<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 21 Jun 2026 20:16:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 21 Jun 2026 20:16:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھوجا طیارہ حادثہ،  پائلٹ آٹومیشن ڈیک سے ناواقف تھے، رپورٹ </title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1002090/badly-trained-crew-blamed-for-bhoja-air-crash</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی: بھوجا ائیرلائن کے پائلٹ فلائٹ کے خود کار نظام پر مہارت نہیں رکھتے تھے اور اسی وجہ سے سال 2012 میں اس کا ایک طیارہ اسلام آباد سے باہر زمین سے ٹکرا کر تباہ ہوگیا تھا جس میں 127 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس بات کا انکشاف حادثے پر تحقیقات کرنے والے ماہرین نے کیا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھوجا ایئر کا بوئنگ 737 کراچی سے اسلام آباد آرہا تھا دارالحکومت میں بے نظیر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے پاس زمین سے ٹکرا کر اس وقت شعلوں میں گھر گیا تھا جب لینڈنگ کے وقت اسے خراب موسم کا سامنا کرنا پڑا۔ اس حادثے میں کوئی زندہ نہیں بچا تھا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستانی تاریخ میں انسانی جانوں کے لحاظ سے دوسرے بڑے حادثے کی آفیشل تحقیقاتی رپورٹ میں سول ایوی ایشن ( سی اے اے) نے کیبن عملے اور بھوجا انتظامیہ کو حادثے کا ذمے دار ٹھہرایا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سی اے اے رپورٹ کے مطابق طیارے کے پائلٹ اور شریک پائلٹ بوئنگ 737-200 طیارہ اڑانے پر مہارت رکھتے تھے لیکن اس سے جدید 737-236 ماڈل سے ناواقف تھے اور اسی لئے یہ حادثہ رونما ہوا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس نئے ماڈل میں خود کار (آٹومیٹڈ ) فلائٹ ڈیک کا اضافہ کیا گیا تھا اور پائلٹ کو اس کے استعمال کی تربیت نہیں دی گئی تھی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;' ( طیارے) کے خودکار نظام کے متعلق کاک پٹ عملے کو مناسب معلومات نہیں تھیں یہاں تک کہ گراؤنڈ اسکولنگ کے باوجود بھی وہ اس سے واقف نہیں ہوئے کیونکہ گراؤنڈ اسکولنگ میں طیارے کے آٹومیشن سے واقف نہیں کرایا جاتا،' اس رپورٹ کے کچھ حصے دیکھنے کے بعد خبر رساں ایجنسی نے بتایا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ کے اختتامی جملوں میں تحقیق کار کہتے ہیں، ' فلائٹ کے بنیادی لوازمات کے غیر مؤثر انتظام' مثلاً ہوا کی رفتار اور نیچے اترنے کی شرح وغیرہ ہی اس افسوسناک حادثے کی وجہ تھی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حادثے کی آٹھ رکنی تفتیشی ٹیم میں ایک ایئرکموڈور کی نگرانی میں انجینیئر، کمرشل اور ایئرفورس پائلٹ، ڈاکٹر اور فضائیہ سے وابستہ ماہرین شامل تھے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بلیک باکس ریکارڈنگ میں کاک پٹ اور ایئڑ ٹریفک کنٹرول ٹاور کی گفتگو سے تفتیشی ٹیم نے اندازہ لگایا کہ شدید موسمی کیفیت سے پائلٹ بہت پریشان تھے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کیپٹن نے اچانک یہ بھی کہا ہے کہ اندھیرا آگیا ہے لیکن اس کے بعد اس صورتحال سے نکلنے کیلئے اس نے کوئی عمل نہیں کیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;طیارہ اس وقت 190 کی معمول کی رفتار کی بجائے 220 ناٹ پر جارہا تھا اور اس موقع پر اس ( پائلٹ) نے طیارے کی آٹومیشن ٹیکنالوجی پر بھروسہ نہیں کیا اور کنفیوز ہوگیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دو سال سے بھی کم عرصے میں اسلام آباد میں ہونے والا یہ دوسرا فضائی حادثہ تھا ۔ جولائی 2010 میں ایئربلو کا ایک طیارہ مارگلہ پہاڑیوں سے ٹکریا گیا تھا۔ اس کی وجہ بھی خراب موسم ہی تھی اور اس میں 152 مسافر ہلاک ہوئے تھے جو پاکستان کی فضائی تاریخ کا سب سے بڑا حادثہ بھی تھا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھوجا طیارے کے حادثے میں جہاز کا مرکزی حصہ ( فیوزلاج) زمین پر کئی کلومیٹر تک رگڑتا رہا اور کئی لاشوں کی شناخت بھی نہ ہوسکی تھی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سی اے اے نے حادثے کے بعد ایئرلائن آپریشن معطل کردئیے تھے اور کوئی بھی فوری طور پر اس رپورٹ کے ردِ عمل کے لئے دستیاب نہ ہوسکا ۔ &lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی: بھوجا ائیرلائن کے پائلٹ فلائٹ کے خود کار نظام پر مہارت نہیں رکھتے تھے اور اسی وجہ سے سال 2012 میں اس کا ایک طیارہ اسلام آباد سے باہر زمین سے ٹکرا کر تباہ ہوگیا تھا جس میں 127 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ </p>

<p>اس بات کا انکشاف حادثے پر تحقیقات کرنے والے ماہرین نے کیا ہے۔ </p>

<p>بھوجا ایئر کا بوئنگ 737 کراچی سے اسلام آباد آرہا تھا دارالحکومت میں بے نظیر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے پاس زمین سے ٹکرا کر اس وقت شعلوں میں گھر گیا تھا جب لینڈنگ کے وقت اسے خراب موسم کا سامنا کرنا پڑا۔ اس حادثے میں کوئی زندہ نہیں بچا تھا۔ </p>

<p>پاکستانی تاریخ میں انسانی جانوں کے لحاظ سے دوسرے بڑے حادثے کی آفیشل تحقیقاتی رپورٹ میں سول ایوی ایشن ( سی اے اے) نے کیبن عملے اور بھوجا انتظامیہ کو حادثے کا ذمے دار ٹھہرایا ہے۔ </p>

<p>سی اے اے رپورٹ کے مطابق طیارے کے پائلٹ اور شریک پائلٹ بوئنگ 737-200 طیارہ اڑانے پر مہارت رکھتے تھے لیکن اس سے جدید 737-236 ماڈل سے ناواقف تھے اور اسی لئے یہ حادثہ رونما ہوا۔ </p>

<p>اس نئے ماڈل میں خود کار (آٹومیٹڈ ) فلائٹ ڈیک کا اضافہ کیا گیا تھا اور پائلٹ کو اس کے استعمال کی تربیت نہیں دی گئی تھی۔ </p>

<p>' ( طیارے) کے خودکار نظام کے متعلق کاک پٹ عملے کو مناسب معلومات نہیں تھیں یہاں تک کہ گراؤنڈ اسکولنگ کے باوجود بھی وہ اس سے واقف نہیں ہوئے کیونکہ گراؤنڈ اسکولنگ میں طیارے کے آٹومیشن سے واقف نہیں کرایا جاتا،' اس رپورٹ کے کچھ حصے دیکھنے کے بعد خبر رساں ایجنسی نے بتایا۔</p>

<p>رپورٹ کے اختتامی جملوں میں تحقیق کار کہتے ہیں، ' فلائٹ کے بنیادی لوازمات کے غیر مؤثر انتظام' مثلاً ہوا کی رفتار اور نیچے اترنے کی شرح وغیرہ ہی اس افسوسناک حادثے کی وجہ تھی۔ </p>

<p>حادثے کی آٹھ رکنی تفتیشی ٹیم میں ایک ایئرکموڈور کی نگرانی میں انجینیئر، کمرشل اور ایئرفورس پائلٹ، ڈاکٹر اور فضائیہ سے وابستہ ماہرین شامل تھے۔ </p>

<p>بلیک باکس ریکارڈنگ میں کاک پٹ اور ایئڑ ٹریفک کنٹرول ٹاور کی گفتگو سے تفتیشی ٹیم نے اندازہ لگایا کہ شدید موسمی کیفیت سے پائلٹ بہت پریشان تھے۔ </p>

<p>کیپٹن نے اچانک یہ بھی کہا ہے کہ اندھیرا آگیا ہے لیکن اس کے بعد اس صورتحال سے نکلنے کیلئے اس نے کوئی عمل نہیں کیا۔ </p>

<p>طیارہ اس وقت 190 کی معمول کی رفتار کی بجائے 220 ناٹ پر جارہا تھا اور اس موقع پر اس ( پائلٹ) نے طیارے کی آٹومیشن ٹیکنالوجی پر بھروسہ نہیں کیا اور کنفیوز ہوگیا۔ </p>

<p>دو سال سے بھی کم عرصے میں اسلام آباد میں ہونے والا یہ دوسرا فضائی حادثہ تھا ۔ جولائی 2010 میں ایئربلو کا ایک طیارہ مارگلہ پہاڑیوں سے ٹکریا گیا تھا۔ اس کی وجہ بھی خراب موسم ہی تھی اور اس میں 152 مسافر ہلاک ہوئے تھے جو پاکستان کی فضائی تاریخ کا سب سے بڑا حادثہ بھی تھا۔ </p>

<p>بھوجا طیارے کے حادثے میں جہاز کا مرکزی حصہ ( فیوزلاج) زمین پر کئی کلومیٹر تک رگڑتا رہا اور کئی لاشوں کی شناخت بھی نہ ہوسکی تھی۔ </p>

<p>سی اے اے نے حادثے کے بعد ایئرلائن آپریشن معطل کردئیے تھے اور کوئی بھی فوری طور پر اس رپورٹ کے ردِ عمل کے لئے دستیاب نہ ہوسکا ۔ </p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1002090</guid>
      <pubDate>Wed, 05 Feb 2014 20:37:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2014/02/52f25a834cb4f.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2014/02/52f25a834cb4f.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
