<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - News</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 05:41:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Apr 2026 05:41:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چار برطانوی فٹ بال ورلڈ کپ دیکھنے پیدل برازیل پہنچ گئے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1005726/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;برازیلیا:برطانیہ سے تعلق رکھنے والےچار افرادفٹ بال ورلڈ کپ دیکھنے کے لئے 1966کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کرکے برازیل پہنچے گئے ہیں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p&gt;فٹبال کے دیوانے ان چار افراد نے پیسے بچانے کے لئے اتنا طویل فاصلہ پیدل طے نہیں کیا ،بلکہ ان کا مقصد قحط زدہ شمالی برازیل کے لوگوں کی مدد کرنا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;البتہ  1966 کلومیٹر کے سفر کا تعین کرنے کی بھی ایک خاص وجہ ہے ،کیونکہ برطانیہ نے پہلی اور آخری مرتبہ فٹ بال ورلڈ کپ سن 1966ء میں جیتا تھا اس لئے  انہوں نے  بطور یادگار اور اپنی ٹیم کوحوصلہ دینے کے لئےاس فاصلے کو اپنایا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ایڈم برنس ،ڈیوڈ بیوک، پیٹ جوہنسٹن اور بین اولسن نے  ارجنٹینا کے شہر مینڈوزا سے اپنا سفر شروع کیا اور 3 مہینے سفر کرکے وہ برازیل کے جنوبی ساحلی شہر پورٹ ایلگر پہنچے۔اس دوران وہ قحط سے متاثرہ شمالی برازیل کے رہائشیوں کے لئے امداد بھی جمع کرتے گئے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ان کا مقصد گزشتہ 50 سال کے سب سے بدترین قحط سے متاثر صوبے باہیا میں کام  کرنے والی ایک این جی اوکے لئے 20ہزار برطانوی پاؤنڈ جمع کرنا ہے تاکہ وہاں میٹھے پانی کا ایک کنواں تیار کیا جاسکے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;برطانوی شہریوں نے اپنا سفر 3 مارچ کو ارجنٹینا سے شروع کیا تھا اور وہ یوراگوئے سے ہوتے ہوئے برازیل میں داخل ہوئے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اس دووران ان کی ملاقات فٹبال کے ان گنت شائقین سے ہوئی ، اور  انہیں بے شمار اچھے دوست بھی ملے، اس دوران  ایک کالے رنگ کا کتا بھی ان کی مہم کے آخری ہفتے میں ان کی ٹیم میں شامل ہواجسے انہوں نے جیفرسن کا نام دیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;یارک شائر سے تعلق رکھنے والے جوہنسٹن کا کہنا ہے کہ دوران سفر ان ہم نے بہت سے لوگوں سے ملاقاتیں کیں اور بے شمار جگہیں دیکھنے کو ملیں ،جس کی وجہ سے یہ ہماری زندگی کا یاد گار سفر بن چکا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;جوہنسٹن کے مطابق پیدل چلتے ہوئے آپ کسی بھی ملک کے بارے میں قدرے تفصیل سے جان سکتے ہیں،جبک دیگر صورتوں میں سفر کے دوران اس قدر معلومات آپ کو ں نہیں حاصل ہوسکتیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;طویل سفر کے دوران ان چاروں کو بُلوں کے حملوںسمیت مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ سورج کی شعاعوں اور اعصابی تناؤ نے بھی انہیں سخت پریشان کئے رکھا۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>برازیلیا:برطانیہ سے تعلق رکھنے والےچار افرادفٹ بال ورلڈ کپ دیکھنے کے لئے 1966کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کرکے برازیل پہنچے گئے ہیں</strong></p><p>فٹبال کے دیوانے ان چار افراد نے پیسے بچانے کے لئے اتنا طویل فاصلہ پیدل طے نہیں کیا ،بلکہ ان کا مقصد قحط زدہ شمالی برازیل کے لوگوں کی مدد کرنا ہے۔</p><p>البتہ  1966 کلومیٹر کے سفر کا تعین کرنے کی بھی ایک خاص وجہ ہے ،کیونکہ برطانیہ نے پہلی اور آخری مرتبہ فٹ بال ورلڈ کپ سن 1966ء میں جیتا تھا اس لئے  انہوں نے  بطور یادگار اور اپنی ٹیم کوحوصلہ دینے کے لئےاس فاصلے کو اپنایا۔</p><p>ایڈم برنس ،ڈیوڈ بیوک، پیٹ جوہنسٹن اور بین اولسن نے  ارجنٹینا کے شہر مینڈوزا سے اپنا سفر شروع کیا اور 3 مہینے سفر کرکے وہ برازیل کے جنوبی ساحلی شہر پورٹ ایلگر پہنچے۔اس دوران وہ قحط سے متاثرہ شمالی برازیل کے رہائشیوں کے لئے امداد بھی جمع کرتے گئے۔</p><p>ان کا مقصد گزشتہ 50 سال کے سب سے بدترین قحط سے متاثر صوبے باہیا میں کام  کرنے والی ایک این جی اوکے لئے 20ہزار برطانوی پاؤنڈ جمع کرنا ہے تاکہ وہاں میٹھے پانی کا ایک کنواں تیار کیا جاسکے۔</p><p>برطانوی شہریوں نے اپنا سفر 3 مارچ کو ارجنٹینا سے شروع کیا تھا اور وہ یوراگوئے سے ہوتے ہوئے برازیل میں داخل ہوئے۔</p><p>اس دووران ان کی ملاقات فٹبال کے ان گنت شائقین سے ہوئی ، اور  انہیں بے شمار اچھے دوست بھی ملے، اس دوران  ایک کالے رنگ کا کتا بھی ان کی مہم کے آخری ہفتے میں ان کی ٹیم میں شامل ہواجسے انہوں نے جیفرسن کا نام دیا ہے۔</p><p>یارک شائر سے تعلق رکھنے والے جوہنسٹن کا کہنا ہے کہ دوران سفر ان ہم نے بہت سے لوگوں سے ملاقاتیں کیں اور بے شمار جگہیں دیکھنے کو ملیں ،جس کی وجہ سے یہ ہماری زندگی کا یاد گار سفر بن چکا ہے۔</p><p>جوہنسٹن کے مطابق پیدل چلتے ہوئے آپ کسی بھی ملک کے بارے میں قدرے تفصیل سے جان سکتے ہیں،جبک دیگر صورتوں میں سفر کے دوران اس قدر معلومات آپ کو ں نہیں حاصل ہوسکتیں۔</p><p>طویل سفر کے دوران ان چاروں کو بُلوں کے حملوںسمیت مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ سورج کی شعاعوں اور اعصابی تناؤ نے بھی انہیں سخت پریشان کئے رکھا۔</p>]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1005726</guid>
      <pubDate>Tue, 10 Jun 2014 23:38:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اردو ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2014/06/5397505af2596.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2014/06/5397505af2596.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
