<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 01 Jun 2026 22:32:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 01 Jun 2026 22:32:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یورپ کو سات ارب شہد کی مکھیوں کی ضرورت </title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1001391/billions-bees-needed</link>
      <description>&lt;p&gt;سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ یہ مسئلہ اس فیصلے کے بعد پیش آیا ہے جس میں یورپی ممالک نے اپنی توجہ بایوفیول ( حیاتی ایندھن) والی فصلوں پر مبذول کی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;' صرف یورپ کو ہی شہد کی مکھیوں کو دو تہائی کالونیاں درکار ہیں یعنی اس وقت یورپ میں ان مکھیوں کی 
ایک کروڑچونتیس لاکھ کالونیوں کی کمی ہے۔ اس کا مطلب ہے فوری طور پر کم از کم  سات ارب مکھیوں کی ضرورت ہے،' سائنسدانوں نے بتایا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انگلینڈ میں یونیورسٹی آف ریڈنگ کے یورپ کے 41 ممالک میں سال 2005 سے  2010 تک کیلئے شہد کی مکھیوں کی کالونیوں اور ممکنہ ضروریات کا مطالعہ کیا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کے مطابق بائس ممالک میں شہد کی مکھیاں انسانی ضروریات پورا نہیں کرپا رہیں ۔ دوسری جانب کسانوں کو دیگر جنگلی کیڑے مکوڑوں اور ایک اور مکھی بمبل بی پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;صورتحال ترکی ، یونان اور بالکن کے ممالک میں بہتر ہے جہاں مکھیاں پالنے کی مضبوط روایت موجود ہے۔ یہاں ضرورت کے تحت ترسیل کی شرح 90 فیصد ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب سوویت بالٹک ممالک، برطانیہ میں صورتحال بہت بری ہے کیونکہ وہاں ضرورت کے مطابق صرف 25 فیصد شہد کی مکھیاں ہیں جبکہ فرانس اور جرمنی میں 25 سے 50 فیصد کمی ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہم جانتے ہیں کہ شہد کی  مکھیاں رس جمع کرنے کیلئے ایک ایک پھول پر جاتی ہیں اور اس کے زردانے ( پولن گرین) ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچاتی ہیں۔ اسی طرح سے دنیا کی فصلوں کا کام چلتا ہے اور سچ یہ ہے کہ اگر شہد کی مکھیاں نہ ہوں تو دنیا کی فصلیں بری طرح تباہ ہوکر مطلوبہ تعداد میں خوراک پیدا نہیں کرسکیں گی اور انسان بھوکوں مر جائے گا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس ننھے کیڑے کی تعداد میں کمی سے پوری دنیا پریشان ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیاں، آلودگی اور کیڑے مار ادویات کو ذمے دار ٹھہرایا جارہا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک سائنسدان سائمن پوٹس کہتے ہیں کہ اگر ہم نے عمل نہ کیا تو مستقبل تباہ کن ہوگا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;شہد کی مکھیاں مفت میں ہمارے لئے کام کرتی ہیں۔ وہ خاموشی سے ہماری خوراک کو بڑھاتی ہیں ۔ صرف 2009  میں شہد کی مکھیوں کی خدمات کا معاشی تجزیہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ پوری دنیا میں ایک سال کیلئے انہوں نے 208 ارب ڈالرز کی معاشی خدمات انجام دی ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پبلک لائبریری آف سائنس ( پی ایل او ایس) ون نامی تحقیقی جرنل میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق سویا بین، سورج مکھی اور دیگر تیل والے بیجوں کی پودے اگانے سے ان کی آبادی 38  فیصد تک بڑھی ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;شہد کی مکھیوں کیلئے فنڈنگ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;امریکہ نے 450,000 ڈالر کے تحقیقی منصوبوں کی منظوری دی ہے جس کے تحت شہد کی مکھیوں کو ختم کرنے یا ان کی آبادی کو کم کرنے والی کیڑے مار دواؤں کے متبادل طریقوں پر کام کیا جائے گا ۔ اس طرح ایسی کیڑے مار دوائیں بنائی جائیں گی جو انسان دوست شہد کی مکھیوں کو نقصان نہیں پہنچائیں گی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ رقم امریکہ کی تین اہم یونیورسٹیوں میں دی جارہی ہے جس کے تحت مکھی دوست حشرات کش ادویہ بنائی جاسکیں گی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;امریکہ میں ایک چوتھائی (25 فیصد) اجناس اور فصلیں صرف شہد کی مکھیوں سے ہی بارآور ہوتی ہیں ان میں سیب، تربوز، پھلیاں اور بادام وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مکھیوں کی بڑے پیمانے پر ہلاکت پر ماہرین، کسانوں اور عام افراد نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ &lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ یہ مسئلہ اس فیصلے کے بعد پیش آیا ہے جس میں یورپی ممالک نے اپنی توجہ بایوفیول ( حیاتی ایندھن) والی فصلوں پر مبذول کی ہے۔</p>

<p>' صرف یورپ کو ہی شہد کی مکھیوں کو دو تہائی کالونیاں درکار ہیں یعنی اس وقت یورپ میں ان مکھیوں کی 
ایک کروڑچونتیس لاکھ کالونیوں کی کمی ہے۔ اس کا مطلب ہے فوری طور پر کم از کم  سات ارب مکھیوں کی ضرورت ہے،' سائنسدانوں نے بتایا۔ </p>

<p>انگلینڈ میں یونیورسٹی آف ریڈنگ کے یورپ کے 41 ممالک میں سال 2005 سے  2010 تک کیلئے شہد کی مکھیوں کی کالونیوں اور ممکنہ ضروریات کا مطالعہ کیا ہے۔ </p>

<p>ان کے مطابق بائس ممالک میں شہد کی مکھیاں انسانی ضروریات پورا نہیں کرپا رہیں ۔ دوسری جانب کسانوں کو دیگر جنگلی کیڑے مکوڑوں اور ایک اور مکھی بمبل بی پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔ </p>

<p>صورتحال ترکی ، یونان اور بالکن کے ممالک میں بہتر ہے جہاں مکھیاں پالنے کی مضبوط روایت موجود ہے۔ یہاں ضرورت کے تحت ترسیل کی شرح 90 فیصد ہے۔ </p>

<p>دوسری جانب سوویت بالٹک ممالک، برطانیہ میں صورتحال بہت بری ہے کیونکہ وہاں ضرورت کے مطابق صرف 25 فیصد شہد کی مکھیاں ہیں جبکہ فرانس اور جرمنی میں 25 سے 50 فیصد کمی ہے۔ </p>

<p>ہم جانتے ہیں کہ شہد کی  مکھیاں رس جمع کرنے کیلئے ایک ایک پھول پر جاتی ہیں اور اس کے زردانے ( پولن گرین) ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچاتی ہیں۔ اسی طرح سے دنیا کی فصلوں کا کام چلتا ہے اور سچ یہ ہے کہ اگر شہد کی مکھیاں نہ ہوں تو دنیا کی فصلیں بری طرح تباہ ہوکر مطلوبہ تعداد میں خوراک پیدا نہیں کرسکیں گی اور انسان بھوکوں مر جائے گا۔ </p>

<p>اس ننھے کیڑے کی تعداد میں کمی سے پوری دنیا پریشان ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیاں، آلودگی اور کیڑے مار ادویات کو ذمے دار ٹھہرایا جارہا ہے۔ </p>

<p>ایک سائنسدان سائمن پوٹس کہتے ہیں کہ اگر ہم نے عمل نہ کیا تو مستقبل تباہ کن ہوگا۔ </p>

<p>شہد کی مکھیاں مفت میں ہمارے لئے کام کرتی ہیں۔ وہ خاموشی سے ہماری خوراک کو بڑھاتی ہیں ۔ صرف 2009  میں شہد کی مکھیوں کی خدمات کا معاشی تجزیہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ پوری دنیا میں ایک سال کیلئے انہوں نے 208 ارب ڈالرز کی معاشی خدمات انجام دی ہیں۔ </p>

<p>پبلک لائبریری آف سائنس ( پی ایل او ایس) ون نامی تحقیقی جرنل میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق سویا بین، سورج مکھی اور دیگر تیل والے بیجوں کی پودے اگانے سے ان کی آبادی 38  فیصد تک بڑھی ہے۔ </p>

<p><strong>شہد کی مکھیوں کیلئے فنڈنگ</strong></p>

<p>امریکہ نے 450,000 ڈالر کے تحقیقی منصوبوں کی منظوری دی ہے جس کے تحت شہد کی مکھیوں کو ختم کرنے یا ان کی آبادی کو کم کرنے والی کیڑے مار دواؤں کے متبادل طریقوں پر کام کیا جائے گا ۔ اس طرح ایسی کیڑے مار دوائیں بنائی جائیں گی جو انسان دوست شہد کی مکھیوں کو نقصان نہیں پہنچائیں گی۔ </p>

<p>یہ رقم امریکہ کی تین اہم یونیورسٹیوں میں دی جارہی ہے جس کے تحت مکھی دوست حشرات کش ادویہ بنائی جاسکیں گی۔ </p>

<p>امریکہ میں ایک چوتھائی (25 فیصد) اجناس اور فصلیں صرف شہد کی مکھیوں سے ہی بارآور ہوتی ہیں ان میں سیب، تربوز، پھلیاں اور بادام وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔ </p>

<p>مکھیوں کی بڑے پیمانے پر ہلاکت پر ماہرین، کسانوں اور عام افراد نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ </p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1001391</guid>
      <pubDate>Fri, 10 Jan 2014 19:42:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خبر رساں ادارے)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2014/01/52d00616a5f97.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2014/01/52d00616a5f97.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
