<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - News</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 23 May 2026 21:19:33 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 23 May 2026 21:19:33 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وہ جو ہم میں نہیں رہے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1006946/</link>
      <description>&lt;h1&gt;وہ جو ہم میں نہیں رہے&lt;/h1&gt;
&lt;hr&gt;
&lt;p&gt;تصاویر: آن لائن فوٹو&lt;/p&gt;          &lt;table class="media  media--center  issue1144 w-full"&gt;
            &lt;tr&gt;&lt;td class="media__item    "&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2014/07/53bf6c58de702.png?r=171228776'  title=''  alt=' ' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
            
          &lt;/table&gt;&lt;p&gt;ریڈیو، ٹی وی اور تھیٹر کے سینئر اداکار محمود علی کو مداحوں سے جدا ہوئے چھ برس بیت گئے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;محمود علی 1928 کو حیدر آباد دکن میں پیدا ہوئے اور فنی سفر کا آغاز آل انڈیا ریڈیو میں ملازمت سے کیا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;قیامِ پاکستان کے بعد وہ اپنے والدین کے ہمراہ 1947 میں ہندوستان سے ہجرت کرکے لاہور اور پھر کراچی آگئے، ان کا ریڈیو شو &amp;#39;حامد میاں کے ہاں&amp;#39; مقبول ترین پروگرام تھا جس میں انہوں نے مسلسل 50 برس تک صداکاری کی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;محمود علی کا ٹی وی کریئر تین دہائیوں پر مشتمل رہا، انہوں نے ٹی وی کے ساتھ فلم اور اسٹیج کے شعبے میں بھی اداکاری کے جوہر  دکھائے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;انہوں نے 1969 میں خواجہ معین الدین تھیٹر کو جوائن کیا، اس کے بینر تلے بنے ڈرامے &amp;#39;تعلیمِ بالغاں&amp;#39; میں مولوی صاحب کا کردار ان کی پہچان بنا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;مرزا غالب بندر روڈ پر، کاروانِ کشمیر، لال قلعہ سے لالو کھیت تک ان کے مشہور تھیٹر ڈرامے تھے 1965 میں پی ٹی وی پر ان کا پہلا ڈرامہ &amp;#39;راستہ&amp;#39; نشر ہوا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;خدا کی بستی، لیلیٰ مجنوں، شہزوری، انا، آنچ، دشت آشنا، افشاں ان کے مشہور ڈرامے تھے، فلمی کریئر میں انہیں کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی اس کے باوجود انہوں نے 25 کے قریب فلموں میں کام کیا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;حکومتِ پاکستان نے 1985 میں انہیں پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ سے نوازا، اداکار محمود علی حرکتِ قلب بند ہوجانے کی بنا پر 11 جولائی 2008 کو دارِ فانی سے کوچ کر گئے تھے ۔&lt;/p&gt;          &lt;table class="media  media--left  issue1144 w-full"&gt;
            &lt;tr&gt;&lt;td class="media__item    "&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2014/07/53bf6c582bbbe.png?r=521690642'  title=''  alt='' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
            
          &lt;/table&gt;&lt;p&gt;لازوال اشعار کے خالق قتيل شفائی کو اپنے مداحوں سے جدا ہوئے تیرہ برس بیت گئے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;زندگی میں تو سب ہی پیار کیا کرتے ہیں جیسے لازوال گیتوں اور اردو شاعری کو موسیقیت سے مالامال کرنے والے قتیل شفائی 24 دسمبر 1919 کو خیبرپختونخوا کے علاقے ہری پور میں پیدا ہوئے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ان کا اصل نام اورنگ زیب خان تھا، بچپن میں ہی ان کے والد کا انتقال ہو گیا۔ اس لئے انہوں نے زیادہ تعلیم حاصل نہیں کی لیکن ان حالات میں کائنات کا خوب مطالعہ کیا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt; کبھی کسی ورکشاپ میں کام کیا اور کبھی مزدوری کی لیکن شاعری کا سلسلہ جاری رکھا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ان کی صلاحیتوں کے پیشِ نظر انہیں 1946 میں ادب لطیف نامی جریدے کا نائب مدیر بنا دیا گیا اور پھر اس کے بعد قتیل شفائی کے ادبی جذبات کو جِلا حاصل ہوئی اور وہ آگے ہی بڑھتے چلے گئے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;سن 1947 کے آغاز ہی میں قتیل شفائی نے اپنا قلم فلموں کے لئے وقف کردیا اور پاکستان کی پہلی فلم &amp;#39;تیری یاد&amp;#39; کے گیت لکھنے کا اعزاز ان کے ہی نام ہے، انھوں نے ڈھائی ہزار سے زائد نغمے لکھے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt; جن میں: جب بھی چاہے اک نئی صورت بنا لیتے ہیں لوگ، اے دل کسی کی یاد میں ہوتا ہے بے قرار کیوں، حسن کو چاند جوانی کو غزل کہتے ہیں، جانِ بہاراں رشکِ چمن، ستاروں تم تو سو جاﺅ پریشاں رات ساری ہے، پائل میں گیت ہیں چھم چھم کے اور دیگر شامل ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;انھوں نے پہلی بار فلم &amp;#39;انار کلی&amp;#39; کیلئے نگار ایوارڈ حاصل کیا، جس کے بعد فلم &amp;#39;نائلہ&amp;#39; کے گیت غمِ دل کو ان آنکھوں سے چھلک جانا بھی آتا ہے پر دوسرا، فلم &amp;#39;آگ&amp;#39; کے گیت یوں زندگی کی راہ میں ٹکرا گیا کوئی پر تیسرا ایوارڈ حاصل کیا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt; اس کے علاوہ وہ نیشنل فلم ایوارڈ اور دیگر بیس ایوارڈز حاصل کرنے میں کامیاب رہے، قتیل کے نغمے اس قدر مقبول تھے کہ ہندوستانی فلموں میں بھی ان کے گیت شامل ہوئے، جیسے: تیرے در پر صنم چلے آئے، سنبھالا ہے میں نے بہت اپنے دل کو یا وہ تیرا نام تھا وغیرہ۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;عوامی سطح پر تو قتیل شفائی کو فلموں کے ذریعے مقبولیت حاصل ہی ہوئی مگر اس کے ساتھ ساتھ ادبی حلقوں میں بھی ان کے کلام کو سراہا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;کئی رسائل نے ان پر گوشے اور یادگار نمبر شائع کئے، ان کے کلام کے مجموعے ہاتھوں ہاتھ لیے گئے اور جن میں سے کئی اشعار تو زبان زد خاص و عام ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں 1994 میں تمغۂ حسن کارکردگی سے نوازا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;بھر پور ادبی زندگی گزارنے کے بعد 81 سال کی عمر میں قتیل شفائی کا 11 جولائی 2001 کو لاہور میں انتقال ہوا۔&lt;/p&gt;          &lt;table class="media  media--left  issue1144 w-full"&gt;
            &lt;tr&gt;&lt;td class="media__item    "&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2014/07/53bf6c581c13d.png?r=653562900'  title=''  alt='' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
            
          &lt;/table&gt;&lt;p&gt; پاکستان کے معروف گھرانے شام چوراسی کے کلاسیکل گلوکار استاد سلامت علی خان کو مداحوں سے بچھڑے چودہ برس بیت گئے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;استاد سلامت علی خان بارہ دسمبر 1934 کو شام چوراسی ضلع ہوشیار پور میں پیدا ہوئے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اپنے والد ولایت علی خان سے تربیت حاصل کرنے کے بعد انہوں نے سات سال کی عمر میں اپنے بھائی نزاکت علی خان کے ساتھ جالندھر میں ہربلب کے میلے میں ایک گھنٹے تک راگ میاں کی توڑی گا کر کلاسیکی موسیقی کے حلقوں کو چونکا دیا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;قیامِ پاکستان کے بعد وہ پہلے لاہور اور بعد ازاں ملتان میں رہائش پذیر ہوئے، ملتانی کافی پر دسترس ان کے ملتان کے قیام کا نتیجہ ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;سن 1950 میں ریڈیو پاکستان لاہور کی میوزک کانفرنس میں عمدہ پرفارمنس سے انہوں نے کلاسیکل موسیقی کی دنیا کی توجہ حاصل کر لی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;استاد سلامت علی خان راگوں کی بندشوں اور موسیقی کی تمام اصناف پر دسترس رکھتے تھے۔ راگ کی بڑھت، لے کاری کا انداز اور گلے کی تیاری نے انہیں دوسرے گائیکوں سے ممتاز بنا دیا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt; انہوں نے اپنی گائیکی میں شاہ عبداللطیف بھٹائی، خواجہ غلام فرید، بابا بلھے شاہ اور شاہ حسین کی شاعری کو خصوصی جگہ دی۔ انہیں تمغۂ حسن کارکردگی اور تمغۂ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;استاد سلامت علی خان گیارہ جولائی سن 2000 میں خاک میں پہناں ہو گئے مگر کلاسیکل موسیقی سننے والے انہیں بھلا نہ سکیں گے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;دنیا میں جب بھی کلاسیکی موسیقی کا تذکرہ ہوگا، استاد سلامت علی خان کا نام اس فن کے معتبر اساتذہ میں لیا جائے گا، ان کے بعد ان کے بیٹے اس فن کی ترویج کے لئے کوشاں ہیں۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<h1>وہ جو ہم میں نہیں رہے</h1>
<hr>
<p>تصاویر: آن لائن فوٹو</p>          <table class="media  media--center  issue1144 w-full">
            <tr><td class="media__item    "><img src='https://i.dawn.com/primary/2014/07/53bf6c58de702.png?r=171228776'  title=''  alt=' ' /></td></tr>
            
          </table><p>ریڈیو، ٹی وی اور تھیٹر کے سینئر اداکار محمود علی کو مداحوں سے جدا ہوئے چھ برس بیت گئے۔</p><p>محمود علی 1928 کو حیدر آباد دکن میں پیدا ہوئے اور فنی سفر کا آغاز آل انڈیا ریڈیو میں ملازمت سے کیا۔</p><p>قیامِ پاکستان کے بعد وہ اپنے والدین کے ہمراہ 1947 میں ہندوستان سے ہجرت کرکے لاہور اور پھر کراچی آگئے، ان کا ریڈیو شو &#39;حامد میاں کے ہاں&#39; مقبول ترین پروگرام تھا جس میں انہوں نے مسلسل 50 برس تک صداکاری کی۔</p><p>محمود علی کا ٹی وی کریئر تین دہائیوں پر مشتمل رہا، انہوں نے ٹی وی کے ساتھ فلم اور اسٹیج کے شعبے میں بھی اداکاری کے جوہر  دکھائے۔</p><p>انہوں نے 1969 میں خواجہ معین الدین تھیٹر کو جوائن کیا، اس کے بینر تلے بنے ڈرامے &#39;تعلیمِ بالغاں&#39; میں مولوی صاحب کا کردار ان کی پہچان بنا۔</p><p>مرزا غالب بندر روڈ پر، کاروانِ کشمیر، لال قلعہ سے لالو کھیت تک ان کے مشہور تھیٹر ڈرامے تھے 1965 میں پی ٹی وی پر ان کا پہلا ڈرامہ &#39;راستہ&#39; نشر ہوا۔</p><p>خدا کی بستی، لیلیٰ مجنوں، شہزوری، انا، آنچ، دشت آشنا، افشاں ان کے مشہور ڈرامے تھے، فلمی کریئر میں انہیں کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی اس کے باوجود انہوں نے 25 کے قریب فلموں میں کام کیا۔</p><p>حکومتِ پاکستان نے 1985 میں انہیں پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ سے نوازا، اداکار محمود علی حرکتِ قلب بند ہوجانے کی بنا پر 11 جولائی 2008 کو دارِ فانی سے کوچ کر گئے تھے ۔</p>          <table class="media  media--left  issue1144 w-full">
            <tr><td class="media__item    "><img src='https://i.dawn.com/primary/2014/07/53bf6c582bbbe.png?r=521690642'  title=''  alt='' /></td></tr>
            
          </table><p>لازوال اشعار کے خالق قتيل شفائی کو اپنے مداحوں سے جدا ہوئے تیرہ برس بیت گئے۔</p><p>زندگی میں تو سب ہی پیار کیا کرتے ہیں جیسے لازوال گیتوں اور اردو شاعری کو موسیقیت سے مالامال کرنے والے قتیل شفائی 24 دسمبر 1919 کو خیبرپختونخوا کے علاقے ہری پور میں پیدا ہوئے۔</p><p>ان کا اصل نام اورنگ زیب خان تھا، بچپن میں ہی ان کے والد کا انتقال ہو گیا۔ اس لئے انہوں نے زیادہ تعلیم حاصل نہیں کی لیکن ان حالات میں کائنات کا خوب مطالعہ کیا۔</p><p> کبھی کسی ورکشاپ میں کام کیا اور کبھی مزدوری کی لیکن شاعری کا سلسلہ جاری رکھا۔</p><p>ان کی صلاحیتوں کے پیشِ نظر انہیں 1946 میں ادب لطیف نامی جریدے کا نائب مدیر بنا دیا گیا اور پھر اس کے بعد قتیل شفائی کے ادبی جذبات کو جِلا حاصل ہوئی اور وہ آگے ہی بڑھتے چلے گئے۔</p><p>سن 1947 کے آغاز ہی میں قتیل شفائی نے اپنا قلم فلموں کے لئے وقف کردیا اور پاکستان کی پہلی فلم &#39;تیری یاد&#39; کے گیت لکھنے کا اعزاز ان کے ہی نام ہے، انھوں نے ڈھائی ہزار سے زائد نغمے لکھے۔</p><p> جن میں: جب بھی چاہے اک نئی صورت بنا لیتے ہیں لوگ، اے دل کسی کی یاد میں ہوتا ہے بے قرار کیوں، حسن کو چاند جوانی کو غزل کہتے ہیں، جانِ بہاراں رشکِ چمن، ستاروں تم تو سو جاﺅ پریشاں رات ساری ہے، پائل میں گیت ہیں چھم چھم کے اور دیگر شامل ہیں۔</p><p>انھوں نے پہلی بار فلم &#39;انار کلی&#39; کیلئے نگار ایوارڈ حاصل کیا، جس کے بعد فلم &#39;نائلہ&#39; کے گیت غمِ دل کو ان آنکھوں سے چھلک جانا بھی آتا ہے پر دوسرا، فلم &#39;آگ&#39; کے گیت یوں زندگی کی راہ میں ٹکرا گیا کوئی پر تیسرا ایوارڈ حاصل کیا۔</p><p> اس کے علاوہ وہ نیشنل فلم ایوارڈ اور دیگر بیس ایوارڈز حاصل کرنے میں کامیاب رہے، قتیل کے نغمے اس قدر مقبول تھے کہ ہندوستانی فلموں میں بھی ان کے گیت شامل ہوئے، جیسے: تیرے در پر صنم چلے آئے، سنبھالا ہے میں نے بہت اپنے دل کو یا وہ تیرا نام تھا وغیرہ۔</p><p>عوامی سطح پر تو قتیل شفائی کو فلموں کے ذریعے مقبولیت حاصل ہی ہوئی مگر اس کے ساتھ ساتھ ادبی حلقوں میں بھی ان کے کلام کو سراہا گیا۔</p><p>کئی رسائل نے ان پر گوشے اور یادگار نمبر شائع کئے، ان کے کلام کے مجموعے ہاتھوں ہاتھ لیے گئے اور جن میں سے کئی اشعار تو زبان زد خاص و عام ہیں۔</p><p>ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں 1994 میں تمغۂ حسن کارکردگی سے نوازا۔</p><p>بھر پور ادبی زندگی گزارنے کے بعد 81 سال کی عمر میں قتیل شفائی کا 11 جولائی 2001 کو لاہور میں انتقال ہوا۔</p>          <table class="media  media--left  issue1144 w-full">
            <tr><td class="media__item    "><img src='https://i.dawn.com/primary/2014/07/53bf6c581c13d.png?r=653562900'  title=''  alt='' /></td></tr>
            
          </table><p> پاکستان کے معروف گھرانے شام چوراسی کے کلاسیکل گلوکار استاد سلامت علی خان کو مداحوں سے بچھڑے چودہ برس بیت گئے۔</p><p>استاد سلامت علی خان بارہ دسمبر 1934 کو شام چوراسی ضلع ہوشیار پور میں پیدا ہوئے۔</p><p>اپنے والد ولایت علی خان سے تربیت حاصل کرنے کے بعد انہوں نے سات سال کی عمر میں اپنے بھائی نزاکت علی خان کے ساتھ جالندھر میں ہربلب کے میلے میں ایک گھنٹے تک راگ میاں کی توڑی گا کر کلاسیکی موسیقی کے حلقوں کو چونکا دیا۔</p><p>قیامِ پاکستان کے بعد وہ پہلے لاہور اور بعد ازاں ملتان میں رہائش پذیر ہوئے، ملتانی کافی پر دسترس ان کے ملتان کے قیام کا نتیجہ ہے۔ </p><p>سن 1950 میں ریڈیو پاکستان لاہور کی میوزک کانفرنس میں عمدہ پرفارمنس سے انہوں نے کلاسیکل موسیقی کی دنیا کی توجہ حاصل کر لی۔</p><p>استاد سلامت علی خان راگوں کی بندشوں اور موسیقی کی تمام اصناف پر دسترس رکھتے تھے۔ راگ کی بڑھت، لے کاری کا انداز اور گلے کی تیاری نے انہیں دوسرے گائیکوں سے ممتاز بنا دیا۔</p><p> انہوں نے اپنی گائیکی میں شاہ عبداللطیف بھٹائی، خواجہ غلام فرید، بابا بلھے شاہ اور شاہ حسین کی شاعری کو خصوصی جگہ دی۔ انہیں تمغۂ حسن کارکردگی اور تمغۂ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔</p><p>استاد سلامت علی خان گیارہ جولائی سن 2000 میں خاک میں پہناں ہو گئے مگر کلاسیکل موسیقی سننے والے انہیں بھلا نہ سکیں گے۔</p><p>دنیا میں جب بھی کلاسیکی موسیقی کا تذکرہ ہوگا، استاد سلامت علی خان کا نام اس فن کے معتبر اساتذہ میں لیا جائے گا، ان کے بعد ان کے بیٹے اس فن کی ترویج کے لئے کوشاں ہیں۔</p>]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1006946</guid>
      <pubDate>Sat, 12 Jul 2014 07:55:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2014/07/53bf7e2a45dcb.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2014/07/53bf7e2a45dcb.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
