<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Opinions</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 15:30:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 15:30:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نائنٹیز کا پاکستان -- 1</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1007544/28jul14-a-political-history-of-nineties-pakistan-am-abid-aq</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بلاگ انیس سو نوے کی دہائی کے پاکستان کی سیاسی تاریخ کے بارے میں سیریز کا پہلا حصّہ ہے&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کہا  جاتا  ہے  کہ  تاریخی  مواقع  کی  مناسبت  سے  انسان  یہ  چیز  یاد  رکھتے  ہیں  کہ  وہ  ان  اوقات  کے  دوران  کہاں  تھے  یا  کیا  کر  رہے  تھے۔ بیشتر  پاکستانیوں  بشمول  راقم  کے  لیے  25  مارچ  1992ء  کا  دن  ایک  ایسا  ہی  تاریخی  موقع  تھا  اور  ہمیں  آج  تک  اس  دن  کی  چند  جھلکیاں  یاد  ہیں۔&lt;/strong&gt;  &lt;/p&gt;&lt;p&gt;اس  روز  پاکستان  کرکٹ  ٹیم  نے  پہلی  دفعہ  ورلڈ  کپ  جیتا  تھا۔  اس  ٹیم  کی قیادت  عمرا ن  خان  کر  رہے  تھے  اور  اس  روز  انہوں نے  صرف  ایک  کپ  ہی  نہیں  بلکہ  ایک  پوری  قوم  کے  دل  بھی  جیت  لیے  تھے۔  چند  برس  بعد  خان  صاحب  نے  کینسر  ہسپتال  کے  لیے  چندہ  اکٹھا  کرنا  شروع  کیا۔  کینسر  ہسپتال  بن  گیا  تو  خان  صاحب  نے  اپنی  توجہ  سیاست  کی  جانب  کی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;25   ا پریل  1996  کو  پاکستان  تحریک  انصاف  نے  جنم  لیا۔  بقول  نصرت  جاوید  صاحب، اس  جماعت  کی  پیدائش  کے  ذمہ  دار  جنرل  ضیاء  کے  ایک  ساتھی  جنرل  مجیب  الرحمان  تھے۔ خان  صاحب  کی  سیاست  پر  نظر  ڈالنے  سے  پہلے 90  کی  دہائی  کے  سیاسی  حالات  کو  سمجھنا  ضروری  ہے۔  &lt;/p&gt;&lt;p&gt;موجودہ  دور  کی  نوجوان  نسل  اس  سیاسی  تاریخ  کے  بہت  سے  پہلووں  سے  ناواقف  ہے  اور  ہمارے  ناقص  خیال  میں  انکے  لیے  یہ  سب  جاننا  اشد  ضروری  ہے۔  اس  کہانی  کے  بہت  سے  کردار  اب  بھی  پاکستانی  سیاست  کا   حصہ  ہیں۔ &lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p&gt;70ء  کے  انتخابات  تک  کراچی  میں  جماعت  اسلامی  اور  دیگر  مذہبی  جماعتوں  کی  حمایت  کرنے  والے  مہاجر  آبادی  کو  1972ء  میں  سندھیوں  کے  لیے  شروع  کیے  گئے  کوٹہ  نظام  نے  سخت  پریشانی  میں  مبتلا  کیا۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;اسی  برس  سندھی  زبان  کو  صوبے  کی  سرکاری  زبان  کا  درجہ  بھی  دیا  گیا۔ اس  سے  قبل  یو-پی  اور  سی-پی  کے  درمیانے  طبقے  سے  تعلق  رکھنے  والے  مہاجرین  نے  1951ء  اور  1958ء  کے  بلدیاتی  انتخابات  میں  جماعت  اسلامی  کے  نمائندوں  کی  حمایت  کی  تھی۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;سن  1965ء  کے  صدارتی  انتخابات  میں  کراچی  کی  مہاجر  آبادی  نے  فاطمہ  جناح  کی  پرزور  حمایت  کی۔  ایوب  خان  کے  بیٹے  گوہر  ایوب  نے  انتخاب  میں  فتح  حاصل  کرنے  کے  بعد  ایک  جلوس  منعقد  کیا  اور  مخالفین  پر  فائرنگ  کی۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;70 ء  کی  دہائی  کے  اختتام  تک  کوئی  سیاسی  جماعت  مہاجروں  کے  حقوق  کی  علم بردار  اور  محافظ  نہیں  تھی۔  اس  صورت  حال  میں  کراچی  یونیورسٹی  میں  قائم  کی  جانے  والی کل  پاکستان  مہاجر  طلبہ  جماعت 
(APMSO)  نے  اس  خلا  کو  کسی  حد  تک  پورا  کیا۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;الطاف  حسین  اور  عظیم  طارق  کی  سربراہی  میں  قائم  ہونے  والی  اس  جماعت  کی  تخلیق  میں  ’حساس  اداروں‘  کے  کردار  پر  بہت  سی  قیاس آرائیاں  کی  جاتی  ہیں۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;افغان  جنگ  کے  باعث  بہت  سے  پشتون  مہاجرین  نے  کراچی  کا  رخ  کیا  اور  بہت  سوں  نے  معمولی  نوکریاں  اختیار  کیں۔ ایک  اندازے  کے  مطابق  سن  1980ء  میں  کراچی  کی  آبادی  اسّی  لاکھ  تھی  اور  شہر  میں  پشتون  افراد  کی  تعداد  پندرہ  لاکھ  کے  لگ بھگ  تھی۔ چند  پشتون  مہاجرین  نے  ٹرانسپورٹ  بسوں  کا  کاروبار  شروع  کیا  اور  جلد  ہی  کراچی  کی  سڑکوں  پر  انکا  راج  قائم  ہو  گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;15  اپریل 1985ء  کو  کراچی  میں  ہونے  والے  ایک  واقعے  نے  سندھ  میں  مقیم مہاجر  آبادی  کی  تاریخ  کو  بدل  دیا۔  ناظم آباد  کے  سرسید  گرلز  کالج  کی  طالبہ  بشری  زیدی  کو  ایک  پٹھان  بس  ڈرائیور  نے  بس  تلے  کچل  دیا۔  بس  کو  مظاہرین  نے  آگ  لگا  دی  اور  ڈرائیور  موقعے  سے  فرار  ہو  گیا۔  &lt;/p&gt;&lt;p&gt;اس  سے  قبل  شہر  میں  ایسے  کئی  واقعات  ہو  چکے  تھے  اور  پختون  ڈرائیوروں  کے  ہاتھوں  کئی  حادثے  رونما  ہو  چکے  تھے۔  بشری  زیدی  کی  جوان  موت  کے  باعث  کراچی  شہر  میں  فسادات  شروع  ہوئے  اور  مہاجر وں  کی  جماعت  ’مہاجر  قومی  موومنٹ‘  (جو  مارچ  1984ء  سے  معرض  وجود  میں  آ  چکی  تھی)  نے  اپنی  سیاسی  اور  عملی  طاقت  کا  پہلا  مظاہرہ  کیا۔   &lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بینظیر  بھٹو  کا  پہلا  دور  حکومت -- 1988-1990&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p&gt;ضیاء  نامی  ظلمت  سے  نجات  حاصل  کرنے  کے  بعد  سے  مشرف  کے  طیارے  کی  آمد  کے  بیچ 11  سالہ  وقفے  میں  پانچ  دفعہ  جمہوری  حکومتیں  تبدیل  ہوئیں۔  کبھی  کرپشن  تو  کبھی  وسیع  تر  قومی  مفاد  کے  بہانے  حکومت  کو  فارغ  کر  دیا  جاتا۔  &lt;/p&gt;&lt;p&gt;افغانستان  میں  روس  کے  خلاف  جنگ  تو  ختم  ہو  چکی  تھی  لیکن  اس  جنگ  کے ملبے  سے  جو  عفریت  برآمد ہوئے  ان  کے  اثرات  ابھی  باقی  تھے۔ جنگ  کے  بعد  امریکی  اپنی  امداد  سمیت  فرار  ہو  چکے  تھے  اور  پاکستان  کے  پاس  صرف  بیرونی  قرضے  اور  تربیت  یافتہ  جنگجو  چھوڑ  گئے  تھے۔ جنگ  کے  خاتمے  تک  حساس  ادارے  اور  فوج  اتنی  مضبوط  ہو  چکی  تھی  کہ  ان  کو  نکیل  ڈالنا  اب  کسی  کے  بس  کی  بات  نہیں  تھی۔  &lt;/p&gt;&lt;p&gt;ضیا  کی  ہلاکت  کے  بعد  جونیجو  صاحب  نے  عدالت  عظمی  سے  درخواست  کی  کہ  ان  کی  حکومت  بحال  کی  جائے  کیونکہ  اسے  غیر  قانونی  طریقے  سے  ہٹایا  گیا  تھا۔  اس  اثنا  میں  فوج  کے  سربراہ  اسلم  بیگ  نے  لاہور  پریس  کلب  میں  یہ  بیان  دیا  کہ  اگر  سپریم  کورٹ  کے  ججوں  نے  جونیجو  حکومت  کو  بحال  کیا  تو  اس  فیصلے  کے  نتیجے  میں  ’پیدا  ہونے  والی  صورت  حال‘  کے  ذمہ  دار   وہ  خود  ہوں  گے۔  &lt;/p&gt;&lt;p&gt;معاملہ  بہر حال  زیادہ  آگے  نہیں  بڑھا  اور  عدالت  نے  تازہ  انتخابات  کا  حکم  دیا (اسلم  بیگ  صاحب  کو  سپریم کورٹ  نے  سنہ  1994ء  میں  توہین  عدالت  کے  الزام  میں  طلب  کیا  تو  انہوں  نے  عدالت  میں  جواب  دیا  کہ  ’میں  اس  عدالت  کے  آگے  جواب  دہ  نہیں  ہوں‘)۔  &lt;/p&gt;&lt;p&gt;انتخابات  میں  ووٹ  ڈالنے  کے  لیے  قومی  شناختی  کارڈ  ہونا  لازم  قرار  دیا  گیا،  جو  دراصل  پیپلز  پارٹی  کو  طاقت  میں  آنے  سے  روکنے  کی  کوشش  تھی۔ اسی  طرح  حسین  حقانی  صاحب  کے  زیر  نگرانی  نصرت  بھٹو  اور  بینظیر  بھٹو  کے  خلاف  بدنامی  کی  مہم  شروع  کی  گئی  اور  انکی  تصاویر  کو  مسخ  کر  کے  پمفلٹ  جہاز  کے  ذریعے  بڑے  شہروں  پر  گرائے  گئے۔   اسی  طرح  پیپلز  پارٹی  کو  اسکے  روایتی  انتخابی  نشان  یعنی  تلوار  سے  محروم  کر  دیا  گیا  اور  تیر  کا  نشان  عطا  کیا  گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اپوزیشن  میں  جنرل  حمید  گل  کی  بنائی  جماعت  ’اسلامی  جمہوی  اتحاد‘   دراصل  ذوالفقار  علی  بھٹو  مخالف  ’پاکستان  نیشنل  اتحاد‘   کا  ایک  نیا  روپ  تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ان  تمام  اقدامات  کے  باوجود  بینظیر  صاحبہ  کی  جماعت  وفاقی  انتخابات  میں  کامیاب  ٹھہری۔  ان  انتخابات  میں  حیران  کن  طور  پر  54  آزاد  امیدوار  قومی  اسمبلی  کے  انتخابات  میں  کامیاب  ہوئے (یا  کروائے  گئے)۔ ضیاء  دور  کے  ایک  قانون  کے  مطابق صدر  کو  یہ  اختیار  حاصل  تھا  کہ  وہ  مقننہ  کے  کسی  بھی  رکن  کو  وزیر اعظم  کے  عہدے  کے  لیے  نامزد  کر  سکتا  ہے  البتہ  اسمبلی  سے  اعتماد  کا  ووٹ  لینا  بھی  ضروری  ٹھہرایا  گیا۔  &lt;/p&gt;&lt;p&gt;پاکستان  پیپلز  پارٹی  نے  قومی  اسمبلی  کی  207  نشستوں  میں  سے  93  پر  کامیابی  حاصل  کی  جبکہ  اسلامی  جمہوری  اتحاد  نے  55  نشستوں  پر  کامیابی  حاصل  کی۔  اتحاد  کے  سربراہ  نواز  شریف  نے  انتخابات  سے  اگلے  روز  حکومت  بنانے  کا  اعلان  کیا۔  اقتداری  اونٹ  کی  کروٹ  کا  فیصلہ  صدر  غلام  اسحاق  خان  کے  ہاتھ  میں  تھا۔    &lt;/p&gt;&lt;p&gt;بلآخر  صدر  صاحب  نے  محترمہ  بینظیر  کی  جماعت  کو  اس  شرط  پر  اقتدار  منتقل  کیا  کہ  وہ  صدارتی  انتخابات  میں  غلام  اسحاق  خان  کو  ووٹ  دیں  گے۔  صدارتی  انتخاب  میں  پیپلز پارٹی  ارکان  نے  ایم آر ڈی (MRD)  تحریک  کے  دوران  اپنے  حلیف  نوابزادہ  نصراللہ خان  پر  اسحاق  خان  کو  فوقیت  دی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;غلام  اسحاق  خان  پاکستان  افسر  شاہی  کے  نشیب و فراز  سے  گزر  کر  اقتدار  کے  ایوان  تک  پہنچے  تھے۔  ایوب  خان  کے  دور  میں  وہ  واپڈا  کے  محکمے  میں  تعینات  کیے  گئے،  بعدازاں  انہیں  وزارت  مالیات  اور  بینک  دولت  پاکستان  میں  اعلیٰ  درجے  کی  ذمہ داریاں  سونپی  گئیں۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;بقول  وجاہت  مسعود  ’1950  کی  دہائی  میں  جو  کردار  اسکندر  مرزا  کو  ملا،  1980  کے  عشرے  میں  اسی  نوعیت  کے  کچھ  نالے  غلام  اسحاق  خان  کے  سپرد  ہوئے  تھے۔  رپورٹ  پٹواری  مفصل  (لفِ ہذا)  سے  معلوم  پڑتا  ہے  کہ  یہ  نالے  بطریق  احسن  دم  ہوئے۔  جن  ملکوں  میں  عوامی  تائید  کے  بغیر  حکمرانی  کا  طور  جڑ  پکڑ  لے،  وہاں  ایک  نہ  ایک  ایسا  کردار  پیدا  ہو  جاتا  ہے  جسے  سدا  بہار  سمجھا  جاتا  ہے۔  اقتدار  جس  روپ  میں  بھی  رونمائی  دے،  یہ  کسی  خوشنما  تِل  کی  صورت  رخِ  انور  کی  رونق  بڑھاتے  رہتے  ہیں۔  روس  میں  یہ  اعزاز  گریمکو  کو  حاصل  تھا۔  پاکستان  میں  یہ  منصب  غلام  اسحاق  خان  کو  ملا۔‘&lt;/p&gt;&lt;p&gt;(جاری  ہے)&lt;/p&gt;&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ریفرنسز:&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;&lt;ol&gt;
&lt;li&gt;&lt;p&gt;Pakistan in the Twentieth Century: A Political History.Lawrence Ziring. Oxford University Press&lt;/p&gt;&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;&lt;p&gt;Nuclear Deception: The Dangerous Relationship Between the United States and Pakistan. Adrian Levy,Catherine Scott-Clark&lt;/p&gt;&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;&lt;p&gt;منیر  احمد  منیر۔  ایجنسیوں  کی  حکومت&lt;/p&gt;&lt;/li&gt;
&lt;/ol&gt;
&lt;p&gt;4 Constitutional and Political History of Pakistan. Hamid Khan. Second Edition. Oxford University Press&lt;/p&gt;&lt;ol&gt;
&lt;li&gt;&lt;p&gt;غلام  اسحاق  خان،  نصف  صدی  کا  قصہ،  وجاہت  مسعود&lt;/p&gt;&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;&lt;p&gt;Karachi:
Ordered Disorder and the Struggle for the City by 
Laurent Gayer   &lt;/p&gt;&lt;/li&gt;
&lt;/ol&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یہ بلاگ انیس سو نوے کی دہائی کے پاکستان کی سیاسی تاریخ کے بارے میں سیریز کا پہلا حصّہ ہے</strong> </p><hr>
<p><strong>کہا  جاتا  ہے  کہ  تاریخی  مواقع  کی  مناسبت  سے  انسان  یہ  چیز  یاد  رکھتے  ہیں  کہ  وہ  ان  اوقات  کے  دوران  کہاں  تھے  یا  کیا  کر  رہے  تھے۔ بیشتر  پاکستانیوں  بشمول  راقم  کے  لیے  25  مارچ  1992ء  کا  دن  ایک  ایسا  ہی  تاریخی  موقع  تھا  اور  ہمیں  آج  تک  اس  دن  کی  چند  جھلکیاں  یاد  ہیں۔</strong>  </p><p>اس  روز  پاکستان  کرکٹ  ٹیم  نے  پہلی  دفعہ  ورلڈ  کپ  جیتا  تھا۔  اس  ٹیم  کی قیادت  عمرا ن  خان  کر  رہے  تھے  اور  اس  روز  انہوں نے  صرف  ایک  کپ  ہی  نہیں  بلکہ  ایک  پوری  قوم  کے  دل  بھی  جیت  لیے  تھے۔  چند  برس  بعد  خان  صاحب  نے  کینسر  ہسپتال  کے  لیے  چندہ  اکٹھا  کرنا  شروع  کیا۔  کینسر  ہسپتال  بن  گیا  تو  خان  صاحب  نے  اپنی  توجہ  سیاست  کی  جانب  کی۔</p><p>25   ا پریل  1996  کو  پاکستان  تحریک  انصاف  نے  جنم  لیا۔  بقول  نصرت  جاوید  صاحب، اس  جماعت  کی  پیدائش  کے  ذمہ  دار  جنرل  ضیاء  کے  ایک  ساتھی  جنرل  مجیب  الرحمان  تھے۔ خان  صاحب  کی  سیاست  پر  نظر  ڈالنے  سے  پہلے 90  کی  دہائی  کے  سیاسی  حالات  کو  سمجھنا  ضروری  ہے۔  </p><p>موجودہ  دور  کی  نوجوان  نسل  اس  سیاسی  تاریخ  کے  بہت  سے  پہلووں  سے  ناواقف  ہے  اور  ہمارے  ناقص  خیال  میں  انکے  لیے  یہ  سب  جاننا  اشد  ضروری  ہے۔  اس  کہانی  کے  بہت  سے  کردار  اب  بھی  پاکستانی  سیاست  کا   حصہ  ہیں۔ </p><hr>
<p>70ء  کے  انتخابات  تک  کراچی  میں  جماعت  اسلامی  اور  دیگر  مذہبی  جماعتوں  کی  حمایت  کرنے  والے  مہاجر  آبادی  کو  1972ء  میں  سندھیوں  کے  لیے  شروع  کیے  گئے  کوٹہ  نظام  نے  سخت  پریشانی  میں  مبتلا  کیا۔ </p><p>اسی  برس  سندھی  زبان  کو  صوبے  کی  سرکاری  زبان  کا  درجہ  بھی  دیا  گیا۔ اس  سے  قبل  یو-پی  اور  سی-پی  کے  درمیانے  طبقے  سے  تعلق  رکھنے  والے  مہاجرین  نے  1951ء  اور  1958ء  کے  بلدیاتی  انتخابات  میں  جماعت  اسلامی  کے  نمائندوں  کی  حمایت  کی  تھی۔ </p><p>سن  1965ء  کے  صدارتی  انتخابات  میں  کراچی  کی  مہاجر  آبادی  نے  فاطمہ  جناح  کی  پرزور  حمایت  کی۔  ایوب  خان  کے  بیٹے  گوہر  ایوب  نے  انتخاب  میں  فتح  حاصل  کرنے  کے  بعد  ایک  جلوس  منعقد  کیا  اور  مخالفین  پر  فائرنگ  کی۔ </p><p>70 ء  کی  دہائی  کے  اختتام  تک  کوئی  سیاسی  جماعت  مہاجروں  کے  حقوق  کی  علم بردار  اور  محافظ  نہیں  تھی۔  اس  صورت  حال  میں  کراچی  یونیورسٹی  میں  قائم  کی  جانے  والی کل  پاکستان  مہاجر  طلبہ  جماعت 
(APMSO)  نے  اس  خلا  کو  کسی  حد  تک  پورا  کیا۔ </p><p>الطاف  حسین  اور  عظیم  طارق  کی  سربراہی  میں  قائم  ہونے  والی  اس  جماعت  کی  تخلیق  میں  ’حساس  اداروں‘  کے  کردار  پر  بہت  سی  قیاس آرائیاں  کی  جاتی  ہیں۔ </p><p>افغان  جنگ  کے  باعث  بہت  سے  پشتون  مہاجرین  نے  کراچی  کا  رخ  کیا  اور  بہت  سوں  نے  معمولی  نوکریاں  اختیار  کیں۔ ایک  اندازے  کے  مطابق  سن  1980ء  میں  کراچی  کی  آبادی  اسّی  لاکھ  تھی  اور  شہر  میں  پشتون  افراد  کی  تعداد  پندرہ  لاکھ  کے  لگ بھگ  تھی۔ چند  پشتون  مہاجرین  نے  ٹرانسپورٹ  بسوں  کا  کاروبار  شروع  کیا  اور  جلد  ہی  کراچی  کی  سڑکوں  پر  انکا  راج  قائم  ہو  گیا۔</p><p>15  اپریل 1985ء  کو  کراچی  میں  ہونے  والے  ایک  واقعے  نے  سندھ  میں  مقیم مہاجر  آبادی  کی  تاریخ  کو  بدل  دیا۔  ناظم آباد  کے  سرسید  گرلز  کالج  کی  طالبہ  بشری  زیدی  کو  ایک  پٹھان  بس  ڈرائیور  نے  بس  تلے  کچل  دیا۔  بس  کو  مظاہرین  نے  آگ  لگا  دی  اور  ڈرائیور  موقعے  سے  فرار  ہو  گیا۔  </p><p>اس  سے  قبل  شہر  میں  ایسے  کئی  واقعات  ہو  چکے  تھے  اور  پختون  ڈرائیوروں  کے  ہاتھوں  کئی  حادثے  رونما  ہو  چکے  تھے۔  بشری  زیدی  کی  جوان  موت  کے  باعث  کراچی  شہر  میں  فسادات  شروع  ہوئے  اور  مہاجر وں  کی  جماعت  ’مہاجر  قومی  موومنٹ‘  (جو  مارچ  1984ء  سے  معرض  وجود  میں  آ  چکی  تھی)  نے  اپنی  سیاسی  اور  عملی  طاقت  کا  پہلا  مظاہرہ  کیا۔   </p><hr>
<p><strong>بینظیر  بھٹو  کا  پہلا  دور  حکومت -- 1988-1990</strong></p><hr>
<p>ضیاء  نامی  ظلمت  سے  نجات  حاصل  کرنے  کے  بعد  سے  مشرف  کے  طیارے  کی  آمد  کے  بیچ 11  سالہ  وقفے  میں  پانچ  دفعہ  جمہوری  حکومتیں  تبدیل  ہوئیں۔  کبھی  کرپشن  تو  کبھی  وسیع  تر  قومی  مفاد  کے  بہانے  حکومت  کو  فارغ  کر  دیا  جاتا۔  </p><p>افغانستان  میں  روس  کے  خلاف  جنگ  تو  ختم  ہو  چکی  تھی  لیکن  اس  جنگ  کے ملبے  سے  جو  عفریت  برآمد ہوئے  ان  کے  اثرات  ابھی  باقی  تھے۔ جنگ  کے  بعد  امریکی  اپنی  امداد  سمیت  فرار  ہو  چکے  تھے  اور  پاکستان  کے  پاس  صرف  بیرونی  قرضے  اور  تربیت  یافتہ  جنگجو  چھوڑ  گئے  تھے۔ جنگ  کے  خاتمے  تک  حساس  ادارے  اور  فوج  اتنی  مضبوط  ہو  چکی  تھی  کہ  ان  کو  نکیل  ڈالنا  اب  کسی  کے  بس  کی  بات  نہیں  تھی۔  </p><p>ضیا  کی  ہلاکت  کے  بعد  جونیجو  صاحب  نے  عدالت  عظمی  سے  درخواست  کی  کہ  ان  کی  حکومت  بحال  کی  جائے  کیونکہ  اسے  غیر  قانونی  طریقے  سے  ہٹایا  گیا  تھا۔  اس  اثنا  میں  فوج  کے  سربراہ  اسلم  بیگ  نے  لاہور  پریس  کلب  میں  یہ  بیان  دیا  کہ  اگر  سپریم  کورٹ  کے  ججوں  نے  جونیجو  حکومت  کو  بحال  کیا  تو  اس  فیصلے  کے  نتیجے  میں  ’پیدا  ہونے  والی  صورت  حال‘  کے  ذمہ  دار   وہ  خود  ہوں  گے۔  </p><p>معاملہ  بہر حال  زیادہ  آگے  نہیں  بڑھا  اور  عدالت  نے  تازہ  انتخابات  کا  حکم  دیا (اسلم  بیگ  صاحب  کو  سپریم کورٹ  نے  سنہ  1994ء  میں  توہین  عدالت  کے  الزام  میں  طلب  کیا  تو  انہوں  نے  عدالت  میں  جواب  دیا  کہ  ’میں  اس  عدالت  کے  آگے  جواب  دہ  نہیں  ہوں‘)۔  </p><p>انتخابات  میں  ووٹ  ڈالنے  کے  لیے  قومی  شناختی  کارڈ  ہونا  لازم  قرار  دیا  گیا،  جو  دراصل  پیپلز  پارٹی  کو  طاقت  میں  آنے  سے  روکنے  کی  کوشش  تھی۔ اسی  طرح  حسین  حقانی  صاحب  کے  زیر  نگرانی  نصرت  بھٹو  اور  بینظیر  بھٹو  کے  خلاف  بدنامی  کی  مہم  شروع  کی  گئی  اور  انکی  تصاویر  کو  مسخ  کر  کے  پمفلٹ  جہاز  کے  ذریعے  بڑے  شہروں  پر  گرائے  گئے۔   اسی  طرح  پیپلز  پارٹی  کو  اسکے  روایتی  انتخابی  نشان  یعنی  تلوار  سے  محروم  کر  دیا  گیا  اور  تیر  کا  نشان  عطا  کیا  گیا۔</p><p>اپوزیشن  میں  جنرل  حمید  گل  کی  بنائی  جماعت  ’اسلامی  جمہوی  اتحاد‘   دراصل  ذوالفقار  علی  بھٹو  مخالف  ’پاکستان  نیشنل  اتحاد‘   کا  ایک  نیا  روپ  تھی۔</p><p>ان  تمام  اقدامات  کے  باوجود  بینظیر  صاحبہ  کی  جماعت  وفاقی  انتخابات  میں  کامیاب  ٹھہری۔  ان  انتخابات  میں  حیران  کن  طور  پر  54  آزاد  امیدوار  قومی  اسمبلی  کے  انتخابات  میں  کامیاب  ہوئے (یا  کروائے  گئے)۔ ضیاء  دور  کے  ایک  قانون  کے  مطابق صدر  کو  یہ  اختیار  حاصل  تھا  کہ  وہ  مقننہ  کے  کسی  بھی  رکن  کو  وزیر اعظم  کے  عہدے  کے  لیے  نامزد  کر  سکتا  ہے  البتہ  اسمبلی  سے  اعتماد  کا  ووٹ  لینا  بھی  ضروری  ٹھہرایا  گیا۔  </p><p>پاکستان  پیپلز  پارٹی  نے  قومی  اسمبلی  کی  207  نشستوں  میں  سے  93  پر  کامیابی  حاصل  کی  جبکہ  اسلامی  جمہوری  اتحاد  نے  55  نشستوں  پر  کامیابی  حاصل  کی۔  اتحاد  کے  سربراہ  نواز  شریف  نے  انتخابات  سے  اگلے  روز  حکومت  بنانے  کا  اعلان  کیا۔  اقتداری  اونٹ  کی  کروٹ  کا  فیصلہ  صدر  غلام  اسحاق  خان  کے  ہاتھ  میں  تھا۔    </p><p>بلآخر  صدر  صاحب  نے  محترمہ  بینظیر  کی  جماعت  کو  اس  شرط  پر  اقتدار  منتقل  کیا  کہ  وہ  صدارتی  انتخابات  میں  غلام  اسحاق  خان  کو  ووٹ  دیں  گے۔  صدارتی  انتخاب  میں  پیپلز پارٹی  ارکان  نے  ایم آر ڈی (MRD)  تحریک  کے  دوران  اپنے  حلیف  نوابزادہ  نصراللہ خان  پر  اسحاق  خان  کو  فوقیت  دی۔</p><p>غلام  اسحاق  خان  پاکستان  افسر  شاہی  کے  نشیب و فراز  سے  گزر  کر  اقتدار  کے  ایوان  تک  پہنچے  تھے۔  ایوب  خان  کے  دور  میں  وہ  واپڈا  کے  محکمے  میں  تعینات  کیے  گئے،  بعدازاں  انہیں  وزارت  مالیات  اور  بینک  دولت  پاکستان  میں  اعلیٰ  درجے  کی  ذمہ داریاں  سونپی  گئیں۔ </p><p>بقول  وجاہت  مسعود  ’1950  کی  دہائی  میں  جو  کردار  اسکندر  مرزا  کو  ملا،  1980  کے  عشرے  میں  اسی  نوعیت  کے  کچھ  نالے  غلام  اسحاق  خان  کے  سپرد  ہوئے  تھے۔  رپورٹ  پٹواری  مفصل  (لفِ ہذا)  سے  معلوم  پڑتا  ہے  کہ  یہ  نالے  بطریق  احسن  دم  ہوئے۔  جن  ملکوں  میں  عوامی  تائید  کے  بغیر  حکمرانی  کا  طور  جڑ  پکڑ  لے،  وہاں  ایک  نہ  ایک  ایسا  کردار  پیدا  ہو  جاتا  ہے  جسے  سدا  بہار  سمجھا  جاتا  ہے۔  اقتدار  جس  روپ  میں  بھی  رونمائی  دے،  یہ  کسی  خوشنما  تِل  کی  صورت  رخِ  انور  کی  رونق  بڑھاتے  رہتے  ہیں۔  روس  میں  یہ  اعزاز  گریمکو  کو  حاصل  تھا۔  پاکستان  میں  یہ  منصب  غلام  اسحاق  خان  کو  ملا۔‘</p><p>(جاری  ہے)</p><p><strong>ریفرنسز:</strong> </p><ol>
<li><p>Pakistan in the Twentieth Century: A Political History.Lawrence Ziring. Oxford University Press</p></li>
<li><p>Nuclear Deception: The Dangerous Relationship Between the United States and Pakistan. Adrian Levy,Catherine Scott-Clark</p></li>
<li><p>منیر  احمد  منیر۔  ایجنسیوں  کی  حکومت</p></li>
</ol>
<p>4 Constitutional and Political History of Pakistan. Hamid Khan. Second Edition. Oxford University Press</p><ol>
<li><p>غلام  اسحاق  خان،  نصف  صدی  کا  قصہ،  وجاہت  مسعود</p></li>
<li><p>Karachi:
Ordered Disorder and the Struggle for the City by 
Laurent Gayer   </p></li>
</ol>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1007544</guid>
      <pubDate>Mon, 28 Jul 2014 10:15:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبدالمجید عابد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2014/07/53d2b603f3892.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2014/07/53d2b603f3892.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
