<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - News</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 18 Jun 2026 07:19:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 18 Jun 2026 07:19:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انڈین مارکیٹ پر پاکستانی آم کے قبضے کی امید</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1005056/pakistani-mango-growers-slice-in-to-india-market</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;راجباہ چوہان: یورپی یونین کی جانب سے ہندوستانی آموں پر پابندی کے بعد پاکستانی کسانوں اور ایکسپورٹرز توقع کررہے ہیں کہ انڈین برآمدات کا کچھ حصہ وہ بھی حاصل کرسکیں گے۔&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;&lt;p&gt;پھلوں کا بادشاہ، آم پاکستان اور ہندوستان کی خاص سوغات ہے اور دونوں ممالک اس بات کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ ان کے آموں کو ذیادہ پذیرائی اور اہمیت حاصل ہوجائے۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;معاشی طور پر آم کی برآمدات ( ایکسپورٹ) وہ شعبہ ہے جہاں پاکستان کو انڈیا پر کچھ برتری حاصل ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;آفیشل اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس پاکستان نے تقریباً 100,000 ٹن آم برآمد کرکے 48.6 ملین ڈالر حاصل کئے تھے جبکہ انڈیا نے 56,000 ٹن آم بھجواکر 44.6 ملین ڈالر کمائے ۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;لیکن یورپی یونین نے انڈیا کے مشہور الفانسو آم پر پابندی عائد کردی ہے اور اس طرح پاکستان کو یہ موقع ملا ہے کہ وہ اپنی برآمدات کے ذریعے اس فرق کو کم کرسکے۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;یہ پابندی یکم مئی کو عائد کی گئی تھی جب ہندوستان سے  یورپ پہنچنے والی آموں کی پہلی کھیپ میں پھل مکھی اور دیگر چار سبزیوں کی موجودگی کا انکشاف ہوا تھا۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;پاکستان میں سب سے بڑے ذراعتی صوبے پنجاب میں پارلیمانی سیکریٹری راجہ اعجاز احمد نون نے کہا کہ انڈیا کی غلطیوں سے فارمنگ کے معیارات کو بہتر بنانے اور معاملات کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ &amp;#39; ہم اس کام کو مثبت انداز میں لے رہے ہیں۔ ہم انڈیا کی غلطیوں سے سیکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔&amp;#39;&lt;/p&gt;&lt;p&gt;وہ ملتان سے چالیس کلومیٹر دور ایک باغ میں منعقدہ پچاس زمینداروں اور کسانوں کے سیمینار سے خطاب کررہے تھے۔  &lt;/p&gt;&lt;p&gt;اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ &amp;#39;پاکستانی آم کی پیداوار کا چالیس فیصد مقدار برآمد کرنے کا پوٹینشل موجود ہیں اور اس سال کوشش کریں گے کہ ہم برآمدات میں سولہ فیصد اضافہ کرسکیں۔&amp;#39;&lt;/p&gt;&lt;p&gt;&amp;#39; پھلوں کو کیڑے مکوڑوں سے بچانے کے ماہر سید عصمت حسین نےکہا کہ ان کے ادارے کے ماہر فارمز اور باغات کا دورہ کرکے لوگوں کو یورپی یونین کے معیارات سے آگاہ کرکے مزید منافع کمانے کی راہ دکھاتے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ &amp;#39;پھل مکھی ( فروٹ فلائی) نے ہندوستان کے علاوہ پاکستانی آموں کو بھی متاثر کیا ہے لیکن ہم نے سادہ اور سائنسی طریقوں سے اسے کنٹرول کیا ہے۔&amp;#39;&lt;/p&gt;&lt;p&gt;پاکستان کے دیگر کاشتکاروں کے مطابق ملکی آم کا ذائقہ حیرت انگیز ہے اور امید پیدا ہوئی ہے کہ پاکستانی آم یورپی یونین کے بعد امریکہ اور دیگر ممالک میں بھی اپنا اہم مقام پیدا کرسکیں گے۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>راجباہ چوہان: یورپی یونین کی جانب سے ہندوستانی آموں پر پابندی کے بعد پاکستانی کسانوں اور ایکسپورٹرز توقع کررہے ہیں کہ انڈین برآمدات کا کچھ حصہ وہ بھی حاصل کرسکیں گے۔</strong> </p><p>پھلوں کا بادشاہ، آم پاکستان اور ہندوستان کی خاص سوغات ہے اور دونوں ممالک اس بات کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ ان کے آموں کو ذیادہ پذیرائی اور اہمیت حاصل ہوجائے۔ </p><p>معاشی طور پر آم کی برآمدات ( ایکسپورٹ) وہ شعبہ ہے جہاں پاکستان کو انڈیا پر کچھ برتری حاصل ہے۔ </p><p>آفیشل اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس پاکستان نے تقریباً 100,000 ٹن آم برآمد کرکے 48.6 ملین ڈالر حاصل کئے تھے جبکہ انڈیا نے 56,000 ٹن آم بھجواکر 44.6 ملین ڈالر کمائے ۔ </p><p>لیکن یورپی یونین نے انڈیا کے مشہور الفانسو آم پر پابندی عائد کردی ہے اور اس طرح پاکستان کو یہ موقع ملا ہے کہ وہ اپنی برآمدات کے ذریعے اس فرق کو کم کرسکے۔ </p><p>یہ پابندی یکم مئی کو عائد کی گئی تھی جب ہندوستان سے  یورپ پہنچنے والی آموں کی پہلی کھیپ میں پھل مکھی اور دیگر چار سبزیوں کی موجودگی کا انکشاف ہوا تھا۔ </p><p>پاکستان میں سب سے بڑے ذراعتی صوبے پنجاب میں پارلیمانی سیکریٹری راجہ اعجاز احمد نون نے کہا کہ انڈیا کی غلطیوں سے فارمنگ کے معیارات کو بہتر بنانے اور معاملات کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ </p><p>انہوں نے کہا کہ &#39; ہم اس کام کو مثبت انداز میں لے رہے ہیں۔ ہم انڈیا کی غلطیوں سے سیکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔&#39;</p><p>وہ ملتان سے چالیس کلومیٹر دور ایک باغ میں منعقدہ پچاس زمینداروں اور کسانوں کے سیمینار سے خطاب کررہے تھے۔  </p><p>اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ &#39;پاکستانی آم کی پیداوار کا چالیس فیصد مقدار برآمد کرنے کا پوٹینشل موجود ہیں اور اس سال کوشش کریں گے کہ ہم برآمدات میں سولہ فیصد اضافہ کرسکیں۔&#39;</p><p>&#39; پھلوں کو کیڑے مکوڑوں سے بچانے کے ماہر سید عصمت حسین نےکہا کہ ان کے ادارے کے ماہر فارمز اور باغات کا دورہ کرکے لوگوں کو یورپی یونین کے معیارات سے آگاہ کرکے مزید منافع کمانے کی راہ دکھاتے ہیں۔</p><p>ان کا مزید کہنا تھا کہ &#39;پھل مکھی ( فروٹ فلائی) نے ہندوستان کے علاوہ پاکستانی آموں کو بھی متاثر کیا ہے لیکن ہم نے سادہ اور سائنسی طریقوں سے اسے کنٹرول کیا ہے۔&#39;</p><p>پاکستان کے دیگر کاشتکاروں کے مطابق ملکی آم کا ذائقہ حیرت انگیز ہے اور امید پیدا ہوئی ہے کہ پاکستانی آم یورپی یونین کے بعد امریکہ اور دیگر ممالک میں بھی اپنا اہم مقام پیدا کرسکیں گے۔</p>]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1005056</guid>
      <pubDate>Sun, 18 May 2014 19:48:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2014/05/5378c0be12b0b.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2014/05/5378c0be12b0b.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2014/05/5378c0be0436a.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2014/05/5378c0be0436a.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2014/05/5378c0be3e4a6.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2014/05/5378c0be3e4a6.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
