<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - India</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 11:07:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Apr 2026 11:07:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>'مسئلہ کشمیر پر مشرف فارمولا بےمثال تھا'</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1012070/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سری نگر: بھارتیہ جنتا پارٹی کے سابق وزیر اور نامور وکیل رام جیٹھ ملانی نے کشمیر کیلئے سابق صدر پرویز مشرف کے چار - نکاتی فارمولا کی حمایت کی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;&lt;p&gt;جیٹھ ملانی نے یہاں صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ مسئلہ کشمیر کے دیرپا حل کیلئے اس فارمولے کو بنیاد بنایا جانا چاہیئے۔ &lt;/p&gt;&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مشرف کی کوششوں کو انڈیا نے &amp;#39;رائیگاں &amp;#39; کر دیا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;&amp;#39;مشرف خلوص اور سچی نیت کے ساتھ انڈیا آئے تھے۔ مسئلہ کشمیر کیلئے ان کی تجویز بہت عمدہ حل ہے&amp;#39;۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;&amp;#39;یہ بہت شاندار دستاویز ہے جسے کشمیر میں پائیدار امن کی بنیاد بنایا جا سکتا ہے&amp;#39;۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;جیٹھ ملانی نے کہا کہ انہیں یہ اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں کہ مشرف کی کوششوں کو پاکستان نے نہیں بلکہ انڈیا نے ناکام بنایا۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;کشمیر کمیٹی کے چیئرمین  جیٹھ ملانی نے یہ دعوی بھی کیا کہ انہوں نے مشرف کے منصوبہ میں کچھ تبدیلیاں کی تھیں۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;&amp;#39;میں کافی عرصہ سے کشمیر کیلئے کام کر رہا تھا اور مشرف یہ بات جانتے تھے۔ انہوں نے ایک مشترکہ دوست کے مدد سے مجھ تک یہ دستاویز پہنچائی&amp;#39;۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;&amp;#39;میں نے کشمیر کمیٹی کی جانب سے اس دستاویز کے کچھ حصوں میں تبدیلیاں کیں جنہیں مشرف نے قبول کر لیا تھا&amp;#39;۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;بی جے پی رہنما کے مطابق اس پوری دستاویز کا مقصد دونوں جانب سیکولر جمہوریت تھی۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;خیال رہے کہ کمشیر کمیٹی کا قیام 2002 میں آیا تھا اور اس کا مقصد کشمیری رہنماؤں سے رابطے قائم کرنا تھے۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;موجودہ حالات میں کمیٹی کے کردار پر  جناب جیٹھ ملانی نے 16 اگست کو کہا تھا &amp;#39;یہ اب بھی فعال اور  اپنا کام کر رہی ہے، لیکن بعض اوقات اسے عوام سے اوجھل رہ کر کام کرنا ہوتا ہے&amp;#39;۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;رواں سال بی جے پی  سے بے دخل کیے جانے والے سابق یونین وزیر نے مزید کہا &amp;#39;یہ دیکھنے کیلئے کہ پاکستان اور انڈیا کی حکومتیں کہیں لوگوں کا استحصال نہ کر رہی ہوں ، سیاست دانوں پر مشتمل ایک باضابطہ تنظیم بنائی جائے جسے دونوں پاکستان اور انڈیا تسلیم کریں&amp;#39;۔&lt;/p&gt;&lt;p&gt;کشمیر کمیٹی کے سربراہ نے کہا کہ وہ کشمیری رہنماؤں سے مسلسل رابطوں میں ہیں اور سارے  کشمیری   لیڈر &amp;#39;پاکستانی ایجنٹ&amp;#39; نہیں۔&lt;/p&gt;</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سری نگر: بھارتیہ جنتا پارٹی کے سابق وزیر اور نامور وکیل رام جیٹھ ملانی نے کشمیر کیلئے سابق صدر پرویز مشرف کے چار - نکاتی فارمولا کی حمایت کی ہے۔</strong></p><p>جیٹھ ملانی نے یہاں صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ مسئلہ کشمیر کے دیرپا حل کیلئے اس فارمولے کو بنیاد بنایا جانا چاہیئے۔ </p><p>ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مشرف کی کوششوں کو انڈیا نے &#39;رائیگاں &#39; کر دیا۔</p><p>&#39;مشرف خلوص اور سچی نیت کے ساتھ انڈیا آئے تھے۔ مسئلہ کشمیر کیلئے ان کی تجویز بہت عمدہ حل ہے&#39;۔</p><p>&#39;یہ بہت شاندار دستاویز ہے جسے کشمیر میں پائیدار امن کی بنیاد بنایا جا سکتا ہے&#39;۔</p><p>جیٹھ ملانی نے کہا کہ انہیں یہ اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں کہ مشرف کی کوششوں کو پاکستان نے نہیں بلکہ انڈیا نے ناکام بنایا۔</p><p>کشمیر کمیٹی کے چیئرمین  جیٹھ ملانی نے یہ دعوی بھی کیا کہ انہوں نے مشرف کے منصوبہ میں کچھ تبدیلیاں کی تھیں۔</p><p>&#39;میں کافی عرصہ سے کشمیر کیلئے کام کر رہا تھا اور مشرف یہ بات جانتے تھے۔ انہوں نے ایک مشترکہ دوست کے مدد سے مجھ تک یہ دستاویز پہنچائی&#39;۔</p><p>&#39;میں نے کشمیر کمیٹی کی جانب سے اس دستاویز کے کچھ حصوں میں تبدیلیاں کیں جنہیں مشرف نے قبول کر لیا تھا&#39;۔</p><p>بی جے پی رہنما کے مطابق اس پوری دستاویز کا مقصد دونوں جانب سیکولر جمہوریت تھی۔</p><p>خیال رہے کہ کمشیر کمیٹی کا قیام 2002 میں آیا تھا اور اس کا مقصد کشمیری رہنماؤں سے رابطے قائم کرنا تھے۔</p><p>موجودہ حالات میں کمیٹی کے کردار پر  جناب جیٹھ ملانی نے 16 اگست کو کہا تھا &#39;یہ اب بھی فعال اور  اپنا کام کر رہی ہے، لیکن بعض اوقات اسے عوام سے اوجھل رہ کر کام کرنا ہوتا ہے&#39;۔</p><p>رواں سال بی جے پی  سے بے دخل کیے جانے والے سابق یونین وزیر نے مزید کہا &#39;یہ دیکھنے کیلئے کہ پاکستان اور انڈیا کی حکومتیں کہیں لوگوں کا استحصال نہ کر رہی ہوں ، سیاست دانوں پر مشتمل ایک باضابطہ تنظیم بنائی جائے جسے دونوں پاکستان اور انڈیا تسلیم کریں&#39;۔</p><p>کشمیر کمیٹی کے سربراہ نے کہا کہ وہ کشمیری رہنماؤں سے مسلسل رابطوں میں ہیں اور سارے  کشمیری   لیڈر &#39;پاکستانی ایجنٹ&#39; نہیں۔</p>]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1012070</guid>
      <pubDate>Sun, 09 Nov 2014 03:48:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2014/11/545e9d55e2345.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2014/11/545e9d55e2345.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2014/11/545e9d55a640e.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2014/11/545e9d55a640e.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
