<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 09:17:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Apr 2026 09:17:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرف کی غازی قتل کیس سے بریت اور استثنیٰ کی درخواست </title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1004634/musharraf-on-ghazi-rasheed</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد: سابق صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف نے ہفتے کو ایک مقامی عدالت سے رجوع کرتے ہوئے اسلام آباد میں واقع لال مسجد کے پیش امام عبدالرشید غازی قتل کیس سے بریت اور حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p&gt;پرویز مشرف کے وکیل اختر شاہ نے اس کی باضابطہ درخواست ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج واجد علی کے پاس جمع کرائی ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;سابق فوجی حکمران پہلے ہی اس معاملے پر ضمانت پر ہیں کیونکہ چالان میں اسلام آباد پولیس نے انہیں &amp;#39; بے گناہ&amp;#39; قرار دیا تھا اور یہ چالان گزشتہ سال اکتوبر میں کورٹ میں جمع کرایا گیا تھا۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;گزشتہ برس دس اکتوبر کو جیسے ہی پرویز مشرف نے بے نظیر بھٹو قتل کیس، نواب اکبر بگٹی قتل کیس اور ججوں کو محصور رکھنے کے مقدمے میں ضمانت حاصل کی تھی انہیں غازی قتل کیس میں گرفتار کیا گیا تھا۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;پولیس کی جانب سے جمع کرائے گئے چالان میں یہ مؤقف برقرار رکھا گیا ہے کہ نہ ہی کوئی ثبوت یا عینی گواہ ہے کہ مشرف ( غازی عبدالرشید) کے قتل میں ملوث رہے تھے۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;مشرف کے وکیل نے ایڈیشنل اور سیشن جج کو بتایا کہ جنرل مشرف نے لال مسجد کے احکامات نہیں دیئے بلکہ ضلعی انتظامیہ نے فو ج کو طلب کیا تھا کیونکہ پولیس نے حکومت رٹ قائم کرنے میں اپنی بے عملی کا اعتراف کیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اس سلسلے میں انہوں نے اسلام آباد پولیس، ضلعی انتظامیہ اور وزارتِ داخلہ اور دفاع کے درمیان رابطوں کی تفصیلات بھی پیش کیں جن میں فوج سے لال مسجد آپریشن کی درخواست کی گئی تھی۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;وکیلِ صفائی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اسلام آباد انتظامیہ نے اپنی درخواست میں یہ اعتراف کیا ہے کہ لال مسجد انتظامیہ ریاست میں ریاست قائم کرکے حکومت رٹ کو چیلنج کررہی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ وزارتِ داخلہ نے تین جولائی 2007 کو فوج طلب کرنے کے تمام لوازمات مکمل کرلئے تھے اور اسی دن لال مسجد کے باہر فوج تعینات کردی گئی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;سماعت کے دوران ہی مشرف کے وکیل نے مشرف کو عدالت میں حاضر ہونے سے استثنیٰ کی درخواست بھی دائر کی۔ 
وکیل نے بتایا کہ مشرف سیکیورٹی وجوہ کی بنا پر عدالت میں حاضر نہیں ہوسکتے ۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;غازی عبدالرشید قتل کیس کی درخواست ان کے بیٹے ہارون رشید نے دائر کی تھی اور ان کے وکیل طارق اسد نے اس استثنیٰ اور بریت کی درخواست کی شدید مخالفت کی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;تاہم کورٹ نے جنرل مشرف کو ہفتے کو کورٹ آنے سے مستثنیٰ قرار دیت ہوئے سماعت 22 مئی تک ملتوی کرتے ہوئے مشرف کی حاضری کے احکامات جاری کئے ہیں۔ &lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسلام آباد: سابق صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف نے ہفتے کو ایک مقامی عدالت سے رجوع کرتے ہوئے اسلام آباد میں واقع لال مسجد کے پیش امام عبدالرشید غازی قتل کیس سے بریت اور حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دی ہے۔</strong></p><p>پرویز مشرف کے وکیل اختر شاہ نے اس کی باضابطہ درخواست ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج واجد علی کے پاس جمع کرائی ہے۔ </p><p>سابق فوجی حکمران پہلے ہی اس معاملے پر ضمانت پر ہیں کیونکہ چالان میں اسلام آباد پولیس نے انہیں &#39; بے گناہ&#39; قرار دیا تھا اور یہ چالان گزشتہ سال اکتوبر میں کورٹ میں جمع کرایا گیا تھا۔ </p><p>گزشتہ برس دس اکتوبر کو جیسے ہی پرویز مشرف نے بے نظیر بھٹو قتل کیس، نواب اکبر بگٹی قتل کیس اور ججوں کو محصور رکھنے کے مقدمے میں ضمانت حاصل کی تھی انہیں غازی قتل کیس میں گرفتار کیا گیا تھا۔ </p><p>پولیس کی جانب سے جمع کرائے گئے چالان میں یہ مؤقف برقرار رکھا گیا ہے کہ نہ ہی کوئی ثبوت یا عینی گواہ ہے کہ مشرف ( غازی عبدالرشید) کے قتل میں ملوث رہے تھے۔ </p><p>مشرف کے وکیل نے ایڈیشنل اور سیشن جج کو بتایا کہ جنرل مشرف نے لال مسجد کے احکامات نہیں دیئے بلکہ ضلعی انتظامیہ نے فو ج کو طلب کیا تھا کیونکہ پولیس نے حکومت رٹ قائم کرنے میں اپنی بے عملی کا اعتراف کیا تھا۔</p><p>اس سلسلے میں انہوں نے اسلام آباد پولیس، ضلعی انتظامیہ اور وزارتِ داخلہ اور دفاع کے درمیان رابطوں کی تفصیلات بھی پیش کیں جن میں فوج سے لال مسجد آپریشن کی درخواست کی گئی تھی۔ </p><p>وکیلِ صفائی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اسلام آباد انتظامیہ نے اپنی درخواست میں یہ اعتراف کیا ہے کہ لال مسجد انتظامیہ ریاست میں ریاست قائم کرکے حکومت رٹ کو چیلنج کررہی ہے۔</p><p>انہوں نے کہا کہ وزارتِ داخلہ نے تین جولائی 2007 کو فوج طلب کرنے کے تمام لوازمات مکمل کرلئے تھے اور اسی دن لال مسجد کے باہر فوج تعینات کردی گئی تھی۔</p><p>سماعت کے دوران ہی مشرف کے وکیل نے مشرف کو عدالت میں حاضر ہونے سے استثنیٰ کی درخواست بھی دائر کی۔ 
وکیل نے بتایا کہ مشرف سیکیورٹی وجوہ کی بنا پر عدالت میں حاضر نہیں ہوسکتے ۔ </p><p>غازی عبدالرشید قتل کیس کی درخواست ان کے بیٹے ہارون رشید نے دائر کی تھی اور ان کے وکیل طارق اسد نے اس استثنیٰ اور بریت کی درخواست کی شدید مخالفت کی۔</p><p>تاہم کورٹ نے جنرل مشرف کو ہفتے کو کورٹ آنے سے مستثنیٰ قرار دیت ہوئے سماعت 22 مئی تک ملتوی کرتے ہوئے مشرف کی حاضری کے احکامات جاری کئے ہیں۔ </p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1004634</guid>
      <pubDate>Sun, 04 May 2014 11:43:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ملک اسد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2014/05/5365e130132a7.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2014/05/5365e130132a7.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
