<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - News</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 23:22:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 23:22:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یار مصدق </title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1001558/yaar-musadiq</link>
      <description>&lt;p&gt;جب آپ گوگل پر مصدق سانول کو سرچ کرتے ہیں تو ڈان ڈاٹ کام پر ان کے آرکائیو کی فہرست ٹویٹر، لنکڈ ان اور فیس بک پروفائلز کے درمیان ظاہر ہوتی ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کی تحریروں میں سے ایک حسن درس پر ایک تعزیتی مضمون بھی ہے، جو ایک سندھی شاعر اور مصدق کے قریبی ساتھی رہے اور وہ قدرے کم عمری میں انتقال کرگئے تھے۔  آج کی اس تعزیتی تحریر میں اس سے ذیاہ مشترک بات کوئی اور نہیں کہ پہلے مصدق نے حسن کیلئے مضمون لکھا تھا جبکہ آج ایک اور حسن مصدق کیلئے لکھ رہا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چھ ماہ تک بات چیت کرنے کے بعد مصدق سے میری پہلی ملاقات شخصی طور پر اس وقت ہوئی جب وہ ہزارہ کمیونٹی پر ایک ڈاکیومینٹری کرنے کیلئے آئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے میرے ٹرین سے وابستہ سفرنامے پڑھے تھے اور ان میں سے ایک لالہ موسیٰ کو بہت پسند سراہا تھا اور پھر وہ میری بیٹی کیلئے کچھ ایسے تحفے لائے جو آرٹ کے لحاظ سے تھے یعنی ایک تختی، چند قلم اور روشنائی کی ایک بوتل۔ چونکہ بیٹی آکسفورڈ کا نصاب پڑھتی ہے جو ایک مشترکہ صارفین کے کلچر پر زور دیتا ہے تو تختی نے ٹیب کی جگہ لے لی اور پھر میں نے اسے اسٹیل کے ٹرنک میں اپنی ان چیزوں کے ساتھ رکھ دیا جو میں نے پنجاب سے جمع کی تھیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مری آباد، کوئٹہ میں تین دن ہم ساتھ رہے۔ میں نے احساس کیا کہ صوفی بندشوں اور سرحدوں سے آزادی کیوں ہوتےہیں۔ ملتان سے تعلق رکھنے والے مصدق نے این سی اے سے گریجویشن کیا اور بہت وقت مغربی دنیا میں گزارا لیکن مصدق مقامی ہزارہ آبادی سےبھی ذیادہ ہزارہ تھا۔ دھیمی آواز میں گھلی ان کی خاکسار طبیعت میں ان کا عالمی تجربہ پوشیدہ تھا اور اسی نے ہزارہ متاثرین کا اعتماد جیتا۔ مری آباد میں دوبارہ دوپہر کو پہنچے اور انٹرویو دینے والے چند افراد تک جب مصدق کی معلومات پہنچی تو وہ صرف بے یقینی کے عالم میں یہی کہہ چکے کہ ' کیسے'؟ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وہ چلتے دوران بولتے جاتے تھے اور جتنا بولتے میں ان سے اتنا ہی سیکھتا۔ مصدق ایک آرٹسٹ تھے اور جب آج کے دور میں چیزوں کی ظاہری چمک دمک اور پیشکش نے اصل شے کو بھی ماند کردیا ہے وہ حقیقی معنوں میں آرٹ کے قدر دان تھے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کی شہرت کا ایک واقعہ اس وقت سامنے آیا جب میں پاکستان کے شمالی علاقوں کا دورہ کررہا تھا۔ ایک غیر مقامی جوڑا شگر کا حسن دیکھ کر حیران رہ گیا تھا۔ ان کا غیر ملکی برتاؤ برقرار رہا اور یہاں تک کہ انہوں نے مجھے بتایا کہ پاکستانی لوک ( فوک) موسیقی سے ان کا لگاؤ اور تعارف جس شخص نے کرایا ہے وہ سفید بالوں والا مصدق ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ملک کے دیگر فنکاروں کی طرح مصدق کا بھی دوسروں کیلئے آزادی کی راہ ہموار کرنے میں ایک کردار رہا ہے۔ 1984 میں این سی اے جمعیت کے حملہ آوروں نے انہیں سزا چکھانے کی ٹھانی اور ان کی بائیں آنکھ پر چوٹ لگائی ، جس وہ زندگی بھر کیلئے ایک آنکھ سے معذور ہوگئے۔ ایک مرتبہ انہوں نے ہمیں بتایا جب جنرل ضیا الحق کی موت کی خبر این سی اے میں پہنچی تو چند طالبعلموں نے خوشیاں منائیں۔ اتنے میں ایک بوڑھا آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دشمن مرے تے خوشی نہ کریئے۔۔۔۔ سجن وی مرجانا ۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مصدق نے جواب دیا، لیکن اس ( ضیا) نے طے کرلیا تھا کہ کوئی سجن نہ بچ پائے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گزشتہ برس کے شروع میں ، مصدق نے بہادری سے اپنےچند قریبی دوستوں کو اپنے مرض کے بارے میں بتایا۔ اسی دوران ان کی سالگرہ پر ان کی خوش مزاجی عروج پر نظر آئی جب انہوں نے اپنا اسٹیٹس اپ ڈیٹ کرتے ہوئے لکھا:&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آپ سب کا شکریہ! ایک ایسے ملک میں یہ ایک اچھی ہاف سینچری ہے جہاں ہمارے پر بہت کم اسکور کرنے والے بیٹسمین ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بیرونِ ملک علاج کے باوجود مرض بہتر نہ ہوا۔ ڈاکٹروں نے انہیں فون سے دور رہنے کو کہا تھا لیکن ڈان ڈاٹ کام سے لگاؤ نے اسے بھی ویٹو کردیا۔ تین دن پہلے ہمارے ایک مشترکہ دوست نے بتایا کہ مصدق کو سی آئی سی یو شفٹ کیا گیا ہے۔ ' ہم وہاں گئے اور شیشے کے پار سے ہاتھ ہلایا اور اس کے جواب میں مصدق نے مسکراہٹ لوٹائی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;امیدیں تو بہت بلند تھیں کہ وہ ٹھیک ہوجائیں گے لیکن جلد ہی وہ بھی ڈھے گئیں۔ پندرہ جنوری 2014  کی ایک ہولناک رات کو وہ بے ہوشی میں چلے گئے۔ اس کے بعد ہمارے ذہنوں میں رہ جانے والے الفاظ سے وہ واپس آگئے لیکن ایک دن کیلئے اور کی اگلی صبح ڈان اسٹاف کے ایک رکن نے فون کیا اور ایک گہرے صدمے کی خبر سنائی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان کی ویب سائٹ پر تعزیتوں کے پیغامات امنڈ آئے اور اس ویب سائٹ کو مصدق نے بڑی محنت سے پروان چڑھایا تھا۔ لاہور میں ان کے دوست این سی اے کے گیٹ پر جمع ہوئے اور اسی راستے پر چلے جہاں وہ مصدق کے ساتھ کلاسوں میں جایا کرتے تھے۔  &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وہ موسیقی میں اپنی ذہانت یا صحافتی تجربے کی وجہ سے یاد نہیں رکھے جائیں گے بلکہ اس لئے بھی کہ وہ کسطرح جئے۔ ایک پرامن انسان کی طرح جس نے اپنی آواز بلند نہیں کی بلکہ سوچ کو آگے بڑھایا۔ انہیں چناب کنارے دفنایا جائے گا اور اور راوی کنارے کوئی پکارے گا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وطن دماں دے نال تے ذات جوگی&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سانوں ساک قبیلڑا خویش کیہا&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کونجاں وانگ ممولیاں دیس چھڈے&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اساں ذات صفات تے بھیس کیہا&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جب آپ گوگل پر مصدق سانول کو سرچ کرتے ہیں تو ڈان ڈاٹ کام پر ان کے آرکائیو کی فہرست ٹویٹر، لنکڈ ان اور فیس بک پروفائلز کے درمیان ظاہر ہوتی ہے۔ </p>

<p>ان کی تحریروں میں سے ایک حسن درس پر ایک تعزیتی مضمون بھی ہے، جو ایک سندھی شاعر اور مصدق کے قریبی ساتھی رہے اور وہ قدرے کم عمری میں انتقال کرگئے تھے۔  آج کی اس تعزیتی تحریر میں اس سے ذیاہ مشترک بات کوئی اور نہیں کہ پہلے مصدق نے حسن کیلئے مضمون لکھا تھا جبکہ آج ایک اور حسن مصدق کیلئے لکھ رہا ہے۔ </p>

<p>چھ ماہ تک بات چیت کرنے کے بعد مصدق سے میری پہلی ملاقات شخصی طور پر اس وقت ہوئی جب وہ ہزارہ کمیونٹی پر ایک ڈاکیومینٹری کرنے کیلئے آئے تھے۔</p>

<p>انہوں نے میرے ٹرین سے وابستہ سفرنامے پڑھے تھے اور ان میں سے ایک لالہ موسیٰ کو بہت پسند سراہا تھا اور پھر وہ میری بیٹی کیلئے کچھ ایسے تحفے لائے جو آرٹ کے لحاظ سے تھے یعنی ایک تختی، چند قلم اور روشنائی کی ایک بوتل۔ چونکہ بیٹی آکسفورڈ کا نصاب پڑھتی ہے جو ایک مشترکہ صارفین کے کلچر پر زور دیتا ہے تو تختی نے ٹیب کی جگہ لے لی اور پھر میں نے اسے اسٹیل کے ٹرنک میں اپنی ان چیزوں کے ساتھ رکھ دیا جو میں نے پنجاب سے جمع کی تھیں۔ </p>

<p>مری آباد، کوئٹہ میں تین دن ہم ساتھ رہے۔ میں نے احساس کیا کہ صوفی بندشوں اور سرحدوں سے آزادی کیوں ہوتےہیں۔ ملتان سے تعلق رکھنے والے مصدق نے این سی اے سے گریجویشن کیا اور بہت وقت مغربی دنیا میں گزارا لیکن مصدق مقامی ہزارہ آبادی سےبھی ذیادہ ہزارہ تھا۔ دھیمی آواز میں گھلی ان کی خاکسار طبیعت میں ان کا عالمی تجربہ پوشیدہ تھا اور اسی نے ہزارہ متاثرین کا اعتماد جیتا۔ مری آباد میں دوبارہ دوپہر کو پہنچے اور انٹرویو دینے والے چند افراد تک جب مصدق کی معلومات پہنچی تو وہ صرف بے یقینی کے عالم میں یہی کہہ چکے کہ ' کیسے'؟ </p>

<p>وہ چلتے دوران بولتے جاتے تھے اور جتنا بولتے میں ان سے اتنا ہی سیکھتا۔ مصدق ایک آرٹسٹ تھے اور جب آج کے دور میں چیزوں کی ظاہری چمک دمک اور پیشکش نے اصل شے کو بھی ماند کردیا ہے وہ حقیقی معنوں میں آرٹ کے قدر دان تھے۔ </p>

<p>ان کی شہرت کا ایک واقعہ اس وقت سامنے آیا جب میں پاکستان کے شمالی علاقوں کا دورہ کررہا تھا۔ ایک غیر مقامی جوڑا شگر کا حسن دیکھ کر حیران رہ گیا تھا۔ ان کا غیر ملکی برتاؤ برقرار رہا اور یہاں تک کہ انہوں نے مجھے بتایا کہ پاکستانی لوک ( فوک) موسیقی سے ان کا لگاؤ اور تعارف جس شخص نے کرایا ہے وہ سفید بالوں والا مصدق ہے۔ </p>

<p>ملک کے دیگر فنکاروں کی طرح مصدق کا بھی دوسروں کیلئے آزادی کی راہ ہموار کرنے میں ایک کردار رہا ہے۔ 1984 میں این سی اے جمعیت کے حملہ آوروں نے انہیں سزا چکھانے کی ٹھانی اور ان کی بائیں آنکھ پر چوٹ لگائی ، جس وہ زندگی بھر کیلئے ایک آنکھ سے معذور ہوگئے۔ ایک مرتبہ انہوں نے ہمیں بتایا جب جنرل ضیا الحق کی موت کی خبر این سی اے میں پہنچی تو چند طالبعلموں نے خوشیاں منائیں۔ اتنے میں ایک بوڑھا آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا۔ </p>

<p>دشمن مرے تے خوشی نہ کریئے۔۔۔۔ سجن وی مرجانا ۔ </p>

<p>مصدق نے جواب دیا، لیکن اس ( ضیا) نے طے کرلیا تھا کہ کوئی سجن نہ بچ پائے۔ </p>

<p>گزشتہ برس کے شروع میں ، مصدق نے بہادری سے اپنےچند قریبی دوستوں کو اپنے مرض کے بارے میں بتایا۔ اسی دوران ان کی سالگرہ پر ان کی خوش مزاجی عروج پر نظر آئی جب انہوں نے اپنا اسٹیٹس اپ ڈیٹ کرتے ہوئے لکھا:</p>

<p>آپ سب کا شکریہ! ایک ایسے ملک میں یہ ایک اچھی ہاف سینچری ہے جہاں ہمارے پر بہت کم اسکور کرنے والے بیٹسمین ہیں۔ </p>

<p>بیرونِ ملک علاج کے باوجود مرض بہتر نہ ہوا۔ ڈاکٹروں نے انہیں فون سے دور رہنے کو کہا تھا لیکن ڈان ڈاٹ کام سے لگاؤ نے اسے بھی ویٹو کردیا۔ تین دن پہلے ہمارے ایک مشترکہ دوست نے بتایا کہ مصدق کو سی آئی سی یو شفٹ کیا گیا ہے۔ ' ہم وہاں گئے اور شیشے کے پار سے ہاتھ ہلایا اور اس کے جواب میں مصدق نے مسکراہٹ لوٹائی۔</p>

<p>امیدیں تو بہت بلند تھیں کہ وہ ٹھیک ہوجائیں گے لیکن جلد ہی وہ بھی ڈھے گئیں۔ پندرہ جنوری 2014  کی ایک ہولناک رات کو وہ بے ہوشی میں چلے گئے۔ اس کے بعد ہمارے ذہنوں میں رہ جانے والے الفاظ سے وہ واپس آگئے لیکن ایک دن کیلئے اور کی اگلی صبح ڈان اسٹاف کے ایک رکن نے فون کیا اور ایک گہرے صدمے کی خبر سنائی۔</p>

<p>ڈان کی ویب سائٹ پر تعزیتوں کے پیغامات امنڈ آئے اور اس ویب سائٹ کو مصدق نے بڑی محنت سے پروان چڑھایا تھا۔ لاہور میں ان کے دوست این سی اے کے گیٹ پر جمع ہوئے اور اسی راستے پر چلے جہاں وہ مصدق کے ساتھ کلاسوں میں جایا کرتے تھے۔  </p>

<p>وہ موسیقی میں اپنی ذہانت یا صحافتی تجربے کی وجہ سے یاد نہیں رکھے جائیں گے بلکہ اس لئے بھی کہ وہ کسطرح جئے۔ ایک پرامن انسان کی طرح جس نے اپنی آواز بلند نہیں کی بلکہ سوچ کو آگے بڑھایا۔ انہیں چناب کنارے دفنایا جائے گا اور اور راوی کنارے کوئی پکارے گا۔ </p>

<p>وطن دماں دے نال تے ذات جوگی</p>

<p>سانوں ساک قبیلڑا خویش کیہا</p>

<p>کونجاں وانگ ممولیاں دیس چھڈے</p>

<p>اساں ذات صفات تے بھیس کیہا</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1001558</guid>
      <pubDate>Sat, 18 Jan 2014 00:14:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد حسن معراج)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2014/01/52d98071d198f.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2014/01/52d98071d198f.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
