<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 21:47:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 21:47:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیوی نے سرکاری زمین افسران میں تقسیم کردی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1012020/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد: اسلام اباد کے پوش علاقوں میں سرکاری مقاصد کے لیے لی گئی زمین نیوی نے ہاوسنگ سوسائٹی بنادی&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے انکوائری کا حکم دے دیا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;آڈٹ حکام کا کہنا ہے کہ نیول ہیڈ کوارٹرز نے سرکاری رہائش گاہوں کے لیے لیز پر لی گئی زمین افسران میں تقسیم کر دی ہے، غیر قانونی طور پر سی ڈی اے کی زمین پر نیول ہاؤسنگ سوسائٹی قائم کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;آڈٹ حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ آڈیٹر جنرل نے معاملے کی تحقیقات کا حکم دے دیا  ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;حکام کی جانب سے یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ نیول ہیڈ کوارٹرز سے زمین کی لاگت موجودہ مارکیٹ ریٹ پر وصول کی جائے گی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;آڈٹ حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ سی ڈی اے (کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی) نے سیکٹر ایف11 میں 10ایکڑ (86 کینال) سے زائد زمین الاٹ کی تھی جس پر نیوی نے رہائش گاہوں کی تعمیر کے بجائے ہاؤسنگ سوسائٹی بنا کر پلاٹ تقسیم کر دیئے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;واضح رہے کہ سیکٹر ایف -11 اسلام آباد کے مہنگے ترین سیکٹرز میں شامل ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;حکام کے مطابق زمین سی ڈی اے کی ہی ملکیت ہے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;آڈٹ حکام کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ بیشتر افسران نے غیر قانونی طور پر پلاٹ اوپن مارکیٹ میں فروخت کر دیئے ہیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;آڈٹ حکام کی جانب  سے 2013 میں جولائی میں ہی زمین کے غیر قانونی استعمال کی نشاندہی کر دی تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;2013 میں دسمبر میں آڈٹ حکام نے سی ڈی اے کو معاملے کی انکوائریکے ساتھ ساتھ ریکوری اور جرمانے کا حکم دیا تھا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;آڈٹ حکام کے مطابق کئی ماہ گزرنے کے باوجود سی ڈی اے نے کوئی کارروائی نہیں کی۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسلام آباد: اسلام اباد کے پوش علاقوں میں سرکاری مقاصد کے لیے لی گئی زمین نیوی نے ہاوسنگ سوسائٹی بنادی</strong> </p><p>ڈان نیوز کے مطابق آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے انکوائری کا حکم دے دیا۔</p><p>آڈٹ حکام کا کہنا ہے کہ نیول ہیڈ کوارٹرز نے سرکاری رہائش گاہوں کے لیے لیز پر لی گئی زمین افسران میں تقسیم کر دی ہے، غیر قانونی طور پر سی ڈی اے کی زمین پر نیول ہاؤسنگ سوسائٹی قائم کی گئی ہے۔</p><p>آڈٹ حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ آڈیٹر جنرل نے معاملے کی تحقیقات کا حکم دے دیا  ہے۔</p><p>حکام کی جانب سے یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ نیول ہیڈ کوارٹرز سے زمین کی لاگت موجودہ مارکیٹ ریٹ پر وصول کی جائے گی۔</p><p>آڈٹ حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ سی ڈی اے (کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی) نے سیکٹر ایف11 میں 10ایکڑ (86 کینال) سے زائد زمین الاٹ کی تھی جس پر نیوی نے رہائش گاہوں کی تعمیر کے بجائے ہاؤسنگ سوسائٹی بنا کر پلاٹ تقسیم کر دیئے۔</p><p>واضح رہے کہ سیکٹر ایف -11 اسلام آباد کے مہنگے ترین سیکٹرز میں شامل ہے۔</p><p>حکام کے مطابق زمین سی ڈی اے کی ہی ملکیت ہے۔</p><p>آڈٹ حکام کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ بیشتر افسران نے غیر قانونی طور پر پلاٹ اوپن مارکیٹ میں فروخت کر دیئے ہیں۔</p><p>آڈٹ حکام کی جانب  سے 2013 میں جولائی میں ہی زمین کے غیر قانونی استعمال کی نشاندہی کر دی تھی۔</p><p>2013 میں دسمبر میں آڈٹ حکام نے سی ڈی اے کو معاملے کی انکوائریکے ساتھ ساتھ ریکوری اور جرمانے کا حکم دیا تھا۔</p><p>آڈٹ حکام کے مطابق کئی ماہ گزرنے کے باوجود سی ڈی اے نے کوئی کارروائی نہیں کی۔</p>]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1012020</guid>
      <pubDate>Fri, 07 Nov 2014 20:16:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ثناء اللہ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2014/11/545ce22042ed8.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2014/11/545ce22042ed8.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
