<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Opinions</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 15:32:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 15:32:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نائنٹیز کا پاکستان - 6</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1009206/15sep2014-ninetees-ka-pakistan-6-am-abid-bm-aq</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ اس بلاگ کا چھٹا حصّہ ہے۔ &lt;a href="http://urdu.dawn.com/news/1007544/28jul14-a-political-history-of-nineties-pakistan-am-abid-aq"&gt;پہلے&lt;/a&gt;، &lt;a href="http://urdu.dawn.com/news/1007720/04aug14-a-political-history-of-nineties-pakistan-2-am-abid-aq"&gt;دوسرے&lt;/a&gt;، &lt;a href="http://urdu.dawn.com/news/1008093/11aug14-a-political-history-of-nineties-pakistan-3-am-abid-aq"&gt;تیسرے&lt;/a&gt;، &lt;a href="http://urdu.dawn.com/news/1008413/25aug14-a-political-history-of-nineties-pakistan-4-am-abid-aq"&gt;چوتھے&lt;/a&gt;، اور &lt;a href="http://urdu.dawn.com/news/1009066/02sep14-a-political-history-of-nineties-pakistan-5-am-abid-aq"&gt;پانچویں&lt;/a&gt; حصے کے لیے کلک کریں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اپنے  گزشتہ  تجربات  کی  روشنی  میں  محترمہ  نے  اپنے  دوسرے  دورحکومت  میں  فوج  کو  کھلی  چھوٹ  دی۔  بینظیر  صاحبہ  کے  دوسرے  دور  کے  آغاز  میں  ہی  فوج  کے  ایک  اعلی  عہدے ڈائیرکٹر جنرل ملٹری آپریشنز (DGMO) پر پرویز  مشرف  نامی  صاحب  کو  تعینات  کیا  گیا۔ DGMO  بننے  کے  بعد  مشرف  نے  کشمیر  میں  جاری  ’جہاد‘  کو  مزید  فروغ  دینے  کے   لیے  بینظیر  صاحبہ  سے  اجازت  طلب  کی،  جو  کہ  عنایت  کر  دی  گئی۔&lt;/strong&gt;  &lt;/p&gt;&lt;p&gt;’مجاہدین‘  کی  تلاش  میں  مشرف  صاحب  جماعت  اسلامی،  جمیعت  علمائے  اسلام  کے  پاس  گئے۔  اس  کے  علاوہ  انہوں  نے  لشکر  طیبہ  سے  وعدہ  کیا  کہ  انکے  تربیتی  کیمپوں  کے  تمام  جنگجوؤں  کی  ذمہ  داری  اٹھائی  جائے  گی۔  اسی  طرح  افغان  جنگ  کے  دوران  قائم  کردہ  دو  جماعتوں  کو  متحد  کر  کے  ’حرکت  الانصار‘  بنائی  گئی۔  اندازے  کے  مطابق  اس  دور  میں  پاکستانی  فوج  ہر  ماہ  اوسط  ساڑھے  سات  کروڑ  ڈالر  ان  ’مجاہدین‘  پر  خرچ  کر  رہی  تھی۔        &lt;/p&gt;&lt;p&gt;عالمی  سطح  پر  پاکستان  کو  مشکوک  نگاہوں  سے  دیکھا  جا  رہا  تھا،  جنوری  1994ء  میں  امریکہ  کی  جانب  سے  پاکستان  کو  ’ممکنہ  دہشت گرد  ممالک‘  کی  فہرست  میں  شامل  کر   لیا  گیا۔  محترمہ  بینظیر  نے  پاکستانی  فوجی،  اقوام  متحدہ  کے  امن  دستوں  میں  شرکت  کرنے  کے  لیے  بھیجنے  کا  فیصلہ  کیا  اور  صومالیہ  میں  امن  قائم  کرنے  کے  لیے  پانچ  ہزار  پاکستانی  فوجی  تعینات  کیے  گئے۔  آخر  کار  ستمبر  1995ء  میں  امریکی  ایوان  نے  پاکستان  پر  عائد  معاشی  پابندیاں  کم  کرنے  کا  بل  پاس  کیا۔  &lt;/p&gt;&lt;p&gt; کراچی  میں  لسانی  تنازعے  میں  اضافے  کے  باعث  فوج  کو  طلب  کیا  گیا   لیکن  دو  سال  قیام اور  دو  ہزار  لاشوں  کے  باوجود  امن  و  امان  کی  صورت  حال  پر  قابو  نہ  پایا  جا  سکا  اور  سنہ  1995ء  میں  وزیر  داخلہ  نصیر الدین  بابر  کی  سفارش  پر  رینجرز  کو  شہر  میں  تعینات  کیا  گیا۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;اکتوبر  1995 ء  میں  فوجی  افسران  کی  ایک  سازش  بے  نقاب  ہوئی  جس  کے  مطابق  چند  فوجی  افسروں  نے  فوج  کی  اعلیٰ  قیادت،  صدر،  وزیر اعظم  اور  کچھ  وزراء  بشمول  آصف  علی  زرداری  کو  قتل  کرنے  کا  منصوبہ  بنایا  تھا  اور  اس  سازش (آپریشن  خلافت)  میں  فوج  کے  اعلیٰ افسران  بھی  ملوث  تھے۔ 26 ستمبر 1995ء  کو  فاٹا  سے  آنے  والے  برگیڈیئر  مستنصر  باللہ کی  گاڑی  کو  ایک  پولیس  چیک پوسٹ  پر  روکا  گیا  اور  اسکی  تلاشی  کے  نتیجے  میں  کلاشنکوف  اور  راکٹ  لانچر  برآمد  ہوئے۔  بریگیڈیئر  نے  رعب  جمانے  کی  کوشش  کی  اور  GHQ  سے  رابطہ  کیا  لیکن لائن  کٹ  چکی  تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt; تحقیقات  کے  مطابق  چھتیس  فوجی  افسران  اور  بیس  سویلین  اس  منصوبے  کا  حصہ  تھے  اور  یہ  سب  افراد،  ٹیکسلا  سے  تعلق  رکھنے  والے  تبلیغی  جماعت  کے  رکن،  مفتی  صوفی  اقبال  کے  مرید  تھے۔  صوفی  صاحب  اکثر  10  کور  ہیڈ کوارٹر  میں  درس  دیا  کرتے  تھے۔  ظہیر الاسلام  عباسی  کا  تعلق  بھی  تبلیغی  جماعت  سے  تھا  اور  وہ  افغانستان  کے  علاوہ  بھارت  میں  پاکستانی  خفیہ  اداروں  کی  جانب  سے  اپنی  خدمات  پیش  کر  چکے  تھے۔ انکا  منصوبہ  تھا  کہ  کور کمانڈروں  کی  کانفرنس  کے  دوران  GHQ  پر  حملہ  کر  کے  کانفرنس  کا  شرکاء  کو  موت  کے  گھاٹ  اتار  دیا  جائے  اور  ملک  میں  شریعت  کے  نفاذ  کا  اعلان  کیا  جائے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اس  کارروائی  کے  بعد  قوم  سے  خطاب  والی  تقریر  بھی  تیار  کی  جا  چکی  تھی  جس  کے  مطابق  ملک  کو  ایک  ’پاکستانی  سنی  مملکت،  قرار  دیا  جانا  تھا  جہاں  ’مکمل  اسلامی  نظام‘  نافذ  کیا  جانا  تھا۔ اس  تقریر  میں  موسیقی،  فلموں، اسقاط  حمل  کی  ادویات،  سودی  کاروبار  اور  عورتوں  کی  تصاویر  پر  پابندی  عائد  کرنے  کا  حکم  بھی  موجود  تھا۔ اس  منصوبے  میں  حرکت الجہاد الاسلامی  کا  سربراہ  قاری  سیف اللہ اختر  بھی  شامل  تھا، جس  نے  مستنصر  باللہ کی  گاڑی  سے  برآمد  ہونے  والا  اسلحہ  فاٹا  سے  خرید ا  تھا  اور  جسکی  جماعت  کے  ارکان  نے  کانفرنس  پر  حملہ  کرنا  تھا۔    &lt;/p&gt;&lt;p&gt;(مشرف  حکومت  آتے  ہی  سب  سے  پہلے  کیے  گئے  اقدامات  میں  ایک  ظہیرالاسلام  کو  رہا  کرنا  بھی  تھا۔ قاری  سیف اللہ اختر  کو  ’مقتدر  حلقوں‘  نے  وعدہ  معاف  گواہ  کے  طور  پر  استعمال  کیا  اور  بعد ازاں  وہ  افغانستان  میں  ملا  عمر  کا  مشیر  رہا۔  افغانستان  پر  امریکی  حملے  کے  بعد  سیف اللہ اختر  سعودی  عرب  فرار  ہوا  اور  سن 2004ء  میں  دبئی  حکومت  نے  مشتبہ  کاروائیوں  کے  ضمن  میں  اسے  گرفتار  کر  کے  پاکستان  کے  حوالے  کیا۔ مشرف  اور  بینظیر  پر  قاتلانہ  حملوں  میں  اسکا  گروہ  ملوث  پایا  گیا۔)&lt;/p&gt;&lt;p&gt;سن  1995ء  میں  واشنگٹن  کے  پاکستانی  سفارت  خانے  میں  تعینات کردہ  ملٹری  اتاشی  بریگیڈیر  خالد  مقبول جعلی  نوٹوں  کا  کاروبار  کرتے  پکڑے  گئے۔  ان  کے  تیار  کردہ  جعلی  نوٹ  اس  قدر  اعلیٰ  نوعیت  کے  تھے  کہ  امریکی  محکمہ  خزانہ  کو  سو  ڈالر  کے  نوٹ  کا  ڈیزائن  تبدیل  کرنا  پڑا۔  خالد  مقبول  صاحب  کو  پاکستان  بھیج  دیا  گیا،  اور  مشرف  دور  میں  وہ  پنجاب  کے  گورنر  مقرر  ہوئے۔  &lt;/p&gt;&lt;p&gt;اس  سے  قبل  1994 ء  میں  دیر  سے  تعلق  رکھنے  والے  صوفی  محمد  نامی ایک  مولوی  نے  سوات  اور  مالاکنڈ  کے  علاقوں  میں  شریعت  نافذ  کرنے  کا  مطالبہ  کیا۔ سرکاری  دفاتر  بند  کر  دیے  گئے،  ہوائی  اڈے  پر  قبضہ  کر  لیا  گیا  اور  ٹریفک  روک  لی  گئی۔  ٹریفک  کو  بائیں  طرفہ  سے  دائیں  طرفہ  کرنے  کا  مطالبہ  بھی  کیا  گیا۔ پشاور  سے  بھیجے  گئے  جج  صاحبان  کو  محاصرے  میں  لے  لیا  گیا  اور  فسادات  کے  دوران  صوبائی  اسمبلی  کے  رکن  بدیع الزمان  خان  کو  قتل  کر  دیا  گیا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;تحقیقات  کے  مطابق  سوات  میں  شریعت  کے  نفاذ  سے  دراصل  والیء  سوات  کے  عہد  میں  کیے  جانے  والے  ’فوری  انصاف‘  کا  قیام  مقصود  تھا۔  والیء  سوات  کے  دور  حکومت  میں  سوات  کی  آبادی  چند  دیہات  پر  مشتمل  تھی  اور  ان  حالات  میں  حکمران  کے  لیے  جرم  کی  کوئی سزا  تجویز  کرنا  سہل  تھا۔  سن  1970ء  میں  ون  یونٹ  کے  اختتام  پر  سوات  میں  جدید  قانون  کی  بنیاد  پر  عدالتی  نظام  شروع  ہوا  تو  وہ  بزرگان  کرام  کو  سست  رفتاری  کے  باعث  پسند  نہیں   آیا۔  ایسے  میں  شریعت  کے  کندھے  پر  ’فوری  انصاف‘  کی  بندوق  رکھ  کر  چلائی  گئی۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;صوفی  محمد  نے  سن  1989ء  میں  دیر  کے  علاقے  میدان  میں  ’تحریک  نفاذ  شریعت  محمدی‘  نامی  جماعت  کی  بنیاد  رکھی۔  اس  جماعت  کے  بیشتر  ارکان  مختلف  مساجد  کے  ائمہ  اور  مدارس  کے  نگہبان  تھے۔  اس  جماعت  کے  مختلف  ارکان  نے  صوبائی  انتخابات  میں  حصہ  لیا  لیکن  کامیابی  حاصل  نہ  کر  سکے۔  صوفی  محمد  نے  جماعت  اسلامی  کے  ٹکٹ  پر  دیر  کے  حلقے  سے  صوبائی  انتخاب  میں  شرکت  کی  لیکن  ناکام  ٹھہرے۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;سوات  پر  حملہ  کرنے  والوں  میں  اکثریت  کا  تعلق  کوہستان،  دیر  اور  باجوڑ  ایجنسی  سے  تھا۔ عوام  کے  جذبات  کو  بھڑکانے  میں  جماعت  اسلامی  نے  بھرپور  کردار  ادا  کیا  اور  سوات  کے  واقعہ  سے  قبل  جماعت  کی  جانب  سے  بازاروں  میں  پمفلٹ  تقسیم  کیے  جاتے  رہے  جن  میں  شریعت  اور  ’اسلامی  نظام‘  کے  قیام  کی  خاطر  قربانی  دینے  کا  پیغام  موجود  ہوتا  تھا۔  حالات  اس  نہج  پر  پہنچ  گئے  کہ  فوج  کو  طلب  کرنا  پڑا۔ مختصر  تنازعے  کے  بعد  امن وامان  بحال  ہوا  اور  صوفی  محمد  کو  یہ  یقین  دہانی  کروائی  گئی  کہ  ان  کے  مطالبات  پر  بتدریج  عمل  کیا  جائے  گا۔  &lt;/p&gt;&lt;p&gt;(جاری  ہے) &lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ریفرنسز:&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p&gt;Nuclear Deception: The Dangerous Relationship Between the United States and Pakistan.
Adrian Levy,Catherine Scott-Clark &lt;/p&gt;&lt;p&gt;Pakistan in the Twentieth Century: A Political History. Lawrence Ziring. Oxford University Press&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ISLAMIC PAKISTAN: ILLUSIONS &amp;amp; REALITY By Abdus Sattar Ghazali
(http://www.ghazali.net/book1/contents.htm)&lt;/p&gt;&lt;p&gt;In the Killing Fields of Malakand&lt;br&gt;
(http://www.ishtiaqahmad.com/item&lt;em&gt;display.aspx?listing&lt;/em&gt;id=682&amp;amp;listing_type=1)&lt;/p&gt;&lt;p&gt; Pakistan&amp;#39;s Drift Into Extremism: Allah, then army and America&amp;#39;s war on Terror. Hassan Abbas&lt;/p&gt;&lt;p&gt; Constiutional and Political History of Pakistan. Hamid Khan. Second Edition. Oxford University Press &lt;/p&gt;&lt;p&gt;The Tale of HuJI. Amir Rana.
(http://www.dawn.com/news/1121785)&lt;/p&gt;&lt;p&gt;Pakistan: Eye of the Storm. Owen Bennet Jones&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یہ اس بلاگ کا چھٹا حصّہ ہے۔ <a href="http://urdu.dawn.com/news/1007544/28jul14-a-political-history-of-nineties-pakistan-am-abid-aq">پہلے</a>، <a href="http://urdu.dawn.com/news/1007720/04aug14-a-political-history-of-nineties-pakistan-2-am-abid-aq">دوسرے</a>، <a href="http://urdu.dawn.com/news/1008093/11aug14-a-political-history-of-nineties-pakistan-3-am-abid-aq">تیسرے</a>، <a href="http://urdu.dawn.com/news/1008413/25aug14-a-political-history-of-nineties-pakistan-4-am-abid-aq">چوتھے</a>، اور <a href="http://urdu.dawn.com/news/1009066/02sep14-a-political-history-of-nineties-pakistan-5-am-abid-aq">پانچویں</a> حصے کے لیے کلک کریں۔</strong></p><hr>
<p><strong>اپنے  گزشتہ  تجربات  کی  روشنی  میں  محترمہ  نے  اپنے  دوسرے  دورحکومت  میں  فوج  کو  کھلی  چھوٹ  دی۔  بینظیر  صاحبہ  کے  دوسرے  دور  کے  آغاز  میں  ہی  فوج  کے  ایک  اعلی  عہدے ڈائیرکٹر جنرل ملٹری آپریشنز (DGMO) پر پرویز  مشرف  نامی  صاحب  کو  تعینات  کیا  گیا۔ DGMO  بننے  کے  بعد  مشرف  نے  کشمیر  میں  جاری  ’جہاد‘  کو  مزید  فروغ  دینے  کے   لیے  بینظیر  صاحبہ  سے  اجازت  طلب  کی،  جو  کہ  عنایت  کر  دی  گئی۔</strong>  </p><p>’مجاہدین‘  کی  تلاش  میں  مشرف  صاحب  جماعت  اسلامی،  جمیعت  علمائے  اسلام  کے  پاس  گئے۔  اس  کے  علاوہ  انہوں  نے  لشکر  طیبہ  سے  وعدہ  کیا  کہ  انکے  تربیتی  کیمپوں  کے  تمام  جنگجوؤں  کی  ذمہ  داری  اٹھائی  جائے  گی۔  اسی  طرح  افغان  جنگ  کے  دوران  قائم  کردہ  دو  جماعتوں  کو  متحد  کر  کے  ’حرکت  الانصار‘  بنائی  گئی۔  اندازے  کے  مطابق  اس  دور  میں  پاکستانی  فوج  ہر  ماہ  اوسط  ساڑھے  سات  کروڑ  ڈالر  ان  ’مجاہدین‘  پر  خرچ  کر  رہی  تھی۔        </p><p>عالمی  سطح  پر  پاکستان  کو  مشکوک  نگاہوں  سے  دیکھا  جا  رہا  تھا،  جنوری  1994ء  میں  امریکہ  کی  جانب  سے  پاکستان  کو  ’ممکنہ  دہشت گرد  ممالک‘  کی  فہرست  میں  شامل  کر   لیا  گیا۔  محترمہ  بینظیر  نے  پاکستانی  فوجی،  اقوام  متحدہ  کے  امن  دستوں  میں  شرکت  کرنے  کے  لیے  بھیجنے  کا  فیصلہ  کیا  اور  صومالیہ  میں  امن  قائم  کرنے  کے  لیے  پانچ  ہزار  پاکستانی  فوجی  تعینات  کیے  گئے۔  آخر  کار  ستمبر  1995ء  میں  امریکی  ایوان  نے  پاکستان  پر  عائد  معاشی  پابندیاں  کم  کرنے  کا  بل  پاس  کیا۔  </p><p> کراچی  میں  لسانی  تنازعے  میں  اضافے  کے  باعث  فوج  کو  طلب  کیا  گیا   لیکن  دو  سال  قیام اور  دو  ہزار  لاشوں  کے  باوجود  امن  و  امان  کی  صورت  حال  پر  قابو  نہ  پایا  جا  سکا  اور  سنہ  1995ء  میں  وزیر  داخلہ  نصیر الدین  بابر  کی  سفارش  پر  رینجرز  کو  شہر  میں  تعینات  کیا  گیا۔ </p><p>اکتوبر  1995 ء  میں  فوجی  افسران  کی  ایک  سازش  بے  نقاب  ہوئی  جس  کے  مطابق  چند  فوجی  افسروں  نے  فوج  کی  اعلیٰ  قیادت،  صدر،  وزیر اعظم  اور  کچھ  وزراء  بشمول  آصف  علی  زرداری  کو  قتل  کرنے  کا  منصوبہ  بنایا  تھا  اور  اس  سازش (آپریشن  خلافت)  میں  فوج  کے  اعلیٰ افسران  بھی  ملوث  تھے۔ 26 ستمبر 1995ء  کو  فاٹا  سے  آنے  والے  برگیڈیئر  مستنصر  باللہ کی  گاڑی  کو  ایک  پولیس  چیک پوسٹ  پر  روکا  گیا  اور  اسکی  تلاشی  کے  نتیجے  میں  کلاشنکوف  اور  راکٹ  لانچر  برآمد  ہوئے۔  بریگیڈیئر  نے  رعب  جمانے  کی  کوشش  کی  اور  GHQ  سے  رابطہ  کیا  لیکن لائن  کٹ  چکی  تھی۔</p><p> تحقیقات  کے  مطابق  چھتیس  فوجی  افسران  اور  بیس  سویلین  اس  منصوبے  کا  حصہ  تھے  اور  یہ  سب  افراد،  ٹیکسلا  سے  تعلق  رکھنے  والے  تبلیغی  جماعت  کے  رکن،  مفتی  صوفی  اقبال  کے  مرید  تھے۔  صوفی  صاحب  اکثر  10  کور  ہیڈ کوارٹر  میں  درس  دیا  کرتے  تھے۔  ظہیر الاسلام  عباسی  کا  تعلق  بھی  تبلیغی  جماعت  سے  تھا  اور  وہ  افغانستان  کے  علاوہ  بھارت  میں  پاکستانی  خفیہ  اداروں  کی  جانب  سے  اپنی  خدمات  پیش  کر  چکے  تھے۔ انکا  منصوبہ  تھا  کہ  کور کمانڈروں  کی  کانفرنس  کے  دوران  GHQ  پر  حملہ  کر  کے  کانفرنس  کا  شرکاء  کو  موت  کے  گھاٹ  اتار  دیا  جائے  اور  ملک  میں  شریعت  کے  نفاذ  کا  اعلان  کیا  جائے۔</p><p>اس  کارروائی  کے  بعد  قوم  سے  خطاب  والی  تقریر  بھی  تیار  کی  جا  چکی  تھی  جس  کے  مطابق  ملک  کو  ایک  ’پاکستانی  سنی  مملکت،  قرار  دیا  جانا  تھا  جہاں  ’مکمل  اسلامی  نظام‘  نافذ  کیا  جانا  تھا۔ اس  تقریر  میں  موسیقی،  فلموں، اسقاط  حمل  کی  ادویات،  سودی  کاروبار  اور  عورتوں  کی  تصاویر  پر  پابندی  عائد  کرنے  کا  حکم  بھی  موجود  تھا۔ اس  منصوبے  میں  حرکت الجہاد الاسلامی  کا  سربراہ  قاری  سیف اللہ اختر  بھی  شامل  تھا، جس  نے  مستنصر  باللہ کی  گاڑی  سے  برآمد  ہونے  والا  اسلحہ  فاٹا  سے  خرید ا  تھا  اور  جسکی  جماعت  کے  ارکان  نے  کانفرنس  پر  حملہ  کرنا  تھا۔    </p><p>(مشرف  حکومت  آتے  ہی  سب  سے  پہلے  کیے  گئے  اقدامات  میں  ایک  ظہیرالاسلام  کو  رہا  کرنا  بھی  تھا۔ قاری  سیف اللہ اختر  کو  ’مقتدر  حلقوں‘  نے  وعدہ  معاف  گواہ  کے  طور  پر  استعمال  کیا  اور  بعد ازاں  وہ  افغانستان  میں  ملا  عمر  کا  مشیر  رہا۔  افغانستان  پر  امریکی  حملے  کے  بعد  سیف اللہ اختر  سعودی  عرب  فرار  ہوا  اور  سن 2004ء  میں  دبئی  حکومت  نے  مشتبہ  کاروائیوں  کے  ضمن  میں  اسے  گرفتار  کر  کے  پاکستان  کے  حوالے  کیا۔ مشرف  اور  بینظیر  پر  قاتلانہ  حملوں  میں  اسکا  گروہ  ملوث  پایا  گیا۔)</p><p>سن  1995ء  میں  واشنگٹن  کے  پاکستانی  سفارت  خانے  میں  تعینات کردہ  ملٹری  اتاشی  بریگیڈیر  خالد  مقبول جعلی  نوٹوں  کا  کاروبار  کرتے  پکڑے  گئے۔  ان  کے  تیار  کردہ  جعلی  نوٹ  اس  قدر  اعلیٰ  نوعیت  کے  تھے  کہ  امریکی  محکمہ  خزانہ  کو  سو  ڈالر  کے  نوٹ  کا  ڈیزائن  تبدیل  کرنا  پڑا۔  خالد  مقبول  صاحب  کو  پاکستان  بھیج  دیا  گیا،  اور  مشرف  دور  میں  وہ  پنجاب  کے  گورنر  مقرر  ہوئے۔  </p><p>اس  سے  قبل  1994 ء  میں  دیر  سے  تعلق  رکھنے  والے  صوفی  محمد  نامی ایک  مولوی  نے  سوات  اور  مالاکنڈ  کے  علاقوں  میں  شریعت  نافذ  کرنے  کا  مطالبہ  کیا۔ سرکاری  دفاتر  بند  کر  دیے  گئے،  ہوائی  اڈے  پر  قبضہ  کر  لیا  گیا  اور  ٹریفک  روک  لی  گئی۔  ٹریفک  کو  بائیں  طرفہ  سے  دائیں  طرفہ  کرنے  کا  مطالبہ  بھی  کیا  گیا۔ پشاور  سے  بھیجے  گئے  جج  صاحبان  کو  محاصرے  میں  لے  لیا  گیا  اور  فسادات  کے  دوران  صوبائی  اسمبلی  کے  رکن  بدیع الزمان  خان  کو  قتل  کر  دیا  گیا۔</p><p>تحقیقات  کے  مطابق  سوات  میں  شریعت  کے  نفاذ  سے  دراصل  والیء  سوات  کے  عہد  میں  کیے  جانے  والے  ’فوری  انصاف‘  کا  قیام  مقصود  تھا۔  والیء  سوات  کے  دور  حکومت  میں  سوات  کی  آبادی  چند  دیہات  پر  مشتمل  تھی  اور  ان  حالات  میں  حکمران  کے  لیے  جرم  کی  کوئی سزا  تجویز  کرنا  سہل  تھا۔  سن  1970ء  میں  ون  یونٹ  کے  اختتام  پر  سوات  میں  جدید  قانون  کی  بنیاد  پر  عدالتی  نظام  شروع  ہوا  تو  وہ  بزرگان  کرام  کو  سست  رفتاری  کے  باعث  پسند  نہیں   آیا۔  ایسے  میں  شریعت  کے  کندھے  پر  ’فوری  انصاف‘  کی  بندوق  رکھ  کر  چلائی  گئی۔ </p><p>صوفی  محمد  نے  سن  1989ء  میں  دیر  کے  علاقے  میدان  میں  ’تحریک  نفاذ  شریعت  محمدی‘  نامی  جماعت  کی  بنیاد  رکھی۔  اس  جماعت  کے  بیشتر  ارکان  مختلف  مساجد  کے  ائمہ  اور  مدارس  کے  نگہبان  تھے۔  اس  جماعت  کے  مختلف  ارکان  نے  صوبائی  انتخابات  میں  حصہ  لیا  لیکن  کامیابی  حاصل  نہ  کر  سکے۔  صوفی  محمد  نے  جماعت  اسلامی  کے  ٹکٹ  پر  دیر  کے  حلقے  سے  صوبائی  انتخاب  میں  شرکت  کی  لیکن  ناکام  ٹھہرے۔ </p><p>سوات  پر  حملہ  کرنے  والوں  میں  اکثریت  کا  تعلق  کوہستان،  دیر  اور  باجوڑ  ایجنسی  سے  تھا۔ عوام  کے  جذبات  کو  بھڑکانے  میں  جماعت  اسلامی  نے  بھرپور  کردار  ادا  کیا  اور  سوات  کے  واقعہ  سے  قبل  جماعت  کی  جانب  سے  بازاروں  میں  پمفلٹ  تقسیم  کیے  جاتے  رہے  جن  میں  شریعت  اور  ’اسلامی  نظام‘  کے  قیام  کی  خاطر  قربانی  دینے  کا  پیغام  موجود  ہوتا  تھا۔  حالات  اس  نہج  پر  پہنچ  گئے  کہ  فوج  کو  طلب  کرنا  پڑا۔ مختصر  تنازعے  کے  بعد  امن وامان  بحال  ہوا  اور  صوفی  محمد  کو  یہ  یقین  دہانی  کروائی  گئی  کہ  ان  کے  مطالبات  پر  بتدریج  عمل  کیا  جائے  گا۔  </p><p>(جاری  ہے) </p><hr>
<p><strong>ریفرنسز:</strong></p><p>Nuclear Deception: The Dangerous Relationship Between the United States and Pakistan.
Adrian Levy,Catherine Scott-Clark </p><p>Pakistan in the Twentieth Century: A Political History. Lawrence Ziring. Oxford University Press</p><p>ISLAMIC PAKISTAN: ILLUSIONS &amp; REALITY By Abdus Sattar Ghazali
(http://www.ghazali.net/book1/contents.htm)</p><p>In the Killing Fields of Malakand<br>
(http://www.ishtiaqahmad.com/item<em>display.aspx?listing</em>id=682&amp;listing_type=1)</p><p> Pakistan&#39;s Drift Into Extremism: Allah, then army and America&#39;s war on Terror. Hassan Abbas</p><p> Constiutional and Political History of Pakistan. Hamid Khan. Second Edition. Oxford University Press </p><p>The Tale of HuJI. Amir Rana.
(http://www.dawn.com/news/1121785)</p><p>Pakistan: Eye of the Storm. Owen Bennet Jones</p>]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1009206</guid>
      <pubDate>Mon, 15 Sep 2014 13:17:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبدالمجید عابد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2014/09/5409d3b61f230.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2014/09/5409d3b61f230.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
