<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - News</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 22:04:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 22:04:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گھوسٹ سکول، اساتذہ بلوچستان کی بڑی مشکل</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1004560/ghost-schools-teachers-haunt-balochistan-says-adviser</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان کے مشیر برائے تعلیم سردار رضا محمد برائچ کا کہنا ہے کہ صوبے میں فرضی سکولوں کا مسئلہ تشویشناک صورت اختیار کرگیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ساتذہ اپنی مرضی کے مقام پر تبادلہ کروانے کے لیے سیاسی اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ روزانہ کی بنیاد پر ان کے دفتر میں سیاسی شخصیات اور اثر و رسوخ کرنے والے لوگ ٹیچرز کی من مانی جگہ پوسٹنگ کروانے کے لیے آتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;انہوں نے انکشاف کیا کہ بڑی تعداد میں اساتذہ اسکول جاتے ہی نہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ اس وقت سینکڑوں کی تعداد فرضی اسکول اور ٹیچرز موجود ہیں۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;اس موقع پر انہوں نے صوبے میں ان سکولوں کو دوبارہ کھولنے، انہیں کارآمد بنانے اور اساتذہ کو ان سکولوں میں کلاس لینے کے طریقہ کار پر زور دیا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;صوبائی مشیر نے کہا کہ محکمہ تعلیم اس مسئلے کے حل کے لیے گلوبل پوزیشنگ سسٹم اور جیوگرافک انفارمیشن سسٹم کو متعارف کروانے پر غور کررہا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ صوبے کی صرف 33 فیصد لڑکیاں سکول جاتی ہیں جبکہ لڑکوں میں یہ تعداد دو تہائی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کے سکولوں میں دس لاکھ سے زائد بچوں کا اندراج کیا گیا ہے تاہم ابھی بھی بڑی تعداد میں بچے تعلیم سے محروم ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ان کے مطابق 12500 میں سے 6000 اسکولوں میں بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان کے مشیر برائے تعلیم سردار رضا محمد برائچ کا کہنا ہے کہ صوبے میں فرضی سکولوں کا مسئلہ تشویشناک صورت اختیار کرگیا ہے۔</strong></p><p>ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ساتذہ اپنی مرضی کے مقام پر تبادلہ کروانے کے لیے سیاسی اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہیں۔</p><p>انہوں نے بتایا کہ روزانہ کی بنیاد پر ان کے دفتر میں سیاسی شخصیات اور اثر و رسوخ کرنے والے لوگ ٹیچرز کی من مانی جگہ پوسٹنگ کروانے کے لیے آتے ہیں۔</p><p>انہوں نے انکشاف کیا کہ بڑی تعداد میں اساتذہ اسکول جاتے ہی نہیں۔</p><p>انہوں نے بتایا کہ اس وقت سینکڑوں کی تعداد فرضی اسکول اور ٹیچرز موجود ہیں۔ </p><p>اس موقع پر انہوں نے صوبے میں ان سکولوں کو دوبارہ کھولنے، انہیں کارآمد بنانے اور اساتذہ کو ان سکولوں میں کلاس لینے کے طریقہ کار پر زور دیا۔</p><p>صوبائی مشیر نے کہا کہ محکمہ تعلیم اس مسئلے کے حل کے لیے گلوبل پوزیشنگ سسٹم اور جیوگرافک انفارمیشن سسٹم کو متعارف کروانے پر غور کررہا ہے۔</p><p>انہوں نے بتایا کہ صوبے کی صرف 33 فیصد لڑکیاں سکول جاتی ہیں جبکہ لڑکوں میں یہ تعداد دو تہائی ہے۔</p><p>انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کے سکولوں میں دس لاکھ سے زائد بچوں کا اندراج کیا گیا ہے تاہم ابھی بھی بڑی تعداد میں بچے تعلیم سے محروم ہیں۔</p><p>ان کے مطابق 12500 میں سے 6000 اسکولوں میں بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں۔</p>]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1004560</guid>
      <pubDate>Thu, 01 May 2014 14:39:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2014/05/53620faf2152c.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2014/05/53620faf2152c.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
