<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Opinions</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 16 Jun 2026 21:48:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 16 Jun 2026 21:48:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ملے جو دیں سیاست سے - 2</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1001011/30dec13-jamaat-2-am-abid-aq</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;روایت ہے کہ ’سیاست کے خیمے میں مذہب کا اونٹ داخل ہوتا ہے تو انسانیت منہ لپیٹ کر باہر نکل آتی ہے‘۔ پاکستان کی تاریخ میں مذہب اور سیاست کے امتزاج کا بہترین نمونہ جماعت اسلامی ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں مذہبی جماعتوں کے کردار کو سمجھنے کے لیے جماعت کی تاریخ پر نظر ڈالنا وقت کا تقاضا ہے۔ موجودہ حالات یہ ہیں کہ ارض پاک مذہبی تنازعات میں گھری ہوئی ہے اور مذہبی جماعتیں، جنہیں عوام نے کبھی ووٹ ڈالنا مناسب نہیں سمجھا، اس ملک کی نظریاتی ٹھیکے دار بنی بیٹھی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;'سیاست ایک گٹر ہے'، یہ فقرہ ہم سب بہت بار سن چکے ہیں، لیکن مذہب اور سیاست کے تعلق پر بات کرنا کبھی گوارہ نہیں کرتے. اگر سیاست گٹر ہے تو ظاہر ہے اس میں ملنے والی ہر چیز غلیظ اور ذلیل ہی ہوگی. تاریخ گواہ ہے مذہب کے نام پر سیاست کی اجازت ہونے کا واحد ایک ہی مطلب اور نتیجہ نکلتا ہے، ذاتی اور سیاسی مفاد کیلئے مذہب جیسے عظیم اور مقدّس آئیڈیل کا ناجائز استعمال اور استحصال.   &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گو علامہ اقبال نے مذہب اور سیاست کے تعلق سے فرمایا تھا؛&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;"جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی"&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لیکن پاکستانی تجربے کو سامنے رکھتے ہوئے، ہمیں یقین ہے کہ علامہ اگر آج حیات ہوتے تو  ضرور کرّاہ اٹھتے کہ؛  &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;"ملے جو دیں سیاست سے تو آجاتی ہے چنگیزی!"&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستان کی تاریخ میں مذہبی سیاست کے داغدار کردار کو قارئین تک پہنچانے کے لیے ہم نے اس سلسلہ مضامین کا آغاز کیا ہے، اور ہم جماعت اسلامی کو بطور مثال پیش کر کے یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ مذہب اور سیاست کو اکٹھا کرنا ایک سنگین غلطی ہے اور ہم آج اس غلطی کی سزا بھگت رہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;					&lt;div class="image-container"&gt;
						&lt;div class="image"&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2013/12/52b2032003cd1.jpg" alt="السٹریشن -- وکی میڈیا کامنز" /&gt;&lt;/div&gt;
						&lt;div class='caption'&gt;السٹریشن -- وکی میڈیا کامنز&lt;/div&gt;
					&lt;/div&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;hr /&gt;
یہ اس بلاگ کا دوسرا حصّہ ہے، &lt;a href="http://urdu.dawn.com/news/1000768/19dec13-am-abid-jamaat-1-aq"&gt;پہلے حصّے کے لئے کلک کریں&lt;/a&gt; 
&lt;hr /&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تقسیم  ہند  کے  موقعے  پر  پٹھان کوٹ  سے  فوجی  ٹرکوں  پر  کتابیں  لاد  کر  لاہور  لانے  والے  مودودی  صاحب  اور  انکی  قائم  جماعت  نے  کبھی  جمہوریت  یا  جمہوری  نظام  کو تسلیم  نہیں  کیا  اور  ہمیشہ  ابن الوقتی  کی  سیاست  کی۔  آئیے  اب  تقسیم  کے  بعد  جماعت  کی  کارستانیاں  ملاحضہ  کرتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جنوری  اور  جون  1947ء میں  شائع  ہونے  والے  کوثر  اخبار  میں  مولانا  نے  "مسلم  لیگ  کے  پاکستان"  کو  "فاقستان"  اور  "لنگڑا  پاکستان"  قرار  دیا۔  مسلم  لیگ  کو  کئی  سال  طعن و تشنیع  کا  نشانہ  بنانے  کے  بعد  اسی  لیگ  کی  کوششوں  کے  باعث  قائم  ملک  میں  ڈیرہ  جمانے  کے  بعد  جماعت  مودودیہ  نے  اپنی  چودھراہٹ  قائم  کرنے  کی  سعی  شروع  کی۔  &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;16  نومبر 1947ء  کے  روز  مودودی  صاحب  نے  کوثر  اخبار  میں  لکھا؛&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;"ہم  سے  یہ  بھی  پوچھا  جاتا  ہے کہ تم  لوگ  جب  اس  تحریک  کے  ہی  ہمنوا  نہیں  تھے  جس  کے  نتیجے  میں  پاکستان  بنا  ہے  تو  اب  آخر  کیا  حق  پہنچتا  ہے  کہ  اس  پاکستان  کی  سرزمین  میں  پناہ  لو؟  &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس  سوال  کا  جواب  ہمارے  پاس  یہ  ہے  کہ  ہاں  فی الواقع  ہماری  حیثیت   پاکستان  میں  پناہ گزینوں  کی  سی  ہے  اور  اگرچہ  ہم  اس  تحریک  کو  آج  بھی  صحیح  نہیں  سمجھتے  جس  کی  بنیاد  پر  پاکستان  بنا  ہے  اور  پاکستان  کا  اجتماعی  نظام  جن  اصولوں  پر  قائم  ہو  رہا  ہے  ان  اصولوں  کو  اسلامی  نقطہ  نظر  سے  ہم  کسی  قدر و قیمت  کا  مستحق  نہیں  سمجھتے،  لیکن  جو  چیز  ہمیں  یہاں  کھینچ  لائی  ہے  وہ  یہ  ہے  کہ  یہاں  کے  باشندے  اعمال وکردار  کے  لحاظ  سے  چاہے  کوئی  بھی  رویہ  رکھتے  ہیں  لیکن  بہر حال  وہ  اس  خدا  کا  نام  لیتے  ہیں  جس  کی  عبادت و طاعت  ہماری  نگاہ  میں  واجب  ہے۔  &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وہ  اپنے  آپ  کو  اس  کتاب  کا  حامل  مانتے  ہیں  جس  کے  ایک  ایک  شوشے  کی  پابندی  ہر  مسلمان  کے  لیے  فرض  عین  ہے  اور  وہ  اس  اسلامی  نظام  کے  قیام  کو  خواہش  ظاہر  کرتے  ہیں  جس  کے  سوا  کسی  دوسرے  نظام  کو  قائم  کرنا  یا  قبول  کرنا  روا  نہیں  ہے۔  اب  ہم  اس  سرزمین  پر  اس  توقع  سے  قدم  رکھ  رہے  ہیں  کہ  یہاں  ہمارے  لئے  مسلمان  کے  لئے  دین  کا  کام  کرنا  نسبتاََ سہل  ہوگا  اور  یہاں  ہم  کو  اسلامی  نظام  کے  برپا  کرنے  کے  مواقع  حاصل  ہوں  گے۔  &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستان  بنانے  کے  لئے  چاہے  انداز  غلط  اختیار  کیا  گیا  ہو  لیکن  مسلمانوں  سے  ہم  یہ  توقع  رکھتے  ہیں  کہ  اب  پاکستان  کو  حاصل  کر  لینے  کے  بعد  صحیح  اسلامی  اصولوں  پر  اسے  فی الواقع  پاکستان  بنانے  میں  پس وپیش  نہ  کریں  گے  اور  یہاں  ایسی  حکومت  قائم  کرنے  میں  حصہ  لیں  گے  جو  پچھلی  کوتاہیوں  کو  پورا  کرنے  والی  ہو"۔       &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اگست  سن  1975ء میں  مودودی  صاحب  نے  نوائے  وقت  میں  ایک  مضمون  لکھا  جس  کے  مطابق؛&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;"ہم  مسلمانوں  کے  لیے  علیحدہ  وطن  کی  حمایت  کرتے  تھے  لیکن  مسلم  لیگ  کے  راستے  کی  رکاوٹ  نہ  بنے۔  اگر  لیگ  اپنے  مقصد  میں  ناکام  ہو  جاتی  تو  ہم  میدان  میں  اتر  آتے!" (اس  قسم  کی  ذہنی  قلابازیاں  حضرت  ساری  عمر  کھاتے  رہے)۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سن  1948ء  کے  اوائل  میں  مولانا  نے  لاہور  کے  لاء  کالج  میں  ’اسلامی  دستور‘  کے  خدوخال  پر  اپنی  ماہرانہ  رائے  کا  اظہار  کیا،  جس  کے  جواب  میں  مسلم  لیگ  کے  راہنما  راجہ  غضنفر  علی  اور  معروف  ادبی  شخصیت  فیض  احمد  فیض  نے  اس  ’ناقابل  عمل‘  تجویز  پر  مولانا  کے  خوب  لتے  لیے۔ مولانا  کو  لاء  کالج  اور  ریڈیو  پاکستان  پر  ’اسلامی  دستور‘  کے  متعلق  اظہار  خیال  کا  موقعہ  حکومت  پنجاب  کے  ’محکمہ  تعمیر  اسلامی‘  نے  دیا  تھا۔  &lt;strong&gt;بقول  زاہد  چوہدری&lt;/strong&gt;؛  &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;"قائداعظم  کے  سیکولر  نظریے  کے  خلاف  کراچی  سے  بھی  بڑا  محاذ  پنجاب  کے  رجعت پسند  جاگیرداروں  اور  درمیانے  طبقے  کے  قدامت پسند  عناصر  نے  بنایا  تھا۔  اس  صوبے  کا  وزیر اعلی  ایک  نیم تعلیم یافتہ  اور  کم عقل  جاگیر دار  نواب  افتخار  ممدوٹ  تھا  جو  یہ  سمجھتا  تھا  کہ  اس  کے  اپنے  اور  اس  کے  طبقے  کے  مفادات  کے  تحفظ  کے  لیے  ضروری  ہے  کہ  اسلام  کو  صبح و شام  سیاسی  حربے  کے  طور  پر استعمال  کیا  جائے۔  اس  نے  اپنے  دوستوں  کے  مشورے  کے  مطابق  پہلے  تو  ستمبر  میں  ایک  شخص  غلام  محمد  اسد  سے  ریڈیو  پاکستان  لاہور  سے  "اسلام  اور  مسلمان"  کے  عنوان  سے  تقریروں  کا  ایک  سلسلہ  شروع  کروایا  اور  پھر  اکتوبر  میں  اسکی  سربراہی  میں  ایک  نئے  محکمے  بنام  "تعمیر  اسلامی"  کا  اضافہ  کیا۔  &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ  شخص  آسٹریا  کا  ایک  یہودی  تھا  اور  اسکا  اصلی  نام  لیوپولڈ  ویس  تھا۔  اس  نے  روس  میں  1917ء  کے  پرولتاری  انقلاب  کے  بعد  اسلام  قبول  کر  کے بطور  اخبار نویس  مشرق وسطی  میں  سارے  عالم  عرب  کا  دورہ  کیا  تھا۔  انگریزوں  نے  دوسری  جنگ عظیم  کے  دوران  ہٹلر  کا  جاسوس  ہونے  کے  شبے  میں  اسے  احمد آباد  میں  نظر بند  کیا  تھا۔  جنگ  کے  خاتمے   پر  اس  کی  رہائی  ہوئی  تو  اس  نے  لاہور  میں  ڈیرے  ڈال  لیے  اور  قیام  پاکستان  کے  بعد  یہاں  اسلام  کا  عظیم ترین  علم بردار  بن  بیٹھا۔  &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس  کی  زندگی  کا  اپنا  یا  کسی  کا  دیا  ہوا  واحد  نصب العین  یہ  تھا  کہ  مشرق وسطی  اور  برصغیر  کے  شمال  مغربی  علاقے  میں  سویت  یونین  کے  اثر و رسوخ  کا  سدباب  کیا  جائے۔  اس  نے  اکتوبر  کے  دوسرے  ہفتے  میں  اپنے  محکمہ  تعمیر  اسلامی  کا  چارج  سنبھالا  اور چند  دن  بعد   ریڈیو  پاکستان  لاہور  سے  تقریر  کی  جس  کا  خلاصہ  یہ  تھا  کہ  ہماری  یہ  مملکت  پاکستان  ایک  نظریاتی  مملکت  ہے  اور  ہم  مسلمان  اسلام  سے  وابستگی  کی  وجہ  سے  ایک  قوم  ہیں۔"&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حال  ہی  میں  مودودی  صاحب  کے  نظریاتی  وارثین،  اوریا  مقبول  اور  انصار  عباسی  نے    ببانگ  دہل  &lt;a href="http://www.thenews.com.pk/Todays-News-13-27560-Quaids-effort-to-Islamise-society-was-thwarted"&gt;یہ  دعوی  کرنا  شروع  کیا  ہے&lt;/a&gt;  کہ  محکمہ  تعمیر  اسلامی  جناح  صاحب  کے  ایماء  پر  بنایا  گیا  ہے۔  تاریخ  کی  الف  بے  سے  ناواقف  ان  نادانوں  نے  ریت  جو  کے  محل  تعمیر  کرنے  شروع  کیے  ہیں،  انکی  مثال  وہی  ہے  جیسے  ضیاء  دور  میں  حکومت  نے  قائد اعظم  کی  ایک  مبینہ  ڈائری  دریافت  کر  لی  تھی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یاد  رہے  کہ  کچھ  ماہ  قبل  پنجاب  سیکریٹریٹ  میں  نادر  کتابوں  اور  نسخوں  کی  تشویشناک  حالت  کے  بارے  میں  خبر  پھیلی  تھی،  آج  کل  اوریا  صاحب  اسی  محکمے  کے  سیکر ٹری  ہیں۔  وہ  اس  وقت  تاریخی  کتب  کا  بندوبست  کرنے  کی  بجائے  جھوٹی  دستاویزات  عوام  کو  دکھانے  میں  مصروف  ہیں۔  انصار  عباسی  صاحب  نے  اس  محکمے  کو  ختم  کرنے  کا  الزام  ظفر اللہ خان  صاحب  پر  دھر  دیا  ہے۔  کاش  وہ  ایسی  پخ  لگانے  سے  قبل  قرارداد  مقاصد  کے  حق  میں  ظفراللہ صاحب  کی  تقریر  کا  مطالعہ  کر  لیتے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جنوری  1948ء  میں  اس  محکمے  نے  صوبے  میں  میاں  افتخار الدین   کی  تقسیم  اراضی  کی  تجویز  اور  عوام  میں  اس  نظریے  کی  شہرت  کا  سدباب  کرنے  کیلئے  مودودی  صاحب  کو  ریڈیو  پر  "اسلامی  کا  معاشی  نظام"  کے  موضوع  پر  تقاریر  کے  لیے  بلایا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مولانا  نے  فرمایا؛&lt;/strong&gt;
"اسلام  جس  مساوات  کا  قائل  ہے،  وہ  رزق  میں  مساوات  نہیں  بلکہ  حصول  زرق  کی  جدوجہد  کے  مواقع  میں  مساوات  ہے۔  فطرت  سے  قریب  تر  نظام  وہی  ہو  سکتا  ہے  جس  میں ہر  شخص  معیشت  کے  میدان  میں  اپنی  دوڑ  کی  ابتدا  اس  مقام  اور  اسی  حالت  سے  کرے  جس  پر  خدا  نے  اسے  پیدا  کیا  ہے۔  فطرت  سے  قریب تر  نظام  وہی  ہو  سکتا  ہے  جس  میں  ہر  شخص  معیشت  کے  میدان  میں  ابتدا  اسی  مقام  سے  کرے  جس  پر  وہ  پیدا  ہوا،  جو  موٹر  لیے  ہوئے  آیا  ہے  وہ  موٹر  ہی  پر  چلے،  جو  صرف  دو  پاؤں  لایا  ہے  وہ  پیدل  ہی  چلے  اور  جو  لنگڑا  پیدا  ہوا  ہے  وہ  لنگڑا  کر  ہی  چلے۔  سوسائٹی  کا  قانون  نہ  تو  ایسا  ہونا  چاہئے  کہ  وہ  موٹر  والے  کا  مستقل  اجارہ  موٹر  پر  ہی  قائم  کر  دے  اور  لنگڑے  کے  لیے  موٹر  کا  حصول  ناممکن  بنا  دے  اور  نہ  ہی  ایسا  ہونا  چاہئے  کہ  سب  کی  دوڑ  زبردستی  ایک  ہی  مقام  اور  ایک  ہی  حالت  سے  شروع  ہو"۔        &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;13  جنوری  کو  راولپنڈی  میں  جلسہ  عام  سے  خطاب  کرتے  ہوئے  مولانا  نے  کہا؛&lt;/strong&gt;
"اب  مسلمانوں  کا  نصب العین  پورا  ہو  گیا  ہے  تو  پاکستان  کے  علم برداروں  کو  چاہئے  کہ  اس  مسلم  ملک  میں  اسلامی  قوانین  کے  مطابق  آئین  مرتب  کر  کے  اپنے  وعدے پورے  کریں"۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;15  جنوری  کو  پشاور  میں  ایک  استقبالیہ  تقریب  میں  اعلان  کیا؛&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;"پاکستان  ہماری  لیبارٹری  ہے!  ہم  اس  لیبارٹری  میں  دنیا  کو  سکھا  دیں  گے  کہ  1300  سال  پرانے  اصولوں  کا  اب  بھی  اطلاق  ہو  سکتا  ہے"۔  &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;29 جنوری  کو  پنجاب  اسمبلی  میں  مسلم  پرسنل  لاء  ایپلی کیشن  بل  پر  بحث  ہوئی  تو  ملاؤں  کے  ایک  ترجمان  مولانا  عبدالستار  نیازی  نے  اس  بناء  پر  اس  کی  مخالفت  کی  کہ  یہ  مسودہ  قانون  ان  کے  تصور  کے مطابق  اسلامی  شرع  کے  مطابق  نہیں  تھا۔  ان  کا  مطالبہ  تھا  کہ  انگریزوں  کے  وضع کردہ  موجودہ  عدالتی  نظام  کو  ختم  کر  کے  اس  کی  جگہ  شرعی  عدالتوں  کا  نظام  قائم  کیا  جائے  اور  چھوٹی  عدالتوں  میں  ججوں  کی  جگہ  قاضیوں  اور  مفتیوں  کا  تقرر  کیا  جائے۔      &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مارچ  1948ء میں  مولانا  نے  اپنے  قاصد  کراچی  بھیجے  تاکہ  قانون  ساز  اسمبلی  کے  کارکنان  کو  اس  بات  پر  قائل  کیا  جائے  کہ  وہ  مقننہ  میں  پاکستان  کے  ’نظریاتی  ریاست‘  ہونے  کی  قرارداد  پیش  کر  سکیں (اس  موقعہ  پر  یہ  کوشش  کامیاب  نہ  ہوئی)۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;6  اپریل  1948ء کو  ڈان  اخبار  سے  انٹرویو  کے  دوران  مولانا  نے  دستور ساز  اسمبلی  سے  مندرجہ ذیل  مطالبات  کیے؛&lt;/strong&gt;  &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;1۔  عوام الناس  کی  حاکمیت  کی  بجائے  اللہ تعالی  کی  حاکمیت  کو  تسلیم  کیا  جائے ۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;2۔  یہ  تسلیم  کیا  جائے  کہ  پاکستان  کا  دستور  شریعت  کی  بنیاد  پر  بنایا  جائے  گا ۔  &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;3۔  غیر  اسلامی  قوانین  میں  ترمیم  کی  جائے  گی  اور  شریعت  کے  منافی  کوئی  قانون  نہیں  بنایا  جائے  گا ۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;4 ۔  حکومت  پاکستان  شریعت  کی  حدود  میں  رہ  کر  اپنے  اختیارات  کا  استعمال  کرے  گی۔ (بعدازاں  یہی  الفاظ  قرارداد  مقاصد  اور پاکستان  کے  دستور  کا  حصہ  بنے) &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اس  انٹرویو  سے  قبل  مولانا  نے  ایک  اجتماع  سے  خطاب  کرتے  ہوئے  فرمایا؛&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;"ہماری  قوم  نے  اپنے  لیڈروں  کے  انتخاب  میں  غلطی  کی  تھی  اور  اب  یہ  غلطی  نمایاں  ہو  کر  سامنے  آ  گئی  ہے۔  ہم  چھ  سال  سے  چیخ  رہے  تھے  کہ  محض  نعروں  کو  نہ  دیکھو  بلکہ  سیرت  اور  اخلاق  کو  بھی  دیکھو۔  اس  وقت  لوگوں  نے  پرواہ  نہ  کی  لیکن  اب  زمام  کار  ان  لیڈروں  کو  سونپنے کے  بعد  ہر  شخص  پچھتا  رہا  ہے  کہ  واہگہ  سے  دہلی  تک  کا  بڑا  علاقہ  اسلام  کے  نام  سے  خالی  ہو  چکا  ہے۔"&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی  سال  مودودی  صاحب  نے  سرکاری  ملازمت  کے  لیے  برطانیہ  کے  نام  حلف  اٹھانے  کو  گناہ  قرار  دیا۔  کشمیر  میں  جاری  گوریلا  جنگ  کے  خلاف  مولانا  نے  موقف  اختیار  کیا  کہ  جہاد  کی  اجازت  صرف  اسلامی  حکومت  ہی  جاری  کر  سکتی ہے (سن  1941ء  میں  انکا  موقف  تھا  کہ  حکومت  غیر  شرعی  ہو  تو  فرد  واحد  جہاد  کے  لیے  ہتھیار  اٹھا  سکتا  ہے)۔  کشمیر  میں  جنگ  کے  خلاف  انکے  ’فتوے‘  کو  (بھارتی  حکومت  کے  ایماء پر) سرینگر  اور  کابل  ریڈیو  سے  نشر  کیا  گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جون  1948ء میں  ماہنامہ  ترجمان القرآن  کا  پہلا  شمارہ  پاکستان  سے  شائع  ہوا  اور  اس  میں  مسلم  لیگ  کے  راہنماؤں  کے  بارے  میں  مندرجہ  ذیل  خیالات  کا  اظہار  کیا  گیا؛&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;"یہ  عین  وہی  لوگ  ہیں  جو  اپنی  پوری  سیاسی  تحریک  میں  اپنی  غلط  سے  غلط  سرگرمیوں  میں  اسلام  کو  ساتھ  ساتھ  گھسیٹتے  پھرتے  ہیں۔  انہوں  نے  قرآن  کی  آیات  اور  احادیث  کو  اپنی  قوم پرستانہ  کشمکش  کے  ہر  مرحلے  میں  استعمال  کیا  ہے۔  انہوں  نے  پاکستان  کے  معنی  'لا الہ الا اللہ' بیان  کیے  ہیں،  لیکن  افسوس  کہ  ان  کی  محبت  اسلام  کے،  ان  کی  خدا ترسی  کے،  ان  کی  حب  رسالت  کے،  ان  کی  قرآن  دوستی  کے،  اور  ان  کی  لاالہ  نوائی  کے  جو  عملی  مناظر  پاکستان  کے  دس  ماہ  کی  تاریخ  کے  عجائب  خانے  میں  آراستہ  ملتے  ہیں،  ان  کو  دیکھ  کر  ہر  حساس  مسلمان  کی  گردن  شرم  سے  جھک  جاتی  ہے۔  کسی  ملک و قوم  کی  انتہائی  بدقسمتی  یہی  ہو  سکتی  ہے  کہ  نا اہل  اور  اخلاق  باختہ  قیادت  اس  کے  اقتدار  پر  قابض  ہو  جائے۔  اگر  حالات  معمولی  نہ  ہوں  بلکہ  ایک  قوم  کی  تعمیر  کا  آغاز  ہو  رہا  ہو  اور  یہ  آغاز  بھی  نہایت  سازگار  دور  کے  درمیان  ہو  رہا  ہو،  ایسے  حالات  میں  کسی  غیر  صالح  قیادت  کو  ایک  منٹ  کے  لیے  بھی  گوارا  کرنا  خلاف  مصلحت  ہے۔ ایک  غلط  قیادت  کی  بقا  کے  لیے  کسی  طرح  کی  کوشش  کرنا  ملک وقوم  کے  ساتھ  سب  سے  بڑی  غداری  اور  غلط  قیادت  سے  نجات  دلانے  کی  فکر  کرنا  اس  کی  سب  سے  بڑی  خیرخواہی  ہے۔"&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جواب  میں  نوائے  وقت  نے  تبصرہ  کیا؛&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;"جو  لوگ  کل  تک  پاکستان  کے  مخالف  تھے  اور  لیگ  کی  تنظیم  سے  الگ  رہے  بلکہ  انہوں  نے  انتخابات  میں  لیگ  کے  امیدواروں  کی  مخالفت  کی،  وہ  آج  نظام  شرعی  کے  حامی  بنے  ہوئے  ہیں  اور  پاکستان  کو  ناکام  بنانے  کے  لیے  مذہب  کی  آڑ  لے  رہے  ہیں۔" &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;غلام  جیلانی  برق  نے  لکھا؛&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;"سلطنت  کے  بنے  ایک  سال  نہیں  ہوا  لیکن  ملّاؤں  کی  ایک  خاص  جماعت  تخریب  میں  مصروف  ہو  گئی ہے۔  اگر  یہ  فتنہ  کار  ملّا  اپنی  حرکات  سے  باز  نہ  آئے  تو  ہم  قوم  کو  یہ  بتانے  پر  مجبور  ہو  جائیں  گے  کہ  ہمارے  'نام  نہاد  علماء'  نے  کتنی  ہزار  مرتبہ  کیسے کیسے محشر  اٹھائے۔  آج  شریعت  شریعت  کرنے  والے  ایک  صاحب  ایسے  بھی  ہیں  جو  ہمیشہ  پاکستان  کے  خلاف  کام  کرتے  رہے۔  جنہوں  نے  پچھلے  سال  جہاد  کشمیر  کو  فساد  قرار  دیا۔  آج  جب  پاکستان  ایک  حقیقت  ثابتہ  بن  چکا  ہے  تو  وہ  خدائی  شریعت  کا  لبادہ  اوڑھ  کر  پاکستان  کو  کمزور  کرتے  پھرتے  ہیں۔"&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;hr /&gt;
&lt;strong&gt;ریفرنس:&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;روداد  جماعت  اسلامی -- http://www.quranurdu.com/books/urdu_books/Roodad%20Jamat-e-Islami%201.pdf&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحریک  جماعت  اسلامی: ایک  تحقیقی  مطالعہ،  اسرار  احمد -- http://www.scribd.com/doc/126864150/tehreek-e-jamat-e-islami-by-dr-israr-ahmed&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستان  کی  سیاسی  تاریخ:  ترقی  اور  جمہوریت  کو  روکنے  کیلئے  اسلامی  نظام  کے  نعرے --  زاہد  چوہدری&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;Sayyid Abul A'ala Maududi &amp;amp; his thought -- Masud ul Hasan&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;The Vanguard of Islamic Revolution, Vali Nasr -- http://publishing.cdlib.org/ucpressebooks/view?docId=ft9j49p32d;brand=ucpress&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>روایت ہے کہ ’سیاست کے خیمے میں مذہب کا اونٹ داخل ہوتا ہے تو انسانیت منہ لپیٹ کر باہر نکل آتی ہے‘۔ پاکستان کی تاریخ میں مذہب اور سیاست کے امتزاج کا بہترین نمونہ جماعت اسلامی ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں مذہبی جماعتوں کے کردار کو سمجھنے کے لیے جماعت کی تاریخ پر نظر ڈالنا وقت کا تقاضا ہے۔ موجودہ حالات یہ ہیں کہ ارض پاک مذہبی تنازعات میں گھری ہوئی ہے اور مذہبی جماعتیں، جنہیں عوام نے کبھی ووٹ ڈالنا مناسب نہیں سمجھا، اس ملک کی نظریاتی ٹھیکے دار بنی بیٹھی ہیں۔</strong></p>

<p>'سیاست ایک گٹر ہے'، یہ فقرہ ہم سب بہت بار سن چکے ہیں، لیکن مذہب اور سیاست کے تعلق پر بات کرنا کبھی گوارہ نہیں کرتے. اگر سیاست گٹر ہے تو ظاہر ہے اس میں ملنے والی ہر چیز غلیظ اور ذلیل ہی ہوگی. تاریخ گواہ ہے مذہب کے نام پر سیاست کی اجازت ہونے کا واحد ایک ہی مطلب اور نتیجہ نکلتا ہے، ذاتی اور سیاسی مفاد کیلئے مذہب جیسے عظیم اور مقدّس آئیڈیل کا ناجائز استعمال اور استحصال.   </p>

<p>گو علامہ اقبال نے مذہب اور سیاست کے تعلق سے فرمایا تھا؛</p>

<p>"جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی"</p>

<p>لیکن پاکستانی تجربے کو سامنے رکھتے ہوئے، ہمیں یقین ہے کہ علامہ اگر آج حیات ہوتے تو  ضرور کرّاہ اٹھتے کہ؛  </p>

<p><strong>"ملے جو دیں سیاست سے تو آجاتی ہے چنگیزی!"</strong></p>

<p>پاکستان کی تاریخ میں مذہبی سیاست کے داغدار کردار کو قارئین تک پہنچانے کے لیے ہم نے اس سلسلہ مضامین کا آغاز کیا ہے، اور ہم جماعت اسلامی کو بطور مثال پیش کر کے یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ مذہب اور سیاست کو اکٹھا کرنا ایک سنگین غلطی ہے اور ہم آج اس غلطی کی سزا بھگت رہے ہیں۔</p>

<hr />

<p>					<div class="image-container">
						<div class="image"><img src="https://i.dawn.com/primary/2013/12/52b2032003cd1.jpg" alt="السٹریشن -- وکی میڈیا کامنز" /></div>
						<div class='caption'>السٹریشن -- وکی میڈیا کامنز</div>
					</div></p>

<p><hr />
یہ اس بلاگ کا دوسرا حصّہ ہے، <a href="http://urdu.dawn.com/news/1000768/19dec13-am-abid-jamaat-1-aq">پہلے حصّے کے لئے کلک کریں</a> 
<hr /></p>

<p><strong>تقسیم  ہند  کے  موقعے  پر  پٹھان کوٹ  سے  فوجی  ٹرکوں  پر  کتابیں  لاد  کر  لاہور  لانے  والے  مودودی  صاحب  اور  انکی  قائم  جماعت  نے  کبھی  جمہوریت  یا  جمہوری  نظام  کو تسلیم  نہیں  کیا  اور  ہمیشہ  ابن الوقتی  کی  سیاست  کی۔  آئیے  اب  تقسیم  کے  بعد  جماعت  کی  کارستانیاں  ملاحضہ  کرتے ہیں۔</strong></p>

<p>جنوری  اور  جون  1947ء میں  شائع  ہونے  والے  کوثر  اخبار  میں  مولانا  نے  "مسلم  لیگ  کے  پاکستان"  کو  "فاقستان"  اور  "لنگڑا  پاکستان"  قرار  دیا۔  مسلم  لیگ  کو  کئی  سال  طعن و تشنیع  کا  نشانہ  بنانے  کے  بعد  اسی  لیگ  کی  کوششوں  کے  باعث  قائم  ملک  میں  ڈیرہ  جمانے  کے  بعد  جماعت  مودودیہ  نے  اپنی  چودھراہٹ  قائم  کرنے  کی  سعی  شروع  کی۔  </p>

<p><strong>16  نومبر 1947ء  کے  روز  مودودی  صاحب  نے  کوثر  اخبار  میں  لکھا؛</strong></p>

<p>"ہم  سے  یہ  بھی  پوچھا  جاتا  ہے کہ تم  لوگ  جب  اس  تحریک  کے  ہی  ہمنوا  نہیں  تھے  جس  کے  نتیجے  میں  پاکستان  بنا  ہے  تو  اب  آخر  کیا  حق  پہنچتا  ہے  کہ  اس  پاکستان  کی  سرزمین  میں  پناہ  لو؟  </p>

<p>اس  سوال  کا  جواب  ہمارے  پاس  یہ  ہے  کہ  ہاں  فی الواقع  ہماری  حیثیت   پاکستان  میں  پناہ گزینوں  کی  سی  ہے  اور  اگرچہ  ہم  اس  تحریک  کو  آج  بھی  صحیح  نہیں  سمجھتے  جس  کی  بنیاد  پر  پاکستان  بنا  ہے  اور  پاکستان  کا  اجتماعی  نظام  جن  اصولوں  پر  قائم  ہو  رہا  ہے  ان  اصولوں  کو  اسلامی  نقطہ  نظر  سے  ہم  کسی  قدر و قیمت  کا  مستحق  نہیں  سمجھتے،  لیکن  جو  چیز  ہمیں  یہاں  کھینچ  لائی  ہے  وہ  یہ  ہے  کہ  یہاں  کے  باشندے  اعمال وکردار  کے  لحاظ  سے  چاہے  کوئی  بھی  رویہ  رکھتے  ہیں  لیکن  بہر حال  وہ  اس  خدا  کا  نام  لیتے  ہیں  جس  کی  عبادت و طاعت  ہماری  نگاہ  میں  واجب  ہے۔  </p>

<p>وہ  اپنے  آپ  کو  اس  کتاب  کا  حامل  مانتے  ہیں  جس  کے  ایک  ایک  شوشے  کی  پابندی  ہر  مسلمان  کے  لیے  فرض  عین  ہے  اور  وہ  اس  اسلامی  نظام  کے  قیام  کو  خواہش  ظاہر  کرتے  ہیں  جس  کے  سوا  کسی  دوسرے  نظام  کو  قائم  کرنا  یا  قبول  کرنا  روا  نہیں  ہے۔  اب  ہم  اس  سرزمین  پر  اس  توقع  سے  قدم  رکھ  رہے  ہیں  کہ  یہاں  ہمارے  لئے  مسلمان  کے  لئے  دین  کا  کام  کرنا  نسبتاََ سہل  ہوگا  اور  یہاں  ہم  کو  اسلامی  نظام  کے  برپا  کرنے  کے  مواقع  حاصل  ہوں  گے۔  </p>

<p>پاکستان  بنانے  کے  لئے  چاہے  انداز  غلط  اختیار  کیا  گیا  ہو  لیکن  مسلمانوں  سے  ہم  یہ  توقع  رکھتے  ہیں  کہ  اب  پاکستان  کو  حاصل  کر  لینے  کے  بعد  صحیح  اسلامی  اصولوں  پر  اسے  فی الواقع  پاکستان  بنانے  میں  پس وپیش  نہ  کریں  گے  اور  یہاں  ایسی  حکومت  قائم  کرنے  میں  حصہ  لیں  گے  جو  پچھلی  کوتاہیوں  کو  پورا  کرنے  والی  ہو"۔       </p>

<p><strong>اگست  سن  1975ء میں  مودودی  صاحب  نے  نوائے  وقت  میں  ایک  مضمون  لکھا  جس  کے  مطابق؛</strong></p>

<p>"ہم  مسلمانوں  کے  لیے  علیحدہ  وطن  کی  حمایت  کرتے  تھے  لیکن  مسلم  لیگ  کے  راستے  کی  رکاوٹ  نہ  بنے۔  اگر  لیگ  اپنے  مقصد  میں  ناکام  ہو  جاتی  تو  ہم  میدان  میں  اتر  آتے!" (اس  قسم  کی  ذہنی  قلابازیاں  حضرت  ساری  عمر  کھاتے  رہے)۔</p>

<p>سن  1948ء  کے  اوائل  میں  مولانا  نے  لاہور  کے  لاء  کالج  میں  ’اسلامی  دستور‘  کے  خدوخال  پر  اپنی  ماہرانہ  رائے  کا  اظہار  کیا،  جس  کے  جواب  میں  مسلم  لیگ  کے  راہنما  راجہ  غضنفر  علی  اور  معروف  ادبی  شخصیت  فیض  احمد  فیض  نے  اس  ’ناقابل  عمل‘  تجویز  پر  مولانا  کے  خوب  لتے  لیے۔ مولانا  کو  لاء  کالج  اور  ریڈیو  پاکستان  پر  ’اسلامی  دستور‘  کے  متعلق  اظہار  خیال  کا  موقعہ  حکومت  پنجاب  کے  ’محکمہ  تعمیر  اسلامی‘  نے  دیا  تھا۔  <strong>بقول  زاہد  چوہدری</strong>؛  </p>

<p>"قائداعظم  کے  سیکولر  نظریے  کے  خلاف  کراچی  سے  بھی  بڑا  محاذ  پنجاب  کے  رجعت پسند  جاگیرداروں  اور  درمیانے  طبقے  کے  قدامت پسند  عناصر  نے  بنایا  تھا۔  اس  صوبے  کا  وزیر اعلی  ایک  نیم تعلیم یافتہ  اور  کم عقل  جاگیر دار  نواب  افتخار  ممدوٹ  تھا  جو  یہ  سمجھتا  تھا  کہ  اس  کے  اپنے  اور  اس  کے  طبقے  کے  مفادات  کے  تحفظ  کے  لیے  ضروری  ہے  کہ  اسلام  کو  صبح و شام  سیاسی  حربے  کے  طور  پر استعمال  کیا  جائے۔  اس  نے  اپنے  دوستوں  کے  مشورے  کے  مطابق  پہلے  تو  ستمبر  میں  ایک  شخص  غلام  محمد  اسد  سے  ریڈیو  پاکستان  لاہور  سے  "اسلام  اور  مسلمان"  کے  عنوان  سے  تقریروں  کا  ایک  سلسلہ  شروع  کروایا  اور  پھر  اکتوبر  میں  اسکی  سربراہی  میں  ایک  نئے  محکمے  بنام  "تعمیر  اسلامی"  کا  اضافہ  کیا۔  </p>

<p>یہ  شخص  آسٹریا  کا  ایک  یہودی  تھا  اور  اسکا  اصلی  نام  لیوپولڈ  ویس  تھا۔  اس  نے  روس  میں  1917ء  کے  پرولتاری  انقلاب  کے  بعد  اسلام  قبول  کر  کے بطور  اخبار نویس  مشرق وسطی  میں  سارے  عالم  عرب  کا  دورہ  کیا  تھا۔  انگریزوں  نے  دوسری  جنگ عظیم  کے  دوران  ہٹلر  کا  جاسوس  ہونے  کے  شبے  میں  اسے  احمد آباد  میں  نظر بند  کیا  تھا۔  جنگ  کے  خاتمے   پر  اس  کی  رہائی  ہوئی  تو  اس  نے  لاہور  میں  ڈیرے  ڈال  لیے  اور  قیام  پاکستان  کے  بعد  یہاں  اسلام  کا  عظیم ترین  علم بردار  بن  بیٹھا۔  </p>

<p>اس  کی  زندگی  کا  اپنا  یا  کسی  کا  دیا  ہوا  واحد  نصب العین  یہ  تھا  کہ  مشرق وسطی  اور  برصغیر  کے  شمال  مغربی  علاقے  میں  سویت  یونین  کے  اثر و رسوخ  کا  سدباب  کیا  جائے۔  اس  نے  اکتوبر  کے  دوسرے  ہفتے  میں  اپنے  محکمہ  تعمیر  اسلامی  کا  چارج  سنبھالا  اور چند  دن  بعد   ریڈیو  پاکستان  لاہور  سے  تقریر  کی  جس  کا  خلاصہ  یہ  تھا  کہ  ہماری  یہ  مملکت  پاکستان  ایک  نظریاتی  مملکت  ہے  اور  ہم  مسلمان  اسلام  سے  وابستگی  کی  وجہ  سے  ایک  قوم  ہیں۔"</p>

<p>حال  ہی  میں  مودودی  صاحب  کے  نظریاتی  وارثین،  اوریا  مقبول  اور  انصار  عباسی  نے    ببانگ  دہل  <a href="http://www.thenews.com.pk/Todays-News-13-27560-Quaids-effort-to-Islamise-society-was-thwarted">یہ  دعوی  کرنا  شروع  کیا  ہے</a>  کہ  محکمہ  تعمیر  اسلامی  جناح  صاحب  کے  ایماء  پر  بنایا  گیا  ہے۔  تاریخ  کی  الف  بے  سے  ناواقف  ان  نادانوں  نے  ریت  جو  کے  محل  تعمیر  کرنے  شروع  کیے  ہیں،  انکی  مثال  وہی  ہے  جیسے  ضیاء  دور  میں  حکومت  نے  قائد اعظم  کی  ایک  مبینہ  ڈائری  دریافت  کر  لی  تھی۔ </p>

<p>یاد  رہے  کہ  کچھ  ماہ  قبل  پنجاب  سیکریٹریٹ  میں  نادر  کتابوں  اور  نسخوں  کی  تشویشناک  حالت  کے  بارے  میں  خبر  پھیلی  تھی،  آج  کل  اوریا  صاحب  اسی  محکمے  کے  سیکر ٹری  ہیں۔  وہ  اس  وقت  تاریخی  کتب  کا  بندوبست  کرنے  کی  بجائے  جھوٹی  دستاویزات  عوام  کو  دکھانے  میں  مصروف  ہیں۔  انصار  عباسی  صاحب  نے  اس  محکمے  کو  ختم  کرنے  کا  الزام  ظفر اللہ خان  صاحب  پر  دھر  دیا  ہے۔  کاش  وہ  ایسی  پخ  لگانے  سے  قبل  قرارداد  مقاصد  کے  حق  میں  ظفراللہ صاحب  کی  تقریر  کا  مطالعہ  کر  لیتے۔ </p>

<p>جنوری  1948ء  میں  اس  محکمے  نے  صوبے  میں  میاں  افتخار الدین   کی  تقسیم  اراضی  کی  تجویز  اور  عوام  میں  اس  نظریے  کی  شہرت  کا  سدباب  کرنے  کیلئے  مودودی  صاحب  کو  ریڈیو  پر  "اسلامی  کا  معاشی  نظام"  کے  موضوع  پر  تقاریر  کے  لیے  بلایا۔</p>

<p><strong>مولانا  نے  فرمایا؛</strong>
"اسلام  جس  مساوات  کا  قائل  ہے،  وہ  رزق  میں  مساوات  نہیں  بلکہ  حصول  زرق  کی  جدوجہد  کے  مواقع  میں  مساوات  ہے۔  فطرت  سے  قریب  تر  نظام  وہی  ہو  سکتا  ہے  جس  میں ہر  شخص  معیشت  کے  میدان  میں  اپنی  دوڑ  کی  ابتدا  اس  مقام  اور  اسی  حالت  سے  کرے  جس  پر  خدا  نے  اسے  پیدا  کیا  ہے۔  فطرت  سے  قریب تر  نظام  وہی  ہو  سکتا  ہے  جس  میں  ہر  شخص  معیشت  کے  میدان  میں  ابتدا  اسی  مقام  سے  کرے  جس  پر  وہ  پیدا  ہوا،  جو  موٹر  لیے  ہوئے  آیا  ہے  وہ  موٹر  ہی  پر  چلے،  جو  صرف  دو  پاؤں  لایا  ہے  وہ  پیدل  ہی  چلے  اور  جو  لنگڑا  پیدا  ہوا  ہے  وہ  لنگڑا  کر  ہی  چلے۔  سوسائٹی  کا  قانون  نہ  تو  ایسا  ہونا  چاہئے  کہ  وہ  موٹر  والے  کا  مستقل  اجارہ  موٹر  پر  ہی  قائم  کر  دے  اور  لنگڑے  کے  لیے  موٹر  کا  حصول  ناممکن  بنا  دے  اور  نہ  ہی  ایسا  ہونا  چاہئے  کہ  سب  کی  دوڑ  زبردستی  ایک  ہی  مقام  اور  ایک  ہی  حالت  سے  شروع  ہو"۔        </p>

<p><strong>13  جنوری  کو  راولپنڈی  میں  جلسہ  عام  سے  خطاب  کرتے  ہوئے  مولانا  نے  کہا؛</strong>
"اب  مسلمانوں  کا  نصب العین  پورا  ہو  گیا  ہے  تو  پاکستان  کے  علم برداروں  کو  چاہئے  کہ  اس  مسلم  ملک  میں  اسلامی  قوانین  کے  مطابق  آئین  مرتب  کر  کے  اپنے  وعدے پورے  کریں"۔</p>

<p><strong>15  جنوری  کو  پشاور  میں  ایک  استقبالیہ  تقریب  میں  اعلان  کیا؛</strong></p>

<p>"پاکستان  ہماری  لیبارٹری  ہے!  ہم  اس  لیبارٹری  میں  دنیا  کو  سکھا  دیں  گے  کہ  1300  سال  پرانے  اصولوں  کا  اب  بھی  اطلاق  ہو  سکتا  ہے"۔  </p>

<p>29 جنوری  کو  پنجاب  اسمبلی  میں  مسلم  پرسنل  لاء  ایپلی کیشن  بل  پر  بحث  ہوئی  تو  ملاؤں  کے  ایک  ترجمان  مولانا  عبدالستار  نیازی  نے  اس  بناء  پر  اس  کی  مخالفت  کی  کہ  یہ  مسودہ  قانون  ان  کے  تصور  کے مطابق  اسلامی  شرع  کے  مطابق  نہیں  تھا۔  ان  کا  مطالبہ  تھا  کہ  انگریزوں  کے  وضع کردہ  موجودہ  عدالتی  نظام  کو  ختم  کر  کے  اس  کی  جگہ  شرعی  عدالتوں  کا  نظام  قائم  کیا  جائے  اور  چھوٹی  عدالتوں  میں  ججوں  کی  جگہ  قاضیوں  اور  مفتیوں  کا  تقرر  کیا  جائے۔      </p>

<p>مارچ  1948ء میں  مولانا  نے  اپنے  قاصد  کراچی  بھیجے  تاکہ  قانون  ساز  اسمبلی  کے  کارکنان  کو  اس  بات  پر  قائل  کیا  جائے  کہ  وہ  مقننہ  میں  پاکستان  کے  ’نظریاتی  ریاست‘  ہونے  کی  قرارداد  پیش  کر  سکیں (اس  موقعہ  پر  یہ  کوشش  کامیاب  نہ  ہوئی)۔</p>

<p><strong>6  اپریل  1948ء کو  ڈان  اخبار  سے  انٹرویو  کے  دوران  مولانا  نے  دستور ساز  اسمبلی  سے  مندرجہ ذیل  مطالبات  کیے؛</strong>  </p>

<p>1۔  عوام الناس  کی  حاکمیت  کی  بجائے  اللہ تعالی  کی  حاکمیت  کو  تسلیم  کیا  جائے ۔</p>

<p>2۔  یہ  تسلیم  کیا  جائے  کہ  پاکستان  کا  دستور  شریعت  کی  بنیاد  پر  بنایا  جائے  گا ۔  </p>

<p>3۔  غیر  اسلامی  قوانین  میں  ترمیم  کی  جائے  گی  اور  شریعت  کے  منافی  کوئی  قانون  نہیں  بنایا  جائے  گا ۔</p>

<p>4 ۔  حکومت  پاکستان  شریعت  کی  حدود  میں  رہ  کر  اپنے  اختیارات  کا  استعمال  کرے  گی۔ (بعدازاں  یہی  الفاظ  قرارداد  مقاصد  اور پاکستان  کے  دستور  کا  حصہ  بنے) </p>

<p><strong>اس  انٹرویو  سے  قبل  مولانا  نے  ایک  اجتماع  سے  خطاب  کرتے  ہوئے  فرمایا؛</strong></p>

<p>"ہماری  قوم  نے  اپنے  لیڈروں  کے  انتخاب  میں  غلطی  کی  تھی  اور  اب  یہ  غلطی  نمایاں  ہو  کر  سامنے  آ  گئی  ہے۔  ہم  چھ  سال  سے  چیخ  رہے  تھے  کہ  محض  نعروں  کو  نہ  دیکھو  بلکہ  سیرت  اور  اخلاق  کو  بھی  دیکھو۔  اس  وقت  لوگوں  نے  پرواہ  نہ  کی  لیکن  اب  زمام  کار  ان  لیڈروں  کو  سونپنے کے  بعد  ہر  شخص  پچھتا  رہا  ہے  کہ  واہگہ  سے  دہلی  تک  کا  بڑا  علاقہ  اسلام  کے  نام  سے  خالی  ہو  چکا  ہے۔"</p>

<p>اسی  سال  مودودی  صاحب  نے  سرکاری  ملازمت  کے  لیے  برطانیہ  کے  نام  حلف  اٹھانے  کو  گناہ  قرار  دیا۔  کشمیر  میں  جاری  گوریلا  جنگ  کے  خلاف  مولانا  نے  موقف  اختیار  کیا  کہ  جہاد  کی  اجازت  صرف  اسلامی  حکومت  ہی  جاری  کر  سکتی ہے (سن  1941ء  میں  انکا  موقف  تھا  کہ  حکومت  غیر  شرعی  ہو  تو  فرد  واحد  جہاد  کے  لیے  ہتھیار  اٹھا  سکتا  ہے)۔  کشمیر  میں  جنگ  کے  خلاف  انکے  ’فتوے‘  کو  (بھارتی  حکومت  کے  ایماء پر) سرینگر  اور  کابل  ریڈیو  سے  نشر  کیا  گیا۔</p>

<p><strong>جون  1948ء میں  ماہنامہ  ترجمان القرآن  کا  پہلا  شمارہ  پاکستان  سے  شائع  ہوا  اور  اس  میں  مسلم  لیگ  کے  راہنماؤں  کے  بارے  میں  مندرجہ  ذیل  خیالات  کا  اظہار  کیا  گیا؛</strong></p>

<p>"یہ  عین  وہی  لوگ  ہیں  جو  اپنی  پوری  سیاسی  تحریک  میں  اپنی  غلط  سے  غلط  سرگرمیوں  میں  اسلام  کو  ساتھ  ساتھ  گھسیٹتے  پھرتے  ہیں۔  انہوں  نے  قرآن  کی  آیات  اور  احادیث  کو  اپنی  قوم پرستانہ  کشمکش  کے  ہر  مرحلے  میں  استعمال  کیا  ہے۔  انہوں  نے  پاکستان  کے  معنی  'لا الہ الا اللہ' بیان  کیے  ہیں،  لیکن  افسوس  کہ  ان  کی  محبت  اسلام  کے،  ان  کی  خدا ترسی  کے،  ان  کی  حب  رسالت  کے،  ان  کی  قرآن  دوستی  کے،  اور  ان  کی  لاالہ  نوائی  کے  جو  عملی  مناظر  پاکستان  کے  دس  ماہ  کی  تاریخ  کے  عجائب  خانے  میں  آراستہ  ملتے  ہیں،  ان  کو  دیکھ  کر  ہر  حساس  مسلمان  کی  گردن  شرم  سے  جھک  جاتی  ہے۔  کسی  ملک و قوم  کی  انتہائی  بدقسمتی  یہی  ہو  سکتی  ہے  کہ  نا اہل  اور  اخلاق  باختہ  قیادت  اس  کے  اقتدار  پر  قابض  ہو  جائے۔  اگر  حالات  معمولی  نہ  ہوں  بلکہ  ایک  قوم  کی  تعمیر  کا  آغاز  ہو  رہا  ہو  اور  یہ  آغاز  بھی  نہایت  سازگار  دور  کے  درمیان  ہو  رہا  ہو،  ایسے  حالات  میں  کسی  غیر  صالح  قیادت  کو  ایک  منٹ  کے  لیے  بھی  گوارا  کرنا  خلاف  مصلحت  ہے۔ ایک  غلط  قیادت  کی  بقا  کے  لیے  کسی  طرح  کی  کوشش  کرنا  ملک وقوم  کے  ساتھ  سب  سے  بڑی  غداری  اور  غلط  قیادت  سے  نجات  دلانے  کی  فکر  کرنا  اس  کی  سب  سے  بڑی  خیرخواہی  ہے۔"</p>

<p><strong>جواب  میں  نوائے  وقت  نے  تبصرہ  کیا؛</strong></p>

<p>"جو  لوگ  کل  تک  پاکستان  کے  مخالف  تھے  اور  لیگ  کی  تنظیم  سے  الگ  رہے  بلکہ  انہوں  نے  انتخابات  میں  لیگ  کے  امیدواروں  کی  مخالفت  کی،  وہ  آج  نظام  شرعی  کے  حامی  بنے  ہوئے  ہیں  اور  پاکستان  کو  ناکام  بنانے  کے  لیے  مذہب  کی  آڑ  لے  رہے  ہیں۔" </p>

<p><strong>غلام  جیلانی  برق  نے  لکھا؛</strong></p>

<p>"سلطنت  کے  بنے  ایک  سال  نہیں  ہوا  لیکن  ملّاؤں  کی  ایک  خاص  جماعت  تخریب  میں  مصروف  ہو  گئی ہے۔  اگر  یہ  فتنہ  کار  ملّا  اپنی  حرکات  سے  باز  نہ  آئے  تو  ہم  قوم  کو  یہ  بتانے  پر  مجبور  ہو  جائیں  گے  کہ  ہمارے  'نام  نہاد  علماء'  نے  کتنی  ہزار  مرتبہ  کیسے کیسے محشر  اٹھائے۔  آج  شریعت  شریعت  کرنے  والے  ایک  صاحب  ایسے  بھی  ہیں  جو  ہمیشہ  پاکستان  کے  خلاف  کام  کرتے  رہے۔  جنہوں  نے  پچھلے  سال  جہاد  کشمیر  کو  فساد  قرار  دیا۔  آج  جب  پاکستان  ایک  حقیقت  ثابتہ  بن  چکا  ہے  تو  وہ  خدائی  شریعت  کا  لبادہ  اوڑھ  کر  پاکستان  کو  کمزور  کرتے  پھرتے  ہیں۔"</p>

<p><hr />
<strong>ریفرنس:</strong></p>

<p>روداد  جماعت  اسلامی -- http://www.quranurdu.com/books/urdu_books/Roodad%20Jamat-e-Islami%201.pdf</p>

<p>تحریک  جماعت  اسلامی: ایک  تحقیقی  مطالعہ،  اسرار  احمد -- http://www.scribd.com/doc/126864150/tehreek-e-jamat-e-islami-by-dr-israr-ahmed</p>

<p>پاکستان  کی  سیاسی  تاریخ:  ترقی  اور  جمہوریت  کو  روکنے  کیلئے  اسلامی  نظام  کے  نعرے --  زاہد  چوہدری</p>

<p>Sayyid Abul A'ala Maududi &amp; his thought -- Masud ul Hasan</p>

<p>The Vanguard of Islamic Revolution, Vali Nasr -- http://publishing.cdlib.org/ucpressebooks/view?docId=ft9j49p32d;brand=ucpress</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1001011</guid>
      <pubDate>Tue, 31 Dec 2013 00:14:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبدالمجید عابد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2013/12/52c19a910b59e.jpeg" type="image/jpeg" medium="image" height="481" width="801">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2013/12/52c19a910b59e.jpeg"/>
        <media:title>السٹریشن – وکی میڈیا کامنز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
