<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 17:33:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 17:33:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پولیو کے 80 فیصد کیسز کا ذمہ دار پاکستان ہے، عالمی ادارۂ صحت</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1011017/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد: عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے دنیا بھر میں رپورٹ ہونے والے 80فیصد پولیو کیسز کا ذمہ دار پاکستان ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p&gt;عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے جاری کی جانے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں پولیو کی یہ صورتحال بچوں کو ویکسین کی عدم فراہمی کے باعث پیدا ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ قبائلی علاقوں میں آج بھی بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے پر پابندی ہے اور انسدادِ پولیو ٹیموں کو سیکیورٹی کے لحاظ سے بھی شدید خدشات موجود ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;یاد رہے کہ طالبان نے 2012ء سے قبائلی علاقوں اور فاٹا میں پولیو کے قطرے پلانے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;پاکستان میں رواں سال پولیو کے کیسز میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور نو ماہ کے دوران یہ تعداد 207 سے تجاوز کرچکی ہے جس  سے گزشتہ 14 سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;محکمہ صحت کے حکام کے مطابق ان 207 کیسز میں سے 43 ایسے کیسز ہیں جو صوبہ خیبر پختونخوا سے رپورٹ ہوئے ہیں، جبکہ رواں سال سب سے زیادہ کیسز وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) میں ریکارڈ ہوئے، جہاں پر اس معذور کردینے والی بیماری سے متاثرہ افراد کی تعداد 136 سے تجاوز کرچکی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;ملک میں پولیوکے پھیلاؤ کی روک تھام اور بچوں کو اس خطرناک بیماری سے محفوظ کرنے کے لیے مختلف شہروں کئی بار انسدادِ پولیو مہم شروع کی گئی، لیکن بچوں کو گھر گھر جاکر قطرے پیمانے والی فیلڈ ٹیمیوں پر بڑھتے ہوئے حملوں اور سیکیورٹی خدشات کے باعث یہ مہم بہت زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہوسکی ہیں۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسلام آباد: عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے دنیا بھر میں رپورٹ ہونے والے 80فیصد پولیو کیسز کا ذمہ دار پاکستان ہے۔</strong></p><p>عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے جاری کی جانے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں پولیو کی یہ صورتحال بچوں کو ویکسین کی عدم فراہمی کے باعث پیدا ہوئی ہے۔</p><p>اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ قبائلی علاقوں میں آج بھی بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے پر پابندی ہے اور انسدادِ پولیو ٹیموں کو سیکیورٹی کے لحاظ سے بھی شدید خدشات موجود ہیں۔</p><p>یاد رہے کہ طالبان نے 2012ء سے قبائلی علاقوں اور فاٹا میں پولیو کے قطرے پلانے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔</p><p>پاکستان میں رواں سال پولیو کے کیسز میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور نو ماہ کے دوران یہ تعداد 207 سے تجاوز کرچکی ہے جس  سے گزشتہ 14 سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔</p><p>محکمہ صحت کے حکام کے مطابق ان 207 کیسز میں سے 43 ایسے کیسز ہیں جو صوبہ خیبر پختونخوا سے رپورٹ ہوئے ہیں، جبکہ رواں سال سب سے زیادہ کیسز وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) میں ریکارڈ ہوئے، جہاں پر اس معذور کردینے والی بیماری سے متاثرہ افراد کی تعداد 136 سے تجاوز کرچکی ہے۔</p><p>ملک میں پولیوکے پھیلاؤ کی روک تھام اور بچوں کو اس خطرناک بیماری سے محفوظ کرنے کے لیے مختلف شہروں کئی بار انسدادِ پولیو مہم شروع کی گئی، لیکن بچوں کو گھر گھر جاکر قطرے پیمانے والی فیلڈ ٹیمیوں پر بڑھتے ہوئے حملوں اور سیکیورٹی خدشات کے باعث یہ مہم بہت زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہوسکی ہیں۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1011017</guid>
      <pubDate>Fri, 17 Oct 2014 10:38:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبارڈان اردو ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2014/10/5440ab2225151.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2014/10/5440ab2225151.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
