<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Punjab</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 20:45:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 20:45:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسلحہ لائسنس کو اسمارٹ کارڈ میں تبدیل کرنے کا منصوبہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1004708/govt-tries-smart-way-to-get-rid-of-illegal-weapons</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لاہور: ہتھیاروں کی تیاری، ان کی فروخت اور مرمت کے ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ  کرکے نادرا اسلحہ لائسنس کو سمارٹ کارڈ کی صورت میں پنجاب میں متعارف کروا رہی ہے، جہاں اسلحہ کا غیر قانونی دھندہ بدعنوان سرکاری حکام کی مدد کے ذریعے خوفناک حد تک آسان ہوچکا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p&gt;سرکاری ذرائع نے منگل کو بتایا کہ کمپیوٹرائزڈ کارڈ کے اجراء کے لیے قوانین میں ترمیم کی جارہی ہے۔ کارڈ کے اجراء اور ہتھیاروں کی تیاری، فروخت اور مرمت پر مشتمل تینوں مراحل کے کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ کی تیاری کے لیے پنجاب حکومت پہلے نادرا کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کرچکی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;امکان ہے کہ یہ سسٹم اگلے دو سے تین مہینوں کے اندر اندر پنجاب کے بڑے شہروں لاہور، راولپنڈی، بہاولپور، فیصل آباد اور گجرانوالہ میں کام کرنے لگے گا۔ پنجاب کے باقی ضلعوں میں اس کی شروعات میں مزید دو ماہ کا عرصہ لگ جائے گا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;حکام نے ڈان کے سامنے اس بات کا اعتراف کیا کہ حکومت کو صوبے میں غیرقانونی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے بارے میں کوئی اندازہ نہیں ہے، لیکن انہوں نے کہا کہ ان کی تعداد تخمینے سے زیادہ ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ سب سے زیادہ پریشان کن حقیقت لاتعداد غیرقانونی ہتھیاروں کے لائسنسوں کی موجودگی ہے، جو بدعنوانی کے ساتھ ضلعی حکومتوں کے عملے کی مدد سے کاغذی طور پر تیار کیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ایک سینئر حکومتی اہلکار کا کہنا تھا کہ غیرقانونی لائسنسوں کا اجراء ایک بہت بڑا فراڈ ہے، جس کا ارتکاب ڈی سی اوز کی ناک کے نیچے کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;محکمہ داخلہ کے ریکارڈ کے مطابق صوبے میں اسلحہ لائسنسوں کی تعداد ایک محتاط اندازے کے تحت 17 لاکھ ہونی چاہیٔے۔ اگر ان تمام لائسنسوں کی اس سال تجدید کی جاتی ہے تو فی لائسنس ایک ہزار روپے کے حساب سے حکومت کو 1.700 ارب روپے حاصل ہونے چاہیٔیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ایک سینئر اہلکار نے کہا کہ اگر بالفرض اس مد میں محض ساٹھ کروڑ روپے حاصل ہوتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ صرف چھ لاکھ لائسنسوں کی تجدید ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ’’باقی لائسنس غیرقانونی طور پر تیار کیے گئے تھے اور اسی وجہ سے ان کی تجدید نہیں کروائی گئی۔‘‘&lt;/p&gt;&lt;p&gt;طریقہ کار کے مطابق درخواستیں پرنٹڈ فارمز پر وصول کی جاتی ہیں، جو باآسانی دستیاب ہیں۔ درخواست گزار کو درج کی گئی تفصیلات کی تصدیق پولیس سے کروا کر اس کے ساتھ منسلک کرنا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اس طریقہ کار میں بدعنوانی کرنا بہت آسان ہے۔ غیر مجاز لائسنس داخل کرتے ہوئے ڈپلیکیٹ بک خفیہ طور پر ساتھ رکھی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;یہ بکس بعد میں ضایع کردی جاتی ہیں۔ بدعنوان حکام ڈی سی او کی جعلی مہروں کا استعمال کرتے ہوئے لائسنس تیار کرسکتے ہیں۔مثال کے طور پر لاہور میں ایک مہینے کے اندر ڈھائی سو لائسنسوں کے اجراء کا کوٹہ مقرر ہے، لیکن اس سے کہیں زیادہ جاری کیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;صرف لاہور کی ضلعی حکومت سیکیورٹی پرنٹنگ پریس کی طبع کردہ بکس حاصل کرتی ہے۔ باقی ضلعوں میں دیگر اسٹیشنری آئٹمز استعمال کیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ایک اندازے کے مطابق ایک کروڑ لائسنس لاہور میں 1947ء سے جاری کیے جاچکے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ریکارڈ پر موجود یہ تعداد کہیں کم ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;پنجاب میں اسلحہ ڈیلروں کی تعداد 562 ہے، اگرچہ اس کاروبار کے لیے نئے لائسنس کے اجراء پر 1987ء سے پابندی عائد ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ریکارڈ مینویل ہونے کی وجہ سے اس کی نگرانی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے، جسے عام رجسٹروں میں رکھا جاتا ہے۔ ان بکس میں گڑبڑ کی جاسکتی ہے یا انہیں ضایع کیا جاسکتا ہے، اور ان کی درستگی کو یقینی بنانے کے لیے کوئی منظم طریقہ کار موجود نہیں ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;لائسنس یافتہ ہتھیاروں کے لیے گولیاں حاصل کرنے کے قانونی طریقہ کار میں خامیاں موجود ہیں، جس کا فائدہ بے ایمان ڈیلروں اور ہتھیار رکھنے والوں کو پہنچتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;مثال کے طور پر اگر ایک شخص کو ایک مہینے میں پچیس گولیاں خریدنے کی اجازت ہے، تو وہ ایک ہی نمبر کی گولیاں زیادہ سے زیادہ ڈیلروں سے خرید سکتا ہے۔ اور ایک سے زیادہ خریداری کا سراغ لگایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;پنجاب میں اسلحہ تیار کرنے والے 12 مینوفیکچررز رجسٹرڈ ہیں، اور ایسا کوئی سسٹم موجود نہیں ہے کہ ان کی مصنوعات کا عدالتی آڈٹ کرایا جاسکے، جس سے یہ سراغ لگانے ممکن نہیں ہے کہ تیار ہونے والے ہتھیاروں اور گولیوں کا جرائم میں استعمال کیا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ہتھیاروں کی مرمت پہلے رجسٹر شدہ  ڈیلروں کا ہی کام ہوتا تھا، لیکن کئی سالوں سے یہ ایک علیحدہ شعبہ بن گیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ہتھیاروں کی مرمت کرنے والوں کی تعداد سات سو ہے، اور ان کے کاموں پر کوئی نگرانی موجود نہیں ہے، اور شبہ ہے کہ ان کے گاہکوں کی تعداد ان لوگوں پر مشتمل ہے جو غیرقانونی ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;غیر ممنوعہ ہتھیاروں کو ممنوعہ ہتھیاروں میں تبدیل کرنے کا عمل کہیں زیادہ خطرناک ہے۔ ماہرین ایک بارہ بور کیٹریج پمپ ایکشن رائفل کو کہیں زیادہ مہلک میگزین لوڈڈ ہتھیار میں تبدیل کرسکتے ہیں، جو گولیوں کی بوچھاڑ کرسکتی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;محکمہ داخلہ کے حکام کا کہنا ہے کہ ریکارڈ کو کمپیوٹرائز کرنے کے عمل اور اسمارٹ کارڈ کے اجراء سے بڑی حد تک اس طرح کے کاموں پر قابو پالیا جائے گا۔ابتداء میں پچھلے پانچ سالوں کے دوران جاری کیے گئے مینویل لائسنسوں کو ڈی سی اوز کے دفاتر سے نادرا کے تیار کردہ اسمارٹ کارڈ میں تبدیل کرایا جاسکے گا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;لائسنس یافتہ افراد اور ان کی بندوقوں کی تمام تفصیلات اور سائنسی تجزیے کی تصدیق نادرا کے ریکارڈ سے آن لائن تصدیق کی جاسکے گی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;جن کی تفصیلات کی تصدیق نہیں ہوسکے گی، ان کے لائسنس منسوخ کردیے جائیں گے۔ تمام پرانے مینویل طریقے سے بنائے گئے لائسنسوں کو بھی منسوخ ہوجائیں گے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اس سے پہلے ہتھیار رکھنے کے خواہشمند شہری عام طور پر مینویل لائسنس حاصل کرنے کے بعد ہتھیاروں کی خریداری کرتے تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اب وہ بندوقوں کی خریداری کرنے اور ان کی تفصیلات فراہم کرنے کے بعد ہی  اسمارٹ کارڈ حاصل کرنے کے اہل ہوسکیں گے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;کمپیوٹرائزیشن کے عمل کے تمام چاروں مرحلے، مینوفیکچرنگ، فروخت اور ہتھیاروں اور ان کی مرمت کے لیے لائسنسوں کا اجراء کو آن لائن مربوط کردیا جائے گا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;یہاں تک کہ ہر ایک گولی کی بایومیٹرکس، اس کی فنگرٹپس اور ہر ایک ہتھیار کی تفصیلات آن لائن فیڈ کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اور یہ ڈیٹا بیس محکمہ داخلہ، ڈی سی اوز کے دفاتر اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے دستیاب ہوگا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اس کی وجہ سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حکام کسی بھی وقت محض ایک مخصوص نمبر پر ایک ایس ایم ایس بھیج کر ایک لائسنس کی تصدیق کرسکیں گے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;محکمہ داخلہ کے ایک سینئر اہلکار نے کہا کہ ’’اس سے پہلے بھی ہتھیاروں کے لائسنسوں کے ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کا طریقہ کار پنجاب آئی ٹی بورڈ کی جانب سے 2009-10ء میں متعارف کروایا گیا تھا، جو ناکام رہا تھا۔ لیکن نادرا کی بنیاد پر اس سسٹم کو کامیاب بنانے کے لیے  اسلحے کے غیرقانونی دھندے پر قابو پانے میں سنجیدگی کی ضرورت ہے۔‘‘&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لاہور: ہتھیاروں کی تیاری، ان کی فروخت اور مرمت کے ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ  کرکے نادرا اسلحہ لائسنس کو سمارٹ کارڈ کی صورت میں پنجاب میں متعارف کروا رہی ہے، جہاں اسلحہ کا غیر قانونی دھندہ بدعنوان سرکاری حکام کی مدد کے ذریعے خوفناک حد تک آسان ہوچکا ہے۔</strong></p><p>سرکاری ذرائع نے منگل کو بتایا کہ کمپیوٹرائزڈ کارڈ کے اجراء کے لیے قوانین میں ترمیم کی جارہی ہے۔ کارڈ کے اجراء اور ہتھیاروں کی تیاری، فروخت اور مرمت پر مشتمل تینوں مراحل کے کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ کی تیاری کے لیے پنجاب حکومت پہلے نادرا کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کرچکی ہے۔</p><p>امکان ہے کہ یہ سسٹم اگلے دو سے تین مہینوں کے اندر اندر پنجاب کے بڑے شہروں لاہور، راولپنڈی، بہاولپور، فیصل آباد اور گجرانوالہ میں کام کرنے لگے گا۔ پنجاب کے باقی ضلعوں میں اس کی شروعات میں مزید دو ماہ کا عرصہ لگ جائے گا۔</p><p>حکام نے ڈان کے سامنے اس بات کا اعتراف کیا کہ حکومت کو صوبے میں غیرقانونی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے بارے میں کوئی اندازہ نہیں ہے، لیکن انہوں نے کہا کہ ان کی تعداد تخمینے سے زیادہ ہوسکتی ہے۔</p><p>ان کا کہنا تھا کہ سب سے زیادہ پریشان کن حقیقت لاتعداد غیرقانونی ہتھیاروں کے لائسنسوں کی موجودگی ہے، جو بدعنوانی کے ساتھ ضلعی حکومتوں کے عملے کی مدد سے کاغذی طور پر تیار کیے جاتے ہیں۔</p><p>ایک سینئر حکومتی اہلکار کا کہنا تھا کہ غیرقانونی لائسنسوں کا اجراء ایک بہت بڑا فراڈ ہے، جس کا ارتکاب ڈی سی اوز کی ناک کے نیچے کیا جاتا ہے۔</p><p>محکمہ داخلہ کے ریکارڈ کے مطابق صوبے میں اسلحہ لائسنسوں کی تعداد ایک محتاط اندازے کے تحت 17 لاکھ ہونی چاہیٔے۔ اگر ان تمام لائسنسوں کی اس سال تجدید کی جاتی ہے تو فی لائسنس ایک ہزار روپے کے حساب سے حکومت کو 1.700 ارب روپے حاصل ہونے چاہیٔیں۔</p><p>ایک سینئر اہلکار نے کہا کہ اگر بالفرض اس مد میں محض ساٹھ کروڑ روپے حاصل ہوتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ صرف چھ لاکھ لائسنسوں کی تجدید ہوئی ہے۔</p><p>انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ’’باقی لائسنس غیرقانونی طور پر تیار کیے گئے تھے اور اسی وجہ سے ان کی تجدید نہیں کروائی گئی۔‘‘</p><p>طریقہ کار کے مطابق درخواستیں پرنٹڈ فارمز پر وصول کی جاتی ہیں، جو باآسانی دستیاب ہیں۔ درخواست گزار کو درج کی گئی تفصیلات کی تصدیق پولیس سے کروا کر اس کے ساتھ منسلک کرنا ہوتا ہے۔</p><p>اس طریقہ کار میں بدعنوانی کرنا بہت آسان ہے۔ غیر مجاز لائسنس داخل کرتے ہوئے ڈپلیکیٹ بک خفیہ طور پر ساتھ رکھی جاتی ہے۔</p><p>یہ بکس بعد میں ضایع کردی جاتی ہیں۔ بدعنوان حکام ڈی سی او کی جعلی مہروں کا استعمال کرتے ہوئے لائسنس تیار کرسکتے ہیں۔مثال کے طور پر لاہور میں ایک مہینے کے اندر ڈھائی سو لائسنسوں کے اجراء کا کوٹہ مقرر ہے، لیکن اس سے کہیں زیادہ جاری کیے جاتے ہیں۔</p><p>صرف لاہور کی ضلعی حکومت سیکیورٹی پرنٹنگ پریس کی طبع کردہ بکس حاصل کرتی ہے۔ باقی ضلعوں میں دیگر اسٹیشنری آئٹمز استعمال کیے جاتے ہیں۔</p><p>ایک اندازے کے مطابق ایک کروڑ لائسنس لاہور میں 1947ء سے جاری کیے جاچکے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ریکارڈ پر موجود یہ تعداد کہیں کم ہے۔</p><p>پنجاب میں اسلحہ ڈیلروں کی تعداد 562 ہے، اگرچہ اس کاروبار کے لیے نئے لائسنس کے اجراء پر 1987ء سے پابندی عائد ہے۔</p><p>ریکارڈ مینویل ہونے کی وجہ سے اس کی نگرانی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے، جسے عام رجسٹروں میں رکھا جاتا ہے۔ ان بکس میں گڑبڑ کی جاسکتی ہے یا انہیں ضایع کیا جاسکتا ہے، اور ان کی درستگی کو یقینی بنانے کے لیے کوئی منظم طریقہ کار موجود نہیں ہے۔</p><p>لائسنس یافتہ ہتھیاروں کے لیے گولیاں حاصل کرنے کے قانونی طریقہ کار میں خامیاں موجود ہیں، جس کا فائدہ بے ایمان ڈیلروں اور ہتھیار رکھنے والوں کو پہنچتا ہے۔</p><p>مثال کے طور پر اگر ایک شخص کو ایک مہینے میں پچیس گولیاں خریدنے کی اجازت ہے، تو وہ ایک ہی نمبر کی گولیاں زیادہ سے زیادہ ڈیلروں سے خرید سکتا ہے۔ اور ایک سے زیادہ خریداری کا سراغ لگایا گیا ہے۔</p><p>پنجاب میں اسلحہ تیار کرنے والے 12 مینوفیکچررز رجسٹرڈ ہیں، اور ایسا کوئی سسٹم موجود نہیں ہے کہ ان کی مصنوعات کا عدالتی آڈٹ کرایا جاسکے، جس سے یہ سراغ لگانے ممکن نہیں ہے کہ تیار ہونے والے ہتھیاروں اور گولیوں کا جرائم میں استعمال کیا جارہا ہے۔</p><p>ہتھیاروں کی مرمت پہلے رجسٹر شدہ  ڈیلروں کا ہی کام ہوتا تھا، لیکن کئی سالوں سے یہ ایک علیحدہ شعبہ بن گیا ہے۔</p><p>ہتھیاروں کی مرمت کرنے والوں کی تعداد سات سو ہے، اور ان کے کاموں پر کوئی نگرانی موجود نہیں ہے، اور شبہ ہے کہ ان کے گاہکوں کی تعداد ان لوگوں پر مشتمل ہے جو غیرقانونی ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہیں۔</p><p>غیر ممنوعہ ہتھیاروں کو ممنوعہ ہتھیاروں میں تبدیل کرنے کا عمل کہیں زیادہ خطرناک ہے۔ ماہرین ایک بارہ بور کیٹریج پمپ ایکشن رائفل کو کہیں زیادہ مہلک میگزین لوڈڈ ہتھیار میں تبدیل کرسکتے ہیں، جو گولیوں کی بوچھاڑ کرسکتی ہے۔</p><p>محکمہ داخلہ کے حکام کا کہنا ہے کہ ریکارڈ کو کمپیوٹرائز کرنے کے عمل اور اسمارٹ کارڈ کے اجراء سے بڑی حد تک اس طرح کے کاموں پر قابو پالیا جائے گا۔ابتداء میں پچھلے پانچ سالوں کے دوران جاری کیے گئے مینویل لائسنسوں کو ڈی سی اوز کے دفاتر سے نادرا کے تیار کردہ اسمارٹ کارڈ میں تبدیل کرایا جاسکے گا۔</p><p>لائسنس یافتہ افراد اور ان کی بندوقوں کی تمام تفصیلات اور سائنسی تجزیے کی تصدیق نادرا کے ریکارڈ سے آن لائن تصدیق کی جاسکے گی۔</p><p>جن کی تفصیلات کی تصدیق نہیں ہوسکے گی، ان کے لائسنس منسوخ کردیے جائیں گے۔ تمام پرانے مینویل طریقے سے بنائے گئے لائسنسوں کو بھی منسوخ ہوجائیں گے۔</p><p>اس سے پہلے ہتھیار رکھنے کے خواہشمند شہری عام طور پر مینویل لائسنس حاصل کرنے کے بعد ہتھیاروں کی خریداری کرتے تھے۔</p><p>اب وہ بندوقوں کی خریداری کرنے اور ان کی تفصیلات فراہم کرنے کے بعد ہی  اسمارٹ کارڈ حاصل کرنے کے اہل ہوسکیں گے۔</p><p>کمپیوٹرائزیشن کے عمل کے تمام چاروں مرحلے، مینوفیکچرنگ، فروخت اور ہتھیاروں اور ان کی مرمت کے لیے لائسنسوں کا اجراء کو آن لائن مربوط کردیا جائے گا۔</p><p>یہاں تک کہ ہر ایک گولی کی بایومیٹرکس، اس کی فنگرٹپس اور ہر ایک ہتھیار کی تفصیلات آن لائن فیڈ کی جائیں گی۔</p><p>اور یہ ڈیٹا بیس محکمہ داخلہ، ڈی سی اوز کے دفاتر اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے دستیاب ہوگا۔</p><p>اس کی وجہ سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حکام کسی بھی وقت محض ایک مخصوص نمبر پر ایک ایس ایم ایس بھیج کر ایک لائسنس کی تصدیق کرسکیں گے۔</p><p>محکمہ داخلہ کے ایک سینئر اہلکار نے کہا کہ ’’اس سے پہلے بھی ہتھیاروں کے لائسنسوں کے ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کا طریقہ کار پنجاب آئی ٹی بورڈ کی جانب سے 2009-10ء میں متعارف کروایا گیا تھا، جو ناکام رہا تھا۔ لیکن نادرا کی بنیاد پر اس سسٹم کو کامیاب بنانے کے لیے  اسلحے کے غیرقانونی دھندے پر قابو پانے میں سنجیدگی کی ضرورت ہے۔‘‘</p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1004708</guid>
      <pubDate>Wed, 07 May 2014 10:46:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2014/05/5369b99fb279b.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="150" width="250">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2014/05/5369b99fb279b.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2014/05/5369b9a78bbc4.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2014/05/5369b9a78bbc4.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
