<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Opinions</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 20:26:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 20:26:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایک پاکستانی کے لیے انڈیا میں 6 سرپرائز</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1010674/26dec2014-6-suprises-that-greet-a-pakistani-in-india-tahir-mehdi-bm-aq</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جیسے ہی آپ واہگہ بارڈر کراس کریں گے، تو آپ کو دونوں ممالک میں اتنی حیران کن مماثلت ملے گی، کہ شاید آپ گوگل میپس کے ذریعے یہ یقین کر لینا چاہیں کہ آپ بارڈر کراس کر کے انڈیا پہنچ چکے ہیں۔&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;&lt;p&gt;لیکن انڈیا میں 6 چیزیں ایسی ہیں، جو کسی بھی پاکستانی کو حیران کرنے کے لیے کافی ہیں۔ &lt;/p&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;1: وقت کی پابند ٹرینیں۔&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;&lt;p&gt;میری عمر کے کسی بھی پاکستانی کے لیے ٹرین کا سفر بچپن کی سنہری یادوں کا حصہ ہے۔ ٹرین ہمیشہ وقت پر آتی تھی اور کسی وی آئی پی کے لیے بھی نہیں رکتی تھی۔ بچے آپس میں کھڑکی والی سیٹ کے لیے لڑتے تھے، ہر تھوڑی دیر بعد کھانے پینے کی چیزیں بیچنے والے گزرتے تھے، باوردی ٹکٹ چیکر، سگنل، اور کراسنگ۔ یہ سب کچھ ایک انتہائی خواشگوار تجربہ ہوتا تھا۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;ٹرین وسیع میدانوں، دریاؤں، پہاڑوں کے درمیان سے گزرتی تو مجھ جیسے تمام مسافر تیزی سے بدلتے مناظر کو دیکھ کر حیرانی میں ڈوب جاتے۔ سب سے زیادہ مزہ تو تب آتا تھا، جب کسی تکنیکی فالٹ کی وجہ سے ٹرین کو کسی جنگل، میدان، یا ویرانے میں رکنا پڑ جاتا تھا۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;لیکن اس کے بعد پاکستانی ٹرینیں ایک ایسے سرخ سگنل پر آ پہنچی، جو اب تک گرین نہیں ہوا ہے۔ 20 سال تک کی عمر کے بہت سارے بچوں نے کبھی بھی ٹرین کے سفر کا لطف نہیں اٹھایا ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;لیکن انڈیا میں ریلوے نہ صرف زندہ ہے، بلکہ اب بھی بہت بہتر حالت میں ہے۔ ٹرینیں ٹائم پر آتی ہیں، اور ٹائم پر روانہ بھی ہوتی ہیں۔ کالونیل دور کے اختتام پر جو ٹرین نیٹ ورک دونوں ملکوں کو وراثت میں ملا تھا، انڈیا نے اسے اچھی طرح ترقی دی ہے۔ کئی جگہوں پر تبدیلی بھی کی گئی ہے۔ کچھ تبدیلیاں بہت اچھی لگتی ہیں، جبکہ کچھ آپ کو ماضی کی یاد دلاتی ہیں۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;میں چاٹ چھولے والے کا بے صبری سے انتظار کرتا رہا، لیکن اس کے بجائے ہر 20 منٹ مییں ایک ویٹر آتا، اور ٹرے بھر کر کھانے پینے کی چیزیں میرے سامنے رکھ جاتا۔ پورے سفر میں کھاتے پیتے رہنے کی وجہ سے میں شاید ہی اپنے ساتھی مسافروں سے کچھ بات کرسکا۔ مجھے اپنے بچپن میں ٹرین کے کرداروں کی کمی بہت محسوس ہوئی۔ اب وہ چٹپٹے کھانے صفائی سے پیک کیے گئے کھانے کے پیکٹوں سے تبدیل ہوچکے ہیں۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;انڈین ریلوے کی حد سے زیادہ سخاوت کے متضاد انڈیا کی پرائیویٹ ایئر لائنز ہیں، جن کے مینو میں ہر آئٹم کی قیمت آسمان پر پہنچی ہوئی ہوتی ہے، اور ویٹر سے پانی کا ایک گلاس مانگنے پر بھی آپ کو ندامت ہی ہوگی۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;میرے کچھ انڈین دوستوں نے مذاقاً کہا کہ بہت جلد یہ ایئر لائنز اپنے مسافروں سے ٹوائلٹ کے استعمال کے لیے بھی چارجز وصول کریں گی، اور پرائس لسٹ ٹوائلٹ کے دروازے پر لٹکا دی جائے گی۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ پرائس لسٹ میں کیا کیا آئٹمز موجود ہوں گے۔ &lt;/p&gt;          &lt;table class="media    media--uneven  issue1144 w-full"&gt;
            &lt;tr&gt;&lt;td class="media__item  "&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2014/10/5433ab4d27c96.jpg?r=649242341'  title=''  alt='انڈیا نے اپنے ریلوے سسٹم کو کافی ماڈرن کر دیا ہے، پر ماضی کی جھلک اب بھی موجود ہے' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
                        &lt;tr&gt;&lt;td class="media__caption  "&gt;
              انڈیا نے اپنے ریلوے سسٹم کو کافی ماڈرن کر دیا ہے، پر ماضی کی جھلک اب بھی موجود ہے
            &lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
          &lt;/table&gt;&lt;hr&gt;
          &lt;table class="media    media--uneven  issue1144 w-full"&gt;
            &lt;tr&gt;&lt;td class="media__item  "&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2014/10/5433ab4d215fd.jpg?r=1598911423'  title=''  alt='پاکستان میں سوہن حلوہ ملتان پہنچے بغیر نہیں ملے گا، لیکن انڈیا میں سیٹ پر ہی سب کچھ مل جاتا ہے' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
                        &lt;tr&gt;&lt;td class="media__caption  "&gt;
              پاکستان میں سوہن حلوہ ملتان پہنچے بغیر نہیں ملے گا، لیکن انڈیا میں سیٹ پر ہی سب کچھ مل جاتا ہے
            &lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
          &lt;/table&gt;&lt;hr&gt;
          &lt;table class="media    media--uneven  issue1144 w-full"&gt;
            &lt;tr&gt;&lt;td class="media__item  "&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2014/10/5433ab4d3b448.jpg?r=287215364'  title=''  alt='جہلم ایکسپریس دہلی اسٹیشن پر 10 بجے آئے گی، اور پانچ منٹ کو رکے گی۔ جائے گی کہاں؟ آپ کا اندازہ اتنا ہی درست ہے جتنا میرا' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
                        &lt;tr&gt;&lt;td class="media__caption  "&gt;
              جہلم ایکسپریس دہلی اسٹیشن پر 10 بجے آئے گی، اور پانچ منٹ کو رکے گی۔ جائے گی کہاں؟ آپ کا اندازہ اتنا ہی درست ہے جتنا میرا
            &lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
          &lt;/table&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;2: خواتین، ہر جگہ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p&gt;پاکستان سے انڈیا میں داخل ہوتے ہی ایک اور حیران کن فرق جو آپ کو خوش آمدید کہے گا، وہ ہے خواتین کی عوامی مقامات پر موجودگی۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;وہ ہر جگہ نظر آتی ہیں، ٹرینوں میں، بسوں میں اکیلے سفر کرتے ہوئے، چھوٹے بڑے کاروبار، چائے کافی کے اسٹال، دکانیں، اور موٹرسائیکلیں چلاتے ہوئے۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;ان کا تعلق ہر کلچر اور کمیونٹی سے ہوتا ہے۔ میں نے لدھیانہ میں چھوٹی بچیوں کو سائیکل پر اسکول سے گھر واپس آتے ہوئے دیکھا۔ میں نے حیدرآباد میں برقعے میں ملبوس دو خواتین کو اسکوٹی چلاتے ہوئے بھی دیکھا۔ لیکن اس سے بھی زیادہ خوشگوار نظارہ وہ تھا، جب تقریباً سفید بالوں والی ایک معمر خاتون بنگلور میں موٹرسائیکل پر تیزی سے میرے پاس سے گزریں۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;لوگوں سے بھر چکے شہروں، اور کھچا کھچ بھری سڑکوں پر سفر کرنے کے لیے کروڑوں افراد موٹرسائیکل کو ترجیح دیتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے کہ پاکستان میں ہے۔ لیکن پاکستان کے برخلاف انڈیا میں خواتین کے لیے موٹرسائیکل چلانا کوئی شجرِ ممنوعہ نہیں ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;احمدآباد میں میرے کچھ دوستوں نے پروگرام بنایا، کہ ایک پوائنٹ پر اکٹھے ہوکر شہر گھومنے کے لیے نکلا جائے۔ لیکن ہر کسی کو وہاں تک پہنچنے میں کچھ مشکلات تھیں، اس لیے میزبان نے بہت مشکل سے دستیاب گاڑیوں کے حساب سے گروپ بنا دیے۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;جب میں بہت مشکل سے ایک گاڑی میں بیٹھ ہی گیا، تو میں نے ساتھ بیٹھے میزبان سے کہا کہ بھابھی (ان کی اہلیہ) تو اب تک آئیں نہیں۔ جواب ملا کہ میں نے اپنی بائیک انہیں دے دی ہے، اور وہ بچے کو اسکول سے اٹھانے کے بعد ہم سے ملیں گی۔ حیرت کے مارے میں خاموش ہی ہوکر رہ گیا۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;اس لیے اگر آپ انڈیا جائیں اور ٹریفک سگنل پر کوئی لڑکی جینز پہنے موٹرسائیکل پر سوار آپ کے پاس آکر رکے، تو اسے گھوریے گا مت، وہاں یہ نارمل ہے۔ &lt;/p&gt;          &lt;table class="media    media--uneven  issue1144 w-full"&gt;
            &lt;tr&gt;&lt;td class="media__item  "&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2014/10/5433ab4d783b8.jpg?r=365925192'  title=''  alt='انڈیا میں موٹرسائیکل عام عورت کی پسندیدہ سواری ہے' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
                        &lt;tr&gt;&lt;td class="media__caption  "&gt;
              انڈیا میں موٹرسائیکل عام عورت کی پسندیدہ سواری ہے
            &lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
          &lt;/table&gt;&lt;hr&gt;
          &lt;table class="media    media--uneven  issue1144 w-full"&gt;
            &lt;tr&gt;&lt;td class="media__item  "&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2014/10/5433ab4e06ffa.jpg?r=77653081'  title=''  alt='انڈین انسٹیٹیوٹ آف سائنس کے وسیع و عریض کیمپس میں ادھر ادھر جانے کے لیے سائیکل بہترین ذریعہ ہے' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
                        &lt;tr&gt;&lt;td class="media__caption  "&gt;
              انڈین انسٹیٹیوٹ آف سائنس کے وسیع و عریض کیمپس میں ادھر ادھر جانے کے لیے سائیکل بہترین ذریعہ ہے
            &lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
          &lt;/table&gt;&lt;hr&gt;
          &lt;table class="media    media--uneven  issue1144 w-full"&gt;
            &lt;tr&gt;&lt;td class="media__item  "&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2014/10/5433ab4dc65b5.jpg?r=265142551'  title=''  alt='بائیک چلانے والی خواتین کے لیے خاص چیزیں دستیاب ہیں، جیسے کہ آستین جتنے لمبے گلووز، تاکہ دھوپ اور مٹی سے بچا جاسکے' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
                        &lt;tr&gt;&lt;td class="media__caption  "&gt;
              بائیک چلانے والی خواتین کے لیے خاص چیزیں دستیاب ہیں، جیسے کہ آستین جتنے لمبے گلووز، تاکہ دھوپ اور مٹی سے بچا جاسکے
            &lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
          &lt;/table&gt;&lt;hr&gt;
          &lt;table class="media    media--uneven  issue1144 w-full"&gt;
            &lt;tr&gt;&lt;td class="media__item  "&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2014/10/5433ab4fccdff.jpg?r=1212443534'  title=''  alt='پاکستان میں کوئی خاتون سڑک کنارے کاروبار کرے، تو یہ ایک خبر بنتی ہے، لیکن انڈیا میں یہ نارمل ہے' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
                        &lt;tr&gt;&lt;td class="media__caption  "&gt;
              پاکستان میں کوئی خاتون سڑک کنارے کاروبار کرے، تو یہ ایک خبر بنتی ہے، لیکن انڈیا میں یہ نارمل ہے
            &lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
          &lt;/table&gt;&lt;hr&gt;
          &lt;table class="media    media--uneven  issue1144 w-full"&gt;
            &lt;tr&gt;&lt;td class="media__item  "&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2014/10/5433ab4fbcc51.jpg?r=1046490968'  title=''  alt='پنجاب کا یہ گاؤں پاکستانی پنجاب کے گاؤں سے صرف دو چیزوں میں مختلف ہے۔ انڈین پرچم، اور موٹرسائیکل سوار خاتون' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
                        &lt;tr&gt;&lt;td class="media__caption  "&gt;
              پنجاب کا یہ گاؤں پاکستانی پنجاب کے گاؤں سے صرف دو چیزوں میں مختلف ہے۔ انڈین پرچم، اور موٹرسائیکل سوار خاتون
            &lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
          &lt;/table&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;3۔ کھانے میں کیا ہے؟&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;&lt;p&gt;پاکستانیوں کے لیے یہ حیرانی سے بڑھ کر شاک بھی ہوسکتا ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;جب میں واہگہ بارڈر کی انڈین جانب پہنچا، تو مجھے انڈیا میں داخلے کی اجازت عطا ہونے سے پہلے ایک حلف نامے پر دستخط کرنے پڑے، جس میں مجھ سے اقرار کرایا گیا کہ میں کوئی بھی ممنوعہ اشیاء جیسے کہ اسلحہ یا منشیات نہیں لے جارہا۔ یہ تو چلیں عام بات ہے۔ لیکن حلف نامے میں ایک اور چیز بھی تھی، &amp;quot;بیف یا بیف سے بنی چیزیں&amp;quot;۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;میں سوچنے لگا، کہ صبح ناشتے میں کیا کھا کر آیا ہوں، کہیں ایسا نہ ہو کہ بیف کی تلاش کے لیے مجھے ہی اسکینر سے گزرنا پڑے اور…. &lt;/p&gt;&lt;p&gt;بہرحال، یہ سرپرائز یا شاک انڈیا کے پورے سفر کر دوران الگ الگ طریقوں سے میرے راستے میں آتا رہا۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;کئی ریسٹورینٹ ایسے ہیں، جو مکمل طور پر ویجیٹیرین کھانا فراہم کرتے ہیں، جبکہ کچھ ریسٹورینٹ نان ویج بھی فراہم کرتے ہیں۔ لیکن پھر کئی مضبوط عقیدے والے لوگ ایسے کچن سے سبزی کھانا پسند نہیں کرتے، جہاں گوشت بھی پکتا ہو۔ اس لیے وہ ایسے ریسٹورینٹ کا رخ کرتے ہیں جہاں صرف اور صرف ویجیٹیرین کھانا ملتا ہے۔ کئی جگہوں پر ویج اور نان ویج ریسٹورینٹ قطار در قطار پر الگ الگ گلیوں میں نظر آتے ہیں۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;کھانے کے معاملے میں یہ تقسیم پھر رہائش کے معاملے میں بھی نظر آتی ہے، جہاں ویجیٹیرین مالکان اپنے گھر گوشت خور لوگوں، یعنی مسلمانوں، کرسچنوں، بنگالی ہندوؤں، اور دلت ذات والوں کو کرائے پر نہیں دیتے۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;لیکن اگر آپ کا خاندانی نام ویجیٹیرین طرح کا لگتا ہے، تو آپ اس طرح کی مشکل سے بچ سکتے ہیں۔ ویجیٹیرین کالونیاں اور پلازہ وغیرہ میں کسی بھی نان ویج شخص کو رہائش اختیار کرنے سے روکا جاسکتا ہے، اور اس پر نظر بھی رکھی جاتی ہے۔ اس لیے اگر آپ کسی سے یہ پوچھیں، کہ رات کو کھانے میں کیا ہے، تو پورے علاقے کے کھانے کے رجحانات کا اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں ہوگا۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;گوشت کے علاوہ جین مت کے ماننے والے ادرک اور پیاز کھانے سے بھی پرہیز کرتے ہیں۔ اس لیے جین لوگوں کے بازار اور کالونیاں بھی الگ ہوتی ہیں۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;پاکستانیوں کے لیے باہر کھانا کھانے کا مطلب گوشت کھانا ہوتا ہے۔ لیکن بوٹیوں کے عاشق پاکستانیوں کے لیے انڈین معاشرے کے اس رخ کو برداشت کرنا بہت مشکل ہوسکتا ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;اگر آپ ایک گروپ کے ساتھ کھانا کھا رہے ہیں اور گروپ میں موجود نچلی ذات کے حقوق کا کارکن بیف تکہ آرڈر کرے، تو کیا آپ اسے انقلابی سمجھیں گے؟ شاید اس نے بیف تکہ یہی سوچ کر آرڈر کیا ہو، کہ وہ اونچی ذات کے برہمنوں کی بالادستی کو چیلنج کر رہا ہے، جو بیف پر مکمل پابندی کے حق میں ہیں۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;لیکن ایک اچھی خبر یہ ہے، کہ پاکستان میں برے مسلمانوں سے زیادہ انڈیا میں برے ہندو موجود ہیں۔ آپ کو بوٹیوں سے انصاف کرنے کے لیے ساتھی مل جائیں گے۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;پاکستانیوں کو گوشت سے کتنا پیار ہے، اس کو دیکھتے ہوئے میں یہ کہہ سکتا ہوں، کہ جب بھی ویزا پراسس میں آسانیاں ہوں گی، تو واہگہ بارڈر پر کڑاہی اور تکوں کے ریسٹورینٹس کی ایک بڑی قطار وجود میں آئے گی، جن کے بورڈز پر لکھا ہوگا، &amp;quot;گھر واپس آنے پر خوش آمدید&amp;quot;۔ &lt;/p&gt;          &lt;table class="media      issue1144 w-full"&gt;
            &lt;tr&gt;&lt;td class="media__item  "&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2014/10/5433ab5012595.jpg?r=848328749'  title=''  alt='مجھے نہیں معلوم ڈریسڈ چکن کیا ہوتی ہے، لیکن اس طرح گوشت کی نمائش کرنا کبھی کبھی مسئلہ بھی بن جاتا ہے۔' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
                        &lt;tr&gt;&lt;td class="media__caption  "&gt;
              مجھے نہیں معلوم ڈریسڈ چکن کیا ہوتی ہے، لیکن اس طرح گوشت کی نمائش کرنا کبھی کبھی مسئلہ بھی بن جاتا ہے۔
            &lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
          &lt;/table&gt;&lt;hr&gt;
          &lt;table class="media    media--uneven  issue1144 w-full"&gt;
            &lt;tr&gt;&lt;td class="media__item  "&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2014/10/5433ab507a304.jpg?r=60084623'  title=''  alt='پاکستانیوں کو اپنے ملک میں اس طرح کی سیکیورٹی سے ہر دو قدم بعد گزرنا ہوتا ہے، لیکن اس مشہور بریانی سینٹر پر سیکیورٹی اس لیے موجود ہے کیونکہ انہیں گوشت سرو کرنے کے جرم میں اکثر دھمکیاں ملتی رہتی ہیں' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
                        &lt;tr&gt;&lt;td class="media__caption  "&gt;
              پاکستانیوں کو اپنے ملک میں اس طرح کی سیکیورٹی سے ہر دو قدم بعد گزرنا ہوتا ہے، لیکن اس مشہور بریانی سینٹر پر سیکیورٹی اس لیے موجود ہے کیونکہ انہیں گوشت سرو کرنے کے جرم میں اکثر دھمکیاں ملتی رہتی ہیں
            &lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
          &lt;/table&gt;&lt;hr&gt;
          &lt;table class="media    media--uneven  issue1144 w-full"&gt;
            &lt;tr&gt;&lt;td class="media__item  "&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2014/10/5433ab5082f92.jpg?r=233986091'  title=''  alt='انڈیا میں نان ویج ریسٹورینٹ اتنے پرکشش نہیں ہوتے جتنے پاکستان میں ہوتے ہیں۔ بلکہ یہاں گوشت بھی ویسا نہیں ہوتا جیسا پاکستان میں۔ ایک ویجیٹیرین نے مجھے بتایا کہ انڈین لوگ چھوٹے پرندوں کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔ اس لیے آپ بڑے گوشت کی زیادہ امید مت رکھیے گا' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
                        &lt;tr&gt;&lt;td class="media__caption  "&gt;
              انڈیا میں نان ویج ریسٹورینٹ اتنے پرکشش نہیں ہوتے جتنے پاکستان میں ہوتے ہیں۔ بلکہ یہاں گوشت بھی ویسا نہیں ہوتا جیسا پاکستان میں۔ ایک ویجیٹیرین نے مجھے بتایا کہ انڈین لوگ چھوٹے پرندوں کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔ اس لیے آپ بڑے گوشت کی زیادہ امید مت رکھیے گا
            &lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
          &lt;/table&gt;&lt;hr&gt;
          &lt;table class="media    media--uneven  issue1144 w-full"&gt;
            &lt;tr&gt;&lt;td class="media__item  "&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2014/10/5433ab5087dc9.jpg?r=481494795'  title=''  alt='گوشت کھانے والوں کے اپارٹمنٹس۔ کھانے کی ترجیحات انڈیا میں رہائش کا مسئلہ کھڑا کر سکتی ہیں۔' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
                        &lt;tr&gt;&lt;td class="media__caption  "&gt;
              گوشت کھانے والوں کے اپارٹمنٹس۔ کھانے کی ترجیحات انڈیا میں رہائش کا مسئلہ کھڑا کر سکتی ہیں۔
            &lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
          &lt;/table&gt;&lt;hr&gt;
          &lt;table class="media    media--uneven  issue1144 w-full"&gt;
            &lt;tr&gt;&lt;td class="media__item  "&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2014/10/5433ab52471b3.jpg?r=1583124192'  title=''  alt='لیکن ویجیٹیرین فوڈ بھی اتنا عام نہیں جتنا کہ پاکستانی سوچیں گے' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
                        &lt;tr&gt;&lt;td class="media__caption  "&gt;
              لیکن ویجیٹیرین فوڈ بھی اتنا عام نہیں جتنا کہ پاکستانی سوچیں گے
            &lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
          &lt;/table&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;4۔ کرایہ میٹر کے حساب سے&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p&gt;انڈیا میں بہترین ریلوے کے علاوہ اور بھی طرح کی پبلک ٹرانسپورٹ دستیاب ہیں، جن سے آپ اندرونِ شہر آسانی سے سفر کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں اسے رکشہ کہا جاتا ہے، جبکہ انڈیا میں اسے اس کے پہلے نام یعنی &amp;quot;آٹو&amp;quot; سے یاد کیا جاتا ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;دھواں یہ بھی شاید اتنا ہی چھوڑتے ہیں جتنا پاکستانی رکشے، لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ ان میں کرائے کا میٹر ضرور ہوتا ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;آپ ان پر اعتماد کر سکتے ہیں، اور دوستوں سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہوگی کہ فلاں جگہ تک مناسب کرایہ کتنا ہے۔ کچھ میٹر حکومت کے نئے ریٹس کے حساب سے سیٹ نہیں ہوئے ہوتے، اس لیے آٹو والا آپ کو ایک چارٹ دکھائے گا، جس میں لکھا ہوگا کہ پرانے ریٹ اور نئے ریٹ کس طرح میچ کرتے ہیں۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;آپ انڈیا کے شہروں میں حکومتی رِٹ کی وہ مثالیں بھی دیکھ سکتے ہیں، جنہیں پاکستان میں ہم نے بھلا ہی دیا ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;میں نے سڑک کنارے ایک بک اسٹال کی تصویر لی، تو اس کا مالک پریشان حالت میں بھاگتا ہوا میری طرف آیا۔ میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ پرائیویسی کا مسئلہ نہیں، بس اتنا ہے کہ وہ کتابوں کی نقل بھی فروخت کرتا ہے، جس سے اسے پھنسنے کا اندیشہ ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;&amp;quot;صاحب، میں مانتا ہوں میرے پاس پائریٹڈ کتابیں موجود ہیں&amp;quot;۔ اور مجھے فوراً احساس ہوا کہ پاکستان میں کس طرح کھلے عام کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کا یہ کاروبار کیا جاتا ہے، جس سے میں خود بھی کتنی بار مستفید ہوچکا ہوں۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;میرے کچھ انڈین دوستوں نے کہا، کہ &amp;quot;سب چلتا ہے&amp;quot;، اور یہ کہ اس طرح کے اقدامات صرف نمائشی سطح تک محدود ہیں۔ لیکن ایک ایسے ملک کا باشندہ ہونے کے تحت، جس نے نمائشی سطح بھی برقرار نہیں رکھی، میرے لیے یہ &amp;quot;نمائشی اقدامات&amp;quot; نہایت حیرانی کا باعث تھے۔ &lt;/p&gt;          &lt;table class="media    media--uneven  issue1144 w-full"&gt;
            &lt;tr&gt;&lt;td class="media__item  "&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2014/10/5433ab5266d57.jpg?r=902302573'  title=''  alt='رکشوں کے سرکاری کرائے انڈیا کی شہری سیاست میں ایک اہم اشو کی حیثیت رکھتے ہیں۔' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
                        &lt;tr&gt;&lt;td class="media__caption  "&gt;
              رکشوں کے سرکاری کرائے انڈیا کی شہری سیاست میں ایک اہم اشو کی حیثیت رکھتے ہیں۔
            &lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
          &lt;/table&gt;&lt;hr&gt;
          &lt;table class="media    media--uneven  issue1144 w-full"&gt;
            &lt;tr&gt;&lt;td class="media__item  "&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2014/10/5433ab52e3ef6.jpg?r=32785047'  title=''  alt='لدھیانہ کی دو خواتین پولیس اہلکار اپنی وومین ہیلپ لائن اسکوٹی کے ساتھ' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
                        &lt;tr&gt;&lt;td class="media__caption  "&gt;
              لدھیانہ کی دو خواتین پولیس اہلکار اپنی وومین ہیلپ لائن اسکوٹی کے ساتھ
            &lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
          &lt;/table&gt;&lt;hr&gt;
          &lt;table class="media    media--uneven  issue1144 w-full"&gt;
            &lt;tr&gt;&lt;td class="media__item  "&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2014/10/5433ab535cee6.jpg?r=1512655739'  title=''  alt='ریاست کی عدم موجودگی دیکھنی ہے؟ آئیں کسی کچی آبادی کا دورہ کریں' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
                        &lt;tr&gt;&lt;td class="media__caption  "&gt;
              ریاست کی عدم موجودگی دیکھنی ہے؟ آئیں کسی کچی آبادی کا دورہ کریں
            &lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
          &lt;/table&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;5۔ ڈیڑھ ارب لوگ، لاتعداد گروپس&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p&gt;میں پاکستانی پنجاب میں پیدا ہوا، پلا بڑھا، اور جب میں نے ٹین ایج سے آگے قدم بڑھایا، تب تک میں صرف اردو اور پنجابی اسپیکنگ، اور کچھ پختونوں کو جانتا تھا۔ میں نے پہلی بار ایک سندھی شخص کو تب دیکھا اور دوست بنایا، جب میں نے فیڈرل کالج میں داخلہ لیا۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;پاکستان کے کلچر میں اتنی وسعت نہیں۔ اس کے مقابلے میں انڈیا تو کلچروں کا ایک سمندر ہے، جس میں بے انتہا وسعت پائی جاتی ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;آپ لدھیانہ میں ایک کناڈیگا سے، حیدرآباد میں منی پوری سے، اور بنگلور میں کسی بہاری سے مل سکتے ہیں۔ انڈیا میں بے شمار زبانیں، لب و لہجے، کلچر اور ذیلی کلچر، مذاہب، فرقے، ذاتیں، ذیلی ذاتیں، اور طبقے پائے جاتے ہیں۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;ان سب چیزوں کے اتنے کامبی نیشن بنتے ہیں، کہ انسان کا دماغ چکرا کر رہ جائے۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;گوا کے ایک کرسچن نے اڑیسہ کی ایک ہندو سے شادی کی، اور احمد آباد میں رہائش اختیار کی۔ جبکہ جس کمپنی میں وہ کام کرتا ہے، وہ گجرات کے ایک بوہری مسلم کی ملکیت ہے۔ اب ایسا خاندان اپنی شناخت کیسے بیان کرے گا؟ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;لیکن یہ سمندر ہر جگہ ہر وقت بالکل پرسکون بھی نہیں ہے۔ ہر کچھ وقت کے بعد کسی نا کسی گروپوں کے درمیان کشمکش ہوتی رہتی ہیں۔ سماجی، اقتصادی، اور سیاسی گروہ اکثر اس سب کو ہوا دیتے ہیں، جس سے ایک منافع بخش تماشہ کھڑا کیا جاسکتا ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;میں اس بات پر تبصرہ نہیں کروں گا کہ انڈیا اپنی ثقافتی وسعت کو ٹھیک سے ہینڈل کر رہا ہے یا نہیں۔ میں صرف اتنا کہہ رہا ہوں کہ انڈیا میں ہر طرح کے لوگ اور گروپ پائے جاتے ہیں۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;انسان کس طرح ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ رہتے ہیں، یہ چیز ایک پاکستانی کے لیے بہت حیران کن ہوسکتی ہے۔ یقین مانیے، بنگلور میں اپنی پنجابی شناخت چھپانے کے بجائے پنجابی بولنے کا اپنی ہی الگ مزہ ہے۔ &lt;/p&gt;          &lt;table class="media    media--uneven  issue1144 w-full"&gt;
            &lt;tr&gt;&lt;td class="media__item  "&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2014/10/5433ab53a90f9.jpg?r=1574333200'  title=''  alt='انڈیا میں مختلف گروپوں کی وسعت چھپائے نہیں چھپتی۔ یہ ایک اچھی بات بھی ہے، اور ایک چیلنج بھی' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
                        &lt;tr&gt;&lt;td class="media__caption  "&gt;
              انڈیا میں مختلف گروپوں کی وسعت چھپائے نہیں چھپتی۔ یہ ایک اچھی بات بھی ہے، اور ایک چیلنج بھی
            &lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
          &lt;/table&gt;&lt;hr&gt;
          &lt;table class="media    media--uneven  issue1144 w-full"&gt;
            &lt;tr&gt;&lt;td class="media__item  "&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2014/10/5433ab53434ec.jpg?r=263297456'  title=''  alt='بنگلور بازار میں اس مینار کے سائے تلے بہت ساری دکانیں قائم ہیں، جہاں سے سب ہی لوگ خریداری کرتے ہیں' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
                        &lt;tr&gt;&lt;td class="media__caption  "&gt;
              بنگلور بازار میں اس مینار کے سائے تلے بہت ساری دکانیں قائم ہیں، جہاں سے سب ہی لوگ خریداری کرتے ہیں
            &lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
          &lt;/table&gt;&lt;hr&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;6۔ نیو ورلڈ آرڈر&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p&gt;شروع میں تو میں نے جب پہلی بار اس چیز کا سامنا کیا، تو نظر انداز ہی کیا۔ لیکن اس کے بعد مجھے پوری بات سمجھ آگئی۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;پاکستان میں اگر کوئی شخص مثال کے طور پر اپنا نام جے پرکاش بتائے، تو ایک عام پاکستانی کا اگلا سوال ہوگا، &amp;quot;کیا آپ پاکستانی ہیں؟&amp;quot;۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;لیکن انڈیا میں یہ نہیں ہوگا، بھلے ہی آپ کا نام طاہر مہدی کیوں نہ ہو۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;انڈیا میں جب تک آپ کسی کو اپنی شہریت نہ بتائیں، تب تک کوئی نہیں جان سکتا کہ آپ کا تعلق کہاں سے ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;نہ ہی آپ کی بول چال سے کوئی اندازہ لگا سکتا ہے، اور نہ ہی تب، جب آپ پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات پر بحث کریں۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;اور یہ چھپی ہوئی شناخت کبھی کبھی دلچسپ صورت حال بھی پیدا کردیتی ہے۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;ایک آٹو رکشہ والا بڑے فخر سے بتا رہا تھا، کہ کس طرح انڈیا نے پاکستان کو تمام جنگوں میں &amp;quot;سبق سکھایا&amp;quot;۔ ہم ایک اسٹیڈیم کے پاس سے گزر رہے تھے، جہاں کبھی دونوں ممالک کے درمیان ایک کرکٹ میچ ہوا تھا۔ لیکن وہ ایشیا کپ 2014 میں انڈیا کی پاکستان کے ہاتھوں شکست پر انڈین کھلاڑیوں کو قصوروار سمجھتا تھا۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;پاکستان اور انڈیا کے تعلقات کے بارے میں اس طرح کی باتیں کوئی حیرانی کی بات نہیں ہیں۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;لیکن مزہ تب آتا ہے، جب انہیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک پاکستانی سے بات کر رہے ہیں۔ اسی وقت لہجے اور موقف میں نرمی آجاتی ہے اور پھر کہتے ہیں کہ ہم تو بھائی ہیں۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;لیکن کچھ لوگ اس کو اگلے لیول تک بھی لے جاتے ہیں۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;&amp;quot;سنو، ادھر، اپنا کان آگے کرو، آپ کو معلوم ہے یہ امریکہ کی سازش ہے۔ یہ نیو ورلڈ آرڈر کا حصہ ہے۔ یہ ہمیں اس لیے لڑواتے ہیں، کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ اگر انڈیا اور پاکستان اکٹھے ہوگئے، تو انہیں پوری دنیا پر حکومت کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا&amp;quot;۔ &lt;/p&gt;          &lt;table class="media    media--uneven  issue1144 w-full"&gt;
            &lt;tr&gt;&lt;td class="media__item  "&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2014/10/5433ab545ee27.jpg?r=2131868367'  title=''  alt='' /&gt;&lt;/td&gt;&lt;/tr&gt;
            
          &lt;/table&gt;&lt;p&gt;&lt;a href="http://www.dawn.com/news/1136597/6-surprises-that-greet-a-pakistani-in-india"&gt;انگلش میں پڑھیں۔&lt;/a&gt; &lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جیسے ہی آپ واہگہ بارڈر کراس کریں گے، تو آپ کو دونوں ممالک میں اتنی حیران کن مماثلت ملے گی، کہ شاید آپ گوگل میپس کے ذریعے یہ یقین کر لینا چاہیں کہ آپ بارڈر کراس کر کے انڈیا پہنچ چکے ہیں۔</strong> </p><p>لیکن انڈیا میں 6 چیزیں ایسی ہیں، جو کسی بھی پاکستانی کو حیران کرنے کے لیے کافی ہیں۔ </p><hr>
<p><strong>1: وقت کی پابند ٹرینیں۔</strong> </p><p>میری عمر کے کسی بھی پاکستانی کے لیے ٹرین کا سفر بچپن کی سنہری یادوں کا حصہ ہے۔ ٹرین ہمیشہ وقت پر آتی تھی اور کسی وی آئی پی کے لیے بھی نہیں رکتی تھی۔ بچے آپس میں کھڑکی والی سیٹ کے لیے لڑتے تھے، ہر تھوڑی دیر بعد کھانے پینے کی چیزیں بیچنے والے گزرتے تھے، باوردی ٹکٹ چیکر، سگنل، اور کراسنگ۔ یہ سب کچھ ایک انتہائی خواشگوار تجربہ ہوتا تھا۔ </p><p>ٹرین وسیع میدانوں، دریاؤں، پہاڑوں کے درمیان سے گزرتی تو مجھ جیسے تمام مسافر تیزی سے بدلتے مناظر کو دیکھ کر حیرانی میں ڈوب جاتے۔ سب سے زیادہ مزہ تو تب آتا تھا، جب کسی تکنیکی فالٹ کی وجہ سے ٹرین کو کسی جنگل، میدان، یا ویرانے میں رکنا پڑ جاتا تھا۔ </p><p>لیکن اس کے بعد پاکستانی ٹرینیں ایک ایسے سرخ سگنل پر آ پہنچی، جو اب تک گرین نہیں ہوا ہے۔ 20 سال تک کی عمر کے بہت سارے بچوں نے کبھی بھی ٹرین کے سفر کا لطف نہیں اٹھایا ہے۔ </p><p>لیکن انڈیا میں ریلوے نہ صرف زندہ ہے، بلکہ اب بھی بہت بہتر حالت میں ہے۔ ٹرینیں ٹائم پر آتی ہیں، اور ٹائم پر روانہ بھی ہوتی ہیں۔ کالونیل دور کے اختتام پر جو ٹرین نیٹ ورک دونوں ملکوں کو وراثت میں ملا تھا، انڈیا نے اسے اچھی طرح ترقی دی ہے۔ کئی جگہوں پر تبدیلی بھی کی گئی ہے۔ کچھ تبدیلیاں بہت اچھی لگتی ہیں، جبکہ کچھ آپ کو ماضی کی یاد دلاتی ہیں۔ </p><p>میں چاٹ چھولے والے کا بے صبری سے انتظار کرتا رہا، لیکن اس کے بجائے ہر 20 منٹ مییں ایک ویٹر آتا، اور ٹرے بھر کر کھانے پینے کی چیزیں میرے سامنے رکھ جاتا۔ پورے سفر میں کھاتے پیتے رہنے کی وجہ سے میں شاید ہی اپنے ساتھی مسافروں سے کچھ بات کرسکا۔ مجھے اپنے بچپن میں ٹرین کے کرداروں کی کمی بہت محسوس ہوئی۔ اب وہ چٹپٹے کھانے صفائی سے پیک کیے گئے کھانے کے پیکٹوں سے تبدیل ہوچکے ہیں۔ </p><p>انڈین ریلوے کی حد سے زیادہ سخاوت کے متضاد انڈیا کی پرائیویٹ ایئر لائنز ہیں، جن کے مینو میں ہر آئٹم کی قیمت آسمان پر پہنچی ہوئی ہوتی ہے، اور ویٹر سے پانی کا ایک گلاس مانگنے پر بھی آپ کو ندامت ہی ہوگی۔ </p><p>میرے کچھ انڈین دوستوں نے مذاقاً کہا کہ بہت جلد یہ ایئر لائنز اپنے مسافروں سے ٹوائلٹ کے استعمال کے لیے بھی چارجز وصول کریں گی، اور پرائس لسٹ ٹوائلٹ کے دروازے پر لٹکا دی جائے گی۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ پرائس لسٹ میں کیا کیا آئٹمز موجود ہوں گے۔ </p>          <table class="media    media--uneven  issue1144 w-full">
            <tr><td class="media__item  "><img src='https://i.dawn.com/primary/2014/10/5433ab4d27c96.jpg?r=649242341'  title=''  alt='انڈیا نے اپنے ریلوے سسٹم کو کافی ماڈرن کر دیا ہے، پر ماضی کی جھلک اب بھی موجود ہے' /></td></tr>
                        <tr><td class="media__caption  ">
              انڈیا نے اپنے ریلوے سسٹم کو کافی ماڈرن کر دیا ہے، پر ماضی کی جھلک اب بھی موجود ہے
            </td></tr>
          </table><hr>
          <table class="media    media--uneven  issue1144 w-full">
            <tr><td class="media__item  "><img src='https://i.dawn.com/primary/2014/10/5433ab4d215fd.jpg?r=1598911423'  title=''  alt='پاکستان میں سوہن حلوہ ملتان پہنچے بغیر نہیں ملے گا، لیکن انڈیا میں سیٹ پر ہی سب کچھ مل جاتا ہے' /></td></tr>
                        <tr><td class="media__caption  ">
              پاکستان میں سوہن حلوہ ملتان پہنچے بغیر نہیں ملے گا، لیکن انڈیا میں سیٹ پر ہی سب کچھ مل جاتا ہے
            </td></tr>
          </table><hr>
          <table class="media    media--uneven  issue1144 w-full">
            <tr><td class="media__item  "><img src='https://i.dawn.com/primary/2014/10/5433ab4d3b448.jpg?r=287215364'  title=''  alt='جہلم ایکسپریس دہلی اسٹیشن پر 10 بجے آئے گی، اور پانچ منٹ کو رکے گی۔ جائے گی کہاں؟ آپ کا اندازہ اتنا ہی درست ہے جتنا میرا' /></td></tr>
                        <tr><td class="media__caption  ">
              جہلم ایکسپریس دہلی اسٹیشن پر 10 بجے آئے گی، اور پانچ منٹ کو رکے گی۔ جائے گی کہاں؟ آپ کا اندازہ اتنا ہی درست ہے جتنا میرا
            </td></tr>
          </table><hr>
<p><strong>2: خواتین، ہر جگہ</strong></p><p>پاکستان سے انڈیا میں داخل ہوتے ہی ایک اور حیران کن فرق جو آپ کو خوش آمدید کہے گا، وہ ہے خواتین کی عوامی مقامات پر موجودگی۔ </p><p>وہ ہر جگہ نظر آتی ہیں، ٹرینوں میں، بسوں میں اکیلے سفر کرتے ہوئے، چھوٹے بڑے کاروبار، چائے کافی کے اسٹال، دکانیں، اور موٹرسائیکلیں چلاتے ہوئے۔ </p><p>ان کا تعلق ہر کلچر اور کمیونٹی سے ہوتا ہے۔ میں نے لدھیانہ میں چھوٹی بچیوں کو سائیکل پر اسکول سے گھر واپس آتے ہوئے دیکھا۔ میں نے حیدرآباد میں برقعے میں ملبوس دو خواتین کو اسکوٹی چلاتے ہوئے بھی دیکھا۔ لیکن اس سے بھی زیادہ خوشگوار نظارہ وہ تھا، جب تقریباً سفید بالوں والی ایک معمر خاتون بنگلور میں موٹرسائیکل پر تیزی سے میرے پاس سے گزریں۔ </p><p>لوگوں سے بھر چکے شہروں، اور کھچا کھچ بھری سڑکوں پر سفر کرنے کے لیے کروڑوں افراد موٹرسائیکل کو ترجیح دیتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے کہ پاکستان میں ہے۔ لیکن پاکستان کے برخلاف انڈیا میں خواتین کے لیے موٹرسائیکل چلانا کوئی شجرِ ممنوعہ نہیں ہے۔ </p><p>احمدآباد میں میرے کچھ دوستوں نے پروگرام بنایا، کہ ایک پوائنٹ پر اکٹھے ہوکر شہر گھومنے کے لیے نکلا جائے۔ لیکن ہر کسی کو وہاں تک پہنچنے میں کچھ مشکلات تھیں، اس لیے میزبان نے بہت مشکل سے دستیاب گاڑیوں کے حساب سے گروپ بنا دیے۔ </p><p>جب میں بہت مشکل سے ایک گاڑی میں بیٹھ ہی گیا، تو میں نے ساتھ بیٹھے میزبان سے کہا کہ بھابھی (ان کی اہلیہ) تو اب تک آئیں نہیں۔ جواب ملا کہ میں نے اپنی بائیک انہیں دے دی ہے، اور وہ بچے کو اسکول سے اٹھانے کے بعد ہم سے ملیں گی۔ حیرت کے مارے میں خاموش ہی ہوکر رہ گیا۔ </p><p>اس لیے اگر آپ انڈیا جائیں اور ٹریفک سگنل پر کوئی لڑکی جینز پہنے موٹرسائیکل پر سوار آپ کے پاس آکر رکے، تو اسے گھوریے گا مت، وہاں یہ نارمل ہے۔ </p>          <table class="media    media--uneven  issue1144 w-full">
            <tr><td class="media__item  "><img src='https://i.dawn.com/primary/2014/10/5433ab4d783b8.jpg?r=365925192'  title=''  alt='انڈیا میں موٹرسائیکل عام عورت کی پسندیدہ سواری ہے' /></td></tr>
                        <tr><td class="media__caption  ">
              انڈیا میں موٹرسائیکل عام عورت کی پسندیدہ سواری ہے
            </td></tr>
          </table><hr>
          <table class="media    media--uneven  issue1144 w-full">
            <tr><td class="media__item  "><img src='https://i.dawn.com/primary/2014/10/5433ab4e06ffa.jpg?r=77653081'  title=''  alt='انڈین انسٹیٹیوٹ آف سائنس کے وسیع و عریض کیمپس میں ادھر ادھر جانے کے لیے سائیکل بہترین ذریعہ ہے' /></td></tr>
                        <tr><td class="media__caption  ">
              انڈین انسٹیٹیوٹ آف سائنس کے وسیع و عریض کیمپس میں ادھر ادھر جانے کے لیے سائیکل بہترین ذریعہ ہے
            </td></tr>
          </table><hr>
          <table class="media    media--uneven  issue1144 w-full">
            <tr><td class="media__item  "><img src='https://i.dawn.com/primary/2014/10/5433ab4dc65b5.jpg?r=265142551'  title=''  alt='بائیک چلانے والی خواتین کے لیے خاص چیزیں دستیاب ہیں، جیسے کہ آستین جتنے لمبے گلووز، تاکہ دھوپ اور مٹی سے بچا جاسکے' /></td></tr>
                        <tr><td class="media__caption  ">
              بائیک چلانے والی خواتین کے لیے خاص چیزیں دستیاب ہیں، جیسے کہ آستین جتنے لمبے گلووز، تاکہ دھوپ اور مٹی سے بچا جاسکے
            </td></tr>
          </table><hr>
          <table class="media    media--uneven  issue1144 w-full">
            <tr><td class="media__item  "><img src='https://i.dawn.com/primary/2014/10/5433ab4fccdff.jpg?r=1212443534'  title=''  alt='پاکستان میں کوئی خاتون سڑک کنارے کاروبار کرے، تو یہ ایک خبر بنتی ہے، لیکن انڈیا میں یہ نارمل ہے' /></td></tr>
                        <tr><td class="media__caption  ">
              پاکستان میں کوئی خاتون سڑک کنارے کاروبار کرے، تو یہ ایک خبر بنتی ہے، لیکن انڈیا میں یہ نارمل ہے
            </td></tr>
          </table><hr>
          <table class="media    media--uneven  issue1144 w-full">
            <tr><td class="media__item  "><img src='https://i.dawn.com/primary/2014/10/5433ab4fbcc51.jpg?r=1046490968'  title=''  alt='پنجاب کا یہ گاؤں پاکستانی پنجاب کے گاؤں سے صرف دو چیزوں میں مختلف ہے۔ انڈین پرچم، اور موٹرسائیکل سوار خاتون' /></td></tr>
                        <tr><td class="media__caption  ">
              پنجاب کا یہ گاؤں پاکستانی پنجاب کے گاؤں سے صرف دو چیزوں میں مختلف ہے۔ انڈین پرچم، اور موٹرسائیکل سوار خاتون
            </td></tr>
          </table><hr>
<p><strong>3۔ کھانے میں کیا ہے؟</strong> </p><p>پاکستانیوں کے لیے یہ حیرانی سے بڑھ کر شاک بھی ہوسکتا ہے۔ </p><p>جب میں واہگہ بارڈر کی انڈین جانب پہنچا، تو مجھے انڈیا میں داخلے کی اجازت عطا ہونے سے پہلے ایک حلف نامے پر دستخط کرنے پڑے، جس میں مجھ سے اقرار کرایا گیا کہ میں کوئی بھی ممنوعہ اشیاء جیسے کہ اسلحہ یا منشیات نہیں لے جارہا۔ یہ تو چلیں عام بات ہے۔ لیکن حلف نامے میں ایک اور چیز بھی تھی، &quot;بیف یا بیف سے بنی چیزیں&quot;۔ </p><p>میں سوچنے لگا، کہ صبح ناشتے میں کیا کھا کر آیا ہوں، کہیں ایسا نہ ہو کہ بیف کی تلاش کے لیے مجھے ہی اسکینر سے گزرنا پڑے اور…. </p><p>بہرحال، یہ سرپرائز یا شاک انڈیا کے پورے سفر کر دوران الگ الگ طریقوں سے میرے راستے میں آتا رہا۔ </p><p>کئی ریسٹورینٹ ایسے ہیں، جو مکمل طور پر ویجیٹیرین کھانا فراہم کرتے ہیں، جبکہ کچھ ریسٹورینٹ نان ویج بھی فراہم کرتے ہیں۔ لیکن پھر کئی مضبوط عقیدے والے لوگ ایسے کچن سے سبزی کھانا پسند نہیں کرتے، جہاں گوشت بھی پکتا ہو۔ اس لیے وہ ایسے ریسٹورینٹ کا رخ کرتے ہیں جہاں صرف اور صرف ویجیٹیرین کھانا ملتا ہے۔ کئی جگہوں پر ویج اور نان ویج ریسٹورینٹ قطار در قطار پر الگ الگ گلیوں میں نظر آتے ہیں۔ </p><p>کھانے کے معاملے میں یہ تقسیم پھر رہائش کے معاملے میں بھی نظر آتی ہے، جہاں ویجیٹیرین مالکان اپنے گھر گوشت خور لوگوں، یعنی مسلمانوں، کرسچنوں، بنگالی ہندوؤں، اور دلت ذات والوں کو کرائے پر نہیں دیتے۔ </p><p>لیکن اگر آپ کا خاندانی نام ویجیٹیرین طرح کا لگتا ہے، تو آپ اس طرح کی مشکل سے بچ سکتے ہیں۔ ویجیٹیرین کالونیاں اور پلازہ وغیرہ میں کسی بھی نان ویج شخص کو رہائش اختیار کرنے سے روکا جاسکتا ہے، اور اس پر نظر بھی رکھی جاتی ہے۔ اس لیے اگر آپ کسی سے یہ پوچھیں، کہ رات کو کھانے میں کیا ہے، تو پورے علاقے کے کھانے کے رجحانات کا اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں ہوگا۔ </p><p>گوشت کے علاوہ جین مت کے ماننے والے ادرک اور پیاز کھانے سے بھی پرہیز کرتے ہیں۔ اس لیے جین لوگوں کے بازار اور کالونیاں بھی الگ ہوتی ہیں۔ </p><p>پاکستانیوں کے لیے باہر کھانا کھانے کا مطلب گوشت کھانا ہوتا ہے۔ لیکن بوٹیوں کے عاشق پاکستانیوں کے لیے انڈین معاشرے کے اس رخ کو برداشت کرنا بہت مشکل ہوسکتا ہے۔ </p><p>اگر آپ ایک گروپ کے ساتھ کھانا کھا رہے ہیں اور گروپ میں موجود نچلی ذات کے حقوق کا کارکن بیف تکہ آرڈر کرے، تو کیا آپ اسے انقلابی سمجھیں گے؟ شاید اس نے بیف تکہ یہی سوچ کر آرڈر کیا ہو، کہ وہ اونچی ذات کے برہمنوں کی بالادستی کو چیلنج کر رہا ہے، جو بیف پر مکمل پابندی کے حق میں ہیں۔ </p><p>لیکن ایک اچھی خبر یہ ہے، کہ پاکستان میں برے مسلمانوں سے زیادہ انڈیا میں برے ہندو موجود ہیں۔ آپ کو بوٹیوں سے انصاف کرنے کے لیے ساتھی مل جائیں گے۔ </p><p>پاکستانیوں کو گوشت سے کتنا پیار ہے، اس کو دیکھتے ہوئے میں یہ کہہ سکتا ہوں، کہ جب بھی ویزا پراسس میں آسانیاں ہوں گی، تو واہگہ بارڈر پر کڑاہی اور تکوں کے ریسٹورینٹس کی ایک بڑی قطار وجود میں آئے گی، جن کے بورڈز پر لکھا ہوگا، &quot;گھر واپس آنے پر خوش آمدید&quot;۔ </p>          <table class="media      issue1144 w-full">
            <tr><td class="media__item  "><img src='https://i.dawn.com/primary/2014/10/5433ab5012595.jpg?r=848328749'  title=''  alt='مجھے نہیں معلوم ڈریسڈ چکن کیا ہوتی ہے، لیکن اس طرح گوشت کی نمائش کرنا کبھی کبھی مسئلہ بھی بن جاتا ہے۔' /></td></tr>
                        <tr><td class="media__caption  ">
              مجھے نہیں معلوم ڈریسڈ چکن کیا ہوتی ہے، لیکن اس طرح گوشت کی نمائش کرنا کبھی کبھی مسئلہ بھی بن جاتا ہے۔
            </td></tr>
          </table><hr>
          <table class="media    media--uneven  issue1144 w-full">
            <tr><td class="media__item  "><img src='https://i.dawn.com/primary/2014/10/5433ab507a304.jpg?r=60084623'  title=''  alt='پاکستانیوں کو اپنے ملک میں اس طرح کی سیکیورٹی سے ہر دو قدم بعد گزرنا ہوتا ہے، لیکن اس مشہور بریانی سینٹر پر سیکیورٹی اس لیے موجود ہے کیونکہ انہیں گوشت سرو کرنے کے جرم میں اکثر دھمکیاں ملتی رہتی ہیں' /></td></tr>
                        <tr><td class="media__caption  ">
              پاکستانیوں کو اپنے ملک میں اس طرح کی سیکیورٹی سے ہر دو قدم بعد گزرنا ہوتا ہے، لیکن اس مشہور بریانی سینٹر پر سیکیورٹی اس لیے موجود ہے کیونکہ انہیں گوشت سرو کرنے کے جرم میں اکثر دھمکیاں ملتی رہتی ہیں
            </td></tr>
          </table><hr>
          <table class="media    media--uneven  issue1144 w-full">
            <tr><td class="media__item  "><img src='https://i.dawn.com/primary/2014/10/5433ab5082f92.jpg?r=233986091'  title=''  alt='انڈیا میں نان ویج ریسٹورینٹ اتنے پرکشش نہیں ہوتے جتنے پاکستان میں ہوتے ہیں۔ بلکہ یہاں گوشت بھی ویسا نہیں ہوتا جیسا پاکستان میں۔ ایک ویجیٹیرین نے مجھے بتایا کہ انڈین لوگ چھوٹے پرندوں کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔ اس لیے آپ بڑے گوشت کی زیادہ امید مت رکھیے گا' /></td></tr>
                        <tr><td class="media__caption  ">
              انڈیا میں نان ویج ریسٹورینٹ اتنے پرکشش نہیں ہوتے جتنے پاکستان میں ہوتے ہیں۔ بلکہ یہاں گوشت بھی ویسا نہیں ہوتا جیسا پاکستان میں۔ ایک ویجیٹیرین نے مجھے بتایا کہ انڈین لوگ چھوٹے پرندوں کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔ اس لیے آپ بڑے گوشت کی زیادہ امید مت رکھیے گا
            </td></tr>
          </table><hr>
          <table class="media    media--uneven  issue1144 w-full">
            <tr><td class="media__item  "><img src='https://i.dawn.com/primary/2014/10/5433ab5087dc9.jpg?r=481494795'  title=''  alt='گوشت کھانے والوں کے اپارٹمنٹس۔ کھانے کی ترجیحات انڈیا میں رہائش کا مسئلہ کھڑا کر سکتی ہیں۔' /></td></tr>
                        <tr><td class="media__caption  ">
              گوشت کھانے والوں کے اپارٹمنٹس۔ کھانے کی ترجیحات انڈیا میں رہائش کا مسئلہ کھڑا کر سکتی ہیں۔
            </td></tr>
          </table><hr>
          <table class="media    media--uneven  issue1144 w-full">
            <tr><td class="media__item  "><img src='https://i.dawn.com/primary/2014/10/5433ab52471b3.jpg?r=1583124192'  title=''  alt='لیکن ویجیٹیرین فوڈ بھی اتنا عام نہیں جتنا کہ پاکستانی سوچیں گے' /></td></tr>
                        <tr><td class="media__caption  ">
              لیکن ویجیٹیرین فوڈ بھی اتنا عام نہیں جتنا کہ پاکستانی سوچیں گے
            </td></tr>
          </table><hr>
<p><strong>4۔ کرایہ میٹر کے حساب سے</strong></p><p>انڈیا میں بہترین ریلوے کے علاوہ اور بھی طرح کی پبلک ٹرانسپورٹ دستیاب ہیں، جن سے آپ اندرونِ شہر آسانی سے سفر کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں اسے رکشہ کہا جاتا ہے، جبکہ انڈیا میں اسے اس کے پہلے نام یعنی &quot;آٹو&quot; سے یاد کیا جاتا ہے۔ </p><p>دھواں یہ بھی شاید اتنا ہی چھوڑتے ہیں جتنا پاکستانی رکشے، لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ ان میں کرائے کا میٹر ضرور ہوتا ہے۔ </p><p>آپ ان پر اعتماد کر سکتے ہیں، اور دوستوں سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہوگی کہ فلاں جگہ تک مناسب کرایہ کتنا ہے۔ کچھ میٹر حکومت کے نئے ریٹس کے حساب سے سیٹ نہیں ہوئے ہوتے، اس لیے آٹو والا آپ کو ایک چارٹ دکھائے گا، جس میں لکھا ہوگا کہ پرانے ریٹ اور نئے ریٹ کس طرح میچ کرتے ہیں۔ </p><p>آپ انڈیا کے شہروں میں حکومتی رِٹ کی وہ مثالیں بھی دیکھ سکتے ہیں، جنہیں پاکستان میں ہم نے بھلا ہی دیا ہے۔ </p><p>میں نے سڑک کنارے ایک بک اسٹال کی تصویر لی، تو اس کا مالک پریشان حالت میں بھاگتا ہوا میری طرف آیا۔ میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ پرائیویسی کا مسئلہ نہیں، بس اتنا ہے کہ وہ کتابوں کی نقل بھی فروخت کرتا ہے، جس سے اسے پھنسنے کا اندیشہ ہے۔</p><p>&quot;صاحب، میں مانتا ہوں میرے پاس پائریٹڈ کتابیں موجود ہیں&quot;۔ اور مجھے فوراً احساس ہوا کہ پاکستان میں کس طرح کھلے عام کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کا یہ کاروبار کیا جاتا ہے، جس سے میں خود بھی کتنی بار مستفید ہوچکا ہوں۔ </p><p>میرے کچھ انڈین دوستوں نے کہا، کہ &quot;سب چلتا ہے&quot;، اور یہ کہ اس طرح کے اقدامات صرف نمائشی سطح تک محدود ہیں۔ لیکن ایک ایسے ملک کا باشندہ ہونے کے تحت، جس نے نمائشی سطح بھی برقرار نہیں رکھی، میرے لیے یہ &quot;نمائشی اقدامات&quot; نہایت حیرانی کا باعث تھے۔ </p>          <table class="media    media--uneven  issue1144 w-full">
            <tr><td class="media__item  "><img src='https://i.dawn.com/primary/2014/10/5433ab5266d57.jpg?r=902302573'  title=''  alt='رکشوں کے سرکاری کرائے انڈیا کی شہری سیاست میں ایک اہم اشو کی حیثیت رکھتے ہیں۔' /></td></tr>
                        <tr><td class="media__caption  ">
              رکشوں کے سرکاری کرائے انڈیا کی شہری سیاست میں ایک اہم اشو کی حیثیت رکھتے ہیں۔
            </td></tr>
          </table><hr>
          <table class="media    media--uneven  issue1144 w-full">
            <tr><td class="media__item  "><img src='https://i.dawn.com/primary/2014/10/5433ab52e3ef6.jpg?r=32785047'  title=''  alt='لدھیانہ کی دو خواتین پولیس اہلکار اپنی وومین ہیلپ لائن اسکوٹی کے ساتھ' /></td></tr>
                        <tr><td class="media__caption  ">
              لدھیانہ کی دو خواتین پولیس اہلکار اپنی وومین ہیلپ لائن اسکوٹی کے ساتھ
            </td></tr>
          </table><hr>
          <table class="media    media--uneven  issue1144 w-full">
            <tr><td class="media__item  "><img src='https://i.dawn.com/primary/2014/10/5433ab535cee6.jpg?r=1512655739'  title=''  alt='ریاست کی عدم موجودگی دیکھنی ہے؟ آئیں کسی کچی آبادی کا دورہ کریں' /></td></tr>
                        <tr><td class="media__caption  ">
              ریاست کی عدم موجودگی دیکھنی ہے؟ آئیں کسی کچی آبادی کا دورہ کریں
            </td></tr>
          </table><hr>
<p><strong>5۔ ڈیڑھ ارب لوگ، لاتعداد گروپس</strong></p><p>میں پاکستانی پنجاب میں پیدا ہوا، پلا بڑھا، اور جب میں نے ٹین ایج سے آگے قدم بڑھایا، تب تک میں صرف اردو اور پنجابی اسپیکنگ، اور کچھ پختونوں کو جانتا تھا۔ میں نے پہلی بار ایک سندھی شخص کو تب دیکھا اور دوست بنایا، جب میں نے فیڈرل کالج میں داخلہ لیا۔ </p><p>پاکستان کے کلچر میں اتنی وسعت نہیں۔ اس کے مقابلے میں انڈیا تو کلچروں کا ایک سمندر ہے، جس میں بے انتہا وسعت پائی جاتی ہے۔ </p><p>آپ لدھیانہ میں ایک کناڈیگا سے، حیدرآباد میں منی پوری سے، اور بنگلور میں کسی بہاری سے مل سکتے ہیں۔ انڈیا میں بے شمار زبانیں، لب و لہجے، کلچر اور ذیلی کلچر، مذاہب، فرقے، ذاتیں، ذیلی ذاتیں، اور طبقے پائے جاتے ہیں۔ </p><p>ان سب چیزوں کے اتنے کامبی نیشن بنتے ہیں، کہ انسان کا دماغ چکرا کر رہ جائے۔ </p><p>گوا کے ایک کرسچن نے اڑیسہ کی ایک ہندو سے شادی کی، اور احمد آباد میں رہائش اختیار کی۔ جبکہ جس کمپنی میں وہ کام کرتا ہے، وہ گجرات کے ایک بوہری مسلم کی ملکیت ہے۔ اب ایسا خاندان اپنی شناخت کیسے بیان کرے گا؟ </p><p>لیکن یہ سمندر ہر جگہ ہر وقت بالکل پرسکون بھی نہیں ہے۔ ہر کچھ وقت کے بعد کسی نا کسی گروپوں کے درمیان کشمکش ہوتی رہتی ہیں۔ سماجی، اقتصادی، اور سیاسی گروہ اکثر اس سب کو ہوا دیتے ہیں، جس سے ایک منافع بخش تماشہ کھڑا کیا جاسکتا ہے۔ </p><p>میں اس بات پر تبصرہ نہیں کروں گا کہ انڈیا اپنی ثقافتی وسعت کو ٹھیک سے ہینڈل کر رہا ہے یا نہیں۔ میں صرف اتنا کہہ رہا ہوں کہ انڈیا میں ہر طرح کے لوگ اور گروپ پائے جاتے ہیں۔ </p><p>انسان کس طرح ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ رہتے ہیں، یہ چیز ایک پاکستانی کے لیے بہت حیران کن ہوسکتی ہے۔ یقین مانیے، بنگلور میں اپنی پنجابی شناخت چھپانے کے بجائے پنجابی بولنے کا اپنی ہی الگ مزہ ہے۔ </p>          <table class="media    media--uneven  issue1144 w-full">
            <tr><td class="media__item  "><img src='https://i.dawn.com/primary/2014/10/5433ab53a90f9.jpg?r=1574333200'  title=''  alt='انڈیا میں مختلف گروپوں کی وسعت چھپائے نہیں چھپتی۔ یہ ایک اچھی بات بھی ہے، اور ایک چیلنج بھی' /></td></tr>
                        <tr><td class="media__caption  ">
              انڈیا میں مختلف گروپوں کی وسعت چھپائے نہیں چھپتی۔ یہ ایک اچھی بات بھی ہے، اور ایک چیلنج بھی
            </td></tr>
          </table><hr>
          <table class="media    media--uneven  issue1144 w-full">
            <tr><td class="media__item  "><img src='https://i.dawn.com/primary/2014/10/5433ab53434ec.jpg?r=263297456'  title=''  alt='بنگلور بازار میں اس مینار کے سائے تلے بہت ساری دکانیں قائم ہیں، جہاں سے سب ہی لوگ خریداری کرتے ہیں' /></td></tr>
                        <tr><td class="media__caption  ">
              بنگلور بازار میں اس مینار کے سائے تلے بہت ساری دکانیں قائم ہیں، جہاں سے سب ہی لوگ خریداری کرتے ہیں
            </td></tr>
          </table><hr>
<p><strong>6۔ نیو ورلڈ آرڈر</strong></p><p>شروع میں تو میں نے جب پہلی بار اس چیز کا سامنا کیا، تو نظر انداز ہی کیا۔ لیکن اس کے بعد مجھے پوری بات سمجھ آگئی۔ </p><p>پاکستان میں اگر کوئی شخص مثال کے طور پر اپنا نام جے پرکاش بتائے، تو ایک عام پاکستانی کا اگلا سوال ہوگا، &quot;کیا آپ پاکستانی ہیں؟&quot;۔ </p><p>لیکن انڈیا میں یہ نہیں ہوگا، بھلے ہی آپ کا نام طاہر مہدی کیوں نہ ہو۔</p><p>انڈیا میں جب تک آپ کسی کو اپنی شہریت نہ بتائیں، تب تک کوئی نہیں جان سکتا کہ آپ کا تعلق کہاں سے ہے۔ </p><p>نہ ہی آپ کی بول چال سے کوئی اندازہ لگا سکتا ہے، اور نہ ہی تب، جب آپ پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات پر بحث کریں۔ </p><p>اور یہ چھپی ہوئی شناخت کبھی کبھی دلچسپ صورت حال بھی پیدا کردیتی ہے۔ </p><p>ایک آٹو رکشہ والا بڑے فخر سے بتا رہا تھا، کہ کس طرح انڈیا نے پاکستان کو تمام جنگوں میں &quot;سبق سکھایا&quot;۔ ہم ایک اسٹیڈیم کے پاس سے گزر رہے تھے، جہاں کبھی دونوں ممالک کے درمیان ایک کرکٹ میچ ہوا تھا۔ لیکن وہ ایشیا کپ 2014 میں انڈیا کی پاکستان کے ہاتھوں شکست پر انڈین کھلاڑیوں کو قصوروار سمجھتا تھا۔ </p><p>پاکستان اور انڈیا کے تعلقات کے بارے میں اس طرح کی باتیں کوئی حیرانی کی بات نہیں ہیں۔ </p><p>لیکن مزہ تب آتا ہے، جب انہیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک پاکستانی سے بات کر رہے ہیں۔ اسی وقت لہجے اور موقف میں نرمی آجاتی ہے اور پھر کہتے ہیں کہ ہم تو بھائی ہیں۔ </p><p>لیکن کچھ لوگ اس کو اگلے لیول تک بھی لے جاتے ہیں۔ </p><p>&quot;سنو، ادھر، اپنا کان آگے کرو، آپ کو معلوم ہے یہ امریکہ کی سازش ہے۔ یہ نیو ورلڈ آرڈر کا حصہ ہے۔ یہ ہمیں اس لیے لڑواتے ہیں، کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ اگر انڈیا اور پاکستان اکٹھے ہوگئے، تو انہیں پوری دنیا پر حکومت کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا&quot;۔ </p>          <table class="media    media--uneven  issue1144 w-full">
            <tr><td class="media__item  "><img src='https://i.dawn.com/primary/2014/10/5433ab545ee27.jpg?r=2131868367'  title=''  alt='' /></td></tr>
            
          </table><p><a href="http://www.dawn.com/news/1136597/6-surprises-that-greet-a-pakistani-in-india">انگلش میں پڑھیں۔</a> </p>]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1010674</guid>
      <pubDate>Fri, 26 Dec 2014 19:24:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر مہدی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2014/12/54a146329d6b4.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2014/12/54a146329d6b4.png"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2014/12/54a146707ff91.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2014/12/54a146707ff91.png"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
