<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Balochistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 04:33:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 04:33:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلوچستان: لورالائی میں پولیو ٹیم پر حملہ، اہلکار ہلاک</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1003574/attack-on-polio-team-kills-policeman-in-balochistan</link>
      <description>&lt;p&gt;کوئٹہ: پاکستان کے جنوب مغربی صوبے بلوچستان کے ضلع  لورالائی میں انسدادِ پولیو ٹیم پر ناملعوم افراد کی فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار ہلاک ہوگیا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ایک مقامی پولیس  افسر شاہ محمد نے ڈان ڈاٹ  کام  کو بتایا کہ موٹر سائیکل پر سوار ناملعوم مسلح افراد نے لورالائی کے علاقے ناصرآباد میں پولیو ٹیم پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ان کی حفاظت پر مامور ایک پولیس اہلکار موقع پر ہلاک ہوگیا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;پولیس افسر کا کہنا تھا کہ فائرنگ کے بعد مسلح افراد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب لورالائی بازار میں انسدادِ پولیو مہم جاری تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;واقعہ کے بعد پولیس اور لیویز اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور تفتیش کا عمل شروع  کردیا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ابتدائی طور پر اس واقعہ  کی ذمہ دار کسی گروپ یا تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;خیال رہے  کہ صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ اور ضلع پشین سمیت صوبے کے دیگر علاقوں میں گزشتہ کئی عرصے پولیس اور لیویز اہلکاروں کو نشانہ بناجا رہا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;آج ہونے والی حملہ شدت پسندوں کی جانب  سے صوبے میں پولیس مہم کو متاثر کرنے کا حصہ تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اعداد و شمار کے مطابق سن 2012ء میں بلوچستان میں 73 پولیو کیسز سامنے آئے تھے، تاہم جنوری 2013 ء سے اب تک یہاں پر ایک بھی پولیو کیسز رپورٹ نہیں ہوا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;لیکن اس کے باوجود اس کی روک تھام ضروری ہے اس لیے کہ اس کا وائرس کوئٹہ کے علاقے پشتون آباد سے حاصل کیے گئے سیوریج کے پانی کے نمونے میں پایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کوئٹہ: پاکستان کے جنوب مغربی صوبے بلوچستان کے ضلع  لورالائی میں انسدادِ پولیو ٹیم پر ناملعوم افراد کی فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار ہلاک ہوگیا۔</p><p>ایک مقامی پولیس  افسر شاہ محمد نے ڈان ڈاٹ  کام  کو بتایا کہ موٹر سائیکل پر سوار ناملعوم مسلح افراد نے لورالائی کے علاقے ناصرآباد میں پولیو ٹیم پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ان کی حفاظت پر مامور ایک پولیس اہلکار موقع پر ہلاک ہوگیا۔</p><p>پولیس افسر کا کہنا تھا کہ فائرنگ کے بعد مسلح افراد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔</p><p>یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب لورالائی بازار میں انسدادِ پولیو مہم جاری تھی۔</p><p>واقعہ کے بعد پولیس اور لیویز اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور تفتیش کا عمل شروع  کردیا گیا۔</p><p>ابتدائی طور پر اس واقعہ  کی ذمہ دار کسی گروپ یا تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔</p><p>خیال رہے  کہ صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ اور ضلع پشین سمیت صوبے کے دیگر علاقوں میں گزشتہ کئی عرصے پولیس اور لیویز اہلکاروں کو نشانہ بناجا رہا ہے۔</p><p>آج ہونے والی حملہ شدت پسندوں کی جانب  سے صوبے میں پولیس مہم کو متاثر کرنے کا حصہ تھا۔</p><p>اعداد و شمار کے مطابق سن 2012ء میں بلوچستان میں 73 پولیو کیسز سامنے آئے تھے، تاہم جنوری 2013 ء سے اب تک یہاں پر ایک بھی پولیو کیسز رپورٹ نہیں ہوا ہے۔</p><p>لیکن اس کے باوجود اس کی روک تھام ضروری ہے اس لیے کہ اس کا وائرس کوئٹہ کے علاقے پشتون آباد سے حاصل کیے گئے سیوریج کے پانی کے نمونے میں پایا گیا تھا۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1003574</guid>
      <pubDate>Thu, 27 Mar 2014 13:46:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سید علی شاہ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2014/03/5333e46267098.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2014/03/5333e46267098.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
