الزامات کے بارے میں بتایا گیا کہ دونوں بھائیوں نے مبینہ طور پر ٹی ایل پی کارکنوں اور سخت گیر عناصر کو قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں، سرکاری گاڑیوں اور املاک کو نقصان پہنچانے پر اکسایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور اور شیخوپورہ میں ٹی ایل پی کارکنوں کے بار بار حملوں کے دوران ایک ایس ایچ او جاں بحق جبکہ درجنوں اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ حکام کے مطابق سعد رضوی اور انس رضوی نے اکتوبر میں لاہور سے اسلام آباد کی جانب غزہ مارچ کی قیادت بھی کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا ایف آئی اے نے بھی کارروائی کرتے ہوئے سعد رضوی سے منسوب تقریباً 95 بینک اکاؤنٹس کا سراغ لگایا اور منی لانڈرنگ کے الزامات کے تحت تحقیقات شروع کر دی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نے کالعدم ٹی ایل پی کے ترجمان یا نمائندے سے رابطہ کر کے اس دعوے کی تصدیق کی کوشش کی کہ سعد رضوی اور انس رضوی ریاستی اداروں کی تحویل میں ہیں تاہم فون اور واٹس ایپ پیغامات کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور: قانون نافذ کرنے والے ادارے تقریباً تین ماہ گزرنے کے باوجود تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد حسین رضوی اور ان کے بھائی انس رضوی کے ٹھکانے کے بارے میں لاعلم ہیں۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1966699/law-enforcers-still-in-the-dark-on-tlp-leaders-whereabouts"><strong>خبر</strong></a> کے مطابق یہ معاملہ چند روز قبل اس وقت دوبارہ سامنے آیا جب کالعدم مذہبی تنظیم سے منسوب ایک مبینہ بیان سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگا، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ دونوں بھائی ریاستی اداروں کی تحویل میں ہیں۔</p>
<p>تاہم قانون نافذ کرنے والے سینئر حکام اپنے پہلے مؤقف پر قائم ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ دونوں بھائی آزاد جموں و کشمیر میں کہیں چھپے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق رضوی برادران اس دن فرار ہوئے جب پنجاب پولیس نے مریدکے میں جی ٹی روڈ پر قائم ٹی ایل پی کے احتجاجی کیمپ کو ختم کرنے کے لیے علی الصبح آپریشن کیا تھا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271153/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271153"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ایک سینئر افسر نے ڈان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ سعد اور انس کسی بھی سیکیورٹی ادارے کی تحویل میں نہیں اور تاحال آزاد کشمیر میں موجود ہیں۔</p>
<p>ان کے بقول غالب امکان ہے کہ وہ کالعدم تنظیم کے کسی وفادار کارکن کے پاس پہاڑی علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مبینہ ٹی ایل پی بیان کو جھوٹا، مضحکہ خیز اور خود ساختہ قرار دیا۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق بیان وائرل ہونے کے بعد ایک سینئر پنجاب افسر کو وفاقی حکام سے رابطہ کر کے اس دعوے کی تصدیق کی ذمہ داری دی گئی۔</p>
<p>پنجاب پولیس نے اسلام آباد میں متعلقہ حکام کو آگاہ کیا کہ اگر سعد اور انس کسی ادارے کی تحویل میں ہوں تو انہیں متعدد مقدمات میں گرفتار کیا جانا چاہیے، تاہم وفاقی حکام نے بتایا کہ دونوں کسی ایجنسی کی تحویل میں نہیں ہیں۔</p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں بھائیوں کو سنگین نوعیت کے مقدمات میں انتہائی مطلوب ملزمان قرار دیا جا چکا ہے، جن میں انسداد دہشت گردی کے الزامات بھی شامل ہیں۔</p>
<p>حکام کے مطابق سعد اور انس کے خلاف شیخوپورہ میں 44 جبکہ لاہور میں 11 مقدمات درج ہیں، جن میں انہیں نامزد کیا گیا ہے اور الزامات نہایت سنگین نوعیت کے ہیں۔</p>
<p>یہ بھی بتایا گیا کہ دونوں روپوش رہنماؤں کی گرفتاری میں مشکلات اس لیے پیش آ رہی ہیں کیونکہ وہ فون یا دیگر ڈیجیٹل ذرائع استعمال نہیں کر رہے، جس کے باعث ان کے ٹھکانوں کا سراغ لگانا مشکل ہو گیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272679'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272679"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ایک افسر نے کہا کہ ملک بھر میں تمام نظام متحرک کیے جا چکے ہیں اور متعلقہ ریاستی اداروں نے تصدیق کی ہے کہ ٹی ایل پی کے سربراہ اور ان کے بھائی پاکستان ہی میں موجود ہیں، جب کہ ان کے بیرون ملک فرار ہونے کا امکان مسترد کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ پنجاب پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے متعدد ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔</p>
<p>الزامات کے بارے میں بتایا گیا کہ دونوں بھائیوں نے مبینہ طور پر ٹی ایل پی کارکنوں اور سخت گیر عناصر کو قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں، سرکاری گاڑیوں اور املاک کو نقصان پہنچانے پر اکسایا۔</p>
<p>لاہور اور شیخوپورہ میں ٹی ایل پی کارکنوں کے بار بار حملوں کے دوران ایک ایس ایچ او جاں بحق جبکہ درجنوں اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ حکام کے مطابق سعد رضوی اور انس رضوی نے اکتوبر میں لاہور سے اسلام آباد کی جانب غزہ مارچ کی قیادت بھی کی تھی۔</p>
<p>دریں اثنا ایف آئی اے نے بھی کارروائی کرتے ہوئے سعد رضوی سے منسوب تقریباً 95 بینک اکاؤنٹس کا سراغ لگایا اور منی لانڈرنگ کے الزامات کے تحت تحقیقات شروع کر دی ہیں۔</p>
<p>ڈان نے کالعدم ٹی ایل پی کے ترجمان یا نمائندے سے رابطہ کر کے اس دعوے کی تصدیق کی کوشش کی کہ سعد رضوی اور انس رضوی ریاستی اداروں کی تحویل میں ہیں تاہم فون اور واٹس ایپ پیغامات کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275086</guid>
      <pubDate>Tue, 13 Jan 2026 13:42:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (آصف چوہدری)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/13132723a0858db.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/13132723a0858db.webp"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: ایکس
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’کشمیر کی وادی ہماری ہے‘ چین نے شکسگام پر بھارتی دعویٰ مسترد کر دیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275085/</link>
      <description>&lt;p&gt;چین نے بھارتی وزارت خارجہ کے کشمیر کی وادی شکسگام سے متعلق دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ شکسگام چین کا علاقہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کو پریس کانفرنس کے دوران جب پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے شکسگام وادی میں چین کے انفرااسٹرکچر منصوبوں پر بھارتی تنقید سے متعلق سوال کیا تو چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے کہا کہ چین کو اپنی سرزمین پر تعمیراتی سرگرمیاں انجام دینے کا مکمل حق حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ جس علاقے کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ چین کا حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے جمعے کو کہا تھا کہ شکسگام وادی بھارتی علاقہ ہے اور نئی دہلی اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ بھارت نے 1963 میں ہونے والے نام نہاد چین پاکستان سرحدی معاہدے کو کبھی تسلیم نہیں کیا اور اس معاہدے کو غیر قانونی اور کالعدم سمجھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی ترجمان نے یہ بھی کہا کہ نئی دہلی نام نہاد چین پاکستان اقتصادی راہداری کو بھی تسلیم نہیں کرتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر اور لداخ کے تمام یونین ٹیریٹریز بھارت کا اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ ہیں اور یہ مؤقف پاکستانی اور چینی حکام کو متعدد بار واضح طور پر بتایا جا چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ بھارت شکسگام وادی میں زمینی حقائق تبدیل کرنے کی چینی کوششوں پر مسلسل احتجاج کرتا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی ترجمان ماؤ ننگ نے بھارتی مؤقف کے جواب میں کہا کہ چین اور پاکستان نے 1960 کی دہائی میں سرحدی معاہدے پر دستخط کیے تھے اور دونوں ممالک نے اپنی سرحدوں کی حد بندی کی تھی جو خودمختار ریاستوں کا حق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری ایک اقتصادی تعاون کا منصوبہ ہے جس کا مقصد مقامی سماجی و اقتصادی ترقی اور عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماؤ ننگ کے مطابق چین پاکستان سرحدی معاہدہ اور سی پیک، کشمیر کے مسئلے پر چین کے مؤقف کو متاثر نہیں کرتے اور اس حوالے سے چین کا مؤقف بدستور برقرار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ بھارت اور چین کے درمیان طویل عرصے سے سرحدی تنازعات چلے آ رہے ہیں، تاہم 2024 میں دونوں ممالک نے ہمالیائی سرحد پر فوجی کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک اہم معاہدہ کیا تھا، جہاں 2020 میں جھڑپ کے دوران بھارت کے 20 اور چین کے چار فوجی ہلاک ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2024 کے معاہدے کے بعد دونوں ممالک نے تعلقات بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے، جن میں براہ راست پروازوں کی بحالی اور سرمایہ کاری و تجارت میں اضافہ شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود چین اور بھارت کے درمیان اروناچل پردیش سمیت مختلف علاقوں پر تنازع برقرار ہے، جسے بیجنگ زانگنان کہتا ہے اور جنوبی تبت کا حصہ قرار دیتا ہے جبکہ بھارت ان دعووں کو مسلسل مسترد کرتا آیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیجنگ کی جانب سے اس شمال مشرقی ہمالیائی ریاست میں مقامات کے نام تبدیل کرنے پر بھی نئی دہلی کی طرف سے سخت ردعمل سامنے آتا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>چین نے بھارتی وزارت خارجہ کے کشمیر کی وادی شکسگام سے متعلق دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ شکسگام چین کا علاقہ ہے۔</p>
<p>پیر کو پریس کانفرنس کے دوران جب پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے شکسگام وادی میں چین کے انفرااسٹرکچر منصوبوں پر بھارتی تنقید سے متعلق سوال کیا تو چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے کہا کہ چین کو اپنی سرزمین پر تعمیراتی سرگرمیاں انجام دینے کا مکمل حق حاصل ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ جس علاقے کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ چین کا حصہ ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے جمعے کو کہا تھا کہ شکسگام وادی بھارتی علاقہ ہے اور نئی دہلی اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ بھارت نے 1963 میں ہونے والے نام نہاد چین پاکستان سرحدی معاہدے کو کبھی تسلیم نہیں کیا اور اس معاہدے کو غیر قانونی اور کالعدم سمجھتا ہے۔</p>
<p>بھارتی ترجمان نے یہ بھی کہا کہ نئی دہلی نام نہاد چین پاکستان اقتصادی راہداری کو بھی تسلیم نہیں کرتی۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر اور لداخ کے تمام یونین ٹیریٹریز بھارت کا اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ ہیں اور یہ مؤقف پاکستانی اور چینی حکام کو متعدد بار واضح طور پر بتایا جا چکا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ بھارت شکسگام وادی میں زمینی حقائق تبدیل کرنے کی چینی کوششوں پر مسلسل احتجاج کرتا رہا ہے۔</p>
<p>چینی ترجمان ماؤ ننگ نے بھارتی مؤقف کے جواب میں کہا کہ چین اور پاکستان نے 1960 کی دہائی میں سرحدی معاہدے پر دستخط کیے تھے اور دونوں ممالک نے اپنی سرحدوں کی حد بندی کی تھی جو خودمختار ریاستوں کا حق ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری ایک اقتصادی تعاون کا منصوبہ ہے جس کا مقصد مقامی سماجی و اقتصادی ترقی اور عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا ہے۔</p>
<p>ماؤ ننگ کے مطابق چین پاکستان سرحدی معاہدہ اور سی پیک، کشمیر کے مسئلے پر چین کے مؤقف کو متاثر نہیں کرتے اور اس حوالے سے چین کا مؤقف بدستور برقرار ہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ بھارت اور چین کے درمیان طویل عرصے سے سرحدی تنازعات چلے آ رہے ہیں، تاہم 2024 میں دونوں ممالک نے ہمالیائی سرحد پر فوجی کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک اہم معاہدہ کیا تھا، جہاں 2020 میں جھڑپ کے دوران بھارت کے 20 اور چین کے چار فوجی ہلاک ہوئے تھے۔</p>
<p>2024 کے معاہدے کے بعد دونوں ممالک نے تعلقات بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے، جن میں براہ راست پروازوں کی بحالی اور سرمایہ کاری و تجارت میں اضافہ شامل ہے۔</p>
<p>اس کے باوجود چین اور بھارت کے درمیان اروناچل پردیش سمیت مختلف علاقوں پر تنازع برقرار ہے، جسے بیجنگ زانگنان کہتا ہے اور جنوبی تبت کا حصہ قرار دیتا ہے جبکہ بھارت ان دعووں کو مسلسل مسترد کرتا آیا ہے۔</p>
<p>بیجنگ کی جانب سے اس شمال مشرقی ہمالیائی ریاست میں مقامات کے نام تبدیل کرنے پر بھی نئی دہلی کی طرف سے سخت ردعمل سامنے آتا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275085</guid>
      <pubDate>Tue, 13 Jan 2026 13:19:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/13131200632efb4.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/13131200632efb4.webp"/>
        <media:title>چینی ترجمان ماؤ ننگ نے بھارتی مؤقف کے جواب میں کہا کہ چین اور پاکستان نے 1960 کی دہائی میں سرحدی معاہدے پر دستخط کیے تھے اور دونوں ممالک نے اپنی سرحدوں کی حد بندی کی تھی، جو خودمختار ریاستوں کا حق ہے۔ فوٹو: چینی وزارت خارجہ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستانی مسافروں کیلئے بڑی خبر، یو اے ای پہنچنے پر طویل امیگریشن کارروائی سے چھٹکارا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275084/</link>
      <description>&lt;p&gt;متحدہ عرب امارات اور پاکستان نے  متحدہ عرب امارات (یو اے ای) جانے والے پاکستانی شہریوں کے لیے پری امیگریشن کلیئرنس سے متعلق باضابطہ معاہدہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت داخلہ کے مطابق معاہدے پر دستخط کے بعد پاکستانی شہریوں کو یو اے ای پہنچنے پر طویل امیگریشن عمل سے گزرنا نہیں پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیصلہ وزیر داخلہ محسن نقوی اور یو اے ای کے وفد کے درمیان ملاقات میں کیا گیا، جس کی قیادت ڈائریکٹر جنرل کسٹمز اینڈ پورٹ سیکیورٹی احمد بن لہج الفلاسی نے کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محسن نقوی کے مطابق مسافروں کی امیگریشن کارروائی سفر سے قبل پاکستان میں مکمل کر لی جائے گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274392'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274392"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس نظام کے نفاذ کے بعد پاکستانی شہری یو اے ای پہنچنے پر ڈومیسٹک پروازوں کے مسافروں کی طرح براہ راست ایئرپورٹ سے باہر جا سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر داخلہ نے بتایا کہ یہ نظام پائلٹ منصوبے کے طور پر متعارف کرایا جائے گا جس کا پہلا مرحلہ کراچی سے شروع ہوگا تاہم اس کے آغاز کی تاریخ نہیں بتائی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محسن نقوی نے امید ظاہر کی کہ نیا نظام سفر کو آسان بنائے گا اور مجموعی سفری تجربے کو بہتر کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یو اے ای کے وفد نے اس اقدام کو دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند قرار دیتے ہوئے اس پر عملدرآمد میں تعاون کی یقین دہانی کرائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق متعلقہ ادارے پائلٹ منصوبے کے انتظامی اور تکنیکی پہلوؤں کو حتمی شکل دینے کے لیے باہمی رابطہ رکھیں گے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1263892'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1263892"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;کراچی میں پائلٹ مرحلہ مکمل ہونے کے بعد اس نظام کو دیگر شہروں تک بھی توسیع دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور وفاقی سیکریٹری داخلہ خرم آغا بھی موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستانیوں کو یو اے ای کے ویزے حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نومبر 2025 میں ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ سلمان چوہدری نے بتایا تھا کہ یو اے ای پاکستانیوں کو ویزے جاری نہیں کر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں یہ بھی کہا تھا کہ سعودی عرب اور یو اے ای نے پاکستانی پاسپورٹ پر پابندی عائد کرنے سے بس ایک قدم پیچھے رہ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>متحدہ عرب امارات اور پاکستان نے  متحدہ عرب امارات (یو اے ای) جانے والے پاکستانی شہریوں کے لیے پری امیگریشن کلیئرنس سے متعلق باضابطہ معاہدہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔</p>
<p>وزارت داخلہ کے مطابق معاہدے پر دستخط کے بعد پاکستانی شہریوں کو یو اے ای پہنچنے پر طویل امیگریشن عمل سے گزرنا نہیں پڑے گا۔</p>
<p>یہ فیصلہ وزیر داخلہ محسن نقوی اور یو اے ای کے وفد کے درمیان ملاقات میں کیا گیا، جس کی قیادت ڈائریکٹر جنرل کسٹمز اینڈ پورٹ سیکیورٹی احمد بن لہج الفلاسی نے کی۔</p>
<p>محسن نقوی کے مطابق مسافروں کی امیگریشن کارروائی سفر سے قبل پاکستان میں مکمل کر لی جائے گی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274392'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274392"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے کہا کہ اس نظام کے نفاذ کے بعد پاکستانی شہری یو اے ای پہنچنے پر ڈومیسٹک پروازوں کے مسافروں کی طرح براہ راست ایئرپورٹ سے باہر جا سکیں گے۔</p>
<p>وزیر داخلہ نے بتایا کہ یہ نظام پائلٹ منصوبے کے طور پر متعارف کرایا جائے گا جس کا پہلا مرحلہ کراچی سے شروع ہوگا تاہم اس کے آغاز کی تاریخ نہیں بتائی گئی۔</p>
<p>محسن نقوی نے امید ظاہر کی کہ نیا نظام سفر کو آسان بنائے گا اور مجموعی سفری تجربے کو بہتر کرے گا۔</p>
<p>یو اے ای کے وفد نے اس اقدام کو دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند قرار دیتے ہوئے اس پر عملدرآمد میں تعاون کی یقین دہانی کرائی۔</p>
<p>بیان کے مطابق متعلقہ ادارے پائلٹ منصوبے کے انتظامی اور تکنیکی پہلوؤں کو حتمی شکل دینے کے لیے باہمی رابطہ رکھیں گے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1263892'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1263892"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>کراچی میں پائلٹ مرحلہ مکمل ہونے کے بعد اس نظام کو دیگر شہروں تک بھی توسیع دی جائے گی۔</p>
<p>ملاقات میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور وفاقی سیکریٹری داخلہ خرم آغا بھی موجود تھے۔</p>
<p>یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستانیوں کو یو اے ای کے ویزے حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا رہا ہے۔</p>
<p>نومبر 2025 میں ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ سلمان چوہدری نے بتایا تھا کہ یو اے ای پاکستانیوں کو ویزے جاری نہیں کر رہا۔</p>
<p>انہوں نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں یہ بھی کہا تھا کہ سعودی عرب اور یو اے ای نے پاکستانی پاسپورٹ پر پابندی عائد کرنے سے بس ایک قدم پیچھے رہ گئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275084</guid>
      <pubDate>Tue, 13 Jan 2026 13:06:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/13125733d38128e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/13125733d38128e.webp"/>
        <media:title>وزیر داخلہ نے بتایا کہ یہ نظام پائلٹ منصوبے کے طور پر متعارف کرایا جائے گا جس کا پہلا مرحلہ کراچی سے شروع ہوگا، تاہم اس کے آغاز کی تاریخ نہیں بتائی گئی۔ فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت کا 8 ماہ میں دوسرا خلائی مشن ناکام</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275082/</link>
      <description>&lt;p&gt;زمین کی نگرانی کرنے والے سیٹلائٹ سمیت آلات اور تجربات کے 16 لوڈز لے جانے والا ایک بھارتی راکٹ روانگی کے بعد اپنے راستے سے بھٹک گیا، جو انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کے سب سے اہم لانچ وہیکل کے لیے ایک تازہ دھچکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریباً آٹھ ماہ کے دوران پولر سیٹلائٹ لانچ وہیکل (پی ایس ایل وی) کے لیے یہ دوسری مایوسی تھی، جس سے ماضی کے تقریباً 60 مشنز میں 90 فیصد سے زیادہ کامیابی کی شرح کے حامل اس راکٹ کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='youtube.com/watch?v=GgYh2Vv87ik&amp;amp;embeds_referring_euri=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2F&amp;amp;source_ve_path=OTY3MTQ'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/GgYh2Vv87ik?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;پی ایس ایل وی نے مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بج کر 18 منٹ پر سری ہری کوٹا جزیرے پر واقع ستیش دھون اسپیس سینٹر سے اڑان بھری، جس میں EOS-N1 مشاہداتی سیٹلائٹ اور بھارت اور بیرون ملک کے اسٹارٹ اپس اور تعلیمی اداروں کے تیار کردہ 15 دیگر پے لوڈز شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرو کے مشن کنٹرول نے بتایا کہ راکٹ نے پرواز کے بیشتر حصے میں معمول کے مطابق کام کیا، تاہم اس کے بعد ایک غیر متوقع خلل سامنے آیا اور راکٹ اپنے راستے سے بھٹک گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرو نے ایک بیان میں مزید تفصیلات بتائے بغیر کہ کیا غلط ہوا یا راکٹ کہاں گرا، کہا کہ پی ایس ایل وی C62 مشن کو پی ایس 3 اسٹیج کے اختتام پر خرابی (anomaly) کا سامنا کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ایس ایل وی بھارت کے خلائی پروگرام میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے، جس نے چندریان-1 اور آدتیہ-L1 شمسی رصد گاہ جیسے مشن لانچ کیے ہیں۔اور یہ بھارت کی نجی صنعت کو اسپیس مینوفیکچرنگ میں شامل کرنے کی کوششوں میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>زمین کی نگرانی کرنے والے سیٹلائٹ سمیت آلات اور تجربات کے 16 لوڈز لے جانے والا ایک بھارتی راکٹ روانگی کے بعد اپنے راستے سے بھٹک گیا، جو انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کے سب سے اہم لانچ وہیکل کے لیے ایک تازہ دھچکا ہے۔</p>
<p>تقریباً آٹھ ماہ کے دوران پولر سیٹلائٹ لانچ وہیکل (پی ایس ایل وی) کے لیے یہ دوسری مایوسی تھی، جس سے ماضی کے تقریباً 60 مشنز میں 90 فیصد سے زیادہ کامیابی کی شرح کے حامل اس راکٹ کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='youtube.com/watch?v=GgYh2Vv87ik&amp;embeds_referring_euri=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2F&amp;source_ve_path=OTY3MTQ'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/GgYh2Vv87ik?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>پی ایس ایل وی نے مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بج کر 18 منٹ پر سری ہری کوٹا جزیرے پر واقع ستیش دھون اسپیس سینٹر سے اڑان بھری، جس میں EOS-N1 مشاہداتی سیٹلائٹ اور بھارت اور بیرون ملک کے اسٹارٹ اپس اور تعلیمی اداروں کے تیار کردہ 15 دیگر پے لوڈز شامل تھے۔</p>
<p>اسرو کے مشن کنٹرول نے بتایا کہ راکٹ نے پرواز کے بیشتر حصے میں معمول کے مطابق کام کیا، تاہم اس کے بعد ایک غیر متوقع خلل سامنے آیا اور راکٹ اپنے راستے سے بھٹک گیا۔</p>
<p>اسرو نے ایک بیان میں مزید تفصیلات بتائے بغیر کہ کیا غلط ہوا یا راکٹ کہاں گرا، کہا کہ پی ایس ایل وی C62 مشن کو پی ایس 3 اسٹیج کے اختتام پر خرابی (anomaly) کا سامنا کرنا پڑا۔</p>
<p>پی ایس ایل وی بھارت کے خلائی پروگرام میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے، جس نے چندریان-1 اور آدتیہ-L1 شمسی رصد گاہ جیسے مشن لانچ کیے ہیں۔اور یہ بھارت کی نجی صنعت کو اسپیس مینوفیکچرنگ میں شامل کرنے کی کوششوں میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275082</guid>
      <pubDate>Mon, 12 Jan 2026 17:05:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/12170133c92f8c0.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/12170133c92f8c0.webp"/>
        <media:title>اسرو کے مشن کنٹرول نے بتایا کہ راکٹ نے پرواز کے بیشتر حصے میں معمول کے مطابق کام کیا، تاہم اس کے بعد ایک غیر متوقع خلل سامنے آیا اور راکٹ اپنے راستے سے بھٹک گیا۔ فوٹو: اسرو یوٹیوب چینل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خیبرپختونخوا: ٹانک میں پولیس کی بکتر بند گاڑی پر دھماکا، 6 اہلکار شہید</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275081/</link>
      <description>&lt;p&gt;خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں بم دھماکے کے نتیجے میں 6 پولیس اہلکار شہید ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹانک پولیس کے ترجمان کے مطابق پولیس کی بکتر بند گاڑی گومل پولیس اسٹیشن سے ٹانک کی جانب جا رہی تھی کہ راستے میں اسے نشانہ بنایا گیا، دھماکے کے نتیجے میں 6 پولیس اہلکار شہید ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس ترجمان نے بتایا کہ شہدا میں ایک ایڈیشنل اسٹیشن ہاؤس آفیسر بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریسکیو 1122 نے شہدا کی لاشیں ٹانک ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعے کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق سکیورٹی فورسز کی جانب سے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="کے-پی-گورنر-کی-رپورٹ-طلب" href="#کے-پی-گورنر-کی-رپورٹ-طلب" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;کے پی گورنر کی رپورٹ طلب&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;گورنر خیبر پختونخوا  فیصل کریم کنڈی نے واقعے پر پولیس کے اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب کر لی، گورنر ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے گہرے رنج و غم اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے شہدا کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس کے بہادر جوانوں نے عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے جامِ شہادت نوش کیا اور انہوں نے شہدا پر فخر کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی سرپرستی میں سرگرم فتنہ الخوارج کی کارروائیاں ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گورنر نے صوبے میں امن و امان کے قیام کے لیے تحریک انصاف کی زیر قیادت صوبائی حکومت سے عملی اقدامات اٹھانے کا مطالبہ بھی کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="قوم-کے-پُرامن-کل-کے-لیے-آج-کی-قربانی" href="#قوم-کے-پُرامن-کل-کے-لیے-آج-کی-قربانی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;قوم کے پُرامن کل کے لیے آج کی قربانی&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;صدر مملکت آصف علی زرداری نے دہشت گرد حملے میں پولیس اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایوانِ صدر سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے پولیس اہلکاروں کی بہادری اور ملک کی خدمت کے جذبے کو خراجِ تحسین پیش کیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MediaCellPPP/status/2010658334727458837?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2010658334727458837%7Ctwgr%5Eff4171a85ff6c1217645d085b27b5c7b85a75abb%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966559'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/MediaCellPPP/status/2010658334727458837?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2010658334727458837%7Ctwgr%5Eff4171a85ff6c1217645d085b27b5c7b85a75abb%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966559"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;صدر نے شہدا کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے پولیس کے پانچ اہلکاروں کی قربانیوں کو سراہا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MOIofficialGoP/status/2010658334685454489?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2010658334685454489%7Ctwgr%5Eff4171a85ff6c1217645d085b27b5c7b85a75abb%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966559'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/MOIofficialGoP/status/2010658334685454489?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2010658334685454489%7Ctwgr%5Eff4171a85ff6c1217645d085b27b5c7b85a75abb%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966559"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;وزارت داخلہ کے مطابق محسن نقوی نے کہا کہ پولیس کے بہادر جوانوں نے قوم کے پُرامن کل کے لیے آج کی قربانی دی، اور شہدا کی عظیم قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں بم دھماکے کے نتیجے میں 6 پولیس اہلکار شہید ہو گئے۔</p>
<p>ٹانک پولیس کے ترجمان کے مطابق پولیس کی بکتر بند گاڑی گومل پولیس اسٹیشن سے ٹانک کی جانب جا رہی تھی کہ راستے میں اسے نشانہ بنایا گیا، دھماکے کے نتیجے میں 6 پولیس اہلکار شہید ہوگئے۔</p>
<p>پولیس ترجمان نے بتایا کہ شہدا میں ایک ایڈیشنل اسٹیشن ہاؤس آفیسر بھی شامل ہے۔</p>
<p>ریسکیو 1122 نے شہدا کی لاشیں ٹانک ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کیں۔</p>
<p>واقعے کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق سکیورٹی فورسز کی جانب سے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن جاری ہے۔</p>
<h3><a id="کے-پی-گورنر-کی-رپورٹ-طلب" href="#کے-پی-گورنر-کی-رپورٹ-طلب" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>کے پی گورنر کی رپورٹ طلب</h3>
<p>گورنر خیبر پختونخوا  فیصل کریم کنڈی نے واقعے پر پولیس کے اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب کر لی، گورنر ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے گہرے رنج و غم اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے شہدا کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔</p>
<p>فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس کے بہادر جوانوں نے عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے جامِ شہادت نوش کیا اور انہوں نے شہدا پر فخر کا اظہار کیا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی سرپرستی میں سرگرم فتنہ الخوارج کی کارروائیاں ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتیں۔</p>
<p>گورنر نے صوبے میں امن و امان کے قیام کے لیے تحریک انصاف کی زیر قیادت صوبائی حکومت سے عملی اقدامات اٹھانے کا مطالبہ بھی کیا۔</p>
<h3><a id="قوم-کے-پُرامن-کل-کے-لیے-آج-کی-قربانی" href="#قوم-کے-پُرامن-کل-کے-لیے-آج-کی-قربانی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>قوم کے پُرامن کل کے لیے آج کی قربانی</h3>
<p>صدر مملکت آصف علی زرداری نے دہشت گرد حملے میں پولیس اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔</p>
<p>ایوانِ صدر سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے پولیس اہلکاروں کی بہادری اور ملک کی خدمت کے جذبے کو خراجِ تحسین پیش کیا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MediaCellPPP/status/2010658334727458837?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2010658334727458837%7Ctwgr%5Eff4171a85ff6c1217645d085b27b5c7b85a75abb%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966559'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/MediaCellPPP/status/2010658334727458837?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2010658334727458837%7Ctwgr%5Eff4171a85ff6c1217645d085b27b5c7b85a75abb%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966559"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>صدر نے شہدا کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔</p>
<p>وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے پولیس کے پانچ اہلکاروں کی قربانیوں کو سراہا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MOIofficialGoP/status/2010658334685454489?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2010658334685454489%7Ctwgr%5Eff4171a85ff6c1217645d085b27b5c7b85a75abb%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966559'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/MOIofficialGoP/status/2010658334685454489?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2010658334685454489%7Ctwgr%5Eff4171a85ff6c1217645d085b27b5c7b85a75abb%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966559"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>وزارت داخلہ کے مطابق محسن نقوی نے کہا کہ پولیس کے بہادر جوانوں نے قوم کے پُرامن کل کے لیے آج کی قربانی دی، اور شہدا کی عظیم قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275081</guid>
      <pubDate>Mon, 12 Jan 2026 16:00:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد عرفان مغل)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/12155525367fe22.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/12155525367fe22.webp"/>
        <media:title>پولیس ترجمان نے بتایا کہ شہدا میں ایک ایڈیشنل اسٹیشن ہاؤس آفیسر بھی شامل ہے۔ فوٹو: کے پی پولیس
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی: اولڈ سٹی ایریا میں بڑے پیمانے پر ترقیاتی کاموں کا آغاز</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275080/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) نے اولڈ سٹی ایریا کی بحالی اور بہتری کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کر دیا ہے جن کا سنگ بنیاد اتوار کو میئر مرتضیٰ وہاب نے رکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1966434/kmc-to-spend-rs700m-on-reviving-historic-karachi-markets"&gt;&lt;strong&gt;خبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق اس جامع منصوبے کا مقصد سڑکوں، سیوریج نظام اور عوامی سہولتوں کو بہتر بنانا ہے جس کی تکمیل کی تاریخ 30 جون مقرر کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میئر مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ مرکزی منصوبہ جس میں جوڑیا بازار، بولٹن مارکیٹ، مٹھادر اور کھارادر شامل ہیں، 59 کروڑ 56 لاکھ روپے کی لاگت سے مکمل کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ تاریخی لی مارکیٹ کی عمارت کی بحالی کے لیے 10 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جو مقامی تاجروں کے تعاون سے 90 دن میں مکمل کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انفرا اسٹرکچر کی بہتری کے تحت چار لاکھ اسکوائر فٹ پےور بلاکس بچھائے جائیں گے اور آٹھ لاکھ 50 ہزار اسکوائر فٹ سڑکیں تعمیر کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میئر کراچی نے یقین دہانی کرائی کہ جوڑیا بازار، بولٹن مارکیٹ، مٹھادر، کھارادر اور لی مارکیٹ کی عمارت کو بحال کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منصوبے میں سیوریج نظام کی مکمل بہتری کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے، جس کے تحت چاروں بڑے تجارتی علاقوں میں نئی پائپ لائنیں بچھائی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جوڑیا بازار میں 2 ہزار 600 فٹ سے زائد نئی سیوریج لائنیں بچھائی جائیں گی جبکہ بولٹن مارکیٹ میں چار ہزار فٹ سے زائد نئی پائپ لائنوں کے ذریعے نظام کو اپ گریڈ کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح مٹھادر اور کھارادر میں بالترتیب 4 ہزار 50 فٹ اور 4 ہزار ایک سو فٹ نئی سیوریج لائنیں بچھائی جائیں گی جبکہ سڑکوں کی تعمیر اور پےور بلاکس بھی لگائے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میئرکراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ سال 2026 کو ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کا سال قرار دیا گیا ہے اور اولڈ سٹی ایریا کو جدید شہری سہولتوں سے آراستہ کرنا کے ایم سی کی اولین ترجیح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زور دیا کہ تمام کام شفاف طریقے سے کیا جائے گا اور بلدیاتی محکموں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ نئی تعمیر شدہ سڑکوں کو دوبارہ کھودنے سے بچایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے شہری مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ لیاری میں نئی واٹر لائنوں پر کام جون تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ کے فور آگیومنٹیشن منصوبے کا آغاز کر دیا گیا ہے، جس کے تحت 71 ارب روپے کی لاگت سے پانی کی لائنیں بچھائی جائیں گی اور یہ عوام کا بنیادی حق اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا وژن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پانی کی چوری کے تدارک کے لیے انہوں نے اعلان کیا کہ قانون سازی مکمل ہونے اور جج کی تقرری کے بعد واٹر ٹریبونل کو باضابطہ طور پر فعال کیا جا رہا ہے جو اس دیرینہ مسئلے کے حل میں مدد دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے تصدیق کی کہ کے ایم سی رواں سال شہر بھر میں مجموعی طور پر 46 ارب روپے ترقیاتی کاموں پر خرچ کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے جماعت اسلامی سمیت اپوزیشن جماعتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ شہری مسائل کے حل میں سنجیدہ کردار ادا کریں اور سوال اٹھایا کہ فنڈز مختص ہونے کے باوجود ٹاؤن سطح پر سڑکیں کیوں تعمیر نہیں ہو رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں سٹی کونسل کے پارلیمانی لیڈر کرم اللہ وقاصی، ڈپٹی پارلیمانی لیڈر دل محمد، دیگر منتخب نمائندے اور علاقہ مکین شریک تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) نے اولڈ سٹی ایریا کی بحالی اور بہتری کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کر دیا ہے جن کا سنگ بنیاد اتوار کو میئر مرتضیٰ وہاب نے رکھا۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1966434/kmc-to-spend-rs700m-on-reviving-historic-karachi-markets"><strong>خبر</strong></a> کے مطابق اس جامع منصوبے کا مقصد سڑکوں، سیوریج نظام اور عوامی سہولتوں کو بہتر بنانا ہے جس کی تکمیل کی تاریخ 30 جون مقرر کی گئی ہے۔</p>
<p>میئر مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ مرکزی منصوبہ جس میں جوڑیا بازار، بولٹن مارکیٹ، مٹھادر اور کھارادر شامل ہیں، 59 کروڑ 56 لاکھ روپے کی لاگت سے مکمل کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ تاریخی لی مارکیٹ کی عمارت کی بحالی کے لیے 10 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جو مقامی تاجروں کے تعاون سے 90 دن میں مکمل کی جائے گی۔</p>
<p>انفرا اسٹرکچر کی بہتری کے تحت چار لاکھ اسکوائر فٹ پےور بلاکس بچھائے جائیں گے اور آٹھ لاکھ 50 ہزار اسکوائر فٹ سڑکیں تعمیر کی جائیں گی۔</p>
<p>میئر کراچی نے یقین دہانی کرائی کہ جوڑیا بازار، بولٹن مارکیٹ، مٹھادر، کھارادر اور لی مارکیٹ کی عمارت کو بحال کیا جائے گا۔</p>
<p>منصوبے میں سیوریج نظام کی مکمل بہتری کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے، جس کے تحت چاروں بڑے تجارتی علاقوں میں نئی پائپ لائنیں بچھائی جائیں گی۔</p>
<p>جوڑیا بازار میں 2 ہزار 600 فٹ سے زائد نئی سیوریج لائنیں بچھائی جائیں گی جبکہ بولٹن مارکیٹ میں چار ہزار فٹ سے زائد نئی پائپ لائنوں کے ذریعے نظام کو اپ گریڈ کیا جائے گا۔</p>
<p>اسی طرح مٹھادر اور کھارادر میں بالترتیب 4 ہزار 50 فٹ اور 4 ہزار ایک سو فٹ نئی سیوریج لائنیں بچھائی جائیں گی جبکہ سڑکوں کی تعمیر اور پےور بلاکس بھی لگائے جائیں گے۔</p>
<p>میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میئرکراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ سال 2026 کو ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کا سال قرار دیا گیا ہے اور اولڈ سٹی ایریا کو جدید شہری سہولتوں سے آراستہ کرنا کے ایم سی کی اولین ترجیح ہے۔</p>
<p>انہوں نے زور دیا کہ تمام کام شفاف طریقے سے کیا جائے گا اور بلدیاتی محکموں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ نئی تعمیر شدہ سڑکوں کو دوبارہ کھودنے سے بچایا جا سکے۔</p>
<p>انہوں نے شہری مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ لیاری میں نئی واٹر لائنوں پر کام جون تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ کے فور آگیومنٹیشن منصوبے کا آغاز کر دیا گیا ہے، جس کے تحت 71 ارب روپے کی لاگت سے پانی کی لائنیں بچھائی جائیں گی اور یہ عوام کا بنیادی حق اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا وژن ہے۔</p>
<p>پانی کی چوری کے تدارک کے لیے انہوں نے اعلان کیا کہ قانون سازی مکمل ہونے اور جج کی تقرری کے بعد واٹر ٹریبونل کو باضابطہ طور پر فعال کیا جا رہا ہے جو اس دیرینہ مسئلے کے حل میں مدد دے گا۔</p>
<p>میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے تصدیق کی کہ کے ایم سی رواں سال شہر بھر میں مجموعی طور پر 46 ارب روپے ترقیاتی کاموں پر خرچ کرے گی۔</p>
<p>انہوں نے جماعت اسلامی سمیت اپوزیشن جماعتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ شہری مسائل کے حل میں سنجیدہ کردار ادا کریں اور سوال اٹھایا کہ فنڈز مختص ہونے کے باوجود ٹاؤن سطح پر سڑکیں کیوں تعمیر نہیں ہو رہیں۔</p>
<p>سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں سٹی کونسل کے پارلیمانی لیڈر کرم اللہ وقاصی، ڈپٹی پارلیمانی لیڈر دل محمد، دیگر منتخب نمائندے اور علاقہ مکین شریک تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275080</guid>
      <pubDate>Mon, 12 Jan 2026 14:10:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/12140926a232ab1.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/12140926a232ab1.webp"/>
        <media:title>انفرااسٹرکچر کی بہتری کے تحت چار لاکھ اسکوائر فٹ پےور بلاکس بچھائے جائیں گے اور آٹھ لاکھ 50 ہزار اسکوائر فٹ سڑکیں تعمیر کی جائیں گی—فائل فوٹو: آن لائن/سید آصف علی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پنجاب میں اسپتال عملے کیلئے ’باڈی کیمرے‘ لازمی قرار، طبی حلقوں میں تشویش کی لہر</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275079/</link>
      <description>&lt;p&gt;پنجاب کے اسپتالوں کے عملے کے لیے باڈی کیمرے لازمی قرار دینے کے حکومتی فیصلے پرطبی عملے اور حکام نے  شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام مشاورت کے بغیر مسلط کیا گیا ہے، اس سے طبی مراکز کے اندر مریضوں کی رازداری اور احترام سمیت ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کا خطرہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;باڈی کیمرے ایسے پہننے کے قابل آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ آلات ہوتے ہیں جن کے ذریعے کارروائی کی فوٹیج بطور شواہد محفوظ کی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے جمعہ کو اسپتالوں کے رویے اور غفلت و لاپروائی کے بارے میں عوامی شکایات موصول ہونے پر ڈاکٹروں کے علاوہ نرسوں، وارڈ بوائز، سیکیورٹی گارڈز اور فارمیسی عملے کے لیے باڈی کیمز لازمی قرار دینے کے فیصلے کا اعلان کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ لاہور کے نشتر اسپتال نے مریض کے اہل خانہ کے ساتھ بدتمیزی کرنے پر ایڈیشنل ہاؤس آفیسر کے طور پر کام کرنے والے ایک ڈاکٹر کو برخاست کر دیا تھا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔ واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ناقابل-یقین-اقدام" href="#ناقابل-یقین-اقدام" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ناقابل یقین اقدام&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;حکام نے اس اقدام پر سخت اعتراض کیا ہے اور اسے جلد بازی، ناقص منصوبہ بندی اور مریضوں کے بنیادی حقوق کی براہ راست خلاف ورزی قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) کے صدر ڈاکٹر اظہار احمد چوہدری نے ڈان کو بتایا کہ ’یہ ناقابل یقین ہے، اگر اس کا فیصلہ کر بھی لیا جائے اور عملی طور پر لاگو کیا جائے، تو یہ صحت کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے کوئی مفید تکنیک نہیں ہوگی۔ یہ الٹا اثر کرے گا اور حکومت کی بدنامی کا باعث بنے گا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت نے کسی بھی سطح پر کسی فرد یا کسی فورم سے مشاورت نہیں کی اور اس فیصلے کو غیر منطقی، ناقابل عمل  قرار دیا جو مریضوں کے ساتھ ساتھ شعبہ صحت کے پیشہ ور افراد کے بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر چوہدری نے کہا کہ صحت کے شعبے کی موجودہ بگڑتی ہوئی صورتحال کو بہتر بنانے اور اسے سب کے لیے مفت بنانے کے اقدامات کرنے کے بجائے، حکومت ایسے حالات پیدا کر رہی ہے جس سے صحت کے پیشہ ور افراد کی زندگیوں اور ان کے وجود کو خطرہ لاحق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ حکومت نے صحت کے اداروں کو فروخت کرنے اور کام کے حالات کو جان بوجھ کر ابتر بنانے کا فیصلہ کیا ہے&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="بے-سود-عمل" href="#بے-سود-عمل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;بے سود عمل&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (وائی ڈی اے) پنجاب کے صدر ڈاکٹر شعیب نیازی کے لیے یہ فیصلہ ایک بے سود عمل ہے جس کے لیے ان سے مشاورت نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مجھ سے بالکل بھی مشاورت نہیں کی گئی، یہ فیصلہ اوپر سے آیا ہے اور یہ ایک بے سود عمل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ اسی طرح کے فیصلے مثال کے طور پر ہپستال میں ڈیوٹی پر موبائل فون کے استعمال پر پابندی لگائی گئی تھی لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر نیازی نے کہا کہ یہ اقدام مریض کی رازداری پر سمجھوتہ کرے گا۔ مثال کے طور پر گائنی اور لیبر وارڈز میں، فوٹیج آئی ٹی ڈپارٹمنٹ کے پاس جائے گی اور کوئی بھی اس تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;باڈی کیمز کے لیے فنڈنگ کے ذرائع پر سوالات اٹھاتے ہوئے ڈاکٹر نیازی نے کہا کہ میو ہسپتال میں سیکیورٹی گارڈز کو گزشتہ تین ماہ سے تنخواہیں نہیں دی گئیں، حکومت باڈی کیمز کیسے فراہم کرے گی؟ پیسہ کہاں سے آئے گا؟۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائی ڈی اے پنجاب کے صدر نے کہا کہ وہ جلد ہی اس مسئلے سے متعلق پریس کانفرنس کریں گے اور اس بارے میں تفصیل سے بات کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="سمجھنے-سے-قاصرمگر-احکامات-ماننے-ہوں-گے" href="#سمجھنے-سے-قاصرمگر-احکامات-ماننے-ہوں-گے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;’سمجھنے سے قاصرمگر احکامات ماننے ہوں گے‘&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;پنجاب ینگ نرسز ایسوسی ایشن کی ممبر اور چلڈرن اسپتال لاہور کی ملازمہ مقدس تسنیم کے مطابق نرسیں اس فیصلے میں ایک اہم فریق تھیں لیکن ان میں سے کسی سے بھی مشاورت نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ’ حکومت نے ہم سے بالکل مشورہ نہیں کیا اور خود ہی فیصلہ کرلیا، تاہم ہمیں احکامات کی پیروی کرنی ہے اور ہدایات پر عمل کرنا ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور جنرل اسپتال میں نرسوں کے علاوہ وارڈ بوائز اور دیگر عملے کے اتحاد ’’الائیڈ ہیلتھ سائنسز‘‘ کے صدر جنید طارق نے بھی اسی طرح کے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یا اتحاد کے دیگر اراکین کو بالکل بھی مطلع یا مشورہ نہیں دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’حکومت نے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت نہیں کی۔ ہم اس حکم کے مقصد کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ یہ سیکیورٹی گارڈز کی ذمہ داریوں کے ساتھ تو میل کھاتا ہے، لیکن اس سے مریضوں کی رازداری پر سمجھوتہ ہوگا۔ اس سے مریضوں کے طبی ریکارڈ کی رازداری متاثر ہوگی۔ ہمارے کام کی نوعیت سیکیورٹی سے متعلق نہیں ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ناقابلِ-فہم-فیصلہ" href="#ناقابلِ-فہم-فیصلہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ناقابلِ فہم فیصلہ&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ڈان سے بات کرتے ہوئے پنجاب کے سابق نگران وزیر صحت اور یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہا کہ انہیں اس فیصلے کا کوئی علم نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ ’یہ ممکن نہیں ہے کہ ایسا کچھ ہو کیونکہ یہ ناقابل فہم تھا۔ وہ اتنے زیادہ لوگوں کے ساتھ یہ کیسے کریں گے؟‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر اکرم نے فیصلے کے عملی پہلو پر متعدد سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’وہ باڈی کیمز والے (طبی عملے) کو کیسے دیکھیں گے یا ان کا تجزیہ کیسے کریں گے؟ کیا ہوگا اگر کیمروں والے ملازمین کو ریسٹ روم جانا پڑے؟ کیا وہ ہر بار کیمرا اتاریں گے؟‘&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="دنیا-بھر-میں-محدود-استعمال" href="#دنیا-بھر-میں-محدود-استعمال" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;دنیا بھر میں محدود استعمال&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;دنیا میں بہت کم ممالک ایسے ہیں جو اسپتال کے عملے کے لیے باڈی کیمز کے استعمال یا آزمائش کی اجازت دیتے ہیں لیکن یہ وسیع پیمانے پر نہیں ہے اور عام طور پر سیکیورٹی عملے یا تشدد کے زیادہ خطرات والی صورتحال تک محدود ہے، روزمرہ کی طبی دیکھ بھال کے لیے نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مثال کے طور پر آسٹریلیا میں نیو ساؤتھ ویلز (این ایس ڈبلیو) ہیلتھ پبلک ہسپتالوں میں باڈی کیمروں کے سرکاری ٹرائلز کر رہا ہے، جس میں منتخب ہسپتالوں میں سیکیورٹی عملے کو تحفظ اور روک تھام کے لیے جارحیت یا تشدد کے واقعات ریکارڈ کرنے کے لیے ان سے لیس کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ میں انگلینڈ کے کچھ این ایچ ایس ٹرسٹ بشمول ایسٹ سسیکس کے کیسز جیسے کونکوسٹ اسپتال اور ایسٹ بورن ڈسٹرکٹ جنرل اسپتال نے بدسلوکی اور تشدد کو روکنے کے لیے عملے (زیادہ تر سیکیورٹی اور سینئر نرسوں) کے لیے باڈی کیمروں کا تجربہ کیا ہے۔ تاہم اس طرح کا ہمہ گیر (blanket) فیصلہ دنیا میں کہیں بھی نہیں سنا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پنجاب کے اسپتالوں کے عملے کے لیے باڈی کیمرے لازمی قرار دینے کے حکومتی فیصلے پرطبی عملے اور حکام نے  شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام مشاورت کے بغیر مسلط کیا گیا ہے، اس سے طبی مراکز کے اندر مریضوں کی رازداری اور احترام سمیت ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کا خطرہ ہے۔</p>
<p>باڈی کیمرے ایسے پہننے کے قابل آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ آلات ہوتے ہیں جن کے ذریعے کارروائی کی فوٹیج بطور شواہد محفوظ کی جاتی ہے۔</p>
<p>وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے جمعہ کو اسپتالوں کے رویے اور غفلت و لاپروائی کے بارے میں عوامی شکایات موصول ہونے پر ڈاکٹروں کے علاوہ نرسوں، وارڈ بوائز، سیکیورٹی گارڈز اور فارمیسی عملے کے لیے باڈی کیمز لازمی قرار دینے کے فیصلے کا اعلان کیا تھا۔</p>
<p>گزشتہ ماہ لاہور کے نشتر اسپتال نے مریض کے اہل خانہ کے ساتھ بدتمیزی کرنے پر ایڈیشنل ہاؤس آفیسر کے طور پر کام کرنے والے ایک ڈاکٹر کو برخاست کر دیا تھا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔ واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی۔</p>
<h3><a id="ناقابل-یقین-اقدام" href="#ناقابل-یقین-اقدام" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ناقابل یقین اقدام</h3>
<p>حکام نے اس اقدام پر سخت اعتراض کیا ہے اور اسے جلد بازی، ناقص منصوبہ بندی اور مریضوں کے بنیادی حقوق کی براہ راست خلاف ورزی قرار دیا ہے۔</p>
<p>پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) کے صدر ڈاکٹر اظہار احمد چوہدری نے ڈان کو بتایا کہ ’یہ ناقابل یقین ہے، اگر اس کا فیصلہ کر بھی لیا جائے اور عملی طور پر لاگو کیا جائے، تو یہ صحت کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے کوئی مفید تکنیک نہیں ہوگی۔ یہ الٹا اثر کرے گا اور حکومت کی بدنامی کا باعث بنے گا‘۔</p>
<p>انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت نے کسی بھی سطح پر کسی فرد یا کسی فورم سے مشاورت نہیں کی اور اس فیصلے کو غیر منطقی، ناقابل عمل  قرار دیا جو مریضوں کے ساتھ ساتھ شعبہ صحت کے پیشہ ور افراد کے بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔</p>
<p>ڈاکٹر چوہدری نے کہا کہ صحت کے شعبے کی موجودہ بگڑتی ہوئی صورتحال کو بہتر بنانے اور اسے سب کے لیے مفت بنانے کے اقدامات کرنے کے بجائے، حکومت ایسے حالات پیدا کر رہی ہے جس سے صحت کے پیشہ ور افراد کی زندگیوں اور ان کے وجود کو خطرہ لاحق ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ حکومت نے صحت کے اداروں کو فروخت کرنے اور کام کے حالات کو جان بوجھ کر ابتر بنانے کا فیصلہ کیا ہے</p>
<h3><a id="بے-سود-عمل" href="#بے-سود-عمل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>بے سود عمل</h3>
<p>ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (وائی ڈی اے) پنجاب کے صدر ڈاکٹر شعیب نیازی کے لیے یہ فیصلہ ایک بے سود عمل ہے جس کے لیے ان سے مشاورت نہیں کی گئی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ مجھ سے بالکل بھی مشاورت نہیں کی گئی، یہ فیصلہ اوپر سے آیا ہے اور یہ ایک بے سود عمل ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ اسی طرح کے فیصلے مثال کے طور پر ہپستال میں ڈیوٹی پر موبائل فون کے استعمال پر پابندی لگائی گئی تھی لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہوا۔</p>
<p>ڈاکٹر نیازی نے کہا کہ یہ اقدام مریض کی رازداری پر سمجھوتہ کرے گا۔ مثال کے طور پر گائنی اور لیبر وارڈز میں، فوٹیج آئی ٹی ڈپارٹمنٹ کے پاس جائے گی اور کوئی بھی اس تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔</p>
<p>باڈی کیمز کے لیے فنڈنگ کے ذرائع پر سوالات اٹھاتے ہوئے ڈاکٹر نیازی نے کہا کہ میو ہسپتال میں سیکیورٹی گارڈز کو گزشتہ تین ماہ سے تنخواہیں نہیں دی گئیں، حکومت باڈی کیمز کیسے فراہم کرے گی؟ پیسہ کہاں سے آئے گا؟۔</p>
<p>وائی ڈی اے پنجاب کے صدر نے کہا کہ وہ جلد ہی اس مسئلے سے متعلق پریس کانفرنس کریں گے اور اس بارے میں تفصیل سے بات کریں گے۔</p>
<h3><a id="سمجھنے-سے-قاصرمگر-احکامات-ماننے-ہوں-گے" href="#سمجھنے-سے-قاصرمگر-احکامات-ماننے-ہوں-گے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>’سمجھنے سے قاصرمگر احکامات ماننے ہوں گے‘</h3>
<p>پنجاب ینگ نرسز ایسوسی ایشن کی ممبر اور چلڈرن اسپتال لاہور کی ملازمہ مقدس تسنیم کے مطابق نرسیں اس فیصلے میں ایک اہم فریق تھیں لیکن ان میں سے کسی سے بھی مشاورت نہیں کی گئی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ’ حکومت نے ہم سے بالکل مشورہ نہیں کیا اور خود ہی فیصلہ کرلیا، تاہم ہمیں احکامات کی پیروی کرنی ہے اور ہدایات پر عمل کرنا ہے۔‘</p>
<p>لاہور جنرل اسپتال میں نرسوں کے علاوہ وارڈ بوائز اور دیگر عملے کے اتحاد ’’الائیڈ ہیلتھ سائنسز‘‘ کے صدر جنید طارق نے بھی اسی طرح کے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یا اتحاد کے دیگر اراکین کو بالکل بھی مطلع یا مشورہ نہیں دیا گیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ’حکومت نے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت نہیں کی۔ ہم اس حکم کے مقصد کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ یہ سیکیورٹی گارڈز کی ذمہ داریوں کے ساتھ تو میل کھاتا ہے، لیکن اس سے مریضوں کی رازداری پر سمجھوتہ ہوگا۔ اس سے مریضوں کے طبی ریکارڈ کی رازداری متاثر ہوگی۔ ہمارے کام کی نوعیت سیکیورٹی سے متعلق نہیں ہے۔‘</p>
<h3><a id="ناقابلِ-فہم-فیصلہ" href="#ناقابلِ-فہم-فیصلہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ناقابلِ فہم فیصلہ</h3>
<p>ڈان سے بات کرتے ہوئے پنجاب کے سابق نگران وزیر صحت اور یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہا کہ انہیں اس فیصلے کا کوئی علم نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ ’یہ ممکن نہیں ہے کہ ایسا کچھ ہو کیونکہ یہ ناقابل فہم تھا۔ وہ اتنے زیادہ لوگوں کے ساتھ یہ کیسے کریں گے؟‘</p>
<p>ڈاکٹر اکرم نے فیصلے کے عملی پہلو پر متعدد سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’وہ باڈی کیمز والے (طبی عملے) کو کیسے دیکھیں گے یا ان کا تجزیہ کیسے کریں گے؟ کیا ہوگا اگر کیمروں والے ملازمین کو ریسٹ روم جانا پڑے؟ کیا وہ ہر بار کیمرا اتاریں گے؟‘</p>
<h3><a id="دنیا-بھر-میں-محدود-استعمال" href="#دنیا-بھر-میں-محدود-استعمال" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>دنیا بھر میں محدود استعمال</h3>
<p>دنیا میں بہت کم ممالک ایسے ہیں جو اسپتال کے عملے کے لیے باڈی کیمز کے استعمال یا آزمائش کی اجازت دیتے ہیں لیکن یہ وسیع پیمانے پر نہیں ہے اور عام طور پر سیکیورٹی عملے یا تشدد کے زیادہ خطرات والی صورتحال تک محدود ہے، روزمرہ کی طبی دیکھ بھال کے لیے نہیں۔</p>
<p>مثال کے طور پر آسٹریلیا میں نیو ساؤتھ ویلز (این ایس ڈبلیو) ہیلتھ پبلک ہسپتالوں میں باڈی کیمروں کے سرکاری ٹرائلز کر رہا ہے، جس میں منتخب ہسپتالوں میں سیکیورٹی عملے کو تحفظ اور روک تھام کے لیے جارحیت یا تشدد کے واقعات ریکارڈ کرنے کے لیے ان سے لیس کیا گیا ہے۔</p>
<p>برطانیہ میں انگلینڈ کے کچھ این ایچ ایس ٹرسٹ بشمول ایسٹ سسیکس کے کیسز جیسے کونکوسٹ اسپتال اور ایسٹ بورن ڈسٹرکٹ جنرل اسپتال نے بدسلوکی اور تشدد کو روکنے کے لیے عملے (زیادہ تر سیکیورٹی اور سینئر نرسوں) کے لیے باڈی کیمروں کا تجربہ کیا ہے۔ تاہم اس طرح کا ہمہ گیر (blanket) فیصلہ دنیا میں کہیں بھی نہیں سنا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275079</guid>
      <pubDate>Mon, 12 Jan 2026 13:24:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عمران گبول)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/121256478e4bb28.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/121256478e4bb28.webp"/>
        <media:title>حکام نے اس اقدام پر سخت اعتراض کیا ہے اور اسے جلد بازی، ناقص منصوبہ بندی اور مریضوں کے بنیادی حقوق کی براہ راست خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ فوٹو:رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ملک میں شدید سردی کی افواہوں کی تردید</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275078/</link>
      <description>&lt;p&gt;محکمہ موسمیات نے ملک بھر میں شدید سردی کی افواہوں کی تردید کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ موسمیات پاکستان نے 16 سے 25 جنوری کے دوران ’شدید‘ یا ’ریکارڈ توڑ‘ سردی کی لہر سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو غلط اور گمراہ کن قرار دے دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محکمہ موسمیات کے مطابق جدید موسمیاتی ماڈلز اور زمینی مشاہدات کی بنیاد پر اس عرصے میں کسی غیر معمولی یا تاریخی سردی کی لہر کی توقع نہیں، ملک بھر میں درجہ حرارت عام سردیوں کی حد میں رہنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2026/01/121238578b7081e.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2026/01/121238578b7081e.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;محکمہ موسمیات نے عوام، میڈیا اور تمام اداروں سے کہا ہے کہ وہ صرف سرکاری موسمی پیش گوئیوں، وارننگز اور ایڈوائزریز پر انحصار کریں اور غیر مصدقہ معلومات پھیلانے سے گریز کریں تاکہ بلا وجہ خوف و ہراس پیدا نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درست معلومات کے لیے محکمہ موسمیات کے سرکاری ذرائع کو فالو کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ گزشتہ چند روز سے سوشل میڈیا پر پاکستان میں شدید سردی کی لہر سے متعلق خبریں گردش کررہی ہیں، ان خبروں میں یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ پاکستان بھر میں 16 جنوری سے 25 جنوری تک شدید سردی پڑنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق وفاقی وزیر عمر سیف کی جانب سے بھی سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کی گئی جس میں ایک موسمیاتی ویب سائٹ کی تصویر کے ساتھ دعویٰ کیا گیا کہ ’ایک نادر پولر ورٹیکس کی وجہ سے اگلے آٹھ سے دس دن میں شدید سردی متوقع ہے جس کی وجہ سائبیریا کا زیادہ دباؤ والا نظام ہو گا۔‘&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2026/01/12124159b254cba.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2026/01/12124159b254cba.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس حوالے سے پاکستان میں موسمی پیش گوئی مرکز (نیشنل ویدر فارکاسٹنگ سینٹر) کے ڈائریکٹر عرفان ورک نے بتایا کہ ’پولر ورٹیکس تو ہمارے خطے میں ہوتا ہی نہیں بلکہ قطب شمالی میں ہوتا ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ پولر ورٹیکس امریکی اور یورپی علاقوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ہمارا ملک جس خطے میں ہے وہاں پولر ورٹیکس کا کوئی براہ راست اثر نہیں ہو سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ قطب شمالی سے کچھ اوپر سرد ہوا کے ایک ماس (ذخیرے) کو پولر ورٹیکس کہتے ہیں۔ یہ زمین کی سطح سے 10 تا 50 کلومیٹر اوپر ہوتا ہے اور سطح زمین سے کئی میل اوپر چلنے والی تیز ہوائیں اسے اپنی جگہ پر رکھتی ہیں۔ لیکن اگر یہ کمزور ہو جائے تو ہوا جنوب کا رخ کر لیتی ہے اور ان علاقوں میں سردی بڑھ جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;br&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>محکمہ موسمیات نے ملک بھر میں شدید سردی کی افواہوں کی تردید کر دی۔</p>
<p>محکمہ موسمیات پاکستان نے 16 سے 25 جنوری کے دوران ’شدید‘ یا ’ریکارڈ توڑ‘ سردی کی لہر سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو غلط اور گمراہ کن قرار دے دیا ہے۔</p>
<p>محکمہ موسمیات کے مطابق جدید موسمیاتی ماڈلز اور زمینی مشاہدات کی بنیاد پر اس عرصے میں کسی غیر معمولی یا تاریخی سردی کی لہر کی توقع نہیں، ملک بھر میں درجہ حرارت عام سردیوں کی حد میں رہنے کا امکان ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2026/01/121238578b7081e.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2026/01/121238578b7081e.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>محکمہ موسمیات نے عوام، میڈیا اور تمام اداروں سے کہا ہے کہ وہ صرف سرکاری موسمی پیش گوئیوں، وارننگز اور ایڈوائزریز پر انحصار کریں اور غیر مصدقہ معلومات پھیلانے سے گریز کریں تاکہ بلا وجہ خوف و ہراس پیدا نہ ہو۔</p>
<p>درست معلومات کے لیے محکمہ موسمیات کے سرکاری ذرائع کو فالو کریں۔</p>
<p>واضح رہے کہ گزشتہ چند روز سے سوشل میڈیا پر پاکستان میں شدید سردی کی لہر سے متعلق خبریں گردش کررہی ہیں، ان خبروں میں یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ پاکستان بھر میں 16 جنوری سے 25 جنوری تک شدید سردی پڑنے کا امکان ہے۔</p>
<p>سابق وفاقی وزیر عمر سیف کی جانب سے بھی سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کی گئی جس میں ایک موسمیاتی ویب سائٹ کی تصویر کے ساتھ دعویٰ کیا گیا کہ ’ایک نادر پولر ورٹیکس کی وجہ سے اگلے آٹھ سے دس دن میں شدید سردی متوقع ہے جس کی وجہ سائبیریا کا زیادہ دباؤ والا نظام ہو گا۔‘</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2026/01/12124159b254cba.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2026/01/12124159b254cba.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>تاہم اس حوالے سے پاکستان میں موسمی پیش گوئی مرکز (نیشنل ویدر فارکاسٹنگ سینٹر) کے ڈائریکٹر عرفان ورک نے بتایا کہ ’پولر ورٹیکس تو ہمارے خطے میں ہوتا ہی نہیں بلکہ قطب شمالی میں ہوتا ہے۔‘</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ پولر ورٹیکس امریکی اور یورپی علاقوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ہمارا ملک جس خطے میں ہے وہاں پولر ورٹیکس کا کوئی براہ راست اثر نہیں ہو سکتا۔</p>
<p>واضح رہے کہ قطب شمالی سے کچھ اوپر سرد ہوا کے ایک ماس (ذخیرے) کو پولر ورٹیکس کہتے ہیں۔ یہ زمین کی سطح سے 10 تا 50 کلومیٹر اوپر ہوتا ہے اور سطح زمین سے کئی میل اوپر چلنے والی تیز ہوائیں اسے اپنی جگہ پر رکھتی ہیں۔ لیکن اگر یہ کمزور ہو جائے تو ہوا جنوب کا رخ کر لیتی ہے اور ان علاقوں میں سردی بڑھ جاتی ہے۔</p>
<br>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275078</guid>
      <pubDate>Mon, 12 Jan 2026 12:47:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/121245587f1e6f1.webp" type="image/webp" medium="image" height="450" width="670">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/121245587f1e6f1.webp"/>
        <media:title>گزشتہ چند روز سے سوشل میڈیا پر پاکستان میں شدید سردی کی لہر سے متعلق خبریں گردش کررہی ہیں، ان خبروں میں یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ پاکستان بھر میں 16 جنوری سے 25 جنوری تک شدید سردی پڑنے کا امکان ہے — فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>9 مئی کو ریڈیو پاکستان پر حملے میں سہیل آفریدی کی موجودگی کی ’تصدیق‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275077/</link>
      <description>&lt;p&gt;پشاور: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی ایک قانونی تنازع پھنس گئے، ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں استغاثہ کی جانب سے انسداد دہشت گردی عدالت میں جمع کرائی گئی ایک فرانزک رپورٹ میں انہیں واقعے کی مبینہ ویڈیو فوٹیجز میں نظر آنے والے مشتبہ افراد میں شامل قرار دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1966438/afridi-ex-ministers-identified-in-may-9-radio-pakistan-attack-clips"&gt;&lt;strong&gt;خبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی تیار کردہ یہ رپورٹ مئی 2023 میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد پشاور میں ریڈیو پاکستان کے دفتر میں توڑ پھوڑ کی فوٹیج پر مبنی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ عدالت نے حکم دیا تھا کہ ویڈیو کلپس فرانزک جانچ کے لیے بھجوائے جائیں اور رپورٹ پیش کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر وکیل دفاع کی جانب سے فوٹیج کی افادیت یا قانونی حیثیت پر کوئی سوال نہیں اٹھایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے تجزیے کے لیے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی، سابق صوبائی وزرا تیمور سلیم جھگڑا اور کامران بنگش اور تحریک انصاف کے دو دیگر رہنماؤں عرفان سلیم اور عامر خان چمکنی کی تصاویر اور ویڈیو کلپس فراہم کیے تھے۔ ان میں سے کسی کو بھی اس کیس میں نامزد نہیں کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں پی ایف ایس اے نے دو نکات پر رائے دی: آیا یو ایس بی میں موجود ویڈیوز اصلی ہیں اور آیا جن افراد کی پروفائل تصاویر دی گئیں وہ ویڈیو کلپس میں نظر آتے ہیں یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق وزیر اعلیٰ سمیت پانچوں افراد ویڈیوز میں دکھائی دیتے ہیں تاہم یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ آیا یہ ویڈیوز ریڈیو پاکستان حملے سے متعلق ہیں یا کسی اور واقعے کی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;البتہ رپورٹ میں کہا گیا کہ ویڈیوز میں کسی قسم کی ایڈیٹنگ نہیں کی گئی، سوائے مختلف کیمروں سے بنائی گئی فوٹیجز کو یکجا کرنے کے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کیس سے باخبر ایک قانونی ماہر کے مطابق اس شواہد کے بعد تفتیشی افسر ضمنی چالان کے ذریعے مزید ملزمان کو انسداد دہشت گردی عدالت میں نامزد کر سکتا ہے جبکہ عدالت خود بھی اس معاملے کا نوٹس لے سکتی ہے۔ اسی طرح پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن بھی فرانزک رپورٹ کی روشنی میں ملزمان کی شمولیت کے لیے درخواست دائر کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="غیر-متعلقہ-ویڈیوز" href="#غیر-متعلقہ-ویڈیوز" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;غیر متعلقہ ویڈیوز&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کی تفصیلات سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے فوراً بعد تحریک انصاف کے کئی رہنماؤں نے کہا کہ یہ ویڈیوز ریڈیو پاکستان کے اس واقعے کی نہیں ہیں جو 10 مئی 2023 کو اسلام آباد میں عمران خان کی گرفتاری کے بعد پیش آیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحریک انصاف کے رہنما تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ یہ بات دلچسپ ہے کہ یہ مہم وزیر اعلیٰ اور ان دیگر افراد کے خلاف چلائی جا رہی ہے جنہیں اس کیس میں کبھی نامزد ہی نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق اسکرین شاٹس کے ساتھ شیئر کی جانے والی پوسٹس کا ریڈیو پاکستان سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کی لیب صرف یہ رائے دے رہی ہے کہ ویڈیوز اصلی ہیں یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ پہلی ویڈیو کا اسکرین شاٹ تو پشاور میں فلمایا ہی نہیں گیا بلکہ وہ اسلام آباد میں 9 مئی کو عمران خان کی گرفتاری کی مذمت کی ویڈیو ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسداد دہشت گردی عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت 26 جنوری کو مقرر کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مقدمہ انسداد دہشت گردی عدالت میں زیر سماعت ہے، جس میں 75 ملزمان، جن میں موجودہ اور سابق ارکانِ اسمبلی بھی شامل ہیں، پر 3 جون 2025 کو متعدد الزامات کے تحت فرد جرم عائد کی جا چکی ہے۔ مقدمہ 10 مئی 2023 کو ایسٹ کنٹونمنٹ تھانے میں درج کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ناقابل-تردید-شواہد" href="#ناقابل-تردید-شواہد" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ناقابل تردید شواہد&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے اس حوالے سے کہا ہے کہ پشاور میں ریڈیو پاکستان اور ٹول پلازوں پر تحریک انصاف کی جانب سے کیے گئے حملے ایک منظم سازش کا حصہ تھے اور فرانزک رپورٹ میں ناقابل تردید شواہد سامنے آ چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق رپورٹ میں پشاور کے واقعات کا مکمل فرانزک تجزیہ شامل ہے، جسے ویڈیوز اور تصاویر سے تقویت حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ تمام شواہد کسی بھی عدالت میں قابلِ قبول ہیں اور ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;&lt;em&gt;لاہور سے امجد محمود نے بھی اس رپورٹ میں تعاون کیا۔&lt;/em&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پشاور: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی ایک قانونی تنازع پھنس گئے، ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں استغاثہ کی جانب سے انسداد دہشت گردی عدالت میں جمع کرائی گئی ایک فرانزک رپورٹ میں انہیں واقعے کی مبینہ ویڈیو فوٹیجز میں نظر آنے والے مشتبہ افراد میں شامل قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1966438/afridi-ex-ministers-identified-in-may-9-radio-pakistan-attack-clips"><strong>خبر</strong></a> کے مطابق پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی تیار کردہ یہ رپورٹ مئی 2023 میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد پشاور میں ریڈیو پاکستان کے دفتر میں توڑ پھوڑ کی فوٹیج پر مبنی ہے۔</p>
<p>گزشتہ ماہ عدالت نے حکم دیا تھا کہ ویڈیو کلپس فرانزک جانچ کے لیے بھجوائے جائیں اور رپورٹ پیش کی جائے۔</p>
<p>اس موقع پر وکیل دفاع کی جانب سے فوٹیج کی افادیت یا قانونی حیثیت پر کوئی سوال نہیں اٹھایا گیا تھا۔</p>
<p>حکام نے تجزیے کے لیے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی، سابق صوبائی وزرا تیمور سلیم جھگڑا اور کامران بنگش اور تحریک انصاف کے دو دیگر رہنماؤں عرفان سلیم اور عامر خان چمکنی کی تصاویر اور ویڈیو کلپس فراہم کیے تھے۔ ان میں سے کسی کو بھی اس کیس میں نامزد نہیں کیا گیا تھا۔</p>
<p>رپورٹ میں پی ایف ایس اے نے دو نکات پر رائے دی: آیا یو ایس بی میں موجود ویڈیوز اصلی ہیں اور آیا جن افراد کی پروفائل تصاویر دی گئیں وہ ویڈیو کلپس میں نظر آتے ہیں یا نہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق وزیر اعلیٰ سمیت پانچوں افراد ویڈیوز میں دکھائی دیتے ہیں تاہم یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ آیا یہ ویڈیوز ریڈیو پاکستان حملے سے متعلق ہیں یا کسی اور واقعے کی ہیں۔</p>
<p>البتہ رپورٹ میں کہا گیا کہ ویڈیوز میں کسی قسم کی ایڈیٹنگ نہیں کی گئی، سوائے مختلف کیمروں سے بنائی گئی فوٹیجز کو یکجا کرنے کے۔</p>
<p>اس کیس سے باخبر ایک قانونی ماہر کے مطابق اس شواہد کے بعد تفتیشی افسر ضمنی چالان کے ذریعے مزید ملزمان کو انسداد دہشت گردی عدالت میں نامزد کر سکتا ہے جبکہ عدالت خود بھی اس معاملے کا نوٹس لے سکتی ہے۔ اسی طرح پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن بھی فرانزک رپورٹ کی روشنی میں ملزمان کی شمولیت کے لیے درخواست دائر کر سکتی ہے۔</p>
<h3><a id="غیر-متعلقہ-ویڈیوز" href="#غیر-متعلقہ-ویڈیوز" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>غیر متعلقہ ویڈیوز</h3>
<p>رپورٹ کی تفصیلات سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے فوراً بعد تحریک انصاف کے کئی رہنماؤں نے کہا کہ یہ ویڈیوز ریڈیو پاکستان کے اس واقعے کی نہیں ہیں جو 10 مئی 2023 کو اسلام آباد میں عمران خان کی گرفتاری کے بعد پیش آیا تھا۔</p>
<p>تحریک انصاف کے رہنما تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ یہ بات دلچسپ ہے کہ یہ مہم وزیر اعلیٰ اور ان دیگر افراد کے خلاف چلائی جا رہی ہے جنہیں اس کیس میں کبھی نامزد ہی نہیں کیا گیا۔</p>
<p>ان کے مطابق اسکرین شاٹس کے ساتھ شیئر کی جانے والی پوسٹس کا ریڈیو پاکستان سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کی لیب صرف یہ رائے دے رہی ہے کہ ویڈیوز اصلی ہیں یا نہیں۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ پہلی ویڈیو کا اسکرین شاٹ تو پشاور میں فلمایا ہی نہیں گیا بلکہ وہ اسلام آباد میں 9 مئی کو عمران خان کی گرفتاری کی مذمت کی ویڈیو ہے۔</p>
<p>انسداد دہشت گردی عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت 26 جنوری کو مقرر کی ہے۔</p>
<p>یہ مقدمہ انسداد دہشت گردی عدالت میں زیر سماعت ہے، جس میں 75 ملزمان، جن میں موجودہ اور سابق ارکانِ اسمبلی بھی شامل ہیں، پر 3 جون 2025 کو متعدد الزامات کے تحت فرد جرم عائد کی جا چکی ہے۔ مقدمہ 10 مئی 2023 کو ایسٹ کنٹونمنٹ تھانے میں درج کیا گیا تھا۔</p>
<h3><a id="ناقابل-تردید-شواہد" href="#ناقابل-تردید-شواہد" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ناقابل تردید شواہد</h3>
<p>وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے اس حوالے سے کہا ہے کہ پشاور میں ریڈیو پاکستان اور ٹول پلازوں پر تحریک انصاف کی جانب سے کیے گئے حملے ایک منظم سازش کا حصہ تھے اور فرانزک رپورٹ میں ناقابل تردید شواہد سامنے آ چکے ہیں۔</p>
<p>ان کے مطابق رپورٹ میں پشاور کے واقعات کا مکمل فرانزک تجزیہ شامل ہے، جسے ویڈیوز اور تصاویر سے تقویت حاصل ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ تمام شواہد کسی بھی عدالت میں قابلِ قبول ہیں اور ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔</p>
<hr />
<p><em>لاہور سے امجد محمود نے بھی اس رپورٹ میں تعاون کیا۔</em></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275077</guid>
      <pubDate>Mon, 12 Jan 2026 12:30:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (وسیم احمد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/121223174363909.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/121223174363909.webp"/>
        <media:title>تحریک انصاف کے رہنما تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ یہ بات دلچسپ ہے کہ یہ مہم وزیر اعلیٰ اور ان دیگر افراد کے خلاف چلائی جا رہی ہے جنہیں اس کیس میں کبھی نامزد ہی نہیں کیا گیا۔ فائل فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران نے مذاکرات کے لیے رابطہ کیا ہے مگر اس سے پہلے کارروائی بھی ہوسکتی ہے، ٹرمپ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275076/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی قیادت نے فوجی کارروائی کی دھمکیوں کے بعد مذاکرات کے لیے رابطہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایئر فورس ون میں اتوار کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ ایران کے رہنماؤں نے گزشتہ روز فون کیا اور ایک ملاقات طے کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق ایران مذاکرات چاہتا ہے تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ممکن ہے ملاقات سے پہلے ہی ہمیں کارروائی کرنا پڑے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران میں 2022 کے بعد سے سب سے بڑے مظاہروں کے تناظر میں ٹرمپ متعدد بار یہ دھمکی دے چکے ہیں کہ اگر مظاہرین کے خلاف طاقت استعمال کی گئی تو امریکا مداخلت کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران نے مظاہروں میں ہلاکتوں کے حوالے سے کوئی سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کیے، جبکہ رائٹرز بھی انسانی حقوق کی تنظیموں کے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مظاہرے 28 دسمبر کو مہنگائی میں شدید اضافے کے خلاف شروع ہوئے تھے، جو بعد ازاں 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد قائم ہونے والے نظام کے خلاف احتجاج میں بدل گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="مفلوج-شہر" href="#مفلوج-شہر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;مفلوج شہر&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;تہران میں اے ایف پی کے ایک صحافی کے مطابق شہر تقریباً مفلوج حالت میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مظاہروں کے آغاز کے بعد گوشت کی قیمتیں تقریباً دگنی ہوچکی ہیں جبکہ بیشتر دکانیں بند ہیں جو دکانیں کھلتی بھی ہیں وہ سکیورٹی فورسز کی بڑے پیمانے پر تعیناتی کے باعث شام چار یا پانچ بجے بند کر دی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتوار کو سوشل میڈیا پر مظاہروں کی ویڈیوز کم نظر آئیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ اس کی وجہ انٹرنیٹ بندش کس حد تک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک وائرل ویڈیو میں تہران کے پونک علاقے میں مظاہرین کو معزول بادشاہت کے حق میں نعرے لگاتے دیکھا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مظاہرے 86 سالہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں، خاص طور پر جون میں ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ کے بعد جس کی امریکا نے حمایت کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریاستی ٹی وی نے جلتی عمارتوں جن میں ایک مسجد بھی شامل ہے اور سکیورٹی اہلکاروں کے جنازوں کی تصاویر نشر کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم تین دن کی شدید کارروائیوں کے بعد سرکاری میڈیا نے اتوار کو حالات میں بہتری ظاہر کرنے کی کوشش کی اور رواں ٹریفک کی فوٹیج نشر کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تہران کے گورنر محمد صادق معتمدیان نے ٹیلی وژن پر کہا کہ مظاہروں کی تعداد میں کمی آ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی حکومت نے اتوار کو سکیورٹی اہلکاروں سمیت ہلاک ہونے والوں کو شہدا قرار دیتے ہوئے تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر مسعود پزشکیان نے بھی پیر کو تشدد کے خلاف قومی مزاحمتی مارچ میں شرکت کی اپیل کی۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ٹرمپ-کا-ایلون-مسک-سے-ایران-میں-انٹرنیٹ-بحال-کرنے-پرگفتگو-کرنے-کا-اعلان" href="#ٹرمپ-کا-ایلون-مسک-سے-ایران-میں-انٹرنیٹ-بحال-کرنے-پرگفتگو-کرنے-کا-اعلان" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ٹرمپ کا ایلون مسک سے ایران میں انٹرنیٹ بحال کرنے پرگفتگو کرنے کا اعلان&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ ایران میں انٹرنیٹ کی بحالی کے لیے ایلون مسک سے بات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جہاں چار دن سے انٹرنیٹ سروس بند ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صحافیوں کے سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ ایلون مسک اس قسم کے معاملات میں ماہر ہیں اور ان کی کمپنی سیٹلائٹ انٹرنیٹ فراہم کرتی ہے۔ اسپیس ایکس کی اسٹار لنک سروس ماضی میں ایران میں استعمال ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/netblocks/status/2010570931559915633?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2010570931559915633%7Ctwgr%5E939e044a606ccbd3b7373ad0c35a51e5d0225e79%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966524'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/netblocks/status/2010570931559915633?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2010570931559915633%7Ctwgr%5E939e044a606ccbd3b7373ad0c35a51e5d0225e79%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966524"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایلون مسک اور اسپیس ایکس کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات سے جاری انٹرنیٹ بندش کے باعث ایران سے اطلاعات کی ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="رضا-پہلوی-کا-سکیورٹی-فورسز-سے-عوام-کا-ساتھ-دینے-کا-مطالبہ" href="#رضا-پہلوی-کا-سکیورٹی-فورسز-سے-عوام-کا-ساتھ-دینے-کا-مطالبہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;رضا پہلوی کا سکیورٹی فورسز سے عوام کا ساتھ دینے کا مطالبہ&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;امریکا میں مقیم معزول ایرانی شاہ کے بیٹے رضا پہلوی نے ایرانی سرکاری ملازمین اور سکیورٹی فورسز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عوامی احتجاجی تحریک کا ساتھ دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رضا پہلوی نے سوشل میڈیا پر کہا کہ سرکاری اداروں کے ملازمین اور مسلح و سکیورٹی فورسز کے ارکان کے پاس انتخاب ہے کہ وہ عوام کے ساتھ کھڑے ہو کر قوم کے اتحادی بنیں یا پھر عوام کے قاتلوں کے ساتھ شریک رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بیرون ملک ایرانی سفارت خانوں کے باہر اسلامی جمہوریہ کے پرچم کے بجائے انقلاب سے پہلے والا قومی پرچم لہرانے کا مطالبہ بھی کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق اب وقت آ گیا ہے کہ ایرانی سفارت خانے اسلامی جمہوریہ کے شرمناک پرچم کے بجائے ایران کے اصل قومی پرچم سے آراستہ ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لندن میں مظاہرین نے ہفتے کے آخر میں ایرانی سفارت خانے پر اسلامی دور سے پہلے والا پرچم لہرا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پرچم دنیا بھر میں ایران میں ہونے والے مظاہروں کے حق میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کی علامت بن چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ایران کی وزارت خارجہ نے پرچم کی تبدیلی پر برطانوی سفیر کو اتوار طلب کیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی قیادت نے فوجی کارروائی کی دھمکیوں کے بعد مذاکرات کے لیے رابطہ کیا ہے۔</p>
<p>ایئر فورس ون میں اتوار کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ ایران کے رہنماؤں نے گزشتہ روز فون کیا اور ایک ملاقات طے کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق ایران مذاکرات چاہتا ہے تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ممکن ہے ملاقات سے پہلے ہی ہمیں کارروائی کرنا پڑے۔</p>
<p>ایران میں 2022 کے بعد سے سب سے بڑے مظاہروں کے تناظر میں ٹرمپ متعدد بار یہ دھمکی دے چکے ہیں کہ اگر مظاہرین کے خلاف طاقت استعمال کی گئی تو امریکا مداخلت کر سکتا ہے۔</p>
<p>ایران نے مظاہروں میں ہلاکتوں کے حوالے سے کوئی سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کیے، جبکہ رائٹرز بھی انسانی حقوق کی تنظیموں کے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔</p>
<p>یہ مظاہرے 28 دسمبر کو مہنگائی میں شدید اضافے کے خلاف شروع ہوئے تھے، جو بعد ازاں 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد قائم ہونے والے نظام کے خلاف احتجاج میں بدل گئے۔</p>
<h3><a id="مفلوج-شہر" href="#مفلوج-شہر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>مفلوج شہر</h3>
<p>تہران میں اے ایف پی کے ایک صحافی کے مطابق شہر تقریباً مفلوج حالت میں ہے۔</p>
<p>مظاہروں کے آغاز کے بعد گوشت کی قیمتیں تقریباً دگنی ہوچکی ہیں جبکہ بیشتر دکانیں بند ہیں جو دکانیں کھلتی بھی ہیں وہ سکیورٹی فورسز کی بڑے پیمانے پر تعیناتی کے باعث شام چار یا پانچ بجے بند کر دی جاتی ہیں۔</p>
<p>اتوار کو سوشل میڈیا پر مظاہروں کی ویڈیوز کم نظر آئیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ اس کی وجہ انٹرنیٹ بندش کس حد تک ہے۔</p>
<p>ایک وائرل ویڈیو میں تہران کے پونک علاقے میں مظاہرین کو معزول بادشاہت کے حق میں نعرے لگاتے دیکھا جا سکتا ہے۔</p>
<p>یہ مظاہرے 86 سالہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں، خاص طور پر جون میں ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ کے بعد جس کی امریکا نے حمایت کی تھی۔</p>
<p>ریاستی ٹی وی نے جلتی عمارتوں جن میں ایک مسجد بھی شامل ہے اور سکیورٹی اہلکاروں کے جنازوں کی تصاویر نشر کیں۔</p>
<p>تاہم تین دن کی شدید کارروائیوں کے بعد سرکاری میڈیا نے اتوار کو حالات میں بہتری ظاہر کرنے کی کوشش کی اور رواں ٹریفک کی فوٹیج نشر کی۔</p>
<p>تہران کے گورنر محمد صادق معتمدیان نے ٹیلی وژن پر کہا کہ مظاہروں کی تعداد میں کمی آ رہی ہے۔</p>
<p>ایرانی حکومت نے اتوار کو سکیورٹی اہلکاروں سمیت ہلاک ہونے والوں کو شہدا قرار دیتے ہوئے تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا۔</p>
<p>صدر مسعود پزشکیان نے بھی پیر کو تشدد کے خلاف قومی مزاحمتی مارچ میں شرکت کی اپیل کی۔</p>
<h3><a id="ٹرمپ-کا-ایلون-مسک-سے-ایران-میں-انٹرنیٹ-بحال-کرنے-پرگفتگو-کرنے-کا-اعلان" href="#ٹرمپ-کا-ایلون-مسک-سے-ایران-میں-انٹرنیٹ-بحال-کرنے-پرگفتگو-کرنے-کا-اعلان" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ٹرمپ کا ایلون مسک سے ایران میں انٹرنیٹ بحال کرنے پرگفتگو کرنے کا اعلان</h3>
<p>ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ ایران میں انٹرنیٹ کی بحالی کے لیے ایلون مسک سے بات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جہاں چار دن سے انٹرنیٹ سروس بند ہے۔</p>
<p>صحافیوں کے سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ ایلون مسک اس قسم کے معاملات میں ماہر ہیں اور ان کی کمپنی سیٹلائٹ انٹرنیٹ فراہم کرتی ہے۔ اسپیس ایکس کی اسٹار لنک سروس ماضی میں ایران میں استعمال ہو چکی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/netblocks/status/2010570931559915633?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2010570931559915633%7Ctwgr%5E939e044a606ccbd3b7373ad0c35a51e5d0225e79%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966524'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/netblocks/status/2010570931559915633?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2010570931559915633%7Ctwgr%5E939e044a606ccbd3b7373ad0c35a51e5d0225e79%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966524"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>ایلون مسک اور اسپیس ایکس کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔</p>
<p>جمعرات سے جاری انٹرنیٹ بندش کے باعث ایران سے اطلاعات کی ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے۔</p>
<h3><a id="رضا-پہلوی-کا-سکیورٹی-فورسز-سے-عوام-کا-ساتھ-دینے-کا-مطالبہ" href="#رضا-پہلوی-کا-سکیورٹی-فورسز-سے-عوام-کا-ساتھ-دینے-کا-مطالبہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>رضا پہلوی کا سکیورٹی فورسز سے عوام کا ساتھ دینے کا مطالبہ</h3>
<p>امریکا میں مقیم معزول ایرانی شاہ کے بیٹے رضا پہلوی نے ایرانی سرکاری ملازمین اور سکیورٹی فورسز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عوامی احتجاجی تحریک کا ساتھ دیں۔</p>
<p>رضا پہلوی نے سوشل میڈیا پر کہا کہ سرکاری اداروں کے ملازمین اور مسلح و سکیورٹی فورسز کے ارکان کے پاس انتخاب ہے کہ وہ عوام کے ساتھ کھڑے ہو کر قوم کے اتحادی بنیں یا پھر عوام کے قاتلوں کے ساتھ شریک رہیں۔</p>
<p>انہوں نے بیرون ملک ایرانی سفارت خانوں کے باہر اسلامی جمہوریہ کے پرچم کے بجائے انقلاب سے پہلے والا قومی پرچم لہرانے کا مطالبہ بھی کیا۔</p>
<p>ان کے مطابق اب وقت آ گیا ہے کہ ایرانی سفارت خانے اسلامی جمہوریہ کے شرمناک پرچم کے بجائے ایران کے اصل قومی پرچم سے آراستہ ہوں۔</p>
<p>لندن میں مظاہرین نے ہفتے کے آخر میں ایرانی سفارت خانے پر اسلامی دور سے پہلے والا پرچم لہرا دیا۔</p>
<p>یہ پرچم دنیا بھر میں ایران میں ہونے والے مظاہروں کے حق میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کی علامت بن چکا ہے۔</p>
<p>ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ایران کی وزارت خارجہ نے پرچم کی تبدیلی پر برطانوی سفیر کو اتوار طلب کیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275076</guid>
      <pubDate>Mon, 12 Jan 2026 12:09:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/121156167d5b729.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/121156167d5b729.webp"/>
        <media:title>ٹرمپ نے خبردار کیا کہ ممکن ہے ملاقات سے پہلے ہی ہمیں کارروائی کرنا پڑے۔ فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حملے کی صورت میں ایران کی اسرائیل اور امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275074/</link>
      <description>&lt;p&gt;تہران: ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا کی جانب سے ایران پر حملہ کیا گیا تو وہ اسرائیل اور امریکا کے فوجی اڈوں کے خلاف جوابی کارروائی کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی ذرائع کے مطابق امریکا کی ممکنہ مداخلت کے پیش نظر اسرائیل ہائی الرٹ پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران میں مذہبی قیادت کو 2022 کے بعد سے سب سے بڑے حکومت مخالف مظاہروں کا سامنا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حالیہ دنوں میں بار بار مداخلت کی دھمکی دے چکے ہیں اور ایرانی قیادت کو مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال سے خبردار کیا ہے۔ گزشتہ روز روز ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا مدد کے لیے تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اتوار کے روز پارلیمان میں خطاب کرتے ہوئے امریکا کو کسی بھی غلط اندازے سے خبردار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ’واضح کر دیتے ہیں، اگر ایران پر حملہ ہوا تو مقبوضہ علاقے یعنی اسرائیل کے ساتھ ساتھ امریکا کے تمام فوجی اڈے اور بحری جہاز ہمارے جائز اہداف ہوں گے۔‘ قالیباف ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے سابق کمانڈر بھی رہ چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی سیکیورٹی مشاورت میں شریک تین ذرائع نے بتایا کہ اسرائیل ہائی الرٹ پر ہے، تاہم اس کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی حکومت کے ترجمان نے تبصرہ کرنے سے انکار کیا جبکہ اسرائیلی فوج نے بھی فوری طور پر ردعمل نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ جون میں اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 روزہ جنگ ہوئی تھی، جس میں امریکا نے اسرائیل کے ساتھ مل کر فضائی حملے کیے تھے۔ ان حملوں کے جواب میں ایران نے قطر میں واقع ایک امریکی فضائی اڈے پر میزائل داغے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ہلاکتوں-میں-اضافہ" href="#ہلاکتوں-میں-اضافہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;ہلاکتوں میں اضافہ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;28 دسمبر سے ایران بھر میں مظاہرے پھیل چکے ہیں، جن کا آغاز مہنگائی میں شدید اضافے کے خلاف ہوا اور بعد ازاں یہ مذہبی حکمرانی کے خاتمے کے مطالبات میں تبدیل ہو گئے۔ حکام امریکا اور اسرائیل پر بےامنی پھیلانے کا الزام عائد کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران میں معلومات کی ترسیل اس وقت متاثر ہے کیونکہ جمعرات سے حکام کی جانب سے انٹرنیٹ بند کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ہرانا کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 116 تک پہنچ چکی ہے، جن میں زیادہ تر مظاہرین شامل ہیں جبکہ سیکیورٹی فورسز کے 37 اہلکار بھی مارے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی سرکاری ٹی وی نے مغربی ایران کے شہروں گاچساران اور یاسوج میں مظاہروں کے دوران مارے جانے والے سیکیورٹی اہلکاروں کے جنازوں کی کوریج نشر کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر ہفتے کے روز ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں تہران کے پونک علاقے میں رات کے وقت بڑی تعداد میں لوگ ایک پل یا دھاتی اشیا پر تالیاں اور ضربیں لگاتے نظر آئے، جو بظاہر احتجاج کی علامت تھی۔ خبر رساں ادارے نے ویڈیو کے مقام کی تصدیق کی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>تہران: ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا کی جانب سے ایران پر حملہ کیا گیا تو وہ اسرائیل اور امریکا کے فوجی اڈوں کے خلاف جوابی کارروائی کرے گا۔</p>
<p>یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی ذرائع کے مطابق امریکا کی ممکنہ مداخلت کے پیش نظر اسرائیل ہائی الرٹ پر ہے۔</p>
<p>ایران میں مذہبی قیادت کو 2022 کے بعد سے سب سے بڑے حکومت مخالف مظاہروں کا سامنا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حالیہ دنوں میں بار بار مداخلت کی دھمکی دے چکے ہیں اور ایرانی قیادت کو مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال سے خبردار کیا ہے۔ گزشتہ روز روز ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا مدد کے لیے تیار ہے۔</p>
<p>ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اتوار کے روز پارلیمان میں خطاب کرتے ہوئے امریکا کو کسی بھی غلط اندازے سے خبردار کیا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ’واضح کر دیتے ہیں، اگر ایران پر حملہ ہوا تو مقبوضہ علاقے یعنی اسرائیل کے ساتھ ساتھ امریکا کے تمام فوجی اڈے اور بحری جہاز ہمارے جائز اہداف ہوں گے۔‘ قالیباف ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے سابق کمانڈر بھی رہ چکے ہیں۔</p>
<p>اسرائیلی سیکیورٹی مشاورت میں شریک تین ذرائع نے بتایا کہ اسرائیل ہائی الرٹ پر ہے، تاہم اس کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔</p>
<p>اسرائیلی حکومت کے ترجمان نے تبصرہ کرنے سے انکار کیا جبکہ اسرائیلی فوج نے بھی فوری طور پر ردعمل نہیں دیا۔</p>
<p>یاد رہے کہ جون میں اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 روزہ جنگ ہوئی تھی، جس میں امریکا نے اسرائیل کے ساتھ مل کر فضائی حملے کیے تھے۔ ان حملوں کے جواب میں ایران نے قطر میں واقع ایک امریکی فضائی اڈے پر میزائل داغے تھے۔</p>
<h3><a id="ہلاکتوں-میں-اضافہ" href="#ہلاکتوں-میں-اضافہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>ہلاکتوں میں اضافہ</strong></h3>
<p>28 دسمبر سے ایران بھر میں مظاہرے پھیل چکے ہیں، جن کا آغاز مہنگائی میں شدید اضافے کے خلاف ہوا اور بعد ازاں یہ مذہبی حکمرانی کے خاتمے کے مطالبات میں تبدیل ہو گئے۔ حکام امریکا اور اسرائیل پر بےامنی پھیلانے کا الزام عائد کرتے ہیں۔</p>
<p>ایران میں معلومات کی ترسیل اس وقت متاثر ہے کیونکہ جمعرات سے حکام کی جانب سے انٹرنیٹ بند کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>امریکا میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ہرانا کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 116 تک پہنچ چکی ہے، جن میں زیادہ تر مظاہرین شامل ہیں جبکہ سیکیورٹی فورسز کے 37 اہلکار بھی مارے گئے ہیں۔</p>
<p>ایرانی سرکاری ٹی وی نے مغربی ایران کے شہروں گاچساران اور یاسوج میں مظاہروں کے دوران مارے جانے والے سیکیورٹی اہلکاروں کے جنازوں کی کوریج نشر کی۔</p>
<p>سوشل میڈیا پر ہفتے کے روز ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں تہران کے پونک علاقے میں رات کے وقت بڑی تعداد میں لوگ ایک پل یا دھاتی اشیا پر تالیاں اور ضربیں لگاتے نظر آئے، جو بظاہر احتجاج کی علامت تھی۔ خبر رساں ادارے نے ویڈیو کے مقام کی تصدیق کی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275074</guid>
      <pubDate>Sun, 11 Jan 2026 14:24:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/111419057ac8320.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/111419057ac8320.webp"/>
        <media:title>امریکا میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ہرانا کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 116 تک پہنچ چکی ہے، جن میں زیادہ تر مظاہرین شامل ہیں جبکہ سیکیورٹی فورسز کے 37 اہلکار بھی مارے گئے ہیں۔فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسلام آباد: شادی والے گھر میں دھماکا، دلہا دلہن سمیت 6 افراد جاں بحق</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275073/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد کے سیکٹر جی سیون ٹو میں شادی والے گھر میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں کم از کم چھ افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق جاں بحق افراد میں دلہا اور دلہن بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے ترجمان ڈاکٹر عنیزہ جلیل نے بتایا کہ چھ لاشیں اور 11 زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://youtu.be/MuKH0YvA4fU?si=RvKvGpHmM74W9qrb'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/MuKH0YvA4fU?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ڈان کو بتایا کہ واقعے کے بعد ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر رانا عمران سکندر کی ہدایات پر پمز میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر عنیزہ جلیل کے مطابق ایک زخمی کو اسپتال کے برن سینٹر میں منتقل کیا گیا، جو 20 فیصد جھلسا ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر اسلام آباد کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل صاحبزادہ یوسف، ڈپٹی کمشنر عرفان نواز میمن کی ہدایات پر جائے وقوع پر پہنچے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ دھماکے سے کم از کم چار مکانات کو نقصان پہنچا ہے اور اس بات کی تصدیق کی کہ جاں بحق افراد میں دلہا اور دلہن شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ دھماکا شادی کی تقریب کے مقام پر ہوا، جہاں مہمان بھی موجود تھے، تاہم جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملبے تلے دبے تمام افراد کو نکال لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ ریسکیو ٹیم خصوصی آلات کے ذریعے مزید تلاشی لے رہی ہے اور واقعے کی اصل وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے، تاہم بظاہر یہ گیس سلنڈر کا دھماکا لگتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب سینیٹ سیکریٹریٹ کے جاری بیان کے مطابق سینیٹ چیئرمین یوسف رضا گیلانی نے شادی کے دوران پیش آنے والے اس واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ یہ دل دہلا دینے والا واقعہ ہے جس نے ایک خاندان کی خوشیوں کو غم میں بدل دیا، ساتھ ہی انہوں نے گیس سلنڈر دھماکوں پر تشویش کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات اس بات کے متقاضی ہیں کہ متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں سنجیدگی سے نبھائیں اور حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائیں، جبکہ غیر محفوظ گیس سلنڈروں کے استعمال کے تدارک کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنانے، قوانین پر عملدرآمد اور عوام میں آگاہی کی ضرورت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد کے سیکٹر جی سیون ٹو میں شادی والے گھر میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں کم از کم چھ افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہو گئے۔</p>
<p>حکام کے مطابق جاں بحق افراد میں دلہا اور دلہن بھی شامل ہیں۔</p>
<p>پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے ترجمان ڈاکٹر عنیزہ جلیل نے بتایا کہ چھ لاشیں اور 11 زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  ' data-original-src='https://youtu.be/MuKH0YvA4fU?si=RvKvGpHmM74W9qrb'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/MuKH0YvA4fU?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے ڈان کو بتایا کہ واقعے کے بعد ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر رانا عمران سکندر کی ہدایات پر پمز میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔</p>
<p>ڈاکٹر عنیزہ جلیل کے مطابق ایک زخمی کو اسپتال کے برن سینٹر میں منتقل کیا گیا، جو 20 فیصد جھلسا ہوا تھا۔</p>
<p>ادھر اسلام آباد کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل صاحبزادہ یوسف، ڈپٹی کمشنر عرفان نواز میمن کی ہدایات پر جائے وقوع پر پہنچے۔</p>
<p>میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ دھماکے سے کم از کم چار مکانات کو نقصان پہنچا ہے اور اس بات کی تصدیق کی کہ جاں بحق افراد میں دلہا اور دلہن شامل ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ دھماکا شادی کی تقریب کے مقام پر ہوا، جہاں مہمان بھی موجود تھے، تاہم جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملبے تلے دبے تمام افراد کو نکال لیا گیا۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ ریسکیو ٹیم خصوصی آلات کے ذریعے مزید تلاشی لے رہی ہے اور واقعے کی اصل وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے، تاہم بظاہر یہ گیس سلنڈر کا دھماکا لگتا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب سینیٹ سیکریٹریٹ کے جاری بیان کے مطابق سینیٹ چیئرمین یوسف رضا گیلانی نے شادی کے دوران پیش آنے والے اس واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔</p>
<p>انہوں نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت کی۔</p>
<p>بیان کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ یہ دل دہلا دینے والا واقعہ ہے جس نے ایک خاندان کی خوشیوں کو غم میں بدل دیا، ساتھ ہی انہوں نے گیس سلنڈر دھماکوں پر تشویش کا اظہار کیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات اس بات کے متقاضی ہیں کہ متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں سنجیدگی سے نبھائیں اور حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائیں، جبکہ غیر محفوظ گیس سلنڈروں کے استعمال کے تدارک کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنانے، قوانین پر عملدرآمد اور عوام میں آگاہی کی ضرورت پر زور دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275073</guid>
      <pubDate>Sun, 11 Jan 2026 12:57:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اکرام جنیدیکاشف عباسی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/11125417977336d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/11125417977336d.webp"/>
        <media:title>ریسکیو ٹیم خصوصی آلات کے ذریعے مزید تلاشی لے رہی ہے اور واقعے کی اصل وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے، تاہم بظاہر یہ گیس سلنڈر کا دھماکا لگتا ہے۔ فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایرانی عوام آزادی چاہتے ہیں، امریکا ان کی مدد کے لیے تیار ہے، ڈونلڈ ٹرمپ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275072/</link>
      <description>&lt;p&gt;واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے ایرانی عوام پہلے سے زیادہ آزادی کی امید کر رہے ہیں اور امریکا ان کی مدد کے لیے تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ’ایران آزادی کی طرف دیکھ رہا ہے، شاید پہلے سے زیادہ، اور امریکا مدد کے لیے تیار ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں انہوں نے یہی پیغام دیگر پوسٹس میں بھی دہرایا جبکہ امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ واشنگٹن ایران کے خلاف ممکنہ حملوں پر غور کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران میں دسمبر کے اواخر سے احتجاجی مظاہروں کی لہر جاری ہے، جن کی بڑی وجہ ایرانی ریال کی قدر میں شدید کمی اور خراب ہوتی معاشی صورتحال ہے۔ مظاہروں کا آغاز 28 دسمبر کو تہران کے قریب گرینڈ بازار کے علاقے سے ہوا اور بعد میں یہ کئی دیگر شہروں تک پھیل گئے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1275000/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1275000"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جمعے کو ٹرمپ نے کہا تھا کہ بڑھتی ہوئی بے چینی کے باعث ایران سنگین مشکلات کا شکار ہے اور امریکا صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، ساتھ ہی انہوں نے ایرانی حکام کو مظاہرین کے خلاف مہلک طاقت کے استعمال سے خبردار کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی حکام نے امریکا اور اسرائیل پر بےامنی کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز اور عدلیہ تخریب کاروں کے خلاف کسی قسم کی نرمی نہیں برتیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتے کو ٹرمپ نے امریکی سینیٹر لنزے گراہم کے تبصرے بھی ٹروتھ سوشل پر شیئر کیے، جن میں تہران کو متنبہ کیا گیا تھا کہ مظاہرین کے خلاف اقدامات کا جواب دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے فاکس نیوز کی ایک رپورٹ بھی دوبارہ شیئر کی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ لندن میں ایرانی سفارت خانے پر ایک مظاہرہ کرنے والے شخص نے موجودہ حکومت کا پرچم اتار کر انقلاب سے پہلے کا نشان لہرا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ مزید سخت آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا کہ ایران کے خلاف ممکنہ حملوں پر ابتدائی بات چیت ہو چکی ہے، جبکہ نیویارک پوسٹ کے مطابق امریکا بعض منتخب اہداف پر ابتدائی حملے کر سکتا ہے، تاہم وقت اور اہداف کی وضاحت نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب امریکی بحریہ کے ایک ریٹائرڈ افسر نے ایرانی مظاہرین کے لیے سائبر اسپیس میں حمایت بڑھانے پر زور دیا ہے۔ وائس ایڈمرل رابرٹ ہارورڈ نے کہا کہ امریکا کو ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جن سے ایرانی شہری محفوظ وی پی این تک رسائی حاصل کر سکیں، تاکہ وہ انٹرنیٹ بندش کے دوران زیادہ محفوظ طریقے سے رابطہ اور تنظیم سازی کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ایران میں آزادی اظہار دبانے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث سرکاری اداروں کی فہرست تیار کی جائے، جن میں فوجی کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، سائبر پولیس اور اخلاقی پولیس کے دفاتر شامل ہوں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے ایرانی عوام پہلے سے زیادہ آزادی کی امید کر رہے ہیں اور امریکا ان کی مدد کے لیے تیار ہے۔</p>
<p>ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ’ایران آزادی کی طرف دیکھ رہا ہے، شاید پہلے سے زیادہ، اور امریکا مدد کے لیے تیار ہے۔‘</p>
<p>بعد ازاں انہوں نے یہی پیغام دیگر پوسٹس میں بھی دہرایا جبکہ امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ واشنگٹن ایران کے خلاف ممکنہ حملوں پر غور کر رہا ہے۔</p>
<p>ایران میں دسمبر کے اواخر سے احتجاجی مظاہروں کی لہر جاری ہے، جن کی بڑی وجہ ایرانی ریال کی قدر میں شدید کمی اور خراب ہوتی معاشی صورتحال ہے۔ مظاہروں کا آغاز 28 دسمبر کو تہران کے قریب گرینڈ بازار کے علاقے سے ہوا اور بعد میں یہ کئی دیگر شہروں تک پھیل گئے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1275000/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1275000"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>جمعے کو ٹرمپ نے کہا تھا کہ بڑھتی ہوئی بے چینی کے باعث ایران سنگین مشکلات کا شکار ہے اور امریکا صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، ساتھ ہی انہوں نے ایرانی حکام کو مظاہرین کے خلاف مہلک طاقت کے استعمال سے خبردار کیا تھا۔</p>
<p>ایرانی حکام نے امریکا اور اسرائیل پر بےامنی کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز اور عدلیہ تخریب کاروں کے خلاف کسی قسم کی نرمی نہیں برتیں گی۔</p>
<p>ہفتے کو ٹرمپ نے امریکی سینیٹر لنزے گراہم کے تبصرے بھی ٹروتھ سوشل پر شیئر کیے، جن میں تہران کو متنبہ کیا گیا تھا کہ مظاہرین کے خلاف اقدامات کا جواب دیا جائے گا۔</p>
<p>ٹرمپ نے فاکس نیوز کی ایک رپورٹ بھی دوبارہ شیئر کی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ لندن میں ایرانی سفارت خانے پر ایک مظاہرہ کرنے والے شخص نے موجودہ حکومت کا پرچم اتار کر انقلاب سے پہلے کا نشان لہرا دیا۔</p>
<p>ادھر امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ مزید سخت آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا کہ ایران کے خلاف ممکنہ حملوں پر ابتدائی بات چیت ہو چکی ہے، جبکہ نیویارک پوسٹ کے مطابق امریکا بعض منتخب اہداف پر ابتدائی حملے کر سکتا ہے، تاہم وقت اور اہداف کی وضاحت نہیں کی گئی۔</p>
<p>دوسری جانب امریکی بحریہ کے ایک ریٹائرڈ افسر نے ایرانی مظاہرین کے لیے سائبر اسپیس میں حمایت بڑھانے پر زور دیا ہے۔ وائس ایڈمرل رابرٹ ہارورڈ نے کہا کہ امریکا کو ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جن سے ایرانی شہری محفوظ وی پی این تک رسائی حاصل کر سکیں، تاکہ وہ انٹرنیٹ بندش کے دوران زیادہ محفوظ طریقے سے رابطہ اور تنظیم سازی کر سکیں۔</p>
<p>انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ایران میں آزادی اظہار دبانے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث سرکاری اداروں کی فہرست تیار کی جائے، جن میں فوجی کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، سائبر پولیس اور اخلاقی پولیس کے دفاتر شامل ہوں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275072</guid>
      <pubDate>Sun, 11 Jan 2026 12:41:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انور اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/1112090564c5a7c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/1112090564c5a7c.webp"/>
        <media:title>امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ مزید سخت آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا کہ ایران کے خلاف ممکنہ حملوں پر ابتدائی بات چیت ہو چکی ہے، جبکہ نیویارک پوسٹ کے مطابق امریکا بعض منتخب اہداف پر ابتدائی حملے کر سکتا ہے۔ فوٹو رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت کیخلاف جنگ میں کامیابی کے بعد پاکستانی ہتھیاروں کی عالمی مانگ میں اضافہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275070/</link>
      <description>&lt;p&gt;گزشتہ برس مئی میں بھارت کے ساتھ چار روزہ تنازع کے دوران پاکستان نے نہ صرف چینی ساختہ فوجی سازوسامان کی موثر صلاحیت ثابت کی بلکہ اپنے مقامی طور پر تیار کردہ ہتھیاروں جیسے جے ایف 17 تھنڈر لڑاکا طیارہ، الخالد مین بیٹل ٹینک اور فتح سیریز گائیڈڈ ملٹی لانچ راکٹ سسٹم کی صلاحیتوں کا بھی بھرپور مظاہرہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بالخصوص جے ایف 17 تھنڈر نے گزشتہ سال مئی اور 2019 میں بھارت کے ساتھ جھڑپوں کے دوران اپنی جنگی صلاحیت منوائی۔ گزشتہ برس کی جنگ میں اس طیارے کو بھارتی فضائیہ کے جدید ایس 400 زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل نظام کو آدم پور میں تباہ کرنے کا کریڈٹ دیا گیا۔ جے ایف 17 نے دبئی ایئر شو میں بھی نمایاں کارکردگی دکھائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی ہفتے وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان کی اسلحہ سازی کی صنعت کی کامیابی ملکی معیشت کا رخ بدل سکتی ہے۔ جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ہمارے طیارے جنگ میں آزمائے جا چکے ہیں اور اتنے آرڈرز مل رہے ہیں کہ پاکستان کو چھ ماہ میں آئی ایم ایف کی ضرورت نہ پڑے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذیل میں مئی 2025 کے بعد پاکستان کے ان دفاعی معاہدوں اور مذاکرات کی مختصر ٹائم لائن دی جا رہی ہے جو دوست ممالک کے ساتھ طے پائے یا زیرِ غور ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="10-جنوری-2026-عراقی-فضائیہ-کی-جے-ایف-17-میں-گہری-دلچسپی" href="#10-جنوری-2026-عراقی-فضائیہ-کی-جے-ایف-17-میں-گہری-دلچسپی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;10 جنوری 2026: عراقی فضائیہ کی جے ایف 17 میں گہری دلچسپی&lt;/h3&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2026/01/1018582272710da.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2026/01/1018582272710da.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;عراقی فضائیہ کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل مہند غالب محمد راضی الاسدی نے پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کے دورۂ عراق کے دوران ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے مئی میں بھارت کے خلاف پاک فضائیہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا اور جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کے حصول میں دلچسپی کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کے مطابق عراقی فضائیہ کے سربراہ نے پاک فضائیہ کی عالمی معیار کی تربیت سے فائدہ اٹھانے اور جے ایف 17 تھنڈر اور سپر مشاق تربیتی طیاروں میں خصوصی دلچسپی ظاہر کی۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="7-جنوری-سعودی-عرب-کے-ساتھ-قرضوں-کے-بدلے-جے-ایف-17-کا-معاہدہ-زیر-غور" href="#7-جنوری-سعودی-عرب-کے-ساتھ-قرضوں-کے-بدلے-جے-ایف-17-کا-معاہدہ-زیر-غور" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;7 جنوری: سعودی عرب کے ساتھ قرضوں کے بدلے جے ایف 17 کا معاہدہ زیر غور&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تقریباً 2 ارب ڈالر کے سعودی قرضوں کو جے ایف 17 لڑاکا طیاروں کے معاہدے میں تبدیل کرنے پر بات چیت جاری ہے۔ پاکستانی ذرائع کے مطابق مجموعی معاہدے کی مالیت 4 ارب ڈالر ہو سکتی ہے، جس میں اضافی دفاعی سازوسامان بھی شامل ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="6-جنوری-بنگلہ-دیش-کی-جے-ایف-17-خریدنے-میں-دلچسپی" href="#6-جنوری-بنگلہ-دیش-کی-جے-ایف-17-خریدنے-میں-دلچسپی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;6 جنوری: بنگلہ دیش کی جے ایف 17 خریدنے میں دلچسپی&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اور بنگلہ دیش کی فضائیہ کے سربراہان کے درمیان جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کی ممکنہ خریداری پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے بنگلہ دیشی ہم منصب کو پاک فضائیہ کی حالیہ پیش رفت سے آگاہ کیا اور تربیت و تکنیکی تعاون کی یقین دہانی کرائی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2026/01/101858062dc163a.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2026/01/101858062dc163a.webp'  alt='بنگلہ دیش فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل حسن محمود خان (بائیں) نے 6 جنوری کو اسلام آباد میں پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ملاقات کی۔ &amp;mdash; آئی ایس پی آر ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;بنگلہ دیش فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل حسن محمود خان (بائیں) نے 6 جنوری کو اسلام آباد میں پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ملاقات کی۔ — آئی ایس پی آر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="22-دسمبر-2025-پاکستان-کا-لیبیا-کے-ساتھ-اربوں-ڈالر-کا-دفاعی-معاہدہ" href="#22-دسمبر-2025-پاکستان-کا-لیبیا-کے-ساتھ-اربوں-ڈالر-کا-دفاعی-معاہدہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;22 دسمبر 2025: پاکستان کا لیبیا کے ساتھ اربوں ڈالر کا دفاعی معاہدہ&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے لیبیا کو روایتی فوجی سازوسامان کی فروخت کے لیے اربوں ڈالر کا معاہدہ طے کیا۔ رائٹرز کے مطابق اس معاہدے میں جے ایف 17 لڑاکا طیاروں اور سپر مشاق تربیتی طیاروں کی فروخت بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--right  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2026/01/1018580065e0c35.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2026/01/1018580065e0c35.webp'  alt=' چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل عاصم منیر نے 18 دسمبر کو لیبیا میں لیبیائی عرب مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف خلیفہ بلقاسم حفتر سے ملاقات کی۔ &amp;mdash; آئی ایس پی آر' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل عاصم منیر نے 18 دسمبر کو لیبیا میں لیبیائی عرب مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف خلیفہ بلقاسم حفتر سے ملاقات کی۔ — آئی ایس پی آر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ایک پاکستانی عہدیدار کے مطابق یہ معاہدہ زمینی، بحری اور فضائی سازوسامان پر مشتمل ہے اور ڈھائی برس میں مکمل ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاہدے اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان کی دفاعی صنعت تیزی سے عالمی سطح پر اپنی شناخت بنا رہی ہے اور جے ایف 17 تھنڈر اس کامیابی کا مرکزی ستون بنتا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>گزشتہ برس مئی میں بھارت کے ساتھ چار روزہ تنازع کے دوران پاکستان نے نہ صرف چینی ساختہ فوجی سازوسامان کی موثر صلاحیت ثابت کی بلکہ اپنے مقامی طور پر تیار کردہ ہتھیاروں جیسے جے ایف 17 تھنڈر لڑاکا طیارہ، الخالد مین بیٹل ٹینک اور فتح سیریز گائیڈڈ ملٹی لانچ راکٹ سسٹم کی صلاحیتوں کا بھی بھرپور مظاہرہ کیا۔</p>
<p>بالخصوص جے ایف 17 تھنڈر نے گزشتہ سال مئی اور 2019 میں بھارت کے ساتھ جھڑپوں کے دوران اپنی جنگی صلاحیت منوائی۔ گزشتہ برس کی جنگ میں اس طیارے کو بھارتی فضائیہ کے جدید ایس 400 زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل نظام کو آدم پور میں تباہ کرنے کا کریڈٹ دیا گیا۔ جے ایف 17 نے دبئی ایئر شو میں بھی نمایاں کارکردگی دکھائی۔</p>
<p>اسی ہفتے وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان کی اسلحہ سازی کی صنعت کی کامیابی ملکی معیشت کا رخ بدل سکتی ہے۔ جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ہمارے طیارے جنگ میں آزمائے جا چکے ہیں اور اتنے آرڈرز مل رہے ہیں کہ پاکستان کو چھ ماہ میں آئی ایم ایف کی ضرورت نہ پڑے۔</p>
<p>ذیل میں مئی 2025 کے بعد پاکستان کے ان دفاعی معاہدوں اور مذاکرات کی مختصر ٹائم لائن دی جا رہی ہے جو دوست ممالک کے ساتھ طے پائے یا زیرِ غور ہیں۔</p>
<h3><a id="10-جنوری-2026-عراقی-فضائیہ-کی-جے-ایف-17-میں-گہری-دلچسپی" href="#10-جنوری-2026-عراقی-فضائیہ-کی-جے-ایف-17-میں-گہری-دلچسپی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>10 جنوری 2026: عراقی فضائیہ کی جے ایف 17 میں گہری دلچسپی</h3>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/primary/2026/01/1018582272710da.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2026/01/1018582272710da.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>عراقی فضائیہ کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل مہند غالب محمد راضی الاسدی نے پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کے دورۂ عراق کے دوران ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے مئی میں بھارت کے خلاف پاک فضائیہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا اور جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کے حصول میں دلچسپی کا اظہار کیا۔</p>
<p>آئی ایس پی آر کے مطابق عراقی فضائیہ کے سربراہ نے پاک فضائیہ کی عالمی معیار کی تربیت سے فائدہ اٹھانے اور جے ایف 17 تھنڈر اور سپر مشاق تربیتی طیاروں میں خصوصی دلچسپی ظاہر کی۔</p>
<h3><a id="7-جنوری-سعودی-عرب-کے-ساتھ-قرضوں-کے-بدلے-جے-ایف-17-کا-معاہدہ-زیر-غور" href="#7-جنوری-سعودی-عرب-کے-ساتھ-قرضوں-کے-بدلے-جے-ایف-17-کا-معاہدہ-زیر-غور" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>7 جنوری: سعودی عرب کے ساتھ قرضوں کے بدلے جے ایف 17 کا معاہدہ زیر غور</h3>
<p>برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تقریباً 2 ارب ڈالر کے سعودی قرضوں کو جے ایف 17 لڑاکا طیاروں کے معاہدے میں تبدیل کرنے پر بات چیت جاری ہے۔ پاکستانی ذرائع کے مطابق مجموعی معاہدے کی مالیت 4 ارب ڈالر ہو سکتی ہے، جس میں اضافی دفاعی سازوسامان بھی شامل ہوگا۔</p>
<h3><a id="6-جنوری-بنگلہ-دیش-کی-جے-ایف-17-خریدنے-میں-دلچسپی" href="#6-جنوری-بنگلہ-دیش-کی-جے-ایف-17-خریدنے-میں-دلچسپی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>6 جنوری: بنگلہ دیش کی جے ایف 17 خریدنے میں دلچسپی</h3>
<p>پاکستان اور بنگلہ دیش کی فضائیہ کے سربراہان کے درمیان جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کی ممکنہ خریداری پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے بنگلہ دیشی ہم منصب کو پاک فضائیہ کی حالیہ پیش رفت سے آگاہ کیا اور تربیت و تکنیکی تعاون کی یقین دہانی کرائی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2026/01/101858062dc163a.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2026/01/101858062dc163a.webp'  alt='بنگلہ دیش فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل حسن محمود خان (بائیں) نے 6 جنوری کو اسلام آباد میں پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ملاقات کی۔ &mdash; آئی ایس پی آر ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>بنگلہ دیش فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل حسن محمود خان (بائیں) نے 6 جنوری کو اسلام آباد میں پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ملاقات کی۔ — آئی ایس پی آر</figcaption>
    </figure>
<h3><a id="22-دسمبر-2025-پاکستان-کا-لیبیا-کے-ساتھ-اربوں-ڈالر-کا-دفاعی-معاہدہ" href="#22-دسمبر-2025-پاکستان-کا-لیبیا-کے-ساتھ-اربوں-ڈالر-کا-دفاعی-معاہدہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>22 دسمبر 2025: پاکستان کا لیبیا کے ساتھ اربوں ڈالر کا دفاعی معاہدہ</h3>
<p>پاکستان نے لیبیا کو روایتی فوجی سازوسامان کی فروخت کے لیے اربوں ڈالر کا معاہدہ طے کیا۔ رائٹرز کے مطابق اس معاہدے میں جے ایف 17 لڑاکا طیاروں اور سپر مشاق تربیتی طیاروں کی فروخت بھی شامل ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--right  ' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2026/01/1018580065e0c35.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2026/01/1018580065e0c35.webp'  alt=' چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل عاصم منیر نے 18 دسمبر کو لیبیا میں لیبیائی عرب مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف خلیفہ بلقاسم حفتر سے ملاقات کی۔ &mdash; آئی ایس پی آر' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل عاصم منیر نے 18 دسمبر کو لیبیا میں لیبیائی عرب مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف خلیفہ بلقاسم حفتر سے ملاقات کی۔ — آئی ایس پی آر</figcaption>
    </figure>
<p>ایک پاکستانی عہدیدار کے مطابق یہ معاہدہ زمینی، بحری اور فضائی سازوسامان پر مشتمل ہے اور ڈھائی برس میں مکمل ہوگا۔</p>
<p>یہ معاہدے اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان کی دفاعی صنعت تیزی سے عالمی سطح پر اپنی شناخت بنا رہی ہے اور جے ایف 17 تھنڈر اس کامیابی کا مرکزی ستون بنتا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275070</guid>
      <pubDate>Sat, 10 Jan 2026 22:26:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/102210203c0deff.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/102210203c0deff.webp"/>
        <media:title>جے ایف 17 نے دبئی ایئر شو میں بھی نمایاں کارکردگی دکھائی۔ فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سردی کی شدت میں اضافہ، سندھ میں اسکولوں کے اوقات کار تبدیل</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275069/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی: سردی میں اضافے کے بعد سندھ کے تمام سرکاری و نجی اسکولوں کے اوقات کار تبدیل کردیئے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر تعلیم سندھ نے اسکولوں میں حاضری اور چھٹی کے اوقات کار میں ایک گھنٹہ کے سہولت دے دی ہے جس کے تحت اسکول صبح 8 بجے کے بجائے 9 بجے کھولے جائیں گے۔ جبکہ اسکول بند ہونے کے اوقات کار پہلے کی طرح معمول کے مطابق رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوقات کار میں تبدیلی کا فیصلہ سردی کی لہر میں شدت کے باعث صوبہ بھر کے تمام سرکاری و نجی اسکولوں میں 2 ہفتوں کے لیے کیا گیا ہے۔ جب کہ اس کا اطلاق پیر 12 جنوری سے تمام سرکاری اور نجی اسکولوں پر ہوگا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2026/01/1021460075ba8ae.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2026/01/1021460075ba8ae.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں وزیر تعلیم سید سردار شاہ نے  اس حوالے سے وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ سے مشاورت کی جس کے بعد صوبے بھر کے نجی و سرکاری اسکولوں کے اوقات کار تبدیل کرنے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں سردی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے اور گزشتہ ہفتے سے سندھ کے کئی شہریوں میں پارہ سنگل ڈیجٹ پر آگیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی: سردی میں اضافے کے بعد سندھ کے تمام سرکاری و نجی اسکولوں کے اوقات کار تبدیل کردیئے گئے ہیں۔</p>
<p>وزیر تعلیم سندھ نے اسکولوں میں حاضری اور چھٹی کے اوقات کار میں ایک گھنٹہ کے سہولت دے دی ہے جس کے تحت اسکول صبح 8 بجے کے بجائے 9 بجے کھولے جائیں گے۔ جبکہ اسکول بند ہونے کے اوقات کار پہلے کی طرح معمول کے مطابق رہیں گے۔</p>
<p>اوقات کار میں تبدیلی کا فیصلہ سردی کی لہر میں شدت کے باعث صوبہ بھر کے تمام سرکاری و نجی اسکولوں میں 2 ہفتوں کے لیے کیا گیا ہے۔ جب کہ اس کا اطلاق پیر 12 جنوری سے تمام سرکاری اور نجی اسکولوں پر ہوگا۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2026/01/1021460075ba8ae.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2026/01/1021460075ba8ae.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>قبل ازیں وزیر تعلیم سید سردار شاہ نے  اس حوالے سے وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ سے مشاورت کی جس کے بعد صوبے بھر کے نجی و سرکاری اسکولوں کے اوقات کار تبدیل کرنے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا۔</p>
<p>واضح رہے کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں سردی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے اور گزشتہ ہفتے سے سندھ کے کئی شہریوں میں پارہ سنگل ڈیجٹ پر آگیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275069</guid>
      <pubDate>Sat, 10 Jan 2026 21:52:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/102151179425b8d.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/102151179425b8d.webp"/>
        <media:title>اوقات کار میں تبدیلی کا فیصلہ سردی کی لہر میں شدت کے باعث صوبہ بھر کے تمام سرکاری و نجی اسکولوں میں 2 ہفتوں کے لیے کیا گیا ہے. فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جنوبی وزیرستان: جے یو آئی (ف) کے سینئر رہنما بم دھماکے میں شہید</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275068/</link>
      <description>&lt;p&gt;جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا بازار میں مدرسے کے قریب بم دھماکے میں شدید زخمی ہونے والے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینئر رہنما مولانا سلطان محمد ہفتے کی صبح زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق جمعہ کو کنڑا چینہ کے علاقے میں ایک دینی مدرسے کے قریب ریموٹ کنٹرول دیسی ساختہ بم نصب کیا گیا تھا، جس کا ہدف مولانا سلطان محمد وزیر تھے، جو وفاق المدارس العربیہ کے ضلعی صدر بھی تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دھماکے کے بعد مولانا سلطان محمد کو فوری طور پر علاج کے لیے ڈیرہ اسماعیل خان منتقل کیا جا رہا تھا تاہم وہ راستے میں ہی دم توڑ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لوئر جنوبی وزیرستان کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر محمد طاہر شاہ وزیر نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکے کی تحقیقات جاری ہیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق جائے وقوع سے حاصل کیے گئے شواہد کا تجزیہ کیا جا رہا ہے تاکہ ذمہ دار عناصر تک پہنچا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مولانا سلطان محمد پر حملہ گزشتہ دو برسوں کے دوران جنوبی وزیرستان، بالخصوص وانا اور برمل تحصیل میں جے یو آئی ف کے رہنماؤں اور دینی علماء کو نشانہ بنانے کے واقعات کی تازہ کڑی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں مولانا سلطان محمد کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ایک مخلص اور بہادر رہنما قرار دیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MoulanaOfficial/status/2009896693651910686?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009896693651910686%7Ctwgr%5Ebdda2e9462cc77eb4c86e59d402934415a3d34f4%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966191'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/MoulanaOfficial/status/2009896693651910686?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009896693651910686%7Ctwgr%5Ebdda2e9462cc77eb4c86e59d402934415a3d34f4%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966191"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ کسی ایک فرد پر نہیں بلکہ اعتدال، امن اور جمہوری سوچ پر حملہ ہے، اور جے یو آئی ف انہی اقدار کی علمبردار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ باجوڑ کے بعد جنوبی وزیرستان جیسے مذہبی طور پر اہم خطے میں امن اور آزادی کے حامی علماء کو نشانہ بنانا ایک نہایت تشویشناک رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یاد دلایا کہ مارچ 2025 میں جنوبی وزیرستان کے امیر ایک بم دھماکے میں شدید زخمی ہوئے تھے اور تاحال ملتان کے نشتر اسپتال میں زیر علاج ہیں، جبکہ جون 2024 میں سابق ضلعی صدر مولانا مرزا جان وزیر بھی ایک دہشت گرد حملے میں زخمی ہو کر بعد ازاں جاں بحق ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جے یو آئی ف جیسی جماعت، جو اعتدال، برداشت اور آئینی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے، کو نشانہ بنانا نہایت افسوسناک اور لمحۂ فکریہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ علماء پر ہونے والے یہ حملے نہ صرف سیکیورٹی اداروں کی ناکامی اور غفلت کا ثبوت ہیں بلکہ اس پُرامن بیانیے کو دبانے کی سازش بھی ہیں جسے جے یو آئی ف برسوں سے ملک بھر میں، خصوصاً قبائلی علاقوں میں فروغ دے رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مولانا فضل الرحمن کے مطابق ایسے علماء کا واحد جرم یہ ہے کہ وہ بندوق کے بجائے دلیل، نفرت کے بجائے محبت اور انتشار کے بجائے امن کی بات کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ جے یو آئی ف نے ہمیشہ ظلم اور تشدد کی مخالفت کی، آئین اور قانون کی بالادستی کی بات کی اور ریاستی دائرے میں رہتے ہوئے اصلاح اور امن کی جدوجہد کو اپنا شعار بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مولانا فضل الرحمن نے قومی سلامتی کے ذمہ دار اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی آئینی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کریں، بالخصوص قبائلی اضلاع میں علماء کے تحفظ اور امن کے قیام کو یقینی بنائیں اور ان واقعات میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جے یو آئی ف ملک میں امن، مذہبی ہم آہنگی، جمہوری اقدار اور آئین کی بالادستی کے لیے اپنی جدوجہد ہر قربانی کے باوجود جاری رکھے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="امن-کمیٹی-کے-سربراہ-پر-حملہ" href="#امن-کمیٹی-کے-سربراہ-پر-حملہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;امن کمیٹی کے سربراہ پر حملہ&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب جنوبی وزیرستان کی تحصیل سرویکئی کے علاقے بروند میں امن کمیٹی کے سربراہ قدیم خان کی گاڑی کو بھی دیسی ساختہ بم کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2026/01/10141244507edbb.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2026/01/10141244507edbb.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اپر جنوبی وزیرستان کے ڈی پی او ارشد خان کے مطابق دھماکے میں گاڑی کو شدید نقصان پہنچا تاہم قدیم خان معمولی زخمی ہوئے اور محفوظ رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق سیکیورٹی اہلکار فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے، علاقے کو گھیرے میں لے کر زخمی رہنما کو مقامی اسپتال منتقل کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی پی او نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ آئی ای ڈی کے ذریعے کیا گیا اور واقعے کے ذمہ داروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا بازار میں مدرسے کے قریب بم دھماکے میں شدید زخمی ہونے والے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینئر رہنما مولانا سلطان محمد ہفتے کی صبح زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے۔</p>
<p>پولیس کے مطابق جمعہ کو کنڑا چینہ کے علاقے میں ایک دینی مدرسے کے قریب ریموٹ کنٹرول دیسی ساختہ بم نصب کیا گیا تھا، جس کا ہدف مولانا سلطان محمد وزیر تھے، جو وفاق المدارس العربیہ کے ضلعی صدر بھی تھے۔</p>
<p>دھماکے کے بعد مولانا سلطان محمد کو فوری طور پر علاج کے لیے ڈیرہ اسماعیل خان منتقل کیا جا رہا تھا تاہم وہ راستے میں ہی دم توڑ گئے۔</p>
<p>لوئر جنوبی وزیرستان کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر محمد طاہر شاہ وزیر نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکے کی تحقیقات جاری ہیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔</p>
<p>ان کے مطابق جائے وقوع سے حاصل کیے گئے شواہد کا تجزیہ کیا جا رہا ہے تاکہ ذمہ دار عناصر تک پہنچا جا سکے۔</p>
<p>مولانا سلطان محمد پر حملہ گزشتہ دو برسوں کے دوران جنوبی وزیرستان، بالخصوص وانا اور برمل تحصیل میں جے یو آئی ف کے رہنماؤں اور دینی علماء کو نشانہ بنانے کے واقعات کی تازہ کڑی ہے۔</p>
<p>جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں مولانا سلطان محمد کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ایک مخلص اور بہادر رہنما قرار دیا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/MoulanaOfficial/status/2009896693651910686?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009896693651910686%7Ctwgr%5Ebdda2e9462cc77eb4c86e59d402934415a3d34f4%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966191'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/MoulanaOfficial/status/2009896693651910686?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009896693651910686%7Ctwgr%5Ebdda2e9462cc77eb4c86e59d402934415a3d34f4%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966191"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ کسی ایک فرد پر نہیں بلکہ اعتدال، امن اور جمہوری سوچ پر حملہ ہے، اور جے یو آئی ف انہی اقدار کی علمبردار ہے۔</p>
<p>مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ باجوڑ کے بعد جنوبی وزیرستان جیسے مذہبی طور پر اہم خطے میں امن اور آزادی کے حامی علماء کو نشانہ بنانا ایک نہایت تشویشناک رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے یاد دلایا کہ مارچ 2025 میں جنوبی وزیرستان کے امیر ایک بم دھماکے میں شدید زخمی ہوئے تھے اور تاحال ملتان کے نشتر اسپتال میں زیر علاج ہیں، جبکہ جون 2024 میں سابق ضلعی صدر مولانا مرزا جان وزیر بھی ایک دہشت گرد حملے میں زخمی ہو کر بعد ازاں جاں بحق ہو گئے۔</p>
<p>مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جے یو آئی ف جیسی جماعت، جو اعتدال، برداشت اور آئینی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے، کو نشانہ بنانا نہایت افسوسناک اور لمحۂ فکریہ ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ علماء پر ہونے والے یہ حملے نہ صرف سیکیورٹی اداروں کی ناکامی اور غفلت کا ثبوت ہیں بلکہ اس پُرامن بیانیے کو دبانے کی سازش بھی ہیں جسے جے یو آئی ف برسوں سے ملک بھر میں، خصوصاً قبائلی علاقوں میں فروغ دے رہی ہے۔</p>
<p>مولانا فضل الرحمن کے مطابق ایسے علماء کا واحد جرم یہ ہے کہ وہ بندوق کے بجائے دلیل، نفرت کے بجائے محبت اور انتشار کے بجائے امن کی بات کرتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ جے یو آئی ف نے ہمیشہ ظلم اور تشدد کی مخالفت کی، آئین اور قانون کی بالادستی کی بات کی اور ریاستی دائرے میں رہتے ہوئے اصلاح اور امن کی جدوجہد کو اپنا شعار بنایا۔</p>
<p>مولانا فضل الرحمن نے قومی سلامتی کے ذمہ دار اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی آئینی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کریں، بالخصوص قبائلی اضلاع میں علماء کے تحفظ اور امن کے قیام کو یقینی بنائیں اور ان واقعات میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچائیں۔</p>
<p>انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جے یو آئی ف ملک میں امن، مذہبی ہم آہنگی، جمہوری اقدار اور آئین کی بالادستی کے لیے اپنی جدوجہد ہر قربانی کے باوجود جاری رکھے گی۔</p>
<h3><a id="امن-کمیٹی-کے-سربراہ-پر-حملہ" href="#امن-کمیٹی-کے-سربراہ-پر-حملہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>امن کمیٹی کے سربراہ پر حملہ</h3>
<p>دوسری جانب جنوبی وزیرستان کی تحصیل سرویکئی کے علاقے بروند میں امن کمیٹی کے سربراہ قدیم خان کی گاڑی کو بھی دیسی ساختہ بم کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.dawn.com/large/2026/01/10141244507edbb.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2026/01/10141244507edbb.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اپر جنوبی وزیرستان کے ڈی پی او ارشد خان کے مطابق دھماکے میں گاڑی کو شدید نقصان پہنچا تاہم قدیم خان معمولی زخمی ہوئے اور محفوظ رہے۔</p>
<p>پولیس کے مطابق سیکیورٹی اہلکار فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے، علاقے کو گھیرے میں لے کر زخمی رہنما کو مقامی اسپتال منتقل کیا گیا۔</p>
<p>ڈی پی او نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ آئی ای ڈی کے ذریعے کیا گیا اور واقعے کے ذمہ داروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275068</guid>
      <pubDate>Sat, 10 Jan 2026 18:36:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (آدم خان وزیر)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/1018310599d8a42.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/1018310599d8a42.webp"/>
        <media:title>پولیس کے مطابق جمعہ کو کنڑا چینہ کے علاقے میں ایک دینی مدرسے کے قریب ریموٹ کنٹرول دیسی ساختہ بم نصب کیا گیا تھا، جس کا ہدف مولانا سلطان محمد وزیر تھے، جو وفاق المدارس العربیہ کے ضلعی صدر بھی تھے۔ فوٹو: اے کے وزیر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بچوں سے متعلق وہ 6 باتیں جو استاد کو بتانا ضروری ہیں
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1103268/</link>
      <description>&lt;p&gt;جب تربیت اور پڑھائی کی بات آئے تو بچوں کے اساتذہ اس حوالے سے خوب مہارت رکھتے ہیں، مگر وہ بچوں کے بارے میں کبھی بھی والدین سے زیادہ نہیں جانتے۔ لہٰذا بطور والدین یہاں آپ پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ آپ استاد کو اپنے بچوں سے متعلق ان باتوں سے آگاہ رکھیں جو بچوں کی اسکول میں کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد کرسکتی ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگر بچے کے والدین اور اساتذہ مل کر کام کریں تو بچے کی کارکردگی میں زبردست بہتری آسکتی ہے۔ نئے اسکول میں بچے کو داخلے کے ساتھ ہی ٹیچر کے ساتھ بات چیت کرنا بہتر رہتا ہے تاکہ انہیں یہ سمجھنے میں مدد ملے کہ آپ کے بچے کو کہاں کہاں ٹیچر کا تعاون اور مدد درکار ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیے: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1102081/"&gt;بہن بھائیوں کے ایک ہی کمرے میں رہنے کے 6 فوائد &lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہم یہاں آپ کو وہ 6 باتیں بتاتے ہیں جو آپ کو لازمی طور پر اپنے بچوں سے متعلق ٹیچر کو بتانی چاہئیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5cdd3d1dbe759'&gt;صحت سے متعلق مسائل یا خاص حالات&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;اگر آپ کے بچے کو صحت سے متعلق کسی بھی قسم کے خاص مسائل کا سامنا ہے تو پھر اس کے کلاس ٹیچر کو اس بارے میں اطلاع دینا ضروری ہے۔ کیونکہ جب ایک استاد بچے کی صحت سے متعلق حالات سے واقف ہوگا تو کسی بھی قسم کے ناخوشگوار واقعے سے بچا جاسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر بچے کو کسی قسم کی خصوصی طبی معاونت کی ضرورت ہے تو اس حوالے سے بھی ٹیچر کو آگاہ رکھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5cdd3d1dbe777'&gt;گھریلو مسائل&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;اگر آپ کے گھریلو معاملات کسی قسم کے تناؤ کا شکار ہیں جو آپ کے بچے کے رویوں کو متاثر کرسکتا ہے تو ہر حال میں ٹیچر کو ان حالات سے مطلع کریں۔ حتیٰ کہ اگر آپ کا بچہ بہتر انداز میں صورتحال کو سنبھال رہا ہو تو بھی اسکول انتظامیہ کو ان معاملات سے آگاہ رکھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5cdd3d1dbe78f'&gt;بچے کی شخصیت&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;ہر بچہ اپنی مخصوص شخصیت رکھتا ہے۔ اگر ٹیچر آپ کے بچے کی شخصیت کے پہلوؤں کے بارے میں پہلے سے جانتا ہوگا تو وہ آپ کے بچے کو ہر معاملے میں بہتر انداز میں رہنمائی اور مدد کرسکے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/05/5cda6dbbdd576.jpg"  alt="&amp;mdash;شٹراسٹاک" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;—شٹراسٹاک&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5cdd3d1dbe7a5'&gt;بچہ کہاں پختہ اور کہاں کمزور ہے؟&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;آپ کا بیٹا ریاضی میں بہت اچھا ہوسکتا ہے مگر ممکن ہے کہ انگریزی میں اسے مشکلات پیش آتی ہوں۔ اسی طرح آپ کی بیٹی انگلش کا ہوم ورک تو شوق سے کرتی ہو مگر ممکن ہے کہ سائنس اسے بھاتی نہ ہو۔ یہ تمام باتیں ان کے ٹیچرز کو بتائیے۔ ایسا کرنے سے ٹیچر بچے کی کمزوریوں پر زیادہ توجہ دے گا تاکہ تمام مضامین میں کارکردگی کو بہتر بنایا جاسکے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیے: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1101917/"&gt;والدین کی جانب سے بچوں میں فرق کرنا کتنا خطرناک ہوسکتا ہے؟&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5cdd3d1dbe7bb'&gt;بچے میں سیکھنے کا عمل کس نوعیت کا ہے؟&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;والدین چونکہ اپنے بچے کی ابتدائی تعلیم اور تربیت کرتے وقت اچھا خاصا وقت اپنے بچے کے ساتھ گزار چکے ہوتے ہیں اس لیے والد یا والدہ کو یہ بہتر اندازہ ہوجاتا ہے کہ ان کے بچے میں سیکھنے کا عمل کس نوعیت کا ہے۔ آیا آپ کا بچہ ہینڈ ایکٹیوٹی (اپنے ہاتھوں سے کی جانے والی سرگرمی) کے ذریعے تیزی سے سیکھتا ہے یا پھر ویڈیوز کے ذریعے، بچے کو اسکول بھیجنے سے قبل اس کے ٹیچر کو ان باتوں کے بارے میں بتائیے۔ &lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5cdd3d1dbe7d1'&gt;بچے کی دلچسپی کا محور&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;اگر آپ کے بچے میں پینٹنگ کی خداداد صلاحیت ہے یا پھر اگر وہ کسی فن کی تربیت رکھتا ہے تو اس بارے میں اس کے ٹیچر کو ضرور بتائیے۔ آپ کے بچے کے پسندیدہ مشاغل کے بارے میں ٹیچر کو پتہ ہوگا تو انہیں اسکول میں موجود دیگر ایسے افراد یا بچوں سے ملانے میں مدد ملے گی جو ان مشاغل یا سرگرمیوں میں دلچسپی رکھتے ہوں یا پھر آپ کے بچے کی رہنمائی کرسکتے ہوں۔ &lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جب تربیت اور پڑھائی کی بات آئے تو بچوں کے اساتذہ اس حوالے سے خوب مہارت رکھتے ہیں، مگر وہ بچوں کے بارے میں کبھی بھی والدین سے زیادہ نہیں جانتے۔ لہٰذا بطور والدین یہاں آپ پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ آپ استاد کو اپنے بچوں سے متعلق ان باتوں سے آگاہ رکھیں جو بچوں کی اسکول میں کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد کرسکتی ہیں۔ </p>

<p>اگر بچے کے والدین اور اساتذہ مل کر کام کریں تو بچے کی کارکردگی میں زبردست بہتری آسکتی ہے۔ نئے اسکول میں بچے کو داخلے کے ساتھ ہی ٹیچر کے ساتھ بات چیت کرنا بہتر رہتا ہے تاکہ انہیں یہ سمجھنے میں مدد ملے کہ آپ کے بچے کو کہاں کہاں ٹیچر کا تعاون اور مدد درکار ہے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیے: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1102081/">بہن بھائیوں کے ایک ہی کمرے میں رہنے کے 6 فوائد </a></strong></p>

<p>ہم یہاں آپ کو وہ 6 باتیں بتاتے ہیں جو آپ کو لازمی طور پر اپنے بچوں سے متعلق ٹیچر کو بتانی چاہئیں۔</p>

<h3 id='5cdd3d1dbe759'>صحت سے متعلق مسائل یا خاص حالات</h3>

<p>اگر آپ کے بچے کو صحت سے متعلق کسی بھی قسم کے خاص مسائل کا سامنا ہے تو پھر اس کے کلاس ٹیچر کو اس بارے میں اطلاع دینا ضروری ہے۔ کیونکہ جب ایک استاد بچے کی صحت سے متعلق حالات سے واقف ہوگا تو کسی بھی قسم کے ناخوشگوار واقعے سے بچا جاسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر بچے کو کسی قسم کی خصوصی طبی معاونت کی ضرورت ہے تو اس حوالے سے بھی ٹیچر کو آگاہ رکھیں۔</p>

<h3 id='5cdd3d1dbe777'>گھریلو مسائل</h3>

<p>اگر آپ کے گھریلو معاملات کسی قسم کے تناؤ کا شکار ہیں جو آپ کے بچے کے رویوں کو متاثر کرسکتا ہے تو ہر حال میں ٹیچر کو ان حالات سے مطلع کریں۔ حتیٰ کہ اگر آپ کا بچہ بہتر انداز میں صورتحال کو سنبھال رہا ہو تو بھی اسکول انتظامیہ کو ان معاملات سے آگاہ رکھیں۔</p>

<h3 id='5cdd3d1dbe78f'>بچے کی شخصیت</h3>

<p>ہر بچہ اپنی مخصوص شخصیت رکھتا ہے۔ اگر ٹیچر آپ کے بچے کی شخصیت کے پہلوؤں کے بارے میں پہلے سے جانتا ہوگا تو وہ آپ کے بچے کو ہر معاملے میں بہتر انداز میں رہنمائی اور مدد کرسکے گا۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/05/5cda6dbbdd576.jpg"  alt="&mdash;شٹراسٹاک" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">—شٹراسٹاک</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<h3 id='5cdd3d1dbe7a5'>بچہ کہاں پختہ اور کہاں کمزور ہے؟</h3>

<p>آپ کا بیٹا ریاضی میں بہت اچھا ہوسکتا ہے مگر ممکن ہے کہ انگریزی میں اسے مشکلات پیش آتی ہوں۔ اسی طرح آپ کی بیٹی انگلش کا ہوم ورک تو شوق سے کرتی ہو مگر ممکن ہے کہ سائنس اسے بھاتی نہ ہو۔ یہ تمام باتیں ان کے ٹیچرز کو بتائیے۔ ایسا کرنے سے ٹیچر بچے کی کمزوریوں پر زیادہ توجہ دے گا تاکہ تمام مضامین میں کارکردگی کو بہتر بنایا جاسکے۔ </p>

<p><strong>مزید پڑھیے: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1101917/">والدین کی جانب سے بچوں میں فرق کرنا کتنا خطرناک ہوسکتا ہے؟</a></strong></p>

<h3 id='5cdd3d1dbe7bb'>بچے میں سیکھنے کا عمل کس نوعیت کا ہے؟</h3>

<p>والدین چونکہ اپنے بچے کی ابتدائی تعلیم اور تربیت کرتے وقت اچھا خاصا وقت اپنے بچے کے ساتھ گزار چکے ہوتے ہیں اس لیے والد یا والدہ کو یہ بہتر اندازہ ہوجاتا ہے کہ ان کے بچے میں سیکھنے کا عمل کس نوعیت کا ہے۔ آیا آپ کا بچہ ہینڈ ایکٹیوٹی (اپنے ہاتھوں سے کی جانے والی سرگرمی) کے ذریعے تیزی سے سیکھتا ہے یا پھر ویڈیوز کے ذریعے، بچے کو اسکول بھیجنے سے قبل اس کے ٹیچر کو ان باتوں کے بارے میں بتائیے۔ </p>

<h3 id='5cdd3d1dbe7d1'>بچے کی دلچسپی کا محور</h3>

<p>اگر آپ کے بچے میں پینٹنگ کی خداداد صلاحیت ہے یا پھر اگر وہ کسی فن کی تربیت رکھتا ہے تو اس بارے میں اس کے ٹیچر کو ضرور بتائیے۔ آپ کے بچے کے پسندیدہ مشاغل کے بارے میں ٹیچر کو پتہ ہوگا تو انہیں اسکول میں موجود دیگر ایسے افراد یا بچوں سے ملانے میں مدد ملے گی جو ان مشاغل یا سرگرمیوں میں دلچسپی رکھتے ہوں یا پھر آپ کے بچے کی رہنمائی کرسکتے ہوں۔ </p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1103268</guid>
      <pubDate>Sat, 10 Jan 2026 14:37:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/05/5cda6b7474651.png?r=754632227" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/05/5cda6b7474651.png?r=1235158675"/>
        <media:title>اگر بچے کے والدین اور اساتذہ مل کر کام کریں تو بچے کی کارکردگی میں زبردست بہتری آسکتی ہے—شٹر اسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>موسم سرما کا موٹاپے سے کیا تعلق؟
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1115854/</link>
      <description>&lt;p&gt;کیا آپ اپنے بڑھتے ہوئے جسمانی وزن سے پریشان ہیں؟ تو اس سرد موسم میں کچھ دیر بغیر گرم ملبوسات کے گھومنے کو عادت بنالیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق ورزش یا سرد موسم میں گھومنے سے جسم میں بہترین چربی بڑھتی ہے جو کیلوریز کو جلانے کا کام کرتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق میں بتایا گیا کہ سرد موسم کا سامنا کرنے سے معدے میں موجود بیکٹریا میں ڈرامائی تبدیلی آتی ہے اور اس سے چربی گھلنے لگتی ہے، گلوکوز میٹابولزم بہترین ہوتا ہے جبکہ جسمانی وزن میں کمی آتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے موٹاپے کے شکار افراد کے وزن میں کمی لانے کے لیے نئے طریقہ کار کو تشکیل دینے میں مدد ملے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2015/12/5661df51b190c.jpg"  alt="کریٹیو کامنز فوٹو" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;کریٹیو کامنز فوٹو&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق کے مطابق ارگرد کا ماحول معدے میں موجود بیکٹریا پر اثرانداز ہوکر توانائی کے توازن کو کنٹرول کرنے کے نظام کو کنٹرول کرتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین کا کہنا ہے کہ تحقیق کے نتائج حوصلہ افزاء ہیں اور اس سے موٹاپے کی روک تھام کے لیے طریقہ کار تشکیل دینے میں مدد ملے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس تحقیق کے دوران چوہے پر 6 سینٹی گریڈ درجہ حرارت پر دس دن تک تجربات کیے گئے جس سے معلوم ہوا کہ اس کے معدے کے بیکٹریا میں ایسی تبدیلی آئی ہے جو وزن میں اضافے کی روک تھام کا کام کررہی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ تحقیق طبی جریدے سیل میں شائع ہوئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کیا آپ اپنے بڑھتے ہوئے جسمانی وزن سے پریشان ہیں؟ تو اس سرد موسم میں کچھ دیر بغیر گرم ملبوسات کے گھومنے کو عادت بنالیں۔</p>

<p>امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق ورزش یا سرد موسم میں گھومنے سے جسم میں بہترین چربی بڑھتی ہے جو کیلوریز کو جلانے کا کام کرتی ہے۔</p>

<p>تحقیق میں بتایا گیا کہ سرد موسم کا سامنا کرنے سے معدے میں موجود بیکٹریا میں ڈرامائی تبدیلی آتی ہے اور اس سے چربی گھلنے لگتی ہے، گلوکوز میٹابولزم بہترین ہوتا ہے جبکہ جسمانی وزن میں کمی آتی ہے۔</p>

<p>محققین کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے موٹاپے کے شکار افراد کے وزن میں کمی لانے کے لیے نئے طریقہ کار کو تشکیل دینے میں مدد ملے گی۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2015/12/5661df51b190c.jpg"  alt="کریٹیو کامنز فوٹو" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">کریٹیو کامنز فوٹو</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>تحقیق کے مطابق ارگرد کا ماحول معدے میں موجود بیکٹریا پر اثرانداز ہوکر توانائی کے توازن کو کنٹرول کرنے کے نظام کو کنٹرول کرتا ہے۔</p>

<p>محققین کا کہنا ہے کہ تحقیق کے نتائج حوصلہ افزاء ہیں اور اس سے موٹاپے کی روک تھام کے لیے طریقہ کار تشکیل دینے میں مدد ملے گی۔</p>

<p>اس تحقیق کے دوران چوہے پر 6 سینٹی گریڈ درجہ حرارت پر دس دن تک تجربات کیے گئے جس سے معلوم ہوا کہ اس کے معدے کے بیکٹریا میں ایسی تبدیلی آئی ہے جو وزن میں اضافے کی روک تھام کا کام کررہی ہے۔</p>

<p>یہ تحقیق طبی جریدے سیل میں شائع ہوئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1115854</guid>
      <pubDate>Sat, 10 Jan 2026 14:32:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ہیلتھ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/12/5de5f170739f0.jpg?r=1546812112" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/12/5de5f170739f0.jpg?r=2024537179"/>
        <media:title>فوٹو/ شٹراسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ترکیہ پاکستان اور سعودی عرب کے باہمی دفاعی معاہدے میں شمولیت کا خواہاں، نیا سیکیورٹی اتحاد متوقع</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275067/</link>
      <description>&lt;p&gt;ترکیہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان موجود باہمی دفاعی معاہدے میں شمولیت کا خواہاں ہے، جس سے مشرق وسطیٰ اور اس سے آگے ایک نیا سیکیورٹی اتحاد وجود میں آ سکتا ہے اور طاقت کے توازن میں تبدیلی آ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلومبرگ کی تازہ &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bloomberg.com/news/articles/2026-01-09/turkey-said-to-seek-membership-of-saudi-pakistan-defense-pact?utm_source=website&amp;amp;utm_medium=share&amp;amp;utm_campaign=copy&amp;amp;embedded-checkout=true"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق معاملے سے واقف افراد کے حوالے بتایا گیا ہے کہ مذاکرات ایک اعلیٰ مرحلے پر پہنچ چکے ہیں اور معاہدہ ہونے کا قوی امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے گزشتہ برس ستمبر میں ریاض میں اسٹریٹیجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت دونوں ممالک پر کسی ایک پر حملے کو دونوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلومبرگ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ اس اتحاد کی توسیع منطقی ہے کیونکہ جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور حتیٰ کہ افریقہ میں ترکیہ کے مفادات سعودی عرب اور پاکستان سے ہم آہنگ ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق ترکیہ اس معاہدے کو سیکیورٹی اور دفاعی صلاحیت مضبوط بنانے کے ایک ذریعے کے طور پر بھی دیکھ رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکا کی قابلِ اعتماد حیثیت اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نیٹو سے وابستگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں، حالانکہ امریکا کے تینوں ممالک سے مضبوط عسکری تعلقات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انقرہ میں قائم تھنک ٹینک ٹیپاو کے اسٹریٹجسٹ نہات علی اوزجان کے مطابق، اس اتحاد میں سعودی عرب کی مالی طاقت، پاکستان کی جوہری صلاحیت، بیلسٹک میزائل اور افرادی قوت جبکہ ترکیہ کا عسکری تجربہ اور ترقی یافتہ دفاعی صنعت شامل ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلومبرگ کے مطابق اوزجان نے کہا کہ جب امریکا خطے میں اپنے اور اسرائیل کے مفادات کو ترجیح دے رہا ہے تو بدلتی صورتحال اور علاقائی تنازعات کے اثرات ممالک کو نئے اتحاد اور سیکیورٹی میکنزم بنانے پر مجبور کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی وزارت اطلاعات اور ترکیہ کی وزارت دفاع نے اس حوالے سے تبصرہ کرنے سے انکار کیا، جبکہ سعودی حکام بھی بلومبرگ کی درخواست پر فوری طور پر دستیاب نہیں تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="نیا-دور" href="#نیا-دور" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;نیا دور&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;بلومبرگ کے مطابق اگر ترکیہ اس اتحاد میں شامل ہوتا ہے تو یہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں ایک نئے دور کی نشاندہی کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا کہ برسوں کی کشیدگی کے بعد دونوں ممالک اقتصادی اور دفاعی تعاون کو فروغ دے رہے ہیں اور اسی ہفتے انقرہ میں پہلا بحری اجلاس بھی منعقد ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ریاض اور انقرہ دونوں ایران کے حوالے سے دیرینہ خدشات رکھتے ہیں اور طاقت کے استعمال کے بجائے سفارتی روابط کو ترجیح دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے حوالے سے بلومبرگ نے نشاندہی کی کہ ترکیہ پاکستان نیوی کے لیے کارویٹ جنگی جہاز تیار کر رہا ہے اور پاکستان فضائیہ کے ایف 16 طیاروں کی اپ گریڈیشن میں بھی شریک ہے۔ اس کے علاوہ ترکیہ دونوں ممالک کے ساتھ ڈرون ٹیکنالوجی بھی شیئر کر رہا ہے اور چاہتا ہے کہ وہ اس کے پانچویں جنریشن کے کان فائٹر جیٹ پروگرام میں بھی شامل ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق یہ سہ فریقی دفاعی مذاکرات پاکستان اور بھارت کے درمیان مئی میں ہونے والی چار روزہ فوجی جھڑپ کے بعد طے پانے والی جنگ بندی کے تناظر میں سامنے آئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلومبرگ نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی اور ترکیہ و قطر کی جانب سے ثالثی کی ناکام کوششوں کا بھی ذکر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات طویل عرصے سے دفاعی تعاون، اقتصادی مفادات اور مشترکہ اسلامی ورثے پر قائم ہیں، جن میں مالی معاونت اور توانائی کی فراہمی شامل رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ترکیہ کے ساتھ دفاعی تعاون پاکستان کے لیے ایک اہم ستون ہے۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی 2023 کی رپورٹ کے مطابق ترکیہ پاکستان کو دوسرا بڑا اسلحہ فراہم کرنے والا ملک ہے، جو پاکستان کی مجموعی اسلحہ درآمدات کا 11 فیصد بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفاعی شراکت داری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس میں ملگم جنگی جہاز، طیاروں کی اپ گریڈیشن اور ڈرون منصوبے شامل ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان عسکری تعاون کو مزید مضبوط بنا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ترکیہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان موجود باہمی دفاعی معاہدے میں شمولیت کا خواہاں ہے، جس سے مشرق وسطیٰ اور اس سے آگے ایک نیا سیکیورٹی اتحاد وجود میں آ سکتا ہے اور طاقت کے توازن میں تبدیلی آ سکتی ہے۔</p>
<p>بلومبرگ کی تازہ <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bloomberg.com/news/articles/2026-01-09/turkey-said-to-seek-membership-of-saudi-pakistan-defense-pact?utm_source=website&amp;utm_medium=share&amp;utm_campaign=copy&amp;embedded-checkout=true"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق معاملے سے واقف افراد کے حوالے بتایا گیا ہے کہ مذاکرات ایک اعلیٰ مرحلے پر پہنچ چکے ہیں اور معاہدہ ہونے کا قوی امکان ہے۔</p>
<p>وزیر اعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے گزشتہ برس ستمبر میں ریاض میں اسٹریٹیجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت دونوں ممالک پر کسی ایک پر حملے کو دونوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔</p>
<p>بلومبرگ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ اس اتحاد کی توسیع منطقی ہے کیونکہ جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور حتیٰ کہ افریقہ میں ترکیہ کے مفادات سعودی عرب اور پاکستان سے ہم آہنگ ہو رہے ہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق ترکیہ اس معاہدے کو سیکیورٹی اور دفاعی صلاحیت مضبوط بنانے کے ایک ذریعے کے طور پر بھی دیکھ رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکا کی قابلِ اعتماد حیثیت اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نیٹو سے وابستگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں، حالانکہ امریکا کے تینوں ممالک سے مضبوط عسکری تعلقات ہیں۔</p>
<p>انقرہ میں قائم تھنک ٹینک ٹیپاو کے اسٹریٹجسٹ نہات علی اوزجان کے مطابق، اس اتحاد میں سعودی عرب کی مالی طاقت، پاکستان کی جوہری صلاحیت، بیلسٹک میزائل اور افرادی قوت جبکہ ترکیہ کا عسکری تجربہ اور ترقی یافتہ دفاعی صنعت شامل ہو سکتی ہے۔</p>
<p>بلومبرگ کے مطابق اوزجان نے کہا کہ جب امریکا خطے میں اپنے اور اسرائیل کے مفادات کو ترجیح دے رہا ہے تو بدلتی صورتحال اور علاقائی تنازعات کے اثرات ممالک کو نئے اتحاد اور سیکیورٹی میکنزم بنانے پر مجبور کر رہے ہیں۔</p>
<p>پاکستان کی وزارت اطلاعات اور ترکیہ کی وزارت دفاع نے اس حوالے سے تبصرہ کرنے سے انکار کیا، جبکہ سعودی حکام بھی بلومبرگ کی درخواست پر فوری طور پر دستیاب نہیں تھے۔</p>
<h3><a id="نیا-دور" href="#نیا-دور" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>نیا دور</h3>
<p>بلومبرگ کے مطابق اگر ترکیہ اس اتحاد میں شامل ہوتا ہے تو یہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں ایک نئے دور کی نشاندہی کرے گا۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا کہ برسوں کی کشیدگی کے بعد دونوں ممالک اقتصادی اور دفاعی تعاون کو فروغ دے رہے ہیں اور اسی ہفتے انقرہ میں پہلا بحری اجلاس بھی منعقد ہوا۔</p>
<p>رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ریاض اور انقرہ دونوں ایران کے حوالے سے دیرینہ خدشات رکھتے ہیں اور طاقت کے استعمال کے بجائے سفارتی روابط کو ترجیح دیتے ہیں۔</p>
<p>پاکستان کے حوالے سے بلومبرگ نے نشاندہی کی کہ ترکیہ پاکستان نیوی کے لیے کارویٹ جنگی جہاز تیار کر رہا ہے اور پاکستان فضائیہ کے ایف 16 طیاروں کی اپ گریڈیشن میں بھی شریک ہے۔ اس کے علاوہ ترکیہ دونوں ممالک کے ساتھ ڈرون ٹیکنالوجی بھی شیئر کر رہا ہے اور چاہتا ہے کہ وہ اس کے پانچویں جنریشن کے کان فائٹر جیٹ پروگرام میں بھی شامل ہوں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق یہ سہ فریقی دفاعی مذاکرات پاکستان اور بھارت کے درمیان مئی میں ہونے والی چار روزہ فوجی جھڑپ کے بعد طے پانے والی جنگ بندی کے تناظر میں سامنے آئے ہیں۔</p>
<p>بلومبرگ نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی اور ترکیہ و قطر کی جانب سے ثالثی کی ناکام کوششوں کا بھی ذکر کیا۔</p>
<p>پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات طویل عرصے سے دفاعی تعاون، اقتصادی مفادات اور مشترکہ اسلامی ورثے پر قائم ہیں، جن میں مالی معاونت اور توانائی کی فراہمی شامل رہی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب ترکیہ کے ساتھ دفاعی تعاون پاکستان کے لیے ایک اہم ستون ہے۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی 2023 کی رپورٹ کے مطابق ترکیہ پاکستان کو دوسرا بڑا اسلحہ فراہم کرنے والا ملک ہے، جو پاکستان کی مجموعی اسلحہ درآمدات کا 11 فیصد بنتا ہے۔</p>
<p>دفاعی شراکت داری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس میں ملگم جنگی جہاز، طیاروں کی اپ گریڈیشن اور ڈرون منصوبے شامل ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان عسکری تعاون کو مزید مضبوط بنا رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275067</guid>
      <pubDate>Sat, 10 Jan 2026 14:11:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/1014090716ce62e.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/1014090716ce62e.webp"/>
        <media:title>بلومبرگ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ اس اتحاد کی توسیع منطقی ہے کیونکہ جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور حتیٰ کہ افریقہ میں ترکیہ کے مفادات سعودی عرب اور پاکستان سے ہم آہنگ ہو رہے ہیں۔ فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران میں بے امنی، پاکستانی شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275066/</link>
      <description>&lt;p&gt;دفتر خارجہ نے ہفتے کے روز ایک سفری ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے پاکستانی شہریوں پر زور دیا ہے کہ پڑوسی ملک ایران میں بڑھتی ہوئی بے امنی کے باعث غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ اپنی سلامتی اور تحفظ کے پیش نظر پاکستانی شہریوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ حالات بہتر ہونے تک جمہوریہ اسلامی ایران کا غیر ضروری سفر نہ کریں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/ForeignOfficePk/status/2009859476799860748?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009859476799860748%7Ctwgr%5E942a0d632343cfcf86011f73d7c51626ac8db65f%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966182'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/2009859476799860748?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009859476799860748%7Ctwgr%5E942a0d632343cfcf86011f73d7c51626ac8db65f%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966182"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بیان میں ایران میں مقیم پاکستانی شہریوں کو انتہائی احتیاط برتنے، ہوشیار رہنے، غیر ضروری آمد و رفت محدود رکھنے اور تہران، زاہدان اور مشہد میں قائم پاکستانی مشنز سے باقاعدہ رابطے میں رہنے کا بھی مشورہ دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفتر خارجہ نے تہران، زاہدان اور مشہد میں پاکستانی سفارت خانوں کے فون نمبرز بھی جاری کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران بھر میں گزشتہ تقریباً دو ہفتوں سے مظاہرے جاری ہیں، جو مہنگائی میں اضافے کے خلاف عوامی غصے کے باعث شروع ہوئے، جس کے بعد حکام نے انٹرنیٹ پابندیاں بھی عائد کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی حقوق کی تنظیم ہرانا کے مطابق جمعے تک 28 دسمبر سے شروع ہونے والے مظاہروں میں کم از کم 62 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 14 سیکیورٹی اہلکار اور 48 مظاہرین شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>دفتر خارجہ نے ہفتے کے روز ایک سفری ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے پاکستانی شہریوں پر زور دیا ہے کہ پڑوسی ملک ایران میں بڑھتی ہوئی بے امنی کے باعث غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔</p>
<p>دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ اپنی سلامتی اور تحفظ کے پیش نظر پاکستانی شہریوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ حالات بہتر ہونے تک جمہوریہ اسلامی ایران کا غیر ضروری سفر نہ کریں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/ForeignOfficePk/status/2009859476799860748?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009859476799860748%7Ctwgr%5E942a0d632343cfcf86011f73d7c51626ac8db65f%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966182'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/2009859476799860748?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009859476799860748%7Ctwgr%5E942a0d632343cfcf86011f73d7c51626ac8db65f%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966182"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>بیان میں ایران میں مقیم پاکستانی شہریوں کو انتہائی احتیاط برتنے، ہوشیار رہنے، غیر ضروری آمد و رفت محدود رکھنے اور تہران، زاہدان اور مشہد میں قائم پاکستانی مشنز سے باقاعدہ رابطے میں رہنے کا بھی مشورہ دیا گیا۔</p>
<p>دفتر خارجہ نے تہران، زاہدان اور مشہد میں پاکستانی سفارت خانوں کے فون نمبرز بھی جاری کیے۔</p>
<p>ایران بھر میں گزشتہ تقریباً دو ہفتوں سے مظاہرے جاری ہیں، جو مہنگائی میں اضافے کے خلاف عوامی غصے کے باعث شروع ہوئے، جس کے بعد حکام نے انٹرنیٹ پابندیاں بھی عائد کیں۔</p>
<p>ایرانی حقوق کی تنظیم ہرانا کے مطابق جمعے تک 28 دسمبر سے شروع ہونے والے مظاہروں میں کم از کم 62 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 14 سیکیورٹی اہلکار اور 48 مظاہرین شامل ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275066</guid>
      <pubDate>Sat, 10 Jan 2026 13:31:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسکاے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/1013295613f94d5.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/1013295613f94d5.webp"/>
        <media:title>ایران بھر میں گزشتہ تقریباً دو ہفتوں سے مظاہرے جاری ہیں، جو مہنگائی میں اضافے کے خلاف عوامی غصے کے باعث شروع ہوئے، جس کے بعد حکام نے انٹرنیٹ پابندیاں بھی عائد کیں۔فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خیبر پختونخوا میں دو کارروائیوں کے دوران 11 دہشت گرد ہلاک، آئی ایس پی آر</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275065/</link>
      <description>&lt;p&gt;انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے بتایا ہے کہ خیبر پختونخوا میں دو الگ الگ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران سیکیورٹی فورسز نے 11 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے بیان کے مطابق یہ کارروائیاں 8 جنوری کو کی گئیں اور ہلاک ہونے والے دہشت گرد بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج سے تعلق رکھتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فتنہ الخوارج وہ اصطلاح ہے جو ریاست کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ دہشت گردوں کے لیے استعمال کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ شمالی وزیرستان ضلع میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا۔ کارروائی کے دوران فوجی دستوں اور دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں چھ دہشت گرد مارے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ کرم ضلع میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے مشترکہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں پانچ خوارج کو ہلاک کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/OfficialDGISPR/status/2009866031716806955?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009866031716806955%7Ctwgr%5E709334163dfef4e65d8f4a4250e999cfaaf259bc%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966179'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/OfficialDGISPR/status/2009866031716806955?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009866031716806955%7Ctwgr%5E709334163dfef4e65d8f4a4250e999cfaaf259bc%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966179"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق دہشت گردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا، جو سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف متعدد دہشت گردانہ کارروائیوں اور بے گناہ شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ میں سرگرم رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ علاقے میں دیگر دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں اور ملک سے بیرونی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے تک انسداد دہشت گردی مہم پوری شدت سے جاری رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم شہباز شریف نے کامیاب کارروائیوں پر مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔ وزیر اعظم آفس کے مطابق انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رکھی جائے گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/PakPMO/status/2009853998820741275?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009853998820741275%7Ctwgr%5E709334163dfef4e65d8f4a4250e999cfaaf259bc%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966179'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/PakPMO/status/2009853998820741275?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009853998820741275%7Ctwgr%5E709334163dfef4e65d8f4a4250e999cfaaf259bc%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966179"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور پولیس ملک دشمن عناصر کے خلاف برسرپیکار ہیں اور پوری قوم ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر آصف علی زرداری نے بھی سیکیورٹی فورسز کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ عوام کی جان و مال کے تحفظ میں سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار قابل تحسین ہے، سرکاری ریڈیو پاکستان نے رپورٹ کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے بتایا ہے کہ خیبر پختونخوا میں دو الگ الگ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران سیکیورٹی فورسز نے 11 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔</p>
<p>فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے بیان کے مطابق یہ کارروائیاں 8 جنوری کو کی گئیں اور ہلاک ہونے والے دہشت گرد بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج سے تعلق رکھتے تھے۔</p>
<p>فتنہ الخوارج وہ اصطلاح ہے جو ریاست کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ دہشت گردوں کے لیے استعمال کرتی ہے۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ شمالی وزیرستان ضلع میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا۔ کارروائی کے دوران فوجی دستوں اور دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں چھ دہشت گرد مارے گئے۔</p>
<p>اس کے علاوہ کرم ضلع میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے مشترکہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں پانچ خوارج کو ہلاک کر دیا گیا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/OfficialDGISPR/status/2009866031716806955?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009866031716806955%7Ctwgr%5E709334163dfef4e65d8f4a4250e999cfaaf259bc%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966179'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/OfficialDGISPR/status/2009866031716806955?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009866031716806955%7Ctwgr%5E709334163dfef4e65d8f4a4250e999cfaaf259bc%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966179"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>بیان کے مطابق دہشت گردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا، جو سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف متعدد دہشت گردانہ کارروائیوں اور بے گناہ شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ میں سرگرم رہے تھے۔</p>
<p>آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ علاقے میں دیگر دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں اور ملک سے بیرونی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے تک انسداد دہشت گردی مہم پوری شدت سے جاری رہے گی۔</p>
<p>وزیر اعظم شہباز شریف نے کامیاب کارروائیوں پر مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔ وزیر اعظم آفس کے مطابق انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رکھی جائے گی۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/PakPMO/status/2009853998820741275?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009853998820741275%7Ctwgr%5E709334163dfef4e65d8f4a4250e999cfaaf259bc%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966179'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/PakPMO/status/2009853998820741275?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009853998820741275%7Ctwgr%5E709334163dfef4e65d8f4a4250e999cfaaf259bc%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1966179"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور پولیس ملک دشمن عناصر کے خلاف برسرپیکار ہیں اور پوری قوم ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔</p>
<p>صدر آصف علی زرداری نے بھی سیکیورٹی فورسز کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ عوام کی جان و مال کے تحفظ میں سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار قابل تحسین ہے، سرکاری ریڈیو پاکستان نے رپورٹ کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275065</guid>
      <pubDate>Sat, 10 Jan 2026 12:51:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/1012480529affc4.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/1012480529affc4.webp"/>
        <media:title>بیان کے مطابق دہشت گردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔ فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران میں مہنگائی کے خلاف احتجاج شدت اختیار کرگیا، انٹرنیٹ سروس بند، پروازیں منسوخ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275063/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایران کا دنیا سے مواصلاتی رابطہ تقریباً منقطع ہوگیا ، حکام نے بڑھتے ہوئے احتجاج کو قابو میں رکھنے کے لیے پورے ملک میں انٹرنیٹ بند کر دیا، ٹیلی فون کالز نہیں پارہیں، پروازیں منسوخ کر دی گئیں جبکہ ایرانی نیوز ویب سائٹس صرف وقفے وقفے سے اپ ڈیٹ ہو رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے مظاہرین پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے کام کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ہنگامہ آرائی کرنے والے سرکاری املاک کو نشانہ بنا رہے ہیں، انہوں نے خبردار کیا کہ تہران غیر ملکیوں کے لیے کرائے کے ایجنٹوں کے طور پر کام کرنے والوں کو برداشت نہیں کرے گا، خامنہ ای نے ٹرمپ کو کہا کہ وہ اپنے ملک کے مسائل پر توجہ دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;28 دسمبر کو شدید مہنگائی کے نتیجے میں ہونے والا احتجاج پورے ایران میں پھیل چکا ہے۔ درجنوں افراد کی ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں اور شدید معاشی صورتحال اور گزشتہ سال اسرائیل اور امریکا کے ساتھ ہونے والی جنگ کے بعد حکام پہلے سے زیادہ کمزور دکھائی دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/AJEnglish/status/2009530677021065550?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009530677021065550%7Ctwgr%5Eea54e75e766e391279140bd1ae36195fab3f700c%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965993'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/AJEnglish/status/2009530677021065550?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009530677021065550%7Ctwgr%5Eea54e75e766e391279140bd1ae36195fab3f700c%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965993"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;امریکا میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی کے مطابق بےامنی کے دوران کم از کم 34 مظاہرین اور چار سیکیورٹی اہلکار جاں بحق ہوئے، جبکہ22 سو افراد کو گرفتار کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ڈونلڈ-ٹرمپ-اپنے-ملک-کے-مسائل-پر-توجہ-دیں-آیت-اللہ-خامنہ-ای" href="#ڈونلڈ-ٹرمپ-اپنے-ملک-کے-مسائل-پر-توجہ-دیں-آیت-اللہ-خامنہ-ای" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ملک کے مسائل پر توجہ دیں، آیت اللہ خامنہ ای&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کہا ہے کہ وہ ایران کے معاملات پر نظر رکھنے کے بجائے اپنے ملک کے مسائل پر توجہ دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1274984"&gt;&lt;strong&gt;بیان&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں کہا تھا کہ امریکا ایران کی صورتحال پر بہت گہری نظر رکھے ہوئے ہے، اگر ایران میں ماضی کی طرح لوگوں کو قتل کیا گیا تو امریکا سخت ردعمل دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آیت اللہ خامنہ ای نے مظاہرین پر الزام عائد کیا کہ وہ ٹرمپ کی ایما پر کام کر رہے ہیں، اور کہا کہ شرپسند عناصر سرکاری املاک کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غیر ملکی طاقتوں کے ایجنٹ بن کر کام کرنے والوں کو تہران برداشت نہیں کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ ٹرمپ کے ہاتھ ایک ہزار سے زائد ایرانیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں اور پیش گوئی کی کہ متکبر امریکی صدر کا انجام بھی اس شاہی خاندان جیسا ہوگا جو 1979 کے انقلاب سے قبل ایران پر حکمران تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویڈیوز کے مطابق ایران میں مہنگائی میں اضافے کے خلاف تقریباً دو ہفتوں سے جاری تحریک کے دوران اب تک کے سب سے بڑے احتجاجی مظاہرے ہوئے، جن میں مظاہرین نے آمر مردہ باد کے نعرے لگائے اور سرکاری عمارتوں کو آگ لگا دی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1275050/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1275050"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انٹرنیٹ کی نگرانی کرنے والے ادارے نیٹ بلاکس کے مطابق جمعرات کی شب ایران بھر میں مکمل انٹرنیٹ بند کردیا گیا اور جمعے کی صبح بتایا گیا کہ ملک گزشتہ 12 گھنٹوں سے مکمل طور پر آف لائن ہے، جس کا مقصد ملک گیر احتجاج کو دبانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال نظام سے بڑھتی ہوئی عوامی مایوسی کی عکاس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام ایک دوہری حکمت عملی اپنائے ہوئے ہیں، جس کے تحت معاشی مسائل پر احتجاج کو جائز قرار دیتے ہوئے مذاکرات کی بات کی جا رہی ہے جبکہ بعض مظاہروں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال بھی کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="پروازیں-منسوخ" href="#پروازیں-منسوخ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;پروازیں منسوخ&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;دبئی ایئرپورٹ کی ویب سائٹ کے مطابق جمعے کے روز دبئی اور ایرانی شہروں کے درمیان کم از کم چھ پروازیں منسوخ ہو گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ ترک ایئر لائنز نے بھی جمعے کو استنبول سے ایران کے لیے اپنی سات پروازیں منسوخ کر دی ہیں، جن میں سے پانچ ایران کے دارالحکومت تہران کے لیے تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان کے مطابق باقی پروازیں تبریز اور مشہد کے لیے تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے بتایا کہ ترک ایئر لائنز نے جمعرات کو تہران کے لیے دو پروازیں اور تبریز کے لیے ایک پرواز پہلے ہی منسوخ کر دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;استنبول ایئرپورٹ ایپ کے مطابق ایرانی ایئر لائنز کی پانچ دیگر پروازیں بھی منسوخ کر دی گئی ہیں، جبکہ سات پروازیں دوپہر تک شیڈول کے مطابق تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپیشلسٹ ویب سائٹ فلائٹ ریڈار کے مطابق، جمعرات کی رات ایک ترک ایئر لائنز کی پرواز شیراز کے لیے اور پیگاسس کی ایک پرواز مشہد کے لیے ایرانی حدود سے واپس لوٹ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترکی اور ایران کے درمیان تقریباً 500 کلومیٹر کی سرحد ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تین فعال زمینی راستے موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایران کا دنیا سے مواصلاتی رابطہ تقریباً منقطع ہوگیا ، حکام نے بڑھتے ہوئے احتجاج کو قابو میں رکھنے کے لیے پورے ملک میں انٹرنیٹ بند کر دیا، ٹیلی فون کالز نہیں پارہیں، پروازیں منسوخ کر دی گئیں جبکہ ایرانی نیوز ویب سائٹس صرف وقفے وقفے سے اپ ڈیٹ ہو رہی ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے مظاہرین پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے کام کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ہنگامہ آرائی کرنے والے سرکاری املاک کو نشانہ بنا رہے ہیں، انہوں نے خبردار کیا کہ تہران غیر ملکیوں کے لیے کرائے کے ایجنٹوں کے طور پر کام کرنے والوں کو برداشت نہیں کرے گا، خامنہ ای نے ٹرمپ کو کہا کہ وہ اپنے ملک کے مسائل پر توجہ دیں۔</p>
<p>28 دسمبر کو شدید مہنگائی کے نتیجے میں ہونے والا احتجاج پورے ایران میں پھیل چکا ہے۔ درجنوں افراد کی ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں اور شدید معاشی صورتحال اور گزشتہ سال اسرائیل اور امریکا کے ساتھ ہونے والی جنگ کے بعد حکام پہلے سے زیادہ کمزور دکھائی دے رہے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/AJEnglish/status/2009530677021065550?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009530677021065550%7Ctwgr%5Eea54e75e766e391279140bd1ae36195fab3f700c%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965993'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/AJEnglish/status/2009530677021065550?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009530677021065550%7Ctwgr%5Eea54e75e766e391279140bd1ae36195fab3f700c%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965993"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>امریکا میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی کے مطابق بےامنی کے دوران کم از کم 34 مظاہرین اور چار سیکیورٹی اہلکار جاں بحق ہوئے، جبکہ22 سو افراد کو گرفتار کیا گیا۔</p>
<h3><a id="ڈونلڈ-ٹرمپ-اپنے-ملک-کے-مسائل-پر-توجہ-دیں-آیت-اللہ-خامنہ-ای" href="#ڈونلڈ-ٹرمپ-اپنے-ملک-کے-مسائل-پر-توجہ-دیں-آیت-اللہ-خامنہ-ای" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ملک کے مسائل پر توجہ دیں، آیت اللہ خامنہ ای</strong></h3>
<p>ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کہا ہے کہ وہ ایران کے معاملات پر نظر رکھنے کے بجائے اپنے ملک کے مسائل پر توجہ دیں۔</p>
<p>اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1274984"><strong>بیان</strong></a> میں کہا تھا کہ امریکا ایران کی صورتحال پر بہت گہری نظر رکھے ہوئے ہے، اگر ایران میں ماضی کی طرح لوگوں کو قتل کیا گیا تو امریکا سخت ردعمل دے گا۔</p>
<p>آیت اللہ خامنہ ای نے مظاہرین پر الزام عائد کیا کہ وہ ٹرمپ کی ایما پر کام کر رہے ہیں، اور کہا کہ شرپسند عناصر سرکاری املاک کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غیر ملکی طاقتوں کے ایجنٹ بن کر کام کرنے والوں کو تہران برداشت نہیں کرے گا۔</p>
<p>ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ ٹرمپ کے ہاتھ ایک ہزار سے زائد ایرانیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں اور پیش گوئی کی کہ متکبر امریکی صدر کا انجام بھی اس شاہی خاندان جیسا ہوگا جو 1979 کے انقلاب سے قبل ایران پر حکمران تھا۔</p>
<p>ویڈیوز کے مطابق ایران میں مہنگائی میں اضافے کے خلاف تقریباً دو ہفتوں سے جاری تحریک کے دوران اب تک کے سب سے بڑے احتجاجی مظاہرے ہوئے، جن میں مظاہرین نے آمر مردہ باد کے نعرے لگائے اور سرکاری عمارتوں کو آگ لگا دی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1275050/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1275050"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>انٹرنیٹ کی نگرانی کرنے والے ادارے نیٹ بلاکس کے مطابق جمعرات کی شب ایران بھر میں مکمل انٹرنیٹ بند کردیا گیا اور جمعے کی صبح بتایا گیا کہ ملک گزشتہ 12 گھنٹوں سے مکمل طور پر آف لائن ہے، جس کا مقصد ملک گیر احتجاج کو دبانا ہے۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال نظام سے بڑھتی ہوئی عوامی مایوسی کی عکاس ہے۔</p>
<p>حکام ایک دوہری حکمت عملی اپنائے ہوئے ہیں، جس کے تحت معاشی مسائل پر احتجاج کو جائز قرار دیتے ہوئے مذاکرات کی بات کی جا رہی ہے جبکہ بعض مظاہروں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال بھی کیا گیا ہے۔</p>
<h3><a id="پروازیں-منسوخ" href="#پروازیں-منسوخ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>پروازیں منسوخ</h3>
<p>دبئی ایئرپورٹ کی ویب سائٹ کے مطابق جمعے کے روز دبئی اور ایرانی شہروں کے درمیان کم از کم چھ پروازیں منسوخ ہو گئی ہیں۔</p>
<p>ایک ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ ترک ایئر لائنز نے بھی جمعے کو استنبول سے ایران کے لیے اپنی سات پروازیں منسوخ کر دی ہیں، جن میں سے پانچ ایران کے دارالحکومت تہران کے لیے تھیں۔</p>
<p>ترجمان کے مطابق باقی پروازیں تبریز اور مشہد کے لیے تھیں۔</p>
<p>ترجمان نے بتایا کہ ترک ایئر لائنز نے جمعرات کو تہران کے لیے دو پروازیں اور تبریز کے لیے ایک پرواز پہلے ہی منسوخ کر دی تھی۔</p>
<p>استنبول ایئرپورٹ ایپ کے مطابق ایرانی ایئر لائنز کی پانچ دیگر پروازیں بھی منسوخ کر دی گئی ہیں، جبکہ سات پروازیں دوپہر تک شیڈول کے مطابق تھیں۔</p>
<p>اسپیشلسٹ ویب سائٹ فلائٹ ریڈار کے مطابق، جمعرات کی رات ایک ترک ایئر لائنز کی پرواز شیراز کے لیے اور پیگاسس کی ایک پرواز مشہد کے لیے ایرانی حدود سے واپس لوٹ گئی۔</p>
<p>ترکی اور ایران کے درمیان تقریباً 500 کلومیٹر کی سرحد ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تین فعال زمینی راستے موجود ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275063</guid>
      <pubDate>Fri, 09 Jan 2026 19:34:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرزاے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/091919041906e92.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/091919041906e92.webp"/>
        <media:title>امریکا میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی کے مطابق بےامنی کے دوران کم از کم 34 مظاہرین اور چار سیکیورٹی اہلکار جاں بحق ہوئے، جبکہ22 سو افراد کو گرفتار کیا گیا۔ فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/09152926ad7879b.webp" type="image/webp" medium="image" height="1200" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/09152926ad7879b.webp"/>
        <media:title>آیت اللہ خامنہ ای نے مظاہرین پر الزام عائد کیا کہ وہ ٹرمپ کی ایما پر کام کر رہے ہیں۔ فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عمران خان سے ملاقاتوں کی اجازت تک حکومت سے کوئی مذاکرات نہیں ہوسکتے، علی ظفر</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275062/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ جب تک عمران خان سے ملاقاتوں کی اجازت نہیں دی جاتی، حکومت کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت نہیں ہوسکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ بات لاہور میں اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان (ٹی ٹی اے پی) کے وفد کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے کہی، جو اپوزیشن کی اسٹریٹ موومنٹ کے تحت سیاسی اور سماجی اجتماعات کے لیے شہر کے تین روزہ دورے پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپوزیشن اتحاد نے ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں بتایا کہ ٹی ٹی اے پی کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس جمعے کو ایڈووکیٹ چوہدری غلام عباس کی رہائش گاہ پر ہونے والے اجتماع میں پہنچے، جہاں صحافیوں، سیاسی رہنماؤں اور پی ٹی آئی کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر نے ٹی ٹی اے پی کے وفد کو لاہور آمد پر خوش آمدید کہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ٹی ٹی اے پی پر زور دیا کہ وہ اپنے پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے عمران خان سے ملاقات کی اجازت کے لیے دباؤ ڈالے، جن سے حالیہ ہفتوں میں کسی کو ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/TTAP_OFFICIAL/status/2009515970289860810?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009515970289860810%7Ctwgr%5E79e276cd443605f15eb81de3af8460a487d93cf6%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965988'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/TTAP_OFFICIAL/status/2009515970289860810?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009515970289860810%7Ctwgr%5E79e276cd443605f15eb81de3af8460a487d93cf6%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965988"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ عمران خان سے ملاقاتوں کی اجازت دیے بغیر کوئی بات چیت یا مذاکرات شروع نہیں ہو سکتے۔ بیرسٹر علی ظفر نے ٹی ٹی اے پی کو لاہور میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کی جانب سے مکمل تعاون اور حمایت کی یقین دہانی بھی کرائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس وقت سب سے اہم ترجیح پاکستان کی خودمختاری کا تحفظ ہے اور اسی تناظر میں عمران خان کی رہائی وقت کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ حکومت ایسا کوئی قدم نہیں اٹھا سکتی جو پاکستان کے مستقبل کو نقصان پہنچائے یا ملکی خودمختاری کے خلاف ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیرسٹر علی ظفر نے ٹی ٹی اے پی کی قیادت کا دورے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو یہاں پہنچنے میں جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، میں کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیں یہاں روزانہ یہی مشکلات برداشت کرنی پڑتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو ٹی ٹی اے پی کے قافلے کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد سے لاہور پہنچنے والے محمود خان اچکزئی نے قوم اور سیاسی جماعتوں سے اپیل کی تھی کہ وہ 8 فروری کے انتخابات کی دوسری برسی کے موقع پر پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی حمایت کریں اور کہا تھا کہ یہ احتجاج حکومت سے مذاکرات کی راہ بھی ہموار کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی آئی نے پنجاب پولیس پر بھی اپنے حامیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا الزام عائد کیا تھا اور کہا تھا کہ صمد اچکزئی کے دورے سے قبل رات گئے چھاپوں میں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا جبکہ قافلے پر صوبائی دارالحکومت کی جانب آتے ہوئے نقاب پوش افراد نے حملہ بھی کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ایک بھرپور احتجاج سے حکومت پر دباؤ بڑھے گا کہ وہ اپوزیشن سے مذاکرات کرے اور عمران خان کو رہا کرے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ جب تک عمران خان سے ملاقاتوں کی اجازت نہیں دی جاتی، حکومت کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت نہیں ہوسکتی۔</p>
<p>انہوں نے یہ بات لاہور میں اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان (ٹی ٹی اے پی) کے وفد کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے کہی، جو اپوزیشن کی اسٹریٹ موومنٹ کے تحت سیاسی اور سماجی اجتماعات کے لیے شہر کے تین روزہ دورے پر ہے۔</p>
<p>اپوزیشن اتحاد نے ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں بتایا کہ ٹی ٹی اے پی کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس جمعے کو ایڈووکیٹ چوہدری غلام عباس کی رہائش گاہ پر ہونے والے اجتماع میں پہنچے، جہاں صحافیوں، سیاسی رہنماؤں اور پی ٹی آئی کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی۔</p>
<p>اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر نے ٹی ٹی اے پی کے وفد کو لاہور آمد پر خوش آمدید کہا۔</p>
<p>انہوں نے ٹی ٹی اے پی پر زور دیا کہ وہ اپنے پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے عمران خان سے ملاقات کی اجازت کے لیے دباؤ ڈالے، جن سے حالیہ ہفتوں میں کسی کو ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/TTAP_OFFICIAL/status/2009515970289860810?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009515970289860810%7Ctwgr%5E79e276cd443605f15eb81de3af8460a487d93cf6%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965988'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/TTAP_OFFICIAL/status/2009515970289860810?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009515970289860810%7Ctwgr%5E79e276cd443605f15eb81de3af8460a487d93cf6%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965988"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے کہا کہ عمران خان سے ملاقاتوں کی اجازت دیے بغیر کوئی بات چیت یا مذاکرات شروع نہیں ہو سکتے۔ بیرسٹر علی ظفر نے ٹی ٹی اے پی کو لاہور میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کی جانب سے مکمل تعاون اور حمایت کی یقین دہانی بھی کرائی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس وقت سب سے اہم ترجیح پاکستان کی خودمختاری کا تحفظ ہے اور اسی تناظر میں عمران خان کی رہائی وقت کی ضرورت ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ حکومت ایسا کوئی قدم نہیں اٹھا سکتی جو پاکستان کے مستقبل کو نقصان پہنچائے یا ملکی خودمختاری کے خلاف ہو۔</p>
<p>بیرسٹر علی ظفر نے ٹی ٹی اے پی کی قیادت کا دورے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو یہاں پہنچنے میں جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، میں کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیں یہاں روزانہ یہی مشکلات برداشت کرنی پڑتی ہیں۔</p>
<p>جمعرات کو ٹی ٹی اے پی کے قافلے کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد سے لاہور پہنچنے والے محمود خان اچکزئی نے قوم اور سیاسی جماعتوں سے اپیل کی تھی کہ وہ 8 فروری کے انتخابات کی دوسری برسی کے موقع پر پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی حمایت کریں اور کہا تھا کہ یہ احتجاج حکومت سے مذاکرات کی راہ بھی ہموار کرے گا۔</p>
<p>پی ٹی آئی نے پنجاب پولیس پر بھی اپنے حامیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا الزام عائد کیا تھا اور کہا تھا کہ صمد اچکزئی کے دورے سے قبل رات گئے چھاپوں میں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا جبکہ قافلے پر صوبائی دارالحکومت کی جانب آتے ہوئے نقاب پوش افراد نے حملہ بھی کیا۔</p>
<p>صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ایک بھرپور احتجاج سے حکومت پر دباؤ بڑھے گا کہ وہ اپوزیشن سے مذاکرات کرے اور عمران خان کو رہا کرے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275062</guid>
      <pubDate>Fri, 09 Jan 2026 14:52:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/0914471119c7c0c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/0914471119c7c0c.webp"/>
        <media:title>بیرسٹر علی ظفر نے ٹی ٹی اے پی کی قیادت کا دورے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو یہاں پہنچنے میں جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، میں کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیں یہاں روزانہ یہی مشکلات برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اوسط آمدنی میں اضافے کے باوجود پاکستانی پہلے سے زیادہ غریب کیوں ہو گئے؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275060/ausat-amdani-mein-izafe-ke-bawajud-pakistani-pahle-se-ziada-ghareeb-kiyon-ho-gaye</link>
      <description>&lt;p&gt;یکم جنوری کو حکومت نے ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے 2024–25 کے نتائج ’Data-driven insights for inclusive growth‘ کے ذیلی عنوان کے تحت جاری کیے تاہم خود ایچ آئی ای ایس کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ہم جامع ترقی کی مخالف سمت میں بڑھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آگے بڑھنے سے پہلے ہم اس بات کو سراہتے ہیں کہ ایچ آئی ای ایس 25-2024 مکمل کیا گیا اور تکنیکی اعتبار سے یہ بہتر انداز میں کیا گیا ہے۔ یہ شماریاتی طور پر مضبوط اور نمائندہ سروے ہے کیونکہ اس میں ملک بھر کے 32 ہزار گھرانوں کو شامل کیا گیا ہے اور یہ شہری و دیہی پاکستان کے پانچ سماجی و معاشی درجوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ مزید یہ کہ یہ پہلا موقع ہے کہ ایچ آئی ای ایس ڈیجیٹل طریقے سے کیا گیا، پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس تعریف کا مستحق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری پریس ریلیز میں جن چھ نکات کو سنگِ میل کے طور پر پیش کیا گیا، وہ یہ ہیں: شرح خواندگی میں تین فیصد اضافہ، اسکول سے باہر بچوں میں دو فیصد کمی اور صاف ایندھن کے استعمال میں تین فیصد اضافہ۔ گھریلو سطح پر انٹرنیٹ تک رسائی 34 فیصد سے بڑھ کر 70 فیصد ہو گئی جبکہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے افراد کا تناسب 17 فیصد سے بڑھ کر 57 فیصد ہو گیا۔ یہ واقعی بہترعلامات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن بچوں کی مکمل ویکسینیشن میں پانچ فیصد اضافہ ہو کر 68 فیصد سے 73 فیصد تک پہنچنا دراصل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اب بھی 27 فیصد بچے مکمل طور پر حفاظتی ٹیکے نہیں لگوا سکے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271046'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271046"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ ان بچوں کی اکثریت کہاں ہے، سابقہ فاٹا ایجنسیوں (اب اضلاع) میں 57 فیصد بچے اور بلوچستان میں تقریباً دو تہائی بچے مکمل طور پر ویکسین شدہ نہیں ہیں۔ یوں ایچ آئی ای ایس25-2024 کے نمایاں نکات سطحی ہیں، اصل خطرات گہرائی میں موجود ہیں۔ تاہم ایچ آئی ای ایس واقعی ’’حقیقی ڈیٹا کے ذریعے حقیقی زندگیوں کو محفوظ کرنے‘‘ میں کامیاب رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سروے کا ایک اہم انکشاف یہ ہے کہ 19-2018 سے 25-2024 کے درمیان پاکستان میں اوسط ماہانہ گھریلو آمدن 41 ہزار 545 روپے سے بڑھ کر 82 ہزار 179 روپے ہو گئی، یعنی 97.81 فیصد اضافہ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سننے میں خوش آئند لگتا ہے کہ اوسطاً گھرانے اب زیادہ کما رہے ہیں۔ آمدن کی تقسیم کے لحاظ سے 25-2024 میں غریب ترین پانچواں حصہ اوسطاً 41 ہزار 851 روپے کماتا ہے جبکہ امیر ترین طبقہ 1 لاکھ 39 ہزار 317 روپے ، یعنی تقریباً تین گنا زیادہ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہری علاقوں میں عدم مساوات زیادہ نمایاں ہے جہاں امیر ترین گھرانے 1 لاکھ 46 ہزار 920 روپے سے بہت زیادہ کماتے ہیں جبکہ غریب ترین گھرانے 42 ہزار 412 روپے سے بھی کم پر گزارا کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اسی عرصے میں اوسط گھریلو اخراجات میں 113 فیصد اضافہ ہوا۔ 19-2018 میں ایک اوسط گھرانہ ماہانہ 37 ہزار 159 روپے خرچ کرتا تھا جبکہ 25-2024 میں یہ خرچ بڑھ کر 79 ہزار 150 روپے ہو گیا۔ مجموعی طور پر19-2018 کے مقابلے میں غریب ترین طبقے کے اخراجات میں 84 فیصد اضافہ ہوا جبکہ امیر ترین طبقے کے اخراجات میں 131 فیصد اضافہ ہوا جو امیر اور غریب کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274017/'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274017"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;آمدن میں اس نام نہاد اضافے اور اخراجات میں اس سے کئی زیادہ اضافے کا مجموعی نتیجہ یہ ہے کہ گزشتہ چھ برس میں ایک اوسط پاکستانی گھرانہ مزید غریب ہو گیا ہے اور زیادہ مشکل زندگی گزار رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کتنا زیادہ غریب؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل کہانی حقیقی آمدن میں چھپی ہے، یعنی مہنگائی کے اثرات نکال کر 25-2024 کی آمدن کو 19-2018 کی قیمتوں میں دیکھنے سے، اس موازنے سے واضح ہوتا ہے کہ اوسطاً لوگ آج 19-2018 کے مقابلے میں زیادہ غریب ہیں۔ دیہی علاقوں کے امیر ترین 20 فیصد کو چھوڑ کر باقی تمام شہری اور دیہی طبقے غریب اور امیر حقیقی آمدن میں نقصان اٹھا چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے زیادہ متاثر غریب شہری طبقہ ہے جس کی حقیقی آمدن میں 23 فیصد کمی آئی ہے۔ 19-2018 میں ایک غریب شہری گھرانہ اوسطاً 24 ہزار 365 روپے کماتا تھا جبکہ 25-2024 میں وہی گھرانہ 19-2018 کی قیمتوں کے مطابق صرف 18 ہزار 820 روپے کما رہا ہے۔ اس عرصے میں ایک اوسط شہری 19 فیصد اور ایک اوسط دیہی فرد 7 فیصد مزید غریب ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ یہ نسبتاً غربت حقیقی زندگیوں کو کیسے متاثر کر رہی ہے۔ گھریلو آمدن کا بڑا حصہ 36.72 فیصد بنیادی غذائی اشیا پر خرچ ہو رہا ہے، جو 19-2018 کے مقابلے میں کچھ زیادہ ہے مگر اس کے باوجود لوگ چھ سال پہلے کے مقابلے میں کم خوراک استعمال کر رہے ہیں۔ ایچ آئی ای ایس 25-2024 کا ٹیبل 37-سی اس تلخ حقیقت کو واضح کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریباً تمام بنیادی غذائی اشیا کی فی کس کھپت میں کمی آئی ہے۔ مثال کے طور پر 19-2018 میں ایک اوسط شہری پاکستانی 6.12 کلو گرام گندم استعمال کرتا تھا جبکہ 25-2024 میں یہ مقدار کم ہو کر 5.67 کلو گرام رہ گئی۔ چاول، دالیں، دودھ، مٹن، بیف، چکن، انڈے، آلو، پیاز، چینی اور چائے سمیت تمام ضروری غذاؤں کی فی کس کھپت شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں کم ہو گئی ہے۔ اس افسوسناک رجحان سے صرف ٹماٹر اور کوکنگ آئل مستثنیٰ ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272809/kya-karobari-tajavez-maeyshat-ke-liye-hamesha-nuksan-deh-sabit-hoti-hain'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272809"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;خلاصہ یہ ہے کہ پاکستانی آج چھ سال پہلے کے مقابلے میں زیادہ خرچ کر رہے ہیں مگر کم کھا رہے ہیں۔ سروے کے مطابق غذائی عدم تحفظ کی شرح 19-2018 میں 15.9 فیصد سے بڑھ کر 25-2024 میں 24.4 فیصد ہو گئی ہے۔ تعلیم پر گھریلو اخراجات بھی کم ہو گئے ہیں۔ چھ سال پہلے تقریباً 4 فیصد خرچ تعلیم پر ہوتا تھا جو اب گھٹ کر تقریباً 2.5 فیصد رہ گیا ہے۔ صحت پر خرچ نسبتاً غیر لچکدار ہونے کے باعث معمولی سا بڑھ کر 3.22 فیصد سے 3.34 فیصد ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ حکومت کو اس افسوسناک صورتحال کی ذمہ داری اٹھانی ہو گی لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہماری معاشی بدحالی کی جڑیں اس استحصالی معاشی نظام میں ہیں جس پر ہم عمل پیرا ہیں، ہمارے مستقل گورننس کے مسائل اور  تمام مسائل کی ماں  ہماری دائمی طور پر غیر مستحکم سیاست ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو فوری طور پر  مستقل اور پائیدار اصلاحات کی ضرورت ہے، جن کے لیے تمام فریقین کے درمیان قومی مکالمے کے ذریعے اتفاقِ رائے قائم کرنا ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہمارے سماجی، معاشی اور سیاسی مسائل کی سنگینی ایسی ہے کہ انہیں کسی ایک حکومت پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ تمام سیاسی جماعتوں اور ریاستی اداروں کو مل کر ایک طویل المدتی ترقیاتی منصوبہ بنانا ہوگا اور اسے کسی بھی حکومتی تبدیلی یا سیاسی ہلچل سے محفوظ بنانا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب تک ایسا نہیں ہوتا عوام کی مشکلات برقرار رہیں گی۔ قومی کامیابی کا پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ ایک غریب گھرانہ حقیقی معنوں میں کتنا خوشحال ہوتا ہے بجائے اس کے کہ ہم آئی ایم ایف سے قرض کی ایک اور قسط حاصل کرنے میں کتنے کامیاب ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>یکم جنوری کو حکومت نے ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے 2024–25 کے نتائج ’Data-driven insights for inclusive growth‘ کے ذیلی عنوان کے تحت جاری کیے تاہم خود ایچ آئی ای ایس کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ہم جامع ترقی کی مخالف سمت میں بڑھ رہے ہیں۔</p>
<p>آگے بڑھنے سے پہلے ہم اس بات کو سراہتے ہیں کہ ایچ آئی ای ایس 25-2024 مکمل کیا گیا اور تکنیکی اعتبار سے یہ بہتر انداز میں کیا گیا ہے۔ یہ شماریاتی طور پر مضبوط اور نمائندہ سروے ہے کیونکہ اس میں ملک بھر کے 32 ہزار گھرانوں کو شامل کیا گیا ہے اور یہ شہری و دیہی پاکستان کے پانچ سماجی و معاشی درجوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ مزید یہ کہ یہ پہلا موقع ہے کہ ایچ آئی ای ایس ڈیجیٹل طریقے سے کیا گیا، پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس تعریف کا مستحق ہے۔</p>
<p>سرکاری پریس ریلیز میں جن چھ نکات کو سنگِ میل کے طور پر پیش کیا گیا، وہ یہ ہیں: شرح خواندگی میں تین فیصد اضافہ، اسکول سے باہر بچوں میں دو فیصد کمی اور صاف ایندھن کے استعمال میں تین فیصد اضافہ۔ گھریلو سطح پر انٹرنیٹ تک رسائی 34 فیصد سے بڑھ کر 70 فیصد ہو گئی جبکہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے افراد کا تناسب 17 فیصد سے بڑھ کر 57 فیصد ہو گیا۔ یہ واقعی بہترعلامات ہیں۔</p>
<p>لیکن بچوں کی مکمل ویکسینیشن میں پانچ فیصد اضافہ ہو کر 68 فیصد سے 73 فیصد تک پہنچنا دراصل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اب بھی 27 فیصد بچے مکمل طور پر حفاظتی ٹیکے نہیں لگوا سکے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1271046'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1271046"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ ان بچوں کی اکثریت کہاں ہے، سابقہ فاٹا ایجنسیوں (اب اضلاع) میں 57 فیصد بچے اور بلوچستان میں تقریباً دو تہائی بچے مکمل طور پر ویکسین شدہ نہیں ہیں۔ یوں ایچ آئی ای ایس25-2024 کے نمایاں نکات سطحی ہیں، اصل خطرات گہرائی میں موجود ہیں۔ تاہم ایچ آئی ای ایس واقعی ’’حقیقی ڈیٹا کے ذریعے حقیقی زندگیوں کو محفوظ کرنے‘‘ میں کامیاب رہا ہے۔</p>
<p>اس سروے کا ایک اہم انکشاف یہ ہے کہ 19-2018 سے 25-2024 کے درمیان پاکستان میں اوسط ماہانہ گھریلو آمدن 41 ہزار 545 روپے سے بڑھ کر 82 ہزار 179 روپے ہو گئی، یعنی 97.81 فیصد اضافہ۔</p>
<p>یہ سننے میں خوش آئند لگتا ہے کہ اوسطاً گھرانے اب زیادہ کما رہے ہیں۔ آمدن کی تقسیم کے لحاظ سے 25-2024 میں غریب ترین پانچواں حصہ اوسطاً 41 ہزار 851 روپے کماتا ہے جبکہ امیر ترین طبقہ 1 لاکھ 39 ہزار 317 روپے ، یعنی تقریباً تین گنا زیادہ۔</p>
<p>شہری علاقوں میں عدم مساوات زیادہ نمایاں ہے جہاں امیر ترین گھرانے 1 لاکھ 46 ہزار 920 روپے سے بہت زیادہ کماتے ہیں جبکہ غریب ترین گھرانے 42 ہزار 412 روپے سے بھی کم پر گزارا کرتے ہیں۔</p>
<p>تاہم اسی عرصے میں اوسط گھریلو اخراجات میں 113 فیصد اضافہ ہوا۔ 19-2018 میں ایک اوسط گھرانہ ماہانہ 37 ہزار 159 روپے خرچ کرتا تھا جبکہ 25-2024 میں یہ خرچ بڑھ کر 79 ہزار 150 روپے ہو گیا۔ مجموعی طور پر19-2018 کے مقابلے میں غریب ترین طبقے کے اخراجات میں 84 فیصد اضافہ ہوا جبکہ امیر ترین طبقے کے اخراجات میں 131 فیصد اضافہ ہوا جو امیر اور غریب کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274017/'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274017"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>آمدن میں اس نام نہاد اضافے اور اخراجات میں اس سے کئی زیادہ اضافے کا مجموعی نتیجہ یہ ہے کہ گزشتہ چھ برس میں ایک اوسط پاکستانی گھرانہ مزید غریب ہو گیا ہے اور زیادہ مشکل زندگی گزار رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کتنا زیادہ غریب؟</p>
<p>اصل کہانی حقیقی آمدن میں چھپی ہے، یعنی مہنگائی کے اثرات نکال کر 25-2024 کی آمدن کو 19-2018 کی قیمتوں میں دیکھنے سے، اس موازنے سے واضح ہوتا ہے کہ اوسطاً لوگ آج 19-2018 کے مقابلے میں زیادہ غریب ہیں۔ دیہی علاقوں کے امیر ترین 20 فیصد کو چھوڑ کر باقی تمام شہری اور دیہی طبقے غریب اور امیر حقیقی آمدن میں نقصان اٹھا چکے ہیں۔</p>
<p>سب سے زیادہ متاثر غریب شہری طبقہ ہے جس کی حقیقی آمدن میں 23 فیصد کمی آئی ہے۔ 19-2018 میں ایک غریب شہری گھرانہ اوسطاً 24 ہزار 365 روپے کماتا تھا جبکہ 25-2024 میں وہی گھرانہ 19-2018 کی قیمتوں کے مطابق صرف 18 ہزار 820 روپے کما رہا ہے۔ اس عرصے میں ایک اوسط شہری 19 فیصد اور ایک اوسط دیہی فرد 7 فیصد مزید غریب ہو گیا۔</p>
<p>اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ یہ نسبتاً غربت حقیقی زندگیوں کو کیسے متاثر کر رہی ہے۔ گھریلو آمدن کا بڑا حصہ 36.72 فیصد بنیادی غذائی اشیا پر خرچ ہو رہا ہے، جو 19-2018 کے مقابلے میں کچھ زیادہ ہے مگر اس کے باوجود لوگ چھ سال پہلے کے مقابلے میں کم خوراک استعمال کر رہے ہیں۔ ایچ آئی ای ایس 25-2024 کا ٹیبل 37-سی اس تلخ حقیقت کو واضح کرتا ہے۔</p>
<p>تقریباً تمام بنیادی غذائی اشیا کی فی کس کھپت میں کمی آئی ہے۔ مثال کے طور پر 19-2018 میں ایک اوسط شہری پاکستانی 6.12 کلو گرام گندم استعمال کرتا تھا جبکہ 25-2024 میں یہ مقدار کم ہو کر 5.67 کلو گرام رہ گئی۔ چاول، دالیں، دودھ، مٹن، بیف، چکن، انڈے، آلو، پیاز، چینی اور چائے سمیت تمام ضروری غذاؤں کی فی کس کھپت شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں کم ہو گئی ہے۔ اس افسوسناک رجحان سے صرف ٹماٹر اور کوکنگ آئل مستثنیٰ ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1272809/kya-karobari-tajavez-maeyshat-ke-liye-hamesha-nuksan-deh-sabit-hoti-hain'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1272809"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>خلاصہ یہ ہے کہ پاکستانی آج چھ سال پہلے کے مقابلے میں زیادہ خرچ کر رہے ہیں مگر کم کھا رہے ہیں۔ سروے کے مطابق غذائی عدم تحفظ کی شرح 19-2018 میں 15.9 فیصد سے بڑھ کر 25-2024 میں 24.4 فیصد ہو گئی ہے۔ تعلیم پر گھریلو اخراجات بھی کم ہو گئے ہیں۔ چھ سال پہلے تقریباً 4 فیصد خرچ تعلیم پر ہوتا تھا جو اب گھٹ کر تقریباً 2.5 فیصد رہ گیا ہے۔ صحت پر خرچ نسبتاً غیر لچکدار ہونے کے باعث معمولی سا بڑھ کر 3.22 فیصد سے 3.34 فیصد ہو گیا ہے۔</p>
<p>موجودہ حکومت کو اس افسوسناک صورتحال کی ذمہ داری اٹھانی ہو گی لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہماری معاشی بدحالی کی جڑیں اس استحصالی معاشی نظام میں ہیں جس پر ہم عمل پیرا ہیں، ہمارے مستقل گورننس کے مسائل اور  تمام مسائل کی ماں  ہماری دائمی طور پر غیر مستحکم سیاست ہے۔</p>
<p>پاکستان کو فوری طور پر  مستقل اور پائیدار اصلاحات کی ضرورت ہے، جن کے لیے تمام فریقین کے درمیان قومی مکالمے کے ذریعے اتفاقِ رائے قائم کرنا ناگزیر ہے۔</p>
<p>ہمارے سماجی، معاشی اور سیاسی مسائل کی سنگینی ایسی ہے کہ انہیں کسی ایک حکومت پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ تمام سیاسی جماعتوں اور ریاستی اداروں کو مل کر ایک طویل المدتی ترقیاتی منصوبہ بنانا ہوگا اور اسے کسی بھی حکومتی تبدیلی یا سیاسی ہلچل سے محفوظ بنانا ہوگا۔</p>
<p>جب تک ایسا نہیں ہوتا عوام کی مشکلات برقرار رہیں گی۔ قومی کامیابی کا پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ ایک غریب گھرانہ حقیقی معنوں میں کتنا خوشحال ہوتا ہے بجائے اس کے کہ ہم آئی ایم ایف سے قرض کی ایک اور قسط حاصل کرنے میں کتنے کامیاب ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275060</guid>
      <pubDate>Fri, 09 Jan 2026 14:43:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ظفر مرزامفتاح اسمٰعیل)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/091440003be2723.webp" type="image/webp" medium="image" height="1024" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/091440003be2723.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’امریکا بھارت تجارتی معاہدہ ملتوی ہونے کی وجہ مودی کا ٹرمپ کو کال نہ کرنا تھا‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275061/tijarti-muahide-mein-takheer-ki-asal-wajah-modi-ki-phone-call-se-gurez</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکا کے وزیرِ تجارت ہاورڈ لٹنک نے کہا ہے کہ بھارت اور امریکا کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدہ اس لیے تاخیر کا شکار ہوا کیونکہ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے معاہدہ طے کرنے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فون کال نہیں کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعے کو ایک انٹرویو میں ہاورڈ لٹنک کا کہنا تھا کہ تجارتی مذاکرات گزشتہ سال ناکام ہو گئے، جس کے بعد ٹرمپ نے اگست میں بھارتی مصنوعات پر ٹیرف دگنا کر کے 50 فیصد کر دیا، جو دنیا میں سب سے زیادہ شرح ہے۔ اس میں روسی تیل کی خریداری پر بھارت کے خلاف 25 فیصد اضافی محصول بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/AdityaRajKaul/status/2009478533316563441?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009478533316563441%7Ctwgr%5E83ec921247e63693b368379093feae937c53a7c7%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965990'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/AdityaRajKaul/status/2009478533316563441?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009478533316563441%7Ctwgr%5E83ec921247e63693b368379093feae937c53a7c7%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965990"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;آل اِن پوڈکاسٹ کو دیے گئے انٹرویو میں، جو چار وینچر کیپیٹل سرمایہ کاروں کا بزنس اور ٹیکنالوجی سے متعلق امریکی شو ہے، ہاورڈ لٹنک نے کہا کہ سب کچھ تیار تھا اور بس مودی کو صدر کو فون کرنا تھا، مگر وہ ایسا کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار تھے، اس لیے مودی نے فون نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ نے اس ہفتے خبردار کیا کہ اگر بھارت روس سے تیل کی درآمدات کم نہیں کرتا تو ٹیرف میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دباؤ کے نتیجے میں بھارتی روپیہ ریکارڈ کم ترین سطح پر آ گیا، جبکہ سرمایہ کار اس دوطرفہ تجارتی معاہدے پر پیش رفت کے منتظر ہیں جو تاحال طے نہیں ہو سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہاورڈ لٹنک کے مطابق بھارت اب بھی اس ٹیرف شرح کا خواہاں ہے جو امریکا نے برطانیہ اور ویتنام کو پیش کی تھی تاہم وہ پیشکش اب ختم ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کی وزارتِ تجارت نے لٹنک کے بیان پر تبصرے کی درخواست کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز کے مطابق گزشتہ سال نئی دہلی اور واشنگٹن ایک تجارتی معاہدے کے قریب پہنچ چکے تھے مگر رابطے میں خلل کے باعث ممکنہ معاہدہ ناکام ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر میں شامل بھارتی حکومتی عہدیدار کے مطابق مودی ٹرمپ کو فون نہیں کر سکتے تھے کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ یک طرفہ گفتگو انہیں مشکل صورتحال میں ڈال سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکا کے وزیرِ تجارت ہاورڈ لٹنک نے کہا ہے کہ بھارت اور امریکا کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدہ اس لیے تاخیر کا شکار ہوا کیونکہ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے معاہدہ طے کرنے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فون کال نہیں کی۔</p>
<p>جمعے کو ایک انٹرویو میں ہاورڈ لٹنک کا کہنا تھا کہ تجارتی مذاکرات گزشتہ سال ناکام ہو گئے، جس کے بعد ٹرمپ نے اگست میں بھارتی مصنوعات پر ٹیرف دگنا کر کے 50 فیصد کر دیا، جو دنیا میں سب سے زیادہ شرح ہے۔ اس میں روسی تیل کی خریداری پر بھارت کے خلاف 25 فیصد اضافی محصول بھی شامل ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/AdityaRajKaul/status/2009478533316563441?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009478533316563441%7Ctwgr%5E83ec921247e63693b368379093feae937c53a7c7%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965990'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/AdityaRajKaul/status/2009478533316563441?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009478533316563441%7Ctwgr%5E83ec921247e63693b368379093feae937c53a7c7%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965990"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>آل اِن پوڈکاسٹ کو دیے گئے انٹرویو میں، جو چار وینچر کیپیٹل سرمایہ کاروں کا بزنس اور ٹیکنالوجی سے متعلق امریکی شو ہے، ہاورڈ لٹنک نے کہا کہ سب کچھ تیار تھا اور بس مودی کو صدر کو فون کرنا تھا، مگر وہ ایسا کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار تھے، اس لیے مودی نے فون نہیں کیا۔</p>
<p>یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ نے اس ہفتے خبردار کیا کہ اگر بھارت روس سے تیل کی درآمدات کم نہیں کرتا تو ٹیرف میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>اس دباؤ کے نتیجے میں بھارتی روپیہ ریکارڈ کم ترین سطح پر آ گیا، جبکہ سرمایہ کار اس دوطرفہ تجارتی معاہدے پر پیش رفت کے منتظر ہیں جو تاحال طے نہیں ہو سکا۔</p>
<p>ہاورڈ لٹنک کے مطابق بھارت اب بھی اس ٹیرف شرح کا خواہاں ہے جو امریکا نے برطانیہ اور ویتنام کو پیش کی تھی تاہم وہ پیشکش اب ختم ہو چکی ہے۔</p>
<p>بھارت کی وزارتِ تجارت نے لٹنک کے بیان پر تبصرے کی درخواست کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔</p>
<p>رائٹرز کے مطابق گزشتہ سال نئی دہلی اور واشنگٹن ایک تجارتی معاہدے کے قریب پہنچ چکے تھے مگر رابطے میں خلل کے باعث ممکنہ معاہدہ ناکام ہو گیا۔</p>
<p>خبر میں شامل بھارتی حکومتی عہدیدار کے مطابق مودی ٹرمپ کو فون نہیں کر سکتے تھے کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ یک طرفہ گفتگو انہیں مشکل صورتحال میں ڈال سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275061</guid>
      <pubDate>Fri, 09 Jan 2026 13:24:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/091313445813893.webp" type="image/webp" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/091313445813893.webp"/>
        <media:title>ہاورڈ لٹنک کے مطابق بھارت اب بھی اس ٹیرف شرح کا خواہاں ہے جو امریکا نے برطانیہ اور ویتنام کو پیش کی تھی تاہم وہ پیشکش اب ختم ہو چکی ہے۔ فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بنگلہ دیش نے بھارت میں اپنے سفارتی مشنز کے ویزا سیکشن بند کردیے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275059/</link>
      <description>&lt;p&gt;ڈھاکا: بنگلہ دیش کے امورِ خارجہ کے مشیر توحید حسین نے بتایا کہ سیکیورٹی خدشات کے باعث بھارت میں بنگلہ دیش کے تین سفارتی مشنز کے ویزا سیکشن عارضی طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے جمعہ کو وزارتِ خارجہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنے تین مشنز کو ہدایت دی ہے کہ فی الحال ویزا سیکشن بند رکھے جائیں، یہ سیکیورٹی کا معاملہ ہے۔ وہ اس سوال کا جواب دے رہے تھے کہ آیا بھارت میں بنگلہ دیشی مشنز نے بھارتی شہریوں کے لیے سیاحتی ویزے محدود کر دیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توحید حسین نے مشنز کے نام نہیں بتائے تاہم سفارتی ذرائع کے مطابق نئی دہلی میں بنگلہ دیش ہائی کمیشن کولکتہ میں ڈپٹی ہائی کمیشن اور آگرہ تلہ میں بنگلہ دیش اسسٹنٹ ہائی کمیشن کے ویزا سیکشن بند کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ چنئی اور ممبئی میں بنگلہ دیشی مشنز کے ویزا سیکشن بدستور کام کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1275010'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1275010"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ چند ہفتوں کے دوران بھارت میں بنگلہ دیشی سفارتی مشنز کے قریب احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عوامی لیگ حکومت کے خاتمے کے بعد بھارتی ہائی کمیشن نے سیکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے بنگلہ دیشی شہریوں کے لیے سیاحتی ویزوں پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توحید حسین سے بھارتی پریمیئر لیگ سے بنگلہ دیشی کرکٹر مستفیض الرحمٰن کو نکالے جانے، بھارت میں بنگلہ دیش مخالف مظاہروں اور آئندہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے بنگلہ دیشی ٹیم کو بھارت نہ بھیجنے کے فیصلے سے متعلق بھی سوال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ وہ کھیلوں کے مشیر آصف نذراللہ کے اس مؤقف کی مکمل حمایت کرتے ہیں کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر ٹیم کو بھارت نہ بھیجا جائے اور بنگلہ دیش کے میچز شریک میزبان سری لنکا منتقل کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ہم یقینی طور پر بھارت کے باہر کھیلیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ کھلاڑیوں اور شائقین دونوں کو بھارت کا سفر کرنا پڑتا، اس لیے حکومت کو ان کی سلامتی کو مدنظر رکھنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1275022'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1275022"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوطرفہ تعلقات پر ممکنہ اثرات کے بارے میں پوچھے جانے پر توحید حسین نے کہا کہ اس طرح کے معاملات وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہتے ہیں اور ہر معاملے کا کچھ نہ کچھ اثر ضرور ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے فیصلے قومی مفاد کو سامنے رکھ کر کریں گے، اگر ہمارے کھلاڑیوں کی سلامتی کے لیے بھارت نہ جانا ہمارے مفاد میں ہے تو ہم ایسا ہی کریں گے اور اگر بھارت سے چاول خریدنا ہمارے مفاد میں ہوا تو ہم وہ بھی کریں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ڈھاکا: بنگلہ دیش کے امورِ خارجہ کے مشیر توحید حسین نے بتایا کہ سیکیورٹی خدشات کے باعث بھارت میں بنگلہ دیش کے تین سفارتی مشنز کے ویزا سیکشن عارضی طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے جمعہ کو وزارتِ خارجہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنے تین مشنز کو ہدایت دی ہے کہ فی الحال ویزا سیکشن بند رکھے جائیں، یہ سیکیورٹی کا معاملہ ہے۔ وہ اس سوال کا جواب دے رہے تھے کہ آیا بھارت میں بنگلہ دیشی مشنز نے بھارتی شہریوں کے لیے سیاحتی ویزے محدود کر دیے ہیں۔</p>
<p>توحید حسین نے مشنز کے نام نہیں بتائے تاہم سفارتی ذرائع کے مطابق نئی دہلی میں بنگلہ دیش ہائی کمیشن کولکتہ میں ڈپٹی ہائی کمیشن اور آگرہ تلہ میں بنگلہ دیش اسسٹنٹ ہائی کمیشن کے ویزا سیکشن بند کیے گئے ہیں۔</p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ چنئی اور ممبئی میں بنگلہ دیشی مشنز کے ویزا سیکشن بدستور کام کر رہے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1275010'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1275010"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>گزشتہ چند ہفتوں کے دوران بھارت میں بنگلہ دیشی سفارتی مشنز کے قریب احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے ہیں۔</p>
<p>عوامی لیگ حکومت کے خاتمے کے بعد بھارتی ہائی کمیشن نے سیکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے بنگلہ دیشی شہریوں کے لیے سیاحتی ویزوں پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔</p>
<p>توحید حسین سے بھارتی پریمیئر لیگ سے بنگلہ دیشی کرکٹر مستفیض الرحمٰن کو نکالے جانے، بھارت میں بنگلہ دیش مخالف مظاہروں اور آئندہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے بنگلہ دیشی ٹیم کو بھارت نہ بھیجنے کے فیصلے سے متعلق بھی سوال کیا گیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ وہ کھیلوں کے مشیر آصف نذراللہ کے اس مؤقف کی مکمل حمایت کرتے ہیں کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر ٹیم کو بھارت نہ بھیجا جائے اور بنگلہ دیش کے میچز شریک میزبان سری لنکا منتقل کیے جائیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ہم یقینی طور پر بھارت کے باہر کھیلیں گے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ کھلاڑیوں اور شائقین دونوں کو بھارت کا سفر کرنا پڑتا، اس لیے حکومت کو ان کی سلامتی کو مدنظر رکھنا ہوگا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1275022'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1275022"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>دوطرفہ تعلقات پر ممکنہ اثرات کے بارے میں پوچھے جانے پر توحید حسین نے کہا کہ اس طرح کے معاملات وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہتے ہیں اور ہر معاملے کا کچھ نہ کچھ اثر ضرور ہوتا ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے فیصلے قومی مفاد کو سامنے رکھ کر کریں گے، اگر ہمارے کھلاڑیوں کی سلامتی کے لیے بھارت نہ جانا ہمارے مفاد میں ہے تو ہم ایسا ہی کریں گے اور اگر بھارت سے چاول خریدنا ہمارے مفاد میں ہوا تو ہم وہ بھی کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275059</guid>
      <pubDate>Fri, 09 Jan 2026 12:14:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/09121013830bdb5.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/09121013830bdb5.webp"/>
        <media:title>گزشتہ چند ہفتوں کے دوران بھارت میں بنگلہ دیشی سفارتی مشنز کے قریب احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>افغان جنگجوؤں کو پاکستان میں استعمال نہ کیا جائے، حافظ گل بہادر کی ہدایت</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275058/</link>
      <description>&lt;p&gt;پشاور: دہشت گرد تنظیم کے سربراہ نے مبینہ طور پر اپنے کمانڈروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ پاکستان میں لڑنے کے لیے غیر ملکی جنگجوؤں بالخصوص افغان شہریوں، کی بھرتی اور تعیناتی سے گریز کریں اور خبردار کیا ہے کہ احکامات کی خلاف ورزی کی صورت میں سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خراسان ڈائری کے مطابق یہ ہدایت حافظ گل بہادر کی جانب سے دی گئی جو نام نہاد اتحاد المجاہدین پاکستان کے سربراہ ہیں اور یہ پیغام چند روز قبل ایک آڈیو پیغام کے ذریعے ان کے ساتھیوں تک پہنچایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ہدایت کابل کے اس مؤقف کے بھی برعکس دکھائی دیتی ہے جس میں کہا جاتا رہا ہے کہ پاکستان کو درپیش دہشت گردی کا مسئلہ ایک اندرونی معاملہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغان سرزمین اور جنگجوؤں کے پاکستان میں دہشت گرد حملوں کے لیے استعمال کا معاملہ طویل عرصے سے اسلام آباد اور کابل کے درمیان شدید اختلاف کا باعث بنا ہوا ہے، جو سرحدی جھڑپوں تک جا پہنچا اور بالآخر گزشتہ برس اکتوبر میں پاک افغان سرحد کی بندش پر منتج ہوا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274857'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274857"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;حالیہ مہینوں میں پاکستان کی سول اور عسکری قیادت مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ ملک میں جاری دہشت گردی کی جڑیں افغانستان سے ملتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گل بہادر کی یہ ہدایت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بڑھتے ہوئے عالمی دباؤ کے پیش نظر افغان طالبان اپنے پاکستانی ساتھیوں پر دباؤ ڈال رہے ہیں، اور یہ کابل میں گزشتہ ماہ کے اوائل میں جاری کیے گئے علما کے ایک فرمان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں یہ عہد کیا گیا تھا کہ افغان سرزمین کسی غیر ملکی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فرمان افغان طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے اس سے قبل دیے گئے بیان کے بعد جاری کیا گیا تھا، جسے بڑی حد تک نظرانداز کر دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پشاور: دہشت گرد تنظیم کے سربراہ نے مبینہ طور پر اپنے کمانڈروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ پاکستان میں لڑنے کے لیے غیر ملکی جنگجوؤں بالخصوص افغان شہریوں، کی بھرتی اور تعیناتی سے گریز کریں اور خبردار کیا ہے کہ احکامات کی خلاف ورزی کی صورت میں سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔</p>
<p>خراسان ڈائری کے مطابق یہ ہدایت حافظ گل بہادر کی جانب سے دی گئی جو نام نہاد اتحاد المجاہدین پاکستان کے سربراہ ہیں اور یہ پیغام چند روز قبل ایک آڈیو پیغام کے ذریعے ان کے ساتھیوں تک پہنچایا گیا۔</p>
<p>یہ ہدایت کابل کے اس مؤقف کے بھی برعکس دکھائی دیتی ہے جس میں کہا جاتا رہا ہے کہ پاکستان کو درپیش دہشت گردی کا مسئلہ ایک اندرونی معاملہ ہے۔</p>
<p>افغان سرزمین اور جنگجوؤں کے پاکستان میں دہشت گرد حملوں کے لیے استعمال کا معاملہ طویل عرصے سے اسلام آباد اور کابل کے درمیان شدید اختلاف کا باعث بنا ہوا ہے، جو سرحدی جھڑپوں تک جا پہنچا اور بالآخر گزشتہ برس اکتوبر میں پاک افغان سرحد کی بندش پر منتج ہوا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274857'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274857"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>حالیہ مہینوں میں پاکستان کی سول اور عسکری قیادت مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ ملک میں جاری دہشت گردی کی جڑیں افغانستان سے ملتی ہیں۔</p>
<p>گل بہادر کی یہ ہدایت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بڑھتے ہوئے عالمی دباؤ کے پیش نظر افغان طالبان اپنے پاکستانی ساتھیوں پر دباؤ ڈال رہے ہیں، اور یہ کابل میں گزشتہ ماہ کے اوائل میں جاری کیے گئے علما کے ایک فرمان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں یہ عہد کیا گیا تھا کہ افغان سرزمین کسی غیر ملکی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔</p>
<p>یہ فرمان افغان طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے اس سے قبل دیے گئے بیان کے بعد جاری کیا گیا تھا، جسے بڑی حد تک نظرانداز کر دیا گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275058</guid>
      <pubDate>Fri, 09 Jan 2026 12:02:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بیورو رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/091155104503ff6.webp" type="image/webp" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/091155104503ff6.webp"/>
        <media:title>حالیہ مہینوں میں پاکستان کی سول اور عسکری قیادت مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ ملک میں جاری دہشت گردی کی جڑیں افغانستان سے ملتی ہیں۔ فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>افغان طالبان کی واپسی کے بعد پاکستان سب سے زیادہ دہشت گردی سے متاثر ملک قرار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275057/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: انٹرنیشنل کرائسز گروپ (آئی سی جی) کا کہنا ہے کہ افغانستان میں 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے، ادارے کے مطابق اگرچہ فی الحال جنگ بندی برقرار ہے، تاہم اگر عسکریت پسندوں کی کارروائیاں جاری رہیں تو اسلام آباد دوبارہ حملہ کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برسلز میں قائم آزاد اور غیر منافع بخش تھنک ٹینک جو معروف عالمی شخصیات نے قائم کیا، نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات شدید خراب ہو چکے ہیں، جس کی بنیادی وجہ افغان طالبان کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان کے خلاف کارروائی سے انکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2022 کے بعد پاکستان میں تشدد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ صرف 2025 میں عسکریت پسندوں نے 600 سے زائد پاکستانی فوج اور پولیس کے اہلکاروں کو شہید کیا، جن میں زیادہ تر ہلاکتیں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہوئیں جو افغانستان سے متصل صوبے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274857'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274857"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد ان حملوں کا الزام کالعدم ٹی ٹی پی اور بلوچ عسکریت پسند گروہوں پر عائد کرتا ہے، جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ شواہد کے مطابق انہیں پاکستان کے حریف بھارت کی حمایت حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برسلز میں قائم تھنک ٹینک کے مطابق اگر عسکریت پسند حملے جاری رہے تو اسلام آباد ایک بار پھر افغانستان میں کارروائی کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے مانیٹرز کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی کو طالبان کی حمایت حاصل ہے تاہم طالبان اس کی تردید کرتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ پاکستانی عسکریت پسند افغانستان میں موجود ہی نہیں جبکہ وہ تشدد کو پاکستان کا اندرونی مسئلہ قرار دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مغربی سرحد پر 8 اکتوبر کو ٹی ٹی پی کے حملے میں 11 پاکستانی فوجی اہلکاروں کی شہادت کے بعد اسلام آباد نے سرحد پار فضائی حملے کیے جن میں کابل پر پہلا حملہ بھی شامل تھا، جس کا ہدف بظاہر ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغانستان نے اس کے جواب میں پاکستانی فوجی تنصیبات پر حملے کیے۔ جاری جھڑپوں میں دونوں جانب فوجی اور شہری جانوں کا ضیاع ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ خبردار کرتی ہے کہ اگر کسی اور حملے کا سراغ افغانستان سے ملا تو اسلام آباد دوبارہ سخت ردعمل دے سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274933'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274933"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ طالبان حکومت عسکری لحاظ سے کمزور ہے، تاہم اس کا ردعمل بھی مہلک ہو سکتا ہے۔ کابل کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس ایسے میزائل موجود ہیں جو پاکستانی شہروں تک پہنچ سکتے ہیں، جن کے استعمال سے پاکستان کی جانب سے بہت زیادہ سخت جواب متوقع ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="جنوبی-ایشیا-میں-نئے-بحران-کا-خدشہ" href="#جنوبی-ایشیا-میں-نئے-بحران-کا-خدشہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;جنوبی ایشیا میں نئے بحران کا خدشہ&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;جنوبی ایشیا میں پاکستان کے خارجی تعلقات کافی پیچیدہ ہو چکے ہیں۔ 2025 میں افغانستان اور بھارت دونوں کے ساتھ مختصر جنگوں کے بعد کسی بڑے عسکریت پسند حملے کی صورت میں پاکستان اور اس کے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان قائم عاضی امن برقرار نہیں رہ سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں 2026 کے لیے جن 10 تنازعات پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے ان میں افغانستان پاکستان، میانمار، اسرائیل اور امریکا بمقابلہ ایران، اسرائیل فلسطین، شام، یوکرین، مالی اور برکینا فاسو، ایتھوپیا اریٹریا، سوڈان اور وینزویلا شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274024'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274024"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق دنیا ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی سے پہلے ہی ایک خطرناک دور میں داخل ہو چکی تھی۔ اب تک ان کی دوسری مدت نے حالات کو سست کرنے کے بجائے مزید تیز کر دیا ہے۔ 2025 ایک خونریز سال ثابت ہوا اور 2026 کے بھی زیادہ بہتر ہونے کے آثار نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ٹرمپ-کی-اقتدار-میں-واپسی-پر-عالمی-معاملات-مزیر-خراب" href="#ٹرمپ-کی-اقتدار-میں-واپسی-پر-عالمی-معاملات-مزیر-خراب" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;strong&gt;ٹرمپ کی اقتدار میں واپسی پر عالمی معاملات مزیر خراب&lt;/strong&gt;&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ کی واپسی کا پہلا سال عالمی سیاست اور بین الاقوامی بحرانوں کے نظم و نسق کو یکسر بدل چکا ہے۔ وہ ایک جلتی ہوئی دنیا میں امن لانے کے وعدے کے ساتھ اقتدار میں واپس آئے اور متعدد جنگوں اور تنازع زدہ علاقوں میں خود کو مرکزی کردار کے طور پر پیش کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈونلڈ ٹرمپ نے برسوں سے ناکام سفارتی کوششوں کے بعد امن سازی کی جانب نئی توجہ ضرور دلائی، مگر وہ عالمی انتشار کو کم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے بلکہ بعض معاملات میں صورتحال مزید خراب ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے معاہدے جو اکثر دیگر ممالک کی سفارتی کوششوں پر مبنی ہوتے ہیں، چند محاذوں پر عارضی سکون تو لائے مگر کہیں بھی پائیدار امن قائم نہ ہو سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کی ڈیل سازی کا مقصد امریکی طاقت کا استعمال ہے، خواہ غزہ میں اسرائیل کے واشنگٹن پر انحصار کو بروئے کار لا کر ہو یا دیگر علاقوں میں، جہاں زیادہ تر دباؤ ٹیرف کی دھمکیوں یا کاروباری مواقع کے لالچ کے ذریعے ڈالا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کی سودے بازی کو اس تناظر میں بھی دیکھنا ہوگا کہ ان کی واپسی سے پہلے کہیں امن معاہدے نہیں ہوئے تھے جبکہ جن علاقوں میں وہ خود مداخلت نہیں کرتے وہاں بھی کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہو سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی رہنما جو اپنے دروازے پر منڈلاتے خطرات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں دیگر خطوں میں قیام امن کے لیے محدود گنجائش رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: انٹرنیشنل کرائسز گروپ (آئی سی جی) کا کہنا ہے کہ افغانستان میں 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے، ادارے کے مطابق اگرچہ فی الحال جنگ بندی برقرار ہے، تاہم اگر عسکریت پسندوں کی کارروائیاں جاری رہیں تو اسلام آباد دوبارہ حملہ کر سکتا ہے۔</p>
<p>برسلز میں قائم آزاد اور غیر منافع بخش تھنک ٹینک جو معروف عالمی شخصیات نے قائم کیا، نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات شدید خراب ہو چکے ہیں، جس کی بنیادی وجہ افغان طالبان کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان کے خلاف کارروائی سے انکار ہے۔</p>
<p>2022 کے بعد پاکستان میں تشدد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ صرف 2025 میں عسکریت پسندوں نے 600 سے زائد پاکستانی فوج اور پولیس کے اہلکاروں کو شہید کیا، جن میں زیادہ تر ہلاکتیں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہوئیں جو افغانستان سے متصل صوبے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274857'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274857"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اسلام آباد ان حملوں کا الزام کالعدم ٹی ٹی پی اور بلوچ عسکریت پسند گروہوں پر عائد کرتا ہے، جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ شواہد کے مطابق انہیں پاکستان کے حریف بھارت کی حمایت حاصل ہے۔</p>
<p>برسلز میں قائم تھنک ٹینک کے مطابق اگر عسکریت پسند حملے جاری رہے تو اسلام آباد ایک بار پھر افغانستان میں کارروائی کر سکتا ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے مانیٹرز کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی کو طالبان کی حمایت حاصل ہے تاہم طالبان اس کی تردید کرتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ پاکستانی عسکریت پسند افغانستان میں موجود ہی نہیں جبکہ وہ تشدد کو پاکستان کا اندرونی مسئلہ قرار دیتے ہیں۔</p>
<p>مغربی سرحد پر 8 اکتوبر کو ٹی ٹی پی کے حملے میں 11 پاکستانی فوجی اہلکاروں کی شہادت کے بعد اسلام آباد نے سرحد پار فضائی حملے کیے جن میں کابل پر پہلا حملہ بھی شامل تھا، جس کا ہدف بظاہر ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود تھے۔</p>
<p>افغانستان نے اس کے جواب میں پاکستانی فوجی تنصیبات پر حملے کیے۔ جاری جھڑپوں میں دونوں جانب فوجی اور شہری جانوں کا ضیاع ہوا۔</p>
<p>رپورٹ خبردار کرتی ہے کہ اگر کسی اور حملے کا سراغ افغانستان سے ملا تو اسلام آباد دوبارہ سخت ردعمل دے سکتا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274933'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274933"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>اگرچہ طالبان حکومت عسکری لحاظ سے کمزور ہے، تاہم اس کا ردعمل بھی مہلک ہو سکتا ہے۔ کابل کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس ایسے میزائل موجود ہیں جو پاکستانی شہروں تک پہنچ سکتے ہیں، جن کے استعمال سے پاکستان کی جانب سے بہت زیادہ سخت جواب متوقع ہوگا۔</p>
<h3><a id="جنوبی-ایشیا-میں-نئے-بحران-کا-خدشہ" href="#جنوبی-ایشیا-میں-نئے-بحران-کا-خدشہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>جنوبی ایشیا میں نئے بحران کا خدشہ</strong></h3>
<p>جنوبی ایشیا میں پاکستان کے خارجی تعلقات کافی پیچیدہ ہو چکے ہیں۔ 2025 میں افغانستان اور بھارت دونوں کے ساتھ مختصر جنگوں کے بعد کسی بڑے عسکریت پسند حملے کی صورت میں پاکستان اور اس کے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان قائم عاضی امن برقرار نہیں رہ سکتا۔</p>
<p>رپورٹ میں 2026 کے لیے جن 10 تنازعات پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے ان میں افغانستان پاکستان، میانمار، اسرائیل اور امریکا بمقابلہ ایران، اسرائیل فلسطین، شام، یوکرین، مالی اور برکینا فاسو، ایتھوپیا اریٹریا، سوڈان اور وینزویلا شامل ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1274024'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1274024"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>رپورٹ کے مطابق دنیا ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی سے پہلے ہی ایک خطرناک دور میں داخل ہو چکی تھی۔ اب تک ان کی دوسری مدت نے حالات کو سست کرنے کے بجائے مزید تیز کر دیا ہے۔ 2025 ایک خونریز سال ثابت ہوا اور 2026 کے بھی زیادہ بہتر ہونے کے آثار نہیں۔</p>
<h3><a id="ٹرمپ-کی-اقتدار-میں-واپسی-پر-عالمی-معاملات-مزیر-خراب" href="#ٹرمپ-کی-اقتدار-میں-واپسی-پر-عالمی-معاملات-مزیر-خراب" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a><strong>ٹرمپ کی اقتدار میں واپسی پر عالمی معاملات مزیر خراب</strong></h3>
<p>صدر ٹرمپ کی واپسی کا پہلا سال عالمی سیاست اور بین الاقوامی بحرانوں کے نظم و نسق کو یکسر بدل چکا ہے۔ وہ ایک جلتی ہوئی دنیا میں امن لانے کے وعدے کے ساتھ اقتدار میں واپس آئے اور متعدد جنگوں اور تنازع زدہ علاقوں میں خود کو مرکزی کردار کے طور پر پیش کیا۔</p>
<p>ڈونلڈ ٹرمپ نے برسوں سے ناکام سفارتی کوششوں کے بعد امن سازی کی جانب نئی توجہ ضرور دلائی، مگر وہ عالمی انتشار کو کم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے بلکہ بعض معاملات میں صورتحال مزید خراب ہو گئی۔</p>
<p>ان کے معاہدے جو اکثر دیگر ممالک کی سفارتی کوششوں پر مبنی ہوتے ہیں، چند محاذوں پر عارضی سکون تو لائے مگر کہیں بھی پائیدار امن قائم نہ ہو سکا۔</p>
<p>ٹرمپ کی ڈیل سازی کا مقصد امریکی طاقت کا استعمال ہے، خواہ غزہ میں اسرائیل کے واشنگٹن پر انحصار کو بروئے کار لا کر ہو یا دیگر علاقوں میں، جہاں زیادہ تر دباؤ ٹیرف کی دھمکیوں یا کاروباری مواقع کے لالچ کے ذریعے ڈالا جاتا ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کی سودے بازی کو اس تناظر میں بھی دیکھنا ہوگا کہ ان کی واپسی سے پہلے کہیں امن معاہدے نہیں ہوئے تھے جبکہ جن علاقوں میں وہ خود مداخلت نہیں کرتے وہاں بھی کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہو سکی۔</p>
<p>یورپی رہنما جو اپنے دروازے پر منڈلاتے خطرات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں دیگر خطوں میں قیام امن کے لیے محدود گنجائش رکھتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275057</guid>
      <pubDate>Fri, 09 Jan 2026 12:03:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امین احمد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/09111454c2c1076.webp" type="image/webp" medium="image" height="384" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/09111454c2c1076.webp"/>
        <media:title>2022 کے بعد پاکستان میں تشدد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی ایس ایل کی تاریخ کی سب سے بڑی بولی، سیالکوٹ 185 کروڑ اور حیدرآباد175 کروڑ میں فروخت</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275055/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں دو نئی ٹیموں کا اضافہ ہوگیا، جہاں او زی ڈویلپرز نے سیالکوٹ کی فرنچائز 1 ارب 85 کروڑ روپے کی ریکارڈ بولی کے ذریعے حاصل کی، جبکہ اس سے چند لمحے قبل ایف کے ایس گروپ نے حیدرآباد کی فرنچائز 1 ارب 75 کروڑ روپے میں خریدی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بولیاں جمعرات کو اسلام آباد کے جناح کنونشن سینٹر میں ہونے والی نیلامی کے دوران سامنے آئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;او زی ڈویلپرز اور سافٹ ویئر کمپنی آئی ٹو سی کے درمیان سیالکوٹ ٹیم کے لیے سخت مقابلہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ٹو سی کی آخری بولی 1 ارب 82 کروڑ روپے تھی، جس کے بعد او زی ڈویلپرز نے بولی بڑھا کر 1 ارب 85 کروڑ روپے کر دی، جو پی ایس ایل کی تاریخ کی اب تک کی سب سے بڑی بولی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیلامی کے پہلے مرحلے میں ایف کے ایس گروپ نے حیدرآباد کی فرنچائز حاصل کی، جہاں اس کا مقابلہ بھی آئی ٹو سی سے تھا، جس کی آخری بولی 1 ارب 70 کروڑ روپے رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ایس ایل میں شامل ہونے والی ساتویں ٹیم کی بنیادی قیمت 1 ارب 10 کروڑ روپے جبکہ آٹھویں ٹیم کی بنیادی قیمت 1 ارب 70 کروڑ روپے مقرر کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حیدرآباد اور سیالکوٹ پہلی بار 2015 میں لیگ کے آغاز کے بعد پی ایس ایل کا حصہ بنیں گے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/thePSLt20/status/2009263171660337477?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009263171660337477%7Ctwgr%5E63445f31bb1676f43fdefc8631c8350e6a6ceebd%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965821'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/thePSLt20/status/2009263171660337477?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009263171660337477%7Ctwgr%5E63445f31bb1676f43fdefc8631c8350e6a6ceebd%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965821"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;رواں سیزن 26 مارچ سے 3 مئی تک شیڈول ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرنچائز کے لیے زیر غور شہروں میں فیصل آباد، گلگت، حیدرآباد، مظفرآباد، راولپنڈی اور سیالکوٹ شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت پی ایس ایل کی ٹیموں میں لاہور قلندرز، اسلام آباد یونائیٹڈ، پشاور زلمی، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز، کراچی کنگز اور ملتان سلطانز شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو نئی ٹیموں کے لیے بولی دینے والوں میں ایف کے ایس، او زی ڈویلپرز، ایم نیکسٹ انک، ڈہرکی شوگر ملز، انویریکس سولر، آئی ٹو سی، جاز، پرزم ڈویلپرز، وی جی او ٹییل اور ولی پاکستان شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیلامی کی میزبانی سابق کپتان اور معروف کمنٹیٹر وسیم اکرم نے کی، جبکہ پی ایس ایل کے چیف ایگزیکٹو سلمان نصیر بھی اسٹیج پر ان کے ہمراہ موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سلمان نصیر نے کہا کہ پی ایس ایل کے دس سال ہمیں اس تاریخی لمحے تک لے آئے ہیں۔ وسیم اکرم نے بولی دہندگان کو یہ باور کرایا کہ فرنچائز حاصل کرنا محض ملکیت نہیں بلکہ ٹیم کے لوگو، کِٹس اور کھلاڑیوں سے رابطے سمیت کئی امکانات کا دروازہ کھولتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیلامی سے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے رائزنگ اسٹار ایشیا کپ جیتنے والی ٹیم کو 9 کروڑ روپے کا انعام دیا، جبکہ ہانگ کانگ سکسز جیتنے والی ٹیم کو 1 کروڑ 85 لاکھ روپے کا کیش پرائز دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ بولی جمع کرانے کی آخری تاریخ میں کئی بار توسیع کی گئی تھی، پہلے 15 دسمبر سے 22 دسمبر اور بعد ازاں 24 دسمبر تک، کیونکہ یورپ، امریکا اور مشرق وسطیٰ سمیت مختلف خطوں سے سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں اضافہ ہوا تھا۔ جس کی وجہ لندن اور نیویارک میں ہونے والے روڈ شو بھی بنے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں دو نئی ٹیموں کا اضافہ ہوگیا، جہاں او زی ڈویلپرز نے سیالکوٹ کی فرنچائز 1 ارب 85 کروڑ روپے کی ریکارڈ بولی کے ذریعے حاصل کی، جبکہ اس سے چند لمحے قبل ایف کے ایس گروپ نے حیدرآباد کی فرنچائز 1 ارب 75 کروڑ روپے میں خریدی۔</p>
<p>یہ بولیاں جمعرات کو اسلام آباد کے جناح کنونشن سینٹر میں ہونے والی نیلامی کے دوران سامنے آئیں۔</p>
<p>او زی ڈویلپرز اور سافٹ ویئر کمپنی آئی ٹو سی کے درمیان سیالکوٹ ٹیم کے لیے سخت مقابلہ ہوا۔</p>
<p>آئی ٹو سی کی آخری بولی 1 ارب 82 کروڑ روپے تھی، جس کے بعد او زی ڈویلپرز نے بولی بڑھا کر 1 ارب 85 کروڑ روپے کر دی، جو پی ایس ایل کی تاریخ کی اب تک کی سب سے بڑی بولی ہے۔</p>
<p>نیلامی کے پہلے مرحلے میں ایف کے ایس گروپ نے حیدرآباد کی فرنچائز حاصل کی، جہاں اس کا مقابلہ بھی آئی ٹو سی سے تھا، جس کی آخری بولی 1 ارب 70 کروڑ روپے رہی۔</p>
<p>پی ایس ایل میں شامل ہونے والی ساتویں ٹیم کی بنیادی قیمت 1 ارب 10 کروڑ روپے جبکہ آٹھویں ٹیم کی بنیادی قیمت 1 ارب 70 کروڑ روپے مقرر کی گئی تھی۔</p>
<p>حیدرآباد اور سیالکوٹ پہلی بار 2015 میں لیگ کے آغاز کے بعد پی ایس ایل کا حصہ بنیں گے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/thePSLt20/status/2009263171660337477?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009263171660337477%7Ctwgr%5E63445f31bb1676f43fdefc8631c8350e6a6ceebd%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965821'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/thePSLt20/status/2009263171660337477?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2009263171660337477%7Ctwgr%5E63445f31bb1676f43fdefc8631c8350e6a6ceebd%7Ctwcon%5Es1_c10&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1965821"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>رواں سیزن 26 مارچ سے 3 مئی تک شیڈول ہے۔</p>
<p>فرنچائز کے لیے زیر غور شہروں میں فیصل آباد، گلگت، حیدرآباد، مظفرآباد، راولپنڈی اور سیالکوٹ شامل تھے۔</p>
<p>اس وقت پی ایس ایل کی ٹیموں میں لاہور قلندرز، اسلام آباد یونائیٹڈ، پشاور زلمی، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز، کراچی کنگز اور ملتان سلطانز شامل ہیں۔</p>
<p>دو نئی ٹیموں کے لیے بولی دینے والوں میں ایف کے ایس، او زی ڈویلپرز، ایم نیکسٹ انک، ڈہرکی شوگر ملز، انویریکس سولر، آئی ٹو سی، جاز، پرزم ڈویلپرز، وی جی او ٹییل اور ولی پاکستان شامل تھے۔</p>
<p>نیلامی کی میزبانی سابق کپتان اور معروف کمنٹیٹر وسیم اکرم نے کی، جبکہ پی ایس ایل کے چیف ایگزیکٹو سلمان نصیر بھی اسٹیج پر ان کے ہمراہ موجود تھے۔</p>
<p>سلمان نصیر نے کہا کہ پی ایس ایل کے دس سال ہمیں اس تاریخی لمحے تک لے آئے ہیں۔ وسیم اکرم نے بولی دہندگان کو یہ باور کرایا کہ فرنچائز حاصل کرنا محض ملکیت نہیں بلکہ ٹیم کے لوگو، کِٹس اور کھلاڑیوں سے رابطے سمیت کئی امکانات کا دروازہ کھولتا ہے۔</p>
<p>نیلامی سے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے رائزنگ اسٹار ایشیا کپ جیتنے والی ٹیم کو 9 کروڑ روپے کا انعام دیا، جبکہ ہانگ کانگ سکسز جیتنے والی ٹیم کو 1 کروڑ 85 لاکھ روپے کا کیش پرائز دیا گیا۔</p>
<p>واضح رہے کہ بولی جمع کرانے کی آخری تاریخ میں کئی بار توسیع کی گئی تھی، پہلے 15 دسمبر سے 22 دسمبر اور بعد ازاں 24 دسمبر تک، کیونکہ یورپ، امریکا اور مشرق وسطیٰ سمیت مختلف خطوں سے سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں اضافہ ہوا تھا۔ جس کی وجہ لندن اور نیویارک میں ہونے والے روڈ شو بھی بنے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275055</guid>
      <pubDate>Thu, 08 Jan 2026 21:45:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اسپورٹس ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/08213800990beff.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/08213800990beff.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>موسم سرما میں الرجی اور خارش کیوں ہوتی ہے؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1275054/</link>
      <description>&lt;p&gt;سردیوں کے موسم میں جلد کے خشک اور مرجھانے سے جہاں بعض افراد کو چڑ چڑاپن اور الجھن ہوجاتی ہے، وہیں بعض افراد خارش کا شکار بھی بن جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سردیوں میں جسم کو خشک ہونے سے بچانے کے لیے بعض افراد لوشنز اور کریموں پر ہزاروں روپے خرچ کرتے ہیں، تاہم اس باوجود کچھ افراد خارش سمیت دوسرے مسائل کا شکار بن جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین صحت کے مطابق سردیوں میں جلد خشک ہوا کی وجہ اور جسم میں نمی کی کمی کے باعث خارش کے مختلف امراض کا شکار ہو جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1096377'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1096377"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سردیوں میں عام طور پر ’ایکزیما، ایکنی، چنبل، ہونٹوں اور ایڑیوں کا پھٹنا، جلد کا سخت خشک ہوجانا، سردیوں سے الرجی اور سردیوں میں جسم پر خارش ہوجانا عام مسائل ہیں، جو کہ عام طور پر سردیوں کا موسم ختم ہوتے ہی خود بخود ٹھیک ہوجاتے ہیں لیکن بعض افراد میں مذکورہ مسائل رہ جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق ایکزیما، یا ایٹوپک ڈرمیٹیٹائٹس سردیوں میں ہونے والا جلد کا ایک عام عارضہ ہے، جس سے خارش، سوجن والے دھبے ہوتے ہیں، یہ اکثر بچوں کو متاثر کرتا ہے لیکن بچوں کے علاوہ نوعمروں اور بڑوں کو بھی مختلف طریقوں سے متاثر کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح ایکنی بھی سردیوں میں عام افراد اور خاص طور پر لڑکیوں کو بہت زیادہ متاثر کرتا ہے، یہ نو عمر افراد کو زیادہ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایکنی میں کیل، مہاسے اور سرخ دانے نکلتے ہیں جو کہ تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں جب کہ بعض اوقات ایکنی تکلیف دہ بھی ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق بعض افراد کو سردیوں میں چنبل بھی ہوتا ہے جب کہ کچھ افراد کو سردی کے موسم سے الرجی بھی ہوتی ہے، جس وجہ سے وہ ہر وقت اپنے جسم میں خارش محسوس کرنے لگتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سردیوں میں ہونے والی خارش اور خارش جیسی کیفیات سے بچنے کے لیے ماہرین امراض جلد سے رابطہ کیا جانا چاہیے، تاہم ایسے مسائل سے نمٹنے کے لیے گھریلو ٹوٹکے بھی آزمائے جا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خارش اور الرجی جیسے مسائل سے نمٹنے والے افراد کو ماہرین صحت کی تجویز سے اینٹی الرجی ادویات سمیت کریمز، لوشنز اور دیسی ٹوٹکوں کی مدد لینی چاہیے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سردیوں کے موسم میں جلد کے خشک اور مرجھانے سے جہاں بعض افراد کو چڑ چڑاپن اور الجھن ہوجاتی ہے، وہیں بعض افراد خارش کا شکار بھی بن جاتے ہیں۔</p>
<p>سردیوں میں جسم کو خشک ہونے سے بچانے کے لیے بعض افراد لوشنز اور کریموں پر ہزاروں روپے خرچ کرتے ہیں، تاہم اس باوجود کچھ افراد خارش سمیت دوسرے مسائل کا شکار بن جاتے ہیں۔</p>
<p>ماہرین صحت کے مطابق سردیوں میں جلد خشک ہوا کی وجہ اور جسم میں نمی کی کمی کے باعث خارش کے مختلف امراض کا شکار ہو جاتی ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.dawnnews.tv/news/1096377'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe"
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:250px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1096377"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure>
<p>سردیوں میں عام طور پر ’ایکزیما، ایکنی، چنبل، ہونٹوں اور ایڑیوں کا پھٹنا، جلد کا سخت خشک ہوجانا، سردیوں سے الرجی اور سردیوں میں جسم پر خارش ہوجانا عام مسائل ہیں، جو کہ عام طور پر سردیوں کا موسم ختم ہوتے ہی خود بخود ٹھیک ہوجاتے ہیں لیکن بعض افراد میں مذکورہ مسائل رہ جاتے ہیں۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق ایکزیما، یا ایٹوپک ڈرمیٹیٹائٹس سردیوں میں ہونے والا جلد کا ایک عام عارضہ ہے، جس سے خارش، سوجن والے دھبے ہوتے ہیں، یہ اکثر بچوں کو متاثر کرتا ہے لیکن بچوں کے علاوہ نوعمروں اور بڑوں کو بھی مختلف طریقوں سے متاثر کر سکتا ہے۔</p>
<p>اسی طرح ایکنی بھی سردیوں میں عام افراد اور خاص طور پر لڑکیوں کو بہت زیادہ متاثر کرتا ہے، یہ نو عمر افراد کو زیادہ ہوتا ہے۔</p>
<p>ایکنی میں کیل، مہاسے اور سرخ دانے نکلتے ہیں جو کہ تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں جب کہ بعض اوقات ایکنی تکلیف دہ بھی ہوتا ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق بعض افراد کو سردیوں میں چنبل بھی ہوتا ہے جب کہ کچھ افراد کو سردی کے موسم سے الرجی بھی ہوتی ہے، جس وجہ سے وہ ہر وقت اپنے جسم میں خارش محسوس کرنے لگتے ہیں۔</p>
<p>سردیوں میں ہونے والی خارش اور خارش جیسی کیفیات سے بچنے کے لیے ماہرین امراض جلد سے رابطہ کیا جانا چاہیے، تاہم ایسے مسائل سے نمٹنے کے لیے گھریلو ٹوٹکے بھی آزمائے جا سکتے ہیں۔</p>
<p>خارش اور الرجی جیسے مسائل سے نمٹنے والے افراد کو ماہرین صحت کی تجویز سے اینٹی الرجی ادویات سمیت کریمز، لوشنز اور دیسی ٹوٹکوں کی مدد لینی چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1275054</guid>
      <pubDate>Thu, 08 Jan 2026 18:32:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ہیلتھ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2026/01/08182955f799987.webp" type="image/webp" medium="image" height="1024" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2026/01/08182955f799987.webp"/>
        <media:title>ماہرین کے مطابق بعض افراد کو سردیوں میں چنبل بھی ہوتا ہے جب کہ کچھ افراد کو سردی کے موسم سے الرجی بھی ہوتی ہے، جس وجہ سے وہ ہر وقت اپنے جسم میں خارش محسوس کرنے لگتے ہیں۔ فوٹو اے آئی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
