<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 03:26:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 03:26:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سری لنکا میں رنگین عبایوں کا استعمال</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1007101/lankan-muslim-women-begin-wearing-coloured-abayas-sa</link>
      <description>&lt;p&gt;کولمبو: سری لنکن مسلم خواتین نے سیاہ کی بجائے مختلف رنگوں کے عبایا کا استعمال شروع کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;سری لنکا کی مسلم کونسل نے ایک اعلان کے ذریعے خواتین کو کہا تھا کہ وہ اپنے سیاہ عبائے لائیں اور ان کے بدلے &lt;a href="http://urdu.dawn.com/news/1006787/coloured-abayas"&gt;رنگین عبائے&lt;/a&gt; لے جائیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;کونسل کے نائب صدر حلیم احمد نے بتایا کہ مختلف رنگوں کے عبایا کی مہم پر مثبت ردعمل سامنے آیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;خواتین اپنے سیاہ عبایا تبدیل کر رہی ہیں، مختصر وقت میں بارہ سو عبائے تبدیل کئے چکے ہیں اور آئندہ ہفتے یہ تعداد دو ہزار تک پہنچنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اس وقت یہ مہم کولمبو اور دیگر شہری علاقوں میں چلائی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;سری لنکا میں مسلم مختلف تنظیموں جیسے بدو بالا سینا کے ابھرنے کے بعد سے مسلم ادارے مسلم مخالف جذبات کو مسترد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;مسلم کونسل نے اس تاثر کو مسترد کر دیا کہ مرد حضرات رنگا رنگ عباﺅں کو خواتین پر تھوپ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;جمعیت علماء کے ایک مشیر کا کہنا تھا کہ جب ساری خواتین سیاہ عبائے استعمال کریں گی تو اس سے تاثر ملتا ہے کہ &amp;#39;ہم وردی میں ملبوس ایک فورس ہیں، نقاب نے بھی سیکیورٹی خدشات بڑھائے ہیں&amp;#39;۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کولمبو: سری لنکن مسلم خواتین نے سیاہ کی بجائے مختلف رنگوں کے عبایا کا استعمال شروع کر دیا ہے۔</p><p>سری لنکا کی مسلم کونسل نے ایک اعلان کے ذریعے خواتین کو کہا تھا کہ وہ اپنے سیاہ عبائے لائیں اور ان کے بدلے <a href="http://urdu.dawn.com/news/1006787/coloured-abayas">رنگین عبائے</a> لے جائیں۔</p><p>کونسل کے نائب صدر حلیم احمد نے بتایا کہ مختلف رنگوں کے عبایا کی مہم پر مثبت ردعمل سامنے آیا ہے۔</p><p>خواتین اپنے سیاہ عبایا تبدیل کر رہی ہیں، مختصر وقت میں بارہ سو عبائے تبدیل کئے چکے ہیں اور آئندہ ہفتے یہ تعداد دو ہزار تک پہنچنے کی توقع ہے۔</p><p>اس وقت یہ مہم کولمبو اور دیگر شہری علاقوں میں چلائی جا رہی ہے۔</p><p>سری لنکا میں مسلم مختلف تنظیموں جیسے بدو بالا سینا کے ابھرنے کے بعد سے مسلم ادارے مسلم مخالف جذبات کو مسترد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔</p><p>مسلم کونسل نے اس تاثر کو مسترد کر دیا کہ مرد حضرات رنگا رنگ عباﺅں کو خواتین پر تھوپ رہے ہیں۔</p><p>جمعیت علماء کے ایک مشیر کا کہنا تھا کہ جب ساری خواتین سیاہ عبائے استعمال کریں گی تو اس سے تاثر ملتا ہے کہ &#39;ہم وردی میں ملبوس ایک فورس ہیں، نقاب نے بھی سیکیورٹی خدشات بڑھائے ہیں&#39;۔</p>]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1007101</guid>
      <pubDate>Tue, 15 Jul 2014 11:02:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فرانسز بلاتھسنگھالا)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2014/07/53c4bfefa6c09.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2014/07/53c4bfefa6c09.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
