<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - KP-FATA</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 00:03:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Apr 2026 00:03:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈیرہ اسماعیل خان: نالے میں شامل زہریلے کیمیکل سے10 افراد ہلاک </title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1004607/10-die-chemical</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ڈیرہ اسماعیل خان:  صنعتوں سے نکلنے والے فضلے سے آلودہ ہونے والے نالے سے گزرتے ہوئے دس افراد ہلاک اور دیگر آٹھ افراد بے ہوش ہوگئے ہیں۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ آلودہ پانی کے پاس سے گزررہے تھے جس میں قریبی صنعتوں خصوصاً چشمہ شوگر ملز ٹو سے صنعتی فضلہ اور آلودہ پانی شامل ہوتا ہے۔&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;&lt;p&gt;صوبہ خیبر پختونخواہ کے وزیرِ اعلیٰ پرویز خٹک نے اس سانحے کا نوٹس لیتے ہوئے ذمے داروں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کا اعلان کیا تھا۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;مقامی پولیس نے بتایا کہ چشمہ ٹو شوگر ملز اور دیگر صنعتوں سے خارج ہونے والی آلودگیوں کا فضلہ اس نالے میں گرتا ہے جسے سیوریج لائن کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے  اور یہاں سے گزرنے والے دس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;علاقے میں ایک ہومیوپیتھک کلینک چلانے والے ڈاکٹر جہانگیر نے بتایا ، &amp;#39; مرنے والوں کی اکثریت سانس گھٹنے سے دم توڑگئی ہے کیونکہ کیمیکل کی وجہ سے آکسیجن کی کمی ہوگئی تھی اور وہاں سے گزرنے والے دس افراد بے ہوش ہو ہو کر نالے میں گر کر مرتے رہے۔&amp;#39;&lt;/p&gt;&lt;p&gt;روزانہ کی بنیاد پر لوگ رمک کے علاقے  پلوں میں واقع اس آبی راستے کو کھیتی باڑی یا ضروری کام پر جانے کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ یہ نالہ دوفٹ سے بھی کم گہرا ہے جبکہ اس میں قریبی کارخانوں کا آلودہ پانی شامل ہوتا رہتا ہے اور لوگ اسے پیدل ہی استعمال کرتے ہیں۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;ڈاکٹر جہانگیر کے مطابق آٹھ افراد کو پروا کے تحصیل ہسپتال میں لے جایا گیا ہے کیونکہ علاقے میں کوئی کلینک نہیں اور انہیں فوری آکسیجن کی ضرورت تھی۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;پروا پولیس اسٹیشن میں رپورٹنگ افسر نے بتایا کہ پہلے ایک بچی بےہوش ہوکر نالے میں گری تھی، اس کے بعد ایک کے بعد ایک لوگ اسے بچانے کیلئے جاتے رہے اور ہلاک ہوتے رہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ وہاں مزید اموات ہوئی ہیں اور کچھ مزید لوگ بھی بے ہوشی کے بعد گرے ہیں لیکن اس کی حتمی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;پروا ہسپتال  کےافسر محمد نواز نے ڈان ویب سائٹ کو بتایا کہ یہ لوگ کچےکےعلاقے سے رمک بازار تک جانے کیلئے یہ راستہ استعمال کرتے ہیں اور وہ کیمیکل کی وجہ سے بے ہوش ہوکر گرے تھے اور ان کی اموات بھی دم گھٹنے سے واقع ہوئی ہے۔ 
ان کے مطابق دولاشیں برآمد ہوچکی ہیں اور پندرہ بےہوش افراد کو ہسپتال لایا گیا ہے۔ ان کے مطابق مرنے والوں میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اس دوران وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخواہ، پرویز خٹک نے تمام معاملے کی انکوائری کا حکم دیدیا ہے۔ اس میں فیکٹریوں کی جانب سے غفلت کی تحقیقات کا حکم بھی دیا گیا ہے۔  &lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ڈیرہ اسماعیل خان:  صنعتوں سے نکلنے والے فضلے سے آلودہ ہونے والے نالے سے گزرتے ہوئے دس افراد ہلاک اور دیگر آٹھ افراد بے ہوش ہوگئے ہیں۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ آلودہ پانی کے پاس سے گزررہے تھے جس میں قریبی صنعتوں خصوصاً چشمہ شوگر ملز ٹو سے صنعتی فضلہ اور آلودہ پانی شامل ہوتا ہے۔</strong> </p><p>صوبہ خیبر پختونخواہ کے وزیرِ اعلیٰ پرویز خٹک نے اس سانحے کا نوٹس لیتے ہوئے ذمے داروں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کا اعلان کیا تھا۔ </p><p>مقامی پولیس نے بتایا کہ چشمہ ٹو شوگر ملز اور دیگر صنعتوں سے خارج ہونے والی آلودگیوں کا فضلہ اس نالے میں گرتا ہے جسے سیوریج لائن کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے  اور یہاں سے گزرنے والے دس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ </p><p>علاقے میں ایک ہومیوپیتھک کلینک چلانے والے ڈاکٹر جہانگیر نے بتایا ، &#39; مرنے والوں کی اکثریت سانس گھٹنے سے دم توڑگئی ہے کیونکہ کیمیکل کی وجہ سے آکسیجن کی کمی ہوگئی تھی اور وہاں سے گزرنے والے دس افراد بے ہوش ہو ہو کر نالے میں گر کر مرتے رہے۔&#39;</p><p>روزانہ کی بنیاد پر لوگ رمک کے علاقے  پلوں میں واقع اس آبی راستے کو کھیتی باڑی یا ضروری کام پر جانے کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ یہ نالہ دوفٹ سے بھی کم گہرا ہے جبکہ اس میں قریبی کارخانوں کا آلودہ پانی شامل ہوتا رہتا ہے اور لوگ اسے پیدل ہی استعمال کرتے ہیں۔ </p><p>ڈاکٹر جہانگیر کے مطابق آٹھ افراد کو پروا کے تحصیل ہسپتال میں لے جایا گیا ہے کیونکہ علاقے میں کوئی کلینک نہیں اور انہیں فوری آکسیجن کی ضرورت تھی۔ </p><p>پروا پولیس اسٹیشن میں رپورٹنگ افسر نے بتایا کہ پہلے ایک بچی بےہوش ہوکر نالے میں گری تھی، اس کے بعد ایک کے بعد ایک لوگ اسے بچانے کیلئے جاتے رہے اور ہلاک ہوتے رہے۔ </p><p>انہوں نے بتایا کہ وہاں مزید اموات ہوئی ہیں اور کچھ مزید لوگ بھی بے ہوشی کے بعد گرے ہیں لیکن اس کی حتمی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ </p><p>پروا ہسپتال  کےافسر محمد نواز نے ڈان ویب سائٹ کو بتایا کہ یہ لوگ کچےکےعلاقے سے رمک بازار تک جانے کیلئے یہ راستہ استعمال کرتے ہیں اور وہ کیمیکل کی وجہ سے بے ہوش ہوکر گرے تھے اور ان کی اموات بھی دم گھٹنے سے واقع ہوئی ہے۔ 
ان کے مطابق دولاشیں برآمد ہوچکی ہیں اور پندرہ بےہوش افراد کو ہسپتال لایا گیا ہے۔ ان کے مطابق مرنے والوں میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد بھی شامل ہیں۔</p><p>اس دوران وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخواہ، پرویز خٹک نے تمام معاملے کی انکوائری کا حکم دیدیا ہے۔ اس میں فیکٹریوں کی جانب سے غفلت کی تحقیقات کا حکم بھی دیا گیا ہے۔  </p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1004607</guid>
      <pubDate>Fri, 02 May 2014 23:54:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ظاہر شاہ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2014/05/5363e3bc3b970.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2014/05/5363e3bc3b970.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
