<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Afghanistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 21 Jun 2026 09:27:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 21 Jun 2026 09:27:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>افغانستان : ہلمند میں فورسز کے طالبان سے مذاکرات</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1008394/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لشکر گاہ: افغانستان کے شمالی علاقوں میں کئی ماہ سے جاری رہنے والی لڑائی کے بعد صوبہ ہلمند کے اسپیشل سیکیورٹی فورسز کے کمانڈر طالبان سے معاہدہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p&gt;افغانستان میں پیدا ہونے والی افیون کی آدھی مقدار کی صوبہ ہلمند میں پیداوار ہوتی ہے اس کے مختلف حصوں پر طالبان اور منشیات فروشوں کا کنٹرول ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;کئی سال تک جاری رہنے والی جنگ میں سیکڑوں امریکی اور برطانوی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں رواں سال کے آخرمیں غیر ملکی افواج افغانستان سے انخلا کر رہی ہیں جبکہ ملک کی سیکیورٹی مرحلہ وار افغان سیکیورٹی فورسز کے سپرد کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;افغان اسپیشل فورسز کی کمانڈر جنرل اسد اللہ شہرزاد کا کہنا ہے کہ طالبان اور قبائلی عمائدین سے میرے رابطوں کے باعث ہم پہلے ہی مذاکراتی عمل کا آغاز کر چکے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں ضلع سنگین میں کیے جانے والے اقدامات کی نشاندہی کی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;جنرل اسد اللہ شہرزاد کا کہنا تھا کہ سنگین کی سیکیورٹی اب بہتر ہو چکی ہے مگر پر امن صوبے کے لیے ہمیں مزید وقت درکار ہو گا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;انہوں نے مذاکرات کے حوالے لیے مزید کسی قسم کی تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;دوسری جانب طالبان کے ترجمان قاری یوسف احمدی نے کسی بھی قسم کے مذاکراتی عمل کے تردید کی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;قاری یوسف احمدی کا کہنا تھا کہ طالبان کسی بھی مذاکراتی عمل کا حصہ بننے کا ارادہ نہیں رکھتے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ہلمند میں جاری رہنے والی لڑائی کے بعد افغانستان کی سیکیورٹی کے حوالے سے خدشات پائے جاتے ہیں، جہاں پر غیر ملکی افواج کے انخلاء کے بعد دوبارہ طالبان کے برسر اقتدار آنے کی کوشش کر سکتے ہیں جو ایک اسلامی ریاست کے قیام کی جدوجہد کر رہے ہیں، طالبان 1996 سے 2001 برسر اقتدار رہ چکے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;جون کے مہینے میں 800 سے زائد طالبان جنگجو مختلف سرکاری دفاتر پر حملوں میں ملوث رہے ہیں جبکہ سیکیورٹ فورسز کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے جون میں ہلمند میں 400 طالبان ہلاک کیے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ہلمند سمیت تین جنوبی صوبوں کے ڈپٹی کمانڈر جنرل غلام فاروق پروانی کا کہنا ہے کہ فورسز طالبان کے خلاف جنگ جاری رکھیں گی البتہ انہوں نے مذاکراتی عمل کی بھی تردید نہیں کی۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لشکر گاہ: افغانستان کے شمالی علاقوں میں کئی ماہ سے جاری رہنے والی لڑائی کے بعد صوبہ ہلمند کے اسپیشل سیکیورٹی فورسز کے کمانڈر طالبان سے معاہدہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔</strong></p><p>افغانستان میں پیدا ہونے والی افیون کی آدھی مقدار کی صوبہ ہلمند میں پیداوار ہوتی ہے اس کے مختلف حصوں پر طالبان اور منشیات فروشوں کا کنٹرول ہے۔</p><p>کئی سال تک جاری رہنے والی جنگ میں سیکڑوں امریکی اور برطانوی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں رواں سال کے آخرمیں غیر ملکی افواج افغانستان سے انخلا کر رہی ہیں جبکہ ملک کی سیکیورٹی مرحلہ وار افغان سیکیورٹی فورسز کے سپرد کی جا رہی ہے۔</p><p>افغان اسپیشل فورسز کی کمانڈر جنرل اسد اللہ شہرزاد کا کہنا ہے کہ طالبان اور قبائلی عمائدین سے میرے رابطوں کے باعث ہم پہلے ہی مذاکراتی عمل کا آغاز کر چکے ہیں۔</p><p>انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں ضلع سنگین میں کیے جانے والے اقدامات کی نشاندہی کی۔</p><p>جنرل اسد اللہ شہرزاد کا کہنا تھا کہ سنگین کی سیکیورٹی اب بہتر ہو چکی ہے مگر پر امن صوبے کے لیے ہمیں مزید وقت درکار ہو گا۔</p><p>انہوں نے مذاکرات کے حوالے لیے مزید کسی قسم کی تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا۔</p><p>دوسری جانب طالبان کے ترجمان قاری یوسف احمدی نے کسی بھی قسم کے مذاکراتی عمل کے تردید کی ہے۔</p><p>قاری یوسف احمدی کا کہنا تھا کہ طالبان کسی بھی مذاکراتی عمل کا حصہ بننے کا ارادہ نہیں رکھتے۔</p><p>ہلمند میں جاری رہنے والی لڑائی کے بعد افغانستان کی سیکیورٹی کے حوالے سے خدشات پائے جاتے ہیں، جہاں پر غیر ملکی افواج کے انخلاء کے بعد دوبارہ طالبان کے برسر اقتدار آنے کی کوشش کر سکتے ہیں جو ایک اسلامی ریاست کے قیام کی جدوجہد کر رہے ہیں، طالبان 1996 سے 2001 برسر اقتدار رہ چکے ہیں۔</p><p>جون کے مہینے میں 800 سے زائد طالبان جنگجو مختلف سرکاری دفاتر پر حملوں میں ملوث رہے ہیں جبکہ سیکیورٹ فورسز کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے جون میں ہلمند میں 400 طالبان ہلاک کیے ہیں۔</p><p>ہلمند سمیت تین جنوبی صوبوں کے ڈپٹی کمانڈر جنرل غلام فاروق پروانی کا کہنا ہے کہ فورسز طالبان کے خلاف جنگ جاری رکھیں گی البتہ انہوں نے مذاکراتی عمل کی بھی تردید نہیں کی۔</p>]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1008394</guid>
      <pubDate>Fri, 15 Aug 2014 20:18:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اردو ڈیسکرائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2014/08/53ee24550763e.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2014/08/53ee24550763e.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
