<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Balochistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 22:04:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 22:04:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلوچستان حکومت نے 260 اساتذہ معطل کر دیئے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1003618/balochistan-government-suspends-260-teachers</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کوئٹہ : صوبہ بلوچستان کے محکمہ تعلیم نے صوبے کے مختلف اضلاع میں اپنے فرائص ادا نہ کرنے پر 260 اساتذہ کو معطل کر دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p&gt;بلوچستان کے سیکرٹری تعلیم غلام علی بلوچ نے جمعہ کو ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ معطل کیئے جانے والے اساتذہ ڈیرہ بگٹی، لورالائی اور صوبے کے ضلع پشین سے تعلق رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;بلوچ نے کہا کہ ضلع لورالائی کے ایک سو ساٹھ اساتذہ کو معطل کیا گیا ہے ۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ اساتذہ گزشتہ کئی ماہ سے ڈیوٹی سے غیر حاضر تھے اور بار بار وارننگ کے باوجود اسکول میں تدریس کے لیئے نہیں آئے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;بلوچ نے کہا کہ &amp;quot;ہم نے سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی موجودگی کو یقینی بنانے کا فیصلہ کیا ہے&amp;quot;۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;بلوچستان کے محکمہ تعلیم کے مطابق صوبے بھر میں پانچ ہزار سے زیادہ گھوسٹ ٹیچر ہیں اور تین ہزار سے زیادہ گھوسٹ اسکول ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;غلام علی نے کہا کہ ہماری بنیادی کوشش ہے کہ گھوسٹ ٹیچر کے تصور کو دور کیا جائے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;انہوں نے کہا  شورش زدہ ضلع ڈیرہ بگٹی میں بدامنی کے بعد زیادہ تر سرکاری اسکول بند کر دیئے گئے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;دو سال پہلے محکمہ تعلیم نے ڈیرہ بگٹی میں خواتین کی تعلیم کا تناسب صرف دو فیصد رکھا تھا۔ جبکہ پہلی بار بلوچستان حکومت نے تعلیم کے بجٹ میں کافی اضافہ کیا ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;وزیر اعلی بلوچستان ڈاکٹر مالک بلوچ کی حکومت نے صوبے میں تعلیم کے شعبے کی ترقی اور تنخواہوں کے لیئے بجٹ کا چوبیس فیصد حصہ مختص کیا ہے۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کوئٹہ : صوبہ بلوچستان کے محکمہ تعلیم نے صوبے کے مختلف اضلاع میں اپنے فرائص ادا نہ کرنے پر 260 اساتذہ کو معطل کر دیا ہے۔</strong></p><p>بلوچستان کے سیکرٹری تعلیم غلام علی بلوچ نے جمعہ کو ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ معطل کیئے جانے والے اساتذہ ڈیرہ بگٹی، لورالائی اور صوبے کے ضلع پشین سے تعلق رکھتے ہیں۔</p><p>بلوچ نے کہا کہ ضلع لورالائی کے ایک سو ساٹھ اساتذہ کو معطل کیا گیا ہے ۔</p><p>انہوں نے بتایا کہ اساتذہ گزشتہ کئی ماہ سے ڈیوٹی سے غیر حاضر تھے اور بار بار وارننگ کے باوجود اسکول میں تدریس کے لیئے نہیں آئے۔</p><p>بلوچ نے کہا کہ &quot;ہم نے سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی موجودگی کو یقینی بنانے کا فیصلہ کیا ہے&quot;۔</p><p>بلوچستان کے محکمہ تعلیم کے مطابق صوبے بھر میں پانچ ہزار سے زیادہ گھوسٹ ٹیچر ہیں اور تین ہزار سے زیادہ گھوسٹ اسکول ہیں۔</p><p>غلام علی نے کہا کہ ہماری بنیادی کوشش ہے کہ گھوسٹ ٹیچر کے تصور کو دور کیا جائے۔</p><p>انہوں نے کہا  شورش زدہ ضلع ڈیرہ بگٹی میں بدامنی کے بعد زیادہ تر سرکاری اسکول بند کر دیئے گئے تھے۔</p><p>دو سال پہلے محکمہ تعلیم نے ڈیرہ بگٹی میں خواتین کی تعلیم کا تناسب صرف دو فیصد رکھا تھا۔ جبکہ پہلی بار بلوچستان حکومت نے تعلیم کے بجٹ میں کافی اضافہ کیا ہے۔ </p><p>وزیر اعلی بلوچستان ڈاکٹر مالک بلوچ کی حکومت نے صوبے میں تعلیم کے شعبے کی ترقی اور تنخواہوں کے لیئے بجٹ کا چوبیس فیصد حصہ مختص کیا ہے۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1003618</guid>
      <pubDate>Fri, 28 Mar 2014 23:29:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سید علی شاہ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2014/03/5335bee3bab82.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2014/03/5335bee3bab82.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
