<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - News</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 08:58:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 08:58:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان: ایچ آئی وی کیسز میں گیارہ برس میں آٹھ گنا اضافہ </title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1000328/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: سال 2001 سے 2012 کے درمیان پاکستان میں ایڈز کے مجموعی کیسز میں آٹھ گنا اضافہ ہوا ہے۔ اس بات کا انکشاف ورلڈ ایڈز ڈے پر اقوامِ متحدہ کی جانب سے ریلیز ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;' ایچ آئی وی ان ایشیا اینڈ پیسیفک: گیٹنگ ٹو زیرو' نامی یہ رپورٹ ایچ آئی وی اور ایڈز پر یہ مشترکہ رپورٹ اقوامِ متحدہ نے شائع کی ہے جس میں ایشیا اور بحرالکاہل کی اطراف کے بارہ ممالک کا جائزہ پیش کیا گیا ہے جہاں 2012 میں ایچ آئی وی کے 49 لاکھ مریض موجود تھے۔ بحرالکاہل کے یہ ممالک پیسفک ممالک بھی کہلاتے ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس خطے میں ایچ آئی وی کے 90 فیصد کیسز کا تعلق انہی 12 ممالک سے ہے جن میں پاکستان، کمپیوچیا، چین، انڈیا، ملائیشیا، نیپال، انڈونیشیا۔ تھائی لینڈ ، فلپائن ، پاپوا نیوگنی، ویتنام اور تھائی لینڈ شامل ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق پاکستان نے شناختی دستاویز میں ' تیسری جنس' کا اضافہ کیا ہے جبکہ نیپال نے مردم شماری ( سینسس) میں انہیں شامل کیا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایچ آئی وی انفیکشن اور اس کے ممکنہ خطرے سے دوچار علاقوں میں موجود آبادیوں کو اس مرض سے بچانے کیلئے مناسب اقدامات کی کمی ہے۔ دوسری جانب دنیا کے اکثر ممالک ایچ آئی وی سے بچاؤ، علاج، دیکھ بھال اور نگہداشت کے عالمی ٹارگٹس سے بہت پیچھے ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم بعض ممالک میں کافی ترقی دیکھی گئی ہے یعنی 2001 کے بعد سے انہوں نے ایچ آئی وی انفیکشنز میں 50 فیصد سے زائد کمی کی ہے  تاہم گزشتہ پانچ برس میں خطے کے مجموعی صورتحال بہت کم تبدیل ہوئی ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس خطے میں 2012 میں ایچ آئی وی پر 2.2 ارب ڈالر خرچ کئے گئے تھے۔ جبکہ ایڈز پر اب بھی کم رقم خرچ کی جارہی ہے۔ جبکہ یواین کے مطابق ان خطوں کی اقوام کو 2015 تک ایڈز سے بچاؤ اور علاج پر 5.4  ارب ڈالر خرچ کرنے چاہئے ۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ اہم آبادیوں میں ایچ آئی وی انفیکشنز موجود رہتا ہے ۔ یہاں سیکس کی خریدوفروخت ہوتی ہے، لوگ سرنج سے نشہ آور ادویات لیتے ہیں، مرد آپس میں جنسی طور پر ملاپ کرتے ہیں اور خواجہ سرا یا عرفِ عام میں ہیجڑوں سے بھی جنسی فعل کرتے ہیں۔ اور ان آخری دو وجوہ سے ایڈز ذیادہ پھیل رہا ہے۔ اہم شہروں میں وبا کی وجہ بھی یہی ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ خطرے سے دوچار آبادیوں میں جہاں لوگ ذیادہ متاثر ہوسکتے ہیں وہاں رضا کاروں پر مبنی ایک مہم شروع کی جائے تاکہ خاموشی کیساتھ مدد اور کونسلنگ کا عمل کیا جاسکے۔ &lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: سال 2001 سے 2012 کے درمیان پاکستان میں ایڈز کے مجموعی کیسز میں آٹھ گنا اضافہ ہوا ہے۔ اس بات کا انکشاف ورلڈ ایڈز ڈے پر اقوامِ متحدہ کی جانب سے ریلیز ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے۔</p>

<p>' ایچ آئی وی ان ایشیا اینڈ پیسیفک: گیٹنگ ٹو زیرو' نامی یہ رپورٹ ایچ آئی وی اور ایڈز پر یہ مشترکہ رپورٹ اقوامِ متحدہ نے شائع کی ہے جس میں ایشیا اور بحرالکاہل کی اطراف کے بارہ ممالک کا جائزہ پیش کیا گیا ہے جہاں 2012 میں ایچ آئی وی کے 49 لاکھ مریض موجود تھے۔ بحرالکاہل کے یہ ممالک پیسفک ممالک بھی کہلاتے ہیں۔ </p>

<p>اس خطے میں ایچ آئی وی کے 90 فیصد کیسز کا تعلق انہی 12 ممالک سے ہے جن میں پاکستان، کمپیوچیا، چین، انڈیا، ملائیشیا، نیپال، انڈونیشیا۔ تھائی لینڈ ، فلپائن ، پاپوا نیوگنی، ویتنام اور تھائی لینڈ شامل ہیں۔ </p>

<p>رپورٹ کے مطابق پاکستان نے شناختی دستاویز میں ' تیسری جنس' کا اضافہ کیا ہے جبکہ نیپال نے مردم شماری ( سینسس) میں انہیں شامل کیا ہے۔ </p>

<p>رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایچ آئی وی انفیکشن اور اس کے ممکنہ خطرے سے دوچار علاقوں میں موجود آبادیوں کو اس مرض سے بچانے کیلئے مناسب اقدامات کی کمی ہے۔ دوسری جانب دنیا کے اکثر ممالک ایچ آئی وی سے بچاؤ، علاج، دیکھ بھال اور نگہداشت کے عالمی ٹارگٹس سے بہت پیچھے ہیں۔ </p>

<p>تاہم بعض ممالک میں کافی ترقی دیکھی گئی ہے یعنی 2001 کے بعد سے انہوں نے ایچ آئی وی انفیکشنز میں 50 فیصد سے زائد کمی کی ہے  تاہم گزشتہ پانچ برس میں خطے کے مجموعی صورتحال بہت کم تبدیل ہوئی ہے۔ </p>

<p>اس خطے میں 2012 میں ایچ آئی وی پر 2.2 ارب ڈالر خرچ کئے گئے تھے۔ جبکہ ایڈز پر اب بھی کم رقم خرچ کی جارہی ہے۔ جبکہ یواین کے مطابق ان خطوں کی اقوام کو 2015 تک ایڈز سے بچاؤ اور علاج پر 5.4  ارب ڈالر خرچ کرنے چاہئے ۔ </p>

<p>رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ اہم آبادیوں میں ایچ آئی وی انفیکشنز موجود رہتا ہے ۔ یہاں سیکس کی خریدوفروخت ہوتی ہے، لوگ سرنج سے نشہ آور ادویات لیتے ہیں، مرد آپس میں جنسی طور پر ملاپ کرتے ہیں اور خواجہ سرا یا عرفِ عام میں ہیجڑوں سے بھی جنسی فعل کرتے ہیں۔ اور ان آخری دو وجوہ سے ایڈز ذیادہ پھیل رہا ہے۔ اہم شہروں میں وبا کی وجہ بھی یہی ہے۔ </p>

<p>رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ خطرے سے دوچار آبادیوں میں جہاں لوگ ذیادہ متاثر ہوسکتے ہیں وہاں رضا کاروں پر مبنی ایک مہم شروع کی جائے تاکہ خاموشی کیساتھ مدد اور کونسلنگ کا عمل کیا جاسکے۔ </p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1000328</guid>
      <pubDate>Sun, 01 Dec 2013 19:01:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2013/12/529b404c6e5c5.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2013/12/529b404c6e5c5.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
