<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Literature</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 04:55:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 04:55:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بُک ریویو: مور دین ون چائلڈ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1215139/</link>
      <description>&lt;p&gt;’تم جانتی ہو وانجُن؟ ہم خوش قسمت ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’ہم؟ مگر کیسے؟‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’میں بالکل تمہاری طرح ہوں۔ میں بھی خاندانی منصوبہ بندی کا حصہ نہیں تھی۔ میری ایک بڑی بہن اور دو چھوٹی بہنیں ہیں اور میں وہ منجھلی اولاد ہوں جس سے کوئی پیار نہیں کرتا۔ ہم خوش قسمت اس وجہ سے ہیں کیونکہ ہم کم از کم زندہ رہنے کے لیے پُرعزم ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;6 سالہ شین یانگ اپنے اسکول کے میدان میں کھڑی اپنی دوست کو یہ بات بتا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وانجُن جس کا سر غیرمعمولی طور پر بڑا ہے (جوکہ حمل کے دوران ماں کے زیادہ اسٹریس لینے کی وجہ سے ہوا کیونکہ وانجُن کی پیدائش غیرقانونی تھی) اور شین یانگ دونوں ہی ایک ایسے جرم کی سزا کاٹ رہی ہیں جو انہوں نے کیا بھی نہیں۔ یہ دونوں ہی بڑے ہوتے ہوئے گمنامی کی زندگی گزارنے پر مجبور تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے بچپن میں وہ چین کی اس اکثریتی آبادی میں شمار ہوتی تھیں جنہوں نے غیرقانونی طور پر جنم لیا تھا۔ ان بچوں نے اپنی زندگی بھاگتے، تذلیل، تضحیک اور طعنے سہتے گزاری ہے۔ چونکہ ان بچوں کے پاس پیدائش کا اجازت نامہ موجود نہیں اس لیے انہیں ’ہیہیزی‘ یا ’بلیک چلڈرن‘ کہا جاتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بچے جانتے تھے ان کا کوئی مستقبل نہیں، انہیں اسکول جانے کی اجازت نہیں لیکن اگر ان کا کوئی بااثر اور مہربان رشتہ دار خفیہ طور پر ’ہوکو‘ یعنیٰ سرکاری اندراج کروادے تو شاید وہ دیگر بچوں کی طرح عام زندگی گزار سکیں۔ شین یانگ اور وانجُن اس عرصے میں پیدا ہوئیں جب چینی ریاست بڑھتی ہوئی آبادی کے خوف میں مبتلا تھی اور وسائل کی کمی کی وجہ سے انہوں نے ملک میں قانون رائج کیا جس کے تحت ایک جوڑے کو صرف ایک ہی بچہ پیدا کرنے کی اجازت دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کا مستشرق سماجی فلسفہ حکومتی رٹ کی راہ میں کانٹا ثابت ہوا۔ خواتین کا دوسری بار حمل ٹھہرتا تو جبری اسقاطِ حمل یا بچوں کو پیدائش کے بعد بے اولاد نامعلوم جوڑے کے حوالے کرنے کے باوجود لوگ قانون کی خلاف ورزی کرنے سے باز نہیں آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/11/02161119e88fa32.jpg?r=161231'  alt='ون چائلڈ پالیسی کے دوران پیدا ہونے والے بچوں نے اس جرم کی سزا کاٹی جو انہوں نے کیا بھی نہیں تھا' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ون چائلڈ پالیسی کے دوران پیدا ہونے والے بچوں نے اس جرم کی سزا کاٹی جو انہوں نے کیا بھی نہیں تھا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی معاشرے میں روایتی طور پر ایک سے زیادہ بچے پیدا کرنے کی روایت رہی ہے۔ آرتھوڈوکس خیالات رکھنے والے اپنے خاندانی سلسلے کو جاری رکھنے کے لیے بیٹے کی پیدائش کو ضروری سمجھتے ہیں جبکہ اس لڑکے کے لیے بھی ایک یا دو بھائی بہن ہونے چاہئیں۔ خواتین کی بڑی تعداد نے، یہ جاننے کے باوجود کہ ان کے بچے کس طرح کی زندگی گزاریں گے، اضافی بچے پیدا کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ یہ بھی جانتے تھے کہ اگر حکام کو قانون کی اس خلاف ورزی کا علم ہوا تو انہیں بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے لیکن غربت میں زندگی گزارنے والے جنہیں سب سے بڑا مسئلہ پیسوں کا ہوتا ہے، وہ بھی قانون کی خلاف ورزی کررہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے وہ صرف ایک کام کرسکتے تھے اور وہ یہ کہ غیرقانونی طور پر پیدا ہونے والے بچوں کو دور دراز علاقوں میں اپنے رشتہ داروں کے حوالے کردیں جہاں وہ اس خصوصی گروہ کی نظر میں نہ آئیں جنہیں حکومت نے قانون پر عمل در آمد کروانے کے لیے تعینات کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;والدین کی جانب سے قانون کو نظرانداز کردینے کی وجہ سے جو بچے پیدا ہوتے تھے انہیں بچپن سے ہی یہ شعور تھا کہ وہ قانون کے دائرہ کار سے باہر زندگی گزار رہے ہیں اور یہ کہ وہ معاشرے کے لیے کتنے غیر اہم ہے جبکہ والدین سے دور رہ کر وہ رشتہ داروں کی خیرات پر زندگی گزار رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شین یانگ اپنی کتاب ’مور دین ون چائلڈ: میموریز آف این اللیگل ڈاٹر‘ کے ذریعے اس دردناک پہلو کو سامنے لائی ہیں جس سے انہیں اپنے بچپن میں گزرنا پڑا اور وہ ان پر سوالیہ نشان اٹھانے والے معاشرے میں زندہ رہنے میں کامیاب رہیں۔ دنیا کے لیے اس کتاب کا انگریزی زبان میں آسان ترجمہ نکی ہرمین نے کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/11/021611222faf2c3.jpg'  alt='بچوں کو بچپن سے شعور تھا کہ ان کا وجود قانونی دائرہ کار سے باہر ہے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;بچوں کو بچپن سے شعور تھا کہ ان کا وجود قانونی دائرہ کار سے باہر ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہیں جبری طور پر دوردراز علاقوں میں اپنے دادا دادی کے ساتھ گمنامی کی زندگی گزارنے پر مجبور کیا گیا وہ بھی صرف اس وجہ سے کیونکہ انہوں نے پیدا ہوکر سرکاری قانون توڑا تھا۔ 5 سال بعد وہ اپنی پھوپھی کے ساتھ رہنے لگیں ان کا سلوک شین یانگ کے ساتھ اچھا نہیں تھا، یوں ان کا وجود رازداری، شک اور بے یقینی کا شکار ہوگیا تھا۔ اس سب کے باوجود ان کی یادیں ایسی نہیں ہیں جنہیں لکھ کر وہ ہمدردیاں سمیٹنا چاہتی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتنے مشکل اور مایوس کُن حالات میں بھی وہ اپنے بچپن میں خوشی کے چھوٹے چھوٹے لمحات کو اپنی جھولی میں بھرنے میں کامیاب رہیں۔ وہ اپنے وجود پر عائد پابندیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے عام زندگی گزارنے کے اپنے حق کے لیے جدوجہد کرتی رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شین یانگ نے زندگی کے ہر پہلو جیسے دوست بنانے، ٹیوشن اور کھانے کے پیسے لینے اور جذباتی مدد میں مشکلات کا سامنا کرنے کے باوجود زندگی سے لطف اندوز ہوئیں۔ وہ بچپن کی محدود سمجھ بوجھ سے آگے بڑھتی رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسکول میں بُلنگ (غنڈہ گردی) کا سامنا کرنے سے ساتھیوں کے طعنے برداشت کرنے تک، شین یانگ نے اس دنیا کی برابری کرنے کی کوشش کی جو ان کے وجود سے انکاری تھا۔ کسی طرح انہوں نے اپنے زخموں پر مرہم رکھا لیکن ان کے یہ زخم کبھی بھر نہیں پائے اور انہی زخموں نے شین یانگ کو وہ مضبوط انسان بنایا جو آج وہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ بہت سے چینی لوگ اس کتاب کی مصنفہ کی طرح اس پالیسی کی وجہ سے اپنی زندگی کی مشکلات کے حوالے سے بات کررہے ہیں لیکن شین یانگ کی کتاب اس روایت کے منافی ہے جہاں لوگ اپنے بچپن کی محرومیوں کا ہی ذکر کرتے تھے۔ ان کی کتاب ان یادوں کی عکاسی کرتی ہے جو بلند حوصلے، مزاحمت اور امید پر مشتمل ہیں۔ اس تحریر کے ذریعے، ہمیں یہ علم ہوا کہ نہ بھرنے والے زخموں، مایوسی، درد، ناپسندیدہ محسوس ہونے اور ہمیشہ بھاگنے پر مجبور کیے جانے کے باوجود، چین میں غیرقانونی طور پر پیدا ہونے والے بچوں نے خود میں غیرمعمولی صلاحیتیں پیدا کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وہ وجہ ہے جس نے کتاب کے مواد کو سماجی اور تاریخی پہلوؤں میں کامیاب بنایا ہے۔ بچوں کی مشکلات نے اس کتاب کو منفرد بنادیا ہے جبکہ اس تحریر میں ملنے والے اسباق تاریخ کا حصہ بنیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر حقائق کو سامنے رکھا جائے تو یہ کتاب اس چینی نسل کے لیے ہے جس نے اس عرصے میں جنم لیا جب ملک میں ون چائلڈ پالیسی نافذ تھی۔ حتیٰ کہ آج بھی یہ نسل، دنیا کی مضبوط ترین معاشی طاقت بننے والے ملک کے اندر گمنامی میں جی رہی ہے۔ لیکن شین یانگ کی ان یادداشتوں کا شکریہ جن کی بدولت اس نسل کا وجود تاریخ کے اوراق میں گمنام نہیں رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/11/02161116cc4850f.jpg?r=161231'  alt='غیرقانونی طور پر پیدا ہونے والے ان بچوں کو اپنے والدین سے دور رہنا پڑتا تھا' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;غیرقانونی طور پر پیدا ہونے والے ان بچوں کو اپنے والدین سے دور رہنا پڑتا تھا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ اپنے والدین سے دور رہنے کا کوئی مداوا نہیں لیکن شین یانگ لکھتی ہیں کہ یہ انتہائی خوشگوار احساس تھا کہ وہ  اور ان جیسے دیگر بچے ’تاریکی میں سورج کی کرن کی طرح تھے‘۔ کتاب کے اختتام پر وہ دکھ اور امید کے ساتھ لکھتی ہیں کہ ’ایسے دور میں زندہ رہنا ایک منفرد چیز تھی۔ میں چاہتی ہوں کہ دنیا ہماری آواز سنے۔ ہم اس دور سے گزر کر بھی زندہ ہیں اور ہم آگے یونہی زندگی جینے کی جدوجہد جاری رکھیں گے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے اختتامی جملوں میں شین یانگ لکھتی ہیں کہ وہ بھی اس تاریک سوچ سے گزری ہیں جہاں انہیں محسوس ہوتا تھا کہ وہ کتنی غیر اہم ہیں لیکن انہوں نے اس احساس کو خود پر حاوی نہیں ہونے دیا۔ زندگی کی تمام تلخیوں کے باوجود وہ خود میں ایسی غیرمعمولی صلاحیتیں پیدا کرنے میں کامیاب رہیں جس بنا پر آج وہ ایک مضبوط انسان ہیں۔ انہوں نے لڑنے، گر کر اٹھنے، پھر بالآخر شکر ادا کرنے کا انتخاب کیا اپنی ذات اور اپنے  خاندان میں تبدیلیاں لانے اور اس وقت کی مجبوریوں کو سمجھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پھر ایک دن انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ان لوگوں کی آواز بنیں گی جنہوں نے جذباتی اور سماجی جبر کا سامنا کیا اور جن سے دنیا نے منہ پھیر لیا تھا۔ انہوں نے خود کو مظلوم کے طور پر نہیں بلکہ خصوصی طور پر منتخب کردہ فرد کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے اس منفرد نسل کا حصہ ہوتے ہوئے ایک بھولی ہوئی یاد بننے کے بجائے اپنی داستان دنیا کو سنانے کو ترجیح دی۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;کتاب: مور دین ون چائلڈ: میموئرز آف این اللیگل ڈاٹر&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصنف: شین یانگ&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مترجم: نکی ہرمین&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناشر: سینٹوریئن ہاؤس، لندن&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صفحات: 280&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریر انگریزی میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1784641/non-fiction-born-without-permission"&gt;پڑھیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>’تم جانتی ہو وانجُن؟ ہم خوش قسمت ہیں‘۔</p>
<p>’ہم؟ مگر کیسے؟‘</p>
<p>’میں بالکل تمہاری طرح ہوں۔ میں بھی خاندانی منصوبہ بندی کا حصہ نہیں تھی۔ میری ایک بڑی بہن اور دو چھوٹی بہنیں ہیں اور میں وہ منجھلی اولاد ہوں جس سے کوئی پیار نہیں کرتا۔ ہم خوش قسمت اس وجہ سے ہیں کیونکہ ہم کم از کم زندہ رہنے کے لیے پُرعزم ہیں‘۔</p>
<p>6 سالہ شین یانگ اپنے اسکول کے میدان میں کھڑی اپنی دوست کو یہ بات بتا رہی ہے۔</p>
<p>وانجُن جس کا سر غیرمعمولی طور پر بڑا ہے (جوکہ حمل کے دوران ماں کے زیادہ اسٹریس لینے کی وجہ سے ہوا کیونکہ وانجُن کی پیدائش غیرقانونی تھی) اور شین یانگ دونوں ہی ایک ایسے جرم کی سزا کاٹ رہی ہیں جو انہوں نے کیا بھی نہیں۔ یہ دونوں ہی بڑے ہوتے ہوئے گمنامی کی زندگی گزارنے پر مجبور تھیں۔</p>
<p>اپنے بچپن میں وہ چین کی اس اکثریتی آبادی میں شمار ہوتی تھیں جنہوں نے غیرقانونی طور پر جنم لیا تھا۔ ان بچوں نے اپنی زندگی بھاگتے، تذلیل، تضحیک اور طعنے سہتے گزاری ہے۔ چونکہ ان بچوں کے پاس پیدائش کا اجازت نامہ موجود نہیں اس لیے انہیں ’ہیہیزی‘ یا ’بلیک چلڈرن‘ کہا جاتا تھا۔</p>
<p>یہ بچے جانتے تھے ان کا کوئی مستقبل نہیں، انہیں اسکول جانے کی اجازت نہیں لیکن اگر ان کا کوئی بااثر اور مہربان رشتہ دار خفیہ طور پر ’ہوکو‘ یعنیٰ سرکاری اندراج کروادے تو شاید وہ دیگر بچوں کی طرح عام زندگی گزار سکیں۔ شین یانگ اور وانجُن اس عرصے میں پیدا ہوئیں جب چینی ریاست بڑھتی ہوئی آبادی کے خوف میں مبتلا تھی اور وسائل کی کمی کی وجہ سے انہوں نے ملک میں قانون رائج کیا جس کے تحت ایک جوڑے کو صرف ایک ہی بچہ پیدا کرنے کی اجازت دی گئی۔</p>
<p>چین کا مستشرق سماجی فلسفہ حکومتی رٹ کی راہ میں کانٹا ثابت ہوا۔ خواتین کا دوسری بار حمل ٹھہرتا تو جبری اسقاطِ حمل یا بچوں کو پیدائش کے بعد بے اولاد نامعلوم جوڑے کے حوالے کرنے کے باوجود لوگ قانون کی خلاف ورزی کرنے سے باز نہیں آئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/11/02161119e88fa32.jpg?r=161231'  alt='ون چائلڈ پالیسی کے دوران پیدا ہونے والے بچوں نے اس جرم کی سزا کاٹی جو انہوں نے کیا بھی نہیں تھا' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ون چائلڈ پالیسی کے دوران پیدا ہونے والے بچوں نے اس جرم کی سزا کاٹی جو انہوں نے کیا بھی نہیں تھا</figcaption>
    </figure></p>
<p>چینی معاشرے میں روایتی طور پر ایک سے زیادہ بچے پیدا کرنے کی روایت رہی ہے۔ آرتھوڈوکس خیالات رکھنے والے اپنے خاندانی سلسلے کو جاری رکھنے کے لیے بیٹے کی پیدائش کو ضروری سمجھتے ہیں جبکہ اس لڑکے کے لیے بھی ایک یا دو بھائی بہن ہونے چاہئیں۔ خواتین کی بڑی تعداد نے، یہ جاننے کے باوجود کہ ان کے بچے کس طرح کی زندگی گزاریں گے، اضافی بچے پیدا کیے۔</p>
<p>وہ یہ بھی جانتے تھے کہ اگر حکام کو قانون کی اس خلاف ورزی کا علم ہوا تو انہیں بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے لیکن غربت میں زندگی گزارنے والے جنہیں سب سے بڑا مسئلہ پیسوں کا ہوتا ہے، وہ بھی قانون کی خلاف ورزی کررہے تھے۔</p>
<p>اس حوالے سے وہ صرف ایک کام کرسکتے تھے اور وہ یہ کہ غیرقانونی طور پر پیدا ہونے والے بچوں کو دور دراز علاقوں میں اپنے رشتہ داروں کے حوالے کردیں جہاں وہ اس خصوصی گروہ کی نظر میں نہ آئیں جنہیں حکومت نے قانون پر عمل در آمد کروانے کے لیے تعینات کیا تھا۔</p>
<p>والدین کی جانب سے قانون کو نظرانداز کردینے کی وجہ سے جو بچے پیدا ہوتے تھے انہیں بچپن سے ہی یہ شعور تھا کہ وہ قانون کے دائرہ کار سے باہر زندگی گزار رہے ہیں اور یہ کہ وہ معاشرے کے لیے کتنے غیر اہم ہے جبکہ والدین سے دور رہ کر وہ رشتہ داروں کی خیرات پر زندگی گزار رہے ہیں۔</p>
<p>شین یانگ اپنی کتاب ’مور دین ون چائلڈ: میموریز آف این اللیگل ڈاٹر‘ کے ذریعے اس دردناک پہلو کو سامنے لائی ہیں جس سے انہیں اپنے بچپن میں گزرنا پڑا اور وہ ان پر سوالیہ نشان اٹھانے والے معاشرے میں زندہ رہنے میں کامیاب رہیں۔ دنیا کے لیے اس کتاب کا انگریزی زبان میں آسان ترجمہ نکی ہرمین نے کیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/11/021611222faf2c3.jpg'  alt='بچوں کو بچپن سے شعور تھا کہ ان کا وجود قانونی دائرہ کار سے باہر ہے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>بچوں کو بچپن سے شعور تھا کہ ان کا وجود قانونی دائرہ کار سے باہر ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>انہیں جبری طور پر دوردراز علاقوں میں اپنے دادا دادی کے ساتھ گمنامی کی زندگی گزارنے پر مجبور کیا گیا وہ بھی صرف اس وجہ سے کیونکہ انہوں نے پیدا ہوکر سرکاری قانون توڑا تھا۔ 5 سال بعد وہ اپنی پھوپھی کے ساتھ رہنے لگیں ان کا سلوک شین یانگ کے ساتھ اچھا نہیں تھا، یوں ان کا وجود رازداری، شک اور بے یقینی کا شکار ہوگیا تھا۔ اس سب کے باوجود ان کی یادیں ایسی نہیں ہیں جنہیں لکھ کر وہ ہمدردیاں سمیٹنا چاہتی تھیں۔</p>
<p>اتنے مشکل اور مایوس کُن حالات میں بھی وہ اپنے بچپن میں خوشی کے چھوٹے چھوٹے لمحات کو اپنی جھولی میں بھرنے میں کامیاب رہیں۔ وہ اپنے وجود پر عائد پابندیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے عام زندگی گزارنے کے اپنے حق کے لیے جدوجہد کرتی رہیں۔</p>
<p>شین یانگ نے زندگی کے ہر پہلو جیسے دوست بنانے، ٹیوشن اور کھانے کے پیسے لینے اور جذباتی مدد میں مشکلات کا سامنا کرنے کے باوجود زندگی سے لطف اندوز ہوئیں۔ وہ بچپن کی محدود سمجھ بوجھ سے آگے بڑھتی رہیں۔</p>
<p>اسکول میں بُلنگ (غنڈہ گردی) کا سامنا کرنے سے ساتھیوں کے طعنے برداشت کرنے تک، شین یانگ نے اس دنیا کی برابری کرنے کی کوشش کی جو ان کے وجود سے انکاری تھا۔ کسی طرح انہوں نے اپنے زخموں پر مرہم رکھا لیکن ان کے یہ زخم کبھی بھر نہیں پائے اور انہی زخموں نے شین یانگ کو وہ مضبوط انسان بنایا جو آج وہ ہیں۔</p>
<p>اگرچہ بہت سے چینی لوگ اس کتاب کی مصنفہ کی طرح اس پالیسی کی وجہ سے اپنی زندگی کی مشکلات کے حوالے سے بات کررہے ہیں لیکن شین یانگ کی کتاب اس روایت کے منافی ہے جہاں لوگ اپنے بچپن کی محرومیوں کا ہی ذکر کرتے تھے۔ ان کی کتاب ان یادوں کی عکاسی کرتی ہے جو بلند حوصلے، مزاحمت اور امید پر مشتمل ہیں۔ اس تحریر کے ذریعے، ہمیں یہ علم ہوا کہ نہ بھرنے والے زخموں، مایوسی، درد، ناپسندیدہ محسوس ہونے اور ہمیشہ بھاگنے پر مجبور کیے جانے کے باوجود، چین میں غیرقانونی طور پر پیدا ہونے والے بچوں نے خود میں غیرمعمولی صلاحیتیں پیدا کیں۔</p>
<p>یہی وہ وجہ ہے جس نے کتاب کے مواد کو سماجی اور تاریخی پہلوؤں میں کامیاب بنایا ہے۔ بچوں کی مشکلات نے اس کتاب کو منفرد بنادیا ہے جبکہ اس تحریر میں ملنے والے اسباق تاریخ کا حصہ بنیں گے۔</p>
<p>اگر حقائق کو سامنے رکھا جائے تو یہ کتاب اس چینی نسل کے لیے ہے جس نے اس عرصے میں جنم لیا جب ملک میں ون چائلڈ پالیسی نافذ تھی۔ حتیٰ کہ آج بھی یہ نسل، دنیا کی مضبوط ترین معاشی طاقت بننے والے ملک کے اندر گمنامی میں جی رہی ہے۔ لیکن شین یانگ کی ان یادداشتوں کا شکریہ جن کی بدولت اس نسل کا وجود تاریخ کے اوراق میں گمنام نہیں رہے گا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/11/02161116cc4850f.jpg?r=161231'  alt='غیرقانونی طور پر پیدا ہونے والے ان بچوں کو اپنے والدین سے دور رہنا پڑتا تھا' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>غیرقانونی طور پر پیدا ہونے والے ان بچوں کو اپنے والدین سے دور رہنا پڑتا تھا</figcaption>
    </figure></p>
<p>اگرچہ اپنے والدین سے دور رہنے کا کوئی مداوا نہیں لیکن شین یانگ لکھتی ہیں کہ یہ انتہائی خوشگوار احساس تھا کہ وہ  اور ان جیسے دیگر بچے ’تاریکی میں سورج کی کرن کی طرح تھے‘۔ کتاب کے اختتام پر وہ دکھ اور امید کے ساتھ لکھتی ہیں کہ ’ایسے دور میں زندہ رہنا ایک منفرد چیز تھی۔ میں چاہتی ہوں کہ دنیا ہماری آواز سنے۔ ہم اس دور سے گزر کر بھی زندہ ہیں اور ہم آگے یونہی زندگی جینے کی جدوجہد جاری رکھیں گے‘۔</p>
<p>اپنے اختتامی جملوں میں شین یانگ لکھتی ہیں کہ وہ بھی اس تاریک سوچ سے گزری ہیں جہاں انہیں محسوس ہوتا تھا کہ وہ کتنی غیر اہم ہیں لیکن انہوں نے اس احساس کو خود پر حاوی نہیں ہونے دیا۔ زندگی کی تمام تلخیوں کے باوجود وہ خود میں ایسی غیرمعمولی صلاحیتیں پیدا کرنے میں کامیاب رہیں جس بنا پر آج وہ ایک مضبوط انسان ہیں۔ انہوں نے لڑنے، گر کر اٹھنے، پھر بالآخر شکر ادا کرنے کا انتخاب کیا اپنی ذات اور اپنے  خاندان میں تبدیلیاں لانے اور اس وقت کی مجبوریوں کو سمجھا۔</p>
<p>پھر ایک دن انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ان لوگوں کی آواز بنیں گی جنہوں نے جذباتی اور سماجی جبر کا سامنا کیا اور جن سے دنیا نے منہ پھیر لیا تھا۔ انہوں نے خود کو مظلوم کے طور پر نہیں بلکہ خصوصی طور پر منتخب کردہ فرد کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے اس منفرد نسل کا حصہ ہوتے ہوئے ایک بھولی ہوئی یاد بننے کے بجائے اپنی داستان دنیا کو سنانے کو ترجیح دی۔</p>
<hr />
<p>کتاب: مور دین ون چائلڈ: میموئرز آف این اللیگل ڈاٹر</p>
<p>مصنف: شین یانگ</p>
<p>مترجم: نکی ہرمین</p>
<p>ناشر: سینٹوریئن ہاؤس، لندن</p>
<p>صفحات: 280</p>
<hr />
<p>یہ تحریر انگریزی میں <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1784641/non-fiction-born-without-permission">پڑھیے</a></strong>۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1215139</guid>
      <pubDate>Thu, 28 Mar 2024 16:16:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نائلہ داؤد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/11/02152627e4491f7.jpg?r=152632" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/11/02152627e4491f7.jpg?r=152632"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تین روزہ کراچی لٹریچر فیسٹیول کا آغاز 16 فروری سے ہوگا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1225091/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی لٹریچر فیسٹیول کا 15 واں ایڈیشن 16 سے 18 فروری 2024 بیچ لگژری ہوٹل میں ہوگا، تین روزہ کرسٹل ایونٹ میں ادب، ثقافت اور فکری امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی لٹریچر فیسٹیول میں 8 ممالک سمیت 200 سے زائد مقامی اور بین الاقوامی مقررین شرکت کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایونٹ میں ’سسٹینیبلٹی: ورلڈ چینجنگ مائنڈ سیٹ‘ کے عنوان کے تحت 75 سیشنز ہوں گے، جن میں ادب، ثقافت، معیشت، ماحولیات، تعلیم اور حالات حاضرہ سمیت مختلف موضوعات کا احاطہ کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ ڈراما، طنز و مزاح، نمائش، فلموں کی اسکریننگ اور فنکارانہ سرگرمیوں سمیت 25 کتابوں کی نمائش بھی متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1096800"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ 16 فروری کو ہونے والی افتتاحی تقریب میں عوام کی بڑی تعداد میں شرکت متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افتتاحی تقریب میں پاکستانی ماہر تعمیرات اور سماجی کارکن عارف حسن کے علاوہ برطانوی نژاد فلسطینی وکیل اور مصنفہ سلمہ دیباغ کی کلیدی تقاریر شامل ہوں گی، جس کے بعد باصلاحیت نگہت چوہدری فیض کی شاعری پر پرفارمنس دیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی لٹریچر فیسٹیول  میں کتابوں، اخلاقی طرز حکمرانی، شہری حرکیات، مزاح، قصہ گوئی، انسانی حقوق اور پائیداری پر بصیرت انگیز مباحثے ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کےعلاوہ  ’نور جہاں سرور جہاں‘ کے عنوان سے سیشن میں لیجنڈ میڈم نورجہاں کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریبات کا اختتام ممتاز اسکالرز نجیبہ عارف اور جوزف مساد کی کلیدی تقاریر کے ساتھ ہوگا جس کے بعد قوال نجم الدین سیف الدین اینڈ برادرز کی جانب سے روح پرور صوفی قوالی پیش کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی لٹریچر فیسٹیول میں نہ صرف اہم مسائل کے حوالے سے گفتگو کی جاتی ہے بلکہ اُن کا حل بھی تلاش کیا جاتا ہے اور پاکستان اور غیرممالک کے ادب و ثقافت سے تعلق رکھنے والے مصنفین آزادانہ طور پر اپنے خیالات کا اظہار کرسکیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی لٹریچر فیسٹیول کا 15 واں ایڈیشن 16 سے 18 فروری 2024 بیچ لگژری ہوٹل میں ہوگا، تین روزہ کرسٹل ایونٹ میں ادب، ثقافت اور فکری امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔</p>
<p>کراچی لٹریچر فیسٹیول میں 8 ممالک سمیت 200 سے زائد مقامی اور بین الاقوامی مقررین شرکت کریں گے۔</p>
<p>ایونٹ میں ’سسٹینیبلٹی: ورلڈ چینجنگ مائنڈ سیٹ‘ کے عنوان کے تحت 75 سیشنز ہوں گے، جن میں ادب، ثقافت، معیشت، ماحولیات، تعلیم اور حالات حاضرہ سمیت مختلف موضوعات کا احاطہ کیا جائے گا۔</p>
<p>اس کے علاوہ ڈراما، طنز و مزاح، نمائش، فلموں کی اسکریننگ اور فنکارانہ سرگرمیوں سمیت 25 کتابوں کی نمائش بھی متوقع ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1096800"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>جمعہ 16 فروری کو ہونے والی افتتاحی تقریب میں عوام کی بڑی تعداد میں شرکت متوقع ہے۔</p>
<p>افتتاحی تقریب میں پاکستانی ماہر تعمیرات اور سماجی کارکن عارف حسن کے علاوہ برطانوی نژاد فلسطینی وکیل اور مصنفہ سلمہ دیباغ کی کلیدی تقاریر شامل ہوں گی، جس کے بعد باصلاحیت نگہت چوہدری فیض کی شاعری پر پرفارمنس دیں گی۔</p>
<p>کراچی لٹریچر فیسٹیول  میں کتابوں، اخلاقی طرز حکمرانی، شہری حرکیات، مزاح، قصہ گوئی، انسانی حقوق اور پائیداری پر بصیرت انگیز مباحثے ہوں گے۔</p>
<p>اس کےعلاوہ  ’نور جہاں سرور جہاں‘ کے عنوان سے سیشن میں لیجنڈ میڈم نورجہاں کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔</p>
<p>تقریبات کا اختتام ممتاز اسکالرز نجیبہ عارف اور جوزف مساد کی کلیدی تقاریر کے ساتھ ہوگا جس کے بعد قوال نجم الدین سیف الدین اینڈ برادرز کی جانب سے روح پرور صوفی قوالی پیش کی جائے گی۔</p>
<p>کراچی لٹریچر فیسٹیول میں نہ صرف اہم مسائل کے حوالے سے گفتگو کی جاتی ہے بلکہ اُن کا حل بھی تلاش کیا جاتا ہے اور پاکستان اور غیرممالک کے ادب و ثقافت سے تعلق رکھنے والے مصنفین آزادانہ طور پر اپنے خیالات کا اظہار کرسکیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1225091</guid>
      <pubDate>Wed, 14 Feb 2024 16:09:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/02/141601043049d43.jpg?r=160206" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/02/141601043049d43.jpg?r=160206"/>
        <media:title>فائل فوٹو: کراچی لٹریچر فیسٹیول
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لفظ تماشا: کوچک یا کودک؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1222030/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;جو ضعیف و علیل ہوتا ہے&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;عشق میں بھی ذلیل ہوتا ہے&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کارزارِعشق میں طاقت و توانائی کا تقاضا کرتا شعر شاعرِ انقلاب جوش ملیح آبادی کا ہے۔ جوش قادرالکلام ہی نہیں بلکہ نادرالکلام شاعر بھی تھے۔ نادرالکلام اس رعایت سے کہ موصوف کلام میں گراں بار الفاظ لاتے اور گاہے نامانوس الفاظ سے روشناس کرواتے، نتیجتاً کلام میں آہنگ و فرہنگ کا فرق اٹھ جاتا۔ اس صورتحال میں فراق گورکھپوری نے کچھ غلط تو نہیں کہا تھا، ’الفاظ جوش کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے رہتے ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بقولِ اسعد بدایونی،&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;ہاتھ باندھے ہوئے الفاظ کھڑے رہتے ہیں&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;اور مضمون تو چوکھٹ پہ پڑے رہتے ہیں&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مضمون چوکھٹ پرپڑے رہتے تھے یا نہیں، اس بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا، تاہم اس سے انکار ممکن نہیں کہ جوش ذخیرہ الفاظ پر قدرت کے اظہار میں گاہے ادنیٰ مضامین بھی بھاری بھرکم الفاظ میں باندھتے، یوں شعر و معنی دونوں کو بوجھل بنا دیتے۔ ایسے میں ناصر کاظمی کی پھبتی لاجواب تبصرے کا حکم رکھتی ہے، ’جوشؔ صاحب باجے تاشے کے ساتھ ہاتھی پر توپ لے کر شکار کو جاتے ہیں اور پدّی مار کر لاتے ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سب کے باوجود کم از کم شعر بالا میں برتے گئے ’ضعیف، علیل، عشق اور ذلیل‘ کے الفاظ اصل میں عربی زبان کے ہونے کے باوجود اردو میں عام فہم ہیں۔ چونکہ ’عشق‘ پر پہلے بھی بات ہوچکی ہے اس لیے اس سے درگزر کرتے ہیں اور لفظ ’ضعیف، علیل اور ذلیل‘ کی عقدہ کشائی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’ضعیف‘ کا لفظ ’ضَّعْفُ‘ سے مشتق ہے جبکہ ’ضَّعْفُ‘ کے معنی کمزور کے ہیں، یوں یہ ’قُوَّتُ‘ کی ضد ہے۔ ’ضَّعْفُ‘ کا اطلاق بدن، حالت اور رائے کی کمزوری پر ہوتا ہے، تاہم عربی زبان و بیان کے ایک بڑے عالم کے مطابق ’ضَّعْفُ‘ بدنی کمزوری کو اور ’ضَّعِیف‘ عقل و رائے کی کمزوری کو کہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عربی میں ’ضَّعْفُ‘ اور اس سے مشتق الفاظ کے معنوی اطلاقات میں خاصی وسعت پائی جاتی ہے، جس کی تفصیل کا یہاں موقع نہیں۔ لہٰذا اس باب میں اختصار برتتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2024/01/181543201579173.jpg?r=155712'  alt='&amp;rsquo;ضعیف&amp;lsquo; کا لفظ &amp;rsquo;ضَّعْفُ&amp;lsquo; سے مشتق ہے جبکہ &amp;rsquo;ضَّعْفُ&amp;lsquo; کے معنی کمزور کے ہیں' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;’ضعیف‘ کا لفظ ’ضَّعْفُ‘ سے مشتق ہے جبکہ ’ضَّعْفُ‘ کے معنی کمزور کے ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعراب کی خفیف سی تبدیلی کے ساتھ اس ’ضَّعْفُ‘ کی ایک صورت ’ضِعْف‘ ہے اور معنی دُگنا اور دُوہرا (ڈبل) ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم جسے ’ڈبل روٹی‘ کہتے ہیں وہ عربی میں ’خُبْزُ مُضَاعَف‘ کہلاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مکرر عرض ہے کہ ’ضعف‘ ہی سے ’ضعیف‘ بھی ہے، اور بزرگوں کو’ضعیف’ کہنے کی وجہ بھی یہی ہے کہ کبرسنی کے سبب طاقت بتدریج ناتوانی میں ڈھلتی اور کمردوہری کرتی ہے۔ ایسے میں اگرکوئی استاد قمرجلالوی جیسے بزرگ سے اس خمیدہ پُشت کا سبب پوچھ بیٹھے، تو جواب ملتا ہے،&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;پیری سے خم کمر میں نہیں ہے یہ اے قمر&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;میں جھک کے ڈھونڈتا ہوں جوانی کدھر گئی&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برسبیل تذکرہ عرض ہے کہ اردو میں لفظ ’بزرگ‘ کا اطلاق عموماً بڑی عمر کے افراد پر ہوتا ہے، مگر فارسی میں اطلاق کے اس دائرے میں سن رسیدہ کے علاوہ ’جلیل، شریف، محترم، رئیس، سرپرست، توانا اور مضبوط‘ وغیرہ بھی داخل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لفظ ’بزرگ‘ کے معنی کے باب میں بلبلِ شیراز مصلح الدین سعدی شیرازی کا کہا قولِ فیصل کا حکم رکھتا ہے، ’توانگری بہ دل است نہ بہ مال و بزرگی بہ عقل است نہ بہ سال‘ یعنی مالداری دل کے غنی ہونے سے اور بزرگی دانائی سے عبارت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب جبکہ ’بزرگ‘ کا ذکر ہوا ہے تو لازم ہے کہ کچھ بیان بچوں کا بھی ہوجائے کہ بقولِ مختار مسعود ’آج کا بچہ آنے والے کل کا والی اور والد ہوتا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اردو میں کم عمر کے لیے ’بال، طفل اور بچہ‘ کے سے الفاظ عام برتے جاتے ہیں۔ ان میں ’بال‘ ہندی، ’طفل‘ عربی اور ’بچہ‘ فارسی زبان سے متعلق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب آگے بڑھنے سے قبل ضروری بات سمجھ لیں اور وہ یہ کہ ہندی اور فارسی میں اسم تصغیر بنانے کے کئی طریقوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اسم کے آخر میں ’کاف/ک‘ کا اضافہ کردیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلے اسم تصغیر کو سمجھیں، مثلاً عربی لفظ طفل (بچہ) اور طائر (پرندہ) اپنے اصل معنی کے ساتھ فارسی میں بھی رائج ہیں۔ اہل فارس نے ان دونوں اسما کی تصغیر بنانے کے لیے ان میں ’کاف/ک‘ بڑھا کر ’طفلک‘ اور ’طائرک‘ کے الفاظ وضع کرلیے۔ ان دونوں الفاظ کے بالترتیب معنی ’چھوٹا بچہ‘ اور’چھوٹا پرندہ’ کے ہیں۔ آخر الذکر ’طائرک‘ کو اقبال کے اس شعر میں بھی دیکھا جاسکتا ہے،&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;گرچہ ہے دل کشا بہت حسن فرنگ کی بہار &lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;طائرک بلند بام دانہ و دام سے گزر&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2024/01/181544299ae20c8.jpg'  alt='&amp;rsquo;طائرک&amp;lsquo; کے معنیٰ چھوٹے پرندے کے ہیں' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;’طائرک‘ کے معنیٰ چھوٹے پرندے کے ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارسی کی طرح یہی اصول سنسکرت (اور اس کے زیر اثر ہندی) میں بھی کارفرما ہے، چنانچہ ہندی میں ’بال‘ کی تصغیر ’بالک‘ اور ’ڈھول‘ کی تصغیر ’ڈھولک‘ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارسی میں بچے کو ’کودک‘ بھی کہا جاتا ہے، کیوں کہا جاتا ہے اس پربعد میں بات کریں گے، پہلے اس ’کودک‘ سے مرکب لفظ ’کودکستان‘ کی بات ہوجائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آپ یقیناً تدریسی اصطلاح ’KG‘ سے واقف ہوں گے۔ یہ Kindergarten (کنٹرگارٹن) کا مخفف ہے۔ جرمن زبان سے متعلق اس اصطلاح میں (گارٹن) وہی ہے جو انگریزی میں garden (گارڈن) ہے۔ یہ ایسا طریقہِ تدریس ہے جس میں ابتدائی جماعتوں کے باقاعدہ آغاز سے قبل ننھے منّے بچوں کو کھیل کود، گانے بجانے اور ڈرائنگ وغیرہ کے ’بہانے‘ اسکول آشنا کیا جاتا ہے۔ اسی رعایت سے اس طریقہ تدریس کو Kindergarten (کنٹرگارٹن) یعنی ’بچوں کا باغ‘ کا نام دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کنٹرگارٹن کی تعلیمی اصطلاح فارسی میں ’کودکستان‘ اور عربی میں ’روضة الأطفال‘ کی صورت میں رائج ہے اور ہر دو کے معنی ’بچوں کا باغ‘ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب واپس ’کودک‘ پر آتے اور اس کے لفظی معنی و اطلاق پر بات کرتے ہیں لیکن اس سے قبل ایک اور اصول سمجھ لیں اور وہ یہ کہ اسما کے آخر میں حرف ’کاف/ف‘ بڑھانے سے فقط ’اسم تصغیر‘ ہی نہیں بناتا بلکہ ’اسم نسبت‘ بھی ظہور میں آتا ہے۔ ’اسم نسبت‘ بنانے کا یہ طریقہ فارسی اور سنسکرت تک محدود نہیں بلکہ بیشتر ہند آریائی زبانوں میں یہ فارمولہ موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہندی میں اس ’کاف/ف‘ کو ٹھنڈ سے ٹھنڈک، بیٹھ سے بیٹھک’ اور گنجل سے گنجلک، جبکہ فارسی میں عین (آنکھ) سے عینک اور نم سے نمک میں دیکھا جاسکتا ہے۔ بات یہیں تمام نہیں ہوتی، اس لیے کہ انگریزی میں بھی اکثر اسما (nouns) کے آخر میں ’ic‘ بڑھا کر صفت، نسبت یا تشبیہ بنائی جاتی ہے مثلاً pan سے panic (پینک)، class سے Classic (کلاسک) اور Base سے Basic (بیسک) وغیرہ۔ پھر انگریزی میں یہی کام دیگر عربی اسما کے ساتھ بھی ہوا جیسے Islam سے Islamic (اسلامک) اور Quran سے Quranic (قرآن) وغیرہ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر اسم نسبت بنانے میں ’کاف/ک‘ کی کارفرمائی سے آگاہ ہوگئے ہیں تو یہ بھی سمجھیں کہ یہی کچھ ’کود‘ کے ساتھ ہوا اوراس میں ’کاف/ف‘ بڑھا کر ’کودک‘ کا لفظ وضع کرلیا گیا جبکہ اس کا اطلاق بچوں پر کیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ ’کود‘ میں ایسا کیا تھا کہ اس کا اطلاق بڑوں پر نہیں ہوا اور اس کے لیے بچوں کو موزوں سمجھا گیا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دراصل ’کود‘ کے دیگر معنی میں سے ایک ’غلاظت/فضلہ‘ بھی ہے، یہی سبب ہے کہ خاکروب یا جاروب کش کو ’کَود کَش‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اب چونکہ بچے کہیں بھی فضلہ کردینے میں بے اختیار ہوتے ہیں، لہٰذا ’کود‘ کی نسبت سے لفظ ’کودک‘ بنا اور بچوں پر صادق آیا۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ فارسی میں اس معنی کے ساتھ ’کود‘ کی اصل اوستائی زبان ’کوث‘ اور سنسکرت کا ’کوثہ‘ ہیں اور معنی انسانی فضلہ یا غلاظت کے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2024/01/18154633f06acba.jpg?r=155712'  alt='کنٹرگارٹن کی تعلیمی اصطلاح فارسی میں &amp;rsquo;کودکستان&amp;lsquo; کہلاتی ہے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;کنٹرگارٹن کی تعلیمی اصطلاح فارسی میں ’کودکستان‘ کہلاتی ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیر جب ’کود‘ سے ’کودک‘ بنا تو اس سے نوبنو تراکیب وجود میں آئیں جن میں سے بہت سی اردو میں بھی برتی جاتی ہیں، مثلاً جسے ہم بچگانہ (نہ کہ بچکانہ) اور طفلانہ کہتے ہیں اسی کی دوسری صورت ’کودکانہ‘ ہے۔ ایسے ہی تراکیب ’کودک مزاج، کودک طبع اور کودکِ ناداں‘ بھی ہیں۔ اب زیربحث لفظ کی رعایت سے میرانیس کے مرثیے کا ایک شعر ملاحظہ کریں،&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;بولے دکھا کے بچے کو شاہ فلک سریر &lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;مرتا ہے پیاس سے یہ مرا کودک صغیر&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زبانوں کے باب میں ایک دلچسپ پہلو حرف کا حسب موقع دوسرے حرف سے بدل جانا ہے۔ اس پر پہلے بھی بات ہو چکی ہے، سردست یہ سمجھ لیں کہ حرف ’دال/د‘ جن حروف سے بدلتا ہے ان میں حرف ’چے/چ‘ بھی شامل ہے۔ یوں اس ’کودک‘ کی دوسری صورت ’کوچک‘ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ ’کودک‘ سے ’کوچک‘ بن جانے پر اس کے معنی میں وسعت پیدا ہوجاتی ہے یوں ’بچہ‘ کے علاوہ ’تنگ، محقر، خُردسال،کم جثہ، پست، حقیر اور قلیل‘ وغیرہ ’کودک‘ کے مترادفات میں شامل ہوجاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بچہ سے ’بچپن‘ اور لڑک (لڑکا/لڑکی) سے ’لڑکپن‘ کے الفاظ بنے ہیں۔ جب یہ زمانہ بھی گزر جائے تو دبے قدموں در آنے والا زمانہ ’نوجوانی‘ کہلاتا ہے۔ نوجوان کو انگریزی میں young (ینگ) کہا جاتا ہے۔ اس ینگ کو جانگ (زانو) سے کیا نسبت ہے؟ اس کا ذکر کسی اور وقت کے لیے اٹھا رکھتے ہیں کہ ابھی ’علیل اور ذلیل‘ کا بیان بھی باقی ہے۔ تب تک ’ذلیل‘ کی رعایت سے احمد مشتاق کے شعر سے حظ اٹھائیں،&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;اہل ہوس تو خیر ہوس میں ہوئے ذلیل&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;وہ بھی ہوئے خراب، محبت جنہوں نے کی&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">جو ضعیف و علیل ہوتا ہے</div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">عشق میں بھی ذلیل ہوتا ہے</div></strong></p>
<p>کارزارِعشق میں طاقت و توانائی کا تقاضا کرتا شعر شاعرِ انقلاب جوش ملیح آبادی کا ہے۔ جوش قادرالکلام ہی نہیں بلکہ نادرالکلام شاعر بھی تھے۔ نادرالکلام اس رعایت سے کہ موصوف کلام میں گراں بار الفاظ لاتے اور گاہے نامانوس الفاظ سے روشناس کرواتے، نتیجتاً کلام میں آہنگ و فرہنگ کا فرق اٹھ جاتا۔ اس صورتحال میں فراق گورکھپوری نے کچھ غلط تو نہیں کہا تھا، ’الفاظ جوش کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے رہتے ہیں‘۔</p>
<p>بقولِ اسعد بدایونی،</p>
<p><strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">ہاتھ باندھے ہوئے الفاظ کھڑے رہتے ہیں</div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">اور مضمون تو چوکھٹ پہ پڑے رہتے ہیں</div></strong></p>
<p>مضمون چوکھٹ پرپڑے رہتے تھے یا نہیں، اس بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا، تاہم اس سے انکار ممکن نہیں کہ جوش ذخیرہ الفاظ پر قدرت کے اظہار میں گاہے ادنیٰ مضامین بھی بھاری بھرکم الفاظ میں باندھتے، یوں شعر و معنی دونوں کو بوجھل بنا دیتے۔ ایسے میں ناصر کاظمی کی پھبتی لاجواب تبصرے کا حکم رکھتی ہے، ’جوشؔ صاحب باجے تاشے کے ساتھ ہاتھی پر توپ لے کر شکار کو جاتے ہیں اور پدّی مار کر لاتے ہیں‘۔</p>
<p>اس سب کے باوجود کم از کم شعر بالا میں برتے گئے ’ضعیف، علیل، عشق اور ذلیل‘ کے الفاظ اصل میں عربی زبان کے ہونے کے باوجود اردو میں عام فہم ہیں۔ چونکہ ’عشق‘ پر پہلے بھی بات ہوچکی ہے اس لیے اس سے درگزر کرتے ہیں اور لفظ ’ضعیف، علیل اور ذلیل‘ کی عقدہ کشائی کرتے ہیں۔</p>
<p>’ضعیف‘ کا لفظ ’ضَّعْفُ‘ سے مشتق ہے جبکہ ’ضَّعْفُ‘ کے معنی کمزور کے ہیں، یوں یہ ’قُوَّتُ‘ کی ضد ہے۔ ’ضَّعْفُ‘ کا اطلاق بدن، حالت اور رائے کی کمزوری پر ہوتا ہے، تاہم عربی زبان و بیان کے ایک بڑے عالم کے مطابق ’ضَّعْفُ‘ بدنی کمزوری کو اور ’ضَّعِیف‘ عقل و رائے کی کمزوری کو کہتے ہیں۔</p>
<p>عربی میں ’ضَّعْفُ‘ اور اس سے مشتق الفاظ کے معنوی اطلاقات میں خاصی وسعت پائی جاتی ہے، جس کی تفصیل کا یہاں موقع نہیں۔ لہٰذا اس باب میں اختصار برتتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2024/01/181543201579173.jpg?r=155712'  alt='&rsquo;ضعیف&lsquo; کا لفظ &rsquo;ضَّعْفُ&lsquo; سے مشتق ہے جبکہ &rsquo;ضَّعْفُ&lsquo; کے معنی کمزور کے ہیں' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>’ضعیف‘ کا لفظ ’ضَّعْفُ‘ سے مشتق ہے جبکہ ’ضَّعْفُ‘ کے معنی کمزور کے ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<p>اعراب کی خفیف سی تبدیلی کے ساتھ اس ’ضَّعْفُ‘ کی ایک صورت ’ضِعْف‘ ہے اور معنی دُگنا اور دُوہرا (ڈبل) ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم جسے ’ڈبل روٹی‘ کہتے ہیں وہ عربی میں ’خُبْزُ مُضَاعَف‘ کہلاتی ہے۔</p>
<p>مکرر عرض ہے کہ ’ضعف‘ ہی سے ’ضعیف‘ بھی ہے، اور بزرگوں کو’ضعیف’ کہنے کی وجہ بھی یہی ہے کہ کبرسنی کے سبب طاقت بتدریج ناتوانی میں ڈھلتی اور کمردوہری کرتی ہے۔ ایسے میں اگرکوئی استاد قمرجلالوی جیسے بزرگ سے اس خمیدہ پُشت کا سبب پوچھ بیٹھے، تو جواب ملتا ہے،</p>
<p><strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">پیری سے خم کمر میں نہیں ہے یہ اے قمر</div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">میں جھک کے ڈھونڈتا ہوں جوانی کدھر گئی</div></strong></p>
<p>برسبیل تذکرہ عرض ہے کہ اردو میں لفظ ’بزرگ‘ کا اطلاق عموماً بڑی عمر کے افراد پر ہوتا ہے، مگر فارسی میں اطلاق کے اس دائرے میں سن رسیدہ کے علاوہ ’جلیل، شریف، محترم، رئیس، سرپرست، توانا اور مضبوط‘ وغیرہ بھی داخل ہیں۔</p>
<p>لفظ ’بزرگ‘ کے معنی کے باب میں بلبلِ شیراز مصلح الدین سعدی شیرازی کا کہا قولِ فیصل کا حکم رکھتا ہے، ’توانگری بہ دل است نہ بہ مال و بزرگی بہ عقل است نہ بہ سال‘ یعنی مالداری دل کے غنی ہونے سے اور بزرگی دانائی سے عبارت ہے۔</p>
<p>اب جبکہ ’بزرگ‘ کا ذکر ہوا ہے تو لازم ہے کہ کچھ بیان بچوں کا بھی ہوجائے کہ بقولِ مختار مسعود ’آج کا بچہ آنے والے کل کا والی اور والد ہوتا ہے‘۔</p>
<p>اردو میں کم عمر کے لیے ’بال، طفل اور بچہ‘ کے سے الفاظ عام برتے جاتے ہیں۔ ان میں ’بال‘ ہندی، ’طفل‘ عربی اور ’بچہ‘ فارسی زبان سے متعلق ہے۔</p>
<p>اب آگے بڑھنے سے قبل ضروری بات سمجھ لیں اور وہ یہ کہ ہندی اور فارسی میں اسم تصغیر بنانے کے کئی طریقوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اسم کے آخر میں ’کاف/ک‘ کا اضافہ کردیا جاتا ہے۔</p>
<p>پہلے اسم تصغیر کو سمجھیں، مثلاً عربی لفظ طفل (بچہ) اور طائر (پرندہ) اپنے اصل معنی کے ساتھ فارسی میں بھی رائج ہیں۔ اہل فارس نے ان دونوں اسما کی تصغیر بنانے کے لیے ان میں ’کاف/ک‘ بڑھا کر ’طفلک‘ اور ’طائرک‘ کے الفاظ وضع کرلیے۔ ان دونوں الفاظ کے بالترتیب معنی ’چھوٹا بچہ‘ اور’چھوٹا پرندہ’ کے ہیں۔ آخر الذکر ’طائرک‘ کو اقبال کے اس شعر میں بھی دیکھا جاسکتا ہے،</p>
<p><strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">گرچہ ہے دل کشا بہت حسن فرنگ کی بہار </div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">طائرک بلند بام دانہ و دام سے گزر</div></strong></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2024/01/181544299ae20c8.jpg'  alt='&rsquo;طائرک&lsquo; کے معنیٰ چھوٹے پرندے کے ہیں' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>’طائرک‘ کے معنیٰ چھوٹے پرندے کے ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<p>فارسی کی طرح یہی اصول سنسکرت (اور اس کے زیر اثر ہندی) میں بھی کارفرما ہے، چنانچہ ہندی میں ’بال‘ کی تصغیر ’بالک‘ اور ’ڈھول‘ کی تصغیر ’ڈھولک‘ ہے۔</p>
<p>فارسی میں بچے کو ’کودک‘ بھی کہا جاتا ہے، کیوں کہا جاتا ہے اس پربعد میں بات کریں گے، پہلے اس ’کودک‘ سے مرکب لفظ ’کودکستان‘ کی بات ہوجائے۔</p>
<p>آپ یقیناً تدریسی اصطلاح ’KG‘ سے واقف ہوں گے۔ یہ Kindergarten (کنٹرگارٹن) کا مخفف ہے۔ جرمن زبان سے متعلق اس اصطلاح میں (گارٹن) وہی ہے جو انگریزی میں garden (گارڈن) ہے۔ یہ ایسا طریقہِ تدریس ہے جس میں ابتدائی جماعتوں کے باقاعدہ آغاز سے قبل ننھے منّے بچوں کو کھیل کود، گانے بجانے اور ڈرائنگ وغیرہ کے ’بہانے‘ اسکول آشنا کیا جاتا ہے۔ اسی رعایت سے اس طریقہ تدریس کو Kindergarten (کنٹرگارٹن) یعنی ’بچوں کا باغ‘ کا نام دیا گیا ہے۔</p>
<p>کنٹرگارٹن کی تعلیمی اصطلاح فارسی میں ’کودکستان‘ اور عربی میں ’روضة الأطفال‘ کی صورت میں رائج ہے اور ہر دو کے معنی ’بچوں کا باغ‘ ہے۔</p>
<p>اب واپس ’کودک‘ پر آتے اور اس کے لفظی معنی و اطلاق پر بات کرتے ہیں لیکن اس سے قبل ایک اور اصول سمجھ لیں اور وہ یہ کہ اسما کے آخر میں حرف ’کاف/ف‘ بڑھانے سے فقط ’اسم تصغیر‘ ہی نہیں بناتا بلکہ ’اسم نسبت‘ بھی ظہور میں آتا ہے۔ ’اسم نسبت‘ بنانے کا یہ طریقہ فارسی اور سنسکرت تک محدود نہیں بلکہ بیشتر ہند آریائی زبانوں میں یہ فارمولہ موجود ہے۔</p>
<p>ہندی میں اس ’کاف/ف‘ کو ٹھنڈ سے ٹھنڈک، بیٹھ سے بیٹھک’ اور گنجل سے گنجلک، جبکہ فارسی میں عین (آنکھ) سے عینک اور نم سے نمک میں دیکھا جاسکتا ہے۔ بات یہیں تمام نہیں ہوتی، اس لیے کہ انگریزی میں بھی اکثر اسما (nouns) کے آخر میں ’ic‘ بڑھا کر صفت، نسبت یا تشبیہ بنائی جاتی ہے مثلاً pan سے panic (پینک)، class سے Classic (کلاسک) اور Base سے Basic (بیسک) وغیرہ۔ پھر انگریزی میں یہی کام دیگر عربی اسما کے ساتھ بھی ہوا جیسے Islam سے Islamic (اسلامک) اور Quran سے Quranic (قرآن) وغیرہ۔</p>
<p>اگر اسم نسبت بنانے میں ’کاف/ک‘ کی کارفرمائی سے آگاہ ہوگئے ہیں تو یہ بھی سمجھیں کہ یہی کچھ ’کود‘ کے ساتھ ہوا اوراس میں ’کاف/ف‘ بڑھا کر ’کودک‘ کا لفظ وضع کرلیا گیا جبکہ اس کا اطلاق بچوں پر کیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ ’کود‘ میں ایسا کیا تھا کہ اس کا اطلاق بڑوں پر نہیں ہوا اور اس کے لیے بچوں کو موزوں سمجھا گیا؟</p>
<p>دراصل ’کود‘ کے دیگر معنی میں سے ایک ’غلاظت/فضلہ‘ بھی ہے، یہی سبب ہے کہ خاکروب یا جاروب کش کو ’کَود کَش‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اب چونکہ بچے کہیں بھی فضلہ کردینے میں بے اختیار ہوتے ہیں، لہٰذا ’کود‘ کی نسبت سے لفظ ’کودک‘ بنا اور بچوں پر صادق آیا۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ فارسی میں اس معنی کے ساتھ ’کود‘ کی اصل اوستائی زبان ’کوث‘ اور سنسکرت کا ’کوثہ‘ ہیں اور معنی انسانی فضلہ یا غلاظت کے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2024/01/18154633f06acba.jpg?r=155712'  alt='کنٹرگارٹن کی تعلیمی اصطلاح فارسی میں &rsquo;کودکستان&lsquo; کہلاتی ہے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>کنٹرگارٹن کی تعلیمی اصطلاح فارسی میں ’کودکستان‘ کہلاتی ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>خیر جب ’کود‘ سے ’کودک‘ بنا تو اس سے نوبنو تراکیب وجود میں آئیں جن میں سے بہت سی اردو میں بھی برتی جاتی ہیں، مثلاً جسے ہم بچگانہ (نہ کہ بچکانہ) اور طفلانہ کہتے ہیں اسی کی دوسری صورت ’کودکانہ‘ ہے۔ ایسے ہی تراکیب ’کودک مزاج، کودک طبع اور کودکِ ناداں‘ بھی ہیں۔ اب زیربحث لفظ کی رعایت سے میرانیس کے مرثیے کا ایک شعر ملاحظہ کریں،</p>
<p><strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">بولے دکھا کے بچے کو شاہ فلک سریر </div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">مرتا ہے پیاس سے یہ مرا کودک صغیر</div></strong></p>
<p>زبانوں کے باب میں ایک دلچسپ پہلو حرف کا حسب موقع دوسرے حرف سے بدل جانا ہے۔ اس پر پہلے بھی بات ہو چکی ہے، سردست یہ سمجھ لیں کہ حرف ’دال/د‘ جن حروف سے بدلتا ہے ان میں حرف ’چے/چ‘ بھی شامل ہے۔ یوں اس ’کودک‘ کی دوسری صورت ’کوچک‘ ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ ’کودک‘ سے ’کوچک‘ بن جانے پر اس کے معنی میں وسعت پیدا ہوجاتی ہے یوں ’بچہ‘ کے علاوہ ’تنگ، محقر، خُردسال،کم جثہ، پست، حقیر اور قلیل‘ وغیرہ ’کودک‘ کے مترادفات میں شامل ہوجاتے ہیں۔</p>
<p>بچہ سے ’بچپن‘ اور لڑک (لڑکا/لڑکی) سے ’لڑکپن‘ کے الفاظ بنے ہیں۔ جب یہ زمانہ بھی گزر جائے تو دبے قدموں در آنے والا زمانہ ’نوجوانی‘ کہلاتا ہے۔ نوجوان کو انگریزی میں young (ینگ) کہا جاتا ہے۔ اس ینگ کو جانگ (زانو) سے کیا نسبت ہے؟ اس کا ذکر کسی اور وقت کے لیے اٹھا رکھتے ہیں کہ ابھی ’علیل اور ذلیل‘ کا بیان بھی باقی ہے۔ تب تک ’ذلیل‘ کی رعایت سے احمد مشتاق کے شعر سے حظ اٹھائیں،</p>
<p><strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">اہل ہوس تو خیر ہوس میں ہوئے ذلیل</div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">وہ بھی ہوئے خراب، محبت جنہوں نے کی</div></strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1222030</guid>
      <pubDate>Tue, 13 Feb 2024 16:00:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبدالخالق بٹ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/01/18154203d3e22bb.jpg?r=154207" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/01/18154203d3e22bb.jpg?r=154207"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اردو کے معروف بھارتی شاعر منور رانا انتقال کر گئے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1221637/</link>
      <description>&lt;p&gt;اردو کے معروف بھارتی شاعر منور رانا 71  برس کی عمر میں دل کا دورہ پڑنے سے گزشتہ شب لکھنؤ کے پی جی آئی ہسپتال میں انتقال کر گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی نیوز چینل ’انڈیا ٹوڈے‘ کی رپورٹ کے مطابق وہ گزشتہ کئی ماہ سے علیل تھے اور پی جی آئی ہسپتال میں زیر علاج تھے، وہ طویل عرصے تک گردے اور دل کے امراض میں بھی مبتلا رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منور رانا کی بیٹی سمیعہ رانا کے مطابق ان کے والد گزشتہ روز (اتوار کی) رات کو انتقال کرگئے، ان کی تدفین آج کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرحوم نے پسماندگان میں بیوہ، بیٹے اور 4 بیٹیوں کو سوگوار چھوڑا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Rekhta/status/1746620639249879142"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ 26 نومبر 1952 کو رائے بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہوئے، انہیں اردو ادب اور شاعری، خاص طور پر ان کی غزلوں کے لیے بڑے پیمانے پر پہچانا جاتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منور رانا کی نظم ’ماں‘  کو اُن کی مشہور نظموں میں شمار کیا جاتا ہے، اُن کی نظم ’شہدابہ‘ کے لیے 2014 میں انہیں ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ سے نوازا گیا، تاہم انہوں نے تقریباً ایک سال بعد بھارت میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت پر یہ ایوارڈ واپس کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی منور رانا کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’ایکس‘ پر پوسٹ میں نریندر مودی نے منور رانا کے اہل خانہ اور مداحوں سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے لکھا کہ منور رانا کے انتقال پر بہت افسوس ہوا، انہوں نے اردو ادب اور شاعری کے میدان میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/narendramodi/status/1746777110629462178"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اردو کے معروف بھارتی شاعر منور رانا 71  برس کی عمر میں دل کا دورہ پڑنے سے گزشتہ شب لکھنؤ کے پی جی آئی ہسپتال میں انتقال کر گئے۔</p>
<p>بھارتی نیوز چینل ’انڈیا ٹوڈے‘ کی رپورٹ کے مطابق وہ گزشتہ کئی ماہ سے علیل تھے اور پی جی آئی ہسپتال میں زیر علاج تھے، وہ طویل عرصے تک گردے اور دل کے امراض میں بھی مبتلا رہے تھے۔</p>
<p>منور رانا کی بیٹی سمیعہ رانا کے مطابق ان کے والد گزشتہ روز (اتوار کی) رات کو انتقال کرگئے، ان کی تدفین آج کی جائے گی۔</p>
<p>مرحوم نے پسماندگان میں بیوہ، بیٹے اور 4 بیٹیوں کو سوگوار چھوڑا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Rekhta/status/1746620639249879142"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>وہ 26 نومبر 1952 کو رائے بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہوئے، انہیں اردو ادب اور شاعری، خاص طور پر ان کی غزلوں کے لیے بڑے پیمانے پر پہچانا جاتا تھا۔</p>
<p>منور رانا کی نظم ’ماں‘  کو اُن کی مشہور نظموں میں شمار کیا جاتا ہے، اُن کی نظم ’شہدابہ‘ کے لیے 2014 میں انہیں ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ سے نوازا گیا، تاہم انہوں نے تقریباً ایک سال بعد بھارت میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت پر یہ ایوارڈ واپس کر دیا تھا۔</p>
<p>بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی منور رانا کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p>’ایکس‘ پر پوسٹ میں نریندر مودی نے منور رانا کے اہل خانہ اور مداحوں سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے لکھا کہ منور رانا کے انتقال پر بہت افسوس ہوا، انہوں نے اردو ادب اور شاعری کے میدان میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/narendramodi/status/1746777110629462178"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1221637</guid>
      <pubDate>Mon, 15 Jan 2024 11:51:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2024/01/15095204165b85e.jpg?r=095513" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2024/01/15095204165b85e.jpg?r=095513"/>
        <media:title>مرحوم نے پسماندگان میں بیوہ، بیٹے اور 4 بیٹیوں کو سوگوار چھوڑا ہے—فائل فوٹو: سوشل میڈیا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لفظ تماشا: میر، میرزا اور بادہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1218640/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;کیا میرؔ شراب تونے پی ہے&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;بیہودہ یہ گفتگو جو کی ہے&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میرؔ بھی کیا سادہ ہیں کہ بیہودہ گوئی کے یقین کے باوجود یہ تعین نہیں کرسکے کہ بدکلامی بسببِ بادہ نوشی ہے یا بے وجہ ہی مقطع میں آ پڑی سخن گسترانہ بات۔ اس قضیے میں خود خدائے سخن کس نتیجے پر پہنچے اس کا ذکر انہوں نے نہیں کیا، البتہ جس بات کا ذکر ہمیں مطلوب ہے وہ زیرِ بحث شعر میں وارد الفاظ ’میر اور شراب‘ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لفظ ’میر‘ کی بات کریں تو آپ اسے پاک و ہند ہی نہیں ایران و توران میں بھی اکثر ناموں کا جُز پائیں گے اور اگر گردشِ ایام کو پیچھے کی طرف دوڑائیں گے تو عہد اسلامی کے ہندوستان میں چھوٹے بڑے کتنے ہی سرکاری مناصب ’میر‘ سے مزّین نظر آئیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس لفظ کے نام یا منصب میں استعمال کی وجہ جاننے سے قبل یہ سمجھ لیں کہ ’میر‘ دراصل لفظ ’امیر‘ کی تخفیف ہے۔ عربی الاصل ’امیر‘ کے معنی میں بادشاہ و حکام کی رعایت سے صاحب اقتدار و اختیار داخل ہیں۔ جبکہ اس ’امیر‘ کی جمع ’امرا‘ ہے اور جس کا امر (حکم) ان ’امرا‘ پر بھی چلتا ہو اسے ’امیرالامرا‘ کہا جاتا ہے جبکہ یہی ’امیرالامرا‘ بالفاظ دیگر ’میرمیراں‘ کہلاتا ہے۔ یوں اس کا معنوی پہلو شاہِ شاہان (شہنشاہ)، ملک الملوک اور خانِ خانان سے جا ملتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوں تو ’میر‘ ایک کثیرالمعنی لفظ ہے، تاہم سردست اس لفظ کا جائزہ شخصی اسما اور مختلف مناصب کا جُز ہونے کی حیثیت سے لیا جائے گا۔ اس وضاحت کے ساتھ اول یہ سمجھ لیں کہ لفظ ’امیر‘ کی تخفیف ہونے کی رعایت سے ’میر‘ میں وہ تمام تلازمے، استعارے اور مفاہیم سمائے ہوئے ہیں جو ’امیر‘ سے وابستہ ہیں۔ چونکہ ’میر‘ کے معنی میں بادشاہ، سلطان، حاکم اور خلیفہ داخل ہیں سو اس رعایت سے سربراہ قوم اور سردار قبیلہ بھی ’میر‘ کہلاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نام کے ساتھ ’میر‘ کی وابستگی کا ایک پہلو یہی نہیں ہے کہ یہ ’امیر‘ کی تخفیف ہے بلکہ غالب صورتوں میں یہ ’امیرزادہ‘ یعنی اولادِ امیر کی تخفیفی صورت بھی ہے۔ وہ یوں کہ اول ’امیرزادہ‘ کثرت استعمال سے میرزا ہوا (جسے مرزا بھی لکھا جاتا ہے) پھر مزید سمٹ کر ’میر‘ رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/16154643cad976f.jpg'  alt='پرانے زمانے میں بادشاہ، حاکم، سلطان بھی میر کہلاتے تھے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;پرانے زمانے میں بادشاہ، حاکم، سلطان بھی میر کہلاتے تھے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’میر‘ سادات کا اعزازی لقب بھی ہے، یہی سبب ہے کہ کتنے ہی سادات نام کے ساتھ بجائے ’سید‘ کے ’میر‘ لکھتے ہیں مثلاً علامہ اقبال کے استاد ’مولوی میر حسن‘ کہ جن کی اعلیٰ نسبی اور اُن سے اپنے تعلق خاطر کا اظہار شاعر مشرق نے ان الفاظ میں کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;وہ شمع بارگہِ خاندانِ مرتضوی &lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;رہے گا مثلِ حرم، جس کا آستاں مجھ کو &lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;نفس سے جس کے کھلی میری آرزو کی کلی &lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;بنایا جس کی مروت نے نکتہ داں مجھ کو&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ’ترکان تیموری‘ اپنے جدِامجد امیر تیمور کی نسبت سے امیرزادہ کہلاتے اور نام کے ساتھ ’میرزا اور میر‘ لکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر بلوچ اور سندھی قبائلیوں کے ناموں پر غور کریں تو آپ ’میر ہزار خان‘ سے ’میر مرتضیٰ‘ تک کتنے ہی ناموں میں ’میر‘ موجود پائیں گے، یہی وجہ ہے کہ نام کے ساتھ ’میر‘ لکھنے والے سربراہ قوم یا سردار قبیلہ کی نسبت سے یہ لقب اختیار کیے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدرِ مجلس اور محفل میں مسند نشین کو بھی ’میر‘ کہا جاتا ہے۔ چونکہ ’میر‘ کے معنی میں برتری کا پہلو نمایاں ہے سو اس رعایت سے’امام، پیشوا، ہادی، رہنما اور پیشوائے دین بھی ’میر‘ کی تعریف میں داخل ہے۔ دیکھیں علامہ اقبال کیا کہہ رہے ہیں،&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;سالارِ کارواں ہے میرِ حجازؐ اپنا&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;اس نام سے ہے باقی آرامِ جاں ہمارا&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چونکہ ’میر‘ اپنے مفہوم میں اختیار و اقتدار کا مفہوم لیے ہوئے ہے، سو اس رعایت ہر سطح کے عہدیدار کے منصب کے ساتھ ’میر‘ کا سابقہ اس کے دائرہِ اختیار کا اعلان کررہا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہندوستان میں مغل سلطنت اور اس سے ماقبل قائم ہونے والی مسلم حکومتوں میں ہر طرح کے چھوٹے بڑے عہدوں اور مناصب کے لیے جو اصطلاحات وضع کی گئیں ان میں ’میر‘ کا سابقہ عام نظر آتا ہے۔ اس حوالے سے اگر صرف فوج اور اس کے متعلقات پر نظر ڈالیں تو درج ذیل دلچسپ تراکیب سے سامنا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپہ سالار اگر ’مِیر لَشکَر، مِیرِ عَسْکَر، مِیر سِپاہ اور مِیر تُزَُک‘ ہے تو اس سپہ میں دس ہزار سپاہیوں کا افسر’مِیر تُمَن’، ایک ہزار سپاہیوں کا سردار ’مِیرہَزارَہ‘، سو آدمیوں کا افسر ’مِیرِ صَد‘ اور دس سپاہیوں کا سردار’مِیردَہ/دَھ’ کہلاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/16153820c87908f.jpg'  alt='مسلم حکومتوں میں سپہ سالاروں کے نام کے ساتھ میر میں بطور سابقہ نظر آتا تھا' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;مسلم حکومتوں میں سپہ سالاروں کے نام کے ساتھ میر میں بطور سابقہ نظر آتا تھا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تلوار کے دھنی کو ’مِیر سَیّاف، بہادر کو‘مِیر مَیدان’ اور اسلحہ خانے کے داروغہ یا توپ خانے کے افسر کو ’مِیر آتَِش‘ کہا جاتا ہے جبکہ اس فوج میں تنخواہ کی تقسیم پر مامور افسر ’مِیر بَخشی‘ کہلاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پھر قافلے یا کارواں کا سردار اگر ’مِیر قافِلَہ‘ اور ’مِیر کارواں‘ ہے تو قافلے یا لشکرکے آگے چلنے اور اگلی پڑاؤ کا انتظام کرنے والا ’مِیر مَنزِل‘ ہے۔ نیز شاہی علم بردار ’مِیرِعَلَم‘ اور ’مِیر لِوا‘ ہے تو رات کو گشت کرنے والی فوج کا افسر ’مِیرِ طَلایَہ‘ ہے۔ جب کہ شاہی اصطبل اور چراگاہ کا نگران ’مِیر آخُور‘ کہلاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ فوج کے قیام و طعام کا انتظام بھی ضروری ہے، سو اس انتظام کا ذمہ دار ’مِیر مَطبَخ، مِیر سامان، مِیر خانساماں اور مِیر بَُکاوَُل‘ کے سے القاب سے یاد کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’میر‘ کے اس طولانی تذکرے کے بعد اب ’شراب‘ کی بات کرتے کہ چُھٹتی نہیں ہے منہ سے کافر لگی ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/161535270889853.jpg'  alt='اہلِ فارس فارمیسی کو کیا کہتے ہیں؟' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;اہلِ فارس فارمیسی کو کیا کہتے ہیں؟&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لفظی معنی کے اعتبار سے ہر وہ چیز جو پی جائے ’شراب‘ کی تعریف میں داخل ہے۔ تاہم اہل ایران نے نشہ آور محلول کو ’پینے کی چیز‘ یعنی ’شراب‘ کا نام دےکر اس کی قباحت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی۔ نیز اسے ’دارو‘ پکارنا بھی اسی کوشش کو تسلسل ہے، جب کہ فارسی میں ’دارو‘ کے لفظی معنی ’دوا‘ کے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اہل فارس فارمیسی (Pharmacy) کو ’داروکدہ‘ اور ’دارو خانہ‘ پکارتے ہیں اور اسی رعایت اردو میں ’دوا دارو‘ کی ترکیب عام رائج ہے۔ علامہ اقبال نے بھی اس لفظ کو اس کے ٹھیٹھ معنی میں برتا ہے،&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;لا دینی و لاطینی، کس پیچ میں اُلجھا تُو&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;داَرو ہے ضعیفوں کا ’لَاغَالِبَ اِلّاَ ھُوْ‘&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہلِ ایران شراب کو ’بادہ‘ بھی کہتے ہیں۔ ’بادہ نوش، بادہ خوار اور بادہ پرست‘ کی سی تراکیب اسی جانب اشارہ کرتی ہیں۔ شراب یا مے کو ’بادہ‘ پکارنے کی وجہ یہ ہے کہ اسے منہ لگانے والا اپنے آپ میں نہیں رہتا گویا اس کے دماغ میں باد (ہوا) سما جاتی ہے اور وہ ہواؤں میں اڑنے لگتا ہے، (اسی اڑنے اڑانے کی نسبت سے پنجابی میں ’نشئی‘ کو ’جہاز‘ کہتے ہیں کہ یہاں وہاں ڈولتا پھرتا ہے) اسی ’باد‘ کی رعایت سے شراب کو ’بادہ‘ کہا گیا ہے۔ دیکھیں میرزا غالب کیا کہہ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;یہ مسائل تصوف یہ ترا بیان غالبؔ&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">کیا میرؔ شراب تونے پی ہے</div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">بیہودہ یہ گفتگو جو کی ہے</div></strong></p>
<p>میرؔ بھی کیا سادہ ہیں کہ بیہودہ گوئی کے یقین کے باوجود یہ تعین نہیں کرسکے کہ بدکلامی بسببِ بادہ نوشی ہے یا بے وجہ ہی مقطع میں آ پڑی سخن گسترانہ بات۔ اس قضیے میں خود خدائے سخن کس نتیجے پر پہنچے اس کا ذکر انہوں نے نہیں کیا، البتہ جس بات کا ذکر ہمیں مطلوب ہے وہ زیرِ بحث شعر میں وارد الفاظ ’میر اور شراب‘ ہیں۔</p>
<p>لفظ ’میر‘ کی بات کریں تو آپ اسے پاک و ہند ہی نہیں ایران و توران میں بھی اکثر ناموں کا جُز پائیں گے اور اگر گردشِ ایام کو پیچھے کی طرف دوڑائیں گے تو عہد اسلامی کے ہندوستان میں چھوٹے بڑے کتنے ہی سرکاری مناصب ’میر‘ سے مزّین نظر آئیں گے۔</p>
<p>اس لفظ کے نام یا منصب میں استعمال کی وجہ جاننے سے قبل یہ سمجھ لیں کہ ’میر‘ دراصل لفظ ’امیر‘ کی تخفیف ہے۔ عربی الاصل ’امیر‘ کے معنی میں بادشاہ و حکام کی رعایت سے صاحب اقتدار و اختیار داخل ہیں۔ جبکہ اس ’امیر‘ کی جمع ’امرا‘ ہے اور جس کا امر (حکم) ان ’امرا‘ پر بھی چلتا ہو اسے ’امیرالامرا‘ کہا جاتا ہے جبکہ یہی ’امیرالامرا‘ بالفاظ دیگر ’میرمیراں‘ کہلاتا ہے۔ یوں اس کا معنوی پہلو شاہِ شاہان (شہنشاہ)، ملک الملوک اور خانِ خانان سے جا ملتا ہے۔</p>
<p>یوں تو ’میر‘ ایک کثیرالمعنی لفظ ہے، تاہم سردست اس لفظ کا جائزہ شخصی اسما اور مختلف مناصب کا جُز ہونے کی حیثیت سے لیا جائے گا۔ اس وضاحت کے ساتھ اول یہ سمجھ لیں کہ لفظ ’امیر‘ کی تخفیف ہونے کی رعایت سے ’میر‘ میں وہ تمام تلازمے، استعارے اور مفاہیم سمائے ہوئے ہیں جو ’امیر‘ سے وابستہ ہیں۔ چونکہ ’میر‘ کے معنی میں بادشاہ، سلطان، حاکم اور خلیفہ داخل ہیں سو اس رعایت سے سربراہ قوم اور سردار قبیلہ بھی ’میر‘ کہلاتے ہیں۔</p>
<p>نام کے ساتھ ’میر‘ کی وابستگی کا ایک پہلو یہی نہیں ہے کہ یہ ’امیر‘ کی تخفیف ہے بلکہ غالب صورتوں میں یہ ’امیرزادہ‘ یعنی اولادِ امیر کی تخفیفی صورت بھی ہے۔ وہ یوں کہ اول ’امیرزادہ‘ کثرت استعمال سے میرزا ہوا (جسے مرزا بھی لکھا جاتا ہے) پھر مزید سمٹ کر ’میر‘ رہ گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/16154643cad976f.jpg'  alt='پرانے زمانے میں بادشاہ، حاکم، سلطان بھی میر کہلاتے تھے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>پرانے زمانے میں بادشاہ، حاکم، سلطان بھی میر کہلاتے تھے</figcaption>
    </figure></p>
<p>’میر‘ سادات کا اعزازی لقب بھی ہے، یہی سبب ہے کہ کتنے ہی سادات نام کے ساتھ بجائے ’سید‘ کے ’میر‘ لکھتے ہیں مثلاً علامہ اقبال کے استاد ’مولوی میر حسن‘ کہ جن کی اعلیٰ نسبی اور اُن سے اپنے تعلق خاطر کا اظہار شاعر مشرق نے ان الفاظ میں کیا ہے۔</p>
<p><strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">وہ شمع بارگہِ خاندانِ مرتضوی </div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">رہے گا مثلِ حرم، جس کا آستاں مجھ کو </div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">نفس سے جس کے کھلی میری آرزو کی کلی </div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">بنایا جس کی مروت نے نکتہ داں مجھ کو</div></strong></p>
<p>دوسری جانب ’ترکان تیموری‘ اپنے جدِامجد امیر تیمور کی نسبت سے امیرزادہ کہلاتے اور نام کے ساتھ ’میرزا اور میر‘ لکھتے ہیں۔</p>
<p>اگر بلوچ اور سندھی قبائلیوں کے ناموں پر غور کریں تو آپ ’میر ہزار خان‘ سے ’میر مرتضیٰ‘ تک کتنے ہی ناموں میں ’میر‘ موجود پائیں گے، یہی وجہ ہے کہ نام کے ساتھ ’میر‘ لکھنے والے سربراہ قوم یا سردار قبیلہ کی نسبت سے یہ لقب اختیار کیے ہوئے ہیں۔</p>
<p>صدرِ مجلس اور محفل میں مسند نشین کو بھی ’میر‘ کہا جاتا ہے۔ چونکہ ’میر‘ کے معنی میں برتری کا پہلو نمایاں ہے سو اس رعایت سے’امام، پیشوا، ہادی، رہنما اور پیشوائے دین بھی ’میر‘ کی تعریف میں داخل ہے۔ دیکھیں علامہ اقبال کیا کہہ رہے ہیں،</p>
<p><strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">سالارِ کارواں ہے میرِ حجازؐ اپنا</div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">اس نام سے ہے باقی آرامِ جاں ہمارا</div></strong></p>
<p>چونکہ ’میر‘ اپنے مفہوم میں اختیار و اقتدار کا مفہوم لیے ہوئے ہے، سو اس رعایت ہر سطح کے عہدیدار کے منصب کے ساتھ ’میر‘ کا سابقہ اس کے دائرہِ اختیار کا اعلان کررہا ہوتا ہے۔</p>
<p>ہندوستان میں مغل سلطنت اور اس سے ماقبل قائم ہونے والی مسلم حکومتوں میں ہر طرح کے چھوٹے بڑے عہدوں اور مناصب کے لیے جو اصطلاحات وضع کی گئیں ان میں ’میر‘ کا سابقہ عام نظر آتا ہے۔ اس حوالے سے اگر صرف فوج اور اس کے متعلقات پر نظر ڈالیں تو درج ذیل دلچسپ تراکیب سے سامنا ہوتا ہے۔</p>
<p>سپہ سالار اگر ’مِیر لَشکَر، مِیرِ عَسْکَر، مِیر سِپاہ اور مِیر تُزَُک‘ ہے تو اس سپہ میں دس ہزار سپاہیوں کا افسر’مِیر تُمَن’، ایک ہزار سپاہیوں کا سردار ’مِیرہَزارَہ‘، سو آدمیوں کا افسر ’مِیرِ صَد‘ اور دس سپاہیوں کا سردار’مِیردَہ/دَھ’ کہلاتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/16153820c87908f.jpg'  alt='مسلم حکومتوں میں سپہ سالاروں کے نام کے ساتھ میر میں بطور سابقہ نظر آتا تھا' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>مسلم حکومتوں میں سپہ سالاروں کے نام کے ساتھ میر میں بطور سابقہ نظر آتا تھا</figcaption>
    </figure></p>
<p>تلوار کے دھنی کو ’مِیر سَیّاف، بہادر کو‘مِیر مَیدان’ اور اسلحہ خانے کے داروغہ یا توپ خانے کے افسر کو ’مِیر آتَِش‘ کہا جاتا ہے جبکہ اس فوج میں تنخواہ کی تقسیم پر مامور افسر ’مِیر بَخشی‘ کہلاتا ہے۔</p>
<p>پھر قافلے یا کارواں کا سردار اگر ’مِیر قافِلَہ‘ اور ’مِیر کارواں‘ ہے تو قافلے یا لشکرکے آگے چلنے اور اگلی پڑاؤ کا انتظام کرنے والا ’مِیر مَنزِل‘ ہے۔ نیز شاہی علم بردار ’مِیرِعَلَم‘ اور ’مِیر لِوا‘ ہے تو رات کو گشت کرنے والی فوج کا افسر ’مِیرِ طَلایَہ‘ ہے۔ جب کہ شاہی اصطبل اور چراگاہ کا نگران ’مِیر آخُور‘ کہلاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ فوج کے قیام و طعام کا انتظام بھی ضروری ہے، سو اس انتظام کا ذمہ دار ’مِیر مَطبَخ، مِیر سامان، مِیر خانساماں اور مِیر بَُکاوَُل‘ کے سے القاب سے یاد کیا جاتا ہے۔</p>
<p>’میر‘ کے اس طولانی تذکرے کے بعد اب ’شراب‘ کی بات کرتے کہ چُھٹتی نہیں ہے منہ سے کافر لگی ہوئی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/161535270889853.jpg'  alt='اہلِ فارس فارمیسی کو کیا کہتے ہیں؟' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>اہلِ فارس فارمیسی کو کیا کہتے ہیں؟</figcaption>
    </figure></p>
<p>لفظی معنی کے اعتبار سے ہر وہ چیز جو پی جائے ’شراب‘ کی تعریف میں داخل ہے۔ تاہم اہل ایران نے نشہ آور محلول کو ’پینے کی چیز‘ یعنی ’شراب‘ کا نام دےکر اس کی قباحت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی۔ نیز اسے ’دارو‘ پکارنا بھی اسی کوشش کو تسلسل ہے، جب کہ فارسی میں ’دارو‘ کے لفظی معنی ’دوا‘ کے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اہل فارس فارمیسی (Pharmacy) کو ’داروکدہ‘ اور ’دارو خانہ‘ پکارتے ہیں اور اسی رعایت اردو میں ’دوا دارو‘ کی ترکیب عام رائج ہے۔ علامہ اقبال نے بھی اس لفظ کو اس کے ٹھیٹھ معنی میں برتا ہے،</p>
<p><strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">لا دینی و لاطینی، کس پیچ میں اُلجھا تُو</div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">داَرو ہے ضعیفوں کا ’لَاغَالِبَ اِلّاَ ھُوْ‘</div></strong></p>
<p>اہلِ ایران شراب کو ’بادہ‘ بھی کہتے ہیں۔ ’بادہ نوش، بادہ خوار اور بادہ پرست‘ کی سی تراکیب اسی جانب اشارہ کرتی ہیں۔ شراب یا مے کو ’بادہ‘ پکارنے کی وجہ یہ ہے کہ اسے منہ لگانے والا اپنے آپ میں نہیں رہتا گویا اس کے دماغ میں باد (ہوا) سما جاتی ہے اور وہ ہواؤں میں اڑنے لگتا ہے، (اسی اڑنے اڑانے کی نسبت سے پنجابی میں ’نشئی‘ کو ’جہاز‘ کہتے ہیں کہ یہاں وہاں ڈولتا پھرتا ہے) اسی ’باد‘ کی رعایت سے شراب کو ’بادہ‘ کہا گیا ہے۔ دیکھیں میرزا غالب کیا کہہ رہے ہیں۔</p>
<p><strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">یہ مسائل تصوف یہ ترا بیان غالبؔ</div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا</div></strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1218640</guid>
      <pubDate>Mon, 18 Dec 2023 10:10:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبدالخالق بٹ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/12/1615342948fb630.jpg?r=153536" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/12/1615342948fb630.jpg?r=153536"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بُک ریویو: ’فکشن سے مکالمہ‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1217956/</link>
      <description>&lt;p&gt;ذکر ہوجائے ’فکشن سے مکالمہ‘ کا، وہ کتاب جسے ہر پڑھنے والا جوابات میں دلچسپی لیتے ہوئے پڑھے گا مگر درحقیقت یہ اقبال خورشید کے سوالوں کی کتاب ہے۔ سوال جو انسان کی اولین اور اہم ترین ایجاد ہے، کُل فسلفہ، ساری سائنس، پوری ٹیکنالوجی، تاریخ، آرٹ، ادب سب کے غنچے اسی شاخ پر پھوٹے ہیں۔ سوال کا یہ ادراک ہی ادبی مکالموں کے اس مجموعے کی ابتدا کتابِ مقدس کی اس آیت سے کرواتا ہے،’ابتدا میں محض سوال تھا۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلے پہل یہ سطر ہی صاحب کتاب کی سوال شناسی کی گواہ بن کر سامنے آتی ہے اور جب صفحہ درصفحہ اقبال خورشید کے استفہامیہ جملوں سے واسطہ پڑتا ہے تو قاری اس کے مطالعے کی وسعت، صاحب گفتگو کے کام سے گہری واقفیت اور پوچھنے کے ہُنر کی استعداد کا قائل ہوتا چلا جاتا ہے اور طے پاتا ہے کہ اگر یہ ’کُھل جا سم سم‘ کے منتر سے سوال نہ ہوتے تو کتنی ہی یادوں، خیالات اور افکار کا خزانہ بند دروازوں کے پیچھے چُھپا کا چُھپا رہ جاتا۔ سوالوں کی بات کو ذرا دم لینے کے لیے یہیں چھوڑ کر اب جوابوں کی طرف چلتے ہیں جواب جن میں سوچ کے نت نئے زاویے ہیں، حیران کرتی نکتہ آرائیاں ہیں، بیتے پَلوں کی چاپ ہے، بوسیدہ اوراق کی پھڑپھڑاہٹ ہے اور انکشافات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انکشافات۔۔۔ جیسے ادبی پرچے ’ذہن جدید‘ کے سروے میں ’اُداس نسلیں‘، ’آگ کے دریا‘ پر فوقیت حاصل کرگیا لیکن ’اُداس نسلیں‘ کے خالق عبداللہ حسین نے یوں وضع داری نبھائی کے ’آگ کا دریا‘ کی مصنفہ قرة العین حیدر کو دُکھی نہ ہونے دیا۔ موہن جو دڑو کے پس منظر میں تحریرکردہ ’بہاؤ‘ جیسا اچھوتا ناول تخلیق کرنے والے مستنصر حسین تارڑ بتارہے ہیں کہ اس ناول کا کردار ’پاروشنی ایک جیتی جاگتی عورت کا عکس ہے۔ دراصل پاروشنی ایک ایسی لڑکی تھی جو بہت خوبصورت تھی۔ میرے اور اس کے درمیان ایک رشتہ تھا، Understanding کا رشتہ، یا محبت کا رشتہ کہہ لیں۔ پاروشنی اسی کا سراپا ہے۔ چال ڈھال، جسمانی خطوط میں نے وہاں سے لیے مگر میں اسے پانچ ہزار سال پیچھے لے گیا۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1196179"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تارڑ صاحب کا انٹرویو پڑھتے ہوئے یہ بھی کُھلتا ہے کہ ’بہاؤ‘ کے تصور نے ان کے ذہن میں کس کھڑکی سے راہ پائی۔ وہ ایک جھلستی رات نیم غنودگی کی حالت میں اٹھ کر سائیڈ ٹیبل پر رکھے گلاس سے پانی پیتے ہیں، اور گلاس میں پانی کا ذرا سا کم ہونا ان کے خوابیدہ دماغ میں ہلچل مچا دیتا ہے، اس لمحے دھرتی پر پانی خشک ہونے کے احساس نے انہیں گرفت میں لیے رکھا، ’بہاؤ‘ ہم پر اس ایک پل کا احسان ہے۔ اسد محمد خان نے ڈرامانگاری کے سفر کے دوران نسیم حجازی کے ناول ’شاہین‘ کی صورت گری کرکے اسے ’قابلِ دید‘ بنایا تھا مگر ایسا کرتے ہوئے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ ’میں نسیم حجازی کی لکھی ہوئی کہانی نہیں پڑھوں گا۔‘ وہ اس انکار کی وجہ نسیم حجازی سے بیر یا اختلاف نہیں بلکہ ان کے طور طریقوں کو قرار دیتے ہیں۔ ان ’طور طریقوں‘ کی بابت جو کچھ اسد محمد خان نے بتایا وہ نسیم حجازی کی شخصیت کے جاگیردارانہ ڈھنگ سامنے لاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شکیل عادل زادہ کی کتھا میں ان کا ’شکیلہ جمال‘ کا روپ پڑھنے والوں کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کِھلا دیتا ہے۔ اس ’شکیلہ بانو‘ نے اُس دور میں بھارتی فلم نگری پر راج کرتی میناکماری کو اپنا گرویدہ بنالیا تھا۔ شکیل عادل زادہ یہ بتاکر قاری کو تعجب میں مبتلا کردیتے ہیں کہ کیسے ایک ڈیڑھ صفحے کی کہانی کو پھیلانے کی ٹھانی گئی تو ’ان کا‘ جیسا طویل اور ڈائجسٹ پڑھنے والوں میں مقبول ترین سلسلہ وجود میں آیا۔ فکشن، مصوری، رقص اور اداکاری کی جہتیں لیے ایک مکمل آرٹسٹ انور سجاد کی کہانی بتاتی ہے کہ ان کا رقص سیکھنا اداکاری کی مجبوری تھی۔ انہیں ریاست اودھ کے آخری حکمران واجد علی شاہ سے اپنے لکھے کھیل میں مرکزی کردار نبھانا تھا، سو کتھک کے ماہر واجد علی شاہ کی زندگی اسکرین پر سجانے کے لیے انہوں نے اعضا کی موسیقی کی باقاعدہ تربیت حاصل کی۔ یہ ڈراما تو پیش نہ ہوسکا لیکن انور سجاد اس بن کِھلے مرجھا جانے والے غنچے کے طفیل رقاص بھی بن گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1185944"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کتاب میں ان شخصیات کے علاوہ انتظار حسین، حسن منظر، فہمیدہ ریاض، محمد حمید شاہد، مرزا اطہر بیگ، محمد حنیف، اخلاق احمد، آصف فرخی، خالد جاوید، اے خیام اور آمنہ مفتی سے کیے گئے مکالمے بھی شامل ہیں جن میں سے ہر گفتگو بالخصوص اردو افسانے اور ناول کے حال و ماضی، اتار چڑھاؤ، ان اصناف کے سروکار، ان میں در آنے والے رجحانات، ادبی تحریکوں اور ادب سے جڑے مسائل کا احاطہ کرتی ہیں۔ یوں اس کتاب کے صفحات میں سفر کرتے ہم عہدِحاضر میں اردو فکشن کی نہایت اہم شخصیات کے ذاتی کوائف تک رسائی پاتے ہیں اور ان کے ادبی سفر، نظریات، پسند ناپسند اور ہم عصر ادب کے بارے میں ان کی رائے سے آگاہی حاصل کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کتاب کا حصہ ہر مکالمے سے پہلے ہمیں اقبال خورشید کی لُبھاتی، گرفت میں لیتی اور کسی دلکش منظر پر چھاکر اسے دلفریب اور پُرتجسس بناتی دُھند جیسی نثر کا اسیر ہونا پڑتا ہے۔ ایک بار ان تعارفی جملوں کی پکڑ میں آکر بچ نکلنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اقبال ان نثرنگاروں میں سے ہیں جو تحریر کو تصویر بنادینے کا ہُنر جانتے ہیں۔ ان کے ہاں سیدھی سپاٹ تحریر کا کوئی تصور نہیں، وہ جملوں کی ساخت اور لفظوں کی بُنت کو نیا ڈھب دیتے ہوئے اپنی بات کہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مکالمے پیش کرتے ہوئے وہ یوں آغاز کرتا اور جادوئی فضا بناتا ہے کہ پڑھنے والے کے لیے شخصیت ایک بھید بن جاتی ہے۔ مثلاً یہ دیکھیے،’قصّہ کچھ یوں ہے کہ گزشتہ دنوں ساحل پر واقع ایک سرائے میں جہاں بحیرہ عرب کا پانی آتا تھا جن پر سمندری پنچھی پرواز کرتے، ملاقات ہماری فکشن کے ایک فسوں گر سے ہوئی، جنہیں دنیا انتظار حسین کے نام سے جانتی ہے‘۔ آگے چلیے،’یہ سرد، خاموش راتوں کی بے انت تنہائی تھی جس سے نبردآزما ہونے کے لیے میں نے خود کو ایک طویل حزنیہ کے حوالے کردیا اور بعد میں اس فیصلے پر جشن منایا۔‘ یوں تعارفی سطروں کی پُراسرار راہدریوں سے گزارتے جب وہ آپ کو شخصیت کے روبرو پہنچاتے ہیں تو آپ پہلے ہی مرعوب اور اسے جاننے کھوجنے کی للک میں بے طرح مبتلا ہوچکے ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/04150126771668b.jpg'  alt='یہ اقبال خورشید کے سوالوں کی کتاب ہے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;یہ اقبال خورشید کے سوالوں کی کتاب ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لوٹتے ہیں سوالوں کی طرف کہ یہ درحقیقت اقبال خورشید کے سوالوں کی کتاب ہے۔ یہاں میں کسی بھی شخصیت کے بارے میں صرف ان کے سوال لکھ دوں تو آپ جواب پڑھے بغیر اس شخصیت کا اچھا خاصا خاکہ مرتب کرسکتے ہیں۔ پاکستانی اور عالمی ادب میں مشغولیت کی بنا پر افسانے یا ناول کے بارے میں سوال تراش لینا تو اقبال خورشید کے لیے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے ہی، بطور انٹرویو نگار ان کی کمال کی خوبی یہ ہے کہ وہ فکشن نگار کو متعارف کرواتے اور اس سے گفتگو کرتے ہوئے اس کی ذاتی زندگی، خیالات، کتابوں، ان میں بسی کہانیوں، کہانیوں کے کرداروں کے جا بہ حوالے دیتے اور مخاطب کے تخلیقی سفر اور سروکار پر اپنی مکمل دسترس کا تعجب خیز مظاہرہ کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صاحب کتاب کی یہ جہت اس کتاب کو ادب لکھنے اور اسے پڑھنے والوں کے لیے ہی نہیں بلکہ ادب کے طلبہ، اساتذہ اور ادبی انٹرویو کرنے والوں کے لیے بھی ایک شاندار دستاویز بناچکی ہے۔ بہ حیثیت صحافی، کالم نویس اور کثیرالمطالعہ قاری وہ پاکستان کی سیاسی تاریخ اور ملک کے گزرے ایام کے اہم ترین واقعات کی خبر رکھتے ہیں اور انٹرویونگاری کی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے انہیں ہر شعبہ حیات کے افراد سے تفصیلی گفتگو کا موقع میسر آچکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے پاس سوچنے اور پوچھنے کو بہت کچھ ہے۔ وہ جب A Case of Exploding Mangoes کے مصنف محمد حنیف سے دریافت کرتے ہیں کہ ’بریگیڈیئر ٹی ایم کی موت سے مماثل ایک واقعہ، حقیقی دنیا میں، محترمہ بے نظیربھٹو کی زندگی میں پیش آیا تھا۔ فکشن کی دنیا میں اسے ضیا دور میں رونما کروانے کا کیا سبب رہا؟‘ تو وہ اس مشہور ناول میں ایک تاریخی غلطی کی نشاندہی بڑی دھیرج سے کرجاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تو بس ایک مثال ہے، آپ کو اس مجموعے کے ہر مکالمے میں متعلقہ شخصیت، اس کے کام اور اس کے ہر فکری، ادبی اور ذاتی حوالے اقبال خورشید کی پہنچ میں صاف نظر آئیں گے۔ مختصر کتاب وہ دریا ہے جس میں کئی دریا بہہ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;کتاب: فکشن سے مکالمہ&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصنف/ مرتب: اقبال خورشید&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناشر: سنگ میل پبلی کیشنز&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صفحات: 229&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ذکر ہوجائے ’فکشن سے مکالمہ‘ کا، وہ کتاب جسے ہر پڑھنے والا جوابات میں دلچسپی لیتے ہوئے پڑھے گا مگر درحقیقت یہ اقبال خورشید کے سوالوں کی کتاب ہے۔ سوال جو انسان کی اولین اور اہم ترین ایجاد ہے، کُل فسلفہ، ساری سائنس، پوری ٹیکنالوجی، تاریخ، آرٹ، ادب سب کے غنچے اسی شاخ پر پھوٹے ہیں۔ سوال کا یہ ادراک ہی ادبی مکالموں کے اس مجموعے کی ابتدا کتابِ مقدس کی اس آیت سے کرواتا ہے،’ابتدا میں محض سوال تھا۔‘</p>
<p>پہلے پہل یہ سطر ہی صاحب کتاب کی سوال شناسی کی گواہ بن کر سامنے آتی ہے اور جب صفحہ درصفحہ اقبال خورشید کے استفہامیہ جملوں سے واسطہ پڑتا ہے تو قاری اس کے مطالعے کی وسعت، صاحب گفتگو کے کام سے گہری واقفیت اور پوچھنے کے ہُنر کی استعداد کا قائل ہوتا چلا جاتا ہے اور طے پاتا ہے کہ اگر یہ ’کُھل جا سم سم‘ کے منتر سے سوال نہ ہوتے تو کتنی ہی یادوں، خیالات اور افکار کا خزانہ بند دروازوں کے پیچھے چُھپا کا چُھپا رہ جاتا۔ سوالوں کی بات کو ذرا دم لینے کے لیے یہیں چھوڑ کر اب جوابوں کی طرف چلتے ہیں جواب جن میں سوچ کے نت نئے زاویے ہیں، حیران کرتی نکتہ آرائیاں ہیں، بیتے پَلوں کی چاپ ہے، بوسیدہ اوراق کی پھڑپھڑاہٹ ہے اور انکشافات ہیں۔</p>
<p>انکشافات۔۔۔ جیسے ادبی پرچے ’ذہن جدید‘ کے سروے میں ’اُداس نسلیں‘، ’آگ کے دریا‘ پر فوقیت حاصل کرگیا لیکن ’اُداس نسلیں‘ کے خالق عبداللہ حسین نے یوں وضع داری نبھائی کے ’آگ کا دریا‘ کی مصنفہ قرة العین حیدر کو دُکھی نہ ہونے دیا۔ موہن جو دڑو کے پس منظر میں تحریرکردہ ’بہاؤ‘ جیسا اچھوتا ناول تخلیق کرنے والے مستنصر حسین تارڑ بتارہے ہیں کہ اس ناول کا کردار ’پاروشنی ایک جیتی جاگتی عورت کا عکس ہے۔ دراصل پاروشنی ایک ایسی لڑکی تھی جو بہت خوبصورت تھی۔ میرے اور اس کے درمیان ایک رشتہ تھا، Understanding کا رشتہ، یا محبت کا رشتہ کہہ لیں۔ پاروشنی اسی کا سراپا ہے۔ چال ڈھال، جسمانی خطوط میں نے وہاں سے لیے مگر میں اسے پانچ ہزار سال پیچھے لے گیا۔‘</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1196179"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>تارڑ صاحب کا انٹرویو پڑھتے ہوئے یہ بھی کُھلتا ہے کہ ’بہاؤ‘ کے تصور نے ان کے ذہن میں کس کھڑکی سے راہ پائی۔ وہ ایک جھلستی رات نیم غنودگی کی حالت میں اٹھ کر سائیڈ ٹیبل پر رکھے گلاس سے پانی پیتے ہیں، اور گلاس میں پانی کا ذرا سا کم ہونا ان کے خوابیدہ دماغ میں ہلچل مچا دیتا ہے، اس لمحے دھرتی پر پانی خشک ہونے کے احساس نے انہیں گرفت میں لیے رکھا، ’بہاؤ‘ ہم پر اس ایک پل کا احسان ہے۔ اسد محمد خان نے ڈرامانگاری کے سفر کے دوران نسیم حجازی کے ناول ’شاہین‘ کی صورت گری کرکے اسے ’قابلِ دید‘ بنایا تھا مگر ایسا کرتے ہوئے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ ’میں نسیم حجازی کی لکھی ہوئی کہانی نہیں پڑھوں گا۔‘ وہ اس انکار کی وجہ نسیم حجازی سے بیر یا اختلاف نہیں بلکہ ان کے طور طریقوں کو قرار دیتے ہیں۔ ان ’طور طریقوں‘ کی بابت جو کچھ اسد محمد خان نے بتایا وہ نسیم حجازی کی شخصیت کے جاگیردارانہ ڈھنگ سامنے لاتا ہے۔</p>
<p>شکیل عادل زادہ کی کتھا میں ان کا ’شکیلہ جمال‘ کا روپ پڑھنے والوں کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کِھلا دیتا ہے۔ اس ’شکیلہ بانو‘ نے اُس دور میں بھارتی فلم نگری پر راج کرتی میناکماری کو اپنا گرویدہ بنالیا تھا۔ شکیل عادل زادہ یہ بتاکر قاری کو تعجب میں مبتلا کردیتے ہیں کہ کیسے ایک ڈیڑھ صفحے کی کہانی کو پھیلانے کی ٹھانی گئی تو ’ان کا‘ جیسا طویل اور ڈائجسٹ پڑھنے والوں میں مقبول ترین سلسلہ وجود میں آیا۔ فکشن، مصوری، رقص اور اداکاری کی جہتیں لیے ایک مکمل آرٹسٹ انور سجاد کی کہانی بتاتی ہے کہ ان کا رقص سیکھنا اداکاری کی مجبوری تھی۔ انہیں ریاست اودھ کے آخری حکمران واجد علی شاہ سے اپنے لکھے کھیل میں مرکزی کردار نبھانا تھا، سو کتھک کے ماہر واجد علی شاہ کی زندگی اسکرین پر سجانے کے لیے انہوں نے اعضا کی موسیقی کی باقاعدہ تربیت حاصل کی۔ یہ ڈراما تو پیش نہ ہوسکا لیکن انور سجاد اس بن کِھلے مرجھا جانے والے غنچے کے طفیل رقاص بھی بن گئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1185944"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>کتاب میں ان شخصیات کے علاوہ انتظار حسین، حسن منظر، فہمیدہ ریاض، محمد حمید شاہد، مرزا اطہر بیگ، محمد حنیف، اخلاق احمد، آصف فرخی، خالد جاوید، اے خیام اور آمنہ مفتی سے کیے گئے مکالمے بھی شامل ہیں جن میں سے ہر گفتگو بالخصوص اردو افسانے اور ناول کے حال و ماضی، اتار چڑھاؤ، ان اصناف کے سروکار، ان میں در آنے والے رجحانات، ادبی تحریکوں اور ادب سے جڑے مسائل کا احاطہ کرتی ہیں۔ یوں اس کتاب کے صفحات میں سفر کرتے ہم عہدِحاضر میں اردو فکشن کی نہایت اہم شخصیات کے ذاتی کوائف تک رسائی پاتے ہیں اور ان کے ادبی سفر، نظریات، پسند ناپسند اور ہم عصر ادب کے بارے میں ان کی رائے سے آگاہی حاصل کرتے ہیں۔</p>
<p>اس کتاب کا حصہ ہر مکالمے سے پہلے ہمیں اقبال خورشید کی لُبھاتی، گرفت میں لیتی اور کسی دلکش منظر پر چھاکر اسے دلفریب اور پُرتجسس بناتی دُھند جیسی نثر کا اسیر ہونا پڑتا ہے۔ ایک بار ان تعارفی جملوں کی پکڑ میں آکر بچ نکلنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اقبال ان نثرنگاروں میں سے ہیں جو تحریر کو تصویر بنادینے کا ہُنر جانتے ہیں۔ ان کے ہاں سیدھی سپاٹ تحریر کا کوئی تصور نہیں، وہ جملوں کی ساخت اور لفظوں کی بُنت کو نیا ڈھب دیتے ہوئے اپنی بات کہتا ہے۔</p>
<p>یہ مکالمے پیش کرتے ہوئے وہ یوں آغاز کرتا اور جادوئی فضا بناتا ہے کہ پڑھنے والے کے لیے شخصیت ایک بھید بن جاتی ہے۔ مثلاً یہ دیکھیے،’قصّہ کچھ یوں ہے کہ گزشتہ دنوں ساحل پر واقع ایک سرائے میں جہاں بحیرہ عرب کا پانی آتا تھا جن پر سمندری پنچھی پرواز کرتے، ملاقات ہماری فکشن کے ایک فسوں گر سے ہوئی، جنہیں دنیا انتظار حسین کے نام سے جانتی ہے‘۔ آگے چلیے،’یہ سرد، خاموش راتوں کی بے انت تنہائی تھی جس سے نبردآزما ہونے کے لیے میں نے خود کو ایک طویل حزنیہ کے حوالے کردیا اور بعد میں اس فیصلے پر جشن منایا۔‘ یوں تعارفی سطروں کی پُراسرار راہدریوں سے گزارتے جب وہ آپ کو شخصیت کے روبرو پہنچاتے ہیں تو آپ پہلے ہی مرعوب اور اسے جاننے کھوجنے کی للک میں بے طرح مبتلا ہوچکے ہوں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/12/04150126771668b.jpg'  alt='یہ اقبال خورشید کے سوالوں کی کتاب ہے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>یہ اقبال خورشید کے سوالوں کی کتاب ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>لوٹتے ہیں سوالوں کی طرف کہ یہ درحقیقت اقبال خورشید کے سوالوں کی کتاب ہے۔ یہاں میں کسی بھی شخصیت کے بارے میں صرف ان کے سوال لکھ دوں تو آپ جواب پڑھے بغیر اس شخصیت کا اچھا خاصا خاکہ مرتب کرسکتے ہیں۔ پاکستانی اور عالمی ادب میں مشغولیت کی بنا پر افسانے یا ناول کے بارے میں سوال تراش لینا تو اقبال خورشید کے لیے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے ہی، بطور انٹرویو نگار ان کی کمال کی خوبی یہ ہے کہ وہ فکشن نگار کو متعارف کرواتے اور اس سے گفتگو کرتے ہوئے اس کی ذاتی زندگی، خیالات، کتابوں، ان میں بسی کہانیوں، کہانیوں کے کرداروں کے جا بہ حوالے دیتے اور مخاطب کے تخلیقی سفر اور سروکار پر اپنی مکمل دسترس کا تعجب خیز مظاہرہ کرتے ہیں۔</p>
<p>صاحب کتاب کی یہ جہت اس کتاب کو ادب لکھنے اور اسے پڑھنے والوں کے لیے ہی نہیں بلکہ ادب کے طلبہ، اساتذہ اور ادبی انٹرویو کرنے والوں کے لیے بھی ایک شاندار دستاویز بناچکی ہے۔ بہ حیثیت صحافی، کالم نویس اور کثیرالمطالعہ قاری وہ پاکستان کی سیاسی تاریخ اور ملک کے گزرے ایام کے اہم ترین واقعات کی خبر رکھتے ہیں اور انٹرویونگاری کی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے انہیں ہر شعبہ حیات کے افراد سے تفصیلی گفتگو کا موقع میسر آچکا ہے۔</p>
<p>ان کے پاس سوچنے اور پوچھنے کو بہت کچھ ہے۔ وہ جب A Case of Exploding Mangoes کے مصنف محمد حنیف سے دریافت کرتے ہیں کہ ’بریگیڈیئر ٹی ایم کی موت سے مماثل ایک واقعہ، حقیقی دنیا میں، محترمہ بے نظیربھٹو کی زندگی میں پیش آیا تھا۔ فکشن کی دنیا میں اسے ضیا دور میں رونما کروانے کا کیا سبب رہا؟‘ تو وہ اس مشہور ناول میں ایک تاریخی غلطی کی نشاندہی بڑی دھیرج سے کرجاتے ہیں۔</p>
<p>یہ تو بس ایک مثال ہے، آپ کو اس مجموعے کے ہر مکالمے میں متعلقہ شخصیت، اس کے کام اور اس کے ہر فکری، ادبی اور ذاتی حوالے اقبال خورشید کی پہنچ میں صاف نظر آئیں گے۔ مختصر کتاب وہ دریا ہے جس میں کئی دریا بہہ رہے ہیں۔</p>
<hr />
<p>کتاب: فکشن سے مکالمہ</p>
<p>مصنف/ مرتب: اقبال خورشید</p>
<p>ناشر: سنگ میل پبلی کیشنز</p>
<p>صفحات: 229</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1217956</guid>
      <pubDate>Mon, 11 Dec 2023 10:01:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عثمان جامعی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/12/041458428b221b2.jpg?r=150033" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/12/041458428b221b2.jpg?r=150033"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سولہویں عالمی اردو کانفرنس: شہرِ قائد میں اردو کی دھڑکن</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1218064/</link>
      <description>&lt;p&gt;یہ ایک ایسا طلسم کدہ ہے، جہاں رنگ باتیں کرتے ہیں اور باتیں مہکنے لگتی ہیں۔ عمارت میں داخل ہوں، تو ایک اطمینان بخش گہما گہمی آپ کی منتظر ہے۔ ایک ہل چل ہے، مگر اس کے پیچھے ایک مقصد کارفرما ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب کے ہاتھ میں ایک کتابچہ ہے، جس میں عمارت کے مختلف گوشوں میں رونما ہونے والے ایونٹس کی تفصیلات درج ہیں۔ ہر شخص اپنی دلچسپی کے پیش نظر سیشن کا انتخاب کرتا ہے اور اس سمت چل پڑتا ہے۔ میر تقی میر میں دلچسپی ہے، تو آڈیٹوریم ون کا رخ کیجیے، ’غلام باغ‘ کے مصنف مرزا اطہر بیگ کے خیالات جاننے ہیں، تو اِدھر چلے آئیں۔ ادھر لان میں کچھ دیر بعد جشن خسرو بپا ہوگا، جہاں صدارتی ایوارڈ یافتہ قوال ایاز فرید اور ابو محمد پرفارم کریں گے۔ اس دوران وقت میسر آئے، تو کتابوں کے اسٹال کا رخ کیجیے۔ ہر موضوع پر ہزاروں کتابیں آپ کی منتظر ہیں۔ وہیں ایک سمت نوجوان بیٹھے فن پارے بنا رہے ہیں، کچھ دور کوئی گٹار بجا رہا ہے، کوئی گیت گارہا ہے۔ تھک گئے ہیں، تو مٹی کے پیالوں میں  چائے نوش فرمائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--facebook  media__item--relative'&gt;&lt;div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/ACPKHI/videos/270634802258567" data-width="auto"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہر قائد کے سینے میں اردو دھڑک رہی ہے۔ یہ آرٹس کونسل آف پاکستان کا ایک منظر ہے۔چار روز تک یہ عمارت لوگوں کی توجہ کا مرکز بنی رہی کہ یہاں سولہویں عالمی اردو کانفرنس جاری تھی، جس میں دنیا بھر سے اردو اور علاقائی زبانوں کے ادیب، قلم کار، دانش ور اور فن کاروں نے شرکت کی اور اپنی تخلیقت اور علمیت سے اس کانفرنس کوسماج کے لیے ایک  سودمند سرگرمی میں ڈھال دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیس نومبر سے تین دسمبر تک جاری رہنے والی عالمی اردو کانفرنس اب سولہ برس کی ہوچکی ہے اور یہ ایک قابل ذکر واقعہ ہے۔ اردو دنیا میں شاید ہی کوئی تقریب، اس پیمانے پر، اس تسلسل کے ساتھ منعقد ہوئی ہو۔ یہ تسلسل اب شہر قائد کی پہچان بن چکا ہے۔ یہ ایک توانا حوالہ ہے۔ اپنے اسی تسلسل کی وجہ سے اسے دیگر ادبی میلوں اور سیمیناروں پر ایک نوع کی برتری حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--facebook  media__item--relative'&gt;&lt;div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/ACPKHI/videos/692236572662663" data-width="auto"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماضی کے مقابلے میں اِس بار مندوبین اور شرکا، دونوں ہی کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ دکھائی دیا۔ کل تک ایک آڈیٹوریم میں منعقد ہونے والے ایونٹس کو اب تین تین اسپاٹ میسر تھے تو سیشنز کی تعداد بڑھ چکی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشاہیر ادب کانفرنس کا بنیادی موضوع تھے۔ کانفرنس کے دوران اردو ناول، افسانے، تنقید اور  اردو غزل و نظم کے مشاہیر پر تسلسل سے بات ہوئی۔ ان سیشنز میں ان باکمال فکشن نگاروں اور شعرا کو یاد کیا گیا، جنہوں نے اردو زبان و ادب پر گہرے نقش چھوڑے۔ قرۃ العین حیدر پر بھی بات ہوئی، عبداللہ حسین پر بھی۔ منٹو، کرشن چندر، عصمت چغتائی بھی زیر بحث  آئے۔ ساتھ ہی فیض، میرا جی، فہمیدہ ریاض پر بھی اظہار خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--facebook  media__item--relative'&gt;&lt;div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/ACPKHI/videos/1073858506987953" data-width="auto"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہم نکتہ یہ ہے کہ مشاہیر ادب پر اظہار کرنے والے مندوبین میں سے بیشتر خود ادبی دنیا کی سیاحت کا وسیع  تجربے رکھتے تھے جس سے ان کی رائے میں وزن پیدا ہونا فطری تھا۔ البتہ یہ ضرور محسوس ہوا کہ اُن معزز مقررین کو کچھ اور وقت میسر ہونا چاہے تھا، کیوں کہ مختصر سے دورانیے میں فیض اور منٹو جیسے تخلیق کاروں کےفن سے انصاف کرنا سہل نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اردو کانفرنس میں ایک سلسلہ کتابوں کی تقریب رونمائی کا بھی تھا۔ اِس ضمن میں مختلف سیشنز منعقد ہوئے۔تین الگ الگ سیشنز میں مجموعی طور پر 17 کتابوں کی رونمائی ہوئی۔ کچھ کتابوں پر مکمل سیشن بھی رکھے گئے، جیسے جاوید صدیقی کے خاکوں کا مجموعہ ’اجالے‘، بھارتی صحافی سعید نقوی کے ڈرامے ’مسلمان لاپتا ہوگئے‘ کا ترجمے اور سینیئر صحافی سلیم صافی کی کتاب ’ڈرٹی وار‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--facebook  media__item--relative'&gt;&lt;div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/ACPKHI/videos/1064870674701369" data-width="auto"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اردو کے ساتھ ساتھ پاکستان کی دیگر زبانوں میں تخلیق ہونے والے عصری  اور توانا ادب کی بازگشت بھی  سنائی دی۔ پنجابی زبان و ادب کے مشاہیر میں جہاں معروف قلم کاروں پر گفت گو ہوئی، وہیں نیلم احمد بشیر کی کتاب ’مور بلیندا‘ کی اشاعت کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔ بلوچ زبان و ادب کے مشاہیر کو بھی خراج تحسین پیش کیا گیا۔ سندھی اور سرائیکی کے قد آور ادیب بھی زیر بحث آئے۔ اردو کانفرنس میں دیگر زبانوں کے ادب پر سیشنز ایک مثبت قدم ہے، جو مختلف زبانوں کے قلم کاروں کو قریب لانے میں مؤثر کردار ادا کرسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--facebook  media__item--relative'&gt;&lt;div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/ACPKHI/videos/1159085375476114" data-width="auto"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماضی کی طرح اس کانفرنس میں بھی چند حلقوں کی جانب سے یہ مطالبہ دہرایا گیا کہ اردو کانفرنس میں موضوع اردو زبان و ادب ہی ہونا چاہیے۔یہ اعتراض تکنیکی بنیادوں پر تو درست ہوسکتا ہے، مگر ادب کی آفاقی روح کے منافی محسوس ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کانفرنس کے اہم ترین سیشنز وہ ٹھہرے، جن میں ممتاز قلم کاروں اور ادیبوں سے ملاقات کا اہتمام کیا گیا تھا۔ جیسے مستنصر حسین تارڑ، عارفہ سیدہ زہرہ، مرزا اطہر بیگ اور بشریٰ انصاری سے ملاقات۔ ساتھ ہی نئی نسل کے معروف شاعر، تہذیب حافی کے ساتھ بھی خصوصی سیشن ہوا۔ سب ہی سیشنز کو توجہ اور پذیرائی ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--facebook  media__item--relative'&gt;&lt;div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/ACPKHI/videos/1553484635402647" data-width="auto"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فکشن کے متوالوں کے لیے البتہ مستنصر حسین تارڑ اور مرزا اطہر بیگ کے سیشنز اہم ٹھہرے۔ گلزار اور انور مقصود کے درمیان ہونے والے آن لائن مکالمے کا سب کو شدت سے انتظار تھا، مگر یہ واقعہ رونما نہیں ہوسکا۔ سیشن نہ ہونے کی وجہ تکنیکی خرابی ہوسکتی ہے، مگر واقفان حال کا مؤقف ہے کہ اس کی وجہ سیاسی تھی۔ یہ ایک المیہ ہے کہ پاکستان کی جانب سے فن و ادب کے میدان میں ہمیشہ بھارتی فن کاروں، قلم کاروں کو سراہا گیا، مگر بھارت کی سرکار، بالخصوص بی جے پی کے دور میں فن و ادب کو فروغ دینے کے بجائے اس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--facebook  media__item--relative'&gt;&lt;div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/ACPKHI/videos/1461260774805849" data-width="auto"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیر، ہمارا موضوع عالمی اردو کانفرنس ہے، جس کی وجہ سے چار روز تک آرٹس کونسل اردو دنیا کی توجہ کا محور بنا رہا۔ بہ ظاہر یہ ایک کامیاب ایونٹ تھا جس کے لیے آرٹس کونسل انتظامیہ کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہوگی۔ اتنے بڑے پیمانے پر ایونٹ کا انعقاد قابل ستائش ہے۔ بہتری کی گنجائش تو ہمیشہ رہتی ہے۔ کانفرنس سے متعلق چند افراد کی جانب سے سوشل میڈیا پرکچھ اعتراضات بھی کیے گئے۔ اگر تنقید کا مقصد اصلاح ہے، تو یہ ایک سودمند عمل ہے۔ نئے چہروں کی شمولیت، ایک ہی اسپیکر کو مختلف سیشنز میں دہرانے سے اجتناب اور کراچی کی نمائندگی میں اضافہ اچھی تجاویز ہیں۔ البتہ یہاں تنقید برائے تنقید کا چلن عام ہے،  جو اکثر لایعنی ثابت ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصولی بات یہ ہے کہ اس پیمانے پر ہونے والے ایونٹ کی پذیرائی اور ترویج لازم ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ مختلف شہروں سے آنے والے اہل علم نے اس کانفرنس میں نہ صرف شرکا کو اپنے وسیع تجربے اور مطالعے سے منور کیا، بلکہ خود بھی ایسی روشن یادیں سمیٹیں، جنہیں وہ اپنی اپنی بسیتوں میں لوٹ کر بانٹ سکیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>یہ ایک ایسا طلسم کدہ ہے، جہاں رنگ باتیں کرتے ہیں اور باتیں مہکنے لگتی ہیں۔ عمارت میں داخل ہوں، تو ایک اطمینان بخش گہما گہمی آپ کی منتظر ہے۔ ایک ہل چل ہے، مگر اس کے پیچھے ایک مقصد کارفرما ہے۔</p>
<p>سب کے ہاتھ میں ایک کتابچہ ہے، جس میں عمارت کے مختلف گوشوں میں رونما ہونے والے ایونٹس کی تفصیلات درج ہیں۔ ہر شخص اپنی دلچسپی کے پیش نظر سیشن کا انتخاب کرتا ہے اور اس سمت چل پڑتا ہے۔ میر تقی میر میں دلچسپی ہے، تو آڈیٹوریم ون کا رخ کیجیے، ’غلام باغ‘ کے مصنف مرزا اطہر بیگ کے خیالات جاننے ہیں، تو اِدھر چلے آئیں۔ ادھر لان میں کچھ دیر بعد جشن خسرو بپا ہوگا، جہاں صدارتی ایوارڈ یافتہ قوال ایاز فرید اور ابو محمد پرفارم کریں گے۔ اس دوران وقت میسر آئے، تو کتابوں کے اسٹال کا رخ کیجیے۔ ہر موضوع پر ہزاروں کتابیں آپ کی منتظر ہیں۔ وہیں ایک سمت نوجوان بیٹھے فن پارے بنا رہے ہیں، کچھ دور کوئی گٹار بجا رہا ہے، کوئی گیت گارہا ہے۔ تھک گئے ہیں، تو مٹی کے پیالوں میں  چائے نوش فرمائیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--facebook  media__item--relative'><div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/ACPKHI/videos/270634802258567" data-width="auto"></div></div>
        
    </figure></p>
<p>شہر قائد کے سینے میں اردو دھڑک رہی ہے۔ یہ آرٹس کونسل آف پاکستان کا ایک منظر ہے۔چار روز تک یہ عمارت لوگوں کی توجہ کا مرکز بنی رہی کہ یہاں سولہویں عالمی اردو کانفرنس جاری تھی، جس میں دنیا بھر سے اردو اور علاقائی زبانوں کے ادیب، قلم کار، دانش ور اور فن کاروں نے شرکت کی اور اپنی تخلیقت اور علمیت سے اس کانفرنس کوسماج کے لیے ایک  سودمند سرگرمی میں ڈھال دیا۔</p>
<p>تیس نومبر سے تین دسمبر تک جاری رہنے والی عالمی اردو کانفرنس اب سولہ برس کی ہوچکی ہے اور یہ ایک قابل ذکر واقعہ ہے۔ اردو دنیا میں شاید ہی کوئی تقریب، اس پیمانے پر، اس تسلسل کے ساتھ منعقد ہوئی ہو۔ یہ تسلسل اب شہر قائد کی پہچان بن چکا ہے۔ یہ ایک توانا حوالہ ہے۔ اپنے اسی تسلسل کی وجہ سے اسے دیگر ادبی میلوں اور سیمیناروں پر ایک نوع کی برتری حاصل ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--facebook  media__item--relative'><div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/ACPKHI/videos/692236572662663" data-width="auto"></div></div>
        
    </figure></p>
<p>ماضی کے مقابلے میں اِس بار مندوبین اور شرکا، دونوں ہی کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ دکھائی دیا۔ کل تک ایک آڈیٹوریم میں منعقد ہونے والے ایونٹس کو اب تین تین اسپاٹ میسر تھے تو سیشنز کی تعداد بڑھ چکی تھی۔</p>
<p>مشاہیر ادب کانفرنس کا بنیادی موضوع تھے۔ کانفرنس کے دوران اردو ناول، افسانے، تنقید اور  اردو غزل و نظم کے مشاہیر پر تسلسل سے بات ہوئی۔ ان سیشنز میں ان باکمال فکشن نگاروں اور شعرا کو یاد کیا گیا، جنہوں نے اردو زبان و ادب پر گہرے نقش چھوڑے۔ قرۃ العین حیدر پر بھی بات ہوئی، عبداللہ حسین پر بھی۔ منٹو، کرشن چندر، عصمت چغتائی بھی زیر بحث  آئے۔ ساتھ ہی فیض، میرا جی، فہمیدہ ریاض پر بھی اظہار خیال کیا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--facebook  media__item--relative'><div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/ACPKHI/videos/1073858506987953" data-width="auto"></div></div>
        
    </figure></p>
<p>اہم نکتہ یہ ہے کہ مشاہیر ادب پر اظہار کرنے والے مندوبین میں سے بیشتر خود ادبی دنیا کی سیاحت کا وسیع  تجربے رکھتے تھے جس سے ان کی رائے میں وزن پیدا ہونا فطری تھا۔ البتہ یہ ضرور محسوس ہوا کہ اُن معزز مقررین کو کچھ اور وقت میسر ہونا چاہے تھا، کیوں کہ مختصر سے دورانیے میں فیض اور منٹو جیسے تخلیق کاروں کےفن سے انصاف کرنا سہل نہیں۔</p>
<p>اردو کانفرنس میں ایک سلسلہ کتابوں کی تقریب رونمائی کا بھی تھا۔ اِس ضمن میں مختلف سیشنز منعقد ہوئے۔تین الگ الگ سیشنز میں مجموعی طور پر 17 کتابوں کی رونمائی ہوئی۔ کچھ کتابوں پر مکمل سیشن بھی رکھے گئے، جیسے جاوید صدیقی کے خاکوں کا مجموعہ ’اجالے‘، بھارتی صحافی سعید نقوی کے ڈرامے ’مسلمان لاپتا ہوگئے‘ کا ترجمے اور سینیئر صحافی سلیم صافی کی کتاب ’ڈرٹی وار‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--facebook  media__item--relative'><div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/ACPKHI/videos/1064870674701369" data-width="auto"></div></div>
        
    </figure></p>
<p>اردو کے ساتھ ساتھ پاکستان کی دیگر زبانوں میں تخلیق ہونے والے عصری  اور توانا ادب کی بازگشت بھی  سنائی دی۔ پنجابی زبان و ادب کے مشاہیر میں جہاں معروف قلم کاروں پر گفت گو ہوئی، وہیں نیلم احمد بشیر کی کتاب ’مور بلیندا‘ کی اشاعت کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔ بلوچ زبان و ادب کے مشاہیر کو بھی خراج تحسین پیش کیا گیا۔ سندھی اور سرائیکی کے قد آور ادیب بھی زیر بحث آئے۔ اردو کانفرنس میں دیگر زبانوں کے ادب پر سیشنز ایک مثبت قدم ہے، جو مختلف زبانوں کے قلم کاروں کو قریب لانے میں مؤثر کردار ادا کرسکتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--facebook  media__item--relative'><div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/ACPKHI/videos/1159085375476114" data-width="auto"></div></div>
        
    </figure></p>
<p>ماضی کی طرح اس کانفرنس میں بھی چند حلقوں کی جانب سے یہ مطالبہ دہرایا گیا کہ اردو کانفرنس میں موضوع اردو زبان و ادب ہی ہونا چاہیے۔یہ اعتراض تکنیکی بنیادوں پر تو درست ہوسکتا ہے، مگر ادب کی آفاقی روح کے منافی محسوس ہوتا ہے۔</p>
<p>کانفرنس کے اہم ترین سیشنز وہ ٹھہرے، جن میں ممتاز قلم کاروں اور ادیبوں سے ملاقات کا اہتمام کیا گیا تھا۔ جیسے مستنصر حسین تارڑ، عارفہ سیدہ زہرہ، مرزا اطہر بیگ اور بشریٰ انصاری سے ملاقات۔ ساتھ ہی نئی نسل کے معروف شاعر، تہذیب حافی کے ساتھ بھی خصوصی سیشن ہوا۔ سب ہی سیشنز کو توجہ اور پذیرائی ملی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--facebook  media__item--relative'><div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/ACPKHI/videos/1553484635402647" data-width="auto"></div></div>
        
    </figure></p>
<p>فکشن کے متوالوں کے لیے البتہ مستنصر حسین تارڑ اور مرزا اطہر بیگ کے سیشنز اہم ٹھہرے۔ گلزار اور انور مقصود کے درمیان ہونے والے آن لائن مکالمے کا سب کو شدت سے انتظار تھا، مگر یہ واقعہ رونما نہیں ہوسکا۔ سیشن نہ ہونے کی وجہ تکنیکی خرابی ہوسکتی ہے، مگر واقفان حال کا مؤقف ہے کہ اس کی وجہ سیاسی تھی۔ یہ ایک المیہ ہے کہ پاکستان کی جانب سے فن و ادب کے میدان میں ہمیشہ بھارتی فن کاروں، قلم کاروں کو سراہا گیا، مگر بھارت کی سرکار، بالخصوص بی جے پی کے دور میں فن و ادب کو فروغ دینے کے بجائے اس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--facebook  media__item--relative'><div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/ACPKHI/videos/1461260774805849" data-width="auto"></div></div>
        
    </figure></p>
<p>خیر، ہمارا موضوع عالمی اردو کانفرنس ہے، جس کی وجہ سے چار روز تک آرٹس کونسل اردو دنیا کی توجہ کا محور بنا رہا۔ بہ ظاہر یہ ایک کامیاب ایونٹ تھا جس کے لیے آرٹس کونسل انتظامیہ کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہوگی۔ اتنے بڑے پیمانے پر ایونٹ کا انعقاد قابل ستائش ہے۔ بہتری کی گنجائش تو ہمیشہ رہتی ہے۔ کانفرنس سے متعلق چند افراد کی جانب سے سوشل میڈیا پرکچھ اعتراضات بھی کیے گئے۔ اگر تنقید کا مقصد اصلاح ہے، تو یہ ایک سودمند عمل ہے۔ نئے چہروں کی شمولیت، ایک ہی اسپیکر کو مختلف سیشنز میں دہرانے سے اجتناب اور کراچی کی نمائندگی میں اضافہ اچھی تجاویز ہیں۔ البتہ یہاں تنقید برائے تنقید کا چلن عام ہے،  جو اکثر لایعنی ثابت ہوتی ہے۔</p>
<p>اصولی بات یہ ہے کہ اس پیمانے پر ہونے والے ایونٹ کی پذیرائی اور ترویج لازم ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ مختلف شہروں سے آنے والے اہل علم نے اس کانفرنس میں نہ صرف شرکا کو اپنے وسیع تجربے اور مطالعے سے منور کیا، بلکہ خود بھی ایسی روشن یادیں سمیٹیں، جنہیں وہ اپنی اپنی بسیتوں میں لوٹ کر بانٹ سکیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1218064</guid>
      <pubDate>Tue, 05 Dec 2023 10:04:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (صائمہ اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/12/05084951ae6acbc.jpg?r=085052" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/12/05084951ae6acbc.jpg?r=085052"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لفظ تماشا: ’برگ‘ یا ’ورق‘؟ اصل لفظ کون سا ہے؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1217133/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;یوں ہی موسم کی ادا دیکھ کے یاد آیا ہے&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;کس قدر جلد بدل جاتے ہیں انساں جاناں&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کہتے ہیں بات سے بات نکلتی ہے اور خیال سے خیال جنم لیتا ہے۔ ایسا ہی کچھ احمد فراز کے ساتھ بھی ہوا اور انہیں بدلتی رُت سے بدلتے انسانی رویے یاد آگئے، یوں اُن کا یہ احساس شعر بالا میں ڈھل گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حق یہ ہے کہ اس جہان میں ’تبدیلی‘ کے سوا ہر شے تبدیلی کی زد میں ہے۔ اس حقیقت کی نشاندہی یونانی فلسفی ’ہرقليطس‘ نے ان الفاظ میں کی ہے کہ ’The only constant in life is change‘۔ جبکہ علامہ اقبالؒ نے اسی بات کو باالفاظ دیگر بیان کیا ہے کہ ’ثبات ايک تغير کو ہے زمانے میں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دراصل یہ تمہید اس تبدیلی کے باب میں تھی جو حروف کے مابین واقع ہوتی ہے اور کبھی ایک ہی زبان میں اور گاہے دوسری زبانوں میں معنی کے اشتراک و اختلاف کے ساتھ لفظ کے صورت بدل دیتی ہے۔ مثلاً عربی زبان کے جس لفظ کو ہم ’ورق‘ کے طور پر جانتے ہیں وہ دراصل فارسی کا ’برگ‘ ہے۔ جی ہاں! وہی ’برگ‘ جس کے بارے میں شاعر نے کہا ہے ’برگ آوارہ کی مانند ہیں ٹھکانے میرے‘۔  یہی ’برگ‘ اردو میں ’پتّا‘ کہلاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارسی ’برگ‘ نے بصورت ’ورق‘ عربی میں معنی و مطالب کی جو بہار دکھائی ہے اس کے ذکر سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ زیرِ بحث لفظ میں تبدیلی کی بنیادی وجہ وہ صوتی تبادل ہے جس نے ’ب‘ کو ’واؤ‘ سے اور ’گ‘ کو ’ق‘ سے بدل کر ’برگ‘ کو ’ورق‘ بنادیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عربی زبان میں ’وَرَقُ‘ کے اول معنی ’درخت کا پتّا‘ ہیں، جبکہ اس کی واحد ’ورقۃ‘ اور جمع ’اوراق‘ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/11/2510415977af853.jpg'  alt='عربی زبان کا ورق درحقیقت فارسی کا برگ ہے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;عربی زبان کا ورق درحقیقت فارسی کا برگ ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زمانہِ جاہلیت کے عرب میں نوَشت و خوان کا رجحان محدود اور سامان خط و کتابت محدود تر ہونے کی وجہ سے گاہے جن اشیا کو بطور سامانِ نوَشت برتا جاتا ان میں جانور کے شانے کی چوڑی ہڈی، کھال اور چھال کے علاوہ درختوں کے قابلِ نوشت پتے بھی شامل تھے۔ سو ان پتوں کی رعایت سے کاغذ اور لکھنے کے باریک چمڑے کو بھی ’وَرَقُ‘ کہا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تمدنی تبدیلیوں کے ساتھ ہر زبان میں الفاظ کے معنی و اطلاقات میں وسعت پیدا ہوتی ہے، سو یہی کچھ ’ورق‘ کے ساتھ بھی ہوا، جب گردشِ زمانہ نے جنس کے بدلے جنس (barter system) سے شروع ہونے والی لین دین کو سیم و زر کے دھاتی سکّوں کی راہ سے کڑکتے کرنسی نوٹوں تک پہنچایا تو سرزمین عرب میں یہ کرنسی نوٹ ’الاوراق المصرفیة، وَرَقُ النَقْد اور وَرَق مَالِيّ‘ کہلائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پھر بات فقط یہاں تک پہنچ کر تمام نہیں ہوئی، بلکہ کاغذ کی نوبنو صورتوں کے لیے وضع کی جانے والی تراکیب میں بھی ’ورق‘ بطور سابقہ برتا گیا۔ مثلاً ٹوائلٹ پیپر ’وَرَقُ الِمرْحَاض‘ کہلایا تو ٹریسنگ پیپر کو ’وَرَق شَفِاف اور وَرَقُ رَسْمٍ‘ کہا گیا جبکہ کاربن پیپر کے لیے ’وَرَقُ الكَرْبُوْن، الوَرَقُ المُفَحَّمُ  اور وَرَقُ الشَاھدَة‘ کی سی تراکیب سامنے آئیں۔ نیز ایگزامینیشن پیپر (امتحانی پرچہ) کو ’وَرَقَةُ الاِمْتِحَان‘ اور سینڈ پیپر (ریگ مال) کو ’وَرَقَ الصَّنْفَرة‘  پکارا گیا تو آرٹ پیپر کو ’وَرَق مَصْقْول اور وَرَق نَعَّام‘ کا نام دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/11/25104204949ac57.jpg?r=104309'  alt='عرب کی سرزمین پر ہر طرح کا کاغذ ورق کہلایا' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;عرب کی سرزمین پر ہر طرح کا کاغذ ورق کہلایا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر ورق کے اس بیان سے اکتا نہ گئے ہوں تو کچھ ذکر فولس کیپ پیپر (foolscap paper) کا بھی ہوجائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;13.5 بائی 7 انچ کے مخصوص سائز پیپر کو فولس کیپ (foolscap) کہا جاتا ہے، جسے ہم ایک مدت تک لینڈ اسکیپ (landscape) کے تناظر میں فُل اسکیپ (fullscap) سمجھتے رہے۔ تاہم بعد میں کُھلا کہ ’خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعہ یہ ہے کہ پیپر کے اس مخصوص سائز کا نام fool یعنی احمق اور cap بمعنی ٹوپی سے مرکب ہے۔ جبکہ دراصل یہ fool’s cap یعنی ’احمق کی ٹوپی‘ ہے، جو کثرتِ استعمال کے سبب فُل اسکیپ ہوگیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب رہی یہ بات کہ کاغذ کے اس مخصوص سائز کو احمق کی ٹوپی (foolscap) قرار دینے کا کیا راز ہے؟ تو واقعہ یہ ہے کہ بیتے وقتوں میں اس مخصوص سائز کے کاغذ پر واٹرمارک کی صورت میں fool’s cap طبع ہوتی تھی، احمق کی یہی ٹوپی اس سائز کی وجہ تسمیہ قرار پائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/11/25103643a0d0fca.jpg?r=103645'  alt='کاغذ پر واٹرمارک موجود ہوتا تھا&amp;mdash;تصویر: برٹش میوزیم' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;کاغذ پر واٹرمارک موجود ہوتا تھا—تصویر: برٹش میوزیم&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عربی زبان کے جملہ محاسن میں سے ایک یہ بھی کہ اس کے دامن میں اگر ایک چیز کے لیے دسیوں الفاظ ہیں تو وہیں ایک ہی لفظ دسیوں معنی میں برتا جاتا ہے۔ مثلاً اگر ایک ’شیر‘ کو بالحاظ صفات سو (100) سے زیادہ ناموں سے یاد کیا گیا ہے، تو وہیں ایک لفظ ’عجوز‘ نصف صد (50) معنی میں برتا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک عربی قاموس کے مطابق ’عجز‘ سے مشتق لفظ ’عجوز‘ کے معنی میں بزرگ مرد و خاتون، شراب، مصیبت، کشتی، راستہ، ہانڈی، کمان، آگ، موت، کھجور کا درخت، قبضہ، تلوار کی میخ، عافیت، پرہیزگاری، داہنا ہاتھ، بادشاہ، مشک، قبلہ، چاندی، بچھو، بجو، مادہ زبیرا، حجرہ، باڑھ، خط، کتاب، گرم ہوا، گھی، فلک، گھوڑی، رعشہ، گدھ، جھنڈا، بھیڑیا، دنبہ، نسوانی قمیص، آفتاب کا ہالہ، خیمہ، بخار، نیزہ، لڑائی، دوزخ، بھوک، بڑا پیالہ، بیل، توبہ، ڈھال، سوداگر، گائے، بہاؤ، دریا، کنواں، خرگوش، شیر، سوئی اور زمین داخل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سو یہی کچھ ’ورق‘ کے ساتھ بھی ہے کہ ’درخت کا پتّا‘ اس کے اول معنی ہیں نہ کہ واحد معنی۔ اس لیے کہ اہل عرب ’وَرَقُ‘ کو ’پتّے‘ کے علاوہ دنیا، رونقِ دنیا، قوم کا حسن وجمال، قوم کی نوخیز اولاد، قوم کی کمزور اولاد، جوانی کی بہار، لکھنے کا کاغذ، لکھنے کا باریک چمڑا، کتاب کا ورق، زرو مال مویشی، زمین پر پڑا ہوا خون کا دھبا، دوران جراحت کٹ کر گرنے والے لوتھڑے وغیرہ کے معنی میں بھی برتتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’ورق‘ کے اس طول طویل تذکرے کے بعد اب ’ورق‘ کی رعایت سے مرزا نوشہ اسد اللہ خان غالب کا شعر ملاحظہ کریں اور ہمیں اجازت دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;ورق تمام ہوا اور مدح باقی ہے &lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;سفینہ چاہیے اس بحرِ بیکراں کے لیے&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">یوں ہی موسم کی ادا دیکھ کے یاد آیا ہے</div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">کس قدر جلد بدل جاتے ہیں انساں جاناں</div></strong></p>
<p>کہتے ہیں بات سے بات نکلتی ہے اور خیال سے خیال جنم لیتا ہے۔ ایسا ہی کچھ احمد فراز کے ساتھ بھی ہوا اور انہیں بدلتی رُت سے بدلتے انسانی رویے یاد آگئے، یوں اُن کا یہ احساس شعر بالا میں ڈھل گیا۔</p>
<p>حق یہ ہے کہ اس جہان میں ’تبدیلی‘ کے سوا ہر شے تبدیلی کی زد میں ہے۔ اس حقیقت کی نشاندہی یونانی فلسفی ’ہرقليطس‘ نے ان الفاظ میں کی ہے کہ ’The only constant in life is change‘۔ جبکہ علامہ اقبالؒ نے اسی بات کو باالفاظ دیگر بیان کیا ہے کہ ’ثبات ايک تغير کو ہے زمانے میں‘۔</p>
<p>دراصل یہ تمہید اس تبدیلی کے باب میں تھی جو حروف کے مابین واقع ہوتی ہے اور کبھی ایک ہی زبان میں اور گاہے دوسری زبانوں میں معنی کے اشتراک و اختلاف کے ساتھ لفظ کے صورت بدل دیتی ہے۔ مثلاً عربی زبان کے جس لفظ کو ہم ’ورق‘ کے طور پر جانتے ہیں وہ دراصل فارسی کا ’برگ‘ ہے۔ جی ہاں! وہی ’برگ‘ جس کے بارے میں شاعر نے کہا ہے ’برگ آوارہ کی مانند ہیں ٹھکانے میرے‘۔  یہی ’برگ‘ اردو میں ’پتّا‘ کہلاتا ہے۔</p>
<p>فارسی ’برگ‘ نے بصورت ’ورق‘ عربی میں معنی و مطالب کی جو بہار دکھائی ہے اس کے ذکر سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ زیرِ بحث لفظ میں تبدیلی کی بنیادی وجہ وہ صوتی تبادل ہے جس نے ’ب‘ کو ’واؤ‘ سے اور ’گ‘ کو ’ق‘ سے بدل کر ’برگ‘ کو ’ورق‘ بنادیا ہے۔</p>
<p>عربی زبان میں ’وَرَقُ‘ کے اول معنی ’درخت کا پتّا‘ ہیں، جبکہ اس کی واحد ’ورقۃ‘ اور جمع ’اوراق‘ ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/11/2510415977af853.jpg'  alt='عربی زبان کا ورق درحقیقت فارسی کا برگ ہے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>عربی زبان کا ورق درحقیقت فارسی کا برگ ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>زمانہِ جاہلیت کے عرب میں نوَشت و خوان کا رجحان محدود اور سامان خط و کتابت محدود تر ہونے کی وجہ سے گاہے جن اشیا کو بطور سامانِ نوَشت برتا جاتا ان میں جانور کے شانے کی چوڑی ہڈی، کھال اور چھال کے علاوہ درختوں کے قابلِ نوشت پتے بھی شامل تھے۔ سو ان پتوں کی رعایت سے کاغذ اور لکھنے کے باریک چمڑے کو بھی ’وَرَقُ‘ کہا گیا۔</p>
<p>تمدنی تبدیلیوں کے ساتھ ہر زبان میں الفاظ کے معنی و اطلاقات میں وسعت پیدا ہوتی ہے، سو یہی کچھ ’ورق‘ کے ساتھ بھی ہوا، جب گردشِ زمانہ نے جنس کے بدلے جنس (barter system) سے شروع ہونے والی لین دین کو سیم و زر کے دھاتی سکّوں کی راہ سے کڑکتے کرنسی نوٹوں تک پہنچایا تو سرزمین عرب میں یہ کرنسی نوٹ ’الاوراق المصرفیة، وَرَقُ النَقْد اور وَرَق مَالِيّ‘ کہلائے۔</p>
<p>پھر بات فقط یہاں تک پہنچ کر تمام نہیں ہوئی، بلکہ کاغذ کی نوبنو صورتوں کے لیے وضع کی جانے والی تراکیب میں بھی ’ورق‘ بطور سابقہ برتا گیا۔ مثلاً ٹوائلٹ پیپر ’وَرَقُ الِمرْحَاض‘ کہلایا تو ٹریسنگ پیپر کو ’وَرَق شَفِاف اور وَرَقُ رَسْمٍ‘ کہا گیا جبکہ کاربن پیپر کے لیے ’وَرَقُ الكَرْبُوْن، الوَرَقُ المُفَحَّمُ  اور وَرَقُ الشَاھدَة‘ کی سی تراکیب سامنے آئیں۔ نیز ایگزامینیشن پیپر (امتحانی پرچہ) کو ’وَرَقَةُ الاِمْتِحَان‘ اور سینڈ پیپر (ریگ مال) کو ’وَرَقَ الصَّنْفَرة‘  پکارا گیا تو آرٹ پیپر کو ’وَرَق مَصْقْول اور وَرَق نَعَّام‘ کا نام دیا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/11/25104204949ac57.jpg?r=104309'  alt='عرب کی سرزمین پر ہر طرح کا کاغذ ورق کہلایا' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>عرب کی سرزمین پر ہر طرح کا کاغذ ورق کہلایا</figcaption>
    </figure></p>
<p>اگر ورق کے اس بیان سے اکتا نہ گئے ہوں تو کچھ ذکر فولس کیپ پیپر (foolscap paper) کا بھی ہوجائے۔</p>
<p>13.5 بائی 7 انچ کے مخصوص سائز پیپر کو فولس کیپ (foolscap) کہا جاتا ہے، جسے ہم ایک مدت تک لینڈ اسکیپ (landscape) کے تناظر میں فُل اسکیپ (fullscap) سمجھتے رہے۔ تاہم بعد میں کُھلا کہ ’خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا‘۔</p>
<p>واقعہ یہ ہے کہ پیپر کے اس مخصوص سائز کا نام fool یعنی احمق اور cap بمعنی ٹوپی سے مرکب ہے۔ جبکہ دراصل یہ fool’s cap یعنی ’احمق کی ٹوپی‘ ہے، جو کثرتِ استعمال کے سبب فُل اسکیپ ہوگیا ہے۔</p>
<p>اب رہی یہ بات کہ کاغذ کے اس مخصوص سائز کو احمق کی ٹوپی (foolscap) قرار دینے کا کیا راز ہے؟ تو واقعہ یہ ہے کہ بیتے وقتوں میں اس مخصوص سائز کے کاغذ پر واٹرمارک کی صورت میں fool’s cap طبع ہوتی تھی، احمق کی یہی ٹوپی اس سائز کی وجہ تسمیہ قرار پائی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/11/25103643a0d0fca.jpg?r=103645'  alt='کاغذ پر واٹرمارک موجود ہوتا تھا&mdash;تصویر: برٹش میوزیم' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>کاغذ پر واٹرمارک موجود ہوتا تھا—تصویر: برٹش میوزیم</figcaption>
    </figure></p>
<p>عربی زبان کے جملہ محاسن میں سے ایک یہ بھی کہ اس کے دامن میں اگر ایک چیز کے لیے دسیوں الفاظ ہیں تو وہیں ایک ہی لفظ دسیوں معنی میں برتا جاتا ہے۔ مثلاً اگر ایک ’شیر‘ کو بالحاظ صفات سو (100) سے زیادہ ناموں سے یاد کیا گیا ہے، تو وہیں ایک لفظ ’عجوز‘ نصف صد (50) معنی میں برتا جاتا ہے۔</p>
<p>ایک عربی قاموس کے مطابق ’عجز‘ سے مشتق لفظ ’عجوز‘ کے معنی میں بزرگ مرد و خاتون، شراب، مصیبت، کشتی، راستہ، ہانڈی، کمان، آگ، موت، کھجور کا درخت، قبضہ، تلوار کی میخ، عافیت، پرہیزگاری، داہنا ہاتھ، بادشاہ، مشک، قبلہ، چاندی، بچھو، بجو، مادہ زبیرا، حجرہ، باڑھ، خط، کتاب، گرم ہوا، گھی، فلک، گھوڑی، رعشہ، گدھ، جھنڈا، بھیڑیا، دنبہ، نسوانی قمیص، آفتاب کا ہالہ، خیمہ، بخار، نیزہ، لڑائی، دوزخ، بھوک، بڑا پیالہ، بیل، توبہ، ڈھال، سوداگر، گائے، بہاؤ، دریا، کنواں، خرگوش، شیر، سوئی اور زمین داخل ہیں۔</p>
<p>سو یہی کچھ ’ورق‘ کے ساتھ بھی ہے کہ ’درخت کا پتّا‘ اس کے اول معنی ہیں نہ کہ واحد معنی۔ اس لیے کہ اہل عرب ’وَرَقُ‘ کو ’پتّے‘ کے علاوہ دنیا، رونقِ دنیا، قوم کا حسن وجمال، قوم کی نوخیز اولاد، قوم کی کمزور اولاد، جوانی کی بہار، لکھنے کا کاغذ، لکھنے کا باریک چمڑا، کتاب کا ورق، زرو مال مویشی، زمین پر پڑا ہوا خون کا دھبا، دوران جراحت کٹ کر گرنے والے لوتھڑے وغیرہ کے معنی میں بھی برتتے ہیں۔</p>
<p>’ورق‘ کے اس طول طویل تذکرے کے بعد اب ’ورق‘ کی رعایت سے مرزا نوشہ اسد اللہ خان غالب کا شعر ملاحظہ کریں اور ہمیں اجازت دیں۔</p>
<p><strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">ورق تمام ہوا اور مدح باقی ہے </div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">سفینہ چاہیے اس بحرِ بیکراں کے لیے</div></strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1217133</guid>
      <pubDate>Thu, 30 Nov 2023 11:18:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبدالخالق بٹ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/11/25105921ea808f6.jpg?r=105925" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/11/25105921ea808f6.jpg?r=105925"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کہانی: شاداب نگر کا چینی بھوت</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1216221/</link>
      <description>&lt;p&gt;’یار سکندر سچ بتا اتنا سستا فلیٹ کیسے مل گیا اور وہ بھی شاداب نگر کی پہاڑی پر؟‘ جب علی کے اصرار کرنے پر سکندر نے فلیٹ کی اصل قیمت بتائی تب اس نے بے صبری سے پوچھا۔ ’ہاں یار جھوٹ تھوڑی بولوں گا تجھ سے اور ویسے بھی باس نے بتایا تھا کہ اپنا نیا آئی ٹی سینٹر شاداب نگر کے پاس ہی بننے والا ہے تو آفس دیر سے پہنچنے کی ٹینشن بھی ختم‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سکندر کے بتاتے ہی علی تقریباً سیٹ سے اچھل پڑا۔ ’یہ تو بہترین کام ہوگیا۔ لیکن چڑھائی اور اترائی میں ٹائم لگے گا اور سڑک بھی تو خراب ہے‘، علی نے ساتھ ہی اپنا خدشہ ظاہر کیا۔ ’ہر چیز کی ٹینشن نہ لیا کر بھائی، شہر میں ٹریفک میں بھی تو پھنسنے کی عادت ہوگئی ہے نا، ان سب باتوں کے بھی عادی ہوجائیں گے‘، یہ کہتے ہوئے سکندر نے گاڑی چھوٹے گیئر میں ڈالی اور وہ شاداب نگر کی پہاڑی چڑھنے لگے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علی اور سکندر بچپن سے گہرے دوست تھے اور اب ایک ہی کمپنی میں کام کرتے تھے۔ دونوں کا خواب والدین کے گھر سے الگ اپنا گھر لے کر رہنے کا تھا جو آج کل ہر نوجوان کا ہوتا ہے لہٰذا پیسے جوڑ کر دونوں نے شاداب نگر کے پُر فضا مقام پر سستے داموں ایک فلیٹ خرید کر اپنا خواب پورا کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’بلڈنگ تو بڑی شاندار ہے یار‘، علی نے گاڑی سے اترتے ہوئے کہا۔ ’فلیٹ بھی شاندار ہے بھائی پانچویں فلور پر سب سے اوپر۔ بالکونی سے سارا شاداب نگر نظر آتا ہے‘، سکندر نے سامان ڈگی سے نکالتے ہوئے کہا اور دونوں لفٹ میں سوار ہوگئے۔ فلیٹ واقعی شاندار تھا سامان رکھنے کے بعد علی کچھ ضرورت کی چیزیں لینے باہر نکلا۔ اس پہاڑی علاقے میں آبادی کم تھی اور لوگ بھی اکا دکا نظر آرہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اشرف سپر اسٹور میں داخل ہوکر علی نے کچھ پانی کی بوتلیں، ناشتے کا سامان اور چپس کے پیکٹ خریدے۔ ’نئے آئے ہیں آپ یہاں بیٹا؟‘، کاؤنٹر پر اسٹور کے مالک اشرف بھٹی نے بل بناتے ہوئے علی سے پوچھا۔ ’جی انکل، فلیٹس والی بلڈنگ میں‘۔ علی نے سامان کا شاپر سنبھالتے ہوئے جواب دیا۔ ’اچھا اچھا! کون سے فلیٹ میں آئے ہو بیٹا‘، اشرف نے باقی پیسے علی کو لوٹاتے ہوئے پوچھا۔ ’513 نمبر میں انکل‘، علی نے جواب دیتے ہوئے اشرف بھٹی کے چہرے کا رنگ بدلتا ہوا محسوس کیا۔ ’کیوں انکل؟ خیریت؟‘، علی کے پوچھنے پر اشرف کے ماتھے پر پڑی شکنیں مزید گہری ہوگئیں اور کہنے لگا، ’کچھ نہیں بیٹا، بس سنا ہے وہ فلیٹ ذرا بھاری ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/11/14102245738e5b9.jpg'  alt='&amp;rsquo;سنی سنائی باتیں ہیں کہ 513 نمبر فلیٹ بھاری ہے&amp;lsquo;' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;’سنی سنائی باتیں ہیں کہ 513 نمبر فلیٹ بھاری ہے‘&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علی اسٹور کے دروازے پر ہی رک گیا، ’آپ کا مطلب اس فلیٹ پر سایہ وغیرہ ہے کیا؟‘ اشرف اپنی گھبراہٹ چھپاتے ہوئے بولا، ’ارے ایسا کچھ نہیں بیٹا بس سنی سنائی باتیں ہیں تم آرام سے رہو وہاں اور ہاں کیا نام بتایا تم نے اپنا؟‘ علی نے اپنا پورا نام بتایا اور اسٹور سے باہر نکل آیا۔ اشرف نے سڑک کے آخری کونے تک علی کو واپس جاتے ہوئے دیکھا اور پھر ایک رجسٹر نکال کر کچھ لکھنے لگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پورا دن دو کمروں کے اس فلیٹ کی سیٹنگ کرتے ہوئے وہ دونوں بہت تھک گئے تھے۔ رات کو گہری نیند سے ایک دم علی کی آنکھ کھلی۔ اسے لگا جیسے کوئی اسے دیکھ رہا ہے۔ اشرف کی بات بھی اس کے ذہن میں تھی۔ نہ چاہتے ہوئے بھی کھڑکی کی جانب اس نے نظر دوڑائی۔ اسے ایک بونا بالکونی کی کھڑکی میں کھڑا نظر آیا جو اسی کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اس کی آنکھیں کھچی ہوئی تھیں اور ناک چپٹی تھی بالکل کسی چینی شخص کی طرح۔ وہ گھبرا کر اٹھا اور سکندر کے کمرے کی طرف بھاگا لیکن سکندر اسے لاؤنج میں ہی مل گیا۔ وہ بھی گھبرایا ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں نے اس چینی بھوت کو کھڑکی پر کھڑے انہیں گھورتے ہوئے دیکھا تھا۔ ہمت کرکے انہوں نے بالکونی کا دروازہ کھولا مگر وہاں کوئی نہیں تھا۔ اتنے میں دھماکا ہوا اور لائٹ چلی گئی اور چھت پر کسی کے دوڑنے کی آوازیں آنے لگیں۔ علی نے گاڑی کی چابی اٹھائی اور سکندر سے فوراً نکلنے کے لیے کہا۔ لفٹ بند تھی چنانچہ دونوں سیڑھیوں کی طرف بھاگے۔ نیچے اترتے وقت انہیں لگا کہ کوئی اور بھی ان کے پیچھے آرہا ہے۔ علی نے پلٹ کر دیکھا تو کوئی نہیں تھا۔ شاید وہم ان پر مکمل طور پر حاوی ہوچکا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/11/14105410cb3e633.jpg'  alt='رات کو بالکونی کی کڑکی پر کھڑا ایک بونا شخص علی اور سکندر کو گھور رہا تھا' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;رات کو بالکونی کی کڑکی پر کھڑا ایک بونا شخص علی اور سکندر کو گھور رہا تھا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’یار اس وقت جائیں گے کہاں‘، سکندر نے گاڑی کے پاس پہنچ کر ہانپتے ہوئے کہا۔ ’کہیں بھی رک کر گاڑی میں ہی رات گزار لیں گے لیکن اس منحوس جگہ سے نکلتے ہیں‘، علی نے گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے جواب دیا۔ علی گاڑی بھگاتے ہوئے موبائل سے اپنے باپ کا نمبر ملانے کی کوشش کررہا تھا کہ اچانک اترائی پر ایک موڑ کاٹتے ہوئے اسے ایمرجنسی بریک لگانے پڑے کیونکہ بیچ سڑک میں ایک بچہ کھڑا تھا۔ گاڑی قابو سے باہر ہوگئی اور کھائی کی طرف مڑ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سکندر سیٹ بیلٹ نہ باندھنے کی وجہ سے قلابازیاں کھاتی گاڑی سے نکل کر کھائی کی گہرائیوں میں گم ہوچکا تھا۔ علی آخری سانسیں لے رہا تھا۔ بند ہوتی آنکھوں سے پہلے اس نے دیکھا کہ وہ کوئی بچہ نہیں بلکہ وہی چینی شکل والا بھوت تھا جو اس کی جانب مسکراتا ہوا بڑھ رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی بھوت نے علی کی شہ رگ پر انگلی رکھی۔ تسلی کر لینے کے بعد اس نے فون نکال کر ایک نمبر ڈائل کیا۔ دوسری طرف سے آواز آئی، ’ہاں چینے؟ کام ہوگیا؟‘ چینے نے گاڑی کی تلاشی لیتے ہوئے جواب دیا، ’ہاں اشرف بھائی، ایک تو کھائی میں گیا دوسرا یہیں ہے‘۔ ’ٹھیک ہے جلدی سامان اکٹھا کرکے نکلو وہاں سے اور رمضان سے کہنا زیادہ دھماکے نہ کیا کرے۔ بلڈنگ کے باقی لوگ بھی چلے گئے تو کاروبار اس کا باپ چلائے گا‘، اشرف نے بھڑکتے ہوئے کہا۔ چینے نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو رمضان، علی کی جیبوں کی تلاشی لے رہا تھا۔ ’ٹھیک ہے اشرف بھائی میں اسے کہہ دوں گا، بس نکلتے ہیں‘ اور رابطہ منقطع ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رمضان کو اشرف بھائی کی بات سمجھاتے ہوئے چینے نے اس سے علی کی جیب سے ملنے والا موبائل لیا اور اسے موٹی سی گالی دیتے ہوئے کہا کہ اگلی بار موبائل ملتے ہی اسے فوراً سوئچ آف کردیا کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/11/1410321702bb840.png'  alt='سڑک پر سامنے بچے کو کھڑا دیکھ کر گاڑی بےقابو ہوگئی اور کھائی میں جاگری' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;سڑک پر سامنے بچے کو کھڑا دیکھ کر گاڑی بےقابو ہوگئی اور کھائی میں جاگری&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’صاحب آپ نئے آئے ہیں یہاں‘، اشرف نے اس ادھیڑ عمر شخص کو بقایا پیسے واپس کرتے ہوئے پوچھا۔ ’ہاں آج ہی شفٹ ہوا ہوں، فلیٹ نمبر 513 میں‘، آدمی نے اشرف کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔ کچھ لمحے اشرف کا سپاٹ چہرہ دیکھنے کے بعد اس نے پوچھا،’ کیوں؟ کوئی مسئلہ ہے کیا؟’ اشرف نے پیشہ ورانہ مسکراہٹ منہ پر سجاتے ہوئے کہا، ’کچھ نہیں صاحب، بس سنی سنائی بات ہے، کچھ لوگ اس فلیٹ کو بھاری کہتے ہیں‘۔ آدمی نے ایک دم قہقہ لگایا، ’اچھا ہے، چلو شاید میرے رہنے سے ہلکا ہوجائے‘، اور باہر نکلنے لگا۔ ’کیا نام بتایا آپ نے اپنا صاحب‘، اشرف نے پیچھے سے آواز دی۔ ’مصطفیٰ‘، آدمی نے اسٹور سے باہر نکلتے ہوئے جواب دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اشرف نے مصطفیٰ کو سڑک کے آخری کونے تک جاتے ہوئے دیکھا اور پھر ایک رجسٹر نکال کر اس پر اندراج کرنے لگا۔ نمبر 25، نام: مصطفیٰ۔ رجسٹر پر لکھے باقی 24 ناموں پر اس نے ایک نظر دوڑائی جن میں سے کچھ کے آگے لال قلم سے کراس کے نشان لگے ہوئے تھے۔ مصطفیٰ کے نام سے اوپر دو نام لکھے تھے جن کے آگے لال نشان لگے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نمبر 23، نام: سکندر&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نمبر 24، نام: علی زیدی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/11/141041161390e6e.jpg'  alt='اشرف نے مصطفیٰ کو سڑک کے آخری کونے تک جاتے ہوئے دیکھا' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;اشرف نے مصطفیٰ کو سڑک کے آخری کونے تک جاتے ہوئے دیکھا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصطفیٰ نے فلیٹ میں آکر کافی بنائی اور آرام دہ کرسی کے ساتھ رکھی میز پر کپ رکھ دیا۔ پھر پینٹ میں اڑسا ہوا لمبی نال کا ریوالور اور بٹوا بھی نکال کر میز پر رکھا۔ اس نے ایک لمبی سانس خارج کی اور ٹانگیں پھیلا کر کرسی پر بیٹھ گیا۔ کچھ دیر بعد کافی کا ایک گھونٹ بھر کر اس نے بٹوہ اٹھا کر کھولا۔ ایک طرف اس کا سروس کارڈ تھا جس پر اس کا نام درج تھا:’ انسپکٹر مصطفیٰ زیدی’، اور دوسری طرف اس کے اپنے بیٹے علی زیدی کے ساتھ تصویر تھی جس کو وہ حسرت سے تکنے لگا۔ بٹوہ بند کرکے اس نے ریوالور اٹھایا اور جھٹکا دے کر اس کا چیمبر کھولا۔ 6 گولیوں والے اس چیمبر میں وہ ہر دو گولیاں ڈالنے کے بعد ایک نام بڑبڑاتا، چینا، اشرف، رمضان۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھرا ہوا ریوالور میز پر رکھ کر انسپیکٹر مصطفیٰ زیدی نے کافی کا مگ اٹھایا اور دونوں ہاتھوں میں پکڑ کر گود میں رکھ لیا۔ اس کی نظریں بالکونی کی کھڑکی کی طرف تھیں۔ اسے اب صرف اندھیرا پھیلنے پر شاداب نگر کے چینی بھوت کے آنے کا انتظار کرنا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>’یار سکندر سچ بتا اتنا سستا فلیٹ کیسے مل گیا اور وہ بھی شاداب نگر کی پہاڑی پر؟‘ جب علی کے اصرار کرنے پر سکندر نے فلیٹ کی اصل قیمت بتائی تب اس نے بے صبری سے پوچھا۔ ’ہاں یار جھوٹ تھوڑی بولوں گا تجھ سے اور ویسے بھی باس نے بتایا تھا کہ اپنا نیا آئی ٹی سینٹر شاداب نگر کے پاس ہی بننے والا ہے تو آفس دیر سے پہنچنے کی ٹینشن بھی ختم‘۔</p>
<p>سکندر کے بتاتے ہی علی تقریباً سیٹ سے اچھل پڑا۔ ’یہ تو بہترین کام ہوگیا۔ لیکن چڑھائی اور اترائی میں ٹائم لگے گا اور سڑک بھی تو خراب ہے‘، علی نے ساتھ ہی اپنا خدشہ ظاہر کیا۔ ’ہر چیز کی ٹینشن نہ لیا کر بھائی، شہر میں ٹریفک میں بھی تو پھنسنے کی عادت ہوگئی ہے نا، ان سب باتوں کے بھی عادی ہوجائیں گے‘، یہ کہتے ہوئے سکندر نے گاڑی چھوٹے گیئر میں ڈالی اور وہ شاداب نگر کی پہاڑی چڑھنے لگے۔</p>
<p>علی اور سکندر بچپن سے گہرے دوست تھے اور اب ایک ہی کمپنی میں کام کرتے تھے۔ دونوں کا خواب والدین کے گھر سے الگ اپنا گھر لے کر رہنے کا تھا جو آج کل ہر نوجوان کا ہوتا ہے لہٰذا پیسے جوڑ کر دونوں نے شاداب نگر کے پُر فضا مقام پر سستے داموں ایک فلیٹ خرید کر اپنا خواب پورا کیا تھا۔</p>
<p>’بلڈنگ تو بڑی شاندار ہے یار‘، علی نے گاڑی سے اترتے ہوئے کہا۔ ’فلیٹ بھی شاندار ہے بھائی پانچویں فلور پر سب سے اوپر۔ بالکونی سے سارا شاداب نگر نظر آتا ہے‘، سکندر نے سامان ڈگی سے نکالتے ہوئے کہا اور دونوں لفٹ میں سوار ہوگئے۔ فلیٹ واقعی شاندار تھا سامان رکھنے کے بعد علی کچھ ضرورت کی چیزیں لینے باہر نکلا۔ اس پہاڑی علاقے میں آبادی کم تھی اور لوگ بھی اکا دکا نظر آرہے تھے۔</p>
<p>اشرف سپر اسٹور میں داخل ہوکر علی نے کچھ پانی کی بوتلیں، ناشتے کا سامان اور چپس کے پیکٹ خریدے۔ ’نئے آئے ہیں آپ یہاں بیٹا؟‘، کاؤنٹر پر اسٹور کے مالک اشرف بھٹی نے بل بناتے ہوئے علی سے پوچھا۔ ’جی انکل، فلیٹس والی بلڈنگ میں‘۔ علی نے سامان کا شاپر سنبھالتے ہوئے جواب دیا۔ ’اچھا اچھا! کون سے فلیٹ میں آئے ہو بیٹا‘، اشرف نے باقی پیسے علی کو لوٹاتے ہوئے پوچھا۔ ’513 نمبر میں انکل‘، علی نے جواب دیتے ہوئے اشرف بھٹی کے چہرے کا رنگ بدلتا ہوا محسوس کیا۔ ’کیوں انکل؟ خیریت؟‘، علی کے پوچھنے پر اشرف کے ماتھے پر پڑی شکنیں مزید گہری ہوگئیں اور کہنے لگا، ’کچھ نہیں بیٹا، بس سنا ہے وہ فلیٹ ذرا بھاری ہے‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/11/14102245738e5b9.jpg'  alt='&rsquo;سنی سنائی باتیں ہیں کہ 513 نمبر فلیٹ بھاری ہے&lsquo;' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>’سنی سنائی باتیں ہیں کہ 513 نمبر فلیٹ بھاری ہے‘</figcaption>
    </figure></p>
<p>علی اسٹور کے دروازے پر ہی رک گیا، ’آپ کا مطلب اس فلیٹ پر سایہ وغیرہ ہے کیا؟‘ اشرف اپنی گھبراہٹ چھپاتے ہوئے بولا، ’ارے ایسا کچھ نہیں بیٹا بس سنی سنائی باتیں ہیں تم آرام سے رہو وہاں اور ہاں کیا نام بتایا تم نے اپنا؟‘ علی نے اپنا پورا نام بتایا اور اسٹور سے باہر نکل آیا۔ اشرف نے سڑک کے آخری کونے تک علی کو واپس جاتے ہوئے دیکھا اور پھر ایک رجسٹر نکال کر کچھ لکھنے لگا۔</p>
<p>پورا دن دو کمروں کے اس فلیٹ کی سیٹنگ کرتے ہوئے وہ دونوں بہت تھک گئے تھے۔ رات کو گہری نیند سے ایک دم علی کی آنکھ کھلی۔ اسے لگا جیسے کوئی اسے دیکھ رہا ہے۔ اشرف کی بات بھی اس کے ذہن میں تھی۔ نہ چاہتے ہوئے بھی کھڑکی کی جانب اس نے نظر دوڑائی۔ اسے ایک بونا بالکونی کی کھڑکی میں کھڑا نظر آیا جو اسی کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اس کی آنکھیں کھچی ہوئی تھیں اور ناک چپٹی تھی بالکل کسی چینی شخص کی طرح۔ وہ گھبرا کر اٹھا اور سکندر کے کمرے کی طرف بھاگا لیکن سکندر اسے لاؤنج میں ہی مل گیا۔ وہ بھی گھبرایا ہوا تھا۔</p>
<p>دونوں نے اس چینی بھوت کو کھڑکی پر کھڑے انہیں گھورتے ہوئے دیکھا تھا۔ ہمت کرکے انہوں نے بالکونی کا دروازہ کھولا مگر وہاں کوئی نہیں تھا۔ اتنے میں دھماکا ہوا اور لائٹ چلی گئی اور چھت پر کسی کے دوڑنے کی آوازیں آنے لگیں۔ علی نے گاڑی کی چابی اٹھائی اور سکندر سے فوراً نکلنے کے لیے کہا۔ لفٹ بند تھی چنانچہ دونوں سیڑھیوں کی طرف بھاگے۔ نیچے اترتے وقت انہیں لگا کہ کوئی اور بھی ان کے پیچھے آرہا ہے۔ علی نے پلٹ کر دیکھا تو کوئی نہیں تھا۔ شاید وہم ان پر مکمل طور پر حاوی ہوچکا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/11/14105410cb3e633.jpg'  alt='رات کو بالکونی کی کڑکی پر کھڑا ایک بونا شخص علی اور سکندر کو گھور رہا تھا' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>رات کو بالکونی کی کڑکی پر کھڑا ایک بونا شخص علی اور سکندر کو گھور رہا تھا</figcaption>
    </figure></p>
<p>’یار اس وقت جائیں گے کہاں‘، سکندر نے گاڑی کے پاس پہنچ کر ہانپتے ہوئے کہا۔ ’کہیں بھی رک کر گاڑی میں ہی رات گزار لیں گے لیکن اس منحوس جگہ سے نکلتے ہیں‘، علی نے گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے جواب دیا۔ علی گاڑی بھگاتے ہوئے موبائل سے اپنے باپ کا نمبر ملانے کی کوشش کررہا تھا کہ اچانک اترائی پر ایک موڑ کاٹتے ہوئے اسے ایمرجنسی بریک لگانے پڑے کیونکہ بیچ سڑک میں ایک بچہ کھڑا تھا۔ گاڑی قابو سے باہر ہوگئی اور کھائی کی طرف مڑ گئی۔</p>
<p>سکندر سیٹ بیلٹ نہ باندھنے کی وجہ سے قلابازیاں کھاتی گاڑی سے نکل کر کھائی کی گہرائیوں میں گم ہوچکا تھا۔ علی آخری سانسیں لے رہا تھا۔ بند ہوتی آنکھوں سے پہلے اس نے دیکھا کہ وہ کوئی بچہ نہیں بلکہ وہی چینی شکل والا بھوت تھا جو اس کی جانب مسکراتا ہوا بڑھ رہا تھا۔</p>
<p>چینی بھوت نے علی کی شہ رگ پر انگلی رکھی۔ تسلی کر لینے کے بعد اس نے فون نکال کر ایک نمبر ڈائل کیا۔ دوسری طرف سے آواز آئی، ’ہاں چینے؟ کام ہوگیا؟‘ چینے نے گاڑی کی تلاشی لیتے ہوئے جواب دیا، ’ہاں اشرف بھائی، ایک تو کھائی میں گیا دوسرا یہیں ہے‘۔ ’ٹھیک ہے جلدی سامان اکٹھا کرکے نکلو وہاں سے اور رمضان سے کہنا زیادہ دھماکے نہ کیا کرے۔ بلڈنگ کے باقی لوگ بھی چلے گئے تو کاروبار اس کا باپ چلائے گا‘، اشرف نے بھڑکتے ہوئے کہا۔ چینے نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو رمضان، علی کی جیبوں کی تلاشی لے رہا تھا۔ ’ٹھیک ہے اشرف بھائی میں اسے کہہ دوں گا، بس نکلتے ہیں‘ اور رابطہ منقطع ہوگیا۔</p>
<p>رمضان کو اشرف بھائی کی بات سمجھاتے ہوئے چینے نے اس سے علی کی جیب سے ملنے والا موبائل لیا اور اسے موٹی سی گالی دیتے ہوئے کہا کہ اگلی بار موبائل ملتے ہی اسے فوراً سوئچ آف کردیا کرے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/11/1410321702bb840.png'  alt='سڑک پر سامنے بچے کو کھڑا دیکھ کر گاڑی بےقابو ہوگئی اور کھائی میں جاگری' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>سڑک پر سامنے بچے کو کھڑا دیکھ کر گاڑی بےقابو ہوگئی اور کھائی میں جاگری</figcaption>
    </figure></p>
<p>’صاحب آپ نئے آئے ہیں یہاں‘، اشرف نے اس ادھیڑ عمر شخص کو بقایا پیسے واپس کرتے ہوئے پوچھا۔ ’ہاں آج ہی شفٹ ہوا ہوں، فلیٹ نمبر 513 میں‘، آدمی نے اشرف کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔ کچھ لمحے اشرف کا سپاٹ چہرہ دیکھنے کے بعد اس نے پوچھا،’ کیوں؟ کوئی مسئلہ ہے کیا؟’ اشرف نے پیشہ ورانہ مسکراہٹ منہ پر سجاتے ہوئے کہا، ’کچھ نہیں صاحب، بس سنی سنائی بات ہے، کچھ لوگ اس فلیٹ کو بھاری کہتے ہیں‘۔ آدمی نے ایک دم قہقہ لگایا، ’اچھا ہے، چلو شاید میرے رہنے سے ہلکا ہوجائے‘، اور باہر نکلنے لگا۔ ’کیا نام بتایا آپ نے اپنا صاحب‘، اشرف نے پیچھے سے آواز دی۔ ’مصطفیٰ‘، آدمی نے اسٹور سے باہر نکلتے ہوئے جواب دیا۔</p>
<p>اشرف نے مصطفیٰ کو سڑک کے آخری کونے تک جاتے ہوئے دیکھا اور پھر ایک رجسٹر نکال کر اس پر اندراج کرنے لگا۔ نمبر 25، نام: مصطفیٰ۔ رجسٹر پر لکھے باقی 24 ناموں پر اس نے ایک نظر دوڑائی جن میں سے کچھ کے آگے لال قلم سے کراس کے نشان لگے ہوئے تھے۔ مصطفیٰ کے نام سے اوپر دو نام لکھے تھے جن کے آگے لال نشان لگے تھے۔</p>
<p><strong>نمبر 23، نام: سکندر</strong></p>
<p><strong>نمبر 24، نام: علی زیدی</strong></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/11/141041161390e6e.jpg'  alt='اشرف نے مصطفیٰ کو سڑک کے آخری کونے تک جاتے ہوئے دیکھا' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>اشرف نے مصطفیٰ کو سڑک کے آخری کونے تک جاتے ہوئے دیکھا</figcaption>
    </figure></p>
<p>مصطفیٰ نے فلیٹ میں آکر کافی بنائی اور آرام دہ کرسی کے ساتھ رکھی میز پر کپ رکھ دیا۔ پھر پینٹ میں اڑسا ہوا لمبی نال کا ریوالور اور بٹوا بھی نکال کر میز پر رکھا۔ اس نے ایک لمبی سانس خارج کی اور ٹانگیں پھیلا کر کرسی پر بیٹھ گیا۔ کچھ دیر بعد کافی کا ایک گھونٹ بھر کر اس نے بٹوہ اٹھا کر کھولا۔ ایک طرف اس کا سروس کارڈ تھا جس پر اس کا نام درج تھا:’ انسپکٹر مصطفیٰ زیدی’، اور دوسری طرف اس کے اپنے بیٹے علی زیدی کے ساتھ تصویر تھی جس کو وہ حسرت سے تکنے لگا۔ بٹوہ بند کرکے اس نے ریوالور اٹھایا اور جھٹکا دے کر اس کا چیمبر کھولا۔ 6 گولیوں والے اس چیمبر میں وہ ہر دو گولیاں ڈالنے کے بعد ایک نام بڑبڑاتا، چینا، اشرف، رمضان۔</p>
<p>بھرا ہوا ریوالور میز پر رکھ کر انسپیکٹر مصطفیٰ زیدی نے کافی کا مگ اٹھایا اور دونوں ہاتھوں میں پکڑ کر گود میں رکھ لیا۔ اس کی نظریں بالکونی کی کھڑکی کی طرف تھیں۔ اسے اب صرف اندھیرا پھیلنے پر شاداب نگر کے چینی بھوت کے آنے کا انتظار کرنا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1216221</guid>
      <pubDate>Tue, 28 Nov 2023 16:43:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خاور جمال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/11/141059273d5f624.jpg?r=105945" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/11/141059273d5f624.jpg?r=105945"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اقبال اور فلسطین</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1214862/</link>
      <description>&lt;p&gt;علامہ اقبال کے مجموعہ کلام ’ضرب کلیم‘ میں ایک نظم ’شام و فلسطین‘ کے عنوان سے شامل ہے۔ اس نظم میں اقبال فرماتے ہیں:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;ہے خاکِ فلسطیں پر یہودی کا اگر حق&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;ہسپانیہ پر حق نہیں کیوں اہل عرب کا؟&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چنانچہ اقبال کی رائے میں فلسطین عربوں کا ہے اور اگر کوئی فلسطینی سرزمین پر یہودیوں کے حق کی اس لیے وکالت کرتا ہے کہ وہ فلسطین سے نکالے گئے تھے تو پھر یہی حق ہسپانیہ (اسپین) کے عربوں کو بھی ملنا چاہیے کیونکہ انہیں بھی ہسپانیہ سے جلاوطن کر دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  '&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/DbMfUzuznaQ?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقبال کو فلسطین کے مسلمانوں سے گہری ہمدردی تھی کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اسلام تمام رنگ و نسل، خطوں اور سرحدوں سے بالاتر ہے۔ اگرچہ اقبال کا انتقال 1938ء میں ہوا اور اسرائیل 1948ء میں بنا لیکن اقبال مشرق وسطیٰ میں ہونے والی پیش رفت کو قریب سے دیکھ رہے تھے۔ مغربی ممالک فلسطین میں یہودیوں کو زمینیں دینے پر تلے ہوئے تھے اور ان تمام وعدوں کو پامال کررہے تھے جو انہوں نے مذاکرات کے دوران کیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احمد ڈار اپنی کتاب ’انوار اقبال‘ میں لکھتے ہیں کہ 30 دسمبر 1919ء کو لاہور کے مشہور موچی دروازے کے باہر ایک جلسہ عام کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اقبال نے ایک قرارداد پیش کی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ برطانوی حکومت نے مشرق وسطیٰ میں مسلمانوں کی سرزمین کے حوالے سے جو وعدے کیے تھے انہیں پورا کیا جائے۔ اقبال نے زور دیا کہ کسی بھی مسلم سرزمین کا کوئی حصہ کسی دوسرے کے حوالے نہیں کیا جانا چاہیے (صفحہ 42-43)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیرس امن کانفرنس کے بعد عالمی امن کے قیام کے لیے ایک بین الاقوامی تنظیم کی ضرورت محسوس کی گئی۔ نتیجتاً 1920ء میں لیگ آف نیشنز کا قیام عمل میں آیا۔ بدقسمتی سے بڑی طاقتیں لیگ آف نیشنز کے معاملات پر غالب آگئیں کیونکہ اس تنظیم نے جو کچھ کرنا تھا اس کے پاس اس کے نفاذ کی کوئی حقیقی طاقت نہیں تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلی جنگ عظیم اور لیگ آف نیشنز کے قیام کے بعد مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ کیا گیا اس سے اقبال بہت مایوس تھے۔ اس پر انہوں نے چار مصرعے کہے جو بہت سخت تھے۔ ان میں لیگ آف نیشنز کو ’کفن دُزد چند‘ یا قبروں سے کفن چرانے والے چند لوگ کہا۔ یہ دو اشعار ’پیامِ مشرق‘ میں شامل ہیں، اقبال کی فارسی شاعری کا یہ مجموعہ پہلی متربہ 1923ء میں شائع ہوا تھا۔ اقبال نے کہا کہ:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;بر فتد تا روش رزم درین بزم کہن&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;دردمندان جھان طرح نو انداختہ اند&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;من ازین بیش ندانم کہ کفن دزدی چند&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;بہر تقسیم قبور انجمنی ساختہ اند&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;[جہاں کا دکھ درد رکھنے والوں نے نئی بنیاد ڈالی ہے تاکہ دنیا سے جنگ کی ریت کو ختم کیا جائے لیکن میں اس سے زیادہ نہیں جانتا کہ کچھ کفن چورں نے قبروں کو آپس میں بانٹنے کے لیے ایک انجمن بنالی ہے۔]&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عثمانی ترکوں نے اپنے دور حکومت میں یہودیوں کے ساتھ بہت زیادہ رواداری کا مظاہرہ کیا تھا۔ انہوں نے یہودیوں کو مغربی دیوار [دیوار گریہ] کے سامنے عبادت کی اجازت بھی دی تھی۔ یہ قدیم دیوار یروشلم میں قبۃ الصخرہ کے قریب واقع ہے اور مسلمانوں میں دیوارِ براق کے نام سے مشہور ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ستمبر 1929ء میں اقبال نے انگریزوں کی یہود نواز پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے ایک تقریر کی۔ محمد رفیق افضل نے اپنی کتاب ’گفتارِ اقبال‘ میں اسے نقل کیا ہے۔ اقبال نے کہا کہ ’ترک یہودیوں کے ساتھ غیر معمولی رواداری کا سلوک کرتے رہے۔ یہودیوں کی خواہش پر انہیں مخصوص اوقات میں دیوارِ براق کے ساتھ کھڑے ہوکر گریہ و بکا کرنے کی اجازت عطا کی۔ اس وجہ سے اس دیوار کا نام ان کی اصطلاح میں دیوارِ گریہ مشہور ہوگیا۔ شریعت اسلامی کی رو سے مسجد اقصیٰ کا سارا احاطہ وقف ہے۔ جس قبضے اور تصرف کا یہود اب دعویٰ کرتے ہیں قانونی اور تاریخی اعتبار سے اس کا حق انہیں ہرگز نہیں پہنچتا‘۔ (صفحہ 93)&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیگ آف نیشنز کا ہیڈ کوارٹر سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں تھا اور برطانیہ یہودیوں کی حمایت کر رہا تھا۔ چنانچہ اقبال نے ’ضربِ کلیم‘ میں اپنی نظم ’فلسطینی عرب سے‘ میں اس کی طرف اشارہ کیا:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;تری دوا نہ جنیوا میں ہے نہ لندن میں&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;فرنگ کی رگِ جاں پنجہ یہود میں ہے&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  '&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/QSWFppwzr7c?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد حمزہ فاروقی نے اپنے ایک مضمون میں ذکر کیا ہے کہ علامہ اقبال نے 1931ء کے آخری چند ماہ میں لندن میں منعقدہ دوسری گول میز کانفرنس میں شرکت کی تاکہ ہندوستانی سیاست دانوں کے مطالبے کے مطابق وسیع تر خود مختاری کے لیے اصلاحات پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ اُن دنوں متمر العالم الاسلامی یا ورلڈ مسلم کانگریس صیہونی خطرے پر بحث کے لیے ایک کانفرنس منعقد کر رہی تھی۔ اقبال اس کانفرنس میں شرکت کے لیے لندن کانفرنس چھوڑ کر یروشلم گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/3109591147c2fb8.gif'  alt='اقبال یروشلم میں موتمر العالم الاسلامی کے پہلے اجلاس میں شریک ہیں&amp;mdash; تصویر: موتمر العالم الاسلامی' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;اقبال یروشلم میں موتمر العالم الاسلامی کے پہلے اجلاس میں شریک ہیں— تصویر: موتمر العالم الاسلامی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقبال نے دیگر کئی مواقع پر فلسطینی موقف کی حمایت کی تھی۔ جگہ کی کمی کی وجہ سے ہم یہاں بہت کچھ بیان نہیں کرسکتے لیکن اقبال کا 7 اکتوبر 1937ء کا خط جو محمد علی جناح کے نام لکھا گیا تھا، چشم کشا ہے۔ اقبلا لکھتے ہیں ’فلسطین کا مسئلہ مسلمانوں کے ذہنوں کو بہت پریشان کر رہا ہے۔ ۔۔۔مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ لیگ اس مسئلے پر ایک ٹھوس قرارداد منظور کرے گی اور قائدین کی ایک نجی کانفرنس کا انعقاد کرکے کسی ایسے مثبت قدام کا فیصلہ کرے گی جس میں عوام بڑی تعداد میں شریک ہوسکیں۔ اس طرح لیگ بھی مقبول ہوگی اور فلسطینی عربوں کی مدد بھی ہوسکے گی۔ ذاتی طور پر مجھے کسی ایسے معاملے پر جیل جانے پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہوگا جس سے اسلام اور ہندوستان دونوں متاثر ہوں‘۔ (ص27)&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقبال اس وقت بیمار تھے اور چھے ماہ کے اندر ان کا انتقال ہوگیا لیکن اس وقت بھی وہ فلسطین کے معاملے پر جیل جانے کے لیے تیار تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1784887/literary-notes-allama-iqbal-on-palestine-issue"&gt;مضمون&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; 30 اکتوبر 2023ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>علامہ اقبال کے مجموعہ کلام ’ضرب کلیم‘ میں ایک نظم ’شام و فلسطین‘ کے عنوان سے شامل ہے۔ اس نظم میں اقبال فرماتے ہیں:</p>
<p><strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">ہے خاکِ فلسطیں پر یہودی کا اگر حق</div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">ہسپانیہ پر حق نہیں کیوں اہل عرب کا؟</div></strong></p>
<p>چنانچہ اقبال کی رائے میں فلسطین عربوں کا ہے اور اگر کوئی فلسطینی سرزمین پر یہودیوں کے حق کی اس لیے وکالت کرتا ہے کہ وہ فلسطین سے نکالے گئے تھے تو پھر یہی حق ہسپانیہ (اسپین) کے عربوں کو بھی ملنا چاہیے کیونکہ انہیں بھی ہسپانیہ سے جلاوطن کر دیا گیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  '>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/DbMfUzuznaQ?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اقبال کو فلسطین کے مسلمانوں سے گہری ہمدردی تھی کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اسلام تمام رنگ و نسل، خطوں اور سرحدوں سے بالاتر ہے۔ اگرچہ اقبال کا انتقال 1938ء میں ہوا اور اسرائیل 1948ء میں بنا لیکن اقبال مشرق وسطیٰ میں ہونے والی پیش رفت کو قریب سے دیکھ رہے تھے۔ مغربی ممالک فلسطین میں یہودیوں کو زمینیں دینے پر تلے ہوئے تھے اور ان تمام وعدوں کو پامال کررہے تھے جو انہوں نے مذاکرات کے دوران کیے تھے۔</p>
<p>احمد ڈار اپنی کتاب ’انوار اقبال‘ میں لکھتے ہیں کہ 30 دسمبر 1919ء کو لاہور کے مشہور موچی دروازے کے باہر ایک جلسہ عام کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اقبال نے ایک قرارداد پیش کی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ برطانوی حکومت نے مشرق وسطیٰ میں مسلمانوں کی سرزمین کے حوالے سے جو وعدے کیے تھے انہیں پورا کیا جائے۔ اقبال نے زور دیا کہ کسی بھی مسلم سرزمین کا کوئی حصہ کسی دوسرے کے حوالے نہیں کیا جانا چاہیے (صفحہ 42-43)۔</p>
<p>پیرس امن کانفرنس کے بعد عالمی امن کے قیام کے لیے ایک بین الاقوامی تنظیم کی ضرورت محسوس کی گئی۔ نتیجتاً 1920ء میں لیگ آف نیشنز کا قیام عمل میں آیا۔ بدقسمتی سے بڑی طاقتیں لیگ آف نیشنز کے معاملات پر غالب آگئیں کیونکہ اس تنظیم نے جو کچھ کرنا تھا اس کے پاس اس کے نفاذ کی کوئی حقیقی طاقت نہیں تھی۔</p>
<p>پہلی جنگ عظیم اور لیگ آف نیشنز کے قیام کے بعد مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ کیا گیا اس سے اقبال بہت مایوس تھے۔ اس پر انہوں نے چار مصرعے کہے جو بہت سخت تھے۔ ان میں لیگ آف نیشنز کو ’کفن دُزد چند‘ یا قبروں سے کفن چرانے والے چند لوگ کہا۔ یہ دو اشعار ’پیامِ مشرق‘ میں شامل ہیں، اقبال کی فارسی شاعری کا یہ مجموعہ پہلی متربہ 1923ء میں شائع ہوا تھا۔ اقبال نے کہا کہ:</p>
<p><strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">بر فتد تا روش رزم درین بزم کہن</div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">دردمندان جھان طرح نو انداختہ اند</div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">من ازین بیش ندانم کہ کفن دزدی چند</div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">بہر تقسیم قبور انجمنی ساختہ اند</div></strong></p>
<p>[جہاں کا دکھ درد رکھنے والوں نے نئی بنیاد ڈالی ہے تاکہ دنیا سے جنگ کی ریت کو ختم کیا جائے لیکن میں اس سے زیادہ نہیں جانتا کہ کچھ کفن چورں نے قبروں کو آپس میں بانٹنے کے لیے ایک انجمن بنالی ہے۔]</p>
<p>عثمانی ترکوں نے اپنے دور حکومت میں یہودیوں کے ساتھ بہت زیادہ رواداری کا مظاہرہ کیا تھا۔ انہوں نے یہودیوں کو مغربی دیوار [دیوار گریہ] کے سامنے عبادت کی اجازت بھی دی تھی۔ یہ قدیم دیوار یروشلم میں قبۃ الصخرہ کے قریب واقع ہے اور مسلمانوں میں دیوارِ براق کے نام سے مشہور ہے۔</p>
<p>ستمبر 1929ء میں اقبال نے انگریزوں کی یہود نواز پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے ایک تقریر کی۔ محمد رفیق افضل نے اپنی کتاب ’گفتارِ اقبال‘ میں اسے نقل کیا ہے۔ اقبال نے کہا کہ ’ترک یہودیوں کے ساتھ غیر معمولی رواداری کا سلوک کرتے رہے۔ یہودیوں کی خواہش پر انہیں مخصوص اوقات میں دیوارِ براق کے ساتھ کھڑے ہوکر گریہ و بکا کرنے کی اجازت عطا کی۔ اس وجہ سے اس دیوار کا نام ان کی اصطلاح میں دیوارِ گریہ مشہور ہوگیا۔ شریعت اسلامی کی رو سے مسجد اقصیٰ کا سارا احاطہ وقف ہے۔ جس قبضے اور تصرف کا یہود اب دعویٰ کرتے ہیں قانونی اور تاریخی اعتبار سے اس کا حق انہیں ہرگز نہیں پہنچتا‘۔ (صفحہ 93)</p>
<p>لیگ آف نیشنز کا ہیڈ کوارٹر سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں تھا اور برطانیہ یہودیوں کی حمایت کر رہا تھا۔ چنانچہ اقبال نے ’ضربِ کلیم‘ میں اپنی نظم ’فلسطینی عرب سے‘ میں اس کی طرف اشارہ کیا:</p>
<p><strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">تری دوا نہ جنیوا میں ہے نہ لندن میں</div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">فرنگ کی رگِ جاں پنجہ یہود میں ہے</div></strong></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  '>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/QSWFppwzr7c?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>محمد حمزہ فاروقی نے اپنے ایک مضمون میں ذکر کیا ہے کہ علامہ اقبال نے 1931ء کے آخری چند ماہ میں لندن میں منعقدہ دوسری گول میز کانفرنس میں شرکت کی تاکہ ہندوستانی سیاست دانوں کے مطالبے کے مطابق وسیع تر خود مختاری کے لیے اصلاحات پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ اُن دنوں متمر العالم الاسلامی یا ورلڈ مسلم کانگریس صیہونی خطرے پر بحث کے لیے ایک کانفرنس منعقد کر رہی تھی۔ اقبال اس کانفرنس میں شرکت کے لیے لندن کانفرنس چھوڑ کر یروشلم گئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/10/3109591147c2fb8.gif'  alt='اقبال یروشلم میں موتمر العالم الاسلامی کے پہلے اجلاس میں شریک ہیں&mdash; تصویر: موتمر العالم الاسلامی' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>اقبال یروشلم میں موتمر العالم الاسلامی کے پہلے اجلاس میں شریک ہیں— تصویر: موتمر العالم الاسلامی</figcaption>
    </figure></p>
<p>اقبال نے دیگر کئی مواقع پر فلسطینی موقف کی حمایت کی تھی۔ جگہ کی کمی کی وجہ سے ہم یہاں بہت کچھ بیان نہیں کرسکتے لیکن اقبال کا 7 اکتوبر 1937ء کا خط جو محمد علی جناح کے نام لکھا گیا تھا، چشم کشا ہے۔ اقبلا لکھتے ہیں ’فلسطین کا مسئلہ مسلمانوں کے ذہنوں کو بہت پریشان کر رہا ہے۔ ۔۔۔مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ لیگ اس مسئلے پر ایک ٹھوس قرارداد منظور کرے گی اور قائدین کی ایک نجی کانفرنس کا انعقاد کرکے کسی ایسے مثبت قدام کا فیصلہ کرے گی جس میں عوام بڑی تعداد میں شریک ہوسکیں۔ اس طرح لیگ بھی مقبول ہوگی اور فلسطینی عربوں کی مدد بھی ہوسکے گی۔ ذاتی طور پر مجھے کسی ایسے معاملے پر جیل جانے پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہوگا جس سے اسلام اور ہندوستان دونوں متاثر ہوں‘۔ (ص27)</p>
<p>اقبال اس وقت بیمار تھے اور چھے ماہ کے اندر ان کا انتقال ہوگیا لیکن اس وقت بھی وہ فلسطین کے معاملے پر جیل جانے کے لیے تیار تھے۔</p>
<hr />
<p>یہ <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1784887/literary-notes-allama-iqbal-on-palestine-issue">مضمون</a></strong> 30 اکتوبر 2023ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1214862</guid>
      <pubDate>Tue, 31 Oct 2023 13:47:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رؤف پاریکھ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/10/311039471402f28.jpg?r=104407" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/10/311039471402f28.jpg?r=104407"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’انڈیا، بھارت یا ہندوستان؟‘ کس نام سے پکاروں کیا نام ہے تمہارا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1212861/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;سر زمینِ ہند پر اقوامِ عالم کے فراق &lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;قافلے بستے گئے ہندوستاں بنتا گیا &lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شعر ’رگھوپتی سہائے‘ کا ہے جنہیں دنیائے ادب ’فراق گورکھپوری‘ کے نام سے جانتی ہے۔ یہ شعر جس رعایت سے یاد آیا اس کا تعلق گزشتہ دنوں پڑوسی ملک ’انڈیا‘ میں جاری رہنے والی اُس بحث سے ہے جس میں ملک کا موجودہ نام بدل کر ’بھارت‘ رکھنے کی بات کی جارہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس قضیے میں ہماری دلچسپی ’انڈیا اور بھارت‘ کے لفظی معنی کے علاوہ ’ہندوستان‘ سے بھی ہے کہ یہ بھی مذکورہ ناموں کے متوازی استعمال ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوں تو نام کی تبدیلی کوئی اچنبھے کی بات نہیں کہ دنیا میں کئی شہر اور ملک ایسے ہیں جو ماضی میں کسی اور نام سے پکارے جاتے تھے اور آج کسی اور نام سے جانے جاتے ہیں۔ مثلاً  آج کا ’میانمار‘ ابھی کل تک ’برما‘ پکارا جاتا تھا اور جسے ہم سری لنکا کے نام سے جانتے ہیں وہ 1972ء تک ’سیلون‘ کہلاتا تھا جبکہ قدیم تذکرہ نگاروں کے ہاں سیلون کا نام ’سراندیپ‘ ملتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر شہروں کی بات کریں تو چین کا شہر ’بیجنگ‘ کبھی ’پیکنگ‘ تھا جبکہ ہمارا فیصل آباد کبھی ’لائل پور‘ تھا اور ساہیوال کو ’منٹگمری‘ کہا جاتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زمانہ قدیم ہی سے قریوں، شہروں اور ملکوں کے ناموں کی وجہ تسمیہ میں اساطیری، جغرافیائی، تاریخی، شخصی یا قبائلی نسبت، مظاہر فطرت کی رعایت اور سیاسی عوامل کی اثر پذیری کارفرما رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/09164002bb5fbbd.jpg'  alt='شہروں اور ملکوں کے ناموں میں کئی عناصر کی اثرپذیری کارفرما رہے ہیں' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;شہروں اور ملکوں کے ناموں میں کئی عناصر کی اثرپذیری کارفرما رہے ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="بغداد-اور-بعلبک" href="#بغداد-اور-بعلبک" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;بغداد اور بعلبک&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;اساطیری عوامل کی مثال عراق کا قدیم شہر ’بغداد‘ اور لبنان کا تاریخی شہر ’بعلبک‘ ہے۔ اول الذکر نام لفظ ’بَغ‘ اور ’داد‘ سے مرکب ہے اور معنی ہیں ’بَغ دیوتا کا عطیہ‘۔ چونکہ اس نام کو ایک بُت سے نسبت تھی چنانچہ بنوعباس کے دور خلافت میں ’بغداد‘ کو ’مدینۃ السلام‘ پکارا گیا اور اس نام نے سرکاری دستاویزات اور سکّوں پر جگہ پائی۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ تبدیل شدہ نام تاریخ کے اوراق ہی میں لکھا رہ گیا، دنیا آج بھی اس تاریخی شہر کو ’بغداد‘ کے نام سے جانتی ہے۔ دیکھیں راحت اندوری کیا کہہ گئے ہیں،&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;داستانوں کے سبھی کردار کم ہونے لگے&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;آج کاغذ چنتی پھرتی ہے پری بغداد کی&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لبنانی ’بعلبک‘ کا نام بھی دو لفظوں کا مرکب ہے، پہلا لفظ ’بعل‘ ہے جو ’سورج دیوتا‘ کا نام ہے، جبکہ جُز ثانی ’بَک‘ کے معنی شہر کے ہیں۔ یوں ’بعلبک‘ کا مطلب ہوا ’بعل کا شہر‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/091551524a8304d.jpg'  alt='قدیم بغداد&amp;mdash;تصویر: وکی پیڈیا' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;قدیم بغداد—تصویر: وکی پیڈیا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="یمن-و-شام-جغرافیائی-نام" href="#یمن-و-شام-جغرافیائی-نام" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;’یمن و شام‘ جغرافیائی نام&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;اگر شہروں یا ملکوں کے ناموں میں جغرافیائی کردار کے دخل کی بات کریں تو بلامبالغہ اس کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ یہ نام سَمتوں کے تعلق اور نشیب و فراز کی نسبت سے تشکیل پائے ہیں۔ اس کی ایک خوبصورت مثال سرزمین عرب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر آپ جزیرۃ العرب میں اس طرح کھڑے ہوں کہ آپ کا رُخ مشرق کی جانب ہو تو آپ کے دائیں جانب جو خطہ ہوگا وہ ’یمن‘ کہلاتا ہے اور بائیں جانب کا علاقہ ’شام‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ’یمن‘ کے لفظی معنی ’دائیں‘ اور ’شام‘ کے معنی ’بائیں‘ کے ہیں یوں ان دونوں خطوں کا نام ان کی جغرافیائی وقوع کی عطا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/09155608c91f602.jpg'  alt='یمن اور شام کی دونوں خطوں کا ان کے جغرافیائی وقوع کی عطا ہے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;یمن اور شام کی دونوں خطوں کا ان کے جغرافیائی وقوع کی عطا ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="نجد-حجاز-اور-تہامہ" href="#نجد-حجاز-اور-تہامہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;نجد، حجاز اور تہامہ&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;خاص عرب کے تعلق سے علاقہ نجد، تہامہ اور حجاز کے ناموں پر غور کریں تو بات اور آسان ہو جاتی ہے، اس لیے کہ ’نجد‘ کے معنی ’بلندی‘ اور ’تہامہ‘ کے معنی نشیب کے ہیں۔ ان دونوں خطوں کے یہ نام طبعی نشیب و فراز کے مطابق ہیں۔ پھر ان دونوں علاقوں کے درمیان جو علاقہ آڑ کا کردار ادا کرتا ہے وہ ’حجاز‘ کہلاتا ہے اور ’حجاز‘ کے معنی ہی ’آڑ، روک اور فاصل‘ کے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="آسٹریلیا-جنوبی-زمین" href="#آسٹریلیا-جنوبی-زمین" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;’آسٹریلیا‘ جنوبی زمین&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;نیز شمالی کوریا اور جنوبی کوریا، مشرقی بنگال (موجودہ بنگلا دیش) اور مغربی بنگال سمیت متعدد مثالیں ہیں جو بہت سے خطوں کا جغرافیائی وقوع واضح کرتی ہیں۔ جبکہ ’آسٹریلیا‘ کا مطلب ہی ’جنوبی زمین‘ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/091646143c73a28.jpg'  alt='آسٹریلیا نام کا مطلب جنوبی زمین ہے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;آسٹریلیا نام کا مطلب جنوبی زمین ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="مختلف-اقوام-سے-منسوب-خطے" href="#مختلف-اقوام-سے-منسوب-خطے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;مختلف اقوام سے منسوب خطے&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;دنیا میں ممالک اور علاقوں کی کثیر تعداد ایسی بھی ہے جن کے نام وہاں آباد اقوام کی نسبت سے تشکیل پائے ہیں۔ مثلاً افغانستان (افغانوں کی سرزمین)، ایران (آریاؤں کی سرزمین)، منگولیا (سرزمین منگول)، انگلینڈ (انگلش قوم کا ملک)، پولینڈ (پولش قوم کا ملک) وغیرہ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا میں بعض خطوں کے نام کسی نہ کسی شخص کی نسبت سے رکھے گئے ہیں۔ مثلاً امریکا کو ’امریگو وسپوچی‘ کے نام سے نسبت ہے تو کولمبیا کو ’کولمبس‘ کے تعلق سے یہ نام ملا ہے۔ خود پاکستان میں حیدرآباد، فیصل آباد، رحیم یار خان، ڈیرہ اسمعٰیل خان اور ڈیرہ غازی خان وغیرہ مختلف اشخاص کے ناموں سے نسبت رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="ترکی-سے-تُرکیہ-کیوں-ہوا" href="#ترکی-سے-تُرکیہ-کیوں-ہوا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ترکی سے تُرکیہ کیوں ہوا؟&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;تبدیلی نام کی ایک مثال ’تُرکیہ‘ ہے جو کچھ عرصہ قبل تک ’تُرکی‘ کہلاتا تھا۔ نام کی اس تبدیلی میں سیاسی سے زیادہ نفسیاتی عوامل کار فرما ہیں۔ کہنے کو تو ’تُرکی‘ کو تُرک قوم سے نسبت ہے۔ مگر جب اس تُرکی کو انگریزی میں ’Turkey/ٹرکی‘ لکھا اور پکارا جاتا ہے تو اس میں استہزاء اور تحقیر کا پہلو نکلتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;استہزا کا پہلو یہ کہ ’Turkey / ٹرکی‘ ایک معروف پرندہ بھی ہے جو امریکا میں تھینکس گیونگ ڈے کے موقع پر بڑے اہتمام سے پکایا اور کھایا جاتا ہے۔ ( اس بڑے اور فربہ پرندے کو عربی میں ’الديك الرومی‘ اور ’الدَّجَاجُ الرُّومِی‘، فارسی میں ’بوقلمون‘ اور ’فیل مرغ‘ جبکہ اردو میں ’تُرکی مرغی‘ کہتے ہیں)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/09160243c095405.jpg'  alt='ٹرکی کو پرندے کے علاوہ انگریزی لغت میں ٹرکی کے معنیٰ بےوقوف شخص کے ہیں' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ٹرکی کو پرندے کے علاوہ انگریزی لغت میں ٹرکی کے معنیٰ بےوقوف شخص کے ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جہاں تک تحقیر کی بات ہے تو انگریزی ڈکشنریز لفظ ’Turkey‘ کے ضمن میں جو معنی بیان کرتی ہیں ان میں ’احمق اور بے وقوف شخص‘ بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بھی ’Turkey‘ سے مرکب کئی تراکیب ایسی ہیں جن میں ذَم یا ہجو کا پہلو پایا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ان معنی و مفاہیم میں یورپ کے خبث باطن کا بھی دخل ہے کہ ایک عہد میں یورپ کا وسیع علاقہ عثمانی ترکوں کے زیرِ اثر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چونکہ ’Turkey‘ کے یہ مفاہیم ترکوں کے وقار کے خلاف تھے، چنانچہ سال 2021ء میں تُرک قیادت نے اقوام متحدہ میں باقاعدہ درخواست دی کہ اُن کے وطن کا نام تمام دستاویزی کارروائیوں میں ’Turkey / ٹرکی‘ کے بجائے ’Türkiye/تُرکیہ‘ درج کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس درخواست کے جواب میں گزشتہ سال 2022ء اقوام متحدہ نے باقاعدہ آگاہ کیا کہ تُرکی کا تبدیل شدہ نام ’تُرکیہ‘ فوراً نافذ العمل ہوگیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/09160258aeded4c.jpg?r=160435'  alt='کچھ لوگ ترکی کو اب &amp;rsquo;ترکیہ&amp;lsquo; جبکہ کچھ &amp;rsquo;ترکیے&amp;lsquo; پکار رہے ہیں' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;کچھ لوگ ترکی کو اب ’ترکیہ‘ جبکہ کچھ ’ترکیے‘ پکار رہے ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی ذرائع ابلاغ کو اس تبدیل شدہ نام کے باب میں ’زبانِ یارِ من ترکی و من ترکی نمی دانم‘ کی سی صورتحال کا سامنا ہے، لہٰذا اس متبادل نام (Türkiye) کو کوئی ’تُرکیہ‘ لکھا رہا ہے تو کوئی ’تُرکیے‘ پکار رہا ہے۔ بہرحال اچھی بات یہ ہے کہ اسے ’تُرکی‘ کوئی نہیں کہہ رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="مودی-سرکار-کا-بھارت-پر-اصرار-کیوں" href="#مودی-سرکار-کا-بھارت-پر-اصرار-کیوں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;مودی سرکار کا ’بھارت‘ پر اصرار کیوں؟&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;اب آتے ہیں اصل مدعا پر کہ مودی سرکار ملک کا نام ’بھارت‘ کیونکر رکھنا چاہتی ہے اور بی جے پی ’انڈیا‘ کے نام سے بیزاری کیوں دکھا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا کی حالیہ تاریخ میں شاید بھارت واحد ملک ہے جہاں بہت کم مدت میں ریاستوں، شہروں اور قصبات کے نام سب سے زیادہ تبدیل کیے گئے ہیں۔ مدراس کا ’چنئی‘، بومبے کا ’ممبئی‘، کلکتہ کا ’کولکتہ‘ اور الٰہ آباد کا نام ’پریاگ راج‘ رکھا جانا تو سامنے ہی کی بات ہے۔ علاوہ ازیں 2007ء میں شمالی ریاست اُترانچل کا نام ’اُتراکھنڈ‘ ہوا تو 2011ء میں اُڑیسا کا نام ’اوڈیشا‘ کردیا گیا۔ صرف 2001ء سے 2020ء کے درمیان بھارت میں چھوٹے بڑے درجنوں علاقوں کے نام تبدیل ہوئے اور جب اس سب سے جی بھر گیا تو اب مودی سرکار کا اصرار ہے کہ ’انڈیا‘ کا نام بدل کر ’بھارت‘ رکھ دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2019/04/5ca5d7bfdc268.jpg'  alt='مودی سرکار کا &amp;rsquo;بھارت&amp;lsquo; پر اصرار کیوں؟&amp;mdash;تصویر: رائٹرز' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;مودی سرکار کا ’بھارت‘ پر اصرار کیوں؟—تصویر: رائٹرز&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ آخر ناموں کی اس تبدیلی کے پیچھے کیا جذبہ کار فرما ہے اور دوم یہ کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) ’انڈیا‘ کا نام ’بھارت‘ سے کیوں بدلنا چاہتی ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جہاں تک سوال کے پہلے جُز کا تعلق ہے تو اس کے لیے یہ جواز بتایا گیا ہے کہ نام بدلے نہیں جا رہے بلکہ گزرتے سمے میں جو نام بگڑ کر کچھ سے کچھ ہوگئے تھے ان کی اصلاح کی جارہی ہے مثلاً ’گُڑگاؤں‘ کی اصل ’گروگام‘ ہے سو اس کا درست نام بحال کردیا گیا ہے۔ یہی معاملہ ’کولکتہ‘ کا ہے جو انگریزوں اور انگریزی کی زیرِاثر ’کلکٹا/کلکتہ‘ ہوگیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب اگر ناموں کی اصلاح کا یہ فارمولہ درست مان لیا جائے تو سوال پیدا ہوتا کہ ’الٰہ آباد‘ کو کیونکر ’پریاگ راج‘ کا نام دیا گیا؟ کیوں اورنگزیب عالمگیر سے منسوب دکن کے مشہور شہر ’اورنگ آباد‘ کا نام بدل کر ’چھتر پتی سمبھاجی نگر‘ کردیا گیا اور کیوں سابقہ ریاست حیدرآباد دکن کے فرما روا سے منسوب شہر ’عثمان آباد‘ کا نام ’دھارا شیو‘ رکھا گیا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/091542465b47923.jpg'  alt='مودی سرکار ہندو تشخص بحال کرنے کے لیے مسلمانوں سے منسوب شہروں کے نام تبدیل کررہے ہیں' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;مودی سرکار ہندو تشخص بحال کرنے کے لیے مسلمانوں سے منسوب شہروں کے نام تبدیل کررہے ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بات یہ ہے کہ تقسیمِ ہند کے بعد خاص طور پر بی جے پی کے عروج کے ساتھ انڈیا کا ’ہندو تشخص‘ بحال کرنے کے نام پر مسلمانوں سے منسوب بیشتر شہروں اور قریوں کے ناموں کو نشانہ بنایا گیا اور مختلف حیلوں بہانوں اور غلط تاریخی حوالوں کی بنیاد پر یہ نام تبدیل کردیے گئے۔ اوپر درج مثالوں کے علاوہ  یوپی کے ضلع فیض آباد کا نام ’ایودھیا‘ اور ’مغل سرائے اسٹیشن‘ کا نام بدل کر ’پنڈت دین دیال اپادھیائے‘ رکھا جانا ایسی ہی بھونڈی کوششیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="انڈیا-یعنی-بھارت" href="#انڈیا-یعنی-بھارت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;انڈیا یعنی بھارت&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;خیر ذکر تھا ملک کا نام ’انڈیا‘ سے ’بھارت‘ رکھنے کا تو سچی بات یہ ہے کہ مودی سرکار اس بحث میں اپنے عوام کو بیوقوف بنانے کے سوا کچھ نیا نہیں کر رہی۔ وہ اس لیے کہ آزادی کے بعد تشکیل پانے والے انڈین آئین کے آغاز ہی میں یعنی آرٹیکل 1.1 میں واضح کردیا گیا تھا کہ India, that is Bharat, shall be a Union of States یعنیٰ انڈیا یعنی بھارت، ریاستوں کا اتحاد ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/09162447b8936e6.jpg'  alt='بھارتی آئین میں انڈیا کے ساتھ ساتھ بھارت بھی درج ہے&amp;mdash;تصویر: اسکرین شاٹ/انڈیا کوڈ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;بھارتی آئین میں انڈیا کے ساتھ ساتھ بھارت بھی درج ہے—تصویر: اسکرین شاٹ/انڈیا کوڈ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیز یہ کہ ڈاکٹر امیبڈکر کی کوششوں سے تخلیق پانے والے اس آئین میں 900 سے زیادہ بار لفظ ’انڈیا‘ آیا ہے اور ہر بار یہ وضاحت کی گئی ہے کہ انڈیا سے مراد بھارت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب سوال یہ ہے کہ اگر خود انڈین آئین میں ملک کا نام ’بھارت‘ موجود ہے تو پھر مودی سرکار یہ ناٹک کیوں رچا رہی ہے؟ تو عرض ہے کہ 2024ء بھارت میں الیکشن کا سال ہے۔ ایسے میں برسرِاقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف 28 پارٹیوں پر مشتمل جو وسیع اتحاد بنا ہے اسے ’انڈین نیشنل ڈویلپمنٹ انکلوسیو الائنس‘ کا نام دیا گیا اور اس الائنس کا مخفف ’انڈیا‘ ہے۔ جبکہ اس اتحاد کا نعرہ ہے ’جُڑے گا بھارت جیتے گا انڈیا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="کیا-انڈیا-لفظ-گالی-ہے" href="#کیا-انڈیا-لفظ-گالی-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;کیا ’انڈیا‘ لفظ گالی ہے؟&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;اب ظاہر ہے کہ ایسی قوم جو دھرتی کو ماں کا درجہ دیتی اور وندے ماترم (ماں تجھے سلام) کا گیت گاتی ہو، اس قوم کی ’انڈیا‘ نام کے ساتھ جذباتی وابستگی ایک فطری امر ہے۔ اپوزیشن جذبات کی اسی لہر کو ایک نفسیاتی حربے کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہے۔ مگر بی جے پی بھی کائیاں پارٹی ہے، اس نے ہندوتوا کی آڑ میں ’بھارت‘ کو ملک کا حقیقی نام بتاتے ہوئے لفظ ’انڈیا‘ کو غلامی کی علامت کہنا شروع کردیا ہے۔ جبکہ بی جے پی کے ایک مہاشے نے تو لفظ ’انڈیا‘ کو گالی بھی قرار دے دیا ہے۔ اس مشق کا مقصد یہ ہے کہ جب لفظ ’انڈیا‘ ہی قابلِ نفرت بن جائے گا تو اپوزیشن ازخود قابل ملامت قرار پائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/09163138a0cd06e.jpg'  alt='ہندوتوا کی آڑ میں &amp;rsquo;بھارت&amp;lsquo; کو ملک کا حقیقی نام بتاتے ہوئے لفظ &amp;rsquo;انڈیا&amp;lsquo; کو غلامی کی علامت کہنا شروع کردیا ہے&amp;mdash;تصویر: اے ایف پی' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ہندوتوا کی آڑ میں ’بھارت‘ کو ملک کا حقیقی نام بتاتے ہوئے لفظ ’انڈیا‘ کو غلامی کی علامت کہنا شروع کردیا ہے—تصویر: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="تبدیلی-نام-کیخلاف-ایک-کمزور-دلیل" href="#تبدیلی-نام-کیخلاف-ایک-کمزور-دلیل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;تبدیلی نام کیخلاف ایک کمزور دلیل&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;اب یہ تو ظاہر ہے کہ مودی سرکار اپنے عوام کو بیوقوف بنا رہی ہے اور اس کی اس مشق کے نتیجے میں انڈیا ایک نئی بحث کی لپیٹ میں ہے۔ نام کی تبدیلی کے مخالفین ایک دلیل یہ دے رہے ہیں کہ ’انڈیا‘ قومی اداروں کے علاوہ سیکڑوں نجی اداروں کے نام کا جُز بھی ہے۔ پھر ملک کی کرنسی ہی نہیں تمام قانونی دستاویزات بھی ’انڈیا‘ کا نام لیے ہوئے ہیں، ایسے میں کیا یہ سب کچھ بھی تبدیل ہوگا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہمارے مطابق اپوزیشن کا یہ اعتراض اس لیے لائق التفات نہیں کہ وہ ملک جن کے نام تبدیل ہوئے ہیں مثلاً ہولینڈ سے نیدرلینڈز، سیام سے تھائی لینڈ، جمہوریہ کمپوچیا سے کمبوڈیا یا اپروولٹا سے برکینا فاسو، یا وہ تمام ممالک جو مختلف وقتوں میں آزاد ہوئے ہیں، ان سب کو اسی طرح کے چیلنجز کا سامنا تھا ایسے میں انہوں نے تمام اداروں اور سرکاری دستاویزات وغیرہ میں نئے نام کو رواج دیا اور تبدیلی نام کا یہ عمل ان ملکوں کے عوام ہی نہیں بلکہ دنیا نے بھی قبول کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپوزیشن کے نزدیک اصل چیلنج بی جے پی کے جھوٹ کا پردہ چاک کرنا ہے کہ وہ آئین میں درج ’انڈیا یعنی بھارت‘ کی وضاحت کے باوجود اپنے لوگوں کو گمراہ کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="ایک-ملک-دو-نام" href="#ایک-ملک-دو-نام" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ایک ملک دو نام&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/09164846a456d33.jpg?r=164907'  alt='بھارتی  آئین میں &amp;rsquo;انڈیا یعنی بھارت&amp;lsquo; درج ہے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;بھارتی  آئین میں ’انڈیا یعنی بھارت‘ درج ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل کہ لفظ ’انڈیا، بھارت اور ہندوستان‘ کے لفظی معنی کی بات کی جائے ایک ضروری بات اور ذہن نشین کر لیں اور وہ یہ کہ دنیا میں کئی ممالک ایسے ہیں جو بیک وقت اپنے دو ناموں کے ساتھ کاروبار مملکت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مثلاً ’مصر‘ کو بیرونی دنیا بالخصوص مغرب ’Egypt / ایجپٹ‘ اور اردن کو ’Jordan/جورڈن‘ پکارتی ہے۔ پھر ان دونوں ممالک کی سرکاری دستاویزات پر بھی ان کے ہر دو نام درج ہوتے ہیں۔ نیز عرب مؤرخین کے یہاں جو خطہ ’بلاد الشّام‘ سے موسوم ہے اُس کا ایک حصہ آج بھی یونانی نام ’Syria/ سیریہ‘ کے ساتھ موجود ہے۔ واضح رہے کہ ’بلاد الشّام‘ کا وسیع خطہ آج کے شام یعنی سیریہ، اردن، لبنان، فلسطین اور اسرائیل پر مشتمل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="جاپان-ابھرتے-سورج-کی-سرزمین" href="#جاپان-ابھرتے-سورج-کی-سرزمین" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;’جاپان‘ ابھرتے سورج کی سرزمین&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;اگر جاپان کی بات کریں تو اس ملک کا یہ نام بیرونی دنیا کی عطا ہے ورنہ جزائر پر مشتمل اس عظیم ملک کا سرکاری نام نیپون (Nippon) ہے جبکہ عوامی لہجے میں اسے نیہون (Nihon) کہا جاتا ہے۔ اور ان دونوں الفاظ کا مطلب ’ابھرتے سورج کی سرزمین‘ ہے، اس بات کا عکس اس ملک کے پرچم میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="چین-چائنا-اور-چونگ-گوا" href="#چین-چائنا-اور-چونگ-گوا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;چین، چائنا اور ’چونگ گوا‘&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ایسے ہی جس ملک کو عرب ’الصین‘، ہم ’چین‘ اور یورپ ’چائنا‘ کہتا ہے وہ حقیقتاً ’Zhōngguó/چونگ گوا‘ ہے۔ مصر ہو یا اُردن، جاپان ہو یا چین، ان میں کسی ملک کو کوئی پریشانی نہیں کہ ہمارا نام تو یہ اور یہ ہے اور دنیا ہمیں فلاں اور فلاں نام سے کیوں پکار رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/0916344165f4c22.jpg'  alt='جاپانی اپنے ملک کو نیہون جبکہ چینی اپنے ملک کو چونگ گوا کہتے ہیں' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;جاپانی اپنے ملک کو نیہون جبکہ چینی اپنے ملک کو چونگ گوا کہتے ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="جمہوریہ-بھارت" href="#جمہوریہ-بھارت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;’جمہوریہ بھارت‘&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;یوں تو بی جے پی قیادت اکثر اشاروں کنایوں میں اور کبھی ببانگ دہل ’انڈیا‘ کا نام ’بھارت‘ رکھنے کا شوشا چھوڑتی رہی ہے، تاہم حالیہ دنوں میں یہ بحث اس وقت تقویت پکڑ گئی جب بھارتی ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا کہ مودی سرکار آئین میں ترمیم کرتے ہوئے ملک کا نام صرف ’جمہوریہ بھارت‘ رکھنے جا رہی ہے۔ نیز انڈیا کی میزبانی میں ہونے والے جی 20 کے سربراہی اجلاس کے شرکا کے لیے انڈین صدر کی جانب سے عشائیہ کا جو دعوت نامہ جاری کیا گیا اس میں جلی طور پر The President of Bharat درج تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/091548344941256.jpg'  alt='جی 20 سربراہی کانفرنس کا دعوت نامہ&amp;mdash;تصویر: ایکس' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;جی 20 سربراہی کانفرنس کا دعوت نامہ—تصویر: ایکس&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="ناموں-پر-غور" href="#ناموں-پر-غور" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ناموں پر غور&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;یہاں یہ امر لائق توجہ ہے کہ ملک کا نام ’انڈیا‘ انگریزوں سے ملے ورثے کے طور پر آنکھ بند کرکے قبول نہیں کیا گیا تھا بلکہ اس کے لیے بھارتی دستور ساز اسمبلی میں باقاعدہ بحث ہوئی اور اس موقع پر چند ناموں اور ترکیبوں پر غور کیا گیا جیسا کہ بھارت، بھارت بھومی، بھارت ورش، انڈیا یعنی بھارت، اور بھارت یعنی انڈیا۔ اس غور و خوض کے بعد ہی ’انڈیا یعنی بھارت‘ پر اتفاق ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="انڈیا-کو-ہندوستان-نہ-کہا-جائے" href="#انڈیا-کو-ہندوستان-نہ-کہا-جائے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;’انڈیا‘ کو ’ہندوستان‘ نہ کہا جائے&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;یہاں ایک دلچسپ بات کا تذکرہ ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ 2015ء میں بی جے پی کی قیادت میں مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کو آگاہ کیا تھا کہ ملک کا نام ’انڈیا‘ ہے اور اسے ’ہندوستان‘ کے نام سے نہ پکارا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی جے پی کو ’ہندوستان‘ کے نام سے کیا بیر ہے؟ اس پر آگے بات کریں گے فی الحال یہ تماشا ملاحظہ کریں کہ چند سال قبل تک جو مودی سرکار ’انڈیا‘ نام پر اصرار کر رہی تھی اب وہی ’انڈیا‘ کو غلامی کی ’بچی کھچی نشانی‘ بتا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ برس 2022ء میں یوم آزادی کی تقریر میں وزیراعظم مودی نے بھارتی شہریوں سے کہا تھا کہ وہ غلامی کی بچی کھچی نشانیاں مٹا دیں گے کیونکہ ملک کا نام ’بھارت‘ رکھنا قومی شناخت اپنائے جانے کی علامت ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="ہندو-سے-انڈوس" href="#ہندو-سے-انڈوس" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ہندو سے انڈوس&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;اس طول طویل پس منظر کے بعد اب بات ہوجائے ’انڈیا، بھارت اور ہندوستان‘ کے لفظی معنی کی۔ محقیقین کے نزدیک اس بات پر اتفاق ہے کہ لفظ ’ہندو‘ قدیم ایرانیوں کی دین ہے۔ لفظ ’ہندو‘ یونانی میں ’انڈوس‘ ہوکر لاطینی میں ’انڈس‘ ہوا اور پھر اس سے لفظ ’انڈیا‘ وجود میں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف فارسی یا قدیم پہلوی کا ’ہندو‘ جب سرزمین عرب پہنچا تو ’ہند‘ ہوا اور پھر برصغیر کے عہد اسلامی، بالخصوص مغل عہد میں ’ہندوستان‘ کہلایا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="سپت-سندھو" href="#سپت-سندھو" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;’سپت سندھو‘&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;یہاں سوال یہ ہے کہ خود لفظ ’ہندو‘ کا پس منظر کیا ہے؟ تو اس حوالے سے عرض ہے کہ سنسکرت میں دریا کو ’سندھو‘ کہتے ہیں۔ یہی وجہ رہی کہ آریائی قبائل جب قافلہ در قافلہ برصغیر میں داخل ہوئے تو انہیں اٹک سے لےکر پنجاب کے وسیع میدانوں تک پے در پے 7 دریاؤں کو عبور کرنا پڑا۔ یہ سات دریا بالترتیب دریائے کابل، دریائے سندھ، دریائے جہلم، دریائے چناب، دریائے روای، دریائے ستلج اور دریائے بیاس برصغیر کے شمال مغرب سے آنے والوں کی راہ میں آئے تھے۔ یہ سب کچھ ان کے لیے خاصا حیران کُن تھا لہٰذا انہوں نے اس وسیع خطے کو ’سپت سندھو‘ یعنی سات دریاؤں کی سرزمین کا نام دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رہا یہ سوال کہ ’سندھو‘ بدل کر ’ہندو‘ کیسے ہوا؟ تو عرض ہے کہ صوتی تبادل میں بیشتر حروف کی طرح گاہے حرف ’س/ سین‘ اور ’ہ / ہائے ہوز‘ باہم بدل جاتے ہیں۔ مثلاً سنسکرت کا ’ماس‘ یعنی مہینہ فارسی میں ’ماہ‘ ہے۔ ’دس‘ فارسی میں ’دہ‘ ہے۔ ایسی ہی ’کپاس‘ کی دوسری صورت ’کپاہ‘ ہے۔ اب اگر ’س/ سین‘ اور ’ہ / ہائے ہوز‘ کا یہ تبادلہ پیش نظر ہو تو سمجھنے میں دیر نہیں لگے گی کہ سنسکرت کا ’سندھو‘ فارسی میں ’ہندو‘ کیونکر ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="کوؤں-کا-حملہ" href="#کوؤں-کا-حملہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;کوؤں کا حملہ&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;اہلِ ہند، افریقی باشندوں کی طرح سیاہ فام تو نہیں تھے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کا رنگ صاف بھی نہیں تھا۔ یوں اہل ایران رنگت کی مناسبت سے دونوں کو ایک ہی زمرے میں شمار کرتے تھے۔ یہی سبب تھا کہ یمن پر حبشہ کے قبضے کے بعد بے دخل ہونے والے حکمران خاندان کا فرد ’سیف بن ذی یزن‘ امداد کے لیے جب کسریٰ ایران کے پاس پہنچا اور اسے بتایا کہ اس کے ملک پر کوّوں (کالوں) نے حملہ کردیا ہے تو کسریٰ نے استفسار کیا ’کون سے کوّے، ہندوستان کے یا حبشہ کے؟‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/091657331793360.jpg'  alt='سانولی رنگت کی وجہ سے افریقی اور اہلِ ہند کو ایک ہی زمرے میں شمار کیا جاتا تھا' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;سانولی رنگت کی وجہ سے افریقی اور اہلِ ہند کو ایک ہی زمرے میں شمار کیا جاتا تھا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;محبوب کا سیاہ تِل&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہند کے باشندوں کی قدیم رنگت کی نسبت ہی سے فارسی میں ہر سیاہ چیز کو ’ہندو‘ کہا گیا۔ دیکھیں حافظ شیرازی اپنے محبوب کے سیاہ تِل کا ذکر کیسے کر رہے ہیں،&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;گر آن ترک شیرازی بہ دست آرد دل ما را&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;بہ خال ہندویش بخشم سمرقند و بخارا را&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’اے شیرازی محبوب اگر تُو میرا نذرانہ دل قبول کرلے تو میں ترے رخسار پر موجود کالے تل کے بدلے سمرقند و بخارا بخش دوں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حُسن کی سرکار میں جتنے بڑھے ہندو&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چونکہ زلفیں بھی سیاہ ہوتی ہیں اس لیے فارسی اور اس کی رعایت سے اردو میں بھی زلفوں کو مجازاً ہندو کہتے ہیں۔ یقین نہ آئے تو استاد ابراہیم ذوق کا شعر ملاحظہ کریں جو کہہ گئے ہیں،&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;خط بڑھا، کاکُل بڑھے، زلفیں بڑھیں، گیسو بڑھے&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;حُسن کی سرکار میں جتنے بڑھے
ہندو بڑھے&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بات یہیں تمام نہیں ہوئی بلکہ سیاہی کی نسبت سے ’ہندو‘ نے فارسی میں کئی ایک تراکیب کو جنم دیا مثلاً سیاہ آنکھیں اگر ’ہندوی چشم‘ کہلائیں تو ستارہ زُحَل (جو نحس تصور کیا جاتا ہے) اپنی نحوست کے سبب ’ہندوی چرخ‘ کہلایا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="ہندو-بمعنی-غلام-اور-پاسبان" href="#ہندو-بمعنی-غلام-اور-پاسبان" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ہندو بمعنی غلام اور پاسبان&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;یہ معلوم و معروف بات ہے کہ سلطنت ایران ایک طاقتور حکومت تھی اور اس زمانے کے دستور کے مطابق ایران میں بھی مختلف خطوں کے باشندے بطور غلام خدمات انجام دے رہے تھے۔ ان غلاموں کو کالے اور گورے دو اقسام میں تقسیم سمجھا جاتا تھا۔ سیاہ فام غلاموں کا تعلق ہندوستان اور افریقی سرزمین سے تھا جو ترک، رومی اور بابلی غلاموں کے مقابل اپنی سیاہ رنگت کی نسبت سے ’ہندو‘ کہلاتے تھے۔ چونکہ غلاموں سے چوکیداری یا پاسبانی کا کام بھی لیا جاتا تھا یوں ’ہندو‘ کے مفہوم میں مجازاً غلام اور پاسبان بھی داخل ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2018/11/5bfa9af650855.jpg'  alt='رک، رومی اور بابلی غلاموں کے مقابل اپنی سیاہ رنگت کی نسبت سے &amp;rsquo;ہندو&amp;lsquo; کہلاتے تھے&amp;mdash;تصویر: اے ایف پی' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;رک، رومی اور بابلی غلاموں کے مقابل اپنی سیاہ رنگت کی نسبت سے ’ہندو‘ کہلاتے تھے—تصویر: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="لفظ-ہندو-کے-مفاہیم" href="#لفظ-ہندو-کے-مفاہیم" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;لفظ ’ہندو‘ کے مفاہیم&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;اب اگر ہم فارسی میں ’ہندو‘ کے دیگر معنی و مفاہیم سے صرف نظر کرتے ہوئے ہندوستان کے تعلق سے فارسی لفظ ’ہندو‘ کا جائزہ لیں تو اس کے درج ذیل تین بنیادی معنی سامنے آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اول یہ کہ ہندو کے معنی میں ہر وہ شخص داخل ہے جو ’ہندو مت‘ کا پیرو ہو۔ دوم یہ کہ ہندو کی تعریف میں ہر وہ شخص داخل ہے جو ہندوستان کا باشندہ ہو جبکہ سوم یہ کہ ہندو کے معنی سیاہ کے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے کہ ایران کے دیے گئے نام ’ہندو‘ ہی سے ترکیب ’ہندوستان‘ وضع ہوئی جو مغل اقتدار کے زوال تک باقاعدہ استعمال ہوتی رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="ہندوستان-کی-حدود" href="#ہندوستان-کی-حدود" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;’ہندوستان‘ کی حدود&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;یہاں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے اور وہ یہ کہ انگریز دور میں کشمیر سے کنیا کماری تک جو خطہ ’انڈیا‘ کہلاتا تھا اس پورے خطے پر لفظ ’ہندوستان‘ کا اطلاق نہیں ہوتا تھا۔ پنجاب و سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) اور  خاص طور پر دکن کا علاقہ ’ہندوستان‘ سے باہر سمجھا جاتا تھا۔ ایسا اس لیے تھا کیونکہ ’ہندوستان‘ کی حدود سرہند سے جنوب کی طرف ست پُڑا کے پہاڑی سلسلے تک محسوب ہوتی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/11124418b8f919b.jpg'  alt='&amp;rsquo;انڈیا&amp;lsquo; کی حدود' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;’انڈیا‘ کی حدود&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="ہندوستان-کی-حدود-اور-علامہ-اقبالؒ" href="#ہندوستان-کی-حدود-اور-علامہ-اقبالؒ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;’ہندوستان‘ کی حدود اور علامہ اقبالؒ&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;اب اس بات کو علامہ اقبالؒ کے ایک خط سے سمجھیں جو ’شاطرمدراسی‘ کو ان کے خط کے جواب میں لکھا گیا۔ 16 مارچ 1905ء کو تحریر کیے گئے خط میں علامہ اقبال رقمطراز ہیں، ’آپ کا اسلوب بیان واقعی نرالا ہے۔ اور آپ کی صفائی زبان آپ کے ہم وطنوں کے لیے سرمایہ افتخار ہے۔ میرا خود خیال تھا کہ آپ اصل میں ہندوستان کے رہنے والے ہوں گے۔ مگر یہ معلوم کرکے کہ آپ کی پرورش مدراس میں ہوئی، مجھے تعجب ہوا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;باالفاظ دیگر مدراس جو دکن میں ہے ’ہندوستان‘ میں شامل نہیں تھا۔ یہی وجہ رہی کہ فانی بدایونی کو کہنا پڑا،&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;فانی دکن میں آ کے یہ عقدہ کُھلا کہ ہم&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;ہندوستان میں رہتے ہیں ہندوستان سے دور&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="انڈیا" href="#انڈیا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;انڈیا&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ایران کے تعلق سے ’ہندو‘ اور ’ہندوستان‘ کا ذکر تمام ہوا، اب یونانیوں کی نسبت سے ’انڈیا‘ کا قصہ ملاحظہ کریں۔ جب یونانیوں نے اس خطے میں قدم رکھا تو ’دریائے سندھ‘ کو اپنے لہجے میں ’Indos / انڈوس‘ اور اس کے پار سرزمین کو ’انڈیکا / Indica‘ کا نام دیا۔ بعد میں دونوں الفاظ لاطینی زبان میں پہنچ کر بالترتیب ’انڈس‘ اور ’انڈیا‘ ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="انڈیگو" href="#انڈیگو" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;انڈیگو&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;اس ’انڈیا‘ کی نسبت سے یہاں کی اہم برآمدت میں سے ایک ’نیل‘ نے ’indigo / انڈیگو‘ نام پایا۔ اور آج بھی انگریزی میں مخصوص سبزی مائل گہرا نیلا رنگ ’indigo / انڈیگو‘ کہلاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/11124001d6db73e.jpg'  alt='دریائے سندھ کے کنارے ہونے کے باعث انڈس سے یہ خطہ انڈیا کہلایا جانے لگا' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;دریائے سندھ کے کنارے ہونے کے باعث انڈس سے یہ خطہ انڈیا کہلایا جانے لگا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="ہند" href="#ہند" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ہند&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;ایرانیوں اور یونانیوں کے بعد یہاں عربوں نے قدم رکھا اور مفتوحہ علاقے کو ’سِند‘ اور غیر مفتوح خطے کو ’ہند‘ کے نام سے پکارا۔ بہت سے الفاظ اور ناموں کی طرح لفظ ’ہند‘ کے ساتھ عجب اتفاق یہ ہے کہ اگر یہ ایران میں ’سیاہ/کالے‘ کے معنی دیتا ہے تو عرب میں یہ خوبصورتی اور کاملیت (Perfection) کا مفہوم رکھتا ہے۔ ہند کی تلواروں کو عرب میں خصوصی اہمیت حاصل تھی۔ علاوہ ازیں قدیم زمانے ہی سے عرب میں لڑکیوں کا نام ’ہند‘ رکھا جاتا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="بھارت" href="#بھارت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;بھارت&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;لفظ ’بھارت‘ کو دراصل کس سے نسبت ہے اس بارے میں ابہام موجود ہے۔ تاہم جو بات یقینی ہے وہ یہ کہ اس نام کی جڑیں قدیم ہندو روایات میں پیوست ہیں۔ ایک روایت کے مطابق ’بھارت‘ بھرتوں کے ایک ایسے ویدک قبیلے سے ماخوذ ہے جس کا تذکرہ ’رگ وید‘ میں آریاورت کی اہم ریاستوں میں سے ایک کے طور پر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری روایت کے مطابق ’بھارت‘ لفظ ’بھرت‘ سے ماخوذ ہے جو ’مہابھارت‘ کے ایک کردار دشینت اور شکنتلا کے بیٹے کا نام تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جبکہ پرانوں کی ایک اور روایت کے مطابق یہ ملک رشبھا کے بیٹے بھرت کے بعد ’بھارت ورش‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ بھرت سوریا ونشی خاندان میں پیدا ہونے والا کھشتری تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/11123642696e5c9.jpg'  alt='بھارت نام کی جڑیں قدیم ہندو روایات میں پیوست ہیں' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;بھارت نام کی جڑیں قدیم ہندو روایات میں پیوست ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="بھارت-کی-حدود" href="#بھارت-کی-حدود" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;بھارت کی حدود&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;جس طرح اصطلاح ’ہندوستان‘ کا اطلاق کُل برصغیر پر نہیں ہوتا تھا، ایسے ہی ’بھارت ورش‘ کی سرحدیں بھی محدود تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہندوؤں کی مذہبی کتاب پُران کے مطابق ’وہ ملک (ورشم) جو سمندر کے شمال میں اور برفیلے پہاڑوں کے جنوب میں واقع ہے اسے بھرت کہتے ہیں، وہاں بھارت کی اولاد رہتی ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="مذہبی-کارڈ" href="#مذہبی-کارڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;مذہبی کارڈ&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;چونکہ ’ہند، ہندوستان اور انڈیا‘ کے نام بدیسیوں کی دین ہیں اور ’بھارت‘ نام صرف مقامی نام ہے بلکہ اس کی جڑیں مذہبی روایات میں بھی موجود ہیں اس لیے انتہا پسند ہندوؤں اور ان کی سرخیل جماعت ’بھارتیہ جنتا پارٹی‘ نام کی اس تبدیلی کو آنے والے انتخابات میں مذہبی کارڈ کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہے۔ مگر مسئلہ وہی ہے جس کا ذکر اوپر کیا جاچکا ہے کہ بھارتی آئین جو ملک کا نام ’انڈیا‘ بتاتا ہے وہیں ’بھارت‘ کو بھی آفیشل نام قرار دیتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ’انڈیا‘ کو دیس نکالا ملتا ہے یا پھر اپوزیشن اتحاد مودی سرکار کے اس فریب کو ناکام بناتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">سر زمینِ ہند پر اقوامِ عالم کے فراق </div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">قافلے بستے گئے ہندوستاں بنتا گیا </div></strong></p>
<p>شعر ’رگھوپتی سہائے‘ کا ہے جنہیں دنیائے ادب ’فراق گورکھپوری‘ کے نام سے جانتی ہے۔ یہ شعر جس رعایت سے یاد آیا اس کا تعلق گزشتہ دنوں پڑوسی ملک ’انڈیا‘ میں جاری رہنے والی اُس بحث سے ہے جس میں ملک کا موجودہ نام بدل کر ’بھارت‘ رکھنے کی بات کی جارہی تھی۔</p>
<p>اس قضیے میں ہماری دلچسپی ’انڈیا اور بھارت‘ کے لفظی معنی کے علاوہ ’ہندوستان‘ سے بھی ہے کہ یہ بھی مذکورہ ناموں کے متوازی استعمال ہوتا ہے۔</p>
<p>یوں تو نام کی تبدیلی کوئی اچنبھے کی بات نہیں کہ دنیا میں کئی شہر اور ملک ایسے ہیں جو ماضی میں کسی اور نام سے پکارے جاتے تھے اور آج کسی اور نام سے جانے جاتے ہیں۔ مثلاً  آج کا ’میانمار‘ ابھی کل تک ’برما‘ پکارا جاتا تھا اور جسے ہم سری لنکا کے نام سے جانتے ہیں وہ 1972ء تک ’سیلون‘ کہلاتا تھا جبکہ قدیم تذکرہ نگاروں کے ہاں سیلون کا نام ’سراندیپ‘ ملتا ہے۔</p>
<p>اگر شہروں کی بات کریں تو چین کا شہر ’بیجنگ‘ کبھی ’پیکنگ‘ تھا جبکہ ہمارا فیصل آباد کبھی ’لائل پور‘ تھا اور ساہیوال کو ’منٹگمری‘ کہا جاتا تھا۔</p>
<p>زمانہ قدیم ہی سے قریوں، شہروں اور ملکوں کے ناموں کی وجہ تسمیہ میں اساطیری، جغرافیائی، تاریخی، شخصی یا قبائلی نسبت، مظاہر فطرت کی رعایت اور سیاسی عوامل کی اثر پذیری کارفرما رہی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/09164002bb5fbbd.jpg'  alt='شہروں اور ملکوں کے ناموں میں کئی عناصر کی اثرپذیری کارفرما رہے ہیں' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>شہروں اور ملکوں کے ناموں میں کئی عناصر کی اثرپذیری کارفرما رہے ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<h1><a id="بغداد-اور-بعلبک" href="#بغداد-اور-بعلبک" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>بغداد اور بعلبک</h1>
<p>اساطیری عوامل کی مثال عراق کا قدیم شہر ’بغداد‘ اور لبنان کا تاریخی شہر ’بعلبک‘ ہے۔ اول الذکر نام لفظ ’بَغ‘ اور ’داد‘ سے مرکب ہے اور معنی ہیں ’بَغ دیوتا کا عطیہ‘۔ چونکہ اس نام کو ایک بُت سے نسبت تھی چنانچہ بنوعباس کے دور خلافت میں ’بغداد‘ کو ’مدینۃ السلام‘ پکارا گیا اور اس نام نے سرکاری دستاویزات اور سکّوں پر جگہ پائی۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ تبدیل شدہ نام تاریخ کے اوراق ہی میں لکھا رہ گیا، دنیا آج بھی اس تاریخی شہر کو ’بغداد‘ کے نام سے جانتی ہے۔ دیکھیں راحت اندوری کیا کہہ گئے ہیں،</p>
<p><strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">داستانوں کے سبھی کردار کم ہونے لگے</div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">آج کاغذ چنتی پھرتی ہے پری بغداد کی</div></strong></p>
<p>لبنانی ’بعلبک‘ کا نام بھی دو لفظوں کا مرکب ہے، پہلا لفظ ’بعل‘ ہے جو ’سورج دیوتا‘ کا نام ہے، جبکہ جُز ثانی ’بَک‘ کے معنی شہر کے ہیں۔ یوں ’بعلبک‘ کا مطلب ہوا ’بعل کا شہر‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/091551524a8304d.jpg'  alt='قدیم بغداد&mdash;تصویر: وکی پیڈیا' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>قدیم بغداد—تصویر: وکی پیڈیا</figcaption>
    </figure></p>
<h1><a id="یمن-و-شام-جغرافیائی-نام" href="#یمن-و-شام-جغرافیائی-نام" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>’یمن و شام‘ جغرافیائی نام</h1>
<p>اگر شہروں یا ملکوں کے ناموں میں جغرافیائی کردار کے دخل کی بات کریں تو بلامبالغہ اس کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ یہ نام سَمتوں کے تعلق اور نشیب و فراز کی نسبت سے تشکیل پائے ہیں۔ اس کی ایک خوبصورت مثال سرزمین عرب ہے۔</p>
<p>اگر آپ جزیرۃ العرب میں اس طرح کھڑے ہوں کہ آپ کا رُخ مشرق کی جانب ہو تو آپ کے دائیں جانب جو خطہ ہوگا وہ ’یمن‘ کہلاتا ہے اور بائیں جانب کا علاقہ ’شام‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ’یمن‘ کے لفظی معنی ’دائیں‘ اور ’شام‘ کے معنی ’بائیں‘ کے ہیں یوں ان دونوں خطوں کا نام ان کی جغرافیائی وقوع کی عطا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/09155608c91f602.jpg'  alt='یمن اور شام کی دونوں خطوں کا ان کے جغرافیائی وقوع کی عطا ہے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>یمن اور شام کی دونوں خطوں کا ان کے جغرافیائی وقوع کی عطا ہے</figcaption>
    </figure></p>
<h1><a id="نجد-حجاز-اور-تہامہ" href="#نجد-حجاز-اور-تہامہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>نجد، حجاز اور تہامہ</h1>
<p>خاص عرب کے تعلق سے علاقہ نجد، تہامہ اور حجاز کے ناموں پر غور کریں تو بات اور آسان ہو جاتی ہے، اس لیے کہ ’نجد‘ کے معنی ’بلندی‘ اور ’تہامہ‘ کے معنی نشیب کے ہیں۔ ان دونوں خطوں کے یہ نام طبعی نشیب و فراز کے مطابق ہیں۔ پھر ان دونوں علاقوں کے درمیان جو علاقہ آڑ کا کردار ادا کرتا ہے وہ ’حجاز‘ کہلاتا ہے اور ’حجاز‘ کے معنی ہی ’آڑ، روک اور فاصل‘ کے ہیں۔</p>
<h1><a id="آسٹریلیا-جنوبی-زمین" href="#آسٹریلیا-جنوبی-زمین" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>’آسٹریلیا‘ جنوبی زمین</h1>
<p>نیز شمالی کوریا اور جنوبی کوریا، مشرقی بنگال (موجودہ بنگلا دیش) اور مغربی بنگال سمیت متعدد مثالیں ہیں جو بہت سے خطوں کا جغرافیائی وقوع واضح کرتی ہیں۔ جبکہ ’آسٹریلیا‘ کا مطلب ہی ’جنوبی زمین‘ ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/091646143c73a28.jpg'  alt='آسٹریلیا نام کا مطلب جنوبی زمین ہے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>آسٹریلیا نام کا مطلب جنوبی زمین ہے</figcaption>
    </figure></p>
<h1><a id="مختلف-اقوام-سے-منسوب-خطے" href="#مختلف-اقوام-سے-منسوب-خطے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>مختلف اقوام سے منسوب خطے</h1>
<p>دنیا میں ممالک اور علاقوں کی کثیر تعداد ایسی بھی ہے جن کے نام وہاں آباد اقوام کی نسبت سے تشکیل پائے ہیں۔ مثلاً افغانستان (افغانوں کی سرزمین)، ایران (آریاؤں کی سرزمین)، منگولیا (سرزمین منگول)، انگلینڈ (انگلش قوم کا ملک)، پولینڈ (پولش قوم کا ملک) وغیرہ۔</p>
<p>دنیا میں بعض خطوں کے نام کسی نہ کسی شخص کی نسبت سے رکھے گئے ہیں۔ مثلاً امریکا کو ’امریگو وسپوچی‘ کے نام سے نسبت ہے تو کولمبیا کو ’کولمبس‘ کے تعلق سے یہ نام ملا ہے۔ خود پاکستان میں حیدرآباد، فیصل آباد، رحیم یار خان، ڈیرہ اسمعٰیل خان اور ڈیرہ غازی خان وغیرہ مختلف اشخاص کے ناموں سے نسبت رکھتے ہیں۔</p>
<h1><a id="ترکی-سے-تُرکیہ-کیوں-ہوا" href="#ترکی-سے-تُرکیہ-کیوں-ہوا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ترکی سے تُرکیہ کیوں ہوا؟</h1>
<p>تبدیلی نام کی ایک مثال ’تُرکیہ‘ ہے جو کچھ عرصہ قبل تک ’تُرکی‘ کہلاتا تھا۔ نام کی اس تبدیلی میں سیاسی سے زیادہ نفسیاتی عوامل کار فرما ہیں۔ کہنے کو تو ’تُرکی‘ کو تُرک قوم سے نسبت ہے۔ مگر جب اس تُرکی کو انگریزی میں ’Turkey/ٹرکی‘ لکھا اور پکارا جاتا ہے تو اس میں استہزاء اور تحقیر کا پہلو نکلتا تھا۔</p>
<p>استہزا کا پہلو یہ کہ ’Turkey / ٹرکی‘ ایک معروف پرندہ بھی ہے جو امریکا میں تھینکس گیونگ ڈے کے موقع پر بڑے اہتمام سے پکایا اور کھایا جاتا ہے۔ ( اس بڑے اور فربہ پرندے کو عربی میں ’الديك الرومی‘ اور ’الدَّجَاجُ الرُّومِی‘، فارسی میں ’بوقلمون‘ اور ’فیل مرغ‘ جبکہ اردو میں ’تُرکی مرغی‘ کہتے ہیں)۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/09160243c095405.jpg'  alt='ٹرکی کو پرندے کے علاوہ انگریزی لغت میں ٹرکی کے معنیٰ بےوقوف شخص کے ہیں' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ٹرکی کو پرندے کے علاوہ انگریزی لغت میں ٹرکی کے معنیٰ بےوقوف شخص کے ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<p>جہاں تک تحقیر کی بات ہے تو انگریزی ڈکشنریز لفظ ’Turkey‘ کے ضمن میں جو معنی بیان کرتی ہیں ان میں ’احمق اور بے وقوف شخص‘ بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بھی ’Turkey‘ سے مرکب کئی تراکیب ایسی ہیں جن میں ذَم یا ہجو کا پہلو پایا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ان معنی و مفاہیم میں یورپ کے خبث باطن کا بھی دخل ہے کہ ایک عہد میں یورپ کا وسیع علاقہ عثمانی ترکوں کے زیرِ اثر تھا۔</p>
<p>چونکہ ’Turkey‘ کے یہ مفاہیم ترکوں کے وقار کے خلاف تھے، چنانچہ سال 2021ء میں تُرک قیادت نے اقوام متحدہ میں باقاعدہ درخواست دی کہ اُن کے وطن کا نام تمام دستاویزی کارروائیوں میں ’Turkey / ٹرکی‘ کے بجائے ’Türkiye/تُرکیہ‘ درج کیا جائے۔</p>
<p>اس درخواست کے جواب میں گزشتہ سال 2022ء اقوام متحدہ نے باقاعدہ آگاہ کیا کہ تُرکی کا تبدیل شدہ نام ’تُرکیہ‘ فوراً نافذ العمل ہوگیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/09160258aeded4c.jpg?r=160435'  alt='کچھ لوگ ترکی کو اب &rsquo;ترکیہ&lsquo; جبکہ کچھ &rsquo;ترکیے&lsquo; پکار رہے ہیں' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>کچھ لوگ ترکی کو اب ’ترکیہ‘ جبکہ کچھ ’ترکیے‘ پکار رہے ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<p>پاکستانی ذرائع ابلاغ کو اس تبدیل شدہ نام کے باب میں ’زبانِ یارِ من ترکی و من ترکی نمی دانم‘ کی سی صورتحال کا سامنا ہے، لہٰذا اس متبادل نام (Türkiye) کو کوئی ’تُرکیہ‘ لکھا رہا ہے تو کوئی ’تُرکیے‘ پکار رہا ہے۔ بہرحال اچھی بات یہ ہے کہ اسے ’تُرکی‘ کوئی نہیں کہہ رہا۔</p>
<h1><a id="مودی-سرکار-کا-بھارت-پر-اصرار-کیوں" href="#مودی-سرکار-کا-بھارت-پر-اصرار-کیوں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>مودی سرکار کا ’بھارت‘ پر اصرار کیوں؟</h1>
<p>اب آتے ہیں اصل مدعا پر کہ مودی سرکار ملک کا نام ’بھارت‘ کیونکر رکھنا چاہتی ہے اور بی جے پی ’انڈیا‘ کے نام سے بیزاری کیوں دکھا رہی ہے۔</p>
<p>دنیا کی حالیہ تاریخ میں شاید بھارت واحد ملک ہے جہاں بہت کم مدت میں ریاستوں، شہروں اور قصبات کے نام سب سے زیادہ تبدیل کیے گئے ہیں۔ مدراس کا ’چنئی‘، بومبے کا ’ممبئی‘، کلکتہ کا ’کولکتہ‘ اور الٰہ آباد کا نام ’پریاگ راج‘ رکھا جانا تو سامنے ہی کی بات ہے۔ علاوہ ازیں 2007ء میں شمالی ریاست اُترانچل کا نام ’اُتراکھنڈ‘ ہوا تو 2011ء میں اُڑیسا کا نام ’اوڈیشا‘ کردیا گیا۔ صرف 2001ء سے 2020ء کے درمیان بھارت میں چھوٹے بڑے درجنوں علاقوں کے نام تبدیل ہوئے اور جب اس سب سے جی بھر گیا تو اب مودی سرکار کا اصرار ہے کہ ’انڈیا‘ کا نام بدل کر ’بھارت‘ رکھ دیا جائے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2019/04/5ca5d7bfdc268.jpg'  alt='مودی سرکار کا &rsquo;بھارت&lsquo; پر اصرار کیوں؟&mdash;تصویر: رائٹرز' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>مودی سرکار کا ’بھارت‘ پر اصرار کیوں؟—تصویر: رائٹرز</figcaption>
    </figure></p>
<p>یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ آخر ناموں کی اس تبدیلی کے پیچھے کیا جذبہ کار فرما ہے اور دوم یہ کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) ’انڈیا‘ کا نام ’بھارت‘ سے کیوں بدلنا چاہتی ہے؟</p>
<p>جہاں تک سوال کے پہلے جُز کا تعلق ہے تو اس کے لیے یہ جواز بتایا گیا ہے کہ نام بدلے نہیں جا رہے بلکہ گزرتے سمے میں جو نام بگڑ کر کچھ سے کچھ ہوگئے تھے ان کی اصلاح کی جارہی ہے مثلاً ’گُڑگاؤں‘ کی اصل ’گروگام‘ ہے سو اس کا درست نام بحال کردیا گیا ہے۔ یہی معاملہ ’کولکتہ‘ کا ہے جو انگریزوں اور انگریزی کی زیرِاثر ’کلکٹا/کلکتہ‘ ہوگیا تھا۔</p>
<p>اب اگر ناموں کی اصلاح کا یہ فارمولہ درست مان لیا جائے تو سوال پیدا ہوتا کہ ’الٰہ آباد‘ کو کیونکر ’پریاگ راج‘ کا نام دیا گیا؟ کیوں اورنگزیب عالمگیر سے منسوب دکن کے مشہور شہر ’اورنگ آباد‘ کا نام بدل کر ’چھتر پتی سمبھاجی نگر‘ کردیا گیا اور کیوں سابقہ ریاست حیدرآباد دکن کے فرما روا سے منسوب شہر ’عثمان آباد‘ کا نام ’دھارا شیو‘ رکھا گیا؟</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/091542465b47923.jpg'  alt='مودی سرکار ہندو تشخص بحال کرنے کے لیے مسلمانوں سے منسوب شہروں کے نام تبدیل کررہے ہیں' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>مودی سرکار ہندو تشخص بحال کرنے کے لیے مسلمانوں سے منسوب شہروں کے نام تبدیل کررہے ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<p>بات یہ ہے کہ تقسیمِ ہند کے بعد خاص طور پر بی جے پی کے عروج کے ساتھ انڈیا کا ’ہندو تشخص‘ بحال کرنے کے نام پر مسلمانوں سے منسوب بیشتر شہروں اور قریوں کے ناموں کو نشانہ بنایا گیا اور مختلف حیلوں بہانوں اور غلط تاریخی حوالوں کی بنیاد پر یہ نام تبدیل کردیے گئے۔ اوپر درج مثالوں کے علاوہ  یوپی کے ضلع فیض آباد کا نام ’ایودھیا‘ اور ’مغل سرائے اسٹیشن‘ کا نام بدل کر ’پنڈت دین دیال اپادھیائے‘ رکھا جانا ایسی ہی بھونڈی کوششیں ہیں۔</p>
<h1><a id="انڈیا-یعنی-بھارت" href="#انڈیا-یعنی-بھارت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>انڈیا یعنی بھارت</h1>
<p>خیر ذکر تھا ملک کا نام ’انڈیا‘ سے ’بھارت‘ رکھنے کا تو سچی بات یہ ہے کہ مودی سرکار اس بحث میں اپنے عوام کو بیوقوف بنانے کے سوا کچھ نیا نہیں کر رہی۔ وہ اس لیے کہ آزادی کے بعد تشکیل پانے والے انڈین آئین کے آغاز ہی میں یعنی آرٹیکل 1.1 میں واضح کردیا گیا تھا کہ India, that is Bharat, shall be a Union of States یعنیٰ انڈیا یعنی بھارت، ریاستوں کا اتحاد ہوگا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/09162447b8936e6.jpg'  alt='بھارتی آئین میں انڈیا کے ساتھ ساتھ بھارت بھی درج ہے&mdash;تصویر: اسکرین شاٹ/انڈیا کوڈ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>بھارتی آئین میں انڈیا کے ساتھ ساتھ بھارت بھی درج ہے—تصویر: اسکرین شاٹ/انڈیا کوڈ</figcaption>
    </figure></p>
<p>نیز یہ کہ ڈاکٹر امیبڈکر کی کوششوں سے تخلیق پانے والے اس آئین میں 900 سے زیادہ بار لفظ ’انڈیا‘ آیا ہے اور ہر بار یہ وضاحت کی گئی ہے کہ انڈیا سے مراد بھارت ہے۔</p>
<p>اب سوال یہ ہے کہ اگر خود انڈین آئین میں ملک کا نام ’بھارت‘ موجود ہے تو پھر مودی سرکار یہ ناٹک کیوں رچا رہی ہے؟ تو عرض ہے کہ 2024ء بھارت میں الیکشن کا سال ہے۔ ایسے میں برسرِاقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف 28 پارٹیوں پر مشتمل جو وسیع اتحاد بنا ہے اسے ’انڈین نیشنل ڈویلپمنٹ انکلوسیو الائنس‘ کا نام دیا گیا اور اس الائنس کا مخفف ’انڈیا‘ ہے۔ جبکہ اس اتحاد کا نعرہ ہے ’جُڑے گا بھارت جیتے گا انڈیا‘۔</p>
<h1><a id="کیا-انڈیا-لفظ-گالی-ہے" href="#کیا-انڈیا-لفظ-گالی-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>کیا ’انڈیا‘ لفظ گالی ہے؟</h1>
<p>اب ظاہر ہے کہ ایسی قوم جو دھرتی کو ماں کا درجہ دیتی اور وندے ماترم (ماں تجھے سلام) کا گیت گاتی ہو، اس قوم کی ’انڈیا‘ نام کے ساتھ جذباتی وابستگی ایک فطری امر ہے۔ اپوزیشن جذبات کی اسی لہر کو ایک نفسیاتی حربے کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہے۔ مگر بی جے پی بھی کائیاں پارٹی ہے، اس نے ہندوتوا کی آڑ میں ’بھارت‘ کو ملک کا حقیقی نام بتاتے ہوئے لفظ ’انڈیا‘ کو غلامی کی علامت کہنا شروع کردیا ہے۔ جبکہ بی جے پی کے ایک مہاشے نے تو لفظ ’انڈیا‘ کو گالی بھی قرار دے دیا ہے۔ اس مشق کا مقصد یہ ہے کہ جب لفظ ’انڈیا‘ ہی قابلِ نفرت بن جائے گا تو اپوزیشن ازخود قابل ملامت قرار پائے گی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/09163138a0cd06e.jpg'  alt='ہندوتوا کی آڑ میں &rsquo;بھارت&lsquo; کو ملک کا حقیقی نام بتاتے ہوئے لفظ &rsquo;انڈیا&lsquo; کو غلامی کی علامت کہنا شروع کردیا ہے&mdash;تصویر: اے ایف پی' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ہندوتوا کی آڑ میں ’بھارت‘ کو ملک کا حقیقی نام بتاتے ہوئے لفظ ’انڈیا‘ کو غلامی کی علامت کہنا شروع کردیا ہے—تصویر: اے ایف پی</figcaption>
    </figure></p>
<h1><a id="تبدیلی-نام-کیخلاف-ایک-کمزور-دلیل" href="#تبدیلی-نام-کیخلاف-ایک-کمزور-دلیل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>تبدیلی نام کیخلاف ایک کمزور دلیل</h1>
<p>اب یہ تو ظاہر ہے کہ مودی سرکار اپنے عوام کو بیوقوف بنا رہی ہے اور اس کی اس مشق کے نتیجے میں انڈیا ایک نئی بحث کی لپیٹ میں ہے۔ نام کی تبدیلی کے مخالفین ایک دلیل یہ دے رہے ہیں کہ ’انڈیا‘ قومی اداروں کے علاوہ سیکڑوں نجی اداروں کے نام کا جُز بھی ہے۔ پھر ملک کی کرنسی ہی نہیں تمام قانونی دستاویزات بھی ’انڈیا‘ کا نام لیے ہوئے ہیں، ایسے میں کیا یہ سب کچھ بھی تبدیل ہوگا؟</p>
<p>ہمارے مطابق اپوزیشن کا یہ اعتراض اس لیے لائق التفات نہیں کہ وہ ملک جن کے نام تبدیل ہوئے ہیں مثلاً ہولینڈ سے نیدرلینڈز، سیام سے تھائی لینڈ، جمہوریہ کمپوچیا سے کمبوڈیا یا اپروولٹا سے برکینا فاسو، یا وہ تمام ممالک جو مختلف وقتوں میں آزاد ہوئے ہیں، ان سب کو اسی طرح کے چیلنجز کا سامنا تھا ایسے میں انہوں نے تمام اداروں اور سرکاری دستاویزات وغیرہ میں نئے نام کو رواج دیا اور تبدیلی نام کا یہ عمل ان ملکوں کے عوام ہی نہیں بلکہ دنیا نے بھی قبول کیا۔</p>
<p>اپوزیشن کے نزدیک اصل چیلنج بی جے پی کے جھوٹ کا پردہ چاک کرنا ہے کہ وہ آئین میں درج ’انڈیا یعنی بھارت‘ کی وضاحت کے باوجود اپنے لوگوں کو گمراہ کر رہی ہے۔</p>
<h1><a id="ایک-ملک-دو-نام" href="#ایک-ملک-دو-نام" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ایک ملک دو نام</h1>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/09164846a456d33.jpg?r=164907'  alt='بھارتی  آئین میں &rsquo;انڈیا یعنی بھارت&lsquo; درج ہے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>بھارتی  آئین میں ’انڈیا یعنی بھارت‘ درج ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>اس سے قبل کہ لفظ ’انڈیا، بھارت اور ہندوستان‘ کے لفظی معنی کی بات کی جائے ایک ضروری بات اور ذہن نشین کر لیں اور وہ یہ کہ دنیا میں کئی ممالک ایسے ہیں جو بیک وقت اپنے دو ناموں کے ساتھ کاروبار مملکت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مثلاً ’مصر‘ کو بیرونی دنیا بالخصوص مغرب ’Egypt / ایجپٹ‘ اور اردن کو ’Jordan/جورڈن‘ پکارتی ہے۔ پھر ان دونوں ممالک کی سرکاری دستاویزات پر بھی ان کے ہر دو نام درج ہوتے ہیں۔ نیز عرب مؤرخین کے یہاں جو خطہ ’بلاد الشّام‘ سے موسوم ہے اُس کا ایک حصہ آج بھی یونانی نام ’Syria/ سیریہ‘ کے ساتھ موجود ہے۔ واضح رہے کہ ’بلاد الشّام‘ کا وسیع خطہ آج کے شام یعنی سیریہ، اردن، لبنان، فلسطین اور اسرائیل پر مشتمل ہے۔</p>
<h1><a id="جاپان-ابھرتے-سورج-کی-سرزمین" href="#جاپان-ابھرتے-سورج-کی-سرزمین" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>’جاپان‘ ابھرتے سورج کی سرزمین</h1>
<p>اگر جاپان کی بات کریں تو اس ملک کا یہ نام بیرونی دنیا کی عطا ہے ورنہ جزائر پر مشتمل اس عظیم ملک کا سرکاری نام نیپون (Nippon) ہے جبکہ عوامی لہجے میں اسے نیہون (Nihon) کہا جاتا ہے۔ اور ان دونوں الفاظ کا مطلب ’ابھرتے سورج کی سرزمین‘ ہے، اس بات کا عکس اس ملک کے پرچم میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔</p>
<h1><a id="چین-چائنا-اور-چونگ-گوا" href="#چین-چائنا-اور-چونگ-گوا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>چین، چائنا اور ’چونگ گوا‘</h1>
<p>ایسے ہی جس ملک کو عرب ’الصین‘، ہم ’چین‘ اور یورپ ’چائنا‘ کہتا ہے وہ حقیقتاً ’Zhōngguó/چونگ گوا‘ ہے۔ مصر ہو یا اُردن، جاپان ہو یا چین، ان میں کسی ملک کو کوئی پریشانی نہیں کہ ہمارا نام تو یہ اور یہ ہے اور دنیا ہمیں فلاں اور فلاں نام سے کیوں پکار رہی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/0916344165f4c22.jpg'  alt='جاپانی اپنے ملک کو نیہون جبکہ چینی اپنے ملک کو چونگ گوا کہتے ہیں' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>جاپانی اپنے ملک کو نیہون جبکہ چینی اپنے ملک کو چونگ گوا کہتے ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<h1><a id="جمہوریہ-بھارت" href="#جمہوریہ-بھارت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>’جمہوریہ بھارت‘</h1>
<p>یوں تو بی جے پی قیادت اکثر اشاروں کنایوں میں اور کبھی ببانگ دہل ’انڈیا‘ کا نام ’بھارت‘ رکھنے کا شوشا چھوڑتی رہی ہے، تاہم حالیہ دنوں میں یہ بحث اس وقت تقویت پکڑ گئی جب بھارتی ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا کہ مودی سرکار آئین میں ترمیم کرتے ہوئے ملک کا نام صرف ’جمہوریہ بھارت‘ رکھنے جا رہی ہے۔ نیز انڈیا کی میزبانی میں ہونے والے جی 20 کے سربراہی اجلاس کے شرکا کے لیے انڈین صدر کی جانب سے عشائیہ کا جو دعوت نامہ جاری کیا گیا اس میں جلی طور پر The President of Bharat درج تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/091548344941256.jpg'  alt='جی 20 سربراہی کانفرنس کا دعوت نامہ&mdash;تصویر: ایکس' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>جی 20 سربراہی کانفرنس کا دعوت نامہ—تصویر: ایکس</figcaption>
    </figure></p>
<h1><a id="ناموں-پر-غور" href="#ناموں-پر-غور" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ناموں پر غور</h1>
<p>یہاں یہ امر لائق توجہ ہے کہ ملک کا نام ’انڈیا‘ انگریزوں سے ملے ورثے کے طور پر آنکھ بند کرکے قبول نہیں کیا گیا تھا بلکہ اس کے لیے بھارتی دستور ساز اسمبلی میں باقاعدہ بحث ہوئی اور اس موقع پر چند ناموں اور ترکیبوں پر غور کیا گیا جیسا کہ بھارت، بھارت بھومی، بھارت ورش، انڈیا یعنی بھارت، اور بھارت یعنی انڈیا۔ اس غور و خوض کے بعد ہی ’انڈیا یعنی بھارت‘ پر اتفاق ہوا تھا۔</p>
<h1><a id="انڈیا-کو-ہندوستان-نہ-کہا-جائے" href="#انڈیا-کو-ہندوستان-نہ-کہا-جائے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>’انڈیا‘ کو ’ہندوستان‘ نہ کہا جائے</h1>
<p>یہاں ایک دلچسپ بات کا تذکرہ ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ 2015ء میں بی جے پی کی قیادت میں مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کو آگاہ کیا تھا کہ ملک کا نام ’انڈیا‘ ہے اور اسے ’ہندوستان‘ کے نام سے نہ پکارا جائے۔</p>
<p>بی جے پی کو ’ہندوستان‘ کے نام سے کیا بیر ہے؟ اس پر آگے بات کریں گے فی الحال یہ تماشا ملاحظہ کریں کہ چند سال قبل تک جو مودی سرکار ’انڈیا‘ نام پر اصرار کر رہی تھی اب وہی ’انڈیا‘ کو غلامی کی ’بچی کھچی نشانی‘ بتا رہی ہے۔</p>
<p>گزشتہ برس 2022ء میں یوم آزادی کی تقریر میں وزیراعظم مودی نے بھارتی شہریوں سے کہا تھا کہ وہ غلامی کی بچی کھچی نشانیاں مٹا دیں گے کیونکہ ملک کا نام ’بھارت‘ رکھنا قومی شناخت اپنائے جانے کی علامت ہوگا۔</p>
<h1><a id="ہندو-سے-انڈوس" href="#ہندو-سے-انڈوس" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ہندو سے انڈوس</h1>
<p>اس طول طویل پس منظر کے بعد اب بات ہوجائے ’انڈیا، بھارت اور ہندوستان‘ کے لفظی معنی کی۔ محقیقین کے نزدیک اس بات پر اتفاق ہے کہ لفظ ’ہندو‘ قدیم ایرانیوں کی دین ہے۔ لفظ ’ہندو‘ یونانی میں ’انڈوس‘ ہوکر لاطینی میں ’انڈس‘ ہوا اور پھر اس سے لفظ ’انڈیا‘ وجود میں آیا۔</p>
<p>دوسری طرف فارسی یا قدیم پہلوی کا ’ہندو‘ جب سرزمین عرب پہنچا تو ’ہند‘ ہوا اور پھر برصغیر کے عہد اسلامی، بالخصوص مغل عہد میں ’ہندوستان‘ کہلایا۔</p>
<h1><a id="سپت-سندھو" href="#سپت-سندھو" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>’سپت سندھو‘</h1>
<p>یہاں سوال یہ ہے کہ خود لفظ ’ہندو‘ کا پس منظر کیا ہے؟ تو اس حوالے سے عرض ہے کہ سنسکرت میں دریا کو ’سندھو‘ کہتے ہیں۔ یہی وجہ رہی کہ آریائی قبائل جب قافلہ در قافلہ برصغیر میں داخل ہوئے تو انہیں اٹک سے لےکر پنجاب کے وسیع میدانوں تک پے در پے 7 دریاؤں کو عبور کرنا پڑا۔ یہ سات دریا بالترتیب دریائے کابل، دریائے سندھ، دریائے جہلم، دریائے چناب، دریائے روای، دریائے ستلج اور دریائے بیاس برصغیر کے شمال مغرب سے آنے والوں کی راہ میں آئے تھے۔ یہ سب کچھ ان کے لیے خاصا حیران کُن تھا لہٰذا انہوں نے اس وسیع خطے کو ’سپت سندھو‘ یعنی سات دریاؤں کی سرزمین کا نام دیا۔</p>
<p>رہا یہ سوال کہ ’سندھو‘ بدل کر ’ہندو‘ کیسے ہوا؟ تو عرض ہے کہ صوتی تبادل میں بیشتر حروف کی طرح گاہے حرف ’س/ سین‘ اور ’ہ / ہائے ہوز‘ باہم بدل جاتے ہیں۔ مثلاً سنسکرت کا ’ماس‘ یعنی مہینہ فارسی میں ’ماہ‘ ہے۔ ’دس‘ فارسی میں ’دہ‘ ہے۔ ایسی ہی ’کپاس‘ کی دوسری صورت ’کپاہ‘ ہے۔ اب اگر ’س/ سین‘ اور ’ہ / ہائے ہوز‘ کا یہ تبادلہ پیش نظر ہو تو سمجھنے میں دیر نہیں لگے گی کہ سنسکرت کا ’سندھو‘ فارسی میں ’ہندو‘ کیونکر ہوگیا۔</p>
<h1><a id="کوؤں-کا-حملہ" href="#کوؤں-کا-حملہ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>کوؤں کا حملہ</h1>
<p>اہلِ ہند، افریقی باشندوں کی طرح سیاہ فام تو نہیں تھے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کا رنگ صاف بھی نہیں تھا۔ یوں اہل ایران رنگت کی مناسبت سے دونوں کو ایک ہی زمرے میں شمار کرتے تھے۔ یہی سبب تھا کہ یمن پر حبشہ کے قبضے کے بعد بے دخل ہونے والے حکمران خاندان کا فرد ’سیف بن ذی یزن‘ امداد کے لیے جب کسریٰ ایران کے پاس پہنچا اور اسے بتایا کہ اس کے ملک پر کوّوں (کالوں) نے حملہ کردیا ہے تو کسریٰ نے استفسار کیا ’کون سے کوّے، ہندوستان کے یا حبشہ کے؟‘</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/091657331793360.jpg'  alt='سانولی رنگت کی وجہ سے افریقی اور اہلِ ہند کو ایک ہی زمرے میں شمار کیا جاتا تھا' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>سانولی رنگت کی وجہ سے افریقی اور اہلِ ہند کو ایک ہی زمرے میں شمار کیا جاتا تھا</figcaption>
    </figure></p>
<p><strong>محبوب کا سیاہ تِل</strong></p>
<p>ہند کے باشندوں کی قدیم رنگت کی نسبت ہی سے فارسی میں ہر سیاہ چیز کو ’ہندو‘ کہا گیا۔ دیکھیں حافظ شیرازی اپنے محبوب کے سیاہ تِل کا ذکر کیسے کر رہے ہیں،</p>
<p><strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">گر آن ترک شیرازی بہ دست آرد دل ما را</div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">بہ خال ہندویش بخشم سمرقند و بخارا را</div></strong></p>
<p>’اے شیرازی محبوب اگر تُو میرا نذرانہ دل قبول کرلے تو میں ترے رخسار پر موجود کالے تل کے بدلے سمرقند و بخارا بخش دوں‘۔</p>
<p><strong>حُسن کی سرکار میں جتنے بڑھے ہندو</strong></p>
<p>چونکہ زلفیں بھی سیاہ ہوتی ہیں اس لیے فارسی اور اس کی رعایت سے اردو میں بھی زلفوں کو مجازاً ہندو کہتے ہیں۔ یقین نہ آئے تو استاد ابراہیم ذوق کا شعر ملاحظہ کریں جو کہہ گئے ہیں،</p>
<p><strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">خط بڑھا، کاکُل بڑھے، زلفیں بڑھیں، گیسو بڑھے</div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">حُسن کی سرکار میں جتنے بڑھے
ہندو بڑھے</div></strong></p>
<p>بات یہیں تمام نہیں ہوئی بلکہ سیاہی کی نسبت سے ’ہندو‘ نے فارسی میں کئی ایک تراکیب کو جنم دیا مثلاً سیاہ آنکھیں اگر ’ہندوی چشم‘ کہلائیں تو ستارہ زُحَل (جو نحس تصور کیا جاتا ہے) اپنی نحوست کے سبب ’ہندوی چرخ‘ کہلایا۔</p>
<h1><a id="ہندو-بمعنی-غلام-اور-پاسبان" href="#ہندو-بمعنی-غلام-اور-پاسبان" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ہندو بمعنی غلام اور پاسبان</h1>
<p>یہ معلوم و معروف بات ہے کہ سلطنت ایران ایک طاقتور حکومت تھی اور اس زمانے کے دستور کے مطابق ایران میں بھی مختلف خطوں کے باشندے بطور غلام خدمات انجام دے رہے تھے۔ ان غلاموں کو کالے اور گورے دو اقسام میں تقسیم سمجھا جاتا تھا۔ سیاہ فام غلاموں کا تعلق ہندوستان اور افریقی سرزمین سے تھا جو ترک، رومی اور بابلی غلاموں کے مقابل اپنی سیاہ رنگت کی نسبت سے ’ہندو‘ کہلاتے تھے۔ چونکہ غلاموں سے چوکیداری یا پاسبانی کا کام بھی لیا جاتا تھا یوں ’ہندو‘ کے مفہوم میں مجازاً غلام اور پاسبان بھی داخل ہوگئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2018/11/5bfa9af650855.jpg'  alt='رک، رومی اور بابلی غلاموں کے مقابل اپنی سیاہ رنگت کی نسبت سے &rsquo;ہندو&lsquo; کہلاتے تھے&mdash;تصویر: اے ایف پی' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>رک، رومی اور بابلی غلاموں کے مقابل اپنی سیاہ رنگت کی نسبت سے ’ہندو‘ کہلاتے تھے—تصویر: اے ایف پی</figcaption>
    </figure></p>
<h1><a id="لفظ-ہندو-کے-مفاہیم" href="#لفظ-ہندو-کے-مفاہیم" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>لفظ ’ہندو‘ کے مفاہیم</h1>
<p>اب اگر ہم فارسی میں ’ہندو‘ کے دیگر معنی و مفاہیم سے صرف نظر کرتے ہوئے ہندوستان کے تعلق سے فارسی لفظ ’ہندو‘ کا جائزہ لیں تو اس کے درج ذیل تین بنیادی معنی سامنے آتے ہیں۔</p>
<p>اول یہ کہ ہندو کے معنی میں ہر وہ شخص داخل ہے جو ’ہندو مت‘ کا پیرو ہو۔ دوم یہ کہ ہندو کی تعریف میں ہر وہ شخص داخل ہے جو ہندوستان کا باشندہ ہو جبکہ سوم یہ کہ ہندو کے معنی سیاہ کے ہیں۔</p>
<p>جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے کہ ایران کے دیے گئے نام ’ہندو‘ ہی سے ترکیب ’ہندوستان‘ وضع ہوئی جو مغل اقتدار کے زوال تک باقاعدہ استعمال ہوتی رہی۔</p>
<h1><a id="ہندوستان-کی-حدود" href="#ہندوستان-کی-حدود" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>’ہندوستان‘ کی حدود</h1>
<p>یہاں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے اور وہ یہ کہ انگریز دور میں کشمیر سے کنیا کماری تک جو خطہ ’انڈیا‘ کہلاتا تھا اس پورے خطے پر لفظ ’ہندوستان‘ کا اطلاق نہیں ہوتا تھا۔ پنجاب و سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) اور  خاص طور پر دکن کا علاقہ ’ہندوستان‘ سے باہر سمجھا جاتا تھا۔ ایسا اس لیے تھا کیونکہ ’ہندوستان‘ کی حدود سرہند سے جنوب کی طرف ست پُڑا کے پہاڑی سلسلے تک محسوب ہوتی تھیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/11124418b8f919b.jpg'  alt='&rsquo;انڈیا&lsquo; کی حدود' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>’انڈیا‘ کی حدود</figcaption>
    </figure></p>
<h1><a id="ہندوستان-کی-حدود-اور-علامہ-اقبالؒ" href="#ہندوستان-کی-حدود-اور-علامہ-اقبالؒ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>’ہندوستان‘ کی حدود اور علامہ اقبالؒ</h1>
<p>اب اس بات کو علامہ اقبالؒ کے ایک خط سے سمجھیں جو ’شاطرمدراسی‘ کو ان کے خط کے جواب میں لکھا گیا۔ 16 مارچ 1905ء کو تحریر کیے گئے خط میں علامہ اقبال رقمطراز ہیں، ’آپ کا اسلوب بیان واقعی نرالا ہے۔ اور آپ کی صفائی زبان آپ کے ہم وطنوں کے لیے سرمایہ افتخار ہے۔ میرا خود خیال تھا کہ آپ اصل میں ہندوستان کے رہنے والے ہوں گے۔ مگر یہ معلوم کرکے کہ آپ کی پرورش مدراس میں ہوئی، مجھے تعجب ہوا‘۔</p>
<p>باالفاظ دیگر مدراس جو دکن میں ہے ’ہندوستان‘ میں شامل نہیں تھا۔ یہی وجہ رہی کہ فانی بدایونی کو کہنا پڑا،</p>
<p><strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">فانی دکن میں آ کے یہ عقدہ کُھلا کہ ہم</div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">ہندوستان میں رہتے ہیں ہندوستان سے دور</div></strong></p>
<h1><a id="انڈیا" href="#انڈیا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>انڈیا</h1>
<p>ایران کے تعلق سے ’ہندو‘ اور ’ہندوستان‘ کا ذکر تمام ہوا، اب یونانیوں کی نسبت سے ’انڈیا‘ کا قصہ ملاحظہ کریں۔ جب یونانیوں نے اس خطے میں قدم رکھا تو ’دریائے سندھ‘ کو اپنے لہجے میں ’Indos / انڈوس‘ اور اس کے پار سرزمین کو ’انڈیکا / Indica‘ کا نام دیا۔ بعد میں دونوں الفاظ لاطینی زبان میں پہنچ کر بالترتیب ’انڈس‘ اور ’انڈیا‘ ہوگئے۔</p>
<h1><a id="انڈیگو" href="#انڈیگو" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>انڈیگو</h1>
<p>اس ’انڈیا‘ کی نسبت سے یہاں کی اہم برآمدت میں سے ایک ’نیل‘ نے ’indigo / انڈیگو‘ نام پایا۔ اور آج بھی انگریزی میں مخصوص سبزی مائل گہرا نیلا رنگ ’indigo / انڈیگو‘ کہلاتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/11124001d6db73e.jpg'  alt='دریائے سندھ کے کنارے ہونے کے باعث انڈس سے یہ خطہ انڈیا کہلایا جانے لگا' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>دریائے سندھ کے کنارے ہونے کے باعث انڈس سے یہ خطہ انڈیا کہلایا جانے لگا</figcaption>
    </figure></p>
<h1><a id="ہند" href="#ہند" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ہند</h1>
<p>ایرانیوں اور یونانیوں کے بعد یہاں عربوں نے قدم رکھا اور مفتوحہ علاقے کو ’سِند‘ اور غیر مفتوح خطے کو ’ہند‘ کے نام سے پکارا۔ بہت سے الفاظ اور ناموں کی طرح لفظ ’ہند‘ کے ساتھ عجب اتفاق یہ ہے کہ اگر یہ ایران میں ’سیاہ/کالے‘ کے معنی دیتا ہے تو عرب میں یہ خوبصورتی اور کاملیت (Perfection) کا مفہوم رکھتا ہے۔ ہند کی تلواروں کو عرب میں خصوصی اہمیت حاصل تھی۔ علاوہ ازیں قدیم زمانے ہی سے عرب میں لڑکیوں کا نام ’ہند‘ رکھا جاتا رہا ہے۔</p>
<h1><a id="بھارت" href="#بھارت" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>بھارت</h1>
<p>لفظ ’بھارت‘ کو دراصل کس سے نسبت ہے اس بارے میں ابہام موجود ہے۔ تاہم جو بات یقینی ہے وہ یہ کہ اس نام کی جڑیں قدیم ہندو روایات میں پیوست ہیں۔ ایک روایت کے مطابق ’بھارت‘ بھرتوں کے ایک ایسے ویدک قبیلے سے ماخوذ ہے جس کا تذکرہ ’رگ وید‘ میں آریاورت کی اہم ریاستوں میں سے ایک کے طور پر کیا گیا ہے۔</p>
<p>دوسری روایت کے مطابق ’بھارت‘ لفظ ’بھرت‘ سے ماخوذ ہے جو ’مہابھارت‘ کے ایک کردار دشینت اور شکنتلا کے بیٹے کا نام تھا۔</p>
<p>جبکہ پرانوں کی ایک اور روایت کے مطابق یہ ملک رشبھا کے بیٹے بھرت کے بعد ’بھارت ورش‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ بھرت سوریا ونشی خاندان میں پیدا ہونے والا کھشتری تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/10/11123642696e5c9.jpg'  alt='بھارت نام کی جڑیں قدیم ہندو روایات میں پیوست ہیں' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>بھارت نام کی جڑیں قدیم ہندو روایات میں پیوست ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<h1><a id="بھارت-کی-حدود" href="#بھارت-کی-حدود" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>بھارت کی حدود</h1>
<p>جس طرح اصطلاح ’ہندوستان‘ کا اطلاق کُل برصغیر پر نہیں ہوتا تھا، ایسے ہی ’بھارت ورش‘ کی سرحدیں بھی محدود تھیں۔</p>
<p>ہندوؤں کی مذہبی کتاب پُران کے مطابق ’وہ ملک (ورشم) جو سمندر کے شمال میں اور برفیلے پہاڑوں کے جنوب میں واقع ہے اسے بھرت کہتے ہیں، وہاں بھارت کی اولاد رہتی ہے‘۔</p>
<h1><a id="مذہبی-کارڈ" href="#مذہبی-کارڈ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>مذہبی کارڈ</h1>
<p>چونکہ ’ہند، ہندوستان اور انڈیا‘ کے نام بدیسیوں کی دین ہیں اور ’بھارت‘ نام صرف مقامی نام ہے بلکہ اس کی جڑیں مذہبی روایات میں بھی موجود ہیں اس لیے انتہا پسند ہندوؤں اور ان کی سرخیل جماعت ’بھارتیہ جنتا پارٹی‘ نام کی اس تبدیلی کو آنے والے انتخابات میں مذہبی کارڈ کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہے۔ مگر مسئلہ وہی ہے جس کا ذکر اوپر کیا جاچکا ہے کہ بھارتی آئین جو ملک کا نام ’انڈیا‘ بتاتا ہے وہیں ’بھارت‘ کو بھی آفیشل نام قرار دیتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ’انڈیا‘ کو دیس نکالا ملتا ہے یا پھر اپوزیشن اتحاد مودی سرکار کے اس فریب کو ناکام بناتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1212861</guid>
      <pubDate>Tue, 17 Oct 2023 15:12:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبدالخالق بٹ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/10/171510197107e8f.png?r=151023" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/10/171510197107e8f.png?r=151023"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ناروے کے معروف ڈراما نگار جون فوسی نے 2023 کا نوبل انعام برائے ادب جیت لیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1213085/</link>
      <description>&lt;p&gt;ناروے سے تعلق رکھنے والے معروف ڈراما نگار جون فوسی کو ادب کے نوبل انعام سے نوازا گیا، جو ان ڈراما نگاروں میں شامل ہیں جن کے ڈرامے دنیا میں سب سے زیادہ پیش کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی خبر  ایجنسی ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق جون فوس کا موازنہ ایک اور نوبل انعام یافتہ ڈراما نگار سیموئیل بیکٹ سے کیا جاتا ہے کیونکہ ان کا کام مختصر اور سلیس زبان پر مبنی ہے جو منفرد انداز میں خاموشی سے اپنا پیغام پہنچاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوبل انعام دینے والی سویڈش اکیڈمی نے کہا کہ 64 سالہ جون فوس کو ان کے منفرد ڈراموں اور نثر کے لیے نوبل انعام سے نوازا گیا ہے جن کے ڈرامے اور نثر سے بے آوازوں کو آواز ملتی ہے کیونکہ ان کی تحریر کا جائزہ مواد کے بجائے طرزکے طور پر لیا جاتا ہے، جس میں جو موجود ہے اس کے بجائے وہ بیان کیا جاتا ہے جو نہیں کہا گیا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/NobelPrize/status/1709886360423743969"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جون فوس نے کہا کہ ’میں پرجوش اور مشکور ہوں، میں اس کو ادب کے لیے انعام سمجھتا ہوں جس کا اولین اور بنیادی مقصد بھی ادب ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناروے کے سرکاری نشریاتی ادارے ’این آر کے‘ سے بات کرتے ہوئے  جون فوس نے کہا کہ وہ حیران بھی ہیں اور نہیں بھی، کیونکہ گزشتہ کئی برسوں سے ان کا نام نوبل انعام کی فہرست میں شامل کیا جاتا رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جون فوس کے سب سے زیادہ مشہور ڈراموں میں 1989 میں لکھا گیا  ’باتھ ہاؤس‘ اور 1995 میں لکھا گیا ڈراما ’میلان چولی‘ (ون اینڈ ٹو) شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="پلے-رائٹنگ-میرے-لیے-ہی-بنی-تھی-جون-فوسی" href="#پلے-رائٹنگ-میرے-لیے-ہی-بنی-تھی-جون-فوسی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;پلے رائٹنگ میرے لیے ہی بنی تھی، جون  فوسی&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;نوبل پرائیز کمیٹی نے کہا کہ آج جہاں وہ دنیا میں سب سے زیادہ پرفارم کرنے والے ڈراما نگاروں میں شامل ہیں وہیں وہ اپنے نثر کے لیے بھی مقبول ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/NobelPrize/status/1709887116090421745"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جون فوسی ایک ایسے خاندان میں بڑے ہوئے جو لوتھرانزم کی سخت شکل کی پیروی کرتا تھا لیکن انہوں نے ایک بینڈ میں کام کرکے خود کو ملحد قرار دے کر اس سے بغاوت کی اور 2013 میں کیتھولک مذہب اختیار کرلیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادب کا مطالعہ کرنے کے بعد انہوں نے 1983 میں پہلا ناول ’ریڈ، بلیک‘ لکھ کر ادبی دنیا میں قدم رکھا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیم سوانح پر مبنی ان کی حالیہ کتاب ’سیپٹالوجی‘ بغیر کسی فل اسٹاپ کے ایک ہزار 250 صفحات پر مشتمل ہے، ان کی اس کتاب کی تیسری جلد  2022 میں ہونے والے انٹرنیشنل بکر پرائز کے لیے شارٹ لسٹ ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1171510"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1990 کی دہائی کے اوائل میں ایک مصنف کی حیثیت سے کامیابی کے لیے کوشش کے دوران جون فوسی سے ایک ڈرامے کا ابتدائیہ لکھنے کو کہا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک بار فرینچ تھیٹر ویب سائٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے جون فوسی نے کہا تھا کہ ’مجھے پتا تھا، میں نے محسوس کیا کہ اس طرح کی رائٹنگ میرے لیے بنی ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جون فوسی کے ایک ڈرامے ’اینڈ وی ول نیور بی پارٹڈ‘ کو 1994 میں عالمی سطح پر شہرت حاصل ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناروے میں ان کے پبلشر کے مطابق ان کا ایک ڈراما ’سملاگیٹ‘ دنیا بھر میں ایک ہزار سے زائد مرتبہ پیش کیا جا چکا ہے اور ان کے ادبی کام کو 50 سے زائد زبانوں میں ترجمہ کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1078041"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جون فوس نے 2003 میں فرانسیسی اخبار کو انٹرویو میں کہا تھا کہ ’میں کرداروں کو روایتی الفاظ میں میں نہیں لکھتا، میں انسانیت کے بارے میں لکھتا ہوں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ سویڈش اکیڈمی مغرب کے لکھاریوں کو زیادہ اہمیت دینے پر تنقید کی زد میں رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم 2018 میں عالمی سطح پر ’می ٹو‘ مہم سامنے آنے کے بعد عالمی ادارے نے چند اصلاحات کرتے ہوئے صنفی برابری کی بنیاد پر نوبل انعام برائے ادب دینے کا عزم کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مہم کے بعد اکیڈمی نے تین خواتین بشمول فرانس کی اینی ایرناکس، امریکی شاعرہ لوئیس گلک اور پولینڈ کی اولگا ٹوکارزوک جبکہ تین مردوں بشمول آسٹریا کے مصنف پیٹر ہینڈکے، تنزانیا کے مصنف عبدالرازق گورنا اور جون  فوسی کو نوبل انعام برائے ادب سے نوازا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ناروے سے تعلق رکھنے والے معروف ڈراما نگار جون فوسی کو ادب کے نوبل انعام سے نوازا گیا، جو ان ڈراما نگاروں میں شامل ہیں جن کے ڈرامے دنیا میں سب سے زیادہ پیش کیے گئے ہیں۔</p>
<p>غیر ملکی خبر  ایجنسی ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق جون فوس کا موازنہ ایک اور نوبل انعام یافتہ ڈراما نگار سیموئیل بیکٹ سے کیا جاتا ہے کیونکہ ان کا کام مختصر اور سلیس زبان پر مبنی ہے جو منفرد انداز میں خاموشی سے اپنا پیغام پہنچاتا ہے۔</p>
<p>نوبل انعام دینے والی سویڈش اکیڈمی نے کہا کہ 64 سالہ جون فوس کو ان کے منفرد ڈراموں اور نثر کے لیے نوبل انعام سے نوازا گیا ہے جن کے ڈرامے اور نثر سے بے آوازوں کو آواز ملتی ہے کیونکہ ان کی تحریر کا جائزہ مواد کے بجائے طرزکے طور پر لیا جاتا ہے، جس میں جو موجود ہے اس کے بجائے وہ بیان کیا جاتا ہے جو نہیں کہا گیا ہو۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/NobelPrize/status/1709886360423743969"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>جون فوس نے کہا کہ ’میں پرجوش اور مشکور ہوں، میں اس کو ادب کے لیے انعام سمجھتا ہوں جس کا اولین اور بنیادی مقصد بھی ادب ہے‘۔</p>
<p>ناروے کے سرکاری نشریاتی ادارے ’این آر کے‘ سے بات کرتے ہوئے  جون فوس نے کہا کہ وہ حیران بھی ہیں اور نہیں بھی، کیونکہ گزشتہ کئی برسوں سے ان کا نام نوبل انعام کی فہرست میں شامل کیا جاتا رہا تھا۔</p>
<p>جون فوس کے سب سے زیادہ مشہور ڈراموں میں 1989 میں لکھا گیا  ’باتھ ہاؤس‘ اور 1995 میں لکھا گیا ڈراما ’میلان چولی‘ (ون اینڈ ٹو) شامل ہیں۔</p>
<h3><a id="پلے-رائٹنگ-میرے-لیے-ہی-بنی-تھی-جون-فوسی" href="#پلے-رائٹنگ-میرے-لیے-ہی-بنی-تھی-جون-فوسی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>پلے رائٹنگ میرے لیے ہی بنی تھی، جون  فوسی</h3>
<p>نوبل پرائیز کمیٹی نے کہا کہ آج جہاں وہ دنیا میں سب سے زیادہ پرفارم کرنے والے ڈراما نگاروں میں شامل ہیں وہیں وہ اپنے نثر کے لیے بھی مقبول ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/NobelPrize/status/1709887116090421745"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>جون فوسی ایک ایسے خاندان میں بڑے ہوئے جو لوتھرانزم کی سخت شکل کی پیروی کرتا تھا لیکن انہوں نے ایک بینڈ میں کام کرکے خود کو ملحد قرار دے کر اس سے بغاوت کی اور 2013 میں کیتھولک مذہب اختیار کرلیا۔</p>
<p>ادب کا مطالعہ کرنے کے بعد انہوں نے 1983 میں پہلا ناول ’ریڈ، بلیک‘ لکھ کر ادبی دنیا میں قدم رکھا تھا۔</p>
<p>نیم سوانح پر مبنی ان کی حالیہ کتاب ’سیپٹالوجی‘ بغیر کسی فل اسٹاپ کے ایک ہزار 250 صفحات پر مشتمل ہے، ان کی اس کتاب کی تیسری جلد  2022 میں ہونے والے انٹرنیشنل بکر پرائز کے لیے شارٹ لسٹ ہوئی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1171510"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>1990 کی دہائی کے اوائل میں ایک مصنف کی حیثیت سے کامیابی کے لیے کوشش کے دوران جون فوسی سے ایک ڈرامے کا ابتدائیہ لکھنے کو کہا گیا تھا۔</p>
<p>ایک بار فرینچ تھیٹر ویب سائٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے جون فوسی نے کہا تھا کہ ’مجھے پتا تھا، میں نے محسوس کیا کہ اس طرح کی رائٹنگ میرے لیے بنی ہے‘۔</p>
<p>جون فوسی کے ایک ڈرامے ’اینڈ وی ول نیور بی پارٹڈ‘ کو 1994 میں عالمی سطح پر شہرت حاصل ہوئی تھی۔</p>
<p>ناروے میں ان کے پبلشر کے مطابق ان کا ایک ڈراما ’سملاگیٹ‘ دنیا بھر میں ایک ہزار سے زائد مرتبہ پیش کیا جا چکا ہے اور ان کے ادبی کام کو 50 سے زائد زبانوں میں ترجمہ کیا گیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1078041"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>جون فوس نے 2003 میں فرانسیسی اخبار کو انٹرویو میں کہا تھا کہ ’میں کرداروں کو روایتی الفاظ میں میں نہیں لکھتا، میں انسانیت کے بارے میں لکھتا ہوں‘۔</p>
<p>خیال رہے کہ سویڈش اکیڈمی مغرب کے لکھاریوں کو زیادہ اہمیت دینے پر تنقید کی زد میں رہی ہے۔</p>
<p>تاہم 2018 میں عالمی سطح پر ’می ٹو‘ مہم سامنے آنے کے بعد عالمی ادارے نے چند اصلاحات کرتے ہوئے صنفی برابری کی بنیاد پر نوبل انعام برائے ادب دینے کا عزم کیا تھا۔</p>
<p>اس مہم کے بعد اکیڈمی نے تین خواتین بشمول فرانس کی اینی ایرناکس، امریکی شاعرہ لوئیس گلک اور پولینڈ کی اولگا ٹوکارزوک جبکہ تین مردوں بشمول آسٹریا کے مصنف پیٹر ہینڈکے، تنزانیا کے مصنف عبدالرازق گورنا اور جون  فوسی کو نوبل انعام برائے ادب سے نوازا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1213085</guid>
      <pubDate>Fri, 06 Oct 2023 12:09:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/10/051921435eb91b7.jpg?r=120922" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/10/051921435eb91b7.jpg?r=120922"/>
        <media:title>جان فوس کے ایک ڈراما ’اینڈ وی ول نیور بی پارٹڈ‘ کو 1994 میں عالمی سطح پر شہرت حاصل ہوئی تھی: فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پردے کے پیچھے کیا ہے؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1212426/</link>
      <description>&lt;p&gt;خاندان کے تقریباً تمام بڑے عنایت خان کی زوجہ شاداں بیگم کے یہاں موجود تھے۔ دوسری شادی کرنے کے ڈیڑھ سال بعد آخر عنایت خان پکڑے گئے تھے وہ بھی جب شاداں نے ایک دن اپنے بھائی کو ان کا پیچھا کرنے بھیجا۔ عنایت خان ویسے تو خوب تیار ہوکر ہی دوستوں کی طرف جاتے تھے مگر کچھ دن سے داڑھی میں خضاب بے حساب لگ رہا تھا اور عطر کی شیشیوں کے بجائے جام لڑھکائے جارہے تھے۔ شاداں اس صورتحال سے بالکل شاداں نہ تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ’خاندانی‘ سناٹے میں آخر ان کا سالا بول پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’عنایت بھئ جان تساں پتا ای کے نی لگن ڈتا بھئی ڈوجی ذال گھن آئے او تے نال اک بال وی ہے‘ (عنایت بھائی آپ نے پتا ہی نہیں چلنے دیا کہ آپ دوسری بیوی لے آئے ہیں اور ایک بچہ بھی ہے)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عنایت خان نے ٹھنڈی آہ بھر کے مسکین سی شکل بنائی اور کہنے لگے کہ ’بس سائیں! اللّٰہ پردے رکھنڑ آلا ہے‘ (بس بھائی! اللّٰہ پردہ رکھنے والا ہے)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/25102712685c7e6.jpg'  alt='دوسری شادی کرنے کے ڈیڑھ سال بعد آخر عنایت خان پکڑے گئے تھے اور تمام بڑے ان کے ہاں جمع تھے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;دوسری شادی کرنے کے ڈیڑھ سال بعد آخر عنایت خان پکڑے گئے تھے اور تمام بڑے ان کے ہاں جمع تھے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سن کر بزرگوں کی تو ہنسی چھوٹ گئی مگر عورتوں کا غصہ دو چند ہوگیا۔ خیر بعد میں عنایت خان کی جو درگت بنی اس سے قطع نظر موضوع کی طرف آتے ہیں کہ پردے کی اہمیت کا اندازہ لگائیں کہ یہ کتنی اہم چیز ہے کہ اگر عنایت خان کا پردہ قائم رہتا تو ان کا بیڑا پار تھا مگر افسوس۔۔۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجھے جو بچپن میں پردے کی پہلی آواز یاد ہے وہ ان مزدورں کی تھی جو آس پڑوس میں کسی گھر کی چھت پر چڑھ کر کام کرنے سے پہلے یہ آواز لگاتے تھے کہ ’پردے آلے پردہ کر لو‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج کل کا معلوم نہیں کیونکہ ہمارے محلے میں تو تمام گھر پرانے ہوچکے ہیں اور کوئی خالی پلاٹ بچا ہی نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہیں پرانے گھروں کے اکھڑے پلستروں پر جس طرح رنگ برنگے پردے، پردہ ڈال دیتے ہیں بالکل اسی طرح پیسہ انسان کی اصل شخصیت پر پردہ ڈال دیتا ہے اور وہ غیر معزز فَٹ سے معززین میں شمار ہونے لگتے ہیں۔ پیسہ جہاں بہت سے پردے ڈالتا ہے وہاں بہت سے پردوں کے چیتھڑے بھی اڑا دیتا ہے اور یہ سب ہم اپنی روزمرہ زندگی میں سڑک پر چلتے کسی ہوٹل میں کھانا کھاتے، کسی سگنل پر رکتے دیکھتے رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہجہ اور رکھ رکھاؤ بھی پردہ کھول دیتا ہے۔ جیسا کہ آپ نے سن رکھا ہوگا کہ ایک شادی میں کسی لڑکے کو ایک امیر لڑکی جدید تراش خراش کے کپڑوں میں ملبوس مہنگے اور جاذب نظر میک اپ کے ساتھ ہرنی کی چال چلتی پسند آ جاتی ہے اور وہ دل و جان سے صدقے واری ہوا بیٹھتا ہے مگر کھانا کُھلنے کے وقت جب وہ لڑکی اپنی بہن کو آواز دے کر پوچھتی ہے کہ ’رخسانہ امی نوں پچھ سو بوٹی وڈی پانڑیں اے کہ چھوٹی؟‘ (رخسانہ امی سے پوچھو بوٹی بڑی کھائیں گی یا چھوٹی؟)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تو یہ سن کر وہ لڑکا عملی زندگی میں واپس آ جاتا ہے اور شادی کے کھانے پر توجہ دینا شروع کردیتا ہے۔ اگر یہ پردہ ’فاش‘ نہ ہوتا تو اس لڑکے کو اپنے فیصلے پر پچھتاوا ہوسکتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/25105539beac7ca.jpg?r=105543'  alt='کبھی کبھی انسان کا لہجہ اور رکھ رکھاؤ بھی اس کا پردہ کھول دیتا ہے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;کبھی کبھی انسان کا لہجہ اور رکھ رکھاؤ بھی اس کا پردہ کھول دیتا ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ پردے خاص آنکھوں پر ڈالنے کے لیے آرڈر پر تیار کیے جاتے ہیں۔ ایسے پردے کوئی بھی خرید سکتا ہے اس میں امیر، مڈل کلاس یا غریب ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ جو انسان چاہے اور جب چاہے یہ پردہ آنکھوں پر ڈال سکتا ہے۔ اس طرح دوسروں کا مال کھانے میں آسانی رہتی ہے اور آج کا کام کل پر رکھنے میں بھی سہولت ہوتی ہے۔ دوسروں پر اپنے حصے کا زیادہ سے زیادہ بوجھ ڈال کر انسان مست رہ سکتا ہے اور سب سے بڑھ کر آخرت میں مکمل کامیابی کا پختہ یقین بھی قائم رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کسی بھی ملک کی معیشت پر بھی پردے ڈال کر بھی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے جو آپ سب مجھ سے بہتر جانتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسان اپنی سہولت کے لیے باطنی پردے تو ڈالتا رہتا ہے مگر کبھی کبھی حقیقی پردہ بھی کام آ جاتا ہے۔ ہمارے علاقے میں گند کے ایک مناسب ڈھیر کے بالکل ہمسائے میں ایک ہوٹل ہے جہاں اعلیٰ نسل کے نان چنے ملتے ہیں۔ اگرچہ کوڑا کرکٹ کے پہاڑ کے اطراف کی دیواروں پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا حکم چسپاں ہے کہ یہاں گند ڈالنا منع ہے لیکن آس پاس کے لوگ اپنی آنکھوں اور شعور کے لیے ’تلے کا کام ہوئے‘ خاص پردے استعمال کرتے ہیں اس لیے گند وہیں پھینک جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/251047587969672.jpg'  alt='لوگ وہیں گند ڈالتے ہیں جہاں &amp;rsquo;یہاں کچرا پھینکنا منع ہے&amp;lsquo; لکھا ہوتا ہے&amp;mdash;تصویر: یوٹیوب' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;لوگ وہیں گند ڈالتے ہیں جہاں ’یہاں کچرا پھینکنا منع ہے‘ لکھا ہوتا ہے—تصویر: یوٹیوب&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہوٹل والوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ایک بڑا قدم اٹھایا جس سے اہل علاقہ بھی خوش ہوگئے اور گند والا مسئلہ بھی ختم ہوگیا۔ ہوٹل والوں نے ایک بڑا سا تمبو بطور ’پردہ‘ گند کے ڈھیر اور ہوٹل کے درمیان کھڑا کردیا ہے۔ اب لوگ صبح شام گند کے تھیلے وہیں پھینک کر تمبو کے اس طرف ہوٹل سے کھانا لینے آجاتے ہیں۔ دیکھا آپ نے کہ کیسے پورا مسئلہ ہی حل ہوگیا ایک پردے سے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بس ایک بار میں بھی پردے سے دھوکا کھا بیٹھا۔ رمضان میں ایک بازار سے کچھ خریداری کررہا تھا کہ خیال آیا کھجوریں لے لوں۔ آس پاس نظر دوڑائی تو ’پاکیزہ‘ پھل فروش کی دکان نظر آئی۔ دیکھا تو دکاندار نے کھجوروں پر کالا پردہ ڈالا ہوا تھا۔ میں نے کہا بھائی پردہ اٹھاؤ اور کھجوروں کی شکل دکھاؤ۔ اس نے پتا نہیں کیوں برا مناتے ہوئے ہوا میں ایک تھپڑ مارا۔ آن کی آن میں مکھیوں کے گروہ نے کجھوروں پر سے کوچ کیا اور ’پاکیزہ‘ فروٹ شاپ میں گم ہوگئیں۔ میں نے معذرت کی کہ ان کی پالتو مکھیوں کو میں نے کالا پردہ کہا اور کوئی اور دکان ڈھونڈنے لگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>خاندان کے تقریباً تمام بڑے عنایت خان کی زوجہ شاداں بیگم کے یہاں موجود تھے۔ دوسری شادی کرنے کے ڈیڑھ سال بعد آخر عنایت خان پکڑے گئے تھے وہ بھی جب شاداں نے ایک دن اپنے بھائی کو ان کا پیچھا کرنے بھیجا۔ عنایت خان ویسے تو خوب تیار ہوکر ہی دوستوں کی طرف جاتے تھے مگر کچھ دن سے داڑھی میں خضاب بے حساب لگ رہا تھا اور عطر کی شیشیوں کے بجائے جام لڑھکائے جارہے تھے۔ شاداں اس صورتحال سے بالکل شاداں نہ تھیں۔</p>
<p>اس ’خاندانی‘ سناٹے میں آخر ان کا سالا بول پڑا۔</p>
<p>’عنایت بھئ جان تساں پتا ای کے نی لگن ڈتا بھئی ڈوجی ذال گھن آئے او تے نال اک بال وی ہے‘ (عنایت بھائی آپ نے پتا ہی نہیں چلنے دیا کہ آپ دوسری بیوی لے آئے ہیں اور ایک بچہ بھی ہے)۔</p>
<p>عنایت خان نے ٹھنڈی آہ بھر کے مسکین سی شکل بنائی اور کہنے لگے کہ ’بس سائیں! اللّٰہ پردے رکھنڑ آلا ہے‘ (بس بھائی! اللّٰہ پردہ رکھنے والا ہے)۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/25102712685c7e6.jpg'  alt='دوسری شادی کرنے کے ڈیڑھ سال بعد آخر عنایت خان پکڑے گئے تھے اور تمام بڑے ان کے ہاں جمع تھے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>دوسری شادی کرنے کے ڈیڑھ سال بعد آخر عنایت خان پکڑے گئے تھے اور تمام بڑے ان کے ہاں جمع تھے</figcaption>
    </figure></p>
<p>یہ سن کر بزرگوں کی تو ہنسی چھوٹ گئی مگر عورتوں کا غصہ دو چند ہوگیا۔ خیر بعد میں عنایت خان کی جو درگت بنی اس سے قطع نظر موضوع کی طرف آتے ہیں کہ پردے کی اہمیت کا اندازہ لگائیں کہ یہ کتنی اہم چیز ہے کہ اگر عنایت خان کا پردہ قائم رہتا تو ان کا بیڑا پار تھا مگر افسوس۔۔۔</p>
<p>مجھے جو بچپن میں پردے کی پہلی آواز یاد ہے وہ ان مزدورں کی تھی جو آس پڑوس میں کسی گھر کی چھت پر چڑھ کر کام کرنے سے پہلے یہ آواز لگاتے تھے کہ ’پردے آلے پردہ کر لو‘۔</p>
<p>آج کل کا معلوم نہیں کیونکہ ہمارے محلے میں تو تمام گھر پرانے ہوچکے ہیں اور کوئی خالی پلاٹ بچا ہی نہیں۔</p>
<p>انہیں پرانے گھروں کے اکھڑے پلستروں پر جس طرح رنگ برنگے پردے، پردہ ڈال دیتے ہیں بالکل اسی طرح پیسہ انسان کی اصل شخصیت پر پردہ ڈال دیتا ہے اور وہ غیر معزز فَٹ سے معززین میں شمار ہونے لگتے ہیں۔ پیسہ جہاں بہت سے پردے ڈالتا ہے وہاں بہت سے پردوں کے چیتھڑے بھی اڑا دیتا ہے اور یہ سب ہم اپنی روزمرہ زندگی میں سڑک پر چلتے کسی ہوٹل میں کھانا کھاتے، کسی سگنل پر رکتے دیکھتے رہتے ہیں۔</p>
<p>لہجہ اور رکھ رکھاؤ بھی پردہ کھول دیتا ہے۔ جیسا کہ آپ نے سن رکھا ہوگا کہ ایک شادی میں کسی لڑکے کو ایک امیر لڑکی جدید تراش خراش کے کپڑوں میں ملبوس مہنگے اور جاذب نظر میک اپ کے ساتھ ہرنی کی چال چلتی پسند آ جاتی ہے اور وہ دل و جان سے صدقے واری ہوا بیٹھتا ہے مگر کھانا کُھلنے کے وقت جب وہ لڑکی اپنی بہن کو آواز دے کر پوچھتی ہے کہ ’رخسانہ امی نوں پچھ سو بوٹی وڈی پانڑیں اے کہ چھوٹی؟‘ (رخسانہ امی سے پوچھو بوٹی بڑی کھائیں گی یا چھوٹی؟)۔</p>
<p>تو یہ سن کر وہ لڑکا عملی زندگی میں واپس آ جاتا ہے اور شادی کے کھانے پر توجہ دینا شروع کردیتا ہے۔ اگر یہ پردہ ’فاش‘ نہ ہوتا تو اس لڑکے کو اپنے فیصلے پر پچھتاوا ہوسکتا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/25105539beac7ca.jpg?r=105543'  alt='کبھی کبھی انسان کا لہجہ اور رکھ رکھاؤ بھی اس کا پردہ کھول دیتا ہے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>کبھی کبھی انسان کا لہجہ اور رکھ رکھاؤ بھی اس کا پردہ کھول دیتا ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>کچھ پردے خاص آنکھوں پر ڈالنے کے لیے آرڈر پر تیار کیے جاتے ہیں۔ ایسے پردے کوئی بھی خرید سکتا ہے اس میں امیر، مڈل کلاس یا غریب ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ جو انسان چاہے اور جب چاہے یہ پردہ آنکھوں پر ڈال سکتا ہے۔ اس طرح دوسروں کا مال کھانے میں آسانی رہتی ہے اور آج کا کام کل پر رکھنے میں بھی سہولت ہوتی ہے۔ دوسروں پر اپنے حصے کا زیادہ سے زیادہ بوجھ ڈال کر انسان مست رہ سکتا ہے اور سب سے بڑھ کر آخرت میں مکمل کامیابی کا پختہ یقین بھی قائم رہتا ہے۔</p>
<p>کسی بھی ملک کی معیشت پر بھی پردے ڈال کر بھی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے جو آپ سب مجھ سے بہتر جانتے ہیں۔</p>
<p>انسان اپنی سہولت کے لیے باطنی پردے تو ڈالتا رہتا ہے مگر کبھی کبھی حقیقی پردہ بھی کام آ جاتا ہے۔ ہمارے علاقے میں گند کے ایک مناسب ڈھیر کے بالکل ہمسائے میں ایک ہوٹل ہے جہاں اعلیٰ نسل کے نان چنے ملتے ہیں۔ اگرچہ کوڑا کرکٹ کے پہاڑ کے اطراف کی دیواروں پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا حکم چسپاں ہے کہ یہاں گند ڈالنا منع ہے لیکن آس پاس کے لوگ اپنی آنکھوں اور شعور کے لیے ’تلے کا کام ہوئے‘ خاص پردے استعمال کرتے ہیں اس لیے گند وہیں پھینک جاتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/251047587969672.jpg'  alt='لوگ وہیں گند ڈالتے ہیں جہاں &rsquo;یہاں کچرا پھینکنا منع ہے&lsquo; لکھا ہوتا ہے&mdash;تصویر: یوٹیوب' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>لوگ وہیں گند ڈالتے ہیں جہاں ’یہاں کچرا پھینکنا منع ہے‘ لکھا ہوتا ہے—تصویر: یوٹیوب</figcaption>
    </figure></p>
<p>ہوٹل والوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ایک بڑا قدم اٹھایا جس سے اہل علاقہ بھی خوش ہوگئے اور گند والا مسئلہ بھی ختم ہوگیا۔ ہوٹل والوں نے ایک بڑا سا تمبو بطور ’پردہ‘ گند کے ڈھیر اور ہوٹل کے درمیان کھڑا کردیا ہے۔ اب لوگ صبح شام گند کے تھیلے وہیں پھینک کر تمبو کے اس طرف ہوٹل سے کھانا لینے آجاتے ہیں۔ دیکھا آپ نے کہ کیسے پورا مسئلہ ہی حل ہوگیا ایک پردے سے۔</p>
<p>بس ایک بار میں بھی پردے سے دھوکا کھا بیٹھا۔ رمضان میں ایک بازار سے کچھ خریداری کررہا تھا کہ خیال آیا کھجوریں لے لوں۔ آس پاس نظر دوڑائی تو ’پاکیزہ‘ پھل فروش کی دکان نظر آئی۔ دیکھا تو دکاندار نے کھجوروں پر کالا پردہ ڈالا ہوا تھا۔ میں نے کہا بھائی پردہ اٹھاؤ اور کھجوروں کی شکل دکھاؤ۔ اس نے پتا نہیں کیوں برا مناتے ہوئے ہوا میں ایک تھپڑ مارا۔ آن کی آن میں مکھیوں کے گروہ نے کجھوروں پر سے کوچ کیا اور ’پاکیزہ‘ فروٹ شاپ میں گم ہوگئیں۔ میں نے معذرت کی کہ ان کی پالتو مکھیوں کو میں نے کالا پردہ کہا اور کوئی اور دکان ڈھونڈنے لگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1212426</guid>
      <pubDate>Tue, 03 Oct 2023 16:02:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خاور جمال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/09/25112639b63c672.jpg?r=112643" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/09/25112639b63c672.jpg?r=112643"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لفظ تماشا: غالب کے مصرع میں احمد فراز کا تصرف</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1211494/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;دوستو عشق ہے خطا لیکن&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;کیا خطا درگزر نہیں ہوتی&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عشق کو ’خطا‘ جانتے اور اپنا قصور مانتے شاعر ’ابن انشا‘ ہیں جو احباب سے اس خطا کے قابلِ معافی ہونے سے متعلق جاننا چاہتے ہیں۔ انشاجی کے دوستوں نے انہیں کیا جواب دیا؟ یہ نہیں معلوم، البتہ ہم اتنا جانتے ہیں کہ ’خطا‘ کے قابلِ معافی ہونے یا نہ ہونے کا تعلق ’خطا‘ کی نوعیت سے ہے کہ وہ کس زمرے یا درجے میں داخل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات ہم خاص عربی زبان کے تناظر میں کہہ رہے ہیں کہ جس کے زیرِ اثر خود اردو میں ’خطا‘ کے معنی میں ’سہو‘ سے شروع ہونے والی بات ’جرم‘ پر تمام ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فارسی فرہنگ نگاروں اور اردو لغت نویسوں نے ’خطا‘ کے مفہوم میں ’اشتباہ، نادرست، ناصواب، غلط، خبط، سقیم، لغزش، ذلت، قصور، معصیت، ذنب، اثم، گناہ اور جرم‘ کے ساتھ ساتھ ہر اُس عمل کو شامل کیا ہے جو ’خلافِ مقررات‘ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل کہ زیر بحث لفظ کے حوالے سے مختلف مدارج کا ذکر ہو، موضوع کی مناسبت سے مظفر رزمی کا ضرب المثل شعر ملاحظہ کریں،&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عربی زبان کے ایک بڑے عالم کے نزدیک ’اَلْخَطَأ اور اَلْخَطَأَۃُ کے معنی صحیح جہت سے نافرمانی اور روگردانی کرنے کے ہیں۔ اب اگر آپ کے پیش نظر ’صحیح جہت سے روگردانی‘ ہو تو آپ کو سمجھنے میں دیر نہیں لگے گی کہ ’خطا‘ کے مفہوم میں ’نشانہ چُوکنا‘ کیوں داخل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب اس بات کو اشرف یعقوبی کے الفاظ میں سمجھیں، جن کا کہنا ہے کہ،&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;چُوک جاتے تھے بات ہے کل کی&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;اب نشانہ خطا نہیں ہوتا&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر بات کریں ’خطا‘ کی مختلف صورتوں یا درجات کی تو اس کے پہلے درجہ میں بُرے ارادے سے کیا جانے والا ہر وہ کام داخل ہے جس کا نتیجہ بھی نامناسب ہو۔ گویا خطا کا یہ پہلا درجہ قابل مواخذہ ہے۔ اسی لیے اصطلاح میں اس کو ’خطائے عمد‘ کہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’خطا‘ کا دوسرا درجہ وہ ہے جس میں ارادہ تو نیک ہو مگر اس کا انجام بُرا نکل آئے۔ گویا یہ وہی معاملہ ہے جس کا اظہار شاعر جمیل مرصع پوری کے ہاں ان الفاظ میں ہوا ہے،&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;یہ دور بھی کیا دور ہے اس دور میں یارو&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;سچ بولنے والوں کا ہی انجام برا ہے&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’خطا‘ کا تیسرا درجہ وہ ہے جس میں کسی غیرمستحسن کام کا ارادہ کیا جائے مگر اتفاق سے وہ کام اچھا ہوجائے۔ غالباً ایسی ہی کسی صورت کے متعلق کہنے والے نے کہا تھا ’وقد یحسن الانسان من حیث لایدری‘ یعنی کبھی انسان نادانستہ طور پر بھی اچھا کام کر لیتا ہے۔ اردو میں اس صورت کو ’شر سے خیر برآمد ہونا‘ کہتے ہیں۔ بقولِ انور مسعود صاحب؛&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;میں اپنے دشمنوں کا کس قدر ممنون ہوں انور&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;کہ ان کے شر سے کیا کیا خیر کے پہلو نکلتے ہیں&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویسے پنجابی زبان میں اس حوالے سے ایک دلچسپ کہاوت ہے کہ ’کُبے نوں لت پئی تے او دا کُب نکل گیا‘ یعنی کبڑے کی کمر پر لات پڑی تو اس کا کبڑا پن جاتا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیر ذکر تھا ’خطا‘ کا تو عربی کی نسبت اور فارسی کی رعایت سے زیرِ بحث لفظ پر مشتمل دسیوں تراکیب اردو میں راہ پاگئی ہیں۔ مثلاً دھوکا کھانا اگر ’خَطا پانا‘ ہے تو غلط ثابت کرنا ’خَطا بتانا‘ اور غلطی نِکالنا، ’خَطا پکڑنا‘ ہے۔ پھر ان غلطیوں کو چھپانے اور قُصور معاف کرنے والا ’خَطا پوش‘ ہے تو گُناہ بخشنے والا ’خَطا بَخش‘۔ اس آخری الذکر ترکیب کو شیخ سعدی شیرازی کے ہاں بھی دیکھا جا سکتا ہے،&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;نداریم غیر اَز تو فریاد رس&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;توئی عاصیاں را خطا بخش و بس&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یعنی تیرے سوا ہمارا کوئی فریاد رس نہیں ہے فقط تو ہی گناہ گاروں کی خطا بخشنے والا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/1316580763bec61.jpg'  alt='&amp;rsquo;خطا&amp;lsquo; کا دوسرا درجہ وہ ہے جس میں ارادہ تو نیک ہو مگر اس کا انجام بُرا نکل آئے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;’خطا‘ کا دوسرا درجہ وہ ہے جس میں ارادہ تو نیک ہو مگر اس کا انجام بُرا نکل آئے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بات یہیں تمام نہیں ہوتی کہ اردو کے دامن میں ’خطا‘ پر مشتمل اور بھی تراکیب موجود ہیں، جیسے غلط آمیز یا عیب دار اگر ’خَطا پذیر‘ ہے تو ان عیوب پر انگشت نمائی کرنا والا ’خَطا جُو‘ ہے۔ غلط کار اگر ’خَطا شِعار‘ ہے تو کُھلم کُھلا غلطی یا بہت بڑی غلطی ’خَطائے فاش‘ ہے۔
فارسی کی رعایت سے اردو میں جہاں اس قدر تراکیب راہ یاب ہوئیں وہیں زیر بحث لفظ پر مشتمل ایک ضرب المثل ’خطا بر بزرگان گرفتن خطا ست‘ بھی خاصی مقبول ہے جس کے معنی ہیں ’بزرگوں کی لغزشوں پر گرفت کرنا بجائے خود خطا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوں تو اس ضرب المثل میں پوشیدہ سبق سے کسی طور انکار ممکن نہیں، تاہم اجتماعی معاملات سے جڑے یا مفاد عامہ سے وابستہ امور میں اگر کسی بزرگ کے افکار یا افعال میں کوئی کمی یا کجی قابل اصلاح تو ہمارے نزدیک اس لغزش کی شائستہ انداز میں نشاندہی ’خطا‘ میں شامل نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وضاحت کے ساتھ اب ہم اردو زبان کے قادر الکلام شاعر احمد فراز صاحب کا ذکر کریں گے کہ جن کی شاعری نے اردو کا اعتبار بڑھایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غالباً پہلے بھی لکھ آئے ہیں کہ احمد فراز کے یہاں انسانی رویوں کی ہر جہت اور مزاج کے ہر زاویے کا اظہار موجود ہے۔ پھر ان کے ہاں فقط لب و رخسار کے افسانے اور گُل و بلبل کے ترانے یا محض محبوب کا قصیدہ ہی نہیں بلکہ ان کے ہاں مزاحمت اور بغاوت کا لہجہ بھی موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تمہید کے ساتھ اب جناب احمد فراز کی ایک مشہورغزل کا مطلع ملاحظہ کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;چاہت کے صبح و شام محبت کے رات دن&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوں تو کسی غزل کا اگر کوئی ایک شعر بھی عمدہ ہوجائے تو پوری غزل مراد پا جاتی ہے، مگر فراز صاحب کی مذکورہ غزل کا ہر شعر لاجواب ہے۔ اس پر کمال یہ ہے کہ یہ غزل چالیس سے زیادہ اشعار سے مزّین ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1211066"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسئلہ صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ اس غزل کے مطلع کا مصرع ثانی ’دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن‘ اصلاً مرزا غالب کی ایک مشہور غزل سے مستعار ہے۔ باالفاظ دیگر فراز صاحب کی یہ غزل غالب کے مصرع کی تضمین ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہوا یہ ہے کہ احمد فراز صاحب نے غالب کے مصرعے میں دو جگہ تصرف کیا ہے (ضرورت شعری کے تحت ایسا تصرف کئی دوسرے شعرا کے ہیں بھی موجود ہے)، اول جہاں غالب نے ’جی‘ درج کیا تھا وہاں ’دل‘ آگیا ہے، دوم مرزا نے ’فرصت‘ کے بعد ’کہ‘ باندھا ہے جو احمد فراز کے ہاں ’کے‘ ہوگیا ہے۔ پھر یہ کہ اگر لفظی ترامیم  کی وجہ سے مصرع کو واوین میں درج نہیں کیا گیا تو بھی حاشیہ میں بہ ہرحال اس کی وضاحت ضروری تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب واپس غالب کے اس شعر پر آتے ہیں جس کا مصرع فراز کے ہاں موجود ہے۔ غالب کا مکمل شعر اس شکل میں ہے،&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کہ رات دن&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شعر بالا میں موجود ’کہ‘ کو ’کے‘ بنانے میں یقیناً شعری مجبوری رہی ہوگی، اس لیے کہ فراز صاحب کی غزل کا ردیف ہی ’کے رات دن‘ ہے۔ اگر فراز صاحب کا عذر قبول کر بھی لیں تو بھی اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ شعری ذوق رکھنے والے افراد بھی گاہے غالب کے مذکورہ شعر میں موجود ’کہ‘ کو ’کے‘ لکھتے اور پڑھتے ہیں، نتیجے میں بات غالب کے مدعے سے دور جا پڑتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/13163924093472c.jpg'  alt='&amp;rsquo;کہ&amp;lsquo; کو &amp;rsquo;کے&amp;lsquo; بنانے میں یقیناً احمد فراز کی کوئی شعری مجبوری رہی ہوگی' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;’کہ‘ کو ’کے‘ بنانے میں یقیناً احمد فراز کی کوئی شعری مجبوری رہی ہوگی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لفظی تبدیلی یا پیہم غلطی کا یہ رجحان غالب کے درج ذیل شعر میں بھی ملتا ہے،&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;منظر اک بلندی پر اور ہم بنا سکتے &lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;عرش سے ادھر ہوتا کاشکے مکاں اپنا&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس شعر میں موجود لفظ ’کاشکے‘ کو غلط طور پر ’کاش کے‘ لکھا جاتا ہے۔ غلط طور پر اس لیے کہ اول ’کاشکے‘ فارسی لفظ ہے، دوم یہ کہ مرزا نے خود بھی ’کاشکے‘ ہی باندھا ہے۔
یہاں سوال یہ کیا جاسکتا ہے کہ فارسی ’کاشکے‘ اور اردو ’کاش کے‘ میں کیا فرق ہے؟ تو عرض ہے کہ فارسی ’کاشکے‘ حرف تمنا ہے جو حسبِ موقع کبھی تاسف کے معنی میں برتا جاتا ہے اور گاہے حسرت میں بدل جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رہی بات ’کاش کے‘ لکھنے کی تو یہاں ’کاش‘ عملاً فارسی معنی ہی میں موجود ہے مگر اردو قاعدے کے مطابق یہاں ’کاش‘ کے ساتھ ’کے‘ نادرست ہے، اگر اردو میں لکھیں گے تو ’کاش کہ‘ لکھیں گے نہ کہ ’کاش کے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چونکہ بات کچھ پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے سو ہمیں اجازت دیں، مگر اس قبل زیر بحث لفظ کی رعایت سے خدائے سخن میر تقی میر کا ایک خوبصورت شعر ملاحظہ کرلیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;عید ہی کاشکے رہے ہر روز&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;صبح اس کے گلے لگا کریے&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">دوستو عشق ہے خطا لیکن</div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">کیا خطا درگزر نہیں ہوتی</div></strong></p>
<p>عشق کو ’خطا‘ جانتے اور اپنا قصور مانتے شاعر ’ابن انشا‘ ہیں جو احباب سے اس خطا کے قابلِ معافی ہونے سے متعلق جاننا چاہتے ہیں۔ انشاجی کے دوستوں نے انہیں کیا جواب دیا؟ یہ نہیں معلوم، البتہ ہم اتنا جانتے ہیں کہ ’خطا‘ کے قابلِ معافی ہونے یا نہ ہونے کا تعلق ’خطا‘ کی نوعیت سے ہے کہ وہ کس زمرے یا درجے میں داخل ہے۔</p>
<p>یہ بات ہم خاص عربی زبان کے تناظر میں کہہ رہے ہیں کہ جس کے زیرِ اثر خود اردو میں ’خطا‘ کے معنی میں ’سہو‘ سے شروع ہونے والی بات ’جرم‘ پر تمام ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فارسی فرہنگ نگاروں اور اردو لغت نویسوں نے ’خطا‘ کے مفہوم میں ’اشتباہ، نادرست، ناصواب، غلط، خبط، سقیم، لغزش، ذلت، قصور، معصیت، ذنب، اثم، گناہ اور جرم‘ کے ساتھ ساتھ ہر اُس عمل کو شامل کیا ہے جو ’خلافِ مقررات‘ ہو۔</p>
<p>اس سے قبل کہ زیر بحث لفظ کے حوالے سے مختلف مدارج کا ذکر ہو، موضوع کی مناسبت سے مظفر رزمی کا ضرب المثل شعر ملاحظہ کریں،</p>
<p><strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے</div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی</div></strong></p>
<p>عربی زبان کے ایک بڑے عالم کے نزدیک ’اَلْخَطَأ اور اَلْخَطَأَۃُ کے معنی صحیح جہت سے نافرمانی اور روگردانی کرنے کے ہیں۔ اب اگر آپ کے پیش نظر ’صحیح جہت سے روگردانی‘ ہو تو آپ کو سمجھنے میں دیر نہیں لگے گی کہ ’خطا‘ کے مفہوم میں ’نشانہ چُوکنا‘ کیوں داخل ہے۔</p>
<p>اب اس بات کو اشرف یعقوبی کے الفاظ میں سمجھیں، جن کا کہنا ہے کہ،</p>
<p><strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">چُوک جاتے تھے بات ہے کل کی</div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">اب نشانہ خطا نہیں ہوتا</div></strong></p>
<p>اگر بات کریں ’خطا‘ کی مختلف صورتوں یا درجات کی تو اس کے پہلے درجہ میں بُرے ارادے سے کیا جانے والا ہر وہ کام داخل ہے جس کا نتیجہ بھی نامناسب ہو۔ گویا خطا کا یہ پہلا درجہ قابل مواخذہ ہے۔ اسی لیے اصطلاح میں اس کو ’خطائے عمد‘ کہتے ہیں۔</p>
<p>’خطا‘ کا دوسرا درجہ وہ ہے جس میں ارادہ تو نیک ہو مگر اس کا انجام بُرا نکل آئے۔ گویا یہ وہی معاملہ ہے جس کا اظہار شاعر جمیل مرصع پوری کے ہاں ان الفاظ میں ہوا ہے،</p>
<p><strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">یہ دور بھی کیا دور ہے اس دور میں یارو</div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">سچ بولنے والوں کا ہی انجام برا ہے</div></strong></p>
<p>’خطا‘ کا تیسرا درجہ وہ ہے جس میں کسی غیرمستحسن کام کا ارادہ کیا جائے مگر اتفاق سے وہ کام اچھا ہوجائے۔ غالباً ایسی ہی کسی صورت کے متعلق کہنے والے نے کہا تھا ’وقد یحسن الانسان من حیث لایدری‘ یعنی کبھی انسان نادانستہ طور پر بھی اچھا کام کر لیتا ہے۔ اردو میں اس صورت کو ’شر سے خیر برآمد ہونا‘ کہتے ہیں۔ بقولِ انور مسعود صاحب؛</p>
<p><strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">میں اپنے دشمنوں کا کس قدر ممنون ہوں انور</div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">کہ ان کے شر سے کیا کیا خیر کے پہلو نکلتے ہیں</div></strong></p>
<p>ویسے پنجابی زبان میں اس حوالے سے ایک دلچسپ کہاوت ہے کہ ’کُبے نوں لت پئی تے او دا کُب نکل گیا‘ یعنی کبڑے کی کمر پر لات پڑی تو اس کا کبڑا پن جاتا رہا۔</p>
<p>خیر ذکر تھا ’خطا‘ کا تو عربی کی نسبت اور فارسی کی رعایت سے زیرِ بحث لفظ پر مشتمل دسیوں تراکیب اردو میں راہ پاگئی ہیں۔ مثلاً دھوکا کھانا اگر ’خَطا پانا‘ ہے تو غلط ثابت کرنا ’خَطا بتانا‘ اور غلطی نِکالنا، ’خَطا پکڑنا‘ ہے۔ پھر ان غلطیوں کو چھپانے اور قُصور معاف کرنے والا ’خَطا پوش‘ ہے تو گُناہ بخشنے والا ’خَطا بَخش‘۔ اس آخری الذکر ترکیب کو شیخ سعدی شیرازی کے ہاں بھی دیکھا جا سکتا ہے،</p>
<p><strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">نداریم غیر اَز تو فریاد رس</div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">توئی عاصیاں را خطا بخش و بس</div></strong></p>
<p>یعنی تیرے سوا ہمارا کوئی فریاد رس نہیں ہے فقط تو ہی گناہ گاروں کی خطا بخشنے والا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/1316580763bec61.jpg'  alt='&rsquo;خطا&lsquo; کا دوسرا درجہ وہ ہے جس میں ارادہ تو نیک ہو مگر اس کا انجام بُرا نکل آئے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>’خطا‘ کا دوسرا درجہ وہ ہے جس میں ارادہ تو نیک ہو مگر اس کا انجام بُرا نکل آئے</figcaption>
    </figure></p>
<p>بات یہیں تمام نہیں ہوتی کہ اردو کے دامن میں ’خطا‘ پر مشتمل اور بھی تراکیب موجود ہیں، جیسے غلط آمیز یا عیب دار اگر ’خَطا پذیر‘ ہے تو ان عیوب پر انگشت نمائی کرنا والا ’خَطا جُو‘ ہے۔ غلط کار اگر ’خَطا شِعار‘ ہے تو کُھلم کُھلا غلطی یا بہت بڑی غلطی ’خَطائے فاش‘ ہے۔
فارسی کی رعایت سے اردو میں جہاں اس قدر تراکیب راہ یاب ہوئیں وہیں زیر بحث لفظ پر مشتمل ایک ضرب المثل ’خطا بر بزرگان گرفتن خطا ست‘ بھی خاصی مقبول ہے جس کے معنی ہیں ’بزرگوں کی لغزشوں پر گرفت کرنا بجائے خود خطا ہے‘۔</p>
<p>یوں تو اس ضرب المثل میں پوشیدہ سبق سے کسی طور انکار ممکن نہیں، تاہم اجتماعی معاملات سے جڑے یا مفاد عامہ سے وابستہ امور میں اگر کسی بزرگ کے افکار یا افعال میں کوئی کمی یا کجی قابل اصلاح تو ہمارے نزدیک اس لغزش کی شائستہ انداز میں نشاندہی ’خطا‘ میں شامل نہیں۔</p>
<p>اس وضاحت کے ساتھ اب ہم اردو زبان کے قادر الکلام شاعر احمد فراز صاحب کا ذکر کریں گے کہ جن کی شاعری نے اردو کا اعتبار بڑھایا ہے۔</p>
<p>غالباً پہلے بھی لکھ آئے ہیں کہ احمد فراز کے یہاں انسانی رویوں کی ہر جہت اور مزاج کے ہر زاویے کا اظہار موجود ہے۔ پھر ان کے ہاں فقط لب و رخسار کے افسانے اور گُل و بلبل کے ترانے یا محض محبوب کا قصیدہ ہی نہیں بلکہ ان کے ہاں مزاحمت اور بغاوت کا لہجہ بھی موجود ہے۔</p>
<p>اس تمہید کے ساتھ اب جناب احمد فراز کی ایک مشہورغزل کا مطلع ملاحظہ کریں۔</p>
<p><strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">چاہت کے صبح و شام محبت کے رات دن</div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن</div></strong></p>
<p>یوں تو کسی غزل کا اگر کوئی ایک شعر بھی عمدہ ہوجائے تو پوری غزل مراد پا جاتی ہے، مگر فراز صاحب کی مذکورہ غزل کا ہر شعر لاجواب ہے۔ اس پر کمال یہ ہے کہ یہ غزل چالیس سے زیادہ اشعار سے مزّین ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1211066"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مسئلہ صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ اس غزل کے مطلع کا مصرع ثانی ’دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن‘ اصلاً مرزا غالب کی ایک مشہور غزل سے مستعار ہے۔ باالفاظ دیگر فراز صاحب کی یہ غزل غالب کے مصرع کی تضمین ہے۔</p>
<p>ہوا یہ ہے کہ احمد فراز صاحب نے غالب کے مصرعے میں دو جگہ تصرف کیا ہے (ضرورت شعری کے تحت ایسا تصرف کئی دوسرے شعرا کے ہیں بھی موجود ہے)، اول جہاں غالب نے ’جی‘ درج کیا تھا وہاں ’دل‘ آگیا ہے، دوم مرزا نے ’فرصت‘ کے بعد ’کہ‘ باندھا ہے جو احمد فراز کے ہاں ’کے‘ ہوگیا ہے۔ پھر یہ کہ اگر لفظی ترامیم  کی وجہ سے مصرع کو واوین میں درج نہیں کیا گیا تو بھی حاشیہ میں بہ ہرحال اس کی وضاحت ضروری تھی۔</p>
<p>اب واپس غالب کے اس شعر پر آتے ہیں جس کا مصرع فراز کے ہاں موجود ہے۔ غالب کا مکمل شعر اس شکل میں ہے،</p>
<p><strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کہ رات دن</div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے</div></strong></p>
<p>شعر بالا میں موجود ’کہ‘ کو ’کے‘ بنانے میں یقیناً شعری مجبوری رہی ہوگی، اس لیے کہ فراز صاحب کی غزل کا ردیف ہی ’کے رات دن‘ ہے۔ اگر فراز صاحب کا عذر قبول کر بھی لیں تو بھی اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ شعری ذوق رکھنے والے افراد بھی گاہے غالب کے مذکورہ شعر میں موجود ’کہ‘ کو ’کے‘ لکھتے اور پڑھتے ہیں، نتیجے میں بات غالب کے مدعے سے دور جا پڑتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/13163924093472c.jpg'  alt='&rsquo;کہ&lsquo; کو &rsquo;کے&lsquo; بنانے میں یقیناً احمد فراز کی کوئی شعری مجبوری رہی ہوگی' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>’کہ‘ کو ’کے‘ بنانے میں یقیناً احمد فراز کی کوئی شعری مجبوری رہی ہوگی</figcaption>
    </figure></p>
<p>لفظی تبدیلی یا پیہم غلطی کا یہ رجحان غالب کے درج ذیل شعر میں بھی ملتا ہے،</p>
<p><strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">منظر اک بلندی پر اور ہم بنا سکتے </div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">عرش سے ادھر ہوتا کاشکے مکاں اپنا</div></strong></p>
<p>اس شعر میں موجود لفظ ’کاشکے‘ کو غلط طور پر ’کاش کے‘ لکھا جاتا ہے۔ غلط طور پر اس لیے کہ اول ’کاشکے‘ فارسی لفظ ہے، دوم یہ کہ مرزا نے خود بھی ’کاشکے‘ ہی باندھا ہے۔
یہاں سوال یہ کیا جاسکتا ہے کہ فارسی ’کاشکے‘ اور اردو ’کاش کے‘ میں کیا فرق ہے؟ تو عرض ہے کہ فارسی ’کاشکے‘ حرف تمنا ہے جو حسبِ موقع کبھی تاسف کے معنی میں برتا جاتا ہے اور گاہے حسرت میں بدل جاتا ہے۔</p>
<p>رہی بات ’کاش کے‘ لکھنے کی تو یہاں ’کاش‘ عملاً فارسی معنی ہی میں موجود ہے مگر اردو قاعدے کے مطابق یہاں ’کاش‘ کے ساتھ ’کے‘ نادرست ہے، اگر اردو میں لکھیں گے تو ’کاش کہ‘ لکھیں گے نہ کہ ’کاش کے‘۔</p>
<p>چونکہ بات کچھ پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے سو ہمیں اجازت دیں، مگر اس قبل زیر بحث لفظ کی رعایت سے خدائے سخن میر تقی میر کا ایک خوبصورت شعر ملاحظہ کرلیں۔</p>
<p><strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">عید ہی کاشکے رہے ہر روز</div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">صبح اس کے گلے لگا کریے</div></strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1211494</guid>
      <pubDate>Tue, 26 Sep 2023 16:10:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبدالخالق بٹ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/09/13162816f6e9d02.gif?r=170418" type="image/gif" medium="image" height="71" width="64">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/09/13162816f6e9d02.gif?r=170418"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کہانی: لینن گراڈ اور کڑکتے کاغذ کی خوشبو</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1210678/</link>
      <description>&lt;p&gt;مشرقی محاذ کا تاریک ہوتا آسمان میدان جنگ پر سرمئی کفن پھیلاتا محسوس ہورہا تھا۔ یخ بستہ ہوا کے جھکڑوں میں گہرا تناؤ محسوس کیا جاسکتا تھا۔ مخالف قوتوں کے بوسیدہ پھریرے اور ٹوٹے ہوئے عَلم اس بات کے گواہ تھے کہ میدان مارنے کی کوششیں پہلے بھی ہوچکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دہشت زدہ خاموشی میں ٹینکوں کی گڑگڑاہٹ اور فوجیوں کے بھاری بوٹوں کی دھمک بار بار خلل ڈال رہی تھیں۔ آسمان تو ویسے بھی دشمن ہوتا ہے لیکن اس پر اب جنگی طیاروں کی مسلسل پروازیں اس بات کا ثبوت تھیں کہ آسمان سے موت بھی برسے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپاہیوں کی آنکھوں میں پچھلے سیکڑوں دنوں سے جاری اس جنگ کی ہزار ان کہی کہانیوں، گھر کے خوابوں اور اپنے پیچھے چھوڑے گئے پیاروں کے عکس دیکھے جاسکتے تھے۔ خوف اور بے یقینی کے سائے ان کے چہروں پر ناچ رہے تھے۔ اس لمحے میں وہ صرف جنگجو نہیں تھے بلکہ وہ لوگ تھے جن کی امیدیں، خواب اور خاندان ان کی واپسی کے منتظر تھے۔ فضا ان کے جذبات سے بوجھل ہوئی جاتی تھی۔ پھر بھی سامنے نظر آنے والی اٹل موت کے وحشت ناک اندھیروں کے بیچ ایک شعلہ لپک رہا تھا جو امید تھی واپسی کی، بچ جانے کی، زندہ رہ جانے کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/2915062717695cc.jpg'  alt='آسمان میں جنگی طیارے مسلسل پرواز کررہے تھے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;آسمان میں جنگی طیارے مسلسل پرواز کررہے تھے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سوویت یونین میں موجود لینن گراڈ کا خوبصورت شہر ہے جسے زار عظیم پیٹر نے 1703ء میں بنایا تھا۔ اب دوسری عالمی جنگ میں جرمنی اسے فتح کرنے کے لیے سر توڑ کوششیں کررہا ہے۔ جرمن فوج ’ویئرماخت‘ کے سپاہی لینن گراڈ کے مضافات میں ایم پی 40 سب مشین گنوں اور 98-کے رائفلوں سے لیس ٹائیگر-1 ٹینکوں کے پیچھے اپنی صفیں درست کیے پیش قدمی جاری رکھے ہوئے تھے۔ ان کی سبزی مائل سرمئی وردیوں کے اوپر ماڈل-24 کے لکڑی کے دستوں پر مشتمل لمبوترے گرینیڈ بم قطار میں اٹکے ہوئے تھے۔ لکڑی کے دستوں کی وجہ سے یہ گرینیڈ دور تک پھینکنے میں آسانی ہوتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہیں سپاہیوں میں 19 سالہ فریڈرک ویگنر بھی مارچ کررہا تھا۔ اسے تعلیم حاصل کرنے کا شوق تھا لیکن تمام جوانوں کی طرح جنگ نے اسے بھی کتاب کی جگہ بندوق پکڑا دی تھی۔ وہ بار بار اپنے سر پر موجود ایم-42 نامی ہیلمٹ کی موجودگی اسے ہاتھ لگا کر محسوس کرتا اور چلتا جاتا۔ اسے یقین تھا کہ یہ چھوٹی موٹی گولیوں سے اس کے سر کو بچا لے گا۔ اسے برستے بادلوں کے موسم میں نئی کتاب پڑھتے ہوئے کڑکتے کاغذ کی خوشبو سے محبت تھی لیکن جنگ کی چنگھاڑ  اس کے سارے خواب اڑا لے گئی تھی۔ اب ٹینکوں کی گڑگڑاہٹ اور بارود کی تیز بو اس میں نفرت بھرتی جارہی تھی۔ اسے جنگ سے نفرت تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اپنے دفاع کے لیے پُرعزم سوویت یونین کی ’سرخ فوج‘ کے سپاہی ڈھلوان دار بکتر اور 76 ملی میٹر کی خونخوار نال رکھنے والے ٹی-34 ٹینکوں کے ہمراہ دشمن سے نمٹنے کے لیے لینن گراڈ کے مضافات کا رخ کیے ہوئے تھے۔ لمبے اونی کوٹوں کے اوپر 500 میٹر تک مار کرنے والی بولٹ ایکشن رائفلیں لٹکائے وہ تاریخ کے طوفانوں سے دوچار پرانے جنگجو دکھائی دے رہے تھے۔ مادر روس کی عقیدت میں ڈوبے یہ سپاہی پُرعزم تھے کہ دشمن کو مضافات سے آگے نہیں بڑھنے دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/29150048d12f65b.jpg?r=150446'  alt='ٹینکوں کی گڑگڑاہٹ اور بارود کی تیز بو بڑھتی جارہی تھی' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ٹینکوں کی گڑگڑاہٹ اور بارود کی تیز بو بڑھتی جارہی تھی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان میں 22 سالہ تنومند جثے والا نکولائی رومانوف بھی شامل تھا۔ اس کا دل کھیتوں اور مٹی کی محبت میں ڈوبا ہوا تھا۔ کسان کی زندگی میں محبت کرنے کو اور ہوتا ہی کیا ہے۔ اس کی آنکھوں میں ایک مدھم امید جنگ کے اس شوروغل میں بھی چمک رہی تھی۔ اپنے ہاتھوں سے سینچے ہوئے کھیتوں میں واپس جانے کی امید، لیکن گزرتا وقت یہ چمک ماند کیے جاتا تھا۔ اس کے پاؤں خوف اور نفرت سے زمین پر پڑ رہے تھے۔ اسے جرمنوں سے نفرت تھی، اسے جنگ سے نفرت تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ کی دیوی برف سے ڈھکے اس وسیع و عریض سفید کینوس پر لال رنگ میں ڈوبا برش لیے اپنا عظیم تجریدی آرٹ تخلیق کرنے کو بے چین تھی۔ سلطنتوں کی بھیانک بساط میں یہ تمام پیادے اپنی اپنی قوم کے ڈراؤنے خوابوں کی تعبیر بیان کرنے کے لیے پھر سے خون ریز چالیں چلنے کو تیار تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پھر دو مختلف زبانوں میں لگتے نعروں کی گونج نے لینن گراڈ کی فضا کو دہلا دیا۔ تاریخ نے سرد مہری سے فولاد، آگ اور متزلزل ارادوں کے تصادم کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ہنگامہ خیز داستان کو رقم کرنا شروع کیا۔ دہشت ناک تباہی کے ترتیب پاتے جہنم میں توپ خانے کی گرج اور جنگی طیاروں کی کان چھید دینے والی چنگھاڑ فضا میں پھیل گئی۔ ٹینکوں کی گڑگڑاہٹ بلند ہوتی جارہی تھی اور ان کی دھاتی پٹڑیاں اپنے نیچے آنے والی ہر شے کو کچل کر آگے بڑھتی جارہی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ جرمن فوج کا شدید حملہ تھا لیکن مادرِ روس کے سپوت ثابت قدم تھے۔ اسی افراتفری میں ایک جرمن فوجی کے پیٹ سے بندوق کے آگے لگی برچھی نکالتے ہوئے نکولائی رومانوف نے گھوم کر اگلا شکار ڈھونڈنا چاہا تو اسے ایک جرمن ٹینک کی آڑ لیے چھپ چھپ کر گولیاں چلاتا ہوا ایک ہونق نوجوان سپاہی نظر آیا جو ہر گولی داغنے کے بعد اپنے سر پر ہیلمٹ چیک کرتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/29150450f806d1d.jpg?r=150752'  alt='    لکڑی کے دستوں پر بنے لمبوترے گرینیڈ بم&amp;mdash;تصویر: وکی پیڈیا    ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;لکڑی کے دستوں پر بنے لمبوترے گرینیڈ بم—تصویر: وکی پیڈیا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نکولائی کو ایک دم خاک اور خون سے رستے اس میدان میں خیال آیا کہ یہ کیسا جبر ہے کہ اس معصوم اور مجھ جیسے کسان کو جنگ کا ایندھن بنا دیا گیا ہے۔ اسی اثنا میں اس کو اپنے پیچھے کسی کی موجودگی محسوس ہوئی۔ اس نے پلٹ کر بندوق کے دستے سے وار کیا اور ایک اور جرمن سپاہی موت سے ہمکنار ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اچانک کان پھاڑ دینے والا دھماکا ہوا اور نکولائی کے عقب میں موجود سوویت ٹینک سے نکلتا گولا شام میں پھیلتے کہرے کو رنگین کرتا ہوا جرمن فوج کی صفیں چیر گیا۔ نکولائی کے کان اس دھماکے سے سُن ہوچکے تھے۔ اس نے پلٹ کر دیکھا تو وہ نوجوان اسے کہیں نظر نہیں آیا۔ جرمن فوج کے قدم اکھڑ چکے تھے۔ جنگ کی تال مدھم پڑنے پر قسمت کا پیچیدہ رقص اختتام کو پہنچ رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریباً 900 دن جاری رہنے والی لینن گراڈ کی یہ جنگ سرخ فوج جیت چکی تھی۔ بکھرے ہوئے جرمن فوج کے سپاہیوں کے پاس سے گزرتے ہوئے نکولائی کو اس نوجوان کی لاش نظر آئی۔ اس کے سر پر اب ہیلمٹ موجود نہیں تھا۔ ٹینک کا گولا ہیلمٹ کے ساتھ اس کا تقریباً آدھا سر بھی اُڑا کر لے گیا تھا۔ اس کے اوور کوٹ کی جیب میں کچھ چمکتا محسوس ہورہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/11105800cc5e781.jpg'  alt='نکولائی کو پلاسٹک کے تھیلے میں لپٹی ایک کتاب ملی' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;نکولائی کو پلاسٹک کے تھیلے میں لپٹی ایک کتاب ملی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نکولائی رومانوف نے جھک کر اس کی جیب ٹٹولی تو اسے پلاسٹک کے تھیلے میں لپٹی ایک چھوٹی سی کتاب ملی۔ پلاسٹک اتار کر اس نے کتاب کھولی تو وہ ایک بالکل نئی کتاب تھی۔ اس کو جرمن زبان تو نہیں آتی تھی تاہم اس نے کتاب کے صفحات کو انگوٹھے سے پھرولا تو اسے خوشبو آئی۔ نئی کتاب کے کڑک صفحات کی خوشبو۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>مشرقی محاذ کا تاریک ہوتا آسمان میدان جنگ پر سرمئی کفن پھیلاتا محسوس ہورہا تھا۔ یخ بستہ ہوا کے جھکڑوں میں گہرا تناؤ محسوس کیا جاسکتا تھا۔ مخالف قوتوں کے بوسیدہ پھریرے اور ٹوٹے ہوئے عَلم اس بات کے گواہ تھے کہ میدان مارنے کی کوششیں پہلے بھی ہوچکی ہیں۔</p>
<p>دہشت زدہ خاموشی میں ٹینکوں کی گڑگڑاہٹ اور فوجیوں کے بھاری بوٹوں کی دھمک بار بار خلل ڈال رہی تھیں۔ آسمان تو ویسے بھی دشمن ہوتا ہے لیکن اس پر اب جنگی طیاروں کی مسلسل پروازیں اس بات کا ثبوت تھیں کہ آسمان سے موت بھی برسے گی۔</p>
<p>سپاہیوں کی آنکھوں میں پچھلے سیکڑوں دنوں سے جاری اس جنگ کی ہزار ان کہی کہانیوں، گھر کے خوابوں اور اپنے پیچھے چھوڑے گئے پیاروں کے عکس دیکھے جاسکتے تھے۔ خوف اور بے یقینی کے سائے ان کے چہروں پر ناچ رہے تھے۔ اس لمحے میں وہ صرف جنگجو نہیں تھے بلکہ وہ لوگ تھے جن کی امیدیں، خواب اور خاندان ان کی واپسی کے منتظر تھے۔ فضا ان کے جذبات سے بوجھل ہوئی جاتی تھی۔ پھر بھی سامنے نظر آنے والی اٹل موت کے وحشت ناک اندھیروں کے بیچ ایک شعلہ لپک رہا تھا جو امید تھی واپسی کی، بچ جانے کی، زندہ رہ جانے کی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/2915062717695cc.jpg'  alt='آسمان میں جنگی طیارے مسلسل پرواز کررہے تھے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>آسمان میں جنگی طیارے مسلسل پرواز کررہے تھے</figcaption>
    </figure></p>
<p>یہ سوویت یونین میں موجود لینن گراڈ کا خوبصورت شہر ہے جسے زار عظیم پیٹر نے 1703ء میں بنایا تھا۔ اب دوسری عالمی جنگ میں جرمنی اسے فتح کرنے کے لیے سر توڑ کوششیں کررہا ہے۔ جرمن فوج ’ویئرماخت‘ کے سپاہی لینن گراڈ کے مضافات میں ایم پی 40 سب مشین گنوں اور 98-کے رائفلوں سے لیس ٹائیگر-1 ٹینکوں کے پیچھے اپنی صفیں درست کیے پیش قدمی جاری رکھے ہوئے تھے۔ ان کی سبزی مائل سرمئی وردیوں کے اوپر ماڈل-24 کے لکڑی کے دستوں پر مشتمل لمبوترے گرینیڈ بم قطار میں اٹکے ہوئے تھے۔ لکڑی کے دستوں کی وجہ سے یہ گرینیڈ دور تک پھینکنے میں آسانی ہوتی تھی۔</p>
<p>انہیں سپاہیوں میں 19 سالہ فریڈرک ویگنر بھی مارچ کررہا تھا۔ اسے تعلیم حاصل کرنے کا شوق تھا لیکن تمام جوانوں کی طرح جنگ نے اسے بھی کتاب کی جگہ بندوق پکڑا دی تھی۔ وہ بار بار اپنے سر پر موجود ایم-42 نامی ہیلمٹ کی موجودگی اسے ہاتھ لگا کر محسوس کرتا اور چلتا جاتا۔ اسے یقین تھا کہ یہ چھوٹی موٹی گولیوں سے اس کے سر کو بچا لے گا۔ اسے برستے بادلوں کے موسم میں نئی کتاب پڑھتے ہوئے کڑکتے کاغذ کی خوشبو سے محبت تھی لیکن جنگ کی چنگھاڑ  اس کے سارے خواب اڑا لے گئی تھی۔ اب ٹینکوں کی گڑگڑاہٹ اور بارود کی تیز بو اس میں نفرت بھرتی جارہی تھی۔ اسے جنگ سے نفرت تھی۔</p>
<p>دوسری جانب اپنے دفاع کے لیے پُرعزم سوویت یونین کی ’سرخ فوج‘ کے سپاہی ڈھلوان دار بکتر اور 76 ملی میٹر کی خونخوار نال رکھنے والے ٹی-34 ٹینکوں کے ہمراہ دشمن سے نمٹنے کے لیے لینن گراڈ کے مضافات کا رخ کیے ہوئے تھے۔ لمبے اونی کوٹوں کے اوپر 500 میٹر تک مار کرنے والی بولٹ ایکشن رائفلیں لٹکائے وہ تاریخ کے طوفانوں سے دوچار پرانے جنگجو دکھائی دے رہے تھے۔ مادر روس کی عقیدت میں ڈوبے یہ سپاہی پُرعزم تھے کہ دشمن کو مضافات سے آگے نہیں بڑھنے دیں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/29150048d12f65b.jpg?r=150446'  alt='ٹینکوں کی گڑگڑاہٹ اور بارود کی تیز بو بڑھتی جارہی تھی' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ٹینکوں کی گڑگڑاہٹ اور بارود کی تیز بو بڑھتی جارہی تھی</figcaption>
    </figure></p>
<p>ان میں 22 سالہ تنومند جثے والا نکولائی رومانوف بھی شامل تھا۔ اس کا دل کھیتوں اور مٹی کی محبت میں ڈوبا ہوا تھا۔ کسان کی زندگی میں محبت کرنے کو اور ہوتا ہی کیا ہے۔ اس کی آنکھوں میں ایک مدھم امید جنگ کے اس شوروغل میں بھی چمک رہی تھی۔ اپنے ہاتھوں سے سینچے ہوئے کھیتوں میں واپس جانے کی امید، لیکن گزرتا وقت یہ چمک ماند کیے جاتا تھا۔ اس کے پاؤں خوف اور نفرت سے زمین پر پڑ رہے تھے۔ اسے جرمنوں سے نفرت تھی، اسے جنگ سے نفرت تھی۔</p>
<p>جنگ کی دیوی برف سے ڈھکے اس وسیع و عریض سفید کینوس پر لال رنگ میں ڈوبا برش لیے اپنا عظیم تجریدی آرٹ تخلیق کرنے کو بے چین تھی۔ سلطنتوں کی بھیانک بساط میں یہ تمام پیادے اپنی اپنی قوم کے ڈراؤنے خوابوں کی تعبیر بیان کرنے کے لیے پھر سے خون ریز چالیں چلنے کو تیار تھے۔</p>
<p>پھر دو مختلف زبانوں میں لگتے نعروں کی گونج نے لینن گراڈ کی فضا کو دہلا دیا۔ تاریخ نے سرد مہری سے فولاد، آگ اور متزلزل ارادوں کے تصادم کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ہنگامہ خیز داستان کو رقم کرنا شروع کیا۔ دہشت ناک تباہی کے ترتیب پاتے جہنم میں توپ خانے کی گرج اور جنگی طیاروں کی کان چھید دینے والی چنگھاڑ فضا میں پھیل گئی۔ ٹینکوں کی گڑگڑاہٹ بلند ہوتی جارہی تھی اور ان کی دھاتی پٹڑیاں اپنے نیچے آنے والی ہر شے کو کچل کر آگے بڑھتی جارہی تھیں۔</p>
<p>یہ جرمن فوج کا شدید حملہ تھا لیکن مادرِ روس کے سپوت ثابت قدم تھے۔ اسی افراتفری میں ایک جرمن فوجی کے پیٹ سے بندوق کے آگے لگی برچھی نکالتے ہوئے نکولائی رومانوف نے گھوم کر اگلا شکار ڈھونڈنا چاہا تو اسے ایک جرمن ٹینک کی آڑ لیے چھپ چھپ کر گولیاں چلاتا ہوا ایک ہونق نوجوان سپاہی نظر آیا جو ہر گولی داغنے کے بعد اپنے سر پر ہیلمٹ چیک کرتا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/29150450f806d1d.jpg?r=150752'  alt='    لکڑی کے دستوں پر بنے لمبوترے گرینیڈ بم&mdash;تصویر: وکی پیڈیا    ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>لکڑی کے دستوں پر بنے لمبوترے گرینیڈ بم—تصویر: وکی پیڈیا</figcaption>
    </figure></p>
<p>نکولائی کو ایک دم خاک اور خون سے رستے اس میدان میں خیال آیا کہ یہ کیسا جبر ہے کہ اس معصوم اور مجھ جیسے کسان کو جنگ کا ایندھن بنا دیا گیا ہے۔ اسی اثنا میں اس کو اپنے پیچھے کسی کی موجودگی محسوس ہوئی۔ اس نے پلٹ کر بندوق کے دستے سے وار کیا اور ایک اور جرمن سپاہی موت سے ہمکنار ہوا۔</p>
<p>اچانک کان پھاڑ دینے والا دھماکا ہوا اور نکولائی کے عقب میں موجود سوویت ٹینک سے نکلتا گولا شام میں پھیلتے کہرے کو رنگین کرتا ہوا جرمن فوج کی صفیں چیر گیا۔ نکولائی کے کان اس دھماکے سے سُن ہوچکے تھے۔ اس نے پلٹ کر دیکھا تو وہ نوجوان اسے کہیں نظر نہیں آیا۔ جرمن فوج کے قدم اکھڑ چکے تھے۔ جنگ کی تال مدھم پڑنے پر قسمت کا پیچیدہ رقص اختتام کو پہنچ رہا تھا۔</p>
<p>تقریباً 900 دن جاری رہنے والی لینن گراڈ کی یہ جنگ سرخ فوج جیت چکی تھی۔ بکھرے ہوئے جرمن فوج کے سپاہیوں کے پاس سے گزرتے ہوئے نکولائی کو اس نوجوان کی لاش نظر آئی۔ اس کے سر پر اب ہیلمٹ موجود نہیں تھا۔ ٹینک کا گولا ہیلمٹ کے ساتھ اس کا تقریباً آدھا سر بھی اُڑا کر لے گیا تھا۔ اس کے اوور کوٹ کی جیب میں کچھ چمکتا محسوس ہورہا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/11105800cc5e781.jpg'  alt='نکولائی کو پلاسٹک کے تھیلے میں لپٹی ایک کتاب ملی' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>نکولائی کو پلاسٹک کے تھیلے میں لپٹی ایک کتاب ملی</figcaption>
    </figure></p>
<p>نکولائی رومانوف نے جھک کر اس کی جیب ٹٹولی تو اسے پلاسٹک کے تھیلے میں لپٹی ایک چھوٹی سی کتاب ملی۔ پلاسٹک اتار کر اس نے کتاب کھولی تو وہ ایک بالکل نئی کتاب تھی۔ اس کو جرمن زبان تو نہیں آتی تھی تاہم اس نے کتاب کے صفحات کو انگوٹھے سے پھرولا تو اسے خوشبو آئی۔ نئی کتاب کے کڑک صفحات کی خوشبو۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1210678</guid>
      <pubDate>Mon, 11 Sep 2023 16:00:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خاور جمال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/09/111056258d838c7.jpg?r=110025" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/09/111056258d838c7.jpg?r=110025"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا اردو لفظ ’لوٹا‘ اور انگریزی کا ’روٹا‘ ہم معنیٰ ہیں؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1211066/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;دل کی آزادی شہنشاہی، شکم سامان موت&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;فیصلہ تیرا ترے ہاتھوں میں ہے، دل یا شکم&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شعر شاعر مشرق کا ہے اور جس رعایت سے یاد آیا ہے اس کا تعلق اُس عمومی سماجی رویے سے ہے جس میں انسان شکم کا بندہ بن کر رہ گیا اور علم و تحقیق کا مزاج اگر تھا بھی تو اب جاتا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک دور تھا کہ جسے مؤرخین عہد زریں (golden era) سے تعبیر کرتے ہیں، مسلم حکما بحرِ فلکیات کے شناور تھے۔ اس باب میں ہمارے اسلاف  نے جو اَن مٹ نقوش ثبت کیے ہیں اس کی ایک جھلک دیکھنی ہو تو تاج برطانیہ کی شاہی رسد گاہ گرین وچ (Royal Observatory Greenwich) کا رُخ کریں۔ اس ادارے کے زیر اہتمام جو تحقیقی مجلّہ شائع ہوتا ہے اس کا نام ناٹیکل المناخ (The Nautical Almanac) ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’ناٹیکل المناخ‘ کا جُز ثانی ’المناخ‘ بزبان حال بتا رہا ہے کہ اس کا تعلق ’عرب‘ سے ہے۔ ’المناخ‘ کے معنی ’اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ، اقامت گاہ، منزل اور پڑاؤ کے ہیں۔ جب کہ اس کے ثانوی معنی میں ’ماحول اور فضا‘ بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/041112468b7885f.jpg'  alt='   ناٹیکل الماناخ (1880ء) کا ایک صفحہ&amp;mdash; تصویر:biblio.co   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ناٹیکل الماناخ (1880ء) کا ایک صفحہ— تصویر:biblio.co&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس علمی رسالے میں ستاروں کے طلوع و غروب کا سالانہ احوال درج ہوتا ہے، تاکہ بے نشان سمندر میں محو سفر جہاز ران منزل کا تعین آسانی سے کرسکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غالباً پہلے بھی لکھ آئے ہیں کہ آج بھی ’المناخ ناٹیکل‘ میں جن ستاروں کے طلوع و غروب کا احوال درج ہوتا ہے ان کی غالب اکثریت کے نام عربوں کی عطا ہیں، فرق صرف اتنا ہے کہ ان کا تلفظ انگریزی کے زیرِاثر قدرے بدل چکا ہے، مثلاً Achernar دراصل ’آخرالنہر‘ ہے اور Alphard  کو ’الفرد‘ سے نسبت ہے۔ Alphecca حقیقتاً ’الفکہ‘ ہے تو Altair  کی اصل ’الطیر‘ ہے۔ یہی حال دیگر بہت سے ستاروں کے ناموں کا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/04112151ecb97d6.jpg'  alt='لمناخ ناٹیکل&amp;rsquo; میں جن ستاروں کا احوال درج ہوتا ہے ان میں سے اکثر نام عربوں کی عطا ہیں' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;لمناخ ناٹیکل’ میں جن ستاروں کا احوال درج ہوتا ہے ان میں سے اکثر نام عربوں کی عطا ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسلمانوں کی علمی فتوحات فقط فلکیات تک محدود نہیں تھیں بلکہ صدیوں قبل ہی انہوں نے فضاؤں کو تسخیر کرنے کی کوششیں شروع کردی تھیں۔ اسپین میں عباس ابن فرناس (887ء-810ء) کی اولین کوششں اس راہ میں نشان منزل ثابت ہوئی تو استنبول میں ہزار فن احمد چلبی (1640ء-1609) نے انسان کے ہواؤں میں اڑنے کے خواب میں حقیقت کا رنگ بھر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;استنبول کے مغربی حصے میں واقع تاریخی غلاطہ ٹاور سے پرواز بھرنے والے ہزار فن شاخِ زریں (golden horn) عبور کرکے استنبول کے مشرقی گوشے میں اترا، یوں جو اب تک ناممکن تھا وہ ممکن ہوگیا۔ یہ ناصرف پہلی انسانی پرواز تھی بلکہ اسے پہلی بین البرِاعظمی پرواز کا اعزاز بھی حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہ ہرحال اس شان دار ماضی کے باوجود آج جو صورت حال ہے وہ علامہ اقبالؒ کے اس شعر سے مختلف نہیں:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;تجھے آبا سے اپنے کوئی نسبت ہو نہيں سکتی&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;کہ تو گفتار وہ کردار، تو ثابت وہ سیارا&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں مزید مثالوں سے گریز کرتے ہوئے آگے بڑھیں گے کہ کہیں آپ ہمیں مشتاق یوسفی کے اس بیان کا مصداق نہ ٹھہرا دیں:&lt;/p&gt;
&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;’جتنا وقت اور روپیہ بچوں کو ’مسلمانوں کے سائنس پر احسانات‘ رٹانے میں صرف کیا جاتا ہے، اس کا دسواں حصہ بھی بچوں کو سائنس پڑھانے میں صرف کیا جائے تو مسلمانوں پر بڑا احسان ہوگا‘۔&lt;/div&gt;
&lt;p&gt;ہمارے نزدیک یہ ماضی پرستی نہیں بلکہ ماضی تو وہ آئینہ ہے جس میں حال دیکھ کر مستقبل سنوارا جاتا ہے مگر ہمارا مستقبل تو شاید اس شعر کی عملی تفسیر بن کر رہ گیا ہے:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;اس نے پہلے ’مُس‘ کہا پھر ’تَق‘ کہا پھر ’بِل‘ کہا&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;اس طرح ظالم نے مستقبل کے ٹکڑے کردیے&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویسے اوپر اقبال کا جو شعر ذکر ہوا اس میں دو الفاظ ’ثابت اور سیارا‘ لائق توجہ ہیں۔ اس سے پہلے کہ آگے بڑھیں ایک بات سمجھ لیں کہ علامہ اقبالؒ نے ’سیارا‘ ضرورتِ شعری کے تحت باندھا ہے وگرنہ اس لفظ کا درست املا ’سیارہ‘ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلے ’ثابت‘ کی بات کرتے ہیں۔ اردو میں لفظی، اصطلاحی اور مجازی معنی میں استعمال ہونے والا یہ لفظ عربی الاصل ہے۔ عربی زبان کے ایک بڑے عالم علامہ راغب اصفہانی کے مطابق ’ثَبَتَ‘ کے معنی ایک حالت پر جمے رہنے کے ہیں۔ اسی ’ثَبَتَ‘ سے لفظ ’اَلَثَّبَاتُ‘ ہے جو زوال کی ضد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے معنی کی رعایت سے ’ثَبَتَ‘ سے پھوٹنے والے الفاظ ثابت، ثبوت، یثبت، تثبیت وغیرہ میں جمانا، پختہ کرنا، محقق و موکد کرنا، دل مضبوط کرنا، بہادر بنانا، ثابت قدم رکھنا، حجت، برہان، دلیل وغیرہ کا مفہوم پایا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلکیات یا علم ہیئت کی اصطلاح میں اجرام فلکی میں سے ایسے ’جرم/ ستارے‘ کو جو کسی مدار پر گردش نہ کرے یعنی غیر متحرک ہو، ’ثابت‘ کہا جاتا ہے اور اس غیر متحرک ستارے (ثابت) کی ضد ’سیارہ‘ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/041144386f13db9.jpg'  alt='اجرام فلکی میں سے ایسے &amp;rsquo;ستارے&amp;lsquo; کو جو کسی مدار پر گردش نہ کرے یعنی غیر &amp;rsquo;ثابت&amp;lsquo; کہا جاتا ہے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;اجرام فلکی میں سے ایسے ’ستارے‘ کو جو کسی مدار پر گردش نہ کرے یعنی غیر ’ثابت‘ کہا جاتا ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برسبیل تذکرہ عرض ہے کہ جسے ہم اردو اور ہندی میں ’ستارا‘ کہتے ہیں وہ جُزوی تبدیلی کے ساتھ انگریزی کے آسمان پر ’اسٹار/star‘  بن کر چمک رہا ہے۔ آسان الفاظ میں کہیں تو انگریزی ’اسٹار‘ کی اصل لفظ ’ستارا‘ ہے۔ ستاروں کا قصہ کسی اور روز کے لیے اٹھا رکھتے ہیں کہ ’ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں‘۔ فی الحال ’سیارہ‘ کی بات کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عربی لفظ ’سیر‘ اور اس سے مشتق تمام الفاظ میں چلنے پھرنے یا گھومنے پھرنے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ اول تو خود لفظ ’سیر‘ ہی یہ بتانے کے لیے کافی ہے، پھر اگر اس کے ساتھ ہندی کا ’سپاٹا‘ لگ جائے تو اس کی رفتار بصورت ’سیر سپاٹا‘ اور بڑھ جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی ’سیر‘ سے لفظ ’سیرت‘ بھی ہے، جو اردو ترکیب ’چال چلن‘ کی خوبصورت ترجمانی کرتا ہے کہ ان ہر دو الفاظ کو انسان کے کردار و عمل سے نسبت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب اس گھومنے پھرنے کی مفہوم کو پیش نظر رکھیں اور اول اجرام فلکی میں سے محو گردش اجرام پر غور کریں تو بات خود ہی سمجھ آجاتی ہے کہ انہیں ’سیارہ‘ کیوں کہا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب انسانی تمدن آگے بڑھا اور برق و بھاپ کی قوت پر قابو پانے کے ساتھ انسان صنعتی دور میں داخل ہوا تو جو نو بہ نو ایجادات سامنے آئیں ان میں سے ایک ’موٹرکار‘ بھی تھی۔ چونکہ گاڑیاں یہاں سے وہاں فراٹے بھرتی پھرتی ہیں، سو اہل عرب نے اس چلت پھرت کی نسبت انہیں بھی ’سیارہ‘ پکارا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/04114732a2c3491.jpg'  alt='چونکہ گاڑیاں یہاں سے وہاں فراٹے بھرتی پھرتی ہیں، سو اہل عرب نے اس چلت پھرت کی نسبت انہیں بھی &amp;rsquo;سیارہ&amp;lsquo; پکارا' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;چونکہ گاڑیاں یہاں سے وہاں فراٹے بھرتی پھرتی ہیں، سو اہل عرب نے اس چلت پھرت کی نسبت انہیں بھی ’سیارہ‘ پکارا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غالباً پہلے بھی لکھ آئے ہیں کہ حرف ’ر‘ اور ’ل‘ اکثر صورتوں باہم بدل جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ’باولا‘ کب ’باورا‘ ہو جاتا ہے پتا نہیں چلتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تبدیلی کی ایک دل چسپ مثال ’لوٹا‘ ہے۔ جس میں لوٹنے اور پلٹ کر آنے کا مفہوم پایا ہے۔ جی یہ وہی لوٹا ہے جس کے بارے میں پروین شاکر کہہ گئی ہیں ’جہاں بھی گیا لوٹا تو مرے پاس آیا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر ’لوٹا‘ کا  یہ مفہوم پیش نظر ہو تو سمجھنے میں دیر نہیں لگے گی کہ ہندی کے ’لوٹا‘ کو انگریزی کے ’روٹا / Rota‘ سے کیا نسبت ہے اور کس طرح انگریزی الفاظ روٹری/ Rotary اور روٹیشن / Rotation وغیرہ اپنے لوٹنے اور پلٹنے کے مفہوم کی وجہ سے ’لوٹا‘ سے جا ملتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حرف ’ر‘ اور ’ل‘ کی اس باہم تبدیلی کے تناظر میں ’سیار‘ کے ساتھ لفظ ’سیال‘ پر غور کریں اب کو سمجھنے میں دیر نہیں لگے گی کہ بہ ظاہر دو مختلف الفاظ کا مشترکہ مفہوم ’چلنا‘ ہے۔ چونکہ ہر مائع چیز میں بہنے کی خاصیت پائی جاتی ہے سو اس رعایت سے اس کو ’سیال‘ کہتے ہیں۔ اب اس لفظ کی نسبت سے جناب قتیل شفائی کا خوبصورت شعر ملاحظہ کریں:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;ٹوٹ گئے سیال نگینے پھوٹ بہے رخساروں پر&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;دیکھو میرا ساتھ نہ دینا بات ہے یہ رسوائی کی&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">دل کی آزادی شہنشاہی، شکم سامان موت</div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">فیصلہ تیرا ترے ہاتھوں میں ہے، دل یا شکم</div></strong></p>
<p>شعر شاعر مشرق کا ہے اور جس رعایت سے یاد آیا ہے اس کا تعلق اُس عمومی سماجی رویے سے ہے جس میں انسان شکم کا بندہ بن کر رہ گیا اور علم و تحقیق کا مزاج اگر تھا بھی تو اب جاتا رہا ہے۔</p>
<p>ایک دور تھا کہ جسے مؤرخین عہد زریں (golden era) سے تعبیر کرتے ہیں، مسلم حکما بحرِ فلکیات کے شناور تھے۔ اس باب میں ہمارے اسلاف  نے جو اَن مٹ نقوش ثبت کیے ہیں اس کی ایک جھلک دیکھنی ہو تو تاج برطانیہ کی شاہی رسد گاہ گرین وچ (Royal Observatory Greenwich) کا رُخ کریں۔ اس ادارے کے زیر اہتمام جو تحقیقی مجلّہ شائع ہوتا ہے اس کا نام ناٹیکل المناخ (The Nautical Almanac) ہے۔</p>
<p>’ناٹیکل المناخ‘ کا جُز ثانی ’المناخ‘ بزبان حال بتا رہا ہے کہ اس کا تعلق ’عرب‘ سے ہے۔ ’المناخ‘ کے معنی ’اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ، اقامت گاہ، منزل اور پڑاؤ کے ہیں۔ جب کہ اس کے ثانوی معنی میں ’ماحول اور فضا‘ بھی شامل ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/041112468b7885f.jpg'  alt='   ناٹیکل الماناخ (1880ء) کا ایک صفحہ&mdash; تصویر:biblio.co   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ناٹیکل الماناخ (1880ء) کا ایک صفحہ— تصویر:biblio.co</figcaption>
    </figure></p>
<p>اس علمی رسالے میں ستاروں کے طلوع و غروب کا سالانہ احوال درج ہوتا ہے، تاکہ بے نشان سمندر میں محو سفر جہاز ران منزل کا تعین آسانی سے کرسکیں۔</p>
<p>غالباً پہلے بھی لکھ آئے ہیں کہ آج بھی ’المناخ ناٹیکل‘ میں جن ستاروں کے طلوع و غروب کا احوال درج ہوتا ہے ان کی غالب اکثریت کے نام عربوں کی عطا ہیں، فرق صرف اتنا ہے کہ ان کا تلفظ انگریزی کے زیرِاثر قدرے بدل چکا ہے، مثلاً Achernar دراصل ’آخرالنہر‘ ہے اور Alphard  کو ’الفرد‘ سے نسبت ہے۔ Alphecca حقیقتاً ’الفکہ‘ ہے تو Altair  کی اصل ’الطیر‘ ہے۔ یہی حال دیگر بہت سے ستاروں کے ناموں کا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/04112151ecb97d6.jpg'  alt='لمناخ ناٹیکل&rsquo; میں جن ستاروں کا احوال درج ہوتا ہے ان میں سے اکثر نام عربوں کی عطا ہیں' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>لمناخ ناٹیکل’ میں جن ستاروں کا احوال درج ہوتا ہے ان میں سے اکثر نام عربوں کی عطا ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<p>مسلمانوں کی علمی فتوحات فقط فلکیات تک محدود نہیں تھیں بلکہ صدیوں قبل ہی انہوں نے فضاؤں کو تسخیر کرنے کی کوششیں شروع کردی تھیں۔ اسپین میں عباس ابن فرناس (887ء-810ء) کی اولین کوششں اس راہ میں نشان منزل ثابت ہوئی تو استنبول میں ہزار فن احمد چلبی (1640ء-1609) نے انسان کے ہواؤں میں اڑنے کے خواب میں حقیقت کا رنگ بھر دیا۔</p>
<p>استنبول کے مغربی حصے میں واقع تاریخی غلاطہ ٹاور سے پرواز بھرنے والے ہزار فن شاخِ زریں (golden horn) عبور کرکے استنبول کے مشرقی گوشے میں اترا، یوں جو اب تک ناممکن تھا وہ ممکن ہوگیا۔ یہ ناصرف پہلی انسانی پرواز تھی بلکہ اسے پہلی بین البرِاعظمی پرواز کا اعزاز بھی حاصل ہے۔</p>
<p>بہ ہرحال اس شان دار ماضی کے باوجود آج جو صورت حال ہے وہ علامہ اقبالؒ کے اس شعر سے مختلف نہیں:</p>
<p><strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">تجھے آبا سے اپنے کوئی نسبت ہو نہيں سکتی</div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">کہ تو گفتار وہ کردار، تو ثابت وہ سیارا</div></strong></p>
<p>یہاں مزید مثالوں سے گریز کرتے ہوئے آگے بڑھیں گے کہ کہیں آپ ہمیں مشتاق یوسفی کے اس بیان کا مصداق نہ ٹھہرا دیں:</p>
<div style= "text-align: center;" markdown="1">’جتنا وقت اور روپیہ بچوں کو ’مسلمانوں کے سائنس پر احسانات‘ رٹانے میں صرف کیا جاتا ہے، اس کا دسواں حصہ بھی بچوں کو سائنس پڑھانے میں صرف کیا جائے تو مسلمانوں پر بڑا احسان ہوگا‘۔</div>
<p>ہمارے نزدیک یہ ماضی پرستی نہیں بلکہ ماضی تو وہ آئینہ ہے جس میں حال دیکھ کر مستقبل سنوارا جاتا ہے مگر ہمارا مستقبل تو شاید اس شعر کی عملی تفسیر بن کر رہ گیا ہے:</p>
<p><strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">اس نے پہلے ’مُس‘ کہا پھر ’تَق‘ کہا پھر ’بِل‘ کہا</div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">اس طرح ظالم نے مستقبل کے ٹکڑے کردیے</div></strong></p>
<p>ویسے اوپر اقبال کا جو شعر ذکر ہوا اس میں دو الفاظ ’ثابت اور سیارا‘ لائق توجہ ہیں۔ اس سے پہلے کہ آگے بڑھیں ایک بات سمجھ لیں کہ علامہ اقبالؒ نے ’سیارا‘ ضرورتِ شعری کے تحت باندھا ہے وگرنہ اس لفظ کا درست املا ’سیارہ‘ ہے۔</p>
<p>پہلے ’ثابت‘ کی بات کرتے ہیں۔ اردو میں لفظی، اصطلاحی اور مجازی معنی میں استعمال ہونے والا یہ لفظ عربی الاصل ہے۔ عربی زبان کے ایک بڑے عالم علامہ راغب اصفہانی کے مطابق ’ثَبَتَ‘ کے معنی ایک حالت پر جمے رہنے کے ہیں۔ اسی ’ثَبَتَ‘ سے لفظ ’اَلَثَّبَاتُ‘ ہے جو زوال کی ضد ہے۔</p>
<p>اپنے معنی کی رعایت سے ’ثَبَتَ‘ سے پھوٹنے والے الفاظ ثابت، ثبوت، یثبت، تثبیت وغیرہ میں جمانا، پختہ کرنا، محقق و موکد کرنا، دل مضبوط کرنا، بہادر بنانا، ثابت قدم رکھنا، حجت، برہان، دلیل وغیرہ کا مفہوم پایا جاتا ہے۔</p>
<p>فلکیات یا علم ہیئت کی اصطلاح میں اجرام فلکی میں سے ایسے ’جرم/ ستارے‘ کو جو کسی مدار پر گردش نہ کرے یعنی غیر متحرک ہو، ’ثابت‘ کہا جاتا ہے اور اس غیر متحرک ستارے (ثابت) کی ضد ’سیارہ‘ ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/041144386f13db9.jpg'  alt='اجرام فلکی میں سے ایسے &rsquo;ستارے&lsquo; کو جو کسی مدار پر گردش نہ کرے یعنی غیر &rsquo;ثابت&lsquo; کہا جاتا ہے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>اجرام فلکی میں سے ایسے ’ستارے‘ کو جو کسی مدار پر گردش نہ کرے یعنی غیر ’ثابت‘ کہا جاتا ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>برسبیل تذکرہ عرض ہے کہ جسے ہم اردو اور ہندی میں ’ستارا‘ کہتے ہیں وہ جُزوی تبدیلی کے ساتھ انگریزی کے آسمان پر ’اسٹار/star‘  بن کر چمک رہا ہے۔ آسان الفاظ میں کہیں تو انگریزی ’اسٹار‘ کی اصل لفظ ’ستارا‘ ہے۔ ستاروں کا قصہ کسی اور روز کے لیے اٹھا رکھتے ہیں کہ ’ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں‘۔ فی الحال ’سیارہ‘ کی بات کرتے ہیں۔</p>
<p>عربی لفظ ’سیر‘ اور اس سے مشتق تمام الفاظ میں چلنے پھرنے یا گھومنے پھرنے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ اول تو خود لفظ ’سیر‘ ہی یہ بتانے کے لیے کافی ہے، پھر اگر اس کے ساتھ ہندی کا ’سپاٹا‘ لگ جائے تو اس کی رفتار بصورت ’سیر سپاٹا‘ اور بڑھ جاتی ہے۔</p>
<p>اسی ’سیر‘ سے لفظ ’سیرت‘ بھی ہے، جو اردو ترکیب ’چال چلن‘ کی خوبصورت ترجمانی کرتا ہے کہ ان ہر دو الفاظ کو انسان کے کردار و عمل سے نسبت ہے۔</p>
<p>اب اس گھومنے پھرنے کی مفہوم کو پیش نظر رکھیں اور اول اجرام فلکی میں سے محو گردش اجرام پر غور کریں تو بات خود ہی سمجھ آجاتی ہے کہ انہیں ’سیارہ‘ کیوں کہا جاتا ہے۔</p>
<p>جب انسانی تمدن آگے بڑھا اور برق و بھاپ کی قوت پر قابو پانے کے ساتھ انسان صنعتی دور میں داخل ہوا تو جو نو بہ نو ایجادات سامنے آئیں ان میں سے ایک ’موٹرکار‘ بھی تھی۔ چونکہ گاڑیاں یہاں سے وہاں فراٹے بھرتی پھرتی ہیں، سو اہل عرب نے اس چلت پھرت کی نسبت انہیں بھی ’سیارہ‘ پکارا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/09/04114732a2c3491.jpg'  alt='چونکہ گاڑیاں یہاں سے وہاں فراٹے بھرتی پھرتی ہیں، سو اہل عرب نے اس چلت پھرت کی نسبت انہیں بھی &rsquo;سیارہ&lsquo; پکارا' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>چونکہ گاڑیاں یہاں سے وہاں فراٹے بھرتی پھرتی ہیں، سو اہل عرب نے اس چلت پھرت کی نسبت انہیں بھی ’سیارہ‘ پکارا</figcaption>
    </figure></p>
<p>غالباً پہلے بھی لکھ آئے ہیں کہ حرف ’ر‘ اور ’ل‘ اکثر صورتوں باہم بدل جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ’باولا‘ کب ’باورا‘ ہو جاتا ہے پتا نہیں چلتا۔</p>
<p>اس تبدیلی کی ایک دل چسپ مثال ’لوٹا‘ ہے۔ جس میں لوٹنے اور پلٹ کر آنے کا مفہوم پایا ہے۔ جی یہ وہی لوٹا ہے جس کے بارے میں پروین شاکر کہہ گئی ہیں ’جہاں بھی گیا لوٹا تو مرے پاس آیا‘۔</p>
<p>اگر ’لوٹا‘ کا  یہ مفہوم پیش نظر ہو تو سمجھنے میں دیر نہیں لگے گی کہ ہندی کے ’لوٹا‘ کو انگریزی کے ’روٹا / Rota‘ سے کیا نسبت ہے اور کس طرح انگریزی الفاظ روٹری/ Rotary اور روٹیشن / Rotation وغیرہ اپنے لوٹنے اور پلٹنے کے مفہوم کی وجہ سے ’لوٹا‘ سے جا ملتے ہیں۔</p>
<p>حرف ’ر‘ اور ’ل‘ کی اس باہم تبدیلی کے تناظر میں ’سیار‘ کے ساتھ لفظ ’سیال‘ پر غور کریں اب کو سمجھنے میں دیر نہیں لگے گی کہ بہ ظاہر دو مختلف الفاظ کا مشترکہ مفہوم ’چلنا‘ ہے۔ چونکہ ہر مائع چیز میں بہنے کی خاصیت پائی جاتی ہے سو اس رعایت سے اس کو ’سیال‘ کہتے ہیں۔ اب اس لفظ کی نسبت سے جناب قتیل شفائی کا خوبصورت شعر ملاحظہ کریں:</p>
<p><strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">ٹوٹ گئے سیال نگینے پھوٹ بہے رخساروں پر</div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">دیکھو میرا ساتھ نہ دینا بات ہے یہ رسوائی کی</div></strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1211066</guid>
      <pubDate>Wed, 13 Sep 2023 15:35:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبدالخالق بٹ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/09/04120804694a587.jpg?r=120811" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/09/04120804694a587.jpg?r=120811"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لفظ تماشا: ’بیمار‘ اب الجھنے لگے ہیں طبیب سے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1210304/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;تم اچھے مسیحا ہو دوا کیوں نہیں دیتے&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;بے نور جو ہے شمع بجھا کیوں نہیں دیتے&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احسان جعفری کا یہ شعر کم، قومی منظر نامے کی تصویر زیادہ ہے کیونکہ اتحادی حکومت کے جانے اور نگرانوں کے آنے پر جو سُکھ کا سانس آیا تھا وہ سینے میں کہیں گُھٹ کر رہ گیا ہے۔ آنے والے سنگین حالات کی دھمک فضا میں ان الفاظ کے ساتھ سنائی دے رہی ہے:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;شکستہ پا کو مژدہ، خستگان راہ کو مژدہ&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;کہ رہبر کو سراغ جادۂ منزل نہیں ملتا&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بات یہ کہ جہاں دُور کی کوڑی اور قنوطیت باہم ہوتے ہیں، وہاں سے دیکھنے والے کو ’انوارالحق‘ میں ’ضیا الحق‘ کی شبیہ دکھائی دے رہی ہے۔ وہ ’انوار‘ اور ’ضیا‘ کے مشترکہ مفہوم ’روشنی‘ کو اس ’حق‘ کے ساتھ دیکھ رہا ہے جو ’90 روز میں انتخابات‘ کے نام پر برسرِاقتدار آتا ہے اور پھر واپسی کا راستہ بھول جاتا ہے۔ بقول کیفی اعظمی:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;راستہ بھول گیا، یا یہی منزل ہے مری&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;کوئی لایا ہے کہ خود آیا ہوں معلوم نہیں&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1108465"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بات سیاسی نہ ہوجائے سو اس سے پہلو تہی کرتے ہوئے لفظ ’نگران‘ کی گرہ کشائی کرتے ہیں۔ فارسی زبان سے متعلق لفظ ’نگران‘ کے لفظی معنی ’دیکھنے والا‘، جبکہ اصطلاحی و مجازی معنی میں نگہدار، نگہبان، پاسبان، محافظ، منتظر، سربراہ، حاکم، افسرِ اعلیٰ وغیرہ داخل ہیں۔ آسان الفاظ میں کہیں تو’نگران’ کی تعریف میں ہر وہ شخص داخل ہے جسے ذرا بھی اختیار و اقتدار حاصل ہے۔ رہے عوام تو ان کا حال ساغر خیامی کے شعر سے عیاں ہے:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;صحن چمن میں کچھ پس دیوار ہیں کھڑے&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;یعنی عوام جان سے بیزار ہیں کھڑے&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارسی کے زیرِ اثر اردو میں راہ پانے والے لفظ ’بیزار‘ کے معنیٰ و مفہوم ’متنفر، اکتایا ہوا، خفا، ناخوش، آزردہ، دُور اور جُدا‘ہیں۔ تاہم اردو میں معاملہ ’بیزار‘ پر مشتمل تراکیب نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ فارسی میں یہ ’بیزار‘ کئی تراکیب کا حصہ ہے مثلاً دل تنگ ہونا یا مایوس ہونا ’بیزار شدن‘ ہے تو پرے ہٹنا، دور جانا اور جدا یا الگ ہونا ’بیزار کردن اور بیزار گشتن‘ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سلسلے میں دو تراکیب زیادہ لائق توجہ ہیں۔ اول ’خانہ بیزار‘ ہے کہ جس کے معنیٰ میں وہ شخص داخل ہوتا ہے جسے گھر بار کی پروا نہ ہو۔ دوسری ترکیب ’خویشتن بیزار‘ ہے جس کے معنیٰ ’خود بیزاری‘ یعنی اپنے آپ سے وحشت کے ہیں۔ اب اس ’بیزار‘ کی رعایت سے حسرت شادانی کا شعر ملاحظہ کریں:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;بیزار خود نہ ہوتے اگر زندگی سے ہم &lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;اے ضبط غم فریب نہ کھاتے کسی سے ہم&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسا کہ اوپر بتایا جا چکا ہے کہ ’بیزار‘ کے مترادفات میں لفظ ’متنفر‘ بھی شامل ہے اور یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ’متنفر‘ کو ’نفرت‘ سے ربط ہے۔ اس وضاحت کے ساتھ اب زیربحث لفظ کو نفرت کے معنیٰ میں فارس قدیم کے افسانوی شہرت کے حامل بادشاہ انوشیروان (نوشیروان عادل) کے اس جواب میں ملاحظہ کریں جو اس نے رومی حکمران کو دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انوشیروان نے لکھا کہ ’از صلح بیزارم و جنگ را آراستہ باش‘ یعنی مجھے صلح (امن) سے نفرت ہے اور میں جنگ کے لیے تیار ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے پہلے کہ ہم مزید آگے بڑھیں اس لڑائی جھگڑے اور صلح صفائی کی رعایت سے افتخار عارف کا ایک خوبصورت شعر ملاحظہ کریں:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;زمانہ ہوگیا خود سے مجھے لڑتے جھگڑتے&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;میں اپنے آپ سے اب صلح کرنا چاہتا ہوں&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افتخار عارف سے یاد آیا کہ گزشتہ دنوں ہمارے بزرگ شاعر بیمار تھے۔ یوں تو اب وہ روبہ صحت ہیں مگر پیرانہ سالی خود ایک آزار ہے۔ اس ’آزار‘ کا ذکر کسی اور نشست کے لیے اٹھا رکھتے ہیں فی الوقت ’بیمار‘ کی بات کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1208311"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارسی سے اردو میں آنے اور رچ بس جانے والا لفظ ’بیمار‘ درحقیقت دو الفاظ کا مرکب ہے۔ ’فرہنگِ نظام‘ کے مؤلف سید محمد علی کی رائے پیش نظر رکھی جائے تو اس لفظ کا جُز اول ’بے‘ قرار پاتا ہے جو اکثر تراکیب میں کلمۂ نفی کے طور پر برتا جاتا ہے جیسے ’بے اثر، بے تحاشا، بے وقت‘ وغیرہ۔ جبکہ جُز ثانی ’مار‘ کا مطلب ’صحت و شِفا‘ کے ہیں۔ یوں ’بیمار‘ کے معنیٰ ناتندرست، علیل و مریض قرار پاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’بیمار‘ کے باب میں یوں تو ’فرہنگ نظام‘ کی بات وزنی معلوم ہوتی ہے مگر ’لغت نامہ دہخدا‘ کے مؤلف علی اکبر دہخدا نے ’بیمار‘ کے حوالے سے ایک دوسری رائے بھی پیش کی ہے جو لائق التفات ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دہخدا نے ’بہارعجم‘ کے حوالے سے جو کچھ درج کیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ’بیمار‘ جن دو الفاظ کا مرکب ہے وہ بالتریب ’بیم‘ اور ’آر‘ ہیں۔ اس میں ’بیم‘ کے معنیٰ ’خوف اور ڈر‘ کے ہیں اسے تراکیب ’بیم و رجا‘ اور ’امید و بیم‘ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ جبکہ ’آر‘ کلمہ نسبتی ہے جسے آپ خریدار (خرید-آر) میں بھی دیکھ سکتے ہیں۔ یوں جس طرح خریدار کے معنیٰ ’خریدنے والا‘ کے ہیں ایسے ہی ’بیمار‘ اس شخص کو کہتے ہیں جسے ’خوف لاحق‘ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں سوال کیا جاسکتا ہے کہ ’علیل‘ شخص کو ایسا کیا خوف ہوتا کہ اسے ’بیمار‘ کا نام دیا گیا ہے؟ تو عرض ہے کہ ’خوفزدہ‘ کے معنیٰ کے ساتھ لفظ ’بیمار‘ اپنے قدیم تر ہونے کا پتا دیتا ہے۔ وہ یوں کہ آج کے زمانے سے ہزاروں سال قبل جب علاج معالجہ کی سہولیات محدود و مفقود تھیں، کسی کو مرض لاحق ہونے کا دوسرا مطلب یقینی موت ہوتا تھا۔ ایسے میں جو شخص علیل ہوتا اسے موت کا ڈر کھائے جاتا اور یوں وہ اپنی اس کیفیت کی رعایت سے ’بیمار‘ کہلاتا۔ اب زیرِ بحث لفظ کی نسبت سے ساحر لدھیانوی کا شعر ملاحظہ کریں:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;اس رینگتی حیات کا کب تک اٹھائیں بار&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;بیمار اب الجھنے لگے ہیں طبیب سے&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر شعر مذکور میں ’بیمار‘ و ’طبیب‘ کو استعارہ سمجھا جائے تو بات ایک بار پھر قومی منظر تک پہنچ جاتی ہے جہاں ملک، معیشت اور معاشرت بیماری سے نڈھال ہیں اور طبیب، بیمار کے حق میں حبیب کے بجائے رقیب ثابت ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">تم اچھے مسیحا ہو دوا کیوں نہیں دیتے</div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">بے نور جو ہے شمع بجھا کیوں نہیں دیتے</div></strong></p>
<p>احسان جعفری کا یہ شعر کم، قومی منظر نامے کی تصویر زیادہ ہے کیونکہ اتحادی حکومت کے جانے اور نگرانوں کے آنے پر جو سُکھ کا سانس آیا تھا وہ سینے میں کہیں گُھٹ کر رہ گیا ہے۔ آنے والے سنگین حالات کی دھمک فضا میں ان الفاظ کے ساتھ سنائی دے رہی ہے:</p>
<p><strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">شکستہ پا کو مژدہ، خستگان راہ کو مژدہ</div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">کہ رہبر کو سراغ جادۂ منزل نہیں ملتا</div></strong></p>
<p>بات یہ کہ جہاں دُور کی کوڑی اور قنوطیت باہم ہوتے ہیں، وہاں سے دیکھنے والے کو ’انوارالحق‘ میں ’ضیا الحق‘ کی شبیہ دکھائی دے رہی ہے۔ وہ ’انوار‘ اور ’ضیا‘ کے مشترکہ مفہوم ’روشنی‘ کو اس ’حق‘ کے ساتھ دیکھ رہا ہے جو ’90 روز میں انتخابات‘ کے نام پر برسرِاقتدار آتا ہے اور پھر واپسی کا راستہ بھول جاتا ہے۔ بقول کیفی اعظمی:</p>
<p><strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">راستہ بھول گیا، یا یہی منزل ہے مری</div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">کوئی لایا ہے کہ خود آیا ہوں معلوم نہیں</div></strong></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1108465"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بات سیاسی نہ ہوجائے سو اس سے پہلو تہی کرتے ہوئے لفظ ’نگران‘ کی گرہ کشائی کرتے ہیں۔ فارسی زبان سے متعلق لفظ ’نگران‘ کے لفظی معنی ’دیکھنے والا‘، جبکہ اصطلاحی و مجازی معنی میں نگہدار، نگہبان، پاسبان، محافظ، منتظر، سربراہ، حاکم، افسرِ اعلیٰ وغیرہ داخل ہیں۔ آسان الفاظ میں کہیں تو’نگران’ کی تعریف میں ہر وہ شخص داخل ہے جسے ذرا بھی اختیار و اقتدار حاصل ہے۔ رہے عوام تو ان کا حال ساغر خیامی کے شعر سے عیاں ہے:</p>
<p><strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">صحن چمن میں کچھ پس دیوار ہیں کھڑے</div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">یعنی عوام جان سے بیزار ہیں کھڑے</div></strong></p>
<p>فارسی کے زیرِ اثر اردو میں راہ پانے والے لفظ ’بیزار‘ کے معنیٰ و مفہوم ’متنفر، اکتایا ہوا، خفا، ناخوش، آزردہ، دُور اور جُدا‘ہیں۔ تاہم اردو میں معاملہ ’بیزار‘ پر مشتمل تراکیب نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ فارسی میں یہ ’بیزار‘ کئی تراکیب کا حصہ ہے مثلاً دل تنگ ہونا یا مایوس ہونا ’بیزار شدن‘ ہے تو پرے ہٹنا، دور جانا اور جدا یا الگ ہونا ’بیزار کردن اور بیزار گشتن‘ ہے۔</p>
<p>اس سلسلے میں دو تراکیب زیادہ لائق توجہ ہیں۔ اول ’خانہ بیزار‘ ہے کہ جس کے معنیٰ میں وہ شخص داخل ہوتا ہے جسے گھر بار کی پروا نہ ہو۔ دوسری ترکیب ’خویشتن بیزار‘ ہے جس کے معنیٰ ’خود بیزاری‘ یعنی اپنے آپ سے وحشت کے ہیں۔ اب اس ’بیزار‘ کی رعایت سے حسرت شادانی کا شعر ملاحظہ کریں:</p>
<p><strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">بیزار خود نہ ہوتے اگر زندگی سے ہم </div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">اے ضبط غم فریب نہ کھاتے کسی سے ہم</div></strong></p>
<p>جیسا کہ اوپر بتایا جا چکا ہے کہ ’بیزار‘ کے مترادفات میں لفظ ’متنفر‘ بھی شامل ہے اور یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ’متنفر‘ کو ’نفرت‘ سے ربط ہے۔ اس وضاحت کے ساتھ اب زیربحث لفظ کو نفرت کے معنیٰ میں فارس قدیم کے افسانوی شہرت کے حامل بادشاہ انوشیروان (نوشیروان عادل) کے اس جواب میں ملاحظہ کریں جو اس نے رومی حکمران کو دیا تھا۔</p>
<p>انوشیروان نے لکھا کہ ’از صلح بیزارم و جنگ را آراستہ باش‘ یعنی مجھے صلح (امن) سے نفرت ہے اور میں جنگ کے لیے تیار ہوں۔</p>
<p>اس سے پہلے کہ ہم مزید آگے بڑھیں اس لڑائی جھگڑے اور صلح صفائی کی رعایت سے افتخار عارف کا ایک خوبصورت شعر ملاحظہ کریں:</p>
<p><strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">زمانہ ہوگیا خود سے مجھے لڑتے جھگڑتے</div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">میں اپنے آپ سے اب صلح کرنا چاہتا ہوں</div></strong></p>
<p>افتخار عارف سے یاد آیا کہ گزشتہ دنوں ہمارے بزرگ شاعر بیمار تھے۔ یوں تو اب وہ روبہ صحت ہیں مگر پیرانہ سالی خود ایک آزار ہے۔ اس ’آزار‘ کا ذکر کسی اور نشست کے لیے اٹھا رکھتے ہیں فی الوقت ’بیمار‘ کی بات کرتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1208311"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>فارسی سے اردو میں آنے اور رچ بس جانے والا لفظ ’بیمار‘ درحقیقت دو الفاظ کا مرکب ہے۔ ’فرہنگِ نظام‘ کے مؤلف سید محمد علی کی رائے پیش نظر رکھی جائے تو اس لفظ کا جُز اول ’بے‘ قرار پاتا ہے جو اکثر تراکیب میں کلمۂ نفی کے طور پر برتا جاتا ہے جیسے ’بے اثر، بے تحاشا، بے وقت‘ وغیرہ۔ جبکہ جُز ثانی ’مار‘ کا مطلب ’صحت و شِفا‘ کے ہیں۔ یوں ’بیمار‘ کے معنیٰ ناتندرست، علیل و مریض قرار پاتے ہیں۔</p>
<p>’بیمار‘ کے باب میں یوں تو ’فرہنگ نظام‘ کی بات وزنی معلوم ہوتی ہے مگر ’لغت نامہ دہخدا‘ کے مؤلف علی اکبر دہخدا نے ’بیمار‘ کے حوالے سے ایک دوسری رائے بھی پیش کی ہے جو لائق التفات ہے۔</p>
<p>دہخدا نے ’بہارعجم‘ کے حوالے سے جو کچھ درج کیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ’بیمار‘ جن دو الفاظ کا مرکب ہے وہ بالتریب ’بیم‘ اور ’آر‘ ہیں۔ اس میں ’بیم‘ کے معنیٰ ’خوف اور ڈر‘ کے ہیں اسے تراکیب ’بیم و رجا‘ اور ’امید و بیم‘ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ جبکہ ’آر‘ کلمہ نسبتی ہے جسے آپ خریدار (خرید-آر) میں بھی دیکھ سکتے ہیں۔ یوں جس طرح خریدار کے معنیٰ ’خریدنے والا‘ کے ہیں ایسے ہی ’بیمار‘ اس شخص کو کہتے ہیں جسے ’خوف لاحق‘ ہو۔</p>
<p>یہاں سوال کیا جاسکتا ہے کہ ’علیل‘ شخص کو ایسا کیا خوف ہوتا کہ اسے ’بیمار‘ کا نام دیا گیا ہے؟ تو عرض ہے کہ ’خوفزدہ‘ کے معنیٰ کے ساتھ لفظ ’بیمار‘ اپنے قدیم تر ہونے کا پتا دیتا ہے۔ وہ یوں کہ آج کے زمانے سے ہزاروں سال قبل جب علاج معالجہ کی سہولیات محدود و مفقود تھیں، کسی کو مرض لاحق ہونے کا دوسرا مطلب یقینی موت ہوتا تھا۔ ایسے میں جو شخص علیل ہوتا اسے موت کا ڈر کھائے جاتا اور یوں وہ اپنی اس کیفیت کی رعایت سے ’بیمار‘ کہلاتا۔ اب زیرِ بحث لفظ کی نسبت سے ساحر لدھیانوی کا شعر ملاحظہ کریں:</p>
<p><strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">اس رینگتی حیات کا کب تک اٹھائیں بار</div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">بیمار اب الجھنے لگے ہیں طبیب سے</div></strong></p>
<p>اگر شعر مذکور میں ’بیمار‘ و ’طبیب‘ کو استعارہ سمجھا جائے تو بات ایک بار پھر قومی منظر تک پہنچ جاتی ہے جہاں ملک، معیشت اور معاشرت بیماری سے نڈھال ہیں اور طبیب، بیمار کے حق میں حبیب کے بجائے رقیب ثابت ہو رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1210304</guid>
      <pubDate>Thu, 24 Aug 2023 17:09:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبدالخالق بٹ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/08/2314555657a129e.png?r=145633" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/08/2314555657a129e.png?r=145633"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’قائدِاعظم‘۔۔۔ ’زندہ باد‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1209611/</link>
      <description>&lt;p&gt;گھر، گلی، محلہ اور بازار جھنڈیوں سے سجے ہیں، چھتوں اور بالکنیوں پر چھوٹے بڑے جھنڈے لگے ہیں، جب کہ ایک بڑا سا جھنڈا ہوا میں مست لہرانے کی چاہ میں بے برق تاروں سے الجھا ہوا ہے اور نہیں جانتا کہ ’تاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چونکہ اسکولوں کی تعطیلات ہیں ایسے میں بچوں کی بے فکری دو چند ہے، انہیں یومِ آزادی کی نسبت سے دلچسپ مشغلہ ہاتھ آگیا ہے، سرِ شام گلی میں بچوں کی ٹولیاں پاکستان زندہ باد، قائداعظم زندہ باد کے نعرے لگاتی پھرتی ہیں کہ ’لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اُدھر بچے پاکستان اور قائداعظم کا نعرہ بلند کرتے ہیں اور اِدھر پلنگ پر نیم دراز دادا جان زیر لب جواب دہے رہے ہیں ’زندہ باد‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دادا جان کو یوں ’زندہ باد‘ کہتے دیکھا تو عبداللہ سے رہا نہیں گیا اور پوچھ بیٹھا:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دادا جان! ہم ’قائداعظم زندہ باد‘ کیوں کہتے ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عبداللہ کے اس سوال پر دادا مسکراتے ہوئے گویا ہوئے:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد علی جناح کو ’قائداعظم‘ اس لیے کہتے ہیں کہ انہوں نے ہندوستان کے مسلمانوں کی رہنمائی ایسے وقت میں کی جب کوئی مرکزی قیادت نہیں تھی۔ قائداعظم نے کانگریس اور انگریز دونوں کے خلاف ایک قانونی جدوجہد کے ذریعے پاکستان کا قیام ممکن بنایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2014/08/53eb280cc4e63.jpg'  alt='گھر اور گلیاں چھوٹے بڑے جھنڈوں سے سجے تھے&amp;mdash;تصویر: اے پی پی' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;گھر اور گلیاں چھوٹے بڑے جھنڈوں سے سجے تھے—تصویر: اے پی پی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہیں قائداعظم کیوں کہتے ہیں؟۔۔۔ عبداللہ نے اگلا سوال داغ دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دادا بولے ابھی تو بتایا کہ محمد علی جناح نے مشکل وقت میں نہ صرف مسلمانوں کو منزل کا راستہ دکھایا بلکہ انہیں کامیابی سے اس منزل تک بھی پہنچایا، اس لیے انہیں قائداعظم کہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب اگر تم یہ پوچھنا چاہ رہے تھے کہ ’قائداعظم‘ کے کیا معنی ہیں تو وہ بھی بتا دیتا ہوں۔ اتنا کہہ کر دادا نے وقفہ لیا اور پلنگ کے پہلو میں پڑی تپائی پر دھرا گلاس اٹھایا، مختصر سا گھونٹ بھرا اور بات آگے بڑھائی:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’قائداعظم‘ کا مطلب ہے سب سے بڑا رہبر اور رہنما۔ ترکیب ’قائداعظم‘ میں شامل دونوں الفاظ عربی الاصل ہیں۔ اس سے پہلے کہ میں لفظ ’قائد‘ کے بارے میں بتاؤں یہ سمجھ لو کہ جسے ہم انگریزی میں گائیڈ (Guide) کہتے ہیں اس کی اصل یہی ’قائد‘ ہے اور معنی ہیں ’کسی بھی راستے یا معاملے میں رہنمائی کرنے والا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عبداللہ کے لیے یہ سب کچھ خاصا حیران کُن تھا، سُو یک دم بولا تو کیا ہم قائداعظم کو ’گائیڈ اعظم‘ بھی کہہ سکتے ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس معصومانہ سوال پر دادا مسکرا کر رہ گئے، اور اس بات کو نظرانداز کرتے ہوئے بولے:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جتنے بھی عربی الاصل الفاظ ہیں ان کی بنیاد عام طور پر سہ حرفی اور کبھی کبھی چہار حرفی ہوتی ہے، جب کہ ان بنیادی حروف کو جو اکثر بمعنی لفظ بھی ہوتے ہیں ’مادہ‘ کہا جاتا ہے۔ مثلاً کریم، اکرم، اکرام، مکرم اور تکریم کا مادہ ’ک، ر، م‘ ہے جو بصورت ’کرم‘ خود بھی ایک بمعنی لفظ ہے۔ اس سے پہلے کہ ’قائد‘ کی مزید وضاحت ہو ’کرم‘ کی نسبت سے جلیل مانک پوری کا شعر سنو:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;تصدق اس کرم کے میں کبھی تنہا نہیں رہتا&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;کہ جس دن تم نہیں آتے تمہاری یاد آتی ہے&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لفظ ’قائد‘ کا مادہ ’ق، و، د‘ ہے۔ اردو کے مقابلے میں ’قائد‘ کے لفظ کا استعمال عربی میں وسیع تر ہے۔ مثلاً اردو میں ’قائد‘ کی جمع ’قائدین‘ ہے جو درست ہے تاہم عربی میں ’قُوَّاد‘ بھی بطور جمع برتا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جہاں تک اس لفظ کے کثیرالاستعمال ہونے کی بات ہے تو جسے ہم پائلٹ یا ہوا باز کہتے ہیں وہ عربی میں قَائِدُ الطَائِرَة پکارا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عربی میں سپہ سالار یا فوجی کمانڈر کو قَائِدُ الجَيْش اور القَائِدُ الاَعْلىٰ  کہا جاتا ہے۔ برسبیل تذکرہ بتاتا چلوں کہ اہل عرب نے انگریزی ’کمانڈر‘ کو بصورت ’قُوْمِنْدَان‘ بھی معرب کر لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دادا اس وقت روانی میں بلکہ جولانی میں تھے اور لسانیات کے جوہر بکھیر رہے تھے۔ انہوں نے گلاس میں بچا بقیہ پانی حلق میں انڈیلا اور بات کو مزید آگے بڑھایا:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی ’قائد‘ سے لفظ ’قیادت‘ بھی ہے۔ جسے ہم اردو میں زیرِ قیادت یا زیرِ کمان کہتے ہیں وہ عربی تَحْتَ قِيَادَة اور بِقِيَادَة ہے۔ اسی طرح جسے ہم انگریزی کی رعایت سے ہیڈ کوارٹر کہتے ہیں وہ عربی میں مَرْكَزُ قَائِد الجَيْش اور مَرْكَزْ القِيَادَةِ کہلاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتنا کہہ کر دادا بولے اس سے پہلے کہ تم کوئی اور سوال کرو میں تمہیں ’قیادت‘ کی مناسبت سے علی سردار جعفری کا شعر سناتا ہوں تاکہ تمہیں قائداعظم اور ان کے بعد آنے والی قیادت میں فرق سمجھ میں آسکے:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;رہبرِ قوم کی ناکارہ قیادت کا فریب&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "text-align: center;" markdown="1"&gt;ہم نے آزردگیِ شوق کو منزل جانا&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دادا نے شعر مکمل کیا تو عبداللہ جھٹ بولا:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتنی ساری باتوں میں یہ بات تو آئی نہیں کہ محمد علی جناح کو ’قائداعظم‘ کا لقب کس نے دیا تھا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دادا بولے: تمہارے اس سوال کی داد نہ دینا زیادتی ہوگی، اس لیے کہ عام طور پر یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ ’قائداعظم‘ جناح صاحب کے نام کا جُز ہے۔ درحقیقت ایسا نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2017/08/5981b0f1d8c59.jpg'  alt='قائد اعظم لاہور میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے&amp;mdash; تصویر: نیشنل آرکائیوز اسلام آباد' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;قائد اعظم لاہور میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے— تصویر: نیشنل آرکائیوز اسلام آباد&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاریخی اعتبار سے 1937ء میں تحریک پاکستان کے ایک سرگرم رُکن مولانا مظہر الدین نے دہلی میں منعقد ایک تقریب میں محمد علی جناح کے لیے ’قائداعظم‘ کا لفظ استعمال کیا۔ اس تقریب کے بعد تو مولانا مظہر الدین نے جناح صاحب کے لقب ’قائداعظم‘ کی تشہیر شروع کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس واقعے کے ایک سال بعد یعنی 1938ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس منعقدہ پٹنہ میں میاں فیروز الدین احمد نے’قائداعظم زندہ باد’ کا نعرہ لگایا۔ اس کے بعد محمد علی جناح کا مقبول عام لقب ’قائداعظم‘ ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب ترکیب ’قائداعظم‘ کے جُز دوم یعنی ’اعظم‘ کے بارے میں جان لو۔ اعظم، عظیم، تعظیم، معظم اور عظام وغیرہ کے سے تمام الفاظ کی اصل یا مادہ ’عظم‘ ہے۔ جب کہ عربی میں ہر چیز کے بڑا ہونے کو مجازاً ’عظم‘ کہا جاتا ہے۔ اب غور کرو تو عظم سے بننے والے تمام الفاظ میں بڑائی تمہیں خود نظر آجائے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>گھر، گلی، محلہ اور بازار جھنڈیوں سے سجے ہیں، چھتوں اور بالکنیوں پر چھوٹے بڑے جھنڈے لگے ہیں، جب کہ ایک بڑا سا جھنڈا ہوا میں مست لہرانے کی چاہ میں بے برق تاروں سے الجھا ہوا ہے اور نہیں جانتا کہ ’تاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں‘۔</p>
<p>چونکہ اسکولوں کی تعطیلات ہیں ایسے میں بچوں کی بے فکری دو چند ہے، انہیں یومِ آزادی کی نسبت سے دلچسپ مشغلہ ہاتھ آگیا ہے، سرِ شام گلی میں بچوں کی ٹولیاں پاکستان زندہ باد، قائداعظم زندہ باد کے نعرے لگاتی پھرتی ہیں کہ ’لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ‘۔</p>
<p>اُدھر بچے پاکستان اور قائداعظم کا نعرہ بلند کرتے ہیں اور اِدھر پلنگ پر نیم دراز دادا جان زیر لب جواب دہے رہے ہیں ’زندہ باد‘۔</p>
<p>دادا جان کو یوں ’زندہ باد‘ کہتے دیکھا تو عبداللہ سے رہا نہیں گیا اور پوچھ بیٹھا:</p>
<p>دادا جان! ہم ’قائداعظم زندہ باد‘ کیوں کہتے ہیں؟</p>
<p>عبداللہ کے اس سوال پر دادا مسکراتے ہوئے گویا ہوئے:</p>
<p>محمد علی جناح کو ’قائداعظم‘ اس لیے کہتے ہیں کہ انہوں نے ہندوستان کے مسلمانوں کی رہنمائی ایسے وقت میں کی جب کوئی مرکزی قیادت نہیں تھی۔ قائداعظم نے کانگریس اور انگریز دونوں کے خلاف ایک قانونی جدوجہد کے ذریعے پاکستان کا قیام ممکن بنایا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2014/08/53eb280cc4e63.jpg'  alt='گھر اور گلیاں چھوٹے بڑے جھنڈوں سے سجے تھے&mdash;تصویر: اے پی پی' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>گھر اور گلیاں چھوٹے بڑے جھنڈوں سے سجے تھے—تصویر: اے پی پی</figcaption>
    </figure></p>
<p>انہیں قائداعظم کیوں کہتے ہیں؟۔۔۔ عبداللہ نے اگلا سوال داغ دیا۔</p>
<p>دادا بولے ابھی تو بتایا کہ محمد علی جناح نے مشکل وقت میں نہ صرف مسلمانوں کو منزل کا راستہ دکھایا بلکہ انہیں کامیابی سے اس منزل تک بھی پہنچایا، اس لیے انہیں قائداعظم کہتے ہیں۔</p>
<p>اب اگر تم یہ پوچھنا چاہ رہے تھے کہ ’قائداعظم‘ کے کیا معنی ہیں تو وہ بھی بتا دیتا ہوں۔ اتنا کہہ کر دادا نے وقفہ لیا اور پلنگ کے پہلو میں پڑی تپائی پر دھرا گلاس اٹھایا، مختصر سا گھونٹ بھرا اور بات آگے بڑھائی:</p>
<p>’قائداعظم‘ کا مطلب ہے سب سے بڑا رہبر اور رہنما۔ ترکیب ’قائداعظم‘ میں شامل دونوں الفاظ عربی الاصل ہیں۔ اس سے پہلے کہ میں لفظ ’قائد‘ کے بارے میں بتاؤں یہ سمجھ لو کہ جسے ہم انگریزی میں گائیڈ (Guide) کہتے ہیں اس کی اصل یہی ’قائد‘ ہے اور معنی ہیں ’کسی بھی راستے یا معاملے میں رہنمائی کرنے والا‘۔</p>
<p>عبداللہ کے لیے یہ سب کچھ خاصا حیران کُن تھا، سُو یک دم بولا تو کیا ہم قائداعظم کو ’گائیڈ اعظم‘ بھی کہہ سکتے ہیں؟</p>
<p>اس معصومانہ سوال پر دادا مسکرا کر رہ گئے، اور اس بات کو نظرانداز کرتے ہوئے بولے:</p>
<p>جتنے بھی عربی الاصل الفاظ ہیں ان کی بنیاد عام طور پر سہ حرفی اور کبھی کبھی چہار حرفی ہوتی ہے، جب کہ ان بنیادی حروف کو جو اکثر بمعنی لفظ بھی ہوتے ہیں ’مادہ‘ کہا جاتا ہے۔ مثلاً کریم، اکرم، اکرام، مکرم اور تکریم کا مادہ ’ک، ر، م‘ ہے جو بصورت ’کرم‘ خود بھی ایک بمعنی لفظ ہے۔ اس سے پہلے کہ ’قائد‘ کی مزید وضاحت ہو ’کرم‘ کی نسبت سے جلیل مانک پوری کا شعر سنو:</p>
<p><strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">تصدق اس کرم کے میں کبھی تنہا نہیں رہتا</div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">کہ جس دن تم نہیں آتے تمہاری یاد آتی ہے</div></strong></p>
<p>لفظ ’قائد‘ کا مادہ ’ق، و، د‘ ہے۔ اردو کے مقابلے میں ’قائد‘ کے لفظ کا استعمال عربی میں وسیع تر ہے۔ مثلاً اردو میں ’قائد‘ کی جمع ’قائدین‘ ہے جو درست ہے تاہم عربی میں ’قُوَّاد‘ بھی بطور جمع برتا جاتا ہے۔</p>
<p>جہاں تک اس لفظ کے کثیرالاستعمال ہونے کی بات ہے تو جسے ہم پائلٹ یا ہوا باز کہتے ہیں وہ عربی میں قَائِدُ الطَائِرَة پکارا جاتا ہے۔</p>
<p>عربی میں سپہ سالار یا فوجی کمانڈر کو قَائِدُ الجَيْش اور القَائِدُ الاَعْلىٰ  کہا جاتا ہے۔ برسبیل تذکرہ بتاتا چلوں کہ اہل عرب نے انگریزی ’کمانڈر‘ کو بصورت ’قُوْمِنْدَان‘ بھی معرب کر لیا ہے۔</p>
<p>دادا اس وقت روانی میں بلکہ جولانی میں تھے اور لسانیات کے جوہر بکھیر رہے تھے۔ انہوں نے گلاس میں بچا بقیہ پانی حلق میں انڈیلا اور بات کو مزید آگے بڑھایا:</p>
<p>اسی ’قائد‘ سے لفظ ’قیادت‘ بھی ہے۔ جسے ہم اردو میں زیرِ قیادت یا زیرِ کمان کہتے ہیں وہ عربی تَحْتَ قِيَادَة اور بِقِيَادَة ہے۔ اسی طرح جسے ہم انگریزی کی رعایت سے ہیڈ کوارٹر کہتے ہیں وہ عربی میں مَرْكَزُ قَائِد الجَيْش اور مَرْكَزْ القِيَادَةِ کہلاتا ہے۔</p>
<p>اتنا کہہ کر دادا بولے اس سے پہلے کہ تم کوئی اور سوال کرو میں تمہیں ’قیادت‘ کی مناسبت سے علی سردار جعفری کا شعر سناتا ہوں تاکہ تمہیں قائداعظم اور ان کے بعد آنے والی قیادت میں فرق سمجھ میں آسکے:</p>
<p><strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">رہبرِ قوم کی ناکارہ قیادت کا فریب</div></strong>
<strong><div style= "text-align: center;" markdown="1">ہم نے آزردگیِ شوق کو منزل جانا</div></strong></p>
<p>دادا نے شعر مکمل کیا تو عبداللہ جھٹ بولا:</p>
<p>اتنی ساری باتوں میں یہ بات تو آئی نہیں کہ محمد علی جناح کو ’قائداعظم‘ کا لقب کس نے دیا تھا؟</p>
<p>دادا بولے: تمہارے اس سوال کی داد نہ دینا زیادتی ہوگی، اس لیے کہ عام طور پر یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ ’قائداعظم‘ جناح صاحب کے نام کا جُز ہے۔ درحقیقت ایسا نہیں ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2017/08/5981b0f1d8c59.jpg'  alt='قائد اعظم لاہور میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے&mdash; تصویر: نیشنل آرکائیوز اسلام آباد' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>قائد اعظم لاہور میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے— تصویر: نیشنل آرکائیوز اسلام آباد</figcaption>
    </figure></p>
<p>تاریخی اعتبار سے 1937ء میں تحریک پاکستان کے ایک سرگرم رُکن مولانا مظہر الدین نے دہلی میں منعقد ایک تقریب میں محمد علی جناح کے لیے ’قائداعظم‘ کا لفظ استعمال کیا۔ اس تقریب کے بعد تو مولانا مظہر الدین نے جناح صاحب کے لقب ’قائداعظم‘ کی تشہیر شروع کردی۔</p>
<p>اس واقعے کے ایک سال بعد یعنی 1938ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس منعقدہ پٹنہ میں میاں فیروز الدین احمد نے’قائداعظم زندہ باد’ کا نعرہ لگایا۔ اس کے بعد محمد علی جناح کا مقبول عام لقب ’قائداعظم‘ ہوگیا۔</p>
<p>اب ترکیب ’قائداعظم‘ کے جُز دوم یعنی ’اعظم‘ کے بارے میں جان لو۔ اعظم، عظیم، تعظیم، معظم اور عظام وغیرہ کے سے تمام الفاظ کی اصل یا مادہ ’عظم‘ ہے۔ جب کہ عربی میں ہر چیز کے بڑا ہونے کو مجازاً ’عظم‘ کہا جاتا ہے۔ اب غور کرو تو عظم سے بننے والے تمام الفاظ میں بڑائی تمہیں خود نظر آجائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1209611</guid>
      <pubDate>Mon, 14 Aug 2023 09:08:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبدالخالق بٹ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/08/13122316feaf3ea.jpg?r=122325" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/08/13122316feaf3ea.jpg?r=122325"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ماضی کے جھروکے سے: شہرت کی بلندیوں کو چھونے والا پروگرام کسوٹی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1208311/</link>
      <description>&lt;p&gt;کچھ کھیل ایسے ہوتے ہیں جو کسی جغرافیے میں محدود نہیں رہتے بلکہ ایک ثقافتی حیثیت اختیار کرلیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوئی زندہ یا مردہ شخصیت ہو، کوئی تاریخی عمارت یا کسی غیرمعروف کتاب کا کوئی مصنف، کسوٹی پہلے کی طرح آج بھی جوابات بوجھنے کے لیے بہترین کھیل تصور کیا جاتا ہے۔ کسوٹی کے کھیل کو نصف صدی سے لوگ پسند کرتے آرہے ہیں جس نے پی ٹی وی کے مشہور کوئز شو سے عوام میں مقبولیت حاصل کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حتیٰ کہ وہ لوگ جو کسوٹی لفظ کے معنیٰ تک نہیں جانتے (معنیٰ: جانچ یا پرکھ کا معیار) ان کے ذہن میں بھی کسوٹی کا نام سن کر یہ کھیل ہی آتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے بہترین دماغی کھیل سے عبیداللہ بیگ اور افتخار عارف کی مقبول جوڑی کو 20 سوالات کی حد میں جواب بوجھنا ہوتا تھا۔ 1968ء میں شروع ہونے والے اس پروگرام کی اکثر میزبانی مرحوم قریش پور کیا کرتے تھے (کچھ وقت کے لیے حمایت علی شاعر نے بھی میزبانی کی)۔ اس کھیل نے کوئز پروگرام کے طریقہ کار کو ہی تبدیل کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1964ء کے آخر میں پاکستان میں ٹیلی ویژن متعارف کروایا گیا۔ فروری 1965ء میں ٹی وی نے کامیابی سے اپنا پائلٹ فیز مکمل کیا۔ فیلڈ مارشل ایوب خان نے متنازعہ صدارتی انتخابات میں محترمہ فاطمہ جناح کو چند دنوں پہلے ہی شکست دی تھی، پاکستان کی معیشت زرعی انقلاب کے بعد ترقی کررہی تھی، طلبہ بڑھ چڑھ کر سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے تھے، پاکستان کوئی جنگ بھی نہیں لڑ رہا تھا جبکہ 1954ء سے پہلے کی بولی وڈ فلمیں بھی پاکستانی سنیما گھروں میں چلائی جارہی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور کے شہریوں میں اپنے آرام دہ گھروں میں فلمیں دیکھنے کے رجحان میں اضافہ ہورہا تھا کیونکہ ٹی وی ہفتے میں 6 دن چلتا تھا۔ شروعات میں نشریات نے ریڈیو پاکستان کو سخت مقابلہ دیا لیکن ریڈیو کے ذریعے کچھ سال قبل اسکول براڈکاسٹنگ کو متعارف کروایا گیا تھا جوکہ بہت سے طلبہ کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں کامیاب رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’چیستان‘ جیسے کوئز شوز کی میزبانی موہنی حمید اور ابوالحسن نغمی کرتے تھے جبکہ پروگرام ’اکیسواں سوال‘ میں میزبان فرہاد زیدی جامعات کے طلبہ کو 20 سوالات پیش کرتے تھے۔ یوں ریڈیو ’اطلاع دینے، تعلیم دینے، تفریح کرنے‘ کی بہترین مثال تھا اور اسی مثال کو بعد میں پی ٹی وی نے بھی اپنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2013/08/51ff833e077a0.jpg'  alt='کسوٹی پروگرام کی زیادہ تر میزبانی قریش پور نے کی' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;کسوٹی پروگرام کی زیادہ تر میزبانی قریش پور نے کی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں ٹی وی کے بانی تصور کیے جانے والے اسلم اظہر نے بہت سی چیزیں ریڈیو سے متاثر ہوکر اپنائیں۔ وہ مغرب پر نظر رکھتے تھے اور پاکستانی قوم کے بھی نبض شناس تھے، وہ جانتے تھے کہ انہیں عوام تک کیسا مواد پہنچانا ہے۔ پی ٹی وی لاہور کے ابتدائی برسوں میں ڈرامے، سائنسی پروگرام اور کوئز مقابلے نشر کیے جاتے تھے جنہیں دیکھنے کے لیے لوگ نشریات کے اختتام تک جاگتے رہتے تھے۔ اسلم اظہر کو باصلاحیت لوگوں کو تلاش کرنے اور تربیت دینے میں مہارت حاصل تھی، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے متعدد ستاروں کو ٹیلی ویژن اسکرین کے لیے تیار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1965ء کے وسط میں لاہور سے دور ایک نوجوان لکھنؤ یونیورسٹی سے اپنا ماسٹرز مکمل کرنے کے بعد کراچی پہنچا۔ وہ اس وقت تک کوئی نامور شخصیت، شاعر یا اسکالر نہیں تھے، اسی لیے انہیں ریڈیو پاکستان میں خبریں پڑھنے کی نوکری ملی۔ ان کے دو مشاغل تھے، ایک مشغلہ صبح بہتر ملازمت کی تلاش جبکہ دوسرا شام کو ریڈیو پر خبریں پڑھنا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افتخار حسین عارف یاد کرتے ہیں کہ ’عبیداللہ بیگ ہندی سروس کے ’ڈی فیکٹو انچارج‘ اور میں بلیٹن میں جو خبریں پڑھتا تھا، ان کا ترجمہ کرنے کا ذمہ دار تھا۔ مشہود احمد اور قریش پور فارسی سروس سے منسلک تھے۔ عبیداللہ عرف حبیب بھائی (حبیب اللہ بیگ ان کا اصل نام تھا) سواہیلی سروس سے بھی خبروں کا ترجمہ کرتے تھے۔ اس کے بعد وہ فوراً گھر کے لیے روانہ نہیں ہوتے تھے اور ہم فارسی سروس کے عملے سے ملتے تھے جوکہ دیر سے آتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/07/25081044de5ebc2.jpg'  alt='عبیداللہ بیگ اور افتخار عارف نے کسوٹی سے ہی مقبولیت حاصل کی' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;عبیداللہ بیگ اور افتخار عارف نے کسوٹی سے ہی مقبولیت حاصل کی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’چونکہ ہمارے پاس وقت ہوتا تھا اس لیے ہم نے آپس میں ایک کھیل کھیلنا شروع کیا جس میں کوئی ایک فرد، شخصیت/چیز/جگہ کا انتخاب کرتا تھا جبکہ دیگر کو اسے بوجھنا ہوتا تھا۔ ہارنے والے کو ناشتے کا بندوبست کرنا ہوتا تھا اور یوں کھیل اور ہمارے اعتماد میں اضافہ ہوتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’کبھی کبھار اس کھیل میں غازی صلاح الدین بھی ہمارا ساتھ دیتے تھے جنہوں نے بعدازاں صحافت کی دنیا میں خوب نام کمایا۔ 1966ء کے اواخر میں ریڈیو پاکستان کی ہندی سروس پر ایک اسکرپٹڈ شو کا آغاز ہوا جوکہ اسی کھیل پر مبنی تھا جو ہم کھیلا کرتے تھے۔ جلد ہی 10 منٹ کا یہ سیگمنٹ مقبول ہوگیا۔ ریڈیو پاکستان میں ایکسٹرنل سروسز کے ڈائریکٹر سلیم گیلانی بھی اس کھیل میں شامل ہوئے جوکہ براہِ راست نشر ہوتا تھا لیکن پہلے سے طے شدہ ہوتا تھا اور یوں ہم مقبولیت کی سیڑھیاں چڑھنے لگے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’اسی دوران پی ٹی وی کراچی کا قیام عمل میں آیا اور  اس کے بعد سب تاریخ کا حصہ ہے‘۔ افتخار عارف نے یہ تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ جب وہ کراچی آئے تو ان کی جیب میں صرف 2 ہزار روپے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افتخار عارف کے سوا کسوٹی پروگرام کا کوئی ممبر اب حیات نہیں ہے۔ افتخار عارف کو اس پروگرام کی تفصیلات ایسے یاد ہیں جیسے یہ سب کل ہی کی بات ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ ’اسلم اظہر کو پروگرامز کا انچارج مقرر کردیا گیا جس کے بعد وہ نت نئے آئیڈیاز کی تلاش میں تھے۔ سلیم گیلانی صاحب ایک اتوار ہم تینوں کو اسلم اظہر سے ملاقات کرنے لے گئے۔ سلیم گیلانی امریکی کوئز شو ’20 کوئیشنس‘ سے واقف تھے اس لیے ممکن ہے کہ انہوں نے ہی اس پروگرام کا خیال پیش کیا ہو۔ ہمیں اسٹیڈیم روڈ کراچی پر واقع پی ٹی وی کراچی میں ایک ٹیسٹ پاس کرنا تھا۔ خوش قسمتی سے 10 میں سے 7 سوالات کا درست جواب دے کر ہم نے کوالیفائی کرلیا۔ یہ پی ٹی وی پر کسوٹی کی ابتدا تھی۔ چونکہ اس وقت پیر کو چھٹی ہوا کرتی تھی اس لیے ہمیں اگلے ہی دن سے پروگرام کرنے کے لیے کہا گیا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/07/2507492037995e0.jpg'  alt='پی ٹی وی کے بانی تصور کیے جانے والے اسلم اظہر نے متعدد نامور ستاروں کو ٹیلی ویژن اسکرینوں کے لیے تیار کیا' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;پی ٹی وی کے بانی تصور کیے جانے والے اسلم اظہر نے متعدد نامور ستاروں کو ٹیلی ویژن اسکرینوں کے لیے تیار کیا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارچ 1968ء میں پی ٹی وی پر کسوٹی کی نشریات کا آغاز ہوا جس میں چند وقفے بھی آئے اور  اس کی نشریات 1976ء تک جاری رہیں۔ افتخار عارف، عبیداللہ بیگ اور قریش پور پی ٹی وی سے منسلک ہوگئے اور یوں ریڈیو سے ان کا تعلق ختم ہوگیا۔ اس وقت تک امان خان خیشگی کی میزبانی میں ’زینا بہ زینا‘ پی ٹی وی پر نشر ہونے والا واحد کوئز شو تھا۔ کسوٹی لوگوں کی زندگیوں پر اتنا اثرانداز ہوا کہ لوگوں نے دفتروں میں کھانے کے وقفوں کے دوران اسے کھیلنا شروع کردیا اور طلبہ اپنے فارغ اوقات میں ساتھی طلب علموں کے ساتھ کلاس رومز میں کسوٹی کھیلنے کو ترجیح دینے لگے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تینوں افراد جلد ہی مقبول شخصیات بن گئے جبکہ افتخار عارف اور عبیداللہ بیگ کو متعدد بار لوگوں نے سڑکوں پر روکا اور اَن جان لوگ ان سے شخصیات بوجھنے کو کہتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/07/25081949fe536e9.jpg'  alt='کسوٹی پروگرام نے جلد ہی افتخار عارف اور عبیداللہ بیگ کو شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا&amp;mdash;تصویر: فیس بوک' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;کسوٹی پروگرام نے جلد ہی افتخار عارف اور عبیداللہ بیگ کو شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا—تصویر: فیس بوک&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عبید اللہ بیگ کا شو کے دوران تفصیلات کا خلاصہ کرنا بذات خود ایک شاندار انداز تھا لیکن افتخار عارف کا اپنے بالوں پر انگلیاں پھیرنا اور انگلی میں انگوٹھی گھمانے کا انداز اتنا مشہور ہوا کہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ان کے یہ انداز شو سے بھی زیادہ مشہور ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کسوٹی کی کامیابی کے بعد پی ٹی وی کے مختلف مراکز سے بھی اسی طرز کے پروگرامز کا سلسلہ شروع ہوا۔ ان میں صحافی حمید شیخ کا ’اکیسواں سوال‘، پروگرام ’پہچانیے‘ جس میں عزیز کارٹونسٹ ناظرین کے لیے تصاویر بناتے تھے، اسکریبل جس کی میزبانی جہانگیر آزر کرتے تھے، محمد ادریس کی میزبانی میں میزان اور شعیب ہاشمی کا پروگرام ’پرکھ‘ شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1977ء میں سیاسی سیٹ اپ میں تبدیلی کے بعد افتخار عارف کو اندازہ ہوگیا تھا کہ ملک میں کیا ہونے والا ہے۔ انہوں نے پی ٹی وی سے استعفیٰ دیا اور برطانیہ چلے گئے۔ برطانیہ میں انہوں نے ایک شاعر اور دانشور کے طور پر اپنا نام بنایا، بینک آف کریڈٹ اینڈ کامرس انٹرنیشنل (بی سی سی آئی) میں شمولیت اختیار کی اور ایک دہائی سے زائد عرصے تک اردو مرکز کی سربراہی کی۔ کسوٹی کی ٹیم ختم ہوچکی تھی لیکن یہ ٹیلی ویژن کوئز شو اس وقت واپس آیا جب افتخار عارف 1990ء کی دہائی میں جمہوریت کی واپسی کے ساتھ ہی پاکستان واپس لوٹے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عبیداللہ بیگ اور قریش پور نے دَیٹس اِٹ کے نام سے یہی شو ایک بار پھر این ٹی ایم چینل پر شروع کیا۔ تاہم غازی صلاح الدین نے افتخار احمد کی جگہ لے لی جو اس کھیل میں ایک بڑا نام بن گئے۔ کہا جاتا ہے کہ اگر غازی صلاح الدین نے عبیداللہ بیگ کے اصرار پر افتخار عارف کی جگہ نہ لی ہوتی تو ہماری ایک نسل اس بہترین پروگرام سے محروم رہ جاتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/07/25073249ccabf21.jpg?r=073456'  alt='دَیٹس اِٹ نامی شو میں عبیداللہ بیگ اور قریش پور کا ساتھ غازی صلاح الدین دیا کرتے تھے&amp;mdash;تصویر: یوٹیوب' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;دَیٹس اِٹ نامی شو میں عبیداللہ بیگ اور قریش پور کا ساتھ غازی صلاح الدین دیا کرتے تھے—تصویر: یوٹیوب&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کسوٹی کے مخصوص جملے جیسے ’زندہ یا مردہ‘، ’مرد یا عورت‘، تعلق برِاعظم ایشیا سے ہے؟’ ان تمام کی ایک بار  پھر ٹیلی ویژن پر واپسی ہوئی لیکن اس بار انہیں ادا کرنے والے افتخار عارف نہیں تھے۔ وہ اکیڈمی آف لیٹرز کی سربراہی اور ایران میں فارسی زبان و ادب کی اکیڈمی کے بورڈ آف گورنرز کے اعزازی رکن منتخب ہونے جیسی اعلیٰ ملازمتوں میں مصروفِ عمل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اردو شاعری میں اپنی گراں قدر خدمات کے لیے افتخار عارف کو تمغہ حسن کارکردگی اور ہلالِ امتیاز جیسے اعلیٰ ترین اعزاز سے نوازا گیا لیکن وہ شاید اپنے کسوٹی کے دنوں کی وجہ سے ہی زیادہ مقبول ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک دفعہ افتخار عارف کو پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز میں تعینات کرنا تھا، اسی مقصد سے سابق وزیراعظم نواز شریف کو دستخط کرنے کے لیے کاغذات پیش کیے گئے جس پر انہوں نے پوچھا کہ ’یہ وہی ہیں نا جو کسوٹی میں اپنی انگوٹھی سے کھیلتے تھے؟‘&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1766138/flashback-the-guessing-game"&gt;مضمون&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; 23 جولائی 2023ء کو ڈان آئیکون میں شائع ہوا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کچھ کھیل ایسے ہوتے ہیں جو کسی جغرافیے میں محدود نہیں رہتے بلکہ ایک ثقافتی حیثیت اختیار کرلیتے ہیں۔</p>
<p>کوئی زندہ یا مردہ شخصیت ہو، کوئی تاریخی عمارت یا کسی غیرمعروف کتاب کا کوئی مصنف، کسوٹی پہلے کی طرح آج بھی جوابات بوجھنے کے لیے بہترین کھیل تصور کیا جاتا ہے۔ کسوٹی کے کھیل کو نصف صدی سے لوگ پسند کرتے آرہے ہیں جس نے پی ٹی وی کے مشہور کوئز شو سے عوام میں مقبولیت حاصل کی۔</p>
<p>حتیٰ کہ وہ لوگ جو کسوٹی لفظ کے معنیٰ تک نہیں جانتے (معنیٰ: جانچ یا پرکھ کا معیار) ان کے ذہن میں بھی کسوٹی کا نام سن کر یہ کھیل ہی آتا ہے۔</p>
<p>اپنے بہترین دماغی کھیل سے عبیداللہ بیگ اور افتخار عارف کی مقبول جوڑی کو 20 سوالات کی حد میں جواب بوجھنا ہوتا تھا۔ 1968ء میں شروع ہونے والے اس پروگرام کی اکثر میزبانی مرحوم قریش پور کیا کرتے تھے (کچھ وقت کے لیے حمایت علی شاعر نے بھی میزبانی کی)۔ اس کھیل نے کوئز پروگرام کے طریقہ کار کو ہی تبدیل کردیا۔</p>
<p>1964ء کے آخر میں پاکستان میں ٹیلی ویژن متعارف کروایا گیا۔ فروری 1965ء میں ٹی وی نے کامیابی سے اپنا پائلٹ فیز مکمل کیا۔ فیلڈ مارشل ایوب خان نے متنازعہ صدارتی انتخابات میں محترمہ فاطمہ جناح کو چند دنوں پہلے ہی شکست دی تھی، پاکستان کی معیشت زرعی انقلاب کے بعد ترقی کررہی تھی، طلبہ بڑھ چڑھ کر سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے تھے، پاکستان کوئی جنگ بھی نہیں لڑ رہا تھا جبکہ 1954ء سے پہلے کی بولی وڈ فلمیں بھی پاکستانی سنیما گھروں میں چلائی جارہی تھیں۔</p>
<p>لاہور کے شہریوں میں اپنے آرام دہ گھروں میں فلمیں دیکھنے کے رجحان میں اضافہ ہورہا تھا کیونکہ ٹی وی ہفتے میں 6 دن چلتا تھا۔ شروعات میں نشریات نے ریڈیو پاکستان کو سخت مقابلہ دیا لیکن ریڈیو کے ذریعے کچھ سال قبل اسکول براڈکاسٹنگ کو متعارف کروایا گیا تھا جوکہ بہت سے طلبہ کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں کامیاب رہا۔</p>
<p>’چیستان‘ جیسے کوئز شوز کی میزبانی موہنی حمید اور ابوالحسن نغمی کرتے تھے جبکہ پروگرام ’اکیسواں سوال‘ میں میزبان فرہاد زیدی جامعات کے طلبہ کو 20 سوالات پیش کرتے تھے۔ یوں ریڈیو ’اطلاع دینے، تعلیم دینے، تفریح کرنے‘ کی بہترین مثال تھا اور اسی مثال کو بعد میں پی ٹی وی نے بھی اپنایا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2013/08/51ff833e077a0.jpg'  alt='کسوٹی پروگرام کی زیادہ تر میزبانی قریش پور نے کی' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>کسوٹی پروگرام کی زیادہ تر میزبانی قریش پور نے کی</figcaption>
    </figure></p>
<p>پاکستان میں ٹی وی کے بانی تصور کیے جانے والے اسلم اظہر نے بہت سی چیزیں ریڈیو سے متاثر ہوکر اپنائیں۔ وہ مغرب پر نظر رکھتے تھے اور پاکستانی قوم کے بھی نبض شناس تھے، وہ جانتے تھے کہ انہیں عوام تک کیسا مواد پہنچانا ہے۔ پی ٹی وی لاہور کے ابتدائی برسوں میں ڈرامے، سائنسی پروگرام اور کوئز مقابلے نشر کیے جاتے تھے جنہیں دیکھنے کے لیے لوگ نشریات کے اختتام تک جاگتے رہتے تھے۔ اسلم اظہر کو باصلاحیت لوگوں کو تلاش کرنے اور تربیت دینے میں مہارت حاصل تھی، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے متعدد ستاروں کو ٹیلی ویژن اسکرین کے لیے تیار کیا۔</p>
<p>1965ء کے وسط میں لاہور سے دور ایک نوجوان لکھنؤ یونیورسٹی سے اپنا ماسٹرز مکمل کرنے کے بعد کراچی پہنچا۔ وہ اس وقت تک کوئی نامور شخصیت، شاعر یا اسکالر نہیں تھے، اسی لیے انہیں ریڈیو پاکستان میں خبریں پڑھنے کی نوکری ملی۔ ان کے دو مشاغل تھے، ایک مشغلہ صبح بہتر ملازمت کی تلاش جبکہ دوسرا شام کو ریڈیو پر خبریں پڑھنا۔</p>
<p>افتخار حسین عارف یاد کرتے ہیں کہ ’عبیداللہ بیگ ہندی سروس کے ’ڈی فیکٹو انچارج‘ اور میں بلیٹن میں جو خبریں پڑھتا تھا، ان کا ترجمہ کرنے کا ذمہ دار تھا۔ مشہود احمد اور قریش پور فارسی سروس سے منسلک تھے۔ عبیداللہ عرف حبیب بھائی (حبیب اللہ بیگ ان کا اصل نام تھا) سواہیلی سروس سے بھی خبروں کا ترجمہ کرتے تھے۔ اس کے بعد وہ فوراً گھر کے لیے روانہ نہیں ہوتے تھے اور ہم فارسی سروس کے عملے سے ملتے تھے جوکہ دیر سے آتے تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/07/25081044de5ebc2.jpg'  alt='عبیداللہ بیگ اور افتخار عارف نے کسوٹی سے ہی مقبولیت حاصل کی' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>عبیداللہ بیگ اور افتخار عارف نے کسوٹی سے ہی مقبولیت حاصل کی</figcaption>
    </figure></p>
<p>’چونکہ ہمارے پاس وقت ہوتا تھا اس لیے ہم نے آپس میں ایک کھیل کھیلنا شروع کیا جس میں کوئی ایک فرد، شخصیت/چیز/جگہ کا انتخاب کرتا تھا جبکہ دیگر کو اسے بوجھنا ہوتا تھا۔ ہارنے والے کو ناشتے کا بندوبست کرنا ہوتا تھا اور یوں کھیل اور ہمارے اعتماد میں اضافہ ہوتا تھا۔</p>
<p>’کبھی کبھار اس کھیل میں غازی صلاح الدین بھی ہمارا ساتھ دیتے تھے جنہوں نے بعدازاں صحافت کی دنیا میں خوب نام کمایا۔ 1966ء کے اواخر میں ریڈیو پاکستان کی ہندی سروس پر ایک اسکرپٹڈ شو کا آغاز ہوا جوکہ اسی کھیل پر مبنی تھا جو ہم کھیلا کرتے تھے۔ جلد ہی 10 منٹ کا یہ سیگمنٹ مقبول ہوگیا۔ ریڈیو پاکستان میں ایکسٹرنل سروسز کے ڈائریکٹر سلیم گیلانی بھی اس کھیل میں شامل ہوئے جوکہ براہِ راست نشر ہوتا تھا لیکن پہلے سے طے شدہ ہوتا تھا اور یوں ہم مقبولیت کی سیڑھیاں چڑھنے لگے۔</p>
<p>’اسی دوران پی ٹی وی کراچی کا قیام عمل میں آیا اور  اس کے بعد سب تاریخ کا حصہ ہے‘۔ افتخار عارف نے یہ تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ جب وہ کراچی آئے تو ان کی جیب میں صرف 2 ہزار روپے تھے۔</p>
<p>افتخار عارف کے سوا کسوٹی پروگرام کا کوئی ممبر اب حیات نہیں ہے۔ افتخار عارف کو اس پروگرام کی تفصیلات ایسے یاد ہیں جیسے یہ سب کل ہی کی بات ہو۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ ’اسلم اظہر کو پروگرامز کا انچارج مقرر کردیا گیا جس کے بعد وہ نت نئے آئیڈیاز کی تلاش میں تھے۔ سلیم گیلانی صاحب ایک اتوار ہم تینوں کو اسلم اظہر سے ملاقات کرنے لے گئے۔ سلیم گیلانی امریکی کوئز شو ’20 کوئیشنس‘ سے واقف تھے اس لیے ممکن ہے کہ انہوں نے ہی اس پروگرام کا خیال پیش کیا ہو۔ ہمیں اسٹیڈیم روڈ کراچی پر واقع پی ٹی وی کراچی میں ایک ٹیسٹ پاس کرنا تھا۔ خوش قسمتی سے 10 میں سے 7 سوالات کا درست جواب دے کر ہم نے کوالیفائی کرلیا۔ یہ پی ٹی وی پر کسوٹی کی ابتدا تھی۔ چونکہ اس وقت پیر کو چھٹی ہوا کرتی تھی اس لیے ہمیں اگلے ہی دن سے پروگرام کرنے کے لیے کہا گیا‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/07/2507492037995e0.jpg'  alt='پی ٹی وی کے بانی تصور کیے جانے والے اسلم اظہر نے متعدد نامور ستاروں کو ٹیلی ویژن اسکرینوں کے لیے تیار کیا' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>پی ٹی وی کے بانی تصور کیے جانے والے اسلم اظہر نے متعدد نامور ستاروں کو ٹیلی ویژن اسکرینوں کے لیے تیار کیا</figcaption>
    </figure></p>
<p>مارچ 1968ء میں پی ٹی وی پر کسوٹی کی نشریات کا آغاز ہوا جس میں چند وقفے بھی آئے اور  اس کی نشریات 1976ء تک جاری رہیں۔ افتخار عارف، عبیداللہ بیگ اور قریش پور پی ٹی وی سے منسلک ہوگئے اور یوں ریڈیو سے ان کا تعلق ختم ہوگیا۔ اس وقت تک امان خان خیشگی کی میزبانی میں ’زینا بہ زینا‘ پی ٹی وی پر نشر ہونے والا واحد کوئز شو تھا۔ کسوٹی لوگوں کی زندگیوں پر اتنا اثرانداز ہوا کہ لوگوں نے دفتروں میں کھانے کے وقفوں کے دوران اسے کھیلنا شروع کردیا اور طلبہ اپنے فارغ اوقات میں ساتھی طلب علموں کے ساتھ کلاس رومز میں کسوٹی کھیلنے کو ترجیح دینے لگے۔</p>
<p>یہ تینوں افراد جلد ہی مقبول شخصیات بن گئے جبکہ افتخار عارف اور عبیداللہ بیگ کو متعدد بار لوگوں نے سڑکوں پر روکا اور اَن جان لوگ ان سے شخصیات بوجھنے کو کہتے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/07/25081949fe536e9.jpg'  alt='کسوٹی پروگرام نے جلد ہی افتخار عارف اور عبیداللہ بیگ کو شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا&mdash;تصویر: فیس بوک' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>کسوٹی پروگرام نے جلد ہی افتخار عارف اور عبیداللہ بیگ کو شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا—تصویر: فیس بوک</figcaption>
    </figure></p>
<p>عبید اللہ بیگ کا شو کے دوران تفصیلات کا خلاصہ کرنا بذات خود ایک شاندار انداز تھا لیکن افتخار عارف کا اپنے بالوں پر انگلیاں پھیرنا اور انگلی میں انگوٹھی گھمانے کا انداز اتنا مشہور ہوا کہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ان کے یہ انداز شو سے بھی زیادہ مشہور ہوئے۔</p>
<p>کسوٹی کی کامیابی کے بعد پی ٹی وی کے مختلف مراکز سے بھی اسی طرز کے پروگرامز کا سلسلہ شروع ہوا۔ ان میں صحافی حمید شیخ کا ’اکیسواں سوال‘، پروگرام ’پہچانیے‘ جس میں عزیز کارٹونسٹ ناظرین کے لیے تصاویر بناتے تھے، اسکریبل جس کی میزبانی جہانگیر آزر کرتے تھے، محمد ادریس کی میزبانی میں میزان اور شعیب ہاشمی کا پروگرام ’پرکھ‘ شامل ہیں۔</p>
<p>1977ء میں سیاسی سیٹ اپ میں تبدیلی کے بعد افتخار عارف کو اندازہ ہوگیا تھا کہ ملک میں کیا ہونے والا ہے۔ انہوں نے پی ٹی وی سے استعفیٰ دیا اور برطانیہ چلے گئے۔ برطانیہ میں انہوں نے ایک شاعر اور دانشور کے طور پر اپنا نام بنایا، بینک آف کریڈٹ اینڈ کامرس انٹرنیشنل (بی سی سی آئی) میں شمولیت اختیار کی اور ایک دہائی سے زائد عرصے تک اردو مرکز کی سربراہی کی۔ کسوٹی کی ٹیم ختم ہوچکی تھی لیکن یہ ٹیلی ویژن کوئز شو اس وقت واپس آیا جب افتخار عارف 1990ء کی دہائی میں جمہوریت کی واپسی کے ساتھ ہی پاکستان واپس لوٹے۔</p>
<p>عبیداللہ بیگ اور قریش پور نے دَیٹس اِٹ کے نام سے یہی شو ایک بار پھر این ٹی ایم چینل پر شروع کیا۔ تاہم غازی صلاح الدین نے افتخار احمد کی جگہ لے لی جو اس کھیل میں ایک بڑا نام بن گئے۔ کہا جاتا ہے کہ اگر غازی صلاح الدین نے عبیداللہ بیگ کے اصرار پر افتخار عارف کی جگہ نہ لی ہوتی تو ہماری ایک نسل اس بہترین پروگرام سے محروم رہ جاتی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/07/25073249ccabf21.jpg?r=073456'  alt='دَیٹس اِٹ نامی شو میں عبیداللہ بیگ اور قریش پور کا ساتھ غازی صلاح الدین دیا کرتے تھے&mdash;تصویر: یوٹیوب' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>دَیٹس اِٹ نامی شو میں عبیداللہ بیگ اور قریش پور کا ساتھ غازی صلاح الدین دیا کرتے تھے—تصویر: یوٹیوب</figcaption>
    </figure></p>
<p>کسوٹی کے مخصوص جملے جیسے ’زندہ یا مردہ‘، ’مرد یا عورت‘، تعلق برِاعظم ایشیا سے ہے؟’ ان تمام کی ایک بار  پھر ٹیلی ویژن پر واپسی ہوئی لیکن اس بار انہیں ادا کرنے والے افتخار عارف نہیں تھے۔ وہ اکیڈمی آف لیٹرز کی سربراہی اور ایران میں فارسی زبان و ادب کی اکیڈمی کے بورڈ آف گورنرز کے اعزازی رکن منتخب ہونے جیسی اعلیٰ ملازمتوں میں مصروفِ عمل تھے۔</p>
<p>اردو شاعری میں اپنی گراں قدر خدمات کے لیے افتخار عارف کو تمغہ حسن کارکردگی اور ہلالِ امتیاز جیسے اعلیٰ ترین اعزاز سے نوازا گیا لیکن وہ شاید اپنے کسوٹی کے دنوں کی وجہ سے ہی زیادہ مقبول ہیں۔</p>
<p>ایک دفعہ افتخار عارف کو پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز میں تعینات کرنا تھا، اسی مقصد سے سابق وزیراعظم نواز شریف کو دستخط کرنے کے لیے کاغذات پیش کیے گئے جس پر انہوں نے پوچھا کہ ’یہ وہی ہیں نا جو کسوٹی میں اپنی انگوٹھی سے کھیلتے تھے؟‘</p>
<hr />
<p>یہ <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1766138/flashback-the-guessing-game">مضمون</a></strong> 23 جولائی 2023ء کو ڈان آئیکون میں شائع ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1208311</guid>
      <pubDate>Thu, 03 Aug 2023 11:49:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد صہیب)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/07/250800433fb155f.jpg?r=080054" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/07/250800433fb155f.jpg?r=080054"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/07/241457398d65fa9.jpg?r=080054" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/07/241457398d65fa9.jpg?r=080054"/>
        <media:title>کسوٹی میں عبیداللہ بیگ اور افتخار عارف
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بُک ریویو: ’اَن ولِنگ سلیوز‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1206661/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات ہمیشہ سے ہی غیر مساوی اور اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ آزادی کے بعد سے ہی پاکستان نے اپنی حفاظت اور بھارتی خطرے سے خود کو دور رکھنے کے لیے فوجی اور اقتصادی امداد کے لیے خود کو امریکا پر منحصر پایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1954ء میں اس انحصار نے پاکستان کو میوچل ڈیفینس ایگریمنٹ پر دستخط کرنے، اسی سال کے آخر میں ساؤتھ ایسٹ  ایشیا ٹریٹی آرگنائزیشن (SEATO) میں شامل ہونے اور سینٹرل ٹریٹی آرگنائزیشن (CENTO) کا پیش خیمہ ثابت ہونے والے 1995ء کے بغداد معاہدے میں حصہ لینے کی ترغیب دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1962ء میں امریکی جاسوس طیارہ جس نے پشاور کے قریب بڈا بیر گاؤں میں سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کی خفیہ ایئر بیس سے اڑان بھری تھی، ماسکو کو اوپر مار گرایا گیا جس کے بعد پیدا ہونے والا سنگین بحران، پاکستان اور سوویت یونین کی دیرینہ دشمنی کا باعث بنا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب تعلقات میں بہتری کے لیے پاکستان کے اس وقت کے صدر جنرل ایوب خان نے 1965ء میں سوویت یونین کا دورہ کیا تو امریکا نے پاکستان کی حیثیت کو اسٹریٹجک اتحادی سے کم کرکے ٹیکٹیکل اتحادی کی کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے لیے توازن قائم رکھنا ہمیشہ سے ہی مشکل عمل رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کتاب ’اَن ولنگ سلیوز: پاکستانز اسٹریٹجک چوائسز ان دی 1990s‘  سیاسی اور بین الاقوامی تعلقات کی ماہر ڈاکٹر طلعت فاروق کی تصنیف ہے جبکہ اس کا عنوان لیفٹیننٹ جنرل حمید گل کے امریکا کے حوالے سے اس تبصرے سے لیا گیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ وہ ’آقا بننا‘ چاہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سابق سربراہ نے کہا تھا کہ ’ہم کبھی کبھی غلام ہونے کا کھیل کھیلتے ہیں، لیکن ہم ہمیشہ اپنی مرضی سے غلام نہیں بنتے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کھیل کھیلتا ہے اور چینی قیادت کے مشورے کے مطابق، ٹیکنیکل سطح پر امریکا کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جبکہ ساتھ ہی اپنے  اہداف بھی حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی طرزِعمل کی وجہ سے پاکستان پر بار بار امریکی الزامات عائد ہوتے رہے ہیں کہ وہ ڈبل گیم کھیل رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سچ پوچھیں تو پاکستان ہمیشہ سے ایسا کرنے پر آمادہ نہیں تھا۔ مثال کے طور پر 1980ء کی دہائی میں، آئی ایس آئی نے افغان مزاحمت کو بین الاقوامی سطح تک لانے کے لیے سی آئی اے کے منصوبے کی مکمل حمایت کی۔ تاہم، امریکا نے افغانستان میں اپنے مقاصد کی تکمیل میں پاکستان کے علاقائی سلامتی کے تقاضوں کو اہمیت نہیں دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1990ء کی دہائی میں مکمل طور پر ایک مختلف کھیل جاری تھا۔ اس تناؤ کے دور میں ایران-عراق جنگ ابھی تھمی ہی تھی، آخری سوویت افواج افغانستان سے نکل چکی تھیں، سوویت یونین کا آہنی پردہ (آئرن کرٹن) چاک ہوچکا تھا، دیوار برلن گرچکی تھی، عراق نے کویت پر حملہ کیا جس کے جواب میں امریکی قیادت میں اتحادیوں نے عراق کو پیچھے ہٹانے کے لیے حملہ کیا۔ یوں امریکا دنیا کی واحد سپر پاور بن کر ابھرا اور اس نے نیو ورلڈ آرڈر کے اعلان کے ذریعے خود کو مضبوط کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1993ء سے 2001ء تک بل کلنٹن کا دورِ صدارت طلعت فاروق کی کتاب کا محور ہے۔ امریکا نے اپنی داخلی سیاست اور معیشت پر توجہ دینے کا انتخاب کیا اور یوں کلنٹن انتظامیہ نے افغانستان سے ہاتھ اٹھا لیے اور اس کے جنوبی ایشیائی مفادات دو حصوں میں تقسیم ہوگئے۔ پہلا مفاد پاکستان کی قیمت پر بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات کو فروغ دینا اور دوسرا پاکستان کو جوہری طاقت بننے سے روکنا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو روکنے کی امریکا کی کوشش میں دو خامیاں تھیں۔ ایک یہ کہ امریکا یہ تسلیم کرنے میں ناکام رہا کہ پاکستان کے لیے بھارت کے ساتھ جوہری برابری حاصل کرنا کتنا اہم ہے۔ دوسری خامی یہ تھی کہ پابندیاں لگا کر امریکا نے ’پاکستان کے رویے میں تبدیلی‘ کے امکانات کو ختم کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;باریک بینی سے تحقیق کے بعد مرتب کی گئی طلعت فاروق کی یہ کتاب، پاکستان اور امریکا کے تعلقات کے عروج و زوال کے پس منظر کا بھرپور احاطہ کرتی ہے۔ ان تعلقات میں ایک تیسرا فریق بھی شامل ہے جوکہ بھارت ہے۔ پاکستان کے بھارت سے متعلق نقطہ نظر کو نظرانداز کرتے ہوئے، امریکا نے چین کے بارے میں بھارت کے موقف کو باآسانی قبول کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بقول جنرل پرویز مشرف فروری 1989ء میں سوویت یونین کے افغانستان سے انخلا کے بعد، امریکیوں نے ’ہمیں مصیبت میں چھوڑ دیا‘۔ 30 لاکھ افغان مہاجرین کے لیے ایک مستحکم افغانستان کی ضرورت تھی جسے پاکستان نے اسے اپنے طریقے سے سنبھالنے کی کوشش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/27131509342e22b.jpg'  alt='سوویت اور امریکا کے انخلا کے بعد ان کے سازوسامان کو کشمیر میں مدد کے لیے استعمال کیا گیا&amp;mdash; فائل فوٹو' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;سوویت اور امریکا کے انخلا کے بعد ان کے سازوسامان کو کشمیر میں مدد کے لیے استعمال کیا گیا— فائل فوٹو&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہماری شمال مغربی سرحد پر بھاری ہتھیاروں سے لیس پختونوں کی موجودگی اور ٹنوں کی مقدار میں امریکی اور سوویت فوجی سازوسامان کو کشمیر میں جاری آزادی پسند تحاریک کی مدد کے لیے وہاں کی راہ دکھائی گئی۔ اس طرح ایک تیر سے دو شکار کیے گئے اگرچہ اس سے ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کے الزامات عائد ہوئے لیکن پاکستان انتہائی مہارت سے ان الزامات سے بچا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے اسٹریٹجک انتخاب کے حوالے سے 3 پہلو آپس میں منسلک ہیں، پہلا پاکستان کے جوہری ہتھیار اور ان کو ہدف تک پہنچانے کا نظام، دوسرا پہلو طالبان جبکہ تیسرا کشمیر ہے۔ کتاب میں تمام پہلوؤں سے ان مسائل کو مناسب طور پر پیش کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیز، دونوں اجنب کے اہم کرداروں کا انٹرویو کر کے مصنفہ ان کے خیالات کی ایک نادر جھلک پیش کرتے ہیں جو پالیسی فیصلوں کو آگے بڑھاتی ہے۔ کسی بھی چیز کا جواز پیش نہ کرتے ہوئے وہ پاکستان کے پالیسی سازوں کے فکری عمل پر روشنی ڈالتی ہیں جنہوں نے اس طرح کے اقدامات کو ملک کی بقا کے لیے بہت ضروری سمجھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طالبان کے ایک مضبوط قوت کے طور پر ابھرنے کے حوالے سے امریکی پالیسی مبہم تھی۔ تاہم پاکستان نے طالبان کو اپنی خارجہ پالیسی اور سلامتی کے اہداف کو مزید وسعت دینے کے لیے ایک موقع کے طور پر دیکھا۔ جیسا کہ طلعت فاروق نے روشنی ڈالی ہے کہ پاکستان کا دفتر خارجہ 1997ء میں طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کے خلاف تھا لیکن ایسا کرنے کے لیے آئی ایس آئی نے انہیں مجبور کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/271312130133199.jpg?r=131215'  alt='دفتر خارجہ 1990 کی دہائی میں افغان حکومت کو تسلیم نہیں کرنا چاہتا تھا&amp;mdash; تصویر: اے پی' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;دفتر خارجہ 1990 کی دہائی میں افغان حکومت کو تسلیم نہیں کرنا چاہتا تھا— تصویر: اے پی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کتاب میں پاکستانی آرمی چیف کی طرف سے 91-1990ء میں آئے خلیجی بحران کے تناظر میں استعمال کیے گئے ’اسٹریٹجک ملٹری انٹیمیشن‘ اور ’اسٹریٹجک ڈیفینس‘ اور کو افغانستان کے تناظر میں ’اسٹریٹجک ڈیپتھ‘ جیسی غیر سوچی سمجھی، مبہم اور ناقص اصطلاحات پر بھی بحث کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1990ء کی دہائی کے اوائل میں ہندوستان اپنی معیشت کو وسعت دے رہا تھا اور  امریکا پاکستان کی قیمت پر اس کی طرف متوجہ ہوا۔ جبکہ اس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن پاکستان اور بھارت کے ساتھ علیحدہ علیحدہ بنیادوں پر تعلقات رکھنا چاہتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوری 1995ء کے امریکا-بھارت سیکیورٹی معاہدے پر دستخط کے ساتھ ایک نئی سیکیورٹی جہت متعارف کروائی گئی جس نے سرد جنگ کے بعد کی حکمت عملیوں کا جائزہ لینے اور فوجی رابطوں کو بڑھانے کے لیے ایک دفاعی پالیسی فورم قائم کیا۔ اس قدام اور اس کے ساتھ پریسلر امینڈمنٹ، جس نے پاکستان پر اس کے جوہری عزائم کی وجہ سے پابندیاں عائد کی تھیں، نے پاکستان کی پریشانیوں کو مزید بڑھا دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1984ء کی پریسلر امینڈمنٹ نے امریکی فوجی امدادی پروگراموں کی تمام اقسام کو ختم کر دیا تھا۔ یہ دراصل سمنگٹن (1976ء) اور گلین (1977ء) امینڈمنٹ کی ہی ایک نرم شکل تھی۔ پریسلر امینڈمنٹ کی خامی وہ صدارتی سرٹیفیکیشن تھی کہ پاکستان کے پاس جوہری ڈیوائس نہیں ہے اور نہ ہی اسے بنانے کے لیے پیش رفت کی جارہی ہے، اس سقم نے اس وقت تک پاکستان کی مدد کی جب تک کہ افغانستان میں پاکستان کی مدد کی ضرورت باقی نہ رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;70 کروڑ ڈالرز کی امریکی امداد جو 94-1988ء تک وعدہ کی گئی تھی، اسے اکتوبر 1990ء کے بعد معطل کر دیا گیا۔ یہی وجہ تھی کہ 28 ایف 16 طیاروں اور دیگر فوجی ساز و سامان جس کی ادائیگی پہلے ہی کر دی گئی تھی، اس کی منتقلی کو روک دیا گیا تھا۔ اس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں تلخی پیدا ہوئی، خاص طور پر اس وقت جب سے پاکستان کو طیاروں کے پارکنگ چارجز کی ادائیگی کرنے پر مجبور کیا گیا۔ سینیٹر لیری پریسلر کے رویے نے ہندوستان کی جانب جھکاؤ کو ظاہر کیا جبکہ ان کی انتخابی مہم کے لیے ہندوستانی نژاد امریکی کمیونٹی کی جانب سے فراخدلی سے عطیات دیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/27131015e005125.jpg'  alt='پاکستان کے پاس ایٹمی دھماکوں کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا&amp;mdash; تصویر: اے پی پی' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;پاکستان کے پاس ایٹمی دھماکوں کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا— تصویر: اے پی پی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ بظاہر امریکا بھارت کے جوہری عزائم کے متعلق فکر مند نہیں تھا لیکن پاکستان کو فکر لاحق تھی۔ اپریل 1998ء میں پاکستان نے کم از کم 15 ممالک بشمول امریکا کو بھارت کے متوقع جوہری تجربات کے حوالے سے باضابطہ طور پر مطلع کیا تھا۔ اس کے باوجود جب 11 اور 13 مئی کو ایٹمی دھماکے ہوئے اس وقت امریکا کی توجہ پاکستان کو جوہری دھماکے کرنے سے روکنے پر تھی۔ امریکا نے ہندوستان کے حوالے سے پاکستان کے خدشات کو اہمیت نہیں دی یا پھر وہ بھارت کے ایٹمی دھماکے روک نہیں سکا، جس کی وجہ سے پاکستان کے پاس اسی مہینے کے آخر میں ایٹمی دھماکے کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مئی 1998ء میں بھارت کے جوہری تجربات پر پاکستان کا ردعمل، 1999ء کے وسط میں کارگل جنگ اور اکتوبر 1999ء کی فوجی بغاوت، یکے بعد دیگرے ہونے والے ان تین واقعات نے امریکا کو مزید دور کردیا۔ یہاں تک کہ جب بل کلنٹن نے 2000ء میں جنوبی ایشیا کا دورہ کیا تب انہوں نے بھارت میں 5 دن جبکہ اسلام آباد میں بمشکل 5 گھنٹے ہی گزارے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کتاب میں موجود طلعت فاروق کے تفصیلی تجزیوں میں ہمیں جو کچھ ملتا ہے وہ بلی اور چوہے کا کھیل ہے جس میں چوہا یہ دیکھنے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ کتنا رسک لے سکتا ہے۔ ایک اور پہلو جو سامنے لایا گیا وہ یہ ہے کہ امریکا نے اپنی امداد کو جبر کے ایک آلے کے طور پر استعمال کیا۔ تاہم، 1990ء کی دہائی میں اس امداد کو روکنے کا ردِعمل یہ سامنے آیا کہ خطے میں امریکا کے اثرورسوخ میں کمی واقع ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کتاب کی اختتامی سطر اس کا بہترین خلاصہ پیش کرتی ہے کہ ’1990ء کی دہائی میں اپنے اسٹریٹجک انتخاب کا خمیازہ پاکستان اور امریکا اب بھی بھگت رہے ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;کتاب: اَن ولنگ سلیوز، پاکستانز اسٹراٹیجک چوائسز ان دی 1990s&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصنفہ: طلعت فاروق&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناشر: پیراماؤنٹ کراچی&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صفحات: 328&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1761441/non-fiction-bitter-harvests"&gt;مضمون&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; 25 جون 2023ء کو ڈان بُکس اینڈ آتھرز میں شائع ہوا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات ہمیشہ سے ہی غیر مساوی اور اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ آزادی کے بعد سے ہی پاکستان نے اپنی حفاظت اور بھارتی خطرے سے خود کو دور رکھنے کے لیے فوجی اور اقتصادی امداد کے لیے خود کو امریکا پر منحصر پایا۔</p>
<p>1954ء میں اس انحصار نے پاکستان کو میوچل ڈیفینس ایگریمنٹ پر دستخط کرنے، اسی سال کے آخر میں ساؤتھ ایسٹ  ایشیا ٹریٹی آرگنائزیشن (SEATO) میں شامل ہونے اور سینٹرل ٹریٹی آرگنائزیشن (CENTO) کا پیش خیمہ ثابت ہونے والے 1995ء کے بغداد معاہدے میں حصہ لینے کی ترغیب دی۔</p>
<p>1962ء میں امریکی جاسوس طیارہ جس نے پشاور کے قریب بڈا بیر گاؤں میں سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کی خفیہ ایئر بیس سے اڑان بھری تھی، ماسکو کو اوپر مار گرایا گیا جس کے بعد پیدا ہونے والا سنگین بحران، پاکستان اور سوویت یونین کی دیرینہ دشمنی کا باعث بنا۔</p>
<p>جب تعلقات میں بہتری کے لیے پاکستان کے اس وقت کے صدر جنرل ایوب خان نے 1965ء میں سوویت یونین کا دورہ کیا تو امریکا نے پاکستان کی حیثیت کو اسٹریٹجک اتحادی سے کم کرکے ٹیکٹیکل اتحادی کی کردی۔</p>
<p>پاکستان کے لیے توازن قائم رکھنا ہمیشہ سے ہی مشکل عمل رہا ہے۔</p>
<p>کتاب ’اَن ولنگ سلیوز: پاکستانز اسٹریٹجک چوائسز ان دی 1990s‘  سیاسی اور بین الاقوامی تعلقات کی ماہر ڈاکٹر طلعت فاروق کی تصنیف ہے جبکہ اس کا عنوان لیفٹیننٹ جنرل حمید گل کے امریکا کے حوالے سے اس تبصرے سے لیا گیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ وہ ’آقا بننا‘ چاہتا ہے۔</p>
<p>پاکستان کی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سابق سربراہ نے کہا تھا کہ ’ہم کبھی کبھی غلام ہونے کا کھیل کھیلتے ہیں، لیکن ہم ہمیشہ اپنی مرضی سے غلام نہیں بنتے‘۔</p>
<p>اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کھیل کھیلتا ہے اور چینی قیادت کے مشورے کے مطابق، ٹیکنیکل سطح پر امریکا کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جبکہ ساتھ ہی اپنے  اہداف بھی حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی طرزِعمل کی وجہ سے پاکستان پر بار بار امریکی الزامات عائد ہوتے رہے ہیں کہ وہ ڈبل گیم کھیل رہا ہے۔</p>
<p>سچ پوچھیں تو پاکستان ہمیشہ سے ایسا کرنے پر آمادہ نہیں تھا۔ مثال کے طور پر 1980ء کی دہائی میں، آئی ایس آئی نے افغان مزاحمت کو بین الاقوامی سطح تک لانے کے لیے سی آئی اے کے منصوبے کی مکمل حمایت کی۔ تاہم، امریکا نے افغانستان میں اپنے مقاصد کی تکمیل میں پاکستان کے علاقائی سلامتی کے تقاضوں کو اہمیت نہیں دی۔</p>
<p>1990ء کی دہائی میں مکمل طور پر ایک مختلف کھیل جاری تھا۔ اس تناؤ کے دور میں ایران-عراق جنگ ابھی تھمی ہی تھی، آخری سوویت افواج افغانستان سے نکل چکی تھیں، سوویت یونین کا آہنی پردہ (آئرن کرٹن) چاک ہوچکا تھا، دیوار برلن گرچکی تھی، عراق نے کویت پر حملہ کیا جس کے جواب میں امریکی قیادت میں اتحادیوں نے عراق کو پیچھے ہٹانے کے لیے حملہ کیا۔ یوں امریکا دنیا کی واحد سپر پاور بن کر ابھرا اور اس نے نیو ورلڈ آرڈر کے اعلان کے ذریعے خود کو مضبوط کیا۔</p>
<p>1993ء سے 2001ء تک بل کلنٹن کا دورِ صدارت طلعت فاروق کی کتاب کا محور ہے۔ امریکا نے اپنی داخلی سیاست اور معیشت پر توجہ دینے کا انتخاب کیا اور یوں کلنٹن انتظامیہ نے افغانستان سے ہاتھ اٹھا لیے اور اس کے جنوبی ایشیائی مفادات دو حصوں میں تقسیم ہوگئے۔ پہلا مفاد پاکستان کی قیمت پر بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات کو فروغ دینا اور دوسرا پاکستان کو جوہری طاقت بننے سے روکنا۔</p>
<p>پاکستان کو روکنے کی امریکا کی کوشش میں دو خامیاں تھیں۔ ایک یہ کہ امریکا یہ تسلیم کرنے میں ناکام رہا کہ پاکستان کے لیے بھارت کے ساتھ جوہری برابری حاصل کرنا کتنا اہم ہے۔ دوسری خامی یہ تھی کہ پابندیاں لگا کر امریکا نے ’پاکستان کے رویے میں تبدیلی‘ کے امکانات کو ختم کردیا۔</p>
<p>باریک بینی سے تحقیق کے بعد مرتب کی گئی طلعت فاروق کی یہ کتاب، پاکستان اور امریکا کے تعلقات کے عروج و زوال کے پس منظر کا بھرپور احاطہ کرتی ہے۔ ان تعلقات میں ایک تیسرا فریق بھی شامل ہے جوکہ بھارت ہے۔ پاکستان کے بھارت سے متعلق نقطہ نظر کو نظرانداز کرتے ہوئے، امریکا نے چین کے بارے میں بھارت کے موقف کو باآسانی قبول کیا ہے۔</p>
<p>بقول جنرل پرویز مشرف فروری 1989ء میں سوویت یونین کے افغانستان سے انخلا کے بعد، امریکیوں نے ’ہمیں مصیبت میں چھوڑ دیا‘۔ 30 لاکھ افغان مہاجرین کے لیے ایک مستحکم افغانستان کی ضرورت تھی جسے پاکستان نے اسے اپنے طریقے سے سنبھالنے کی کوشش کی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/27131509342e22b.jpg'  alt='سوویت اور امریکا کے انخلا کے بعد ان کے سازوسامان کو کشمیر میں مدد کے لیے استعمال کیا گیا&mdash; فائل فوٹو' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>سوویت اور امریکا کے انخلا کے بعد ان کے سازوسامان کو کشمیر میں مدد کے لیے استعمال کیا گیا— فائل فوٹو</figcaption>
    </figure></p>
<p>ہماری شمال مغربی سرحد پر بھاری ہتھیاروں سے لیس پختونوں کی موجودگی اور ٹنوں کی مقدار میں امریکی اور سوویت فوجی سازوسامان کو کشمیر میں جاری آزادی پسند تحاریک کی مدد کے لیے وہاں کی راہ دکھائی گئی۔ اس طرح ایک تیر سے دو شکار کیے گئے اگرچہ اس سے ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کے الزامات عائد ہوئے لیکن پاکستان انتہائی مہارت سے ان الزامات سے بچا رہا۔</p>
<p>پاکستان کے اسٹریٹجک انتخاب کے حوالے سے 3 پہلو آپس میں منسلک ہیں، پہلا پاکستان کے جوہری ہتھیار اور ان کو ہدف تک پہنچانے کا نظام، دوسرا پہلو طالبان جبکہ تیسرا کشمیر ہے۔ کتاب میں تمام پہلوؤں سے ان مسائل کو مناسب طور پر پیش کیا گیا ہے۔</p>
<p>نیز، دونوں اجنب کے اہم کرداروں کا انٹرویو کر کے مصنفہ ان کے خیالات کی ایک نادر جھلک پیش کرتے ہیں جو پالیسی فیصلوں کو آگے بڑھاتی ہے۔ کسی بھی چیز کا جواز پیش نہ کرتے ہوئے وہ پاکستان کے پالیسی سازوں کے فکری عمل پر روشنی ڈالتی ہیں جنہوں نے اس طرح کے اقدامات کو ملک کی بقا کے لیے بہت ضروری سمجھا۔</p>
<p>طالبان کے ایک مضبوط قوت کے طور پر ابھرنے کے حوالے سے امریکی پالیسی مبہم تھی۔ تاہم پاکستان نے طالبان کو اپنی خارجہ پالیسی اور سلامتی کے اہداف کو مزید وسعت دینے کے لیے ایک موقع کے طور پر دیکھا۔ جیسا کہ طلعت فاروق نے روشنی ڈالی ہے کہ پاکستان کا دفتر خارجہ 1997ء میں طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کے خلاف تھا لیکن ایسا کرنے کے لیے آئی ایس آئی نے انہیں مجبور کیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/271312130133199.jpg?r=131215'  alt='دفتر خارجہ 1990 کی دہائی میں افغان حکومت کو تسلیم نہیں کرنا چاہتا تھا&mdash; تصویر: اے پی' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>دفتر خارجہ 1990 کی دہائی میں افغان حکومت کو تسلیم نہیں کرنا چاہتا تھا— تصویر: اے پی</figcaption>
    </figure></p>
<p>اس کتاب میں پاکستانی آرمی چیف کی طرف سے 91-1990ء میں آئے خلیجی بحران کے تناظر میں استعمال کیے گئے ’اسٹریٹجک ملٹری انٹیمیشن‘ اور ’اسٹریٹجک ڈیفینس‘ اور کو افغانستان کے تناظر میں ’اسٹریٹجک ڈیپتھ‘ جیسی غیر سوچی سمجھی، مبہم اور ناقص اصطلاحات پر بھی بحث کی گئی ہے۔</p>
<p>1990ء کی دہائی کے اوائل میں ہندوستان اپنی معیشت کو وسعت دے رہا تھا اور  امریکا پاکستان کی قیمت پر اس کی طرف متوجہ ہوا۔ جبکہ اس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن پاکستان اور بھارت کے ساتھ علیحدہ علیحدہ بنیادوں پر تعلقات رکھنا چاہتے تھے۔</p>
<p>جنوری 1995ء کے امریکا-بھارت سیکیورٹی معاہدے پر دستخط کے ساتھ ایک نئی سیکیورٹی جہت متعارف کروائی گئی جس نے سرد جنگ کے بعد کی حکمت عملیوں کا جائزہ لینے اور فوجی رابطوں کو بڑھانے کے لیے ایک دفاعی پالیسی فورم قائم کیا۔ اس قدام اور اس کے ساتھ پریسلر امینڈمنٹ، جس نے پاکستان پر اس کے جوہری عزائم کی وجہ سے پابندیاں عائد کی تھیں، نے پاکستان کی پریشانیوں کو مزید بڑھا دیا تھا۔</p>
<p>1984ء کی پریسلر امینڈمنٹ نے امریکی فوجی امدادی پروگراموں کی تمام اقسام کو ختم کر دیا تھا۔ یہ دراصل سمنگٹن (1976ء) اور گلین (1977ء) امینڈمنٹ کی ہی ایک نرم شکل تھی۔ پریسلر امینڈمنٹ کی خامی وہ صدارتی سرٹیفیکیشن تھی کہ پاکستان کے پاس جوہری ڈیوائس نہیں ہے اور نہ ہی اسے بنانے کے لیے پیش رفت کی جارہی ہے، اس سقم نے اس وقت تک پاکستان کی مدد کی جب تک کہ افغانستان میں پاکستان کی مدد کی ضرورت باقی نہ رہی۔</p>
<p>70 کروڑ ڈالرز کی امریکی امداد جو 94-1988ء تک وعدہ کی گئی تھی، اسے اکتوبر 1990ء کے بعد معطل کر دیا گیا۔ یہی وجہ تھی کہ 28 ایف 16 طیاروں اور دیگر فوجی ساز و سامان جس کی ادائیگی پہلے ہی کر دی گئی تھی، اس کی منتقلی کو روک دیا گیا تھا۔ اس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں تلخی پیدا ہوئی، خاص طور پر اس وقت جب سے پاکستان کو طیاروں کے پارکنگ چارجز کی ادائیگی کرنے پر مجبور کیا گیا۔ سینیٹر لیری پریسلر کے رویے نے ہندوستان کی جانب جھکاؤ کو ظاہر کیا جبکہ ان کی انتخابی مہم کے لیے ہندوستانی نژاد امریکی کمیونٹی کی جانب سے فراخدلی سے عطیات دیے گئے تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/27131015e005125.jpg'  alt='پاکستان کے پاس ایٹمی دھماکوں کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا&mdash; تصویر: اے پی پی' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>پاکستان کے پاس ایٹمی دھماکوں کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا— تصویر: اے پی پی</figcaption>
    </figure></p>
<p>اگرچہ بظاہر امریکا بھارت کے جوہری عزائم کے متعلق فکر مند نہیں تھا لیکن پاکستان کو فکر لاحق تھی۔ اپریل 1998ء میں پاکستان نے کم از کم 15 ممالک بشمول امریکا کو بھارت کے متوقع جوہری تجربات کے حوالے سے باضابطہ طور پر مطلع کیا تھا۔ اس کے باوجود جب 11 اور 13 مئی کو ایٹمی دھماکے ہوئے اس وقت امریکا کی توجہ پاکستان کو جوہری دھماکے کرنے سے روکنے پر تھی۔ امریکا نے ہندوستان کے حوالے سے پاکستان کے خدشات کو اہمیت نہیں دی یا پھر وہ بھارت کے ایٹمی دھماکے روک نہیں سکا، جس کی وجہ سے پاکستان کے پاس اسی مہینے کے آخر میں ایٹمی دھماکے کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا تھا۔</p>
<p>مئی 1998ء میں بھارت کے جوہری تجربات پر پاکستان کا ردعمل، 1999ء کے وسط میں کارگل جنگ اور اکتوبر 1999ء کی فوجی بغاوت، یکے بعد دیگرے ہونے والے ان تین واقعات نے امریکا کو مزید دور کردیا۔ یہاں تک کہ جب بل کلنٹن نے 2000ء میں جنوبی ایشیا کا دورہ کیا تب انہوں نے بھارت میں 5 دن جبکہ اسلام آباد میں بمشکل 5 گھنٹے ہی گزارے۔</p>
<p>اس کتاب میں موجود طلعت فاروق کے تفصیلی تجزیوں میں ہمیں جو کچھ ملتا ہے وہ بلی اور چوہے کا کھیل ہے جس میں چوہا یہ دیکھنے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ کتنا رسک لے سکتا ہے۔ ایک اور پہلو جو سامنے لایا گیا وہ یہ ہے کہ امریکا نے اپنی امداد کو جبر کے ایک آلے کے طور پر استعمال کیا۔ تاہم، 1990ء کی دہائی میں اس امداد کو روکنے کا ردِعمل یہ سامنے آیا کہ خطے میں امریکا کے اثرورسوخ میں کمی واقع ہوئی۔</p>
<p>کتاب کی اختتامی سطر اس کا بہترین خلاصہ پیش کرتی ہے کہ ’1990ء کی دہائی میں اپنے اسٹریٹجک انتخاب کا خمیازہ پاکستان اور امریکا اب بھی بھگت رہے ہیں‘۔</p>
<hr />
<p>کتاب: اَن ولنگ سلیوز، پاکستانز اسٹراٹیجک چوائسز ان دی 1990s</p>
<p>مصنفہ: طلعت فاروق</p>
<p>ناشر: پیراماؤنٹ کراچی</p>
<p>صفحات: 328</p>
<hr />
<p>یہ <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1761441/non-fiction-bitter-harvests">مضمون</a></strong> 25 جون 2023ء کو ڈان بُکس اینڈ آتھرز میں شائع ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1206661</guid>
      <pubDate>Tue, 11 Jul 2023 13:50:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (پرویز اصغر)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/07/110856320a81529.jpg?r=085645" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/07/110856320a81529.jpg?r=085645"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’فنِ خطاطی کو پاکستان کے تمام اداروں نے نظرانداز کیا ہے‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1206251/</link>
      <description>&lt;p&gt;رواں سال کے آغاز میں کراچی میں انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) نے ترک خطاط دینیز بیکتاش کو اپنے طلبہ کو خطاطی کا فن سکھانے کے لیے مدعو کیا۔ زوم کلاسز  میں انہوں نے کامیابی کے ساتھ بہت سے طلبہ کو خطاطی کی بنیادی چیزیں سکھائیں اور نسخ رسم الخط کی باریکیوں کو پہچاننے میں مدد فراہم کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نسخ، عربی، فارسی اور اردو خطاطی میں استعمال ہونے والے متعدد رسم الخط میں سے ایک ہے۔ اسلامی دنیا کے ہر خطے میں خطاطی کی ایک منفرد قسم ملتی ہے۔ نسخ رسم الخط بنیادی طور پر قرآن شریف کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور پاکستان میں سندھی زبان لکھنے  کے لیے بھی یہ بہت مشہور ہے۔ ایک اور رسم الخط جو پاکستان میں نسخ رسم الخط کے ساتھ مقبول ہے وہ نستعلیق رسم الخط ہے جو اخبارات، نوٹوں اور نصابی کتب میں اردو لکھنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آٹومن ترک اسکول آف کیلیگرافی سے تعلق رکھنے والی دینیز بیکتاش، عربی اور عثمانی ترک زبان میں خطاطی کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نسخ رسم الخط میں ان کی تحریریں چھوٹی اور مربوط ہونے کی وجہ سے مشہور ہیں۔ یہ خطاطی کے میدان میں غالب رجحان سے مختلف ہے جہاں بہت سے خطاط ثُلث جیسے رسم الخط کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ دینیز بیکتاش میں ایک منفرد صلاحیت ہے اور وہ یہ کہ وہ دینیز ایک ملی میٹر جتنے چھوٹی نب والے قلم کا استعمال کرتے ہوئے چھوٹے اور صاف خط میں لکھ سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کی والدہ کا تعلق نیدرلینڈز جبکہ والد کا تعلق ترکیہ سے ہے۔ ان کی شخصیت میں ان دونوں ثقافتوں کی جھلک ملتی ہے۔ انہوں نے استنبول اور امریکا سے تعلیم حاصل کی ہے۔  وہ روانی سے ڈچ، ترک اور انگریزی زبان بولتی ہیں۔ آج ترکیہ، امریکا اور پاکستان سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں ان کے طالب علم موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دینیز بیکتاش کہتی ہیں کہ ’استنبول کی بوآزچی یونیورسٹی میں انگریزی پڑھنے کے دوران تعلیم پر میری غیر معمولی توجہ دیکھ کر میری والدہ نے کہا کہ میں تعلیم کے علاوہ کوئی مشغلہ  بھی اختیار کروں تاکہ میری صلاحیتوں میں اضافہ ہو۔ میں نے اسلامک الیومینیشن (تذہیب) کی مشق کی، جو کہ پھولوں، پتوں اور جیومیٹری کے نمونوں کو استعمال کرتے ہوئے صفحے کی آرائش کا فن ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دوران دینیز نے دیکھا کہ انہیں قلم پر اچھا کنٹرول حاصل ہے اور وہ سجاوٹ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ وہ جلد ہی قلم پر مہارت سے متعلق ایک فن کو اختیار کرنے والی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا میں اپنی تعلیم کے دوران وہ خطاطی کے مزید نزدیک ہوتی چلی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/medium/2023/06/648b9bf154d79.jpg'  alt='  استنبول میں ڈینیز بیکتاش اپنے بیٹے کے ساتھ  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;استنبول میں ڈینیز بیکتاش اپنے بیٹے کے ساتھ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;استنبول سے اپنی انڈرگریجویٹ ڈگری مکمل کرنے کے بعد دینیز بیکتاش نے کمیونیکیشن میں ماسٹرز کرنے کے لیے واشنگٹن ڈی سی میں جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ اسلامک سوسائٹی آف نارتھ امریکا کی کانفرنس میں شرکت کے لیے شکاگو کے دورے کے دوران دینیز کی استاد محمد زکریا سے ملاقات ہوئی جو وہاں اپنی خطاطی کا مظاہرہ کررہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دینیز بیکتاش کو استاد محمد زکریا سے ملنے سے پہلے خطاطی سے خاص لگاؤ نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;استاد زکریا نے اسلامی خطاطی کو امریکا میں متعارف کروایا تھا۔ استنبول میں خطاطی کے معروف استاد حسن جیلیبی سے تربیت حاصل کرنے والے محمد زکریا 40 سال سے زائد عرصے سے خطاطی کی مشق کررہے ہیں۔ انہوں نے متعدد طلبہ کو تربیت دی ہے، متعدد ایوارڈز جیتے ہیں اور امریکی صدر کے دفتر کی طرف سے شروع کیے گئے منصوبے بھی مکمل کیے ہیں۔ ان منصوبوں میں مشہور ’عید مبارک‘ ڈاک ٹکٹ بھی شامل ہے جوکہ امریکا کی پوسٹل سروس کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ سنہری خطاطی میں عید مبارک کے اس ڈاک ٹکٹ کا امریکا بھر کے مسلمانوں نے خیر مقدم کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="خطاطی-کا-شوق" href="#خطاطی-کا-شوق" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;خطاطی کا شوق&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;شکاگو میں ہونے والی اس ملاقات میں محمد زکریا نے دینیز کو خطاطی سیکھنے کا مشورہ دیا اور یوں وہ ان کے پہلے استاد بن گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے دینیز کو رقاع رسم الخط میں تربیت دی۔ یہ عثمانی دربار میں روزمرہ کے سرکاری دستاویزات لکھنے کے لیے استعمال ہونے والا رسم الخط تھا۔ سجاوٹ کی کمی اور روانی اس کی خصوصیات ہیں۔ طالب علموں کو روایتی طور پر  پہلے رقاع کی تربیت دی جاتی ہے تاکہ انہیں روایتی قلم سے واقفیت حاصل ہوسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دینیز نے محمد زکریا سے دو سال تک تعلیم حاصل کی، جس کے بعد وہ استنبول واپس آئیں اور محمد زکریا کے استاد حسن جیلیبی کے پاس اپنی تربیت کا آغاز کیا۔ دینیز نے حسن جیلیبی کی رہنمائی میں اپنا سفر جاری رکھا۔ استاد جیلیبی خطاطی کی دنیا میں ایک معروف قابلِ احترام شخصیت ہیں۔ انہیں اسلامی فنکاروں کی برادری میں ایک بلند پایہ شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک وقت میں دینیز 4 گھنٹوں تک حسن جیلیبی کے اسٹوڈیو میں گزارتیں جہاں وہ قلم کاٹنے کی مشق کرتیں، استاد سے اپنے کام کی تصحیح کرواتیں اور دوسرے طلبہ کے کام کا مشاہدہ کرتیں۔ اس دوران دینیز کی ملاقات معروف خطاط داؤد بیکتاش سے ہوئی اور دونوں نے 2004ء میں شادی کرلی اس طرح وہ دینیز کے اساتذہ میں سے ایک بن گئے اور یوں دینیز نے مختلف رسم الخط پر عبور حاصل کرنے کا کام جاری رکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خطاطی شروع کرنے کے 6 سال بعد، حسن جیلیبی نے دینیز بیکتاش کو بتایا کہ اب وہ اجازہ یا ڈپلوما حاصل کرسکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ثلث رسم الخط میں سرخی کے ساتھ نسخ میں لکھی گئی ان کی تحریر کی خوبی کی وجہ سے کوئی شک باقی نہیں رہا تھا کہ انہوں نے خطاطی میں اعلیٰ مہارت حاصل کرلی تھی اور ان کے استاد اس بات کا اعتراف کرنے کے لیے تیار تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوں دینیز کو آزادانہ طور پر خطاطی کی مشق کرنے، اپنا کام فروخت کرنے اور سکھانے کی اجازت مل گئی۔ خطاطی کے طالب علموں کے لیے اجازہ حاصل کرنا ایک اہم سنگ میل ہے اور ہر کوئی اسے حاصل بھی نہیں کرتا۔ لیکن یہ خطاطی کے سفر کا اختتام نہیں ہے۔ اس فن کو سنوارنے اور بہتر کرنے کی مشق زندگی بھر جاری رہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج، دینیز بیکتاش کو خطاطی کے میدان میں خواتین کی جانب سے خاص طورپر سراہا جاتا ہے کیونکہ یہ فن پہلے مردوں کے زیرِ تسلط تھا۔ وہ خطاطی کے مختلف بین الاقوامی میلوں اور مقابلوں میں بہت سے ایوارڈز حاصل کرچکی ہیں۔ ان مقابلوں میں 2007ء میں استنبول میں منعقدہ 7واں بین الاقوامی خطاطی مقابلہ اور 2008ء میں شارجہ میں منعقد ہونے والا خطاطی کا مقابلہ شامل ہیں۔ 2015ء میں قرآن کے کئی صفحات کی خطاطی پر ترکیہ کی مذہبی امور کی وزارت کی جانب سے ان کے فن کا اعتراف کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="پاکستان-میں-خطاطی-کا-رجحان" href="#پاکستان-میں-خطاطی-کا-رجحان" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;پاکستان میں خطاطی کا رجحان&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/201156573f41597.jpg'  alt='خطاطی کو پاکستان کے ان تمام اداروں نے نظر انداز کیا ہے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;خطاطی کو پاکستان کے ان تمام اداروں نے نظر انداز کیا ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دینیز بیکتاش کے آئی بی اے کے طلبہ سے ہونے والے رابطے نے کراچی کے نوجوانوں میں خطاطی کے رجحان کو بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس آن لائن کورس میں جتنے طلبہ کی گنجائش رکھی گئی اتنی تعداد میں طلبہ موجود تھے بلکہ کچھ کو ویٹنگ لسٹ میں بھی رکھا گیا تھا۔ فنی اور ذوق پر مغربی اثرات کی وجہ سے پاکستان میں خطاطی کے رجحان میں کمی آئی ہے۔ اجازہ کا نظام ختم ہوچکا ہے اور اساتذہ سے تعلق کا احساس باقی نہیں رہا ہے۔ یہاں صرف چند مقامات ایسے ہیں جہاں خطاطی سیکھنے کے خواہشمند داخلہ لے سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک فن کے طور پر خطاطی کو پاکستان کے ان تمام اداروں نے نظر انداز کیا ہے جو علم کو محفوظ کرتے ہیں، خواہ وہ میوزیم ہوں یا پھر اسکول۔ یہ اس وقت واضح ہوا جب آئی بی اے کے طلبہ نے دینیز بیکتاش کے سکھائے گئے کورس کو شروع میں ایک ایسا معمولی فن سمجھا جسے یوٹیوب ویڈیوز دیکھ کر سیکھا جاسکتا ہے تاہم دینیز بیکتاش کی تربیتی ورکشاپس کے بعد وہ خطاطی کے فن کی باریکیوں کے معترف ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک طالبِ علم نے بتایا کہ ’میں خطاطی کے بارے میں زیادہ نہیں سوچتا تھا، اس لیے میں نے تربیت نہ ہونے کے باوجود اعتماد کے ساتھ اپنے مقامی مدرسے میں خطاطی کے استاد کے طور پر کام کرنا شروع کردیا۔ دینیز بیکتاش کے ساتھ یہ کورس کرنے کے بعد، میں اس فن کی باریکیوں کا معترف ہوگیا ہوں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دینیز بیکتاش کے ساتھ بات چیت کے بعد طلبہ نے مقامی خطاطی کی خوبصورتی کا بھی اعتراف کیا۔ انہوں نے ٹھٹہ کی شاہ جہاں کی پیچیدہ خطاطی کو پڑھنا سیکھا۔ وہ ایک ایسا رسم الخط ہے جوکہ کسی غیر تربیت یافتہ فرد کے لیے سمجھنا انتہائی مشکل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی بی اے اور اس جیسی بڑی جامعات کی جانب سے طلبہ کو خطاطی کے کورس کروانے کے ساتھ ساتھ امید کی جارہی ہے کہ پاکستان میں خطاطی کے فن کو فروغ دینے میں گزشتہ دہائی کے دوران جو پیش رفت ہوئی ہے اسے برقرار رکھا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1760022/society-the-flow-of-the-script"&gt;مضمون&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; 18 جون 2023ء کو ڈان کے ای او ایس میگزین میں شائع ہوا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>رواں سال کے آغاز میں کراچی میں انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) نے ترک خطاط دینیز بیکتاش کو اپنے طلبہ کو خطاطی کا فن سکھانے کے لیے مدعو کیا۔ زوم کلاسز  میں انہوں نے کامیابی کے ساتھ بہت سے طلبہ کو خطاطی کی بنیادی چیزیں سکھائیں اور نسخ رسم الخط کی باریکیوں کو پہچاننے میں مدد فراہم کی۔</p>
<p>نسخ، عربی، فارسی اور اردو خطاطی میں استعمال ہونے والے متعدد رسم الخط میں سے ایک ہے۔ اسلامی دنیا کے ہر خطے میں خطاطی کی ایک منفرد قسم ملتی ہے۔ نسخ رسم الخط بنیادی طور پر قرآن شریف کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور پاکستان میں سندھی زبان لکھنے  کے لیے بھی یہ بہت مشہور ہے۔ ایک اور رسم الخط جو پاکستان میں نسخ رسم الخط کے ساتھ مقبول ہے وہ نستعلیق رسم الخط ہے جو اخبارات، نوٹوں اور نصابی کتب میں اردو لکھنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔</p>
<p>آٹومن ترک اسکول آف کیلیگرافی سے تعلق رکھنے والی دینیز بیکتاش، عربی اور عثمانی ترک زبان میں خطاطی کرتی ہیں۔</p>
<p>نسخ رسم الخط میں ان کی تحریریں چھوٹی اور مربوط ہونے کی وجہ سے مشہور ہیں۔ یہ خطاطی کے میدان میں غالب رجحان سے مختلف ہے جہاں بہت سے خطاط ثُلث جیسے رسم الخط کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ دینیز بیکتاش میں ایک منفرد صلاحیت ہے اور وہ یہ کہ وہ دینیز ایک ملی میٹر جتنے چھوٹی نب والے قلم کا استعمال کرتے ہوئے چھوٹے اور صاف خط میں لکھ سکتی ہیں۔</p>
<p>ان کی والدہ کا تعلق نیدرلینڈز جبکہ والد کا تعلق ترکیہ سے ہے۔ ان کی شخصیت میں ان دونوں ثقافتوں کی جھلک ملتی ہے۔ انہوں نے استنبول اور امریکا سے تعلیم حاصل کی ہے۔  وہ روانی سے ڈچ، ترک اور انگریزی زبان بولتی ہیں۔ آج ترکیہ، امریکا اور پاکستان سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں ان کے طالب علم موجود ہیں۔</p>
<p>دینیز بیکتاش کہتی ہیں کہ ’استنبول کی بوآزچی یونیورسٹی میں انگریزی پڑھنے کے دوران تعلیم پر میری غیر معمولی توجہ دیکھ کر میری والدہ نے کہا کہ میں تعلیم کے علاوہ کوئی مشغلہ  بھی اختیار کروں تاکہ میری صلاحیتوں میں اضافہ ہو۔ میں نے اسلامک الیومینیشن (تذہیب) کی مشق کی، جو کہ پھولوں، پتوں اور جیومیٹری کے نمونوں کو استعمال کرتے ہوئے صفحے کی آرائش کا فن ہے‘۔</p>
<p>اس دوران دینیز نے دیکھا کہ انہیں قلم پر اچھا کنٹرول حاصل ہے اور وہ سجاوٹ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ وہ جلد ہی قلم پر مہارت سے متعلق ایک فن کو اختیار کرنے والی تھیں۔</p>
<p>امریکا میں اپنی تعلیم کے دوران وہ خطاطی کے مزید نزدیک ہوتی چلی گئیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/medium/2023/06/648b9bf154d79.jpg'  alt='  استنبول میں ڈینیز بیکتاش اپنے بیٹے کے ساتھ  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>استنبول میں ڈینیز بیکتاش اپنے بیٹے کے ساتھ</figcaption>
    </figure></p>
<p>استنبول سے اپنی انڈرگریجویٹ ڈگری مکمل کرنے کے بعد دینیز بیکتاش نے کمیونیکیشن میں ماسٹرز کرنے کے لیے واشنگٹن ڈی سی میں جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ اسلامک سوسائٹی آف نارتھ امریکا کی کانفرنس میں شرکت کے لیے شکاگو کے دورے کے دوران دینیز کی استاد محمد زکریا سے ملاقات ہوئی جو وہاں اپنی خطاطی کا مظاہرہ کررہے تھے۔</p>
<p>دینیز بیکتاش کو استاد محمد زکریا سے ملنے سے پہلے خطاطی سے خاص لگاؤ نہیں تھا۔</p>
<p>استاد زکریا نے اسلامی خطاطی کو امریکا میں متعارف کروایا تھا۔ استنبول میں خطاطی کے معروف استاد حسن جیلیبی سے تربیت حاصل کرنے والے محمد زکریا 40 سال سے زائد عرصے سے خطاطی کی مشق کررہے ہیں۔ انہوں نے متعدد طلبہ کو تربیت دی ہے، متعدد ایوارڈز جیتے ہیں اور امریکی صدر کے دفتر کی طرف سے شروع کیے گئے منصوبے بھی مکمل کیے ہیں۔ ان منصوبوں میں مشہور ’عید مبارک‘ ڈاک ٹکٹ بھی شامل ہے جوکہ امریکا کی پوسٹل سروس کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ سنہری خطاطی میں عید مبارک کے اس ڈاک ٹکٹ کا امریکا بھر کے مسلمانوں نے خیر مقدم کیا تھا۔</p>
<h1><a id="خطاطی-کا-شوق" href="#خطاطی-کا-شوق" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>خطاطی کا شوق</h1>
<p>شکاگو میں ہونے والی اس ملاقات میں محمد زکریا نے دینیز کو خطاطی سیکھنے کا مشورہ دیا اور یوں وہ ان کے پہلے استاد بن گئے۔</p>
<p>انہوں نے دینیز کو رقاع رسم الخط میں تربیت دی۔ یہ عثمانی دربار میں روزمرہ کے سرکاری دستاویزات لکھنے کے لیے استعمال ہونے والا رسم الخط تھا۔ سجاوٹ کی کمی اور روانی اس کی خصوصیات ہیں۔ طالب علموں کو روایتی طور پر  پہلے رقاع کی تربیت دی جاتی ہے تاکہ انہیں روایتی قلم سے واقفیت حاصل ہوسکے۔</p>
<p>دینیز نے محمد زکریا سے دو سال تک تعلیم حاصل کی، جس کے بعد وہ استنبول واپس آئیں اور محمد زکریا کے استاد حسن جیلیبی کے پاس اپنی تربیت کا آغاز کیا۔ دینیز نے حسن جیلیبی کی رہنمائی میں اپنا سفر جاری رکھا۔ استاد جیلیبی خطاطی کی دنیا میں ایک معروف قابلِ احترام شخصیت ہیں۔ انہیں اسلامی فنکاروں کی برادری میں ایک بلند پایہ شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔</p>
<p>ایک وقت میں دینیز 4 گھنٹوں تک حسن جیلیبی کے اسٹوڈیو میں گزارتیں جہاں وہ قلم کاٹنے کی مشق کرتیں، استاد سے اپنے کام کی تصحیح کرواتیں اور دوسرے طلبہ کے کام کا مشاہدہ کرتیں۔ اس دوران دینیز کی ملاقات معروف خطاط داؤد بیکتاش سے ہوئی اور دونوں نے 2004ء میں شادی کرلی اس طرح وہ دینیز کے اساتذہ میں سے ایک بن گئے اور یوں دینیز نے مختلف رسم الخط پر عبور حاصل کرنے کا کام جاری رکھا۔</p>
<p>خطاطی شروع کرنے کے 6 سال بعد، حسن جیلیبی نے دینیز بیکتاش کو بتایا کہ اب وہ اجازہ یا ڈپلوما حاصل کرسکتی ہیں۔</p>
<p>ثلث رسم الخط میں سرخی کے ساتھ نسخ میں لکھی گئی ان کی تحریر کی خوبی کی وجہ سے کوئی شک باقی نہیں رہا تھا کہ انہوں نے خطاطی میں اعلیٰ مہارت حاصل کرلی تھی اور ان کے استاد اس بات کا اعتراف کرنے کے لیے تیار تھے۔</p>
<p>یوں دینیز کو آزادانہ طور پر خطاطی کی مشق کرنے، اپنا کام فروخت کرنے اور سکھانے کی اجازت مل گئی۔ خطاطی کے طالب علموں کے لیے اجازہ حاصل کرنا ایک اہم سنگ میل ہے اور ہر کوئی اسے حاصل بھی نہیں کرتا۔ لیکن یہ خطاطی کے سفر کا اختتام نہیں ہے۔ اس فن کو سنوارنے اور بہتر کرنے کی مشق زندگی بھر جاری رہتی ہے۔</p>
<p>آج، دینیز بیکتاش کو خطاطی کے میدان میں خواتین کی جانب سے خاص طورپر سراہا جاتا ہے کیونکہ یہ فن پہلے مردوں کے زیرِ تسلط تھا۔ وہ خطاطی کے مختلف بین الاقوامی میلوں اور مقابلوں میں بہت سے ایوارڈز حاصل کرچکی ہیں۔ ان مقابلوں میں 2007ء میں استنبول میں منعقدہ 7واں بین الاقوامی خطاطی مقابلہ اور 2008ء میں شارجہ میں منعقد ہونے والا خطاطی کا مقابلہ شامل ہیں۔ 2015ء میں قرآن کے کئی صفحات کی خطاطی پر ترکیہ کی مذہبی امور کی وزارت کی جانب سے ان کے فن کا اعتراف کیا گیا تھا۔</p>
<h1><a id="پاکستان-میں-خطاطی-کا-رجحان" href="#پاکستان-میں-خطاطی-کا-رجحان" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>پاکستان میں خطاطی کا رجحان</h1>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/201156573f41597.jpg'  alt='خطاطی کو پاکستان کے ان تمام اداروں نے نظر انداز کیا ہے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>خطاطی کو پاکستان کے ان تمام اداروں نے نظر انداز کیا ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>دینیز بیکتاش کے آئی بی اے کے طلبہ سے ہونے والے رابطے نے کراچی کے نوجوانوں میں خطاطی کے رجحان کو بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس آن لائن کورس میں جتنے طلبہ کی گنجائش رکھی گئی اتنی تعداد میں طلبہ موجود تھے بلکہ کچھ کو ویٹنگ لسٹ میں بھی رکھا گیا تھا۔ فنی اور ذوق پر مغربی اثرات کی وجہ سے پاکستان میں خطاطی کے رجحان میں کمی آئی ہے۔ اجازہ کا نظام ختم ہوچکا ہے اور اساتذہ سے تعلق کا احساس باقی نہیں رہا ہے۔ یہاں صرف چند مقامات ایسے ہیں جہاں خطاطی سیکھنے کے خواہشمند داخلہ لے سکتے ہیں۔</p>
<p>ایک فن کے طور پر خطاطی کو پاکستان کے ان تمام اداروں نے نظر انداز کیا ہے جو علم کو محفوظ کرتے ہیں، خواہ وہ میوزیم ہوں یا پھر اسکول۔ یہ اس وقت واضح ہوا جب آئی بی اے کے طلبہ نے دینیز بیکتاش کے سکھائے گئے کورس کو شروع میں ایک ایسا معمولی فن سمجھا جسے یوٹیوب ویڈیوز دیکھ کر سیکھا جاسکتا ہے تاہم دینیز بیکتاش کی تربیتی ورکشاپس کے بعد وہ خطاطی کے فن کی باریکیوں کے معترف ہوگئے۔</p>
<p>ایک طالبِ علم نے بتایا کہ ’میں خطاطی کے بارے میں زیادہ نہیں سوچتا تھا، اس لیے میں نے تربیت نہ ہونے کے باوجود اعتماد کے ساتھ اپنے مقامی مدرسے میں خطاطی کے استاد کے طور پر کام کرنا شروع کردیا۔ دینیز بیکتاش کے ساتھ یہ کورس کرنے کے بعد، میں اس فن کی باریکیوں کا معترف ہوگیا ہوں‘۔</p>
<p>دینیز بیکتاش کے ساتھ بات چیت کے بعد طلبہ نے مقامی خطاطی کی خوبصورتی کا بھی اعتراف کیا۔ انہوں نے ٹھٹہ کی شاہ جہاں کی پیچیدہ خطاطی کو پڑھنا سیکھا۔ وہ ایک ایسا رسم الخط ہے جوکہ کسی غیر تربیت یافتہ فرد کے لیے سمجھنا انتہائی مشکل ہے۔</p>
<p>آئی بی اے اور اس جیسی بڑی جامعات کی جانب سے طلبہ کو خطاطی کے کورس کروانے کے ساتھ ساتھ امید کی جارہی ہے کہ پاکستان میں خطاطی کے فن کو فروغ دینے میں گزشتہ دہائی کے دوران جو پیش رفت ہوئی ہے اسے برقرار رکھا جائے گا۔</p>
<hr />
<p>یہ <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1760022/society-the-flow-of-the-script">مضمون</a></strong> 18 جون 2023ء کو ڈان کے ای او ایس میگزین میں شائع ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1206251</guid>
      <pubDate>Mon, 26 Jun 2023 17:04:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سحر علی شاہ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/06/2612300799baed8.jpg?r=123025" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/06/2612300799baed8.jpg?r=123025"/>
        <media:title>دینیز بیکتاش کا خطاطی کا ’اجازہ‘
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گوانتاناموبے کا ’قیدی فنکار‘ اور اس کے فن پارے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1203891/</link>
      <description>&lt;p&gt;نتاشا ملک کی جانب سے پیش کی جانے والی نمائش ’دی ان فورگوٹن مون: لیبرٹنگ آرٹ فرام گوانتانامو بے‘ ایک فنکارانہ کوشش ہے جو کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک ٹیکسی ڈرائیور احمد ربانی کی 21 سالہ الم ناک قید پر مرکوز ہے۔ احمد ربانی کو امریکا پر  11 ستمبر کے حملوں کی ذمہ دار تنظیموں میں سے ایک سے وابستہ دہشت گرد ہونے کے جھوٹے الزام پر گوانتاناموبے جیل میں قید رکھا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈس ویلی اسکول آف آرٹ اینڈ آرکیٹیکچر گیلری میں منعقد ہونے والے اس شو میں کچھ ایسے فن پاروں کی نمائش کی گئی جو احمد ربانی نے اس وقت تخلیق کیے تھے جب وہ بغیر کسی الزام کے زیرِ حراست تھے اور ان پر تشدد کیا جارہا تھا۔ اس شو میں مزید 10 فنکاروں کے فن پارے بھی شامل کیے گئے جنہوں نے احمد کی بنائی ہوئی ان پینٹنگز جو اس وقت سینسر کی گئی تھیں انہیں دوبارہ تخلیق کیا۔ اس کام کے لیے انہوں نے احمد کے وکیل کی طرف سے لکھے گئے ان پینٹنگز کے تفصیلی نوٹس سے مدد لی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ فن پارے اب بھی امریکی حکومت کی تحویل میں ہیں کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ یہ پینٹنگز قومی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔ جب میں نے احمد ربانی سے پوچھا کہ ایسا کیوں ہے تو انہوں نے کہا ’کیونکہ وہ یہ نہیں چاہتے کہ دنیا کو معلوم ہو کہ امریکا میں بنیادی انسانیت کا بھی فقدان ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آرٹ شو اپنی کہانی سنانے اور ناقابلِ فراموش نقوش چھوڑ جانے کا ایک عمل ہے۔ ظاہری طور پر تو یہ احمد ربانی کی ذاتی کہانی پر مشتمل نمائش ہے لیکن مجموعی طور پر اس میں امریکا اور پاکستان دونوں حکومتوں کے وحشیانہ کاموں، گوانتاناموبے کی بندش اور انصاف کے حوالے سے نظریات، سینسرشپ، بے گناہی اور ’ہمیشہ کے قیدی‘ (امریکا کی ٹارچر پالیسی جہاں قیدیوں کو بغیر کسی الزام کے غیر معینہ مدت تک قید کیا جاتا ہے) جیسے عوامل پر زور دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;10 ستمبر 2002ء کو احمد ربانی کی پوری زندگی ہی ہمیشہ کے لیے تبدیل ہوگئی۔ انہیں ان کی اپنی ہی حکومت نے ان کے بھائی کے ہمراہ اغوا کیا اور جنرل پرویز مشرف کے دورِ صدارت میں کل 5 ہزار ڈالرز میں امریکا کو فروخت کردیا گیا۔ بعد میں امریکی اور پاکستانی حکومتوں نے دعویٰ کیا کہ غلطی سے انہیں مطلوب دہشت گرد حسن گل سمجھ لیا گیا تھا، لیکن احمد کا دعویٰ ہے کہ دونوں حکومتیں شروع سے ہی واضح طور پر جانتی تھیں کہ وہ حسن گل نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس آرٹ نمائش کا اہتمام اس عزم کے ساتھ کیا گیا کہ اس میں حصہ لینے والے دیگر فنکاروں کی پینٹنگز سے حاصل ہونے والی آمدنی کا 100 فیصد حصہ احمد ربانی کو دیا جائے گا، جو ابھی تک انہیں ملا تو نہیں لیکن امید ہے کہ جلد ہی یہ رقم انہیں مل جائے گی۔ احمد ربانی نے اپنے فن پاروں کو کراچی میں منعقد ہونے والے شو میں فروخت کرنے سے گریز کیا ہے۔ کراچی میں احمد آرٹ شو کے آغاز سے صرف دو ماہ قبل واپس آئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-2/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/2214383760b294b.jpg'  alt='بلاعنوان (2018ء)' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;بلاعنوان (2018ء)&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آرٹ شو کی کیوریٹر کے مطابق قرون وسطیٰ کی طرز کے تشدد کی تکنیکوں سے لے کر ایک بےگناہ شخص کی الم ناک آپ بیتی منظر عام پر آنے تک، احمد ربانی کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا پیمانہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ نتاشا جتنا زیادہ اسے پڑھتی تھیں، وہ اتنی ہی بے چین ہوتی جاتی تھیں۔ دوسری جانب احمد کی صورت حال بالکل مختلف ہے۔ انہوں نے ہمارے انٹرویو سے چند منٹ قبل مجھے اس حقیقت سے آگاہ کیا کہ وہ پچھلے 48 گھنٹوں میں صرف دو گھنٹے سوئے ہیں اور ایسا انہوں نے احتیاط کے طور پر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سن کر میں سوچنے لگی کہ کیا مجھے ان سے اس وقت انٹرویو کرنا چاہیے یا نہیں، اس پر انہوں نے فوراً مجھے یقین دلاتے ہوئے جواب دیا کہ وہ ٹھیک ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ صرف کھڑے ہوکر سو سکتے ہیں اور یہ کہ وہ بستر پر بالکل نہیں سو سکتے کیونکہ جیسے ہی ان کا سر تکیے پر ٹکتا ہے، وہ بیدار ہوجاتے ہیں۔ وہ اکثر نیند میں چہل قدمی بھی کرتے ہیں کیونکہ یہ سرگرمی انہیں سکون اور آرام فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احمد ربانی نے باضابطہ طور پر 2011ء میں پینٹنگ کرنا شروع کی تھی لیکن انہیں اپنا پہلا کینوس 2016ء میں ملا۔ تو اس سے قبل وہ پینٹنگ کیسے کرتے تھے؟ اور کس پر کرتے تھے؟ بنیادی طور پر کسی بھی چیز جیسے ڈینم کے ٹکڑے، ساتھی قیدیوں کے یونیفارم کے کپڑے اور یقیناً اردگرد کی دیواروں پر وہ فن پارے تخلیق کرتے تھے۔ جیل میں پینٹ کے استعمال کی اجازت سے پہلے وہ کافی، چائے پاؤڈر اور گریوی کو آرٹ کے مواد کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ وہ کاغذ، ٹشو رولز اور اپنے جیل کی کوٹھری کی دیواروں پر پینٹ کرتے تھے۔ کبھی کبھار بدلہ لینے اور جیل کے محافظوں کو ناراض کرنے کے لیے وہ انسانی فضلے کا استعمال بھی کرتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/22143944ee70bc1.jpg'  alt='احمد ربانی' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;احمد ربانی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احمد ربانی تمام تر صلاحیتوں کا سہرا اپنے بلاک سے تعلق رکھنے والے ایک یمنی قیدی صابری القریشی کو دیتے ہیں جسے وہ اپنا ’استاد‘ کہتے ہیں۔ یہ دلچسپ ہے کہ یمنی آرٹ اور احمد ربانی کے انداز میں کچھ مماثلتیں پائی جاتی ہیں جیسے پس منظر میں شہر کے مناظر کی تکرار اور کسی موضوع کو پینٹ کرنے کا طریقہ۔ اگرچہ احمد ربانی نے ابتدائی طور پر پیسٹلز کو اپنے میڈیم کے طور پر استعمال کیا کیونکہ صابری بھی یہی استعمال کیا کرتے تھے، لیکن کافی تجربہ کے بعد انہوں نے بعد میں ایکریلیکس کو تسلی بخش پایا اور اب یہ ان کی بنیادی ترجیح ہے۔ اس کے بعد انہوں نے صابری کو ایکریلک پینٹنگ سکھائی جو فنکاروں کے طور پر ان کی دوستی کا ایک انداز ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلاعنوان (2018ء) نامی فن پارے میں احمد ربانی نے امریکی آزادی کے مجسمے کو علامتی طور پر درخت سے لٹکے دکھایا ہے، اس سے حقیقت اور تصور کے درمیان فرق واضح ہوتا ہے۔ احمد ربانی آزادی کی عالم گیر علامت کے طور پر امریکا کے شان دار تصور پر سوال اٹھاتے ہیں۔  انہوں نے امریکا کے شان دار تصور کو حقیقت سے دور قرار دیا اور ان کا یہ فن پارہ اس پر طنز ہے۔ انہوں نے امریکا کو آزادی کا فریب قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایران، افغانستان، پاکستان اور شمالی کوریا جیسے ممالک کو لیکچر دینے میں آگے آگے ہوتا ہے جبکہ اسے اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کہ ان کی پینٹنگز میں آزادی کا موضوع بار بار دہرایا جاتا ہے۔ بلاعنوان (2018ء) میں عبادت گزاروں جو ظاہری طور پر مسلمان ہیں، کو ایک ایسے درخت کے سامنے سجدہ ریز دکھایا ہے جس پر امریکی آزادی کا مجسمہ پھل کی طرح لٹکا ہوا ہے، 2017ء میں ایک اور بلاعنوان پینٹنگ میں ہم نے دیکھا کہ لوگ آگ کی پرستش کررہے ہیں۔ یہ دیکھ کر تجسس ہوتا ہے کہ کیا یہ آگ وہی ہے جو آزادی کے مجسمے کے ہاتھ میں موجود مشعل سے نکلی ہے یا پھر احمد ربانی مذہب کی وحدانیت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں اور اس وجہ سے اسے انسانیت کی وحدانیت کے برابر قرار دے رہے ہیں، وہ اس جذبے کو بہت مقدس گردانتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احمد ربانی کا کہنا ہے کہ ان کی تمام پینٹنگز کو جو چیز ایک ساتھ جوڑتی ہے وہ گوانتانامو جیل کی تلخ یادیں ہیں۔ قید اور سینسرشپ بھی ان کے فن پاروں کے اہم موضوعات ہیں۔ ایک تصویر میں حراستی مرکز کی تصویر کشی کی ہے جہاں ایک ڈھانچا ریمورٹ ہاتھ میں لیے پہلے سے کنٹرول شدہ ٹی وی چینلز کو تبدیل کرنے کی کوشش کررہا ہے، اسی طرح ایک تصویر میں  احمد ربانی عقوبت خانے میں خون سے لت پت ٹارچر کرسی پر بیٹھے ہیں۔ یہ فن پارے درگزر کے انداز میں تشدد اور سینسر شپ کے ان مختلف طریقوں کی عکاسی کرتے ہیں جن سے اس قیدی فنکار کو گزرنا پڑا۔ میں نے یہاں درگزر کے انداز میں اس لیے کہا ہے کیونکہ بدسلوکی کے باوجود، احمد کی نرم مسکراہٹ اور مزاح ایک امید کی عکاسی کرتا ہے جو کہ ان کے کام سے بھی عیاں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور آخر میں احمد ربانی درخواست کرتے ہیں کہ اس پیغام کو قارئین اور حکام تک پہنچایا جائے کہ ’میں اپنے آپ کو اس وقت تک آزاد نہیں سمجھوں گا جب تک میرے تمام بھائیوں کو گوانتاناموبے سے آزاد نہیں کیا جاتا۔ صرف ایک فرد کی قید کے ساتھ بھی میری زنجیریں واپس آجائیں گی‘۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;’انڈس ویلی اسکول آف آرٹ اینڈ آرکیٹیکچر گیلری میں 2 سے 15 مئی 2023 تک ’دی ان فورگوٹن مون: لبرٹنگ آرٹ فرام گوانتاناموبے‘ کی نمائش کی گئی تھی‘۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1754252/exhibition-resistance-in-confinement"&gt;مضمون&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; 21 مئی 2023ء کو ڈان کے ای او اسی میگزین میں شائع ہوا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>نتاشا ملک کی جانب سے پیش کی جانے والی نمائش ’دی ان فورگوٹن مون: لیبرٹنگ آرٹ فرام گوانتانامو بے‘ ایک فنکارانہ کوشش ہے جو کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک ٹیکسی ڈرائیور احمد ربانی کی 21 سالہ الم ناک قید پر مرکوز ہے۔ احمد ربانی کو امریکا پر  11 ستمبر کے حملوں کی ذمہ دار تنظیموں میں سے ایک سے وابستہ دہشت گرد ہونے کے جھوٹے الزام پر گوانتاناموبے جیل میں قید رکھا گیا تھا۔</p>
<p>انڈس ویلی اسکول آف آرٹ اینڈ آرکیٹیکچر گیلری میں منعقد ہونے والے اس شو میں کچھ ایسے فن پاروں کی نمائش کی گئی جو احمد ربانی نے اس وقت تخلیق کیے تھے جب وہ بغیر کسی الزام کے زیرِ حراست تھے اور ان پر تشدد کیا جارہا تھا۔ اس شو میں مزید 10 فنکاروں کے فن پارے بھی شامل کیے گئے جنہوں نے احمد کی بنائی ہوئی ان پینٹنگز جو اس وقت سینسر کی گئی تھیں انہیں دوبارہ تخلیق کیا۔ اس کام کے لیے انہوں نے احمد کے وکیل کی طرف سے لکھے گئے ان پینٹنگز کے تفصیلی نوٹس سے مدد لی۔</p>
<p>وہ فن پارے اب بھی امریکی حکومت کی تحویل میں ہیں کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ یہ پینٹنگز قومی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔ جب میں نے احمد ربانی سے پوچھا کہ ایسا کیوں ہے تو انہوں نے کہا ’کیونکہ وہ یہ نہیں چاہتے کہ دنیا کو معلوم ہو کہ امریکا میں بنیادی انسانیت کا بھی فقدان ہے‘۔</p>
<p>آرٹ شو اپنی کہانی سنانے اور ناقابلِ فراموش نقوش چھوڑ جانے کا ایک عمل ہے۔ ظاہری طور پر تو یہ احمد ربانی کی ذاتی کہانی پر مشتمل نمائش ہے لیکن مجموعی طور پر اس میں امریکا اور پاکستان دونوں حکومتوں کے وحشیانہ کاموں، گوانتاناموبے کی بندش اور انصاف کے حوالے سے نظریات، سینسرشپ، بے گناہی اور ’ہمیشہ کے قیدی‘ (امریکا کی ٹارچر پالیسی جہاں قیدیوں کو بغیر کسی الزام کے غیر معینہ مدت تک قید کیا جاتا ہے) جیسے عوامل پر زور دیا گیا ہے۔</p>
<p>10 ستمبر 2002ء کو احمد ربانی کی پوری زندگی ہی ہمیشہ کے لیے تبدیل ہوگئی۔ انہیں ان کی اپنی ہی حکومت نے ان کے بھائی کے ہمراہ اغوا کیا اور جنرل پرویز مشرف کے دورِ صدارت میں کل 5 ہزار ڈالرز میں امریکا کو فروخت کردیا گیا۔ بعد میں امریکی اور پاکستانی حکومتوں نے دعویٰ کیا کہ غلطی سے انہیں مطلوب دہشت گرد حسن گل سمجھ لیا گیا تھا، لیکن احمد کا دعویٰ ہے کہ دونوں حکومتیں شروع سے ہی واضح طور پر جانتی تھیں کہ وہ حسن گل نہیں ہیں۔</p>
<p>اس آرٹ نمائش کا اہتمام اس عزم کے ساتھ کیا گیا کہ اس میں حصہ لینے والے دیگر فنکاروں کی پینٹنگز سے حاصل ہونے والی آمدنی کا 100 فیصد حصہ احمد ربانی کو دیا جائے گا، جو ابھی تک انہیں ملا تو نہیں لیکن امید ہے کہ جلد ہی یہ رقم انہیں مل جائے گی۔ احمد ربانی نے اپنے فن پاروں کو کراچی میں منعقد ہونے والے شو میں فروخت کرنے سے گریز کیا ہے۔ کراچی میں احمد آرٹ شو کے آغاز سے صرف دو ماہ قبل واپس آئے تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-2/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/2214383760b294b.jpg'  alt='بلاعنوان (2018ء)' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>بلاعنوان (2018ء)</figcaption>
    </figure></p>
<p>آرٹ شو کی کیوریٹر کے مطابق قرون وسطیٰ کی طرز کے تشدد کی تکنیکوں سے لے کر ایک بےگناہ شخص کی الم ناک آپ بیتی منظر عام پر آنے تک، احمد ربانی کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا پیمانہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ نتاشا جتنا زیادہ اسے پڑھتی تھیں، وہ اتنی ہی بے چین ہوتی جاتی تھیں۔ دوسری جانب احمد کی صورت حال بالکل مختلف ہے۔ انہوں نے ہمارے انٹرویو سے چند منٹ قبل مجھے اس حقیقت سے آگاہ کیا کہ وہ پچھلے 48 گھنٹوں میں صرف دو گھنٹے سوئے ہیں اور ایسا انہوں نے احتیاط کے طور پر کیا۔</p>
<p>یہ سن کر میں سوچنے لگی کہ کیا مجھے ان سے اس وقت انٹرویو کرنا چاہیے یا نہیں، اس پر انہوں نے فوراً مجھے یقین دلاتے ہوئے جواب دیا کہ وہ ٹھیک ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ صرف کھڑے ہوکر سو سکتے ہیں اور یہ کہ وہ بستر پر بالکل نہیں سو سکتے کیونکہ جیسے ہی ان کا سر تکیے پر ٹکتا ہے، وہ بیدار ہوجاتے ہیں۔ وہ اکثر نیند میں چہل قدمی بھی کرتے ہیں کیونکہ یہ سرگرمی انہیں سکون اور آرام فراہم کرتی ہے۔</p>
<p>احمد ربانی نے باضابطہ طور پر 2011ء میں پینٹنگ کرنا شروع کی تھی لیکن انہیں اپنا پہلا کینوس 2016ء میں ملا۔ تو اس سے قبل وہ پینٹنگ کیسے کرتے تھے؟ اور کس پر کرتے تھے؟ بنیادی طور پر کسی بھی چیز جیسے ڈینم کے ٹکڑے، ساتھی قیدیوں کے یونیفارم کے کپڑے اور یقیناً اردگرد کی دیواروں پر وہ فن پارے تخلیق کرتے تھے۔ جیل میں پینٹ کے استعمال کی اجازت سے پہلے وہ کافی، چائے پاؤڈر اور گریوی کو آرٹ کے مواد کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ وہ کاغذ، ٹشو رولز اور اپنے جیل کی کوٹھری کی دیواروں پر پینٹ کرتے تھے۔ کبھی کبھار بدلہ لینے اور جیل کے محافظوں کو ناراض کرنے کے لیے وہ انسانی فضلے کا استعمال بھی کرتے تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/22143944ee70bc1.jpg'  alt='احمد ربانی' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>احمد ربانی</figcaption>
    </figure></p>
<p>احمد ربانی تمام تر صلاحیتوں کا سہرا اپنے بلاک سے تعلق رکھنے والے ایک یمنی قیدی صابری القریشی کو دیتے ہیں جسے وہ اپنا ’استاد‘ کہتے ہیں۔ یہ دلچسپ ہے کہ یمنی آرٹ اور احمد ربانی کے انداز میں کچھ مماثلتیں پائی جاتی ہیں جیسے پس منظر میں شہر کے مناظر کی تکرار اور کسی موضوع کو پینٹ کرنے کا طریقہ۔ اگرچہ احمد ربانی نے ابتدائی طور پر پیسٹلز کو اپنے میڈیم کے طور پر استعمال کیا کیونکہ صابری بھی یہی استعمال کیا کرتے تھے، لیکن کافی تجربہ کے بعد انہوں نے بعد میں ایکریلیکس کو تسلی بخش پایا اور اب یہ ان کی بنیادی ترجیح ہے۔ اس کے بعد انہوں نے صابری کو ایکریلک پینٹنگ سکھائی جو فنکاروں کے طور پر ان کی دوستی کا ایک انداز ہے۔</p>
<p>بلاعنوان (2018ء) نامی فن پارے میں احمد ربانی نے امریکی آزادی کے مجسمے کو علامتی طور پر درخت سے لٹکے دکھایا ہے، اس سے حقیقت اور تصور کے درمیان فرق واضح ہوتا ہے۔ احمد ربانی آزادی کی عالم گیر علامت کے طور پر امریکا کے شان دار تصور پر سوال اٹھاتے ہیں۔  انہوں نے امریکا کے شان دار تصور کو حقیقت سے دور قرار دیا اور ان کا یہ فن پارہ اس پر طنز ہے۔ انہوں نے امریکا کو آزادی کا فریب قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایران، افغانستان، پاکستان اور شمالی کوریا جیسے ممالک کو لیکچر دینے میں آگے آگے ہوتا ہے جبکہ اسے اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کہ ان کی پینٹنگز میں آزادی کا موضوع بار بار دہرایا جاتا ہے۔ بلاعنوان (2018ء) میں عبادت گزاروں جو ظاہری طور پر مسلمان ہیں، کو ایک ایسے درخت کے سامنے سجدہ ریز دکھایا ہے جس پر امریکی آزادی کا مجسمہ پھل کی طرح لٹکا ہوا ہے، 2017ء میں ایک اور بلاعنوان پینٹنگ میں ہم نے دیکھا کہ لوگ آگ کی پرستش کررہے ہیں۔ یہ دیکھ کر تجسس ہوتا ہے کہ کیا یہ آگ وہی ہے جو آزادی کے مجسمے کے ہاتھ میں موجود مشعل سے نکلی ہے یا پھر احمد ربانی مذہب کی وحدانیت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں اور اس وجہ سے اسے انسانیت کی وحدانیت کے برابر قرار دے رہے ہیں، وہ اس جذبے کو بہت مقدس گردانتے ہیں۔</p>
<p>احمد ربانی کا کہنا ہے کہ ان کی تمام پینٹنگز کو جو چیز ایک ساتھ جوڑتی ہے وہ گوانتانامو جیل کی تلخ یادیں ہیں۔ قید اور سینسرشپ بھی ان کے فن پاروں کے اہم موضوعات ہیں۔ ایک تصویر میں حراستی مرکز کی تصویر کشی کی ہے جہاں ایک ڈھانچا ریمورٹ ہاتھ میں لیے پہلے سے کنٹرول شدہ ٹی وی چینلز کو تبدیل کرنے کی کوشش کررہا ہے، اسی طرح ایک تصویر میں  احمد ربانی عقوبت خانے میں خون سے لت پت ٹارچر کرسی پر بیٹھے ہیں۔ یہ فن پارے درگزر کے انداز میں تشدد اور سینسر شپ کے ان مختلف طریقوں کی عکاسی کرتے ہیں جن سے اس قیدی فنکار کو گزرنا پڑا۔ میں نے یہاں درگزر کے انداز میں اس لیے کہا ہے کیونکہ بدسلوکی کے باوجود، احمد کی نرم مسکراہٹ اور مزاح ایک امید کی عکاسی کرتا ہے جو کہ ان کے کام سے بھی عیاں ہے۔</p>
<p>اور آخر میں احمد ربانی درخواست کرتے ہیں کہ اس پیغام کو قارئین اور حکام تک پہنچایا جائے کہ ’میں اپنے آپ کو اس وقت تک آزاد نہیں سمجھوں گا جب تک میرے تمام بھائیوں کو گوانتاناموبے سے آزاد نہیں کیا جاتا۔ صرف ایک فرد کی قید کے ساتھ بھی میری زنجیریں واپس آجائیں گی‘۔</p>
<hr />
<p>’انڈس ویلی اسکول آف آرٹ اینڈ آرکیٹیکچر گیلری میں 2 سے 15 مئی 2023 تک ’دی ان فورگوٹن مون: لبرٹنگ آرٹ فرام گوانتاناموبے‘ کی نمائش کی گئی تھی‘۔</p>
<hr />
<p>یہ <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1754252/exhibition-resistance-in-confinement">مضمون</a></strong> 21 مئی 2023ء کو ڈان کے ای او اسی میگزین میں شائع ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1203891</guid>
      <pubDate>Tue, 23 May 2023 17:14:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (زہرہ جبین شاہ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/05/2214325464614df.jpg?r=143321" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/05/2214325464614df.jpg?r=143321"/>
        <media:title>بلاعنوان (2017ء)
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مورخ اور محقق گل حسن کلمتی انتقال کر گئے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1203357/</link>
      <description>&lt;p&gt;’کراچی سندھ جی مارئی‘ سمیت سندھ کی تاریخ اور ثقافت پر ایک درجن سے زائد کتابیں لکھنے والے مورخ اور محقق گل حسن کلمتی کچھ عرصہ علیل رہنے کے بعد انتقال کر گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گل حسن کلمتی گزشتہ چند ماہ سے انتہائی علیل تھے، وہ ہسپتال میں زیر علاج رہنے کے علاوہ گھر تک محدود ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مورخ اور محقق عارضہ جگر میں مبتلا تھے اور حکومت سندھ نے انہیں علاج کے لیے مالی مدد بھی فراہم کی لیکن وہ جان بر نہ ہوسکے اور 16 اور 17 مئی کی درمیانی شب خالق حقیقی سے جا ملے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/sindhicongress/status/1658636412961402881"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گل حسن کلمتی کے انتقال پر ورلڈ سندھی کانگریس کی جانب سے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق ایڈوکیٹ جنرل (اے جی) سندھ بیریسٹر ضمیر گھمرو نے بھی گل حسن کلمتی کے انتقال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے ان کی موت کو سندھ کے لیے بہت بڑا نقصان قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/zamirghumro/status/1658688663344250880"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صحافی وینگس نے بھی مورخ اور محقق کی موت پر اظہار افسوس کرتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/VeengasJ/status/1658685981279625216"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گل حسن کلمتی کے انتقال پر دیگر صحافیوں، سیاست دانوں، سماجی رہنماؤں، سندھ کی تاریخ اور ثقافت میں دلچسپی رکھنے والے افراد اور سوشل میڈیا صارفین نے بھی اظہار افسوس کرتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیوز ویب سائٹ &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.sindhmatters.com/2028"&gt;&lt;strong&gt;’سندھ میٹرز‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق گل حسن کلمتی 1957 میں کراچی ڈویژن کے قصبے گڈاپ ٹاؤں کے گاؤں گولاپ میں پیدا ہوئے، وہ 9 بہن اور بھائیوں میں سے سب سے تعلیم یافتہ تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/MushRajpar/status/1658628023791353856"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گل حسن کملتی نے کراچی کے اس ایم آرٹ کالج سے تعلیم حاصل کی اور کالج کی تعلیم کے دوران ہی وہ ادب کی جانب راغب ہوئے۔  انہوں نے 1979 میں کراچی یونیورسٹی میں صحافت میں داخلہ لیا، جہاں سے 1983 میں انہوں نے ماسٹر کی ڈگری مکمل کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گل حسن کلمتی نے نیشنل اسٹوڈنٹ فیڈریشن (NSF) نامی طلبہ جماعت سے سیاست کا آغاز کیا اور بعد ازاں انہوں نے 1983 میں بلوچ اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن (BSO) میں شمولیت اختیار کی لیکن پھر جلد ہی وہ مذکورہ تنظیم سے بھی الگ ہوگئے اور انہوں نے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/faziljamili/status/1658738069132984320"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گل حسن کلمتی کچھ وقت کے لیے رسول بخش پلیجو کی سیاسی جماعت عوامی تحریک اور عبدالواحد آریسر کی جماعت سندھ محاذ میں بھی شامل رہے جب کہ انہوں نے قادر مگسی کی جماعت سندھ ترقی پسند پارٹی میں بھی کچھ وقت گزارا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گل حسن کلمتی نے سال 2000 کے بعد تاریخ کی تحقیق پر توجہ دی اور انہوں نے سندھی اخبارات میں سندھ کی تاریخ اور ثقافت پر لکھنا شروع کیا، ان کی تحقیق کا مرکز دارالحکومت کراچی تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/SindhuSorath/status/1658682927259983873"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کراچی کی تاریخ، ثقافت اور مستند معلومات پر مبنی کتاب ’کراچی سندھ جی مارئی‘ لکھا، جسے بہت پذیرائی حاصل ہوئی اور حال ہی میں ڈاکٹر امجد سراج میمن نے ان کی مذکورہ کتاب کا انگریزی میں ترجمہ ’کراچی گلوری آف ایسٹ‘ کے نام سے شائع کروایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گل حسن کلمتی نے سندھ کی تاریخ پر کم از کم ایک درجن کتابیں لکھیں جب کہ انہیں بحریہ ٹاؤن کے خلاف آواز بلند کرنے والے ان چند افراد میں شمار کیا جاتا ہے جنہوں نے مذکورہ تعمیراتی منصوبے کو مقامی لوگوں کی نسل کشی کے برابر قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/SagarSuhindro/status/1658786422298644481"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>’کراچی سندھ جی مارئی‘ سمیت سندھ کی تاریخ اور ثقافت پر ایک درجن سے زائد کتابیں لکھنے والے مورخ اور محقق گل حسن کلمتی کچھ عرصہ علیل رہنے کے بعد انتقال کر گئے۔</p>
<p>گل حسن کلمتی گزشتہ چند ماہ سے انتہائی علیل تھے، وہ ہسپتال میں زیر علاج رہنے کے علاوہ گھر تک محدود ہوگئے تھے۔</p>
<p>مورخ اور محقق عارضہ جگر میں مبتلا تھے اور حکومت سندھ نے انہیں علاج کے لیے مالی مدد بھی فراہم کی لیکن وہ جان بر نہ ہوسکے اور 16 اور 17 مئی کی درمیانی شب خالق حقیقی سے جا ملے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/sindhicongress/status/1658636412961402881"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>گل حسن کلمتی کے انتقال پر ورلڈ سندھی کانگریس کی جانب سے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا گیا۔</p>
<p>سابق ایڈوکیٹ جنرل (اے جی) سندھ بیریسٹر ضمیر گھمرو نے بھی گل حسن کلمتی کے انتقال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے ان کی موت کو سندھ کے لیے بہت بڑا نقصان قرار دیا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/zamirghumro/status/1658688663344250880"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>صحافی وینگس نے بھی مورخ اور محقق کی موت پر اظہار افسوس کرتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/VeengasJ/status/1658685981279625216"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>گل حسن کلمتی کے انتقال پر دیگر صحافیوں، سیاست دانوں، سماجی رہنماؤں، سندھ کی تاریخ اور ثقافت میں دلچسپی رکھنے والے افراد اور سوشل میڈیا صارفین نے بھی اظہار افسوس کرتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا۔</p>
<p>نیوز ویب سائٹ <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.sindhmatters.com/2028"><strong>’سندھ میٹرز‘</strong></a> کے مطابق گل حسن کلمتی 1957 میں کراچی ڈویژن کے قصبے گڈاپ ٹاؤں کے گاؤں گولاپ میں پیدا ہوئے، وہ 9 بہن اور بھائیوں میں سے سب سے تعلیم یافتہ تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/MushRajpar/status/1658628023791353856"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>گل حسن کملتی نے کراچی کے اس ایم آرٹ کالج سے تعلیم حاصل کی اور کالج کی تعلیم کے دوران ہی وہ ادب کی جانب راغب ہوئے۔  انہوں نے 1979 میں کراچی یونیورسٹی میں صحافت میں داخلہ لیا، جہاں سے 1983 میں انہوں نے ماسٹر کی ڈگری مکمل کی۔</p>
<p>گل حسن کلمتی نے نیشنل اسٹوڈنٹ فیڈریشن (NSF) نامی طلبہ جماعت سے سیاست کا آغاز کیا اور بعد ازاں انہوں نے 1983 میں بلوچ اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن (BSO) میں شمولیت اختیار کی لیکن پھر جلد ہی وہ مذکورہ تنظیم سے بھی الگ ہوگئے اور انہوں نے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/faziljamili/status/1658738069132984320"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>گل حسن کلمتی کچھ وقت کے لیے رسول بخش پلیجو کی سیاسی جماعت عوامی تحریک اور عبدالواحد آریسر کی جماعت سندھ محاذ میں بھی شامل رہے جب کہ انہوں نے قادر مگسی کی جماعت سندھ ترقی پسند پارٹی میں بھی کچھ وقت گزارا۔</p>
<p>گل حسن کلمتی نے سال 2000 کے بعد تاریخ کی تحقیق پر توجہ دی اور انہوں نے سندھی اخبارات میں سندھ کی تاریخ اور ثقافت پر لکھنا شروع کیا، ان کی تحقیق کا مرکز دارالحکومت کراچی تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/SindhuSorath/status/1658682927259983873"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے کراچی کی تاریخ، ثقافت اور مستند معلومات پر مبنی کتاب ’کراچی سندھ جی مارئی‘ لکھا، جسے بہت پذیرائی حاصل ہوئی اور حال ہی میں ڈاکٹر امجد سراج میمن نے ان کی مذکورہ کتاب کا انگریزی میں ترجمہ ’کراچی گلوری آف ایسٹ‘ کے نام سے شائع کروایا تھا۔</p>
<p>گل حسن کلمتی نے سندھ کی تاریخ پر کم از کم ایک درجن کتابیں لکھیں جب کہ انہیں بحریہ ٹاؤن کے خلاف آواز بلند کرنے والے ان چند افراد میں شمار کیا جاتا ہے جنہوں نے مذکورہ تعمیراتی منصوبے کو مقامی لوگوں کی نسل کشی کے برابر قرار دیا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/SagarSuhindro/status/1658786422298644481"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1203357</guid>
      <pubDate>Wed, 17 May 2023 16:17:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/05/17161513cb49d7b.jpg?r=161711" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/05/17161513cb49d7b.jpg?r=161711"/>
        <media:title>—فوٹو: ٹوئٹر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قہقہوں کے سفیر: بابائے ظرافت سید ضمیر جعفری</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1202461/</link>
      <description>&lt;p&gt;آج برصغیر سمیت پوری دنیا میں اردو کے  بے مثل ادیب اور شاعر سید ضمیر جعفری کا یومِ وفات ہے۔ طنز و مزاح میں اکبرؔ الہٰ آبادی کے بعد جن شعرا کو مقبولیت حاصل ہوئی اُن میں سید ضمیر جعفری کا نام نمایاں ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ آپ کی تخلیق کچھ الگ اور منفرد ہے اور یہی وجہ ہے کہ طرزِ ادائیگی اور طرزِ احساس کے اعتبار سے بھی وہ دیگر شعرا سے ممتاز رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آپ نے ادب کی ہر صنف میں نام کمایا اور آپ مزاحیہ شاعری، نثر اور خاکہ نگاری کے ساتھ سنجیدہ غزل میں بھی الگ مقام رکھتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ان تمام شعبوں میں آپ کا کام سطحی نوعیت کا نہیں ہے آپ نے جو کچھ لکھا وہ منفرد ہونے کے ساتھ ضمیر کی آواز بھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیرون ملک ایک مشاعرے میں ضمیر جعفری کو میزبان نے بابائے ظرافت کہا تو آپ نے اس موقع پر ہنستے ہوئے فرمایا کہ ’عمر کا تعلق سن وسال سے نہیں، بڑھاپا تو ارادے سے آتا ہے اور میرا بوڑھا ہونے کا کوئی ارادہ نہیں‘  اور اس موقع پر یہ  اشعار کہے:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1"&gt;جوانی سے عجب رشتہ رہا ہے&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1"&gt;بڑھاپا آگے آگے جارہا ہے&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1"&gt;ربط ہے تازہ، ہر ایک  منظر کے ساتھ&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1"&gt;میں بڑھاپے کو نہ آنے دوں گا کلینڈر کے ساتھ&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  '&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/ig8fe86OF48?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ضمیر جعفری  کہتے تھے ’ہم شاعر لوگ توپوں کے آدمی نہیں پھولوں کے آدمی ہیں، ہم قہقہوں کے سفیر ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک مرتبہ یومِ اقبال کی تقریب میں آپ نے فرمایا ’حضرت اقبال کا شاہین کب کا اُڑ چکا ہے، اب اپنا کوئی مقامی جانور  پیدا کرو‘۔ اور موقع کی مناسبت اور اقبال شناسی کے فقدان کے ضمن میں کہا جو خاصا مشہور ہے کہ:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1"&gt;بپا ہم سال میں اک مجلس اقبال کرتے ہیں&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1"&gt;پھر اْس کے بعد جو کرتے ہیں وہ قوال کرتے ہیں&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  '&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/wcduaAs561s?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ضمیر جعفری کا تعلق مزاح نگاری کی اُس نسل سے ہے جس میں مجید لاہوری، سید محمد جعفری، راجہ مہدی علی خان خان، شوکت تھانوی، نذیر احمد شیخ، مرزا محمود سرحدی، دلاور فگار بھی اہم تھے۔ بلاشبہ یہ شاعری اور بالخصوص مزاح  کے عروج کا عہد تھا۔ ان شعرا کی ایک خاص بات یہ تھی کہ ایک دوسرے کی تعریف میں بخل سے کام نہیں لیتے تھے اور انہیں زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1163687"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ضمیر جعفری  کے بارے میں کہا یہ جاتا ہے کہ وہ کسی کی حوصلہ افزائی اور تعریف سے بالکل نہیں ہچکچاتے تھے۔ وہ دلاور فگار کی بہت تعریف کیا کرتے تھے۔ یہ دور مزاح کے ساتھ رکھ رکھاؤ اور اپنے ہم عصروں کے احترام اور ان کے کام کو سہرانے کی ایک روشن روایت کا دور تھا۔ ضمیر جعفری نے ہمیں بتایا کہ مزاحیہ شاعری محض فقرے بازی، پھبتی، لطیفہ سازی کا نام نہیں ہے بلکہ یہ کچھ الگ چیز ہے۔ انہوں نےمزاح کے تصور کو تبدیل کیا اور پھکڑپن اور لغویات کے بجائے طنز کی گہرائی لےکر آئے۔ آپ کا مزاح، برجستگی، سادگی، شائستگی اور شگفتگی کا مرقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شیخ نذیر نے سید ضمیر جعفری کا ’حدیث دوست‘ کے عنوان سے کیا خوب منظوم تعارف کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1"&gt;خاندانی  سیّدوں کی آل ہیں میجر ضمیر&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1"&gt;آپ اپنے وقت کے ملا نصیر الدین ہیں&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1"&gt;شعر خوانی میں ترنم کا عجب انداز ہے&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1"&gt;آپ کے طرفہ سْخن پر ہر سخن کا خاتمہ&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1"&gt;ان سے جو مخصوص ہے اس طرز فن کا خاتمہ&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1"&gt;اور اپنی شاعری کا کوئی مطلب ہو نہ ہو&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1"&gt;شاعران شوخ گو اب رہ گئے ہیں صرف دو&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1"&gt;نیک ہیں، خوش بخت ہیں خوشحال ہیں میجر ضمیر&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1"&gt;شعر شکر آفریں، چٹکلے نمکین ہیں&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1"&gt;لے میں کافی نغمگی ہے گونجتی آواز ہے&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1"&gt;آپ پڑھ لیں تو سمجھ لو انجمن کا خاتمہ&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1"&gt;دل پسند اشعار کی ٹکسال ہیں میجر ضمیر&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1"&gt;من ترا حاجی بگویم تو مرا ملاّ بگو&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سید ضمیر جعفری کا اصل نام ضمیر حسین شاہ جبکہ ضمیر ان کا تخلص تھا۔ آپ یکم جنوری 1916ء کو ضلع جہلم کے چھوٹے سے گاؤں چک عبدالخالق میں سید حیدر شاہ کے گھر میں پیدا ہوئے۔ آپ کے نانا سلطان العارفین حضرت پیر سید محمد شاہ پوٹھوہار اور آزاد کشمیر کے مقبول صوفی اور پنجابی کے یگانہ روزگار شاعر تھے، والدہ کا نام سیدہ سردار بیگم تھا اور اہلیہ کا نام جہاں آرا تھا۔ بھائیوں کے نام اکبر اور سید بشیر حسین شاہ تھے۔ یہ ذکر بھی کرتا چلوں کہ لڑکپن میں آپ کی ہونے والی پہلی شادی 2، 4 ماہ ہی چل پائی تھی۔ اس کے بعد گجرات میں اردو کے ممتاز شاعر، سید عابد علی عابد کے عزیزوں میں ان کی دوسری شادی ہوئی تھی لیکن یہ بھی زیادہ عرصے نہیں چل پائی۔ پھر 1945ء میں تیسری شادی ہوئی جس سے 2 بیٹے سید احتشام ضمیر جعفری (لیفٹیننٹ جنرل) اور سید امتنان ضمیر جعفری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امتنان ضمیر متعدد کتب کے مصنف اور سابق کرکٹر ہیں جبکہ وہ امریکا میں مقیم رہے اور دوسرے بیٹے سید احتشام ضمیر جنہوں نے پاک فوج میں متعدد اہم عہدوں پر فرائض انجام دیے، ان کا مئی 2005ء میں انتقال ہوگیا تھا۔ پاک فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد احتشام ضمیر نے روزنامہ جنگ میں ’متاع ضمیر‘ کے عنوان سے کالم بھی لکھے۔ &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.dw.com/ur/%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92-%DA%A9%D8%A6%DB%92-%D9%BE%D8%B1-%D8%B4%D8%B1%D9%85%D9%86%D8%AF%DB%81-%DB%81%D9%88%DA%BA-%D9%85%DB%8C%D8%AC%D8%B1-%D8%AC%D9%86%D8%B1%D9%84-%D8%B1%DB%8C%D9%B9%D8%A7%D8%A6%D8%B1%DA%88-%D8%A7%D8%AD%D8%AA%D8%B4%D8%A7%D9%85-%D8%B6%D9%85%DB%8C%D8%B1/a-3229875"&gt;ڈی ڈبلیو کے مطابق&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; انہوں نے آئی ایس آئی میں رہتے ہوئے اپنے بعض کاموں پر شرمندگی کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ ’وہ 2002ء کے انتخابات میں پرویز مشرف کے حکم پر بڑے پیمانے پر دھاندلی میں ملوث ہوئے۔ تاکہ حکمران سیاسی جماعت مسلم لیگ (ق) کی کامیابی کو ممکن بنایا جاسکے‘۔ لیکن پھر بعد میں اس خبرکی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ ’کورسپانڈنٹ کے ساتھ ہونے والی میری ذاتی گفتگو کو جس سنسنی خیز طریقے سے شائع کیا گیا ہے وہ صحیح نہیں ہے اور سیاق و سباق سے باہر ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/urdu/pakistan/story/2008/02/printable/080224_election_isi_sen"&gt;بی بی سی اردو سروس&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; سے ایک انٹرویو میں احتشام ضمیر نے کہا تھا کہ ’فوج کا خفیہ ادارہ ’پولیٹیکل مینجمنٹ‘ کرتا ہے اور یہ کرنے کا اسے قانونی اختیار حاصل ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احتشام ضمیر نے اپنے والدین سے متعلق ایک بار لکھا تھا کہ ’ایک بار  ہم ماں بیٹے ان کی روز مرہ کی نوک جھونک کو یاد کررہے تھے، والد صاحب کی ڈائریوں میں تانک جھانک کرتے ہوئے جون کے مہینے پر نظر پڑی اور وہیں پڑی رہ گئی۔ انہوں نے اپنی شادی کی سالگرہ کا ذکر کیا تھا جو وہ ہمیشہ جون میں باقاعدگی سے مناتے تھے۔ ڈائری میں خاص طور پر جب والد صاحب نے یہ شعر لکھا تھا کہ:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1"&gt;میری بیوی قبر میں لیٹی ہے جس ہنگام سے&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1"&gt;وہ بھی ہے آرام سے اور ہم بھی ہیں آرام سے&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پر ہماری والدہ 6 ماہ تک والد صاحب سے ناراض رہیں اور بول چال بند رہی۔ والدہ مجھ سے کہہ رہی تھیں کہ یاد رکھو میاں بیوی میں فرق ہوتا ہے میاں بیوی کے بغیر بے شک رہ سکتا ہے لیکن بیوی، میاں کے بغیر کبھی نہیں رہ سکتی۔ میں نے والد کی ان کے لیے محبت کے بہت سے قصے سنائے تاکہ اس آنے والی سالگرہ پر ان سے گفتگو بند نہ کریں خاص طور سے والد کا قول کہ ’جو خاوند بیگم کا کہنا مانتا ہے، وہ نہ تو کوئی برا کام کرسکتا ہے اور نہ ہی کوئی بڑا کام کرسکتا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  '&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/FK84ZAm5EeA?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علم وادب کے حوالے سے کافی شہرت رکھنے والے خاندان کے سپوت ضمیر جعفری نے گورنمنٹ کالج کیمبل پور جس کو اب گورنمنٹ کالج اٹک کہا جاتا ہے، سے میٹرک سپلی کے ساتھ کیا اور پھر انٹر کرنے کے بعد اسلامیہ کالج لاہور چلے گئے۔ 1938ء میں بی اے کی سند حاصل کی۔ شاعری تو آپ اسکول کے زمانے سے ہی کررہے تھے، اوراسکول کی بزم ادب میں بھی فعال ومتحرک رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنجاب یونیورسٹی کے طلبہ کے ایک شعری مقابلے میں اپنی ایک نظم پر جسٹس سر شیخ عبدالقادر کے ہاتھوں پہلا ادبی اعزاز طلائی تمغہ حاصل کیا۔ وسیلہ معاش میں قیام پاکستان سے قبل دفتروں کی نوکری کرتے رہے۔ آپ ’احسان‘ لاہور اور مولانا چراغ حسن حسرت کے  فکاہی ہفت روزہ ’شیرازہ‘ لاہور، روزنامہ ’بادشمال‘، راولپنڈی، سہ ماہی اردو پنچ راولپنڈی، سہ ماہی ’ادبیات‘، اسلام آباد ہفت روزہ ’سدا بہار‘ لاہور، کی مجلسِ ادارت سے بھی وابستہ رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آپ ہفت روزہ ہلال، ماہانہ اردو ڈائجسٹ، ہفت روزہ زندگی، روزنامہ جنگ، روزنامہ نوائے وقت، روزنامہ مشرق، روزنامہ خبریں، روزنامہ جسارت، روزنامہ پاکستان میں بھی لکھتے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پروفیسر صفورا شاہد جن کا تعلق لاہور سے ہے، انہوں نے ’سید ضمیر جعفری کی سنجیدہ شاعری کا تحقیقی اور تنقیدی جائزہ‘ ایم فِل کے مقالے کی صورت میں لکھا۔ جو 300 سے زائد صفحات پر محیط کتابی صورت میں بھی شائع ہوچکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سید ضمیر جعفری کی مطبوعہ تصنیفات کی تعداد تقریباً 60 ہے۔ ان کی ڈائریوں کا سلسلہ 6 کتابوں پر مُحیط ہے اور کالموں کے مجموعے اس کے علاوہ ہیں۔ آپ کی شاعری کے سرمایے میں مسدس بدحالی، قریۂ جاں، مافی الضمیر، ولایتی زعفران، ضمیریا، بھنور بادبان، کھلیان، کنرشیر خاں، میرے پیار کی سرزمین، ارمغان نعمت، ارمغان ضمیر، ضمیر ظرافت سرگوشیاں، نعت نذرانہ شامل ہیں۔ نثری کتب میں کتابی چہرے، اڑاتے خاکے، کالے گورے سپاہی، جنگ کے رنگ، ہندوستان میں دو سال، آنریری خسرو، ضمیر حاضر ضمیر غائب، شاہی حج، سفیر لکیر، کنگرو دیس میں، پہچان کا لمحہ، جدائی کا موسم اہم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1162620"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ضمیر جعفری دوسری عالمی جنگ کے آس پاس برطانوی فوج میں بھرتی ہوئے اور ان کی تعیناتی جنوب مشرقی کمان میں بہ حیثیت کپتان ہوئی۔ وہ شعبہ تعلقات عامہ سے وابستہ تھے جس میں کرنل فیض احمد فیض، میجر چراغ حسن حسرت، مجید ملک، کیپٹن ن م راشد، میجر آغا بابر، کرنل مسعود احمد اور کرنل حسن عسکری ابن سعید جیسے ممتاز اہلِ قلم شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے انتقال کے بعد 2002ء میں ایک خصوصی شمارہ &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://jang.com.pk/news/491206"&gt;’بیاد ضمیر جعفری‘&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے عنوان سے ان کے احباب نے شائع  کیا جس کے مطابق آپ نے 1949ء میں فوج  سے استعفی دے دیا تھا جس کے بعد 1949ء میں کرنل مسعود احمد اور کیپٹن انعام قاضی کی شراکت میں راولپنڈی سے روزنامہ ’بادشمال‘ جاری کیا جو ایک برس سے زیادہ جاری نہ رہ سکا۔ 1951ء میں جہلم کے دیہاتی حلقے سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے پنجاب اسمبلی کا انتخاب لڑا لیکن ہار گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1952ء میں فوج میں دوبارہ واپسی ہوئی اور اس کے بعد میجر بھی بنے۔ آپ نے 1948ء میں جنگ کشمیر اور 1965ء کی جنگ ستمبر میں عسکری خدمت انجام دیں۔ 15 برس تک دارالحکومت کے ترقیاتی ادارے کے شعبہ تعلقات عامہ، نیشنل سینٹر کے ڈپٹی ڈائریکٹر، وزارت بحالیاتِ افغان مہاجرین میں مشیر اور اکادمی ادبیات پاکستان سے وابستہ رہے۔ سید ضمیر جعفری کا شمار اسلام آباد کی پہلی اینٹ رکھنے والوں میں ہوتا ہے۔ آپ کے لکھے کئی نغمے آج بھی کانوں میں رس گھولتے ہیں۔ جن میں مسرت نذیر کا 1988ء میں گایا ہوا مشہور زمانہ نغمہ ’میرا لونگ گواچا‘ بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  '&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/k1MSUIGk4dc?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مندرجہ ذیل اشعار میں انہوں نے کیا کمال کیا ہے کہ آدمی دیر تک سوچتا اور جھومتا ہی رہ جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1"&gt;ہنس مگر ہنسنے سے پہلے سوچ لے &lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1"&gt;یہ نہ ہو پھر عمر بھر رونا پڑے&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1"&gt;درد میں لذت بہت اشکوں میں رعنائی بہت&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1"&gt;اے غم ہستی ہمیں دنیا پسند آئی بہت&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1"&gt;یہ کس بازار میں بکنے کی خاطر آ گیا ہوں میں&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1"&gt;جو ہر قیمت پہ گویا اپنی قیمت پا گیا ہوں میں&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ضمیر جعفری نے زندگی اصولوں اور ضمیر کے ساتھ بسر کی۔ آپ نے کشمیر میں بھارتی حکومت کے مظالم اور قبضے کے باعث بطور احتجاج بھارت جاکر ادبی ایوارڈ مع خطیر رقم لینے سے منع کردیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ضمیر جعفری کا لکھا ملک کے چاروں صوبوں کے نصاب میں بھی شامل ہے۔ ذیل میں دی گئی نظم بھی کراچی کے ٹرانسپورٹ کے نظام کا حال بیان کرتی ہے جو نصاب میں بھی شامل رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1"&gt;کراچی کی بس میں سفر ہو رہا ہے&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1"&gt;نہیں ہو رہا ہے مگر ہو رہا ہے&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1"&gt;جو دامن تھا، دامن بدر ہو رہا ہے&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1"&gt;کمر بند گردن کے سر ہو رہا ہے&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1"&gt;سفینہ جو زیر و زبر ہو رہا ہے&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1"&gt;اِدھر کا مسافر اُدھر ہو رہا ہے&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1"&gt;کراچی کی بس میں سفر ہو رہا ہے&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ضمیر جعفری انور مسعود کا بہت احترام کرتے تھے اور کہتے تھے، مزاحیہ شاعری کے چراغ کو روشن کرنے میں انور مسعود بہت اہم ہیں اور ایک صدی ہمارے ساتھ کے شعرا کی رہی اور اب ایک صدی انور مسعود کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میں نے ضمیر جعفری کے حوالے سے خوش کُن اور مزاح سے لبریز، مختلف زبانوں پر مہارت رکھنے والے، بنَین لَین جاندے ہو بنَین لے کے آندے ہو، کے خالق انور مسعود سے رابطہ کیا تو آپ نے اپنے مخصوص انداز میں فرمایا کہ ’آرمی نے بہت بڑے بڑے مزاح نگار پیدا کیے، نثر میں شفیق الرحمٰن، کرنل محمد خان ہیں، لیکن مزاحیہ شاعری میں سب سے بڑا نام ضمیر جعفری صاحب کا نام ہے۔ اُن کے یہاں عجیب طرح کا جو پنجاب کا میوزک ہے وہ سنائی دیتا ہے۔ ان کے مضامین بھی بہت کمال کے اور اچھے تھے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1"&gt;ان کا دروازہ تھا مجھ سے بھی سوا مشتاق دید&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1"&gt;میں نے باہر کھولنا چاہا تو وہ اندر کھلا&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پھر دیکھیے،&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1"&gt;پن کھلا ٹائی کھلی بکلس کھلا کالر کھلا&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1"&gt;کھلتے کھلتے ڈیڑھ گھنٹے میں کہیں افسر کھلا&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1"&gt;آٹھ دس کی آنکھ پھوٹی آٹھ دس کا سر کھلا &lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1"&gt;لو خطیب شہر کی تقریر کا جوہر کھلا&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’اُن کے ساتھ ملک اور بیرون ملک سفر کیا۔ ان سے بہت کچھ سیکھا اور بنیادی بات یہ ہے کہ انہیں انسان کی عزت اور عظمت بہت ملحوظ رہتی تھی‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں انور مسعود صاحب نے موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا اور کہا ’آپ کا عامر ’ع‘ سے یا ’آ‘ سے؟ میں نے ہنستے ہوئے کہا ’ع‘ سے۔ انہوں نے کہا ’پھر ٹھیک ہے‘۔ میں نے دہرایا ’ٹھیک ہے ناں؟‘ تو آپ نے برجستہ ہنستے ہوئے کہا ’ویری ٹھیک‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عطاالحق قاسمی نے’آئی لو یو سید ضمیر جعفری’ کے عنوان میں ایک واقعہ راولا کوٹ میں ایک تقریب کے پس منظر میں لکھا تھا کہ ’کشمیر اور پاکستان سے عشق کرنے والے اس شاعر کی عمر بڑے بڑے پہاڑ سر کرتے اور مشکلات کی سختی چٹکلوں سے دور کرتے گزری۔ میں نے شاعروں میں اگر کوئی سچا صوفی دیکھا ہے تو وہ سید ضمیر جعفری ہی تھے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محقق، ماہرِ لسانیات، نقاد، معلم اور مدیر ڈاکٹر فرمان فتح پوری جو جامعہ کراچی کے شعبہ اردو کے سربراہ اور اردو لغت بورڈ کے مدیر اعلیٰ بھی رہے، انہوں نے ضمیر جعفری کی شاعری کے حوالے سے لکھا تھا کہ ’ضمیر جعفری اپنی شاعری میں لفاظی یا لفظوں کی بازی گری سے ظرافت کو جنم نہیں دیتے بلکہ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی واقعے یا صورتحال کے کمزور پہلو کا ندرتِ خیال کی مدد سے ایسا خاکہ کھینچا جائے کہ وہ قاری یا سامع کے حق میں خوشگوار بن جائے۔ انہیں اپنی اس کوشش میں اکثر دفعہ کامیابی ہوئی ہے البتہ کہیں کہیں انہوں نے الفاظ کی مدد سے بھی مزاح کا پہلو پیدا کیا ہے مثلاً ان اشعار میں:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1"&gt;گرد نے ملتان تک اس طرح گردانا مجھے&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1"&gt;میری بیوی نے بڑی مشکل سے پہچانا مجھے&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1"&gt;ایسی قسمت کہاں ضمیر اپنی&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1"&gt;آکے پیچھے سے ’تا‘ کرے کوئی&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان شعروں میں گرد اور گردانا کی صوتی ہم آہنگی اور ’تا‘ کے لفظ کے اندر چھپی ہوئی معصومیت و شرارت مضحک بن گئی ہے۔ لیکن جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے بحیثیت مجموعی ضمیر جعفری کی شاعری الفاظ کی شعبدہ گری سے نہیں، خیالات کی جادوگری سے لطف و انبساط کا سامان فراہم کرتی ہے۔ مثلاً پہلی غزل کے اگلے دو اشعار پر نظر ڈالیے،&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1"&gt;فلسفے کا ادراک بخشا ہے تو اے مولائے کُل&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1"&gt;اپنے گھر والوں پہ کچھ آسان فرمانا مجھے&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1"&gt;مد و جزر زندگانی کی بدولت آ گیا&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1"&gt;ہر قدم پر دو قدم پیچھے سرک جانا مجھے&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یا مزاحیہ غزلوں کے اشعار:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1"&gt;وہ سب کو تھوڑا تھوڑا شربتِ دیدار دیتے ہیں&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1"&gt;مگر مصروف ہیں، اتوار کے اتوار دیتے ہیں&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1"&gt;شوق سے لختِ جگر نورِ نظر پیدا کرو&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1"&gt;ظالمو! تھوڑی سی گندم بھی مگر پیدا کرو&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ضمیر جعفری کے یہاں خیال افروز ظرافت اور ظرافت آمیز خیال کی کامیاب صورتیں ان کی مختصر مزاحیہ غزلوں یا فردیات سے زیادہ، ان کی نظموں میں نظر آتی ہیں۔ اس نوع کی نظموں میں پرانی موٹر، عورتوں کی اسمبلی، سفر ہو رہا ہے، شوق کی بند، کل شب تنہائی میں، عید کا میلہ اور ایرانی بہو کا خیر مقدم خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سید ضمیر جعفری کے طنز کو ملاحظہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ طنز میں بھی شگفتگی کا عنصر غالب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1"&gt;نظر کی عیب جوئی دل کی ویرانی نہیں جاتی&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1"&gt;یہ دو صدیوں کی عادت ہے بہ آسانی نہیں جاتی&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1"&gt;جہاں تک کثرت اولاد نے پہنچا دیا اس کو &lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1"&gt;وہاں تک بندہ پرور نسل انسانی نہیں جاتی&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سید ضمیر جعفری ڈائری لکھنے کا کام بھی مستقل مزاجی کے ساتھ کیا کرتے تھے اور اس میں بھی اُن کی شگفتہ نگاری کے کیا کہنے تھے۔ ڈائری کے پس منظر کے ضمن آپ لکھتے ہیں کہ ’میں 1943ء سے تقریبا روزانہ ڈائری لکھ رہا ہوں، مجھے معلوم نہیں میرے دماغ میں یہ کیڑا کیوں پیدا ہوا اور میں حیران ہوں کہ مجھ جیسا ’چست‘ 50، 55 برس سے اس کی پرورش کرتا رہا‘۔ آپ کی ڈائری کے کچھ نمونے پیش خدمت ہیں جو خود ایک تاریخ ہیں. ملاحظہ کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے سال کے پس منظر میں آپ نے لکھا کہ ’ایک برس اوجھل تو ہوا۔ مگر ایک افق طلوع بھی ہوا۔ زندگی بہرحال ایک نعمت ہے۔ اللہ تعالیٰ سال نو کو دنیا بھر کے انسانوں کے لیے خیرو برکت کا موجب بنائے۔ خدا کرے کہ خود ہمارے ملک کے دلدر بھی دور ہوسکیں چلو کچھ کم ہی ہوجائیں۔ کل صدر مملکت کا انتخاب ہورہا ہے۔ ہمیں تو اس میں بھی روشنی کی کرن دکھائی نہیں دیتی۔ جنرل ایوب خان نے اس جنگ کے لیے ’بنیادی جمہوریت‘ کے محدود اور مضبوط ’مورچے‘ بنالیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’محترمہ فاطمہ جناح کی جمہوریت کی ’لالٹین‘ آمریت کی زبردست آندھیوں کے سامنے ہے۔ تحریک پاکستان کے ہر اول دستوں کے قائدین میں سے صرف خواجہ ناظم الدین اپنے چند رفقا سمیت قائداعظم کی بہن کے ساتھ رہ گئے ہیں۔ ان میں سے بھی خواجہ صاحب کو موت نے مہلت نہ دی۔ غنیمت ہے کہ پنجاب میں ممتاز محمد خان دولتانہ نے رسمِ وفا نبھائی تو ورنہ بازی یہاں بھی الٹ چکی ہے۔ افسوس اپنی جگہ مگر حیرت بھی نہیں ہونی چاہیے۔ لوگ ہمیشہ دولت اور طاقت کی طرف جاتے ہیں۔ چڑھتے سورج کی پرستش ہمیشہ سے ہوتی آئی ہے اور جنرل ایوب خان کا سورج تو بہت چڑھا ہوا ہے۔ ملک میں کشیدگی کا یہ حال ہے کہ جیسے بارود کے کسی ڈھیر میں آگ لگ رہی ہو‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح وہ لکھتے ہیں کہ ’کراچی بظاہر نارمل ہوگیا مگر بھیتر بھیتر آگ ابھی سلگ رہی ہے۔ گورنر نے ایک تحقیقاتی کمیشن بٹھا رکھا ہے جو اب اٹھتے اٹھتے ہی اُٹھے گا۔ کمیشن جو چاہے کہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ملک درمند ہے۔ روزنامہ ڈان کے ایک اداریے کے مطابق تو کراچی کے بعض علاقوں میں خون خرابے کی وہی قیامت نظر آئی جو 1947ء کے فسادات میں مشرقی پنجاب میں برپا ہوئی تھی۔ اللہ اکبر! مسلمان ہی مسلمان کو قتل کرنے لگے۔ بھائی کے ہاتھوں بھائی کا خون بہنے لگا۔ یہ تصور کس قدر دل خراش ہے۔ ہمارے سر بار ندامت سے کیونکر اٹھ سکتے ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1"&gt;کٹھن ہونے کو ہے جو شوق کا ہر مرحلہ صاحب &lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1"&gt;ذرا سوچیں کہ لاحق کیا ہے ہم کو عارضہ صاحب &lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح اپنی غزلوں کا ایک مجموعہ مرتب کرنے کے پس منظر میں لکھا کہ ’انتخاب میں اشعار کو گاجر مولی کی طرح کاٹتا چلا گیا۔ ابھی یہ انتخاب کرنل محمد خان کے ہاتھوں سے بھی گزرے گا۔ جو ’تیغ و کفن‘ کے ساتھ لیس بیٹھے ہیں۔ ’تیغ‘ اپنی کرنیلی کے لیے اور کفن ’میری‘، ’میجری‘ کے لیے۔ شعور و نظر کا سفر بھی عجیب ہے۔ وہی اشعار جن پر مشاعروں میں چھتیں اڑتی تھیں، اب اپنی نظر میں جچ نہیں رہے۔ یوں مسعود (ضمیر جعفری کے دوست کرنل مسعود احمد) کا کہنا ہے کہ جن اشعار کو تم حذف کررہے ہو، یہ دراصل تمہارے ان ہم عمر قارئین کے لیے تھے جن کو تم اب بہت پیچھے چھوڑ آئے۔ مگر وہ تمہارا پیچھا نہیں چھوڑیں گے۔ زندگی اور عورت کی طرح مجھے مسعود کی بھی پوری بات کبھی سمجھ میں نہیں آئی۔ اگرچہ میں اس کی دانائی کا بھی بہت قائل ہوں۔’جشن فطرت‘ کے لیے جنرل امراؤ خان نے اپنے پیغام کے ساتھ 100 روپے کا عطیہ بھیجا ہے۔ پیغام اتنا عمدہ ہے کہ ہر ایک لفظ 100، 100 روپے کا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انگریزی زبان کے مشہور شاعر اور نقاد ٹی ایس ایلیٹ کی موت پر لکھا کہ ’ایلیٹ مرگیا۔ عظیم شاعر، عظیم نقاد۔ ایک عہد اس کے ساتھ ختم ہوگیا مگر ایک نیا عہد وہ دے بھی گیا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/11095716f7967d1.jpg?r=095721'  alt='سید ضمیر جعفری ڈائری لکھنے کا کام بھی مستقل مزاجی کے ساتھ کیا کرتے تھے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;سید ضمیر جعفری ڈائری لکھنے کا کام بھی مستقل مزاجی کے ساتھ کیا کرتے تھے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں ٹیلی وژن کی آمد کے موقع پر لکھا کہ ’ملک میں ٹیلی وژن قائم ہوگیا۔ یہ سرکاری ادارہ ہے۔ ’میڈیا‘ کو تو ہماری سرکار مٹھی ہی میں رکھے گی۔ اسلم اظہر ڈائریکٹر مقرر ہوئے ہیں۔ ان کے بلاوے پر آج دن کو لاہور پہنچا۔ گلبرگ میں اے ڈی اظہر صاحب ہی کے ’برگساں‘ میں ٹھہرا اور شام کو ٹیلی وژن کے مشاعرے میں شرکت کی۔ اے ڈی اظہار صدر مشاعرہ تھے۔ شعرا میں احسان دانش، احمد ندیم قاسمی، ناصر کاظمی، قتیل شفائی، منیر نیازی اور کلیم عثمانی شامل تھے۔ شعرا کو ’واسکٹیں‘ اسلم اظہر نے اپنے ’ملبوس خانے‘ میں سے دیں۔ ’ٹیلی وژن‘ پر میرا یہ پہلا مشاعرہ ہے۔ دل اس خوشی سے ’گھٹک‘ رہا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1965ء کے سال کے آخری دن پر ڈائری کے آخری صفحے پر لکھا کہ ’کل نئے سال کا سورج طلوع ہوگا۔ آج شام 1965ء کا سورج ہمیشہ کے لیے ڈوب گیا۔ جانے والا سال ہمارے ملک کے لیے ایک مہیب آزمائش کا سال تھا۔ ہمیں اس برس میں اپنی تاریخ کی پہلی اتنی بھرپور اور شدید جنگ لڑنا پڑی جس میں آزادی تک داؤ پر لگ گئی۔ یہ جنگ اگرچہ 17 تک دن جاری رہی مگر اس بےحد خونریز جنگ کے اثرات 17 برس تک دونوں ملکوں پر سایہ کناں رہیں گے۔ ابھی ہم اس سانحے کے اس قدر قریب ہیں کہ دونوں ملک اپنے ’گھاؤ‘ کا اندازہ نہیں کرسکتے۔ مگر پاکستان کو اس قیمت پر اپنا تشخص مل گیا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آپ کے اعزازات میں ہمایوں گولڈ میڈل بدست شیخ سر عبدالقادر 1936ء، تمغہ قائداعظم 1967ء اور صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی 1985ء شامل ہیں ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب ریٹائرڈ سید حسن رضا جعفری کے مطابق آخری دنوں میں آپ جب پاکستان آئے تو امریکا جانے سے قبل آپ کے اعزاز  میں اسلام آباد میں ان سے محبت کرنے والے اور عقیدت رکھنے والوں نے ایک الوداعی محفل کا اہتمام کیا جس میں جعفری صاحب نے الوداعی نظم پڑھی اور اتنے درد کے ساتھ پڑھی کہ خود کے آنسو بھی روا رہے اور محبت کرنے والے کو بھی مغموم کردیا۔ اس موقع پر وطن سے محبت کا اظہار کرتے کہا کہ:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1"&gt;چُپکے چُپکے اس نگر میں گھومنے آؤں گا میں&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;
&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1"&gt;گُل تو گُل ہیں، پتھروں کو چومنے آؤں گا میں&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1999ء کے آغاز سے ہی ضمیر جعفری بیمار  رہنے لگے تھے جس کے بعد  12 مئی 1999ء کو نیویارک میں وفات پاگئے اور کھنیارہ شریف، بچہ مندرہ راولپنڈی کے قریب سید محمد شاہ بخاری کے پہلو میں آسودہ خاک ہوئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>آج برصغیر سمیت پوری دنیا میں اردو کے  بے مثل ادیب اور شاعر سید ضمیر جعفری کا یومِ وفات ہے۔ طنز و مزاح میں اکبرؔ الہٰ آبادی کے بعد جن شعرا کو مقبولیت حاصل ہوئی اُن میں سید ضمیر جعفری کا نام نمایاں ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ آپ کی تخلیق کچھ الگ اور منفرد ہے اور یہی وجہ ہے کہ طرزِ ادائیگی اور طرزِ احساس کے اعتبار سے بھی وہ دیگر شعرا سے ممتاز رہے۔</p>
<p>آپ نے ادب کی ہر صنف میں نام کمایا اور آپ مزاحیہ شاعری، نثر اور خاکہ نگاری کے ساتھ سنجیدہ غزل میں بھی الگ مقام رکھتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ان تمام شعبوں میں آپ کا کام سطحی نوعیت کا نہیں ہے آپ نے جو کچھ لکھا وہ منفرد ہونے کے ساتھ ضمیر کی آواز بھی ہے۔</p>
<p>بیرون ملک ایک مشاعرے میں ضمیر جعفری کو میزبان نے بابائے ظرافت کہا تو آپ نے اس موقع پر ہنستے ہوئے فرمایا کہ ’عمر کا تعلق سن وسال سے نہیں، بڑھاپا تو ارادے سے آتا ہے اور میرا بوڑھا ہونے کا کوئی ارادہ نہیں‘  اور اس موقع پر یہ  اشعار کہے:</p>
<p><strong><div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1">جوانی سے عجب رشتہ رہا ہے</div></strong>
<strong><div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1">بڑھاپا آگے آگے جارہا ہے</div></strong>
<strong><div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1">ربط ہے تازہ، ہر ایک  منظر کے ساتھ</div></strong>
<strong><div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1">میں بڑھاپے کو نہ آنے دوں گا کلینڈر کے ساتھ</div></strong></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  '>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/ig8fe86OF48?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ضمیر جعفری  کہتے تھے ’ہم شاعر لوگ توپوں کے آدمی نہیں پھولوں کے آدمی ہیں، ہم قہقہوں کے سفیر ہیں‘۔</p>
<p>ایک مرتبہ یومِ اقبال کی تقریب میں آپ نے فرمایا ’حضرت اقبال کا شاہین کب کا اُڑ چکا ہے، اب اپنا کوئی مقامی جانور  پیدا کرو‘۔ اور موقع کی مناسبت اور اقبال شناسی کے فقدان کے ضمن میں کہا جو خاصا مشہور ہے کہ:</p>
<p><strong><div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1">بپا ہم سال میں اک مجلس اقبال کرتے ہیں</div></strong>
<strong><div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1">پھر اْس کے بعد جو کرتے ہیں وہ قوال کرتے ہیں</div></strong></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  '>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/wcduaAs561s?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ضمیر جعفری کا تعلق مزاح نگاری کی اُس نسل سے ہے جس میں مجید لاہوری، سید محمد جعفری، راجہ مہدی علی خان خان، شوکت تھانوی، نذیر احمد شیخ، مرزا محمود سرحدی، دلاور فگار بھی اہم تھے۔ بلاشبہ یہ شاعری اور بالخصوص مزاح  کے عروج کا عہد تھا۔ ان شعرا کی ایک خاص بات یہ تھی کہ ایک دوسرے کی تعریف میں بخل سے کام نہیں لیتے تھے اور انہیں زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1163687"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ضمیر جعفری  کے بارے میں کہا یہ جاتا ہے کہ وہ کسی کی حوصلہ افزائی اور تعریف سے بالکل نہیں ہچکچاتے تھے۔ وہ دلاور فگار کی بہت تعریف کیا کرتے تھے۔ یہ دور مزاح کے ساتھ رکھ رکھاؤ اور اپنے ہم عصروں کے احترام اور ان کے کام کو سہرانے کی ایک روشن روایت کا دور تھا۔ ضمیر جعفری نے ہمیں بتایا کہ مزاحیہ شاعری محض فقرے بازی، پھبتی، لطیفہ سازی کا نام نہیں ہے بلکہ یہ کچھ الگ چیز ہے۔ انہوں نےمزاح کے تصور کو تبدیل کیا اور پھکڑپن اور لغویات کے بجائے طنز کی گہرائی لےکر آئے۔ آپ کا مزاح، برجستگی، سادگی، شائستگی اور شگفتگی کا مرقع ہے۔</p>
<p>شیخ نذیر نے سید ضمیر جعفری کا ’حدیث دوست‘ کے عنوان سے کیا خوب منظوم تعارف کیا ہے۔</p>
<p><strong><div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1">خاندانی  سیّدوں کی آل ہیں میجر ضمیر</div></strong>
<strong><div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1">آپ اپنے وقت کے ملا نصیر الدین ہیں</div></strong>
<strong><div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1">شعر خوانی میں ترنم کا عجب انداز ہے</div></strong>
<strong><div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1">آپ کے طرفہ سْخن پر ہر سخن کا خاتمہ</div></strong>
<strong><div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1">ان سے جو مخصوص ہے اس طرز فن کا خاتمہ</div></strong>
<strong><div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1">اور اپنی شاعری کا کوئی مطلب ہو نہ ہو</div></strong>
<strong><div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1">شاعران شوخ گو اب رہ گئے ہیں صرف دو</div></strong>
<strong><div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1">نیک ہیں، خوش بخت ہیں خوشحال ہیں میجر ضمیر</div></strong>
<strong><div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1">شعر شکر آفریں، چٹکلے نمکین ہیں</div></strong>
<strong><div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1">لے میں کافی نغمگی ہے گونجتی آواز ہے</div></strong>
<strong><div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1">آپ پڑھ لیں تو سمجھ لو انجمن کا خاتمہ</div></strong>
<strong><div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1">دل پسند اشعار کی ٹکسال ہیں میجر ضمیر</div></strong>
<strong><div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1">من ترا حاجی بگویم تو مرا ملاّ بگو</div></strong></p>
<p>سید ضمیر جعفری کا اصل نام ضمیر حسین شاہ جبکہ ضمیر ان کا تخلص تھا۔ آپ یکم جنوری 1916ء کو ضلع جہلم کے چھوٹے سے گاؤں چک عبدالخالق میں سید حیدر شاہ کے گھر میں پیدا ہوئے۔ آپ کے نانا سلطان العارفین حضرت پیر سید محمد شاہ پوٹھوہار اور آزاد کشمیر کے مقبول صوفی اور پنجابی کے یگانہ روزگار شاعر تھے، والدہ کا نام سیدہ سردار بیگم تھا اور اہلیہ کا نام جہاں آرا تھا۔ بھائیوں کے نام اکبر اور سید بشیر حسین شاہ تھے۔ یہ ذکر بھی کرتا چلوں کہ لڑکپن میں آپ کی ہونے والی پہلی شادی 2، 4 ماہ ہی چل پائی تھی۔ اس کے بعد گجرات میں اردو کے ممتاز شاعر، سید عابد علی عابد کے عزیزوں میں ان کی دوسری شادی ہوئی تھی لیکن یہ بھی زیادہ عرصے نہیں چل پائی۔ پھر 1945ء میں تیسری شادی ہوئی جس سے 2 بیٹے سید احتشام ضمیر جعفری (لیفٹیننٹ جنرل) اور سید امتنان ضمیر جعفری ہیں۔</p>
<p>امتنان ضمیر متعدد کتب کے مصنف اور سابق کرکٹر ہیں جبکہ وہ امریکا میں مقیم رہے اور دوسرے بیٹے سید احتشام ضمیر جنہوں نے پاک فوج میں متعدد اہم عہدوں پر فرائض انجام دیے، ان کا مئی 2005ء میں انتقال ہوگیا تھا۔ پاک فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد احتشام ضمیر نے روزنامہ جنگ میں ’متاع ضمیر‘ کے عنوان سے کالم بھی لکھے۔ <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.dw.com/ur/%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92-%DA%A9%D8%A6%DB%92-%D9%BE%D8%B1-%D8%B4%D8%B1%D9%85%D9%86%D8%AF%DB%81-%DB%81%D9%88%DA%BA-%D9%85%DB%8C%D8%AC%D8%B1-%D8%AC%D9%86%D8%B1%D9%84-%D8%B1%DB%8C%D9%B9%D8%A7%D8%A6%D8%B1%DA%88-%D8%A7%D8%AD%D8%AA%D8%B4%D8%A7%D9%85-%D8%B6%D9%85%DB%8C%D8%B1/a-3229875">ڈی ڈبلیو کے مطابق</a></strong> انہوں نے آئی ایس آئی میں رہتے ہوئے اپنے بعض کاموں پر شرمندگی کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ ’وہ 2002ء کے انتخابات میں پرویز مشرف کے حکم پر بڑے پیمانے پر دھاندلی میں ملوث ہوئے۔ تاکہ حکمران سیاسی جماعت مسلم لیگ (ق) کی کامیابی کو ممکن بنایا جاسکے‘۔ لیکن پھر بعد میں اس خبرکی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ ’کورسپانڈنٹ کے ساتھ ہونے والی میری ذاتی گفتگو کو جس سنسنی خیز طریقے سے شائع کیا گیا ہے وہ صحیح نہیں ہے اور سیاق و سباق سے باہر ہے‘۔</p>
<p><strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/urdu/pakistan/story/2008/02/printable/080224_election_isi_sen">بی بی سی اردو سروس</a></strong> سے ایک انٹرویو میں احتشام ضمیر نے کہا تھا کہ ’فوج کا خفیہ ادارہ ’پولیٹیکل مینجمنٹ‘ کرتا ہے اور یہ کرنے کا اسے قانونی اختیار حاصل ہے‘۔</p>
<p>احتشام ضمیر نے اپنے والدین سے متعلق ایک بار لکھا تھا کہ ’ایک بار  ہم ماں بیٹے ان کی روز مرہ کی نوک جھونک کو یاد کررہے تھے، والد صاحب کی ڈائریوں میں تانک جھانک کرتے ہوئے جون کے مہینے پر نظر پڑی اور وہیں پڑی رہ گئی۔ انہوں نے اپنی شادی کی سالگرہ کا ذکر کیا تھا جو وہ ہمیشہ جون میں باقاعدگی سے مناتے تھے۔ ڈائری میں خاص طور پر جب والد صاحب نے یہ شعر لکھا تھا کہ:</p>
<p><strong><div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1">میری بیوی قبر میں لیٹی ہے جس ہنگام سے</div></strong>
<strong><div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1">وہ بھی ہے آرام سے اور ہم بھی ہیں آرام سے</div></strong></p>
<p>اس پر ہماری والدہ 6 ماہ تک والد صاحب سے ناراض رہیں اور بول چال بند رہی۔ والدہ مجھ سے کہہ رہی تھیں کہ یاد رکھو میاں بیوی میں فرق ہوتا ہے میاں بیوی کے بغیر بے شک رہ سکتا ہے لیکن بیوی، میاں کے بغیر کبھی نہیں رہ سکتی۔ میں نے والد کی ان کے لیے محبت کے بہت سے قصے سنائے تاکہ اس آنے والی سالگرہ پر ان سے گفتگو بند نہ کریں خاص طور سے والد کا قول کہ ’جو خاوند بیگم کا کہنا مانتا ہے، وہ نہ تو کوئی برا کام کرسکتا ہے اور نہ ہی کوئی بڑا کام کرسکتا ہے‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  '>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/FK84ZAm5EeA?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>علم وادب کے حوالے سے کافی شہرت رکھنے والے خاندان کے سپوت ضمیر جعفری نے گورنمنٹ کالج کیمبل پور جس کو اب گورنمنٹ کالج اٹک کہا جاتا ہے، سے میٹرک سپلی کے ساتھ کیا اور پھر انٹر کرنے کے بعد اسلامیہ کالج لاہور چلے گئے۔ 1938ء میں بی اے کی سند حاصل کی۔ شاعری تو آپ اسکول کے زمانے سے ہی کررہے تھے، اوراسکول کی بزم ادب میں بھی فعال ومتحرک رہے۔</p>
<p>پنجاب یونیورسٹی کے طلبہ کے ایک شعری مقابلے میں اپنی ایک نظم پر جسٹس سر شیخ عبدالقادر کے ہاتھوں پہلا ادبی اعزاز طلائی تمغہ حاصل کیا۔ وسیلہ معاش میں قیام پاکستان سے قبل دفتروں کی نوکری کرتے رہے۔ آپ ’احسان‘ لاہور اور مولانا چراغ حسن حسرت کے  فکاہی ہفت روزہ ’شیرازہ‘ لاہور، روزنامہ ’بادشمال‘، راولپنڈی، سہ ماہی اردو پنچ راولپنڈی، سہ ماہی ’ادبیات‘، اسلام آباد ہفت روزہ ’سدا بہار‘ لاہور، کی مجلسِ ادارت سے بھی وابستہ رہے۔</p>
<p>آپ ہفت روزہ ہلال، ماہانہ اردو ڈائجسٹ، ہفت روزہ زندگی، روزنامہ جنگ، روزنامہ نوائے وقت، روزنامہ مشرق، روزنامہ خبریں، روزنامہ جسارت، روزنامہ پاکستان میں بھی لکھتے رہے۔</p>
<p>پروفیسر صفورا شاہد جن کا تعلق لاہور سے ہے، انہوں نے ’سید ضمیر جعفری کی سنجیدہ شاعری کا تحقیقی اور تنقیدی جائزہ‘ ایم فِل کے مقالے کی صورت میں لکھا۔ جو 300 سے زائد صفحات پر محیط کتابی صورت میں بھی شائع ہوچکا ہے۔</p>
<p>سید ضمیر جعفری کی مطبوعہ تصنیفات کی تعداد تقریباً 60 ہے۔ ان کی ڈائریوں کا سلسلہ 6 کتابوں پر مُحیط ہے اور کالموں کے مجموعے اس کے علاوہ ہیں۔ آپ کی شاعری کے سرمایے میں مسدس بدحالی، قریۂ جاں، مافی الضمیر، ولایتی زعفران، ضمیریا، بھنور بادبان، کھلیان، کنرشیر خاں، میرے پیار کی سرزمین، ارمغان نعمت، ارمغان ضمیر، ضمیر ظرافت سرگوشیاں، نعت نذرانہ شامل ہیں۔ نثری کتب میں کتابی چہرے، اڑاتے خاکے، کالے گورے سپاہی، جنگ کے رنگ، ہندوستان میں دو سال، آنریری خسرو، ضمیر حاضر ضمیر غائب، شاہی حج، سفیر لکیر، کنگرو دیس میں، پہچان کا لمحہ، جدائی کا موسم اہم ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1162620"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ضمیر جعفری دوسری عالمی جنگ کے آس پاس برطانوی فوج میں بھرتی ہوئے اور ان کی تعیناتی جنوب مشرقی کمان میں بہ حیثیت کپتان ہوئی۔ وہ شعبہ تعلقات عامہ سے وابستہ تھے جس میں کرنل فیض احمد فیض، میجر چراغ حسن حسرت، مجید ملک، کیپٹن ن م راشد، میجر آغا بابر، کرنل مسعود احمد اور کرنل حسن عسکری ابن سعید جیسے ممتاز اہلِ قلم شامل تھے۔</p>
<p>ان کے انتقال کے بعد 2002ء میں ایک خصوصی شمارہ <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://jang.com.pk/news/491206">’بیاد ضمیر جعفری‘</a></strong> کے عنوان سے ان کے احباب نے شائع  کیا جس کے مطابق آپ نے 1949ء میں فوج  سے استعفی دے دیا تھا جس کے بعد 1949ء میں کرنل مسعود احمد اور کیپٹن انعام قاضی کی شراکت میں راولپنڈی سے روزنامہ ’بادشمال‘ جاری کیا جو ایک برس سے زیادہ جاری نہ رہ سکا۔ 1951ء میں جہلم کے دیہاتی حلقے سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے پنجاب اسمبلی کا انتخاب لڑا لیکن ہار گئے۔</p>
<p>1952ء میں فوج میں دوبارہ واپسی ہوئی اور اس کے بعد میجر بھی بنے۔ آپ نے 1948ء میں جنگ کشمیر اور 1965ء کی جنگ ستمبر میں عسکری خدمت انجام دیں۔ 15 برس تک دارالحکومت کے ترقیاتی ادارے کے شعبہ تعلقات عامہ، نیشنل سینٹر کے ڈپٹی ڈائریکٹر، وزارت بحالیاتِ افغان مہاجرین میں مشیر اور اکادمی ادبیات پاکستان سے وابستہ رہے۔ سید ضمیر جعفری کا شمار اسلام آباد کی پہلی اینٹ رکھنے والوں میں ہوتا ہے۔ آپ کے لکھے کئی نغمے آج بھی کانوں میں رس گھولتے ہیں۔ جن میں مسرت نذیر کا 1988ء میں گایا ہوا مشہور زمانہ نغمہ ’میرا لونگ گواچا‘ بھی شامل ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  '>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/k1MSUIGk4dc?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مندرجہ ذیل اشعار میں انہوں نے کیا کمال کیا ہے کہ آدمی دیر تک سوچتا اور جھومتا ہی رہ جائے۔</p>
<p><strong><div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1">ہنس مگر ہنسنے سے پہلے سوچ لے </div></strong>
<strong><div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1">یہ نہ ہو پھر عمر بھر رونا پڑے</div></strong>
<strong><div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1">درد میں لذت بہت اشکوں میں رعنائی بہت</div></strong>
<strong><div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1">اے غم ہستی ہمیں دنیا پسند آئی بہت</div></strong></p>
<p><strong><div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1">یہ کس بازار میں بکنے کی خاطر آ گیا ہوں میں</div></strong>
<strong><div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1">جو ہر قیمت پہ گویا اپنی قیمت پا گیا ہوں میں</div></strong></p>
<p>ضمیر جعفری نے زندگی اصولوں اور ضمیر کے ساتھ بسر کی۔ آپ نے کشمیر میں بھارتی حکومت کے مظالم اور قبضے کے باعث بطور احتجاج بھارت جاکر ادبی ایوارڈ مع خطیر رقم لینے سے منع کردیا تھا۔</p>
<p>ضمیر جعفری کا لکھا ملک کے چاروں صوبوں کے نصاب میں بھی شامل ہے۔ ذیل میں دی گئی نظم بھی کراچی کے ٹرانسپورٹ کے نظام کا حال بیان کرتی ہے جو نصاب میں بھی شامل رہی ہے۔</p>
<p><strong><div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1">کراچی کی بس میں سفر ہو رہا ہے</div></strong>
<strong><div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1">نہیں ہو رہا ہے مگر ہو رہا ہے</div></strong>
<strong><div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1">جو دامن تھا، دامن بدر ہو رہا ہے</div></strong>
<strong><div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1">کمر بند گردن کے سر ہو رہا ہے</div></strong>
<strong><div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1">سفینہ جو زیر و زبر ہو رہا ہے</div></strong>
<strong><div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1">اِدھر کا مسافر اُدھر ہو رہا ہے</div></strong>
<strong><div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1">کراچی کی بس میں سفر ہو رہا ہے</div></strong></p>
<p>ضمیر جعفری انور مسعود کا بہت احترام کرتے تھے اور کہتے تھے، مزاحیہ شاعری کے چراغ کو روشن کرنے میں انور مسعود بہت اہم ہیں اور ایک صدی ہمارے ساتھ کے شعرا کی رہی اور اب ایک صدی انور مسعود کی ہے۔</p>
<p>میں نے ضمیر جعفری کے حوالے سے خوش کُن اور مزاح سے لبریز، مختلف زبانوں پر مہارت رکھنے والے، بنَین لَین جاندے ہو بنَین لے کے آندے ہو، کے خالق انور مسعود سے رابطہ کیا تو آپ نے اپنے مخصوص انداز میں فرمایا کہ ’آرمی نے بہت بڑے بڑے مزاح نگار پیدا کیے، نثر میں شفیق الرحمٰن، کرنل محمد خان ہیں، لیکن مزاحیہ شاعری میں سب سے بڑا نام ضمیر جعفری صاحب کا نام ہے۔ اُن کے یہاں عجیب طرح کا جو پنجاب کا میوزک ہے وہ سنائی دیتا ہے۔ ان کے مضامین بھی بہت کمال کے اور اچھے تھے‘۔</p>
<p><strong><div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1">ان کا دروازہ تھا مجھ سے بھی سوا مشتاق دید</div></strong>
<strong><div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1">میں نے باہر کھولنا چاہا تو وہ اندر کھلا</div></strong></p>
<p>پھر دیکھیے،</p>
<p><strong><div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1">پن کھلا ٹائی کھلی بکلس کھلا کالر کھلا</div></strong>
<strong><div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1">کھلتے کھلتے ڈیڑھ گھنٹے میں کہیں افسر کھلا</div></strong>
<strong><div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1">آٹھ دس کی آنکھ پھوٹی آٹھ دس کا سر کھلا </div></strong>
<strong><div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1">لو خطیب شہر کی تقریر کا جوہر کھلا</div></strong></p>
<p>’اُن کے ساتھ ملک اور بیرون ملک سفر کیا۔ ان سے بہت کچھ سیکھا اور بنیادی بات یہ ہے کہ انہیں انسان کی عزت اور عظمت بہت ملحوظ رہتی تھی‘۔</p>
<p>آخر میں انور مسعود صاحب نے موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا اور کہا ’آپ کا عامر ’ع‘ سے یا ’آ‘ سے؟ میں نے ہنستے ہوئے کہا ’ع‘ سے۔ انہوں نے کہا ’پھر ٹھیک ہے‘۔ میں نے دہرایا ’ٹھیک ہے ناں؟‘ تو آپ نے برجستہ ہنستے ہوئے کہا ’ویری ٹھیک‘۔</p>
<p>عطاالحق قاسمی نے’آئی لو یو سید ضمیر جعفری’ کے عنوان میں ایک واقعہ راولا کوٹ میں ایک تقریب کے پس منظر میں لکھا تھا کہ ’کشمیر اور پاکستان سے عشق کرنے والے اس شاعر کی عمر بڑے بڑے پہاڑ سر کرتے اور مشکلات کی سختی چٹکلوں سے دور کرتے گزری۔ میں نے شاعروں میں اگر کوئی سچا صوفی دیکھا ہے تو وہ سید ضمیر جعفری ہی تھے‘۔</p>
<p>محقق، ماہرِ لسانیات، نقاد، معلم اور مدیر ڈاکٹر فرمان فتح پوری جو جامعہ کراچی کے شعبہ اردو کے سربراہ اور اردو لغت بورڈ کے مدیر اعلیٰ بھی رہے، انہوں نے ضمیر جعفری کی شاعری کے حوالے سے لکھا تھا کہ ’ضمیر جعفری اپنی شاعری میں لفاظی یا لفظوں کی بازی گری سے ظرافت کو جنم نہیں دیتے بلکہ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی واقعے یا صورتحال کے کمزور پہلو کا ندرتِ خیال کی مدد سے ایسا خاکہ کھینچا جائے کہ وہ قاری یا سامع کے حق میں خوشگوار بن جائے۔ انہیں اپنی اس کوشش میں اکثر دفعہ کامیابی ہوئی ہے البتہ کہیں کہیں انہوں نے الفاظ کی مدد سے بھی مزاح کا پہلو پیدا کیا ہے مثلاً ان اشعار میں:</p>
<p><strong><div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1">گرد نے ملتان تک اس طرح گردانا مجھے</div></strong>
<strong><div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1">میری بیوی نے بڑی مشکل سے پہچانا مجھے</div></strong></p>
<p>اور</p>
<p><strong><div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1">ایسی قسمت کہاں ضمیر اپنی</div></strong>
<strong><div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1">آکے پیچھے سے ’تا‘ کرے کوئی</div></strong></p>
<p>ان شعروں میں گرد اور گردانا کی صوتی ہم آہنگی اور ’تا‘ کے لفظ کے اندر چھپی ہوئی معصومیت و شرارت مضحک بن گئی ہے۔ لیکن جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے بحیثیت مجموعی ضمیر جعفری کی شاعری الفاظ کی شعبدہ گری سے نہیں، خیالات کی جادوگری سے لطف و انبساط کا سامان فراہم کرتی ہے۔ مثلاً پہلی غزل کے اگلے دو اشعار پر نظر ڈالیے،</p>
<p><strong><div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1">فلسفے کا ادراک بخشا ہے تو اے مولائے کُل</div></strong>
<strong><div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1">اپنے گھر والوں پہ کچھ آسان فرمانا مجھے</div></strong>
<strong><div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1">مد و جزر زندگانی کی بدولت آ گیا</div></strong>
<strong><div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1">ہر قدم پر دو قدم پیچھے سرک جانا مجھے</div></strong></p>
<p>یا مزاحیہ غزلوں کے اشعار:</p>
<p><strong><div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1">وہ سب کو تھوڑا تھوڑا شربتِ دیدار دیتے ہیں</div></strong>
<strong><div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1">مگر مصروف ہیں، اتوار کے اتوار دیتے ہیں</div></strong></p>
<p>اور</p>
<p><strong><div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1">شوق سے لختِ جگر نورِ نظر پیدا کرو</div></strong>
<strong><div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1">ظالمو! تھوڑی سی گندم بھی مگر پیدا کرو</div></strong></p>
<p>ضمیر جعفری کے یہاں خیال افروز ظرافت اور ظرافت آمیز خیال کی کامیاب صورتیں ان کی مختصر مزاحیہ غزلوں یا فردیات سے زیادہ، ان کی نظموں میں نظر آتی ہیں۔ اس نوع کی نظموں میں پرانی موٹر، عورتوں کی اسمبلی، سفر ہو رہا ہے، شوق کی بند، کل شب تنہائی میں، عید کا میلہ اور ایرانی بہو کا خیر مقدم خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔</p>
<p>سید ضمیر جعفری کے طنز کو ملاحظہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ طنز میں بھی شگفتگی کا عنصر غالب ہے۔</p>
<p><strong><div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1">نظر کی عیب جوئی دل کی ویرانی نہیں جاتی</div></strong>
<strong><div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1">یہ دو صدیوں کی عادت ہے بہ آسانی نہیں جاتی</div></strong>
<strong><div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1">جہاں تک کثرت اولاد نے پہنچا دیا اس کو </div></strong>
<strong><div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1">وہاں تک بندہ پرور نسل انسانی نہیں جاتی</div></strong></p>
<p>سید ضمیر جعفری ڈائری لکھنے کا کام بھی مستقل مزاجی کے ساتھ کیا کرتے تھے اور اس میں بھی اُن کی شگفتہ نگاری کے کیا کہنے تھے۔ ڈائری کے پس منظر کے ضمن آپ لکھتے ہیں کہ ’میں 1943ء سے تقریبا روزانہ ڈائری لکھ رہا ہوں، مجھے معلوم نہیں میرے دماغ میں یہ کیڑا کیوں پیدا ہوا اور میں حیران ہوں کہ مجھ جیسا ’چست‘ 50، 55 برس سے اس کی پرورش کرتا رہا‘۔ آپ کی ڈائری کے کچھ نمونے پیش خدمت ہیں جو خود ایک تاریخ ہیں. ملاحظہ کریں۔</p>
<p>نئے سال کے پس منظر میں آپ نے لکھا کہ ’ایک برس اوجھل تو ہوا۔ مگر ایک افق طلوع بھی ہوا۔ زندگی بہرحال ایک نعمت ہے۔ اللہ تعالیٰ سال نو کو دنیا بھر کے انسانوں کے لیے خیرو برکت کا موجب بنائے۔ خدا کرے کہ خود ہمارے ملک کے دلدر بھی دور ہوسکیں چلو کچھ کم ہی ہوجائیں۔ کل صدر مملکت کا انتخاب ہورہا ہے۔ ہمیں تو اس میں بھی روشنی کی کرن دکھائی نہیں دیتی۔ جنرل ایوب خان نے اس جنگ کے لیے ’بنیادی جمہوریت‘ کے محدود اور مضبوط ’مورچے‘ بنالیے ہیں۔</p>
<p>’محترمہ فاطمہ جناح کی جمہوریت کی ’لالٹین‘ آمریت کی زبردست آندھیوں کے سامنے ہے۔ تحریک پاکستان کے ہر اول دستوں کے قائدین میں سے صرف خواجہ ناظم الدین اپنے چند رفقا سمیت قائداعظم کی بہن کے ساتھ رہ گئے ہیں۔ ان میں سے بھی خواجہ صاحب کو موت نے مہلت نہ دی۔ غنیمت ہے کہ پنجاب میں ممتاز محمد خان دولتانہ نے رسمِ وفا نبھائی تو ورنہ بازی یہاں بھی الٹ چکی ہے۔ افسوس اپنی جگہ مگر حیرت بھی نہیں ہونی چاہیے۔ لوگ ہمیشہ دولت اور طاقت کی طرف جاتے ہیں۔ چڑھتے سورج کی پرستش ہمیشہ سے ہوتی آئی ہے اور جنرل ایوب خان کا سورج تو بہت چڑھا ہوا ہے۔ ملک میں کشیدگی کا یہ حال ہے کہ جیسے بارود کے کسی ڈھیر میں آگ لگ رہی ہو‘۔</p>
<p>اسی طرح وہ لکھتے ہیں کہ ’کراچی بظاہر نارمل ہوگیا مگر بھیتر بھیتر آگ ابھی سلگ رہی ہے۔ گورنر نے ایک تحقیقاتی کمیشن بٹھا رکھا ہے جو اب اٹھتے اٹھتے ہی اُٹھے گا۔ کمیشن جو چاہے کہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ملک درمند ہے۔ روزنامہ ڈان کے ایک اداریے کے مطابق تو کراچی کے بعض علاقوں میں خون خرابے کی وہی قیامت نظر آئی جو 1947ء کے فسادات میں مشرقی پنجاب میں برپا ہوئی تھی۔ اللہ اکبر! مسلمان ہی مسلمان کو قتل کرنے لگے۔ بھائی کے ہاتھوں بھائی کا خون بہنے لگا۔ یہ تصور کس قدر دل خراش ہے۔ ہمارے سر بار ندامت سے کیونکر اٹھ سکتے ہیں‘۔</p>
<p><strong><div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1">کٹھن ہونے کو ہے جو شوق کا ہر مرحلہ صاحب </div></strong>
<strong><div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1">ذرا سوچیں کہ لاحق کیا ہے ہم کو عارضہ صاحب </div></strong></p>
<p>اسی طرح اپنی غزلوں کا ایک مجموعہ مرتب کرنے کے پس منظر میں لکھا کہ ’انتخاب میں اشعار کو گاجر مولی کی طرح کاٹتا چلا گیا۔ ابھی یہ انتخاب کرنل محمد خان کے ہاتھوں سے بھی گزرے گا۔ جو ’تیغ و کفن‘ کے ساتھ لیس بیٹھے ہیں۔ ’تیغ‘ اپنی کرنیلی کے لیے اور کفن ’میری‘، ’میجری‘ کے لیے۔ شعور و نظر کا سفر بھی عجیب ہے۔ وہی اشعار جن پر مشاعروں میں چھتیں اڑتی تھیں، اب اپنی نظر میں جچ نہیں رہے۔ یوں مسعود (ضمیر جعفری کے دوست کرنل مسعود احمد) کا کہنا ہے کہ جن اشعار کو تم حذف کررہے ہو، یہ دراصل تمہارے ان ہم عمر قارئین کے لیے تھے جن کو تم اب بہت پیچھے چھوڑ آئے۔ مگر وہ تمہارا پیچھا نہیں چھوڑیں گے۔ زندگی اور عورت کی طرح مجھے مسعود کی بھی پوری بات کبھی سمجھ میں نہیں آئی۔ اگرچہ میں اس کی دانائی کا بھی بہت قائل ہوں۔’جشن فطرت‘ کے لیے جنرل امراؤ خان نے اپنے پیغام کے ساتھ 100 روپے کا عطیہ بھیجا ہے۔ پیغام اتنا عمدہ ہے کہ ہر ایک لفظ 100، 100 روپے کا‘۔</p>
<p>انگریزی زبان کے مشہور شاعر اور نقاد ٹی ایس ایلیٹ کی موت پر لکھا کہ ’ایلیٹ مرگیا۔ عظیم شاعر، عظیم نقاد۔ ایک عہد اس کے ساتھ ختم ہوگیا مگر ایک نیا عہد وہ دے بھی گیا‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/11095716f7967d1.jpg?r=095721'  alt='سید ضمیر جعفری ڈائری لکھنے کا کام بھی مستقل مزاجی کے ساتھ کیا کرتے تھے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>سید ضمیر جعفری ڈائری لکھنے کا کام بھی مستقل مزاجی کے ساتھ کیا کرتے تھے</figcaption>
    </figure></p>
<p>پاکستان میں ٹیلی وژن کی آمد کے موقع پر لکھا کہ ’ملک میں ٹیلی وژن قائم ہوگیا۔ یہ سرکاری ادارہ ہے۔ ’میڈیا‘ کو تو ہماری سرکار مٹھی ہی میں رکھے گی۔ اسلم اظہر ڈائریکٹر مقرر ہوئے ہیں۔ ان کے بلاوے پر آج دن کو لاہور پہنچا۔ گلبرگ میں اے ڈی اظہر صاحب ہی کے ’برگساں‘ میں ٹھہرا اور شام کو ٹیلی وژن کے مشاعرے میں شرکت کی۔ اے ڈی اظہار صدر مشاعرہ تھے۔ شعرا میں احسان دانش، احمد ندیم قاسمی، ناصر کاظمی، قتیل شفائی، منیر نیازی اور کلیم عثمانی شامل تھے۔ شعرا کو ’واسکٹیں‘ اسلم اظہر نے اپنے ’ملبوس خانے‘ میں سے دیں۔ ’ٹیلی وژن‘ پر میرا یہ پہلا مشاعرہ ہے۔ دل اس خوشی سے ’گھٹک‘ رہا ہے‘۔</p>
<p>1965ء کے سال کے آخری دن پر ڈائری کے آخری صفحے پر لکھا کہ ’کل نئے سال کا سورج طلوع ہوگا۔ آج شام 1965ء کا سورج ہمیشہ کے لیے ڈوب گیا۔ جانے والا سال ہمارے ملک کے لیے ایک مہیب آزمائش کا سال تھا۔ ہمیں اس برس میں اپنی تاریخ کی پہلی اتنی بھرپور اور شدید جنگ لڑنا پڑی جس میں آزادی تک داؤ پر لگ گئی۔ یہ جنگ اگرچہ 17 تک دن جاری رہی مگر اس بےحد خونریز جنگ کے اثرات 17 برس تک دونوں ملکوں پر سایہ کناں رہیں گے۔ ابھی ہم اس سانحے کے اس قدر قریب ہیں کہ دونوں ملک اپنے ’گھاؤ‘ کا اندازہ نہیں کرسکتے۔ مگر پاکستان کو اس قیمت پر اپنا تشخص مل گیا‘۔</p>
<p>آپ کے اعزازات میں ہمایوں گولڈ میڈل بدست شیخ سر عبدالقادر 1936ء، تمغہ قائداعظم 1967ء اور صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی 1985ء شامل ہیں ۔</p>
<p>ممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب ریٹائرڈ سید حسن رضا جعفری کے مطابق آخری دنوں میں آپ جب پاکستان آئے تو امریکا جانے سے قبل آپ کے اعزاز  میں اسلام آباد میں ان سے محبت کرنے والے اور عقیدت رکھنے والوں نے ایک الوداعی محفل کا اہتمام کیا جس میں جعفری صاحب نے الوداعی نظم پڑھی اور اتنے درد کے ساتھ پڑھی کہ خود کے آنسو بھی روا رہے اور محبت کرنے والے کو بھی مغموم کردیا۔ اس موقع پر وطن سے محبت کا اظہار کرتے کہا کہ:</p>
<p><strong><div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1">چُپکے چُپکے اس نگر میں گھومنے آؤں گا میں</div></strong>
<strong><div style= "color: #04225D; text-align: center;" markdown="1">گُل تو گُل ہیں، پتھروں کو چومنے آؤں گا میں</div></strong></p>
<p>1999ء کے آغاز سے ہی ضمیر جعفری بیمار  رہنے لگے تھے جس کے بعد  12 مئی 1999ء کو نیویارک میں وفات پاگئے اور کھنیارہ شریف، بچہ مندرہ راولپنڈی کے قریب سید محمد شاہ بخاری کے پہلو میں آسودہ خاک ہوئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1202461</guid>
      <pubDate>Fri, 12 May 2023 14:41:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عامر اشرف)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/05/11095716f7967d1.jpg?r=095721" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/05/11095716f7967d1.jpg?r=095721"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اماں کے نواڑی پلنگ!</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1202142/</link>
      <description>&lt;p&gt;’یہ صوفہ ساتھ نہیں جائے گا‘، بیٹی نے انگلی سے اشارہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’کون۔۔۔ کون سا؟‘ ہم ہکلاتے ہوئے بولے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’وہی جو شاید آپ کو سلطنت کے سلطان نے بھیجا تھا جس دن آپ یہاں پہنچی تھیں‘، وہ ہنس کر بولی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’مگر بیٹا، دیکھو تو۔۔۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’امی خدا کے لیے، اس کے اسپرنگ ڈھیلے ہوچکے ہیں، کپڑا پرانا، فوم بیٹھ چکا۔۔۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’بیٹا مرمت کروا لیتے ہیں۔۔۔‘ ہم نے منت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’کیوں؟ نیا کیوں نہیں؟ کیا آپ کے پاس پیسے نہیں ہیں؟‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’خریدنا مشکل نہیں ہے لیکن پچھلے 14 برس کا ساتھ ہے۔ وہ دن جب ہم اس گھر میں آئے، ڈرائنگ روم کو تیکھی نظر سے دیکھا، ذہن میں کلر اسکیم تیار کی اور لگے شہر کی فرنیچر دوکانیں کنگھالنے۔ سرکاری صوفہ ہمیں قبول نہیں تھا کہ نہ ڈیزائن دل کو بھاتا تھا نہ رنگ اور زندگی میں مرضی کی چیزوں کے ساتھ مزہ نہ کیا جائے، یہ کیسے ممکن ہے؟‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خانہ بدوشی کے معنی یہ تو نہیں کہ وقت کے جو رنگ ہتھیلی پر رکھے ہیں ان کو زندگی کا حصہ بنانے کے بجائے اس وقت کا انتظار کیا جائے جب خانہ بدوش دیس کو لوٹیں گے۔ سو ہمیں تو جینا تھا، ہر پل، ہر گھڑی، ہر مشکل، ہر تکلیف ہر دکھ کے ساتھ، ایک پل نم آنکھوں کے ساتھ تو اگلا پل بلند آہنگ قہقہہ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سو تام جھام پورا کرنے کے لیے وہ اٹالین صوفہ پسند کیا گیا، ساتھ میں میچنگ افغانی قالین خریدے گئے، کھڑکیوں پر پاکستان سے آرڈر پر چقیں بنوا کر ڈال لیں سو ایک اجنبی سرزمین پر مشرق و مغرب کو اکٹھا کرلیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/0613283390afe9d.jpg'  alt='اس صوفے کا پچھلے 14 برس کا ساتھ تھا' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;اس صوفے کا پچھلے 14 برس کا ساتھ تھا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صوفے نے ہمیں آدھی رات کو اسپتال جاتے دیکھا تو کبھی عید پر مہمانوں کے ساتھ گپ شپ لگاتے۔ اس نے تم لوگوں کو بچپن کی سرحد پار کرتے دیکھا، تمہاری نانی کا لمس بھی یاد ہوگا اسے جو اس پر بیٹھ کر مہمانوں کو کریلے، ساگ اور نہ جانے کون کون سی ترکیب سنایا کرتی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیسے جدا کریں ان کو خود سے؟ یہ محض لکڑی اسپرنگ اور کپڑے کا بنا ہوا صوفہ نہیں، یہ ہمارے 14 برس کے دن رات کا ساتھی ہے ۔ کیسے جدا کریں اس کو؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قصہ یہ تھا کہ 14 برس کے بعد ہمیں اسپتال سے ملا ہوا گھر خالی کرنا تھا۔ وہ جہاں برگد تھا، ہمارا ساتھی۔ نیم، امی کا پسندیدہ۔ اور نئے گھر میں جانے سے پہلے فیصلہ ہورہا تھا کہ کیا رکھا جائے کیا پھینکا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہماری جان جگر کا خیال تھا کہ پرانی چیزوں کی نئے گھر میں کوئی جگہ نہیں۔ ’پرانے تو ہم بھی ہیں بیٹا‘، زیرِ لب کہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ جملہ۔۔۔ بالکل یہی جملہ۔۔۔ سنا تھا ہم نے، کہا تھا کسی نے۔۔۔ بالکل یہی، ’پرانے تو ہم بھی ہوگئے ہیں بیٹا‘۔ یوں لگا کہ یہ جملہ بڑا ہوتا جارہا ہو، ہر طرف اس کی گونج ہو۔۔۔ ’پرانے تو ہم بھی ہیں بیٹا، پرانے تو ہم بھی۔۔۔ پرانے۔۔۔ ہم بھی۔۔۔ ہم بھی۔۔۔ ہم بھی۔۔۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوہ خدایا! یہ جملہ برسوں پہلے کہا گیا تھا اور ہم نے سنی ان سنی کردی تھی یہ کہتے ہوئے ’لو بھلا، پلنگ ہی تو ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہماری امی کی شادی نوعمری میں ہوئی۔ نانا نہ صرف زمیندار بلکہ برٹش پولیس میں ڈسٹرکٹ حوالدار بھی تھے۔ ہمیں تو وہ زمانہ نہ مل سکا کہ کچھ ان سے پوچھ ہی لیتے کچھ اس دور کی باتیں کہ وہ محض ایک پرچھائیں کی طرح زندہ تھے اور ہماری نوعمری میں ہی چل بسے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امی بتاتی ہیں کہ وہ انگریزی لکھتے پڑھتے تھے، گھر میں سب بچوں کی تاریخِ پیدائش کا ریکارڈ انہوں نے ہی مرتب کیا تھا اور اسی لیے امی سب کو بڑے فخر سے کہتیں میرے ابا نے اپنے ہاتھ سے رجسٹر میں لکھا ’عظمت سیدہ ، سترہ اگست ، انیس سو بتیس‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امی نے اپنے بچپن میں گھر میں بدیسی چیزیں دیکھیں جو نانا چھٹی پر آتے تو ان کے ساتھ ہوتیں۔ سائیکل، ریڈیو، گراموفون اور نہ جانے کیا کچھ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امی بڑی بیٹی تھیں۔ شادی ہوئی تو آرڈر پر پیتل کے ڈھیروں برتن بنوائے گئے۔ ہر پلیٹ، گلاس، جگ اور ٹرے کے پیچھے لکھا تھا، حوالدار برکت علی شاہ۔ اور بہت سی شاہانہ چیزوں کے ساتھ جہیز میں امی کو دو پلنگ بھی ملے۔ رنگین پایوں والے شاہانہ نواڑی پلنگ، پشت پر آئینوں اور رنگوں کی مینا کاری۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم نے آنکھ کھولی تو دونوں پلنگوں کی پشت تو اُتر چکی تھی لیکن ان کو جوڑنے کی جگہ پر وہ سوراخ باقی تھے جو کھوئے ہوئے حصے کو یاد کرتے تھے۔ ہر پلنگ اتنا بڑا کہ ہر ایک پر 2، 3 افراد آسانی سے سو سکتے تھے۔ ہم اور ہماری آپا ایک ہی پلنگ پر علیحدہ کمبل لےکر سویا کرتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اماں کو ان پلنگوں سے عشق تھا شاید وہ ان کے ابا یا شاید میکے میں گزرے دنوں کی یاد دلاتے تھے۔ جب بھی نواڑ ڈھیلی پڑ جاتی وہ پلنگوں کو صحن میں نکلواتیں، جھاڑتیں، دھوپ لگواتیں اور پھر نواڑ کستیں۔ نواڑ کسنے میں کئی بار ہم نے اسسٹنٹ کی ڈیوٹی سرانجام دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/06133945bab8048.jpg?r=134102'  alt='اماں کو ان پلنگوں سے عشق تھا شاید وہ ان کے ابا یا شاید میکے میں گزرے دنوں کی یاد دلاتے تھے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;اماں کو ان پلنگوں سے عشق تھا شاید وہ ان کے ابا یا شاید میکے میں گزرے دنوں کی یاد دلاتے تھے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کبھی انہیں شک ہوتا کہ نواڑ میلی ہوچکی اور بو آرہی ہے تو وہ فورا نواڑ ادھیڑ کر دھو ڈالتیں۔ شیطان کی آنت کی طرح طویل نواڑ، جس سے پلنگ کو دو طرف سے بُنا گیا ہوتا، 60، 70 گز سے کیا ہی کم ہوگی؟ ایک عورت اسے کھولتی، دھوتی، سکھاتی اور پھر دوبارہ پلنگ بنتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نہ جانے اس سب میں کیا کیا نہ یاد کرتی ہوں گی وہ؟ میکے میں گزرے وہ دن جب وہ نہ صرف ماں باپ کی لاڈلی تھیں بلکہ سوتیلی ماں، تائی، پھوپھی اور بڑے بھائیوں کی آنکھ کا تارا بھی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پلنگ جہازی سائز کے تھے اور انہیں کمرے میں جب رکھا جاتا تو پھر کسی اور چیز کی جگہ نہ بچتی اور بدقستمی سے وہ کمرہ ہمارا یعنی بہنوں کا ہی ہوتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہمیں ان پلنگوں سے شدید چڑ تھی ’کیا مصیبت ہے؟ باوا آدم کے زمانے کے پلنگ، پرانا فیشن، کوئی بیڈکور پورا ہی نہیں آتا۔ کچھ کھینچ تان کر بچھا بھی لیں تو چاروں کونوں میں ابھرے ہوئے کونوں کا کیا کریں؟‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم ہر وقت بڑبڑاتے۔۔۔ ’پتا نہیں کیا کاٹھ کباڑ جمع کر رکھا ہے؟ کب چھٹکارا ملے گا؟ بازار میں اتنے پیارے جدید فیشن کے پلنگ جو زیادہ اونچے بھی نہیں ہوتے، جگہ بھی نہیں گھیرتے، جھولا بھی نہیں بنتے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امی سب سنتیں اور نظر انداز کرتیں۔ ہماری بڑبڑاہٹ جب حد سے بڑھ جاتی تب وہ کہتیں، ’پلنگوں کو اگر پھینکنا ہے تو مجھے بھی گھر سے نکالو‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’یہ کیا بات ہوئی؟‘ ہم آنکھیں پھیلا کر کہتے ۔ ’آپ میں اور پلنگوں میں کوئی فرق نہیں بھلا؟‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’نہیں۔۔۔ کوئی فرق نہیں‘، وہ چڑ کر کہتیں۔ ’میں پرانی، میرے پلنگ پرانے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’امی پلیز۔۔۔‘ ہم ان کی منت کرتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’نہیں، ہمارے باپ نے بہت شوق سے بنوائے تھے عظمت رانی کے لیے۔۔۔‘ وہ دل گیر ہوکر کہتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری گھر ہم جب بھی بدلتے، اس بحث کا آغاز ہوتا اور وہ بھی ہماری طرف سے۔۔۔ ہمیشہ! ہمیں گھر سجانے کا بے حد شوق اور وہ بھی نت نئے طریقوں سے۔ ہمارے اسٹائل کے ساتھ وہ پلنگ میچ ہی نہیں کرتے۔ ابا اور باقی بہن بھائی، امی اور ہماری جنگ میں خاموش تماشائی بنتے۔ کس کو منع کرتے؟ عزیز از جان بیٹی کو یا محبوب بیوی کو؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی کھینچا تانی میں ہم ہاسٹل سدھار گئے۔ جب بھی چھٹیوں میں گھر آتے، پلنگ دیکھ کر ایک بار ضرور ناک بھوں چڑھاتے لیکن جوش و خروش میں کافی کمی ہوچکی تھی’۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابا ریٹائر ہوگئے۔ اپنا گھر بنایا۔ ہم لاہور میں ہی تھے جب اپنے گھر میں شفٹ ہوئے۔ جب ہم گھر آئے تو اشتیاق عروج پر تھا پر دل میں ایک کھٹک ضرور تھی، اُف نئے گھر میں وہی پرانے نواڑی پلنگ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گھر آئے، اچھلتے کودتے سب کمروں کی سیر کی۔ ہر کمرے میں نئے پلنگ بچھے تھے، میچنگ سائیڈ ٹیبلز اور ڈریسنگ ٹیبل کے ساتھ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’وہ۔۔۔ وہ۔۔۔ پلنگ۔۔۔‘  ہم ہکلائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’دے دیے۔۔۔ یہاں ایڈجسٹ کرنا مشکل تھا‘، بھائی نے جواب دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم نے امی کی طرف مڑ کر دیکھا، وہ خاموش بیٹھی تھیں، بے تاثر چہرہ لیے۔۔۔ جیسے زیرِ لب کہہ رہی ہوں، ’کیا میری ذات بھی کبھی ایسی ہوگی کہ مشکل سے سمائے؟‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج جس صوفے پر ہم اپنی بیٹی سے بحث کررہے ہیں اس سے ہمارے ابا کی کوئی یاد منسلک نہیں لیکن گزری عمر کی یادیں دل کے تار چھیڑ دیتی ہیں۔ اور ہماری آنکھوں کے سامنے بار بار نواڑی پلنگ آجاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>’یہ صوفہ ساتھ نہیں جائے گا‘، بیٹی نے انگلی سے اشارہ کیا۔</p>
<p>’کون۔۔۔ کون سا؟‘ ہم ہکلاتے ہوئے بولے۔</p>
<p>’وہی جو شاید آپ کو سلطنت کے سلطان نے بھیجا تھا جس دن آپ یہاں پہنچی تھیں‘، وہ ہنس کر بولی۔</p>
<p>’مگر بیٹا، دیکھو تو۔۔۔‘</p>
<p>’امی خدا کے لیے، اس کے اسپرنگ ڈھیلے ہوچکے ہیں، کپڑا پرانا، فوم بیٹھ چکا۔۔۔‘</p>
<p>’بیٹا مرمت کروا لیتے ہیں۔۔۔‘ ہم نے منت کی۔</p>
<p>’کیوں؟ نیا کیوں نہیں؟ کیا آپ کے پاس پیسے نہیں ہیں؟‘</p>
<p>’خریدنا مشکل نہیں ہے لیکن پچھلے 14 برس کا ساتھ ہے۔ وہ دن جب ہم اس گھر میں آئے، ڈرائنگ روم کو تیکھی نظر سے دیکھا، ذہن میں کلر اسکیم تیار کی اور لگے شہر کی فرنیچر دوکانیں کنگھالنے۔ سرکاری صوفہ ہمیں قبول نہیں تھا کہ نہ ڈیزائن دل کو بھاتا تھا نہ رنگ اور زندگی میں مرضی کی چیزوں کے ساتھ مزہ نہ کیا جائے، یہ کیسے ممکن ہے؟‘</p>
<p>خانہ بدوشی کے معنی یہ تو نہیں کہ وقت کے جو رنگ ہتھیلی پر رکھے ہیں ان کو زندگی کا حصہ بنانے کے بجائے اس وقت کا انتظار کیا جائے جب خانہ بدوش دیس کو لوٹیں گے۔ سو ہمیں تو جینا تھا، ہر پل، ہر گھڑی، ہر مشکل، ہر تکلیف ہر دکھ کے ساتھ، ایک پل نم آنکھوں کے ساتھ تو اگلا پل بلند آہنگ قہقہہ۔</p>
<p>سو تام جھام پورا کرنے کے لیے وہ اٹالین صوفہ پسند کیا گیا، ساتھ میں میچنگ افغانی قالین خریدے گئے، کھڑکیوں پر پاکستان سے آرڈر پر چقیں بنوا کر ڈال لیں سو ایک اجنبی سرزمین پر مشرق و مغرب کو اکٹھا کرلیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/0613283390afe9d.jpg'  alt='اس صوفے کا پچھلے 14 برس کا ساتھ تھا' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>اس صوفے کا پچھلے 14 برس کا ساتھ تھا</figcaption>
    </figure></p>
<p>اس صوفے نے ہمیں آدھی رات کو اسپتال جاتے دیکھا تو کبھی عید پر مہمانوں کے ساتھ گپ شپ لگاتے۔ اس نے تم لوگوں کو بچپن کی سرحد پار کرتے دیکھا، تمہاری نانی کا لمس بھی یاد ہوگا اسے جو اس پر بیٹھ کر مہمانوں کو کریلے، ساگ اور نہ جانے کون کون سی ترکیب سنایا کرتی تھیں۔</p>
<p>کیسے جدا کریں ان کو خود سے؟ یہ محض لکڑی اسپرنگ اور کپڑے کا بنا ہوا صوفہ نہیں، یہ ہمارے 14 برس کے دن رات کا ساتھی ہے ۔ کیسے جدا کریں اس کو؟</p>
<p>قصہ یہ تھا کہ 14 برس کے بعد ہمیں اسپتال سے ملا ہوا گھر خالی کرنا تھا۔ وہ جہاں برگد تھا، ہمارا ساتھی۔ نیم، امی کا پسندیدہ۔ اور نئے گھر میں جانے سے پہلے فیصلہ ہورہا تھا کہ کیا رکھا جائے کیا پھینکا جائے۔</p>
<p>ہماری جان جگر کا خیال تھا کہ پرانی چیزوں کی نئے گھر میں کوئی جگہ نہیں۔ ’پرانے تو ہم بھی ہیں بیٹا‘، زیرِ لب کہا۔</p>
<p>یہ جملہ۔۔۔ بالکل یہی جملہ۔۔۔ سنا تھا ہم نے، کہا تھا کسی نے۔۔۔ بالکل یہی، ’پرانے تو ہم بھی ہوگئے ہیں بیٹا‘۔ یوں لگا کہ یہ جملہ بڑا ہوتا جارہا ہو، ہر طرف اس کی گونج ہو۔۔۔ ’پرانے تو ہم بھی ہیں بیٹا، پرانے تو ہم بھی۔۔۔ پرانے۔۔۔ ہم بھی۔۔۔ ہم بھی۔۔۔ ہم بھی۔۔۔‘</p>
<p>اوہ خدایا! یہ جملہ برسوں پہلے کہا گیا تھا اور ہم نے سنی ان سنی کردی تھی یہ کہتے ہوئے ’لو بھلا، پلنگ ہی تو ہیں‘۔</p>
<p>ہماری امی کی شادی نوعمری میں ہوئی۔ نانا نہ صرف زمیندار بلکہ برٹش پولیس میں ڈسٹرکٹ حوالدار بھی تھے۔ ہمیں تو وہ زمانہ نہ مل سکا کہ کچھ ان سے پوچھ ہی لیتے کچھ اس دور کی باتیں کہ وہ محض ایک پرچھائیں کی طرح زندہ تھے اور ہماری نوعمری میں ہی چل بسے۔</p>
<p>امی بتاتی ہیں کہ وہ انگریزی لکھتے پڑھتے تھے، گھر میں سب بچوں کی تاریخِ پیدائش کا ریکارڈ انہوں نے ہی مرتب کیا تھا اور اسی لیے امی سب کو بڑے فخر سے کہتیں میرے ابا نے اپنے ہاتھ سے رجسٹر میں لکھا ’عظمت سیدہ ، سترہ اگست ، انیس سو بتیس‘۔</p>
<p>امی نے اپنے بچپن میں گھر میں بدیسی چیزیں دیکھیں جو نانا چھٹی پر آتے تو ان کے ساتھ ہوتیں۔ سائیکل، ریڈیو، گراموفون اور نہ جانے کیا کچھ۔</p>
<p>امی بڑی بیٹی تھیں۔ شادی ہوئی تو آرڈر پر پیتل کے ڈھیروں برتن بنوائے گئے۔ ہر پلیٹ، گلاس، جگ اور ٹرے کے پیچھے لکھا تھا، حوالدار برکت علی شاہ۔ اور بہت سی شاہانہ چیزوں کے ساتھ جہیز میں امی کو دو پلنگ بھی ملے۔ رنگین پایوں والے شاہانہ نواڑی پلنگ، پشت پر آئینوں اور رنگوں کی مینا کاری۔</p>
<p>ہم نے آنکھ کھولی تو دونوں پلنگوں کی پشت تو اُتر چکی تھی لیکن ان کو جوڑنے کی جگہ پر وہ سوراخ باقی تھے جو کھوئے ہوئے حصے کو یاد کرتے تھے۔ ہر پلنگ اتنا بڑا کہ ہر ایک پر 2، 3 افراد آسانی سے سو سکتے تھے۔ ہم اور ہماری آپا ایک ہی پلنگ پر علیحدہ کمبل لےکر سویا کرتے تھے۔</p>
<p>اماں کو ان پلنگوں سے عشق تھا شاید وہ ان کے ابا یا شاید میکے میں گزرے دنوں کی یاد دلاتے تھے۔ جب بھی نواڑ ڈھیلی پڑ جاتی وہ پلنگوں کو صحن میں نکلواتیں، جھاڑتیں، دھوپ لگواتیں اور پھر نواڑ کستیں۔ نواڑ کسنے میں کئی بار ہم نے اسسٹنٹ کی ڈیوٹی سرانجام دی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/06133945bab8048.jpg?r=134102'  alt='اماں کو ان پلنگوں سے عشق تھا شاید وہ ان کے ابا یا شاید میکے میں گزرے دنوں کی یاد دلاتے تھے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>اماں کو ان پلنگوں سے عشق تھا شاید وہ ان کے ابا یا شاید میکے میں گزرے دنوں کی یاد دلاتے تھے</figcaption>
    </figure></p>
<p>کبھی انہیں شک ہوتا کہ نواڑ میلی ہوچکی اور بو آرہی ہے تو وہ فورا نواڑ ادھیڑ کر دھو ڈالتیں۔ شیطان کی آنت کی طرح طویل نواڑ، جس سے پلنگ کو دو طرف سے بُنا گیا ہوتا، 60، 70 گز سے کیا ہی کم ہوگی؟ ایک عورت اسے کھولتی، دھوتی، سکھاتی اور پھر دوبارہ پلنگ بنتی۔</p>
<p>نہ جانے اس سب میں کیا کیا نہ یاد کرتی ہوں گی وہ؟ میکے میں گزرے وہ دن جب وہ نہ صرف ماں باپ کی لاڈلی تھیں بلکہ سوتیلی ماں، تائی، پھوپھی اور بڑے بھائیوں کی آنکھ کا تارا بھی تھیں۔</p>
<p>پلنگ جہازی سائز کے تھے اور انہیں کمرے میں جب رکھا جاتا تو پھر کسی اور چیز کی جگہ نہ بچتی اور بدقستمی سے وہ کمرہ ہمارا یعنی بہنوں کا ہی ہوتا۔</p>
<p>ہمیں ان پلنگوں سے شدید چڑ تھی ’کیا مصیبت ہے؟ باوا آدم کے زمانے کے پلنگ، پرانا فیشن، کوئی بیڈکور پورا ہی نہیں آتا۔ کچھ کھینچ تان کر بچھا بھی لیں تو چاروں کونوں میں ابھرے ہوئے کونوں کا کیا کریں؟‘</p>
<p>ہم ہر وقت بڑبڑاتے۔۔۔ ’پتا نہیں کیا کاٹھ کباڑ جمع کر رکھا ہے؟ کب چھٹکارا ملے گا؟ بازار میں اتنے پیارے جدید فیشن کے پلنگ جو زیادہ اونچے بھی نہیں ہوتے، جگہ بھی نہیں گھیرتے، جھولا بھی نہیں بنتے‘۔</p>
<p>امی سب سنتیں اور نظر انداز کرتیں۔ ہماری بڑبڑاہٹ جب حد سے بڑھ جاتی تب وہ کہتیں، ’پلنگوں کو اگر پھینکنا ہے تو مجھے بھی گھر سے نکالو‘۔</p>
<p>’یہ کیا بات ہوئی؟‘ ہم آنکھیں پھیلا کر کہتے ۔ ’آپ میں اور پلنگوں میں کوئی فرق نہیں بھلا؟‘</p>
<p>’نہیں۔۔۔ کوئی فرق نہیں‘، وہ چڑ کر کہتیں۔ ’میں پرانی، میرے پلنگ پرانے‘۔</p>
<p>’امی پلیز۔۔۔‘ ہم ان کی منت کرتے۔</p>
<p>’نہیں، ہمارے باپ نے بہت شوق سے بنوائے تھے عظمت رانی کے لیے۔۔۔‘ وہ دل گیر ہوکر کہتیں۔</p>
<p>سرکاری گھر ہم جب بھی بدلتے، اس بحث کا آغاز ہوتا اور وہ بھی ہماری طرف سے۔۔۔ ہمیشہ! ہمیں گھر سجانے کا بے حد شوق اور وہ بھی نت نئے طریقوں سے۔ ہمارے اسٹائل کے ساتھ وہ پلنگ میچ ہی نہیں کرتے۔ ابا اور باقی بہن بھائی، امی اور ہماری جنگ میں خاموش تماشائی بنتے۔ کس کو منع کرتے؟ عزیز از جان بیٹی کو یا محبوب بیوی کو؟</p>
<p>اسی کھینچا تانی میں ہم ہاسٹل سدھار گئے۔ جب بھی چھٹیوں میں گھر آتے، پلنگ دیکھ کر ایک بار ضرور ناک بھوں چڑھاتے لیکن جوش و خروش میں کافی کمی ہوچکی تھی’۔</p>
<p>ابا ریٹائر ہوگئے۔ اپنا گھر بنایا۔ ہم لاہور میں ہی تھے جب اپنے گھر میں شفٹ ہوئے۔ جب ہم گھر آئے تو اشتیاق عروج پر تھا پر دل میں ایک کھٹک ضرور تھی، اُف نئے گھر میں وہی پرانے نواڑی پلنگ۔</p>
<p>گھر آئے، اچھلتے کودتے سب کمروں کی سیر کی۔ ہر کمرے میں نئے پلنگ بچھے تھے، میچنگ سائیڈ ٹیبلز اور ڈریسنگ ٹیبل کے ساتھ۔</p>
<p>’وہ۔۔۔ وہ۔۔۔ پلنگ۔۔۔‘  ہم ہکلائے۔</p>
<p>’دے دیے۔۔۔ یہاں ایڈجسٹ کرنا مشکل تھا‘، بھائی نے جواب دیا۔</p>
<p>ہم نے امی کی طرف مڑ کر دیکھا، وہ خاموش بیٹھی تھیں، بے تاثر چہرہ لیے۔۔۔ جیسے زیرِ لب کہہ رہی ہوں، ’کیا میری ذات بھی کبھی ایسی ہوگی کہ مشکل سے سمائے؟‘</p>
<p>آج جس صوفے پر ہم اپنی بیٹی سے بحث کررہے ہیں اس سے ہمارے ابا کی کوئی یاد منسلک نہیں لیکن گزری عمر کی یادیں دل کے تار چھیڑ دیتی ہیں۔ اور ہماری آنکھوں کے سامنے بار بار نواڑی پلنگ آجاتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1202142</guid>
      <pubDate>Tue, 09 May 2023 15:35:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر طاہرہ کاظمی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/05/06133945bab8048.jpg?r=134102" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/05/06133945bab8048.jpg?r=134102"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بُک ریویو: ’میرا زمانہ میری کہانی‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1202049/</link>
      <description>&lt;p&gt;یہ جولائی 2015ء کی بات ہے۔ لندن میں واقع برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کے ہیڈکوارٹرز میں ملکہ برطانیہ کی موت کی خبر دینے کی معمول کی مشق ہورہی تھی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ عملے کو ایک ایسے دن اس غیرمعمولی صورتحال سے نمٹنے کی تربیت دی جارہی تھی جس دن ملکہ اپنے طبی معائنے کے لیے اسپتال گئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلیٰ حکام تو مشق کے حوالے سے مطلع تھے لیکن بی بی سی اردو سروس کے ایک رپورٹر کو اس کا علم نہیں تھا۔ اس نے جب عمارت کے اندر لگے مانیٹر پر نظر ڈالی تو وہاں ملکہِ برطانیہ کی موت کی خبر درج تھی، رپورٹر بوکھلا گیا اور اس نے یہ خبر بریک کردی جس کے بعد ایک طوفان برپا ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کتاب ’میرا زمانہ میری کہانی‘ میں درج کئی قصوں میں سے ایک قصہ ہے۔ یہ کتاب پاکستان ٹیلی ویژن کے عروج کے وقت اس کا حصہ رہنے والے چند مشہور چہروں میں سے ایک معروف پرائم ٹائم نیوزکاسٹر ماہ پارہ صفدر کی سوانح عمری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے قارئین کو پرانے وقتوں میں واپس لے جاتے ہوئے ماہ پارہ صفدر نے لکھا کہ انہوں نے ماہ پارہ زیدی کی حیثیت سے 1974ء میں ریڈیو پاکستان سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا تھا اور پھر انہوں نے اپنے اگلے 15 برس، کبھی ریڈیو اور کبھی ٹیلی ویژن کے لیے کام کرتے گزارے۔ اسی دوران وہ مشہور شاعر صفدر ہمدانی سے رشتہِ ازدواج میں وابستہ ہوگئیں اور 1990ء تک وہ بی بی سی اردو سروس میں کام کرنے کے لیے لندن منتقل ہوچکی تھیں۔ اس وقت ان کے خاوند کی جاپان میں ملازمت ہوگئی تو انہوں نے اپنے بچوں کے ہمراہ چند سال برطانیہ میں اکیلے گزارے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/0314290436b5845.jpg'  alt='  ماہ پارہ صفدر ریڈیو پاکستان میں موجود ہیں &amp;mdash; تصویر: کتاب میرا زمانہ میری کہانی  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ماہ پارہ صفدر ریڈیو پاکستان میں موجود ہیں — تصویر: کتاب میرا زمانہ میری کہانی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کتاب میرا زمانہ میری کہانی 3 حصوں پر مشتمل ہے جس میں پہلے حصے میں ماہ پارہ صفدر نے سرگودھا میں اپنی ابتدائی زندگی اور لاہور کا ذکر کیا ہے جہاں سے انہوں نے اپنی تعلیم مکمل کی۔ پھر انہوں نے اپنے والدین کی ان کے شوق کی بھرپور حمایت کرنے، ان کے ٹیلی ویژن آڈیشن، جنرل ضیاالحق کے مارشل لا اور اس دور کے سماجی واقعات کا بھی ذکر کیا ہے۔ تیسرے حصے میں بیرونِ ملک ان کی زندگی، بی بی سی میں ان کے کیریئر، سماجی و ثقافتی مشکلات جن کا انہوں نے برطانیہ میں سامنا کیا اور چند یادگار انٹرویوز اور پروجیکٹس کا تذکرہ کیا ہے۔ آخری چند صفحات پر موجود ان کے منتخب اشعار سے ان کی شاعرانہ صفت کی جھلک بھی ہمیں دیکھنے کو ملتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ 6 بہنیں ہیں اور وہ اپنے اہلِ خانہ کو ملنے والے طعنوں کے حوالے سے لکھتی ہیں کہ ان کے والد کو ’بیٹیوں والے زیدی صاحب‘ کے نام سے پکارا جاتا تھا اور بیٹیوں کی پیدائش پر ان سے افسوس کیا جاتا تھا۔ لیکن ان واقعات نے انہیں کمزور نہیں بلکہ مزید مضبوط بنایا اور اس بات کا سہرا وہ اپنی والدہ کو دیتی ہیں جنہوں نےاس وقت  اپنی 6 بیٹیوں کی تعلیم کو یقینی بنایا جب لڑکیوں کی تعلیم حاصل کرنے کی حوصلہ شکنی کی جارہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے انہوں نے 1958ء کے مارشل لا، 1965ء کی جنگ میں اسکواڈرن لیڈر ایم ایم عالم کی مشہورِ زمانہ ایئر اسٹرائیک میں بھارتی جہازوں کی تباہی اور ذوالفقار علی بھٹو کا عروج جن کی 1970ء کے انتخابات سے قبل سرگودھا آمد ہوئی تھی، ان تمام واقعات کو یاد کیا ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ 1971ء کی جنگ کے اختتام تک وہ اس وقت جاری مذہبی اور نسلی تنازعات کے نتیجے میں معاشرے میں تقسیم کو محسوس کرسکتی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/031432057c1aea0.jpg'  alt='  ماہ پارہ صفدر اداکار منور سعید کا انٹرویو کرتے ہوئے  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ماہ پارہ صفدر اداکار منور سعید کا انٹرویو کرتے ہوئے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہ پارہ صفدر کی تحریر کا دوٹوک انداز اور معروف شعرا کے اشعار ا استعمال، حتیٰ کہ مشہور گانوں کے حوالہ جات بھی توجہ اپنی جانب مبذول کرواتے ہیں۔ اہم واقعات کے پیچھے ’حقیقی‘ کہانیوں کو یاد کرنے میں ان کی  یادداشت اور تفصیلات سے یہ گمان ہوتا ہے جیسے ہم کوئی خبرنامہ دیکھ رہے ہوں جس میں واقعات کو غیرجانب دارانہ انداز میں بیان کیا جاتا ہے۔ وہ اپنی صاف اردو کے لیے جانی جاتی ہیں اور  زبان پر مہارت ان کی تحریر پر بھی نظر آتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ہمیں تاریخ کے بہت سے واقعات کی دوبارہ یاد دلائی ہے جن میں سر ڈھانپنے سے انکار پر مہتاب اکبر راشدی کو پی ٹی وی سے برطرف کرنے کا معاملہ، ضیاالحق کے آمرانہ دور میں سیاسی مخالفین اور صحافیوں کو سرِعام کوڑے مارنا اور 1977ء میں پاکستان قومی اتحاد (پی این اے) کی کوریج کو روکنے کی ’محتاط‘ کوششیں شامل ہیں۔ تاہم اس طرح ماضی کے لوگوں کا جذبہ مزاحمت پڑھ کر خوشی ضرور ہوتی ہے۔ تاہم جنرل ضیاالحق کا عروج و زوال، اوجڑی کیمپ دھماکے اور پھر وزیراعظم محمد خان جونیجو کی بےبسی کو یاد کرکے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنرل ضیاالحق کے اقتدار سنبھالنے سے قبل بھی پی ٹی وی سربراہِ مملکت (یاحکومت) کے حکم کی تعمیل کرنے کا عادی تھا۔ اس کی مثال دیتے ہوئے ماہ پارہ صفدر لکھتی ہیں کہ جس دن 1973ء کا آئین پاس ہوا تھا، اس دن اپنی مصروفیات کی وجہ سے صدرِ مملکت ذوالفقار علی بھٹو پی ٹی وی کا خبرنامہ نہیں دیکھ پائے تھے۔ پی ٹی وی نے خصوصاً ان کے لیے مکمل ریکارڈنگ دوبارہ ٹی وی پر چلائی حالانکہ انہیں اس دن کے خبرنامے کی ٹیپ بھی بھیجی جاسکتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/03143327d4f1c8a.jpg'  alt='  ماہ پارہ صفدر گلوکار فریدہ خانم کے ساتھ  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ماہ پارہ صفدر گلوکار فریدہ خانم کے ساتھ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعدازاں 5 جولائی 1977ء کو جب ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹا گیا تب ریڈیو پر صبح کے خبرنامے میں حکومت اور پی این اے کے درمیان مذاکرات کامیاب ہونے کی خبر دی گئی لیکن پھر دن کا اختتام ملک میں مارشل لا کے نفاذ کی خبر کے ساتھ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہ پارہ صفدر نے جنرل ضیاالحق کے ’تخت سنبھالنے‘ کے بعد خواتین کے ملبوسات کے حوالے سے سخت پابندیوں کا بھی بھرپور ذکر کیا ہے۔ خاتون نیوز کاسٹرز سر ڈھانپنے کی پابند تھیں اور کچھ وقت کے لیے ان کے میک اپ کرنے پر پابندی تھی جس کی وجہ سے ’خبرنامہ‘ تبدیل ہوکر ’ضیانامہ‘ بن گیا تھا۔ شدید تنقید کے بعد میک اپ کرنے پر پابندی تو اٹھا لی گئی لیکن ڈوپٹے سے سر ڈھانپنے کی پابندی برقرار رہی اور ماہ پارہ صفدر جس انداز میں اپنے بال اونچے کرکے ڈوپٹہ سر پر لیا کرتی تھیں، اس سے ان پر اس پابندی کا مذاق اڑانے کا الزام بھی عائد کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خاتمے، جنرل ضیاالحق کے ریفرنڈم، 1985ء کے عام انتخابات اور ذوالفقار علی بھٹو کی صاحبزادی بے نظیر بھٹو کے عروج کا پس منظر بھی کیا۔ وہ اس دور کی سنسرشپ کو مضحکہ خیز قرار دیتی ہیں جب ’بھٹو‘ سمیت کئی ناموں کو آن ایئر لینے پر پابندی عائد تھی تو ایسے حالات میں بی بی سی ریڈیو پاکستان میں خبریں دینے کا مستند ذریعہ بن گیا تھا۔ جب مارشل لا کے خاتمے کا اعلان کیا گیا تب پارلیمان پُرجوش تالیوں کی آواز سے گونج اٹھا تھا اور اس حوالے سے ماہ پارہ صفدر کی تفصیلی وضاحت سے قارئین کو محسوس ہوگا کہ جیسے وہ واقعی ان تالیوں کو سن سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ لکھتی ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کی خبر کا اعلان ہونا تھا تب ان سے پوچھا گیا تھا کہ کیا آپ یہ خبر پڑھ سکیں گی۔ چونکہ خبریں پڑھنا ان کا کام تھا اس لیے انہوں نے یہ ذمہ داری پیشہ ورانہ انداز میں سرانجام دی۔ تاہم وہ اس بات پر پریشان تھیں کہ 9 سال بعد جب جنرل ضیاالحق کا طیارہ گر کر تباہ ہوا تب پی ٹی وی کے اسٹوڈیوز میں موجود ہونے کے باوجود انہیں یہ خبر پڑھنے سے روک دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1989ء کے اختتام پر ماہ پارہ صفدر بی بی سی کی اردو سروس کے لیے منتخب ہوگئی تھیں لیکن ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل تھا اور اس وقت کی وزیراعظم بے نظیر بھٹو سے کلیئرنس حاصل کرنے کے لیے انہیں اپنی راہ میں حائل بیوروکریٹک رکاوٹوں کو ہٹانا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کتاب کے ایک باب میں انہوں نے پی ٹی وی میں اپنے ساتھیوں کی خوب تعریف کی ہے۔ اس خراجِ تحسین سے ماضی کے ’اچھے دونوں‘ کی یاد بھی تازہ ہوتی ہے جب کمپیوٹر حتیٰ کہ ٹیلی پرامپٹرز کا استعمال بھی کسی خواب کی مانند تھا۔ ایسے دور میں خبریں کیسے جمع کی جاتی تھیں، خبرنامے کیسے ایڈٹ ہوتے تھے اور اسکرپٹ اور ویژول کے لیے موجودہ دور سے ہٹ کر کس مہارت اور تکنیک کی ضرورت ہوتی تھی، ان سب چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ میں رہائش اختیار کرنے کے بعد ماہ پارہ صفدر نظروں سے تو اوجھل ہوگئی تھیں لیکن بی بی سی ریڈیو کی اردو سروس کے ذریعے ان کی آواز لوگوں کے گھروں تک پہنچ رہی تھی۔ اگلے 25 سال تک انہوں نے خواتین کے لیے خصوصی پروگرامز کیے اور متعدد مشہور شخصیات اور سیاستدانوں کے انٹرویوز کیے۔ ان کی کتاب میں موجود یادگار تصاویر میں معروف شخصیات جیسے گلوکار مہدی حسن اور فریدہ خانم، بولی وڈ اداکار دلیپ کمار اور سیاست دان سردار اکبر بگٹی کے ساتھ ان کی تصاویر شامل ہیں، جوکہ ان کے بہترین کام کی ترجمانی کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ بکنگھم پیلس میں منعقد ہونے والی ایک گارڈن پارٹی کے بارے میں لکھتی ہیں کہ وہاں ان کی ملاقات ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم سے ہوئی۔ وہ کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک خود ساختہ جلاوطن رہنما کے ولیمے کی تقریب کے حوالے سے بھی لکھتی ہیں جہاں شاندار انتظامات دیکھ کر انہیں حیرت ہوئی کیونکہ اس رہنما کے بارے میں یہ تصور کیا جاتا تھا کہ وہ متوسط طبقے کی زندگیوں میں انقلاب لےکر آئیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دوران ماہ پارہ صفدر نے اپنی تعلیم کو جاری رکھا اور یونیورسٹی آف لندن سے وومنز اسٹڈیز میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ وہ اپنے خاوند کی بھی تعریف کرتی ہیں جنہوں نے ہر قدم پر ان کا ساتھ دیا اور کتاب میں ان کی شادی شدہ زندگی کی جھلکیاں بھی ہمیں دیکھنے کو ملتی ہیں جس کو 40 سال ہوچکے ہیں اور ان دونوں کا رشتہ اب بھی مضبوط ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کتاب ’میرا زمانہ میری کہانی‘ ان لوگوں کو ضرور پڑھنی چاہیے جو 1970ء اور 1980ء کی دہائی کے واقعات سے خود کو جوڑ سکتے ہیں۔ یہ کتاب نوجوان نسل کی رہنمائی بھی کرسکتی ہے، خاص طور پر ان لوگوں کی جو میڈیا میں اپنا نام کمانا چاہتے ہیں اور یہ ان نوجوان لڑکیوں کو بھی متاثر کرنے کا ذریعہ ثابت ہوسکتی ہے جو معاشرتی روایات اور پدرشاہی نظام کے طوق سے آزاد ہونا چاہتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;کتاب کا نام: میرا زمانہ میری کہانی&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصنفہ: ماہ پارہ صفدر&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناشر: بُک کارنر، جہلم&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صفحات: 464&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1748831/non-fiction-witness-to-history"&gt;مضمون&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; 22 اپریل 2023ء کو ڈان بُکس اینڈ اوتھرز میں شائع ہوا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>یہ جولائی 2015ء کی بات ہے۔ لندن میں واقع برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کے ہیڈکوارٹرز میں ملکہ برطانیہ کی موت کی خبر دینے کی معمول کی مشق ہورہی تھی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ عملے کو ایک ایسے دن اس غیرمعمولی صورتحال سے نمٹنے کی تربیت دی جارہی تھی جس دن ملکہ اپنے طبی معائنے کے لیے اسپتال گئی تھیں۔</p>
<p>اعلیٰ حکام تو مشق کے حوالے سے مطلع تھے لیکن بی بی سی اردو سروس کے ایک رپورٹر کو اس کا علم نہیں تھا۔ اس نے جب عمارت کے اندر لگے مانیٹر پر نظر ڈالی تو وہاں ملکہِ برطانیہ کی موت کی خبر درج تھی، رپورٹر بوکھلا گیا اور اس نے یہ خبر بریک کردی جس کے بعد ایک طوفان برپا ہوگیا۔</p>
<p>یہ کتاب ’میرا زمانہ میری کہانی‘ میں درج کئی قصوں میں سے ایک قصہ ہے۔ یہ کتاب پاکستان ٹیلی ویژن کے عروج کے وقت اس کا حصہ رہنے والے چند مشہور چہروں میں سے ایک معروف پرائم ٹائم نیوزکاسٹر ماہ پارہ صفدر کی سوانح عمری ہے۔</p>
<p>اپنے قارئین کو پرانے وقتوں میں واپس لے جاتے ہوئے ماہ پارہ صفدر نے لکھا کہ انہوں نے ماہ پارہ زیدی کی حیثیت سے 1974ء میں ریڈیو پاکستان سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا تھا اور پھر انہوں نے اپنے اگلے 15 برس، کبھی ریڈیو اور کبھی ٹیلی ویژن کے لیے کام کرتے گزارے۔ اسی دوران وہ مشہور شاعر صفدر ہمدانی سے رشتہِ ازدواج میں وابستہ ہوگئیں اور 1990ء تک وہ بی بی سی اردو سروس میں کام کرنے کے لیے لندن منتقل ہوچکی تھیں۔ اس وقت ان کے خاوند کی جاپان میں ملازمت ہوگئی تو انہوں نے اپنے بچوں کے ہمراہ چند سال برطانیہ میں اکیلے گزارے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/0314290436b5845.jpg'  alt='  ماہ پارہ صفدر ریڈیو پاکستان میں موجود ہیں &mdash; تصویر: کتاب میرا زمانہ میری کہانی  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ماہ پارہ صفدر ریڈیو پاکستان میں موجود ہیں — تصویر: کتاب میرا زمانہ میری کہانی</figcaption>
    </figure></p>
<p>کتاب میرا زمانہ میری کہانی 3 حصوں پر مشتمل ہے جس میں پہلے حصے میں ماہ پارہ صفدر نے سرگودھا میں اپنی ابتدائی زندگی اور لاہور کا ذکر کیا ہے جہاں سے انہوں نے اپنی تعلیم مکمل کی۔ پھر انہوں نے اپنے والدین کی ان کے شوق کی بھرپور حمایت کرنے، ان کے ٹیلی ویژن آڈیشن، جنرل ضیاالحق کے مارشل لا اور اس دور کے سماجی واقعات کا بھی ذکر کیا ہے۔ تیسرے حصے میں بیرونِ ملک ان کی زندگی، بی بی سی میں ان کے کیریئر، سماجی و ثقافتی مشکلات جن کا انہوں نے برطانیہ میں سامنا کیا اور چند یادگار انٹرویوز اور پروجیکٹس کا تذکرہ کیا ہے۔ آخری چند صفحات پر موجود ان کے منتخب اشعار سے ان کی شاعرانہ صفت کی جھلک بھی ہمیں دیکھنے کو ملتی ہے۔</p>
<p>وہ 6 بہنیں ہیں اور وہ اپنے اہلِ خانہ کو ملنے والے طعنوں کے حوالے سے لکھتی ہیں کہ ان کے والد کو ’بیٹیوں والے زیدی صاحب‘ کے نام سے پکارا جاتا تھا اور بیٹیوں کی پیدائش پر ان سے افسوس کیا جاتا تھا۔ لیکن ان واقعات نے انہیں کمزور نہیں بلکہ مزید مضبوط بنایا اور اس بات کا سہرا وہ اپنی والدہ کو دیتی ہیں جنہوں نےاس وقت  اپنی 6 بیٹیوں کی تعلیم کو یقینی بنایا جب لڑکیوں کی تعلیم حاصل کرنے کی حوصلہ شکنی کی جارہی تھی۔</p>
<p>اپنی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے انہوں نے 1958ء کے مارشل لا، 1965ء کی جنگ میں اسکواڈرن لیڈر ایم ایم عالم کی مشہورِ زمانہ ایئر اسٹرائیک میں بھارتی جہازوں کی تباہی اور ذوالفقار علی بھٹو کا عروج جن کی 1970ء کے انتخابات سے قبل سرگودھا آمد ہوئی تھی، ان تمام واقعات کو یاد کیا ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ 1971ء کی جنگ کے اختتام تک وہ اس وقت جاری مذہبی اور نسلی تنازعات کے نتیجے میں معاشرے میں تقسیم کو محسوس کرسکتی تھیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/031432057c1aea0.jpg'  alt='  ماہ پارہ صفدر اداکار منور سعید کا انٹرویو کرتے ہوئے  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ماہ پارہ صفدر اداکار منور سعید کا انٹرویو کرتے ہوئے</figcaption>
    </figure></p>
<p>ماہ پارہ صفدر کی تحریر کا دوٹوک انداز اور معروف شعرا کے اشعار ا استعمال، حتیٰ کہ مشہور گانوں کے حوالہ جات بھی توجہ اپنی جانب مبذول کرواتے ہیں۔ اہم واقعات کے پیچھے ’حقیقی‘ کہانیوں کو یاد کرنے میں ان کی  یادداشت اور تفصیلات سے یہ گمان ہوتا ہے جیسے ہم کوئی خبرنامہ دیکھ رہے ہوں جس میں واقعات کو غیرجانب دارانہ انداز میں بیان کیا جاتا ہے۔ وہ اپنی صاف اردو کے لیے جانی جاتی ہیں اور  زبان پر مہارت ان کی تحریر پر بھی نظر آتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے ہمیں تاریخ کے بہت سے واقعات کی دوبارہ یاد دلائی ہے جن میں سر ڈھانپنے سے انکار پر مہتاب اکبر راشدی کو پی ٹی وی سے برطرف کرنے کا معاملہ، ضیاالحق کے آمرانہ دور میں سیاسی مخالفین اور صحافیوں کو سرِعام کوڑے مارنا اور 1977ء میں پاکستان قومی اتحاد (پی این اے) کی کوریج کو روکنے کی ’محتاط‘ کوششیں شامل ہیں۔ تاہم اس طرح ماضی کے لوگوں کا جذبہ مزاحمت پڑھ کر خوشی ضرور ہوتی ہے۔ تاہم جنرل ضیاالحق کا عروج و زوال، اوجڑی کیمپ دھماکے اور پھر وزیراعظم محمد خان جونیجو کی بےبسی کو یاد کرکے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔</p>
<p>جنرل ضیاالحق کے اقتدار سنبھالنے سے قبل بھی پی ٹی وی سربراہِ مملکت (یاحکومت) کے حکم کی تعمیل کرنے کا عادی تھا۔ اس کی مثال دیتے ہوئے ماہ پارہ صفدر لکھتی ہیں کہ جس دن 1973ء کا آئین پاس ہوا تھا، اس دن اپنی مصروفیات کی وجہ سے صدرِ مملکت ذوالفقار علی بھٹو پی ٹی وی کا خبرنامہ نہیں دیکھ پائے تھے۔ پی ٹی وی نے خصوصاً ان کے لیے مکمل ریکارڈنگ دوبارہ ٹی وی پر چلائی حالانکہ انہیں اس دن کے خبرنامے کی ٹیپ بھی بھیجی جاسکتی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/05/03143327d4f1c8a.jpg'  alt='  ماہ پارہ صفدر گلوکار فریدہ خانم کے ساتھ  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ماہ پارہ صفدر گلوکار فریدہ خانم کے ساتھ</figcaption>
    </figure></p>
<p>بعدازاں 5 جولائی 1977ء کو جب ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹا گیا تب ریڈیو پر صبح کے خبرنامے میں حکومت اور پی این اے کے درمیان مذاکرات کامیاب ہونے کی خبر دی گئی لیکن پھر دن کا اختتام ملک میں مارشل لا کے نفاذ کی خبر کے ساتھ ہوا۔</p>
<p>ماہ پارہ صفدر نے جنرل ضیاالحق کے ’تخت سنبھالنے‘ کے بعد خواتین کے ملبوسات کے حوالے سے سخت پابندیوں کا بھی بھرپور ذکر کیا ہے۔ خاتون نیوز کاسٹرز سر ڈھانپنے کی پابند تھیں اور کچھ وقت کے لیے ان کے میک اپ کرنے پر پابندی تھی جس کی وجہ سے ’خبرنامہ‘ تبدیل ہوکر ’ضیانامہ‘ بن گیا تھا۔ شدید تنقید کے بعد میک اپ کرنے پر پابندی تو اٹھا لی گئی لیکن ڈوپٹے سے سر ڈھانپنے کی پابندی برقرار رہی اور ماہ پارہ صفدر جس انداز میں اپنے بال اونچے کرکے ڈوپٹہ سر پر لیا کرتی تھیں، اس سے ان پر اس پابندی کا مذاق اڑانے کا الزام بھی عائد کیا گیا۔</p>
<p>انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خاتمے، جنرل ضیاالحق کے ریفرنڈم، 1985ء کے عام انتخابات اور ذوالفقار علی بھٹو کی صاحبزادی بے نظیر بھٹو کے عروج کا پس منظر بھی کیا۔ وہ اس دور کی سنسرشپ کو مضحکہ خیز قرار دیتی ہیں جب ’بھٹو‘ سمیت کئی ناموں کو آن ایئر لینے پر پابندی عائد تھی تو ایسے حالات میں بی بی سی ریڈیو پاکستان میں خبریں دینے کا مستند ذریعہ بن گیا تھا۔ جب مارشل لا کے خاتمے کا اعلان کیا گیا تب پارلیمان پُرجوش تالیوں کی آواز سے گونج اٹھا تھا اور اس حوالے سے ماہ پارہ صفدر کی تفصیلی وضاحت سے قارئین کو محسوس ہوگا کہ جیسے وہ واقعی ان تالیوں کو سن سکتے ہیں۔</p>
<p>وہ لکھتی ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کی خبر کا اعلان ہونا تھا تب ان سے پوچھا گیا تھا کہ کیا آپ یہ خبر پڑھ سکیں گی۔ چونکہ خبریں پڑھنا ان کا کام تھا اس لیے انہوں نے یہ ذمہ داری پیشہ ورانہ انداز میں سرانجام دی۔ تاہم وہ اس بات پر پریشان تھیں کہ 9 سال بعد جب جنرل ضیاالحق کا طیارہ گر کر تباہ ہوا تب پی ٹی وی کے اسٹوڈیوز میں موجود ہونے کے باوجود انہیں یہ خبر پڑھنے سے روک دیا گیا۔</p>
<p>1989ء کے اختتام پر ماہ پارہ صفدر بی بی سی کی اردو سروس کے لیے منتخب ہوگئی تھیں لیکن ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل تھا اور اس وقت کی وزیراعظم بے نظیر بھٹو سے کلیئرنس حاصل کرنے کے لیے انہیں اپنی راہ میں حائل بیوروکریٹک رکاوٹوں کو ہٹانا تھا۔</p>
<p>کتاب کے ایک باب میں انہوں نے پی ٹی وی میں اپنے ساتھیوں کی خوب تعریف کی ہے۔ اس خراجِ تحسین سے ماضی کے ’اچھے دونوں‘ کی یاد بھی تازہ ہوتی ہے جب کمپیوٹر حتیٰ کہ ٹیلی پرامپٹرز کا استعمال بھی کسی خواب کی مانند تھا۔ ایسے دور میں خبریں کیسے جمع کی جاتی تھیں، خبرنامے کیسے ایڈٹ ہوتے تھے اور اسکرپٹ اور ویژول کے لیے موجودہ دور سے ہٹ کر کس مہارت اور تکنیک کی ضرورت ہوتی تھی، ان سب چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے۔</p>
<p>برطانیہ میں رہائش اختیار کرنے کے بعد ماہ پارہ صفدر نظروں سے تو اوجھل ہوگئی تھیں لیکن بی بی سی ریڈیو کی اردو سروس کے ذریعے ان کی آواز لوگوں کے گھروں تک پہنچ رہی تھی۔ اگلے 25 سال تک انہوں نے خواتین کے لیے خصوصی پروگرامز کیے اور متعدد مشہور شخصیات اور سیاستدانوں کے انٹرویوز کیے۔ ان کی کتاب میں موجود یادگار تصاویر میں معروف شخصیات جیسے گلوکار مہدی حسن اور فریدہ خانم، بولی وڈ اداکار دلیپ کمار اور سیاست دان سردار اکبر بگٹی کے ساتھ ان کی تصاویر شامل ہیں، جوکہ ان کے بہترین کام کی ترجمانی کرتی ہیں۔</p>
<p>وہ بکنگھم پیلس میں منعقد ہونے والی ایک گارڈن پارٹی کے بارے میں لکھتی ہیں کہ وہاں ان کی ملاقات ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم سے ہوئی۔ وہ کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک خود ساختہ جلاوطن رہنما کے ولیمے کی تقریب کے حوالے سے بھی لکھتی ہیں جہاں شاندار انتظامات دیکھ کر انہیں حیرت ہوئی کیونکہ اس رہنما کے بارے میں یہ تصور کیا جاتا تھا کہ وہ متوسط طبقے کی زندگیوں میں انقلاب لےکر آئیں گے۔</p>
<p>اس دوران ماہ پارہ صفدر نے اپنی تعلیم کو جاری رکھا اور یونیورسٹی آف لندن سے وومنز اسٹڈیز میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ وہ اپنے خاوند کی بھی تعریف کرتی ہیں جنہوں نے ہر قدم پر ان کا ساتھ دیا اور کتاب میں ان کی شادی شدہ زندگی کی جھلکیاں بھی ہمیں دیکھنے کو ملتی ہیں جس کو 40 سال ہوچکے ہیں اور ان دونوں کا رشتہ اب بھی مضبوط ہے۔</p>
<p>کتاب ’میرا زمانہ میری کہانی‘ ان لوگوں کو ضرور پڑھنی چاہیے جو 1970ء اور 1980ء کی دہائی کے واقعات سے خود کو جوڑ سکتے ہیں۔ یہ کتاب نوجوان نسل کی رہنمائی بھی کرسکتی ہے، خاص طور پر ان لوگوں کی جو میڈیا میں اپنا نام کمانا چاہتے ہیں اور یہ ان نوجوان لڑکیوں کو بھی متاثر کرنے کا ذریعہ ثابت ہوسکتی ہے جو معاشرتی روایات اور پدرشاہی نظام کے طوق سے آزاد ہونا چاہتی ہیں۔</p>
<hr />
<p>کتاب کا نام: میرا زمانہ میری کہانی</p>
<p>مصنفہ: ماہ پارہ صفدر</p>
<p>ناشر: بُک کارنر، جہلم</p>
<p>صفحات: 464</p>
<hr />
<p>یہ <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1748831/non-fiction-witness-to-history">مضمون</a></strong> 22 اپریل 2023ء کو ڈان بُکس اینڈ اوتھرز میں شائع ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1202049</guid>
      <pubDate>Wed, 03 May 2023 17:14:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد صہیب)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/05/0314284110796a0.jpg?r=142848" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/05/0314284110796a0.jpg?r=142848"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نامور بلوچی شاعر کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1201297/</link>
      <description>&lt;p&gt;صوبہ بلوچستان کے ضلع پنجگور میں بلوچی زبان کے نامور شاعر اور ادیب یعقوب امل کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1748732/eminent-balochi-poet-killed-in-panjgur"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق ملزمان نے پنجگور کے علاقے گورمکان میں مقتول کے گھر کے باہر حملہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان گھر کے اندر گھسنے کی کوشش کررہے تھے اور جب یعقوب امل گھر سے باہر آئے تو ملزمان نے ان پر فائرنگ کردی اور ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ فائرنگ کے بعد نامور شاعر کو ہسپتال منتقل کیا گیا تھا تاہم وہ زخموں کے تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ یعقوب امل متعدد موضوعات پر  کتابیں بھی لکھ چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>صوبہ بلوچستان کے ضلع پنجگور میں بلوچی زبان کے نامور شاعر اور ادیب یعقوب امل کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1748732/eminent-balochi-poet-killed-in-panjgur">رپورٹ</a></strong> کے مطابق ملزمان نے پنجگور کے علاقے گورمکان میں مقتول کے گھر کے باہر حملہ کیا تھا۔</p>
<p>پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان گھر کے اندر گھسنے کی کوشش کررہے تھے اور جب یعقوب امل گھر سے باہر آئے تو ملزمان نے ان پر فائرنگ کردی اور ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ فائرنگ کے بعد نامور شاعر کو ہسپتال منتقل کیا گیا تھا تاہم وہ زخموں کے تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔</p>
<p>واضح رہے کہ یعقوب امل متعدد موضوعات پر  کتابیں بھی لکھ چکے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1201297</guid>
      <pubDate>Fri, 21 Apr 2023 17:13:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بہرام بلوچ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/04/2108011697c4313.jpg?r=080131" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/04/2108011697c4313.jpg?r=080131"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: شٹر اسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’چُپ رہا نہیں جاتا‘: لسانی، ثقافتی اور علاقائی شناخت کی حامل تحریریں</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1198665/</link>
      <description>&lt;p&gt;طنز و مزاح کسی بھی طرح میرا میدان نہیں۔ لیکن ایک عمر صحافیوں کے درمیان گزارنے کے باعث مجھ میں بھی ہر کام کو سوچے سمجھے بغیر کر گزرنے کے لیے آمادگی ظاہر کرنے کا اعتماد پیدا ہوگیا ہے، لیکن اس وقت آپ کے سامنے ہونے کی وجہ محض اتنی نہیں، اس میں خیالِ خاطر احباب بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صحافت سے وابستہ لوگوں اور خاص طور سے رپورٹروں میں ہر آتش میں بے خطر کود پڑنے کی خو ہوتی ہے۔ اگرچہ اس میں یہ خرابی تو ضرور ہے کہ آپ کو وہی کام کرنا چاہیے جس کی آپ نے کچھ تعلیم و تربیت حاصل کی ہو یا جس کی طرف آپ کا میلان اور دلچسپی ہو لیکن ایک بڑا فائدہ بھی ہے کہ ہر لمحے اور ہر بار نئے سے نئے تجربے سے دوچار ہونا پڑتا ہے اور سیکھنے سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ یہی موقع مجھے برادرم عثمان جامعی کے بلاگز کا انتخاب پڑھتے ہوئے میسر آیا۔ لیکن اس سے پہلے ہوا یہ کہ مجھے لاہور جانا پڑا اور جب میں لوٹا تو ہوش آنے کے بعد ’چپ رہا نہیں جاتا‘ کو سامنے پایا۔ لیکن میں اس انتخاب کو اس طرح نہیں پڑھ پایا جیسے میرے خیال میں تقاضا تھا اور جیسے میں پڑھتا ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1196179"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ضرورت تو اس بات کی بھی ہے کہ ان بلاگز کی فارم پر بھی بات کی جائے۔ لیکن اس پر کسی اور وقت بات کروں گا۔ یہ بلاگز مضمون بھی ہیں اور کالم بھی لیکن اخباری ہونے کے باوجود غیراخباری ہیں اور ان کی سطح عمومی اخباری تحریروں سے بلند ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ عثمان جامعی کو زبان پر مکمل دسترس ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ مصنف اب ایک سینیئر صحافی ہی نہیں ادیب بھی ہیں تو انہیں زبان پر دسترس تو ہونی ہی چاہیے۔ لیکن اب یہ بات اس لیے خصوصیات اور امتیاز کا حامل بن گئی ہے کہ ہمارے الیکٹرانک میڈیا پر ایسے ایسے افراد آچکے ہیں کہ افسوس ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں یہ وضاحت کردوں کہ میں ذرائع ابلاغ میں ابلاغ کی زبان کا مخالف نہیں، نہ ہی میں اس روایت پر اصرار کرتا ہوں جو معیار کے نام پر زبان اور وقت کو پیچھے کی طرف کھینچتی ہے۔ میں یہ بھی نہیں کہتا کہ زبان بولتے ہوئے لہجے کی مقامیت نہیں آنی چاہیے، ضرور آنی چاہیے۔ تلفظ اور معنی کے رشتے کو ضرور ملحوظ رکھا جانا چاہیے اور ہمیں لہجوں کی مقامیت مزاح میں استعمال کرتے ہوئے لسانی و ثقافتی بالادستی کا تاثر نہیں دینا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/03/201130407eaade0.jpg?r=113053'  alt='عثمان جامعی کی کتاب &amp;rsquo;چُپ رہا نہیں جاتا&amp;lsquo;' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;عثمان جامعی کی کتاب ’چُپ رہا نہیں جاتا‘&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عثمان جامعی کا ہر بلاگ فکرانگیز ہے اور مکمل تفصیل کا تقاضا کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان بلاگز میں ضرورت سے زیادہ سنجیدگی ہے لیکن درکار سنجیدگی اور درد مندی ہے جو بین السطور اپنی طرف کھینچتی ہے۔ پھر مصنف کیوں کہ فکشن رائٹر ہیں تو کہانی کو بھی ساتھ لے کر چلتے ہیں اور ان کا شاعر ہونا بھی چھپائے نہیں چھپتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجھے یقین سا گمان ہے کہ عثمان جامعی کے یہ بلاگز اگر چند سو شائع ہونے والے جریدوں کے لیے لکھے جاتے تو ان کے انہی موضوعات کا اظہار کچھ اور ہوتا اور یہ یقینی طور پر ان امکانات کا اظہار کرتے جو عثمان جامعی کے اردو کا بڑا اور اہم مزاح نگار بننے کے لیے واضح امکان کا اشارہ دیتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1194878"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابلاغ عامہ کے وہ ذرائع جن کی نشر و اشاعت روزانہ یا ہفتہ وار ہوتی ہے بالعموم سیاست سے گریز نہیں کرسکتے لیکن خرابی یہ ہے کہ نشر و اشاعت کی یہ مدت ذہنوں میں محفوظ رہنے اور اثرانگیز ہونے کی مدت سے بھی مشروط ہوتی ہے۔ صرف پاکستان ہی میں نہیں بلکہ دنیا بھر میں سیاست کی رفتار تیز تر ہوتی جارہی ہے۔ شاید اس لیے کہ اب معلومات کی ترسیل کے ذرائع میں انٹرنیٹ بھی ہے اور بات مین اسٹریم میڈیا میں آئے نہ آئے لوگوں میں مشرق و مغرب پھیل جاتی ہے اور جس نوع کے بلاگ عثمان جامعی نے لکھے ہیں وہ توجہ، غور اور فکرمندی کا تقاضا کرتے اور روزمرہ سے آگے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میں عثمان جامعی کے ادبی امکانات کی بات اس لیے نہیں کر رہا کہ ان کے بلاگز کی صحافتی سطح کمزور ہے بلکہ اس لیے کر رہا ہوں کہ ان کی نثر وہ عناصر زیادہ رکھتی ہے جو ادبی اسلوب کی تشکیل کرتے ہیں۔ بالعموم ادیب ان عناصر کی تگ و دو کرتے ہیں لیکن عثمان جامعی کے ہاں یہ فطری محسوس ہوتے ہیں۔ مثلاً وہ بالعموم مرکب جملہ لکھتے ہیں جبکہ صحافت چھوٹے اور غیر مرکب جملوں کا تقاضا کرتی ہے۔ مثلاً:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’اس وقت ہم ٹسوے بہا اور ایک گانے کے یہ بول گا رہے ہیں، جگ نے چھینا مجھ سے مجھے جو بھی لگا پیارا۔‘ اب یہ جملہ لکھتے ہوئے انہوں نے ’رہے ہیں‘ کو دو بار لکھنے سے گریز کیا ہے۔ یعنی یہ نہیں لکھا کہ اس وقت ہم ٹسوے بہا رہے ہیں اور ایک گانے کے یہ بول گا رہے ہیں۔ یہ انداز مسلسل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1185944"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عثمان جامعی کے اسلوب اور اس انتخاب میں شامل بلاگز کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ یہ اپنی لسانی، ثقافتی اور علاقائی شناخت رکھتے ہیں۔ میرے خیال میں کسی بھی مصنف اور تحریروں میں اس شناخت کا ہونا بہت اہم ہے۔ نیویارکرز اور لندنرز کی طرح عثمان جامعی کراچی آئٹ ہیں۔ جگہ جگہ ان کی زبان خاص لہجے اور لغت سے بات کے ثقافتی جلوے دکھاتی ہے۔ اسی حوالے سے وہ کراچی کے نوحہ گر بھی ہیں۔ میں اس بات پر مصنف کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ یہ بات ہم سب پر واجب ہے، اُن ہم سب پر جو میری طرح کراچی کے ہیں اور اب اور کہیں کے نہیں ہوسکتے۔ جو اس شہر میں کسی بھی وقت کہیں بھی جانے میں خوف محسوس نہیں کرتے اگرچہ اس تعلق کو توڑنے کے لیے سیاست و حکومت نے ہر حربہ استعمال کیا ہے لیکن عثمان جامعی کے بلاگ بتاتے ہیں کہ یہ شہر کاسموپولیٹن ہے اور رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن یہ بات عثمان جامعی کے بلاگز کا جزوی وصف ہے۔ مرکزی وصف انسانی اور سماجی ہے، طبقاتی ہے، اخلاقی ہے اور دردمندانہ ہے اور یہ تخلیق اس لیے ہے کہ یہ تمام باتیں بیش تر زیریں لہروں کے طور پر سامنے آتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;(عثمان جامعی کے فکاہیہ بلاگز کے مجموعے ’چُپ رہا نہیں جاتا‘ کی تقریب رونمائی میں بحیثیت صدر تقریب پڑھا گیا مضمون)&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>طنز و مزاح کسی بھی طرح میرا میدان نہیں۔ لیکن ایک عمر صحافیوں کے درمیان گزارنے کے باعث مجھ میں بھی ہر کام کو سوچے سمجھے بغیر کر گزرنے کے لیے آمادگی ظاہر کرنے کا اعتماد پیدا ہوگیا ہے، لیکن اس وقت آپ کے سامنے ہونے کی وجہ محض اتنی نہیں، اس میں خیالِ خاطر احباب بھی شامل ہے۔</p>
<p>صحافت سے وابستہ لوگوں اور خاص طور سے رپورٹروں میں ہر آتش میں بے خطر کود پڑنے کی خو ہوتی ہے۔ اگرچہ اس میں یہ خرابی تو ضرور ہے کہ آپ کو وہی کام کرنا چاہیے جس کی آپ نے کچھ تعلیم و تربیت حاصل کی ہو یا جس کی طرف آپ کا میلان اور دلچسپی ہو لیکن ایک بڑا فائدہ بھی ہے کہ ہر لمحے اور ہر بار نئے سے نئے تجربے سے دوچار ہونا پڑتا ہے اور سیکھنے سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ یہی موقع مجھے برادرم عثمان جامعی کے بلاگز کا انتخاب پڑھتے ہوئے میسر آیا۔ لیکن اس سے پہلے ہوا یہ کہ مجھے لاہور جانا پڑا اور جب میں لوٹا تو ہوش آنے کے بعد ’چپ رہا نہیں جاتا‘ کو سامنے پایا۔ لیکن میں اس انتخاب کو اس طرح نہیں پڑھ پایا جیسے میرے خیال میں تقاضا تھا اور جیسے میں پڑھتا ہوں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1196179"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ضرورت تو اس بات کی بھی ہے کہ ان بلاگز کی فارم پر بھی بات کی جائے۔ لیکن اس پر کسی اور وقت بات کروں گا۔ یہ بلاگز مضمون بھی ہیں اور کالم بھی لیکن اخباری ہونے کے باوجود غیراخباری ہیں اور ان کی سطح عمومی اخباری تحریروں سے بلند ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ عثمان جامعی کو زبان پر مکمل دسترس ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ مصنف اب ایک سینیئر صحافی ہی نہیں ادیب بھی ہیں تو انہیں زبان پر دسترس تو ہونی ہی چاہیے۔ لیکن اب یہ بات اس لیے خصوصیات اور امتیاز کا حامل بن گئی ہے کہ ہمارے الیکٹرانک میڈیا پر ایسے ایسے افراد آچکے ہیں کہ افسوس ہوتا ہے۔</p>
<p>یہاں یہ وضاحت کردوں کہ میں ذرائع ابلاغ میں ابلاغ کی زبان کا مخالف نہیں، نہ ہی میں اس روایت پر اصرار کرتا ہوں جو معیار کے نام پر زبان اور وقت کو پیچھے کی طرف کھینچتی ہے۔ میں یہ بھی نہیں کہتا کہ زبان بولتے ہوئے لہجے کی مقامیت نہیں آنی چاہیے، ضرور آنی چاہیے۔ تلفظ اور معنی کے رشتے کو ضرور ملحوظ رکھا جانا چاہیے اور ہمیں لہجوں کی مقامیت مزاح میں استعمال کرتے ہوئے لسانی و ثقافتی بالادستی کا تاثر نہیں دینا چاہیے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/03/201130407eaade0.jpg?r=113053'  alt='عثمان جامعی کی کتاب &rsquo;چُپ رہا نہیں جاتا&lsquo;' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>عثمان جامعی کی کتاب ’چُپ رہا نہیں جاتا‘</figcaption>
    </figure></p>
<p>عثمان جامعی کا ہر بلاگ فکرانگیز ہے اور مکمل تفصیل کا تقاضا کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان بلاگز میں ضرورت سے زیادہ سنجیدگی ہے لیکن درکار سنجیدگی اور درد مندی ہے جو بین السطور اپنی طرف کھینچتی ہے۔ پھر مصنف کیوں کہ فکشن رائٹر ہیں تو کہانی کو بھی ساتھ لے کر چلتے ہیں اور ان کا شاعر ہونا بھی چھپائے نہیں چھپتا۔</p>
<p>مجھے یقین سا گمان ہے کہ عثمان جامعی کے یہ بلاگز اگر چند سو شائع ہونے والے جریدوں کے لیے لکھے جاتے تو ان کے انہی موضوعات کا اظہار کچھ اور ہوتا اور یہ یقینی طور پر ان امکانات کا اظہار کرتے جو عثمان جامعی کے اردو کا بڑا اور اہم مزاح نگار بننے کے لیے واضح امکان کا اشارہ دیتے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1194878"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ابلاغ عامہ کے وہ ذرائع جن کی نشر و اشاعت روزانہ یا ہفتہ وار ہوتی ہے بالعموم سیاست سے گریز نہیں کرسکتے لیکن خرابی یہ ہے کہ نشر و اشاعت کی یہ مدت ذہنوں میں محفوظ رہنے اور اثرانگیز ہونے کی مدت سے بھی مشروط ہوتی ہے۔ صرف پاکستان ہی میں نہیں بلکہ دنیا بھر میں سیاست کی رفتار تیز تر ہوتی جارہی ہے۔ شاید اس لیے کہ اب معلومات کی ترسیل کے ذرائع میں انٹرنیٹ بھی ہے اور بات مین اسٹریم میڈیا میں آئے نہ آئے لوگوں میں مشرق و مغرب پھیل جاتی ہے اور جس نوع کے بلاگ عثمان جامعی نے لکھے ہیں وہ توجہ، غور اور فکرمندی کا تقاضا کرتے اور روزمرہ سے آگے جاتے ہیں۔</p>
<p>میں عثمان جامعی کے ادبی امکانات کی بات اس لیے نہیں کر رہا کہ ان کے بلاگز کی صحافتی سطح کمزور ہے بلکہ اس لیے کر رہا ہوں کہ ان کی نثر وہ عناصر زیادہ رکھتی ہے جو ادبی اسلوب کی تشکیل کرتے ہیں۔ بالعموم ادیب ان عناصر کی تگ و دو کرتے ہیں لیکن عثمان جامعی کے ہاں یہ فطری محسوس ہوتے ہیں۔ مثلاً وہ بالعموم مرکب جملہ لکھتے ہیں جبکہ صحافت چھوٹے اور غیر مرکب جملوں کا تقاضا کرتی ہے۔ مثلاً:</p>
<p>’اس وقت ہم ٹسوے بہا اور ایک گانے کے یہ بول گا رہے ہیں، جگ نے چھینا مجھ سے مجھے جو بھی لگا پیارا۔‘ اب یہ جملہ لکھتے ہوئے انہوں نے ’رہے ہیں‘ کو دو بار لکھنے سے گریز کیا ہے۔ یعنی یہ نہیں لکھا کہ اس وقت ہم ٹسوے بہا رہے ہیں اور ایک گانے کے یہ بول گا رہے ہیں۔ یہ انداز مسلسل ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1185944"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>عثمان جامعی کے اسلوب اور اس انتخاب میں شامل بلاگز کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ یہ اپنی لسانی، ثقافتی اور علاقائی شناخت رکھتے ہیں۔ میرے خیال میں کسی بھی مصنف اور تحریروں میں اس شناخت کا ہونا بہت اہم ہے۔ نیویارکرز اور لندنرز کی طرح عثمان جامعی کراچی آئٹ ہیں۔ جگہ جگہ ان کی زبان خاص لہجے اور لغت سے بات کے ثقافتی جلوے دکھاتی ہے۔ اسی حوالے سے وہ کراچی کے نوحہ گر بھی ہیں۔ میں اس بات پر مصنف کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ یہ بات ہم سب پر واجب ہے، اُن ہم سب پر جو میری طرح کراچی کے ہیں اور اب اور کہیں کے نہیں ہوسکتے۔ جو اس شہر میں کسی بھی وقت کہیں بھی جانے میں خوف محسوس نہیں کرتے اگرچہ اس تعلق کو توڑنے کے لیے سیاست و حکومت نے ہر حربہ استعمال کیا ہے لیکن عثمان جامعی کے بلاگ بتاتے ہیں کہ یہ شہر کاسموپولیٹن ہے اور رہے گا۔</p>
<p>لیکن یہ بات عثمان جامعی کے بلاگز کا جزوی وصف ہے۔ مرکزی وصف انسانی اور سماجی ہے، طبقاتی ہے، اخلاقی ہے اور دردمندانہ ہے اور یہ تخلیق اس لیے ہے کہ یہ تمام باتیں بیش تر زیریں لہروں کے طور پر سامنے آتی ہیں۔</p>
<p>(عثمان جامعی کے فکاہیہ بلاگز کے مجموعے ’چُپ رہا نہیں جاتا‘ کی تقریب رونمائی میں بحیثیت صدر تقریب پڑھا گیا مضمون)</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1198665</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Mar 2023 16:32:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انورسین رائے)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/03/201130407eaade0.jpg?r=113053" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/03/201130407eaade0.jpg?r=113053"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’خدا کی بستی‘ سے ’جانگلوس‘ تک: شوکت صدیقی کے سو برس</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1198919/</link>
      <description>&lt;p&gt;اردو کو ’لحاف‘ اور ’ٹیڑھی لکیر‘ جیسی یادگار تخلیقات دینے والی عصمت چغتائی نے جب یہ کہا تھا کہ شوکت صدیقی کا ناول ’خدا کی بستی‘ دنیا کی ہر زبان کے ناول سے ٹکر لے سکتا ہے، تب وہ سو فیصد درست تھیں۔ اس ناول نے ان کے دل و دماغ کے تار جھنجھنار دیے تھے اور اُنہیں اُردو پر فخر محسوس ہونے لگا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر آج عصمت چغتائی زندہ ہوتیں تو اس بات پر خوشی محسوس کرتیں کہ ان کی پیش گوئی حرف بہ حرف درست ثابت ہوئی۔ شوکت صدیقی کے اس شاہکار نے نہ صرف اردو زبان کو وقار بخشا بلکہ عالمی دنیا کے سامنے اُردو فکشن کا مقدمہ بھی پیش کیا۔ ایک جانب جہاں اس نے 70سے زائد ایڈیشنوں کے ساتھ اردو قارئین میں اپنی مقبولیت قائم رکھی وہیں 35 زبانوں میں ترجمہ ہوکر بین الاقوامی ادب کے منظر نامے میں اپنی موجودگی کا بھی بھرپور احساس دلایا۔ یہ انگریزی، روسی، چینی، جاپانی، ہندی اور بنگلا جیسی بڑی زبانوں میں ڈھالا گیا۔ اسے ہندوستان کی مختلف علاقائی زبانوں میں بھی پیش کیا گیا اور آج جب ہم شوکت صدیقی کا 100 واں یوم پیدائش منا رہے ہیں تو یہ واقعہ اردو ادب کے قارئین کے لیے خوش گوار اثرات کا حامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/02/54ec482734ec8.jpg?r=595173700'  alt='   شوکت صدیقی   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;شوکت صدیقی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عبداللہ حسین کہا کرتے تھے کہ ناول کا اصل امتحان وقت ہے، یہی حتمی کسوٹی ہے۔ نقاد نہیں، یہ قاری ہیں جو کسی کتاب کو زندہ رکھتے ہیں۔ مستنصر حسین تارڑ نے بھی اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر 25، 30 سال بعد بھی کوئی ناول پڑھا جارہا ہے، زیر بحث آرہا ہے تو وہ بڑا ناول ہے۔ اسی تناظر میں دیکھا جائے تو اردو کو چند بڑے ناول میسر ہیں۔ قرة العین حیدر کا ’آگ کا دریا‘ ہو، عبداللہ حسین کا ’اداس نسلیں‘ یا خدیجہ مستور کا ’آنگن‘، یہ سب ہی کتابیں آج بھی پڑھی جاتی ہیں۔ اسی مانند مستنصر حسین تارڑکے ناول ’بہاؤ‘ اور بانو قدسیہ کی تخلیق ’راجہ گدھ‘ نے بھی وقت کی کسوٹی پر خود کو منوایا مگر جو زندگی شوکت صدیقی کے ناول کے حصے میں آئی اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چند ناقدین کا خیال ہے کہ یہ گزشتہ 50 برس میں لکھے جانے والے ناولوں میں سب سے زیادہ متعلقہ ناول ہے۔ کیوں کہ یہ اپنے عصر سے معاملہ کرتا ہے۔ اس میں تقسیم کے بعد ایک نئی ریاست میں جنم لینے والے طبقات، ان کے مسائل، وہاں موجود جبر اور امکانات کو پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ساتھ ہی ایک ایسی زبان اختیار کی گئی، جو شعری لب و لہجے سے آزاد خالص فکشن کی نثر ہے۔ جہاں چھوٹے چھوٹے چست جملوں میں کہانی بیان کی جاتی ہے اور چیزوں کو غیر ضروری طور پر مبہم یا تہ دار نہیں بنایا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ اگر آج، لگ بھگ 60 برس بعد بھی آپ یہ ناول پڑھتے ہیں تو مایوس نہیں ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ ناقدین کا خیال ہے کہ ’خدا کی بستی‘ کو ملنے والی مقبولیت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اسے پی ٹی وی پر ڈرامائی روپ دیا گیا۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ پی ٹی وی کے پلیٹ فارم نے اس کہانی کو گھر گھر پہنچا دیا اور یوں وہ افراد بھی کہ جنہوں نے ناول تو چھوڑیے کبھی اخبار بھی نہیں پڑھا تھا، انہیں بھی راجا اور نوشا کی زندگیوں، المیوں اور مسائل کی خبر ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/03/19135755b5207a5.jpg'  alt='   شوکت صدیقی کا ناول &amp;rsquo;خدا کی بستی&amp;lsquo;   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;شوکت صدیقی کا ناول ’خدا کی بستی‘&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’خدا کی بستی‘ پی ٹی وی کے مقبول ترین ڈراموں میں سے ایک ہے۔ جن اداکاروں نے اس ڈرامے میں مرکزی کردار ادا کیا وہ ساری زندگی ان کرداروں کے وسیلے پہچانے گئے۔ معروف اداکار قاضی واجد کہا کرتے تھے کہ ’خدا کی بستی کے راجا کی شہرت آج بھی میرے ساتھ ہے‘۔ بے شک ڈرامے سے اس ناول کی شہرت مہمیز ہوئی مگر یہ بھی یاد رکھیں کہ اس ناول کے انتخاب کا اصل سبب یہی تھا کہ یہ دیگر تخلیقات سے زیادہ متعلقہ اور اثرانگیز تھا۔یعنی اس کے چناؤ کے پس منظر میں اس کی اپنی انفرادیت کارفرما تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناقدین ادب کے نزدیک اس ناول کو حاصل ہونے والی طویل زندگی کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ اس نے ان مسائل کا احاطہ کیا جو ترقی پذیر ممالک کو آج بھی درپیش ہیں۔ جیسے طبقاتی نظام، جرائم، کرپشن اور معاشرتی جبر۔ جس وقت شوکت صدیقی یہ ناول لکھ رہے تھے تب بھی اور آج جب آپ یہ سطور پڑھ رہے ہیں ہمیں لگ بھگ یہی مسائل درپیش ہیں۔گو وہ ترقی پسند نظریات کے حامل تھے مگر یہ محض نظریات نہیں تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان مسائل کو پوری طرح سمجھنے اور پھر ان پر قلم اٹھانے کے لیے شوکت صدیقی نے بڑے پاپڑ بیلے۔ وہ اپنے وقت کے معروف صحافی تھے۔ کئی اخبارات کے ایڈیٹر رہے۔ بیدار ذہن تھے۔ انہوں نے خود کو دفتر تک محدود نہیں رکھا۔ طویل سفر کیے، بھانت بھانت کے لوگوں سے ملے، جس زمانے میں وہ اپنے ضخیم ماسٹر پیس ’جانگلوس‘ پر کام کر رہے تھے تو درست معلومات کے حصول کے لیے ہمہ وقت سرگرم رہتے۔رپورٹرز سے مکالمہ کرتے، واقعات کی گہرائی میں اترتے، مگر جب قلم لے کر بیٹھتے، تو صحافی منظر سے غائب ہوجاتا اور اس کی جگہ ایک فکشن نگار لے لیتا جو تخلیقیت کے رتھ پر سوار ایک کے بعد ایک سلطنتیں فتح کیے جاتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--dailymotion  '&gt;&lt;iframe src='https://www.dailymotion.com/embed/video/x7v7pc0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صرف ’خدا کی بستی‘ ہی نہیں، ’جانگلوس‘ نے بھی اردو قارئین پر ان مٹ نقوش چھوڑے۔ یہ 3 جلدوں میں شائع ہونے والا ضخیم ناول تھا۔ اسے پنجاب کی الف لیلہ بھی کہا جاتا ہے اور اسے ڈرامائی تشکیل بھی دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں کچھ دیر ٹھہر کر ان کے سفر زندگی پر نظر ڈال لیتے ہیں۔ شوکت صاحب ترقی پسند مکتبہ فکر سے تھے۔ انہوں نے بطور صحافتی اور ادیب اسی نظریے کے لیے جدوجہد کی مگر اپنے ادب کو پروپیگنڈا نہیں بننے دیا۔ انہوں نے اردو ادب کو 4 افسانوی مجموعے دیے، جو ’تیسرا آدمی‘، ’اندھیرا اور اندھیرا‘، ’راتوں کا شہر‘ اور ’کیمیا گر‘ کے زیر عنوان شائع ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/03/191357559a8de36.jpg?r=135928'  alt='   شوکت صدیقی کا ناول &amp;rsquo;جانگلوس&amp;lsquo;   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;شوکت صدیقی کا ناول ’جانگلوس‘&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے ناولوں کی تعداد بھی چار تھی۔ خدا کی بستی اور جانگلوس کا تو ذکر ہوگیا۔ باقی دو ناول ’کمیں گاہ‘ اور ’چار دیواری‘ کے نام سے شائع ہوئے۔ ’کمیں گاہ‘ ان کا پہلا، جب کہ ’چار دیواری‘ آخری ناول تھا۔ ان کے حصے میں کئی اعزازات آئے۔ 1960ء میں انہیں آدم جی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ حکومت پاکستان نے انہیں تمغہ حسن کارکردگی، کمالِ فن ایوارڈ اور ستارہ امیتاز پیش کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اردو کا یہ بے بدل ادیب 20مارچ 1923ءکو لکھنئو میں پیدا ہوا ۔ 1946ء میں انہوں نے سیاسیات میں ماسٹرز کیا۔ 1980ء میں وہ ہجرت کرکے لاہور آگئے۔ بعد ازاں کراچی کا رخ کیا جو تقسیم کے بعد مہاجرین کا نیا ٹھکانہ بن گیا تھا۔ 1952ء ان کی زندگی میں بہت اہم تھا۔ اسی برس ان کی شادی ہوئی، اسی برس اولین افسانوی مجموعہ شائع ہوا اور اسی برس ’پاکستان اسٹینڈرڈ‘ سے بطور سب ایڈیٹر وابستہ ہوگئے۔ آغاز انگریزی صحافت سے کیا تھا مگر پھر اردو اخبارات کا رخ کیا۔ 1963ء میں انجام، کراچی میں نیوز ایڈیٹر ہوگئے۔ وہ معروف ترقی پسند رسالے ’الفتح‘ کے نگرانِ اعلی بھی رہے۔ صحافت کے شعبے کو انہوں نے اپنی زندگی کے کئی عشرے دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/03/191357552084bc9.jpg?r=135928'  alt='   شوکت صدیقی کا ناول &amp;rsquo;چار دیواری&amp;lsquo;   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;شوکت صدیقی کا ناول ’چار دیواری‘&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کی حیات ہی میں ان کی زندگی اور خدمات تحقیقی مقالات کا موضوع بنی اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ 18 دسمبر  2006ء کو اس باکمال ادیب نے جہانِ فانی سے کوچ کیا یوں تو وہ چلے گئے، مگر اپنے تخلیق کردہ ادب، بالخصوص ’خدا کی بستی‘ کے وسیلے وہ آج بھی قارئین کے دلوں میں موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معروف صحافی اور فکشن نگار خشونت سنگھ نے خدا کی بستی کو ’بدعنوان پاکستانی معاشرے پر ایک بڑا اور بھرپور طنز‘ قرار دیا تھا۔ آج ان کے 100 سالہ جشن کے موقع پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہمیں اس طنز کو ایک بار پھر پڑھنے کی ضرورت ہے، کیوں کہ یہ آج بھی اتنا ہی اہم ہے، جتنا عشروں قبل تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اردو کو ’لحاف‘ اور ’ٹیڑھی لکیر‘ جیسی یادگار تخلیقات دینے والی عصمت چغتائی نے جب یہ کہا تھا کہ شوکت صدیقی کا ناول ’خدا کی بستی‘ دنیا کی ہر زبان کے ناول سے ٹکر لے سکتا ہے، تب وہ سو فیصد درست تھیں۔ اس ناول نے ان کے دل و دماغ کے تار جھنجھنار دیے تھے اور اُنہیں اُردو پر فخر محسوس ہونے لگا تھا۔</p>
<p>اگر آج عصمت چغتائی زندہ ہوتیں تو اس بات پر خوشی محسوس کرتیں کہ ان کی پیش گوئی حرف بہ حرف درست ثابت ہوئی۔ شوکت صدیقی کے اس شاہکار نے نہ صرف اردو زبان کو وقار بخشا بلکہ عالمی دنیا کے سامنے اُردو فکشن کا مقدمہ بھی پیش کیا۔ ایک جانب جہاں اس نے 70سے زائد ایڈیشنوں کے ساتھ اردو قارئین میں اپنی مقبولیت قائم رکھی وہیں 35 زبانوں میں ترجمہ ہوکر بین الاقوامی ادب کے منظر نامے میں اپنی موجودگی کا بھی بھرپور احساس دلایا۔ یہ انگریزی، روسی، چینی، جاپانی، ہندی اور بنگلا جیسی بڑی زبانوں میں ڈھالا گیا۔ اسے ہندوستان کی مختلف علاقائی زبانوں میں بھی پیش کیا گیا اور آج جب ہم شوکت صدیقی کا 100 واں یوم پیدائش منا رہے ہیں تو یہ واقعہ اردو ادب کے قارئین کے لیے خوش گوار اثرات کا حامل ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/02/54ec482734ec8.jpg?r=595173700'  alt='   شوکت صدیقی   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>شوکت صدیقی</figcaption>
    </figure></p>
<p>عبداللہ حسین کہا کرتے تھے کہ ناول کا اصل امتحان وقت ہے، یہی حتمی کسوٹی ہے۔ نقاد نہیں، یہ قاری ہیں جو کسی کتاب کو زندہ رکھتے ہیں۔ مستنصر حسین تارڑ نے بھی اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر 25، 30 سال بعد بھی کوئی ناول پڑھا جارہا ہے، زیر بحث آرہا ہے تو وہ بڑا ناول ہے۔ اسی تناظر میں دیکھا جائے تو اردو کو چند بڑے ناول میسر ہیں۔ قرة العین حیدر کا ’آگ کا دریا‘ ہو، عبداللہ حسین کا ’اداس نسلیں‘ یا خدیجہ مستور کا ’آنگن‘، یہ سب ہی کتابیں آج بھی پڑھی جاتی ہیں۔ اسی مانند مستنصر حسین تارڑکے ناول ’بہاؤ‘ اور بانو قدسیہ کی تخلیق ’راجہ گدھ‘ نے بھی وقت کی کسوٹی پر خود کو منوایا مگر جو زندگی شوکت صدیقی کے ناول کے حصے میں آئی اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔</p>
<p>چند ناقدین کا خیال ہے کہ یہ گزشتہ 50 برس میں لکھے جانے والے ناولوں میں سب سے زیادہ متعلقہ ناول ہے۔ کیوں کہ یہ اپنے عصر سے معاملہ کرتا ہے۔ اس میں تقسیم کے بعد ایک نئی ریاست میں جنم لینے والے طبقات، ان کے مسائل، وہاں موجود جبر اور امکانات کو پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ساتھ ہی ایک ایسی زبان اختیار کی گئی، جو شعری لب و لہجے سے آزاد خالص فکشن کی نثر ہے۔ جہاں چھوٹے چھوٹے چست جملوں میں کہانی بیان کی جاتی ہے اور چیزوں کو غیر ضروری طور پر مبہم یا تہ دار نہیں بنایا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ اگر آج، لگ بھگ 60 برس بعد بھی آپ یہ ناول پڑھتے ہیں تو مایوس نہیں ہوں گے۔</p>
<p>کچھ ناقدین کا خیال ہے کہ ’خدا کی بستی‘ کو ملنے والی مقبولیت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اسے پی ٹی وی پر ڈرامائی روپ دیا گیا۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ پی ٹی وی کے پلیٹ فارم نے اس کہانی کو گھر گھر پہنچا دیا اور یوں وہ افراد بھی کہ جنہوں نے ناول تو چھوڑیے کبھی اخبار بھی نہیں پڑھا تھا، انہیں بھی راجا اور نوشا کی زندگیوں، المیوں اور مسائل کی خبر ہوگئی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/03/19135755b5207a5.jpg'  alt='   شوکت صدیقی کا ناول &rsquo;خدا کی بستی&lsquo;   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>شوکت صدیقی کا ناول ’خدا کی بستی‘</figcaption>
    </figure></p>
<p>’خدا کی بستی‘ پی ٹی وی کے مقبول ترین ڈراموں میں سے ایک ہے۔ جن اداکاروں نے اس ڈرامے میں مرکزی کردار ادا کیا وہ ساری زندگی ان کرداروں کے وسیلے پہچانے گئے۔ معروف اداکار قاضی واجد کہا کرتے تھے کہ ’خدا کی بستی کے راجا کی شہرت آج بھی میرے ساتھ ہے‘۔ بے شک ڈرامے سے اس ناول کی شہرت مہمیز ہوئی مگر یہ بھی یاد رکھیں کہ اس ناول کے انتخاب کا اصل سبب یہی تھا کہ یہ دیگر تخلیقات سے زیادہ متعلقہ اور اثرانگیز تھا۔یعنی اس کے چناؤ کے پس منظر میں اس کی اپنی انفرادیت کارفرما تھی۔</p>
<p>ناقدین ادب کے نزدیک اس ناول کو حاصل ہونے والی طویل زندگی کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ اس نے ان مسائل کا احاطہ کیا جو ترقی پذیر ممالک کو آج بھی درپیش ہیں۔ جیسے طبقاتی نظام، جرائم، کرپشن اور معاشرتی جبر۔ جس وقت شوکت صدیقی یہ ناول لکھ رہے تھے تب بھی اور آج جب آپ یہ سطور پڑھ رہے ہیں ہمیں لگ بھگ یہی مسائل درپیش ہیں۔گو وہ ترقی پسند نظریات کے حامل تھے مگر یہ محض نظریات نہیں تھے۔</p>
<p>ان مسائل کو پوری طرح سمجھنے اور پھر ان پر قلم اٹھانے کے لیے شوکت صدیقی نے بڑے پاپڑ بیلے۔ وہ اپنے وقت کے معروف صحافی تھے۔ کئی اخبارات کے ایڈیٹر رہے۔ بیدار ذہن تھے۔ انہوں نے خود کو دفتر تک محدود نہیں رکھا۔ طویل سفر کیے، بھانت بھانت کے لوگوں سے ملے، جس زمانے میں وہ اپنے ضخیم ماسٹر پیس ’جانگلوس‘ پر کام کر رہے تھے تو درست معلومات کے حصول کے لیے ہمہ وقت سرگرم رہتے۔رپورٹرز سے مکالمہ کرتے، واقعات کی گہرائی میں اترتے، مگر جب قلم لے کر بیٹھتے، تو صحافی منظر سے غائب ہوجاتا اور اس کی جگہ ایک فکشن نگار لے لیتا جو تخلیقیت کے رتھ پر سوار ایک کے بعد ایک سلطنتیں فتح کیے جاتا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '>
        <div class='media__item  media__item--dailymotion  '><iframe src='https://www.dailymotion.com/embed/video/x7v7pc0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>صرف ’خدا کی بستی‘ ہی نہیں، ’جانگلوس‘ نے بھی اردو قارئین پر ان مٹ نقوش چھوڑے۔ یہ 3 جلدوں میں شائع ہونے والا ضخیم ناول تھا۔ اسے پنجاب کی الف لیلہ بھی کہا جاتا ہے اور اسے ڈرامائی تشکیل بھی دی گئی۔</p>
<p>یہاں کچھ دیر ٹھہر کر ان کے سفر زندگی پر نظر ڈال لیتے ہیں۔ شوکت صاحب ترقی پسند مکتبہ فکر سے تھے۔ انہوں نے بطور صحافتی اور ادیب اسی نظریے کے لیے جدوجہد کی مگر اپنے ادب کو پروپیگنڈا نہیں بننے دیا۔ انہوں نے اردو ادب کو 4 افسانوی مجموعے دیے، جو ’تیسرا آدمی‘، ’اندھیرا اور اندھیرا‘، ’راتوں کا شہر‘ اور ’کیمیا گر‘ کے زیر عنوان شائع ہوئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/03/191357559a8de36.jpg?r=135928'  alt='   شوکت صدیقی کا ناول &rsquo;جانگلوس&lsquo;   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>شوکت صدیقی کا ناول ’جانگلوس‘</figcaption>
    </figure></p>
<p>ان کے ناولوں کی تعداد بھی چار تھی۔ خدا کی بستی اور جانگلوس کا تو ذکر ہوگیا۔ باقی دو ناول ’کمیں گاہ‘ اور ’چار دیواری‘ کے نام سے شائع ہوئے۔ ’کمیں گاہ‘ ان کا پہلا، جب کہ ’چار دیواری‘ آخری ناول تھا۔ ان کے حصے میں کئی اعزازات آئے۔ 1960ء میں انہیں آدم جی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ حکومت پاکستان نے انہیں تمغہ حسن کارکردگی، کمالِ فن ایوارڈ اور ستارہ امیتاز پیش کیا۔</p>
<p>اردو کا یہ بے بدل ادیب 20مارچ 1923ءکو لکھنئو میں پیدا ہوا ۔ 1946ء میں انہوں نے سیاسیات میں ماسٹرز کیا۔ 1980ء میں وہ ہجرت کرکے لاہور آگئے۔ بعد ازاں کراچی کا رخ کیا جو تقسیم کے بعد مہاجرین کا نیا ٹھکانہ بن گیا تھا۔ 1952ء ان کی زندگی میں بہت اہم تھا۔ اسی برس ان کی شادی ہوئی، اسی برس اولین افسانوی مجموعہ شائع ہوا اور اسی برس ’پاکستان اسٹینڈرڈ‘ سے بطور سب ایڈیٹر وابستہ ہوگئے۔ آغاز انگریزی صحافت سے کیا تھا مگر پھر اردو اخبارات کا رخ کیا۔ 1963ء میں انجام، کراچی میں نیوز ایڈیٹر ہوگئے۔ وہ معروف ترقی پسند رسالے ’الفتح‘ کے نگرانِ اعلی بھی رہے۔ صحافت کے شعبے کو انہوں نے اپنی زندگی کے کئی عشرے دیے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/03/191357552084bc9.jpg?r=135928'  alt='   شوکت صدیقی کا ناول &rsquo;چار دیواری&lsquo;   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>شوکت صدیقی کا ناول ’چار دیواری‘</figcaption>
    </figure></p>
<p>ان کی حیات ہی میں ان کی زندگی اور خدمات تحقیقی مقالات کا موضوع بنی اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ 18 دسمبر  2006ء کو اس باکمال ادیب نے جہانِ فانی سے کوچ کیا یوں تو وہ چلے گئے، مگر اپنے تخلیق کردہ ادب، بالخصوص ’خدا کی بستی‘ کے وسیلے وہ آج بھی قارئین کے دلوں میں موجود ہیں۔</p>
<p>معروف صحافی اور فکشن نگار خشونت سنگھ نے خدا کی بستی کو ’بدعنوان پاکستانی معاشرے پر ایک بڑا اور بھرپور طنز‘ قرار دیا تھا۔ آج ان کے 100 سالہ جشن کے موقع پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہمیں اس طنز کو ایک بار پھر پڑھنے کی ضرورت ہے، کیوں کہ یہ آج بھی اتنا ہی اہم ہے، جتنا عشروں قبل تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1198919</guid>
      <pubDate>Mon, 20 Mar 2023 14:47:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (صائمہ اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/03/19131628512885b.jpg?r=133627" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/03/19131628512885b.jpg?r=133627"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بُک ریویو: ’سندھو گھاٹی اور سمندر‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1197581/</link>
      <description>&lt;p&gt;’سندھو گھاٹی اور سمندر‘، ابوبکر شیخ کی تیسری کتاب ہے۔ مصنف کا تعلق زیریں سندھ کے ضلع بدین سے ہے اور وہ تقریباً 3 دہائیوں سے ماحولیاتی تحفظ اور ماہی گیروں کے حقوق کے حوالے سے متعدد بار قلم اٹھا چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وجہ ہے کہ ابوبکر شیخ کی گزشتہ 2 کتابوں، ’نگری نگری پھرا مسافر‘ اور ’تاریخ کے مسافر‘ میں بھی سندھ میں ماحولیاتی تباہی پر روشنی ڈالی گئی ہے جبکہ دریائے سندھ اور اس کے ڈیلٹا کنارے بسنے والی ماہی گیربرادری کی حالتِ زار بھی ان کی توجہ کا خصوصی موضوع رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1142262"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چونکہ ابوبکر شیخ کی کہانیاں، متعلقہ علاقوں میں ان کے حقیقی دوروں اور تجربات پر مبنی ہوتی ہیں اس لیے ان کی تحریر سفرنامے جیسی لگتی ہے۔ اپنی تحریر میں وہ جن احساسات کو شامل کرتے ہیں وہ قابلِ تعریف ہیں اور کئی مواقع پر وہ متاثر کُن بھی ہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستان میں کہیں بھی کسی بھی مقامی زبان میں اس طرح کا منفرد کام کبھی نہیں کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ابوبکر شیخ صرف سندھی زبان میں ہی نہیں بلکہ دیگر مقامی زبانوں میں بھی اس سفرنامہ نگاری میں اپنا الگ مقام رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کتاب میں انہوں نے اپنی گزشتہ کتابوں کی طرح دریائے سندھ کے کم ہوتے ڈیلٹا یا دریائے سندھ کے دونوں اطراف سے نکلنے والے سیم نالوں کے باعث ہونے والی ماحولیاتی تباہی کے علاوہ دیگر موضوعات کا بھی احاطہ کیا ہے۔ ابوبکر شیخ کی تحریر کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ وہ دیگر مصنفین کی طرح دوسروں پر تنقید کا سہارا نہیں لیتے۔ ان کی تحریریں پڑھ کرگمان ہوتا ہے جیسے لکھاری یا جن کے اقوال انہوں نے اس تحریر میں شامل کیے ہیں، ان سب کے ذریعے وہاں کی زمین خود ہم سے مخاطب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنی حالیہ کتاب میں بھی لکھاری نے ماحولیات کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ اس کتاب میں سندھ میں ماحولیاتی تباہی سے زیادہ تاریخ کو بھی توجہ کا مرکز بنایا گیا ہے۔ ابوبکر شیخ ماہرِ ماحولیات تو پہلے ہی تھی مگر اب وہ سفرناموں کے مصنف ہونے کی حیثیت سے مؤرخین کی صف میں بھی شامل ہوگئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ یقینی طور پر  مصنف کے تجربے، وسیع مطالعے اور تحقیق سے پیدا ہونے والی فکری تکمیل کا واضح اشارہ ہے۔ ان کی نثر خوب صورت تشبیہات سے بھری ہوئی ہے۔ سیہون کے نزدیک بھگو ٹھوڑو کی پہاڑیوں پر کھڑے انہیں پہاڑوں سے آتی ریل ایسی لگتی ہے جیسے ’پہاڑ ریل کو اگل رہے ہوں‘۔ اسی طرح مصنف کو کسی ڈاکٹر غلام محمد کھٹی کے لہجے سے محبت ایسے بہتی ہوئی نظر آتی جیسے ’رہٹ کی لوٹیوں سے ٹھنڈا اور میٹھا پانی گرتا اور بہتا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر غلام محمد کھٹی نے بیان کیا کہ کیسے سمندر کی سطح میں اضافہ ہونے کے باعث انہیں ڈیلٹا کنارے واقع اپنی کھاروچھان نامی بستی کو  چھوڑنا پڑا اور اب وہ کراچی میں ابراہیم حیدری کے قریب واقع ریڑہی گوٹھ میں مقیم ہیں۔ ان کی داستان جذبات اور احساسات سے پُر ہے۔ ہجرت کرنے کے کچھ عرصے بعد ہی ڈاکٹر صاحب کا انتقال ہوگیا کیونکہ ’ان کی زندگی کا درخت پرائی زمین میں جڑ ہی نہ پکڑ سکا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’سندھو گھاٹی اور سمندر‘ میں شامل تمام واقعات کا آغاز انتہائی شاعرانہ انداز میں کیا گیا ہے چاہے وہ ڈیلٹا کے علاقے میں سمندر کی زد میں آنے والی کھارو چھان کی زرعی زمینوں کا واقعہ ہو یا پھر سندھ کے آخری آزاد حکمران مرزا جانی بیگ کی طرف سے اکبر بادشاہ کے زیریں سندھ کو ضم کرنے کی فیصلے کی مخالفت ہو ۔ ان کی خلاف ورزی  ایک ایسا قدم تھا جو ٹھٹہ پر مصائب کے انبار لے کر آیا جوکہ پہلے ایک انتہائی خوب صورت اور خوشحال شہر ہوا کرتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کتاب میں تعارف کے بعد وہ اصل موضوع کی جانب آئے ہیں۔ اس کتاب میں ایسے لوگوں کی کہانیاں ہیں جو دریائے سندھ میں میٹھے پانی کی کمی اور اس کے نتیجے میں سمندر کے بڑھنے اور تمر کے جنگلات کی تباہی کی وجہ سے ڈیلٹا میں اپنی آبائی زمینوں کو چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ وہ خاندان جو پہلے زراعت کی وجہ سے خوش حال تھے، اب وہ ہجرت کرکے کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1090016"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ دنیا جنگ کے نتیجے میں نقل مکانی کرنے والوں کی مدد کے لیے تو کوششیں کرتی ہے لیکن اس کتاب سے قارئین کو یہ دردناک حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ یہاں مائی بھاگی جیسے لوگوں کی مدد کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ وہ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئی تھیں جس نے انہیں ماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کرنے والی کارکن بنادیا۔ انہوں نے عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک میں بھی اس حوالے سے آواز بلند کی۔ اس کے باوجود وہ اپنی زندگی ایک پناہ گزین کے طور پر غربت میں جی رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح کی کہانیاں ہم منچھر جھیل کے حوالے سے بھی سنتے ہیں جو جنوبی ایشیا کی سب سے بڑی میٹھے پانی کی جھیل تھی لیکن اب وہ ناقص منصوبہ بندی کے باعث زہرآلود ہوچکی ہے۔ مصنف نے ان لوگوں کے جذبات کی عکاسی کی ہے جو بڑے لوگوں کی بدانتظامی کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ ان بڑے لوگوں نے ڈیلٹا اور سندھ کی جھیلیں کبھی نہیں دیکھیں شاید ہی انہوں نے یہاں کی زرعی زمینوں کے حوالے سے موجود پرانی رپورٹیں پڑھی ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابوبکر شیخ نے بطور مورخ بھی خود کو منوایا ہے۔ وہ سندھ میں نادر شاہ کے حملوں کی کہانی بھی اتنی ہی آسانی سے بیان کرسکتے ہیں جس آسانی سے وہ 16ویں صدی کے  ترک ایڈمرل سیدی علی رئیس کے اسفار کے بارے میں بتاتے ہیں۔ انہوں نے بحرِ ہند پر برتری حاصل کرنے کے لیے پرتگالیوں کا مقابلہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جن برطانوی مصنفین نے ابوبکر شیخ کو متاثر کیا ان میں برنس برادران (جیمز اور الیگزینڈر)، ایڈورڈ ایسٹویک جبکہ ’ایمپائرز آف دی انڈس: اسٹوری آف اے ریور‘ کی لکھاری ایلس البینیا شامل ہیں۔ اپنی کتاب کے ایک باب میں ابوبکر شیخ نے ایسٹویک کا شکریہ بھی ادا کیا ہے کہ انہوں نے استعماری دور میں اس علاقے کا دورہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1178501"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کتاب پڑھتے ہوئے قاری محسوس کرسکتا ہے کہ مصنف سندھ کے ایک اور ہمدرد میجر جیمز اوٹرام کا تذکرہ کریں گے۔ یہ وہ برطانوی فوجی افسر تھے جنہیں تالپوروں کی جانب سے بہت غلط سمجھا گیا تھا۔ جس طرح ابوبکر شیخ نے اس کتاب میں مختلف شخصیات کی تاریخ کا حوالہ دیا ہے اور قارئین سے وعدہ کیا ہے کہ وہ ان واقعات کا ذکر کریں گے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان واقعات کے تسلسل کو جاری رکھنے کے لیے شاید وہ ایک اور کتاب لکھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہ ہرحال ان کی موجودہ کتاب ’سندھو گھاٹی اور سمندر‘ سندھ کی تاریخ اور ماحولیاتی تباہی کا شکار  لوگوں کی حالت زار کے حوالے سے ایک بہترین کام ہے۔ ہر وہ شخص جو ابوبکر شیخ کی تحریروں کو پڑھتا ہے، اس کے لیے یہ حقیقت حیرانی کا باعث ہے کہ سرکار ان کی خدمات کو نظرانداز کررہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر کوئی واقعی سندھ کی زمین کو محفوظ بنانے کے حوالے سے سرگرم ہے تو وہ ابوبکر شیخ ہیں۔ صوبائی حکومت کو انہیں وہ اہمیت دینی چاہیے جس کے وہ حقدار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;کتاب کا نام: سندھو گھاٹی اور سمندر&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصنف: ابوبکر شیخ&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناشر: سنگِ میل، لاہور&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صفحات: 350&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1737978/non-fiction-tour-de-force-through-a-changing-sindh"&gt;مضمون&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; 19 فروری 2023ء کو ڈان بکس اینڈ اوتھرز میں شائع ہوا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>’سندھو گھاٹی اور سمندر‘، ابوبکر شیخ کی تیسری کتاب ہے۔ مصنف کا تعلق زیریں سندھ کے ضلع بدین سے ہے اور وہ تقریباً 3 دہائیوں سے ماحولیاتی تحفظ اور ماہی گیروں کے حقوق کے حوالے سے متعدد بار قلم اٹھا چکے ہیں۔</p>
<p>یہی وجہ ہے کہ ابوبکر شیخ کی گزشتہ 2 کتابوں، ’نگری نگری پھرا مسافر‘ اور ’تاریخ کے مسافر‘ میں بھی سندھ میں ماحولیاتی تباہی پر روشنی ڈالی گئی ہے جبکہ دریائے سندھ اور اس کے ڈیلٹا کنارے بسنے والی ماہی گیربرادری کی حالتِ زار بھی ان کی توجہ کا خصوصی موضوع رہے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1142262"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>چونکہ ابوبکر شیخ کی کہانیاں، متعلقہ علاقوں میں ان کے حقیقی دوروں اور تجربات پر مبنی ہوتی ہیں اس لیے ان کی تحریر سفرنامے جیسی لگتی ہے۔ اپنی تحریر میں وہ جن احساسات کو شامل کرتے ہیں وہ قابلِ تعریف ہیں اور کئی مواقع پر وہ متاثر کُن بھی ہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستان میں کہیں بھی کسی بھی مقامی زبان میں اس طرح کا منفرد کام کبھی نہیں کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ابوبکر شیخ صرف سندھی زبان میں ہی نہیں بلکہ دیگر مقامی زبانوں میں بھی اس سفرنامہ نگاری میں اپنا الگ مقام رکھتے ہیں۔</p>
<p>اس کتاب میں انہوں نے اپنی گزشتہ کتابوں کی طرح دریائے سندھ کے کم ہوتے ڈیلٹا یا دریائے سندھ کے دونوں اطراف سے نکلنے والے سیم نالوں کے باعث ہونے والی ماحولیاتی تباہی کے علاوہ دیگر موضوعات کا بھی احاطہ کیا ہے۔ ابوبکر شیخ کی تحریر کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ وہ دیگر مصنفین کی طرح دوسروں پر تنقید کا سہارا نہیں لیتے۔ ان کی تحریریں پڑھ کرگمان ہوتا ہے جیسے لکھاری یا جن کے اقوال انہوں نے اس تحریر میں شامل کیے ہیں، ان سب کے ذریعے وہاں کی زمین خود ہم سے مخاطب ہے۔</p>
<p>اپنی حالیہ کتاب میں بھی لکھاری نے ماحولیات کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ اس کتاب میں سندھ میں ماحولیاتی تباہی سے زیادہ تاریخ کو بھی توجہ کا مرکز بنایا گیا ہے۔ ابوبکر شیخ ماہرِ ماحولیات تو پہلے ہی تھی مگر اب وہ سفرناموں کے مصنف ہونے کی حیثیت سے مؤرخین کی صف میں بھی شامل ہوگئے ہیں۔</p>
<p>یہ یقینی طور پر  مصنف کے تجربے، وسیع مطالعے اور تحقیق سے پیدا ہونے والی فکری تکمیل کا واضح اشارہ ہے۔ ان کی نثر خوب صورت تشبیہات سے بھری ہوئی ہے۔ سیہون کے نزدیک بھگو ٹھوڑو کی پہاڑیوں پر کھڑے انہیں پہاڑوں سے آتی ریل ایسی لگتی ہے جیسے ’پہاڑ ریل کو اگل رہے ہوں‘۔ اسی طرح مصنف کو کسی ڈاکٹر غلام محمد کھٹی کے لہجے سے محبت ایسے بہتی ہوئی نظر آتی جیسے ’رہٹ کی لوٹیوں سے ٹھنڈا اور میٹھا پانی گرتا اور بہتا ہے‘۔</p>
<p>ڈاکٹر غلام محمد کھٹی نے بیان کیا کہ کیسے سمندر کی سطح میں اضافہ ہونے کے باعث انہیں ڈیلٹا کنارے واقع اپنی کھاروچھان نامی بستی کو  چھوڑنا پڑا اور اب وہ کراچی میں ابراہیم حیدری کے قریب واقع ریڑہی گوٹھ میں مقیم ہیں۔ ان کی داستان جذبات اور احساسات سے پُر ہے۔ ہجرت کرنے کے کچھ عرصے بعد ہی ڈاکٹر صاحب کا انتقال ہوگیا کیونکہ ’ان کی زندگی کا درخت پرائی زمین میں جڑ ہی نہ پکڑ سکا‘۔</p>
<p>’سندھو گھاٹی اور سمندر‘ میں شامل تمام واقعات کا آغاز انتہائی شاعرانہ انداز میں کیا گیا ہے چاہے وہ ڈیلٹا کے علاقے میں سمندر کی زد میں آنے والی کھارو چھان کی زرعی زمینوں کا واقعہ ہو یا پھر سندھ کے آخری آزاد حکمران مرزا جانی بیگ کی طرف سے اکبر بادشاہ کے زیریں سندھ کو ضم کرنے کی فیصلے کی مخالفت ہو ۔ ان کی خلاف ورزی  ایک ایسا قدم تھا جو ٹھٹہ پر مصائب کے انبار لے کر آیا جوکہ پہلے ایک انتہائی خوب صورت اور خوشحال شہر ہوا کرتا تھا۔</p>
<p>کتاب میں تعارف کے بعد وہ اصل موضوع کی جانب آئے ہیں۔ اس کتاب میں ایسے لوگوں کی کہانیاں ہیں جو دریائے سندھ میں میٹھے پانی کی کمی اور اس کے نتیجے میں سمندر کے بڑھنے اور تمر کے جنگلات کی تباہی کی وجہ سے ڈیلٹا میں اپنی آبائی زمینوں کو چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ وہ خاندان جو پہلے زراعت کی وجہ سے خوش حال تھے، اب وہ ہجرت کرکے کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1090016"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یہ دنیا جنگ کے نتیجے میں نقل مکانی کرنے والوں کی مدد کے لیے تو کوششیں کرتی ہے لیکن اس کتاب سے قارئین کو یہ دردناک حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ یہاں مائی بھاگی جیسے لوگوں کی مدد کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ وہ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئی تھیں جس نے انہیں ماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کرنے والی کارکن بنادیا۔ انہوں نے عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک میں بھی اس حوالے سے آواز بلند کی۔ اس کے باوجود وہ اپنی زندگی ایک پناہ گزین کے طور پر غربت میں جی رہی ہیں۔</p>
<p>اسی طرح کی کہانیاں ہم منچھر جھیل کے حوالے سے بھی سنتے ہیں جو جنوبی ایشیا کی سب سے بڑی میٹھے پانی کی جھیل تھی لیکن اب وہ ناقص منصوبہ بندی کے باعث زہرآلود ہوچکی ہے۔ مصنف نے ان لوگوں کے جذبات کی عکاسی کی ہے جو بڑے لوگوں کی بدانتظامی کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ ان بڑے لوگوں نے ڈیلٹا اور سندھ کی جھیلیں کبھی نہیں دیکھیں شاید ہی انہوں نے یہاں کی زرعی زمینوں کے حوالے سے موجود پرانی رپورٹیں پڑھی ہوں۔</p>
<p>ابوبکر شیخ نے بطور مورخ بھی خود کو منوایا ہے۔ وہ سندھ میں نادر شاہ کے حملوں کی کہانی بھی اتنی ہی آسانی سے بیان کرسکتے ہیں جس آسانی سے وہ 16ویں صدی کے  ترک ایڈمرل سیدی علی رئیس کے اسفار کے بارے میں بتاتے ہیں۔ انہوں نے بحرِ ہند پر برتری حاصل کرنے کے لیے پرتگالیوں کا مقابلہ کیا تھا۔</p>
<p>جن برطانوی مصنفین نے ابوبکر شیخ کو متاثر کیا ان میں برنس برادران (جیمز اور الیگزینڈر)، ایڈورڈ ایسٹویک جبکہ ’ایمپائرز آف دی انڈس: اسٹوری آف اے ریور‘ کی لکھاری ایلس البینیا شامل ہیں۔ اپنی کتاب کے ایک باب میں ابوبکر شیخ نے ایسٹویک کا شکریہ بھی ادا کیا ہے کہ انہوں نے استعماری دور میں اس علاقے کا دورہ کیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1178501"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یہ کتاب پڑھتے ہوئے قاری محسوس کرسکتا ہے کہ مصنف سندھ کے ایک اور ہمدرد میجر جیمز اوٹرام کا تذکرہ کریں گے۔ یہ وہ برطانوی فوجی افسر تھے جنہیں تالپوروں کی جانب سے بہت غلط سمجھا گیا تھا۔ جس طرح ابوبکر شیخ نے اس کتاب میں مختلف شخصیات کی تاریخ کا حوالہ دیا ہے اور قارئین سے وعدہ کیا ہے کہ وہ ان واقعات کا ذکر کریں گے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان واقعات کے تسلسل کو جاری رکھنے کے لیے شاید وہ ایک اور کتاب لکھیں۔</p>
<p>بہ ہرحال ان کی موجودہ کتاب ’سندھو گھاٹی اور سمندر‘ سندھ کی تاریخ اور ماحولیاتی تباہی کا شکار  لوگوں کی حالت زار کے حوالے سے ایک بہترین کام ہے۔ ہر وہ شخص جو ابوبکر شیخ کی تحریروں کو پڑھتا ہے، اس کے لیے یہ حقیقت حیرانی کا باعث ہے کہ سرکار ان کی خدمات کو نظرانداز کررہی ہے۔</p>
<p>اگر کوئی واقعی سندھ کی زمین کو محفوظ بنانے کے حوالے سے سرگرم ہے تو وہ ابوبکر شیخ ہیں۔ صوبائی حکومت کو انہیں وہ اہمیت دینی چاہیے جس کے وہ حقدار ہیں۔</p>
<hr />
<p>کتاب کا نام: سندھو گھاٹی اور سمندر</p>
<p>مصنف: ابوبکر شیخ</p>
<p>ناشر: سنگِ میل، لاہور</p>
<p>صفحات: 350</p>
<hr />
<p>یہ <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1737978/non-fiction-tour-de-force-through-a-changing-sindh">مضمون</a></strong> 19 فروری 2023ء کو ڈان بکس اینڈ اوتھرز میں شائع ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1197581</guid>
      <pubDate>Mon, 27 Feb 2023 17:00:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سلمان رشید)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/02/24094843de5c10a.jpg?r=094848" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/02/24094843de5c10a.jpg?r=094848"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
