<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 09:17:10 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Apr 2026 09:17:10 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرف کے تین نومبر کے اقدامات کا فیصلہ عدلیہ کرے گی، نواز </title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1001221/nawaz-on-november-3-case</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: وزیرِ اعظم پاکستان، محمد نواز شریف نے کہا ہےکہ تین نومبر کے کیس کے حقیقی درخواست گزار ریاست اور آئین ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ملک کے سابق صدر اور فوجی سربراہ ، پرویز مشرف کو اس وقت خصوصی عدالت میں نومبر دوہزارسات میں ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے اور اعلیٰ عدلیہ کو ہٹانے پر آئینِ پاکستان کیخلاف غداری کے مقدمے کا سامنا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سابق آرمی چیف 70 سالہ پرویز مشرف ملکی تاریخ کے پہلے فوجی آمر ہیں جن پر کوئی مقدمہ چلایا گیا ہے۔ ان کے وکیل کا اصرار ہے کہ ان پر غداری کے مقدمے کی اصل وجہ سیاسی ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہفتے کے روز ایک نجی ٹی وی چینل سے بات کرتےہوئے نواز شریف نے کہا کہ اب یہ عدالت پر منحصر ہے کہ وہ اس کا فیصلہ کرے کہ آیا سابق فوجی آمر کے اقدام آئین اور ریاست سے ماورا تھے یا نہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وزیرِ اعظم کا مؤقف تھا کہ کورٹ تین نومبر کو کئے گئے اقدامات آرٹیکل چھ کے مکمل احاطے میں آتے ہیں یا نہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;' چونکہ یہ معاملہ عدالت میں ہے ، تو میری جانب سے کسی بھی قسم کا تبصرہ درست نہ ہوگا۔ کیس کی میرٹ سے ہٹ کر میں یہ کہوں گا کہ مقدمے کے اصل مدعی آئینِ پاکستان اور ریاستِ پاکستان ہیں۔' نواز شریف نے کہا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نواز شریف نے کہا کہ یہ کوئی انفرادی معاملہ نہیں۔ تاریخ کے اس اہم موڑ پر ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا ' ہم ایک مہذب جمہوری ریاست ہیں جس کا اپنا ایک آئین، قانون اور عدالتی نظام ہے،' وزیرِ اعظم نے کہا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;' اگر ہر شہری قانون کی نظر میں برابر ہے ، تو وہ ( مشرف) عدلیہ کو جوابدہ ہیں۔ یہ کورٹ کا کام ہے کہ وہ طے کرے کہ وہ قصوروار ہیں یا بے گناہ،' انہوں نے کہا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سفری پابندی میں فوری نرمی کا امکان نہیں&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہفتے کو ہی وفاقی وزارتِ داخلہ نے ان افواہوں کی تردید کی کہ فوج کے سابق طاقتور ترین فرد کیخلاف سفری پابندیاں ختم کی جارہی ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے مشرف کو اس ہفتے کورٹ جاتے ہوئے راستے میں دل کی تکلیف ہوئی تھی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے بعد مشرف کو جمعرات کو ایک فوجی ہسپتال لے جایا گیا جہاں انہیں داخل کرلیا گیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سابق آرمی چیف نے ہفتے کو تیسرا دن، راولپنڈی میں واقع فوجی ہسپتال برائے امراضِ قلب میں گزارا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کے وکیل احمد رضا قصوری کے مطابق اس وقت وہ انتہائی نگہداشت کے شعبے میں ہیں اور ڈاکٹروں کی ایک ٹیم ان کی دیکھ بھال کررہی ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب خود میڈیا اور بعض حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ انہیں دل کے عارضے کی وجہ سے بیرونِ ملک بھیجا جاسکتا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لیکن مشرف کا نام باضابطہ طور پر ' ایگزٹ کنٹرول لسٹ' ( ای سی ایل) میں شامل ہے اور وہ اب بیرونِ ملک سفر نہیں کرسکتے۔ سندھ میں ایک کورٹ نے گزشتہ ماہ ای سی ایل میں نرمی پر بھی پابندی عائد کردی تھی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;' اس وقت انہیں بیرونِ ملک سفر کی اجازت دینے کا کوئی ارادہ نہیں،' وفاقی وزارتِ داخلہ کے ایک سینیئر آفیشل نے اے ایف پی نیوز ایجنسی کو بتایا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے ان خبروں کی بھی تردید کی مشرف کی بیوی صہبا مشرف نے وزارت میں یہ پابندی اٹھانے کیلئے کوئی درخواست جمع کرائی ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;' بیگم صہبا کی جانب سے  پرویز مشرف کے بیرونِ ملک سفر سے پابندی ہٹانے کیلئے کوئی تازہ درخواست جمع نہیں کرائی گئی ہے۔ انہیں فوری طور پر سفر کی اجازت نہیں دی جائے گی،' آفیشلز نے بتایا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مشرف کے وکیل قصوری کے مطابق کہ ان کی میڈیکل رپورٹس برطانیہ کے ڈاکٹروں کو بھجوائی گئی ہیں۔ وہاں سے جواب آنے کے بعد ان کے مزید علاج کا فیصلہ کیا جائے گا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کئی ماہ سے پاکستان میں یہ قیاس آرائیاں زیرِ گردش ہیں کہ مشرف کو قانونی کارروائی کے کسی مراحل میں ہی ملک سے باہر بھجوادیا جائے گا تاکہ عدلیہ اور طاقتور فوج کے درمیان کسی ممکنہ تصادم سے بچا جاسکے ۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب حکومتی وزرا یہ کہتے رہے کہ وہ سفری پابندیاں نہیں اُٹھائیں گے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تازہ ٹی وی رپورٹس کے مطابق پرویز مشرف کی تفصیلی میڈیکل رپورٹس ہفتے کی شام تک متوقع ہیں۔ اس کے بعد ہی یہ فیصلہ ہوسکے گا کہ انہیں پیر کے روز عدالت میں پیش کیا جائے یا نہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے قبل جمعرات کو کورٹ نے انہیں ایک دن کیلئے عدالت میں پیش ہونے سے استثنیٰ دیا تھا۔ &lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: وزیرِ اعظم پاکستان، محمد نواز شریف نے کہا ہےکہ تین نومبر کے کیس کے حقیقی درخواست گزار ریاست اور آئین ہیں۔</p>

<p>ملک کے سابق صدر اور فوجی سربراہ ، پرویز مشرف کو اس وقت خصوصی عدالت میں نومبر دوہزارسات میں ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے اور اعلیٰ عدلیہ کو ہٹانے پر آئینِ پاکستان کیخلاف غداری کے مقدمے کا سامنا ہے۔ </p>

<p>سابق آرمی چیف 70 سالہ پرویز مشرف ملکی تاریخ کے پہلے فوجی آمر ہیں جن پر کوئی مقدمہ چلایا گیا ہے۔ ان کے وکیل کا اصرار ہے کہ ان پر غداری کے مقدمے کی اصل وجہ سیاسی ہے۔ </p>

<p>ہفتے کے روز ایک نجی ٹی وی چینل سے بات کرتےہوئے نواز شریف نے کہا کہ اب یہ عدالت پر منحصر ہے کہ وہ اس کا فیصلہ کرے کہ آیا سابق فوجی آمر کے اقدام آئین اور ریاست سے ماورا تھے یا نہیں۔ </p>

<p>وزیرِ اعظم کا مؤقف تھا کہ کورٹ تین نومبر کو کئے گئے اقدامات آرٹیکل چھ کے مکمل احاطے میں آتے ہیں یا نہیں۔ </p>

<p>' چونکہ یہ معاملہ عدالت میں ہے ، تو میری جانب سے کسی بھی قسم کا تبصرہ درست نہ ہوگا۔ کیس کی میرٹ سے ہٹ کر میں یہ کہوں گا کہ مقدمے کے اصل مدعی آئینِ پاکستان اور ریاستِ پاکستان ہیں۔' نواز شریف نے کہا۔ </p>

<p>نواز شریف نے کہا کہ یہ کوئی انفرادی معاملہ نہیں۔ تاریخ کے اس اہم موڑ پر ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا ' ہم ایک مہذب جمہوری ریاست ہیں جس کا اپنا ایک آئین، قانون اور عدالتی نظام ہے،' وزیرِ اعظم نے کہا۔ </p>

<p>' اگر ہر شہری قانون کی نظر میں برابر ہے ، تو وہ ( مشرف) عدلیہ کو جوابدہ ہیں۔ یہ کورٹ کا کام ہے کہ وہ طے کرے کہ وہ قصوروار ہیں یا بے گناہ،' انہوں نے کہا۔ </p>

<p><strong>سفری پابندی میں فوری نرمی کا امکان نہیں</strong> </p>

<p>ہفتے کو ہی وفاقی وزارتِ داخلہ نے ان افواہوں کی تردید کی کہ فوج کے سابق طاقتور ترین فرد کیخلاف سفری پابندیاں ختم کی جارہی ہیں۔ </p>

<p>واضح رہے مشرف کو اس ہفتے کورٹ جاتے ہوئے راستے میں دل کی تکلیف ہوئی تھی۔ </p>

<p>اس کے بعد مشرف کو جمعرات کو ایک فوجی ہسپتال لے جایا گیا جہاں انہیں داخل کرلیا گیا۔ </p>

<p>سابق آرمی چیف نے ہفتے کو تیسرا دن، راولپنڈی میں واقع فوجی ہسپتال برائے امراضِ قلب میں گزارا۔ </p>

<p>ان کے وکیل احمد رضا قصوری کے مطابق اس وقت وہ انتہائی نگہداشت کے شعبے میں ہیں اور ڈاکٹروں کی ایک ٹیم ان کی دیکھ بھال کررہی ہے۔ </p>

<p>دوسری جانب خود میڈیا اور بعض حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ انہیں دل کے عارضے کی وجہ سے بیرونِ ملک بھیجا جاسکتا ہے۔ </p>

<p>لیکن مشرف کا نام باضابطہ طور پر ' ایگزٹ کنٹرول لسٹ' ( ای سی ایل) میں شامل ہے اور وہ اب بیرونِ ملک سفر نہیں کرسکتے۔ سندھ میں ایک کورٹ نے گزشتہ ماہ ای سی ایل میں نرمی پر بھی پابندی عائد کردی تھی۔ </p>

<p>' اس وقت انہیں بیرونِ ملک سفر کی اجازت دینے کا کوئی ارادہ نہیں،' وفاقی وزارتِ داخلہ کے ایک سینیئر آفیشل نے اے ایف پی نیوز ایجنسی کو بتایا۔ </p>

<p>انہوں نے ان خبروں کی بھی تردید کی مشرف کی بیوی صہبا مشرف نے وزارت میں یہ پابندی اٹھانے کیلئے کوئی درخواست جمع کرائی ہے۔ </p>

<p>' بیگم صہبا کی جانب سے  پرویز مشرف کے بیرونِ ملک سفر سے پابندی ہٹانے کیلئے کوئی تازہ درخواست جمع نہیں کرائی گئی ہے۔ انہیں فوری طور پر سفر کی اجازت نہیں دی جائے گی،' آفیشلز نے بتایا۔ </p>

<p>مشرف کے وکیل قصوری کے مطابق کہ ان کی میڈیکل رپورٹس برطانیہ کے ڈاکٹروں کو بھجوائی گئی ہیں۔ وہاں سے جواب آنے کے بعد ان کے مزید علاج کا فیصلہ کیا جائے گا۔ </p>

<p>کئی ماہ سے پاکستان میں یہ قیاس آرائیاں زیرِ گردش ہیں کہ مشرف کو قانونی کارروائی کے کسی مراحل میں ہی ملک سے باہر بھجوادیا جائے گا تاکہ عدلیہ اور طاقتور فوج کے درمیان کسی ممکنہ تصادم سے بچا جاسکے ۔ </p>

<p>دوسری جانب حکومتی وزرا یہ کہتے رہے کہ وہ سفری پابندیاں نہیں اُٹھائیں گے۔ </p>

<p>تازہ ٹی وی رپورٹس کے مطابق پرویز مشرف کی تفصیلی میڈیکل رپورٹس ہفتے کی شام تک متوقع ہیں۔ اس کے بعد ہی یہ فیصلہ ہوسکے گا کہ انہیں پیر کے روز عدالت میں پیش کیا جائے یا نہیں۔ </p>

<p>اس سے قبل جمعرات کو کورٹ نے انہیں ایک دن کیلئے عدالت میں پیش ہونے سے استثنیٰ دیا تھا۔ </p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1001221</guid>
      <pubDate>Sat, 04 Jan 2014 19:45:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے پی پی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2014/01/52c806619c461.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2014/01/52c806619c461.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
