<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Opinions</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 20:25:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 20:25:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انڈیا اور پاکستان کی ایک جیسی 7 چیزیں</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1010374/03oct2014-7-things-that-make-a-pakistani-feel-at-home-in-india-tahir-mehdi-bm-aq</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;1۔ پیں پیں، پاں پاں، اوئے تم!!!&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;&lt;p&gt;پاکستان کا ڈرائیونگ لائسنس انڈیا میں نہیں چل سکتا، لیکن یقین مانیے، پاکستان کی بے ہنگم ٹریفک میں سرکس کی طرح گاڑی چلانے سے آپ کے پاس جو ڈرائیونگ کا ہنر آتا ہے، وہ انڈیا میں گاڑی چلانے کے لیے بہت ضروری ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;آپ اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے کسی بھی طرح ڈرائیو کر سکتے ہیں، اور راستے میں دوسرے ڈرائیوروں کو گالیوں سے بھی نواز سکتے ہیں۔ لیکن اس سے بھی زیادہ &amp;quot;گھر والا&amp;quot; احساس تب ہوتا ہے، جب آپ روڈ پر کسی شخص سے جھگڑا مول لیں۔ پھر جو کچھ ایسے موقعوں پر پاکستان میں کیا جاتا ہے وہی کریں، اور کوئی نہیں جان پائے گا کہ آپ غیر ملکی ہیں۔ &lt;/p&gt;			&lt;table class='media  issue1144 w-full    media--uneven'&gt;
				&lt;tr&gt;&lt;td class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2014/09/542a7590ca947.jpg?r=45704637'  alt='ٹریفک کا عذاب، حیدرآباد کے پیراڈائز بریانی سینٹر سے ایک منظر۔' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
				
				&lt;tr&gt;&lt;td class="media__caption  "&gt;
					ٹریفک کا عذاب، حیدرآباد کے پیراڈائز بریانی سینٹر سے ایک منظر۔
				&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
			&lt;/table&gt;
&lt;hr&gt;
			&lt;table class='media  issue1144 w-full    media--uneven'&gt;
				&lt;tr&gt;&lt;td class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2014/09/542a75907e5a4.jpg?r=163351232'  alt='ارے نہیں، یہ پارکنگ ایریا نہیں ہے بلکہ روڈ ہے، یقین کریں گاڑیاں چل رہی ہیں' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
				
				&lt;tr&gt;&lt;td class="media__caption  "&gt;
					ارے نہیں، یہ پارکنگ ایریا نہیں ہے بلکہ روڈ ہے، یقین کریں گاڑیاں چل رہی ہیں
				&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
			&lt;/table&gt;
&lt;hr&gt;
			&lt;table class='media  issue1144 w-full    media--uneven'&gt;
				&lt;tr&gt;&lt;td class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2014/09/542a76a3f2b7d.jpg?r=1576053490'  alt='ہر کسی کو روڈ استعمال کرنے کا برابر حق ہے، چاہے بس ہو، گاڑی ہو، ٹھیلا ہو، یا پیدل شخص۔' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
				
				&lt;tr&gt;&lt;td class="media__caption  "&gt;
					ہر کسی کو روڈ استعمال کرنے کا برابر حق ہے، چاہے بس ہو، گاڑی ہو، ٹھیلا ہو، یا پیدل شخص۔
				&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
			&lt;/table&gt;
&lt;hr&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;2۔ میٹھی گرمیاں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p&gt;پاکستان اور انڈیا، دونوں ہی نے 1947 میں ایک ساتھ غیر ملکی حکمرانی سے نجات حاصل کی، اور قائد اعظم نے پہلا گورنر جنرل انڈیا کے ساتھ شیئر کرنے سے انکار کردیا۔ لیکن ہم دونوں ممالک اب بھی ایک ہی بادشاہ کے سامنے سر جھکاتے ہیں۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پھلوں کے بادشاہ، عالم پناہ آم کے سامنے۔&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;&lt;p&gt;انڈیا میں کسی پھلوں کے اسٹال پر کچھ نئے پھلوں کو موجود اور کچھ پھلوں کو نہ پا کر آپ کو حیرت ہوسکتی ہے، لیکن وہاں کھڑے رہنے سے آپ کو بالکل پاکستان جیسا ہی احساس ہوتا ہے۔ اور ہاں، وہاں پر آپ کو آموں کی ورائیٹی پر وہی بحث ملے گی، جو پاکستان میں اکثر ہوتی ہے، کہ کون سی ورائیٹی سب سے بہتر ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;اگر آپ سے کوئی آموں کی ورائیٹی پر بحث کرے، اور کہے کہ صرف الفونسو ہی سب سے بہتر ورائیٹی ہے، تو آپ آسانی سے بتا سکتے ہیں کہ وہ ممبئی سے تعلق نہیں رکھتا۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;بالکل اسی طرح، جس طرح اگر کوئی شخص چونسے کے سامنے سندھڑی کی شان میں اضافہ کرے، تو آپ بتا سکتے ہیں کہ آپ کے دوست کا تعلق سندھ سے ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;اور ایک بات اور، آپ جب بھی کسی مٹھائی کی دکان پر جائیں گے، تو آپ کو یہ دیکھ کر حیرت ہوگی، کہ وہاں بھی لڈو اتنے ہی گول، گلاب جامن اتنے ہی رسیلے، اور جلیبیاں اتنی ہی پیچیدہ ہوتی ہیں جتنی کہ پاکستان میں۔ &lt;/p&gt;			&lt;table class='media  issue1144 w-full    media--uneven'&gt;
				&lt;tr&gt;&lt;td class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2014/09/542a76a445829.jpg?r=511218464'  alt='انڈیا میں آموں کا سیزن مارچ کے اختتام پر شروع ہوتا ہے، اور جون کے اختتام پر پاکستان میں آموں کا موسم شروع ہونے پر ختم ہوجاتا ہے' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
				
				&lt;tr&gt;&lt;td class="media__caption  "&gt;
					انڈیا میں آموں کا سیزن مارچ کے اختتام پر شروع ہوتا ہے، اور جون کے اختتام پر پاکستان میں آموں کا موسم شروع ہونے پر ختم ہوجاتا ہے
				&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
			&lt;/table&gt;
&lt;hr&gt;
&lt;hr&gt;
			&lt;table class='media  issue1144 w-full    media--uneven'&gt;
				&lt;tr&gt;&lt;td class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2014/09/542a76a42479e.jpg?r=891683346'  alt='جس طرح پاکستان میں جگہ جگہ امرتسری اور جالندھری مٹھائیوں کی دکانیں پائی جاتی ہیں، اسی طرح سرحد کے اس پار لائلپوری اور لاہوری مٹھائیاں ملتی ہیں۔' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
				
				&lt;tr&gt;&lt;td class="media__caption  "&gt;
					جس طرح پاکستان میں جگہ جگہ امرتسری اور جالندھری مٹھائیوں کی دکانیں پائی جاتی ہیں، اسی طرح سرحد کے اس پار لائلپوری اور لاہوری مٹھائیاں ملتی ہیں۔
				&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
			&lt;/table&gt;
&lt;hr&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;3۔ صحیح چابی غلط چابی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اگر آپ ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے ہیں، تو تو ٹھیک ہے، لیکن اگر آپ اپنے کسی انڈین دوست یا رشتے دار کے ساتھ ٹھہرے ہوئے ہیں، تو پھر تو آپ کو ضرور گھر جیسا ہی لگے گا کیونکہ دونوں ملکوں میں کنڈیاں، تالے، نلکے، اور سوئچ ہر جگہ ہمیشہ مسئلے ہی پیدا کرتے ہیں۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;کوئی پلگ ساکٹ میں ٹھیک سے فکس نہیں ہوتا، بلکہ اتنا ڈھیلا ہوتا ہے کہ کبھی بھی یہ نہیں ہوسکتا کہ آپ کوئی بیٹری چارج پر لگا کر سوجائیں، اور آپ کے اٹھنے تک وہ چارج ہوچکی ہو۔ کسی نلکے میں پانی اس طرح نہیں آتا، جس طرح ایک غیر ملکی توقع کرتا ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;ارے یہ میں ہوں، کیا تم نے مجھے غلط چابی دے دی تھی؟ یہ نہیں لگ رہی۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;ارے نہیں میں بتانا بھول گیا تھا۔ دروازے کو تھوڑا سا دھکا دو، چابی کو ذرا دبا کر گھماؤ۔ یہ ایسے نہیں کھلتا۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;لیکن یورپی ممالک میں یہ ساری چیزیں اتنی پرفیکٹ ہوتی ہیں، کہ آپ اپنے میزبانوں سے کبھی بھی اس طرح کی بات چیت نہیں کرسکتے۔ لیکن انڈیا پاکستان میں؟ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;یہاں تو اس طرح کی ساری چیزوں کا ایک ذاتی ہدایت نامہ ہوتا ہے جو سینہ بہ سینہ منتقل ہوتا رہتا ہے۔ ان ہدایات پر عمل کر کے آپ آسانی سے پلگ، نلکوں، اور کنڈی تالوں کو شکست دے سکتے ہیں۔ &lt;/p&gt;			&lt;table class='media  issue1144 w-full    media--uneven'&gt;
				&lt;tr&gt;&lt;td class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2014/09/542a76b90d43f.jpg?r=1695099843'  alt='چابی والے کی یہ دکان پاکستان میں ہے یا انڈیا میں؟ آپ ہی بتائیں۔' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
				
				&lt;tr&gt;&lt;td class="media__caption  "&gt;
					چابی والے کی یہ دکان پاکستان میں ہے یا انڈیا میں؟ آپ ہی بتائیں۔
				&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
			&lt;/table&gt;
&lt;hr&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;4۔ چینی اور دودھ کا ملاپ، چائے&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اگر آپ مختلف ملکوں میں چائے آرڈر کریں، تو آپ کو چائے کے نام پر مختلف چیزیں تھما دی جاتی ہیں۔ وسطی ایشیا میں آپ کو قہوہ ملے گا، برطانیہ میں کالی چائے کے ساتھ دودھ اور چینی الگ سے، اور دوسرے ممالک میں دوسرے طرح۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;لیکن آپ کو انڈیا میں چائے کے نام پر وہی چائے ملے گی، جو سرحد کے اِس پار ملتی ہے، اتنی ہی میٹھی، اتنے ہی دودھ کے ساتھ، اور اتنی ہی گرم۔ ہاں اس کے نام مختلف ہوسکتے ہیں، جیسے کہ حیدرآباد میں اسے گولڈن کہا جاتا ہے۔ چائے پینے کا صرف ایک مقصد ہوتا ہے، کہ خون میں چینی اور دودھ کے بہاؤ میں اضافہ کیا جائے۔ چائے کی پتی تو صرف رنگ کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;اور ہاں، چائے ہمیشہ صرف ایک ہاتھ کے فاصلے پر ہی ہوتی ہے، کیونکہ بے تحاشہ ٹھیلے، اسٹال، اور ہوٹل ہر جگہ موجود ہوتے ہیں۔ اگر آپ کو چائے کی طلب ہورہی ہے، لیکن آپ کو کہیں چائے دکھائی نہیں دے رہی، تو ڈھونڈنے میں وقت ضائع کرنے کے بجائے وہیں انتظار کریں، تھوڑی ہی دیر میں کوئی نا کوئی چائے والا تھرموس اور پیپر کپ لیے آپ کے سامنے موجود ہوگا۔ &lt;/p&gt;			&lt;table class='media  issue1144 w-full    media--uneven'&gt;
				&lt;tr&gt;&lt;td class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2014/09/542a76b897c06.jpg?r=771343905'  alt='امرتسر۔لدھیانہ روڈ پر موجود ایک چائے کا ہوٹل جہاں پنجابی کلچر کی جھلک دیکھی جاسکتی ہے۔' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
				
				&lt;tr&gt;&lt;td class="media__caption  "&gt;
					امرتسر۔لدھیانہ روڈ پر موجود ایک چائے کا ہوٹل جہاں پنجابی کلچر کی جھلک دیکھی جاسکتی ہے۔
				&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
			&lt;/table&gt;
&lt;hr&gt;
			&lt;table class='media  issue1144 w-full    media--uneven'&gt;
				&lt;tr&gt;&lt;td class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2014/09/542a77148b34d.jpg?r=277610782'  alt='چائے ہر جگہ دستیاب ہے، آپ روڈ پر اپنے دوست کا انتظار کرتے ہوئے بھی اس کا مزہ لے سکتے ہیں۔' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
				
				&lt;tr&gt;&lt;td class="media__caption  "&gt;
					چائے ہر جگہ دستیاب ہے، آپ روڈ پر اپنے دوست کا انتظار کرتے ہوئے بھی اس کا مزہ لے سکتے ہیں۔
				&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
			&lt;/table&gt;
&lt;hr&gt;
			&lt;table class='media  issue1144 w-full    media--uneven'&gt;
				&lt;tr&gt;&lt;td class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2014/09/542a76b8f1664.jpg?r=1727945001'  alt='تھک گئے ہیں؟ ایک اور کپ کے بارے میں کیا خیال ہے؟' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
				
				&lt;tr&gt;&lt;td class="media__caption  "&gt;
					تھک گئے ہیں؟ ایک اور کپ کے بارے میں کیا خیال ہے؟
				&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
			&lt;/table&gt;
&lt;hr&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;5۔ رام اور رحیم&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;&lt;p&gt;اس کے لیے آپ کو سطح سے تھوڑا نیچے جھانکنا پڑے گا، تب ہی آپ جان پائیں گے کہ عقائد کے حوالے سے دونوں ممالک کا کلچر بھی ایک ہی جیسا ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;کوئی بھی درخت، جو کافی پرانا ہوچکا ہے، اس کے نیچے آپ کو کوئی نا کوئی بابا بیٹھا ملے گا۔ بس یہ ہوتا ہے کہ وہ سبز پرچموں کے بجائے مورتیاں سجا کر اپنی موجودگی کی اطلاع دیتے ہیں، لیکن چندے کا ڈبہ بالکل ویسے ہی ہوتا ہے جیسے پاکستان میں۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;ہر لاری، ہر رکشے اور موٹرسائیکل کے ساتھ مقدس نام یا نشانات ویسے ہی لٹکتے ہوئے پائے جاتے ہیں، جیسے ہمارے پاس سفر کی دعا لٹکائی جاتی ہے۔ 
دولتمند مڈل کلاس میں سے پارسا قسم کے لوگ اپنے گھروں کے کچھ حصے کو عبادت کے لیے مختص کر دیتے ہیں، جہاں درس، ورد، یا نعرے بازی فل آواز میں کی جاسکتی ہے، اور کسی کی ہمت نہیں ہوگی، کہ اس شور شرابے پر اعتراض اٹھا سکے۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;ایک دوست نے مجھے ایک مندر کا مینار دکھایا، اور فخر سے بتایا کہ یہ ان کے علاقے کا سب سے بلند مینار ہے۔ ظاہر ہے، مجھے حیرت نہیں ہوئی کیونکہ میرا تعلق ایسے ملک سے ہے جہاں مساجد کے مینار ساتویں آسمان تک پہنچنے کے لیے آپس میں مقابلہ کرتے نظر آتے ہیں۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;دونوں ہی ممالک میں سائز کی بہت اہمیت ہے۔ &lt;/p&gt;			&lt;table class='media  issue1144 w-full    media--uneven'&gt;
				&lt;tr&gt;&lt;td class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2014/09/542a775eeb40a.jpg?r=118821312'  alt='پرانے درختوں کے نیچے کوئی نا کوئی مذہبی ڈیرہ ضرور ہوتا ہے۔' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
				
				&lt;tr&gt;&lt;td class="media__caption  "&gt;
					پرانے درختوں کے نیچے کوئی نا کوئی مذہبی ڈیرہ ضرور ہوتا ہے۔
				&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
			&lt;/table&gt;
&lt;hr&gt;
			&lt;table class='media  issue1144 w-full    media--uneven'&gt;
				&lt;tr&gt;&lt;td class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2014/09/542a775ed407e.jpg?r=1517046465'  alt='ایک مقدس گائے چندہ وصول کر رہی ہے۔' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
				
				&lt;tr&gt;&lt;td class="media__caption  "&gt;
					ایک مقدس گائے چندہ وصول کر رہی ہے۔
				&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
			&lt;/table&gt;
&lt;hr&gt;
			&lt;table class='media  issue1144 w-full  '&gt;
				&lt;tr&gt;&lt;td class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2014/09/542a881798af5.jpg?r=1323292587'  alt='ان سڑکوں پر گاڑی چلانے کے لیے واقعی اوپر والے کی مدد کی ضرورت ہے۔' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
				
				&lt;tr&gt;&lt;td class="media__caption  "&gt;
					ان سڑکوں پر گاڑی چلانے کے لیے واقعی اوپر والے کی مدد کی ضرورت ہے۔
				&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
			&lt;/table&gt;
&lt;hr&gt;
			&lt;table class='media  issue1144 w-full    media--uneven'&gt;
				&lt;tr&gt;&lt;td class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2014/09/542a775de9852.jpg?r=1110384827'  alt='اس مندر نے روایتی طرزِ تعمیر کے بجائے پانی کی ٹنکیوں جیسے ڈیزائن کا انتخاب کیا۔' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
				
				&lt;tr&gt;&lt;td class="media__caption  "&gt;
					اس مندر نے روایتی طرزِ تعمیر کے بجائے پانی کی ٹنکیوں جیسے ڈیزائن کا انتخاب کیا۔
				&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
			&lt;/table&gt;
&lt;hr&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;6۔ آئیں بھائی یہاں آئیں، سب سے سستا۔۔۔&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;&lt;p&gt;انڈیا کی کسی گلی یا بازار میں چل کر تو دیکھیں، ہر آواز، ہر چیز کے ساتھ آپ کو پاکستان کا سا احساس ہوتا ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;فٹ پاتھ کے بیچوں بیچ موجود کھلے مین ہول کے اوپر سے چھلانگ مار کر گزرنا۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;آوارہ کتوں اور کچرے کے ڈھیروں سے بچ کر چلنا۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;بھکاریوں سے جان چھڑانے کے لیے وہی پاکستانی طریقے استعمال کرنا۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;اور ٹھیلوں پتھاروں سے لدی ہوئی سڑکوں پر چلنے کے لیے جگہ ڈھونڈنا۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;حد سے زیادہ ایکٹیو ٹھیلے اور دکان والے آپ کو دیکھتے رہتے ہیں، اور پھر اچانک آپ کو آواز دے کر بلاتے ہیں۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;آجائیں بھائی آجائیں، یہاں دیکھیں، یہ چیز آپ کو کہیں نہیں ملے، بھابھی کے لیے لے جائیں، بچوں کے لیے لے جائیں۔ بازار میں اس سب سے نمٹنے کے علاوہ آپ گول گپوں، پکوڑوں، بھٹوں، اور سموسوں سے بھی لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;اگر رات کو دیر ہوگئی ہے، یا اگلے دن چھٹی ہے، تو آپ اسٹریٹ کرکٹ کا بھی مزہ لے سکتے ہیں، جس میں کچھ بھاری چیزوں سے اسٹرائیکر کی طرف کی وکٹ کا کام لیا جاتا ہے، اور چپلوں کے ڈھیر سے نان۔اسٹرائیکر کی طرف کی وکٹ کا۔ &lt;/p&gt;			&lt;table class='media  issue1144 w-full    media--uneven'&gt;
				&lt;tr&gt;&lt;td class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2014/09/542a775ed3201.jpg?r=313710688'  alt='بہن جی، بھائی جی، ادھر آجاؤ، سب سے سستا لگا دیا ہے۔' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
				
				&lt;tr&gt;&lt;td class="media__caption  "&gt;
					بہن جی، بھائی جی، ادھر آجاؤ، سب سے سستا لگا دیا ہے۔
				&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
			&lt;/table&gt;
&lt;hr&gt;
			&lt;table class='media  issue1144 w-full    media--uneven'&gt;
				&lt;tr&gt;&lt;td class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2014/09/542a775e04810.jpg?r=1916033307'  alt='بال ایک بورڈ کے پیچھے پھنس گئی، اور پھر جھگڑا کہ کس کی غلطی ہے اور کس کی نہیں۔' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
				
				&lt;tr&gt;&lt;td class="media__caption  "&gt;
					بال ایک بورڈ کے پیچھے پھنس گئی، اور پھر جھگڑا کہ کس کی غلطی ہے اور کس کی نہیں۔
				&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
			&lt;/table&gt;
&lt;hr&gt;
			&lt;table class='media  issue1144 w-full    media--uneven'&gt;
				&lt;tr&gt;&lt;td class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2014/09/542a776144d0a.jpg?r=504187558'  alt='اگر مقامی زبان میں لکھا ہوا دکان کا بورڈ نظر نہیں آرہا، تو آپ نہیں بتا سکتے کہ یہ انڈیا ہے یا پاکستان۔' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
				
				&lt;tr&gt;&lt;td class="media__caption  "&gt;
					اگر مقامی زبان میں لکھا ہوا دکان کا بورڈ نظر نہیں آرہا، تو آپ نہیں بتا سکتے کہ یہ انڈیا ہے یا پاکستان۔
				&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
			&lt;/table&gt;
&lt;hr&gt;
			&lt;table class='media  issue1144 w-full    media--uneven'&gt;
				&lt;tr&gt;&lt;td class='media__item  '&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2014/09/542a77622ac8a.jpg?r=743517768'  alt='اگر آپ کے پاس ٹائم نہیں ہے تو سستے اور جانے پہچانے اسنیکس مکمل کھانے کا متبادل ثابت ہوتے ہیں۔' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
				
				&lt;tr&gt;&lt;td class="media__caption  "&gt;
					اگر آپ کے پاس ٹائم نہیں ہے تو سستے اور جانے پہچانے اسنیکس مکمل کھانے کا متبادل ثابت ہوتے ہیں۔
				&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
			&lt;/table&gt;
&lt;hr&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;7۔ کسی پاکستانی کے لیے سب سے زیادہ خوشی کب؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p&gt;میں نے پہلے ہی لکھا، کہ کس طرح پاکستان اور انڈیا میں کنڈیوں اور تالوں کے ساتھ ایک زبانی ہدایت نامہ ضروری ہوتا ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;اب جب کہ آپ اس ہدایت نامے پر عمل کر کے ٹوائلٹ میں دوسروں کی نظروں سے محفوظ ہوچکے ہیں، تو آپ کی حیرانگی اور خوشی میں اضافہ کرنے کے لیے ایک اور چیز موجود ہے، جس سے آپ کو پاکستان جیسا ہی محسوس ہوگا۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;جی ہاں، لوٹا۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;جو لوگ ترقی یافتہ ممالک کا سفر کر چکے ہیں، صرف وہ ہی اس لگژری، اس نعمت کی صحیح قیمت جانتے ہیں۔ ایک پاکستانی کو انڈیا میں پاکستان کا احساس دلانے کے لیے لوٹے سے بہتر کوئی چیز نہیں ہوسکتی۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;&lt;a href="http://www.dawn.com/news/1135108/7-things-that-make-a-pakistani-feel-at-home-in-india"&gt;انگلش میں پڑھیں۔&lt;/a&gt; &lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p&gt;لکھاری حال ہی میں ڈان کے لیے 2014 لوک سبھا انتخابات کور کرنے کے لیے انڈیا کا سفر کر چکے ہیں۔ &lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>1۔ پیں پیں، پاں پاں، اوئے تم!!!</strong> </p><p>پاکستان کا ڈرائیونگ لائسنس انڈیا میں نہیں چل سکتا، لیکن یقین مانیے، پاکستان کی بے ہنگم ٹریفک میں سرکس کی طرح گاڑی چلانے سے آپ کے پاس جو ڈرائیونگ کا ہنر آتا ہے، وہ انڈیا میں گاڑی چلانے کے لیے بہت ضروری ہے۔ </p><p>آپ اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے کسی بھی طرح ڈرائیو کر سکتے ہیں، اور راستے میں دوسرے ڈرائیوروں کو گالیوں سے بھی نواز سکتے ہیں۔ لیکن اس سے بھی زیادہ &quot;گھر والا&quot; احساس تب ہوتا ہے، جب آپ روڈ پر کسی شخص سے جھگڑا مول لیں۔ پھر جو کچھ ایسے موقعوں پر پاکستان میں کیا جاتا ہے وہی کریں، اور کوئی نہیں جان پائے گا کہ آپ غیر ملکی ہیں۔ </p>			<table class='media  issue1144 w-full    media--uneven'>
				<tr><td class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2014/09/542a7590ca947.jpg?r=45704637'  alt='ٹریفک کا عذاب، حیدرآباد کے پیراڈائز بریانی سینٹر سے ایک منظر۔' /></td></tr>
				
				<tr><td class="media__caption  ">
					ٹریفک کا عذاب، حیدرآباد کے پیراڈائز بریانی سینٹر سے ایک منظر۔
				</td></tr>
			</table>
<hr>
			<table class='media  issue1144 w-full    media--uneven'>
				<tr><td class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2014/09/542a75907e5a4.jpg?r=163351232'  alt='ارے نہیں، یہ پارکنگ ایریا نہیں ہے بلکہ روڈ ہے، یقین کریں گاڑیاں چل رہی ہیں' /></td></tr>
				
				<tr><td class="media__caption  ">
					ارے نہیں، یہ پارکنگ ایریا نہیں ہے بلکہ روڈ ہے، یقین کریں گاڑیاں چل رہی ہیں
				</td></tr>
			</table>
<hr>
			<table class='media  issue1144 w-full    media--uneven'>
				<tr><td class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2014/09/542a76a3f2b7d.jpg?r=1576053490'  alt='ہر کسی کو روڈ استعمال کرنے کا برابر حق ہے، چاہے بس ہو، گاڑی ہو، ٹھیلا ہو، یا پیدل شخص۔' /></td></tr>
				
				<tr><td class="media__caption  ">
					ہر کسی کو روڈ استعمال کرنے کا برابر حق ہے، چاہے بس ہو، گاڑی ہو، ٹھیلا ہو، یا پیدل شخص۔
				</td></tr>
			</table>
<hr>
<p><strong>2۔ میٹھی گرمیاں</strong></p><p>پاکستان اور انڈیا، دونوں ہی نے 1947 میں ایک ساتھ غیر ملکی حکمرانی سے نجات حاصل کی، اور قائد اعظم نے پہلا گورنر جنرل انڈیا کے ساتھ شیئر کرنے سے انکار کردیا۔ لیکن ہم دونوں ممالک اب بھی ایک ہی بادشاہ کے سامنے سر جھکاتے ہیں۔ </p><p><strong>پھلوں کے بادشاہ، عالم پناہ آم کے سامنے۔</strong> </p><p>انڈیا میں کسی پھلوں کے اسٹال پر کچھ نئے پھلوں کو موجود اور کچھ پھلوں کو نہ پا کر آپ کو حیرت ہوسکتی ہے، لیکن وہاں کھڑے رہنے سے آپ کو بالکل پاکستان جیسا ہی احساس ہوتا ہے۔ اور ہاں، وہاں پر آپ کو آموں کی ورائیٹی پر وہی بحث ملے گی، جو پاکستان میں اکثر ہوتی ہے، کہ کون سی ورائیٹی سب سے بہتر ہے۔ </p><p>اگر آپ سے کوئی آموں کی ورائیٹی پر بحث کرے، اور کہے کہ صرف الفونسو ہی سب سے بہتر ورائیٹی ہے، تو آپ آسانی سے بتا سکتے ہیں کہ وہ ممبئی سے تعلق نہیں رکھتا۔ </p><p>بالکل اسی طرح، جس طرح اگر کوئی شخص چونسے کے سامنے سندھڑی کی شان میں اضافہ کرے، تو آپ بتا سکتے ہیں کہ آپ کے دوست کا تعلق سندھ سے ہے۔ </p><p>اور ایک بات اور، آپ جب بھی کسی مٹھائی کی دکان پر جائیں گے، تو آپ کو یہ دیکھ کر حیرت ہوگی، کہ وہاں بھی لڈو اتنے ہی گول، گلاب جامن اتنے ہی رسیلے، اور جلیبیاں اتنی ہی پیچیدہ ہوتی ہیں جتنی کہ پاکستان میں۔ </p>			<table class='media  issue1144 w-full    media--uneven'>
				<tr><td class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2014/09/542a76a445829.jpg?r=511218464'  alt='انڈیا میں آموں کا سیزن مارچ کے اختتام پر شروع ہوتا ہے، اور جون کے اختتام پر پاکستان میں آموں کا موسم شروع ہونے پر ختم ہوجاتا ہے' /></td></tr>
				
				<tr><td class="media__caption  ">
					انڈیا میں آموں کا سیزن مارچ کے اختتام پر شروع ہوتا ہے، اور جون کے اختتام پر پاکستان میں آموں کا موسم شروع ہونے پر ختم ہوجاتا ہے
				</td></tr>
			</table>
<hr>
<hr>
			<table class='media  issue1144 w-full    media--uneven'>
				<tr><td class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2014/09/542a76a42479e.jpg?r=891683346'  alt='جس طرح پاکستان میں جگہ جگہ امرتسری اور جالندھری مٹھائیوں کی دکانیں پائی جاتی ہیں، اسی طرح سرحد کے اس پار لائلپوری اور لاہوری مٹھائیاں ملتی ہیں۔' /></td></tr>
				
				<tr><td class="media__caption  ">
					جس طرح پاکستان میں جگہ جگہ امرتسری اور جالندھری مٹھائیوں کی دکانیں پائی جاتی ہیں، اسی طرح سرحد کے اس پار لائلپوری اور لاہوری مٹھائیاں ملتی ہیں۔
				</td></tr>
			</table>
<hr>
<p><strong>3۔ صحیح چابی غلط چابی</strong></p><p>اگر آپ ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے ہیں، تو تو ٹھیک ہے، لیکن اگر آپ اپنے کسی انڈین دوست یا رشتے دار کے ساتھ ٹھہرے ہوئے ہیں، تو پھر تو آپ کو ضرور گھر جیسا ہی لگے گا کیونکہ دونوں ملکوں میں کنڈیاں، تالے، نلکے، اور سوئچ ہر جگہ ہمیشہ مسئلے ہی پیدا کرتے ہیں۔ </p><p>کوئی پلگ ساکٹ میں ٹھیک سے فکس نہیں ہوتا، بلکہ اتنا ڈھیلا ہوتا ہے کہ کبھی بھی یہ نہیں ہوسکتا کہ آپ کوئی بیٹری چارج پر لگا کر سوجائیں، اور آپ کے اٹھنے تک وہ چارج ہوچکی ہو۔ کسی نلکے میں پانی اس طرح نہیں آتا، جس طرح ایک غیر ملکی توقع کرتا ہے۔ </p><p>ارے یہ میں ہوں، کیا تم نے مجھے غلط چابی دے دی تھی؟ یہ نہیں لگ رہی۔ </p><p>ارے نہیں میں بتانا بھول گیا تھا۔ دروازے کو تھوڑا سا دھکا دو، چابی کو ذرا دبا کر گھماؤ۔ یہ ایسے نہیں کھلتا۔ </p><p>لیکن یورپی ممالک میں یہ ساری چیزیں اتنی پرفیکٹ ہوتی ہیں، کہ آپ اپنے میزبانوں سے کبھی بھی اس طرح کی بات چیت نہیں کرسکتے۔ لیکن انڈیا پاکستان میں؟ </p><p>یہاں تو اس طرح کی ساری چیزوں کا ایک ذاتی ہدایت نامہ ہوتا ہے جو سینہ بہ سینہ منتقل ہوتا رہتا ہے۔ ان ہدایات پر عمل کر کے آپ آسانی سے پلگ، نلکوں، اور کنڈی تالوں کو شکست دے سکتے ہیں۔ </p>			<table class='media  issue1144 w-full    media--uneven'>
				<tr><td class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2014/09/542a76b90d43f.jpg?r=1695099843'  alt='چابی والے کی یہ دکان پاکستان میں ہے یا انڈیا میں؟ آپ ہی بتائیں۔' /></td></tr>
				
				<tr><td class="media__caption  ">
					چابی والے کی یہ دکان پاکستان میں ہے یا انڈیا میں؟ آپ ہی بتائیں۔
				</td></tr>
			</table>
<hr>
<p><strong>4۔ چینی اور دودھ کا ملاپ، چائے</strong></p><p>اگر آپ مختلف ملکوں میں چائے آرڈر کریں، تو آپ کو چائے کے نام پر مختلف چیزیں تھما دی جاتی ہیں۔ وسطی ایشیا میں آپ کو قہوہ ملے گا، برطانیہ میں کالی چائے کے ساتھ دودھ اور چینی الگ سے، اور دوسرے ممالک میں دوسرے طرح۔ </p><p>لیکن آپ کو انڈیا میں چائے کے نام پر وہی چائے ملے گی، جو سرحد کے اِس پار ملتی ہے، اتنی ہی میٹھی، اتنے ہی دودھ کے ساتھ، اور اتنی ہی گرم۔ ہاں اس کے نام مختلف ہوسکتے ہیں، جیسے کہ حیدرآباد میں اسے گولڈن کہا جاتا ہے۔ چائے پینے کا صرف ایک مقصد ہوتا ہے، کہ خون میں چینی اور دودھ کے بہاؤ میں اضافہ کیا جائے۔ چائے کی پتی تو صرف رنگ کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ </p><p>اور ہاں، چائے ہمیشہ صرف ایک ہاتھ کے فاصلے پر ہی ہوتی ہے، کیونکہ بے تحاشہ ٹھیلے، اسٹال، اور ہوٹل ہر جگہ موجود ہوتے ہیں۔ اگر آپ کو چائے کی طلب ہورہی ہے، لیکن آپ کو کہیں چائے دکھائی نہیں دے رہی، تو ڈھونڈنے میں وقت ضائع کرنے کے بجائے وہیں انتظار کریں، تھوڑی ہی دیر میں کوئی نا کوئی چائے والا تھرموس اور پیپر کپ لیے آپ کے سامنے موجود ہوگا۔ </p>			<table class='media  issue1144 w-full    media--uneven'>
				<tr><td class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2014/09/542a76b897c06.jpg?r=771343905'  alt='امرتسر۔لدھیانہ روڈ پر موجود ایک چائے کا ہوٹل جہاں پنجابی کلچر کی جھلک دیکھی جاسکتی ہے۔' /></td></tr>
				
				<tr><td class="media__caption  ">
					امرتسر۔لدھیانہ روڈ پر موجود ایک چائے کا ہوٹل جہاں پنجابی کلچر کی جھلک دیکھی جاسکتی ہے۔
				</td></tr>
			</table>
<hr>
			<table class='media  issue1144 w-full    media--uneven'>
				<tr><td class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2014/09/542a77148b34d.jpg?r=277610782'  alt='چائے ہر جگہ دستیاب ہے، آپ روڈ پر اپنے دوست کا انتظار کرتے ہوئے بھی اس کا مزہ لے سکتے ہیں۔' /></td></tr>
				
				<tr><td class="media__caption  ">
					چائے ہر جگہ دستیاب ہے، آپ روڈ پر اپنے دوست کا انتظار کرتے ہوئے بھی اس کا مزہ لے سکتے ہیں۔
				</td></tr>
			</table>
<hr>
			<table class='media  issue1144 w-full    media--uneven'>
				<tr><td class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2014/09/542a76b8f1664.jpg?r=1727945001'  alt='تھک گئے ہیں؟ ایک اور کپ کے بارے میں کیا خیال ہے؟' /></td></tr>
				
				<tr><td class="media__caption  ">
					تھک گئے ہیں؟ ایک اور کپ کے بارے میں کیا خیال ہے؟
				</td></tr>
			</table>
<hr>
<p><strong>5۔ رام اور رحیم</strong> </p><p>اس کے لیے آپ کو سطح سے تھوڑا نیچے جھانکنا پڑے گا، تب ہی آپ جان پائیں گے کہ عقائد کے حوالے سے دونوں ممالک کا کلچر بھی ایک ہی جیسا ہے۔ </p><p>کوئی بھی درخت، جو کافی پرانا ہوچکا ہے، اس کے نیچے آپ کو کوئی نا کوئی بابا بیٹھا ملے گا۔ بس یہ ہوتا ہے کہ وہ سبز پرچموں کے بجائے مورتیاں سجا کر اپنی موجودگی کی اطلاع دیتے ہیں، لیکن چندے کا ڈبہ بالکل ویسے ہی ہوتا ہے جیسے پاکستان میں۔ </p><p>ہر لاری، ہر رکشے اور موٹرسائیکل کے ساتھ مقدس نام یا نشانات ویسے ہی لٹکتے ہوئے پائے جاتے ہیں، جیسے ہمارے پاس سفر کی دعا لٹکائی جاتی ہے۔ 
دولتمند مڈل کلاس میں سے پارسا قسم کے لوگ اپنے گھروں کے کچھ حصے کو عبادت کے لیے مختص کر دیتے ہیں، جہاں درس، ورد، یا نعرے بازی فل آواز میں کی جاسکتی ہے، اور کسی کی ہمت نہیں ہوگی، کہ اس شور شرابے پر اعتراض اٹھا سکے۔ </p><p>ایک دوست نے مجھے ایک مندر کا مینار دکھایا، اور فخر سے بتایا کہ یہ ان کے علاقے کا سب سے بلند مینار ہے۔ ظاہر ہے، مجھے حیرت نہیں ہوئی کیونکہ میرا تعلق ایسے ملک سے ہے جہاں مساجد کے مینار ساتویں آسمان تک پہنچنے کے لیے آپس میں مقابلہ کرتے نظر آتے ہیں۔ </p><p>دونوں ہی ممالک میں سائز کی بہت اہمیت ہے۔ </p>			<table class='media  issue1144 w-full    media--uneven'>
				<tr><td class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2014/09/542a775eeb40a.jpg?r=118821312'  alt='پرانے درختوں کے نیچے کوئی نا کوئی مذہبی ڈیرہ ضرور ہوتا ہے۔' /></td></tr>
				
				<tr><td class="media__caption  ">
					پرانے درختوں کے نیچے کوئی نا کوئی مذہبی ڈیرہ ضرور ہوتا ہے۔
				</td></tr>
			</table>
<hr>
			<table class='media  issue1144 w-full    media--uneven'>
				<tr><td class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2014/09/542a775ed407e.jpg?r=1517046465'  alt='ایک مقدس گائے چندہ وصول کر رہی ہے۔' /></td></tr>
				
				<tr><td class="media__caption  ">
					ایک مقدس گائے چندہ وصول کر رہی ہے۔
				</td></tr>
			</table>
<hr>
			<table class='media  issue1144 w-full  '>
				<tr><td class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2014/09/542a881798af5.jpg?r=1323292587'  alt='ان سڑکوں پر گاڑی چلانے کے لیے واقعی اوپر والے کی مدد کی ضرورت ہے۔' /></td></tr>
				
				<tr><td class="media__caption  ">
					ان سڑکوں پر گاڑی چلانے کے لیے واقعی اوپر والے کی مدد کی ضرورت ہے۔
				</td></tr>
			</table>
<hr>
			<table class='media  issue1144 w-full    media--uneven'>
				<tr><td class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2014/09/542a775de9852.jpg?r=1110384827'  alt='اس مندر نے روایتی طرزِ تعمیر کے بجائے پانی کی ٹنکیوں جیسے ڈیزائن کا انتخاب کیا۔' /></td></tr>
				
				<tr><td class="media__caption  ">
					اس مندر نے روایتی طرزِ تعمیر کے بجائے پانی کی ٹنکیوں جیسے ڈیزائن کا انتخاب کیا۔
				</td></tr>
			</table>
<hr>
<p><strong>6۔ آئیں بھائی یہاں آئیں، سب سے سستا۔۔۔</strong> </p><p>انڈیا کی کسی گلی یا بازار میں چل کر تو دیکھیں، ہر آواز، ہر چیز کے ساتھ آپ کو پاکستان کا سا احساس ہوتا ہے۔ </p><p>فٹ پاتھ کے بیچوں بیچ موجود کھلے مین ہول کے اوپر سے چھلانگ مار کر گزرنا۔ </p><p>آوارہ کتوں اور کچرے کے ڈھیروں سے بچ کر چلنا۔ </p><p>بھکاریوں سے جان چھڑانے کے لیے وہی پاکستانی طریقے استعمال کرنا۔ </p><p>اور ٹھیلوں پتھاروں سے لدی ہوئی سڑکوں پر چلنے کے لیے جگہ ڈھونڈنا۔ </p><p>حد سے زیادہ ایکٹیو ٹھیلے اور دکان والے آپ کو دیکھتے رہتے ہیں، اور پھر اچانک آپ کو آواز دے کر بلاتے ہیں۔ </p><p>آجائیں بھائی آجائیں، یہاں دیکھیں، یہ چیز آپ کو کہیں نہیں ملے، بھابھی کے لیے لے جائیں، بچوں کے لیے لے جائیں۔ بازار میں اس سب سے نمٹنے کے علاوہ آپ گول گپوں، پکوڑوں، بھٹوں، اور سموسوں سے بھی لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ </p><p>اگر رات کو دیر ہوگئی ہے، یا اگلے دن چھٹی ہے، تو آپ اسٹریٹ کرکٹ کا بھی مزہ لے سکتے ہیں، جس میں کچھ بھاری چیزوں سے اسٹرائیکر کی طرف کی وکٹ کا کام لیا جاتا ہے، اور چپلوں کے ڈھیر سے نان۔اسٹرائیکر کی طرف کی وکٹ کا۔ </p>			<table class='media  issue1144 w-full    media--uneven'>
				<tr><td class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2014/09/542a775ed3201.jpg?r=313710688'  alt='بہن جی، بھائی جی، ادھر آجاؤ، سب سے سستا لگا دیا ہے۔' /></td></tr>
				
				<tr><td class="media__caption  ">
					بہن جی، بھائی جی، ادھر آجاؤ، سب سے سستا لگا دیا ہے۔
				</td></tr>
			</table>
<hr>
			<table class='media  issue1144 w-full    media--uneven'>
				<tr><td class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2014/09/542a775e04810.jpg?r=1916033307'  alt='بال ایک بورڈ کے پیچھے پھنس گئی، اور پھر جھگڑا کہ کس کی غلطی ہے اور کس کی نہیں۔' /></td></tr>
				
				<tr><td class="media__caption  ">
					بال ایک بورڈ کے پیچھے پھنس گئی، اور پھر جھگڑا کہ کس کی غلطی ہے اور کس کی نہیں۔
				</td></tr>
			</table>
<hr>
			<table class='media  issue1144 w-full    media--uneven'>
				<tr><td class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2014/09/542a776144d0a.jpg?r=504187558'  alt='اگر مقامی زبان میں لکھا ہوا دکان کا بورڈ نظر نہیں آرہا، تو آپ نہیں بتا سکتے کہ یہ انڈیا ہے یا پاکستان۔' /></td></tr>
				
				<tr><td class="media__caption  ">
					اگر مقامی زبان میں لکھا ہوا دکان کا بورڈ نظر نہیں آرہا، تو آپ نہیں بتا سکتے کہ یہ انڈیا ہے یا پاکستان۔
				</td></tr>
			</table>
<hr>
			<table class='media  issue1144 w-full    media--uneven'>
				<tr><td class='media__item  '><img src='https://i.dawn.com/primary/2014/09/542a77622ac8a.jpg?r=743517768'  alt='اگر آپ کے پاس ٹائم نہیں ہے تو سستے اور جانے پہچانے اسنیکس مکمل کھانے کا متبادل ثابت ہوتے ہیں۔' /></td></tr>
				
				<tr><td class="media__caption  ">
					اگر آپ کے پاس ٹائم نہیں ہے تو سستے اور جانے پہچانے اسنیکس مکمل کھانے کا متبادل ثابت ہوتے ہیں۔
				</td></tr>
			</table>
<hr>
<p><strong>7۔ کسی پاکستانی کے لیے سب سے زیادہ خوشی کب؟</strong></p><p>میں نے پہلے ہی لکھا، کہ کس طرح پاکستان اور انڈیا میں کنڈیوں اور تالوں کے ساتھ ایک زبانی ہدایت نامہ ضروری ہوتا ہے۔ </p><p>اب جب کہ آپ اس ہدایت نامے پر عمل کر کے ٹوائلٹ میں دوسروں کی نظروں سے محفوظ ہوچکے ہیں، تو آپ کی حیرانگی اور خوشی میں اضافہ کرنے کے لیے ایک اور چیز موجود ہے، جس سے آپ کو پاکستان جیسا ہی محسوس ہوگا۔ </p><p>جی ہاں، لوٹا۔ </p><p>جو لوگ ترقی یافتہ ممالک کا سفر کر چکے ہیں، صرف وہ ہی اس لگژری، اس نعمت کی صحیح قیمت جانتے ہیں۔ ایک پاکستانی کو انڈیا میں پاکستان کا احساس دلانے کے لیے لوٹے سے بہتر کوئی چیز نہیں ہوسکتی۔ </p><p><a href="http://www.dawn.com/news/1135108/7-things-that-make-a-pakistani-feel-at-home-in-india">انگلش میں پڑھیں۔</a> </p><hr>
<p>لکھاری حال ہی میں ڈان کے لیے 2014 لوک سبھا انتخابات کور کرنے کے لیے انڈیا کا سفر کر چکے ہیں۔ </p>]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1010374</guid>
      <pubDate>Tue, 16 Jun 2015 19:28:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر مہدی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2014/10/542cfe10bd283.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2014/10/542cfe10bd283.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
