<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 07:50:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 07:50:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>روس:امریکہ، یورپی یونین سے غذائی اجناس کی درآمد پر پابندی عائد</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1008039/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ماسکو: روس نے یورپ سے غذائی اجناس کی درآمد پر پابندی عائد کر دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p&gt;یہ پابندی حالیہ دنوں میں یورپی یونین اور دیگر مغربی ممالک کی جانب سے روس پر عائد کی جانے والی معاشی پابندیوں کے جواب میں لگائی گئی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;یاد رہے کہ یوکرائن میں ملائیشیا کے طیاروں کو باغیوں نے ایک مبینہ میزائل حملے میں مار گرایا تھا جس میں 297 افراد ہلاک ہو گئے تھے، اس حملے میں یوکرائنی باغیوں نے روسی ساختہ میزائل استعمال کیا تھا، جس کے بعد یورپی یونین، امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور دیگر مغربی ممالک نے روس پر معاشی پابندیاں عائد کر دی تھیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ایک اعلیٰ سطح کی میٹنگ میں روس کے وزیر اعظم دمتری میدیدوف کا کہنا تھا کہ گوشت، سور کا گوشت، پھل، سبزیاں، مرغی، دودھ مکھن اور دیگر غذائی اجناس کی یورپی یونین کے 28 ممالک، امریکہ،  آسٹریلیا، کینیڈا، اور ناروے سے درآمد پر پابندی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ایک رپورٹ کے مطابق روس ملکی غذائی اجناس کے 35 فیصد اشیاء درآمد کرتا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;لندن کے ماہرین معاشیات کا کہنا تھا کہ روس نے گزشتہ سال 25 ارب ڈالر ان غذائی اجناس پر خرچ کیے جن میں سے 9.5 ارب ڈالر کی اجناس پابندی کے شکار ممالک سے دارآمد کی تھیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;جن غذائی اجزاء کی درآمد پر پابندی عائد کی گئی ہے یورپی یونین نے گزشتہ سال  روس کو مذکورہ مصنوعات 7 ارب ڈالر کی برآمد کی تھیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ان ماہرین معاشیات کا خیال ہے کہ روس کی پابندی سے یورپی یونین کی برآمدات پر خاص فرق پڑنے کا امکان نہیں ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;دوسری جانب یورپی یونین نے ایک اعلامیے میں اس پابندی کو مکمل طور پر سیاسی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی یونین بھی مناسب اقدام رکھنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;علاوہ ازیں روس نے اپنی فضائی حدود بھی یورپ کی ہوا باز کمپنیوں کے لیے بند کرنے پر غور شروع کر دیا ہے، واضح رہے کہ روس کی فضائی حدود کے استعمال سے ہی یورپی یونین کی ائرلائنز کو ایشیا تک فضائی سفر مختصر پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ماسکو: روس نے یورپ سے غذائی اجناس کی درآمد پر پابندی عائد کر دی ہے۔</strong></p><p>یہ پابندی حالیہ دنوں میں یورپی یونین اور دیگر مغربی ممالک کی جانب سے روس پر عائد کی جانے والی معاشی پابندیوں کے جواب میں لگائی گئی ہے۔</p><p>یاد رہے کہ یوکرائن میں ملائیشیا کے طیاروں کو باغیوں نے ایک مبینہ میزائل حملے میں مار گرایا تھا جس میں 297 افراد ہلاک ہو گئے تھے، اس حملے میں یوکرائنی باغیوں نے روسی ساختہ میزائل استعمال کیا تھا، جس کے بعد یورپی یونین، امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور دیگر مغربی ممالک نے روس پر معاشی پابندیاں عائد کر دی تھیں۔</p><p>ایک اعلیٰ سطح کی میٹنگ میں روس کے وزیر اعظم دمتری میدیدوف کا کہنا تھا کہ گوشت، سور کا گوشت، پھل، سبزیاں، مرغی، دودھ مکھن اور دیگر غذائی اجناس کی یورپی یونین کے 28 ممالک، امریکہ،  آسٹریلیا، کینیڈا، اور ناروے سے درآمد پر پابندی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔</p><p>ایک رپورٹ کے مطابق روس ملکی غذائی اجناس کے 35 فیصد اشیاء درآمد کرتا ہے۔</p><p>لندن کے ماہرین معاشیات کا کہنا تھا کہ روس نے گزشتہ سال 25 ارب ڈالر ان غذائی اجناس پر خرچ کیے جن میں سے 9.5 ارب ڈالر کی اجناس پابندی کے شکار ممالک سے دارآمد کی تھیں۔</p><p>جن غذائی اجزاء کی درآمد پر پابندی عائد کی گئی ہے یورپی یونین نے گزشتہ سال  روس کو مذکورہ مصنوعات 7 ارب ڈالر کی برآمد کی تھیں۔</p><p>ان ماہرین معاشیات کا خیال ہے کہ روس کی پابندی سے یورپی یونین کی برآمدات پر خاص فرق پڑنے کا امکان نہیں ہے۔</p><p>دوسری جانب یورپی یونین نے ایک اعلامیے میں اس پابندی کو مکمل طور پر سیاسی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی یونین بھی مناسب اقدام رکھنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔</p><p>علاوہ ازیں روس نے اپنی فضائی حدود بھی یورپ کی ہوا باز کمپنیوں کے لیے بند کرنے پر غور شروع کر دیا ہے، واضح رہے کہ روس کی فضائی حدود کے استعمال سے ہی یورپی یونین کی ائرلائنز کو ایشیا تک فضائی سفر مختصر پڑتا ہے۔</p>]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1008039</guid>
      <pubDate>Thu, 07 Aug 2014 21:52:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اردو ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2014/08/53e3aeb3344bc.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="850">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2014/08/53e3aeb3344bc.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
